2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں ، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔

بعض روایات میں آتا ہے کہ قانون جنگ کے سلسلے میں قرآن کریم کا یہ پہلا حکم ہے ۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان مومنین کو جن کے ساتھ کفار برسر پیکار تھے صرف جنگ کی اجازت دی تھی ۔ اس لئے کہ وہ مظلوم ہیں ۔ مسلمانوں نے محسوس کرلیا تھا کہ یہ اذن فرضیت جہاد کے لئے ایک تمہید ہے اور اللہ تعالیٰ اب اس زمین پر مسلمانوں کو تمکنت عطا کرنے والا ہے ، چناچہ سورة حج میں فرمایا : أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (39) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (40) الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الأرْضِ أَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الأمُورِ (41) ” اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے ۔ صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ” ہمارا رب اللہ ہے “ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور مندر اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ، سب مسمار کر ڈالی جائیں ۔ اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے ۔ اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ دیں گے ، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے ۔ اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “ وہ اس اذن کے معنی خود سمجھ گئے کیونکہ ان پر ظلم ہورہا ہے ، لہٰذا وہ ظلم کا بدلہ لے سکتے ہیں ۔ مکہ مکرمہ میں ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ ظلم کی مدافعت بھی نہ کرسکتے تھے ۔ وہاں انہیں حکم دیا گیا تھا : کُفُّوا اَیدِیکُم وَاَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوالزَّکٰوۃَ ” ہاتھ روکے رکھو ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔ “ مکہ میں ہاتھ اٹھانے کی ممانعت بھی ایک خاص حکمت پر مبنی تھی ۔ اس حکمت کے بعض اہم پہلو ہم یہاں بیان کرتے ہیں : 1۔ جنگ اور مدافعت سے روکنے کا پہلا سبب یہ تھا کہ عرب مسلمانوں کے اندر ڈسپلن پیدا کرنے کی ضرورت تھی تاکہ وہ اطاعت امیر کے عادی ہوجائیں ، اپنی قیادت کے مطیع وفرماں ہو اور مدافعت اور قتال کے حکم کا انتظار کریں ۔ جاہلیت میں تو وہ سخت جنگجو تھے ۔ پہلی آواز پر آپے سے باہر ہوجاتے تھے اور کسی خوشگوار بات کو دیکھ کر ان میں صبر کرنے کا مادہ تو تھا ہی نہیں ۔ انسانی تاریخ میں امت مسلمہ نے جو کردار ادا کرنا تھا اس کا تقاضا یہ تھا کہ اس امت کی ایسی تربیت ہو اور اس کی سیرت کی تعمیر ایسی ہو کہ اس کی یہ تمام کمزوریاں ضبط ونظم میں ڈھل جائیں ، وہ ایک مقتدر ومدبر قیادت کے تابع فرمان بن جائیں ۔ اس حد تک تابع کہ وہ دور جاہلیت کی تمام عصبیتوں اور ناجائز عصبیتوں اور ناجائز طرفداروں کو چھوڑدیں ، جن کی حمایت میں وہ جنگ وجدل کے لئے کسی پکارنے والے کی پہلی پکار پر اٹھ کھڑے ہوجاتے تھے ۔ یہی تعمیر سیرت تھی جس کی وجہ سے حضرت عمر بن الخطاب ؓ جیسے پرجوش شخص اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ؓ اور ان جیسے نڈر اشخاص امت مسلمہ کو سخت مصائب و شدائد میں دیکھتے اور اف تک نہ کرتے ۔ اس لئے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ رسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق اپنے آپ کو پوری طرح کنٹرول میں رکھیں ۔ اپنی ہائی کمان کی پوری اطاعت کریں اور قیادت عالیہ کا حکم تھا ۔ کُفُّوا اَیدِیکُم وَاَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوالزَّکٰوۃَ ” ہاتھ روکے رکھو ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ۔ “ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اندر پائی جانے والی تیزی سے کود پڑنے اور سوچنے سمجھنے ، جلد بازی اور تدبر اور حمیت اور اطاعت امر جیسی متضاد صفات کے درمیان توازن قائم ہوگیا اور پھر عرب جیسی بےحد ، پرجوش اور جنگجو قوم میں ۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں میں اس قسم کی تربیت کا کامیاب ہونا اور ان کے اندر ڈسپلن کا پیدا ہونا ہی ایک معجزہ معلوم ہوتا ہے۔ 2۔ دوسرا اہم سبب جس کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو قتال سے روکا گیا تھا وہ یہ تھی کہ عرب معاشرہ ایک بہادر اور شریف معاشرہ تھا۔ لوگ خود دار اور عزت نفس کے مالک تھے ۔ مسلمانوں میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جو اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے تھے لیکن اس کے باوجود جب وہ مظالم پر صبر کرتے ، کئی شرفاء کی عزت نفس اور شرافت میں جوش آجاتا اور ان کے دل اسلام کی طرف مائل ہوجاتے ۔ اس کا اظہار عملاً اس وقت ہوا جب قریش نے بنی ہاشم کے ساتھ بائیکاٹ کیا اور وہ شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے ۔ قریش کا مطالبہ یہ تھا کہ بنی ہاشم حمایت رسول سے دستبردار ہوجائیں ۔ جب بنی ہاشم پر مصائب ناقابل برداشت ہوگئے تو بعض غیور اور شرفاء کی بہادری اور غیرت جوش میں آگئی ۔ انہوں نے اس دستاویز کو پھاڑ ڈالا ، جس کے مطابق انہوں نے بائیکاٹ کا معاہدہ کیا تھا۔ اور محض اس جذبہ شرافت کی وجہ سے یہ محاصرہ ختم ہوگیا ۔ جنگ اور مدافعت سے ہاتھ روکنے کی مکی پالیسی میں رسول برحق ﷺ نے عربوں کے ان جذبات کو پیش نظر رکھا تھا۔ اگر رسول ﷺ کی سیرت کا مطالعہ بحیثیت قائد تحریک کیا جائے تب ان حکمتوں کا اظہار ہر جگہ ہوتا ہے۔ داعی اسلام ﷺ کا یہ منشاء ہی نہ تھا کہ اسلام کی وجہ سے گھر گھر میں خونریزی شروع ہوجائے کیونکہ ہر خاندان میں سے کوئی نہ کوئی مسلمان تھا اور مسلمانوں کو ایذا رسانی میں ، اور انہیں دین اسلام سے روکنے میں ، خود مسلمانوں کے اپنے خاندان پیش پیش تھے ۔ وہاں کوئی منظم حکومت نہ تھی جو مسلمانوں پر تشدد کررہی تھی ۔ اگر اس مرحلے میں مسلمانوں کو یہ اجازت دے دی جاتی کہ وہ اپنی مدافعت میں جنگ کریں تو نتیجہ یہ ہوتا کہ گھر گھر میں فساد رونما ہوتا اور خاندان سے خاندان ٹکراتا اور خانہ جنگی شروع ہوجاتی ۔ ایسی صورت رونما ہوتی تو لازمی طور پر یہ تاثر قائم ہوجاتا کہ اسلام نے گھر گھر اور خاندان میں فتنہ و فساد کے شعلے بھڑکادئیے ہیں۔ ہجرت کے بعد صورتحال بالکل جدا ہوگئی ، اب جماعت اسلامی مدینہ طیبہ میں ایک مستقل اور منظم وحدت تھی اور اس کا مقابلہ مکہ مکرمہ کی ایک منظم برادری سے تھا جس میں افواج کی تنظیم ہورہی تھی اور وہ فوج تحریک اسلامی کے خلاف حملہ آور ہورہی تھی ۔ یہ صورتحال مکہ مکرمہ کی صورتحال سے بالکل مختلف تھی ۔ گویا واضح طور پر اپنی حفاظت کا مسئلہ سامنے تھا اور یہ حفاظت افراد کے بجائے پوری ملت تھی ۔ یہ ہیں وہ اسباب جو ایک انسان اپنے محدود ذہن کے ساتھ ، اس بارے میں سوچ سکتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو تشدد وبربریت کا جواب دینے سے کیوں روکا گیا تھا۔ ان اسباب کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت مسلمان تعداد کے اعتبار سے بہت ہی کم تھے ، پھر وہ مکہ مکرمہ میں محصور تھے ، اگر وہ مقابلہ شروع کردیتے تو ان کے خلاف فوراً مقاتلہ شروع ہوجاتا اور ان کا مقاتلہ ایسے لوگوں سے ہوتا جو ہر لحاظ سے ان کے مقابلے میں طاقتور اور بارسوخ تھے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت یہ تھی کہ مسلمانوں کی تعداد میں اجافہ ہوجائے اور وہ اپنے مستقل دارالحکومت میں علیحدہ ہوکر مجتمع ہوجائیں ۔ جب یہ کام ہوگئے تو انہیں جہاد و قتال کی اجازت دے دی گئی۔ بہرحال اس کے بعد ، تدریج کے ساتھ ، جزیرۃ العرب اور عرب سے باہر کے علاقوں میں ، حسب ضرورت مسلمانوں کو جنگ کے احکام دئیے جاتے رہے ۔ زیر بحث آیات اس سلسلے کی ابتدائی آیات ہیں اور ان میں قتال کے بعض ایسے احکام دئیے گئے ہیں جو اس وقت کے بنیادی متحارب کیمپوں میں ، اسلامی کیمپ اور مشرکین کے کیمپ کے درمیان محاذ آرائی کے لئے مناسب اور ضروری تھے ۔ جبکہ بعض احکام ایسے بھی ہیں جو اصولی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر جنگ میں عموماً ایسے حالات پیش آسکتے ہیں ۔ ان احکام میں معمولی رد وبدل سورت براءت کے احکام کے ذریعہ ہوا ہے۔ یہاں ، تفسیر آیات قتال سے پہلے ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کے موضوع پر ایک مختصر نوٹ دے دیا جائے تاکہ آیات قتال اور دوسری آیات کی تفسیر کے لئے اساس کا کام دے ۔ اسلامی نظریہ ٔ حیات اپنی آخری شکل و صورت میں یعنی دین اسلام کی صورت میں رونما ہوا ۔ مقصد یہ تھا کہ اب سے یہ تمام انسانیت کی زندگی کا اصول بن جائے ۔ تمام انسانیت کا نظام زندگی قرار پائے اس نظام اور اس منہاج کو لے کر امت مسلمہ اٹھے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے پوری انسانیت کی قیادت کرے۔ یہ نظام زندگی ایک ایسا نظام ہے کہ یہ اس کائنات کے وسیع تر تصور پر مبنی ہے ۔ وجود انسانی کے اصل اور حقیقی مقاصد کی اساس پر تعمیر شدہ ہے اور اس کی توضیح وتشریح ایک کتاب میں کردی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ خالق کائنات کی جانب سے اتاری گئی ہے۔ نیز اس امت نے راہنمائی بھی ایک خالص بھلائی اور خیر محض کی طرف کرنی ہے ، جو کسی دوسرے جاہلی نظام میں نہیں ہے اور انسانیت کو ایک ایسے مقام بلند تک پہنچایا جہاں تک وہ اسلامی نظام زندگی کے سوا ، کسی اور نظام کے ذریعے نہیں سکتی ۔ اسے ایسی نعمت سے سرفراز کرنا ہے جس کے مقابلے میں کوئی نعمت نہیں ہے ۔ اسلام یقیناً وہ نظام زندگی ہے کہ اگر اس سے انسانیت محروم ہوجائے تو پھر اس کے لئے نجات و فلاح نہیں ہے۔ اگر انسانیت کو اس نیکی سے محروم کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ اسے جس بلندی ، جس پاکیزگی اور جس سعادت و کمال تک پہنچانا چاہتا ہے ، اسے اس سے روک دیا جائے تو انسانیت کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور اس سے بری زیادتی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے ۔ یوں انسانیت کا یہ حق ہوجاتا ہے کہ اسلام کے اس مکمل نظام زندگی کی دعوت پوری انسانیت تک آزادی کے ساتھ پہنچ سکے ۔ اور اس کی راہ میں یعنی دعوت اسلامی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ، اور کوئی حکومت بھی کسی صورت میں سدراہ نہ بن سکے ۔ ادھر انسانیت پر یہ لازم تھا کہ جب لوگوں تک دعوت اسلامی پہنچے تو وہ اس کے رد و قبول میں بالکل آزاد ہوں ۔ دین قبول کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔ کوئی حکومت سد راہ بنی ہوئی نہ ہو ۔ اگر کوئی شخص اسلامی نظام کو قبول کرتا ہے تو حکومت رکاوٹ نہ ڈالے ، نیز اسے اختیار نہ ہو کہ دعوت اسلامی کو اپنی منزل تک بڑھنے سے روکے ۔ علاوہ ازیں انسانیت کا یہ بھی فرض تھا کہ اسلام قبول کرنے والوں کو اطمینان اور آزادی کی ضمانت دے اور تبلیغ دین کے سلسلے میں تحریک اسلامی کی راہ میں جو مشکلات درپیش آرہی ہیں وہ انہیں دور کردے ۔ اس سلسلے میں کارکنان دعوت اسلامی پر کوئی زیادتی نہ ہونے پائے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو ہدایت نصیب فرمائے اور وہ دعوت اسلامی کو قبول کرلیں تو ان کا یہ بنیادی حق ہے کہ ان پر کسی قسم کا ظلم اور زیادتی نہ ہو ۔ ان پر تشدد نہ ہو اور ان کے خلاف اشتعال نہ ہو ۔ ان کی راہ میں اس قسم کی رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں جن کا مقصد لوگوں کو اسلامی نظام سے روکنے کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ تحریک اسلامی کے کارکنان کے فرائض میں یہ بات داخل تھی کہ وہ قوت کے ساتھ تشدد اور اشتعال کا مقابلہ کریں تاکہ دنیا میں آزادی رائے جیسے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جاسکے اور وہ لوگ امن وامان کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں جنہوں نے اس دین کو اپنانا ہے تاکہ زندگی میں اسلامی نظام رائج ہو اور انسانیت اس بھلائی اور نیکی سے محروم نہ ہو۔ ان بنیادی حقوق کے قیام کے نتیجے میں جماعت مسلمہ پر ایک اور ذمہ داری یہ عائد ہوجاتی ہے کہ وہ ہر اس قوت کو پاش پاش کردے جو دعوت اسلامی اور اس کی تبلیغ کے آڑے آئے ۔ یا وہ حق آزادی رائے کو چیلنج کرے یا وہ ایسے لوگوں پر تشدد کرے جنہوں نے دین ونظریہ کے معاملے میں آزادی سے کوئی نظریہ قبول کرلیا ہے ۔ امت مسلمہ کا یہ فرض اس وقت تک ہے جب تک اسلامی نظام قبول کرنے والوں کے لئے کوئی تشدد باقی رہتا ہے اور نظام زندگی صرف اللہ ہی کا رائج نہیں ہوجاتا۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ جہاد اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لوگوں کو اسلامی نظام زندگی اختیار کرنے پر مجبور نہیں کردیا جاتا۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر اسلامی نظام غالب ہونا چاہئے یوں کہ جو شخص بھی دین اسلام میں داخل ہونا چاہے اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہ ہو ، دنیا میں کوئی ایسی قوت نہ ہو جو کسی کو دین اسلام قبول کرنے سے روکے ، یا اس کی تبلیغ کرنے سے روکے ، یا اس دین پر قائم رہنے سے روکے ۔ دنیا میں کوئی ایسانظام نہ ہو جو اللہ کی ہدایت اور اس روشنی کو چھپا رہا ہو اور اس کے تحت رہنے والوں تک یہ ہدایت و روشنی پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہو ، یا عوام کو اللہ کے اس راہ سے گمراہ کیا جارہا ہو ، چاہے اس رکاوٹ کی نوعیت جو بھی ہو ۔ یہ تھے وہ بنیادی مقاصد جن کے لئے اسلام نے جہاد فی سبیل اللہ کو فرض کیا ہے ۔ یہ جہاد صرف انہی مقاصد عالیہ کے لئے تھا ، ان کے علاوہ اسلام کے پیش نظر اور کچھ نہ تھا ۔ نہ کوئی اور مقصد نہ کوئی اور رنگ ۔ یہ جہاد اسلامی نظریہ حیات کے لئے تھا ، کافرانہ نطریاتی پھیلاؤ کا محاصرہ توڑنے کے لئے تھا ، نظریہ ٔ تشدد کے خلاف تھا ، اور زندگی میں اسلامی نظام کے بچاؤ اور اسلامی شریعت کے قیام کے لئے تھا ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کرہ ارض پر اسلامی جھنڈے بلند کردئیے جائیں ، اس طرح کہ اسلامی نطریہ حیات کے مخالفین دشہت زدہ ہوجائیں اور ہر وہ شخص جو اسلامی نظام زندگی میں دلچسپی رکھتا ہے ، وہ اس میں داخل ہوجائے اور اسے دنیا کی کسی قوت کی جانب سے یہ خوف نہ ہو کہ اسے روکا جائے گا ۔ اس پر تشدد ہوگا۔ یہ ہے اور صرف یہی ہے وہ جہاد جس کا اسلام نے حکم دیا تھا اور یہ ابھی تک برقرار ہے اور اسلامی نظام اس پر قائم ہے جو لوگ اس میں کام آئیں اسلام کی نظر میں شہید ہوتے ہیں اور جو لوگ جہاد کے مصائب برداشت کرتے ہیں وہ غازی اور اولیاء اللہ کہلاتے ہیں ۔ یہ تھی وہ صورتحال جس سے مدینہ طیبہ میں جماعت مسلمہ دوچار تھی اور جس کے بارے میں سورة بقرہ کے اس سبق کی یہ آیات نازل ہوئیں ، مشرکین قریش نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے ناحق نکال دیا تھا ۔ انہیں محض اس لئے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوچکے ہیں ۔ ان کو صرف یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے آزادانہ طور پر کیوں ایک نظریہ حیات قبول کرلیا ہے ۔ ان حالات میں خصوصی ہدایت کے ساتھ ساتھ یہ آیات اسلام کے نظریہ کے لئے قاعدہ کلیہ بھی بیان کردیتی ہیں جو یوں ہے کہ مسلمانو ! تم ان لوگوں سے جنگ کرو جنہوں نے تم سے ناحق جنگ کی اور ابھی تک برسر جنگ ہیں اور آئندہ بھی تمہارے لئے یہی ہدایت ہے کہ جو تم سے لڑے اس سے لڑو ۔ مگر زیادتی نہ کرو۔ ارشاد ہوا ! وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ” اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں ، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ آیات قتال میں سے یہ پہلی آیت ہے اور پہلی آیت ہی میں قتال کے مقاصد کے بارے میں قطعی فیصلہ کردیا گیا اور واضح طور پر بتادیا گیا کہ وہ کون سا علم ہے جس کے تحت مسلمانوں کو معرکہ جہاد سر کرنا ہے۔ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ ” اور اللہ کی راہ میں ، ان لوگوں سے لڑو ، جو تم سے لڑتے ہیں۔ “ یہ جہاد ، یہ قتال صرف اللہ کے لئے ہے اور انسان نے طویل انسانی تاریخ میں ، جن معروف مقاصد کے لئے زبردست جنگیں لڑیں ان میں سے کوئی مقصد بھی اسلامی جہاد کو مطلوب نہیں ہے۔ نہ خاندانی شرف کے لئے ، نہ علو فی الارض اور برتری کے لئے ، نہ دولت وغنیمت کے لئے ، منڈیوں اور خام اشیاء پر قبضے کے لئے ، نہ کسی طبقے پر دوسرے کی سیادت کے قیام کے لئے اور نہ کسی نسل پر کسی نسل کی حکومت کے لئے ۔ اسلامی جہاد صرف ان مقاصد کے لئے ہے جن کی تحدید اسلام نے کردی ہے ۔ دنیا میں اسلام کا کلمہ بلند کرنے کے لئے ، اسلامی نظام زندگی کے نفاذ کے لئے ، مسلمانوں کو ظلم وتشدد سے بچانے کے لئے ، مسلمانوں کو گمراہی اور ضلالت سے بچانے کے لئے ۔ غرض یہ ہیں اسلامی مقاصد ، ان کے علاوہ دوسرے مقاصد کے لئے جو جنگیں لڑی جائیں وہ اسلامی جہاد کہلانے کی مستحق نہیں ہیں اور جو شخص بھی ایسی جنگوں میں حصہ لے گا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کسی اجر کا مستحق نہیں ہے ۔ نہ ہی اللہ کے ہاں اس کا کوئی مقام ہے ۔ جنگ کے مقاصد کے تعین کے ساتھ ساتھ ، اس کی مقدار اور حد بھی مقرر کردی گئی : وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ” مگر زیادتی نہ کرو ، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ “ زیادتی یوں ہوگی کہ جنگ لڑنے والے سپاہیوں کے علاوہ پرامن شہریوں کو بھی تکلیف دی جائے ، جو دعوت اسلامی کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں ، نہ ہی ان سے اسلامی جماعت کو کوئی خطرہ ہے ۔ مثلاً عورتیں ، بچے ، بوڑھے اور جو لوگ اللہ کی عبادت کے لئے الگ ہوگئے ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب وملت سے متعلق ہوں حکم دیا گیا کہ جنگ میں ان حدود وقیود کو پامال نہ کیا جائے ، جو اسلام نے جنگ کے لئے مقرر کئے ہیں ۔۔ اسلام نے سب سے پہلے ، ان قباحتوں پر پابندی عائد کی جو جاہلیت میں عام طور پر معروف تھیں ۔ خواہ یہ جاہلیت قدیم ہو یا جدید ۔ یہ قباحتیں ہیں جن سے اسلامی نظام متصادم ہے ۔ جن سے اسلام کی روح ابا کرتی ہے ۔ اس سلسلے میں رسول ﷺ کی چند احادیث کا مطالعہ کیجئے ۔ آپ ﷺ کے ساتھیوں کی ہدایات پڑھیے ، ان سے ان آداب کا مزاج آپ پالیں گے۔ یہ وہ آداب جنگ ہیں ، جن سے انسانیت کا تعارف سب سے پہلے اسلام کے نظام جنگ کے مطالعہ کے بعد ہوا : 1۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں :” رسول ﷺ کے مغازی میں سے ایک موقعہ پر ایک عورت پائی گئی جسے قتل کردیا گیا تھا ، اس پر رسول ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل سے منع فرمایا۔ “ (مالک ، شیخین ، ابوداؤد اور ترمذی) 2۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا !” جب تم جنگ کررہے ہو ، تو اس وقت چہرے پر مارنے سے اجتناب کرو۔ “ 3۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں !” ہمیں رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے لئے بھیجا ۔ اس موقع پر فرمایا :” اگر تم فلاں فلاں (قریش کے دو افراد) کو پاؤ تو انہیں آگ میں جلاؤ۔ “ جب ہم تیار ہوکر نکلنے لگے تو آپ نے فرمایا !” میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو آگ میں ڈالو ! لیکن آگ کے ساتھ اذیت دینا ، صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے ، لہٰذا حکم یہ ہے کہ اگر تم انہیں پاؤ تو دونوں کو قتل کردو۔ “ (بخاری ، ابوداؤد اور ترمذی) 4۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا !” جنگ میں سب سے زیادہ عفو و درگزر کرنے والے صرف اہل ایمان ہیں۔ “ (ابوداؤد) 5۔ عبدبن یزید انصاری سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں چوری اور قتل میں مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔ 6۔ حضرت ابویعلیٰ ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں ہم عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کی قیادت میں شریک جنگ ہوئے۔ دشمن کے چار آدمی لائے گئے ۔ حکم دیا گیا کہ انہیں نیزے کے چپٹے حصے کی طرف سے قتل کیا جائے اور انہیں اس طرح قتل کیا گیا ۔ اس کی اطلاع حضرت ابویوب انصاری ؓ کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول ﷺ کو اذیت دے کر قتل کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ۔ اللہ کی قسم اگر مرغی ہوتی تو بھی میں اسے اذیت دے کر قتل نہ کرتا۔ جب اس کا علم عبدالرحمٰن ؓ کو ہوا تو انہوں نے چار غلام آزاد کئے ۔ (ابوداؤد) 7۔ حارث نے مسلم ابن حارث ؓ سے روایت کی ہے۔ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا ۔ جب ہم حملہ کی جگہ پہنچے تو میں نے گھوڑی کو ایڑ دی ۔ وہ میرے ساتھیوں سے آگے جانکلی ۔ میں نے دیکھا کہ آبادی کے لوگ (خوف کے مارے) چیخ و پکار کررہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا جلدی سے کلمہ طیبہ لاالٰہ الا اللہ کا اقرار کرلو اور اپنے آپ کو بچالو ، انہوں نے کلمہ پڑھ لیا ۔ میرے ساتھیوں نے مجھے سخت ملامت کی اور کہنے لگے ، تم نے ہمیں مال غنیمت سے محروم کردیا ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے واپس آئے ۔ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو میری حرکت سے آگاہ کیا ۔ آپ نے میری تعریف کی ۔ اس کے بعد مجھ سے کہا :” اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ہر آدمی کے بدلے تمہارے لئے یہ یہ اجر لکھ دیا ہے۔ “ (ابوداؤد) 8۔ حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب بھی کسی کو مجاہدوں کے دستے کا سردار مقرر کرتے یا کوئی سریہ بھیجتے تو انہیں سب سے پہلے خدا خوفی کی وصیت فرماتے ۔ پھر فرماتے کہ اپنے ساتھیوں سے حسن سلوک رکھو اور پھر فرماتے ” اللہ کے نام کے ساتھ لڑو ، اللہ کی راہ میں ، ان لوگوں سے لڑو جنہوں نے کفر اختیار کیا ۔ لڑو لیکن غداری نہ کرو۔ مقتول کا مثلہ نہ کرو اور بچے کو نہ قتل کرو۔ “ (مسلم ، ابوداؤد اور ترمذی) 9۔ مالک نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اپنی فوج کو وصیت کرتے ہوئے منجملہ اور باتوں کے یہ فرمایا ” تمہیں ایسے لوگ بھی ملیں گے جنہوں نے بزعم خود اپنے آپ کو اللہ کا کردیا انہیں ان کی حالت عزلت ہی میں چھوڑ دو ۔ عورت کو قتل نہ کرنا۔ بچے اور بہت زیادہ بوڑھے کو بھی قتل نہ کرنا۔ “ یہ ہے وہ جنگ جو اسلام فرض کرتا ہے اور یہ ہیں اسلام کے آداب جنگ ۔ وہ مقاصد جن کے لئے اسلام معرکہ جنگ برپا کرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اور ان سب کا منبع قرآن مجید کا یہ حکم ہے ” اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو ، جو تمہارے ساتھ لڑیں اور زیادتی نہ کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ قرون اول کے مسلمان اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ محض اپنی تعداد کے بل بوتے پر فتح حاصل نہیں کرسکتے ۔ ان کی تعداد تو بہت قلیل ہے ۔ وہ اپنی تعداد اور سازوسامان کی بدولت فتح مند نہیں ہوسکتے ۔ کیونکہ ان کا سازوسامان دشمن کے مقابلے میں بہت ہی قلیل ہے ۔ وہ جانتے تھے کہ فتح صرف ایمان ، بندگی اور اللہ کی نصرت کے نتیجے میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کو ترک کیا تو وہ فتح ونصرت سے محروم ہوجائیں گے جو ان کا اصل سہارا ہے ۔ اس لئے وہ اپنی جنگوں میں ان آداب جنگ کو سختی سے ملحوظ رکھتے تھے ۔۔ یہاں تک کہ یہ آداب انہوں نے اپنے ان ازلی دشمنوں کے ساتھ بھی ملحوظ رکھے جنہوں نے انہیں سخت سے سخت اذیتیں دی تھیں ۔ اور ان کے شہداء کی لاشوں کا مثلہ کیا تھا۔ ایک موقعہ پر رسول اللہ ﷺ کا غضب جوش میں تھا ، آپ نے بعض لوگوں کے جلادینے کے احکامات صادر فرمادیئے ، لیکن تھوڑی دیر بعد ہی آپ نے اپنے احکامات واپس لے لئے اور جلانے سے منع فرمایا۔ اس لئے کہ آگ کے ساتھ سزا صرف خاصہ خدا ہے۔
Ayahs 2:191–192

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا ان سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ، اس لئے کہ قتل اگرچہ برا ہے ، مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے ۔ اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں تم بھی نہ لڑو۔ مگر جب وہ وہاں لرنے سے نہ چوکیں تو تم بھی بےتکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے ۔

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ باز آجائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے ۔

مسلمانوں کو صرف ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تاکید کی جاتی ہے ، جنہوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ۔ محض دینی نظریات کی وجہ سے ان پر تشدد کیا ۔ انہیں ان کے گھروں سے نکالا۔ حکم دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ وہ جس حال میں بھی ہوں ، مارے جائیں ، جہاں بھی ہوں مارے جائیں ۔ ماسوائے مسجد حرام کے ، ہاں اگر مسجد حرام میں بھی کفار جنگ کا آغاز کردیں تو پھر مسلمانوں کے لئے بھی جائز ہوگا ، سوائے اس کے کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں ۔ اس صورت میں چاہے انہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا ہو۔ چاہے ان پر ظلم کیا اور تشدد کا ارتکاب کیا ہو ، مسلمانوں کو یہ حکم ہے وہ ہاتھ روک لیں : وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلا تُقَاتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (191) فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ” اور ان سے لڑو جہاں بھی ان سے تمہارا مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے ، اس لئے کہ قتل اگرچہ برا ہے مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں ، تم بھی نہ لڑو۔ مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں ، تو تم بھی بےتکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ محض دین ، مذہب یا نظریہ کے اختلاف کی وجہ سے تشدد کرنا دراصل ، حیات انسانی کی مقدس قدر (Value) پر دست درازی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اسے قتل سے بھی زیادہ برا قرار دیا ہے ۔ اسے جان لینے اور زندگی ختم کردینے سے بھی زیادہ گھناؤنا جرم قرار دیا ہے ۔ یہ فتنہ جو قتل سے بھی شدید تر ہے کیا ہے ؟ محض ہراساں کرنا بھی اس میں آتا ہے ۔ عملاً تشدد بھی اس میں شامل ہے ۔ ایسے حالات پیدا کردینا بھی فتنہ ہے ، جن میں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہو ، انہیں اللہ کے مقرر کردہ نظام زندگی سے دور کرنا بھی فتنہ ہے ۔ مسلمانوں کے لئے کفر کو مرغوب بنانا اور اسلام سے انہیں دور کرنا ، ان کے اخلاق کو خراب کرنا یہ سب فتنے کی تعریف میں داخل ہیں ۔ اس فتنے کی واضح ترین مثال اشتراکی نظام ہے ۔ جہاں دینی تعلیم ممنوع اور الحاد کی تعلیم لازمی ہوتی ہے ۔ ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو زنا ، شراب جیسے محرمات کو جائز قرار دیتے ہیں اور نشر و اشاعت کے مختلف ذرائع سے ان چیزوں کو انسانوں کے لئے مرغوب بناتے ہیں ۔ جب کہ اسلامی نظام زندگی کی ہر بات میں کیڑے نکالتے ہیں ۔ اسے مسخ کرتے ہیں اور جو اجتماعی حالات میں یہ نظام پیدا کردیتا ہے ان کا اتباع وہاں کے عوام الناس کے لئے ایک حتمی فریضہ قرار پاتا ہے۔ آزادی رائے کے بارے میں یہ نقطہ نظر انسانی زندگی میں آزادی رائے کا یہ مقام بلند اسی نظام کے عین مطابق ہے ۔ وجود کائنات کی جو غرض وغایت اسلام نے پیش کی ہے ۔ نہ نقطہ نظر اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ اسلام کے مطابق تخلیق کائنات کی غرض وغایت بندگی ہے ۔ بندگی ہر اس اچھے کا کو کہا جاتا ہے جس میں کرنے والے کے پیش نظر اللہ کی رضامندی ہو ، اور اللہ کی بندگی تب ہی ممکن ہے جب انسان تمام دوسری بندگیوں سے آزاد ہو ، یہی وجہ ہے کہ انسان کی بلند ترین قدر (Value) اس کی آزادی ہے ۔ بالخصوص آزادی رائے ۔ اب جو شخص کسی کی آزادی چھین لیتا ہے ، محض نظریہ کی وجہ سے تشدد کرتا ہے ، براہ راست یا بالواسطہ ، وہ شخص اس شخص کے قتل سے بھی اس پر زیادہ ظلم کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کے مقابلہ میں مدافعت ہر طرح جائز ہے ، اگرچہ اس کے لئے جنگ کرنی پڑے ۔ قرآن کریم نے (فاقتلوھم) جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ (واقتلوھم) انہیں قتل کردینے کا حکم دیا ہے۔ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ” اور جہاں بھی ایسے لوگ پائے جائیں انہیں قتل کردینے کا حکم دیا ہے۔ جہاں بھی پائے جائیں ۔ جس حال میں بھی وہ ہوں ۔ جس ذریعے سے بھی تم نے ایسے لوگوں کو مار سکو ، ہاں اس سلسلے میں تم صرف اسلامی آداب جنگ کا لحاظ رکھنا ہوگا ، کسی کو مثلہ نہ کرنا کسی کو آگ میں جلانا ۔ مسجد حرام دارالامن ہے ۔ اس لئے اس کے قریب نہ لڑو ۔ اس کے بارے میں اللہ نے اپنے دوست ابراہیم کی دعا قبول کی تھی ۔ اسے مرکز عوام قرار دیا گیا تھا۔ اسے دارالامان گردانا گیا تھا ۔ لہٰذا حکم ہوا مسجد حرام کے قریب کسی کے ساتھ نہ لڑو ، الا یہ کہ کفار کا کوئی گروہ یہاں تمہارے ساتھ لڑنے لگے ، لیکن جنگ کا آغاز تم نہ کرو۔ اگر وہ آغاز کردیں اور مسجد حرام کا پاس نہ رکھیں تو پھر تمہارے ہاتھ بھی بندھے ہوئے نہیں ہیں ۔ یہ لوگ عوام کو ان کے دین کی وجہ سے ستاتے ہیں ۔ مسجد حرام کا احترام نہیں ، لہٰذا یہی ان کے لئے مناسب سزا ہے ۔ ارشاد ہوا ! فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” پھر اگر وہ باز آجائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ “ صرف باز آنا ہی کافی نہیں ۔ مسلمانوں پر تشدد سے باز آجائیں ۔ جنگ سے باز آجائیں ، کفر سے بھی باز آجائیں تب وہ معافی اور مہربانی کے مستحق ہوں گے ۔ صرف جنگ سے باز آنے کے لئے تو یہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان حالت امن کا اعلان کردیں۔ مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ کفار اللہ کی مغفرت اور رحمت کے بھی مستحق ہوجائیں ۔ ہاں یہاں مغفرت اور رحمت کی طرف اشارے سے مراد یہ ہے کہ کفار کو ایمان کی ترغیب دی جائے تاکہ کفر اور تشدد کے چھوڑ دینے کے بعد وہ اللہ کی مغفرت اور اس کی رحمت کے مستحق بھی ہوجائیں۔ اسلام کی شان عظمت اور شان کریمی تو دیکھئے ۔ کفار اور ظالموں کو بھی اشارہ کیا جاتا ہے ، کہ آؤ مغفرت و رحمت کی بارش ہورہی ہے ۔ آؤ تمہارے سابقہ گناہ معاف ، تشدد اور ظلم کا قصاص معاف ، دیت معاف ، اسلامی صفوں میں مؤمنانہ شان سے داخل ہوجاؤ ، تو سب کچھ معاف۔ تم نے قتل کیا تم نے تشدد کیا ، تم نے کیا کچھ نہ کیا ، مگر سب معاف اور مغفرت و رحمت کی بارش ۔
Ayah 2:193

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

تم ان سے لڑتے رہو ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہوجائے ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی جائز نہیں۔

اسلام میں جنگ کی غرض وغایت ہی یہ ہے کہ لوگوں کے تشدد کے ذریعے ، دین اسلام سے نہ روکا جائے ۔ قوت کے ذریعے ، یا قوت سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیار یعنی معاشرتی حالات کے ذریعے عوام کو اسلام سے نہ پھیرا جائے ۔ ان کے اخلاق کو خراب کرنے والے ، انہیں گمراہ کرنے والے اور انہیں فریب دینے والے ذرائع استعمال نہ کئے جائیں ۔ نیز یہ کہ اسلامی نظام کو وقعت حاصل ہوا اور اس کا پلڑا بھاری ہو ، اس کے دشمن ہیبت زدہ ہوں ۔ ان کو یہ جراءت نہ ہو کہ وہ اہل ایمان پر تشدد کریں یا انہیں اذیت دیں ۔ نیز عام لوگوں کے لئے اب کوئی خوف محسوس نہ ہو کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان پر تشدد ہوگا یا انہیں کوئی اذیت دی جائے گی ۔ ایک اسلامی جماعت کا یہ مستقل فریضہ ہے کہ وہ اس وقت تک برسرپیکار ہے جب تک ظالمانہ اور جابرانہ قوتیں ختم نہیں ہوجاتیں ۔ اور جب تک وقار اور غلبہ صرف اسلام کو حاصل نہیں ہوجاتا۔ اور کوئی فتنہ باقی نہ رہے ۔ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلا عُدْوَانَ إِلا عَلَى الظَّالِمِينَ ” تم ان سے لڑتے رہو ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہوجائے ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں ، تو پھر سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی جائز نہیں ہے۔ “ ایک وقت تھا ، جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو روئے سخن جزیرۃ العرب میں مشرکین مکہ کی طرف تھا ، کیونکہ اس وقت مشرکین مکہ ہی تشدد پر اترے ہوئے تھے ۔ جو یہ نہ مانتے تھے کہ نظام زندگی کا سرچشمہ صرف اللہ ہی ہے ۔ آیت کا مفہوم عام ہے ۔ ہر وقت نافذ ہے اور ہامرے لئے بھی راہ ہدایت ہے ، اس لئے کہ جہاد امت مسلمہ کے لئے قیامت تک ایک فریضہ رہے گا ، کیونکہ ہر دور میں ایسی قوتیں موجود رہتی ہیں جو لوگوں کو دین سے روکتی ہیں ۔ وہ ان کے کانوں تک دعوت اسلامی کی پہنچنے کے تمام ذرائع مسدود کرتی ہیں اور پھر بھی اگر کوئی کسی طرح دعوت اسلامی پر مطمئن ہوجائے تو یہ قوتیں عوام کو روکتی ہیں کہ وہ اسلام کو قبول کریں اور اسلام پر امن وامان کی حالت میں عمل پیرا ہوں چناچہ ہر وقت اسلامی جماعت کا یہ مستقل فریضہ ہے کہ وہ ایسی طاقتوں کو پاش پاش کردے اور لوگوں کو ان کے جبروتشدد سے آزاد کرائے ۔ وہ آزادی سے سنیں چاہے قبول کریں یا نہ کریں ۔ تشدد اور فتنے کو قتل سے بھی برا قرار دینے کے بعد ، بار بار اس کا تکرار بھی خالی از حکمت نہیں ہے۔ یہ تکرار اس لئے جاری ہے کہ اس معاملے کو اسلام میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ یہاں اسلام ایک عظیم اصول کی بنیاد رکھ رہا ہے ، انسان بدل رہا ہے۔ یہ انسان کے لئے درحقیقت ایک نیاجنم ہے ۔ یہ نئی زندگی انسان کو اسلامی نظام سے مل رہی ہے ۔ اب انسان کی قدر و قیمت اس کی حیوانیت اور اس کی جسمانی زندگی سے نہیں ۔ بلکہ اس کی قدروقیمت کا تعین اس کے عقیدے اور نظریہ سے ہورہا ہے ۔ ایک طرف انسان کی زندگی ہے ، دوسری طرف انسان کا نظریہ اور اس کا عقیدہ ہے ۔ عقیدے کا پلڑا بھاری قرار دیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ انسانیت کے دشمن صرف وہ لوگ ہیں جو دوسرے انسانوں پر محض اختلاف عقیدہ ، اختلاف نظریہ کی وجہ سے ظلم و تشدد کریں ۔ وہ لوگ جو ایک مسلمان پر محض اس لئے ظلم کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہے ۔ وہ اسے تشدد کے ذریعہ اسلام سے ، پھیرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ انسانیت کو ایک ایسے تصور سے محروم کرتے ہیں جو خیر ہی خیر ہے ۔ وہ لوگوں کو اللہ کے عطاکردہ نظام زندگی کی طرف آنے نہیں دیتے ۔ اس لئے ان کے ساتھ جنگ کرتے رہنا اسلامی جماعت کا فرض اولین ہے ۔ اس کا فرض ہے کہ ایسے لوگ جہان بھی ملیں انہیں ختم کردے تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہوجائے۔ یہ عظیم اصول ، جسے اسلام نے اپنے ابتدائی ایام میں وضع کیا تھا۔ اب بھی اپنی جگہ پر قائم ہے ۔ اب اسلامی نظریہ حیات اور اس کے حاملین پر قسم قسم کے تشدد ہورہے ہیں ۔ حاملین اسلام کو ، فرداً فرداً بھی اور بحیثیت جماعت بھی ظلم اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اور جو لوگ بھی ظلم وتشدد کا محض اس لئے شکار بنائے جارہے ہیں کہ انہوں نے ایک نظریہ حیات کو اپنالیا ہے یا انہوں نے ایک پسندیدہ نظام زندگی کو اپنا رکاے ہے ، چاہے جس قسم کا تشدد بھی ہو ، ان لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ، ان کے ساتھ لڑیں ۔ ماریں یا مارے جائیں اور ہر حال میں اس علم کو بلند رکھیں ۔ آزادی رائے کے علم کو جسے سب سے پہلے اسلام نے بلند کیا جس کے ذریعے بالکل ایک نیا اور آزاد انسان وجود میں آیا۔ جب بھی ظالم اپنے ظلم سے باز آجائیں ۔ وہ انسان اور اس کے خدا کے درمیان مداخلت چھوڑ دیں تو ان پر کوئی زیادتی یعنی ان کے خلاف کوئی مدافعت نہ ہوگی ۔ کیونکہ جہاد ہمیشہ صرف ظلم اور ظالم کے خلاف ہوتا ہے ۔ ارشاد ہوا پھر اگر وہ باز آجائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا کسی اور کے خلاف کوئی مدافعت نہ ہوگی۔ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلا عُدْوَانَ إِلا عَلَى الظَّالِمِينَ یہاں ظالموں کے خلاف مدافعت اور ان کے مقابلے کی تعبیر لفظ عدوان سے کی گئی ہے ۔ محض لفظی مشکلات کی بناپر ورنہ ظالموں کے خلاف جو کاروائی ہے ، وہ عدل ہے ۔ انصاف ہے اور مظلوموں کو ظلم سے بچانا ہے ، ظلم کو روکنا ہے ، کوئی زیادتی نہیں ہے ۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے ، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔

مسجد حرام کے قریب لنے کے احکام بیان کرنے کے بعد اب حرام مہینوں میں جنگ کے احکام بیان کئے جاتے ہیں ۔ الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ” ماہ حرام کا بدلہ حرام ہی ہے ۔ اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا ، لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے ، تم بھی اسی طرح اس دست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ “ جو شخص محرم کے مہینے کی حرمت کا کوئی پاس نہیں رکھتا اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ پابندیوں سے اٹھائے جو ان حرام مہینوں کے اندر عائد ہوتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام معاملات میں صرف ایک مقام مسجد حرام کو دارلامن قرار دیا ہے اور زمانوں میں سے حرام مہینوں کو زمانہ امن قرار دیا ہے ۔ اس مکان اور اس زمان میں کسی کا خون بہایا نہیں جاسکتا ۔ ہر کسی کی جان ومال محفوظ ہوں گے ۔ کسی بھی زندہ چیز کو دکھ نہ دیا جائے گا ۔ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ خود تو امن کے اس شاداب باغیچے میں عیش کرے اور مسلمانوں کو اس سے محروم کردے ۔ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ خود اسے بھی اس سے محروم کردیاجائے ۔ جو دوسروں کی آبروریزی کرتا ہے ۔ خود اس کی آبروہ محفوظ نہ ہوگی کیونکہ الحرمات قصاص تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کا ہوگا لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو تنبیہ کردی گئی کہ ظلم کا مقابلہ کرنے اور ظلمن کا بدلہ لینے میں ، وہ اپنے حدود سے آگے نہ بڑھیں ۔ کیونکہ ان کے مقدس مقامات اور ان مقدس و محرم مہینوں کے اندر محض ضرورت کے تحت تمہیں جنگ کی اجازت دی جارہی ہے ۔ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ ” لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو۔ “ لیکن اس معاملہ میں غلو اور زیادتی سے کام نہ لو ۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے قدر انتقام مقرر نہیں کی ۔ مقدار ان کی خدا خوفی پر چھوڑ دی گئی ہے ۔ جب کہ اوپر ہم کہہ آئے ہیں کہ مسلمان اس بات سے خوب واقف تھے کہ ان کی نصرت اور امداد صرف اللہ تعالیٰ کررہا ہے۔ اس لئے انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اللہ سے ڈریں ۔ یہی وہ حد ہے جس پر انہیں رکنا چاہئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا خوفی ہی امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ جہاد میں افراد کی طرح مال کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ جہاد سے پہلے ایک مجاہد کو سامان جنگ کی ضرورت ہوگی ، مثلاً سواری ، اور دوسرا سامان جنگ ، رسول ﷺ کے دور میں فوجیوں اور افسروں کی تنخواہیں مقرر نہیں تھیں ۔ وہ لوگ اسلام کے لئے جس طرح جان قربان کرتے تھے ، اس طرح اپنی دولت بھی راہ اللہ میں خرچ کرتے تھے ۔ اگر اجتماعی نظم ، نظریہ حیات پر استوار کیا جائے تو یہی صورت ہوتی ہے ۔ اگر حکومت کی بنیاد نظریہ پر ہو تو پھر اپنے بچاؤ یا اپنے عوام کے بچاؤ کے لئے ، یا دشمنوں کے مقابلے میں کسی جنگ کے لئے اسے دولت خرچ کرکے تنخواہ دار ملازمین رکھنے کی ضرورت سرے سے پیش ہی نہیں آتی ، فوج خود آگے بڑھتی ہے ، لیڈر خود آگے بڑھتے ہیں ، جان بھی دیتے ہیں اور مال بھی ۔ ضرورت اس بات پر غور کرنے کی تھی کہ بیشمار غریب مسلمان ایسے تھے ، جو جذبہ جہاد سے تو سرشار تھے ، وہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی زندگی کے لئے لڑنے مرنے کے لئے تیار تھے لیکن صور تحال یہ تھی کہ ان کے پاس سامان جنگ تھا نہ کوئی زاد راہ تھا ۔ میدان جنگ تک جانے کے لئے کوئی سواری نہ تھی ، ایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے اور التجائیں کرتے کہ آپ انہیں دور دراز میدان جنگ تک لے جائیں ۔ کیونکہ میدان جنگ بعض اوقات اتنا دور ہوتا تھا کہ وہاں تک پیدل جانا ممکن نہ تھا اور جب رسول ﷺ معذرت کا اظہار فرماتے تو وہ مایوس لوٹتے ۔ ان کے بارے میں قرآن مجید میں ہے ۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے ۔ “

تَوَلَّوا وَّاَعیُنُھُم تَفِیضُ مِنِ الدَّمعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوا یُنفِقُونَ (وہ لوٹتے ، مگر اس حال میں کہ ان کی آنکھیں اشک بار ہوتیں ، اس دکھ کی وجہ سے کہ ان کے پاس وہ کچھ نہیں ہے جسے وہ اس موقعہ پر خرچ کریں) قرآن مجید کی بیشمار آیات اور رسول ﷺ کی بیشمار احادیث میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی ہے ۔ خصوصاً غازیوں کے سازوسامان کے لئے ۔ قرآن مجید میں بیشمار مقامات ایسے ہیں جہاں دعوت و جہاد کے ساتھ ساتھ دعوت انفاق بھی دی گئی ہے اور یہاں تو انفاق فی سبیل اللہ سے پہلو تہی کرنے کو ہلاکت اور بربادی سے تعبیر کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس سے بچووَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (195) ” اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔ “ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے وہ بخیل ہوتے ہیں اور بخل کی وجہ سے نفس انسانی مردہ ہوجاتا ہے ۔ بخیل جس جماعت کا فرد ہے وہ اپنی ضعیفی کی وجہ سے مرگ مفاجات میں مبتلا ہوجاتی ہے ۔ بالخصوص ایسے نظام زندگی میں جو قائم ہی رضاکاری پر ہو ، جیسے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں نظر آتا ہے۔ بطور تاکید مزید کہا جاتا ہے کہ انفاق سے بھی آگے بڑھو ۔ درجہ احسان تک جاپہنچو وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ” احسان کا معاملہ اختیار کرو ، بیشک اللہ تعالیٰ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔ “ اسلام میں جو مراتب ہیں ، احسان ان میں بلند ترین مرتبہ ہے ۔ احسان کی تعریف خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے۔” تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور جو انسان اس مقام بلند تک جا پہنچے ، اس کے لئے تمام دوسری عبادات ادا کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔ تمام معاصی خود بخود چھوٹ جاتے ہیں اور ایسا شخص چھوٹے بڑے گناہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے ڈرتا ہے ۔ تنہائی میں اور محفل میں ہر جگہ اللہ کا خوف اس کے پیش نظر رہتا ہے۔ یہ وہ آخری نتیجہ ہے جس پر آیات جہاد کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور جہاد کے معاملہ میں نفس انسانی کو احسان کے سپرد کردیا جاتا ہے ، جو ایمان کا بلند ترین درجہ ہے ۔ اب یہاں سے حج ، عمرہ اور ان کے مناسک کا بیان شروع ہوتا ہے ۔ سلسلہ کلام میں خود بخود ربط قائم ہوجاتا ہے ۔ پہلے بات چاند کے سول سے چلی تھی جواب دیا گیا کہ وہ لوگوں کے لئے اور حج کے دوران اوقات کے تعین کے لئے ہے ۔ پھر حج کے حرام مہینوں میں جنگ ، مسجد حرام کے قریب جنگ کی بات چلی اور اس کے بعد اب حج اور عمرہ کے احکام بیان ہوتے ہیں جو مسجد حرام میں میں سرانجام پاتے ہیں ۔