Ayahs 2:1–2اسرار ومعارف
الم ذلک الکتاب لاریب فیہ
الم حروف مقطعات ہیں جو اکثر مذکور ہوئے ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے اور معانی میں الجھنا غیر ضروری۔
انھا سرابین اللہ رسولہ۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کے درمیان راز ہیں مومن کو معنی جانے بغیر بھی ان کا فائدہ مل جاتا ہے ۔
یہ ایسی کتاب ہے جس میں ادنیٰ درجے کے شبہ کی بھی گنجائش نہیں یعنی ، اس کتاب سے جو جواب دعا ہے استفادہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اے مخاطب ! تو اس کے کسی مضمون یا کسی خبر کو جو گذشتہ یا آئندہ کے بارے ہو یا کسی بھی بیان میں ادنیٰ سا شبہ بھی نہ رکھے کہ واقعتا کسی شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اکثر کتابیں جو ایسے مضامین پر مشتمل ہوں اور ماورا الطبیعاتی یا ایسے حقائق پر مبنی ہوں جو حواس کے ادراک سے بالا تر ہوں تو خود ان کے مصنفین کو بھی یقین کامل حاصل نہیں ہوتا کہ ساری بات کی بنیاد گمان پر ہوتی ہے مگر اس کتاب کا نازل کرنے والا اللہ ہے جس کا علم قدیم ہے ازلی اور ابدی ہے کامل ومکمل ہے۔ لہٰذا اس کی بیان کردہ حقیقتیں شک وشبہ کی رسائی سے بہت بالا تر ہیں پھر اس رفع شک کے لئے اللہ کریم نے ان تمام واسطوں اور ذریعوں کی صداقت وامانت کی گواہی دی ہے جو انسانوں تک اس کے پہنچنے کا سبب ہیں۔
خالق کا کلام بندے تک پہنچنے کے ذرائع :
سب سے پہلا واسطہ اور سبب وہ فرشتہ ہے جو رسول اللہ ﷺ تک اس کے پہنچانے کا ذریعہ ہے اللہ کریم نے فرمایا ذی قوۃ عندذی العرش مکین مطاع ثم امین کہ وہ بہت طاقتور اللہ کے نزدیک بہت معزز اور تمام فرشتوں کا سردار اور بہت امانت دار ہے ایسا طاقتور کہ کوئی بھی اپنی طاقت کے ساتھ اس سے وحی چین نہیں سکتا یا جبراً اس کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ اس میں کسی طرح کی آمیزش کرے اور اگرچہ فرشتے نوری مخلوق ہیں مگر ان فرشتوں کا سردار اور عنداللہ بہت معزز اور بزرگی کا حامل ہے پھر ایسا امانت دار کہ جس کی دیانت امانت پر اللہ خود گواہ ہے یعنی اللہ کی کتاب کو اللہ کے رسول ﷺ تک پہنچانے کا ذریعہ ایک ایسا فرشتہ ہے جو انتہائی قوی ، معزز اور امین ہے۔
دوسرا واسطہ اللہ سے مخلوق تک اللہ کا رسول ﷺ ہے جو صدق مجسم ہے جن کی صداقت پر نہ صرف قرآن گواہ ہے بلکہ جس کی امانت پر اس کے بدترین دشمن یعنی کفار مکہ بھی گواہ ہیں جو اسے ” صادق وامین “ کے نام سے پکارتے ہیں اور جس کی بےداغ زندگی اس کی نبوت پر بہت بڑی شہادت ہے۔
جہاں معجزات قاہرہ اور دلائل باہرہ اس کی نبوت کا ثبوت میں وہاں اس کی قبل بعثت کی زندگی میں اتنی طبیب و طاہر اور پاک وصاف ہے کہ کبھی کسی بھی طرح کا جھوٹ یا غلط بیانی نہیں پائی جاسکتی بلکہ اس حیات مبارکہ کو سب دلائل نبوت پر ایک تفوق حاصل ہے اور حضور ﷺ فرماتے ہیں بعثت فیکم عمراً من قبلہ یعنی میں نے تمہارے درمیان ایک حیات بسر کی ہے کہ تم مجھ پر غلط بیانی کا الزام لگا سکتے ہو ؟ حتیٰ کہ اس حیات طیبہ کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے لعرک یعنی تیری زندگی کی قسم ! تیری زندگی گواہ ہے۔
سبحان اللہ ! اور فرمایا وانک لعلی خلق عظیم ، تیرے اخلاق ان بلندیوں کو چھو رہے ہیں جو بشر کی رسائی کی حد ہے تو گویا اللہ سچا ہے اس کا پیغام لانے والا فرشتہ شک سے بالا تر اور اس کا رسول ﷺ صادق ومصدق ، یہ ساری بنیاد راستی سچائی اور حق ہے لاریب فیہ ہے مگر کیا کیا جائے کہ ساری مخلوق کو یہ واسطہ بھی براہ راست نصیب نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ اور امت درمیان ایک پورے طبقہ کا واسطہ ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے براہ راست کلام باری کو سنا ، سمجھا سیکھا اور ساری خدائی تک پہنچایا۔
عدالت صحابہ ؓ کا ثبوت :
اگر خدانخواستہ یہ واسطہ اور ذریعہ ہی مجروح قرار پائے تو پھر ثابت نہ ہوسکے گا۔ نیز فرشتہ اور رسول اللہ ﷺ پر کسی کو حملہ کرنے کی جرات کم ہوگی مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین ، چونکہ وہ درجہ معصومیت نہیں رکھتے تو معترضین کیو ہاں حملہ کرنا زیادہ آسان ہوگا اور اگر کوئی اعتراض نہ بھی کرے مگر واقعتا وہ لوگ غلط بیان کر جائیں تو کیا ہو۔ یہی کہ دین کی ساری عمارت مشکوک قرار پائے تو اللہ پاک نے سب سے زیادہ احوال ان حضرات کے ارشاد فرمائے قرآن کریم کی جگہ جگہ ان کی مدح سے مزین فرمایا۔
یہاں تک ان کا ایمان مثالی ایمان فان امنوا بمثل ما امنتم فقہ اھتدوا اور ان کے قلوب مثالی قلوب یعنی اولئک الذین امتحن اللہ قلو بھم لاتقویٰ اور ان کی صداقت مثالی صداقت یعنی اولئک ھم الصائقون۔ اور ان کی زندگی قابل اتباع اور واجب الاتباع قرار دے دی والذین اتبعو ھم باحسان۔ یہ نہ صرف ان کے حالات کا مشاہد قرار دیا بلکہ فرمایا میرے علم ازل میں یہ بات موجود تھی اور میں نے ان کو پیدائش سے بیشتر تورات واناجیل میں ان کے اوصاف ارشاد فرمادیئے تھے کہ یہ میری مثالی مخلوق ہوگی اور انبیاء کے بعد ان کی مثل نہ چشم فلک ان سے پلے پائے گی نہ بعد میں دیکھ سکے گی اور واقعی یہ ضروری تھا کہ قیامت تک باقی رہنے والے دین کو رسول ﷺ سے لے کر اقوام عالم بلکہ ساری انسانیت کہ پہنچانے والے لوگ ایسے ہی مثالی کردار کے حامل ہوتے جن کی ہر کوشش دین کے لئے اور ہر محنت دین کی خاطر ہو اور حق تو یہ کہ نہ صرف مکہ ومدینہ منورہ کی زندگی میں روم وایران کی جنگوں اور قیصروکسریٰ کے مقابلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دین کی حفاظت کا حق ادا فرمایا بلکہ آج بھی ان کی ذوات مقدسہ اس بارگاہ کی پہردار ہیں اور آج بھی اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو دین مخلوق تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔ وہ لسان نبوت ہیں ترجمان نبوت میں۔ انہوں نے قرآن کو براہ راست حضور اکرم ﷺ سے سنا ، سیکھا ، سمجھا اور پھر آپ کے سامنے اس پر عمل کرکے اپنے عمل کی صحت کی سند حاصل کی۔ صدیاں بیت گئیں کفر کے ظلمت کدے سے اٹھنے والی ہر لہر ان ہی سے جاٹکرائی مگر ہمیشہ کی طرح اپنا پاش پاش سرے کر پھر اسی اندھیروں میں گم ہوگئی بلکہ بعض نادان ودوستوں نے بھی ان مقدس بستیوں پر مقدمہ چلانا چاہا ذرا غور تو فرمائیں کہ طبری اور کلبی گواہ ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معاذ اللہ ملزم اور آج کے محققین منصف ، سبحان اللہ !
پنجابی کی ایک مثال ہے ” ذات دی کوڑ کرلی ، شتیراں نوں جھپے “ مگر اس سب کے باوجود ان کی شان ویسی کی ویسی ہے بےداغ ہے کہ خود قرآن کریم کی لازوال شہادتیں کسی کا کچھ بس نہیں چلنے دیتیں۔ جب یہاں تک بات درست ہوگئی تو اب بیشک ثابت ہوا لاریب فیہ۔
عظمت صحابہ پر یہ لاریب گواہ ہے اور اس بات کا واضح ثبوت کہ مقام صحابیت خودایک خصوصیت کا حامل ہے جو بجز صحبت رسول نصیب نہیں ہوسکتی۔ یہ کہنا کہ الصحابہ کلم عدول کا کلیہ صرف ہکام دین پہنچانے کی حد تک درست ہے ذاتی زندگی میں ان کا صالح ہونا اس سے ثابت نہیں۔ یہ ایسی بات ہے جسے عقل تسلیم نہیں کرتی کہ ایک شخص بیک وقت بدکار بھی ہو اور راست باز بھی۔ پھر راست باز بھی ایسا کہ اللہ کا آخری کلام ، اللہ کی مخلوق تک پہنچانے کا سبب اور ذمہ دار قرار پائے۔ معترضین کو حضرت ماعزؓ کی حکایت بطور ثبوت مل گئی مگر کاش اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی بجائے ان کی مثال کو توبہ کے حوالے سے مدح صحابہ میں بیان کیا جاتا جو اس کا اصلی مقام تھا۔ اور ایسے واقعات کی فہرست میں بھی تریسٹھ برسوں میں صرف دو واقعات ملتے ہیں لہٰذا دین اور حقانیت دین کے زندہ ثبوت یہی معزز مقدس اور بزرگ ہستیاں ہیں۔
ھدی للمتقین ، یہ رہبری کرتا ہے ان لوگوں کی جو متقی ہوں ہدایت رہنمائی کے معنوں میں ساری انسانیت کے لئے ہے دعوت الی الحق تو سب کے لئے ہے مگر رہبری صرف ایسے لوگوں کے لئے جو اپنے میں اس کے ساتھ چلنے کی استقامت پیدا کرلیں۔ یہ قوت ہے تقویٰ ۔ جس کا اردو ترجمہ ” ڈر “ لکھا ہوتا ہے۔ مگر یہ لفظ یہاں اس کی مراد بیان کرنے سے قاصر ہے اس کا اصل مقصد ایک خاص ڈر ہے جو کسی محبوب ہستی کی ناراضگی کا ڈر ہو۔ جو کسی کے روٹھ جانے کا اندیشہ ہو ، جو ہر حال میں کسی پر نثار ہونے کی تمنا ہو۔ یہ وہ جذبہ ہے جو تمام خواہشات اور ارادوں کو تمام آرا۔ اور مشوروں کو صرف اس وجہ سے روک دے کہ ایسا کرنے سے میرا رب مجھ سے خفا نہ ہوجائے اور اگر بتقضائے بشریت غلطی صادر ہو بھی جائے تو احساس گناہ دل میں کانٹے کی طرح چبھتا اور توبہ پر مجبور کردیتا ہو یہ تقویٰ ہے۔ ولم یصروا علی مافعلوا حصول تقویٰ کے لئے کون سا راستہ ہے اور متقیوں میں کیا اوصاف پائے جاتے ہیں ؟
Ayah 2:3الدین یومنون بالغیب ، سب سے پہلے بات ایمان بالغیب ہے کہ ایسے لوگ ان تمام باتوں پر جو اس انسانی کی رسائی سے باہر ہیں۔ رسول پاک ﷺ کے بتانے سے ایمان لاتے اور تصدیق کرتے ہیں سب سے بڑا غیب خود ذات باری ہے جس کی قدرت اس کی تخلیق سے تو ہویدا ہے مگر جو نہ نظر آتا ہے نہ جس کی کوئی مثال بیان کی جاسکتی ہے پھر تمام حقائق اخرویہ دوزخ وجنت عذاب وثواب ، قبر ، سوال و جواب قبر حشرونشر ، فرشتے ، لوح محفوظ ، غرض ہر وہ شے جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے مگر حواس انسانی مادی کے ادراک سے بالا تر ہے اسے صدق دل سے مانتے ہیں اور یہ ماننا صرف اعتماد علی الرسول ﷺ نے دی ہے مگر حواس انسانی مادی کے ادراک سے بالاتر ہے اسے صدق دل سے مانتے ہیں اور یہ ماننا صرف اعتماد علی الرسول ﷺ پر منحصر ہے ورنہ کوئی حیلہ عقلی وہاں تک رسائی نہیں رکھتا۔
آج کے دور میں چونکہ اس اعتماد میں بہت کمی آگئی ہے ایک طویل دور درمیان میں حائل ہے اور بقول دخل الزمان بیننا وفرق بیننا ان الزمان ھفرق الاحباب۔ زمانہ ہمارے درمیان ور آیا اور ہمیں جدا کردیا بیشک زمانہ دوستوں کو جدا کرنے والا ہے۔ اس درازی مدت اور نئی روشنی کے اندھیروں نے آج ا کے مسلمان سے وہ درج چھین لیا ہے جو قرب نبوی سے دل میں پیدا ہوتا ہے اور بغیر کسی عقلی دلیل کے سب سے بڑی دلیل یہ اعتبار کراتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا فرمادینا سب سے بڑا ثبوت ہے اور بس اس ساری حقیقت پر ایمان انسان کو مجبور کردیتا ہے کہ عملی زندگی کو اس روش پر ڈھائے جو قرب الٰہی کا سبب ہو جس کا سب سے پہلا زینہ صلوٰۃ ہے۔
ویقیمون الصلوٰۃ ، یعنی صلوٰۃ کو قائم کرتے ہیں اقامت صلوٰۃ صرف نماز پڑھنا ہی نہیں بلکہ صلوٰۃ کا ایک خاص اہتمام کرنا ہے وقت جماعت مسجد میں حاضری کا احساس ایک فکر جو امکان صلوٰۃ تک کارفرما ہو اور پھر نہ صرف صلوٰۃ ادا کرتا ہو بلکہ حقیقتاً تو اقامت صلوٰۃ یہ ہے کہ جہاں جہاں سے گزرتا جائے وہاں کے لوگوں کو بھی صلوٰۃ کا عادی بناتا جائے تب لطف ہے نماز قائم کرنے کا مگر یہ ماوشا کا مقام نہیں کہ کم از کم وقت پر اور درست طریقے سے صلوٰۃ ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔
ومما رزقنھم ینفقون ، ایمان باللہ اور حضور باری کے اس اثر کو دیکھو کہ جن چیزوں کا فرجان دیتے ہیں وہ ان چیزوں کو اللہ کے حکم پر نثار کرتا ہے اگرچہ انفاق کا ترجمہ ادائے زکوٰۃ اور صدقات کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تو فرائض و واجبات کی ہی بات نہیں بلکہ عملی زندگی کے معاشی پہلو یہ بات ہورہی ہے۔
یہ صرف معاشیات ہی ہیں جو انسانی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں جو چوری چکاری ، سودورشوت کا سبب ہیں جن کی اصطلاح تمام مکاتب فکر کے ماہرین چاہتے ہیں بلکہ یہ ایک تمدن کا حصہ ہے اور قرآن کریم نے اس کی اصطلاح کا جو طریقہ اختیار فرمایا ہے وہ ان سب سے الگ ہے یعنی وہ خرچ اللہ کے حکم کے مطابق کرتے ہیں ظاہر ہے جس شخص کو اللہ کے قانون کے مطابق خرچ کرنا ہوگا اسے غلط راستے سے کمانے کی کیا ضرورت ہے پھر یہاں تو بات سیدھی سی ہے کہ مما رزقنھم ، یعنی اس رزق میں سے جو ہم انہیں دیتے ہیں کہ جب دینے والا اللہ ہے تو حصور زر کے لئے ناجائز ذرائع کی کیا ضرورت ؟ ظاہر ہے کہ صرف انسانی نقطہ نظر کا فرق ہے ورنہ جب رزق اللہ کی طرف سے ہے تو یقینا وہی ملے گا جو مقرر ہے چاہے چوری کرے ، چاہے تو مزدور کرے اور پھر انسان کو تمام چیزیں اللہ کی طرف سے بطور رزق ہی ملی ہیں جسم وجان ، عقل وخرد ، قوت و طاقت علم وہنر ہر کمال اللہ کی طرف سے ہے اور اس کا مصرف اللہ کی راہ میں اور اللہ کی رضا کے لئے ہے یہ صرف حکایت نہیں بلکہ تاریخ عالم اس مقدس معاشرے کی گواہ ہے جو اس طرز پر تعمیر ہو اور جس کے آثار بھی باقی ہیں اور جو انشاء اللہ تاقیامت رہیں گے۔
Ayah 2:4تصوف چھپا کر رکھنے کی چیز نہیں :
اس میں تصوف کے لئے بھی ارشاد ملتا ہے کہ جس قدر بھی چیزیں اللہ کی طرف سے عطا ہوئی ہیں ان سب میں تصوف قیمتی دولت ہے اسے چھپا کر نہ رکھے بلکہ اللہ کی مخلوق تک پہنچائے ایک مسلمان جس طرح حصول رزق کے لئے حلال و حرام کا مکلف ہے اسی طرح خرچ کرنے کے معاملے میں بھی اس کی کوئی پائی مرضیات باری کے خلاف خرچ نہ ہو ۔ اور یہی وہ سنہری اصول ہے جسے سوائے اسلام کے کسی نے بیان نہیں کیا ، حالانکہ یہ سب سے موثر ہے کہ جب اخراجات محدود ومقرر ہوں گے تو بیحد آمدنی کی خواہش بھی نہ ابھرے گی اور یہ سب اس وقت ہوگا جب انسان کلی طور پر اطاعت رسول ﷺ اختیار کرے۔
والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک ، جو آپ ﷺ پر نازل ہوا اس سب کو صدق دل سے مانیں اور جو کلام الٰہی آپ ﷺ سے قبل تمام انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہوا اس سب کو اللہ کا کلام مانتا ہو اگرچہ عمل صرف اس آخری کلام پر ہوگا ، مگر ایمان تمام ارشادات باری پر ضروری ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اللہ کا کلام اس قدر عظیم المرتبت ہے کہ جب کبھی اور جہاں کہیں کوئی بات اللہ کی طرف سے نازل ہوئی اس کا منکر کافر ہوگا ، خواہ وہ بات بھی اس تک نہ پہنچی ہو ، جیسے کوئی کہہ دے کہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل ہونے والے صحائف کو نہیں مانتا اگرچہ اسے علم ہی نہ ہو کہ ان میں کیا بات ارشاد ہوئی تھی ، وہ مومن نہ رہے گا۔
ختم نبوت کی دلیل :
اگر حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی نئی نبوت یا نزول کلام کا امکان ہوتا تو پہلے نازل ہونے والے کلام کی نسبت اس کے بارے بہت کچھ ارشاد ہوتا کہ لوگوں کو وہ حالات پیش آنے والے تھے اور ان کا منکر بھی کفر کی زد سے بچ نہ سکتا تھا۔ مگر یہاں صرف من قبلک پر اکتفا اس بات پر بہت بڑی دلیل ہے کہ حضور اکرم ﷺ پر نبوت اور نزل کلام تمام ہوئے اگر عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائیں گے تو مومن ان پر پہلے سے ایمان رکھتے ہیں مگر کوئی نیا نبی اور نیا کلام آنے کا کوئی امکان نہیں جن لوگوں نے ایسے دعا دی کہتے ہیں انہوں نے محض ہوا میں قلعے بنانے کی ناکام کوشش کی ہے خود گمراہ ہو کر دوسروں کی گمراہی کا باعث بنے ہیں۔
وبالاخرۃ ھم یوقنون ، اور آخرت کے ساتھ پختہ یقین رکھتے ہیں اگرچہ آخرت بھی ایمان بالغیب ہی ایک رکن ہے مگر ایسا عظیم رکن ہے کہ جس پر ساری انسانی زندگی کی تعمیر کی بنیاد ہے۔ اس پر بہت پختہ یقین کی ضرورت ہے ایک ایسا یقین جو قدم کو اٹھنے سے پہلے تھام لے اور یہ سوچنے پر مجبور کردے کہ اس کا اخروی نتیجہ کیا ہوگا ؟ اب اسے کیا ہوگیا ؟ کا جواب بھی اور پھر کیا کروں کا جواب بھی محمد رسول اللہ ﷺ سے مل سکے گا اور اس کی زندگی سنت کے مطابق ڈھلتی چلی جائے گی۔ یہاں یومنون کی جگہ یوقنون اسی بات کو واضح کررہا ہے اور دور حاضر کی بداعمالی کی بنیادی سبب اسی یقین کی کمی ہے ، یقین کامل نام ہے دل کی تصدیق کا ، دل کے مان جانے اور دل کے اعتبار کرنے کا لہٰذا جن لوگوں کو اوصاف بالا نصیب ہیں۔
Ayah 2:5اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون ، یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے بتائے ہوئے راستے گر گامزن ہیں جو اس نے اپنی شان ربوبیت سے بتایا ہے کہ اس کی شان ربوبیت کا تقاضا تھا جس طرح بدن کی ضرورتوں کا احساس اور تکمیل کا طریقے ہر ذی روح کو فرمائے اسی طرح روح انسانی کی زندگی اور آرام کے لئے بھی طرق ارشاد فرمادیئے جن لوگوں نے اسے اختیار فرمایا وہی لوگ ہیں جو حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔
دنیا کا ہر انسان ہر کام میں فلاح اور کامیابی کے لئے کوشاں ہے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ کامیاب ہو مگر لوگوں نے کامیابی وناکامی کے معیار اپنی طرف سے مقرر کر رکھے ہیں۔ جو کسی طور درست قرار نہیں دیئے جاسکتے حقیقی معیار وہ ہے جو اس کائنات کے خالق نے ارشاد فرمایا ہے اور جس کی تعلیم حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر ہر دور میں انسانی معاشرے کی راہنمائی کرتی رہی اور بالآخر حضور نبی کریم ﷺ پر یہ سلسلہ تمام ہو۔ اگر آپ کی بعثت کے بعد بھی کسی کو ایمان نصیب نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ قبول ایمان کی استعداد ہی نہیں رکھتا اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ضائع کرچکا ہے۔
Ayah 2:6ان الذین کفرو سوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون یعنی جو لوگ آپ ﷺ کی تعلیمات خود آپ ﷺ کی زبان حق ترجمان سے سن کر پھر ایمان نہیں لاتے تو وہ ایمان لا ہی نہیں سکتے کہ نہ اس سے بڑھ کر کوئی نبی ہے اور نہ کلام اس بات کو جاننے کے لئے یوں غور کریں کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں اور نہ اکیلے روح کا بلکہ جسم وجان مل کر انسان کہلاتے ہیں جسم کی ضروریات میں یہ بیشمار چیزوں کا محتاج ہے جن میں لباس اور غذا سب سے زیادہ ضروری اور اس کی بقا وتعمیر کا سبب ہیں لیکن اس سے زیادہ اس کی صحت وعلاج معالجہ ہیں اگر صحت درست نہ ہو تو نہ غذا کام کرتی ہے اور نہ لباس خوشی دیتا ہے۔ یہاں وہ چیزیں ہیں کہ غذا ہر جگہ سے اور ہر کسی سے فراہم ہوسکتی ہے مگر وہ اس طرح نہیں یہ دینے والے لوگ مخصوص ہوتے ہیں جو ہمارے جسم کو ہم سے زیادہ سمجھتے ہیں اس کی بیماری کو ، اس کے سبب کو اور علاج کو جانتے ہیں ہم ہمیشہ ان سے رجوع کرتے ہیں جسم مادی ہے اور اس کی غذاب بھی مادی ہے ، دوا بھی مادہ سے آتی ہے پھر اس کا معالج ہر وہ شخص بن جاتا ہے جو اس فن کو حاصل کرے خواہ نیک ہو یا بد ، مومن ہو یا کافر ، مرد ہو یا عورت ، بات فن کو حاصل کرنے کی ہے o
روح امر باری ہے او بہت لطیف شے ہے حتیٰ کہ فرشتے سے بھی لطیف تر ، ضروریات اس کی بھی اتنی اور اسی طرح کی ہیں ، جیسی بدن کی ، مگر یہ مادی نہیں بلکہ لطیف ہے پھر اس کا معالج ہر کوئی نہیں بن سکتا۔ یہ ایسا قیمتی فن ہے جس کے لئے افراد ازل سے چنے گئے بلکہ تخلیق ہی خصوصی طور پر کئے گئے کوئی کتنی بھی محنت کرے اس کمال کو نہیں پاسکتا۔ اصطلاح شریعت میں ان کو نبی کہا گیا ہے پھر یہ حضرات بھی اپنی طرف سے کچھ تجویز نہیں کرتے بلکہ اس کی غذا اس کی دوا خود اللہ مہیا کرتا ہے۔
نبی میں دو قوت ہوتی ہے کہ براہ راست خطاب باری سے مستفیض ہوتا ہے اور دوسری مخلوق اس کی وساطت سے یہ اتنا اہم کام ہے کہ ہر کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ بلکہ اللہ نے جن کو بنایا انہی کو بنایا۔ پھر انہوں نے مخلوق تک یہ بات پہنچائی کہ جیسے گندم ، بدن کی بنیادی غذا ہے اللہ کا ذکر روح کی بنیادی غذا ہے جیسے کھانا کھانے کے اوقات اور طریقے ہیں جس طرح جسمانی صحت کے لئے دوا ہے اسی طرح ذکروعبادت کے اواقات اور اس کے طریقے ہیں اور روح کی دوا تو بہ استغفار ہے جس طرح بعض چیزوں کے کھانے سے پرہیزجسمانی صحت کے لئے ضروری ہے اسی طرح بعض افعال سے پرہیزروحانی صحت کی ضرورت ہے۔ یہ سب چیزیں اسی طر ح ضروری ہیں جیسے ہم جسمانی ضروریات کو اہم جانتے ہیں۔ پھر بھی قدر انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں تشریف لائے ان سے آخر وہ ہستی آتی جو سب کی سردار اور ساری کائنات کے لئے اللہ کی رحمت ہے۔ جیسے کوئی کہے کہ رات ہے اور مجھے دکھائی نہیں دیتا تو چراغ روشن کریں گے اگر پھر بھی کچھ نہیں دکھتا تو تو بجلی وغیرہ کی روشنی کریں گے پھر بھی کچھ نظر نہ آیا تو سورج کے طلوع ہونے کا انتظار ۔ اگر سورج طلوع ہونے کے بعد بھی اسے کچھ نظر نہ آئے تو پھر اس کی قوت بینائی ضائع ہوگئی اور وہ اندھا ہوگیا۔
بالکل اسی طرح بعثت رسول ﷺ کے بعد بھی جو کافررہا وہ لاعلاج ہوا۔ غور کریں کہ جسمانی حسن حضور ﷺ کا کائنات میں بےمثل ، باتوں میں وہ شیرینی جو صرف آپ ﷺ کا خاصہ ہے اور بات اللہ تعالیٰ کی زبان رسول اللہ ﷺ کی ، خطابت کا لطف الفاظ کی بندش ، زبان کی شیرینی اور لب ورخسار کا حسن بھی جو یہاں ہے کوہ کہیں نہیں اور تقدس بھی بےمثال۔ اب یہ بات بھی جس کے دل میں نہ اترے شاید اس کے پاس دل ہی نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ ہدایت کا منبع اور نور کا مینار تو آپ ﷺ کی ذات بابرکات ہے جو آپ سے بھی مستفیض نہ ہوا وہ کہاں ہوسکے گا ؟
Ayah 2:7ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ ولھم عذاب عظیم۔ ان کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے کانوں پر بھی اور ساتھ ہی آنکھوں پر بھی پردہ ڈال دیا ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ہم دل کو ایک پمپنگ مشین سمجھتے تھے مگر یہ تو بری شے نکلا۔ ذرا سوچیں تو دماغ کیا ہے ؟ رگوں کا ایک مجموعہ ۔ مگر اس میں کیا کچھ خزانے دفن ہیں اور کس قدر علوم کو سیکھنے کی قوت ہے کس قدر یاداشتیں اور کتنی وسعت ہے اپنے سارے کمال کے باوجود خطاب الٰہی کا سزاوار نہ ٹھہرا مگر یہ نعمت دل کے حصے میں آئی فرمایا ، نزل بہ الروح الامین علی قلبک یعنی کلام الٰہی کا نزول قلب پر ہوا گویا قلب کی استعداد اس سے کروڑوں گنازیادہ نکلی اس کی دست ناپیدا کنار اور عظمت ناپ کے پیمانوں سے بالا تر نکلی نہ صرف لوتھڑا نہیں اور نہ صرف مشین ہے بلکہ ایک وسیع کائنات ہے ایک مکمل جہان ہے۔
انبیاء کرام (علیہم السلام) کے قلوب فیضان باری کو قبول کرتے اور تقسیم کرتے ہیں اور مومنین کے قلوب ان سے انوار کو اخذ کرتے ہیں۔ مگر کفر ایسی بلا ہے جو قلوب سے استعداد چین لیتی ہے جیسے خود کشی کرنے والا جب اپنے آپ کو گولی مارتا ہے تو موت تو اسے اللہ ہی دیتا ہے مگر اس کا سبب وہ خود بنا۔ اسی طرح ایک غلط کار انسان کی مسلسل غلط کاری دل کی موت کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ اس کے دل پر مہر کردیتا ہے جس کا سبب اس کا اپنا کردار ہوتا ہے۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پیدا ہوجاتا ہے اگر توبہ کرے تو خیر ورنہ ہر گناہ سے سیاہی بڑھتی رہتی ہے جو آخر کار سارے دل کو سیاہ کردیتی ہے اسی کا دل کا اندھا پن اور دل کی موت کہا گیا ہے اگر انسان جسمانی زندگی سے زندہ بھی رہا تو کیا ہوا ؟ بیشمار جانور یہ زندگی گزار رہے ہیں اس کی اصل فضیلت تو اس کی روحانی زندگی تھی جسے اس کی نادانی نے کھو دیا۔ یہاں ایک لطیفہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ خالق اور مخلوق خدا کے درمیان ایک تعلق ایسا لطیف تر ہے جو ان کا ذاتی ہے اور بجز ذات باری کوئی نہیں جانتا۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کو بھی تب اطلاع ہوئی جب اللہ نے بتایا کہ ان افراد یا اس قسم کے افراد کے ساتھ میرا تعلق اس حد تک گزر چکا ہے کہ اب ان کو تو بہ نصیب نہ ہوگی تو یہ تعلق چونکہ ہر انسان کا علیحدہ ہے اس لئے ہر آدمی پر نزول رحمت بھی الگ طرح سے ہوتا ہے۔
اجتماعی ذکر کی حکمت :
یہی وجہ ہے کہ مشائخ اجتماعی ذکر کی تلقین فرماتے ہیں کہ ایک شخص پر ایک رنگ کی رحمت ہوگی تو دوسرے پر دوسری طرح کے انوار ، لہٰذا کافی لوگ ہوئے تو انوار بھی رنگارنگ ہوں گے گویا ایک گلدستہ بن رہا ہے اور یہ راز صلوٰۃ باجماعت میں بھی ہے۔ یہ سب انعامات دل کی دنیا میں ہیں جنہوں نے یہ دولت ہی ضائع کردی ایا اس طرف متوجہ ہی نہ ہوئے ان کو اس وقت خبر ہوگی جب مادی جہان اور اس کی نعمتیں نہ رہیں گی اور صرف وہ انعامات باقی ہوں گے جن کا مدار دل کی زندگی ، روح کی زندگی اور اس کی استعداد پر ہے۔ دماغ اور زبان کا اقرار عنداللہ اس وقت تک معتبر نہیں جب تک تصدیق قلبی ساتھ نہ ہو تو گویا جس طرح جسم مادی دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ پیغام الٰہی کی تصدیق کرکے دل بھی زندگی کے میدان میں وارد ہوا مگر اس کے بعد لوگ صرف جسم کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور یہ نومولود قلب سسکتا بلکتارہ جاتا ہے اور بالآخر چند ہچکیاں لے کر موت کی اٹھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ لوگ مسلمان گھرانوں میں جنم لینے کے بعد کس کس طرح کفر کی دلدل میں پھنس رہے ہیں۔ اعضا ظاہری کی سلامتی کے ساتھ بےچارے دل اور اس کے سمع بصر کو کھو بیٹھے۔ اعاذن اللہ منھا۔
Ayahs 2:8–20آیات 8- 20
اسرارو معارف
یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔
ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی ! اللہ کو کیسے دھوکا دے سکتے ہیں فرمایا ، اس طرح کہ یہ اللہ کے ایماندار بندوں کو دھوکا دیتے ہیں بظاہر خودکو مسلمان کرکے بباطن ان سے دشمنی رکھتے ہیں تو اللہ کے ان مخلص بندوں سے دھوکا گویا ذات باری سے دھوکا کرنے کی کوشش ہے۔
منافق کی پہچان :
والذین امنوا کا مصداق اول صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کی ذوات مقدمہ ہیں تو شدید تو کافر جو تھے۔ وہ بظاہر کلمہ پڑھ لینے کے باوجود ان سے حقیقی تعلق پیدا نہ کرسکے بلکہ مسلمانوں کی ترقی اور کامیابی سے بھلا کرتے تھے فرمایا ، ان کا یہ فعل اللہ کے بندوں کا تو کچھ بگاڑ نہیں رہا الٹا ان کے اپنے حق میں تباہی کا سبب بن رہا ہے اس طرح وہ اپنے آپ سے دھوکا کر رہے ہیں جس کا انہیں شعور نہیں۔ گویا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت یا ان کے ساتھ خلوص ہی ایمان کی دلیل ہے۔ ورنہ کلمہ پڑھنے کے باوجود منافق ہی رہے گا اور اگر ظاہراً عظمت صحابہ کا منکر ہوا تو کافر ہوجائے گا۔ یہ بات واضح ہے کہ جس میں قدر مذاہب باطلہ اسلام کی نام پر وجود میں آئے ان سب نے صحابہ کرام کو ہدف تنقید بنایا۔ ان میں خواہ منکرین حدیث ہوں یا کسی نئی نبوت کے دعویدار۔ سب کی مجبوری یہ رہی ہے کہ قرآن کریم کو اپنی پسند کے معانی پہنا کر اپنی بات بنانے کی کوشش کی جائے اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان کے مقام سے گرا نہ دیا جائے کہ ان کی زندگی ہی قرآن کی تفسیر ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآن کو نبی کریم ﷺ سے سیکھا اور آپ ﷺ کے سامنے قرآن پاک پر عمل کرکے اپنے عمل کی صحت کی سند پائی ۔ اب اگر اسلام کے نام پر کوئی کفر کا کارخانہ قائم کرنا چاہے تو صحابہ کرام کی ذات پر اعتراض سے آغاز کرتا ہے اور یہی نفاق کی سب سے بڑی دلیل ہے بعض فرق باطلہ تو صحابہ کرام کو نہ صرف سب وشتم کا نشانہ بنایا بلکہ اس ضل شنیع کو عبادت کا درجہ دے کر مذہب کی بنیاد بنایا۔ ایسے لوگ کفر ونفاق کے جامع ہیں کہ بعض اعمال و عقائد کافرانہ رکھتے ہیں اور بعض منافقانہ۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ ان کے دلوں میں مرض ہے فی قلوبھم مرض۔ اور مریض دل شربت محبت پینے کی استعداد نہیں رکھتا بلکہ اس میں صد اور بغض کی عفونت پیدا ہوتی ہی اور مخالفت مومنین دن بدن بڑھتی جاتی ہے فزادھم اللہ مرضا۔ اہل اللہ سے عداوت گویا خود اللہ سے عداوت ہے اور اگر تو بدنصیب نہ ہو تو یہ مرض بڑھتا رہتا ہے جو ہلاکت وتباہی پر منتج ہوتا ہے۔
اے کاش ! بدن کی فکر کرنے والا انسان کبھی اپنے قلب اور اس کی صحت کی فکر بھی کرلیتا۔ کسی ایسے حکیم کو بھی تلاش کرتا جو دلوں کو منور کرتا ہو اور ان کی اصلاح کے فن سے آشنا ہو جب قلبی امراض کا یہ حال رہا تو پھر ولھم عذاب الیم بما کانو لکذبون۔ فرمایا ان لوگوں کے لئے اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی وجہ سے بہت دردناک عذاب ہے گویا ایمان و عمل کی کسوٹی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں۔ اگر ان سے اختلاف کرتے ہوئے کوئی بزعم خود بہت بڑی نیکی بھی کررہا ہے تو عنداللہ وہ صرف نامقبول ہی نہیں بلکہ منافقت کا درجہ رکھتی ہے اور اس پر عذاب الیم مرتب ہوگا۔
واذ قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالو انما نحن مصلحون الا انھم ھم المفسدون ولکن لا یشعرون۔
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد پیدا نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح چاہتے ہیں۔ اس آیہ کریمہ نے اصلاح و فساد کا معیار مقرر فرمادیا ہے اگر حدودمتعین نہ ہوں تو کوئی ڈاکو بھی خود کو فساد ہی نہیں کہتا بلکہ اپنی حرکات کا جواز تلاش کرتا ہے مگر یوں کسی کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اس کائنات کا خالق خود فیصلہ نہ فرمادے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جو اندرونی اور باطنی طور پر دین حق سے اختلاف رکھتے تھے فسادی کہا ہے۔
فساد کی حقیقت :
یعنی اصلاح نام ہے قول و فعل رسول اللہ ﷺ اور تعامل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا خواہ عبادات ہوں یا معاملات ، ہر حال میں جو بات ان کے مخالف ہو ہوئی وہ فساد ہوگا جیسے صبح کی دو رکعت فرض ہیں تو اگر کوئی ایک پڑھے تو باطل اگر تین پڑھے تو بھی باطل۔ یہ تیسری رکعت بھی پہلی دو کے لئے مفسد ہوگی یعنی تمام بھلائی ، تمام خوبصورتی تمام حسن اور ساری اصلاح کا معیار ہے محمد رسول اللہ ﷺ ۔ جو شخص کسی کام میں بھی آپ ﷺ سے اختلاف کرنے والا ہوگا وہ فساد پیدا کرنے والا ہوگا۔
آپ دیکھیں ! دنیا میں کس قدر مشاہیر گزرے ہیں ہر قوم میں ایسے افراد موجود ہیں جن پر قوموں کو ناز ہے مگر ایسے کتنے ہیں جن کا قول قول فیصل ثابت ہوا ہو۔ ایک بھی نہیں قانون اور ضابطے بناتے ہیں پھر خود ہی ان میں ترامیم کرتے ہیں۔ اور یہی اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ اس میں خامی موجود ہے اور اصلاح کی ضرورت باقی ہے صرف ایک ہستی محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے جس نے آج سے چودہ صدیاں پیشتر ایک طرز حیات ایک قانون ایک معاشرت اور ایک ضابطہ عطا فرمایا۔ ایسا کامل ، ایساجامع جسے نہ زمانہ فرسودہ کرسکا اور نہ کوئی بدتر اس سے بہتر تدبیر کرسکا یعنی جس کام کو جس طح سے کرنے کا آپ ﷺ نے حکم دیا وہی اس کی بہترین صورت ہے اس سے بہتر کبھی نہ ہوگا بلکہ اختلاف پیدا کرنے والا بگاڑ پیدا کرکے مفسد کہلائے گا خواہ اپنے زعم باطل میں وہ کتنا ہی اچھا کررہا ہو۔
اسی بات کو آپ اس طرح دیکھیں کہ جو حضور ﷺ نے فرمایا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عملاً کیا تو گویا صحابہ کرام کا عمل کسی بھی کام کی انتہائی خوبصورت شکل ہے اور اس کا مخالف مفسد یہی اصلاح و فساد کا معیار ہے ورنہ تو منافق بھی کہتے ہیں کہ جی ہم تو اصلاح چاہتے ہیں۔ اللہ کریم فرماتے ہیں خبردار ! خوب اچھی طرح سن لو کہ یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن ان میں شعور نہیں کہ ہر کام کرنے سے دو طرح کا اثر مرتب ہوتا ہے ایک ظاہری اور فانی اور دوسرا باطنی اور ابدی۔
بظاہر حرام کھانے سے پیٹ بھر جاتا ہے اور کوئی ضروری نہیں کہ بدہضمی کی شکایت پیدا ہو مگر بباطن ایک ظلمت اور تاریکی پیدا ہوتی ہے جو نہ صرف دل کو سیاہ کردیتی ہے بلکہ اپنی حد تک ماحول کو بھی متاثر کرتی ہے اسی طرح ہر فعل جو سنت کے مطابق ہو ، نور پیدا کرتا ہے اور ماحول میں نورانیت اور نیکی کا سبب بنتا ہے مگر خلاف سنت فعل سے ظلمت پیدا ہو کر ماحول اور معاشرے میں تباہی پھیلانے کا بب بنتی ہے اور یہی فساد فی الارض ہے جسے جہلا اپنی طرف سے اصلاح کا نام کے کر کرتے ہیں مگر نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔
واذقیل لھم امنوا ، اور جب ان سے کہا جائے کہ بھئی ! اس طرح ایمان لائو جس طرح یہ سب لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں ہم ان بیوقوفوں کی طرح ماننے سے رہے۔ یہ ہے باطنی تاریکی کا اثر جو بالآخر نوک زبان تک آہی گیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم کیسے ایماندار ہو تمہارے اعمال اس کی شہادت نہیں دے رہے ہیں ان اور لوگوں یعنی صحابہ کرام کو دیکھو تو یہ کس طرح ایمان لائے ہیں تم بھی اسی طرح ایمان لائو اور انہی کی طرح عمل کرو تو کہتے ہیں یہ تو بیوقوف لوگ ہیں عقل سے کام ہی نہیں لیتے ہم ان کی طرح کیسے ہوجائیں۔ رسول اللہ ﷺ کو بھی مانیں گے اور کام عقل کے مطابق کریں گے ۔ بھئی دنیا میں بھی رہنا ہے ، آخر فرمایا ، یہی سب سے بڑی بےقوفی ہے کہ یہ اپنی عقل کو رہنما بناتے ہیں حالانکہ منصب رسول اکرم ﷺ کا ہے اور حقیقی عقلمند وہی ہے۔ جس نے حضور ﷺ کے ارشاد کے مقابلے میں اپنی عقل کو لاشے جانا اور عقلمندی اتباع میں سمجھی کہ اختلاف حقیقتاً بےعقلی ہے ان سے اختلاف رکھنے والے خواہ عقائد میں ہوں یا اعمال میں بےعقل ہیں اور بےعلم بھی ہیں کہ علم نام ہے حق کو جاننے کو ایسے علوم جو حق سے آگاہ نہ کرسکیں حقیقتاً بےعقلی ہے ان سے اختلاف رکھنے والے خواہ عقائد میں ہوں یا اعمال میں بےعقل ہیں اور بےعلم بھی ہیں کہ علم نام ہے حق کو جاننے کا ایسے علوم جو حق سے آگاہ نہ کرسکیں حقیقتاً جہالت کا درجہ رکھتے ہیں۔
علمے کہ راہ حق نہ نماید جہالت است
واذالقوالذین امنوا۔ ان کا حال یہ ہے کہ جب مومنین سے ملتے تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے سرداروں کے پاس جاتے ہیں ، تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ٹھٹھہ کر رہے تھے۔ یہاں منافقین کا حال تو بیان ہو ہی رہا تھا اللہ کریم نے ان کے سرداروں یا پیشرئوں کو ” شیاطین “ کا نام دیا ہے کہ جب اپنے شیطانوں کے پاس لوٹتے ہیں یعنی جو لوگ دین حق کے خلاف کوئی راہ نکالتے اور اس پر لوگوں کو چلانے کی سعی کرتے ہیں وہ بھی شیاطین ہیں۔ اللہ یستھزبھم اللہ کریم انہیں ذلیل کرتا ہے ایسے الفاظ جب ذات باری کی طرف منسوب ہو تو معنی بعیدمراد ہوتا ہے وہ معنی جو اس فعل کا نتیجہ ہو۔
جس سے ٹھٹھہ کیا جائے حقیقتاً مراد اس کو ذلیل کرنا ہوتا ہے تو اللہ ان کو اس طرح ذلیل کرتا ہے کہ انہیں اور ڈھیل دیتا ہے اور وہ گمراہی میں دھنستے ہی چلے جاتے ہیں بظاہر حیات دنیوی پر خوش ہیں کہ ہم نے خوب دائو لگایا کہ دعویٰ مسلمانی کا کرکے جس قدر فوائد ممکن تھے اسلام سے حاصل کئے اور جہاں قربانی دینے کا وقت آیا ہم جان بچا گئے۔ یہ لوگ اس حقیقت کو پا ہی نہیں سکتے۔ کہ حقیقی فائدہ قربانی ہی میں ہے اور کس قدر عظیم ہے وہ انسان جس کے اوقات ، جس کی قوتیں ، جس کی دولت اللہ پر نچھاور ہو۔ یہ منافق تو ایسے لوگ ہیں کہ جنہوں نے ہدایت دے کر گمراہی خریدی اولئک الذین اشترو الضلالۃ فماربحت تجارتھم وما کانوا مہتدین۔ گمراہی اور ہدایت ایک دوسرے کی ضد ہیں ان میں سے ایک حاصل ہوئی تو دوسری کی رخصت کردے گی انسان کی ضرورت ہے ہدایت کی صحیح راستے کی اب جو کوئی گمراہی اختیار کرے گا تو اس نے ہدایت چھوڑ دی۔
یہاں آج کے بےعمل معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ لوگ عمل دین کے خلاف کرتے ہیں اور خود کو ہدایت پر بھی جانتے ہیں گویا دونوں جمع کر رکھی ہیں جو محال ہے۔ یہ لوگ بھی ہدایت چھوڑ کر سخت خسارے میں رہے ان کی یہ تجارت انہیں قطعاً کوئی نفع نہیں دے سکتی بلکہ ان کی مثال تو ایسے ہے جیسے کچھ افراد جنگل وخرابے میں رات کی ہولناک تاریکی میں گھر گئے ہیں اور اندھیرے سے گھبرا کر انہوں نے آگ جلائی جب آگ نے ماحول روشن کیا تو اللہ نے ان کی روشنی سلب کرلی۔
مثلھم کمثل الذی استوقد ناراً…لایرجعون۔
انسان طبعاً ہدایت کا طلب ہے جب بعثت نبوی سے قبل سخت ظلمت و تاریکی چھارہی تھی تو سب لوگ گھبرا اٹھے اور چاہتے تھے کہ کوئی اعلیٰ صورت حال پیدا ہو تو وحی الٰہی ایک روشنی بن کر ظاہر ہوئی اور پورے ماحول کو جگمگا دیا ، گویا اس ظلمت کدے میں روشنی ہوگئی مگر اس کی قدر نہ کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان کی روشنی چھین لی اور یہ اس سے استفادہ کرنے کے قابل ہی نہ رہے ذھب اللہ بنورھم ، اب یہ ظلمت کدے میں بھٹکے رو گئے کہ دیکھ ہی نہیں سکتے نہ صرف دیکھ نہیں سکتے بلکہ آنکھ کے ساتھ کان اور زبان بھی گئے تو ان کا لوٹ کر آنا کیسے ممکن ہے گویا گمراہی سے واپس کی راہ ہی مسدود ہوگئی اب وہ اس سے باز نہیں آتے۔ یا پھر ان کی مثال ایسی ہے جیسے سخت بارش ہو اوکصیب من السماء جس میں آندھی مرہی نہ جائیں۔ حال یہ ہے کہ ان کی یہ بودی تدبیر بھلا انہیں اللہ کی گرفت سے کیسے بچا سکتی ہے۔ اللہ تو ہر حال میں کافروں کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے یعنی یہ ہمہ وقت اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اب چمک ایسی ہے کہ آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔ جب ذرا چمک ہوتی تو وہ قدم چل پڑے پھر جب تاریکی چھاگئی تو کھڑے کے کھڑے رہ گئے جیسے اندھیری سخت بارش میں بادلوں کی گھن گرج میں پھنسے ہوئے مسافر ہوں۔
انسانیت کی حالت یہی تھی جس میں حضور اکرم ﷺ بجلی کی روشنی کی طرح چمکے اور بھٹکی ہوئی انسانیت کی راہنمائی فرماتی یہ منافقین جب کبھی حضور ﷺ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ان کا دل بھی نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے مگر جب اپنی فطری تاریکی کا اثر ہوتا ہے تو اس گمراہی کے گڑھے میں کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے آنکھ کان سب چھین لیتا کہ جب انہوں اللہ کے رسول ﷺ کو انصاف کی نگاہ سے نہ دیکھا تو ان کے پاس آنکھ ہی کیوں رہے اور جب آپ ﷺ کے ارشادات نہیں سنتے تو کان کی نعمت سے فائدہ ہی کیوں اٹھائیں اور اللہ اس سب پر قادر ہے۔
یہ دنیا دار ابتلا ہے ایک معین وقت تک فرصت ہے کہ انسان بااختیار خود اگر ہدایت پر چلے تو بہتر نہ جیسے چاہے زندگی بسر کرے مگر آخرت میں ایسے لوگوں سے یہ چیزیں واقعی چھن جائیں گی اور میدان حشر میں اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ اندھے ہوں گے ، کان ضائع ہوچکے ہوں گے اور بات کرنے کی توفیق سلب بلکہ دوزخ گدھوں کی طرح چلائیں گے یہ اعمال کا وہ اثر ہوگا جو ظاہر بین نکاہ سے پوشیدہ ہے اللہ ہم سب کو اس سے امان میں رکھے۔