Ayah 2:144استقبال قبلہ پر بحث
قول باری ہے : قد نری تقلب وجھک فی السماء فلنو لینک قبلۃ ترضھا ( یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں، لو، ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو) ایک قول کے مطابق تقلب کے معنی تحول ( بار بار پھرنے) کے ہیں۔ حضور ﷺ آسمان کی طرف بار بار اپنا چہرہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے ساتھ تحویل قبلہ کا وعدہ کرلیا گیا تھا۔ اس لئے آپ ﷺ اس سلسلے میں وحی کے منتظر تھے اور اللہ سے اس کی درخواست کرتے تھے۔ اس لئے آپ ﷺ کو اپنا چہرہ مبارک بار بار آسمان کی طرف کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ انبیاء (علیہم السلام) اللہ کی طرف سے اجازت کے بعد ہی اس سے درخواست اور سوال کرتے ہیں۔ بلا اذن درخواست کی صورت میں خود انہیں یہ کھٹکا ہوتا ہے کہ کہیں ان کی درخواست قوم کے لئے فتنہ اور آزمائش کا سبب نہ بن جائے۔ اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کا رخ کعبے کی طرف پھیر دے اور اس طرح یہودیوں سے ممتاز ہوجانے اور ان سے ہٹ کر الگ راہ متعین کرنے کی صورت پیدا ہوجائے۔ یہ بات مجاہد سے مروی ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق حضور ﷺ کو کعبہ کی طرف رخ کرنا اس لئے پسند تھا کہ وہ آپ ﷺ کے جد امجد حضر ت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا، ایک اور قول کے مطابق آپ ﷺ نے عربوں کو ایمان کی طرف راغب کرنے کی خاطر یہ بات پسند فرمائی تھی۔ قول باری : فلنو لینک قبلۃ ترضھا کا یہی مفہوم ہے۔
قول باری ہے : فول وجھک شطر المسجد الحرام ( پس مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ) اہل لغت کے قول کے مطابق شطر کا لفظ ایک مشترک اسم ہے جو دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنی نصف کے ہیں جب آپ ایک چیز دو نصف حصوں میں تقسیم کردیتے ہیں تو کہتے ہیں شطرت الشئی یعنی میں نے اسے نصف نصف کردیا۔ عرب کے لوگ کہتے ہیں : احلب حلبالک شطرہ ( جانور سے دودھ نکال لو، آدھا تمہارا ہوگا) شطر کا دوسرا معنی : نحوہ وتلقاء ہ ( اس کی طرف) ہے۔ آیت سے یہی معنی مراد ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، ابو العالیہ، مجاہد اور ابربیع بن انس کا یہی قول ہے۔ پہلا معنی مراد لینا جائز نہیں ہے کیونکہ کوئی شخص بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ اس پر مسجد حرام کے نصف حصے کی طرخ رخ کرنا فرض ہے۔
تمام اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر ایک شخص بیت اللہ کے ایک کونے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز درست ہوجائے گی کیونکہ ایسی صورت میں وہ بیت اللہ کے شطر یعنی اس کی طرف متوجہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کی طرف رخ کرنے کا ذکر کیا ہے لیکن اس کی مراد بیت اللہ ہے کیونکہ اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر ایک شخص مکہ میں ہو اور وہ مسجد حرام کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے تو اس کی نماز اس وقت تک درست نہیں ہوگی جب تک کہ وہ بیت اللہ کے محاذات میں نہ ہو۔
قول باری ہے : وحیث ما کنتم قولو ا وجوھکم شطرہ ( اب جہاں کہیں بھی تم ہو اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو) یہ خطاب ان لوگوں کے لئے ہے جو کعبہ کے سامنے ہوں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو کعبہ سے دور اور اس کے سامنے نہ ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص کعبہ کے پاس ہو اس پر عین کعبہ کی طرف رخ کرنا فرض ہے اور جو شخص کعبہ سے دور ہو اس پر کعبہ کی طرف رخ کرنا فرض ہے، یعنی اس جہت کی طرف جس کے متعلق اس کا غالب گمان ہو کہ یہ کعبہ کی جہت ہے کیونکہ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ ایسا شخص عین کعبہ کی طرف رخ کرنے کا مکلف نہیں ہے اس لئے کہ ایسا کرنا اس کے بس میں نہیں ہے۔ ارشاد باری ہے : لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا ( اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مکلف نہیں بناتا مگر اس کی وسعت اور طاقت کے مطابق) اس لئے عین کعبہ کی طرف رخ کرنا جس شخص کے بس سے باہر ہو وہ اس کا مکلف بھی قرار نہیں پاتا۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ مذکورہ شخص صرف اس جہت کی طرف رخ کرنے کا مکلف ہے جس کے متعلق اس کا غالب گمان یہ ہو کہ یہ کعبہ کی جہت ہے۔
یہ بات ان اصولوں میں سے ایک ہے جو حوادث یعنی پیش آنے والے نئے واقعات کے احکام کے سلسلے میں اجتہاد سے کام لینے پر دلالت کرتے ہیں۔ ہر مجتہد صرف اس بات کا مکلف ہوتا ہے جس پر وہ اپنے اجتہاد کے ذریعے پہنچ جائے۔ یہاں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ مشتبہ قسم کے نئے حوادث کی ایک حقیقت مطلوبہ ہوتی ہے جس طرح قبلے کی ایک حقیقت ہے۔ جسے اجتہاد اور تحتری کے ذریعے طلب کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر مشتبہ قسم کے حوادث کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے اجتہاد کا مکلف ہونا درست ہے جس طرح اجتہاد پر اپنی سمجھ بوجھ کے ذریعے قبلے کی طلب کا مکلف ہونا درست ہے کیونکہ قبلے کی ایک حقیقت ہے۔ اگر سرے سے کسی قبلے کا وجود نہ ہوتا تو ہمیں اس کا مکلف نہ بنایاجاتا۔
Ayahs 2:145–148قول باری ہے : ولکل وجھۃ ھو مولیھا ( اور ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جس کی طرف وہ مڑتا ہے) ایک قول کے مطابق اس کی تفسیر یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے ایک قبلہ ہے۔ یہ بات مجاہد سے مروی ہے جس نے کہا ہے : ہر ایک کے لئے ایک طریقہ ہے یعنی اسلام جسے اللہ تعالیٰ نے بطور شریعت جاری کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور السدی سے منقول ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں سے ہر ملت کے لئے ایک طریقہ مقرر ہے حسن بصری نے کہا ہے کہ ہر نبی کے لئے طریقہ تو ایک ہے یعنی اسلام اگرچہ احکام مختلف ہیں جس طرح یہ قول باری ہے ( لکل جعلنا منکم شرعۃ و مھا جاً ( ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ہے) قتادہ نے کہا ہے کہ اس سے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے اور کعبہ کی طرف رخ کرکے ان کی نماز مراد ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس کا مفہوم ہے دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلی ہوئی مسلم اقوام میں سے ہر قوم کے لئے جن کے علاقوں سے کعبہ کی جہتیں یا تو پیچھے کی طرف ہیں یا آگے کی طرف یا دائیں یا بائیں۔ گویا آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کعبے کی مختلف جہتوں میں سے کوئی ایک جہت دوسری کسی جہت کی بہ نسبت قبلہ بننے کے لئے اولیٰ نہیں ہوتی بلکہ کعبہ کی ہر جہت قبلہ کی جہت بن سکتی ہے۔
مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ میزاب رحمت کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے یہ آیت تلاوت کی فلنو لینک قبلۃ ترضھا اور کہا : ” یہی قبلہ ہے “۔ بعض لوگوں نے حضرت ابن عمر ؓ کے اس قول سے یہ سمجھا ہے کہ آپ نے قبلہ کہہ کر میزاب رحمت مراد لی ہے حالانکہ بات ایسی نہیں ہے کیونکہ حضرت ابن عمر ؓ نے یہ کہہ کر درحقیقت کعبہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ میزاب رحمت کی جہت کی تخصیص نہیں کی کہ اس کے ساتھ کعبہ ک دوسری جہتیں شامل نہ ہوں اور تخصیص کی بات کس طرح درست ہوسکتی ہے جبکہ یہ آیتیں موجود ہیں۔ واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی۔ نیز قول وجھک شطرا لمسجد الحرام تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کرنے والوں کے لیے اس کی تمام جہتیں قبلہ ہیں۔ قول باری : ولکل وجھۃ ھو مولیھا۔ اس پر دلالت کرتا ہے کہ کعبہ سے دور شخص جس بات کا مکلف ہے وہ یہ ہے کہ اپنے ظن غالب سے کام لے کر کعبہ کی جہت کا رخ کرے۔ کعبہ کے محاذات میں آنے کا وہ مکلف نہیں ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کعبہ سے دور بسنے والے اس کے محاذات میں آ جائیں۔
قول باری ہے : فاستبقوا الخیرات ( پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو) مراد یہ ہے کہ طاعات کی طرف سبقت کی جائے اور اس سلسلے میں پوری چستی سے کام لیاجائے۔ اس آیت میں یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ طاعات میں تعجیل کرنا ان میں تاخیر کرنے سے افضل ہے، بشرطیکہ کوئی ایسی دلیل موجود نہ ہو جو تاخیر کی فضیلت کا پتہ دیتی ہو۔ مثلاً اول وقت میں نماز کی ادائیگی میں تعجیل، اسی طرح زکوۃ اور فریضہ حج کی ادائیگی میں تعجیل کہ وقت آتے ہی اور سبب موجود ہوتے ہی ان کی ادائیگی کرلی جائے۔ آیت سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ امر علی الفور ہوتا ہے یعنی اس پر فی الفور عمل ضروری ہے اور اس میں تاخیر کے جواز کے لئے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس طرح کہ اگر امر غیر موقف ہو تو سب کے نزدیک اس پر فی الفور عمل لا محالہ نیکی اور بھلائی شمار ہوگا اس طرح زیر بحث آیت کے مض مومن کی بنا پر امر کی تعجیل کا ایجاب ضروری ہوگیا کیونکہ امروجوب کا متقضی ہوتا ہے۔
Ayahs 2:149–150قول باری ہے : لئلا یکون للناس علیکم جحۃ الا الذین ظلموا منھم ( تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی) اس آیت سے بعض لوگوں نے ایسے استثناء کے جواز کے لیے استدلال کیا ہے جس میں مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس میں سے نہ ہو۔ آیت میں مذکورہ استثناء کے بارے میں اہل لغت کے مابین اختلاف رائے ہے۔ بعض کے خیال میں یہ استثنائے منقطع ہے اور آیت کے معنی ہیں لیکن ان میں سے جو ظالم ہیں وہ شبہ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑے رکھتے ہیں اور اسے حجت کا درجہ دیتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے۔ مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ( اس کے متعلق ) انہیں کوئی علم نہیں ہے لیکن بس اتباع ظن ہے) ۔
نابغہ ذیبانی کا شعر ہے ؎
ولا عیب فیھم غیر ان سیوفھم بھن فلول من قراغ الکتائب
(میرے ممدوحین کے اندر اس کے سوا اور کوئی عیب نہیں کہ لشکروں سے ٹکرا ٹکرا کر ان کی تلواروں میں دندانے پڑگئے ہیں)
شعر کا مفہوم یہ ہے لیکن ان کی تلواروں میں دندانے پڑگئے ہیں اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ ایک اور قول کے مطابق زیر بحث آیت میں مذکورہ لفظ حجت مجادلہ اور محاجہ ( باہمی بحث و مباحثہ اور دلیل بازی) کے معنوں میں ہے۔ گویا آیت کا مفہوم یہ ہے تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف دلیل بازی کا موقعہ نہ ملے۔ ہاں جو ظالم ہیں وہ تو باطل دلائل کا سہارا لیکر تم سے ضرور مباحثہ اور مجادلہ کریں گے۔ ابو عبیدہ کے قول کے مطابق آیت میں مذکورہ حرف ( الا) وائو کے معنوں میں ہے گویا یہ کہا گیا تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے اور نہ ان لوگوں کو ہی جو ظالم ہیں لیکن فراء نحوی اور اکثر اہل لغت نے ابو عبیدہ کی یہ تاویل مسترد کردی ہے فراء نے کہا ہے کہ حرف الا حرف وائو کے معنوں میں صرف اسی وقت آتا ہے جب اس سے پہلے کوئی استثناء گزر چکا ہو۔ مثلاً شاعر کا قول ہے ؎
ما بالمدینۃ دارغیر واحدۃ دارالخلیفۃ الا دارمروان
(مدینہ میں خلیفہ اور مروان کے گھروں کے سوا اور کوئی گھر نہیں ہے) یعنی شاعر نے گویا یہ کہا کہ ” مدینہ میں کوئی گھر نہیں ہے، مگر خلیفہ کا گھر اور مروان کا گھر۔
قطرب کے قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے اور صرف ان لوگوں کے خلاف انہیں حجت ملے جو ظالم ہیں۔ بعض نحویوں نے اس تاویل کو بھی مسترد کردیا ہے۔
Ayahs 2:151–152ذکر اللہ کے وجوب کا بیان
قول باری ہے : فاذکرونی اذکرکم ( لہٰذا تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا) یہ آیت اللہ کی یاد کے امر اور حکم کو متضمن ہے۔ ہم اللہ کو کئی طریقوں سے یاد کرسکتے ہیں، اس بارے میں سلف سے کئی اقوال منقول ہیں۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے تم مجھے میری اطاعت کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں اپنی رحمت کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول ہے تم مجھے میری نعمتوں پر حمد و ثناء کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں تمہاری اطاعت کو سراہنے کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول ہے تم مجھے شکر کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں ثواب کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول کے مطابق تم مجھے دعا کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں دعا کی قبولیت کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ تاہم آیت کے الفاظ ان تمام معانی کا احتمال رکھتے ہیں۔ آیت کے الفاظ ان سب کوش امل اور ان سب کو متحمل ہیں۔
اگر یہاں کہاجائے کہ یہ جائز نہیں ہے کہ ایک ہی فقط سے تمام معانی کو اللہ کی مراد قرار دیاجائے کیونکہ مذکورہ لفظ مختلف معانی میں مشترک ہیں، تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ بات اس طرح نہیں ہے اس لئے کہ یاد الٰہی کی یہ تمام مختلف صورتیں ایک ہی معنی کی طرف راجع ہوتی ہیں ذکر کا لفظ ایسا ہی ہے جیسے انسان کا اسم جو مذکر اور مونث سب کو شامل ہے یا اخواہ کا لفظ جو عینی، علاتی اور اخیانی تمام بھائیوں کو شامل ہے۔ اسی طرح لفظ شراکت اور اس جیسے دیگر الفاظ ہیں ان کا اطلاق اگرچہ مختلف معانی پر ہوتا ہے لیکن جس وجہ سے ان سب کو ایک نام دیاجاتا ہے وہ ہم معنی ہوتا ہے۔ یہی کیفیت ذکر اللہ کے لفظ کی ہے اس میں چونکہ طاعت کا معنی ہے اور اللہ کی طاعت کبھی ذکر باللسان سے کی جاتی ہے کبھی اعضاء وجو اروح سے صادر ہونے والے افعال و اعمال کے ذریعے کبھی اعتقاد قلب کے ذریعے، کبھی اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل سے، کبھی اس کی عظمت کے بارے میں غور و فکر کے ذریعے اور کبھی اس کے سامنے دست و عادرازکر نے اور اسے پکارنے سے، اس لئے ایک لفظ کے اندر ان تمام معانی کا ارادہ کرلیناجائز ہے جس طرح خود لفظ طاعت ہے کہ اس کے ذریعے مختلف قسموں کی تمام طاعات کا ارادہ کرنا درست ہے جبکہ طاعت کا حکم علی الاطلاق وارد ہو مثلاً یہ قول باری : اطیعو اللہ واطیعو الرسول ( اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو) ۔
اسی طرح لفظ معصیت ہے شریعت میں مذکور نہی کا لفظ معصیت کی تمام تر صورتوں کو شامل ہے۔ اس بنا پر قول باری : فاذکرونی ذکر الٰہی کی تمام صورتوں کے امرا ور حکم کو متضمن ہے ذکر کی ایک صورت تو اللہ کی اطاعت کی تمام شکلیں ہیں اور اطاعت ذکر الٰہی کی سب سے بڑھ کر عمومی صورت ہے۔ ذکر کی دوسری صورت یہ ہے کہ زبان سے اللہ کی ذات کی تعظیم کے لئے حمد و ثناء کی جائے۔ نیز شکر کے طورپر اور اس کی نعمتوں کے اعتراف کے طورپر اس کا نام لیاجائے اور ذکر الٰہی کی تیسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کو اس کی ذات کی طرف بلا کر اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل و براہین سے آگاہ کرکے انہیں ان میں غورو فکر کی دعوت دی جائے اور اس کا ذکر کیا جائے۔
اسی طر ح لوگوں کے سامنے اللہ کی واحدانیت اور اس کی حکمت و قدرت ثابت کرکے نیز اس کی آیات و بنیات کی طرف توجہ دلا کر اس کا ذکر کیا جائے۔ ذکر الٰہ کی یہ تیسری قسم ذکر کی سب سے افضل قسم ہے اور ذکر کی دیگر تمام صورتیں اس پر مبنی اور اسی کی تابع ہیں اس کے ذریعے ہی یقین و طمانیت قلب حاصل ہوتی ہے۔ ارشاد باری ہے الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ( آگاہ رہو اللہ ہی کی یاد سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے) اس سے ذکر قلب مراد ہے جو اللہ کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل و براہین نیز اس کی ایات و بنیات پر غور و فکر کا دوسرا نام ہے) ۔
ان دلائل و براہین نیز آیات و بینات پر غور و فکر میں جس قدر اضافہ ہوگا اسی قدر قلوب کو زیادہ اطمینان اور سکون نصیب ہوگا۔ یہی وہ افضل ذکر ہے جس کے ثبوت پر تمام اذکار درست ہوئے اور ان کا حکم ثابت ہوتا ہے ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : بہترین ذکر وہ ہے جو خفی ہو یعنی دل میں کیا جائے۔ ابن قانع نے روایت بیان کی ہے کہ ان سے عبدالمالک بن محمد نے، ان سے مسدد نے، ان سے یحییٰ نے اسامہ بن زید سے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمن سے انہوں نے حضرت سعد بن مالک ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : بہترین ذکر وہ ہے جو خفی ہو اور بہترین رزق وہ ہے جو کافی ہو۔
Ayah 2:153قول باری ہے : یایھا الذین اٰمنو استعینوا بالصبروالصلاۃ ( ایے ایمان لانے والو، صبر اور نماز سے کام لو) اللہ سبحانہ نے اس آیت کا ذکر اپنے قول : فاذکرونی اذکرکم کے بعد فرمایا، جو اس امرپر دلالت کرتا ہے کہ صبر کرنا، نیز نماز پڑھنا اللہ کے ذکر کی ( جو اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل و براہین ، نیز اس کی قدرت و عظمت پر غور و فکر کا دوسرا نام ہے) انسانی عقول کے نزدیک ایک لطیف صورت ہے۔ یہ قول باری اس قول باری کی طرح ہے ان الصلوۃ تنھی علی الفحشاء والمنکر ( بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے) اس کے بعد فرمایا : ولذکر اللہ اکبر۔ ( اور اللہ کا ذکر بڑھ کر ہے) یعنی اپنے دلوں کے اندر اللہ کو یاد کرنا، دوسرے الفاظ میں کائنات کے اندر اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل پر غور و فکر کرنا نماز پڑھنے سے بڑھ کر ہے کیونکہ نماز اس ذکر کو قائم و دائم رکھنے میں صرف مدد دیتی اور اس کی راہ ہموار کرتی ہے۔
Ayah 2:154قول باری ہے : ولا تقولو ا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون ( اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا) اس آیت میں خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کو ان کی موت کے بعد زندہ کردیتا ہے۔ اس سے یہ مراد لینا درست نہیں کہ انہیں قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا، اس لئے کہ اللہ کی مراد یہ ہوتی تو یہ نہ فرماتا : ولکن لا تشعرون اس لئے کہ اللہ سبحانہ کا یہ ارشاد اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ موت کے بعد ان کی زندگی کا ہمیں علم نہیں ہے۔ اگر قیامت کے دن انہیں زندہ کرنا مراد ہوتا تو اہل ایمان کو اس کا شعور ہوتا اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس زندگی سے مراد وہ زندگی ہے جو انہیں قیامت سے پہلے ہی عطا کردی جائے گی۔ یہاں جب یہ بات جائز ہوگئی کہ اہل ایمان کو قیامت سے پہلے ان کی قبروں میں زندہ کردیاجائے گا اور وہ قبروں کے اندر اللہ کی نعمتوں سے بہرہ یاب ہوں گے تو یہ بھی جائز ہے کہ کافروں کو ان کی قبروں میں زندہ کرکے انہیں عذاب دیا جائے گا۔ یہ بات عذاب قبر کے منکرین کے قول کو باطل کردیتی ہے۔
یہاں اگر یہ کہاجائے کہ تمام اہل ایمان موت کے بعد اللہ کی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے تو پھر اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو کیوں خاص کیا گیا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ سبحانہ نے پہلے سے بشارت دے کر ان کے شرف اور ان کی عظمت کا ذکر کیا ہو اور پھر دوسری آیت میں وہ بات بیان فرما دی جو ان کے ساتھ مخصوص ہے، چناچہ ارشاد ہوا احیاء عند ربھم یرزقون ( وہ لوگ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں رزق پاتے رہتے ہیں)
اگر یہاں یہ کہاجائے کہ وہ زندہ کس طرح ہوسکتے ہیں جب کہ ہم انہیں مردر ایا م کے بعد اپنی قبروں کے اندر بوسیدہ ہڈیوں کی شکل میں دیکھتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس بارے میں لوگوں کے دو اقوال ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انسان دراصل روح کا نام ہے جو ایک لطیف جسم ہے اور راحت و تکلیف اسی روح کو لاحق ہوتی ہے۔ انسانی جثے کو لاحق نہیں ہوتی کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ انسان اس جسم کثیف کا نام جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کے قول کے مطابق اللہ سبحانہ، اس جسم کے بعض اجزاء کو اتنی مقدار میں لطیف بنا دیتا ہے کہ اس کے ذریعے انسانی ڈھانچہ قائم رہ سکے اور پھر آرام و راحت پہنچاتا ہے۔ یہ لطیف اجزاء اس طورپر رہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ اپنے حسب منشاء ان کے استحقاق کے مطابق عذاب دیتا یا راحت پہنچاتا ہے۔ پھر اللہ سبحانہ، ان اجزاء کو قیامت سے پہلے دوسری مختولقات کی طرف فنا کردے گا اور قیامت کے دن حشر نشر کے لئے زندہ کردے گا۔
ابو القاسم عبداللہ بن محمد بن اسحاق المروزی نے حدیث بیان کی، ان سے الحسن بن یحییٰ بن ابی الربیع الجرجانی نے، ان سے عبدالرزاق نے، ان سے معمر نے زہری سے اور انہوں نے حضر ت کعب بن مالک ؓ سے سنا کر حضور ﷺ نے فرمایا : مسلمان کا نسمہ ( روح) پرندے کی شکل میں جنت کے درختوں سے لٹکتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اسے اس کے جسد کی طرف لوٹا دیتا ہے۔
Ayah 2:155قول باری ہے : ولنبلونکم بشئی من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرین الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالو ا انا للہ وانا الیہ راجعون ( اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدینوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے، انہیں خوشخبری دے دو ( تا قول باری : واولئک ھم المھتدون ( اور یہی ہیں ہدایت یافتہ) عطاء الربیع اور حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ اس خطاب سے حضور ﷺ کے بعد الہجرۃ صحابہ کرام مراد ہیں۔
ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ اللہ سبحانہ نے پہلے ہی ان سے وہ باتیں بیان کردیں جو ہجرت کے بعد انہیں اللہ کی راہ میں تکلیفوں اور سختیوں کی صورت میں پیش آنے والی تھیں۔ اس بیان کی دو وجہیں بیان ہوسکتی ہیں ۔ اول یہ کہ حضرات صحابہ کرام ؓ ان باتوں کے پیشگی سماع سے اپنی طبیعتوں کو سختیوں پر صبر کرنے کا عادی بنالیں تاکہ جب یہ مشکلات پیش آئیں تو ان پر بہ آسانی صبر کرسکیں۔
دوم یہ کہ نفس کا صبر کا عادی بنانے پر انہیں فوری طورپر اس کا ثواب مل جائے۔ قول باری وبشر الصابرین۔ یعنی ان لوگوں کو بشارت دیجئے جو مذکورہ شدائد پر صبر کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:156قول باری : الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالو انا للہ وانا الیہ راجعون سے مراد۔ واللہ اعلم۔
اس حالت میں ان کی طرف سے اللہ کے لیے عبودیت اور اس کی مالکیت کا اقرار ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے انہیں آزما سکتا ہے تاکہ انہیں صبر کرنے کا ثواب عطا کرے اور ان کی ان کمزوریوں کی اصلاح کردے جن کا اسے علم ہے کیونکہ خیروصلاح کے کام کے سلسلے میں اللہ سبحانہ کی ذات پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ اس کے تمام افعال حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اس طرح مذکورہ حالت کے اندر بندوں کی طرف سے عبودیت کا اقرار دراصل اپنا معاملہ اس کے سپرد کردینے اور آزمائش میں اس کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کردینے کے مترادف ہے۔ جس طرح ارشاد ہے واللہ یقضی بالحق والذین یدعون من دونہ لا یقصون بشئی ( اللہ تعالیٰ مبنی برحق فیصلے کرتا ہے اور اس کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے میرے لئے آسمان سے گر جانا اس امر سے بڑھ کر پسندیدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی فیصلے کے بارے میں لب کشائی کروں اور کہوں کاش ایسا فیصلہ نہ ہوتا۔
قول باری ہے : انا للہ وانا الیہ راجعون ( ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اس کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں) اس میں بعث و نشور کا اقرار اور اس امر کا) اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو ان کے استحقاق کے مطابق بدلہ دے گا اور اس طرح اس کے ہاں نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں ہوگا۔ آگے اللہ نے ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو شدائد پر صبر کرنے والوں کے لئے اس کے ہاں ہیں۔ ارشاد ہوا : اولئک علیھم صلوات من ربھم ورحمۃ واولئک ھم المھتدون ( ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایت ہوں گی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رد ہیں) یعنی ان کے رب کی طرف سے ان پر برکتیں اور رحمتیں نازل ہوں گی اور ان کا رب ان کے صبر کو سرا ہے گا۔ یہ ایسی نعمتیں ہیں جن کی قدروقیمت کا اندازہ ذات باری کے سوا کسی اور کو نہیں ہے۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہوا : انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب۔ ( بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیاجائے گا) زیر بحث آیت میں مذکورہ مصائب شدائد کی چند صورتیں وہ تھیں جو صحابہ کرام کے ساتھ مشرکین کے سلوک اور رویے کے سبب سے سامنے آنے والی تھیں اور چند صورتیں وہ تھیں جو اللہ کی طرف سے آزمائش کی شکل میں ظہور پذیر ہوئیں۔
مشرکین کے رویے کا اظہار تو یوں ہوا کہ مدینہ کے مہاجرین اور انصار کے سوا پورا عرب حضور ﷺ کی دشمنی پر کمر بستہ ہوگیا تھا اور جس سے جوبن پڑا اس نے اپنے دل میں لگی ہوئی عداوت کی آگ بجھانے کے لئے کیا۔
آیت میں جس خوف کا ذکر ہے اس سے مراد صحابہ کرام ؓ کو لاحق ہونے والا وہ خوف ہے جو اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت تعداد کی وجہ سے انہیں لگا رہتا تھا۔
آیت میں جس جوع یعنی بھوک کا ذکر ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ صحابہ کرام ؓ تنگدست تھے اور انہیں فقرو فاقہ کے مراحل سے گزرنا پڑا تھا۔ فقرو فاقہ کے بارے میں یہ کہنا ممکن ہے کہ کبھی یہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، وہ اس طرح کہ صحابہ کرام کے اموال تلف ہوجاتے اور اس کے نتیجے میں وہ فقر و فاقہ سے دوچار ہوجاتے۔ اس بارے میں یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ دشمنوں کی وجہ سے بھی انہیں فقرو فاقہ کی تکلیف اٹھانی پڑی، یعنی ان پر دشمنوں کا غلبہ ہوجاتا۔
آیت میں جان و مال کے نقصانات اور پھلوں کی پیداوار میں کمی کا جو ذکر ہوا ہے اس میں دو احتمال ہے۔ مال کے نقصانات کے بارے میں یہ کہنا ممکن ہے کہ دشمن ان کا سبب ہوتا ہے، اسی طرح پھلوں کی پیداوار میں کمی کے سلسلے میں یہ کہنا درست ہے کہ حضرات صحابہ کرام ؓ دشمنوں کے ساتھ جنگوں میں مصروفیت کی بنا پر درختوں اور اراضی کی دیکھ بھال نہ کرسکتے اور اس طرح پیداوار میں کمی واقع ہوجاتی۔ یہ بھی کہنا درست ہے کہ آفات سماوی کی بنا پر فصلوں اور پھلوں کو نقصان پہنچ جاتا۔
جہاں تک جان کے نقصانات کا تعلق ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ صحابہ کرام میدان جنگ میں جان کی قربانی پیش کرتے، اور یہ مراد بھی درست ہے کہ ان میں سے بہت سے حضرات طبعی موت کی بنا پر اس دنیا سے رخصت ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ان آزمائشوں پر صبر کا مفہوم تسلیم و رضا ہے نیز اس بات کا علم کہ اللہ کے ہر کام میں بھلائی اور اس کے ہر کام میں بندوں کے لیے خیر کا پہلو ہوتا ہے نیز کسی چیز سے محروم کردینا بھی اس کی عطا میں شمار ہوتا ہے۔
دشمنوں کی طرف سے ایذا رسانیوں پر صبر سے مراد یہ ہے کہ صحابہ کرام ان کے خلاف جہادپر ثابت قدم رہے نیز اللہ کے دین کے ساتھ اپنی وابستگی مستحکم رکھتے اور مصائب کی شدت میں بھی اللہ کی اطاعت سے روگردانی نہ کرتے۔
یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین کے ظلم اور کفر کے ذریعے ابتلاء اور آزمائش کا ارادہ کرتا ہے کیونکہ اللہ سبحانہ کسی کو کفر کے ذریعے نہیں آزماتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کفر اور ظلم کے ذریعے آزماتا تو اس پر رضا مند ہونا واجب ہوتا جیسا کہ مشرکین کا دعویٰ تھا کہ وہ ان کے کفر اور ظلم پر رضا مند ہے۔
زیر بحث آیت دنیا کے شدائد و مصائب پر صبر کرنے والوں کی تعریف اور ان کی مدح کو متضمن ہے، نیز دنیا دنیا میں ان کے لئے ثواب ، ثنائے جمیل اور نفع عظیم کے وعدوں کو بھی متضمن ہے۔ دنیا میں ان وعدوں کا ظہور اس طرح ہوتا ہے کہ اللہ کے حکموں پر چلنے کی وجہ سے صبر کرنے والے کی تعریف ہوتی ہے اور اہل ایمان کے دلوں میں اس کا مقام بہت بلند ہوجاتا ہے، نیز صبر کرنے والا جب اپنے اچھے انجام اور عمدہ مقام کے بارے میں سوچتا ہے تو اسے غم اور پریشانی سے ایک گونہ تسلی ہوتی ہے اور وہ گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے جو بعض دفعہ اپنی جان کو نقصان پہچانے اور اسے ختم کردینے کا سبب بن جاتی ہے۔ آخرت میں اس وعدے کا ظہور ثواب جزیل کی صورت میں ہوگا جس کی مقدار کا اندازہ اس کے سوا کسی کو نہیں ہے۔
ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیت دو حکموں پر مشتمل ہے ایک حکم فرض ہے اور دوسرا نفل۔ فرض تو یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیاجائے اور اس کے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی میں ایسی ثابت قدمی دکھائی جائے کہ دنیا کے مصائب و شدائد بندے کو اس مقام سے ہٹا نہ سکیڈ۔ نفلی حکم یہ ہے کہ انا للہ انا الیہ راجعون کا فقرہ اپنی زبان سے ادا کیا جائے اس فقرے کی ادائیگی کے بڑے فوائد ہیں۔ ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے اس فعل کی ادائیگی ہوگی جس کی اللہ نے ترغیب دی ہے اور اس پر ثواب کا وعدہ فرمایا ہے دوسرا یہ کہ سننے والا یہ فقرہ سنے گا تو اس کی پیروی کرے گا ۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ یہ فقرہ سن کر کافروں کا غصہ اور رنج بڑھے گا انہیں اس بات سے پریشانی ہوگی کہ مسلمان اللہ کی اطاعت اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے پر ثابت قدم ہیں۔
دائود طائی سے منقول ہے کہ دنیا سے بےرغبت انسان ، یعنی زاہد دنیا میں بقاء کو پسند نہیں، اور رضا بقضا ( اللہ کے فیصلوں پر رضا مند رہنا) افضل ترین عمل ہے۔ مسلمان کو مصیبت پر غمگین نہیں ہونا چاہیے۔ صابر ہر مصیبت پر ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے۔
Ayahs 2:157–158صفا اور مروہ کے درمیان سعی
ارشاد باری ہے : ان الصفاء والمروۃ من شعائر اللہ فمن حج البیت او امتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما ( یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ا ن دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرے) ابن عینیہ سے مروی ہے انہوں نے زہری سے اور انہوں نے عروہ سے روایت بیان کی ہے کہ میں نے مذکورہ بالا آیت کی تلاوت حضرت عائشہ ؓ کے سامنے کرکے ان سے کہا کہ اگر میں سعی نہ کروں تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہوگی۔ یہ سن کر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : بھانجے تم نے بہت بری بات کہی۔ حضور ﷺ نے ان کے درمیان سعی کی ہے اور مسلمانوں نے بھی ان کے درمیان سعی کی ہے۔ اس طرح سعی ایک سنت بن گئی۔ مناۃ بت کے نام لیوا ان کے درمیان سعی نہیں کرتے تھے۔ جب اسلام آگیا تو مسلمانوں نے ان کے درمیان سعی کرنے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی اس پر حضور ﷺ نے ان کے درمیان سعی کی اور اس طرح یہ بات سنت قرار پائی۔
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ ابوبکر بن عبدالرحمن ؓ سے کیا، تو انہوں نے کہا کہ : یہی علم کی بات ہے ۔ بہت سے اہل علم کا قول ہے کہ اس بارے میں صرف ایسے لوگوں نے سوال کیا تھا جو صفا مروہ کے درمیان سعی کیا کرتے تھے میرے خیال میں آیت کا نزول دونوں گروہوں کے بارے میں ہوا ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ صفا پہاڑی پر بہت سے بت نصب تھے اور مسلمان ان بتوں کی وجہ سیس عی نہیں کرتے تھے اس پر اللہ نے آیت نازل فرمائی۔ فلا جناح علیہ ان یطوف بھما۔
ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کے نزدیک اس آیت کے نزول کا سبب ان لوگوں کا سوال تھا جہ مناۃ بت کا نام بلند آواز سے پکارتے تھے اور اس کے پجاری ہونے کی بنا پر صفا اور مروہ کے درمیان چکر نہیں لگاتے تھے۔ جبکہ حضر ت ابن عباس اور ابوبکر بن عبدالرحمن کے قول کے مطابق آیت کا نزول ان لوگوں کے سوال کی وجہ سے ہوا تھا جو ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتے تھے۔ ان پہاڑوں پر بہت بت نصب تھے جس کی وجہ سے اسلام آنے کے بعد بھی لوگ ان کے درمیان سعی کرنے سے پرہیز کرتے تھے۔ ممکن ہے آیت کے نزول کا سبب ان دونوں گروہوں کا سوال ہو۔
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور ایوب نے ابن ابن ملیکہ سے اور دونوں حضرت عائشہ ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے کسی شخص کے حج اور عمرہ کو اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جب تک کہ اس نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرلی۔ ابو الطفیل نے حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے کہ ان دونوں کے درمیان سعی سنت ہے اور حضور ﷺ نے اس کی ادائیگی کی ہے۔ عاصم الاحوال نے حضرت انس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہم صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو ناپسند نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی۔ ان کے درمیان سعی نقل ہے۔ عطاء سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن الزبیر ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جو شخص چاہے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرے۔ عطاء اور مجاہد سے منقول ہے کہ جو شخص صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرے اس پر کوئی چیز عائد نہیں ہوگی۔
اس بارے میں فقہائے امصار کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب سفیان ثوری اور امام مالک کا قول ہے کہ حج اور عمرہ کے اندر سعی واجب ہے اور اگر اسے ترک کردیا گیا ہو تو اس کے بدلے دم، یعنی ایک جانور قربانی کردینا کافی ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ سعی ترک کرنے کی صورت میں دم دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ متعلقہ شخص پر واپس آکر سعی کرنا لازم ہوگا۔
ابو بکر حصاص کہتے ہیں ہمارے اصحاب کے نزدیک سعی حج کے توابع میں شمار ہوتی ہے اور جو شخص سعی کیے بغیر اپنے گھر واپس آ جائے اس کے لئے اس سعی کے بدلے دم دے دینا اسی طرح کافی ہوگا جس طرح مزدلفہ میں وقوف یا رمی جماریا طواف صدر ترک کردینے پر کافی ہوجاتا ہے۔
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حج کے فرائض میں داخل نہیں ہے اس کی دلیل حضور ﷺ کی وہ حدیث ہے جسے شعبی نے حضرت عروہ بن مضرس الطائی ؓ سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اللہ کے رسول ! میں قبیلہ طے کے پہاڑ کے پاس سے آیا ہوں، میں نے کوئی بھی پہاڑ اس پر وقوف کیے بغیر نہیں چھوڑا، تو کیا میرا حج ہوگیا ؟ یہ سن کر آپ ؐ نے فرمایا : جس شخص نے ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھی، اور اس مقام پر ہمارے ساتھ وقوف کیا جب کہ وہ اس سے پہلے عرفات میں دن یا رات کے وقت وقوف کرچکا ہو تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور اب وہ اپنا میل کچیل دور کرلے۔ آپ ﷺ کا یہ ارشاد دو وجوہ سے حج کے اندر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی فرضیت کی نفی کر رہا ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے سائل کو بتادیا کہ اس کا حج مکمل ہوگیا ہے۔ حالانکہ اس میں سعی کا ذکر نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر سعی فرض ہوتی تو آپ ﷺ سائل کو اس کے متعلق ضرور ہدایت دیتے۔
اگر یہاں یہ کہا جائے کہ مذکورہ بالا حدیث میں طواف زیارت کا بھی ذکر نہیں ہے حالانکہ یہ حج کے فرائض میں داخل ہے تو ا س کے جواب میں کہا جائے گا ظاہر لفظ اسی بات کا متقضی ہے البتہ ہم نے ایک دلالت کی بنا پر اس کی فرضیت ثابت کی ہے۔
اگر یہ کہاجائے کہ یہ بات اس امر کی موجب ہے کہ سعی مسنون یعنی واجب نہ ہو بلکہ نفل اور تطوع ہو جیسا کہ حضرت انس ؓ اور حضرت ابن الزبیر ؓ کی روایت سے ظاہر ہے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ظاہر لفظ اسی کا متقضی ہے البتہ ہم نے ایک دلالت کی بنا پر توابع حج کے اندر اس کی مسنونیت کا اثبات کیا ہے۔ سعی کے وجوب پر اس بات سے استدلال کیا ج اتا ہے کہ اللہ کی کتاب میں فرض حج کا بیان مجمل طورپر ہوا ہے اس لئے کہ لغت میں حج کے معنی قصد کے ہیں۔ شاعر کہتا ہے۔ ع
یحج ما مومۃ فی قعرھا الجف
( وہ ایسے کنویں کا قصد کرتا ہے جس کی تہہ میں بڑی کشادگی ہے) ۔
یہاں لفظ ” یحج “ کے معنی ” یقصد “ کے ہیں۔
شرع کے اندر لفظ حج کو دوسرے معانی کی طرف منتقل کردیا گیا جن کے لئے لغت کے اعتبار سے یہ لفظ وضع نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک مجمل لفظ تھا جسے بیان کی ضرورت تھی۔ اس بنا پر حضور ﷺ کا اس سلسلے میں جو فعل وارد ہو وہ فی الجملہ اس مجمل لفظ کے مترادف ہوگا اور حضور ﷺ کا جو فعل مورد بیان میں وارد ہوا سے وجوب پر محمول کیا جائے گا۔ اس بنا پر جب حضور ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیا سعی کی تو اسے اس وقت تک وجوب پر دلالت تصور کیا جائے گا۔
اسے ایک اور جہت سے دیکھئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے مجھ سے اپنے مناسک لے لو ! یعنی سیکھ لو، آپ ﷺ کا یہ ارشاد امر کے صیغے میں ہونے کی وجہ سے تمام مناسک کے اندر آپ کی اقتدار کے ایجاء کا متقضی ہے، اس بنا پر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے معاملے میں بھی آپ کی اقتدا واجب ہوگئی۔ طارق بن شہاب نے حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں حضور ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ مقام بطحا میں تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے ؟ میں نے عرض کیا جو احرام اللہ کے رسول نے باندھا ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔ اب بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرو اور پھر احرام کھول دو ۔ اس ارشاد میں آپ ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ ؓ کو سعی کرنے کا حکم دیا اور امرایجاب کا متقضی ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اور حدیث بھی مروی ہے لیکن اس کے تین اور سند دونوں میں اضطراب ہے اور اس کا ایک روای بھی مجہول ہے اسے معمر نے ابن عینیہ کے غلام واصل سے، انہوں نے موسیٰ بن ابی عبید سے، انہوں نے صیغہ بنت ابی شیبہ سے اور انہوں نے ایک عورت سے بیان کیا ہے جس نے حضور ﷺ کو صفا اور مروہ کے درمیان یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم پر سعی فرض کی گئی ہے اس لئے سعی کرو لیکن اس خاتون کا نام بیان نہیں ہوا۔
محمد بن عبدالرحمن بن محصین نے عطا بن ابی رباح سے روایت بیان کی ہے کہ ان سے صفیہ بنت شیبہ نے حبیبہ بنت ابی تحررۃ نامی ایک خاتون سے روایت بیان کی کہ میں ابو حسین کے گھر گئی میرے ساتھ قریش کی کچھ خواتین بھی تھیں۔ اس وقت حضور ﷺ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور آپ کی چادر بھی آپ ؐ کے ساتھ گھوم رہی تھی۔ آپ فرما رہے تھے لوگو ! سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کردی ہے ۔ اس روایت میں ذکر ہوا ہے کہ آپ نے یہ بات طواف کے دوران فرمائی۔ اس حدیث کا ظاہر اس بات کا متقضی ہے کہ آپ کی مراد طواف کے اندر سعی سے تھی، یعنی رمل، نیز نفس طواف کیونکہ قدموں پر چلنا، یعنی مشی کو بھی سعی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے فاسعو ا الی ذکر اللہ ( اللہ کی یاد طرف چل پڑو) یہاں چلنے میں اسرا ع مراد نہیں ہے، بلکہ اللہ کی یاد کے لئے پہنچنا مراد ہے۔
پہلی حدیث جس میں بیان ہوا ہے کہ حضور ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے مذکورہ بات ارشاد فرمائی تھی، اس میں کوئی دلالت موجود نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی مراد لی ہے کیونکہ یہ کہنا درست ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے اس ارشاد سے بیت اللہ کا طواف اور طواف کے اندر رمل مراد لیے ہوں۔ طواف کے اندر رمل بھی سعی ہے، اس لئے کہ رمل میں تیز تیز قدموں سے چلنا ہوتا ہے۔ نیز حدیث کا ظاہر کسی بھی سعی کے جواز کا متقضی ہے یعنی طواف کرنے والا جب رمل کرلے تو گویا اس نے سعی کرلی۔ اس میں وجوب تکرار پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ ہماری مذکورہ پہلی روایتیں سعی کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ سعی سنت ہے اور اسے چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔ ان روایتوں کے اندر اس بات پر کوئی دلالت نہیں ہے کہ جو شخص یہ سنت چھوڑ دے اس کی طرف سے دم دینا اس سنت کے قائم مقام نہیں ہوگا۔
اگر ایک شخص سعی کیے بغیر اپنے گھر واپس آ جائے تو اس کی طرف سے ایک جانور کی قربانی متروکہ سعی کی قائم مقام بن جائے گی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ پورا احرام کھول دینے کے بعدسعی کرنے کے جواز پر سلف کا اتفاق ہے جس طرح رمی اور طواف صدر جائز ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ دم دینا جس طرح رمی اور طواف صدر کے قائم مقام بن جاتا ہے اسی طرح سعی کے قائم مقام بھی بن جاتا ہے۔
اگر یہاں یہ کہا جائے کہ احرام کھولنے کے بعد طواف زیارت کیا جاتا ہے لیکن دم دینا اس کے قائم مقام نہیں ہوتا تو اس کے جواب میں کہاجائے گا اس طرح نہیں ہے، کیونکہ طواف زیارت کا باقی رہ جانا اس امر کا موجب ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص کے لئے اپنی بیوی سے ہمبستری حرام ہوتی ہے اور جب طواف زیارت کرلیتا ہے تو اس کے لئے ہر بات حلال ہوجاتی ہے۔ اس مسئلے میں فقہاء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ دوسری طرف اگر سعی باقی رہ جائے تو احرام کھولنے کا کچھ عرصہ باقی رہ جانے کے دوران میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا جس طرح رمی اور طواف صدر کی کیفیت ہے۔
اگر کوئی شخص کہے کہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ محرم اگر طواف زیارت کرلے تو جب تک وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرے گا اسوقت تک اپنی بیوی سے ہم بستری اس کے لئے حلال نہیں ہوگی تو اس کا جواب یہ ہے کہ تابعین کے صدر اول اور ان کے بعد آنے والے سلف کا اس امر پر اتفاق ہے کہ طواف زیارت کرنے کے بعد محرم کے لیے اس کی بیویاں حلال ہوجاتی ہیں کیونکہ حلق کے بعد محرم کے بارے میں ان حضرات کے تین اقوال ہیں کچھ حضرات کا قول ہے کہ جب تک وہ طواف زیارت نہ کرلے اس وقت تک اس کے لئے سلے ہوئے کپڑے، شکار اور خوشبو حرام ہوتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ اس کے لئے عورتیں اور خوشبو حرام ہوتی ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ وہ جب تک طواف زیارت نہ کرلے اس وقت تک عورتیں حرام ہوتی۔ اس طرح گویا سلف کا اس پر اتفاق ہے کہ طواف زیارت کرنے کے بعد اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کیے بغیر اس کے لئے عورتیں حلال ہوجاتی ہیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جس شخص پر طواف نہیں اس پر سعی بھی نہیں۔ نیز یہ کہ وہ تطوع کے طورپر سعی نہیں کرے گا جس طرح تطوع کے طورپر رمی نہیں کرے گا۔ اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ سعی حج اور عمرہ کے توابع میں سے ہے۔
اگر کہاجائے کہ وقوف عرفہ احرام کے بعد اور طواف زیارت وقوف کے بعد کیا جاتا ہے اور یہ دونوں باتیں حج کے فرائض میں شامل ہیں ؟ تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ ہم نے یہ تو نہیں کہا کہ ایک فعل جو ایک اور فعل کے بعد کیا جائے وہ اس کا تابع ہوتا ہے۔ ہم نے تو صرف یہ کہا ہے کہ جو فعل حج یا عمرہ کے افعال کے بالتبع کیا جائے وہ تابع ہوتا ہے، فرض نہیں ہوتا۔ اس بناپر جہاں تک وقوف عرفہ کا تعلق ہے، تو وہ کسی اور فعل کے بالتبع نہیں کیا جاتا بلکہ علی الانفراد کیا جاتا ہے، البتہ اس کے لئے دو شرطیں ہیں۔ ایک شرط احرام اور دوسری شرط وقت ہے اور جس فعل کے لئے احرام یا وقت شرط ہو اس میں کوئی ایسی دلالت موجود نہیں ہوتی جس سے معلوم ہوا کہ اس کی ادائیگی بالتبع کی جاتی ہے۔ اسی طرح جس فعل کا جو از کسی وقت کے ساتھ متعلق ہو اس میں بھی یہ دلالت نہیں ہوتی کہ وہ کسی اور فرض کے تابع ہے۔ طواف زیارت کے جواز کا تعلق وقت اور وقوف عرفہ کے ساتھ ہے اور اس کی صحت احرام کے سوا کسی اور فعل پر موقوف نہیں ہے۔ اس لئے یہ اس کے سوا کسی اور فعل کے تابع نہیں ہے۔ دوسری طرف صفا اور مروہ کے درمیان سعی وقت کے ساتھ ایک اور فعل، یعنی طواف پر موقوف ہے اور یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہ حج اور عمرہ کے توابع میں سے ہے۔ فرض نہیں ہے اس لئے یہ طواف صدر کے مشابہ ہوگئی۔ جب اس کی صحت طواف زیارت پر موقوف ہے تو یہ حج کے اندر ایک تابع ہوگی اور اس کے ترک پر دم دینا اس کے قائم مقام ہوجائے گا۔
قول باری ہے۔ ان الصفاء والمروۃ من شعائر اللہ یہ اس امرپر دلالت کرتا ہے کہ یہ قربت ہے کیونکہ شعائر طاعات اور تقرب الٰہی کے نشانات ہوتے ہیں۔ یہ لفظ اشعار سے ماخوذ ہے جس کے معنی اعلام کے ہیں۔ اسی سے یہ قول ہے : شعرت یکذاکذا یعنی مجھے فلاں فلاں باتوں کا علم ہوا۔ اسی سے ” اشعار بدتہ “ یعنی قربانی کے جانور پر ایسے نشانات بنادینا جن سے معلوم ہو کہ یہ جانور قربانی کے لئے ہے ” شعار الحرب “ ان علامات کو کہاجاتا ہے جن کے ذریعے جنگ میں حصہ لینے والے فوجی ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔ اس لئے شعائر تقرب الٰہی کی یادگاریں ہیں۔ ارشاد باری ہے : ذلک ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقویٰ القلوب ( یہ بات ہوچکی اور جو کوئی خدا کی یادگاروں کا ادب کرے گا سو یہ ادب دلوں کی پرہیز گاری میں سے ہے) حج کے شعائر اس عبادت کے معالم اور نشانات ہیں۔ اور مشعر حرام، یعنی مزدلفہ بھی ان میں سے ہے۔ اس طرح زیر بحث آیت اپنے مفہوم کے اعتبار سے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی تقرب الٰہی ہے۔
قول باری : فلا جناح علیہ ان یطوف بھما کی تفسیر میں حضرت عائشہ ؓ اور دیگر صحابہ کرام ؓ نے بتایا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے سوال کے جواب میں ہے جنہوں نے صفا اور مروہ کے بارے میں پوچھا تھا ، نیز یہ کہ آیت کے ظاہری الفاظ و جواب مراد لینے کی نفی نہیں کرتے۔ اگرچہ یہ الفاظ و جوب پر دلالت بھی نہیں کرتے، تاہم آیت کے سوا اس کے وجوب پر دلالت کرنے والی اور بات بھی موجود ہے جس کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں۔
بطن وادی کے اندر سعی کرنے یعنی تیز رفتاری سے چلنے کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے اس بارے میں حضور ﷺ سے مختلف روایتیں منقول ہیں ۔ ہمارے اصحاب کا مسلک ہے کہ بطن وادی میں سعی، یعنی تیز قدموں سے چلنا مسنون ہے جس طرح طواف کے اندر مل مسنون ہے اسے ترک نہیں کرنا چاہیے جعفر بن محمد نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت جابر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ صفا اور مروہ کے درمیان جب حضور ﷺ کے قدم مبارک اتر گئے تو آپ نے سعی کی یعنی آپ کی رفتار تیز ہوگئی حتیٰ کہ آپ وادی پار کرگئے۔
سفیان بن عینیہ نے صدقہ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے سوال کیا آپ کے خیال میں حضور ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان رمل کیا تھا ؟ انہوں نے جواب میں فرمایا : آپ ﷺ لوگوں کے درمیان تھے، لوگوں نے رمل کیا تھا اور میرے خیال میں انہوں نے آپ ﷺ کو رمل کرتے دیکھ کر ایسا کیا تھا۔
نافع کا قول ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ بطن وادی میں سعی کرتے تھے۔ مسروق نے روایت بیان کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے بطن وادی میں سعی کی تھی۔ عطا نے حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول نقل ہے کہ جوش خص چاہے مکہ کے سیل ( پانی کی گزرگاہ) میں سعی کرلے اور جو چاہے سعی نہ کرے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی اس سے مراد بطن وادی میں رمل تھا۔ سعید بن جبیر نے روایت بیان کی ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو صفا اور مروہ کے درمیان چلتے ہوئے دیکھا تھا، آپ کہتے کہ اگر میں قدموں پر چلوں تو میں نے حضور ﷺ کو قدموں پر چلتے دیکھا تھا اور اگر میں سعی کروں تو میں نے آپ کو سعی کرتے دیکھا تھا۔ عمرو نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان صرف اس لئے سعی کی تھی کہ مشرکین کے سامنے یہ مظاہرہ ہوسکے کہ آپ ﷺ کمزور نہیں ہوئے ہیں بلکہ آپ ﷺ کی جسمانی قوت بحال ہے۔ عمرو کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ حضور ﷺ نے بطن وادی میں سعی کی تھی۔
یہاں سعی کی اس سبب کا ذکر جس کی خاطر حضور ﷺ نے یہ فعل کیا تھا یعنی مشرکین کے لئے جسمانی قوت کا اظہار، نیز اس سبب کے ساتھ آپ ﷺ کے فعل کا تعلق سبب زائل ہونے پر سنت کے طورپر اس کے باقی رہنے میں مانع نہیں ہے جیسا کہ طواف کے اندر رمل کے بارے میں ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ ہم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ رمی جمار کا سبب یہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ابلیس کو اس وقت کنکریاں ماری تھیں جب وہ منیٰ کے اندر آپ کے سامنے ظاہر ہوا تھا، تاکہ آپ کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی سے روکے اور آپ کے دل میں وسوسے پیدا کرے۔ اس کے بعد رمی جمار سنت بن گئی۔ اسی طرح وادی کے اندر رمل کا سبب یہ تھا کہ حضرت ہاجرہ نے جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کے لئے پانی تلاش کیا تو صفا اور مروہ کے درمیان آتی جاتی رہیں جب آپ وادی میں اتر آتیں تو بچہ آپ کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا اور پھر آپ تیز تیز قدموں سے چل کر جاتیں۔
ابو الطفیل نے حضر ت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب مناسک کی تعلیم دی گئی تو مسعی کے پاس شیطان آپ کے سامنے آیا، آپ شیطان سے آگے نکل گئے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے اس مقام پر تیز رفتاری سے کام لیا تھا۔ یہ عمل اپنے نظائر کی طرف جن کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں سنت ہے۔ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کے دوران بطن وادی میں رمل کرنے کے عمل کو امت نے قولاًوفعلاً اختیار کیا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضور ﷺ نے یہ عمل کیا ہے۔ صرف اس بارے میں اختلاف رائے ہے کہ آیا آپ ﷺ کے بعد یہ مسنون ہے یا نہیں۔ فعلی طورپر اس درجے تک اس عمل کی نقل دراصل اس کے حکم کے باقی رہنے پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں اس دلالت کا ذکر کر آئے ہیں واللہ اعلم بالصواب۔
راکب کے طواف کا بیان
ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ صفا اور مروہ کے درمیان سوار ہوکر طواف کرنے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب نے بلا عذر ایسا کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ ابو الطفیل نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا : آپ کے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سواری پر سوار ہوکر صفا اور مروہ کے درمیان طواف سنت ہے اور یہ کہ حضور ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا تھا ؟ یہ سن کر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ بھی، حضور ﷺ نے اس لئے ایسا کیا تھا کہ آپ ﷺ کے پاس سے کسی کو ہٹانے کی ضرورت پیش نہ آئے ورنہ سواری پر طواف کرنا سنت نہیں ہے۔
عروہ بن الزبیز بن ابی سلمہ اور انہوں نے حضرت ام سلمی ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے اپنی طبیعت کی خرابی کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو۔ عروہ جب لوگوں کو جانوروں پر سوار ہوکر طواف کرتے دیکھتے تو انہیں روکتے ، لوگ ان سے بیماری کا ذکر کرتے تو وہ سن کر کہتے یہ لوگ نامراد و ناکام ہوگئے۔
ابن ابی ملیکہ نے حضرت عائشہ ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے ۔ مجھے حج اور عمرہ سے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نے روک دیا ہے اور میں سواری کرنا ناپسند کرتی ہوں۔ یزید بن ابی زیاد سے روایت ہے انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے سنا کر حضور ﷺ آئے اور اس وقت آپ ﷺ کی طبیعت خراب تھی، چناچہ آپ ﷺ نے ایک اونٹ پر سوار ہوکر بیت اللہ کا طواف کیا۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ٹیڑھے سر والا ایک ڈنڈا تھا آپ ﷺ حجر اسود کے پاس سے گزرتے تو اس کا استلام کرتے۔ جب آپ ﷺ طواف سے فارغ ہوگئے تو اونٹ کو بٹھایا اور اتر کر دو رکعتیں پڑھیں۔
جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں صفا اور مروہ کے درمیان طواف کے اندر بطن وادی میں سعی کرنا سنت ہے۔ اگر کوئی شخص سوار ہوکر یہ طواف کرے گا تو وہ سعی کا تارک قرار پائے گا اور اس کی یہ بات خلاف سنت ہوگی۔ الا یہ کہ معذور ہو، جیسا کہ حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے منقول ہے۔ معذوری کی صورت میں سوار ہوکر طواف جائز ہوجائے گا۔
فصل
جعفر بن محمد نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت جابر ؓ سے روایت بیان کی ہے جس میں حضور ﷺ کے حج کی کیفیت اور بیت اللہ کے گرد آپ ﷺ کے طواف کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا ہے کہ دو رکعتیں پڑھنے کے بعد آپ ﷺ نے حجر اسود کا استلام کیا اور پھر صفا کی طرف نکل گئے اور جب بیت اللہ نظر آنے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ہم بھی وہیں سے ابتدا کریں گے جہاں سے اللہ نے ابتد ( کا حکم دیا) ہے۔ آپ ﷺ نے یہ ارشاد اس پر دلالت کرتا ہے کہ زیر بحث آیت کے الفاظ ترتیت کے متقضی نہیں ہیں، کیونکہ اتر ترتیب کی بات آیت کے الفاظ سے سمجھ میں آتی تو آپ ﷺ کو یہ فرمانے کی ضرورت نہ ہوتی کہ ” ہم بھی وہیں سے ابتدا کریں گے جہاں سے اللہ نے ابتدا ( کا حکم دیا) ہے۔ “ گویا صفا سے ابتدا حضور ﷺ کے ارشاد کی بنا پر کی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا تم اپنے مناسک مجھ سے لے لو۔ یعنی سیکھ لو۔ چناچہ اہل علم کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ترتیب کے اعتبار سے مسنون طریقہ یہ ہے کہ صفا سے ابتداء کی جائے۔ اگر کوئی شخص مروہ سے ابتدا کرلے تو اس کے اس پھیرے، یعنی شوط کو شمار نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے اصحاب سے یہی روایت مشہور ہے۔ امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ مروہ سے سعی کی ابتدا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اس پھیرے کا اعادہ کرلے، لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس پر کفارہ عائد نہیں ہوگا۔ اس بات کو امام صاحب نے وضو میں اعضا دھونے میں ترتیب ترک کردینے کے مترادف قرار دیا ہے۔
قول باری ہے : ومن تطوع خیرا ( اور جو برضا اور رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے) صفا اور مروہ کے درمیان طواف کے ذکرکے بعد اللہ سبحانہ نے یہ بات فرمائی۔ اس سے ان حضرات نے استدلال کیا ہے جو مذکورہ طواف کو تطوع اور نقل قرار دیتے ہیں لیکن مذکورہ طواف ان حضرات کے نزدیک بطور تطوع نہیں ہوتا جو حج اور عمرہ کے اندر اس کے وجوب کے قائل ہیں اور ان حضرات کے نزدیک بھی نہیں جو حج اور عمرہ کے علاوہ کسی اور صورت کے اندر اسے واجب نہیں سمجھتے، اس بنا پر ضروری ہوگیا کہ زیر بحث فقرے کو اس بات کی خبر دینے پر محمول کیا جائے کہ جو شخص حج اور عمرہ کے اندر مذکورہ طواف کرے گا وہ اسے تطوع کے طور پر کرے گا۔ کیونکہ حج اور عمرہ کے سوا اس عمل کے کرنے کا کوئی اور موقعہ نہیں ہے۔
ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث فقرے میں ان حضرات کے قول پر دلالت موجود نہیں ہے۔ ان کے نزدیک یہ کہنا درست ہے کہ اس فقرے میں مراد یہ ہو کہ جو شخص نفلی حج اور عمرہ کرے کیونکہ ان دونوں باتوں کا ذکر قول باری فمن حج البیت اواعتمو ( جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرے کرے) میں پہلے گزر چکا ہے۔