Ayah 2:167کاش وہ اس منظر کو دیکھ سکتے کہ پیشوا اپنے مریدوں سے بےتعلقی کا اظہار کررہے ہیں ۔ انہوں نے عذاب خود دیکھ لیا ہے ۔ ان کے درمیان تعلقات اور دوستیاں ختم ہوچکی ہیں ۔ پیشوا ہے کہ مرید دونوں نفسا نفسی کی حالت میں ہیں ۔ وہ قیادت اور ریاست ڈھیر ہوگئی جس کی وجہ سے پیروکار ان کے پیچھے بھاگتے تھے ۔ قائدین کو خود اپنی پڑی ہے ۔ وہ پیروؤں کی عزت پر کیا توجہ کریں ، ان کو کس طرح بچائیں ۔ اب تو الٰہ واحد کی حقیقت اور طاقت ظاہر ہوچکی ہے ۔ اب تو ان کے سامنے صرف ایک ہی قدرت ہے ۔ گمراہ قیادتوں کا جھوٹ ، ان کی کمزوری اور اللہ کے سامنے ان کا عجز اور عذاب الٰہی کے سامنے ان کی سراسیمگی اور بےبسی سب پر ظاہر ہوچکی ہے ۔ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ” اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے ، کہیں گے کاش کہ ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزار ظاہر کررہے ہیں ، ہم ان سے بیزار ہوکر دکھادیتے ۔ “ وہاں یہ فریب خوردہ پیروکار اپنی گمراہ قیادت پر سخت غیض وغضب کا اظہار کریں گے ۔ وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ایک موقع ہمیں اور مل جاتا اور ہم زمین پر دوبارہ لوٹادیئے جاتے تاکہ اپنی کمزور اور ناکارہ دھوکہ باز قیادت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ۔ کیا وہ ہولناک منظر ہے یہ ، قائد اور پیروکار ایک دوسرے پر تبرّا بھیج رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے ہیں ۔ کل کے دوست آج سخت دشمن ہیں ۔ ان کے اس حسرتناک انجام پر یہ نتیجہ بیان کیا جاتا ہے۔ كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ” یوں اللہ ان لوگوں کے اعمال ، جو یہ دنیا میں کررہے ہیں ، ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے ۔ مگر آگ سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ۔ “
اب بتادیا جاتا ہے کہ زندگی کی پاک چیزوں سے فائدہ اٹھاؤ، ناپاک اور خبیث چیزوں سے دور رہو ، خبردار ! شیطان کی اطاعت نہ کرو ، وہ تو ہر وقت ناپاک چیزوں کی طرف پکارتا ہے ۔ شیطان بعض چیزوں کو اللہ کی طرف سے حلال قرار دیتا ہے اور بعض کو حرام قرار دیتا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اسے تحلیل وتحریم اور قانون سازی کا اختیار ہرگز نہیں دیا ۔ (مسلمانوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنے عقائد ونظریات کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور ذریعے سے راہ نمائی حاصل نہ کریں۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر ، ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ سمجھتی ہیں ۔ ان کے اس احمقانہ فعل پر تنبیہ کی جاتی ہے ۔ یوں ان آیات کا فصل سابق کی آیات کے ساتھ معنوی ربط بھی واضح ہوجاتا ہے ۔
Ayahs 2:168–169سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ وہی ایک معبود اور اللہ ہے ۔ وہی ایک خالق ہے اور جو لوگ دوسروں کو اللہ ہمسر بناتے ہیں ۔ ایک شدید ان کا منتظر ہے ۔ اب یہاں بیان کیا جاتا ہے کہ اپنے بندوں کا رازق بھی وہی ہے۔ حلال و حرام کے بارے میں قانون سازی کا اختیار بھی اسی کو ہے اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ وحدت الوہیت کا یہ قدرتی ثمرہ ہے ۔ جس ذات نے پیدا کیا ہے اور پھر پرورش کی ، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ حلال و حرام کے معاملے میں قانون سازی کرے اور قانون سازی اور نظریات عقائد سے ہم آہنگ ہو۔ اس فقرے میں اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھاؤ، سوائے ان کے جنہیں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ حرام و حلال کے تعین میں صرف اللہ تعالیٰ سے راہ نمائی حاصل کرو اور ان معاملات میں سے کسی ایک میں بھی شیطان کی پیروی نہ کرو ۔ وہ تو تمہارا دشمن ہے ۔ وہ ہرگز تمہیں نیکی کا حکم نہیں دے سکتا۔ وہ تو تمہیں غلط تصورات دیتا ہے۔ غلط افعال کی ترغیب دیتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان خود اپنی مرضی سے بعض چیزوں کو حلال قرار دے اور بعض کو حرام ۔ حالانکہ اس پر اللہ کی جانب سے کوئی دلیل وسند نہ ہو اور اس پر مستزاد یہ کہ ایسے انسان کو یہ زعم بھی ہو کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہ عین شریعت کے مطابق ہے ۔ جیسا کہ یہود مدینہ اور مشرکین مکہ اپنے عقائد ونظریات اور افعال و اعمال کے بارے میں کرتے تھے۔
(یہ حکم کہ زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے جائز ومباح ہیں ۔ الا یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ایک سادہ اور وسیع نظریہ ہے ۔ وہ اس کائنات کے مزاج اور پھر اس میں بسنے والوں کے مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو پیدا انسان کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس کے لئے ان کا استعمال جائز قرار دیا ہے اور یہ کہ کسی چیز کے بارے میں ممانعت کا کوئی حکم آیاہو ، یا یہ کہ کوئی حکم نہ بھی ہو تو بھی یہ عام حکم موجود ہے کہ کسی چیز کا استعمال حد اعتدال سے زیادہ نہ ہو ۔ لیکن اصل پالیسی یہ ہے کہ دنیا کی تمام پاک چیزوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے ، تقاضائے فطرت کے عین مطابق ، تنگی ، سخت گیری اور ناجائز پابندیوں کے بغیر ۔ صرف ایک شرط ضرور ہے وہ یہ لوگوں کے لئے کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے ؟ اس کا فیصلہ صرف اللہ کے پاس ہو ، کیونکہ اللہ ہی نے ان طیبات کو پیدا کیا ہے ، لہٰذا حلال و حرام کے احکامات وہ اس شیطان سے اخذ نہ کریں جو ان کا بین دشمن ہے ۔ وہ تو انہیں صرف برائی اور فحش کا حکم دیتا ہے ۔ اور بغیر کسی ثبوت ویقین کے یہ شیطان اللہ پر افتراء باندھتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف کفر کی نسبت کرکے اس کی توہین کرتا ہے۔
Ayah 2:170یہ کون لوگ تھے ، مشرکین بھی ہوسکتے ہیں جو باربار یہ ورد کرتے تھے کہ جب بھی انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جاتی اور کہا جاتا کہ وہ اپنی اقدار اور اپنے قانون کا ماخذ اسلام کو تسلیم کرلیں اور جاہلیت کی ان تمام باتوں کو ترک کردیں جنہیں اسلام نے بحال نہیں رکھا ، تو وہ یہی دلیل دیتے ۔ یہودی بھی مراد ہوسکتے ہیں جنہوں نے اپنی روایات کو سختی سے پکڑا ہوا تھا ، اور وہ دین اسلام کی کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے ۔ بہرحال مراد مشرکین ہوں یا یہود ، اسلام اپنے پیروکاروں کو بڑی شدت سے منع کرتا ہے کہ وہ نظریہ وعمل میں کوئی چیز ان لوگوں سے اخذ کریں ۔ مسلمان ان لوگوں کی تقلید کریں ۔ اور نہ ہی ان سے کوئی چیز سوچے سمجھے بغیر درآمد کریں۔
أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلا يَهْتَدُونَ ” اگر ان کے آباء اجداد نے کسی چیز کو سمجھانہ ہو کوئی راہ نہ پائی ہو تو پھر بھی “ اگر ان کے آباء اجداد کی فہم و فراست یہ ہو تو کیا پھر بھی یہ لوگ ان کے اتباع پر اصرار کریں گے ؟ تقلید وجمود کی یہ کیا گھناؤنی مثال ہے ۔ اس تقلید وجمود کی وجہ سے ہی قرآن مجید ان کے لئے نفرت آمیز خاکہ تجویز کرتا ہے ۔ انہیں ایک ایسے حیوان سے تشبیہ دی جاتی ہے جو کچھ نہیں سمجھتا ۔ اگر چرواہا ہے تو وہ صرف آواز سنتا ہے ۔ کچھ نہیں سمجھتا کہ اس نے کہا کیا۔ بلکہ ان کی حالت اس حیوان سے بھی بدتر ہے ۔ حیوان بہرحال دیکھتا ہے سنتا ہے ، آواز نکالتا ہے اور یہ لوگ نپٹ اندھے ، گونگے اور بہرے ہیں ۔
Ayah 2:171گونگے ، بہرے اور اندھے ہیں ۔ اگرچہ وہ کانوں ، آنکھوں اور زبانوں والے ہیں ۔ وہ کیوں ایسے نہ ہوں کہ ان چیزوں کے باوجود وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔ راہِ ہدایت نہیں پاتے ۔ جو آنکھیں ہوتے ہوئے نہیں دیکھتا تو اندھا ہے ، کان ہوتے نہیں سنتاتو بہرہ ہے ، زبان ہوتے حق بات نہیں کرتا تو ، گونگا ہے۔
جو شخص غور وفکر چھوڑ دے ۔ علم ومعرفت اور رشد وہدایت کے دروازے اپنے اپر بند کردے اور نظریہ حیات اور راہ عمل کا مآخذ ومصدر اس ذریعے کو قرار دے جو دراصل ماخذ ومصدر نہ ہو اور نہ اس کا مستحق ہو تو ایسے شخص کی اس سے زیادہ گھناؤنی تصویر کھینچنا ممکن نہیں ہے ۔
اب یہاں روئے سخن مومنین کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کے لئے کھانے پینے کی پاک چیزوں کو حلال قرار دیا جاتا ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے لپ وہ اپنے منعم کا شکریہ ادا کریں ۔ غیر پاکیزہ چیزوں میں بعض کو بصراحت حرام قرا ردیا جاتا ہے ۔ یہودی ، مسلمانوں کے ساتھ ان طیبات اور محرمات کے معاملے میں خوامخواہ الجھتے تھے ۔ ان پر تنقید کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ حلال و حرام کے یہ احکامات اور یہ اصول تو خود ان کے ہاں بھی بصراحت موجود تھے۔
Ayah 2:172یہاں مسلمانوں کو ” اے ایمان والو “ کے الفاظ سے پکارا گیا ہے ۔ اس لئے کہ ایمان ہی اہل اسلام کے درمیان مضبوط رابطہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ میں ہی ماخذ قانون ہوں اس لئے قانون مجھ سے اخذ کرو ۔ مجھ سے ہی حلال و حرام کے احکام اخذ کرو ۔ بتایا جاتا ہے کہ میں نے تم پر جو انعامات کئے ہیں انہیں یاد رکھو ۔ میں ہی تمہارا رازق ہوں اور میں نے ہی تمہارے لئے کھانے پینے کی چیزوں کو حلال قرار دیا ہے ۔ پاکیزہ چیزوں میں سے کسی ایک کو بھی حرام نہیں قرار دیا گیا۔ جو چیزیں حرام قرار دی گئی ہیں وہ اس لئے حرام نہیں کہ اللہ تم پر تنگی کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے وہ پاک اور طیب نہیں ہیں ۔ وہی تو ہے جو ابتدائے آفرینش سے تمہیں رزق دے رہا ہے ۔ پھر تلقین ہوتی ہے کہ اگر وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی چاہتے ہیں تو پھر اس کا شکر ادا کریں ۔ چکر بھی عبادت اور بندگی کی ایک قسم ہے ۔ اور اللہ شکر ادا کرنے سے بہت راضی ہوتا ہے ۔ یہ تمام ہدایات اس آیت میں دے دی گئی ، جو چند کلمات پر مشتمل ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ” ایمان لانے والوں اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بےتکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ “
Ayah 2:173اس کے بعد مخصوص طور پر بعض ان چیزوں کو جو حرام قرار دی گئی ہیں بیان کردیا جاتا ہے ۔ اور لفظ قصر ” انما “ استعمال کرکے دائرہ محرمات کو محدود کردیا إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ” اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ تم حرام نہ کھاؤ۔ خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ “
ہر سلیم الفطرت انسان ، ازروئے طبع مردار کو ناپسند کرتا ہے ۔ یہی حال خون کا ہے لیکن فطرت کی کراہت کے علاوہ قرآن اور اس سے پہلے تورات کی بیان کردہ حرمت کے طویل عرصہ بعد ، طب جدید نے بھی اس سلسلے میں کچھ قیمتی انکشافات کئے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ خون اور مردار میں کئی قسم کے مضر صحت اجزاء اور جراثیم (Microses) جمع ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ہمیں کوئی یقینی علم نہیں ہے کہ طب جدید نے وہ تمام مضرات اور نجاستیں معلوم کرلی ہیں اور کوئی اور سبب تحریم اب باقی نہیں ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ ان اشیاء کی تحریم کے لئے کچھ اور اسباب بھی ہوں جن کا علم تک ہمیں نہ ہوسکا ہو۔ رہا خنزیر تو اس کے متعلق ابھی تک بعض لوگ اچھی رائے رکھتے ہیں ۔ لیکن فطرت سلیمہ اس سے بھی شدید متنفر ہے ۔ ایک طویل عرصہ سے شرائع سماویہ نے اسے حرام قرار دیا ہوا ہے ۔ اب جاکر یہ معلوم ہوا کہ اس کے خون ، گوشت اور انٹریوں میں ایک خطرناک کیڑا موجود ہے ۔ یہ کیڑا لمبے دھاگے (TapWrom) کی شکل میں ہوتا ہے ۔ اور اس کے انڈے ملفوف ہوتے ہیں ۔ اس کے بارے میں بعض سور خور کہتے ہیں ۔ صحت وصفائی کے وسائل بہت ترقی کرچکے ہیں ۔ لہٰذا یہ کیڑے اور ان کے انڈے مضر صحت نہیں رہے ۔ کیوں کہ زیادہ حرارت سے یہ انڈے اور کیڑے یکسر ختم ہوجاتے ہیں ۔ اور صحت وصفائی کے جدید وسائل کے تحت یہ سہولتیں ہر جگہ میسر ہیں لیکن یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ قرون طویلہ کے بعد ان کی علمی جدوجہد نے صرف ایک مضر کیڑا دریافت کیا ۔ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ خنزیر کے گوشت میں کوئی اور ایسا مضر صحت جز نہیں ہے ۔ جس کا انکشاف نہ ہوا ہو۔ شریعت الٰہیہ جس نے ہزاروں سے سال پہلے ، انسانی علم و آگہی سے بہت پہلے اس مضر صحت کو ممنوع قرار دیا ، کیا اس بات کی مستحق نہیں ہے کہ اس پر کلی اعتماد کیا جائے ۔ اس کے فیصلے کو قول فیصل سمجھاجائے اور اس کے حلال کردہ کو حلال اور اس کے حرام کردہ کو حرام قرار دیا جائے ۔ اس لئے کہ یہ شریعت حکیم وخبیر اللہ کی جانب سے نازل شدہ ہے ۔
وہ چیزیں جن پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام لیا گیا ہو۔ ان چیزوں کے مالکان نے انہیں غیر اللہ کی طرف موڑ دیا ہو۔ یہ چیزیں بھی حرام ہیں ۔ اس لئے کہ ان چیزوں کی ذات میں حرمت کی کوئی وجہ ہے ، محض اس لئے کہ ان چیزوں کا رخ غیر اللہ کی طرف کردیا گیا ہے ۔ مرکز توجہ بدل گیا ، ضمیر خالص نہ رہا ۔ روح پاک نہ رہی ، دل اللہ کے لئے سالم نہ رہا اور عقیدہ ونظریہ پاک نہ رہا۔ یہ ہے وہ روحانی سبب جس کی وجہ سے ان چیزوں کا استعمال حرام قرار دیا گیا اور یہ بھی اسی طرح ناپاک ہوا ، جس طرح مادی نجاست ناپاک ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ بھی غیر طیب اور وہ بھی غیر طیب ۔ چونکہ اسلام اس امر کی تاکید کرتا ہے کہ مسلمان تعظیم و تکریم کے ساتھ صرف بارگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہوں اور اس میں کسی اور کو شریک نہ کریں ، اس لئے ان چیزوں کو بھی اسی طرح نجس قرار دے کر نجس العین اشیاء کے ساتھ رکھا ۔ کیونکہ یہ اشیاء نظریاتی طور پر ناپاک ہیں
پاکی قلب ونظر اور جسم وجگر ان تمام حرام کردہ چیزوں کے اسباب میں قدر مشترک ہے ۔ چونکہ سابقہ آیات میں عقیدہ توحید بیان ہوا تھا۔ مطلب یہ تھا کہ تمہارا خالق و رازق ایک ہے ۔ یہاں کہا گیا کہ شارع اور مقنن بھی وہی ہے ۔ رزق وخلق کا مصدر اور قانون و شریعت کا مآخذ ایک ہے ۔ ان آیات میں یہ تصور ایک گہرا ربط پیدا کردیتا ہے ۔
اس حرمت کے باوجود اسلام بعض حالات و ضرورت کا خیال بھی رکھتا ہے ۔ ایسے حالات میں محدود طور پر ، ضرورت کی کم سے کم حد تک ، ان محرمات کو جائز قرار دے دیتا ہے۔ لیکن ہدایت کرتا ہے کہ ضرورت کی حد سے ہرگز آگے نہ بڑھاجائے ۔ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھالے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو۔ یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے ، تو اس پر کچھ گناہ نہیں اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ “ استثناء کا یہ اصول بذاتہ تو عام ہے ، لیکن یہاں یہ مذکورہ بالا محرمات پر متفرع ہے ۔ لیکن ان محرمات کے علاوہ اس کا اطلاق دوسرے محرمات پر بھی ہوسکتا ہے ۔ جہاں ایسی ضرورت ہو ، جہاں زندگی خطرے میں ہو اور ان محرمات کے علاوہ کوئی اور چیز سامنے نہ ہو تو وہاں بھی ممنوعہ چیز کو کم ازکم ضرورت پورا کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ ضرورت کے مقامات کے بارے میں فقہاء کے درمیان فقہی اختلافات پائے جاتے ہیں ، مثلاً کیا ضرورت کے مسئلے میں قیاس چلے گا یا محض منصوص ضرورت تک استفادہ محدود ہوگا ؟ پھر ضرورت پوری کرنے کی مقدار کیا ہے ؟ کم ازکم استعمال ہے یا سیر ہو کر کھالینا ہے ؟ میں یہاں ان اختلافات کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا ۔ جو کچھ کہا گیا وہ فی ظلال القرآن کے لئے کافی ہے۔
جن چیزوں کو حرام یا حلال قراردیا گیا تھا ، ان کے بارے میں یہودیوں نے غوغا آرائی شروع کردی تھی ۔ جیسا کہ قرآن مجید نے دوسری جگہ صراحت کی ہے ۔ بعض چیزیں ایسی بھی تھیں جو صرف یہودیوں پر حرام کی گئی تھیں۔ وَعَلَی الَّذِینَ ھَادُواحَرَّمنَا کُلَّ ذِی ظُفُرٍ وَمِنَ البَقَرِ وَالغَنَمِ حَرَّمنَا عَلَیھِم شُحُومَھُمَا اِلَّا مَا حَمَلَت ظُھُورُھُمَا اَوِالحَوَایَا اَو مَا اختَلَطَ بِعَظمٍ ” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے ، اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں میں لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ “ یہ چیزیں مسلمانوں کے لئے جائز تھیں۔ غالباً اس جواز پر وہ سخت معترض تھے ۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ ان چیزوں کی حرمت پر بھی اعتراض تھا جو یہاں حرام کردی گئی ہیں حالانکہ یہ چیزیں تورات میں خود ان کے لئے بھی حرام بیان ہوئی تھیں ۔ مطلب ان کا صرف یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح قرآنی احکامات کو مشکوک کیا جائے اور مسلمانوں کے دل میں یہ شبہ ڈال دیا جائے کہ رسول ﷺ پر وحی منجانب اللہ آتی ہے یا نہیں ۔
Ayah 2:174جو لوگ آسمانی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات چھپاتے ہیں ان پر ان آیات میں شدید ترین تنقید کی گئی ہے۔
کون لوگ تھے وہ جو اللہ کے نازل کردہ احکام کو چھپاتے تھے ؟ سب سے پہلے ان سے مراد اہل کتاب ہیں ۔ لیکن قرآن مجید کی اس آیت کے مفہوم میں ہر مذہب وملت کے وہ لوگ شامل ہیں جو سوچنے سمجھنے کے باوجود حق کو چھپاتے ہیں ۔ کیوں چند ٹکوں کی خاطر ان مفادات کی خاطر جو وہ کتمان حق کے نتیجے میں حاصل کرتے ہیں یا اس لئے کہ انہوں نے کچھ مفادات پیش نظر رکھے ہوتے ہیں اور اگر وہ حق بیان کریں تو یہ مفادات خطرے میں پڑ سکتے ہیں ۔ یا ثمن قلیل سے مراد پوری دنیا ہے ۔ کتمان حق سے یہ لوگ ثواب آخرت اور رضائے الٰہی سے محروم ہوجاتے ہیں اور یہ ایک عظیم خسارہ ہے ۔ اس کے مقابلے میں بیشک پوری دنیا ثمن قلیل ہے۔
کھانے پینے کے حلال و حرام اشیاء کے بیان کے سلسلے میں اعلان ہوتا ہے ۔ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلا النَّار ” وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں ۔ “ حلال و حرام کے بیان کی مناسبت سے ان کے لئے یہ فقرہ استعمال کیا گیا ۔ یعنی حق چھپا کر وہ جو قلیل اجرت لیتے ہیں اور اسے کھاتے ہیں ، یہ دراصل ان کے پیٹ میں آگ ہوگی اور ان کا کھانا بھی آگ ہی ہوگی۔
انہوں نے حق کو چھپایا ۔ اس کے تحت سزا ملے گی انہیں ۔ انہیں قیامت کے دن ذلت اور اہانت کی حالت میں چھوڑدیاجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی توجہ اور نظر کرم سے وہ محروم رہیں گے اور اس حالت زار ، بےقدری اور ذلت کی تعبیر اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں کرتے ہیں ۔
وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا يُزَكِّيهِمْ ” قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا اور نہ ہی انہیں پاکیزہ ٹھہرائے گا۔ “ ان کے ساتھ کوئی بات نہ ہوگی ، ان کا کوئی اہتمام نہ ہوگا ، انہیں پاک نہ کیا جائے گا اور ان کی مغفرت بھی نہ ہوگی ۔ اور انہیں مکمل طور پر نطر انداز کردیا جائے گا۔ یہ اس لئے کہ اہل ایمان کی نظر میں ان کی سزا خوفناک ہوجائے اور صورت حال عام لوگوں کے حس و شعور کے قریب ہوجائے وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ” اور ان کے لئے دردناک سزا ہے۔ “
Ayah 2:175اور ایک دوسری زندہ تعبیر أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ” وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لیا ۔ “ گویا یہ ایک خرید وفروخت ہے ۔ جس میں یہ لوگ ہدایت سے روگردانی کرتے ہیں اور ضلالت خریدتے ہیں ۔ مغفرت سے محروم ہوتے ہیں اور عذاب دائمی خریدتے ہیں ۔ کس قدر ناسمجھ ہیں یہ لوگ جو اس قدر عظیم خسارے کا سودا کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایک عظیم الشان برائی خریدلی ہے ۔ ہدایت ان کے لئے عام تھی مگر انہوں نے اسے ترک کرکے ضلالت کو اختیار کرلیا۔ مغفرت کے مواقع انہیں فراہم تھے ۔ مگر انہوں نے انہیں گنوادیا اور عذاب کو اپنالیا۔ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ ” کیا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ “ اس کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ان کے اس احمقانہ کام پر قدرت خندہ زن ہے ۔
Ayah 2:176انہوں نے سخت گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ اس کی پوری سزا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب اس لئے بھیجی تھی کہ اسے لوگوں تک پہنچایا جائے ، اسے زمین پر نافذ کیا جائے ۔ اور وہ ان کا قانون ہو ، ان کا نظام زندگی ہو ، لیکن ان ظالموں نے اس کو چھپالیا ۔ اسے چھپا کر میدان عمل سے خارج کردیا ۔ حالانکہ وہ ایک ایسی سچائی تھی جس پر عمل کرنے کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی ۔ “ اور جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے وہ ہدایت پر آگئے ، حق کے ساتھی بن گئے ، ان لوگوں کے ٹولے میں آگئے جو حق کے راہ یاب تھے ۔ انہوں نے فطرت کائنات کا ساتھ دیا اور فطرت کے حقیقی اصولوں پر آگئے ۔
وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ ” مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے۔ “ ایسے لوگ حق سے دور جاچکے ہیں ۔
وہ اصول فطرت سے بھی ٹکراتے ہیں ۔ وہ خود ایک دوسرے سے بلکہ خود اپنے نفس سے بھی ٹکراتے ہیں ۔ وہ اس طرح تھے اور اسی طرح رہیں گے ۔ یہی حال ہوگا ہر اس امت کا جو کتاب اللہ میں جھگڑے ڈالتی ہے ۔ کتاب الٰہی کو پورے طور قبول نہیں کرتی ۔ بلکہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہے ۔ ہر دور اور ہر زمانے میں ، ہر امت اور ہر قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہے ۔ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں ، اس آیت کا مصداق ہمیں اچھی طرح نظر آرہا ہے ۔
سب سے آخر میں ایک اور صرف ایک آیت میں ایمانی تصور زندگی کے تمام اصول رکھ دیئے جاتے ہیں ۔ ایمانی طرز عمل کا معیار بیان کردیا جاتا ہے اور بتادیا جاتا ہے کہ قرآن کی رو سے نیک لوگوں کی صفات کیا ہیں ؟
Ayah 2:177سچ بات یہ ہے کہ یہ آیت بھی تحویل قبلہ کے احکام اور ان پر یہودیوں کے طویل اعتراضات وجوابات کے ساتھ مربوط ہیں ۔ تحویل قبلہ کی حکمت کے بارے میں تو ہم اس سے پہلے بیان کر آئے ہیں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ ۔ عبادات اور شعائر دین کی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں یہودیوں کی ظاہر بینی اور تقشف پرستی کو بےنقاب کرتے ہوئے ، حسن وقبح کا ایک عظیم معیار اور نیکی اور بدی کی اصلی حقیقت بیان کررہے ہیں۔ کیونکہ یہودی ان ظاہری امور کے بارے میں بےحد حساس تھے اور جھگڑتے تھے ۔
تحویل قبلہ یا تمام عبادات میں غرض وغایت یہ نہیں کہ لوگ مشرق کی طرف رخ کریں یا مغرب کی طرف چہرہ کرکے عبادت سر انجام دیں۔ بیت المقدس کی طرف رخ کریں یا مسجد حرام کی طرف ۔ یا یہ کہ عبادات کی موجودہ شکل و صورت ہی عین خیر وبھلائی نہیں ہے ۔ بلکہ ان کے لئے بہت ضروری ہے کہ دل کے اندر محسوس کیا جانے والاتصور اور اسلامی نظریہ حیات کا زندہ شعور ضروری ہے ۔ ان ذہنی امور کے ساتھ ساتھ مخصوص طرز عمل اپنانا بھی ضروری ہے ۔ ورنہ نیکی وبھلائی کے حصول اور حسن وخیر کو بروئے کار لانے کا اصل مقصد پورا نہ ہوسکے گا۔ نیکی دراصل ایک تصور ہے ، ایک شعور ہے ، کچھ اعمال ہیں ، ایک طرز عمل ہے ۔ یہ ایک تصور حیات ہے ۔ جو ایک فرد اور ایک جماعت کے ضمیر پر اثر انداز ہو ، وہ ایک عمل ہے جو فرد وجماعت کی زندگیوں میں پسندیدہ اثرات پیدا کرے ۔ صرف مشرق ومغرب کی طرف سے رخ پھیر دینے سے زندگی میں یہ انقلاب کیونکر آسکتا ہے ۔ منہ کوئی ادھر کرے یا ادھر کرے ، فرق کیا پڑتا ہے ، اصل مقصد تو رجوع قلب ہے ۔ جو اللہ کے احکام مانتا ہے ، منزل پالیتا ہے ۔ یہی معاملہ ہے تمام دینی شعائر کی ظاہری شکل و صورت کا ، جنہیں یہ ادا کرتے ہیں ۔ جو اللہ کے احکام مانتا ہے ، منزل پالیتا ہے ۔ یہی معاملہ ہے تمام دینی شعائر کی ظاہری شکل و صورت کا ، جنہیں یہ ادا کرتے ہیں۔ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ ” بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے ۔ “
یہ ہے بھلائی کا وہ معیار جو تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے ۔ اس معیار میں نیکی کی جو اقدار مقرر کی گئی ہیں وہ بہت ہی وزنی ہیں ۔ اللہ ایمان ، یو آخر پر ایمان اور ملائکہ وکتب اور انبیاء پر ایمان کی قدر و قیمت اسلامی نقطہ نظر سے کیا ہے ؟
اللہ پر ایمان لانا انسانی زندگی میں ایک نقطہ انقلاب ہے ۔ اس کے ذریعے انسان مختلف قوتوں ، مختلف چیزوں اور مختلف پسندیدہ تصورات کی بندگی اور غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اور صرف ایک بندگی اور غلامی قبول کرلیتا ہے ۔ یوں انسان تمام دوسرے انسانوں کے ساتھ ، ایک ہی صف میں کھڑا ہوکر ، ایک ہی معبود کے سامنے جھک کر ، اخوت و مساوات کا بلند مقام حاصل کرلیتا ہے ۔ ایمان وہ مقام ہے جہاں طوائف الملوکی کی بجائے ایک نظام قائم ہوتا ہے ۔ انتشار کی جگہ یکسوئی اور اختلاف کی جگہ اتحاد قائم ہوجاتا ہے نیز گمراہی کے بجائے ایک اونچا نصب العین سامنے آجاتا ہے ۔ اگر انسان کے دل میں ایک واحد لاشریک خدا پر ایمان نہ ہو تو ، اس دنیا میں اس کا کوئی نصب العین نہیں ہوتا ، جس پر دلجمعی کے ساتھ اپنی قوتوں کو مرتکز کرسکے اور جس پر مساوات کے ساتھ وہ مجتمع ہوسکے ۔ بعینہ اس طرح جس طرح وجود کائنات ایک نقطہ کے اردگرد مرتکز ہے ۔ اس کے اجزا کا باہمی ربط ہے ۔ اور ان کے مابین واضح نسبت موجود ہے ۔ اور جس کے مختلف اجزاء کے باہمی علائق اور مقاصد بالکل واضح اور معلوم اور مربوط ہیں ۔
آخرت پر ایمان کا مقصد یہ ہے کہ انسان جزا وسزا میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کو یقین کے ساتھ تسلیم کرے ۔ یہ جانے کہ اس کرہ ارض پر انسان کو یونہی بےمقصد نہیں پیدا کیا گیا ۔ وہ غیر ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اسے حساب دینا ہوگا اگر کوئی بھلائی کرے تو وہ ختم نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کی جزا اس دنیا میں نہ ملے ۔ ملائکہ پر ایمان بھی غیب پر ایمان کا ایک حصہ ہے ۔ انسانی فہم وادراک اور ایک حیوان کے فہم وادراک میں یہی فرق ہے ۔ انسانی تصور حیات اور حیوانی تصور حیات میں یہی فرق ہے کہ انسان محسوسات سے آگے کی بھی بعض چیزوں پر ایمان لاتا ہے اور ان کا ادراک کرسکتا ہے ۔ جبکہ حیوان کا احساس صرف محسوسات کے دائرے میں محدود ہوتا ہے کتاب اور نبیوں پر ایمان کا مقصدیہ ہے کہ انسان تمام رسولوں پر ایمان لائے بلاتفریق ۔ یعنی انسانیت بھی ایک ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے ۔ اس کا خدا بھی ایک ہے ۔ اس کے لئے دین اور نظام زندگی بھی ایک ہے ۔ اس طرح مومن انبیاء ورسل کے اعلیٰ خیالات کا وارث ہوجاتا ہے ۔ لہٰذ اکتب ورسل پر ایمان ایک مومن کو بہت قیمتی شعور عطا کرتا ہے۔
مال کے ساتھ انسان کو بڑی محبت ہے لیکن مال قربان کرنے کی بھی بڑی اہمیت ہے ۔ غریب رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں اور گردن چھڑانے اور غلامی سے نجات دلانے کے لئے مال خرچ کرنا یہ سبھی کام انسان کو بلند مرتبہ بناتے ہیں ۔
انفاق فی سبیل اللہ کا یہ اثر ہوتا ہے کہ انسان لالچ ، خود غرضی اور بخل کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ مال کی محبت ہاتھوں کو انفاق سے کھینچ لیتی ہے ۔ انسان بلند ہمتی ، اولوالعزمی ، جودوسخا اور دادوہش کے مقام بلند سے گرجاتا ہے اور روح انسانی میں کشادگی نہیں رہتی ۔ اسلامی نظام میں انفاق کا ایک روحانی مقام ہے ۔ اس لئے یہ ان مسلمانوں کو بھی حکم دیا جاتا ہے کہ مال کی محبت کے باوجود اپنا محبوب ترین اور پسندیدہ ترین مال کو دل وجان کی آمادگی اور کشادگی کے ساتھ خرچ کریں ۔ اس کی بڑی روحانی اہمیت ہے اور اس طریقہ سے مومن اپنے آپ کو دولت کی پوجا اور دولت کی غلامی سے چھڑالے گا ۔ دولت کی پوجا سے انسان بالیقین ذلیل ہوجاتا ہے۔ سرفرازی کی بجائے سرنگوں ہوتا ہے اور انفاق سے وہ لالچ اور حرص کی غلامی سے آزاد ہوجائے گا ۔ اسلامی نقطہ نظر سے سرنگوں ہونے کے بجائے وہ گردن فراز ہوجائے گا لیکن اگر وہ انفاق نہ کرے توذلیل ہوگا ۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی بہت بڑی قدر و قیمت ہے ۔ کیونکہ اسلامی نظام کی غایت یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے نفسیاتی پریشانیوں ، اخلاقی کمزوریوں اور طمع و لالچ سے نجات دلائے ۔ یہ کام انسان کے لئے معاشرتی آزادی سے بھی پہلے کیا جاتا ہے ۔ شخصی وسیاسی آزادی سے بھی پہلے کیوں ؟ اس لئے کہ جو شخص اپنے نفس کا غلام ہو وہ بسہولت طاغوت کی غلامی کے لئے بھی تیار ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص خواہشات نفسانیہ کے قید وبند سے آزاد ہوجاتا ہے وہ اپنے معاشرے اور سوسائٹی میں بھی آزاد ہوتا ہے ۔ کسی کی غلامی کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔ انسانی معاشرے میں انفاق فی سبیل اللہ کی ایک معاشرتی قدر و قیمت بھی ہے ۔ اقربا سے صلہ رحمی کی وجہ سے نفس انسانی میں مروت پیدا ہوتی ہے ، خاندان میں شرافت کا چلن فروغ پاتا ہے اور اقرباء کے درمیان تعلقات زیادہ قوی ہوجاتے ہیں ۔ اسلامی معاشرے کی اساس خاندان پر ہے اس لئے یہاں انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعہ خاندانی نظام کو مضبوط کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ پھر یتیموں کی مالی امداد کا حکم ہے ۔ اس کا مقصد اصل معاشرہ میں امیر و غریب ، طاقتور اور کمزور کے درمیان نظام کفالت کا قیام ہے ۔ یتامی مادری اور پدری شفقت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ ان کے لئے ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ ان کے احساس محرومیت کی تلافی کی جائے ۔ پھر اس تکافل کے نتیجے میں پوری سوسائٹی کو ان خودرو شتر بےمہار اور غیر تربیت یافتہ افراد کی کثرت سے بھی بچایا گیا ہے۔ جو معاشرے کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں ۔ اس کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں اور فتنہ سامانیوں کا موجب بنتے ہیں ۔ ایسے لوگ آگے جاکر معاشرے کی لاپرواہی اور بےمروتی کا خوب انتقام لیتے ہیں ۔ مساکین پر انفاق جن کے پاس وسائل زندگی نہیں ہیں ۔ پھر بھی وہ خاموش بیٹھے ہیں ۔ عزت نفس رکھتے ہیں اور سوال نہیں کرتے ۔ یہ انفاق ان کی عزت نفس کے لئے محافظ ہے ۔ انہیں تباہی سے بچاتا ہے ۔ نظام انفاق سے اسلامی معاشرے میں ، ایسے حضرات کے دلوں میں اجتماعی کفالت اور ضمانت کا شعور پیدا ہوتا ہے ۔ اسلامی معاشرہ تو ہوتا ہی وہ ہے جس میں کسی فرد کو بےیارومددگار نہ چھوڑاجائے اور اس کے کسی عضو کو ضائع ہونے نہ دیا جائے ۔ ابن سبیل (مسافر) جو اپنے خاندان سے دور ہو ، جن کے پاس وسائل موجود نہ ہوں ، اچانک مصیبت میں گرفتار ہوجائے ۔ خاندان کے افراد اس سے دور ہوں ، ایسے حالات میں یہ مسافر بھی مصیبت زدہ ہے ۔
یہ انفاق اس کے لئے ایک قسم کی ہنگامی امداد ہے ۔ اس امداد سے اسے یہ شعور دیا جاتا ہے کہ پوری انسانیت اس کا خاندان ہے ۔ ہر ملک اس کا ملک ہے ، ہر جگہ اس کا خاندان موجود ہے ، مسلمان اس کے اہل خاندان ہیں ۔ ہر جگہ اس کے اپنے مال کے بدلے اس کے لئے مال موجود ہے ۔ اس کے لئے صلہ رحمی موجود ہے ۔ اور اس کے لئے آرام کا سامان فراہم ہوسکتا ہے ۔ سائلین پر انفاق ضروری ہے تاکہ ان کی ضرورت پوری ہو ، وہ آئندہ سوال کرنا چھوڑدیں ۔ اسلام بھیک مانگنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس کے پاس بقدر کفالت موجود ہو اس کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ہے ۔ جو کام کاج کرسکتا ہے ، اس کے لئے بھی سوال جائز نہیں ہے ۔ ایسے شخص کے لئے خدا کا حکم یہ ہے کہ وہ مزدوری کرے ، بھیک نہ مانگے یا قناعت کرے ، دست سوال دراز نہ کرے ، بھیک مانگنا تب جائز ہے جب کام نہ ہو ، مال نہ ہو ، اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو ۔
غلامی سے چھڑانے میں انفاق بھی ایک مد ہے ۔ جو بدقسمت اپنی بدعملی کی وجہ سے غلام ہوگیا ، اس نے اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی ۔ جنگ کے نتیجے میں اس کی آزادی ختم ہوگئی ۔ اسے عارضی طور پر معاشرے میں مقام شرافت سے محروم کردیا گیا۔ اس پر انفاق یوں ہوگا کہ اس کو خرید کر آزاد کردیا جائے یا غلام اپنے آقا سے معاہدہ آزادی کرے اور اسے رقم معاہدہ ادا کرنے کا پابند ہو ۔ اسلام نے غلاموں کے لئے یہ قانون بنایا تھا کہ غلام جس وقت چاہتا مالک کے ساتھ ایک معاہدہ آزادی کرتا اور آزاد ہوجاتا۔ اس معاہدے کے مطابق اسے وہ رقم ادا کرنی ہوتی ہے جو طے پاجائے ۔ (ایسے معاہدہ کے بعد غلام ) اپنے کام کی اجرت وصول کرنے کا مستحق ہوجاتا ہے جو معاہدے کی رقم میں کٹتی رہتی ہے ۔ علاوہ ازیں وہ مستحق زکوٰۃ ہوجاتا ۔ اسی طرح وہ انفاق فی سبیل اللہ کی تمام مدات میں سے اس کی امداد کی جاسکتی تھی تاکہ وہ جلد از جلد رقم معاہدہ ادا کرکے آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوجائے۔
اقامت صلوٰۃ
نیکی کے اس معیار میں نماز کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ اور اقامت صلوٰۃ صرف مشرق ومغرب کی طرف چہرہ کرکے کھڑے ہوجانے سے اقامت کا مفہوم ادا نہیں ہوجاتا۔ یہ نقطہ وسیع تر مفہوم رکھتا ہے۔ جو یہ ہے کہ انسان کا ظاہر و باطن اور اس کی عقل وروح سب پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجائیں ۔ نماز نہ تو محض جسمانی ورزش کا نام ہے اور نہ ہی صرف صوفیانہ درودوظائف کا نام ہے۔ نماز دراصل اسلام کی بنیادی فکر ونظر کی عکاس ہے۔ اسلام اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ انسان اس ایک وجود میں جسم ، روح اور عقل تین چیزوں کا اجتماع ہے ۔ اسلام اس بات کا بھی قائل نہیں ہے کہ ان تین طاقتوں کی سرگرمیوں اور دائرہ عمل میں باہمی کوئی تضاد پایا جاتا ہے ۔ وہ جسم کو فناکرکے روح کو آزاد کرنا جائز نہیں سمجھتا ۔ کیونکہ روحانی آزادی کے لئے جسمانی فنا یا جسم کو مارنا لازمی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ، اپنی سب سے اہم اور بڑی عبادت یعنی نماز میں ان تین طاقتوں کی سرگرمی کو ہم آہنگ کردیا ہے ۔ نماز میں تینوں قوتیں مکمل نظم کے ساتھ اپنے خالق کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں ۔ قیام ، رکوع اور سجدہ وجسمانی حرکات ہیں جو روح کو رجوع الی اللہ کی طرف راغب کرتی ہیں ۔ قرآن کی تلاوت ، اس میں غوروفکر اور مفہوم کو سمجھنا عقل کا کام ہے اور اس پورے عرصے میں عقل انسانی اس کام میں مصروف ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عزت توجہ اور مکمل تسلیم ورضا اور عجز و انکسار روح کا کام ہے اور اس طرح یہ تینوں قوتیں ایک ہی وقت میں مصروف کار ہوتی ہیں ۔ غرض اس معنی میں اقامت صلوٰۃ پوری اسلامی طرز فکر کی نمائندہ ہے ۔ اور وہ چشم بینا کو یہ سبق یاد دلاتی ہے کہ پوری زندگی کے متعلق اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ ہر نماز اور ہر نماز کی حرکت میں ہم یہ سبق دہراتے ہیں ۔
زکوٰۃ کی ادائیگی
یہ اسلامی نظام میں غرباء و مساکین کے لئے اغنیاء اور اہل ثروت کی دولت پر عائد کردہ ، ایک اسلامی ٹیکس ہے ۔ یہ ٹیکس اللہ تعالیٰ نے عائد کیا ہے ۔ دراصل اللہ تعالیٰ ہی دولت کا حقیقی مالک ہے ۔ بندے کو اس کا مجازاً مالک بنایا گیا ہے ۔ اور اس لئے اسلامی نقطہ نظر سے اس پر کچھ شرائط عائد کی گئی ہیں اور ان میں سے اہم اور لازمی شرط ادائیگی زکوٰۃ ہے ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا ذکر عام انفاق فی سبیل اللہ کے عام حکم کے بعد کیا گیا ہے جس کا ذکر اوپر ہوگیا ہے کہ دولت محبت کے باوجود اقرباء وغیرہ پر صرف کی جائے گی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ مذکورہ بالا تمام صرف مال اور انفاق فی سبیل اللہ سے علیحدہ ایک مستقل مد ہے ۔ یہ لازمی ٹیکس اور منصوص فرض ہے ۔ جب کہ عام انفاق فی سبیل اللہ صرف ترغیب ہے ۔ لیکن نیکی کا یہ مجموعی معیار جس کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے ، اس وقت تک مکمل نہ ہوگا جبب تک ان دونوں مدات پر حسب حساب وحسب توفیق عمل نہ کیا جائے ۔ یہ دونوں مدیں اسلام کی بنیادی عناصر ترکیبی ہیں ۔ لیکن ہر انسان کی زندگی میں دونوں کا پایا جانا ضروری ہے ۔ ایک پر عمل کرنے سے دوسرا ہرگز ساقط نہیں ہوسکتا۔
وفائے عہد
یہ اسلام کی وہ علامت ہے جس کی حفاظت میں اسلام بےحد کوشش کرتا ہے ۔ قرآن کریم میں بار بار اس کا تذکرہ ہوتا ہے ۔ اسے ایمان کی نشانی گردانا گیا ہے ۔ اسے احسان اور آدمیت کی نشانی قرار دیا گیا ہے اور یوں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ ایک انسان اور انسان کے تعلقات میں ایک فرد اور جماعت کے تعلقات میں ، ایک قوم اور دوسری قوم کے تعلقات میں اعتماد اور اطمینان پیدا کرنے کے لئے وفائے عہدنہایت ہی ضروری ہے ۔ وفائے عہد کی خشیت اول خود ذات باری تعالیٰ سے اپنے عہد کی وفا ہے۔ اگر ایک مستحق اپنے مالک کا وفادار نہ ہو تو ہمیشہ پریشان اور غیر مطمئن رہے گا اور کوئی عہد پورانہ کرسکے گا ۔ وہ کسی میثاق پر جم نہ سکے گا ۔ کسی انسان پر اعتماد نہ کرے گا ۔
دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ ، وفائے عہد میں اسلام اس مقام بلند تک پہنچا ہے کہ جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتی ۔ کوئی قوم ، کوئی امت بھی اس مقام بلند تک نہیں پہنچ سکی ۔ یہ مقام انسانیت کو اسلام کے سایہ اور اسلامی نظریہ حیات کی روشنی ہی میں معلوم ہوا۔
حق اور باطل کی کشمکش میں صبر
صبر وہ وصف ہے جو انسان کو مصائب برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے ۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ کوئی مشکل مرحلہ آئے تو انسان بہت ہمت سے اس کا مقابلہ کرے ۔ مصیبت کے وقت آہیں بھرناشروع نہ کردے۔ سختیوں میں جزع وفزع شروع نہ کردے ۔ صبر اور مصابرت اور تحمل وثبات اسی کا نام ہے ۔ صبر مضبوطی سے حق کو پکڑلینے کا نام ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مصائب کے بادل چھٹ جاتے ہیں ۔ مصیبت دور ہوجاتی ہے اور مشکلات کے بعد آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔ یہ اللہ کی مرضی کو قبول کرنا ہے ، اس سے پر امید ہونا ، اس پر اعتماد کرنا ہے ۔ وہ امت جسے پوری انسانیت کی امامت اور نگرانی کا مقام دیا گیا ہو ، جسے دنیا میں عدل قائم کرنا ہے اور پوری انسانیت کی اصلاح کا فرض ادا کرنا ہے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دولت صبر سے مالا مال ہو۔ مشکلات درپیش ہوں ، اس کی راہ میں بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی ہوں۔ اسے تنگیوں ، مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے ۔ باطل کے ساتھ کشمکش برپا ہو اور شدید سے شدید ترحالات پیش آئیں تو صبر و استقامت ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہو۔ مصیبت اور غربت میں صبر ، جسمانی ضعف اور بیماری میں صبر افراد کی قلت اور کمزوری پر صبر ، محاصرے اور مجاہدے میں صبر ، غرض ہر حال میں صبر اور ہر آن میں صبر ۔ صرف یہی ایک صورت ہے جس میں یہ امت اپنا عظیم فرض منصبی ادا کرسکتی ہے ۔ وہ اپنے منصوبے کو پورا کرسکتی ہے ۔ بصورت دیگر اسے کامیابی حاصل نہ ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تنگی ومصیبت کے اور حق و باطل کی کشمکش میں صبر کرنے والوں کو لفظ الصابرین (حالت نصبی) سے مخاطب کیا ہے ۔ جس سے لفظ ” خاص کر “ کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے جن صفات کا ذکر ہوا ہے وہ حالت رفعی (مستقل جملوں) میں ہیں لیکن اس صفت کو حالت منصبی (مفعول ہے اور فعل محذوف ہے) میں ذکر کیا ہے۔ مطلب ہے (میں صابرین کو مخصوص طور پر بیان کرتا ہوں ، نیکی اور بھلائی کی صفات کے ذکر کے ضمن میں یہ ایک خاص اشارہ ہے اور اس کا اپنا ایک مخصوص وزن اور ایک خاص اہمیت ہے ، یعنی اللہ پر ایمان فرشتوں پر ایمان ، کتابوں پر ایمان ، نبیوں پر ایمان ، مال کا خرچ کرنا ، نماز کا قائم کرنا ، زکوٰۃ کا ادا کرنا ۔ اور وفائے عہد کی تمام صفات میں سے صفت صبر اور اس کے حاملین الصابرین کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ، اللہ کے ہاں ان کی سب سے زیادہ قدر ہے ۔ صابرین کا مقام سب سے زیادہ برتر وبلند ہے ۔ صابرین کے اس مقام بلند کو دیکھ کر تمام لوگوں کی نگاہیں اس طرف اٹھ جاتی ہیں ۔
ذرا دیکھئے ایک ہی آیت میں نظریہ و عقیدہ کے اصول ، جسمانی فرائض اور مالی ذمہ داریاں اور دولت کے واجبات کو بیان کردیا گیا ہے ۔ نظریہ و حقیقت کو ایک کردیا گیا ہے ۔ ایسی اکائی کی صورت میں جس کو ٹکڑے نہ کیا جاسکتا ہو ، جس کے اجزاء ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہوسکیں اور زندگی کے ان مختلف شعبوں کا عنوان صرف ایک ہے (نیکی) بعض احادیث میں نیکی کو عین ایمان کہا گیا ہے ۔ غرض یہ آیت اسلامی تصور حیات کا مکمل خلاصہ ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کے اصول اس میں یکجا ہوگئے ہیں ۔ یہ سب ضروری اصول ہیں ایک دوسرے کے مقابل ہیں ۔ اور ان کے بغیر اسلامی نظام کا قیام ہرگز نہیں ہوسکتا۔
جن لوگوں کی صفات یہ ہوں ، ان کا مقام بھی یہاں آخر میں بطور نتیجہ بیان کردیا جاتا ہے۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (177) ” یہ ہیں راست باز لوگ اور یہ ہیں متقی۔ “
یہی لوگ ہیں جنہوں نے اسلام میں ، اپنے رب کے ساتھ بالکل سچ کہا ۔ وہ ایمان و اعتقاد میں بھی سچے ہیں اور اپنے ایمان و اعتقاد کو اپنی زندگی میں عملی شکل دینے میں بھی بالکل وہ سچے ہیں ۔ یہی لوگ دراصل متقی ہیں جو اپنے رب کے ساتھ جڑ جاتے ہیں ، اس سے ڈرتے ہیں ۔ وہ احساس ذمہ داری اور شعور کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔
ان آیات کے درمیان سے ذرا جھانک کر دیکھیں ، ہمیں ایک بلند افق نظر آئے گا ۔ ایک بلند مقام عزت نظر آئے گا ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ ، انسانیت کو اپنے تجویز کردہ اعلیٰ ترین نظام حیات کے ذریعے سرفراز کرنا چاہتا ہے ۔ اور پھر ہم ذرا لوگوں کی حالت زار پر نظر ڈالیں ، تو وہ اس نظام سے دور بھاگتے ہیں ۔ اس سے پہلو تہی کرتے ہیں ۔ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ، بلکہ اس کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں ۔ اور اس کے ماننے والوں کے جانی دشمن ہوجاتے ہیں ۔ جب ہم یہ سب کچھ دیکھتے ہیں تو ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسی طرح کہنا پڑتا ہے ۔ یا حسرۃ علی العباد
اور پھر ہم نصب العین کے اس افق بلند پر دوبارہ نظر ڈالتے ہیں ۔ یاس و حسرت کی یہ کیفیت فوراً رفو ہوجاتی ہے ۔ امید کی کرن نظر آتی ہے ۔ اللہ پر یقین پختہ ہوجاتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کی قوت اور برتری پر غیر متزلزل یقین پیدا ہوجاتا ہے اور جب اپنے مستقبل پر نظر ڈالتے ہیں تو افق پر امید کی کرن موجود پاتے ہیں ۔ وہ روشن تر اور واضح تر ہے ۔ ضروری ہے کہ اس طویل تھکاوٹ اور مصائب نے ایک بار پھر اسلامی نظام زندگی پر ان کا یقین پختہ کردیا ہو۔ امید ہے اس اعلیٰ وارفع نظام کی طرف انسانیت ایک بار پھر بڑھے گی اور یہ مان لے گی کہ اللہ ہی مستعان ہے وہی معین و مددگار ہے ۔