2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 2:1
شان نزول : (آیت) ”الم (1) ذلک الکتاب لا ریب فیہ“۔ ابن جریر ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ سورة بقرہ کی پہلی چار آیات مومنوں سے بارے میں اتری ہیں، اور اس کے بعد کی دو آیتیں کافروں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور تیرہ آیات منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) (1) الم (ال م) کے بارے میں عبداللہ بن مبارک، علی بن اسحاق سمرقندی، محمد بن مروان، کلبی، ابوصالح کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ الف سے اللہ، لام سے جبریل اور میم سے محمد ﷺ مراد ہیں، دوم : الف سے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں، لام سے اس کا لطف، میم سے اس کا ملک وبادشاہت مراد ہے، سوم : الف سے اللہ تعالیٰ کے نام کی ابتدا اللہ، لام سے لطیف، میم سے مجید مراد ہے، جہارم : اللہ اعلم سے بھی اس کی تفسیر کی گئی ہے، پنجم : یہ قسم کے الفاظ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے کہ یہ کتاب قرآن جس کو محمد ﷺ تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں اس میں کسی قسم کے کوئی شبہ کی گنجایش نہیں ہے، کیوں کہ یہ میری کتاب ہے، اگر تم اس کتاب پر ایمان لاؤ گے تو تمہیں ہدایت دوں گا اور اگر اس پر ایمان نہیں لاؤ گے تو میں تمہیں عذاب دوں گا۔ کتاب سے مراد لوح محفوظ بھی ہے کتاب کی تفسیر اس وعدہ کے ساتھ بھی ہے جو کہ عہد میثاق میں رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا تھا کہ میں آپ پر وحی بھیجوں گا، کتاب سے تورات وانجیل بھی مراد ہے، اس میں بھی کسی شک وشبہ کی گنجایش نہیں ہے، ان دونوں کتابوں میں رسول اللہ ﷺ کی تعریف و توصیف مذکور ہے۔
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلام خدا ہے، خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے

(2) پرہیزگاروں کے لیے یہ قرآن کریم (ہدایت کے ساتھ) کفر وشرک اور فواحش کو بھی واضح طور پر بیان کرنے والا ہے، یہ قرآن کریم مومنوں کے لیے معجزہ ہے رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے وہ لوگ جو متقی و پرہیزگار ہیں، ان کے لیے باعث رحمت ہے۔
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے، اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

(3) وہ لوگ جو کہ ان چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کی نگاہوں سے چھپی ہوئی ہیں، جیسا کہ جنت و دوزخ، پل صراط، میزان اعمال، بعث بعد الموت، حساب کتاب وغیرہ۔ ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں یعنی ان امور میں سے جو قرآن پاک میں نازل کیے گئے ہیں یا وہ جو قرآن کریم میں نازل نہیں ہوئے، ایک قول یہ بھی ہے کہ غیب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور نماز کو اس کے وضو، رکوع و سجود اور جو امور اس میں واجب ہیں اس کے وقت پر ادا کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور یہ حضرات جناب ابوبکر صدیق ؓ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ ہیں۔
Ayahs 2:4–5

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور جو کتاب (اے محمد) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

(4۔ 5) اور جو قرآن کریم اور تمام انبیائے کرام پر جو کتابیں نازل ہوئی ہیں ان کی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی اور جنت کے جملہ انعامات کی تصدیق کرتے ہیں، یہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ ہیں۔ ایسی اچھائیوں کے مالک اپنے پروردگار کی جانب سے رحمت و کرامت اور بزرگی کے مالک ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے رہائی پانے والے ہیں۔ یہ تفسیر بھی ہے کہ جن حضرات نے حضور ﷺ کے زمانہ مبارک کو پایا اور جن چیزوں کا ان حضرات نے مطالبہ کیا تھا اس کو حاصل کرلیا اور جن برائیوں سے بھاگ کر آئے تھے، اس سے نجات حاصل کرلی (یعنی محبت نبوی کی برکت سے تزکیہ نفوس کے مرحلے سے بخوبی گزر گئے) یہ حضرات رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ ہیں۔
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لانے کے

6) جو لوگ کفر پر پکے ہوچکے ان کو بھلائی کی بات کرتا اور انکو قرآن پاک کے ذریعے ڈرانا نہ ڈرانا ایک جیسا ہے وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، اور یہ بھی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے، لیکن اللہ نے انہیں ارادے کی آزادی دے کر تمام حجت کردی ہے۔
Ayah 2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے، اور انکے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

(7) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کے کانوں اور آنکھوں پر پردہ ہے اور آخرت میں ان کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ان الذین کفروا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے ابن اسحاق ؒ ، محمد بن ابی ؒ ، عکرمہ ؒ ، سعید بن جبیر ؒ ، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (آیت) ”ان الذین کفروا“۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دو آیات مدینہ منورہ کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اور ابن جریر ہی نے ربیع بن انس ؓ کے ذریعے سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ”ان الذین کفرو“۔ سے (آیت) ”ولھم عذاب عظیم“۔ تک یہ دو آیات غزوہ احزاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

(8) یہ لوگ یہود میں سے کعب بن اشرف، حیی بن اخطب اور جدی بن اخطب ہیں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مکہ مکرمہ کے مشرکین عتبہ، شیبہ، اور ولید مراد ہیں، یہ لوگ علانیہ اور ظاہری طور پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارے ایمان باللہ اور بعث بعد الموت (مرنے کے بعد اٹھائے جانے) جس میں اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تصدیق کرتے ہیں، مگر قلبی طور پر وہ مومن نہیں اور اپنے ایمان لانے کے دعوے میں سچے نہیں ہیں۔
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

یہ خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کا چکما نہیں دیتے اور اس سے بیخبر ہیں

(9) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں اور دلی طور پر اس کے احکام کو جھٹلاتے ہیں، ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت میں اس قدر دلیر اور بہادر واقع ہوئے ہیں کہ وہ خود اس جھوٹے خیال میں مبتلا ہیں کہ الیعاذ باللہ وہ اللہ تعالیٰ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور رسول اکرم ﷺ کے تمام صحابہ کرام ؓ کو دھوکا دے رہے ہیں، مگر حقیقت میں وہ اپنے آپ کو ہی جھٹلا رہے ہیں کیوں کہ ان کو یہ پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی رسول اللہ ﷺ کو ان کے دلوں کے راز بتا دیتا ہے۔
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا خدا نے انکا مرض اور زیادہ کردیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

(10) ان کے دلوں میں شک، نفاق، نافرمانی اور اندھیرا ہے رب تعالیٰ ان کے شک نفاق نافرمانی اور اندھیرے میں اضافہ فرماتا ہے اور ان لوگوں کو آخرت میں ایسا تکلیف دہ عذاب ہوگا جس کی تکلیف ان کے دلوں میں ہوگی کیوں کہ وہ پوشیدہ اور خفیہ طریقہ پر اللہ کو جھٹلاتے تھے اور یہ منافقین یعنی عبداللہ بن ابی، جدی بن قیس اور معتب بن قشیر ہیں۔
Ayah 2:11

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

(11) اور جب یہود سے کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو رسول اکرم ﷺ کے دین سے نہ روکو، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اطاعت پر لگانے والے ہیں۔
Ayah 2:12

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

دیکھو ! یہ بلاشبہ مفسد ہیں لیکن خبر نہیں رکھتے

(12) جان لو یہی رکاوٹ ڈالنے والے ہیں، لیکن ان کے ضعیف لوگ نہیں سمجھتے کہ ان کے سردار ہی انکو گمراہ کررہے ہیں۔
Ayah 2:13

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کہ بھلا جس طرح بیوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں ؟ سن لو کہ یہی بیوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

(13) اور جب یہود سے کہا جاتا ہے کہ محمد ﷺ اور قرآن پاک پر ایمان لاؤ جیسا حضرت عبد اللہ ؓ بن سلام اور ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، تو کہتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ اور قرآن پاک پر اس طرح ایمان لائیں جیسا کہ بیوقوف اور ذلیل لوگ ایمان لائے ہیں، آگاہ رہو بالیقین یہی لوگ بیوقوف اور ذلیل ہیں لیکن اس بات کو سمجھتے نہیں۔
Ayah 2:14

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم (پیروان محمد سے) تو ہنسی کیا کرتے ہیں

(14) منافقین جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی صدق دل سے اسی طرح ایمان لائے ہیں جس طرح کہ تم لوگ ایمان لائے ہو اور تم لوگوں نے تصدیق کی ہے اور جب اپنے بڑوں اور سرداروں کے پاس جاتے ہیں اور وہ پانچ آدمی ہیں، مدینہ منورہ میں کعب بن اشرف، بنی اسلم میں ابوبردہ اسلمی، ابن السوداشام میں، جہینہ میں عبدالدار اور بنی عامر میں عوف بن عامر تو ان سے آکر کہتے ہیں کہ اصل میں ہم تم لوگوں کے ہی دین پر ہیں ہم تو کلمہ لا الہ الا اللہ۔ زبان سے کہہ کر (معاذ اللہ) رسول اللہ ﷺ اور آپ کی جماعت سے ٹھٹھہ کرتے ہیں۔
Ayah 2:15

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیے جاتا ہے کہ شرارت و سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں

(15) اللہ تعالیٰ بدلے کے طور پر قیامت کے دن ان کا مذاق اڑائے گا، اس طرح کہ ان کے سامنے پہلے جنت کا ایک دروازہ کھولے گا اور پھر انھیں وہ دروازہ دکھا کر ان پر بند کردے گا اس بات پر مومنین ان منافقین کا مذاق اڑائیں گے۔
Ayah 2:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

(16) اللہ تعالیٰ دنیاوی زندگی میں بھی ان کے کفر اور گمراہی میں اتنی ڈھیل دیتا ہے کہ جس پر انکی بصیرت کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور سچائی کا امتیاز باقی نہیں رہتا، یہ اس طرح کے لوگ ہیں جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کرلیا ہے اور ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، لیکن انکو اپنی اس تجارت میں کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی میں مبتلا ہوئے اور اب یہ گمراہی سے سیدھی راہ پر نہیں آئیں گے۔ شان نزول : (آیت) ”واذا لقوالذین امنوا“۔ الخ) واحدی ؒ اور ثعلبی ؒ نے بواسطہ محمد بن مروان، سدی صیغر، کلبی، ابوصالح، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آیت کریمہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ایک دن منافقین کی جماعت نکلی، راستہ میں ان لوگوں کو رسول اکرم ﷺ کے کچھ صحابہ کرام ؓ نظر آئے، عبداللہ بن ابی نے اپنے دوستوں سے کہا کہ دیکھو کس طرح میں تم سے (العیاذ باللہ) ان بیوقوفوں کو ہٹاتا ہوں، چناچہ عبداللہ بن ابی نے آکر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا صدیق اکبر ؓ بنی تمیم کے سردار، مسلمانوں کے بزرگ، رسول اللہ ﷺ کے رفیق غار، رسول اللہ ﷺ کے لیے اپنی جان اور مال کو خرچ کرنے والے آپ کو خوش آمدید ہو۔ پھر اس نامراد نے حضرت عمر فاروق ؓ کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا عدی بن کعب کے سردار فاروق اعظم ؓ اللہ تعالیٰ کے دین میں بہت جری اور بہادر، اپنی جان ومال رسول اکرم ﷺ کے لیے خرچ کرنے والے آپ کو خوش آمدید ہو، پھر اس نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور آپ ﷺ کے داماد حضور ﷺ کے علاوہ بنی ہاشم کے سردار، مرحبا۔ اس کے بعد عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم نے دیکھا میں نے کیا کیا جب تم ان لوگوں کو دیکھو تو تم بھی میری طرح ان سے پیش آؤ، یہ سن کر اس کے منافق ساتھیوں نے اس کی تعریف کی۔ یہ جماعت صحابہ کریم ؓ رسول اللہ ﷺ کے ہاں آئی، اور آپ کو سارے واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کیا اس وقت یہ آیت اتری، اس روایت کی یہ سند بہت ہی کمزور ہے کیوں کہ سدی صغیر اور اسی طرح کلبی دونوں کذاب ہیں اور ابوصالح ضعیف ہے، (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:17

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (شب تاریک میں) آگ جلائی، جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان لوگوں کی روشنی زائل کردی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے

(17) منافقین کی رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں یہ مثال ہے، جیسا کسی شخص نے اندھیرے میں آگ جلائی، تاکہ اس کے ذریعے سے اپنے مال اور اہل و عیال کی حفاظت کرے، جب وہ آگ روشن ہوگئی اور ارد گرد اور چیزیں بھی نظرآنے لگیں اور اپنے مال اور اہل واعیال کے بارے میں اطمینان ہوگیا تو اچانک وہ آگ بجھ گئی، اسی طرح منافقین رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک پر ایمان لائے اور حقیقت میں ان کا ایمان صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی جانوں، اموال و عیال کی قتل اور قید سے حفاظت کریں، چناچہ جب وہ مرجائیں گے تو ان کے ایمان کا نفع ختم ہوجائے گا اور ان کو حق تعالیٰ قبر کی ایسی سختیوں میں ڈال دے گا کہ اس کے بعد ان کو راحت و آرام نظر ہی آئے گا۔
Ayah 2:18

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

(یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے راستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے

(18) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان یہودیوں کی یہ بھی مثال بیان کی گئی ہے، جیسا کہ کسی شکست کھائے ہوئے انسان نے کوئی علم حاصل کیا اور اس کے پاس اور شکست خوردہ لوگ جمع ہوگئے پھر انہوں نے اپنے علم کو تبدیل کردیا، جس کی وجہ سے ان کا فائدہ اور امن وسلامتی سب ہی برباد ہوگئے، اسی طرح سے یہود رسول اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کے اور قرآن مجید کے ذریعے سے مدد مانگا کرتے تھے جب آپ ﷺ کی بعثت ہوئی تو انہوں نے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کفر و انکار کے سبب ان کے ایمان لانے کی خواہش اور ان کے ایمان کے نفع کو ختم کردیا اور انھیں یہودیت کی گمراہیوں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا کہ انھیں اب ہدایت کا راستہ ہی نظر نہیں آتا، یہ سب بہرے، گونگے اور اندھے بنے ہوئے ہیں، کہ اپنے کفر اور گمراہی سے ہرگز نہیں لوٹ سکتے۔
Ayah 2:19

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا ہو) اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور خدا کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے

(19) منافقین اور یہودیوں کی قرآن پاک کے ساتھ یہ دوسری مثال ہے جیسا کہ جنگل میں رات کے وقت آسمان سے بارش برسے اسی طرح قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے کہ اس میں فتنوں کی تاریکیوں بیان کی گئی ہیں اور گرج، چمک، ڈر اور ڈانٹ اور بیان وتبصرہ اور وعید ہے، یہ لوگ موت اور تباہی کے خوف سے، کڑک کی آواز سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں، اسی طرح یہ منافقین قرآن مجید کے بیان اور وعید کے وقت موت سے بچنے کے لیے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈاخل کرلیتے ہیں کہ کہیں دل ان کی طرف مائل نہ ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ منافقین کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان سب کو دوزخ میں جمع کرنے والا ہے، قریب ہے کہ یہ آگ اور چمک کافروں کی نگاہوں کو ختم کردے اسی طرح سے قرآن کریم بھی ان گمراہوں کی آنکھوں کو ختم کردینے والا ہے۔
Ayah 2:20

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے، جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہوجاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر خدا چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کردیتا، بلاشبہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

(20) جب بجلی کی روشنی ہوتی ہے تو چلنا شروع کردیتے ہیں، اسی طرح جب منافقین ایمان کا اظہار کرتے ہیں تو مومنوں کے درمیان چلنا شروع کردیتے ہیں کیوں کہ ان کا اظہار ایمان بظاہر قبول کرلیا جاتا ہے لیکن جب مرجاتے ہیں تو قبر کے اندھیرے میں پڑے رہتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو گرج وچمک سے ان کے کانوں اور نگاہوں کو ختم کردے اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو قرآن کریم کی وعید اور عذاب سے منافقوں اور یہودیوں کی سننے کی قوت اور قرآن حکیم کی وضاحت سے ان کی دیکھنے کی قوت ختم کردے۔ شان نزول : (آیت) ”او کصیب من السمآء فیہ ظلمت“۔ (الخ) ابن جریر ؒ ، سدی کبیر ؒ ، ابی مالک ؒ ، ابن عباس ؓ ، مرہ ؓ ، ابن مسعود ؓ نیز صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت اس بات کو بیان کررہی ہے کہ مدینہ منورہ کے منافقین میں سے دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے بھاگ کر مشرکین کی طرف روانہ ہوئے، راستے میں ان دونوں کو اسی طرح بارش کا سامنا ہوا، جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے کہ اس میں بہت سخت گرج، اندھیرا اور چمک ہے، لہٰذا جب خوب زور سے بادل گرجتا یہ دونوں اس ڈر سے کہ کہیں گرج کی آواز سے ان کے کان نہ پھٹ جائیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے تھے اور جب بجلی چمکتی تو اس کی روشنی میں چلنا شروع کردیتے تھے اور جب بجلی نہ چمکتی تو نظر تو کچھ نہ آتا لیکن چلتے چلتے پھر اپنی جگہوں پر پہنچ جاتے اور دل میں سوچتے کاش کہ صبح ہوجائے تو ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کر اپنے ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ پر میں دے دیں، چناچہ صبح ہوئی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوگئے اور اپنے ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دیے اور ان کا اسلام بھی ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے مدینہ مورہ کے ان دونوں منافقوں کی حالت بیان فرمائی ہے، جو مدینہ منورہ سے نکل کرگئے تھے اور ویسے منافقین کا وطیرہ یہ تھا کہ جب وہ رسول اکرم ﷺ کی مجلس مبارک میں آتے تھے تو وہ اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں ان کے بارے میں قرآن حکیم کی کوئی آیت نازل نہ ہوجائے، داخل کرلیا کرتے تھے یا ان کی کسی بات کا اظہار کرایا جائے جس کی بنا پر وہ قتل کردیے جائیں، جیسا کہ مدینہ منورہ سے نکلنے والے منافقین کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے تھے اور جب روشنی ہوتی تو چلنا شروع کردیتے تھے چناچہ جب ان منافقین کے اموال واولاد میں اضافہ اور زیادتی ہوگئی اور فتوحات کے سبب مال غنیمت بکثرت ہوگیا تو دین کی حمایت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ اب محمد ﷺ کا دین سچا ہے اور اس پر قائم ہوگئے جیسا کہ دونوں منافقین جب بھی چمکتی تھی تو اس کی روشنی میں چلتے تھے اور جب اندھیرا ہوتا تو کھڑے ہوجاتے، اسی طرح دوسرے منافقین جب ان کے اموال واولاد ہلاک و برباد ہوگئے اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا تو کہنے لگے کہ یہ سب مصیبتیں رسول ﷺ کے دین کی وجہ سے ہیں۔ (العیاذ باللہ) اور مرتد ہوگئے اور پھر اسی طرح اپنے کفر پر جم گئے جیسا کہ یہ دونوں منافقین کہ جب تاریکی ہوتی تو کھڑے ہوجاتے تھے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:21

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

(21) اس سے اہل مکہ اور یہودی بھی مراد ہیں، اپنے اس رب کی توحید بیان کرو جس نے تمہیں نطفہ سے پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی پیدا کیا تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے غصہ اور عذاب سے بچ جاؤ۔
Ayah 2:22

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کیلئے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ اور تم جانتے تو ہو

(22) اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس نے تمہارے لیے زمین کو بستر اور بچھونا اور آسمان کو بلند چھت والا بنایا اور آسمان سے بارش اتاری جس سے طرح طرح کے پھل تمہارے لیے اور تمام مخلوقات کے لیے پیدا کیے، لہذا اللہ تعالیٰ کے برابر و مشابہ کسی کو نہ بناؤ کیونکہ تم خوب جانتے ہو کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayah 2:23

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمد عربی ﷺ پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اس طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو

(23) تم اپنی کتابوں میں یہ بات پاتے ہو کہ اس وحدہ لاشریک کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کے مشابہ اور شریک ہے اور اگر تمہیں اس کلام میں جو کہ ہم نے بذریعہ جبریل امین اپنے خاص بندے محمد ﷺ پر اتارا ہے، شک ہے کہ یہ کلام انہوں نے خود بنا لیا ہے تو اس کلام جیسی ایک سورت لے آؤ اور اپنے ان معبودوں کو بھی ساتھ ملا لو جن کی تم عبادت کرتے ہو یا اپنے سرداروں کو بلا لو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو اور حقیقت یہ ہے کہ ایک سو رہ بھی تم ہرگز اس جیسی لانے پر قادر نہیں ہوسکتے۔
Ayah 2:24

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

لیکن اگر (ایسا) نہ کرسکو اور ہرگز نہیں کرسکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہونگے، (اور جو) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے

(24) سو اگر تم اس جیسی سورت نہ لا سکو مفہوم کے لحاظ سے یہاں (آیت) ”لن تفعلوا“۔ پہلے ہے (آیت) ”لم تفعلو“۔ بعد میں ہے اگر پھر بھی تم ایمان نہیں لئے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو کافروں ہی کے لیے پیدا اور تیار کی گئی ہے۔
Ayah 2:25

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خوشخبری سنادو کہ ان کے لئے (نعمت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائیگا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا اور ان کو ایک دوسرے کے ہمشکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے

(25) اس کے بعد مومنین کی جنت میں عزت و عظمت کا بیان ہے، ان لوگوں کو جو کہ اللہ تعالیٰ کے ان احکامات کے جو کہ ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہیں بجا آوری کرتے ہیں اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ وہ اعمال صالحہ کرتے ہیں یعنی اہل ایمان کو اعمال صحالحہ کے سبب حضرت محمد ﷺ اور قرآن حکیم کے ذریعے بشارت و خوشخبری حاصل کر لینی چاہئے کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں ایسے باغات ہیں کہ وہاں درختوں اور ان کے مکانات کے کے نیچے سے شراب، دودھ، شہد، اور پانی کی نہریں بہتی ہیں، جب ان کو جنت میں مختلف قسم کے پھل اور میوے کھانے کو ملیں گے تو وہ کہیں گے کہ اس جیسے ہمیں اس سے پہلے بھی کھانے کے لیے دیے گئے، کیوں کہ انہوں نے پھل رنگ میں ایک جیسے اور مزے ولذت میں مختلف قسم کے دیے جائیں گے اور ان کے لئے جنت میں ایسی بیویاں ہوں گی جو حیض اور ہر قسم کی گندگیوں سے پاک ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، انھیں موت نہیں آئے گی اور نہ اس سے یہ لوگ کبھی بےدخل کیے جائیں گے۔
Ayah 2:26

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے جو مومن ہیں وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے، اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو

(26) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہودیوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہیں جو انہوں قرآن کریم کی مثالوں پر تھا کہ اللہ تعالیٰ تو کیس مثال کے بیان کرنے کو نہیں چھوڑتا اور وہ کسی چیز کے تذکرہ سے شرمائے بھی کیوں۔ اس لیے کہ اگر تمام مخلوق بھی مل کر کسی کو پیدا کرنے چاہئے تو وہ سب ذرا سی چیز کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور مخلوق کے لئے کوئی مثال بیان کرنے میں اسے حیا رکاوٹ نہیں کہ وہ مچھر یا اس سے بڑی چیز مثلا مکھی اور مکڑی وغیرہ یا اس سے چھوٹی چیز کی مثال بیان کرے، جو لوگ رسول اللہ ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ مثال درست ہے اور جو رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کو نہیں مانتے وہ کہتے پھرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی مثالوں سے کیا ارادہ کیا ہے، اے نبی کریم ﷺ آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کے ذریعے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے سے بہت سے یہودیوں کو گمراہ اور بہت سے مومنوں کو ہدایت عطا فرمائے شان نزول : (آیت) ”ان اللہ لا یستحی“۔ (الخ) ابن جریر نے سدی سے اپنی اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ منافقوں کی یہ دو مثالوں بیان فرمائیں (آیت) ”کمثل الذی استوا قد نارا“۔ اور (آیت) ”اور کصیب من السمآء“۔ تو منافق کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو اس سے بہت اونچی اور بلند ہے کہ اس قسم کی مثالیں بیان کرے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ ہاں واقعی اللہ تعالیٰ تو نہیں شرماتے اس بات سے کہ کوئی مثال بیان کردیں اور واحدی نے عبدالغنی بن سعید ثقفی، موسیٰ بن عبدالرحمان ؒ ابن جریج، عطاء ؒ حضرت ابن عباس ؓ کے واسطہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جب مشرکین کے معبودوں کا تذکرہ فرمایا کہ اگر مکھی بھی ان سے کسی چیز کو چھین لے تو وہ اسے دور نہیں کرسکتے اور ان کے معبودوں کی حقیقت واضح فرمائی اور مکڑی کا ذکر کیا ہے، ان چیزوں کے ذکر سے کیا ہوگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی عبدالغنی غیر معتبر راوی ہیں، عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں بواسطہ معمر قتادہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مکھی اور مکڑی کا ذکر کیا تو مشرکین کہنے لگے کہ مکھی اور مکڑی کے ذکر سے کیا فائدہ، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی اور ابن ابی حاتم ؓ نے حسن سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”یایھا الناس ضرب مثل“۔ آیت نازل فرمائی تو مشرکین کہنے کہ ان مثالوں اور اس قسم کی مثالوں سے کیا حاصل ہے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ واقعی اللہ تعالیٰ نہیں شرماتے اس بات سے کہ کوئی یہاں بیان کردیں پہلا قول سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے سورت کے شروع میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کے زیادہ مناسب اور روایت میں مشرکین کا جو ذکر آرہا ہے وہ اس آیت کریمہ کے مدنی ہونے کے مخالف نہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:27

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

(27) اس قسم کی مثال سے یہودی گمراہ ہوتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے بہت تاکید وزور کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں اور پھر بدعہدی کا ارتکاب کرتے ہیں اہل ایمان اور رسول اکرم ﷺ کے ساتھ صلہ رحمی کو ختم کرتے ہیں اور لوگوں کو رسول اللہ ﷺ اور قرآن حکیم سے بدظن کرتے ہیں یہی لوگ دنیا وآخرت کے تباہ ہونے کی وجہ سے گھاٹے اور خسارے میں ہیں۔
Ayah 2:28

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

(کافرو !) تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

(28) اب اللہ تعالیٰ حیرانگی سے ان کی حقیقت کو واضح فرماتے ہیں کہ تم نطفہ کی صورت میں اپنے باپوں کی پشتوں میں موجود تھے، اس کے بعد اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے رحم میں زندہ کیا، پھر تمہاری عمر کے پورا ہونے پر تمہیں موت دی، اس کے بعد قیامت میں تمہیں زندہ کرے گا اور آخرت میں پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا، جہاں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 2:29

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لئے پیدا کیں پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنادیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے،

(29) اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا (جو اس کے انسانوں پر ہیں) تذکرہ فرماتے ہیں کہ اس اللہ نے تمہارے لیے مختلف قسم کے جانوروں اور باغوں وغیرہ کو بنایا اور تمہارے تابع کیا پھر آسمان کو پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوا اور سات آسمان برابر زمین کے اوپر بنائے اور وہ ذات الہی آسمانوں اور زمینوں میں سے ہر ایک چیز پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔
Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے، اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

(30) اب اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کا واقعہ بیان کرتے ہیں، جنہیں آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں سے جو کہ زمین میں رہنے والے تھے، فرمایا میں تمہارے بدلے زمین پر ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں، انہوں نے کہا کہ کیا آپ ایسے لوگوں کو پیدا کرنے والے ہیں جو گناہ اور ظلم کا ارتکاب کریں گے اور ہم آپ کے حکم کے مطابق عبادت کرتے ہیں اور پاکی کے ساتھ آپ کا ذکر کرتے ہیں، ارشاد ہوا کہ میں اس خلیفہ (آدم علیہ السلام) کی حکمتوں کو زیادہ جانتا ہوں۔
Ayah 2:31

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اس نے آدم کو (سب چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا اگر سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ

(31) چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو تمام اولاد کے نام سکھادیے اور ایک قول یہ ہے کہ جانوروں وغیرہ کے نام حتی کہ پیالہ اور چینی تک کے نام بتلادیے، پھر ان چیزوں کے نام ان فرشتوں پر (جن کو سجدہ کا حکم ملا تھا) پیش کیے گئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے مخلوق اور ان کی اولاد کے متعلق اطلاع دو ، اگر تم اپنی پہلی بات میں سچے ہو۔
Ayah 2:32

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا تو پاک ہے جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں، بیشک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

(32) فرشتوں نے جوابا عرض کیا کہ ہم اپنے قول سے رجوع کرتے ہیں ہمیں جو تو نے بتایا اتنا ہی علم ہے تو ہم سے اور ان سے اور ہماری باتوں اور ان کی باتوں سے زیادہ باخبر ہے
Ayah 2:33

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم ! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں ! میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے ؟

(33) اب حضرت آدم ؑ کو ان اسماء کے بتلانے کا حکم ہوا جو انہوں نے بتادیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ باتوں کو اور ان چیزوں کو جو تم فرشتے حضرت آدم ؑ کے بارے میں اپنے پروردگار کی اطاعت کا اظہار کرتے ہو اور جو پوشیدہ رکھتے ہو اور جو چیز شیطان ملعون نے ان کے سامنے ظاہر کی اور جو پوشیدہ رکھی سب کو تمہارا رب بخوبی جانتا ہے۔
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سب سجدے میں گرپڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آ کر کافر بن گیا

(34) یقیناً ہم نے فرشتوں کو آدم ؑ کے لئے تعظیمی سجدہ کرنے کا حکم دیا مگر شیطان ابلیس نے حکم الہی کو نہ مانا اور حضرت آدم ؑ کو سجدہ نہ کیا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھا اور شیطان اس کے بعد حکم الہی کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے کافروں میں شمار ہونے لگا اور یہ بھی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے ہی یہ بات تھی کہ وہ کافروں میں سے ہے۔ یا یہ کہ سب سے پہلا کافر شیطان بنا۔
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہوجاؤ گے

(35) اس کے بعد اللہ تعالیٰ آدم ؑ اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ خاص بیان کرتے ہیں کہ تم آدم ؑ اور حوا (علیہا السلام) جنت میں جاؤ تمہارے لیے وہاں بہت فراخی ہے اور جہاں تمہارا دل چاہے پھرو، باقی اس درخت میں سے مت کھانا ورنہ تم اپنے نفسوں کو نقصان پہنچانے ہوجاؤگے۔
Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش و نشاط) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں) سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کردیا گیا) ہے

(36) چناچہ ان دونوں (آدم وحواہ) کو شیطان نے جنت سے پھسلانے کی کوشش کی اور اس وسعت و کشادگی کی جگہ سے ان کو نکلوا دیا اور ہم نے حضرت آدم ؑ ، حوا، شیطان اور سانپ سے کہا، کہ زمین پر اترو جہاں تمہارے لیے موت تک ٹھکانا، فائدہ اور معیشت ہے۔
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کردیا بیشک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحب رحم ہے

(37) حضرت آدم ؑ کو وہ کلمات سکھائے گئے اور انہوں نے سیکھ لیے یا ان کو بطور الہام بتائے گئے تاکہ یہ کلمات حضرت آدم ؑ اور ان کی اولاد کے لئے تو بہ کا ذریعہ ہوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلطی کو معاف کردیا اور جو شخص بھی توبہ کی حالت میں مرجائے اللہ تعالیٰ اس کی غلطی کو معاف کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:38

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ، جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

(38) پھر ہم نے حضرت آدم ؑ حوا علیہا السلام، ابلیس اور سانپ سے کہا کہ آسمان سے اترو، اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ کی اولاد کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ جب وقت اور جب بھی تمہارے پاس میری طرف سے کتاب اور رسول آئے تو جو شخص کتاب رسول کی اتباع کرے گا تو اسے پیش آنے والے عذاب کا خوف اور جو انھوں نے کام کیے ہیں ان پر غم نہیں ہوگا اور یہ بھی تفسیر ہے کہ انھیں ہمیشہ خوف اور غم نہیں ہوگا، یہ بھی کہا گیا جس وقت موت کو ذبح کیا جائے گا اس وقت انہیں خوف اور جب دوزخ کو بھرا جائے گا تب انھیں غم نہ ہوگا اور جن لوگوں نے کتاب اور رسول کو جھٹلایا وہ دوزخ والے ہیں۔ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کو وہاں موت آئے گی اور نہ ہی وہ دوزخ سے نکالے جائیں گے۔
Ayahs 2:39–40

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخ میں جانے والے ہیں، اور ہمیشہ اس میں رہیں گے

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے آل یعقوب ! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو

39۔ 40) اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو انعامات کیے، اب ان کی یاددہانی کروائی جاتی ہے کہ اے اولاد یعقوب ! میرے انعامات پر اللہ کا شکر کرو اور میرے احسانات کو محفوظ رکھو جو میں نے تم پر کتاب نازل کرکے اور رسول بھیج کر اور ایسے ہی فرعون اور اس کی آل کو غرق کرکے اور تمہیں اس سے نجات دے کر اور بطور انعام ”من وسلوی“۔ وغیرہ نازل کرکے کیے اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں میرے عہد ومیثاق کو پورا کرو اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں جنت میں داخل کروں گا اور بدعہدی کرنے سے مجھ سے ڈرو میرے علاوہ اور کسی سے نہ ڈرو اور میں نے جبریل امین ؑ کے ذریعے سے جو کتاب نازل کی ہے اور اس کتاب کے جو کہ تمہارے پاس ہے توحید، رسول اللہ ﷺ کے سب سے پہلے منکر نہ بنو اور رسول اکرم ﷺ کی صفات اور آپ ﷺ کے اوصاف (جن کا تورات میں ذکر ہے) ان کو چھپا کر معمولی معاوضہ مت لو اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مجھ ہی سے ڈرو۔