Ayah 2:219اس وقت شراب اور جوئے کی حرمت کا حکم نازل نہ ہوا تھا ، لیکن قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت بھی نہیں ہے جس سے اس کی حلت کا ثبوت ملتا ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جس راستے پر لے جانا چاہتا تھا ، اس کی مرضی یہ تھی کہ وہ انہیں اس راہ پر قدم بقدم لے جائے اور خود اپنی نگرانی میں اس امت کو اس رول کے لئے تیار کرے جس کے کے لیے اس نے اسے برپا کیا ۔ یہ رول اس قدر عظیم تھا کہ اس کے ساتھ شراب اور جوئے جیسے مخرب الاخلاق ومخرب اوقات کام چل ہی نہ سکتے تھے ۔ عمر کا ٹکڑے ٹکڑے کردینا ، فہم کا پریشان کردینا اور جدوجہد کے حصے بخرے کردینا اس رول اور اس منصب کے مناسب نہیں ۔ اس کے حاملین ان نکتوں کی طرح نہیں ہوسکتے ، جن کا کوئی کام اس کے سوا نہیں ہوتا کہ وہ کام ودہن اور گوشت پوست کی لذت کے پیچھے دوڑتے پھریں ۔ نہ وہ ایسے لوگوں کی طرح ہوتے ہیں جن کا کوئی نظریہ نہ ہو اور ذہن و شعور کا خلا ، خوفناک خلا ، ان کے تعاقب میں ہو اور وہ اس خلا کو شراب کی مدہوشی اور جوئے کی مشغولیت سے بھرنا چاہتے ہیں : نہ وہ ایسے لوگوں کی طرح ہوتے ہیں کہ جو نفسیاتی مریض ہیں اور خود اپنے سایے سے بھاگ رہے ہیں اور شراب وقمار کی پناہ لینے پر مجبور ہیں ۔ حاملین جاہلیت ہمیشہ ان مفاسد میں مبتلا رہے ہیں ۔ آج بھی وہ اس میں مبتلا ہیں اور مستقبل میں بھی جاہلیت کا یہی نشان ہوگا ۔ البتہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اسلام اپنے مخصوص نظام تربیت کے مطابق ، نفس انسانی کو بڑی سہولت میں لے کر چلتا ہے اور بڑی تدریج اور ترقی کے ساتھ اس کی تربیت کرتا ہے ۔
آیت زیر بحث کے سلسلے میں پہلی کڑی ہے ۔ یہ پہلا قدم ہے ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی چیز یا کوئی فعل بذات خود شر ہی شر ہو ، ہوسکتا ہے کہ شر میں خیر کا پہلو بھی کوئی پہلو موجود ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ خیر اور بھلائی میں شر کا کوئی پہلو ہو ۔ لیکن جائز ، حلال و حرام اور امر ونہی کا دارومدار دراصل غالب خیر یا غالب شر کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ جوئے اور شراب میں شر کا پہلو چونکہ غالب ہے اس لئے یہ ان چیزوں کی حرمت کے لئے علت بن جائے گا ۔ اگرچہ یہاں ان اشیاء کی حرمت کی صراحت نہیں کی گئی ۔
یہاں اسلامی نظام تربیت اور قرآنی منہاج تعمیر اور ربانی طرز تعلیم کا ایک انداز کھل کر سامنے آجاتا ہے ۔ یہ نہایت ہی حکیمانہ انداز تربیت ہے ۔ اسلام کی اکثر ہدایات وفرائض اور قانون سازی میں تتبع اور استقراء سے معلوم ہوگا کہ یہی منہاج اختیار کیا گیا ہے ۔ خمر اور میسر کے بارے میں اس ہدایت کی مناسبت سے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے ایک اصول کی طرف یہاں ایک اشارہ کردیں :
1۔ اگر کسی امر ونہی کا تعلق کسی ایسے اصول سے ہو جس کا تعلق اسلام کے نظریات و عقائد سے ہو تو اسلام پہلی فرصت میں اس کا قطعی اور اٹل فیصلہ کردیتا ہے۔
2۔ اگر کسی امر ونہی کا تعلق کسی ایسے مسئلہ سے ہو جو بطور عادت معمول بہ ہو یا بطور رسم چلا آتا ہو ، تو اسلام اس کے بارے میں اصلاحی قدم اٹھانے سے پہلے انتظار کرتا ہے ۔ تدریج ، رفق اور سہولت سے اس میں کوئی قدم اٹھاتا ہے اور اقدام سے پہلے ایسے حالات تیار کرتا ہے ، جن میں نفاذ قانون اور نفاذ حکم کے لئے راہ اچھی ہموار ہوجاتی ہے۔
مثلاً مسئلہ توحید اور مسئلہ شرک کے بارے میں اسلام نے پہلی فرصت میں فیصلہ کن بات کردی ۔ عقائد شرکیہ پر فیصلہ کن حملہ کیا ۔ بغیر کسی تردد ، بغیر کسی جھجھک کے ، بغیر کسی رکھ رکھاؤ کے ، بغیر کسی سودے بازی کے ، بغیر کچھ لو اور کچھ دو پالیسی کے ۔ پہلے ہی مرحلے میں ایک ایسا وار کیا کہ شرک کا تانا بانا ادھیڑ کر رکھ دیا ۔ کیونکہ یہ مسئلہ اسلامی نظریہ حیات کا اساسی مسئلہ ، اعتقاد کا مسئلہ تھا ۔ اس کے بغیر ایمان مکمل ہی نہ ہوسکتا تھا۔ اس کی صفائی کے بغیر اسلام اپنی جگہ پر قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا
شراب اور جوأ ایسے معاملات تھے جن کا تعلق (Custom) سے تھا۔ عادت بد ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج معالجہ ضروری ہے ۔ اس لئے اس کے علاج کے لئے قرآن کریم نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ان چیزوں کے خلاف دینی شعور بیدار کیا گیا ، مسلمانوں کے دماغ میں قانون سازی کرنے کے لئے وہ دلائل بٹھائے گئے جن کی وجہ سے ان چیزوں کو حرام قرار دیا جاسکتا ہے ۔ مثلاًیہ کہ جوئے اور شراب میں جو مضرات اور قباحتیں ہیں وہ ان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں جوان میں ہیں ۔ اس منطقی دلیل میں اسی طرف اشارہ تھا کہ ان چیزوں سے پرہیز کرنا زیادہ بہتر اور مناسب ہے ۔ اس کے بعد دوسرا قدم سورة نساء کے ذریعہ کیا گیا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ تم جو کہتے ہو اسے سمجھنے لگو پھر نماز پڑھو ۔ “ اب نماز کے پانچ اوقات ہیں اور اکثر اوقات ایک دوسرے کے بہت ہی قریب ہیں ۔ ان کے مابین اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ایک شخص شراب پئیے ، نشہ میں ہوجائے اور پھر اسے افاقہ ہوجائے ۔ یوں عملاً اس کے اوقات میں کمی کردی گئی ۔ یوں نشے کے مخصوص اوقات میں نفس میں جو اشتیاق پیدا ہوتا ہے اسے توڑدیا گیا ۔ یہ بات عام طور پر مشہور ہے کہ نشے کے عادی نشے کے اوقات میں طلب محسوس کرتے ہیں یعنی جن اوقات میں عام طور پر وہ نشہ کرتے ہیں ۔ اگر کوشش کرکے کسی طرح وہ وقت گزار دیا جائت تو پھر نشے کی حدت طلب ختم ہوجاتی ہے اور اگر مسلسل اس طرح کیا جائے تو اس پر غلبہ پایا جاسکتا ہے جب یہ دو مرحلے طے ہوگئے تو پھر آخری اور قطعی حکم نازل ہوا اور شراب اور جوئے کو قطعاً حرام قرار دے دیا گیا ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأنْصَابُ وَالأزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ” اے ایمان لانے والو ! یہ شراب اور جوا ، یہ آستانے اور پانسے ، یہ سب شیطانی گندے کام ہیں ۔ ان سے پرہیز کرو ۔ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔ “
اس اصول کی دوسری مثال غلامی ہے ۔ غلامی اس وقت کے اجتماعی اور اقتصادی نظام کا ایک لازمی حصہ تھی ۔ اس وقت کا یہ ایک مسلم بین الاقوامی قانون (Inernation Law) تھا اور اقوام کا یہ رواج تھا کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنالیا جاتا تھا اور ان سے کام لیا جاتا تھا ۔ ان بین الاقوامی اجتماعی حالات کی ظاہری شکل و صورت کو تبدیل کرنے سے پہلے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان اسباب میں تبدیلی کی جائے جن کی وجہ سے یہ حالات رونما ہوئے اور ان بین الاقوامی روابط کو بدلاجائے جن کے نتیجے میں غلامی کے ذرائع وجود میں آتے ہیں ۔ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی رسومات میں بین الاقوامی سمجھوتوں اور معاہدوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس نے قیام غلامی کے سلسلے میں کوئی حکم نہیں دیا ۔ نہ قرآن مجید میں کوئی آیت اتری ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنالیا جائے۔
جس وقت اسلامی نظام زندگی کا آغاز ہوا ، تو اس وقت غلامی کا ایک عالمی نظام رائج تھا ، اور یہ مسئلہ صرف غلامی اور جنگی قیدیوں کا نہ تھا ، بلکہ غلامی بین الاقوامی تجارت کا بھی ایک حصہ تھی ۔ اور جنگی قیدیوں کو غلام بنانا ایک بین الاقوامی معروف ضابطہ تھا ۔ اور اس پر بین الاقوامی اور مقامی جنگوں میں حصہ لینے والے تمام فریق عمل کرتے تھے ۔ اس لئے ضروری تھا کہ اسلام اس عالمی اور اجتماعی مسئلے کے مکمل حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرتا۔
اسلام نے ابتدائی طور پر جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ اس نے اس جبر ، تشدد اور استحصال کو ختم کردیا جو غلامی کا خاصہ تھا ، اس نے کوشش کی کہ غلامی کا یہ نظام ہی ختم ہوجائے ۔ غلامی ختم کرنے کے لئے اسلام نے کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھایا۔ نہ اس نے ایک جھٹکے کے ساتھ اس وقت کے اجتماعی نظام کو درہم برہم کرنے کوشش کی ، اس طرح کہ جھٹکے کے بعد اس کے نتائج کو کنٹرول نہ کیا جاسکے یا اس تحریک کی قیادت ہی مشکل ہوجائے ۔ غرض غلامی کے سرچشمے بند کرنے کے ساتھ ساتھ غلاموں کی زندگی کی سہولیات میں اضافہ کیا ۔ ان کو مناسب زندگی گزارنے کی ضمانت دی اور وسیع حدود میں انہیں شریفانہ زندگی بسر کرنے کی اجازت دے دی ۔
اسلام نے سب سے پہلے دو ذرائع کے علاوہ غلامی کے تمام سرچشمے بند کردئیے ۔ ایک یہ کہ کوئی شخص جنگی قیدی بن جائے اور اس کے نتیجے میں وہ غلام بن جائے ۔ دوسرا یہ کہ اس شخص کا باپ غلام ہو تو اس کا بیٹا بھی غلام ہوگا۔ یہ بھی اس لئے کہ اسلامی نظام کے دشمن معاشروں میں مسلمان اسیروں کو غلام بنالیا جاتا تھا ، اور یہ اس وقت کا معروف طریقہ تھا ، اور اسلام اس وقت کوئی بین الاقوامی غالب قوت نہ تھا کہ وہ ان دشمن معاشروں کو اس بات پر مجبور کرسکتا کہ وہ نظم غلامی سے دستبردار ہوجائیں ، جس پر پوری دنیا کا اجتماعی اور اقتصادی نظام قائم تھا۔ اگر اسلام یکطرفہ طو رپر غلامی کے نظام کو ختم کردیتا تو نتیجہ یہ ہوتا کہ اسلامی ضابطے کا اجراء صرف ان اسیروں پر ہوتا جو مسلمانوں کے ہاتھ میں تھے ۔ جبکہ خود مسلمانوں کے قیدی اس وقت کے نظام کے مطابق غلام ہی رہ جاتے ۔ اس طرح اسلام دشمن بڑی جرأت سے اسلام کے خلاف لڑتے ، اس خیال سے کہ اگر وہ قید ہوئے تو رہا ہوجائیں گے جبکہ جو مسلمان ان کے ہاتھ آئیں گے وہ غلام بن جائیں گے اور قبل اس کے کہ اسلامی حکومت کا اقتصادی نظام مستحکم ہوتا ۔ غلاموں کی جو نسل اس وقت عملاً موجود تھی ، اگر اسے آزاد کردیا جاتا تو ان غلاموں کا اس وقت کے معاشرے میں آمدن کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا ، نہ ان کی کفالت کرنے والا کوئی ہوتا اور نہ ہی وہ کسی خاندان کے اجزاء تصور ہوتے ، نہ ان کے کسی کے ساتھ رشتے ناطے کے تعلقات ہوتے جو انہیں معاشرتی اور اخلاقی بےراہ روی سے بچاتے ۔ اس حالت میں ایک تو ان لوگوں کے معاشی حالات خراب ہوتے جن کی غلامی سے یہ آزاد ہوتے ۔ اور دوسرے خود یہ لوگ اسلامی معاشرہ کو ایک گری پڑی نسل کی حیثیت سے ، خراب اور گندہ کردیتے جبکہ خود مسلمان مالکان کے حالات بھی اچھے نہ تھے اور اسلامی معاشرہ بھی بالکل نیا تھا۔ غرض یہ تھی اس وقت کی صورتحال اور اس کے پیش نظر ، اس کے مطابق قرآن مجید نے صرف یہ کیا کہ اسلامی قانون میں کوئی ایسی دفعہ نہیں رکھی جس کے مطابق جنگی قیدیوں کو لازماً غلام بنالیا جائے بلکہ قرآن مجید نے صرف یہ حکم دیافَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ” پس جب ان کافروں سے تمہاری مدبھیڑ ہوتوپہلاکام گردنیں مارنا ہے ۔ یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے ) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرلو ، تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے ۔ “
قرآن مجید نے یہ بھی نہیں کہا کہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنایاجائے ۔ بلکہ اس معاملے کو اسلامی حکومت کی صوابدید پر چھوڑدیا ہے ۔ تاکہ وہ موقع ومحل کے اعتبار سے جو موقف مناسب ہو وہ اختیار کرے ۔ یا فریقین کے قیدیوں کا باہمی تبادلہ ہوجائے اور جن لوگوں کا غلام بنانا ہی مناسب ہوا انہیں غلام بنالے ۔ اس صورت میں معاملہ وہی ہی ہوگا جو کہ محارب قوت معاملہ کرے گی۔
اسی طرح غلامی کے دوسرے سر چشمے بند ہوجانے سے غلاموں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی ۔ جبکہ اس وقت مختلف ذریعوں سے لوگوں کو غلام بنالیا تھا ۔ غلاموں کی جو قلیل تعداد رہ گئی تھی اسے بھی اسلامی نظام مختلف تدابیر کے ذریعہ کم سے کم کئے جارہا تھا۔ مثلاً جب کوئی غلام دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا اور پھر وہ دشمن کے کیمپ کو چھوڑ کر اسلامی کیمپ میں داخل ہوجاتا تو وہ آزاد قرار پاتا ۔ پھر اسلام نے ہر غلام کو یہ حق دیا کہ وہ اپنے مالک سے آزادی کا سودا کرسکتا ہے۔ اور اس سودے کا معاوضہ ادا کرنے کے سلسلے میں مالک کے ساتھ اسے تحریری یا زبانی ایگریمنٹ کرنے کا پورا پورا اختیار ہے ۔ یہ معاہدہ ہونے کے بعد جسے مکاتبت کہتے تھے غلام آزاد ہوجاتا تھا ۔ آزادانہ کاروبار کرسکتا تھا۔ چاہے اپنے مالک ہی کی نوکری کرلیتا ۔ وہ اپنی کمائی کا خود مالک ہوتا تھا۔ چاہے دوسری جگہ آزادانہ کام کرتا اور مالک کو مقررہ رقم ادا کردیتا۔
مکاتبت کے ساتھ یہ غلام اس معاشرے کا ایک مستقل فرد بن جاتا تھا۔ ایسے افراد کے لئے اسلام کے نظام زکوٰۃ کا 1/7 حصہ مقرر ہے ۔ اس کے علاوہ بھی مسلمانوں کے لئے یہ بات ضروری قرار دی گئی کہ وہ ایسے افراد کو مالی امداد دیں تاکہ وہ اپنی گردن کو غلامی کے جوئے سے آزاد کرسکیں ۔ اس کے علاوہ جو اسلامی نظام نے مختلف معاملات میں افراد معاشرہ پر کفارات (Fines) واجب کئے اور کفارے کی شقوں میں ایک شق یہ ہوا کرتی ہے کہ کسی غلام کو آزاد کردیا جائے ۔ مثلاً قتل خطاء کی بعض صورتوں میں ، قسم کے کفارے میں ظہار کے کفارے میں ، ان تدابیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ غلامی کا وجود ہی ختم ہوگیا ۔ اور یہ چیز طبعی موت مرگئی ۔ اگر اسے یکلخت ختم کردیا جاتا تو اس وقت کے معاشرے میں بےحد افراتفری پیدا ہوجاتی ، اور معاشرے میں فتنہ و فساد برپا ہوجاتا۔
سوال یہ ہے کہ دور نبوی کے بعد اسلامی معاشرے میں غلامی ختم ہونے کے بجائے غلامی میں اضافہ کیوں ہوگیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعد کے ادوار میں غلامی میں اضافہ محض اس لئے ہوگیا تھا ، کہ مسلمانوں نے اسلامی زندگی سے انحراف کرلیا تھا ، جوں جوں مسلمان اسلامی نظام سے دور ہوتے گئے ، خرابیاں زیادہ ہوتی گئیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کا قصور تھا ، اسلامی نظام زندگی کا اس میں کوئی قصور نہ تھا ۔ دور نبوی کے بعد اگر لوگوں نے اسلامی نظام زندگی سے انحراف کیا ، تھوڑا کیا یا زیادہ کیا اور اسلامی نظام زندگی کے اصولوں کو اچھی طرح نافذ نہ کیا ، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلامی نظام میں کچھ خرابی ہے ۔ اسلامی تاریخ کے سلسلے میں ہمار اجو نقطہ نظر ہے وہ ہم اس سے پہلے بیان کر آئے ہیں ۔ اگر اسلامی نظام سے انحراف کے نتیجے میں کچھ ناپسندیدہ حالات ، اسلامی تاریخ کے کسی دور میں ، کبھی پیدا ہوگئے تھے ۔ تو ان حالات کو اسلام کے اسر نہیں تھوپا جاسکتا ۔ ایسے حالات کو اسلامی تاریخ کی کوئی کڑی نہ گردانا جائے گا۔ اس لئے کہ اسلام میں کوئی تبدیلی نہیں آگئی ۔ نہ اس کے اصولوں میں نئے اصولوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اگر تبدیلی آئی ہے تو لوگوں میں تبدیلی آئی ہے ۔ لوگ اسلام سے اس قدر دور ہوگئے کہ ان کا اسلام سے کوئی واسطہ ہی نہ رہا ۔ اور ان کی تاریخ اسلامی تاریخ کا حصہ نہ رہی۔
اب اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ نئے سرے سے اسلامی نظام قائم ہو ، تو وہ اسلامی نظام زندگی کا آغاز اسلامی تاریخ کے اس مقام سے ہرگز نہ کرے گا جہاں اسلامی تاریخ ختم ہوجاتی ہے ، بلکہ اب اسلامی نظام زندگی کے قیام ازسر نو اسلامی اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا ۔ خالص اسلامی اصولوں کی روشنی میں !
یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ نظریہ اور نقطہ نظر کے اعتبار سے بھی اور اسلامی نظریہ اور اسلامی نظام کے قیام کی تحریک کے نشوونما کے نقطہ نظر سے بھی ۔ اس نکتے کی تاکید یہاں دوبارہ اس لئے کی جارہی ہے کہ اسلام کی تاریخ اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان لوگوں کے ذہنوں میں سخت الجھاؤ پیدا ہوگیا ہے ، حالانکہ اسلامی نظام زندگی اور مسلمانوں کی تاریخ چیزے دیگر ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ لوگ صحیح اسلامی تحریک اور صحیح اسلامی نظام زندگی کے درمیان فرق نہیں کرپاتے ۔ اس دھوکے میں وہ تمام مستشرقین مبتلا ہیں ، جنہوں نے اسلامی تاریخ پر قلم اٹھایا ہے ۔ بعض لوگ جان بوجھ کر اسلامی تاریخ کو یہ رنگ دیتے ہیں اور بعض لوگ فی الواقعہ غلط فہمی کا شکار ہیں ۔
Ayah 2:220اب اس اگلی آیات میں ، اسلامی اصول حیات کے بارے میں چند سوالات کا جواب دیا گیا ہے ۔ یہ سوالات مختلف لوگوں نے مسائل سمجھنے کے لئے کئے تھے :
اس سے پہلے بھی انہوں نے سوال کیا تھا ، کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ اس کے جواب میں خرچ کی نوعیت اور مصرف کی تشریح کردی گئی ۔ یہاں بھی سوال تو وہی ہے ، جواب میں خرچ کی مقدار اور اس کا درجہ بتایا گیا ہے ۔ عفو کے معنی عربی میں فاضل اور زیادہ کے ہوتے ہیں ۔ جو مال ذاتی ضروریات سے زیادہ ہو ۔ ضروریات سے مراد ایسی ضروریات جو عیاشی اور نمائشی نہ ہوں ۔ اسے خرچ کیا جاسکتا ہے اور مصرف کی ترتیب وہی ہے جو اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے۔ قریب سے قریب تر کا حق زیادہ ہے اور اس کے بعد دوسرے لوگ درجہ بدرجہ ہیں ۔
انفاق کا حکم صرف ادائیگی زکوٰۃ ہی سے پورا نہیں ہوجاتا۔ کیونکہ اس آیت کو نہ تو زکوٰۃ نے منسوخ کیا ہے اور نہ مخصوص کیا ہے ۔ جیسا کہ میں سمجھا ہوں ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے ایک فرض ادا ہوجاتا ہے لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ادا کنندہ بس دوسری معاشرتی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوگیا بلکہ زکوٰۃ کے بعد بھی انفاق کا حکم علی حالہ باقی رہتا ہے ۔ زکوٰۃ مسلمانوں کے بیت المال کا حق ہے اور اسے وہ حکومت حاصل کرے گی جو اللہ کی شریعت نافذ کرے ۔ اور یہ حکومت بھی اسے اس کے معلوم ومعروف مصارف پر خرچ کرے گی۔ لیکن اس کے بعد بھی مسلمانوں کی جانب سے اور خود مسلمان بھائیوں کی جانب سے عائد شدہ ذمہ داریاں بدستور قائم رہتی ہیں ۔ پھر زکوٰۃ تو ایک خاص شرح سے فرض کی گئی ہے ۔ اور یہ ممکن نہیں ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے تمام فاضل دولت سرمایہ دار کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ لیکن آیت زیر بحث تو واضح طور پر بتاتی ہے کہ العفو پورا کا پورا خرچ ہونا چاہئے ۔
اس سلسلے میں ایک واضح حدیث بھی موجود ہے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : اِنَّ فِی المَالِ حَقًّا سَوِی الزَّکوٰۃٍ ” بیشک دولت میں زکوٰۃ کے سوا بھی حق ہے۔ “
ایسا حق ، جسے صاحب ثروت اللہ کی رضا کے لئے خود مناسب جگہ خرچ کرتا ہے اور یہ خرچ کی اعلیٰ صورت ہے ، کامل صورت۔ اگر وہ خود خرچ نہیں کرتا اور اسلامی نظام کو نافذ کرنے والی حکومت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ یہ دولت اس صاحب ثروت سے حاصل کرے اور اسلامی جماعت کے ان افراد پر خرچ کردے جو امداد کی مستحق ہیں ۔ تاکہ صاحب ثروت نہ اسے عیش و عشرت اور عیاشی کے کاموں میں استعمال کرسکے اور نہ ہی ذخیرہ کرکے معطل کردے۔ دولت کی گردش روک دے اور اس پر سانپ بن کر بیٹھ جائے كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ ، فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ” اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے ۔ شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو۔ “
اس آیت میں فرمایا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے احکام بیان کرتا ہے اور اس لئے بیان کرتا ہے کہ تم لوگ دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں غوروفکر سے کام لو۔ اس لئے کہ صرف دنیا کے بارے میں غور وفکر کرنے سے ، وجود انسانی کی حقیقت ، انسان کی زندگی اور اس کے فرائض کے درمیان باہمی ربط کی اصل حقیقت کے بارے میں نہ عقل انسانی صحیح تجزیہ کرسکتی ہے۔
اور نہ ہی اسلام کے قلب ونظام زندگی اور اس کی قدروں کی صحیح تصویر بنائی جاسکتی ہے ۔ اس لئے کہ دنیا تو زندگی کا ایک حصہ ہے ۔ اور بہت ہی ادنیٰ اور مختصر حصہ ہے ۔ اگر انسان اپنے نظریات اور اپنے نظام کی اساس اس مختصر اور سطحی نقطہ نظر پر رکھے تو اس کے نتیجے میں کبھی انسان نہ کسی صحیح تصور حیات تک پہنچ سکتا ہے اور نہ زندگی میں کوئی صحیح طرزعمل اختیار کرسکتا ہے ۔ پھر انفاق کا ذاتی طور پر دنیا سے بھی تعلق ہے ۔ اور آخرت سے بھی تعلق ہے ۔ انفاق سے اس کی دولت میں جو کمی آتی ہے اس کے نتیجے میں اسے دل کی صفائی اور قلب ونظر کی پاکیزگی ، اس دنیا میں نصیب ہوجاتی ہے ۔ پھر انفاق کرنے والا جس معاشرے میں رہتا ہے اس معاشرے کے ساتھ اس کی آشتی ہوجاتی ہے ، صلح ہوجاتی ہے اور افراد کے درمیان تعلقات مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ابنائے معاشرہ کا ہر فرد ہوسکتا ہے یہ باتیں نہ سوچ سکے اس لئے ، آخرت کا عقیدہ اور شعور اور جزائے اخروی کی امید اور آخرت میں جو درجات ہیں اور جو قدریں ہیں ان کا خیال تو ہر شخص کے ذہن میں وزن رکھتا ہے اور اس سے انفاق کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے ۔ اس سے نفس انسانی مطمئن ہوجاتا ہے ، اسے سکون و آرام نصیب ہوتا ہے ۔ ترازو نفس انسانی کے ہاتھ میں آجاتا ہے جو ہر وقت معتدل رہتا ہے اور کسی وقت بھی کھوئی قدروں اور آنکھوں کو چکاچوند کرنے والے دنیاوی معیارات سے اس کے ترازو کو ہلکا نہیں کرسکتے ۔
اجتماعی تکافل (Social Security) اسلامی معاشرے کا سنگ اول ہے ۔ اسلامی جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے نادار اور ضعیف لوگوں کو خیال رکھے ، یتیموں کا بالخصوص ، جو نابالغ ہیں اور ماں باپ کے سائے سے محروم ہوگئے ہیں ۔ چونکہ وہ کمزور ہیں اس لئے وہ اجتماعی امداد اور اجتماعی حمایت کے مستحق ہیں ۔ اسلامی معاشرے کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی پرورش کرے اور ان کے اموال اور ان کی جائدادوں کی حفاظت کرے ۔ بعض اولیاء (Guardians) ایسے تھے جو یتیموں اور خود اپنے کھانے پینے کا انتظام یکجا کرتے تھے ۔ نیز انہوں نے اپنے اور یتیموں کے اموال یکجا کرکے تجارت میں لگایا ہوا تھا۔ بعض اوقات اس طرح یتیموں کو نقصان ہوتا تھا ۔ اس پر قرآن مجید کی آیات اتریں جن میں مسلمانوں کو یتیموں کا مال کھانے سے سخت ڈرایا گیا ۔ اس پر بعض نیک لوگوں نے اس قدر احتیاط شروع کردی کہ انہوں نے یتیموں کا مال کھانا بھی الگ کردیا۔ اب صورتحال یہ ہوگئی کہ کسی کے پاس اگر یتیم ہوتا تو وہ یتیم کے مال سے اس کے لئے کھانا تیار کرتے ۔ اگر کچھ بچ جاتا تو وہ دھرا رہتا اور دوسرے وقت اسے کھاتا یا ضائع ہوجاتا اور پھینک دیا جاتا۔ یہ اس قدر زیادہ تشدد تھا جسے اسلام کا مزاج گوارا نہ کرتا تھا۔
علاوہ ازیں بعض اوقات اس میں یتیم کو نقصان بھی ہوتا چناچہ ، یہ آیات نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو تلقین کردی گئی کہ وہ اعتدال اور آسانی کا راستہ اختیار کریں ، جس میں اس کی مصلحت ہو۔ درحقیقت ان کے لئے خیر خواہی کا جذبہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں الگ تھلگ کردیا جائے ۔ اگر اکھٹا رہنے سہنے اور کھانے پینے کے انتظام میں یتیم کی بھلائی ہے تو ساتھ رکھنا چاہئے ۔ کیونکہ یتیم بھی بہرحال اولیاء کے بھائی بند ہی تو ہیں ہیں ۔ تمام مسلمان ہیں اور بھائی بھائی ہیں۔ سب کے سب ایک عظیم اسلامی خاندان کے افراد ہیں ۔ اللہ بھلائی کرنے والے اور برائی کرنے والے دونوں کے حال سے باخبر ہے۔ اللہ کے ہاں ظاہری شکل و صورت پر ہی فیصلے نہ ہوں گے ، نیت اور نتائج کو بھی دیکھاجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تکلیف میں ڈالنا پسند نہیں کرتا نہ امر ونہی میں ان پر کوئی تکلیف لانا چاہتا ہے یا ان کو مشقت میں ڈالنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تکلیف میں ڈال دیتا ، لیکن اللہ کا یہ ارادہ نہ تھا ، وہ تو عزیز و حکیم ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے لیکن وہ حکیم ہے ۔ آسان بھلائی اور اصلاح کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔
یوں تمام معاملات کا ربط خدائے لایزل سے قائم ہوجاتا ہے ۔ تمام معاملات کو اس اصلی محور کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے ۔ جس کے گرد پورا نظریہ حیات گھومتا ہے ۔ جس کے گرد پوری زندگی گھومتی ہے ۔ یہ ہوتا ہے حال اس نظام قانون کا جو کسی نظریہ حیات پر مبنی ہوتا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کی ضمانت ، انسان کے خارج ، انسان کی ذات سے علیحدہ کسی اور ذریعہ سے فراہم نہیں ہوتی ۔ بلکہ انسان کے ضمیر کے اندر گہرائیوں میں سے اس قانون پر عمل کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور ہر شخص اس پر از خود عمل کرتا ہے۔