2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 2:218–219

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امید وار ہیں اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کونسا مال خرچ کریں کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو، اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

شراب کی حرمت ارشاد باری ہے یسئلونک عن الخمروالمسر قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس و اثمھما اکبر من نفعھما۔ آپ سے پوچھتے ہیں کہ شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لئے کچھ منافع بھی ہیں مگر ان کا نقصان ان کے فائدے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ آیت تحریم خم کا تقاضا کرتی ہے اگر اس کی تحریم کے لئے کوئی اور آیت نازل نہ بھی ہوتی پھر بھی یہی آیت اس مقصد کے لئے کافی ہوتی۔ اس لئے کہ ارشاد باری ہے قل فیھما اثم کبیر اور گناہ سارے کا سارا حرام ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھما وما بطن والاثم آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جو چیزیں میرے رب نے حرام کی ہیں وہ یہ ہیں بےشرمی کے کام، خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ کردیا کہ گناہ حرام ہے۔ پھر شراب کے متعلق صرف اتنی بات پر اکتفا نہیں کیا کہ اس میں گناہ ہے بلکہ فرمایا گناہ کبیر ہے تاکہ اس کی ممانعت کی اور تاکید ہوجائے اور و منافع للناس میں اس کی اباحت پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے مراد دنیاوی فوائد ہیں اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ دنیاوی لحاظ سے محرمات کے مرتکبین کو کوئی نہ کوئی فائدہ تو ضرور ہوتا ہے لیکن یہ فوائد انہیں اس عذاب سے نہیں بچا سکتے جو انہیں ملنے والا ہے۔ شراب کے فوائد کا ذکر اس کی اباحت کی دلیل نہیں ہے۔۔ اس بنا پر شراب کے فوائد کا ذکر اس کی اباحت کی دلیل نہیں ہے۔ خاص طور پر جب کہ آیت کے سیاق میں اس کے منافع کے ذکر کے ساتھ اس کی ممانعت کی بھی تاکید کردی ہے چناچہ فرمایا واثمھما اکبر من نفعھما یعنی شراب کے استعمال پر ملنے والے اس فوری فائدے کے مقابلہ میں بہت بڑھ کر ہے جو اسے حاصل ہوسکتی ہے۔ شراب کے متعلق جو دوسری آیتیں نازل ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے یایھا الذین امنوا لاتقرلوا الصلوۃ وانتم سگاری حتی تعلموا ماتقولون۔ اے ایمان والو ! نشے کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جائو یہاں تک کہ تمہیں یہ معلوم ہونے لگے کہ تم کیا کہہ ہو۔ اس آیت میں شراب کی اتنی مقدار کی تحریم پر دلالت نہیں ہے جس سے نشہ آجائے۔ اس میں نشہ آور مقدار کی حرمت پر دلالت ہے۔ اس لئے کہ نماز ایک فرض عبادت ہے جس کی ادائیگی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور جو چیز نماز کی وقت پر ادائیگی میں رکاوٹ ہو وہ ممنوع ہوگی۔ اب جبکہ نماز حالت سکر میں ممنوع ہے اور شرب خم سے ترک صلوۃ لازم آتی ہے اس بنا پر اس کے پینے کی ممانعت ہوگی اس لئے کہ ایسا کام جو فرض کے لئے رکاوٹ بن جائے وہ ممنوع ہوتا ہے۔ شراب کے متعلق ایک اور آیت ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔ ارشاد باری ہے انما الفمووا المیسروالانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ۔ یہ شراب، یہ جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو تاقول باری فھل انتم منتھون کیا تم باز آجائو گے۔ اس آیت میں شراب کی حرمت کا کئی وجوہ سے ذکر ہے۔ اول یہ قول باری ہے رجس من عمل الشیطان۔ رجس کا اطلاق صرف اسی چیز پر کرنا درست ہوتا ہے جو ممنوع اور حرام ہو پھر اس کی تاکید اپنے اس ارشاد فاحتنبوہ سے کی۔ یہ امر ہے جس کا تقاضا ہے کہ اس کے اجتناب کو اپنے اوپر لازم کرلیا جائے۔ پھر یہ فرمایا فھل انتم منتھون جس کا مفہوم یہ ہے کہ فانتھوا یعنی باز آجائو۔ کیا شراب کی قلیل مقدار بھی حرام ہے ؟۔۔۔ اگر یہ کہا جائے کہ قول باری فیھما اثم کبیر۔ میں شراب کی قلیل مقدار کی تحریم پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ اس لئے کہ آیت میں مراد یہ ہے کہ وہ مقدار جسے استعمال کر کے سکر، ترک صلوۃ غیر انسانی حرکات اور جنگ و جدل کی وجہ سے پینے والا گنہگار ٹھہرے۔ جب ان باتوں کی وجہ سے اس پر گناہ میں ملوث ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا تو اس صورت میں ہم ظاہر آیت کا متقضیٰ یعنی حکم تحریم کو پورا کریں گے اور ظاہر ہے کہ قلیل مقدار میں شراب کے استعمال سے یہ باتیں پیدا نہیں ہوتیں اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آیت میں قلیل مقدار کی تحریم پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ فیھما اثم کبیر میں ایک لفظ پوشیدہ ہے وہ ہے شوبھا اس لئے عبارت یوں ہوگی۔ فی شربھا اثم کبیر، شراب پینے میں بڑا گناہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس شراب میں کوئی گناہ نہیں اس لئے کہ یہ اللہ کا فعل ہے۔ گناہ میں ملوث ہونے کی صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمارا بھی اس شراب میں کوئی کردار پیدا ہوجائے جس کی وجہ سے ہم سزا اور عذاب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ جب لفظ شرب کو پوشیدہ مان لیا جائے تو عبارت یوں ہوگی فی شربھا فعل المیسراثم شراب پینے اور جوا کھیلنے میں بہت بڑا گناہ ہے۔ عبارت کی یہ صورت شراب کی قلیل اور کثیر دونوں مقداروں کو شامل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ فرماتا کہ حرمت الخمد (شراب حرام ہوگئی) تو یہی بات سمجھ میں آتی کہ اس سے مراد شراب نوشی اور اس سے نفع اندوزی ہے۔ یہ مفہوم اس کی قلیل اور کثیر دونوں مقدار کی تحریم کا تقاضا کرتا ہے۔ اس بارے میں ایک حدیث بھی مروی ہے ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے ، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن طلحہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا قول باری یسئلونک عن الخمر والمیسد قل فیھما اثم کبیر۔ میں المیسر سے مراد جوا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں ایک شخص جوا کھیلتے ہوئے اہل و عیال اور اپنے مال کو دائو پر لگا دیتا تھا۔ پھر فرمایا قول باری لاتقوبوا الصلوۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ماتقولون کی صورت یہ ہے کہ ابتداء میں مسلمان نماز کے قریب شراب نہیں پیتے تھے جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو پی کر سو جاتے، پھر ایسا ہوا کہ کچھ مسلمانوں نے شراب پی کر دنگا فساد کیا اور زبان سے ایسے کلمات کہے جو اللہ کو پسند نہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی انما الخمدوالمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ۔ آپ نے فرمایا المیسر جوا ہے، انصاب بت ہیں اور الازلام وہ پانسے ہیں جن کے ذریعے وہ آپس میں کسی چیز کے حصوں کی تقسیم کا عمل کرتے تھے۔ جعفر بن محمد نے کہا کہ ہمیں ابوعبید نے، انہیں عبدالرحمن بنمہدی نے سفیان سے، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے ابومیسرہ سے یہ بات نقل کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک دفعہ یہ دعا مانگی کہ اے اللہ ہمارے لئے شراب کا حکم واضح کر دے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لاتقربوا الصلوۃ و انتم سکاری حتی تعلموا ماتقولون۔ حضرت عمر ؓ نے دوبارہ یہی دعا مانگی جس پر یہ آیت اتری قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس پھر آپ نے دعا مانگی تو یہ آیت اتری انما الخمروالمیسر تا قول باری فھل انتم متتھون۔ حضرت عمر ؓ نے یہ آیت سن کر فرمایا :” ہم باز آئے، یہ شراب تو ہمارا مال بھی ضائع کردیتی ہے اور ہماری عقل بھی مار دیتی ہے۔ جعفر بن محمد کہتے ہیں کہ ہمیں ابوعبید نے، انہیں ہشیم نے، انہیں مغیرہ نے ابورزین سے، بیان کیا کہ سورة بقرہ اور سورة نساء کی آیتوں کے نزول کے بعد بھی شراب خوری جاری رہی۔ لوگ شراب پیتے رہتے حتی کہ نمازکا وقت ہوجاتا، اس وقت ہاتھ روک لیتے پھر سورة المائدہ کی آیت کے ذریعے اس کی تحریم ہوگئی جس میں قول باری ہے فھل انتم منتھون۔ لوگ اس سے باز آگئے اور پھر کبھی انہوں نے اسے ہاتھ نہیں لگایا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قول باری قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس۔ تحریم پر دلالت نہیں کرتی۔ اگر تحریم پر اس کی دلالت ہوتی تو لوگ پھر پیتے کیوں۔ اور حضور ﷺ تمہیں کیوں ایسا کرنے دیتے اور حضرت عمر ؓ اس کی وضاحت کے لئے کیوں سوال کرتے ! ہمارے نزدیک یہ بات اس طرح نہیں ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ لوگوں نے و منافع للناس کا مطلب یہ لیا ہو کہ اس کے منافع کو مباح سمجھنا جائز ہے۔ اس لئے کہ گناہ کو بعض خاص حالتوں میں محصور کردیا گیا تھا۔ اس طرح جو لوگ اس آیت کے نزول کے بعد بھی شراب پیتے رہے انہوں نے آیت سے تاویل کی بنا پر روگردانی کی تھی۔ رہ گیا یہ کہنا کہ حضور ﷺ انہیں ایسا کیوں کرنے دیتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی روایت میں یہ بات نہیں بیان کی گئی کہ حضور ﷺ کو اس کا علم تھا یا یہ کہ علم ہوجانے کے بعد آپ نے انہیں ایسا کرنے دیا ہو۔ اس آیت کے نزول کے بعد جہاں تک حضرت عمر ؓ کی طرف سے وضاحت حاصل کرنے کی غرض سے سوال کرنے کا تعلق ہے تو اس کا جواب یہ ہے چونکہ اس کے حکم میں تاویل کی گنجائش تھی حضرت عمر ؓ کو اس آیت کی تحریم پر دلالت کی وجہ کا بھی شعور تھا لیکن آپ نے وضاحت اس لئے چاہی تاکہ اس کے ذریعے تاویل کا احتمال ختم ہوجائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انما الخمروالمیسر تا قول باری فھل انتم منتھون نازل فرمائی۔ اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ شراب ابتداء اسلام میں مباح تھی اور مسلمان مدینے آنے کے بعد بھی پیتے تھے اور اس کی خرید و فروخت بھی کرتے تھے۔ حضور ﷺ کو اس کا علم تھا اور آپ نے انہیں ایسا کرنے سے روکا نہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حرمت کا حکم صادر فرما دیا بعض لوگوں کا خیال ہے کہا س کی علی الاطلاق تحریم آیت انما الخمروالمیسر تا قول باری فھل انتم منتھون میں نازل ہوئی۔ اس سے پہلے یہ صرف بعض حالات میں حرام تھی مثلاً اوقات صلوۃ میں جس کے لئے اس آیت میں ممانعت کا حکم تھا لاتقربوا الصلواۃ وانتم سکاری۔ اس وقت اس کے بعض منافع مباح تھے اور بعض ممنوع جس کے لئے یہ آیت تھی قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس۔ یہاں تک کہ اس کی تحریم کی تکمیل فھل انتم منتھون کے ذریعے ہوگئی ہم نے سابقہ سطور میں حکم تحریم کے متعلق ہر ایک آیت کے ظاہر کے متقضیٰ کو وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔ خمر کسے کہتے ہیں ؟ اسم خمر کن کن مشروبات کو شامل ہے ؟ اس میں اختلاف ہے۔ فقہاء کی اکثریت نے کہا ہے کہ حقیقت میں اسم خمرکا اطلاق انگور کے کچے رس پر ہوتا ہے جس میں جوش یا جھاگ پیدا ہوگئی ہو۔ اہل مدینہ کے ایک گروہ، امام مالک اور امام شافعی کا یہ خیال ہے کہ ہر ایسا مشروب جس کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے وہ خمر ہے۔ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ خمر نام ہے انگور کے کچے رس کا جس میں جھاگ پیدا ہوجائے کسی اور چیز کو خمر نہیں کہتے۔ اگر کسی اور چیز پر خمر کے نام کا اطلاق ہوا ہو تو وہ صرف اس وجہ سے ہوگا کہ اس چیز کو انگور کے رس پر محمول کیا گیا ہے اور مجازا اسے اس کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا جو نشہ کی حالت میں تھا۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ آیا تو نے شراب تو نہیں پی ؟ اس نے کہا میں نے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا جب سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اسے حرام قرار دے دیا ہے۔ اس پر آپ نے پوچھا، پھر تم نے کیا پی رکھا ہے ؟ اس نے جواب دیا ” خلیطین “ دو چیزوں کو ملا کر بنایا جانے والا مشروب۔ اس کی کئی شکلیں ہوتی تھیں جن میں سے بعض نشہ آور تھیں۔ حضور ﷺ نے خلیطین کو حرام قرار دیدیا۔ اس شخص نے حضور ﷺ کے سامنے اس مشروب سے اسم خمر کی نفی کردی لیکن حضور ﷺ نے اسے کچھ نہیں کہا۔ اگر نعت یا شریعت کے لحاظ سے اس پر خمر کا اطلاق ہوسکتا تو حضور ﷺ اس شخص کو ایسا کہنے کی ہرگز اجازت نہ دیتے اس لئے کہ جس نام کے ساتھ حکم کا تعلق ہو اس کی نفی گویا حکم کی نفی ہوتی ہے۔ اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ حضور ﷺ نے کسی مباح چیز کی ممانعت یا کسی ممنوع چیز کی اباحت کو کبھی باقی رہنے نہیں دیا۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ تمام مشروبات سے اسم خمر کی نفی ہوگئی ہے صرف انگور کے کچے، تیز اور جھاگ دینے والے رس پر یہ بولا جاتا ہے۔ اس لئے کہ جب خلیطین پر خمر کے اسم کا اطلاق نہیں ہوتا حالانکہ اس میں سکرپیدا کرنے کی قوت ہوتی ہے تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اسم خمر صرف اسی چیز کے لئے ہے جو ہم نے بیان کیا۔ اس پر یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس کی روایت ہمیں عبدالباقی بن قانع نے، انہیں محمد بن زکریا العلائی نے، انہیں العباس بن بکارنے، انہیں عبدالرحمن بن بشیرالغطفانی نے حارث سے، انہوں نے حضرت علی ؓ سے، آپ نے فرمایا حرام الخمر بعینھا والسکرمن کل شراب خمر بعینہ حرام ہے اور ہر مشروب سے پیدا ہونے والا نشہ بھی حرام ہے۔ عبدالباتی نے کہا ہمیں محمد بن زکریا العلائی نے روایت کی، انہیں شعیب بن واقد نے، انہیں قیس بن قطن سے، انہوں نے منذر سے، انہوں نے محمد بن الحنفیہ سے، انہوں نے حضرت علی ؓ سے اور آپ نے حضور ﷺ سے اسی قسم کی روایت کی۔ ایک اور روایت ہمیں عبدالباتی نے کی۔ انہیں حسین بن اسحاق نے، انہیں عیاش بن ابوالولید نے، انہیں علی بن عباس نے، انہیں سعید بن عمار نے، انہیں الحارث بن النعمان نے کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ کو حضور ﷺ سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ الخمر بعینھا حرام والسکرمن کل شواب خمر بعینہ حرام ہے اور ہر مشروب سے پیدا ہونے والا نشہ بھی حرام ہے۔ عبداللہ بن شداد نے حضرت ابن عباس ؓ سے اسی قسم کی روایت نقل کی ہے۔ انہوں نے یہ حدیث مرفوعاً بھی روایت کی ہے۔ یہ روایت بہت سے معانی پر مشتمل ہے۔ اول یہ کہ اسم خمر شراب کے ساتھ مخصوص ہے کسی اور مشروب کو شراب کا نام نہیں دیا جاتا۔ خمرانگور کے رس کو کہتے ہیں۔ انگور کے رس پر خمر کے اطلاق پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ دیگر مشروبات پر اس اسم کا اطلاق نہیں ہوتا اس لئے کہ حضور ﷺ نے فرمایا والسکومن کل شواب، ہر مشروب سے پیدا ہونے والا نشہ حرام ہے۔ اس حدیث کی اس بات پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ بقیہ تمام مشروبات میں وہ مقدار حرام ہے جو سکر یعنی نشہ پیدا کرے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ان مشروبات میں سکر پیدا کرنے والی صورت پر حرمت کا حکم محدود نہ دیا جاتا اور تحریم کے لحاظ سے ان میں اور خمر میں فرق نہ رکھا جاتا۔ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کر رہی ہے کہ تحریم خمر کا حکم خمر تک محدود ہے۔ دوسرے مشروبات تک یہ حکم متعدی نہیں ہے۔ نہ ازروئے قیاس اور نہ ازروئے استدلال اس لئے کہ تحریم کے حکم کو عین خمر کے ساتھ متعلق کیا گیا ہے اور اس کی کسی صفت کا خیال نہیں کیا گیا ہے۔ یہ چیز قیاس کے جواز کی نفی کرتی ہے کیونکہ ہر وہ اصل جس میں قیاس کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس منصوص حکم کا تعلق بعینہ اس اصل کی ذات سے نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے اندر محدود ہوتا ہے بلکہ اس کے کسی وصف سے ہوتا ہے جو اس اصل کے فروغ میں پایا جاتا ہے اور جس کی بنیاد پر وہ حکم اس وصف کے تابع ہو کر اس کے موضوعات یا معلومات میں جاری ہوجاتا ہے۔ اس بات پر کہ تمام نشہ آور مشروبات کو اسم خمر شامل نہیں ہوتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث دلیل ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا الخمر من ھاتین الشجرتین لعنبۃ والخلۃ ۔ شراب ان دو درختوں یعنی انگور کی بیلوں اور کھجور کے درخت سے پیدا ہوتی ہے۔ اب حضور ﷺ کے اس ارشاد میں لفظ الخمر اسم جنس ہے کیونکہ اس پر الف لام داخل ہے اس لئے یہ لفظ ان تمام چیزوں پر مشتمل ہے جس پر اسم کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ اب کوئی ایسا مشروب باقی نہیں رہا جس پر اس نام کا اطلاق ہوتا ہو اور جو اس کے مدلول سے باہر ہو۔ اس کلیے سے اس کی نفی ہوگئی کہ ان دو درختوں سے حاصل ہونے والے مشروب کے سوا کسی اور مشروب کو خمر کے نام سے پکاراجائے۔ پھر ہم نے اس پر غور کیا کہ آیا ان دونوں درختوں سے نکلنے والی ہر شے کو خمر کہا جاتا ہے یا نہیں ؟ جب سب کو اس پر اتفاق ہے کہ ان دونوں سے نکلنے والی ہر شے کو خمر نہیں کہا جاتا، کیونکہ شیرہ، سرکہ اور پکا ہوا گاڑھا شیرہ وغیرہ بھی ان ہی دو درختوں کے ہوتے ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی خمر نہیں کہا جاتا۔ تو ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ اس سے مراد ان درختوں سے نکلنے والی بعض اشیاء ہیں لیکن حدیث میں ان بعض اشیاء کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس لئے ہمیں اس بات کی ضرورت پیش آگئی کہ اس حدیث کے معنی مراد پر استدلال کے لئے کسی اور حدیث کا سہارا لیں تاکہ ان دونوں درختوں میں سے نکلنے والی بعض اشیاء پر اسم خمر کے اطلاق کو ثابت کیا جاسکے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ان دونوں درختوں سے نکلنے والی تمام اشیاء کی تحریم اور ان پر اسم خمر کے اطلاق کے لئے اس حدیث سے استدلال ساقط ہوگیا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ مراد یہ ہو کہ ان دونوں میں سے ایک درخت میں شراب ہے۔ جیسا کہ قول باری ہے یخرج منھما اللولووالمرجان۔ ان دونوں میں سے موتی اور مرجان یعنی مونگے نکلتے ہیں) یا جس طرح کہ یہ قول باری ہے یا معشوالجن والانس الم یا تکم رسل منکم۔ اے گروہ جن و انس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر نہیں آئے ؟ ) دونوں آیتوں میں مراد احدھما یعنی مذکورہ دو چیزوں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح یہاں بھی یہ جائز ہے کہ حضور ﷺ کے قول میں دونوں درختوں میں سے ایک مراد ہو۔ اگر دونوں ہی مراد ہوں تو ظاہر لفظ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جو چیز خمر کا مسمی ہے وہ پہلا مشروب ہے جو ان دونوں سے تیار کیا جائے اس لئے کہ جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ حضور ﷺ نے من ھاتین الشجرتین فرما کر ان دونوں میں سے ہر ایک کے بعض مشروبات مراد نہیں لئے کیونکہ ان میں سے بعض کا خمر ہونا محال ہے۔ یہ تو اس بات کی دلیل ہوگئی کہ اس سے مراد ان دونوں سے نکلنے والا پہلا مشروب ہے اس لئے کہ حرف من لغت میں کئی معانی پر دلالت کرتا ہے۔ یہ تبعیض کے لئے ہوتا ہے اور یہ ابتداء کے معنی بھی دیتا ہے۔ مثلا آپ کہتے ہیں خرجت من الکوفہ (میں کوفہ سے نکلا) یا ھذا کتاب من فلان، (یہ فلاں کی طرف سے خط ہے) یا اسی طرح کے اور جملے۔ اس لئے حدیث میں آنے والا لفظ من۔ ان دونوں درختوں سے ابتدائی طور پر نکلنے والی اشیاء کا معنی دے گا اور یہ صرف جھاگ والے شیرے، اور کھجور کے بہنے والے شیرے کو جب اس میں جھاگ آجائے پر محمول ہوگا۔ اس بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جس شخص نے یہ قسم کھائی کہ میں اس کھجور کے درخت سے نہیں کھائوں گا تو اس کی قسم کو اس سے پیدا ہونے والی تر کھجور، خرما اور شیرے پر محمول کیا جائے گا اس لئے کہ انہوں نے من کو ابتداء کے معنوں میں لیا ہے۔ ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ درج بالا سطور میں جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس مشروب کے سوا جس کی خاصیت ہم نے بیان کردی ہے یعنی انگور کا تیز کچا جھاگ دار رس، بقیہ تمام مشروبات سے اسم خمر کا انتفاء ہوگیا ہے۔ اس پر وہ روایت بھی دلالت کرتی ہے جو حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ جس دن شراب حرام ہوئی اس دن مدینے میں شراب نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ حضرت ابن عمر ؓ کی مادری زبان عربی تھی اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ تحریم خمر کے نزول کے وقت مدینے میں نشہ آور مشروبات اور خرما سے بنائی جانے والی دیگر مشروبات بھی تھیں، اس لئے کہ اہل مدینہ کی مشروبات اسی طرح کی تھیں۔ اسی بنا پر حضرت جابر بن عبداللہ نے فرمایا ” تحریم خمر کا حکم جب نازل ہوا تو اس وقت لوگ خشک کھجور اور بشر یعنی گدر کھجور سے بنی ہوئی مشروبات کے سوا اور کوئی مشروب استعمال نہیں کرتے تھے۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں : جب تحریم خمر کی آیت اتری تو اس وقت میں اپنے ماموں کے خاندان کے افراد کو مشروب پلانے کا کام میرے ذمہ تھا، اس وقت وہ لوگ فضیح یعنی سرخ یا زرد کھجور سے بنی ہوئی مشروبات استعمال کرتے تھے۔ جب انہوں نے تحریم خمر کا اعلان بنا تو جس قدر بھی مشروبات تھیں انہوں نے سب کو بہا دیا۔ حضرت ابن عمر ؓ نے جب تمام مشروبات سے اسم خمر کی نفی کردی تو اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ آپ کے نزدیک شراب صرف انگور کا تیز جھاگ دار کچا رس تھی اور اس کے سوا کوئی مشروب بھی شراب نہیں کہلاتا تھا۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ عرب کے لوگ شراب کو سبیئۃ (پینے کے لئے خریدی ہوئی شراب بھی کہتے تھے لیکن کھجور سے بنی ہوئی تمام مشروبات پر اس نام کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ غیر ممالک سے اسے درآمد کیا جاتا تھا۔ اعشیٰ کا شعر ہے) وسبیئۃ مما یعتق ببابل کدم المذبیح سلب تھا جریالھا۔۔۔ ایسی شراب جو بابل میں تیار ہوئی تھی جس کا رنگ اس ذبح شدہ جانور کے خون کی طرح تھا۔ جس کی کھال تم نے اتار لی ہو۔ جب آپ شراب پئیں تو آپ کہیں گے سبئات الخمر (میں نے شراب پی) اس اسم کا اطلاق تو پہلے خمر پر اس لئے ہوتا تھا کہ اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا تھا پھر کلام میں اتساع کی بنیاد پر جو عربوں کی عادت تھی اس اسم کا اطلاق خریدی ہوئی شراب پر ہونے لگا۔ ابوالاسودالدولی کے یہ دو شعر بھی ہمارے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں : دع الخموتشربھا الغواۃ فاننی رایت اخاھا مغنیب المکانھا۔۔ فان لاتکنہ اویکنھا فانہ ۔ اخوبھا غذتہ امہ بلبانھا۔۔ الف۔ شراب کو بےراہ رو لوگوں کے لئے رہنے دو کہ وہی اسے پیتے پلاتے رہیں کیونکہ میں نے اس کے بھائی (دوسری مشروبات) کو اس کی ضرورت سے بےپروا کردینے والا پایا ہے۔ ب۔ اگر شراب ہوبہو اپنے بھائی جیسی نہیں یا بھائی ہوبہو شراب جیسا نہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بہرحال یہ اس کا بھائی ہے جسے اس کی ماں نے اپنا دودھ پلا کر اس کی پرورش کی ہے۔ شاعر نے دوسری مشروبات کو شراب کا بھائی قرار دیا اور ظاہر ہے کہ دوسری مشروبات پر اگر خمر کا اطلاق ہوتا تو شاعر انہیں اس کا بھائی قرار نہ دیتا۔ پھر شاعر نے اپنے قول کی یہ کہہ کر تاکید کردی کہ چاہے شراب اور دیگر مشروبات ہو بہو ایک جیسی نہیں ہیں تاہم دیگر مشروبات بہرصورت اس کے بھائی ہیں جنہیں اس کی ماں نے اپنا دودھ پلا کر پالا ہے۔ اس طرح شاعر نے یہ بتادیا کہ شراب یعنی خمر علیحدہ چیز ہے اور دیگر مشروبات علیحدہ چیز ہیں۔ اس طرح حضور ﷺ سے مروی احادیث، اقوال صحابہ اور اہل لغت کی توضیحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ خمر کے اسم کا اطلاق صرف اس مشروب پر ہوتا ہے جو ہم نے بیان کیا یعنی انگور کا جھاگ دار کچا رس کسی اور مشروب پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ خشک اور گدر کھجور سے بنی ہوئی مشروبات کا استعمال اہل مدینہ میں شراب کے استعمال سے زیادہ عام تھا چونکہ اہل مدینہ کے ہاں شراب کی قلت تھی اس لئے اس کا استعمال بھی بہت کم تھا۔ اب جبکہ تمام صحابہ کرام انگور کے کچے جھاگ دار رس کی تحریم پر متفق تھے لیکن دوسرے مشروبات کے متعلق وہ مختلف الرائے تھے اور جلیل القدر صحابہ مثلاً حضرت عمر ؓ حضرت عبداللہ ؓ ، حضرت ابوذر ؓ وغیرہ ہم سے گاڑھے نبیذ کا استعمال منقول ہے۔ اسی طرح تمام تابعین اور ان کی جگہ لینے والے فقہائے اہل عراق بھی ان مشروبات کی حرمت کے قائل نہیں اور نہ ہی ان پر خمر کے اسم کا اطلاق کرتے ہیں بلکہ اس کی نفی کرتے ہیں تو اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ اول یہ کہ دیگر مشروبات پر لفظ خمر کا اطلاق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اس کے ذیل میں آتی ہیں اس لئے کہ تمام لوگ شراب پینے والے کی مذمت پر متفق ہیں اور شراب ممنوع اور حرام ہے۔ دوم یہ کہ نبیذ حرام نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب لوگ اس کی حرمت سے اسی طرح واقف ہوتے جس طرح وہ شراب یعنی خمر کی حرمت سے واقف تھے کیونکہ اہل مدینہ میں شراب کے مقابلے میں دوسری مشروبات کا زیادہ رواج تھا اس بنا پر شراب کی حرمت کے مقابلے میں دوسری مشروبات کی حرمت سے باخبر ہونے کی انہیں زیادہ ضرورت تھی۔ اور قاعدہ ہے کہ عموم بلویٰ (ایسی بات جس میں عامۃ الناس مبتلا ہوں) کی ذیل میں آنے والے احکام کے ثبوت کیا یک ہی صورت ہوتی ہے کہ تواتر کے ساتھ وہ منقول ہوں کہ اس تواتر کی وجہ سے علم بھی حاصل ہوجائے اور عمل بھی واجب ہوجائے۔ اس بنا پر یہ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں نے تحریم خمر کے حکم سے ان مشروبات کی تحریم نہیں سمجھی اور نہ ہی ان مشروبات کو خمر کا نام دیا گیا۔ جن لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ایسی مشروبات جن کی کثیر مقدار نشہ آور ہو وہ سب کی سب خمر ہیں۔ ان کی دلیل ذیل کی روایات ہیں۔ اول حضرت ابن عمر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا (کل مسکوخمر ہر نشہ آور چیز خمر ہے) شراب کن اشیاء سے بنتی ہے ؟۔۔۔۔ دوم شعبی نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے اور آپ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ الخ مومن خمسۃ اشیاء التمروالغب و الشعیروالحنطۃ والعل۔ شراب پانچ چیزوں سے کشید ہوتی ہے، کھجور، انگور، گندم، جو اور شہد سے) حضرت عمر ؓ سے بھی اسی طرح کا قول مروی ہے۔ سوم حضرت عمر ؓ سے منقول ہے آپ نے فرمایا : خمر اسے کہتے ہیں جو عقل میں خمار پیدا کر دے “ یعنی عقل کام کرنے سے عاجز رہ جائے۔ چہارم طائوس نے حضرت ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا کل مخمرخمروکل مسکوحرام۔ ہر وہ چیز جو عقل پر پردہ ڈال دے خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ پنجم حضرت انس ؓ سے مروی ہے آپ نے فرمایا : جب شراب کی حرمت کا اعلان ہوا تو میں اس وقت ابوطلحہ کے مکان میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ اس زمانے میں ہماری شراب سرخ اور زردرنگ کی کھجوروں کی کشید ہوتی تھی۔ جیسے ہی شراب کی حرمت کی آواز کان میں پڑی ان سب نے برتنوں سے شراب انڈیل دی اور برتن توڑ دیئے ساتھ ہی انہوں نے یہ کہا کہ حضور ﷺ نے ان تمام مشروبات کو شراب کا نام دیا ہے۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ ، حضرت انس ؓ اور حضرات انصار ؓ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تحریم خمر سے فضیح یعنی گدر کھجور سے کشید کی ہوئی شراب کی تحریم بھی سمجھ لی چناچہ انہوں نے اسے بہا دیا اور برتن توڑ ڈالے، ان مشروبات پر شراب کے نام کا اطلاق یا تو لغت کے لحاظ سے ہوا ہوگا یا شریعت کی طرف سے۔ تاہم جس طرف سے بھی یہ اطلاق ہوجائے اس سے دلیل کا ثبوت ہوجائے گا اور ان مشروبات کو شراب کا نام دینا درست ہوگا غرض اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ایسی تمام مشروبات جن کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو وہ خمر ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے انکی حرمت کا ثبوت لفظ خمر کی بنا پر موجود ہے۔ اس اعتراض کا اللہ کی توفیق سے جواب درج ذیل ہے۔ جتنے اسم ہیں ان کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم تو وہ ہے جس میں ایک اسم کا اطلاق اپنے مسمی پر حقیقی طور پر ہوتا ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جس میں ایک اسم کا اطلاق اپنے مسمی پر مجازی طور پر ہوتا ہے۔ پہلی قسم کا حکم ہے کہ وہ جہاں بھی ملے اسے اس کے حقیقی معنی میں استعمال کرنا واجب ہوتا ہے دوسری قسم کا حکم یہ ہے کہ اس کا استعمال اسی وقت واجب ہوتا ہے جب کوئی دلیل موجود ہو۔ پہلی قسم کی مثال یہ قول باری ہے یرید اللہ لیبین لکم اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم پر واضح کر دے) نیز واللہ یریدان یتوب علیکم اور اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے) یہاں لفظ ارادہ کا اطلاق اس کے حقیقی معنی پر ہوا ہے۔ دوسری قسم کی مثال یہ قول باری ہے فوجدافیھا جداًرایرید ان ینقض ان دونوں یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) نے بستی میں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی) اس مقام پر لفظ ارادہ کا اطلاق مجازاً ہوا ہے، حقیقتاً نہیں۔ قول باری انما الخمروالمیسو۔ میں لفظ خمر کا اطلاق حقیقی طور پر ہوا ہے۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے انی ارانی اعصر خمراً ۔ میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے ہوئے پا رہا ہوں) یہاں لفظ خمر کا اطلاق مجازاً ہوا ہے اس لئے کہ انگور نچوڑے جاتے ہیں شراب نہیں نچوڑی جاتی۔ اسی طرح قول باری ہے ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں اس گائوں سے نکال جس کے رہنے والے بڑے ظالم ہیں) یہاں قریہ کا نام اپنے حقیقی معنیوں میں استعمال ہو رہا ہے اور اس سے مراد گائوں کی عمارات ہیں۔ پھر قول باری ہے واسئل القریۃ التی کنا فیھا۔ جس گائوں میں ہم لوگ ٹھہرے ہوئے تھے اس سے پوچھ لو) یہاں قریہ کا لفظ مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے اور مجاز مرسل کے طور پر مراد اہل قریہ ہیں۔ حقیقت مجاز سے اس لحاظ سے جدا ہوتی ہے کہ جو معنی اس کے مسمی کو لازم ہوجائے اور وہ کسی حالت میں بھی اس سے منتفی نہ ہو۔ وہ معنی اس مسمی کے لئے حقیقت ہوتا ہے اور اگر اس معنی کا اس مسمی سے منتفی ہونا جائز ہو تو وہ اس کے لئے مجاز ہوتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر آپ یہ کہیں کہ دیوار کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا تو آپ کی بات سچی ہوگی لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ نہیں کرتا “ یا ” انسان عاقل کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا “ تو اس کی یہ بات غلط ہوگی۔ اسی طرح آپ کا یہ کہنا تو درست ہوگا کہ ” شیرہ شراب نہیں ہے “ لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ” انگور کا کچا رس جس میں تیزی اور جھاگ آجائے وہ خمر نہیں ہے۔ لغت اور شریعت میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ ایسے اسمائے شرعیہ جو معنی میں اسمائے مجاز ہوں ان کے استعمال کے سلسلے میں ہمارے لئے یہ جائز نہیں کہ جن مواقع پر ان کا اطلاق ہوا ہے ان سے آگے بڑھ کر کسی اور موضع میں بھی ہم انہیں استعمال کرلیں۔ جب ہم نے یہ دیکھا کہ لفظ خمر کا اطلاق دیگر تمام مشروبات سے منتفی ہے تو یہ ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ مشروبات شراب کے ذیل میں نہیں آتی ہیں، لفظ خمر کا اطلاق صرف انگور کے اس کچے رس پر ہوتا ہے جس میں تیزی اور جھاگ پیدا ہوجائے۔ حضرت ابوسعید ؓ خدری کی حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کے پاس لایا گیا۔ اس وقت وہ نشے میں مست تھا۔ آپ نے پوچھا کہ تونے شراب پی رکھی ہے ؟ وہ کہنے لگا کہ بخدا میں نے اس دن سے شراب کو ہاتھ نہیں لگایا جس دن سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ حضور نے پھر اس سے پوچھا کہ آخرتم نے کیا چیز پی ہے جس سے تم کو نشہ ہوگیا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے خلیطین پی رکھی ہے (اس سے مراد وہ مشروب ہے جو دو چیزوں کو ملا کر تیار کیا جاتا ہے) یہ سن کر حضور ﷺ نے خلیطین کو بھی حرام قرار دیدیا۔ یہاں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس شخص نے حضور ﷺ کے سامنے خلیطین سے اسم خمر کا انتفاء کردیا لیکن حضور ﷺ نے اسے کچھ نہیں کہا۔ اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ خلیطین شراب نہیں ہے۔ نیز حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے کہ جس وقت شراب حرام ہوئی ہے اس وقت مدینہ منورہ میں شراب نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کھجور سے بنی ہوئی تمام مشروبات سے شراب کے نام کی نفی کردی جبکہ یہ مشروبات تحریم خمر کے وقت ان کے پاس موجود تھیں۔ نیز اس پر حضور ﷺ کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ الخ مومن ھاتین الشجرتین شراب ان دودرختوں سے بنتی ہے) اس روایت کی سند اس روایت کی سند سے زیادہ صحیح ہے جس میں حضور ﷺ کا یہ قول مندرج ہے کہ الخمرمن خمسۃ اشیاء شراب پانچ چیزوں سے تیار ہوتی ہے) ۔ حضور ﷺ نے اس حدیث کے ذریعہ ان دونوں درختوں کے سوا کسی اور چیز سے نکلنے والے مشروب سے شراب ہونے کی نفی کردی) اس لئے کہ آپ کا یہ قول الخ مومن ھاتین الشجرتین) اسم جنس سے ہے جو اس اسم یعنی خمر کے ذیل میں آنے والی تمام مسمیات کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ روایت اس روایت کی معارض ہے جس میں یہ مذکورہ ہے کہ شراب پانچ اشیاء سے بنتی ہے یہ روایت سند کے لحاظ سے اس روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ سب کا اتفاق ہے کہ خمر کو حلال سمجھنے والا کافر ہے جبکہ ان مشروبات کو حلال سمجھنے والے پر فسق کا دھبہ بھی نہیں لگ سکتا چہ جائیکہ اسے کافر کہا جائے اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ مشروبات حقیقت میں خمر نہیں ہیں۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ ان مشروبات سے بنا ہوا سرکہ خمر کا سرکہ نہیں کہلاتا ہے بلکہ خمر کا سرکہ وہ ہوتا ہے جو انگور کے کچے اور تیز رس سے بنایا جاتا ہے جو جھاگ دار ہوتا ہے۔ ہمارے مذکورہ بالا بیان سے جب ان مشروبات پر خمر کے اسم کے اطلاق کی نفی ہوگئی تو اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ حقیقت میں خمر ان مشروبات کے لئے اسم ہی نہیں ہے اور اگر کسی وجہ سے ان مشروبات کو خمر کا نام دیا بھی جاتا ہے تو وہ تشبیہ کی وجہ سے ہوتا ہے جبکہ ان مشروبات میں سکر بھی پایا جائے۔ اس لئے ان مشروبات پر تحریم خمر کا اطلاق جائز نہیں ہوگا کیونکہ ہم بیان کر آئے ہیں کہ حقیقی معنوں میں استعمال ہونے والے اسماء کے تحت اسمائے مجاز کا دخول درست نہیں ہوتا۔ اس بنا پر حضور ﷺ کے قول الخمرمن خمسۃ اشیاء) کو اس حال پر محمول کرنا چاہیے جس میں سکر یعنی نشہ پیدا ہوجائے اسے خمر کا نام اس لئے دیا گیا کہ اس میں وہی عمل ہوا جو خمر کا ہے یعنی نشہ پیدا کرنا اور سزا میں حد کے اجرا کا مستحق ہونا۔ اگر دیگر مشروبات نشہ پیدا کردیں تو اس حالت میں وہ خمر کہلانے کی مستحق ہوجاتی ہیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ ” خمر وہ ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے “۔ نبیذ کی قلیل مقدار عقل پر پردہ نہیں ڈالتی ہے۔ اس لئے کہ ماخا مدالعقل کے معنی ہیں وہ چیز جو عقل کو پوری طرح ڈھانپ لے، یہ بات ان مشروبات کی قلیل مقدار میں موجود نہیں بلکہ کثیر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ جب ہمارے بیان سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان مشروبات پر اسم خمر کا اطلاق بطور مجاز ہوتا ہے تو اب اس اسم کا استعمال صرف اسی مقام میں ہوگا جہاں اس کے استعمال کے لئے دلالت موجود ہوگی۔ اس لئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ تحریم خمر کے اطلاق کے تحت ان مشروبات کو بھی مندرج کردیا جائے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ایک دفعہ جب مدینہ منورہ میں ایک ہراس کی کیفیت پیدا ہوگئی تو اس وقت حضور ﷺ نے حضرت ابوطلحہ ؓ کے گھوڑے پر سوار ہو کر صورت حال معلوم کرنے کے لئے شہر کا چکر لگایا۔ واپس آکر آپ نے فرمایا کہ وجدناہ بحرا۔ ہم نے اس گھوڑے کو سمندر پایا) آپ ﷺ نے گھوڑے کی تیز رفتاری اور لمبے لمبے ڈگ بھرنے کی وجہ سے اسے سمندر کا نام دیا لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ سمندر کے لفظ کے اطلاق سے تیز رفتار گھوڑے کا معنی سمجھ میں آئے۔ نابغہ ذبیانی نے نعمان بن المنذر کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے یہ شعر کہا ہے۔ فانک شمس والملوک کواکب۔۔ اذا طلعت لم یبد منھن کوکب۔ اے نعمان ! تو سورج ہے اور تیرے مقابلے میں باقی تمام بادشاہ ستارے ہیں جب سورج طلوع ہوجاتا ہے تو کوئی ستارہ نظر نہیں آتا۔ نہ تو نعمان کا نام سورج تھا اور نہ ہی دوسرے بادشاہوں کے نام ستارے تھے۔ غرض ہمارے بیان سے یہ بات درست ہوگئی کہ خمر کا اسم ان مشروبات کے لئے نہیں بولا جاتا۔ اس کا حقیقی استعمال انگور کے تیز اور جھاگ دار کچے رس کے لئے مخصوص ہے۔ دوسری مشروبات پر اس کا اطلاق مجازاً ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ جوئے کی حرمت ارشاد باری ہے یسئلونک عن الخمروالمیسر قل فیھما اثم کبیر۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس ارشاد باری کی جوئے کی حرمت پر دلالت خمر کی حرمت پر دلالت کی طرح ہے جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ لغت کے لحاظ سے میسر کا اسم تجزیہ یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے معنی ادا کرتا ہے۔ محاورے میں جس چیز کے آپ ٹکڑے ٹکڑے کریں اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ یسرتہ (میں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے) ۔ اسی طرح اونٹ کو ذبح کر کے اس کے ٹکڑے کرنے والے (جازر) کو یا سو کہا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اونٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے خود اونٹ کو بھی میسر کہا جاتا ہے جب کہ اس کے ٹکڑے کردیئے جائیں۔ زمانہ جاہلیت میں عربوں کا طریقہ تھا کہ وہ اونٹ ذبح کر کے اس کے ٹکڑے کردیتے اور ان ٹکڑوں پر جوئے کے تیروں کے ذریعے پانسے ڈالتے جس کا پانسہ نکلتا اس پر لگے ہوئے نشان کو دیکھتے۔ پھر اسی نشان کے حساب سے انہیں حصے ملتے۔ اس بنا پر جوئے کی تمام شکلوں پر لفظ میسر کا اطلاق کیا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ، معاویہ بن صالح، عطاء، طائوس اور مجاہد کا قول ہے کہ المیسر سے مراد قمار یعنی جوا ہے۔ عطاء، طائوس، اور مجاہد کا یہ بھی قول ہے کہ اس کا اطلاق اس کھیل پر بھی ہوگا جو بچے اخروٹ اور نرد کے مہروں کے ذریعے کھیلتے ہیں۔ علی بن زید سے یہ روایت ہے جو انہوں نے قاسم سے، انہوں نے ابوامامہ سے انہوں نے حضرت ابو موسیٰ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کی ہے۔ آپ نے فرمایا اجتنبواھذہ الکعاب الموسومۃ التی یزجربھا زجراً فانھا من المیسر نرد کے ان نشان زدہ مہروں سے بچو جن سے شگون لیا جاتا ہے کیونکہ یہ بھی جوئے کی ایک صورت ہے) ۔ سعید بن ابی ہند نے حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : لعب بالنردفقد عصی اللہ ورسولہ۔ جو شخص نرد کے مہروں سے کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی) ۔ حماد بن سلمہ نے قتادہ سے، انہوں نے کلاس سے یہ روایت کی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ اگر تم اتنے انڈے کھالو گے تو تمہیں فلاں چیز دے دوں گا۔ جب یہ معاملہ حضرت علی ؓ کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے قمار قرار دے کر اس سے روک دیا۔ اہل علم کے درمیان جوئے کی حرمت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے نیز یہ کہ شرط لگانا بھی جوا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ شرط لگانا جوا ہے۔ پہلے شرط لگانا جائز تھا پھر حرام ٹھہرا۔۔۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنا مال اور اپنی یبوی تک کی شرط لگا دیتے تھے۔ یہ بات ان کے ہاں درست تھی حتی کہ اس کی حرمت نازل ہوگئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے مشرکین سے شرط لگائی تھی جب یہ آیت نازل ہوئی الم غلبت الروم۔ رومی مغلوب ہوگئے) اس وقت حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا تھا کہ شرط میں اضافہ کر دو اور مدت بڑھا دو ۔ پھر آپ نے شرط لگانے کی ممانعت کردی اور جوئے کی حرمت کے ساتھ شرط لگانے کی اباحت منسوخ ہوگئی۔ اس کی ممانعت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یکطرفہ شرط جائز ہے۔۔۔ البتہ اونٹوں، گھوڑوں کی دوڑ اور تیراندازی کے مقابلے میں شرط لگانے کی اجازت ہے۔ جب اس کی صورت یہ ہو کہ جیتنے کی صورت میں لینے والا ایک ہو لیکن اگر دوسرا جیت جائے تو وہ کچھ بھی نہ لے۔ اگر دونوں نے یہ شرط لگائی کہ جو جیت جائے گا وہ لے لے گا اور جو ہار جائے گا وہ دے دے گا تو یہ شرط باطل ہوگی۔ اگر ان دونوں نے اپنے درمیان ایک تیسرے شخص کو اس شرط پر داخل کرلیا کہ اگر وہ جیت جائے گا تو مستحق ہوجائے گا اور اگر نہیں جیتے گا تو اسے کچھ نہیں ملے گا تو یہ شرط جائز ہوگی۔ اس تیسرے شخص کا نام حضور ﷺ نے محلل یعنی حلال کردینے والا رکھا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا لاسبق الافی خف اوحافراونصل مسابقت صرف اونٹوں یا گھوڑوں یا تیروں میں ہوسکتی ہے) ۔ حضرت ابن عمر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے گھوڑوں میں مسابقت کرائی تھی۔ اس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے ذریعے گھوڑوں کو دوڑنے کی مشق ہوتی ہے اور انہیں دوڑ کی عادت ہوجاتی ہے۔ نیز اس کے ذریعے دشمن کے خلاف اپنی قوت اور طاقت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ قول باری ہے واعدوالھم مااستعطعتم من قوۃ دشمنوں کے مقابلے کے لئے جہاں تک تم سے وہ سکے طاقت اور قوت تیار کرو) روایت میں ہے کہ اس سے مراد تیراندازی ہے نیز ومن رباط الخیل۔ اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے) اس قول باری کا اقتضا یہ ہے کہ گھڑ دوڑ کے مقابلے جائز ہوں کیونکہ دشمن کے خلاف اس کے ذریعے طاقت و قوت حاصل ہوتی ہے۔ یہی کیفیت تیراندازی کی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جوئے کی حرمت کا جو ذکر فرمایا ہے وہ غلاموں میں قرعہ اندازی کی تحریم کا بھی موجب ہے جبکہ انہیں آزاد کرنے والا شخص بیمار ہو اور پھر وہ مرجائے۔ اس لئے کہ اس میں جوئے کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی کسی کو کامیاب بنادینا اور کسی کو ناکام۔ البتہ تقسیم میں قرعہ اندازی جائز ہے کیونکہ اس صورت میں ہر شخص کو اس کا پورا پورا حصہ مل جاتا ہے۔ قرعہ اندازی کے ذریعے صرف اس کی تعیین ہوتی ہے۔ اس میں کسی ایک کے غالب آجانے کا امکان نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

(یعنی دنیا اور آخرت کی باتوں) میں (غور کرو) اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکٹھا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا بیشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

یتیم کے مال میں تصرف قول باری ہے ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیروان تخالطوھم فاخوانکم۔ اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے کہہ دیجئے جس طرز عمل میں ان کے لئے بھلائی ہو وہی اختیار کرنا بہتر ہے اور اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یتیم وہ ہوتا ہے جو اپنے ماں باپ میں سے ایک سے تنہا رہ جائے چناچہ باپ کے رہتے ہوئے ماں کی وفات کی وجہ سے وہ یتیم ہوتا ہے اس کے برعکس صورت میں بھی وہ یتیم ہوتا ہے البتہ یتیم کا اطلاق زیادہ تر اس صورت میں ہوتا ہے جب باپ نہ ہو خواہ ماں زندہ ہی کیوں نہ ہو۔ باپ زندہ ہونے کی صورت میں ماں کی وفات کی وجہ سے بہت ہی کم یتیم کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے سلسلے میں جتنے احکام بیان کئے ہیں ان میں وہ یتیم مراد ہیں جن کے باپ موجود نہ ہوں اور وہ نابالغ ہوں۔ بالغ ہونے کے بعد ایسے شخص پر یتیم کا اطلاق بطور مجاز ہوتا ہے کیونکہ یتیمی سے ان کا زمانہ بہت قریب ہوتا ہے۔ اس بات کی دلیل کہ تنہا رہ جانے والے کو یتیم کہا جاتا ہے۔ یہ ہے کہ عربوں کے نزدیک تنہا رہ جانے والی بیوی کو بھی یتیمہ کا نام دیا جاتا ہے خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی۔ شاعر کا شعر ہے۔ ان القبور تنکح الایسامی۔۔ النسوۃ الاراصل الیتامی۔۔ بے شک قبریں بیوہ عورتوں سے نکاح کرلیتی ہیں وہ عورتیں جو بیوہ اور شوہر کی وفات کے بعد تنہا رہ جاتی ہیں۔ ٹیلے کو بھی یتیمہ کہتے ہیں اس لئے کہ وہ اپنے گرد کے ماحول میں تنہا ہوتا ہے۔ ایک شاعر نے اپنی اونٹنی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے۔۔ قوداء یملک وحلھا مثل الیتیم من الامانب۔۔ یہ اونٹنی ایسی سدھائی ہوئی ہے کہ ایک تنہا ٹیلے کی طرح خرگو ش بھی اس کے کجا وے کو اپنے قابو میں کرسکتا ہے۔ اگر سیپ میں ایک ہی موتی ہو تو اسے ” درۃ یتیمۃ “ کہا جاتا ہے کیونکہ سیپ میں وہ تنہا ہوتا ہے اور اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی خلیفہ ابوالعباس سفاح کی مدح اور خوارج کے مختلف مذاہب کے متعلق ابن المقفع نے کتاب لکھی ہے جس کا نام اس نے یتیمیۃ الدہر رکھا ہے۔ ابوتمام نے اس کے متعلق یہ شعر کہا ہے۔۔ وکثیر عزۃ یوم مبین ینسب وابن المقفع فی الیتیمۃ یسھب۔ مشہور شاعر اور غزہ کا عاشق کثیر جس دن تشبیب بیان کرتا ہے تو عورتوں کے حسن و خوبصورتی کی خوب شرح کرتا ہے اور ابن المقفع اپنی کتاب یتیمہ الدہر میں بھی ایک چیز کے بیان میں بہت طاولت اختیار کرتا ہے۔ اب جبکہ یتیم کا اسم تنہا رہ جانے والے کے لئے ہے تو یہ ہر اس فرد کو شامل ہوگا جس کی ماں یا باپ گزر گیا ہو خواہ وہ خود نابالغ ہو یا بالغ۔ تاہم اس کا اطلاق اس بچے پر ہوتا ہے جو نابالغ ہو اور اس کا باپ دنیا میں موجود نہ ہو۔ ہمیں جعفر بن محمد نے، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے انہیں ابوعبید نے انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیر) کی تفسیر میں بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ان الذین یا کلون اموال الیتامی ظلماً انمایاکلون فی بطونھم ناراً وسیصلون سعیراً ۔ وہ لوگ جو ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ جہنم کی آگ سے بھرتے ہیں انہیں جلد ہی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا) ۔ تو مسلمان یتیموں کو اپنے ساتھ رکھنے کو ناپسند کرنے لگے اور اپنے ساتھ ان کے مشترک رہن سہن اور خرچ وغیرہ کو گناہ کی بات سمجھنے لگے۔ مسلمانوں نے اس کے متعلق حضور ﷺ سے استفسار بھی کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ویسئلونک عن الیتامی لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق پوچھتے ہیں) تا قول باری ولوشاء اللہ لاعنتکم۔ اگر اللہ چاہتا تو لئے تنگی پیدا کردیتا) یعنی اگر اللہ چاہتا تو تمہیں حرج اور تنگی میں ڈال دیتا لیکن اس نے تمہارے لئے وسعت اور آسانی پیدا کردی۔ اس لئے فرمایا ومن کان غنیاً فلیستعفف ومن کان فقیراً فلیاکل بالمعروف۔ یتیم کا جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو فقیر ہو وہ معروف طریقے سے کھائے) حضور ﷺ سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا ابتغواب اموال الیتامی لاتاکلھا الصدقۃ، یتیموں کے مال میں خرید و فروخت کرو یعنی تجارت میں لگائو انہیں اس طرح پڑا نہ رہنے دو کہ زکواۃ انہیں کھاجائے یعنی زکواۃ ادا کرتے کرتے ان کا مال ختم ہوجائے۔ حضرت عمر ؓ سے یہ روایت موقوفاً بھی مروی ہے ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عائشہ ؓ حضرت ابن عمر ؓ ، قاضی شریح اور تابعین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ یتیم کا مال مضاربت اور تجارت کے لئے دیا جاسکتا ہے یہ آیت بہت سے احکام پر مشتمل ہے۔ قول باری قل اصلاح لھم خیر۔ اس پر دلالت کر رہا ہے کہ یتیم کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لینا اور اس میں خرید و فروخت کے ذریعے تصرف کرنا بشرطیکہ اس میں یتیم کا فائدہ ہو۔ مضاربت کے طور پر کسی دوسرے کے حوالے کردینا اور یتیم کے سرپرست کا خود مضاربت کرنا سب جائز ہے۔ آیت میں اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ پیش آنے والے نئے واقعات کے احکام کے متعلق اجتہاد کرنا جائز ہے۔ اس لئے کہ آیت میں جس اصلاح یعنی بھلائی کے طرز عمل کا ذکر ہے وہ صرف اجتہاد اور غالب گمان کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ یتیم کا سرپرست یتیم کے مال میں سے اپنے لئے خرید سکتا ہے بشرطیکہ اس میں یتیم کی بہتری مقصود ہو۔ وہ اس طرح کہ یتیم کو جو کچھ ہاتھ آئے اس کی قیمت اس سے زیادہ ہو جو اس کی ملکیت سے نکل جائے۔ یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے نیز سرپرست اپنے مال میں سے یتیم کے ہاتھوں فروخت بھی کرسکتا ہے۔ اس لئے کہ اس میں بھی اس کی بھلائی پیش نظر ہوتی ہے۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہو کہ سرپرست کو اگر اس میں بھلائی نظر آئے تو وہ یتیم کا نکاح بھی کرا سکتا ہے۔ نزدیک یہ صورت اس وقت درست ہے جبکہ ولی اور یتیم کے درمیان قرابت داری نہیں کرا سکتا جس کے ساتھ یتیم کی رشتہ داری نہ ہو اس لئے کہ نفس وصیت سے حاصل نہیں ہوتی لیکن ظاہر آیت کی اس پر دلالت ہو رہی ہے کہ قاضی لاح اور بھلائی کو پیش نظر رکھتے ہیں وہ اس کا نکاح کرا دے اور ولی اسے ایسی تعلیم دلوائے جس میں دینی لحاظ سے اور سے بھی آراستہ کرے اس کے لئے گنجائش صنعت و تجارت کی تعلیم کی خاطر اسے اس کی بھلائی پیش نظر ہوتی ہے۔ اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جس شخص کی سرپرستی میں اس کا کوئی یتیم رشتہ دار پرورش پا رہا ہو تو اسے اس بات کی اجازت ہے کہ صنعت و حرفت کی تعلیم کی غرض سے اسے کسی کے پاس بٹھا دے، امام محمد کا قول ہے کہ اسے اجازت ہے کہ اس پر اس کے مال سے خرچ کرے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر یتیم کو ہبہ کے طور پر کوئی مال دیا جائے تو اس کا سرپرست اس مال کو اپنے قبضے میں لے لے اس لئے کہ اسی میں یتیم کی بہتری ہے غرض ظاہر آیت ان تمام صورتوں کے جواز کا تقاضا کرتا ہے۔ قول باری ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیر۔ میں مراد یہ ہے کہ ویسئلونک القوام علی الایتام الکافلین لھم۔ (آپ سے یتیموں کے سرپرستوں کے متعلق پوچھتے ہیں جو ان کی کفالت کریں) اس میں یتیم کا ہر محرم رشتہ دار داخل ہے۔ اس لئے کہ وہی یتیم کو سنبھال سکتا ہے۔ اس کی حفاظت نگہداشت اور پرورش کرسکتا ہے اور قول باری قل اصلاح لھم خیر میں اصلاح کی خاطر وہ تمام صورتیں آجاتی ہیں جن کا ذکر ہم پچھلی سطور میں کر آئے ہیں جن میں یتیم کے مال میں تصرف اس کا نکاح، اس کی تعلیم اور تادیب سب شامل ہیں۔ قول باری خیر کئی معانی پر دلالت کر رہا ہے۔ ایک یہ کہ یتیموں پر ان طریقوں سے تصرف کی اباحت جو ہم ذکر کر آئے ہیں۔ دوم یہ کہ یتیم کی سرپرستی حصول ثواب کا ذریعہ ہے کیونکہ خیر کہا ہے اور جو چیز خیر ہوتی ہے اس کے کرنے سے ثواب کا استحقاق ہوجاتا ہے ۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے واجب نہیں کیا بلکہ اس پر ثواب کا وعدہ دلالت کرتا ہے یتیم کے ولی پر تجارت وغیرہ کے ذریعے اس کے مال میں تصرف نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کی شادی کرانے پر مجبور ہے۔ اس لئے کہ ظاہر لفظ ہے کہ اس سے مراد ترغیب اور ارشاد ہے۔ قول باری وان تغالطوھم فاخوانکم۔ میں اس بات کی اباحت ہے کہ ولی ساتھ یتیم کے مال کو ملا سکتا ہے، اس میں تجارت وغیرہ کے ذریعے تصرف بھی کرسکتا یہ بھی اجازت ہے کہ ولی نکاح وغیرہ کے ذریعے یتیم کو اپنے خاندان میں داخل کرسکتا اسے اپنا واماد بنالے یا یتیم لڑکی کو اپنی بہو بنالے وغیرہ۔ اس طریقے سے وہ یتیم شامل کرے گا اور خود بھی اس کے خاندان میں شامل ہوجائے گا۔ قول باری وان تخالطوھم۔ میں اپنے مال کے ساتھ یتیم کے مال کو ملا لینے اس کرنے کی اباحت اور اپنی اولاد میں سے کسی کے ساتھ اس کا نکاح پڑھانے کا جواز ہے۔ اسی طرح اگر وہ اس کا نکاح کسی ایسے فرد کے ساتھ پڑھا دے جو اس کے زیر کفالت ہو اس کا بھی اس آیت سے جواز معلوم ہوتا ہے۔ اس طریقے سے آیت پر عمل ہوگا اور اس کے ساتھ یتیم کی مخالفت ہوجائے گی۔ اس بات کی دلیل کہ مخالطت کا لفظ ان تمام صورتوں کو شامل ہے اگر کوئی کسی کا شریک یعنی حصہ دار ہو تو اس وقت یہ کہا جاتا ہے۔” خلان خلیط فلان “ اسی طرح یہ فقرہ اس وقت بھی بولا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کے ساتھ لین دینی یا خرید و فروخت کرتا ہو یا ایک ساتھ اٹھنا، بیٹھنا اور کھانا پینا ہو اگرچہ وہ اس کا شریک نہ بھی ہو۔ اسی طرح اگر کوئی کسی کے ساتھ شادی بیاہ کے ذریعے رشتہ داری کرے تو اس وقت یہ کہا جاتا ہے ” قداختلط فلان بفلان “ (فلاں فلاں کے ساتھ مل گیا ہے) یہ تمام معانی لفظ خلطۃ سے ماخود ہیں جس کا معنی ہے۔ حقوق میں کسی تمیز کے بغیر اشتراک۔ اس مخالطت کی صحت کے لئے اصلاح کی شرط ہے جو آیت میں دو طریقوں سے بیان ہوئی ہے۔ اول یہ کہ لوگوں کے سوال کے جواب میں یتیموں کا معاملہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اصلاح کے ذکر کو مقدم کیا ہے دوم یہ کہ مخالطت کے ذکر کے فوراً بعد یہ ارشاد فرمایا واللہ یعلم المفسدین من المصلح، اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ فساد کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون) ۔ اوپر کے بیان سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ آیت اس امر کے جواز پر مشتمل ہے کہ ولی اپنے مال کے ساتھ یتیم کے مال کی وہ مقدار ملا سکتا ہے جس کے متعلق اسے غالب گمان ہو کہیتیم کو اپنے ساتھ رکھنے کی صورت میں مال کی یہ مقدار یتیم پر خرچ ہوجائے گی جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ اسی طرح آیت کی دلالت مناھدہ کے جواز پر بھی ہو رہی ہے جو عام طور پر لوگ سفر کے دوران کرتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک ساتھ سفر کرنے والے اپنے اپنے اخراجات کا ایک متعین حصہ نکال کر اکٹھا کر کے ملا لیتے ہیں اور پھر اسے سے سب کا خرچ چلاتے ہیں۔ اس میں بعض لوگ بعض کے مقابلہ میں بسیار خور ہوتے ہیں اور بعض کم خور لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال میں اس صورت کو جائز کردیا ہے تو پھر یہ صورت ان بالغوں کے مال میں جو بطیب خاطر اپنا اپنا مال ملا لیتے ہیں بطریق اولی جائز ہونی چاہیے۔ مناھدہ کے جواز کے لئے اصحاب کہف کے واقعہ میں نظیر موجود ہے۔ ارشاد باری ہے فابعثوا احدکم بودقکم ھذہ الی المدینۃ فلینظوایھا اذ کی طعاماً ، اپنے میں سے کسی کو یہ چاندی کا سکہ دے کر شہر بھیجو پھر وہ وہاں جا کر دیکھے کہ اچھا کھانا کہاں ملتا ہے) آیت میں مذکورہ چاندی کا سکہ سب کا تھا اس لئے کہ قول باری ہے بورقکم۔ اس سکے کی نسبت پوری جماعت کی طرف کی گئی ہے اور پھر اس سے کھانے کی چیز خرید کر لانے کو کہا گیا ہے تاکہ سب مل کر اسے کھائیں۔ قول باری وان تخالطوھم فاخوانکم مشارکت اور مخالطت کے جواز پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح کی جو کوشش کر رہا ہے اس میں وہ ثواب کا مستحق ٹھہرے گا۔ اس لئے کہ قول باری فاخوانکم اس پر دلالت کر رہا ہے کیونکہ بھائی کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں ہو کر اس کی مدد کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ قول باری ہے انما المومنون اخوۃ فاصلحوابین اخویکم، تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لئے تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو ) اسی طرح قول رسول ﷺ ہے ۔ واللہ فی عون العبد مادام العبدفی عون اخیہ۔ جب تک ایک شخص اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد میں لگا رہتا ہے) ۔ اس بنا پر قول باری فاخوانکم اس نیکی کی طرف ترغیب اور ارشاد پر دلالت کر رہا ہے نیز اس سلسلے میں جتنا کچھ کیا جائے اس پر ثواب کے استحقاق پر بھی دلالت ہو رہی ہے۔ قول باری ہے ولوشاء اللہ لاعنتکم۔ اور اگر اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا) اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں اس حکم کا مکلف بنانے کے سلسلے میں تمہارے لئے تنگی پیدا کردیتا اور تمہیں وہ یتیموں کو اپنے ساتھ شامل کرلینے اور ان کے مال میں تصرف کرنے سے تمہیں روک دیتا اور تمہیں اپنے مال کو ان کے مال سے جدا رکھنے کا حکم دے دیتا یا یہ کہ تم پر ان کے مال میں تصرف واجب کردیتا اور ان کا مال تجارت میں لگا کر ان کے لئے نفع حاصل کرنا ضروری قرار دے دیتا لیکن اللہ تعالیٰ نے وسعت پیدا کردی اور آسانی مہیا کردی نیز تمہیں اصلاح کی خاطر ان کے مال میں تصرف کی اجازت دے دی اور پھر اس پر تمام سے ثواب کا بھی وعدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ تمام واجب نہیں کیں کہ پھر تم ان کی وجہ سے تنگ ہوتے، اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے کیا کہ تمہیں اپنی نعمتیں یاد دلائے، بندوں کے لئے آسانی اور وسعت کا اعلان کرے اور یہ بتادے کہ وہ ہمیشہ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے۔ قول باری فاخوانکم۔ اس پر دلالت کرتا ہے کہ مسلمانوں کے بچے بھی احکام کے لحاظ سے مومن ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ نے انہیں ” تمہارے بھائی “ کہہ کر پکارا ہے نیز اللہ کا یہ بھی فرمان ہے انما المومنون اخوۃ۔ واللہ اعلم !