Ayah 2:267انفاق فی سبیل اللہ کے آداب اور نتائج کے بیان کے بعد اب یہاں سیاق کلام ، انفاق فی سبیل اللہ کے دستور کو لے کر اب مزید آگے بڑھتا ہے ۔ انفاق کی حقیقت ، انفاق کا طریقہ کار اور لوازمات کو بیان کیا جاتا ہے۔
اس آیت سے پہلی آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کے لئے جو قواعد اور اساسات متعین کئے گئے تھے اور جن پر اس کی عمارت اٹھانے کا حکم دیا تھا ، ان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں بہترین مال خرچ کیا جائے ۔ اللہ کی راہ میں ردی اور گھٹیا اشیاء خرچ کرنے کا ارادہ ہی نہ کیا جائے جن میں خود مالک کی کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ ایسی اشیاء اگر خود ایسے شخص کو کسی سودے یا بیوپار میں دی جائیں تو وہ ان کے دعوض حقیر قیمت دینے کے لئے بمشکل تیار ہو۔ اللہ غنی بادشاہ ہے ۔ اسے ضرورت نہیں ہے کہ ایسی ردی اشیاء قبول کرے ۔
اللہ کی یہ پکار تمام مسلمانوں کے لئے ہے ۔ وہ جب کبھی ہوئے ہوں اور جہاں کہیں بھی ہوں اور یہ حکم تمام اموال کے لئے ہے جو ان کے ہاتھ آجائیں ۔ وہ تمام اموال جو انہوں نے حلال اور پاکیزہ طریقے سے کمائے ہوں یا وہ اموال ہوں جو ان کے لئے زمین سے پیدا کئے گئے ہوں۔ زرعی اجناس ہوں معدنیات ہوں مثلاپٹرول وغیرہ ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں عمومی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔ یعنی وہ اموال جو رسول اللہ ﷺ کے وقت موجود تھے یا وہ جو بعد میں پیدا ہوئے ۔ اس لئے آیت کے الفاظ عام ہیں ۔ ان کا اطلاق ان اموال پر بھی ہوتا ہے جو بعد میں پیدا ہوں ۔ ان تمام پر زکوٰۃ واجب ہوگی ۔ ہاں نصاب زکوٰۃ کا تعین سنت نبوی ﷺ نے کردیا ہے۔ لہٰذا ہر قسم کی پیداوار کو ان اموال پر قیاس کرلیا جائے ۔ جو رسول ﷺ کے وقت موجود تھے ۔ ہر نئی پیداوار کو ان اجناس پر قیاس کرلیا جائے جو رسول ﷺ کے وقت موجود تھیں ، اپنی اپنی نوعیت کے مطابق ۔
بعض روایات میں ، اس آیت کا شان نزول بھی بیان ہوا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں یہاں ان کا تذکرہ غیر موزوں نہ ہوگا ۔ کیونکہ ان روایات کے ذریعہ وہ حالاتدوبارہ سامنے آجاتے ہیں ، جن میں ان آیات کا نزول ہوا ۔ ان روایات سے وہ پست معاشرتی صورتحال بھی مستحضر ہوجاتی ہے جس کی اصلاح قرآن کے پیش نظر تھی اور جس کے معیار کی بلندی کے لئے قرآن کریم جدوجہد کررہا تھا۔
ابن جریر نے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت کی ہے ، فرماتے ہیں ” یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی ، جب کھجوریں توڑنے کا وقت قریب آتا تو وہ اپنے باغوں سے کھجوروں کے ایسے کو شے توڑ لاتے جن کے رنگ پیلے ہوجاتے تھے ، لیکن ابھی پکے نہ ہوتے تھے اور وہ انہیں مسجد نبوی کے دوستونوں کے درمیان لٹکادیتے تھے ، تو فقراء مہاجرین ان سے کھاتے تھے ۔ بعض لوگ ردی قسم کی کھجوریں بھی لاکر ان میں لٹکا دیتے ۔ وہ یہ سمجھتے کہ یہ جائز ہے ۔ جو لوگ یہ کام کرتے تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ ................ ” اور خبیث کا ارادہ نہ کرو کہ اس میں سے تم خرچ کرو۔ “ اس حدیث کو براء سے حاکم نے بھی روایت کیا ہے ۔ اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث اگرچہ بخاری اور مسلم کی شرائط کی صحت کے مطابق ہے ۔ لیکن بخاری ومسلم نے اسے روایت نہیں کیا ۔ ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت براء ؓ سے روایت کی ہے ۔ کہتے ہیں یہ ہمارے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ ہم کھجوروں کے مالک تھے تو ہر شخص تھوڑی بہت کھجوریں لایا کرتا تھا ، بعض لوگ ناپختہ لاتے تھے اور مسجد میں لٹکاتے تھے ۔ اہل صفہ کے طعام و قیام کا بندوبست کوئی نہ تھا ۔ ان میں سے جو بھی بھوکا ہوجاتا ، وہ آتا اور اپنی لاٹھی کو ان لٹکی ہوئی کھجوروں پر مارتا اور نیم پختہ اور پوری پختہ کھجوروں میں سے جو کچھ گرتا ، وہ کھالیتا۔
لوگوں میں سے بعض ایسے بھی تھے جو مائل بخیر نہ تھے ، وہ ناپختہ اور ردی قسم کی کھجوریں لے آتے ۔ وہ خصوصاً ایساخوشہ لاتے جو ٹوٹ چکا ہوتا تھا اور جس کے دانے ناپختہ ہوتے تھے ، اسے لٹکادیتے تو یہ آیت نازل ہوئی وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ................ ” ایسانہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لئے بری سی بری چیز چھاٹنے کی کوشش کرنے لگو ، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے تو تم ہرگز اسے لینا گوارا نہ کروگے ۔ الا یہ کہ اسے قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ۔ “ فرمایا : کہ اگر تم میں سے کسی کو ایسی ہر چیز ہدایہ دے جو وہ خود دے رہا ہے ، تو وہ اسے ہرگز نہ لے ۔ الا یہ کہ اغماض برتے یا حیاچشمی سے کام لے ۔ چناچہ اس کے بعد ہم سے ہر شخص کے بعد جو کچھ ہوتا ، اس میں سے اچھی چیز لاتا۔
دونوں روایات قریب المفہوم ہیں ۔ دونوں مدینہ طیبہ میں فی الواقع موجود صورتحال کا نقشہ کھینچ رہی ہیں ۔ یہ دونوں احادیث تاریخ کے ایک ورق کے بالمقابل ایک دوسرا ورق دکھاتی ہیں ، جس کے اوپر انصار مدینہ فیاضانہ دادوہش کے انمٹ نشان چھوڑدیتے ہیں ۔ نیز یہ احادیث بتاتی ہیں کہ ایک ہی جماعت کے اندر بعض افراد نہایت ہی عجیب اور بلند مقام کے حامل ہوتے ہیں اور بعض دوسرے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی تربیت اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ انہیں درجہ بلند کے راستے پر ڈالا جائے ، جس طرح بعض انصار کے معاملے میں یہ ضرورت پیش آئی ، انہیں اللہ کے راستے میں ردی اموال کو خرچ کرنے سے منع کیا جائے ۔ ایسے اموال کہ خود اگر انہیں پیش کئے جائیں تو وہ انہیں قبول نہ کریں ۔ الا یہ کہ رد کرنے میں حیا مانع ہو اور اگر کوئی لین دین ہو تو اس میں وہ اغماض برت جائیں ۔ یعنی قیمت میں کمی کرنے کے معاملے میں ۔ حالانکہ وہ جس ذات باری کے سامنے ہدیہ پیش کررہے ہیں وہ باری تعالیٰ ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ آیت کا خاتمہ اس فقرے پر ہوتا ہے ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ................ ” تمہیں جان لینا چاہئے کہ اللہ بےنیاز ہے اور بہترین اوصاف سے متصف ہے ۔ “ یعنی وہ اس بات سے مطلقاً بےنیاز ہے کہ اس کی راہ میں کوئی دیتا ہے یا نہیں دیتا۔ اگر کوئی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو خود اپنے مفاد کے لئے کرتا ہے ۔ تو بس اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ بہترین چیز خرچ کرے اور بطیب خاطر کرے نیز وہ حمید ہے ۔ وہ پاکیزہ چیزیں قبول کرتا ہے اور ان کی تعریف کرتا ہے ۔ ان پر جزا دیتا ہے اور اچھی جزا۔ غرض اس مقام پر یہ ان دونوں صفات کے ذکر سے انسانی دل اس طرح دہل جاتے ہیں ، جس طرح انصار کے دل دہل گئے تھے جن کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، جو مال تم نے کمائے ہیں ، ان میں سے بہترین حصہ راہ اللہ میں خرچ کرو ۔ “ ورنہ اللہ کو اس ردی چیز کی ضرورت نہیں جس کو تم چھانٹ کر بطور صدقہ خرچ کرتے ہو ، حالانکہ اللہ وہ ذات ہے جو تمہاری تعریف اس صورت میں کرتا ہے کہ تم اس کی راہ میں پاکیزہ چیزیں خرچ کرو اور اس رضامندی کی وجہ سے وہ پھر تمہیں اچھی جزا بھی دیتا ہے ۔ درآں حالیکہ یہ مال اسی نے تمہیں دیا ہے ۔ اصل داتا تو وہی ہے وہ تو بطور اعزاز تمہیں اس فیاضی پر جزا دیتا ہے ، اس لئے کہ تم جو کچھ دیتے ہو وہ اسی نے تو تمہیں عطا کیا ہے ۔ کس قدر شاندار تفہیم ہے یہ ! کیا عجب انداز ترغیب ہے ! یہ ایک عجیب اسلوب تربیت ہے جو قرآن کریم نے اختیار کیا ہے ۔
حقیقت یہ تھی اور ہے کہ اللہ کی راہ میں انفاق نہ کرنا ، یا ردی اور بےکار چیز بارگاہ الٰہی میں پیش کرنا ، اپنے اندر بعض برے تصورات لئے ہوتے ہیں ۔ ایسے شخص کو دراصل ان اعمال پر اللہ تعالیٰ کے ہاں جو اجر مقرر ہے اس پر پورا یقین نہیں ہوتا یا ایسے شخص کو تنگ دستی کا خوف لاحق ہوتا ہے ، جو کبھی بھی ان لوگوں کو لاحق نہیں ہوتا جن کا رابطہ اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے ، جن کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسہ ہوتا ہے ۔ انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ ہر چیز کا انجام آخرکار اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان کے مقابلے میں ان تصورات کی حقیقت کھول کر رکھ دی ، یہ بات عیاں کردی اور اچھی طرح سمجھادیا کہ نفس انسانی کے اندر یہ تصورات کہاں سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور انسانی دلوں میں ان کو بار بار جگانے والی وہ قوت کون سی ہے ؟ چناچہ بتایا جاتا ہے کہ وہ قوت شیطانی قوت ہے۔
Ayah 2:268شیطان تمہیں فقر اور تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے ۔ اس وجہ سے تمہارے نفوس کے اندر حرص ، بخل پیدا کرتا ہے ۔ شیطان تمہیں فحاشی کا حکم دیتا ہے ۔ عربی زبان میں فحاشی ہر اس معصیت کو کہتے ہیں ، جس میں انسان حد سے تجاوز کرجائے ۔ اگرچہ زیادہ تر اس کا استعمال ایک خاص معصیت میں ہوتا ہے ۔ تاہم یہ لفظ عام ہے ۔ تنگدستی کا یہ خوف ہی تھا ، جس کی وجہ سے ایام جاہلیت میں اقوام عرب اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے جو ایک قسم کی فحاشی تھی ۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنے کا جذبہ انہیں سود خوری پر آمادہ کرتا تھا ۔ جو ایک قسم کی فحاشی تھا ۔ نیز یہ خوف کہ انفاق فی سبیل اللہ سے وہ تنگدست ہوجائیں گے بجائے خود فحاشی ہے ۔
ایک طرف شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور فحشاء پر آمادہ کرتا ہے ، جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ تمہیں مغفرت کا یقین دلاتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ پر وہ تمہیں اجر عطا کرے گا وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلا ................ ” لیکن اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے۔ “
یہاں لفظ مغفرت کو پہلے لایا گیا ہے ، اس لئے کہ کہ فضل وکرم مغفرت کے بعد ہوتا ہے ۔ اور اس فضل وکرم میں اس سرزمین پر وسائل رزق بھی شامل ہیں یعنی بطور جزائے انفاق فی سبیل اللہ اس دنیا میں بھی رزق فراواں ہوگا ۔ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ................ ” اللہ بہت بڑا فراخ دست اور دانا ہے۔ “
وہ اپنی وسعت اور فراخ دستی سے عطا کرتا ہے ، وہ تمام دلی خلجانات کو بخوبی جانتا ہے ۔ وہ انسانی ضمیر کے تمام میلانات اور رجحانات سے بھی واقف ہے ، اس لئے وہ فقط مال ہی عطا نہیں کرتا ، فقط مغفرت ہی نہیں کرتا بلکہ وہ حکمت ودانشمندی بھی عطا کرتا ہے۔ اور دانشمندی اور حکمت سے انسان میں توازن اور اعتدال پیدا ہوتا ہے ۔ انسان اسباب اور مقاصد کے ادراک سے بہرہ ور ہوتا ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں انسان ہر چیز کو ماہیت کے مطابق مقام عطا کرتا ہے ۔ اور وہ تمام فیصلے فہم و فراست کے ساتھ سوچ سمجھ کر کرتا ہے ۔
Ayah 2:269يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ................” جس کو چاہتا ہے ، حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔ “
اسے میانہ روی دی گئی اور اعتدال نصیب ہوا ، اس لئے وہ انتہاپسندی اور حد سے تجاوز سے محفوظ ہوگیا ۔ اسے تمام چیزوں کے اسباب ونتائج سمجھائے گئے۔ اس لئے وہ ان اشیاء کی قدروقیمت کے تعین میں غلطی نہیں کرتا ، اسے روشن بصیرت دی گئی ، اس لئے وہ حرکات و سکنات اور اعمال وافعال میں سے صالح اور صائب کا انتخاب کرتا ہے اور یہ ایک ایسی دولت ہے جو مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے ۔
وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الألْبَابِ................ ” ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانشمند ہیں ۔ “ غرض وہی لوگ سبق لیتے ہیں صاحب بصیرت ہیں اور عقلمند ہیں ۔ ایسے لوگ سبق کو یاد بھی کرتے ہیں ، بھول بھی جاتے ہیں ۔ ایک دفعہ اگر متنبہ ہوجائیں تو پھر غفلت نہیں کرتے ۔ اگر کسی واقعہ سے عبرت پکڑیں تو پھر گمراہی کے راستے پر نہیں پڑتے ۔ یہ سب کام عقل کے فرائض میں شمار ہوتے ہیں ۔ عقل کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ راہ ہدایت اور اس کے نشانات کو پالے ۔ وہ معقول روش اختیار کرے اور لہو ولعب کی بےمقصد زندگی نہ گزارے ۔
یہ حکمت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے پسند کرتا ہے ، اسے عطا کردیتا ہے ، یہ حکمت و دانائی اللہ کی مشیئت پر موقوف ہے ۔ اسلامی تصور حیات کا یہ اصل الاصول ہے ۔ یہاں ہر چیز کا مرجع اللہ جل شانہ کی بااختیار مشیئت ہے ۔ ہاں اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے ایک دوسرا بھی اصول بیان کیا ہے ۔ وہ یہ کہ جو شخص بھی راہ ہدایت کی تلاش کا ارادہ کرے اور اس کے لئے پوری جدوجہد کرے تو اللہ کبھی بھی اسے راہ ہدایت سے محروم نہیں کرتا بلکہ وہ اس سلسلے میں اس متلاشی کی پوری پوری اعانت کرتا ہے۔
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ................ ” جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے ہم انہیں اپنے راستے دکھائیں گے ، اور یقینا ًاللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ “ (69 : 29) اس لئے ہر وہ شخص جو راہ ہدایت اختیار کرنا چاہتا ہے ، پوری طرح مطمئن رہے کہ مشیئت ایزدی اس کا حصہ ضرور کرے گی اور اسے راہ ہدایت کے ساتھ ساتھ حکمت ودانشمندی بھی عطا ہوگی اور اسے اس کے ساتھ ساتھ خیر کثیر بھی عطاء ہوگی۔
ذرا رکئے ! اس سے قبل کہ ہم اس آیت پر غور وخوص ختم کردیں ۔ ایک دوسری اور اہم حقیقت کی طرف اشارہ ضروری ہے ۔ ذرا غو رکیجئے ، شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے ۔ اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے ۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔
انسان کے سامنے صرف دو راستے ہیں ، کوئی تیسراراستہ نہیں ہے ۔ ایک اللہ کا راستہ ہے اور ایک شیطان کا راستہ ہے ۔ وہ یا تو اللہ کے وعدہ کی طرف کان لگائے اور یا شیطان کی پکار پر لبیک کہے گا ۔ اور یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کی راہ پر گامزن نہیں اور اللہ کی پکار نہیں سن رہا ہے ، وہ شیطان کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے ورغلانے میں آگیا ہے ۔ صرف ایک ہی طریق زندگی ہے ، یعنی حق کا راستہ ۔ وہ منہج ، وہ نظام جسے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا۔ اس کے علاوہ جو بھی راستہ ہے وہ شیطان کا راستہ ہے اور اس کی انتہاء شیطان تک ہے ۔ وہ شیطان تک پہنچتا ہے۔
قرآن کریم اس حقیقت کو بار بار بیان کرتا ہے ۔ بار بار اس کی تاکید کرتا ہے ۔ اس لئے کہ جو شخص اسلامی طریقہ حیات کو ترک کرکے شیطانی نظام زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے ، اس کے لئے کوئی ایسا دعویٰ کرنے کی گنجائش نہ رہے کہ وہ کسی طرح بھی راہ ہدایت پر ہے ۔ اس میں اب نہ کوئی شبہ کی گنجائش ہے اور نہ اس میں کوئی پوشیدگی ہے ۔ ایک جانب اللہ ہے اور دوسری طرف شیطان ہے ۔ ایک طرف خدائی طریق حیات ہے اور دوسری جانب شیطانی طریقہ کار ہے ۔ ایک طرف اللہ کی راہ ہے دوسری جانب شیطان کی راہ ہے ۔ جو چاہے جس راستے کا اختیار کرلے ۔
لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَا مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ................ ” اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے ۔ “ (42 : 8) کوئی بات پوشیدہ نہ ہو ۔ کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو ۔ یا گمراہی ہے یا صراط مستقیم ہے ۔ یہ راہ راست ہی حق اور سچائی ہے اور یہی واحد راہ ہے ۔ اس راہ کے علاوہ جس قدر راہیں ہیں وہ سب باطل ہیں اور ضلالت کی راہیں ہیں ۔
اس اہم نکتے کے بعد ہم اصل بات کی طرف آتے ہیں ۔ یعنی صدقہ اور انفاق فی سبیل اللہ ۔ جو شخص بھی اللہ کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرے اللہ کو اس کا پوری طرح علم ہے ۔ وہ صدقہ ہو یا نذر ہو ۔ وہ خفیہ ہو یا اعلانیہ ہو ، وہ اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور علم الٰہی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس فعل پر بھی اجر دیتا ہے اور اس فعل کے پس منظر میں جو نیت اور ارادہ پنہاں ہوتا ہے ، اس پر بھی اجر ملتا ہے۔
Ayah 2:270انسان اپنی دولت میں سے جو کچھ خرچ کرتا ہے ، اس پر صدقہ کا اطلاق ہوتا ہے ۔ زکوٰۃ خیرات وصدقات اور جہاد فی سبیل اللہ کے لئے دیاجانے والا مال سب صدقات کے ضمن میں آتے ہیں ۔ نذر بھی انفاق فی سبیل اللہ کی ایک قسم ہے ۔ صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ انفاق کرنے والا ایک معلوم چیز کو اپنے اوپر لازم کردیتا ہے ۔ اللہ کے سوا کسی کے لئے ، کسی کی راہ میں ، کسی کی وجہ سے ، کسی قسم کی نذر ونیاز دینا منع ہے ۔ اللہ کے سوا ، اس کے بندوں میں کسی کی نذر ماننا ایک گونا شرک ہے ۔ جس طرح مشرکین اپنے الٰہوں اور بتوں کے استہانوں پر مختلف جانور ذبح کرتے تھے اور یہ کام جاہلیت کے مختلف ادوار میں ہوتا رہتا ہے۔
وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ................ ” تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو ، اللہ کو اس کا علم ہے ۔ “ مومن کا یہ عقیدہ کہ ذات باری کو اس کی نیت کا پورا علم ہے ، وہ اس کی ضمیر کی پوشیدہ خواہشات سے بھی خبردار ہے اور اس کی تمام خفیہ حرکات بھی اس کی نظر میں ہیں ، اس کے شعور میں مختلف قسم کے زندہ احساسات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ وہ اس بات سے پرہیز کرتا ہے کہ اس کی سوچ اور اس کے عمل میں کسی قسم کی ریاکاری یا دکھاوا پایا جائے ۔ وہ بخیلی اور کنجوسی سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔ اس کے دل میں کمی وسائل اور فقر مسکنت کا خوف پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا یہ شعور پختہ ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کے ہاں پوری پوری جزا پالے گا ۔ وہ راضی برضا ہوکر اطمینان اور راحت کی زندگی بسر کرنے لگتا ہے ۔ وہ اللہ کے دربار میں اس کے انعامات کا شکر ادا کرتے ہوئے حاضر ہوتا ہے۔
لیکن اس کے برعکس جو شخص حق نعمت ادا نہیں کرتا ، وہ اللہ اور اپنے بندوں کے حقوق ادا نہیں کرتا ۔ وہ اللہ کے دئیے سے خیرات وصدقات نہیں ادا کرتا ، تو وہ شخص ظلم کا ارتکاب کرتا ہے ۔ وہ اپنے عہد کے ساتھ ظلم کرتا ہے ، عوام الناس پر ظلم کرتا ہے ، خود اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ................ ” اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ “
Ayah 2:271صدقہ اگر نفلی ہو تو اس صورت میں اللہ کے ہاں پسندیدہ یہ ہے کہ وہ خفیہ ہو ، اور اس لائق ہے کہ اس میں ریاکاری اور دکھاوے کا شائبہ تک نہ ہو ۔ لیکن اگر صدقہ ، صدقات واجبہ اور فرائض میں سے ہو ، تو اس میں اطاعت اور حکم کی بجاآوری کا پہلو بھی ہوتا ہے ۔ اور اس پہلو کا اظاہر اور اشاعت زیادہ مطلوب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ................ ” اگر اپنے صدقات اعلانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو تو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ “ اس میں ان دوحالتوں کا ذکر کردیا گیا ہے ۔ اس لئے ہر صورت کو اس وقت کے موجودہ حالات کی نسبت اختیار کیا جاتا ہے اور ہر بات عملاً موجودہ حالت کے مطابق اچھی یابری شمار ہوتی ہے۔ بہرحال اہل ایمان انفاق فی سبیل اللہ کے لئے جو صورت بھی اختیار کریں ، اس پر ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے کہ یہ ان گناہوں کا کفارہ ہوگا۔ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ................ ” تمہاری بہت سی برائیاں محو کردے گا ۔ “ ایک طرف اہل ایمان کے دل خدا خوفی اور برائی کے مقابلے میں پرجوش اور ہوشمند ہوجاتے ہیں اور دوسری طرف وہ راحت ، اطمینان کا صلہ پاتے ہیں ۔ اور نیت اور اعمال کے ہر مرحلے اور ہر حال میں وہ تعلق باللہ قائم رکھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ................ ” اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ کو بہرحال اس کی خبر ہے۔ “
یہاں مناسب ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کی ان طویل ہدایات پر قدرے غور کریں ۔ ان ہدایات میں مختلف انداز میں ترغیب و ترہیب سے بھی کام لیا گیا ہے ۔ اس غو روفکر سے ہمیں دو باتیں حاصل ہوتی ہیں ۔ پہلی یہ کہ اسلامی نظام میں انسان کے مزاج اور اس کی طبیعت کا پورا خیال رکھا گیا ہے ۔ انسانی مزاج میں بخل اور کنجوس داخل ہے ۔ انسان مال سے بےحد محبت کرتا ہے ۔ اور اس بات کی ضرورت ہے کہ بار بار اسے انفاق فی سبیل اللہ پر آمادہ کیا جائے ۔ اس کے سر انجام دینے کے لئے اسے بار بار جوش دلاتے رہنا چاہئے تاکہ وہ اس بخل اور لالچ سے ذرا بلند ہوکر سوچے اور بخل وکنجوسی کے بندھنوں سے رہائی پائے ۔ اور اس رتبہ بلندپر فائز ہو جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے پسند کیا ہے ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اگرچہ عربی معاشرہ میں جودوکرم ایک عام صفت تھی لیکن وہ لوگ جودوکرم محض اس لئے کرتے تھے کہ انہیں شہرت عام نصیب ہو ، ان کی فیاضی کا ڈھنڈورہ پٹ جائے ۔ شہروں اور بازاروں میں ان کا تذکرہ ہو ۔ اسلام کے لئے یہ آسان نہ تھا کہ وہ ابتدائے کار ہی میں لوگوں سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ ان امور میں سے کسی کا انتظار کئے بغیر ہی اللہ کی راہ میں خرچ کریں ۔ اور ان امور میں سے کسی کا کوئی لحاظ نہ رکھیں ۔ صرف اللہ کی ذات پیش نظر ہو اور عوام الناس ہو خاطر ہی میں نہ لائیں ۔ یہ مقام تو ایک طویل تعلیم وتربیت ہی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ وہ بھی ایک طویل جدوجہد کے بعد ۔ یہ تو تب حاصل ہوگا کہ لوگوں کو یہ بلند مقام حاصل کرنے کے لئے مسلسل پکارا جائے اور ان کو تزکیہ اور اخلاص کی تربیت دی جائے ۔ چناچہ تحریک اسلامی نے مسلسل یہ کام جاری رکھا ۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں اب اہل ایمان سے روئے سخن پھیر کر ، رسول ﷺ کو مخاطب کیا جاتا ہے ۔ اور روئے سخن اس لئے پھیر دیا جاتا ہے کہ وہ تمام حقائق یہاں ذہن نشین کردئیے جائیں جن کا اسلامی تصور حیات کی نشوونما میں بہت زیادہ دخل ہے ، اور اسلامی نظام زندگی کے حوالے سے اسلامی طرز عمل اختیار کرنے اور انسانی طرز عمل کو درست کرنے میں وہ بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔
Ayah 2:272ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ حکم فرماتے تھے کہ صرف اہل اسلام پر صدقہ کیا جائے ۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ” لوگوں کو ہدایت دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ................“ تو آپ نے حکم دیا کہ جس دین کے پیروکار بھی تم سے سوال کریں انہیں صدقہ دیا کرو۔
دل اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔ اللہ کی مخلوق میں سے یہ بات کسی کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کسی کو ہدایت دے یا گمراہ کردے ۔ اگرچہ وہ خود رسول ﷺ خود ہوں۔ ہدایت دینا یا گمراہ کرنا اللہ وحدہ کی ذات کا کام ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں کا خالق ہے ۔ دلوں پر صرف اللہ کی حکمرانی ہے ۔ صرف اللہ ہی دلوں کو موڑسکتا ہے ۔ وہی ہے جو دلوں کو حکم دے سکتا ہے ۔ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ وہ پیغام اچھی طرح پہنچادے ۔ رہی ہدایت تو یہ صرف اللہ کا کام ہے ۔ وہ جسے چاہے ہدایت نصیب کردے کیونکہ وہی ہدایت دینے کا مستحق ہے ۔ ہدایت دینا صرف اللہ کا استحقاق ہے ۔ انسان سے اس استحقاق کو لے لینا ، محض اس لئے ہے کہ ایک مومن طلب ہدایت کے لئے صرف اللہ کی طرف رجوع کرے اور وہ صرف اللہ ہی سے دلائل اخذ کرے ۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس استحقاق کو صرف خاصہ خدا قرار دینے کے بعد اب ایک داعی کے لئے یہ جواز باقی نہیں رہتا کہ وہ گمراہ لوگوں کے ساتھ نفرت کرے یا ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دلی تنگی محسوس کرے ۔ اس لئے کہ وہ انہیں مسلسل دعوت دیتا رہے گا ۔ ان کے ساتھ رحیمانہ برتاؤ کرے گا اور اس بات کا انتظار کرے گا کہ کب اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ راہ راست پر آجائیں ؟ کب انہیں توفیق بخشتا ہے کہ وہ اس سمت قدم اٹھائیں اور اپنے اللہ کو پہچانیں۔
لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ............... ” لوگوں کو ہدایت دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ۔ ہدایت تو اللہ ہی ہے جسے چاہتا ہے بخشتا ہے ۔ “ لہٰذا تم انہیں کھلے دل کے ساتھ دعوت دو اور ان کے لئے سینہ کھول دو ۔ ان پر اپنی رحمت اور حسن عمل کا فیضان کرو ۔ اس کے ساتھ بھلائی کرتے رہو اور ان کے لئے مددگار ثابت بنو جہاں تک وہ تمہاری امداد کے محتاج ہوں ۔ انہیں حکم دیتے رہو کہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں اور اس امداد کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے ۔
یہاں آکر ہم ان بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں جن کے آفاق وسیع اور روشن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے دل و دماغ کو ان بلندیوں تک پہنچادیتے ہیں اور ان پر ان کے دلوں کو مستحکم کردیتے ہیں ۔ اسلام نہ صرف یہ کہ مذہبی آزادیوں کا اصول متعین کرتا ہے ، نہ صرف یہ کہ وہ دینی امور میں جبر وتشدد کا ہی قلع قمع کرتا ہے بلکہ وہ اس سے بھی آگے بڑھ کر مذہنی رواداری کی ایسی فضا قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایات پر مبنی ہے اور وہ یہ اصول طے کرتا ہے کہ بلا امتیاز مذہب و عقیدہ ، معاشی تعاون اور معاشی امداد کے دروازے تمام لوگوں پر کھلے ہیں ۔ بشرطیکہ وہ امت مسلمہ کے ساتھ حالت جنگ میں نہ ہوں۔ وہ یہ یقین دلاتا ہے کہ ایسے حالات میں غیر مسلموں پر خرچ کرنے والوں کا اجر بھی عنداللہ محفوظ ہے ، بشرطیکہ یہ انفاق فی سبیل اللہ محض رضائے الٰہی کے لئے ہو۔ انسانیت کی یہ ایک ایسی سربلندی ہے جس سے ایک جست میں وہ ایک مقام بلند تک پہنچ جاتی ہے اور یہ مقام بلند اسے صرف اسلام کے طفیل ہی نصیب ہوسکتا ہے اور صرف وہی لوگ اس مقام بلند کی حقیقت پاسکتے ہیں ۔ جو صحیح معنوں میں مسلمان ہوں۔
وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلأنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لا تُظْلَمُونَ
” اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لئے بھلائی ہے ۔ آخر تم اسی لئے خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کروگے ، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا ۔ اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی۔ “
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی شان کی جو جھلک دکھائی ہے ، وہ ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اہل ایمان جب خرچ کرتے ہیں تو وہ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ............... ” تم اسی لئے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ “ ایک مومن کی صفت بس یہی ہے ، اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ وہ یہ ہے کہ صرف وہ رضائے الٰہی کے لئے خرچ کرتا ہے ۔ وہ خواہشات نفسانیہ یا کسی غرضب اور مطلب براری کے لئے نہیں خرچ کرتا۔ وہ یوں انفاق فی سبیل اللہ نہیں کرتا کہ انفاق کرے اور پھر کان لگا کر بیٹھ جائے اور سنے کہ لوگ کیا کہتے ہیں ۔ وہ اس لئے خرچ نہیں کرتا کہ وہ اپنے انفاق کے ذریعہ لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوجائے ۔ ان پر اپنی برتری ثابت کرے اور ان کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑ ثابت کرے ۔ وہ اس لئے نہیں خرچ کرتے کہ ان سے صاحبان اقتدار لوگ راضی ہوں یا وہ انہیں اس کا کوئی بدلہ دیں ۔ وہ تو صرف رضائے الٰہی کی لئے خرچ کرتے ہیں ۔ خالص اللہ کے لئے ۔ اس لئے دل مومن اس مطمئن ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس صدقہ کو ضرور قبول فرمائیں گے ۔ نیز اسے پورا اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت دے گا ۔ اسے یہ اطمینان بھی ہوتا ہے کہ اللہ نہ صرف یہ کہ اسے پورا پورا اجر دے گا بلکہ اس پر مزید انعام بھی ہوگا ۔ اسے پورا اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ کی مخلوق پر احسان اور انفاق کے نتیجے میں اللہ کی جانب سے وہ احسان اور بھلائی کا مستحق ہے ۔ چناچہ اسی دادوہش کی وجہ سے اس کا تزکیہ نفس ہوتا ہے ۔ اس کے اخلاق پاکیزہ ہوتے ہیں ۔ اور اس کی شخصیت بلند ہوجاتی ہے ۔ جب تک وہ اس جہاں میں زندہ ہوتا ہے رہی جزائے آخرت تو وہ بہرحال اعلیٰ و افضل ہوتی ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ خیرات وصدقات کے مصارف میں سے خصوصاً ایک مصرف کا ذکر فرماتے ہیں ۔ مومنین میں سے ایک گروہ کی تصویر پیش کی جاتی ہے جو صاف و شفاف ہے ۔ شریفانہ اور باوقار ہے ۔ اس تصویر کو دیکھ کر انسانی شعور میں طلاطم برپا ہوتا ہے ۔ اس تصویر کو دیکھ کر دل مومن حرکت میں آتا ہے اور نفس انسانی ایسی شخصیات کا ادراک کرلیتا ہے جو کسی جانب سے ، کسی قسم کی امداد حاصل کرنے کو پسند نہیں کرتیں ۔ اس لئے ان کی عزت نفس کو کسی طرح بھی ٹھیس نہ لگے ۔ اور وہ طلب حاجت نہیں کرتیں ۔ مبادا کہ انہیں حقیر سمجھ لیا جائے ۔ اس لئے وہ دست سوال دراز کرنے پر آمادہ نہیں ہوپاتیں ۔ اور نہ وہ اس سلسلے میں اظہار مطلب کرتی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
Ayah 2:273یہ پر تأثیر صفت مہاجرین کی ایک جماعت پر پوری طرح منطبق تھی ۔ وہ اپنے پیچھے اپنی دولت اور اپنا خاندان چھوڑ آئے ہوئے تھے وہ مدینہ میں قیام پذیر تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف کرلیا تھا ۔ یہ لوگ ہر وقت رسول اللہ ﷺ کے باڈی گارڈ تھے ۔ مثلاً اہل صفہ جو رسول اللہ ﷺ کی اقامت گاہوں کے محافظ بھی تھے ۔ کوئی دشمن ان سے آنکھ چراکر رسول اللہ ﷺ کی اقامت گاہوں تک نہ پہنچ سکتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف تھے اور کسب معاش یا تجارتی مقاصد کے لئے ادہر ادہر نہ جاسکتے تھے ۔ اس صورت حال کے باوجود وہ لوگوں سے کچھ مانگتے بھی نہ تھے ۔ وہ اس قدر خوددارانہ رویہ اختیار کئے ہوئے تھے کہ جو شخص ان کے حالات سے وقف نہ ہوتا ، وہ سمجھتا کہ یہ تو بہت خوش حال اور فارغ البال لوگ ہیں ۔ نہ کسی سے کچھ مانگتے ہیں اور نہ ہی کوئی کاروبار کرتے ہیں ۔ صرف اصحاب عقل و دانش ان کی اصل صورت حال وکیفیت کو سمجھ پاتے تھے۔
لیکن اس ابتدائی مصداق کے باوجود ، یہ آیت عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر دور اور ہر زمانے میں پائے جانے والے لوگوں پر ہوتا ہے جو شرفاء میں سے ہوں جو ایسے حالات میں محبوس ہوں کہ وہ ان میں تلاش معاش نہ کرسکتے ہوں ۔ اور ان کی شرافت نفس انہیں اس بات سے روک رہی ہو کہ وہ کسی سے سوال کریں ۔ وہ بظاہر ایسا رویہ رکھتے ہوں جس سے ان کی اصل حالت کا اندازہ نہ ہوسکتا ہو اور ان کی اس ظاہری حالت کے پس پردہ جو صورت حال ہو ، ناواقف آدمی ان کی اس خودداری کی وجہ سے اس کا صحیح اندازہ نہ کرسکتا ہو ، ہاں ایک حساس اور سمجھ دار شخص ہی ان کی اصل صورت حال سے واقف ہوسکتا ہو۔ اس لئے کسی بھی شخص کے اندرونی تیز احساسات چہرے پر آہی جاتے ہیں۔ اگر چہ وہ شخص حیاء اور خودداری کی وجہ سے انہیں چھپانے کی بہتیری کوشش کرتا ہو۔
یہ ایک ایسی تصویر ہے جو گہرے اشارات کی مظہر ہے ۔ یہ مختصر آیت ان شرفاء کی ایسی تصویر بناتی ہے ۔ یہ ایک مکمل تصویر ہے اور خودداری اور حیا چشمی کے رنگوں سے بنی ہوئی ہے ۔ اس آیت کا ہر جملہ گویا نقاش کی قلم کی نوک ۔ جو ان لوگوں کے خدوخال کو کاغذ پر منتقل کرتی چلی جارہی ہے اور اس تصویر سے ان کے تأثرات اور احساسات کا پوری طرح اظہار ہوتا ہے ۔ جو نہی ایک انسان ان آیات کی تلاوت کرتا ہے ، اس کی لوح دماغ پر ان حضرات کی تصاویر منقش ہوجاتی ہیں ۔ اس طرح کہ گویا وہ شخصیات نظروں کے سامنے کھڑی ہیں ۔ وہ چہرے صاف نظر آرہے ہیں ۔ انسانیت کے مختلف نمونوں کی تصویر کشی میں قرآن کریم کا یہی انداز ہے ۔ مختلف قسم کے انسان یوں نظر آتے ہیں کہ گویا وہ زندہ اور متحرک شخصیات ہیں ۔
ان شرفاء اور فقراء کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ضروریات اور حاجات کو یوں چھپاتے ہیں ۔ جس طرح ایک انسان اپنے ستر کو چھپاتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو اگر کچھ دیا جائے تو وہ صرف تنہائی میں دیا جائے تاکہ ان کی خودداری اور عزت نفس کو ٹھیس نہ لگے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں ایک قسم کا اشارہ دیا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی امداد بھی نہایت ہی خفیہ طریقے سے کی جانی چاہئے ۔ چناچہ انفاق کنندہ کو یقین دہائی کرائی جاتی ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے ۔ اور اس کی پوری پوری جزا دینے والا ہے۔ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ............... ” ایسے لوگوں کی اعانت میں جو مال تم خرچ کروگے وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا۔ “ یہ صرف اللہ ہی ہے جو خفیہ بھیدوں کا جانتا ہے اور اس کے ہاں کوئی بھلائی بغیر اجر کے ضائع نہیں ہوتی ۔
سب سے آخر میں اس ضابطہ انفاق فی سبیل اللہ کا خاتمہ ایک عام اور ایک کلیہ پر مشتمل آیت پر ہوتا ہے ۔ جو ہر قسم کے انفاق اور صدقات کو شامل ہے ۔ اور اس کا حکم بھی عام ہے اور ہر اس چیز کو شامل ہے جو اللہ کے لئے دی جائے ۔
Ayah 2:274اس خاتمہ کلام میں اس آیت کی عمومیت اور ہم آہنگی بہت ہی خوبصورت نظر آتی ہے ۔ آیت کا آغاز اور اختتام ایک موزوں سر کی طرح باہم متوازن اور اصول عام کی صورت میں دوبارہ دہرایا جاتا ہے۔ اور بہت ہی موزونیت کے ساتھ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ............... ” وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔ “ یعنی ہر قسم کے مال اور دولت جو وہ خرچ کرتے ہیں ۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلانِيَةً............... ” شب و روز چھپے یا کھلے ۔ “ یعنی جن اوقات اور جن حالات میں بھی وہ انفاق فی سبیل اللہ کرتے ہیں فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ............... ” تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ “ ان کا ہر قسم کا اجر محفوظ ہے ۔ اس میں اضافہ بھی ہوگا ، اس سے ان کی عمر میں برکت بھی ہوگی ۔ آخرت میں بھی پوری پوری جزاملے گی ۔ اور اللہ کی رضامندی اس پر مستزاد ہوگی۔ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ............... کسی بھی جانب سے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا ۔ کسی جانب سے کسی کا کوئی خدشہ نہ ہوگا۔ نہ دنیا میں ہوگا نہ آخرت میں ہوگا۔ غرض دستور انفاق فی سبیل اللہ کا یہ موزوں اور متناسب اختتامیہ ہے جس میں یہ اشارات پنہاں ہیں کہ انفاق فی سبیل اللہ اپنی عمومی شکل میں ماجور ہے چاہے وہ جس قسم کا ہو جس وقت ہو ، جس مقصد کے لئے ہو۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کی زندگی کی معیشت کا مدار صرف انفاق فی سبیل اللہ پر نہیں رکھتا ۔ اسلامی نظام میں معیشت کا دارومدار اس پر تھا کہ ہر شخص کے لئے جو قدرت رکھتا ہو ، روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں ۔ اس کے علاوہ اسلام نے اپنی معیشت کا دارومدار ، اہل اسلام کے درمیان ، دولت کی منصفانہ تقسیم پر رکھا ہے اور دولت کی اس تقسیم کا اصول حسن کارکردگی اور استحقاق پر رکھا گیا ہے لیکن بعض اوقات ایسے استثنائی حالات درپیش ہوجاتے ہیں ، جن میں معیشت کے عمومی اصول کارآمد نہیں ہوتے اور ان حالات میں درپیش مشکلات ان سے حل نہیں ہوتیں۔ ایسے حالات کو اسلام انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے حل کرتا ہے ۔ یہ انفاق بعض اوقات تو ایک لازمی ٹیکس کی صورت میں ہوتا ہے ، جسے وہ اسلامی حکومت نافذ کرتی ہے جو اسلامی شریعت نافذ کرنے والی ہو ۔ صرف اسلامی حکومت ہی اس قسم کا لازمی ٹیکس نافذ کرسکتی ہے ۔ زکوٰۃ اور صدقات واجبہ اسلامی حکومت کے محاصل میں سے اہم ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ تقسیم دولت صدقات نفلیہ کی صورت میں ہوتا ہے جن کی مقدار کا تعین نہیں ہوتا اور یہ نفلی صدقات اہل ثروت کی جانب سے مستحقین کے لئے ہوتے ہیں ۔ جو انہیں ذاتی طور پر دئیے جاتے ہیں ۔ اور اس قسم کا عطیہ دیتے وقت ان آداب اور شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے جن کا اوپر ذکر ہوا ۔ اور ان آداب ہی کی وجہ سے لینے والے خودداری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ یہی خودداری ہے جس کا اظہار اس آیت میں ہوا ہے ۔ اس خود داری کو اسلام نے اسلامی معاشرہ میں اس قدر ترقی دی تھی کہ ایک شخص کے پاس کچھ بھی نہ ہوتا تھا اور وہ معمولی ضروریات زندگی کا بھی محتاج ہوتا ، تب بھی وہ دست سوال کسی کے سامنے دراز نہ کرتا۔
بخاری نے عطاء ابن یسار اور عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے روایت کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابوہریرہ سے سنا ۔ فرمایا کہ رسول ﷺ نے فرمایا ” مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک کھجور یا دوکھجوریں لوٹادیں ۔ یا ایک لقمے یا دو لقموں کے لئے وہ بھیک مانگتا پھرے ، مسکین وہ ہوتا ہے جو خوددار ہو۔ “ اگر تم چاہو تو اس آیت لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ............... ” وہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر سوال نہیں کرتے ۔ “
امام احمد نے ابوبکر ، عبدالحمید بن جعفر ، اس کے والد کے واسطہ سے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کی روایت نقل کی ہے ۔ اس شخص کو اس کی والدہ نے مشورہ دیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تم کیوں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاکر سوال نہیں کرتے ؟ اس نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ مانگوں ۔ پہنچا تو آپ تقریر فرما رہے تھے ” جس نے خودداری کی اللہ تعالیٰ اسے دے دے گا اور جو شخص استغناء کرے گا اللہ تعالیٰ اسے غنی بنادے گا ۔ جو شخص لوگوں سے سوال کرتا ہو حالانکہ اس کے پاس پانچ اوقیہ کے برابر مال موجود ہے تو گویا اس نے اصرار کرکے سوال کیا (الحافاً ) میں نے اپنے دل میں کہا ” میرے پاس ایک اونٹنی ہے جو یقیناً پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمتی ہے ۔ اور میرے غلام کے پاس ایک دوسری اونٹنی ہے ، وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمتی ہے ۔ “ اس لئے میں واپس ہوگیا اور درخواست نہ کی ۔
حافظ طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ ، محمد بن سیرین سے روایت کی ہے ۔ حارث کو (ایک شخص جو قریشی تھے اور شام میں رہتے تھے ) خبر ملی کہ حضرت ابو ذرؓ کے مالی حالات ٹھیک نہیں تو اس نے انہیں تین سو دنیار بھجوائے ۔ ابوذر نے جواب دیا :” کیا عبداللہ کو مجھ سے زیادہ تنگ دست اور کوئی نظر نہیں آیا ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ” جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس چالیس درہم ہوں تو اس نے الحاف کیا ۔ “ ابوذر کے خاندان کے پاس چالیس درہم موجود ہیں ایک بکری اور دونوکر بھی موجود ہیں ۔ ابوبکر بن عیاش نے کہا ماہنان سے خادمان ہیں ۔
غرض اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے ۔ اس کے نصوص ، اس کی ہدایات اور اس کے قوانین سب کے سب بیک وقت کام کرتے ہیں ان نصوص وہدایات اور قوانین کے دفعات پر علیحدہ علیحدہ غور نہ کیا جائے گا ۔ اسلام کے اصول اور ضابطے بیک وقت روبعمل ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان میں باہم تناسق اور تناسب ہوتا ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا مشورہ وجود میں آتا ہے جس کی نظیر اس کرہ ارض پر انسانی معاشروں میں نہیں ہوتی ۔ وہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد معاشرہ ہوتا ہے۔