2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 2:1–5

الٓمّٓۚ Open ayah 2:1 in the Quran reader

الف ، لام ، میم ۔

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔ ہدایت ہے ان پرہیز گاروں کے لئے

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو غیب پر ایمان لاتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے ، اس میں سے خرچ کرتے ہیں ،

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ، ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔

تفسیر آیت 1 تا 5 مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آجاتا ہے ۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلامصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے ۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :•إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (7) ” جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردارکرو یا نہ کرو ، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ان دوگروہوں کے علاوہ منافقین کا ایک تیسرا گروہ بھی موجود تھا جیسا کہ ہم نے بالتفصیل بتایا ، جن حالات میں نبیeمدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی ، ان کا قدرتی نتیجہ یہ تھا کہ ہجرت کی تکمیل کے فوراً بعد ہی وہ گروہ پیدا ہوگیا ۔ مکہ میں اس گروہ کا وجود نہ تھا۔ کیونکہ وہاں اسلام کی پشت پر کوئی قوت اور حکومت نہ تھی اور نہ کوئی ایسی قومی جماعت تھی جس سے ڈر کر قریش اسلام کے بارے میں کوئی منافقانہ رویہ اختیار کرتے بلکہ اس کے برعکس مکہ میں اسلام کمزور تھا۔ دعوت ہر قسم کے خطرات میں گھری ہوئی تھی ۔ صرف مخلصین ہی تھے جو اس دور میں دعوت اسلامی کی صفوں میں شامل ہونے کی جراءت کرسکتے تھے ، جو اس کی راہ میں ہر قسم کے مصائب جھیلنے کے لئے تیار تھے اور اس کے لئے سب کچھ لٹانے پر تلے ہوتے تھے لیکن یثرب ....(جو پہلے ہی دن سے مدینہ الرسول کے نام سے مشہور ہوگیا) میں حالات کا رخ یکلخت بدل گیا تھا۔ اسلام ایک ایسی قوت بن گیا تھا جسے ہر شخص محسوس کرنے لگا تھا اور ہر کوئی مجبور تھا کہ وہ اس قوت سے تھوڑا بہت بنائے رکھے ۔ بالخصوص جنگ بدر کی عظیم کامیابی کے بعد تو بڑوں بڑوں کی گردنیں جھک گئی تھیں ۔ جو لوگ روش نفاق پر مجبور تھے ان میں بعض کبرائے یثرب بھی تھے ۔ ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ اس لئے یہ کبراء بھی اپنی سابقہ پوزیشن کو بحال رکھنے کے لئے اور اپنے مخصوص مصالح کی خاطر بظاہر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ ایسے لوگوں میں عبداللہ بن ابی ابن سلول کا نام سرفہرست تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کی ہجرت سے کچھ قبل ہی اس کی قوم نے یہ پروگرام بنایا تھا کہ اسے بادشاہ بنادیں ۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کی قوم اس کے لئے ہار اور تاج تیار کررہی تھی ۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں بالتفصیل ان منافقین کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض فقروں سے یہ معلوم ہوتا ہے اکثر وبیشتر فقروں کا مصداق یہی بڑے لوگ ہیں جنہوں نے حالات سے مجبور ہوکر اپنے آپ کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا تھا۔ لیکن وہ اب بھی عوام الناس پر اپنی لیڈر شپ قائم رکھنے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ اور عام طور پر ایسے متکبرین اکابرین جس طرح ، عوام کے بارے میں رائے رکھتے ہیں اسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرنے والوں کو ” بیوقوف “ لوگ کہہ کر پکارتے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو ” تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں ، اسی طرح تم بھی ایمان لے آؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوں کی طرح ایمان لائیں ؟ ، اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں .... اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے ، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکے چکے جاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے ، مگر یہ سودا ان کے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال پرچھوڑدیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ۔ یہ اب نہ پلٹیں گے یاپھران کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے۔ اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی یہ حالت ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت اچک لے جائے گی ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مریض دل منافقین پر اس بھرپور وار کے دوران ، ان کے شیاطین کی طرف اشارے ملتے ہیں ۔ اس سورت کے سیاق وسباق اور نبی ﷺ کی سیرت طیبہ کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں ۔ کیونکہ اس سورت میں ان کے کردارپر بھرپور تنقید کی گئی ہے ۔ دعوت اسلامی کے بارے میں یہودیوں نے جو طرزعمل اختیار کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہود وہ پہلا طبقہ تھا جس نے تحریک اسلامی سے ٹکر لی اور اس ٹکراؤ اور تصادم کے متعدداسباب تھے ۔ وہ اوس خزرج جیسی امی اقوام کے مقابلے میں ، اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ایک ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ مشرکین عرب میں اگرچہ یہود کی طرف میلان کم پایا جاتا تھا لیکن وہ آسمانی کتاب وہدایت رکھنے کی وجہ سے یہودیوں کے لئے مفید طلب تھیں ۔ فتنہ و فساد اور تشتت وافتراق وہ میدان ہے جس میں یہودی زیادہ چابکدستی سے کام کرتے ہیں ، لیکن جب اسلام آیاتو یہودیوں کے ان تمام مفادات پر زد پڑی ۔ وہ ایک ایسی کتاب لے کر آیاجو سابقہ کتب کی تصدیق کرتی تھی اور ان کی تعلیمات کی محافظ تھی ۔ پھر اسلام نے اوس اور خزرج کے اختلافات کو بھی ختم کردیا ، جن کے ذریعے یہودی اپنے مکروفریب کا جال بچھاتے تھے اور مالی مفادات حاصل کرتے تھے ۔ اوس اور خزرج کے باہم دست گریبان لوگ اسلامی صفوں میں آکر ایک دوسرے سے گلے مل گئے اور اوس اور خزرج کے بجائے وہ دونوں مہاجرین کی نصرت کی وجہ سے انصار کہلانے لگے ۔ اور ان سب عناصر کو ملاکر اسلام نے وہ بےنظیر اور نیا اسلامی معاشرہ تیار کیا جس کے تمام افراد متحد اور متفق تھے ، یوں کہ گویا وہ تمام ایک ہی جسم کے مختلف اعضاء ہیں اور جس کی مثال نہ اس سے پہلے کبھی تاریخ میں پائی گئی اور نہ اس کے بعد آج تک وجود میں آسکی ۔ یہودی اپنے آپ کو اللہ کی مختار اور برگزیدہ قوم سمجھتے تھے ۔ ان میں بیشمار رسول اور نبی مبعوث ہوئے تھے اور وہ متعدد کتابوں کے حامل تھے ۔ وہ ہمیشہ اس کی توقع رکھتے تھے اور شدت سے منتظر بھی تھے کہ نبی آخرالزماں خود ان کے ہاں مبعوث ہوگا لیکن جب وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو پھر انہوں نے یہ توقعات باندھ لیں کہ شاید نیا نبی ان کو اپنے دائر دعوت سے باہر رکھے گا اور اپنی دعوت کو ان پڑھ عربوں تک ہی محدودرکھے گا ۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ سب سے پہلے اہل کتاب کو اللہ کی اس آخری کتاب کی دعوت دے رہا ہے اور اس بات پر وہ دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ وہ عربوں کی نسبت زیادہ ذی علم ہیں اور ان کا یہ فرض ہے کہ وہ مشرکین سے بھی پہلے اس دعوت حق پر لبیک کہیں تو ان کے غرورنفس نے انہیں نافرمانی پر آمادہ کرلیا اور انہوں نے اسے اپنے لئے اہانت سمجھا اور اپنے مذہب کے خلاف اس نئی دعوت کو دست درازی تصور کرنے لگے ۔ اب یہودی نبی ﷺ کے خلاف شدید حسد وبغض میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزماں کے منصب کے لئے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ کو کتاب دی جس کی صداقت میں یہودیوں کو ذرہ بھر بھی شبہ نہ تھا۔ دوسرے اس لئے کہ ظہور نبوت کے ساتھ ساتھ آپ کو اس نئے ماحول میں برق رفتار کامیابی حاصل ہوگئی ، ان اسباب کے علاوہ اس حسد وبغض ، تحریک اسلامی سے عداوت اور اس کے خلاف ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ یہودی اس بات کا پختہ شعور رکھتے تھے کہ نئے حالات میں یا تو انہیں اس نئے معاشرے سے پوری طرح کٹ جانا ہوگا اور اس صورت میں ان کی فکری قیادت ، تجارت اور سودی کاروبار کے تمام مفادات ختم ہوجائیں گے اور یا پھر انہیں پوری طرح اس نئے معاشرے میں ضم ہوکر گم ہوجانا ہوگا اور یہ دونوں گولیاں ایسی ہیں کہ جو کسی قیمت پر بھی ، ایک یہودی کے حلق سے نیچے نہیں اترسکتیں ۔ یہ تھے وہ وجوہات جن کی بناپر یہود ان مدینہ نے تحریک اسلامی کے مقابلے میں وہ سخت رویہ اختیار کیا ، جس کی تفصیل سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں بیان کی گئی ہے ۔ ہم یہاں ایسی چند آیات نقل کررہے ہیں جن میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ، اسے پورا کرو ، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ ہے اسے میں پورا کروں گا ، اور مجھ ہی سے ڈرو ، اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے ، اس پر ایمان لاؤ ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذاسب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو۔ اور مرے غضب سے بچو ! باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو ، نماز قائم کرو زکوٰة دو ، اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ، تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ؟ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟ “ ایک دوسری جگہ تفصیل سے وہ رویہ اور طرز عمل بیان کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل نے اپنے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کفران کیا ۔ کس طرح انہوں نے کتاب اللہ اور شریعت کے بارے میں بےعملی کا مظاہرہ کیا اور باربار اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو توڑا۔ یہ کچھ بالتفصیل بیان کرکے قرآن مجید مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے ۔ اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی ۔ محمد رسول اللہ کو ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس ایک دوسرے سے تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو ؟ ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو ، جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ۔ “ (البقرہ :72:2) ” وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں ہے ۔ الا یہ کہ چند روز کی سزا مل جائے ، تو مل جائے ان سے پوچھو ، کیا تم نے اللہ کے سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی بات کہہ دیتے ہو ، جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمہ لیا ہے۔ “ (البقرہ :80:2) ” اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ، باوجودیکہ اس کی آمد سے قبل وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ، مگر جب وہ چیز آگئی ، جسے وہ پہچان بھی گئے ، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا ۔ اللہ کی لعنت ان منکرین پر۔ “ (89:2) ” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے ، اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں ” ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو ہمارے ہاں یعنی نسل بنی اسرائیل میں اتری ہے۔ اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے ، جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ “ (91:2) ” اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تائید وتصدیق کرتا ہوا آیا ، جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ، تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو ، اس طرح پس پشت ڈالا ، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ “ (101:2) ” یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں ، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔ “ (15:2) ” اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر کفر کی طرف پلٹالے جائیں ۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا مگر اپنے نفس کی حسد کی بناپر تمہارے لئے ان کی یہ خواہش ہے ۔ “ (109:2) ” ان کا کہنا ہے کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں ۔ “ (111:2) ” یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے ، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ “ (120:2) یہ قرآن مجید کا زندہ جاوید معجزہ ہے کہ قرآن نے ان یہودیوں کو جس صفت سے موصوف کیا وہ صفت آج تک ان کے ساتھ چپکی ہوئی ہے اور یہ صفت ہے جو ان کی ہرنسل میں ان کے ساتھ لازم رہی ہے ۔ خواہ وہ نسل قبل اسلام گزری ہو یا اسلام کے بعد آج تک کسی دور میں رہی ہو ۔ قرآن کریم ان کو یوں خطاب کرتا ہے گویا یہود ان یثرب بذات خود حضرت موسیٰ اور آپ کے بعد آنے والے انبیاء (علیہم السلام) کے ادوار میں موجود تھے۔ کیونکہ اول روز سے بنی اسرائیل کی یہی فطرت رہی ہے ۔ ان کے اوصاف وہی ہیں ۔ ان کا طرزعمل وہی ہے اور حق وصداقت کے ساتھ وہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک ہی برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دوران کلام قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والی اسرائیلی نسلوں کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں ۔ اور قرآن مجید کے یہ زندہ کلمات آج بھی امت مسلمہ اور یہودیوں کے باہم تعلق اور موقف کو ظاہر کررہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ یہودی دعوت اسلامی اور امت مسلمہ کے مقابلے میں آج بھی وہی طرز عمل اختیار کررہے ہیں جو انہوں نے آج سے صدیوں قبل اختیار کیا اور یہی ان کا طرزعمل مستقبل میں بھی ہوگا۔ یہ قرآنی آیات اس وقت امت مسلمہ کے لئے ایک دائمی ہدایت اور تنبیہ کی حیثیت رکھتی تھیں اور آج بھی وہ یہی بتارہی ہیں کہ اعداء اسلام نے ہمارے اسلاف کے ساتھ جو رویہ روا رکھا تھا وہی پالیسی وہ آج بھی اختیار کریں گے ۔ آج بھی ان کی ریشہ دوانیاں اور مکر و فریب ویسے ہی ہیں جیسے یثرب میں تھے ۔ وہ ہر دور میں اسلام کے خلاف مختلف اور متنوع طریقوں سے برسرپیکار ہے ۔ لیکن اس جنگ کی حقیقت صرف ایک رہی یعنی اسلام دشمنی ۔ غرض اس صورت میں جہاں یہودیوں کے یہ اوصاف بیان ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے متنبہ کیا گیا ، وہاں اسلامی جماعت کی تشکیل اور اس دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ، اسے تیار کرنے اور اس کی تربیت کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں ، جبکہ بنی اسرائیل ایک زمانے سے اس امانت کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکے تھے اور آخر میں انہوں نے اس نظریہ حیات کے بارے میں یہ معاندانہ رویہ اختیار کرلیا تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں سورت کا آغاز ان طبقات کے ذکر سے ہوتا ہے جنہوں نے ہجرت کے متصلاً بعد تحریک اسلامی کے بارے میں مختلف طرز ہائے عمل اختیار کر رکھے تھے ۔ ان طبقات میں شیاطین بنی اسرائیل کی طرف مخصوص اشارے بھی تھے ۔ جن کا ذکر بعد میں مفصل ہوا۔ اس سورت کے آغاز میں جن طبقات کا ذکر ہوا ہے ان کی نوعیت ایسی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں دعوت اسلامی کے مقابلے میں لوگوں نے ایسے ہی طرز عمل اختیار کئے ۔ اس کے بعد پوری سورت کے مباحث اپنے انہی متوازی خطوط پر چل رہے ہیں جن میں اس وحدت ویگانت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ جس سے اس سورت کی خاص شخصیت کا ظہور ہورہا ہے ، حالانکہ اس کے موضوعات سخن میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ کافرین اور منافقین کے تین طبقات کے ذکر اور شیاطین یہود کی طرف اشارات کے بعد اب تمام انساں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور اللہ نے اپنے بندے پر جو کتاب نازل کی ہے ، اس پر ایمان لے آئیں ۔ کافروں کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ اگر وہ کتاب کی صداقت میں شک کرتے ہیں تو پھر اس جیسی کوئی ایک سورت لے آئیں ، کافروں کو آگ سے ڈرایا جاتا ہے اور مومنین کو جنتوں کی خوشخبری دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد کافروں کو غور وفکر کی دعوت دی جاتی ہے اور متعجبانہ انداز میں ان کے کفر کی تردید کی جاتی ہے ۔ ” تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم بےجان تھے ، اس نے تمہیں زندگی عطا کی ، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں ۔ پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ۔ “ (29:2) اس حقیقت کی طرف اشارے کے بعد ، کہ زمین کی تمام مخلوقات کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت فی الارض کا بیان شروع ہوجاتا ہے۔ ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو ، جب اس کے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ “ اس کے بعد قصے کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں ۔ آدم وابلیس کا معرکہ پیش آتا ہے اور آخرکار آدم (علیہ السلام) کا نزول ہوتا ہے اور زمین کے اندر ” عہد خلافت آدم “ کا آغاز ہوتا ہے ۔ جو دراصل دور ایمان ہے۔ ہم نے کہا ” تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو یہ لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ (39:2) اس کے بعد بنی اسرائیل کی تاریخ پر طویل ترین تبصرہ شروع ہوتا ہے جس کے چند فقرے ہم اسے پہلے نقل کر آئے ہیں ۔ اس تبصرے اور تنقید کے درمیان جگہ جگہ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات کو اپنالیں اور اس کتاب پر ایمان لے آئیں جو ان کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جن کے حامل وہ خود ہیں ۔ ساتھ ساتھ انہیں یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ انہوں نے کیا کیا کو تاہیاں کیں۔ کس طرح وہ راہ راست سے بھٹکتے رہے اور حق و باطل کی آمیزش کرتے رہے ۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بحث وتمحیص قرآن مجید کے پہلے پارے کے آخر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس پوری بحث سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے دین اسلام ، نبی ﷺ اور قرآن مجید کا استقبال کس طرح کیا ۔ سب سے پہلے انہوں نے کفر کارویہ اختیار کیا ۔ انہوں حق و باطل کی تلبیس کی ، وہ دوسرے لوگوں کو تو یہ مشورہ دیتے کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود اپنے آپ کو بھول جاتے ۔ وہ کلام اللہ سنتے ، اچھی طرح سمجھتے لیکن اس کے بعد اس کو غلط معانی پہنا کر جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ۔ وہ پہلے ایمان کا اظہار کرتے اور پھر کفر کا اعلان کرکے مومنین صادقین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے اور جب آپس میں اکھٹے ہوتے تو ایک دوسرے کو بتاکید یہ کہتے کہ ” خبردار ! وہ راز کی باتیں مسلمانوں کو نہ بتانا ، جو حضرت نبی ﷺ کے بارے میں کتب سابقہ میں وارد ہیں اور جنہیں انہوں نے چھپا رکھا تھا۔ انہوں نے کوششیں کیں کہ کسی طرح مومنین کو دوبارہ کفر کی روش پر مجبور کردیں ۔ وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ صحیح اہل ہدایت ہیں ہی یہود ۔ جیسا کہ نصرانیوں کا خیال تھا کے روئے زمین پر اہل ہدایت صرف وہ ہیں وہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے محض اس لئے دشمن ہوگئے تھے کہ بقول ان کے انہوں نے ان کو چھوڑ کر پیغام خداوندی حضرت محمد ﷺ کے پاس پہنچادیا ۔ وہ مسلمانوں کی ہر کامیابی پر متغیض ہوجاتے اور ان کی بربادی کے منتظر رہتے ، وہ ہر لحظہ یہ کوشش کرتے کہ وحی الٰہی اور نبی ﷺ کے احکام واوامر میں شک پیدا کیا جائے ۔ اور تحویل قبلہ کے موقع پر تو ان کے پروپیگنڈے کی تو کوئی انتہانہ رہی ۔ منافقین کے ساتھ ربط وضبط رکھتے تھے اور ہر وقت ان کی راہنمائی کرتے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کھل کر کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں ان کے کردار پر سخت ترین تنقید پائی جاتی ہے اور سورت انہیں یاددلاتی ہے کہ انہوں نے یہی طرز عمل خود اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اختیار کیا تھا اور آپ کے بعد بھی انبیاء ورسل کے ساتھ یہ لوگ ایسا سلوک کرتے رہے ۔ نسلوں تک ان کا رویہ یہی رہا ۔ قرآن کریم انہیں اس طرح مخاطب کرتا ہے کہ بنی اسرائیل جہاں اور جس دور میں بھی ہوں گویا وہ ایک ہی گروہ ہے کیونکہ وہ ایک ہی فطرت اور جبلت رکھتے ہیں جس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس طویل ترین تنقید کے آخر میں مسلمانوں کو بنی اسرائیل کے ایمان سے مایوس کردیا جاتا ہے کیونکہ ان کی یہ خود غرضانہ ذہنیت اور مطلب پرستی اور سڑی ہوئی اور خبیث طبعیت ان کے ایمان کی راہ میں رکاوٹ ہے اور بالآخر یہ تقریر ان کے اس دعوے کی تردید پر ختم ہوتی ہے کہ ” صرف وہی ہدایت پر ہیں کیونکہ وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں “ اور بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیح وارث وہی لوگ ہیں جو سنت ابراہیمی پر چلتے ہیں اور اس عہد کی پابندی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے ساتھ باندھا تھا لہٰذا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وراثت اور جانشینی گویا اب حضرت محمد ﷺ اور مومنین کو حاصل ہوگئی ہے ، کیونکہ یہودی راہ راست سے بھٹک گئے ، اپنے دین کو تبدیل کردیا اور اب وہ اسلامی نظریہ حیات کی امانت کی حفاظت کے اہل اور اس زمین پر منصب خلافت الٰہی کے قابل نہیں رہے لہٰذا یہ ذمہ داری اب حضرت محمد ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں نے اپنے کاندھوں پر لے لی ۔ خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے جو دعا کی تھی امت مسلمہ کا برپا ہونا گویا اس دعا کی قبولیت کا مجسم ظہور تھا ، انہوں نے کہا تھا : ” اے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزرفرما ، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اور اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنواردے ۔ تو بڑامقتدر اور حکیم ہے۔ “ (129:2) اب یہاں سے قرآن مجید کا خطاب اور روئے سخن نبی ﷺ اور آپ کے گرد جمع ہونے جماعت مسلمہ کی طرف پھرجاتا ہے اور وہ اصول وقواعد بیان کئے جاتے ہیں جن پر اس نئی جماعت کی تشکیل ہوئی ہے جو دعوت دین کا کام لے کر اٹھی ہے اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس جماعت کا ایک خاص مزاج ہے اور نظریہ وعمل میں وہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ رکھتی ہے۔ امت مسلمہ کی خصوصیات کا بیان تحویل قبلہ سے شروع ہوجاتا ہے ۔ وہ سمت متعین ہوجاتی ہے جس کی امت مسلمہ کو متوجہ ہونا ہے ۔ یہ نیا قبلہ بیت الحرام ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے اللہ کے خاص احکامات کے تحت تعمیر کیا تھا۔ اللہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اسے تعمیر کریں اور پاک وصاف کریں تاکہ وہاں صرف ایک اللہ تعالیٰ کی پرستش کی جائے ۔ خود نبی ﷺ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ بدل دیا جائے لیکن آپ نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” یہ تمہارے منہ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ لو ہم اس قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں ، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو ، اس طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ “ (142:2) اس کے بعد اسلامی نظام حیات کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں ، جس پر اس جماعت نے عمل پیرا ہونا ہے ۔ نظریہ حیات اور طریق عبادت اور سلوک ومعاملات کا بیان شروع ہوجاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ راہ حق میں جو لوگ جانیں دیتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو وہ تو زندہ جاوید ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خوف ، بھوک ، مالی نقصانات ، فصلوں اور پھلوں کی تباہی جیسی ابتلائیں محض اذیتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آزمائشیں ہوتی ہیں ۔ اور یہ ہمیشہ ان لوگوں کی راہ میں آتی ہیں جو دعوت حق کو لے کر اٹھتے ہیں ۔ تنبیہ کی جاتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں شیطان تمہیں فقر ومسکنت سے ڈراتا ہے اور فحاشی اور بےحیائی پر آمادہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ تم سے یہ ہوتا ہے کہ وہ تمہیں بخش دے گا۔ اور تمہیں اپنے فضل سے نوازے گا ۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہے اور وہ انہیں ان اندھیروں میں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے والی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں پھینک دیتے ہیں ۔ اس کے بعد کھانے پینے کی چیزوں میں حلال و حرام احکامات بیان کئے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ نیکی کی حقیقت کیا ہے ۔ صرف ظاہری شکل و صورت ہی کو دیکھ کر نیک و بد کا فیصلہ نہ کرنا چاہئے ۔ پھر قتل میں قصاص کے احکام ، وصیت کے احکام روزے کے احکام ، جہاد کے احکام ، حج کے احکام اور نکاح و طلاق کے احکام بیان کئے جاتے ہیں ۔ اسلام کے عائلی نظام کی دقیق شیرازہ بندی کی جاتی ہے ۔ اور نظام معیشت میں زکوٰة ، ربا کی حرمت ، لین دین اور تجارت کے احکامات بیان ہوتے ہیں ۔ ان تمام موضوعات پر بحث کرتے ہوئے دوران گفتگو ، موقع ومحل کی مناسبت سے ، موسیٰ (علیہما السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے حالات کی طرف اشارہ بھی کیا جاتا ہے ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کی زندگی کے کچھ پہلو بھی بیان ہوتے ہیں ۔ لیکن پہلے پارے کے بعد پوری سورت میں روئے سخن مستقلاً اسلامی جماعت کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اسے اسلامی نظام حیات کی ذمہ داریوں کو اٹھانے اور اللہ کی شریعت کے مطابق ، زمین میں نظام خلافت کے قیام کی ذمہ داریوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور اس طرح امت مسلمہ کو تمام دوسری امتوں سے ممتاز کردیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ امت خود اس کائنات اور رب کائنات (جس نے اس امت کو اس عظیم منصب کے لئے چنا ) کے درمیان ربط وتعلق کی نوعیت کے بارے میں ایک مخصوص نقطہ نظر رکھتی ہے۔ سورت کے آخر میں پہنچ کر ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کے خاتمے میں سورت کے ابتدائیہ کو دہرایا جاتا ہے۔ ایمانی نظریہ حیات کی حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ امت مسلمہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتی ہے ۔ نیز تمام کتب سماوی پر اس کا ایمان ہے اور وہ انبیاء کے بیان کردہ امور غیبیہ پر بھی یقین رکھتی ہے اور انبیاء کی تعلیمات کو مانتی ہے اور دل وجان سے مطیع فرمان ہے۔ فرمایا جاتا ہے : ” رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسول اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں ۔ اور ان کا قول یہ ہے کہ ” ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ! تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ اللہ کسی متنفس پر ، اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ، ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے ، اس کا پھل اس کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے ۔ (ایمان لانے والو ! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب ! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ، ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگذر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ اسی طرح آغاز و انجام کے درمیان پوری پوری یک رنگی پائی جاتی ہے اور سورت کے تمام موضوعات سخن مومنین صادقین کی صفات اور خصوصیات کے ان دوبیانوں کے درمیان سمٹ جاتے ہیں ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جن لوگوں نے ان (باتوں کو تسلیم کرنے سے ) انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو ، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔

درس 2 ایک نظر میں 1۔ آیات کا یہ حصہ ، اس عظیم سورت کا افتتاحیہ ہے ، اس میں یہودیوں کے سوا ان تمام عناصر (Pressure Groups) سے ہم متعارف ہوجاتے ہیں جن کا مقابلہ مدینہ طیبہ میں تحریک اسلامی کو کرنا پڑا ۔ اس میں یہودیوں کی طرف ایک مختصرسا اشارہ پایا جاتا ہے۔ قرآن انہیں منافقین کو ” شیاطین “ کا لقب دیتا ہے ، یہ لفظ ہی ان کی بیشتر صفات کو ظاہر کردیتا ہے ۔ اور بتا دیتا ہے کہ تحریک اسلامی کی مخالفت میں ان کا کردار کیا رہا ۔ اگرچہ یہ اشارہ مختصر ہے لیکن ابتداء میں ان کی حقیقت کے اظہار کے لئے کافی ہے بعد میں ان کے کردار پر تفصیلی تبصرہ ہوتا ہے۔ 2۔ ان خصوصیات کی نقشہ کشی کے دوران ہم قرآن مجید کی تعبیری خصوصیات (Style of expression) سے بھی متعارف ہوتے ہیں منظرکشی کے لے خطوط والو ان کی جگہ یہاں حسین الفاظ کا انتخاب پایا جاتا ہے ۔ ان الفاظ کو پڑھتے ہی اصل مناظرآنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہوجاتے ہیں ۔ یہ مناظر اور یہ تصورات بڑی تیزی سے حرکت پذیر ہوتے ہیں اور زندگی کی تگ وتاز سے بھرپور نظر آتے ہیں ۔ 3۔ سورت کے آغازہی میں ہلکے پھلکے ، عام فہم اور مختصر الفاظ میں تین قسم کے انسانوں کی عجیب تصویر کشی کی گئی ہے ۔ ان میں سے ہر نوع ایسی ہے کہ انسانی افراد اور مجموعوں کی ایک عظیم الشان تعداد کا زندہ جاوید نمونہ ہے ۔ یہ مجموعے حد درجہ حقیقی اور گہرے ہیں اور ہر زمان ومکان میں باربار وجود میں آتے ہیں اور قرآن کریم کے اعجاز کا یہ ایک خاص پہلو ہے کہ انسانیت کی طویل ترین تاریخ میں روز اول سے لے کر آج تک پوری انسانیت انہی تین گروہوں میں منقسم نظر آتی ہے ۔ 4۔ ان مختصر کلمات اور معدودے چند جملوں کے ذریعہ ، ان طبقوں کے حقیقی خدوخال اس طرح واضح اور مکمل صورت میں لوح دماغ پر منقش ہوجاتے ہیں کہ یہ طبقے زندہ ومتحرک ، ممتاز ومشخص اور اپنے حقیقی خدوخال کے ساتھ صاف صاف آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ بےساختہ جملے اس قدر موزوں اور متناسب اور اپنے اندر اس قدر مترنم صوتی ہم آہنگی رکھتے ہیں کہ کوئی طویل ترین کلام اور کوئی مفصل ترین بیان بھی اس کی گرد تک نہیں پہنچ سکتا ۔ 5۔ جب ان طبقوں کی منظرکشی ختم ہوجاتی ہے تو پھر قرآن کریم تمام بنی نوع انسان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ پہلے طبقے میں شامل ہوں ۔ وہ انہیں پکارتا ہے کہ ایک اللہ ایک خالق اور ایک رازق کی بندگی اور غلامی کی طرف لوٹ آئیں ، جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ اس کے بعدنبی ﷺ کی صداقت اور رسالت اور آپ پر نزول قرآن کے بارے میں جو لوگ متشکک ہیں انہیں چیلنج دیا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی سورت توبنالائیں ۔ اگر وہ اس چیلنج کو قبول نہیں کرسکتے تو پھر دردناک اور خوفناک عذاب کے لئے تیار ہوجائیں ۔ اس کے برعکس مومنین اور منیبین کو خوشخبری دی جاتی ہے کہ ان کے لئے نہ ختم ہونے والاانعام واکرام ہے ۔ اور الفاظ کے آئینے کی جھلک بھی دکھادی جاتی ہے ۔ 6۔ اس کے بعد پھر یہود ومنافقین کی فتنہ پردازی کا جائزہ لیا جاتا ہے جو یہ کہتے تھے کہ قرآن کریم میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو تمثیلات دی گئی ہیں ۔ لہٰذا یہ منزل کتاب نہیں ہے ۔ انہوں نے اس مسئلے کو آڑ بناکر شکوک و شبہات پھیلانے کا ایک وسیع کاروبار شروع کردیا تھا ۔ ان کو بتایا گیا کہ یہ مثالیں گہری حکمت پر مبنی ہیں اور یہ کہ انہیں پڑھ کر ایک شخص گمراہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ وہ ہوئے اور دوسری طرف ان سے مومنین کا گروہ ایمان میں اور پختہ ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد ان پر نکیر کی جاتی ہے کہ وہ اس خالق ومدبر ، علیم وبصیر اور جلانے والے اور مارنے والے کا انکار کیوں کر کرتے ہیں ؟ حالانکہ وہی تو ہے جس نے انسان کے لئے پوری کائنات کو پیدا کیا ، انہیں یہاں یہ طویل و عریض مملکت دے کر اپنا خلیفہ وخود مختار بنایا اور انہیں بیشمار انعامات و اکرامات سے نوازا۔ ” جن لوگوں نے (ان باتوں کو تسلیم کرنے سے ) انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کروبہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔ “ یہاں متقین اور کافرین بالکل ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے نظر آتے ہیں ۔ یہ کتاب متقین کے لئے تو ہدایت اور نور بصیرت ہے لیکن کفار کا حال یہ ہے کہ خواہ انہیں خبردار کیا جائے یا نہ کیا جائے ، وہ ہر حال میں روش کفر پر جمے ہوئے ہیں ۔ مومنین کے دلوں میں ہدایت ربانی کے جو دریچے سداوا ہوتے ہیں اور وہ روابط جن کی وجہ سے وہ ہر وقت اس پوری کائنات ، اس کے خالق ، اس کے ظاہروباطن اور اس کے عالم غیب وشہادت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں ، رشد وہدایت کے یہ سب دریچے کفار کے لئے بند نظر آتے ہیں ، اسی منظر میں انسان اور خالق کائنات کے درمیان وہ تمام رابطے بالکل کٹے ہوئے ہیں ، جو مومنین اور خالق کائنات کے درمیان قائم ودوائم ہوتے ہیں ۔
Ayah 2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے۔ اور آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔

خَتَمَ اللہ ُ عَلٰی قُلُوبِہِم وَ عَلٰٓی سَمعِہِم ” اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے ۔ “ جس کی وجہ سے وہ حقیقت رشد وہدایت پانے اور حق کی آواز سننے کے قابل نہیں رہے ۔ وَ عَلٰٓی اَبصَارِھِم غِشَاوَةٌ ز ” اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ لہٰذا وہ نور ہدایت دیکھنے سے محروم ہیں ۔ چونکہ انہوں نے اپنی غلط روش سے مسلسل انذار وتبشیر کو ٹھکرادیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش پر انہیں دنیا ہی میں سخت سزادی کہ ان کے دلوں پر مہر لگادی ، آنکھوں پر پردے پڑگئے اور ان کے کان صدائے صداقت کے لئے بہرے ہوگئے ہیں ۔ یوں ان کے لئے وعظ وتبلیغ اور انہیں خبردار کرنا نہ کرنا برابر ہوگیا۔ یہ نہایت کرخت ، جامد اور تاریک تصویر ہے ، جو ان لوگوں کے دل و دماغ کی گہری تاریکی وسیاہی اور مسلسل اندھے پن اور بہرے پن کی روش اختیار کرنے کی وجہ سے منقش ہوکر ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے ۔ وَّلَہُم عَذَابٌ عَظِیمٌ” اور وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں ۔ “ کیونکہ یہی ان کی معاندانہ اور کافرانہ روش کا قدرتی انجام ہے ، جو لوگ ڈرانے والے کی بات کو مان کر نہیں دیتے اور جن کو ڈرانا یا نہ ڈرانا یکساں ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں بھی یہ بات ہوتی ہے کہ یہ لوگ آخر تک اپنی اس روش پر قائم رہیں گے ۔ وہ اسی انجام کے مستحق ہیں ۔
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔

اب سیاق کلام تیسری تصویر اور تیسرے منظر کی طرف منتقل ہوجاتا ہے ۔ اس تیسرے نمونے کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی جاتی ہے ۔” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا ۔ اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں ۔ اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو ، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ´خبردار حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟ خبردار اس حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں ، مگر یہ جانتے نہیں ۔ جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں ، اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جارہا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے ، اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں ۔ ان الفاظ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مدینہ طیبہ کی واقعی صورتحال کی صحیح تصویر کشی ہے لیکن زمان ومکان کی حد بندیوں سے قطع نظر کرکے بھی جب ہم دیکھتے ہیں تو اس قسم کے لوگ ہمیں انسانوں کی ہر نسل میں موجودنظر آتے ہیں ۔ ہر نسل میں ایسے ذی حیثیت منافق لوگ پائے جاتے ہیں جو نہ تو اپنے اندر یہ جراءت پاتے ہیں کہ حق وصداقت کو پوری طرح تسلیم کرلیں اور ایمان لے آئیں اور نہ ان میں یہ سکت ہوتی ہے کہ حق وصداقت کا صاف صاف انکار کردیں ۔ اس صورتحال کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ عوام کے مقابلے میں اپنے لئے ایک اونچی حیثیت اور رتبہ بلند بھی پسند کرتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو جمہور عوام سے زیادہ علیم وفہیم سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا ہم ان آیات کو ہر قسم کی تاریخی مثالوں سے آزاد اور اصولی آیات سمجھتے ہیں جو ہر دور کے ان تمام لوگوں پر صادق ہیں جو منافقانہ روش اختیار کرتے ہیں ۔ غرض ان آیات میں جس نفسیاتی صورتحال کی تصویر کھینچی گئی ہے وہ ایسی صورتحال ہے کہ ہر دور میں نفس انسانی کی گہرائیوں میں موجود رہی ہے اور اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی ۔
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔

ٍاس قسم کے لوگ ہمیشہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان (اور خادم اسلام ہونے ) کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ لیکن درحقیقت ان کے دل دولت ایمان سے خالی ہوتے ہیں ، یہ صریح طور پر منافقت میں مبتلا ہوتے ہیں ، یہ بزدل ہوتے ہیں اور مومنین کے بارے میں ان کی جو حقیقی رائے ہوتی اس کا اظہار کرنے کی جراءت ان کے اندر نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس زعم میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ غایت درجے کے ذہین ، معاملہ فہم اور پالیسی باز ہیں اور وہ ہر حال میں ان سادہ لوح مومنین کو طرح دے سکتے ہیں ۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ ایسے لوگ صرف مومنین ہی کو نہیں بلکہ اللہ کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یُخٰدِعُونَ اللہ وَ الَّذِینَٰامَنُوا ” وہ اللہ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے ہیں ، دھوکہ بازی کررہے ہیں۔ “ اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات میں ایک عظیم حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان فضل وکرم ہے کہ قرآن کریم میں باربار بتاکید و تکرار اس کا اظہار ہوا ہے اور اسی میں دراصل بندہ مومن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قائم ربط وتعلق کا راز پنہاں ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ مومنین کے محاذ کو خود اپنامحاذ قرار دیتا ہے ۔ ان کے معاملات اور حالات کو خود اپنے معاملات اور حالات قرار دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ساتھ ملاتا ہے اور انہیں اپنے دامن شفقت ورافت میں لیتا ہے ۔ ان کے دشمن کو خود اپنا دشمن قرار دیتا ہے ، ان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو اپنے خلاف سازش قرار دیتا ہے ۔ یہ اس کی انتہائی شاہانہ کرم نوازی اور عزت افزائی ہے جس سے مومنین کی قدرومنزلت اپنے انتہائی عروج تک جاپہنچتی ہے اور جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس کائنات میں ایمان باللہ ایک عظیم ترین حقیقت ہے جس سے دل مومن میں ثبات و طمانیت کے سرچشمے پھوٹ نکلتے ہیں ۔ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن کے مسائل اور مشکلات کو اپنے دست قدرت میں لے لیتا ہے ، اس کا معرکہ اللہ کا معرکہ قرارپاتا ہے ، اس کا دشمن اللہ کا دشمن بن جاتا ہے۔ اللہ اسے اپنے محاذ میں لے لیتا ہے اور اپنے عمل عاطفت میں داخل کرلیتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں پھر انسانوں اور حقیر بندوں کی سازشوں ، دھوکہ بازیوں اور ایذا رسانیوں کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے ؟ اس حقیقت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس میں ان لوگوں کے لئے ایک خوفناک تہدید ہے جو مومنین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور ان کی ایذارسانی کے درپے ہوتے ہیں ۔ انہیں کہا جارہا ہے کہ ان کی یہ جنگ صرف مومنین کے خلاف ہی نہیں بلکہ وہن درحقیقت اس ذات اقدس کے خلاف صف آراء ہیں جو قوی و متین ہے اور قہاروجبار ہے ۔ اللہ کے دوستوں سے برسرپیکار ہوکر وہ دراصل اللہ کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اپنی ان ذلیلانہ سرگرمیوں کی وجہ سے اللہ کے قہر وغضب کے مستحق بن رہے ہیں ۔ مومنین کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت عظمیٰ کے ان دونوں پہلوؤں پر اچھی طرح غور وفکر کریں تاکہ انہیں اطمینان وثبات حاصل ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں اور دھوکہ بازوں کے دھوکوں ، سازشیوں کی سازشوں اور اشرار کی ایذا رسانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ۔ مومنین کے دشمنوں کو بھی ایک لمحہ کے لئے اس حقیقت پر غور کرلینا چاہئے ۔ انہیں چاہئے کہ وہ سوچ لیں کہ وہ کس کے ساتھ برسر پیکار ہیں اور کس ذات کے قہر وغضب کا مستحق بن رہے ہیں ۔ انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ مومنین کے درپے آزاد ہوکر وہ کیا خطرہ مول لے رہے ہیں ؟ اب ہم دوبارہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو بزعم خود مومنین کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو غایت درجہ کا ذہین اور معاملہ فہم تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہیں ۔ لیکن ملاحظہ کیجئے کہ آیت کے اختتام سے پہلے ہی وہ کس عظیم مذاق کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ وَ مَا یَخدَعُونَ اِلَّاآ اَنفُسَہُم وَ مَا یَشعُرُونَ ” مگر دراصل وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں یعنی وہ اس قدر غافل ہیں کہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور تک نہیں اور اللہ ان کی سب حرکات سے باخبر ہے ۔ رہے مومنین تو وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں اور ان کے ذلیلانہ مکر و فریب سے وہ خود انہیں بچارہا ہے ۔ لیکن یہ نادان خواہ مخواہ دھوکہ کھا رہے ہیں ۔ اور اپنے آپ کو برائی اور گناہوں سے ملوث کررہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ روش نفاق اختیار کرکے انہوں نے بہت نفع بشہ سودا کیا ہے ۔ اور اس سے انہیں کافی فائدہ پہنچا لیکن اس طرح وہ مومنین کی سوسائٹی میں اعلان کفر جیسے مشکل کام سے بھی بچ گئے اور مومنین کے ساتھ نئے معاشرے کے مفادات بھی انہوں نے سمیٹ لئے ۔ حالانکہ جس کفر کو وہ اپنے دل میں چھپا رہے ہیں وہ انہیں ہلاکت کے گھڑے کی طرف لے جارہا ہے ۔ ان کا نفاق ان کے لئے تباہی کا سامان ہے اور اس کی وجہ سے وہ ایک نہایت نامسعود انجام تک پہنچنے والے ہیں ۔
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا ۔ اور جو جھوٹ بولتے ہیں ، اس کی پاداش میں ان کے دردناک سزا ہے ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ منافقین یہ حرکت کیوں کرتے ہیں ۔ روش نفاق اختیار کرکے وہ مومنین کو یہ دھوکہ کیوں دینا چاہتے ہیں ؟ اس لئے کہ فِی قُلُوبِھِم مَّرَضٌ” ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ “ ان کے دلوں کو یہ روگ لگ گیا ہے ۔ دماغوں پر یہ آفت آن پڑی ہے اور یہ انہیں حق کی راہ مستقیم پر چلنے نہیں دیتی ۔ اس کی وجہ سے وہ پھر اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت ان کے اس روگ کو اور زیادہ کردے فَزَادَھُمُ اللہ ُ مَرَضًا ” ان کی اس بیماری کو اللہ نے اور بڑھادیا۔ “ ظاہر ہے کہ ایک بیماری دوسری کو جنم دیتی ہے ۔ گمراہی ابتداء میں نہایت معمولی ہوتی ہے اور جونہی اس کے خطوط وحدود آگے بڑھتے ہیں اس کا زاویہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے ۔ یہ اللہ کا قانون قدر ہے ، جو ہر جگہ جاری وساری ہے ۔ یہ قانون فطرت انسانی سوچ اور طرز عمل تمام چیزوں اور تمام حالات میں جاری ہے ۔ وہ خود ایک معلوم ومعروف انجام کی طرف چلے جارہے ہیں ۔ وہ انجام جو ان سب لوگوں کے لئے مقدور ہے جو اللہ اور مومنین کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ۔ وَ لَہُم عَذَابٌ اَلِیمٌم بِمَا کَانُوا یَکذِبُون ” یہ جھوٹ بولتے ہیں اور اس کی پاداش میں ان کے لئئے دردناک عذاب ہے ۔ “ ان کی اہم صفات میں سے یہ دوسری صفت ہے ، بالخصوص ان لوگوں کی جو ان میں سرکردہ تھے اور ہجرت رسول ﷺ سے قبل اپنی قوم اور قبیلے میں سرداری کے مناسب پر فائز تھے مثلاً عبداللہ ابن ابی ابن سلول ۔ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مومنین کے خلاف دل میں گہراکینہ رکھتے تھے اور جو فتنہ و فساد برپا کرتے تھے اس کے لئے تاویلیں پیش کرتے اور اپنے ان کارناموں پر ہر قسم کی سزا ومواخذہ سے بچ کر پھولے نہ سماتے ۔
Ayah 2:11

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو ، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ “

گویا یہ لوگ جھوٹ اور فریب پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ مومنین کو بیوقوف سمجھتے ہوئے الٹا یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم تو مصلح ہیں وہ اس نصیحت کا کہ ” زمین میں فساد نہ کرو۔ “ یہ سادہ جواب نہیں دیتے کہ ” بھائی ہم کب فساد برپاکر رہے ہیں ؟ بلکہ وہ اکڑ کر یہ ادعا کرتے ہیں کہ ” مصلح تو ہیں ہی ہم۔ “ ہر دور اور ہر زمانے میں لوگوں کی یہ قسم دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ عملاً فساد کی بدترین شکلیں برپاکررہی ہوتی ہیں اور اس کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ ہم تو بس اصلاح معاشرہ چاہتے ہیں جب معاشرہ میں بلند اقدار تباہ ہوتی ہیں تو ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ اخلاص اور پاکیزگی نفس سے محروم ہوتے ہیں اور جب اخلاص جاتا رہے اور نفس انسانی میں فساد پیدا ہوجائے تو تمام اعلیٰ قدریں اور حسن وقبح کے پیمانے از خود ختم ہوجاتے ہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں خلوص اور ایمان نہ رہے ۔ وہ کبھی بھی فساد فکر وعمل کا شعور نہیں پاسکتے اور ان کے دل و دماغ میں خیر وشر اور اصلاح و فساد کا جو پیمانہ ہوتا ہے ، وہ ان کی خواہشات نفسانی کی طرف ، جھکتا رہتا ہے اور ربانی نظام حیات کی طرف مائل نہیں ہوتا ۔ اسی لئے ان کے اس دعوے کا یہ سخت لیکن حقیقت پسندانہ جواب دیا جاتا ہے۔
Ayahs 2:12–13

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

خبردار ، حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟ “۔۔۔ خبردار ، حقیقت میں یہ تو خود بیوقوف ہیں ، مگر یہ جانتے نہیں ہیں ۔

اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ المُفسِدُونَ وَ ٰلکِن لَّا یَشعُرُونَ ” خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ “ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو عوام الناس سے اونچے درجے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں میں اپنا جھوٹاوقار قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وَ اِذَا قِیلَ لَہُم اٰمِنُوا کَمَآ ٰامَنَ النَّاسُ قَالُوآ اَنُؤمِنُ کَمَآ ٰامَنَ السُّفَہَاءُ ، اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ السُّفَہَآءُ وَلَکِن لَّا یَعلَمُون ” اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟ خبردار حقیقت میں یہ تو خود بیوقوف ہیں ، مگر جانتے نہیں ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں منافقین کو جس چیز کی طرف بلایا جارہا تھا وہ یہ تھی کہ وہ مخلصانہ طور پر ایمان لے آئیں اور اپنے ایمان کی ذاتی خواہشات سے پاک کردیں ۔ جس طرح دوسرے مخلصین اپنی انفرادیت ختم کرکے پوری طرح اسلام کے اندر جذب ہوگئے تھے ۔ اور انہوں نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تھا اور انہوں نے نبی ﷺ کے لئے اپنے دلوں کے تمام دریچے کھول دیئے تھے ۔ آپ ﷺ انہیں جو ہدایت بھی دیتے وہ اخلاص اور بےنفسی سے لبیک کہتے تھے ۔ چناچہ منافقین کو دعوت دی جارہی تھی کہ وہ بھی ان لوگوں کی طرح اخلاص ۔ استقامت اور واضح اور صاف دل و دماغ کے ساتھ ایمان لائیں ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ منافقین ان معنوں میں نبی کریم ﷺ کے سامنے پوری طرح جھکنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ طبقے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے تھے ۔ اور کہتے تھے کہ ان کے لئے تسلیم ورضا کی یہ کیفیت ضروری نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مومنین کے بارے میں کہتے تھے کہ کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح اندھی اطاعت کرتے پھریں اور قرآن نے بھی اس سختی ، تاکید اور جزم کے ساتھ ان کے اس زعم باطل کی تردید کی ۔” خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں مگر جانتے نہیں ۔ “
Ayah 2:14

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں ، اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ کوئی بیوقوف کبھی یہ سمجھا ہے کہ وہ بیوقوف ہے ، یا کوئی گمراہ کبھی یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ جادہ مستقیم سے ہٹ چکا ہے ۔ اس کے اب منافقین کی آخری صفت کو بیان کیا جاتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ صرف جھوٹ ، فریب کاری ، تحقیر مسلمین اور ادعاء وتعلی ہی میں مبتلا نہیں بلکہ ان مذموم صفات کے ساتھ وہ پست ہمت ، لئیم ، سازشی اور مکار بھی ہیں ۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ” جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ “ بعض لوگ اس ذلت اور کمینگی کو قوت اور حکمت سمجھتے ہیں ، مکروفریب ان کے پر خیال میں غایت درجے کی فراست وسیاست ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ چیز درحقیقت بےچارگی اور خسیس پنے کی آخری حد ہوتی ہے ۔ ایک پرشوکت اور قوی انسان کبھی کمینہ اور خبیث النفس نہیں ہوسکتا۔ نہ اسے مکر و فریب کی ضرورت پڑتی ہے ۔ نہ اسے اس بات کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ تنہائی میں چغل خوریاں کرے اور طعنے اور طنز سے دل کا غبار نکالے ۔ ان منافقین کا یہ حال تھا کہ وہ کھلم کھلا مسلمانوں کا سامنا کرنے سے کترا رہے تھے اور مومنین سے مل کر اپنی طرف سے بھی اس بات کا اظہار کررہے تھے کہ ہم مومن ہیں تاکہ اس طرح وہ مومنین کی جانب سے ہر قسم کی اذیت سے محفوظ رہیں اور اس طرح محفوظ ومامون ہو کر مومنین کے خلاف نیش زنی کرتے رہیں ۔ یہ لوگ جب اپنے شیاطین کے پاس جاتے ، جو غالباً (یہود ہوا کرتے تھے ، اور جنہیں ایسے لوگوں میں سے ایسے کئی افراد مل جاتے تھے جو اسلامی صفوں میں انتشار واختلاف پھیلانے کے لئے استعمال ہوں ۔ دوسری طرف یہودی بھی ایسے لوگوں کے لئے ایک سہارے اور ملجاوماویٰ کا کام کرتے تھے ۔ چناچہ یہ منافقین ” جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے تو کہتے کہ اصل میں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ “ مومنین سے ان کا مذاق یہ تھا کہ وہ ایمان اور تصدیق قلبی کا اقرار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ بس مومنین کیا جانتے ہیں کہ ہم کیا ہیں ۔ ان کی اس عیارانہ گفتگو اور مکارانہ طر زعمل کی وضاحت کے فوراً بعد قرآن کریم انہیں ایسی سخت ڈانٹ پلاتا ہے کہ اگر احساس ہو تو پہاڑ بھی مارے خوف کے کانپ اٹھیں۔
Ayah 2:15

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ۔ وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں ۔

اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ” اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے اور یہ اپنی رو میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں ۔ “ کس قدر بدبخت ہے وہ شخص کہ آسمان و زمین کا قہار وجبار جس کے ساتھ مذاق کررہا ہے ؟ اس سے بڑی شقاوت کوئی اور نہیں ” اللہ ان کی رسی دراز کئے جارہا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے ہیں ۔ “ جب ایک حساس انسان ان الفاظ پر غور کرتا ہے اور مرکب خیال جو لانی دکھاتا ہے تویہاں آکر وہ نہایت ہی خوفناک اور کپکپا دینے والے منظر کے سامنے بےحس و حرکت کھڑا ہوجاتا ہے ۔ یہ اس قدر خوفناک انجام ہے جس سے دل دہل جاتے ہیں اور بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ ان مکاریوں کو یوں اپنے حال پر چھوڑدیا جاتا ہے ۔ نہ ان کا کوئی مرشد ۔ نہ کوئی راہ سجھائی دیتی ہے ۔ نہ ان کے سامنے کوئی مقصد ہے ۔ یہ لوگ اسی سرگردانی کی حالت میں ہوتے ہیں کہ اللہ دست قدرت انہیں اپنی شدید گرفت میں لے لیتا ہے اور یہ چوہوں کی طرح غفلت و لاپرواہی کے عالم میں جال میں کو دجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ ایک خوفناک انجام ہے اور اس کے مقابلے میں اس مذاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو یہ اپنے خیال کے مطابق کررہے ہیں ۔ یہاں اس حقیقت کا اظہارہورہا ہے جس کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کر آئے ہیں کہ کفر واسلام کے معرکہ میں خود اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہوتا ہے ۔ اللہ کے دوستوں اور بندوں کے لئے اس کی سرپرستی میں اگر طمانیت قلب کا ایک عظیم سرمایہ ہے تو اللہ تعالیٰ کے مخبوط الحواس ، غافل اور راندہ درگاہ دشمنوں کے لئے انجام بد اور ایک خوفناک پایان کار کی نشان دہی ہے ، جو اس کے لئے دھوکہ کھائے ہوئے ہیں کہ اللہ ان کے لئے رسی دراز کئے جارہا ہے اور وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں سرگرداں ہیں ۔ یہ اندھے ہورہے ہیں ، غفلت میں ڈوبے جارہے ہیں ، حالانکہ ایک خوفناک انجام ان کا منتظر ہے۔