Ayah 2:232پھر مزید یہ کہ اگر ایک بیچاری کو تم نے طلاق دے دی ہے ، اپنی رفاقت کے لائق نہیں سمجھا تو اسے پابند نہ بناؤ ۔ اگر وہ عدت پوری کردیتی ہے تو اب اسے ہر طرح سے ، ہر طرف سے آزاد چھوڑ دو ۔ اگر وہ اس سابق خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے اور دونوں اس پر راضی ہوگئے ہیں تو تم اسے اپنی عزت کا مسئلہ نہ بناؤ اور اسے ایسا کرنے دو وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ” اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں ، تو پھر اس میں مانع نہ ہو ، کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کرلیں ، جبکہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں۔ “
ترمذی میں معقل بن یسار سے روایت ہے کہ اس نے اپنی بہن کا نکاح مسلمانوں میں سے کسی سے کرادیا تھا۔ وہ اس کے پاس کچھ عرصہ رہی پھر اس نے اسے ایک طلاق دے دی لیکن رجوع نہ کیا اور عدت ختم ہوگئی ۔ اس کے بعد وہ اسے چاہنے لگا اور عورت اسے چاہنے لگی ۔ اب دوسرے پیغام دینے والوں کے ساتھ اس نے بھی دوبارہ اس کا پیغام دیا ۔ اس پر معقل نے اسے کہا : اے ذلیل بن ذلیل ، میں نے تجھے اپنی بہن دے کر تمہیں اعزاز بخشا ، تجھے نکاح کرکے دے دی لیکن تو نے اسے ناحق طلاق دے دی ۔ اللہ کی قسم ! اب وہ کبھی تمہارے پاس نہ لوٹے گی۔ اور قیامت تک ، معقل کہتا ہے : اللہ کو اس بات کا علم تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اس لئے یہ آیات نازل ہوئیں وَإِذَا طَلَّقْتُمُ................ لا تَعْلَمُونَجب معقل نے سنا کہ یہ آیات نازل ہوگئی ہیں تو اس نے کہا : میرا رب سنتا ہے ۔ میں مطیع فرمان ہو۔ اس کے بعد اس نے اس شخص کو بلایا اور کہا کہ میں تمہیں اپنی بہن نکاح کرکے دیتا ہوں اور میں تمہارا احترام کرتا ہوں۔
اللہ نے جان لیا کہ میاں بیوی دونوں صدق دل سے ازدواجی زندگی کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ۔ اور ایک دوسرے کی طرف مائل ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فوراً ہمدردانہ انداز میں ان کی خواہش کو قبول کرلیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر کس قدر شفقت و رحمت ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ کس نرمی چاہتا ہے ۔ جماعت مسلمہ کو کس قدر تربیت دی جارہی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کے زیر سایہ وہ مہذب انسان بن رہے ہیں اور اسلامی نظام کے زیر سایہ ان پر ربانی عنایات کی بارش ہورہی ہے ۔ زندگی کے پر موڑ پر ان کی بہترین راہنمائی کی جارہی ہے ۔
اس ممانعت اور تنبیہ کے بعد اب مسلمانوں کے ضمیر اور ان کے وجدان کو جگایا جارہا ہے ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ ” تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا ، اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان لانے والے ہو ، تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ “
اللہ و رسول پر ایمان ہی وہ عامل ہے جس کی وجہ سے یہ نصیحت دلوں کی تہوں تک پہنچ جاتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب یہ دل اس دنیا سے زیادہ تر وسیع دنیا یعنی دار آخرت سے معلق ہوں۔ جب دلوں کی پسند وناپسند اللہ کی رضا کے تابع ہوجاتی ہے ۔ جب دلوں میں یہ شعور پیدا ہوجاتا ہے کہ اللہ ، جو طرزعمل اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے ، وہی اعلیٰ ہوتا ہے ، وہی شائستہ ہوتا ہے اور وہی پاکیزہ ہوتا ہے لہٰذا اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ اسے اپنائیں اور پاکیزگی اور شائستگی اختیار کریں ، اپنے لئے بھی اور اپنے پورے معاشرے کے لئے بھی ۔ آخر میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جو ذات تمہارے لئے لائحہ عمل کا انتخاب کرتی ہے ، وہ ذات وہ ہے ، جو سب کچھ جانتی ہے لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ تسلیم ورضا کی حالت میں اس کی ہر بات پر لبیک کہو۔
یو اللہ تعالیٰ عائلی زندگی کے ان چھوٹے چھوٹے معاملات کو بلند کرکے عبادت کے مقام تک پہنچادیتے ہیں ۔ ان معاملات کا تعلق بھی اللہ کی رسی سے ہوجاتا ہے۔ ان کو زمین کی آلودگیوں سے پاک کردیا جاتا ہے ۔ زندگی کی گندگیوں سے صاف کردیا جاتا ہے اور یہ معاملات اب محض دنیاوی کھینچاتانی یا محض خاندانی اور معاشرتی کشمکش نہیں رہتے جو بالعموم طلاق کے وقت ایک فضابن جاتی ہے ، بلکہ ان کو پاک کرکے خدائی تعلیم کے ساتھ وابستہ کردیا جاتا ہے۔
اگلا حکم طلاق کے بعد ، بچے کی پرورش اور دودھ پلانے کے بارے میں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات محض تکمیل طلاق سے میاں بیوی کے باہمی معاملات ختم نہیں ہوجاتے ۔ اکثر اوقات بچے رہ جاتے ہیں جن کی پرورش میں دونوں نے حصہ لیا ہوتا ہے ۔ جواب بھی دونوں کے لئے باہمی رابطے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اگر والدین کی باہم نہیں نبھتی تو چھوٹے لوگوں کا قصور کیا ہے ؟ ان کے لئے تو مناسب اور تفصیلی گارنٹی ہونی چاہئے تاکہ وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے قابل بن سکیں ، ایسی گارنٹی جو سب حالات میں ان کے لئے مفید ہو :
Ayah 2:233مطلقہ والدہ ، اپنے بچوں کے بارے میں بالخصوص دودھ پینے والے بچوں کے بارے میں بری الذمہ نہیں ہے ۔ اس پر اس سلسلے میں فرائض عائد ہوتے ہیں ۔ یہ فرائض اللہ تعالیٰ کی جانب سے عائد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو آزاد نہیں چھوڑدیا کیونکہ ایسے حالات میں ، اگر عورت کو ................ اپنی فطرت کے مطابق آزاد چھوڑدیا جائے تو کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کوئی غلط فیصلہ بھی کرسکتی ہے اور اس غلط فیصلے کے نتیجے میں بچہ ضائع ہوسکتا ہے ، اسے نقصان پہنچ سکتا ہے ، چناچہ اللہ تعالیٰ یہاں بچوں کے لئے ضابطہ وضع فرماتے ہیں اور والدہ پر فرض کردیتے ہیں کہ وہ ایسے حالات میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے بچے کو نقصان پہنچے ۔ اللہ ہم سے بھی ، ہمارے ساتھ زیادہ محبت ہے ۔ وہ سب سے زیادہ مہربان ہے بلکہ والدین سے بھی زیادہ رحیم وکریم ہے ۔ ماں کا فرض ہے کہ وہ پورے دو سال تک بچے کو دودھ پلائے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ اس بات سے واقف ہیں کہ اصول صحت کے لحاظ سے بچے کے لئے دو سال کے عرصہ تک دودھ پینا ضروری ہے ۔ صحت کے اصولوں کے لحاظ سے بھی اور نفسیاتی اصولوں کے اعتبار سے بھی لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ” جو لوگ پوری مدت رضاعت تک دودھ پلانا چاہیں۔ “ جدید اصول صحت اور جدید اصول نفسیات کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت اور نفسیات دونوں اعتبار سے بچے کو اپنی ماں کی گود میں ہونا ضروری ہے ۔ تاکہ دونوں لحاظ سے وہ صحیح نشوونما پاسکے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی نعمت نے اس وقت کا انتظار نہ کیا کہ مسلمان از خود ، اصول فطرت کے ان رازوں تک رسائی حاصل کریں اور پھر ان پر عمل پیرا ہوں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صدیوں تک بچوں کی قیمتی نسل کو انسان کی جہالت کے حوالے نہیں فرماسکتے تھے ۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بےحد مہربان ہے ۔ بالخصوص ان چھوٹے اور بےبس بچوں پر تو وہ بہت مہربان ہے ۔ کیونکہ وہ اس کے رحم و شفقت کے زیادہ محتاج ہیں ۔
لیکن والدہ پر جو فرض عائد کیا گیا ہے ، اس کے مقابلے میں اسے حق بھی دیا گیا ہے اور یہ حق والد کے ذمہ ہے یہ کہ وہ والدہ کو معروف طریقے کے مطابق نفقہ اور لباس فراہم کرے ۔ اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرے ، کیونکہ بچوں کے معاملے میں دونوں شریک ہیں ۔ اور دودھ پینے والے اس چھوٹے بچے کے مقابلے میں دونوں مسئول ہیں ، وہ اسے دودھ پلائے گی اور دیکھ بھال کرے گی اور والد اس کی ماں کو نفقہ اور لباس فراہم کرے گا ۔ دونوں اپنے فرائض ادا کریں گے۔ اپنی اپنی طاقت کی حدود میں۔ لا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلا وُسْعَهَا ” کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالاجائے۔ “
اور یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ والدین میں کوئی بھی اس بچے کو اذیت وانتقام کا وسیلہ بنائے لا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ” نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالاجائے کہ بچہ اس کا ہے ، نہ ہی باپ کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے ۔ “
ماں کو بچے سے بےحد محبت ہوتی ہے ۔ وہ بچے کے سوا زندہ نہیں رہ سکتی ۔ باپ کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ماں کی محبت سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور اسے ایسی شرائط پر مجبور کردے جو معروف نہ ہوں۔ نہ ہی ماں کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ والد کی مجبوری اور اس کی محبت سے غلط فائدہ اٹھائے اور اس پر ایسا بوجھ ڈالے جو اس کی قوت برداشت سوے زیادہ ہو ، یا ضد میں آکر سرے سے انکار کردے۔
اگر والد فوت ہوجائے تو اس کے ورثاء پر یہی فرائض عائد ہوتے ہیں جو بچے کے والد پر عائد ہوتے ہیں ۔ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ ” اور وارث پر بھی اس کے ورثاء کے ایسے ہی حقوق ہیں جس طرح والد پر ہیں ۔ “ وارث کا یہ فرض ہے کہ وہ دودھ پلانے والی کو خرچہ اور کپڑے دے ، معروف طریقے کے مطابق اور حسن سلوک کے ساتھ ۔ اس لئے معاشرہ کی اجتماعی ذمہ داریاں پوری کی جاسکیں ۔ ایک طرف میت کی میراث وارثوں کو ملے تو دوسری طرف میت کے ذمہ جو عائد فرائض ہیں وہ بھی وارثوں پر عائد ہوں۔ اس طرح اگر کبھی ایسا ہو کہ بچے کا والد فوت ہوجائے تو بچہ ضائع نہ ہو ۔ یوں اسلامی نظام میں ایسے بچے اور اس کی والدہ دونوں کے حقوق ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتے ہیں۔
ان تمام احتیاطی تدابیر کے بعد اب قرآن مجید حالت رضاعت کی ایک دوسری صورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے فَإِنْ أَرَادَا فِصَالا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ” اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں ، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “ اگر والد اور والدہ یاوارث اور والدہ باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرلیں کہ دو سال کا عرصہ پورا ہونے سے پہلے ہی بچے کا دودھ چھڑا لیں ، اس لئے کہ اسی میں بچے کی مصلحت ہے ، مثلاً اصول صحت کے اعتبار سے یا اور کسی وجہ سے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بشرطیکہ یہ فیصلہ دونوں فریقوں کی رضامندی اور مشورے سے ہو۔ اور اس میں بچے کے لئے کوئی مصلحت ہو ، جس کی تربیت ان دونوں کے حوالہ سے ہے ، جس کی دیکھ بھال ان دونوں پر منجانب اللہ فرض ہے ۔
یہی حکم اس صورت میں ہے کہ والدہ کی خواہش یہ ہو کہ وہ اجرت پر کسی بچے کو کسی کا دودھ پلائے۔ بشرطیکہ بچے کا مفاد اس میں ہو ، بشرطیکہ وہ دودھ پلانے والی کو طے شدہ اجرت ادا کرے ۔ اور اس کے ساتھ بھی حسن سلوک اختیارکرکے ۔ وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلادَكُمْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ ” اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کردو ، معروف طریقے سے ادا کرو۔ “ یہ ادائیگی اس بات کی ضمانت ہوگی کہ دودھ پلانے والی بچے کے ساتھ اچھا سلوک رکھے گی ۔ اس کی خدمت کرے گی اور اس کی ہر ضرورت کو پوری کرے گی ۔ اور آخر کار پھر اس سارے معاملہ کو اللہ کے ساتھ وابستہ کردیا جاتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ وابستہ کردیا جاتا ہے۔ اس گہرے اور لطیف شعور سے وابستہ کردیا جاتا ہے ، جو وہ کام کرسکتا ہے جو دوسرے ذرائع سے نہ کیا جاسکتا ہو یا نہ کرایا جاسکتا ہو وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ” اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ کام تم کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے۔ “ یہ ہے وہ آخری ضمانت ۔ پختہ گارنٹی اور یہی وہ آخری ضمانت ہے جو قابل اعتماد ہے ۔
مطلقات یعنی مطلقہ عورتوں کے بارے میں احکام بیان کرنے اور طلاق کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاملات کے بارے میں قانون سازی کے بعد ، اب اس عورت کا حکم بیان ہوتا ہے ، جس کا خاوند فوت ہوجائے ۔ اس کی عدت کا حکم ، عدت کے اختتام کے بعد اسے نکاح ثانی کی پیشکش دینے کے بارے میں اور دوران عدت کنایوں سے خواہش نکاح کرنے کے سلسلے میں احکام :
Ayah 2:234دور جاہلیت میں ، جس عورت کا خاوند فوت ہوجاتا ، وہ بیچاری سخت مصیبت میں مبتلا ہوجاتی ۔ اہل خاندان ، مرد کے اہل خاندان اور پورا معاشرہ اس پر ظلم کرتا ۔ عربوں میں رواج یہ تھا کہ جب اس کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ ایک خستہ حال مکان میں چلی جاتی ، سب سے بےکار کپڑے پہن لیتی ۔ وہ ایک سال تک خوشبو نہ لگاسکتی اور نہ ہی زیب وزینت کا کوئی کام کرسکتی ۔ اس کے بعد یہ زمانہ جاہلیت چند جاہلانہ رسومات کی ادائیگی پر ختم ہوجاتا ، جو سب کی سب توہین آمیز اور گری ہوئی تھیں ۔ جیسا کہ جاہلیت کی دوسری رسومات ہوا کرتی تھیں ۔ مثلاً وہ اونٹ کی مینگنی لیتی اور اسے پھینکتی ۔ کسی سواری مثلاً گدھے یا بکری پر سوار ہوتی وغیرہ وغیرہ لیکن جب اسلام آیاتو اس نے اس بیچاری کو ان تمام مصیبتوں سے چھڑایا۔ اس کے کندھوں سے یہ تمام بوجھ اتاردیئے ۔ اس کے بعد وہ بیک وقت دومصیبتوں میں گرفتار نہ ہوتی ، ایک تو خاوند فوت ہوجائے اور دوسرے اہل خاندان اس کے ساتھ برا سلوک کریں۔ اس پر شریفانہ زندگی کے تمام دروازے بند کردیں اور مطمئن ہوکر عائلی زندگی گزارنے کے لئے آزاد نہ ہونے دیں ۔ اسلام نے اس کی عدت چار ماہ اور دس دن مقرر کئے بشرطیکہ حاملہ نہ ہو ، ورنہ اس کی عدت وضع حمل ہوگی ، یہ عدت مطلقہ کی عدت سے قدرے طویل ہے ۔ اس میں ایک طرف تو اس کا رحم صاف ہوگا ۔ یہ شبہ نہ رہے گا کہ سابق خاوند کے کچھ آثار اس میں ہیں ۔ اور چار ماہ دس دن کے انتظار میں یہ فائدہ بھی ہوگا کہ خاوند کے اہل خاندان کے جذبات بھی مجروح نہ ہوں گے ، کیونکہ ادہر خاوند فوت ہوا ، ادہر عورت دوسرے خاوند کی تلاش میں نکل پڑے تو خاوند کے اہل خاندان لازماً اسے محسوس کریں گے ۔ اس عدت کے دوران میں اچھے کپڑے زیب تن کرنے کی اجازت ہوگی ، البتہ وہ ایسے کپڑے نہ پہنے گی جن کی وجہ سے لوگ اسے نکاح ثانی کا پیغام دیں۔ اور جب عدت ختم ہوجائے تو اب وہ مکمل آزاد ہے ، اس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے ، نہ اس کے اپنے خاندان کی طرف سے اور نہ ہی اس کے خاوند کے خاندان کی طرف سے۔ وہ معروف طریقے سے اپنے لئے جو شریفانہ رویہ اختیار کرنا چاہے ، قرآن وسنت کے مطابق وہ آزادانہ طور پر اپنے لئے اختیار کرسکتی ہے۔ مسلمان عورتوں کے لئے وہ زیب وزینت جائز ہے وہ اسے اختیار کرسکتی ہے وہ پیغام نکاح حصول کرسکتی ہے۔ وہ جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔ اب اس کی راہ میں کوئی جاہلی رسم رکاوٹ نہیں ہے ۔ اور نہ کوئی کھوٹا تکبر و غرور اسے روک سکتا ہے۔ اب اس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی رقیب ونگراں نہیں ہے وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ” جو تم کام کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔ “
Ayah 2:235یہ تو تھی عورت ۔ اب اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی ہدایات دیتے ہیں جو اس عورت کو نکاح میں لانا چاہتے ہیں ، لیکن وہ عدت گزاررہی ہے ۔ ان کو ایسی ہدایت دی جاتی ہے کہ جس میں ذاتی آداب ، اجتماعی آداب ، فریقین کے جذبات ومیلانات اور ایسے مرحلے کے مصالح اور تقاضوں سب کو ملحوظ رکھا گیا ہے :
وَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ ” زمانہ عدت میں خواہ تم ان بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کردو ، خواہ وہ دل میں چھپائے رکھو ، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “
دوران عدت عورت کے ساتھ ، میت کے خاندان کی کچھ ایسی یادیں وابستہ ہوتی ہیں ، جو ابھی تک زندہ ہوتی ہیں ۔ پھر ابھی تک اس بات کا امکان بھی ہوتا ہے کہ اس کے رحم میں حمل کے آثار نمایاں ہوجائیں یا حمل واضح ہے اور عدت وضع حمل تک متعلق ہے۔ یہ تمام حالات ایسے ہیں ، جن میں کوئی شریف عورت مناسب نہیں سمجھتی کہ بصراحت جدید ازدواجی زندگی کے سلسلے میں کوئی بات کرسکے ، کیونکہ ایسے حالات میں ایسی باتوں کا ہونا مناسب نہیں ہوتا ۔ اس طرح عورت کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ابھی یادیں تازہ تازہ ہوئی ہیں۔
ان آداب کا لحاظ کرتے ہوئے ، اشارے ، کنایے میں بات کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے ، لیکن بصراحت کوئی معاملہ طے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اشارہ ایسا ہو کہ اس سے عورت یہ سمجھ جائے کہ یہ مرد اسے بحیثیت رفیقہ حیات لینے میں دلچسپی رکھتا ہے ، لیکن کنایات میں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس اشارے کنایے کی یہ مثال بیان کی ہے ۔ مجھے ایک رفیقہ حیات کی ضرورت ہے ۔ مجھے عورتوں سے دلچسپی ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی صالح رفیقہ حیات مل جائے۔
اسی طرح قرآن کریم نے دلی رغبت اور خواہش کی بھی کوئی ممانعت نہیں کی ہے۔ بشرطیکہ اس کی کوئی صراحت نہ کی گئی ہو اور نہ ہی اشارہ کنایہ سے ظاہر کی گئی ہو۔ اس لئے کہ دلی خواہش پر انسان کوئی ضبط نہیں کرسکتا۔ دل پر کوئی کنٹرول کس طرح کرسکتا ہے :
عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ ” اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی۔ “
یہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے جائز قرار دیا ہے کہ یہ فطری میلان ہے ۔ اور بذات خود نکاح جائز ہے ۔ اس میں کسی قسم کی ممانعت نہیں ہے ۔ یہاں بعض خارجی اسباب کی بناپر اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ بصراحت شادی کا پیغام دوران عدت میں نہ دیا جائے ۔ کوئی عملی قدم نہ اٹھایا جائے ۔ اسلام فطری میلانات کا قلع قمع کرنا نہیں چاہتا ۔ بلکہ وہ انہیں تہذیب کے دائرے میں لاتا ہے اور ان کی اصلاح کرتا ہے ۔ وہ انسان کے طبیعی جذبات کو دباتا نہیں بلکہ ان کی ضابطہ بندی کرتا ہے۔ اس معاملے میں وہ صرف ایسی پابندیاں عائد کرتا ہے جو شعور کی پاکیزگی کے خلاف ہوں اور جو ضمیر کی طہارت کے منافی ہوں : وَلَكِنْ لا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا ” مگر ان کے ساتھ خفیہ عہد وپیان نہ کرو۔ “ اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا کہ تم منگنی کی طرف اشاروں کنایوں میں عورت کی توجہ مبذول کردو۔ یا تم دل ہی دل میں نکاح کی خواہش رکھو ۔ ممنوع یہ ہے کہ تم خفیہ طور پر عدت گزارنے سے پہلے ہی نکاح کا کوئی معاہدہ کرلو۔ یہ فعل آداب نفسیات کے خلاف ہے ، سابقہ خاوند کی یادوں کو مجروح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کے دو ادوار کے درمیان عرصہ عدت کو حد فاصل رکھا ہے ، ہمیں ایسا کرنے سے حیاء آنا چاہئے اور ایسا کرنے سے انقضائے عدت تک باز رہنا چاہئے إِلا أَنْ تَقُولُوا قَوْلا مَعْرُوفًا ” اگر کوئی بات کرنی ہے تو معروف طریقے سے کرو۔ “
جس میں کوئی ناپسندیدہ بات نہ ہو ، کوئی فحش بات نہ ہو اور کوئی ایسی بات نہ ہو ، جس کے ذریعے اللہ کے وہ حدود ٹوٹتے ہوں ، جو اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں ولا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ” اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے ۔ “ یہاں قرآن مجید کے الفاظ قابل غور ہیں ۔ یہ نہیں کہا :” تم نکاح نہ کرو “ یا ” عقد نکاح نہ باندھو “ بلکہ یہ کہا ہے :” عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ نہ کرو۔ “” مقصد یہ ہے کہ دوران عدت عقد نکاح باندھنے سے سخت گریز کرو۔ یہاں تک کہ اس کا فیصلہ بھی نہ کرو۔ “ کیونکہ فیصلہ عقد کے نتیجے ہی میں عقد وجود میں آتا ہے ، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ۔
قرآن مجید کی اس قسم کی لطیف طرز ادا کی طرف ہم اوپر آیت تِلکَ حُدُودُاللّٰہِ فَلَا تَقرَبُوھَا ” یہ اللہ کی حدیں ہیں ، ان کے قریب ہی نہ جاؤ۔ “ میں بیان کر آئے ہیں ۔ یعنی قرآن مجید محض ایک لفظ کے انتخاب کے ذریعہ ایک ایسے مفہوم کی طرف اشارہ کردیت ہے جو نہایت ہی لطیف ودقیق ہوتا ہے وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ ” خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرو۔ “ یہاں آکر قرآن مجید اپنے منہاج کے عین مطابق قانون سازی اور اللہ خوفی کو باہم مربوط کردیتا ہے ، بتاتا ہے کہ اللہ جو قانون بنارہا ہے وہ تمہارے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے ۔ مرد وزن کے باہمی تعلقات کا گہرے میلانات اور خفیہ جذبات سے گہرا تعلق ہے ۔ اس تعلق میں دل کو دل سے ربط ہوتا ہے ، ایک دوسر کی محبت دلوں کی تہوں تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے ۔ اس لئے یہاں انہیں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اللہ تو تمہارے ہر راز سے واقف ہے ۔ تمہارے دلی بھیدوں کا جاننے والا ہے ۔ خبرداررہو ! اس سے ڈرو ! اور اللہ کے حدود اور اللہ کے قانون کے سلسلے میں تمہاری حیلہ سازی یا کوئی بات خفیہ اور راز ، اس کے مقابلے میں نہ رہ سکے گی ۔ خبردار !
اب تک انسانی ضمیر کو خوف دلا کر متنبہ کرکے جھنجھوڑ دیا گیا ، وہ جاگ اٹھا اور اس کے اندر احتیاط اور اللہ خوفی پیدا کردی گئی ۔ تو خدائے رحیم شفیق وکریم دیر کئے بغیر خود اسے تسلی بھی دے دیتے ہیں ، اطمینان قلب کا سامان بھی فراہم کردیا جاتا ہے ۔ یقین دلایا جاتا ہے کہ وہ تو غفور ورحیم ہے ۔ وہ نہایت بردبار ہے اور سزا دہی میں جلدی نہیں کرتا ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ” اور جان لو کہ اللہ بردبار ہے ، چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر فرماتا ہے۔ “ وہ تو بخشنے والا ہے اور اس دل کی خطا معاف کردیتا ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ کا شعور ہو ، جو اپنی پوشیدہ اور نہفتہ بھیدوں کے بارے میں محتاط ہو ۔ وہ حلیم اور بردبار ہے ۔ سزا دہی میں جلدی نہیں کرتا ، اس انتظار میں کہ بیچارہ بندہ عاجز بندہ ، شاید باز آجائے اور توبہ تائب ہوجائے۔
سلسلہ عائلی احکام جاری ہے ، اب اس عورت کے احکام آتے ہیں جس کو رخصتی سے پہلے طلاق دے دی جائے ۔ یہ صورت ان سے مختلف ہے ، جن میں مطلقہ عورتوں کے ساتھ شب باشی ہوچکی ہو ، جن کا بیان پوری طرح ہوچکا ہے ۔ یہ ایسی صورت ہے جو اکثر بیشتر آتی رہتی ہے ، اس صورت میں حقوق الزوجین یہ ہیں :
Ayah 2:236اس میں دوحالتیں ہیں ۔ پہلی حالت یہ ہے مطلقہ کو اپنی وسعت کے مطابق کچھ سازوسامان دے ۔ اس سے تو ایک تو عورت کی دلجوئی ہوگی اور نفسیاتی طور پر دونوں خاندانوں کے درمیان خوشگواری پیدا ہوگی اور دوسرے یہ کہ اسے کچھ نہ کچھ مالی فائدہ ہوگا۔ اس طرح کی جدائی سے عورت اپنے لئے کرب اور درد محسوس کرتی ہے ۔ یہ اس کے لئے عمر بھر کا طعنہ اور دشمنی بن جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں اگر اسے بطور تحفہ کچھ دے دے تو اس سے نفسیاتی طور پر اس عورت کے برے احساسات میں کمی آسکتی ہے اور دونوں خاندانوں کے درمیان کشمکش ، کشیدہ تعلقات کے بادل چھٹ سکتے ہیں اور یہ تحفہ اس قسم کا اظہار محبت ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی اعتراف جرم اور معذرت بھی ۔ اس سے خود مرد کی جانب سے بھی اس بات کا اظہار ہوگا کہ وہ خود بھی اس طلاق اور جدائی پر متاسف ہے ، معذرت خواہ ہے ۔ یہ کہ یہ باہمی تعلقات کی یہ ایک ناکام کوشش تھی لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے باہمی حسن سلوک کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا جائے ۔ اس لئے یہاں وصیت کی گئی کہ اس صورت میں عورت کو کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے معروف طریقے کے مطابق تاکہ فریقین کے درمیان انسانی بنیادوں پر انس و محبت قائم رہ سکے اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کی اچھی یادیں باقی رہیں ۔ لیکن قرآن مجید ساتھ ساتھ یہ ہدایات بھی کردیتا ہے کہ خاوند پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ غنی اپنی مقدرت کے مطابق اور نادار آدمی اپنی وسعت کے مطابق دے عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ ” خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق۔ “
اشارہ کیا جاتا ہے کہ یہ تحفہ معروف طریقے کے مطابق احسان سے ہوتا ہے کہ خشک دلوں میں تازگی پیدا ہوجائے اور باہمی تعلقات کی فضا پر جو گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ چھٹ جائیں ۔ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ ” یہ تحفہ ہے معروف طریقے کے مطابق اور یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ “
Ayah 2:237دوسری صورت یہ ہے کہ مباشرت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے ، لیکن نکاح کے ساتھ مہر بھی مقرر کردیا گیا ہو ۔ اس صورت میں مہر کا نصف حصہ واجب ہوگا ۔ یہ تو ہے قانون ، لیکن قرآن مجید قانون کے بجائے معاملہ مہربانی حسن سلوک اور سہولت پر چھوڑ دیتا ہے ۔ عورت اور اگر وہ بالغ ہے تو اس کے ولی نکاح کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ معاف کرے اور اپنے قانونی حق سے دستبردار ہوجائے ۔ ایسے کشیدہ حالات میں جو فریق اپنے حق سے دستبردار ہوجاتا ہے ، دراصل بہت ہی شریف النفس ، خوش اخلاق ، بردبار اور معاف کرنے والا ہوتا ہے ۔ وہ کسی ایسے شخص کے مال کو بھی اسی کے پاس رہنے دیتا ہے ، جس کے ساتھ اب دوسرے تعلقات باقی نہیں رہے ۔ لیکن قرآن مجید آخر تک اس کوشش میں ہے کہ ان کے درمیان کدورتیں صاف ہوجائیں ۔ ان میں کوئی کدورت نہ رہے اور دل ہلکے ہوجائیں وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ” اور اگر تم نرمی سے کام لو تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسب ہے ۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو ، تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ “
سب سے آخر میں تقویٰ کے احساس کو تیز کیا جاتا ہے ۔ باہمی حسن سلوک اور احسان کے رویہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ اپنے دلوں میں یہ شعور پیدا کرو کہ اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے اور نگران ہے تاکہ تمہارے باہمی تعلقات میں حسن سلوک ، نرمی اور احسان کی فضا غالب رہے ، چاہے تعلقات رشتہ داری کامیاب ہوں یا ناکام ہوچکے ہوں ۔ دلوں کو صاف اور خالی رہنا چاہئے اور ہر حال میں تعلق باللہ قائم اور پختہ رہنا چاہئے ۔
مندرجہ بالا تمام احکام میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ دلوں کا رابطہ اور تعلق باللہ مضبوط ہوجائے اور یہ سعی کی گئی ہے کہ باہمی معاشرت میں نیکی اور احسان کو عبادت سمجھا جائے ، ایسی فضا کے عین بیچ میں نماز کا ذکر کردیا جاتا ہے جو اسلام کی سب سے بڑی اور اہم عبادت ہے ۔ حالانکہ ابھی تک عائلی احکام کا بیان جاری تھا اور وہ ختم نہ ہوئے تھے ۔ ابھی ایک حکم یہ باقی تھا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے ۔ اس کے حق میں یہ وصیت کی جائے کہ اسے ایک سال تک گھر سے نہ نکالاجائے اور نان ونفقہ دیا جائے ۔ دوسرا یہ کہ مطلقہ عورتوں کو بالعموم کچھ نہ کچھ سامان بطور تحفہ دے دیاجائے ۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جس طرح نماز ایک عبادت ہے اس طرح ان احکام پر عمل کرنا عبادت ہے ۔ یہ دونوں امور اللہ کی بندگی میں آتے ہیں ۔ یہ ایک بہت ہی لطیف اشارہ ہے اور یہ اشارہ انسان کی تخلیق کے بارے میں ہے ، اسلامی نقطہ نظر کے عین مطابق ہے ۔ اللہ انسان کے بارے میں فرماتے ہیں وَمَاخَلَقتُ الجِنَّ وَالاِنسَ اِلَّا لِیَعبُدُونِ ” میں نے جن وانس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں ۔ “ (عبادت اور بندگی صرف ان چیزوں میں نہیں ہے جو شعائر عبادات ہیں بلکہ ہر وہ کام عبادت ہے جس میں انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کا مقصد ، اس کام سے صرف یہ ہو کہ اللہ کی اطاعت کی جائے۔ )
Ayah 2:238یہاں حکم دیا جاتا ہے نماز کی حفاظت کرو ۔ یعنی اسے اپنے وقت پر ، تمام ارکان نماز صحیح ادا کرتے ہوئے تمام شرائط پوری کرتے ہوئے ادا کرو۔ راحج قول یہ ہے کہ صلوٰۃ وسطی سے نماز عصر مراد ہے ۔ یوم احزاب کے موقع پر رسول ﷺ نے فرمایا :” ہمیں ان لوگوں نے درمیانی نماز سے مشغول کردیا ، نماز عصر سے ، اللہ ان کے گھروں اور دلوں کو آگ سے بھردے۔ “ نماز عصر کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا گیا کہ اکثر اوقات قیلولہ کے بعد نماز آتی ہے اور اس کے قضا ہونے یا موخر ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔
راحج قول یہ ہے کہ قنوت کے معنی عاجزی اور خشوع کے ہیں ۔ نماز میں اس کی یاد کی طرف یکسو ہوجانے کا مفہوم بھی اس میں داخل ہے ۔ ایک وقت تک سخت ضرورت کے وقت مسلمان ، نماز کے دوران ، ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرلیا کرتے تھے ۔ اس آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں نے جان لیا کہ اللہ کے ذکر ، خشوع اور یکسوئی کے سوا کوئی اور شغل نماز کے دوران جائز نہیں ہے ۔
اگر حالت خوف وخطر کی ہو اور ممکن نہ ہو کہ قبلہ رخ ہوکر نماز ادا کی جاسکے تو بھی نماز ادا ہوگی ۔ اسے موقوف نہ کیا جائے گا۔ اگر کوئی سواری پر سوار ہے یا کوئی خطرے کی حالت میں ہے مدافعت پر مامور ہے تو اس کے لئے جس طرح ممکن ہو ، اس طرف منہ کرکے پڑھ لے ۔ اشارے سے پڑھے اور رکوع و سجود کے لئے خفیف اشارہ کرے ۔ یہ نماز اس سے مختلف ہے ، جسے صلوٰۃ الخوف کہا جاتا ہے ۔ اور جس کی تفصیل سورت نساء میں بیان کی گئی ہے ۔ وہ نماز ایسی حالت میں ادا ہوتی ہے ، جہاں ایسے حالات ہوں کہ مسلمانوں کا صف میں کھڑا ہونا ممکن ہو ، یوں امام کھڑا ہو اور ایک صف آکر ایک رکعت پڑھ لے ۔ پھر دوسری صف آجائے اور وہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے ۔ اور دوسری صف اس کی حفاظت میں کھڑی رہے ۔ یہاں جس نماز کا ذکر کیا گیا ہے ، اس سے مراد وہ نماز ہے ، جو ایسے حالات میں ادا کی جارہی ہو جہاں جنگ عملاً شروع ہو ، تلواریں چل رہی ہوں ، فائرنگ ہورہی ہو اور صف بستہ ہونا ممکن نہ ہو۔
یہ ایک عجیب بات ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کی اہمیت کتنی زیادہ ہے ۔ مسلمانوں کو یہاں اشارہً بتایا جاتا ہے کہ خوف اور شدائد جنگ کی انتہائی حالت میں بھی نماز پڑھنی چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر خوف میں ، عین جنگ کے وقت ، تلوار ہاتھ میں ہو بلکہ دشمن کی تلوار سر پر ہے ، لیکن نماز کی ادا ہورہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز مرد مومن کا اسلحہ ہے ، اس کا سامان جنگ ہے ۔ وہ مومن ایک دفاعی تدبیر ہے ۔ ایسے حالات میں مومن نماز میں کھڑا ہوجاتا ہے تو وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور یہی وقت ایسا ہوتا ہے جس میں اللہ تک پہنچنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسے ماحول میں ، جس میں انسان چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہو ، اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔
کیا خوب دین ہے ہمارا ۔ یہ عبادت کا نظام ہے ۔ مختلف شکلوں اور مختلف عنوانوں سے عبارت ، جن میں نماز ایک جلی سرخی ہے ۔ اس عبادت کے ذریعے یہ دین ، انسان کو بلند مقام تک پہنچاتا ہے ۔ اس عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مومن کو شدائد کے وقت ثابت قدم کردیتا ہے ۔ اس عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ، امن وامان کے دور میں ایک مومن کو مہذب بنادیاتا ہے۔ اس عبادت ہی کے ذریعہ ایک مومن پورے کا پورا ایک ایسی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے جو امن و سکون کی دنیا ہے ۔ جہاں اس پر اطمینان اور سلامتی کی بارش ہوجاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس عبادت کی سخت تاکید عین ایسے حالات میں بھی کی جاتی ہے جبکہ تلواریں سروں کو کاٹ رہی ہوں اور گردنوں کو اڑارہی ہوں ۔
Ayah 2:239اور اگر بالکل امن وامان کی حالت ہوجائے تو پھر نماز وہی ہے ، جس کی تعلیم دی ہے اور مزید انہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا چاہئے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان باتوں کی تعلیم دی جن سے وہ واقف نہ تھے : فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ” اور جب امن میسر آجائے تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو ، جو اس نے تمہیں سکھایا ہے ۔ جس سے پہلے تم واقف نہ تھے۔ “ لوگ جانتے ہی کیا تھے ، اگر اللہ تعالیٰ انہیں نہ سکھاتا ، اگر اللہ تعالیٰ زندگی کے ہر موڑ پر لمحہ لمحہ ان کی راہنمائی نہ فرماتا۔
ازدواجی زندگی کے احکام اور طلاق کے احکام کے دوران ، نماز کی یہ سرسری بحث بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس سے مقصود مسلمانوں کے دل میں عبادت اور بندگی کا وہ جامع تصور بٹھانا ہے جو اسلامی نظام زندگی کا اصل الاصول ہے یعنی امتثال امر عبادت ہے چناچہ پھر اصل موضوع یعنی عائلی احکام کو یہاں مکمل کردیا جاتا ہے :
Ayah 2:240پہلی آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو ، اپنی وفات سے پہلے وہ اپنی عورت کے بارے میں ضرور یہ وصیت کرجائے کہ اسے گھر سے ایک سال کے عرصہ تک کم ازکم نہ نکالاجائے اور ایک سال تک اسے اجازت ہو کہ وہ اس کے مال سے اخراجات کرے۔ گھر سے نہ نکلے اور اگر وہ مناسب سمجھتی ہے کہ اس کے حالات ابھی نکاح ثانی کے لئے مناسب نہیں یا اس کے جذبات ابھی تک مجروح ہیں تو ایک سال تک گھر میں رکی رہے ۔ لیکن یہ حق عورت کا ہے اور چار ماہ دس دن کی عدت گزارنے کے بعد بہرحال وہ آزاد ہوجاتی ہے اور اگر وہ گھر سے نکلنا چاہے تو نکل سکتی ہے کیونکہ عدت تو اس پر فرض ہے اور گھر میں رہنا اس پر فرض نہیں ہے بلکہ یہ اس کا حق ہے جس کا استعمال کرنا اس پر لازمی نہیں ہے ۔ بعض مفسرین نے یہ کہا کہ یہ آیت ، آیت عدت کے ذریعہ منسوخ ہوگئی ہے ۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نسخ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دونوں آیات کے محل میں اختلاف ہے ۔ جیسا کہ ہم کہہ آئے ہیں عدت اس کے ذمہ ایک فریضہ ہے ، جو اس نے ادا کرنا ہے اور ایک سال کا عرصہ اس کا حق ہے جس کا استعمال کرنا اس پر لازم نہیں ہے ۔
فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ ” پھر اگر وہ خود نکل جائیں ، تو اپنی ذات کے معاملے میں ، معروف طریقے سے ، وہ جو کچھ بھی کریں ، اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ۔ “ علیکم (تم پر) سے مراد مسلمانوں کا اجتماعی نظام ہے ، جو ہر فعل کا ذمہ دار ہے جو اسلامی معاشرہ میں وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی میں ، ہر نظریے کا معاملہ ، ہر فرد کا معاملہ ، اور ہر واقعہ کی ذمہ داری معاشرے پر ہے ۔ اگر اسلامی معاشرے میں بھلائی ہو یا برائی دونوں کا اجر اور باز پرس اسلامی معاشرے سے بھی ہوگی۔ اسلامی جماعت کی حقیقت اور اس کے فرائض کی نوعیت کا اندازہ اس اشارے سے بھی اچھی طرح ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک اسلامی کا قیام ضروری ہے تاکہ اسلامی نظام زندگی کا قیام عمل میں آسکے ۔ قیام کے بعد پھر اس نظام کی حفاظت کی جاسکے اور یہ نگرانی ہوتی رہے کہ اسلامی معاشرے کا کوئی فرد اس نظام کی خلاف ورزی یا اس سے بغاوت کا ارتکاب تو نہیں کررہا ہے ۔ اس لئے کہ افراد جماعت کے ہر چھوٹے بڑے کام کی آخری مسؤلیت اسلامی جماعت ہی کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے ۔ یہاں لفظ ” تم پر “ استعمال کرکے اس حقیقت کو اسلامی جماعت کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ حقیقت اسلامی جماعت اور اس کے ہر فرد کے حس و شعور میں اچھی طرح جاگزیں ہوجائے اور آخری تبصرہ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” اللہ مقتدر اعلیٰ ودانا ہے۔ “ وہ مقتدر اعلیٰ ہے اس لئے اسے حق ہے جو قانون بنائے لیکن جو قانون بنائے گا ، حکیمانہ ہوگا۔ مقتدر ہے ، صاحب قوت ہے ، نافرمانی پر تمہیں سزا دے سکتا ہے ۔
Ayah 2:241دوسری آیت میں اللہ خوفی کی دعوت دیتے ہوئے حکم دیا گیا کہ ہر مطلقہ عورت کو رخصت کرتے وقت کچھ نہ کچھ سامان ضرور دیا جائے : وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ” جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر ۔ “
بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ چونکہ مطلقات کے بارے میں سابقہ آیات میں تفصیلی احکام آچکے ہیں ، اس لئے یہ آیت ان آیات کی وجہ سے منسوخ تصور ہوگی ۔ لیکن یہاں اسے منسوخ سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اس لئے کہ متاع یعنی کچھ نہ کچھ دے دینا نفقات واجبہ سے علیحدہ ایک چیز ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن مجید نے جو احکامات اب تک دیئے ہیں ، ان کی حقیقت پر غور کیا جائے تو ہر مطلقہ عورت کے لئے تحفہ کیے طور پر کچھ نہ کچھ دئیے جانے کی گنجائش رکھنا اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے ۔ چاہے اس کے ساتھ مباشرت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ اس کا مہر مقرر کیا گیا ہو یا مقرر نہ کیا جاسکا ہو۔ اس لئے طلاق کی وجہ سے فریقین کے تعلقات میں خشکی پیدا ہوجاتی ہے ، دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف وحشت اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے ، چناچہ ایسے موقع پر اس قسم کے حسن سلوک سے تعلقات میں تازگی پیدا ہو سکتی ہے ، دلوں کی باہمی وحشت دور ہوسکتی ہے ۔ یہ واحد گارنٹی ہے ، جس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اور جس سے جماعت مسلمہ کے تعلقات درست ہوسکتے ہیں۔
Ayah 2:242اب تیسری آیت اس میں ان تمام عائلی احکام پر تبصرہ ہے جو اس پورے سبق میں بیان کئے گئے ہیں ۔ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ” اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے ، امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کروگے۔ “
اسی طرح اس بیان کی طرح جو اس پورے سبق میں بیان احکام کے سلسلے میں تمہاری نظروں سے گزرا ، جو محکم ، دقیق ، الہامی اور اثر انگیز بیان ہے ۔ اس طرح ، اللہ صاف صاف اپنے احکام بیان کرتا ہے ، اس امید پر کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لوگے ، تمہیں عقل آجائے اور تم ان احکام میں تدبر کروگے ، غور وفکر سے کام لوگے ، ان کی تہہ میں جو حکمت کارفرما ہے اسے پانے کی کوشش کروگے ۔ ان میں اللہ کی شان رحمت جو جھلک ہے اسے دیکھ سکوگے ، ان میں تمہارے لئے جو انعامات پوشیدہ ہیں انہیں جان سکوگے ۔ سہولت اور تیسیر کی نعمت ، سادگی اور صفائی کی نعمت ، پختگی اور قطعیت کی نعمت اور پھر ان کی وجہ سے پوری زندگی پر امن وسلامتی کی موسلا دھار بارش کی نعمت ۔
اے کاش ! لوگ اسلامی نظام کو سمجھتے ۔ کاش ! وہ اس پر غور کرتے ۔ اگر وہ اسے صحیح طرح سمجھتے تو ان لوگوں کا اسلامی نظام سے وہ تعلق نہ ہوتا جو آج ہے ، بلکہ وہ اسلامی نظام کے مطیع ہوجاتے ، اس کے ہر حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ، ان کے دل قبولیت کے لیے ہر وقت تیار ہوتے ، ان کے دل اس کی ہر ہدایت پر راضی ہوتے اور ان کے قلوب اور ان کی روح ، امن وسلامتی اور یقین اطمینان سے بھر جاتے ۔ کاش ! کہ وہ سوچتے کاش کہ وہ سمجھتے ۔