Ayah 2:257اب سلسلہ کلام اور آگے بڑھتا ہے ۔ ایک متحرک اور محسوس انداز میں منظر کشی کی جاتی ہے ۔ ہدایت کا صراط مستقیم اور گمراہی اور ضلالت کے راستے صاف صاف آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیسی ہے ؟ اسکرین پر نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ہاتھ سے پکڑ کر اندھیروں سے نکالتے ہیں اور روشنی میں لاتے ہیں جبکہ طاغوت جو کفار کے مددگار ہیں اہل کفر کا ہاتھ تھامے ہوئے انہیں نور ایمان سے ظلمات کفر میں لے جاتے ہیں ۔
یہ ایک عجیب پر کیف زندہ منظر ہے ۔ رہوار خیال کبھی ایک منظر کی طرف سرپٹ دوڑ رہا ہے اور کبھی دوسرے کی طرف ۔ ادہر سے واپس ہوتا ہے تو ادہر بھاگ کھڑا ہوتا ہے ۔ یہ انداز گفتگو ایسے جامد اور غیر متحرک انداز میں کلام کی جگہ اختیار کرتا ہے جو را ہوار خیال کو مہمیز نہیں دے سکتا ۔ نہ اس سے انسانی احساس لطف اندوز ہوسکتا ہے نہ شعور ووجدان میں طلاطم آتا ہے۔ اور جو صرف ذہن انسانی سے بذریعہ الفاظ ہی خطاب کرسکتا ہے ۔
اگر ہم کلام الٰہی کی عظمت کا صحیح اندازہ کرنا چاہیں تو اسی مفہوم کو ہم مختلف الفاظ میں لفظ اور معانی کا اظہار کرسکتے ہیں مثلاً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ مسلمانوں کا دوست ہے وہ انہیں راہ ایمان کی طرف لاتا ہے اور وہ لوگ جو کفر اختیار کرتے ہیں ، وہ انہیں راہ کفر کی طرف کھینچتے ہیں ۔ “ دیکھئے یہ الفاظ اور انداز کلام ہمارے سامنے مردہ پڑا ہے ۔ اس میں وہ گرمی ، وہ حرکت اور القاء نہیں ہے جو کلام الٰہی میں ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے میری کتاب التصویر الفنی فی القرآن کی فصل طریقہ قرآن)
لیکن اس حسی اور القائی تصویر کشی کے ساتھ قرآن کریم کا حسن تعبیر اور حقیقت پسندانہ اظہار مفہوم دیکھئے ۔
اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ................ ” جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انہیں تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ “
حقیقت یہ ہے ایمان نور ہے ۔ وہ اپنے مزاج اور حقیقت کے اعتبار سے ایک منفرد نور ہے ۔ اور بیشک کفر اندھیرے ہیں اور یہ اپنے مزاج اور حقیقت کے اعتبار سے متعدد اور متنوع ہیں لیکن ہیں سب کے سب اندھیرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی تعبیر نور کے ساتھ اور کفر کی تعبیر ظلمات کے ساتھ ایک بہترین تعبیر ہے ۔ یہ نہایت ہی حقیقت پسندانہ انداز تعبیر ہے ۔
جب دل مومن میں پہلے پہل ایمان کی چنگاری سلگتی ہے تو اس کے ذریعہ مومن کی پوری شخصیت نور سے بھرجاتی ہے ۔ اس کی روح روشن ہوتی ہے اور اسے تشفی ہوجاتی ہے ۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مومن کی روح اپنے ماحول میں روشنی پھیلاتی ہے ۔ اس کا ماحول روشن اور واضح ہوجاتا ہے ۔ اس نور سے تمام موجودات کی حقیقت سامنے آجاتی ہے ۔ تمام اقدار کی تشریح ہوجاتی ہے ۔ تمام تصورات حیات کی اصلیت سامنے آجاتی ہے ۔ مومن کا دل و دماغ ان تمام حقائق کو بغیر کسی ملاوٹ کے واضح طو رپر پالیتا ہے ۔ وہ ہر قدر کو اپنی جگہ دیکھتا ہے اور اسے اس کا صحیح مقام دیتا ہے۔
ایمان ایک ایسا نور ہوتا ہے جس کے ذریعہ ایک مومن اس کائنات میں رائج قانون قدرت کو پالیتا ہے ۔ اب یہ مومن اپنے طرز عمل کو اس کائنات میں رائج قانون قدرت کے ساتھ ہم آہنگ کرلیتا ہے ۔ جو اس کے ارد گرد جاری وساری ہوتا ہے ۔ اور وہ بڑی سنجیدگی کے ساتھ پروقار طریقے سے اپنی راہ پر آگے بڑھتا ہے ۔ وہ اپنی راہ کو چونکہ اچھی طرح پالیتا ہے اس لئے وہ نہ کہیں گمراہ ہوتا ہے اور نہ ہی اپنی راہ میں غیر اہم رکاوٹوں کے ساتھ الجھتا ہے ۔
یہ ایک ایسی روشنی ہے جو صرف ایک اور منفرد راستہ دکھاتی ہے ۔ کفر کی گمراہیاں تو وہ مختلف قسم کی تاریکیاں ہیں ۔ شہوت وخود سری کی تاریکی ، فسق وفجور کی تاریکی ، کبر و غرور اور سرکشی کی تاریکی ، غلامی اور ضعیفی کی تاریکی ، ریاکاری اور نفاق کی تاریکی ، لالچ اور نفع اندوزی کی تاریکی ، شک اور بےچینی کی تاریکی ، غرض بیشمار اور لاتعداد ظلمات ہیں جو سب کے سب کفر وگمراہی کی تاریکیاں ہیں اور سب کا مزاج یہ ہے کہ ان میں گھرا ہوا انسان اللہ کی راہ سے بےطرف ہوجاتا ہے۔ وہ غیر اللہ سے ہدایت حاصل کرتا ہے اور غیر اسلامی نظام زندگی کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور جونہی ایک انسان اللہ کے اس منفرد نور اس واحد حقیقت پسندانہ اور واضح روشنی کو ترک کردیتا ہے ، وہ کفر کے مختلف اندھیروں میں سے کسی اندھیرے میں پھنس جاتا ہے ۔ یہ اندھیرے متنوع ہیں اور سب ہپی اندھیرے ہیں ۔ اور ان اندھیروں کا انجام کیا ہے ؟ جو لوگ ان اندھیروں میں زندگی بسر کرتے ہیں أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ................ ” یہ لوگ آگ والے ہیں اور یہ ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں ۔ “ اگر یہ لوگ اسلام کی روشنی میں راہ پانے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ہمیشہ آگ میں رہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ سچائی ایک اور منفرد حقیقت ہے ۔ سچائیاں دو نہیں ہوسکتیں اور گمراہی کی مختلف انواع و اقسام ہیں اور حق وصداقت کے علاوہ جو کچھ ہے وہ سب گمراہی ہے ۔
اس سے پہلے کہ ہم اس سبق پر بات ختم کرکے آگے بڑھیں ، مناسب یہ ہے کہ ہم اس قاعدے یعنیلاإِكْرَاهَ فِي الدِّينِ................ کے بارے میں ایک اصولی بات کردیں ۔ اس قاعدہ کلیہ کے ساتھ ساتھ اسلام میں فرضیت جہاد کا بھی حکم دیا گیا ہے اور ایسے مواقع پیش آئے ہیں جن میں اسلام نے جہاد میں حصہ لیا ہے ۔ حالانکہ ایک سابقہ آیت میں کہا گیا ہے ۔ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ................ (بقرہ 193) ” اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور نظام زندگی اللہ کا ہوجائے ۔ “
اسلام کے بعض مفاد پرست دشمنوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ لاإِكْرَاهَ فِي الدِّينِ................ کے اصولی قاعدہ کے ساتھ ساتھ جہاد کی فرضیت کا حکم دینا ایک متضاد بات ہیں۔ اس سوال کے جواب میں بعض لوگوں نے بظاہر اسلام کی مدافعت کرتے ہوئے اور بباطن اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہوئے مسلمانوں کے شعور سے جذبہ جہاد ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایسے لوگ فریضہ جہاد کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اسلام کے قیام اور اس کی نشرواشاعت میں فریضہ جہاد نے بہت اہم رول ادا کیا ہے ۔ ایسے لوگ بڑی مکاری سے ، نہایت ہی نرم انداز سے اور نہایت ہی حکیمانہ انداز سے مسلمانوں کے دل میں یہ بات بٹھانا چاہتے ہیں کہ آج جہاد کی ضرورت باقی نہیں رہی اور نہ آئندہ کبھی فریضہ جہاد کی ضرورت پیش آسکتی ہے ۔ بظاہر یہ لوگ یہ بات اسلام کی مدافعت میں کرتے ہیں (دیکھئے آرنلڈ کی کتاب ” دعوت اسلامی “ ترجمہ ڈاکٹر ابراہیم حسن وبرادرز)
یہ دونوں قسم کے لوگ مستشرقین ہیں ۔ جو ایک ہی میدان میں کام کرتے ہیں ۔ یہ دونوں اسلام کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔ یہ اسلامی منہاج میں تحریف کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ اس شعور کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو نظام جہاد ایک مسلمان کے نفس میں پیدا کردیتا ہے۔ یہ لوگ اسلام کے شعور جہاد سے خائف ہیں ۔ اس لئے کہ میدان جہاد میں وہ کبھی بھی اسلام کا مقابلہ نہیں کرسکے ۔ اس لئے اس شعور کو مٹاکر یہ اپنے لئے امن و اطمینان پیدا کرنا چاہتے ہیں اور جب سے انہوں نے دل مسلم سے جہاد ختم کیا ہے یا اسے الجھا دیا ہے ، انہوں نے امت مسلمہ کے جسم پر مختلف پہلوؤں سے ضرب ہائے کاری لگائی ہیں اور ہر میدان میں اسے شکست دے دی ہے ۔ یہ لوگ امت مسلمہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مسلم اقوام اور استعماری قوم کی جنگ فقط معاشی اور تجارتی منڈیوں کی جنگ ہے ۔ لہٰذا اس جنگ میں امت مسلمہ کو جذبہ جہاد کو بیچ میں نہیں لاناچا ہئے جو فقط نظریاتی جنگ میں کارآمد ہوتا ہے ۔ اس لئے اس دور جدید میں جہاد کی بات بلاجواز ہے ۔
اسلام نے پہلے پہل جہاد اس وقت شروع کیا جس وقت مسلمانوں پر مظالم توڑے جارہے تھے تاکہ ان کی جان ، مال اور نظریہ حیات کو محفوظ کیا جاسکے ۔ یعنی جہاد برائے قیام امن ۔ اس تفسیر کے حصہ دوئم میں اس اصول کی تشریح آیت وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ................ ” اور فتنہ و فساد قتل سے زیادہ شدید ہیں “ کی تفسیر کے موقع پر کرچکے ہیں ۔ اس اصول کے مطابق اسلام نے نظریاتی تشدد اور اس کی وجہ سے جسمانی اذیت اور اہل نظریہ پر بوجہ نظریہ ظلم وتشدد کو قتل سے زیادہ شدید قرار دیا ۔ اس اصول کے مطابق نظریات کی قدر و قیمت انسانی زندگی سے بھی زیادہ ہے ۔ اگر ایک مسلمان کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے مال اور اپنی جان کی حفاظت میں ہتھیار اٹھاسکتا ہے تو اسے بطریق اولیٰ اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے دین ، عقیدے اور نظریہ کی حفاظت اور دفاع میں ہتھیار اٹھائے ۔ اس وقت مسلمان محض اپنے عقیدے کی وجہ سے ظلم وتشدد کی چکی میں پس رہے تھے ۔ ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہ تھا کہ وہ اپنی عزیز ترین دولت یعنی دولت ایمان کی مدافعت میں ہتھیار اٹھائیں ۔ ان پر یہ تشدد محض ان کے عقیدے کی وجہ سے ہورہا تھا اور کرہ ارض کے مختلف حصوں میں ان پر یہ مظالم ڈھائے جارہے تھے ۔ سرزمین اندلس نے ان وحشیانہ مظالم کو دیکھا ہے ۔ وہ اس اجتماعی قتل و غارت کی گواہ ہے ۔ جو مسلمانوں پر محض ان کے دین اور عقیدے کی وجہ سے ڈھائے گئے ۔ پھر یہ سرزمین ان مظالم کی بھی گواہ ہے جو وہاں عیسائیوں کے کیتھولک فرقے نے دوسرے فرقوں کے خلاف روا رکھے تاکہ انہیں زبردستی کیتھولک بنایاجائے۔ آج اسپین کی حالت یہ ہے کہ وہاں سے مسلمان اور دوسرے عیسائی فرقوں کا نام ونشان مٹادیا گیا ہے ۔ پھر بیت المقدس اور اس کے اردگرد کے اسلامی علاقے صلیبی حملوں سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔ جن کا ہدف صرف اسلامی نظریہ حیات اور دین اسلام پر غلبہ پانا تھا ۔ ان جنگوں کا دفاع بھی اہل اسلام نے اسلامی نظریہ حیات کے پلیٹ فارم سے کیا اور وہ اس میں بہت اچھی طرح کامیاب رہے ۔ اور اس علاقے کو اندلس کے انجام بد سے بچالیا ۔ آج بھی اشتراکی علاقوں ، بت پرست علاقوں ، یہودی علاقوں اور مسیحی علاقوں میں مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں اور یہ محض اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں ۔ لہٰذا اگر صحیح معنوں میں مسلمان ہیں تو آج بھی ان پر جہاد فرض ہے جس طرح پہلے فرض تھا تاکہ مسلمانوں کے خلاف ان مظالم کو بند کیا جاسکے ۔
اسلام کے نظریہ جہاد کی پشت پر دوسرا محرک یہ تھا کہ نظریاتی آزادی کے بعد نظریاتی دعوت وتبلیغ کی آزادی کے لئے بھی مواقع پیدا کئے جائیں ۔ اس لئے اسلام انسانی زندگی اور اس کائنات کا ایک بہترین حل پیش کرتا ہے ۔ وہ اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کی نشوونما کے لئے ایک بہترین نظام تجویز کرتا ہے ۔ وہ اس بہترین عقیدے اور مکمل نظام کو پوری انسانیت تک پہنچانا چاہتا ہے ۔ تاکہ وہ اسے سنیں اور سمجھیں ۔ اور سننے اور سمجھنے کے بعد پھر وہ آزاد ہیں کہ وہ اسے قبول کرلیں یا رد کردیں ۔ اس لئے کہ دین وہ عقیدے کے بارے میں وہ کسی جبر واکراہ کا قائل نہیں ہے ۔ لیکن مکمل نظریاتی آزادی سے پہلے اس امر کی ضرورت ہے کہ تمام انسانوں تک اسلامی پیغام کے پہنچنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔ اس لئے کہ اللہ کی جانب سے یہ پیغام تمام انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے ۔ لہٰذا وہ تمام رکاوٹیں دور ہونی چاہئیں جو عوام الناس کو اس پیغام کے سننے ، اسے قبول کرنے اور اگر وہ چاہیں تو قافلہ ہدایت یافتگان میں شامل ہونے کی راہ میں حائل ہیں ۔ ان رکاوٹوں میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کرہ ارض پر قائم طاغوتی نظام زندگی ہوتا ہے ۔ یہ نظام عوام الناس اور اس پیغام کی راہ میں حائل ہوتا ہے ۔ اور جو لوگ کسی طرح اس عقیدے اور پیغام کو سن کر اپنالیتے ہیں۔ یہ طاغوتی نظام ان پر تشدد شروع کردیتا ہے ۔ لہٰذا اسلام نے جب بھی جہاد کیا ہے اس نے ایسے باطل اور طاغوتی نظامہائے زندگی کا قلع قمع کیا ہے ۔ اور اس نے ایسے نظاموں کی جگہ ایسا عادلانہ نظام زندگی قائم کیا ہے جس میں ہر جگہ دعوت حق اور داعی حق کو پوری پوری آزادی حاصل ہو ۔ یہ مقصد اور ہدف آج بھی قائم ہے ۔ لہٰذا آج بھی مسلمانوں پر جہاد فرض ہے تاکہ وہ اس پیغام کو عام کرسکیں بشرطیکہ مسلمان ، مسلمان ہوں۔
ایک دوسرا مقصد جس کے لئے اسلام نے جہاد کو روا رکھا ہے وہ اسلامی نظام زندگی کا قیام اور اس کی حفاظت ہے۔ یہ واحد نظام زندگی ہے جو ایک انسان کو اپنے دوسرے انسان بھائی تک رسائی حاصل کرنے کی آزادی عطا کرتا ہے۔ اور اس میں ہر انسان دوسرے انسان کی نسبت سے بالکل آزاد بھی ہے ۔ اس نظام میں بندگی صرف خدائے واحد بلندو برتر کے لئے مخصوص ہے ۔ اور یہ نظام اس دنیا سے انسان کی جانب سے دوسرے انسان کے لئے ہر قسم کی غلامی کا قلع قمع کردیتا ہے ۔ اس نظام میں کوئی فرد ، کوئی طبقہ اور کوئی قوم دوسرے انسان کے لئے قانون سازی کا کام نہیں کرسکتی ۔ اور نہ اس قانون سازی کے ذریعہ انسانوں کو کوئی اپنا غلام اور زیر دست بناسکتا ہے ۔ اس نظام میں سب انسانوں کا ایک ہی رب ہے ۔ وہ تمام انسانوں کے قانون وضع کرتا ہے بالکل مساوات کے ساتھ ۔ اور تمام انسان صرف اس رب کی بارگاہ میں خضوع اور خشوع کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں ، صرف اس رب واحد کی بندگی کرتے ہیں اور صرف اس پر ایمان لاتے ہیں ۔ اس نظام میں انسان کی جانب سے کسی دوسرے انسان کی اطاعت صرف ایک ہی صورت میں کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی شریعت کا نافذ کنندہ ہو۔ اور امت کی جانب سے نفاذ شریعت کا کام اس کے سپرد کردیا گیا ہو ۔ نفاذ شریعت کا کام بھی کوئی از خود نہیں کرسکتا۔ اس لئے کہ قانون سازی صرف اللہ کا کام ہے ۔ انسانی زندگی میں شریعت شان خداوندی کا اظہار ہے ۔ اس لئے کوئی انسان اس بات کا مستحق نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے شریعت سازی کا کام مخصوص کرسکے حالانکہ وہ صرف ایک بندہ اللہ ہے ۔
یہ اسلامی نظام حیات کا اصل الاصول ہے اور اس اصول ودستور کے نتیجے میں ایک ایسا پاک اخلاقی نظام زندگی پرورش پاتا ہے جس میں تمام بنی نوع انسان کو کامل حریت اور آزادی حاصل ہوتی ہے ۔ ان انسانوں کو بھی جو اسلامی عقیدہ حیات کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتے ۔ اس نظام میں ہر شخص کی عزت محفوظ ہوتی ہے ، یہاں تک کہ جو لوگ اسلامی نظام زندگی کو قبول ہی نہیں کرتے ہر اس باشندے کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں جو کسی اسلامی ملک میں رہائش پذیر ہوتا ہے ۔ چاہے اس کا عقیدہ جو بھی ہو ۔ اس نظام میں کسی بھی شخص کو اسلامی عقیدہ اپنانے پر مجبور نہیں کیا جاتا ۔ اس میں دین کے بارے میں کسی کو مجبور نہیں کیا جاتا ۔ اس میں صرف تبلیغ کی آزادی ہوتی ہے۔
محض اسلام نے جہاد کو اس لئے فرض کیا ہے کہ وہ دنیا میں مذکورہ بالا ارفع اور اکمل نظام زندگی کو قائم کرے اور اس کی حمایت اور بچاؤ کی تدابیر اختیار کرے ۔ یہ اسلام کا حق تھا کہ وہ بذریعہ جہاد باطل اور فاسد نظام ہائے زندگی کا قلع قمع کردے جو اس اصول پر قائم تھے کہ بعض انسان بعض دوسرے انسانوں کے غلام ہیں اور جن میں بعض انسان خدائی کے مقام کے مدعی ہوتے ہیں جو خدائی فرائض سنبھالتے ہیں ، حالانکہ یہ ان کا حق نہیں ہوتا ۔ اور ظاہر ہے کہ جب اسلام اس نصب العین کو لے کر اٹھتا ہے تو باطل نظامہائے زندگی بھی اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ اس کے دشمن ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہ تھا کہ اسلام ان طاغوتی نظاموں کا قلع قمع کرکے ان کی جگہ اس کرہ ارض پر اپنے ارفع اور اکمل نظام کا اعلان کردے ۔ اور پھر اس نظام کے زیر سایہ انہیں اپنے مخصوص عقائد کے اندر آزادی عطاکردے اور ان پر صرف اسلام کے اجتماعی سول کوڈ ، اسلامی اخلاقیات اور مملکت کی اقتصادی پالیسی کی پابندی لازم ہو ۔ رہے دینی اور قلبی عقائد ورجحانات تو وہ ان میں مکمل طور پر آزاد ہیں ۔ ان کے شخصی قوانین ومعاملات میں بھی وہ مکمل طور پر آزاد ہیں۔ اپنے عقائد کے مطابق اپنے معاملات طے کریں لیکن اسلامی نظام زندگی ان پر قائم ہو جو ان کی حفاظت کرے ۔ ان کی آزادی اس کے سایہ میں محفوظ ہو ۔ ان کو مکمل آزادی رائے حاصل ہو ۔ ان کی عزت محفوظ ہو اور ان کے مکمل اساسی حقوق انہیں حاصل ہوں لیکن اس نظام کے دائرے کے اندر۔
یہ جہاد اب بھی باقی ہے اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے اس جہاد کو قائم رکھیں ۔
حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ................ ” یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور جنس دین اللہ کا ہوجائے۔ “ اور اس دنیا سے انسان کی خدائی ختم ہو اور اللہ کے سوا کسی کی بندگی اور غلامی دنیا میں نہ رہے ۔ (مسئلہ جہاد کی زیادہ وضاحت کے لئے ملاحظہ فرمائیے کتاب الجہاد فی الاسلام مصنفہ المسلم العظیم سید ابوا لاعلیٰ مودودی ۔ نیز میری کتاب ” السلام العالمی فی الاسلام “ (سید قطب)
غرض اسلام نے تلوار اس لئے نہیں اٹھائی کہ وہ لوگوں کو اسلامی اعتقادات اور تصورات اپنانے پر مجبور کردے ۔ نہ دنیا میں اسلام کا پھلاؤ تلوار کے بل بوتے پر ہوا ہے جیسا کہ اسلام کے بعض اعداء اسلام یہ الزام لگاتے ہیں ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے جہاد اس لئے شروع کیا تھا کہ وہ اس کرہ ارض پر ایک پر امن نظام زندگی قائم کردے جس کے سائے میں تمام عقائد اور مختلف دینی تصورات رکھنے والے لوگ امن وآشتی کی زندگی بسر کرسکیں ۔ ہاں وہ اسلام کے سیاسی دائرے عمل میں رہتے ہوئے اپنے عقائد محفوظ رکھیں اور آزادی سے رہیں ۔ اگرچہ وہ اسلامی عقائد قبول نہ کریں۔
اسلامی نظام کے وجود ، اس کے پھیلاؤ اور اہل اسلام کے امن و سکون کے لئے اور ان لوگوں کے امن و اطمینان کے لئے جو لوگ اس نظام زندگی میں داخل ہونا چاہتے تھے اسلام کی مسلح قوت کی اشد ضرورت تھی ۔ نیز اقامت دین اور حفاظت دین کے لئے بھی مسلح قوت کا وجود از بس ضروری تھا ۔ اسلامی جہاد کا ادارہ کوئی معمولی اہمیت کا حامل نہ تھا ۔ نہ وہ ایسا تھا کہ اس کی اس وقت کوئی ضرورت نہ ہو یا اس کی ضرورت نہ ہو یا یہ کہ مستقبل میں اس کی ضرورت نہ ہو ۔ مسلمانوں کا بدترین دشمن یہ بات ان کے ذہن نشین کرتے ہیں کہ اب جہاد کی ضرورت نہیں ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو ایک اجتماعی نظام کی ضرورت ہے ۔ اس نظام کو ایک اجتماعی قوت کی ضرورت ہے ۔ اور یہ قوت اسلام کے جذبہ جہاد میں مضمر ہے ۔ یہ اسلام کا مزاج ہے جس کے بغیر نہ اسلام قائم ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ قائدانہ کردار ادا کرسکتا ہے۔
لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ................” دین میں جبر نہیں ہے “ لیکن اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید یہ حکم بھی دیتا ہے
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ
” اور تم لوگ ، جہاں تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لئے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوفزدہ کردو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ “
اسلام کی نظر میں یہ بنیادی نقطہ ہے اور اسی کی روشنی میں مسلمانوں کو اپنے دین کو سمجھنا چاہئے اور اسی نقطہ نظر سے اہل اسلام کو اپنی تاریخ پڑھنا چاہئے ۔ اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں مسلمانوں کو ایسا موقف اختیارنہ کرنا چاہئے جس میں وہ ایک ملزم کی طرح کھڑے ہوں اور اپنا دفاع کرنے کی کوشش کررہے ہوں ۔ اس سلسلے میں انہیں ایک پر اعتماد ، پر عزم اور خود دار شخص کا موقف اختیار کرنا چاہئے جسے یہ یقین ہو کہ وہ اس دنیا کے تمام تصورات سے بلند تر ہے ۔ اسلامی نظام تمام نظاموں کے مقابلے میں بلند تر ہے ۔ دین اسلام تمام ادیان سے بالاتر ہے۔ اہل اسلام کو ان لوگوں سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے جو بظاہر دین اسلام کا دفاع کررہے ہوتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ ان کے دل و دماغ سے تصور جہاد کھرچ کھرچ کر نکال رہے ہیں تاکہ وہ خود اسلام دشمن اقوام کو محفوظ کرسکیں ۔ جہاد دراصل ظالم طاغوت کی برتری کو ریزہ ریزہ کرنے والا عمل ہے ۔ اور جہاد میں تمام انسانیت کی بھلائی ہے ۔ اور انسانیت کا سب سے بڑ دشمن وہ شخص ہے جو اسے جہاد سے محروم کرتا ہے اور انسانیت اور جہاد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے ۔ لہٰذا یہ شخص انسانیت کا دشمن نمبر ایک قرار پاتا ہے۔ اور انسانیت میں اگر رشد وہدایت ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے اس عظیم دشمن انسانیت کا پیچھا کرے ۔ اس لئے کہ اہل ایمان امت مختار ہیں ۔ انہیں دولت ایمان سے برگزیدہ بنایا گیا ہے ۔ اس لئے خود ان کے اپنے نفوس کے لئے بھی اور پوری انسانیت کی خاطر بھی یہ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ منکر جہاد کا تعاقب کریں اور یہ ان کا ایسا فریضہ ہے جس کے بارے میں ازروئے شریعت وہ عنداللہ مسئول ہیں۔
Ayah 2:258درس 18 ایک نظر میں
یہ تین آیات ہیں اور ان کا موضوع ایک ہے یعنی زندگی اور موت کی حقیقت کیا ہے ؟ اور موت کے بعد زندگی کا راز کیا ہے ؟ حیات بعد الممات اسلامی نظریات کا ایک اہم پہلو ہے ۔ جس پر قرآن مجید میں بحث کی گئی ہے ۔ اور اس پارہ کے آغاز ہی سے جابجا اس پر بحث کی گئی ہے ۔ نیز ان آیات کا ان صفات الٰہی کے ساتھ بھی براہ راست تعلق ہے جو آیت الکرسی میں بیان کی گئی ہیں ۔ اور ان سب آیات سے قرآن کریم کی اس واضح جدوجہد کا اظہار ہوتا ہے ، جو قرآن مجید ، ایک مسلمان کے شعور وادراک میں ، ایک صحیح اسلامی تصور حیات کے پیدا کرنے کے لئے آرہا ہے ۔ اور انسانی زندگی کے بصیرت افروز جائزے کی خاطر اس بات کی ضرورت ہے کہ ذہن انسانی میں اس کا صاف ستھرا تصور موجود ہو ، جو اس کائنات کے حقیقی مشاہدے پر مبنی ہو ۔ اور جو مضبوط اور دل نشین اعتقاد پر مبنی ہو۔ اس لئے کہ انسان کے پورے نظام زندگی ، انسان کے مکمل طرز عمل اور اس کے تمام اخلاق وآداب کے قواعد و ضوابط کا ایک گہرا تعلق اگر اس عقائد ونظریات اور اس کے مکمل تصور کائنات کے ساتھ نہ ہو تو وہ نظام زندگی نہ تو مضبوط ومستحکم ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ایک مستقل معیار ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے تطہیر افکار اور عقائد و تصورات کی توضیح اور پختگی پر بڑا زو دیا ہے اور قرآن کریم کا مکی دور زیدہ تر اسی پر مشتمل ہے ۔ اور یہی رنگ مدنی دور کی آیات میں بھی نظر آتا ہے ۔ جہاں تفصیلی ہدایات اور قانون سازی بھی ہورہی ہے ۔
ان میں سے پہلی آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے دور کے بادشاہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو نقل کیا گیا ہے ۔ یہاں بادشاہ کا نام نہیں دیا گیا ، اس لئے کہ یہاں اس کے نام کے ذکر سے اصل بات میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا ۔ یہاں رسول اکرم ﷺ اور جماعت مسلمہ کے سامنے استعجاب کے ساتھ اس گفتگو کو پیش کیا جاتا ہے کہ اس شخص نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ رب کائنات کے بارے میں یہ مناظرہ کیا اور کس قدر احمقانہ موقف اختیار کیا ۔ اس نے اور قرآن کریم نے اپنے خاص بلیغانہ انداز میں اس مباحثے کو نقل کیا ہے ۔
یہ شخص جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ یہ مباحثہ کیا وہ وجود باری کا منکر نہ تھا۔ وہ اگر منکر تھا تو اللہ کی وحدانیت اور ربوبیت کا منکر تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات میں واحد متصرف اور واحد مدبر ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔ اسی طرح جس طرح جاہلیت کے گمراہ لوگوں میں سے بعض ایسے تھے جو وجود باری کے معترف تھے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بعض دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے ۔ بعض افعال واقعات کو ان شریکوں کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ اسی طرح یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت حاکمیت کے بھی منکر تھے ۔ اسلامی تصور کائنات کے مطابق جس طرح اس کائنات کے تکوینی امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اسی طرح یہاں قانون سازی اور اجتماعی امور کے فیصلے کا اختیار بھی اللہ کے پاس ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔
یہ منکر حق بادشاہ بہت ہی ہٹ دھرم تھا اور یہ اس سبب کی وجہ سے منکر حق تھا کہ اسے اللہ نے حکومت دی رکھی تھی۔
أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ................ حالانکہ اس سبب کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اس کی وجہ سے پکا مومن ہوتا اور شکر گزار ہوتا اور اللہ کے احسانات کا معترف ہوتا لیکن اس نے اس قتدار اور بادشاہت کی وجہ سے کفر و طغیان کا راستہ اختیار کیا ۔ اور اللہ کے اس انعام کی ناقدری کی اور اس انعام واکرام کی اصل حقیقت اور اس کے حقیقی تصور کو نہ پاسکا ۔ شکر کی جگہ اس نے کفر کی روش اختیار کی ۔ اور جو بات ان کی ہدایت کا سبب ہونا چاہئے تھی ، اس کی وجہ سے وہ گمراہ ہوگئے ۔ وہ حاکم اس لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم اس لئے نہیں بنایا کہ وہ عوام کو خود اپنا بندہ بنالیں ۔ اور خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کی پیروی کرائیں۔ وہ تو خود اللہ کے بندے ہیں جس طرح دوسرے لوگ اللہ کے بندے ہیں ۔ وہ بھی ان کی طرح اللہ سے شریعت پانے والے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرکے نہ حاکم رہتے ہیں اور نہ کوئی قانون بناسکتے ہیں ۔ یہ حکام تو خلفاء ہیں اصل حاکم نہیں ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ جب یہ بادشاہ نبی وقت کے ساتھ مباحثہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ طرز عمل عجیب نظر آتا ہے ۔
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ................ ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا تھا۔ جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیم کا رب کون ہے ؟ اس بناپر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی ۔ “ کیا تو نے نہیں دیکھا ! یہ قابل مذمت رویے اور حقارت آمیز طرز عمل پر استعجاب کا اظہار ہے ۔ انکار اور استنکار اپنے لفظی اور معنوی ہم آہنگی کی وجہ سے ایک ساتھ چلتے ہیں ۔ اس بادشاہ کی یہ حرکت فی الحقیقت ناپسندیدہ ہے ۔ اس لئے کہ انعام واکرام پانے کے سبب اگر کوئی جدل وجدال شروع کردے تو یقیناً قابل مذمت ہوتا ہے۔ نیز یہ بات بھی قابل مذمت ہے کہ کوئی رب کائنات کی صفات اپنے لئے مخصوص کرے ۔ اور کوئی حاکم اپنی خواہشات نفس کے مطابق عوام الناس پر حکمرانی کرے اور تقنین وتشریح کے کام میں اللہ سے ہدایت نہ لے ۔
إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ................ ” جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے ۔ “ زندگی اور موت ایسے واقعات ہیں جن کا اعادہ ہر لحظہ ہوتا رہتا ہے ، یہ حقائق ہر وقت انسانی احساس اور انسانی عقل کے سامنے آتے رہتے ہیں لیکن باوجود اس تکرار اور کثرت وقوع کے زندگی اور موت ایک حیرت انگیز راز ہیں ۔ اس سربستہ راز کے حل کے لئے عقل انسانی ایک ایسے سرچشمے کی طرف رجوع کرتی ہے جو بشریت سے وراء ہے ۔ اور ایک ایسے مرجع اور مصدر کی رجوع جس کا اس مخلوقات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ لہٰذا اس ناقابل حل پہیلی کے صحیح حل کے لئے ضروری ہے کہ انسان ذات باری کی طرف رجوع کرے جو پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور فنا کرنے پر بھی قادر ہے ۔
آج تک ہم موت وحیات کی حقیقت نہیں پاسکے ۔ البتہ زندوں میں ہم زندگی کے آثار سمجھ لیتے ہیں اور مردوں سے ہم موت کی خصوصیات جان لیتے ہیں ۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ موت وحیات کی حقیقت اس حقیقی قوت کے حوالے کردیں جو ان تمام قوتوں سے وراء ہے جن کو ہم جانتے ہیں یعنی قوت الٰہیہ ۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی ایک ایسی صفت بیان کی جس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ نہ کسی کو یہ زعم ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں شریک کار ہوسکتا ہے ۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) سے اس بادشاہ نے پوچھا کہ تمہارا رب کون ہے جو تمہارے لئے قانون بناتا ہے ، ، جس کے پاس اقتدار اعلیٰ ہے اور جسے قانون سازی کے پورے اختیارات حاصل ہیں ؟ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرا رب وہ ہے جس کے ہاتھ میں موت وحیات ہے ۔ لہٰذا وہی ہے جو حاکم اور قانون ساز ہے ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) موت وحیات کی حقیقت سے خوب واقف تھے ۔ اور موت اور زندگی سے ان کی مراد یہ تھی کہ اللہ ان حقائق کا خالق ہے ۔ اس لئے کہ وہ رسول تھے اور انہیں وہ لدنی اسرار و رموز عطاکئے گئے تھے جن کے بارے میں ہم نے حصہ اول میں بحث کی ہے ۔ اور موت وحیات کی تخلیق ایک ایسا عمل ہے جس میں اللہ کے ساتھ اس کے بندوں میں سے کوئی شریک نہیں ہے لیکن جو بادشاہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مباحثہ کررہا تھا وہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنی قوم کا حاکم مختار ہے۔ اس کی قوم پر اس کے پورے احکام نافذ ہوتے ہیں ۔ وہ سزائے موت بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتا ہے ۔ تو گویا یہ بھی ایک قسم کی ربوبیت ہے ۔ اس لئے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا :” میں اس قوم کا سردار ہوں ۔ ان کے معاملات میرے ہاتھ میں ہیں ۔ اس لئے میں ہی ایک قسم کا رب ہوں۔ جس کے سامنے تمہیں بھی جھکنا چاہئے اور مری حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرنا چاہئے ۔ “ چناچہ اس نے کہا أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ................” زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے ۔ “
اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ وہ اس کے ساتھ حقیقت موت وحیات کے موضوع پر تفصیلی بات چیت شروع کردیں ۔ خصوصاً ایسے شخص کے ساتھ جو حقیقت موت وحیات میں بذات خوداشتباہ میں تھا اور ڈانواں ڈول تھا ۔ جو ہمیشہ ایک مشکل مسئلہ رہی ہے ۔ یعنی یہ مشیئت کہ اللہ تعالیٰ انسان کو کس طرح زندگی عطا کرتے ہیں اور کس طرح اس پر موت طاری کردیتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا راز ہے جس تک پوری انسانیت کی رسائی آج تک نہیں ہوسکی ہے ۔ اس لئے اس مقام پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مناسب سمجھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس مشکل تکوینی حقیقت سے ذرا ہٹ کر ایسی ظاہری سنت کا سہارالیں جو ہر وقت اس شخص کے مشاہدے میں آتی رہتی ہے ۔ پہلے تو آپ نے صرف تکوینی سنت الٰہیہ کو پیش کیا کہ اللہ وہ ہے جو زندگی اور موت عطا کرتا ہے ۔ اب انہوں نے اپنے مخالف کے لئے ظاہری چیلنج کا راستہ اختیار کیا کہ تم اللہ کی قدرت کے بارے میں جھگڑتے ہو تو اللہ کی سنن میں سے کسی سنت کو تبدیل کرکے دیکھ لو ۔ اور یہ چیلنج انہوں نے یہ دکھانے کے لئے دیا کہ رب وہ نہیں ہوتا جو انسانی زندگی کے کسی ایک شعبے میں حاکم ہو یا کسی ایک خطے میں حاکم ہو وہ تو اس پوری کائنات میں متصرف ہوتا ہے اور اس کی عمومی ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ تمام لوگوں کے لئے قانون ساز بھی ہو اس لئے کہ وہ ان کا رب ہے ۔
تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ................ ” ابراہیم نے کہا :” اچھا اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے ، تو ذرا اسے مغرب سے نکال لا۔ “ یہ بھی ایک مسلسل وقوع پذیر ہونے والی کائناتی حقیقت ہے ۔ ہماری نظر روز یہ نظارہ دیکھتی ہے اور ہماری قوت مدرکہ روز اسے پاتی ہے اور کبھی بھی اس نظام میں کوئی تعطل یا تاخیر واقعہ نہیں ہوتی ۔ یہ کائنات ایک شہادت ہے جو ہماری فطرت کو اپیل کرتی ہے ۔ اگرچہ ہم اس کائنات کی طبیعت اور مزاج کو اچھی طرح نہ سمجھ پا رہے ہوں ۔ اگرچہ ہم نے فلکیات کے بارے میں مختلف نظریات کا علم حاصل نہ کیا ہو ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر انبیاء مبعوث فرمائے ہیں انہوں نے ہمیشہ انسانی فطرت کو مخاطب کیا ہے ۔ چاہے فطرت انسانی اپنی علمی اور عقلی ترقی کے تاریخی مراحل میں سے جس مرحلے میں بھی ہو اور فطرت انسانی نے اجتماعی لحاظ سے ترقی کے جو مدارج بھی طے کئے ہوں انبیاء نے فطرت انسانی کا ہاتھ پکڑا ہے ۔ اور اسے ترقی کے اگلے مدارج تک پہنچایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بادشاہ کو چیلنج دیا اور جو مطالعہ فطرت پر مبنی تھا وہ لاجواب تھا ۔ اور نتیجہ یہ نکلا فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ................ ” تو وہ منکر حق ششدر رہ گیا۔ “
یہ چیلنج اس منکر حق کے سامنے کھڑا تھا ۔ بات بالکل واضح تھی ، کسی غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔ مناسب رویہ تو یہ تھا کہ وہ سیدھی طرح ایمان لے آتا اور سر تسلیم خم کردیتا لیکن جو شخص کافرانہ رویہ اختیار کرلیتا ہے اور پھر متکبر بھی ہوتا ہے ۔ یہ صفات اسے رجوع الی الحق سے روک لیتی ہیں اور وہ حیران رہ جاتا ہے ، پریشان ہوتا ہے اور متحیر ہوجاتا ہے ۔ اسے نہیں سوجھتا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔ لیکن اسے اللہ تعالیٰ راہ حق اس لئے نہیں سجھاتے کہ وہ ہدایت کا متلاشی ہی نہیں ہوتا ۔ اسے راہ حق کی طرف آنے کا شوق نہیں ہوتا ۔ وہ سیدھی راہ نہیں پکڑتا تاکہ منزل مقصود پائے ۔ اس لئے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ................ ” مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔ “
اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ اور آپ کی پہلی جماعت ، جماعت مسلمہ کے سامنے ، بغض عناد اور ضلالت اور ہٹ دھرمی کی مثال کے طور پر پیش فرمایا۔ نیز ان لوگوں کے لئے بھی جو دور جدید میں دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی تجربہ کے طور پر قرآن مجید میں درج کردیا گیا کہ اہل دعوت منکرین حق کا مقابلہ کس طرح کریں۔
سیاق کلام ایسے حقائق کو لے کے آگے بڑھتا جو ایمان ویقین کے ساتھ ایک واضح تصور کے عناصر ترکیبی ہیں ۔” میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں موت وحیات ہے۔ “ اور ” اللہ تو سورج کو مشرق سے نکال کر لاتے ہیں ، تم ذرا اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔ “ ایک حقیقت ایسی ہے جو نفوس انسانی میں پائی جاتی ہے ۔ دوسری حقیقت ایسی ہے جو آفاق کائنات میں عیاں ہے ۔ دونوں عظیم تکوینی حقیقتیں ہیں لیکن اپنی عظمت کے ساتھ ساتھ پیش پا افتادہ ہیں ۔ روز کے مشاہدے میں ہیں ۔ رات دن فکر ونظر کی آماجگاہ ہیں اور ان حقائق کے پانے کے لئے کسی بڑی علمی استعداد کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور نہ کسی طویل غور وفکر کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحیم و کریم ہے ۔ وہ اللہ پر ایمان لانے اور اللہ کی جانب ہدایت پانے کے مسئلے پر اس قسم کی علمی اور منطقی بحث نہیں کرتا کہ جو کم علم آدمی کی دسترس سے باہر ہو یا ایسے لوگوں کی استعداد فکری کے دائرے سے باہر ہو جو غوروفکر کے معاملے میں طفل مکتب ہوں۔ یہ ایک زندہ اور اہم معاملہ ہے ۔ انسانی فطرت کے لئے وہ لابدی ہے ۔ اس کے بغیر انسانی زندگی استوار ہوسکتی ہے نہ انسانی معاشرہ اس کے بغیر منظم ہوسکتا ہے ۔ اس کے بغیر انسان یہ پہچان حاصل نہیں کرسکتے کہ ان کے اجتماعی نظام اور اعلیٰ اقتدار اور آداب کا ماخذ کیا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ایمان کے مسئلہ میں انسان کے ساتھ ایسے حقائق کو پیش نظر رکھ کر بات کرتا ہے ، جو سب کے سامنے ہوتے ہیں اور جن کا تعلق فطرت انسانی سے ہوتا ہے۔ اور وہ حقائق ایسے ہوتے ہیں جو ہر فطرت سلیمہ سے اپنے آپ کو خود تسلیم کراتے ہیں ۔ ان حقائق اور مشاہدات کے اشارات اس قدر مضبوط ہوتے ہیں کہ ان کی گرفت سے انسان بمشکل نکل سکتا ہے ۔ اور ان سے دامن چھڑانے کے لئے اسے انتہائی محنت ، مشقت ، کبر و غرور اور عناد ومکابرہ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
اعتقادات اور ایمانیات کے علاوہ بھی انسانی زندگی کے وہ معاملات جن پر حیات انسانی مکمل طور پر موقوف ہے ، ان میں بھی انسان راہ فطرت اپناتا ہے اور اشارات فطرت کے دائرے میں رہتا ہے ۔ مثلاً تلاش معاش ، ہوا ، پانی ، تناسل وتکاثر وغیرہ ان اہم معاملات میں بھی انسان کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا گیا ۔ یہاں تک کہ اس کی سوچ مکمل اور پختہ ہوگئی ۔ اس کا علم ترقی کر گیا اور پختہ ہوگیا۔ اگر اسے یونہی چھوڑ دیا جاتا تو وہ کب کا ہلاک وبرباد ہوگیا ہوتا۔ ایمان انسان کے لئے اسی قدر اہم اور ضروری ہے جس قدر اس کی زندگی کے لئے کھانا ، پینا اور ہوا ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان موضوعات پر اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کے تقاضوں کے مطابق بات کرتا ہے اور ایسے آثار و شواہد پیش کرتا ہے جو انسان کے اردگرد صفحہ کائنات پر پھیلے ہوئے ہیں ۔
Ayah 2:259یہ شخص کون تھا جس کا گزر ایک بستی پر ہوا ۔ وہ کون سی بستی تھی جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری ہوئی تھی ۔ اس کے بارے میں قرآن کریم خاموش ہے ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیئت ہوتی تو قرآن کریم اس بستی کے بارے میں تفصیلات بتا دیتا ۔ اگر ان تفصیلات کے حذف کردینے سے حکمت قرآنی کے اظہار وبیان میں کچھ فرق پڑتا تو قرآن کریم میں اس کی تفصیلات ضرور بتائی جاتیں ۔ یہاں صرف اس بستی کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے اور جس طرح فی ظلال القرآن میں ہمارا منہج ہے ہم بھی بس اس جھلک سے آگے تفصیلات میں جانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ اس بستی کی جو جھلک دکھائی گئی ہے وہ نہایت ہی واضح ، مؤثر اور پردہ دماغ میں مرتسم اور منقش ہوجاتی ہے ۔ موت ، پھر بوسیدگی اور ٹوٹ پھوٹ کا ایک واضح نقشہ اپنی پوری صفات کے ساتھ ذہن نشین ہوجاتا ہے۔ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا ................ ” جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی ہے۔ “ یہ بستی گر کر اپنی بنیادوں پر پڑی ہے اور ریزہ ریزہ ہوچکی ہے ۔ جو شخص اس پر سے گزرتا ہے اس کے احساسات میں یہ تصور نمودار ہوتا ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ................ ” یہ آبادی جو مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “
قائل یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ موجود ہے لیکن اس بستی کی موجودہ شکست وریخت کی صورتحال دیکھ کر سوچتا ہے ۔ اس کے احساسات میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ اس ہمہ گیر تباہی کے بعد اللہ اسے کس طرح دوبارہ زندہ وتابندہ بنادے گا ۔ احساسات کی یہ تعبیر ! کسی منظر کو دیکھ کر جو احساسات پیدا ہوسکتے ہیں۔ قرآن کریم ان کی نہایت رقت کے ساتھ ، پر تاثیر تعبیر کرتا ہے ۔ یوں قرآن کریم اپنا پر تو اور اپنی تعبیرات کو مخاطب کے ذہن میں منقش کردیتا ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ قاری کے سامنے وہ منظر عیاناً موجود ہے ۔ وہ اسے دیکھ رہا ہے اور اس کے دل میں وہی احساسات پیدا ہورہے ہیں جو کبھی اس شخص کے دل میں پیدا ہوئے تھے ۔
أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ................ ” اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “ اس تباہی میں سے تعمیر کس طرح نمودار ہوگی ؟ “ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ................ ” تو اللہ تعالیٰ نے اس کی روح قبض کرلی ۔ وہ سو برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی۔ “ اللہ تعالیٰ نے اسے زبانی طور پر یہ نہ کہا کہ اسے اس طرح زندہ کیا جائے گا ۔ بلکہ اسے واقعات کی دنیا میں بطور تجربہ دکھایا گیا ۔ اس لئے کہ تأثر اور شعور بعض اوقات اس قدر گہرے اور مشکل ہوتے ہیں کہ عقلی دلائل سے انہیں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ نہ منطق اور وجدان سے وہ تأثر پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ عام اور پیش پا افتادہ واقعات سے بھی ایسا تأثر اخذ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ شعور اور تأثر صرف براہ راست ذاتی تجربے ہی سے پیدا کا جاسکتا ہے ۔ ایسے تجربے کے بعد یہ شعور انسان کے احساسات پر چھا جاتا ہے۔ دل اس پر مطمئن ہوجاتا ہے اور پھر کسی مزید یقین دہانی کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔
قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ................ ” اللہ نے اس سے پوچھا ” بتاؤ کتنی مدت پڑے رہے ہو ؟ اس نے کہا ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں۔ “ اسے کیا پتہ تھا کہ وہ کتنی مدت پڑا رہا ہے ۔ زمانے کا احساس اور شعور تب ہوتا ہے جب انسان زندہ ہو اور اس کی سمجھ کام کررہی ہو ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ انسانی حس دراصل ادراک حقیقت کے لئے صحیح معیار بھی نہیں ہے ۔ اس لئے کہ حس اور ادراک حقیقت میں کبھی دھوکہ دیتی ہے اور کبھی دھوکہ کھاجاتی ہے ۔ مثلاً حس نے یہاں ایک طویل زمانے کے ادراک میں دھوکہ کھایا اور اسے ایک دن یا اس سے بھی مختصر زمانہ سمجھا ۔ اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ انسانی حس ایک مختصر زمانے کو ایک طویل عرصہ تصور کرتی ہے۔
قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ................ ” اللہ نے کہا بلکہ تونے اس حالت میں سو سال گزارے ہیں ۔ “ اس تجربے کی نوعیت کا تقاضا یہ تھا ، خصوصاً جبکہ ایک حسی تجربہ تھا ، کہ وہاں لازماً ایسے آثار ہونے چاہئیں جو یہ بتائیں کہ ایک سو سال کا طویل عرصہ گزر گیا ہے لیکن اس شخص کے کھانے اور پینے کے سامان سے تو ایسے آثار ظاہر نہیں ہورہے تھے ۔ اس لئے کہ اس کے کھانے پینے کے سامان میں کوئی تغیر واقعہ نہیں ہوا تھا ۔ نہ وہ خراب اور متعفن ہوئے تھے ۔
فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ................ ” اور اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں کوئی تغیر واقعہ نہیں ہوا۔ “ اور ظاہر ہے کہ پھر ایسے آثار صرف اس شخص کی ذات یا اس کے گدھے کے ساتھ متعلق ہوسکتے ہیں ۔
وَانْظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا
” اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو اور یہ ہم نے اس لئے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنادینا چاہتے ہیں ۔ پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اٹھاکر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں ۔ “
کون سی ہڈیاں ؟ کیا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کی ہڈیاں ؟ اگر یوں ہوتا جس طرح بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس شخص کی ہڈیاں گوشت و پوست سے ننگی ہوگئی تھیں تو جب اس کی نظروں میں بینائی ڈالی گئی اور وہ سمجھنے لگا تو وہ سب سے پہلے خود اپنی حالت کو دیکھتا اور سوچنے لگتا ۔ اور اس وقت اس کا جواب یہ نہ ہوتالَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ................ ” کہ میں ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں۔ “
اس لئے صحیح تفسیر یہ ہے کہ ان ہڈیوں سے مراد صرف گدھے کی ہڈیوں کا پنجر ہے جو گوشت پوست سے ننگی ہوکر علیحدہ ہوگئی تھیں ۔ اور اس کے بعد یہ معجزہ رونما ہوا کہ یہ ہڈیاں آپس میں جڑنے لگیں ۔ ان پر گوشت و پوست چڑھنے لگا ۔ اور پھر اسی صحیح وسالم گدھے کو دوبارہ حیات بخشی گئی ۔ اور یہ شخص جو اس طویل عرصہ میں بذات خود اپنے کھانے اور پینے کے سامان سمیت صحیح وسالم اپنی اصلی حالت میں رہا تھا اس کے دیکھتے ہی دیکھتے یہ معجزہ رونما ہوا۔ تاکہ ایک ہی جگہ ان دونوں مادی اشیاء کے انجام کا یہ متضاد فرق ، باوجود اس کے کہ فضا اور موسمی موثرات ایک ہی تھے ۔ ایک دوسرے معجزے کا اظہار کردے ۔ یہ معجزہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی اس مخلوقات پر قدرت کاملہ حاصل ہے ۔ اس کی قدرت واختیار بےقید ہے ۔ اس معجزے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس کی کیفیت کچھ ایسی ہی ہوگی۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ معجزہ کس طرح وقوع پذیر ہوا ۔ یہ اسی طرح ہوا جس طرح تمام معجزات وقوع پذیر ہوا کرتے ہیں ۔ اس طرح کرہ ارض پر پہلی زندگی کو وجود میں لانے کا معجزہ رونما ہوا ۔ جسے ہم اکثر اوقات بھول جاتے ہیں ۔ اور ہم نہیں جانتے کہ آغاز حیات کیونکر ہوا ؟ زندگی کس طرح آئی ؟ یہ آئی اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے چاہا ، اسے لے آیا اور جو ہمارے سامنے موجود ہے ۔ ڈارون ، علمائے حیاتیات میں ایک اونچے درجے کا سائنسدان تھا ۔ وہ اپنے نظریات کو لے کر درجہ بدرجہ نیچے آتا رہا ۔ زندگی کی گہرائیوں میں دور تک سرگرداں رہا اور آخر کار وہ اسے یہاں تک پہنچاسکا کہ اس کا آغاز ایک زندہ خلیے سے ہوتا ہے۔ یہاں آکر وہ رک جاتا ہے اور اس کا راستہ آگے سے بند ہے ۔ اس زندہ خلیے میں زندگی کہاں سے داخل ہوئی ؟ اس راز کو وہ نہیں پاسکتا ۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا جسے انسانی ادراک کو تسلیم کرلینا چاہئے ۔ جو حقیقت انسانی کی فطری سوچ اور منطق کو ہر لمحہ مجبور کررہی ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے ۔ یہ کہ ایک ایسی ذات کو تسلیم کیا جائے جس نے اس خلیے کو زندگی عطا کی اور ڈارون کسی علمی یا منطقی دلیل کی بناپر اس حقیقت کے تسلیم کرنے سے انکاری نہیں ہے بلکہ یہ انکار اہل کلیسا کے اس رویہ کی وجہ سے ہے جو انہوں نے اہل علم و دانش کے خلاف اپنی پوری تاریخ میں اختیار کیا ۔ ڈارون اس تعصب کی وجہ سے کہتا ہے ” زندگی کے معاملات کی ایسی تفسیر جس میں ایک خالق کے وجود کو تسلیم کیا جائے ، رب ہے جس طرح ایک خالص طبعی میکانزم میں ایک خارق العادت عنصر کو شامل کیا جائے۔ “ سوال یہ ہے کہ وہ طبعی میکانزم کیا ہے ؟ میکانزم کا اس حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے جو ہمارے فکر ونظر کے سامنے کھڑی ہے اور ہم سے باصرار مطالبہ کررہی ہے کہ ہم اس کا راز بتائیں یعنی حیات اولیٰ کا راز۔
ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے کہ اس فطری نظام اور منطقی استدلال کے سامنے خود ڈارون بھی بےبس ہوجاتا ہے ۔ جو استدلال باصرار مطالبہ کرتا ہے کہ خلیہ اولیٰ کے پیچھے خالق کائنات کو تسلیم کیا جائے تو وہ خلیہ اول کو سب اول کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ اور اگر اس سے کوئی پوچھے کہ یہ سبب اول ہے کیا ؟ اس کا ماہر حیاتیات کے پاس کوئی جواب نہیں ہے حالانکہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ خلیہ اول کے اندر حیات اور زندگی کا موجد کون ہے ؟ اس سوال کا جواب دئیے بغیر ہی وہ اس خلیے سے اپنے نظرئیے کا آغاز کرتا ہے جبکہ آج اس کا یہ مشہور نظریہ بھی محل نظر بن گیا ہے۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ زندگی اپنی موجودہ شکل میں اس خلیے کی ترقی یافتہ شکل ہے حالانکہ آغاز حیات کا دوسرا طریق کار بھی ہوسکتا ہے اور ہے ۔
آغاز حیات کے بارے میں اہم سوال کا جواب ڈارون نہ دے سکا ۔ اس نے فرار کی راہ اختیار کی اور اپنا بناؤٹی بوگس نظریہ پیش کیا۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے کتاب ” الانسان بین المادیہ والاسلام “ کا باب ” فرائڈ “ )
اس متضاد صورت حال کی وضاحت دراصل اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ مشیئت ایزدی بےقید ہے ۔ اللہ کی مشیئت اس ہمہ گیر قانون فطرت سے بھی آزاد ہے جسے ہم لازمی اور اٹل سمجھتے ہیں اور ہمارے ذہنوں میں بیٹھی ہوئی ہے نہ اس قانون فطرت کی مخالفت ہوسکتی ہے اور نہ اس سے کوئی جزئیہ مستثنیٰ ہوسکتا ہے ۔ ہمارے لئے یہ بات کافی ہے کہ اللہ کی مشیئت کی نسبت یہ عقیدہ غلط ہے کہ قانون طبیعت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ اور ہمارے لئے یہ الجھن اس لئے پیدا ہوجاتی ہے کہ ہم اپنے اندازوں یا عقلی فیصلوں کو نام نہاد سائنسی اصولوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی لازماً منطبق کرتے ہیں اور یہ ہمارے فکر ونظر کی وہ غلطی ہے جو کئی دوسری غلطیوں کو جنم دیتی ہے۔
1۔ مثلاً ہمیں یہ حق کب پہنچتا ہے کہ ہم قادر مطلق کو اس قانون کا تابع قرار دیں جس کے ہم قائل ہیں ، جو ہمارے محدود وسائل کے محدود تجربات سے اخذ کیا گیا ہوتا ہے۔ پھر ہم اپنی محدود قوت مدرکہ کی وجہ سے ان تجربات کی تفسیر کرتے ہیں جس میں غلطی کا امکان ہر وقت موجود ہوتا ہے۔
2۔ چلو ہم نے قوانین قدرت میں سے کوئی قانون صحیح طور پر سمجھ لیا اور وہ فی الحقیقت ہے بھی قانون قدرت ۔ لیکن ہمیں یہ کس نے بتایا کہ بس یہ قانون انتہائی اٹل قانون ہے ، بےقید وشرط ہے ۔ اور اس سے زیادہ کلی اور جامع اور کوئی قانون اور ضابطہ نہیں ہے ۔
3۔ چلو مان لیا کہ وہ قانون اٹل ہے ، مطلق ہے اور عام حالات میں اس سے تخلف ممکن نہیں لیکن یہ قانون اللہ کا وضع کردہ ہے ۔ ذات باری کس طرح اپنے بنائے ہوئے قانون میں مقید ہوگئی ۔ ذات باری تو بہرحال مختار کل ہے۔
غرض یہ تجربہ یوں ہی آگے بڑھتا ہے ۔ جدید اہل دعوت کے فکری سرمایہ میں ایک صحیح ایمانی تصور حیات کا اضافہ کرتا ہے اور موت وحیات کی حقیقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس دوسری حقیقت کا اضافہ بھی کرتا ہے جس کی جانب ہم نے ابھی اشارہ کیا ۔ یہ حقیقت کہ اللہ مشیئت بےقید ہے ۔ اور قرآن کریم نے اس حقیقت کو بار بار بیان کرکے اہل ایمان کے ضمیر میں اسے پختہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تاکہ اہل ایمان براہ راست اپنے اللہ سے تعلق قائم کریں ۔ اس سلسلے میں ظاہری اسباب کو کوئی اہمیت نہ دیں ۔ ان تمہیدات کو خاطر میں نہ لائیں جو عام طور پر منظور ہوتی ہیں ۔ اللہ جو چاہتا ہے ، کر گزرتا ہے۔ اور یہی بات اس شخص نے کی ، جس کے سامنے اس تجربے کو دہرایا گیا تھا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ................ ” میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “