2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہارے لئے قتل کے مقدمات میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے ۔ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو ، تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیاجائے ، غلام قاتل ہو ، تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے اور عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص لیاجائے ۔ ہاں کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لئے تیار ہو ، تو معروف طریقے کے مطابق خون بہا کا تصفیہ ہونا چاہئے اور قاتل کو لازم ہے کہ وہ راستی کے ساتھ خون بہا ادا کرے ۔ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے ۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک سزا ہے ۔

درس 11 ایک نظر میں اس سبق میں مدینہ طیبہ کے نوزائیدہ اسلامی معاشرہ کے بعض اجتماعی معاملات کی شیرازہ بندی کی گئی ہے ۔ ساتھ ساتھ بعض عبادات جیسے فرض عبادات کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ یہاں یہ دونوں چیزیں اس سورت میں ایک ہی ٹکڑے میں باہم ضم کردی گئی ہیں ۔ دونوں قسم کی تعلیمات کے درمیان رابطہ تقویٰ اور خوف خدا کو بنایا گیا ہے ، جہان اجتماعی معاملات کی شیرازہ بندی کے آخر میں بار بار تقویٰ اور خوف خدا کا ذکر ہے وہاں عبادات مفروضہ کے آخر میں بھی تقویٰ ، شکر اور خشیت اللہ پر زور دیا گیا ہے ، اور پھر اس سبق کو آیات بر کے بعد لایا گیا ہے ، جو ایمانی تصورات زندگی ، ایمانی طرز عمل اور اسلامی طریق کار پر مشتمل ہے ۔ اور جس میں نیکی اور تقویٰ کا اعلیٰ معیار بیان ہوا ہے ۔ اس سبق میں ، مقتولین کے قصاص کے احکام بیان کئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کی گئی ہے ۔ موت کے وقت وصیت کے احکام ، روزے کی فرضیت کے احکام اور دعا واعتکاف کے احکام بیان ہوئے ہیں اور آخر میں مالی واجبات کی ادائیگی کے احکام بیان کئے گئے ہیں ۔ احکام قصاص کے بیان کے بعد خاتمہ کلام تقویٰ پر کہا گیا : وَلَکُم فِی القِصَاصِ حَیٰوةٌ یَّاُولی الالبَابِ لَعَلَّکُم تَتَّقُونَ ” عقل وخرد رکھنے والو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ۔ “ اسی طرح جب وصیت کے احکام بیان ہوئے تو یہ بات پھر تقویٰ ہی پر ختم ہوتی ہے۔ کُتِبَ عَلَیکُم اِذَ حَضَرَ اَحَدَکُمُ المَوتَ اِن تَرَکَ خَیرًا الوَصِیَّة لِلوَالِدَینِ وَالاَقرَبِینَ بِالمَعرُوفِ حَقًّا عَلَی المُتَّقِینَ ” تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو ، تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے معروف طریقے سے وصیت کرے ۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ “ اب روزے کی فرضیت کے حکم کا مطالعہ کریں ۔ اس کے آخر میں بھی بتایا گیا ہے کہ یہ فرض ہی اس لئے ہوا ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔ اے لوگوجو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں ، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوجائے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ احکام روزہ کے آخر میں اعتکاف کے احکام ہیں اور ان کے بعد بھی آخری نتیجہ تقویٰ ہی ہے ۔ یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ۔ ان کے قریب نہ پھٹکنا ۔ اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لئے بصراحت بیان کرتا ہے۔ توقع ہے کہ وہ غلط رویے سے بچیں گے تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَقْرَبُوهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ اس کے علاوہ اس سبق میں اختتام مضمون پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی تقویٰ اور دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور جلالت شان کا شعور پیدا کرنے کے مضامین سے خالی نہیں ۔ مثلاً ایک جگہ کہا گیا اور جس ہدایت پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اس اللہ کی کبریائی کا اظہارواعتراف کرو اور شکر گزار بنوولِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ دوسری جگہ ہے فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ” بیشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ “ اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌرَّحِیمٌ” بیشک بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ غرض اس پورے متن میں تسلسل کے ساتھ تقویٰ کا ذکر ہے جس سے ایک نظر میں دین کی حقیقت تک رسائی ہوجاتی ہے اور اندازہ ہوجاتا ہے کہ دین ایک ایسی اکائی ہے جس کے اجزا ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے ۔ اس کا اجتماعی نظام ، اس کے قانونی اصول ، اس کی رسوم عبادت ، سب کی سب صرف ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی نظریہ کے سرچشمے سے پھوٹتے ہیں ۔ یہ سب شعبے صرف ایک ہی تصور حیات سے نکلتے ہیں اور یہ تصور حیات نظریہ اسلام سے ابھرتا ہے ۔ یہ سب شعبے ایک ہی رسی میں بندھے ہوئے ہیں اور ان کا آخری نقطہ ارتکاز اللہ ہے ۔ سب کی غرض وغایت ایک ہی ہے ، یعنی بندگی ۔ صرف خدائے واحد کی ، جس نے پیدا کیا ، جس نے رزق دیا ، جس نے انسان کو اس زمین میں اپنا جانشین مقرر کیا ۔ مگر یہ جانشین اس شرط کے ساتھ کہ وہ صرف خدائے واحد پر ایمان لائے ، وہ صرف خدائے واحد کی بندگی کرے اور وہ اپنا تصور حیات اپنے اجتماعی نظم کو اپنے قوانین کا ماخذ صرف اللہ ہی کو قرار دے ، صرف اللہ کو ! غرض یہ پورا سبق اور اس کے مضامین اور پھر مضامین کے آخر میں بیان کردہ تبصروں اور نتائج کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کے تمام اجزاء باہمی مربوط ہیں اور ربط کیا ہے ؟ تقویٰ ، بندگی اور ایمان باللہ ! یہ پکار صرف اہل ایمان کے لئے ہے ۔ صفت ایمان کو خطاب میں کیا گیا ، اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ قصاص کے معاملے میں ہدایت صرف اللہ ہی سے حاصل کی جائے ، جس پر تم ایمان لائے ہو۔ اللہ پکار کر اطلاع دیتا ہے کہ تم پر مقتولین کے معاملے میں قصاص فرض کردیا گیا ۔ پہلی آیت قانون سازی کے ضمن میں ہے اور دوسرے میں اس قانون کی حکمت بیان کی گئی ہے ۔ اہل ایمان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ سمجھنے کی کوشش کریں ، اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں خدا خوفی کا احساس پیدا کیا گیا ہے ۔ غرض قتل اور سزا قتل کے معاملے میں اسلام کا نظام قصاص سیفٹی وال (Safty Valve) کی حیثیت رکھتا ہے ۔ منقولہ بالا آیت میں جو قانون بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ قتل کے معاملے میں قصاص یوں ہوگا کہ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیاجائے ، غلام نے قتل کیا ہو تو غلام ہی سے بدلہ لیاجائے گا لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی رعایت کا ذکر کردیا گیا جو انسانی تمدن کی استواری کے لئے ضروری ہے۔ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ” ہاں اگر قاتل کے ساتھ اس کا بھائی (مقتول کا وارث) نرمی کے لئے تیار ہو ، تو معروف طریقے کے مطابق خون بہا کا تصفیہ ہونا چاہئے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خون بہا ادا کرے ۔ “ نرمی اور معافی کی صورت یہ ہے کہ مجرم کو قصاص میں قتل کرنے کے عوض مقتول کے ورثا دیت قبول کرنے پر راضی ہوجائیں ۔ جب وہ دیت لینے پر راضی ہوں تو انہیں چاہئے کہ وہ باہمی رضامندی اور معروف اصولوں کے مطابق دیت کی رقم طے کرلیں ۔ اور قاتل اور اس کے اولیاء کا فرض ہے کہ وہ راستی اور حسن و خوبی کے ساتھ دیت ادا کریں ، تاکہ ان کے دلوں میں کدورت دور ہوجائے ۔ تلخی ختم ہوجائے اور مقتول کے خاندان کے جو لوگ زندہ رہ گئے ہیں ، ان کے پھر سے برادرانہ تعلقات قائم ہوسکیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس اہم ترین معاملے میں دیت کی گنجائش رکھ کر مسلمانوں پر تخفیف اور رحمت کی ہے ۔ اسی لئے انہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ اسے اللہ کا ایک عظیم احسان سمجھیں ۔ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ” یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے ۔ “ یہ گنجائش تورات کے قانون قصاص میں نہ تھی ۔ یہ امت مسلمہ کے ساتھ ایک رعایت ہے ۔ جو محض اس لئے کی گئی کہ اگر فریقین کے درمیان راضی نامہ ہوجائے اور دل ایک دوسرے کے لئے صاف ہوجائیں تو اس صورت میں نہ صرف رنجشیں مٹ جائیں بلکہ ایک شخص کی زندگی بھی بچ جائے۔ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ” اس کے بعد بھی اگر کوئی زیادتی کرے تو اس کے لئے دردناک سزا ہے۔ “ آخرت میں جو سزا ہوگی وہ تو ہوگی ، اس دنیا میں سزا یہ ہوگی کہ اگر قتل ثابت ہوجائے تو اس کا قتل لازمی ہوگا۔ اور اس سے دیت قبول نہ کی جائے گی ، کیونکہ باہمی رضامندی اور مصالحت کو بےکار بنانا ہے ۔ دلوں کی صفائی کے بعد دشمنی پیدا کرنا ہے ۔ اسی طرح اگر وارث نے دیت قبول کرلی ہے تو پھر اس کے لئے دوبارہ انتقام لینے کا کوئی جواز نہیں ہے ، ہ ناروا زیادتی ہے ۔ قصاص اور دیت کے نظام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کس قدر وسیع نقطہ نظرکاحامل ہے اور قانون سازی کے وقت نفس انسانی کے محرکات پر اس کی پوری نظر ہے۔ خدائے برتر نے انسان کی فطرت میں جو رجحانات ودیعت کئے ہیں ان کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ خون دیکھ کر خون فطرتاً کھول اٹھتا ہے ۔ اسلام نے اس کا تقاضا قانون قصاص کے ذریعہ پورا کردیا ۔ صحیح انصاف یہ ہے کہ دلوں کو ٹھنڈا کردے ۔ دلوں کے اندر انتقام کی جو گھٹن پائی جاتی ہے اسے دور کردے ۔ یہاں تک کہ مجرم کے خیالات بھی درست کردے ۔ ان سب تدابیر کے باوجود اسلام اس بات کو پسند کرتا ہے کہ غلطی معاف کردی جائے ۔ اس لئے وہ عفو و درگزر کی راہ ہموار کرتا ہے ۔ قانون قصاص کی فرضیت کے بعد عفو و درگزر کی دعوت دینے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی اس معافی سے یہ بلند مرتبہ حاصل کرنا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے ۔ لیکن یہ عفو و درگزر فرض نہیں ہے ۔ یہ اس لئے کہ انسان کے فطری تقاضے دب نہ جائیں ۔ اور اس پر اس قدر بوجھ نہ ڈالا جائے کہ وہ اسے سہار نہ سکے ۔ بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس کو سورت مائدہ کی اس آیت نے منسوخ کردیا ہے جو اس کے بعد نازل ہوئی ہے ۔ وَکَتَبنَا عَلَیہِم فِیھَا اَنَّ النَّفسَ بِالنّفسِ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں :” ان آیت کے شان نزول کے سلسلے میں ابن ابی حاتم کی روایت بیان کی جاتی ہے ۔ ابوزرعہ ، یحییٰ بند عبداللہ بکیر ، عبداللہ بن لہیعۃ ، عطاء ابن دنیار ، سعید بن جبیر کے واسطہ سے نقل کیا ہے ۔ اس آیت کے بارے میں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى یعنی اگر قتل عمد ہو ، تو اس میں آزاد کو آزاد ہی کے بدلے میں قتل کیا جائے گا ۔ اس کی شان نزول یہ ہے کہ اسلام سے کچھ پہلے ہی ، دور جاہلیت میں قبائل آپس میں لڑپڑے۔ بہت لوگ قتل ہوئے بیشمار زخمی ہوئے ۔ یہاں تک کہ غلام اور عورتیں بھی ماری گئیں ۔ ان لوگوں نے ایک دوسرے سے ابھی کچھ نہ لیا تھا کہ اسلامی نظام آگیا ۔ اور وہ مسلمان ہوگئے ۔ ایک قبیلہ دوسرے پر مال وتعداد میں بےانصافی کرنے لگا ۔ انہوں نے قسم اٹھالی کہ وہ اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ “ لیکن یہ آیت منسوخ ہے اور اس آیت النفس بالنفس نے منسوخ کردیا ہے اس طرح ابومالک سے روایت ہے کہ اس آیت کو آیت النفس بالنفس نے منسوخ کردیا ہے۔ “ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کا مقام ومحل اور مائدہ کی آیات النفس بالنفس کا موقع ومحل ہی الگ ہے ۔ النفس بالنفس کا اطلاق انفرادی قتل پر ہے یعنی کوئی متعین شخص کسی متعین شخص یا اشخاص کو قتل کرے ۔ اگر قتل عمد ہو تو مجرم سزا یاب ہوگا ۔ لیکن زیر بحث آیت کا محل ہی الگ ہے ۔ اس میں اجتماعی قتل کی صورت کا حکم بیان کیا ہے۔ جہاں خاندان دوسرے خاندان پر ہاتھ اٹھائے ، قبیلہ قبیلے کے خلاف لڑے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر حملہ آور ہو ، جیسا کہ مذکورہ بالا قبائل کا معاملہ تھا ۔ جس سے آزاد ، غلام اور عورتیں ماری گئی تھیں۔ ایسے مواقع پر جب قصاص طے ہوگا تو آزاد کے بدلے آزاد ، ایک قبیلے کے غلام کے بدلے دوسرے قبیلے کا غلام اور ایک عورت کے بدلے دوسرے کی عورت قتل ہوگی۔ اگر یہ محل نہ ہوگا تو پھر بتایا جائے کہ جب کسی تنازعے میں دونوں طرف سے بڑے بڑے گروہ باہم برسرپیکار ہوں تو اس صورت میں قصاص کی کیا صورت ہوگی ؟ اگر اس نقطہ نظر کو تسلیم کرلیاجائے تو پھر یہ آیت منسوخ تصور نہ ہوگی اور قصاص کی آیات میں کوئی تعارض نہ ہوگا۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

عقل رکھنے والو ! تمہارے قصاص میں زندگی ہے ۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے ۔ “

اب قصاص کے قانون کی گہری حکمت اور اس کے دور رس مقاصد بتاکر بات ختم کی جاتی ہے وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الألْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” عقل وخرد رکھنے والو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ۔ “ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔ “ ضرور انتقام ہی لیاجائے بلکہ یہ اس سے کہیں بلندو برتر مقاصد کا حامل ہے ۔ یہ زندگی کے لئے ، زندگی کے قیام کی راہ میں انسان کا قتل ہے ، بلکہ قیام قصاص بذات خود زندگی ہے ۔ یہ اس لئے ہے کہ اس فریضہ حقیقت کو سمجھا جائے ۔ اس کی حکمت میں غور و تدبر کیا جائے۔ دل زندہ ہوں اور ان میں خدا خوفی موجزن ہو۔ ایک مجرم جرم کی ابتدا کرتا ہے اسے سوچنا چاہئے کہ یہ بات معمولی نہیں بلکہ ایسی ہے کہ مجھے تو اس کے بدلے میں اپنی جان کی قیمت دینی پڑے گی ۔ یوں نظام قصاص سے دوزندگیاں بچ جاتی ہیں ۔ ارتکاب قتل کی صورت میں قاتل کو سزا ہوجاتی ہے ۔ وہ قصاص میں مارا جاتا ہے ۔ مقتول کے ورثاء مطمئن ہوجاتے ہیں ان کے دلوں سے کینہ دورہوجاتا ہے اور انتقام کے جذبات سرد پڑجاتے ہیں اور پھر وہ انتقام جو عرب قبائل میں تو کسی حدپر ، کسی مقام پر رکتا ہی نہ تھا۔ چالیس چالیس سال تک قتل کے بدلے میں قتل کا سلسلہ چلتارہتا تھا۔ مثلاً حرب البسوس میں یہی ہوا۔ عرب کیا آج بھی اس گواہ ہیں ، جہاں زندگی خاندانی دشمنیوں اور کینوں کی بھینٹ چڑھتی رہتی ہے اور نسلاً بعد نسل یہ معاملہ چلتا ہی رہتا ہے اور یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ” قصاص میں زندگی ہے ۔ “ اپنے عمومی مفہوم میں ۔ ایک فرد کی زندگی پر حملہ دراصل جنس زندگی پر حملہ ہے ۔ پوری زندگی پر حملہ ہے ہر انسان پر حملہ ہے ۔ ہر اس انسان پر حملہ جو مقتول کی طرح زندہ ہے ۔ اگر قانون قصاص کی وجہ سے ایک مجرم ، صرف ایک زندگی کو ختم کرنے سے رک جائے تو اس نے پوری انسانیت کو بچالیا ۔ یوں اس ارتکاب جرم سے رک جانا عین حیات ہے اور یہ عام زندگی ، کسی ایک فرد کی زندگی نہیں ہے ، کسی خاندان کی نہیں ، کسی جماعت کی نہیں بلکہ مطلقاً زندگی ہے۔ اب آخر میں قانون الٰہی کی حکمت میں غور وفکر کے شعور کے موجزن کیا جاتا ہے اور خدا خوفی کی تلقین کی جاتی ہے ۔ (یہی وہ اہم فیکٹر اور موثر ذریعہ ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی قائم رہ سکتی ہے ) تَتّقُونَ ” امید ہے کہ تم قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔ “ یہ ہے وہ اصل بندھن ، جو انسان کو ظلم و زیادتی سے باز رکھتا ہے ، ابتداء میں قتل ناحق کی زیادتی سے روکتا ہے ، اور آخر میں انتقام کی زیادتی سے ۔ یہ کیا ہے ؟ خدا خوفی ، تقویٰ ، دل میں خدا خوفی کا شعور اور شدید احساس ۔ اللہ کے قہر وغضب سے ڈرنے کا احساس اور اس کی رضاجوئی کی کشش۔ اس پابندی کے بغیر کوئی قانون کامیاب نہیں ہوسکتا ، کوئی شریعت کامیاب نہیں ہوتی ۔ کوئی شخص ارتکاب جرم سے باز نہیں رہتا ۔ انسانی طاقت سے اعلیٰ اور برتر طاقت کے تصور کے بغیر اخروی خوف اور طمع کے روحانی احساس کے بغیر کوئی ظاہری شیرازہ بندی اور قانونی انتقام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حضرت محمد ﷺ کے دور اور خلافت کے زمانہ میں جرائم کا وقوع شاذ ونادر ہی رہا ہے ۔ جو جرائم وقوع پذیر ہوئے بھی تو مجرم نے خود اعتراف کیا ۔ اس کا رازیہی ہے کہ وہاں تقویٰ کا زور تھا۔ لوگوں کے دل و دماغ میں ، ایک زندہ ضمیر کی صورت میں تقویٰ ، چوکیدار کی طرح بیٹھا ہوا تھا ۔ جو ہر وقت بیدار رہتا تھا ۔ وہ انہیں حدود جرم سے بھی دور رکھتا ۔ ساتھ ساتھ انسانی فطرت اور انسانی جذبات و میلانات وانصرام تھا۔ دوسری طرف اسلامی عبادات کے نتیجے میں تقویٰ اور خدا خوفی کا سیل رواں تھا۔ دونوں کے باہم تعاون اور ہم آہنگی کے نتیجے میں ہم آہنگ اور پاک وصاف قانون اور شریعت موجود تھی ۔ ایک طرف شریعت و قانون اور ظاہری انتقام میں ایک پاک صالح تصور زندگی اور نظام زندگی نے جنم لیا ، جس میں لوگوں کا طرز عمل پاک طرز فکر صالح تھی ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس نظم نے ملک سے پہلے ہر شخص کے دل میں ایک منصف بٹھادیا تھا اور ایک عدالت قائم کردی تھی ۔ حالت یہ تھی کہ اگر کسی وقت کسی پر حیوانیت غالب ہی آگئی اور غلطی کا صدور ہوگیا اور یہ شخص قانون کی گرفت سے بچ بھی گیا تو بھی اس کا ایمان اس کے لئے نفس لوامہ بن گیا۔ اس نے اپنے ضمیر میں خلش اور چبھن محسوس کی ۔ دل میں ہر وقت خوفاک خیالات کا ہجوم برپا ہوگیا۔ اور گناہ کرنے والے کو تب آرام نصیب ہوا کہ جب اس نے قانون کے سامنے رضاکارانہ اعتراف جرم کرلیا اور اپنے آپ کو سخت سزا کے لئے پیش کردیا اور خوشی اور اطمینان کے ساتھ اس سزا کو برداشت کیا ، محض اللہ کے غضب سے بچنے کی خاطر۔ یہ ہے تقویٰ ، یہ ہے خدا خوفی۔ اب موت کے وقت وصیت کے مسائل کا بیان ہوتا ہے ۔ آیات قصاص کی فضا اور ان آیات کی فضا (یعنی موت اور زندگی کا اختتام ) کے درمیان مناسبت بالکل ظاہر ہے۔
Ayah 2:180

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کیا گیا کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑرہاہو ، تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے معروف طریقے سے وصیت کرے ۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر ۔

وصیت بھی فرائض میں سے ایک فرض ہے ۔ والدین اور اقرباء کے لئے بشرطیکہ مرنے والا اپنے پیچھے دولت چھوڑ رہا ہو۔ خیر سے مراد دولت ہے ۔ کتنی مقدار پر وصیت فرض ہے ؟ اس میں اختلاف رائے ہے ۔ راحج بات یہ ہے کہ مقدار کا رعین مختلف مواقع کے لئے ، عرف کے مطابق ، مختلف ہوسکتا ہے۔ بعض وفقہاء نے کہا کہ 60 درہم سے کم تر ہو تو سمجھا جائے کہ کوئی ترکہ نہیں ہے ۔ بعض لوگوں نے اس حد کو 80 دینار اور بعض نے 400 دنیار اور بعض نے 1000 تک بڑھادیا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مختلف ادوار میں ، اور مختلف خاندانوں کے لئے ظوف واحوال کے مطابق مقدار میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ وصیت کی ان آیات کے بعد میراث کی آیات نازل ہوئیں جن میں ورثاء کے لئے حصص متعین ہوگئے ۔ اور وراثت کی ہر صورت میں والدین کو حق دار قرا ردیا گیا ، لہٰذا اب والدین کے لئے وصیت نہ ہوگی کیونکہ وارث بہرحال وصیت سے محروم ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :” اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق عطا کردیا ہے ، لہٰذا اب وارث کے لئے کوئی وصیت مؤثر نہ ہوگی۔ “ رہے اقرباء تو ان کے لئے یہ حکم اب بھی اپنے عموم پر باقی ہے ۔ لہٰذا اب جو شخص قانون میراث کے مطابق حصہ پالے ، وہ وصیت سے فائدہ نہ اٹھاسکے گا اور جو قانون میراث میں حق دار نہیں ہے آیت وصیت اس لئے موجود ہے (Operative) ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ، بعض صحابہ اور تابعین میں سے بعض حضرات اس طرف گئے ہیں ۔ ہم بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں ۔ قانون میراث کی دفعات کی رو سے بعض اوقات قریبی رشتہ دار محروم ہوجاتے ہیں ۔ صلہ رحمی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی کچھ نہ کچھ ضروردیا جائے ، ایسے حالات میں وصیت کے ان احکام کی حکمت خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے ۔ قانون وصیت درحقیقت قانون کے وراثت کے دائرے سے باہر خاندان کے باہمی تکافل اور معاشی ذمہ داریوں کا ایک رنگ ہے ۔ اس لئے حکم ہوا کہ حق وصیت کا استعمال معروف اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں خدا خوفی کے اصل الاصول کو پیش نظر ہونا چاہئے۔ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ” معروف طریقے سے ، یہ متعین پر حق ہے۔ “ اس حق کے استعمال سے ورثا پر ظلم نہ ہو ، غیر وارث محروم رہیں ، اعتدال و انصاف کے ساتھ ، خدا خوفی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، احسان اور نیکی کی خاطر اس حق کو استعمال کرنا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں اس حق پر پابندی لگائی گئی اور 1/3 حصہ حدمقرر کردی گئی اور افضل یہ ہے کہ اس حق کو 1/4 حصہ تک محدود رکھا جائے ۔ تاکہ اس غیر وارث کی وجہ سے اصل وارث کو زیادہ نقصان نہ ہو۔ اس معاملے کا فیصلہ ، بیک وقت قانون اور تقویٰ دونوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اور یہی روح ہے اس اجتماعی نظام کی جسے قرآن مجید قائم کرنا چاہتا ہے۔
Ayah 2:181

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا ، تو اس کا گناہ بدلنے والوں پر ہوگا۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

جو شخص بھی وصیت سنے اس کا فرض ہے کہ وہ بےکم وکاست فریقین تک پہنچادے ۔ اگر وہ اس میں تبدیلی کرے گا ، تو اسے سخت گناہ ہوگا اور اگر سننے والے اپنی طرف سے تبدیلی کریں گے تو متوفیٰ بری الذمہ ہوگا۔ فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا ، تو اس کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہوگا۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ “ اس شخص نے جو سنا اور جس کا اسے علم ہے اس خود اللہ گواہ ہے ۔ وصیت کنندہ کے لئے بھی اللہ گواہ ہے ۔ لہٰذا میت پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور چونکہ تبدیل کنندہ کے خلاف بھی اللہ گواہ ہے ، لہٰذا ناجائز تغیر وتبدل پر اس سے مواخذہ ہوگا۔
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے اور معاملہ سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے ، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “

ایک حالت ایسی ہے جو وصی کو اختیا رہے کہ وہ وصیت کرنے والے کی وصیت میں کچھ ردوبدل کرے ، لیکن یہ اس وقت ہوگا جب اس بات کا علم ہوجائے کہ وصیت کرنے والے نے کسی کی ناحق طرفداری کی ہے یا ناجائز طور پر وارث کی حق تلفی کی ہے ۔ اس صورت میں جو شخص وصیت نافذ کرنے کا اختیاررکھتا ہے اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس حد تک اس میں تبدیلی کرے کہ ناجائز حق تلفی نہ رہے نہ ہی کسی کی طرف داری رہے ۔ معاملہ عدل و انصاف کے مطابق ہوجائے فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ” البتہ جس کو اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے اور پھر معاملہ سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان ، وہ اصلاح کرے ، اس پر کچھ گناہ نہیں ہے ۔ اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ تمام معاملات میں ، معاملہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت خصوصی کے سپرد ہے ۔ ہر حال میں اللہ کا کرم اور اس کی نگہبانی ہمارے حالات کی شیرازہ بند ہے ۔ اور یہی عدل و انصاف کے حصول کی آخری ضمانت ہے ۔ قانون قصاص اور قانون وصیت دونوں کو ایک ہی رسی میں باندھ دیا گیا ہے ۔ یعنی خدا خوفی بلکہ اسلامی نظام زندگی کے تمام شعبے اور اسلامی معاشرے کا ہر مسئلہ اس میں باندھا ہواہوتا ہے ۔ یہ امت پوری انسانیت پر گواہ ٹھہرائی گئی ہے وہ انسانیت کی نگران اعلیٰ ہے ۔ اور اسے کرہ ارض پر اسلامی نظام زندگی قائم کرنا ہے اور اس سلسلے میں اس جہاد فی سبیل اللہ فرض ہوچکا ہے ۔ لہٰذا اب یہ قدرتی امر ہے کہ اس پر روزہ بھی فرض کردیا جائے ۔ روزہ سے ارادہ قوی اور عزم صمیم ہوجاتا ہے ۔ اس کے ذریعے انسان اطاعت وانقیاد کے ساتھ اپنے رب سے ملتا ہے۔ اور اس کے ذریعے سے انسان جسم کی تمام ضروریات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان کے دباؤ اور ان کے بوجھ کو برداشت کرتا ہے۔ محض رضائے الٰہی کے حصول اور اجر اخروی کے طمع میں ۔ یہ سب تدابیر اس لئے ہیں کہ تحریک اسلامی کے کارکنوں کی راہ میں جو دشواریاں اور جو مشکلات ہیں ، اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں اور جو کانٹے بچھے ہیں ، ان کو برداشت کے لئے نفس انسانی تیار ہوجائے ۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے کہ اس کی دشواریوں کے علاوہ اس کے دونوں طرف مرغوب اور پسندیدہ چیزیں بکھری پڑی ہیں ۔ ہزاروں ایسی چیزیں اس راستے میں پڑی ہیں ، جو قدم قدم پر اسے فریب دینے کے لئے تیار ہیں ۔ اب دور حاضر کے انکشافات سامنے آتے ہیں ۔ حکما کہتے ہیں کہ روزہ انسان کے جسم پر بھی اچھے اثرات پڑتے ہیں ۔ اگرچہ میں اس بات کے حق میں نہیں ہوں کہ روزے یا دوسری عبادات کے ایسے دنیاوی فوائد بیان کئے جائیں جو طبعی زندگی سے متعلق ہوں اور حس ونظر تک محدود ہوں ۔ اس لئے کہ عبادات کی اصل غرض وغایت یہ ہے کہ انسان کو اس فرض کی ادائیگی کے لئے تیار کیا جائے جو اسے کرہ ارض پر ادا کرنا ہے۔ دوسری طرف اسے اس کامیابی اور اس کمال کے لئے جدوجہد کرنی ہے ، جو اسے دارآخرت میں حاصل ہوگا لیکن اس کے باوجود میں اس کے خلاف بھی نہیں کہ سائنس اور تجربہ سے عبادات کے سلسلے میں جو فوائد ثابت ہوتے ہیں ان کا بالکل انکار کردیا جائے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے وجود انسانی کے لئے فرائض و عبادات کے تعین میں جو عمومی تدابیر اختیار کی ہیں ۔ ان سے جو حکمت واضح طور ملحوظ ومفہوم نظر آتی ہے ، اس پر اعتماد ضروری ہے ۔ البتہ یہ بات پیش نظر رہے کہ سائنس اور تجربات سے ظاہر ہونے والی ان حکمتوں اور فوائد کو احکام و تکالیف شرعیہ کا اصل سبب اصل علت نہیں قرار دینا چاہئے ۔ اس لئے کہ سائنس کا دائرہ بہت ہی محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسان کی حیوانیت کو توڑ کر جس طرح اس کی تربیت کرنا چاہتا ہے اور اس میں جو حکمتیں ہیں وہاں تک انسانی علم ترقی کر ہی نہیں سکتا ۔ خود اس پوری کائنات کی بےقابو قوتوں کو اللہ تعالیٰ جس طرح سدھانا چاہتا ہے ، سائنس کی وہاں تک رسائی کب ہے۔
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی ،

اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ فرائض اور تکلیفات پر عمل کرنے کے لئے انسان کے نفس کو بڑی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں انسان اللہ کی خصوصی امداد کا محتاج ہے ۔ اس بات کی ضرورت تھی کہ ان احکامات پر عمل کرنے کے لئے ان میں اسپرٹ پیدا کی جائے ۔ ان کی روح ان احکامات کی طرف مائل ہوجائے تاکہ وہ مطمئن ہوجائے اور عمل پر راضی ہوجائے ۔ حالانکہ ان احکام پر عمل کرنے میں خود اس کا مفاد مضمر ہے ۔ چناچہ اسی خاطر بہت ہی پیاری آواز میں پکارا گیا ۔” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو “ غور کیجئے ، یہ آواز انہیں ان کی اصل حقیقت یاد دلاتی ہے ۔ پھر روزہ فرض ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے اور یہ تو پہلی امتوں پر بھی فرض ہوتا رہا ہے ۔ کوئی نئی بات تو نہیں ہے ۔ اس کا مقصداہل ایمان کے دلوں کو صاف کرنا ہے۔ انہیں خوف خدا کے لئے تیار کرنا ہے اور ان میں اللہ کی مشیت کا احساس و شعور بیدار کرنا ہے ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں ، جس طرح تم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے ، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔ “ اس آیت میں روزے کی اصلی غرض وغایت ظاہر ہوجاتی ہے ، یعنی تقویٰ جب ایک مومن اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اللہ کی رضا کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس کے دل میں تقویٰ کا شعور اجاگر ہوجاتا ہے۔ یہ تقویٰ ہی ہے جو دلوں کا نگہبان ہے اور جو انسان کو روزے کے احکام کی خلاف ورزی سے بچاتا ہے ۔ اگرچہ وہ ایسی معصیت سے بھی انسان کو بچاتا ہے ، جو کسی حد تک محض وسوسہ ہو ۔ قرآن کریم کے اول مخاطب صحابہ کرام اس کے معنی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ کے ہاں تقویٰ کس قدر وزنی ہے ۔ اس لئے تقویٰ ہی ان کا نصب العین تھا ۔ وہ برابر اس کی طرف بڑھتے جاتے تھے اور روزہ ذرائع حصول تقویٰ میں سے چونکہ ایک ذریعہ ہے اس لئے یہ فرض کیا گیا ۔ دراصل روزہ وہ راہ ہے جس کی آخری منزل تقویٰ ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہاں قرآن مجید ، ایک بلندمقام پر ، بالکل سامنے تقویٰ کا ایک روشن نشان رکھ دیتا ہے اور اہل ایمان کی آنکھیں اس نشانہ پر جم جاتی ہیں اور وہ روزہ کے واسطے اور روزے کی امداد سے وہاں تک پہنچنے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں ۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” تاکہ تم ڈرو۔ “
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

چند مقرر دنوں کے روزے ہیں ۔ اگر تم میں کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو ، تو دوسرے دنوں میں اتنی تعداد پوری کرلے اور جو روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہیں (پھر بھی نہ رکھیں ) تو وہ فدیہ دیں ۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے ، تو یہ اسی کے لئے بہتر ہے ۔ لیکن اگر تم سمجھو ، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ “

بات کا دوسرا رخ دیکھئے ، کہا جاتا ہے ! یہ تو چند دن ہیں پوری عمر کے روزے تو فرض نہیں کئے گئے ۔ تمام زمانے کے لئے تو فرض نہیں ہیں ۔ ساتھ ساتھ یہ کہ بیمار اس وقت تک مستثنیٰ جب تک وہ صحت یاب نہ ہوجائیں ۔ مسافروں پر اس وقت تک لازم نہیں جب تک گھر نہ لوٹ آئیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور سہولت اور تخفیف خاص رعایت دی گئی ہے ۔ أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ” چند مقرر دنوں کے روزے ہیں ، اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرے ۔ “ سفر اور مرض کے اعتبار سے آیت کا مفہوم عمومیت کا حامل ہے ۔ اسے محدود نہ کیا جائے ۔ بیماری کی نوعیت کیسی بھی ہو ، جس قسم کا سفر درپیش ہو روزہ قضا کرنا جائز ہے ۔ لیکن سفر ختم ہونے کے بعد اور بیماری دور ہونے کے بعد چھوڑے ہوئے روزے رکھنے ضروری ہیں۔ آیت میں بیماری کی شدت اور سفر کی مشکلات کو اس رخصت کا سبب نہیں بنایا گیا ۔ صرف ” مرض “ اور ” سفر “ کا علی العموم ذکر کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کے لئے مشکلات پیدا نہ ہوں اور سہولت رہے ۔ اب اس میں کیا حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف مرض اور صرف سفر کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ کوئی قید نہیں لگائی ؟ یہ صرف اللہ جانتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ بیماری اور سفر میں کچھ ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کے پیش نظر ہوں جنہیں ہم نہیں جانتے ۔ ہوسکتا ہے کہ سفر اور بیماری میں کچھ ایسی مشکلات ہوں جن کا احساس ہمیں نہ ہو۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس حکم کی اصل علامت کو ظاہری نہیں سمجھا تو ہمیں اس بارے میں تاویلات کی کیا ضرورت ہے ۔ بہرحال ہمیں ان کی حکمت معلوم ہو یا نہ ہو ۔ یہ عقیدہ ضرور رکھتے ہیں کہ ان کے پیچھے کوئی حکمت ومصلحت ضرور ہے ۔ کہا جاسکتا ہے کہ رخصت مرض وسفر کی اس تعبیر سے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی جو ہر وقت دین میں رخصت و سہولت کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ کیا کسی ادنیٰ سبب بلاوجہ ہم فرض عبادات کو ترک کردیں ؟ یہی تو وجہ ہے کہ ہمارے فقہاء نے سختی کرکے اس رخصت سے استفادہ پر قیود وشروط عائد کی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ استدلال ایک ضعیف استدلال ہے ۔ محض اس کی وجہ سے اور صرف اس استدلال کی بناپر ایک مطلق آیت کو مقید کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ لوگوں کو زنجیروں میں باندھ کر ان کو عبادات پر مجبور کرنا اسلام کی مستقل پالیسی نہیں ۔ اسلام تقویٰ کے ذریعہ عبادات میں کشش پیدا کرنا مناسب سمجھتا ہے۔ روزہ تو ہے ہی وہ عبادت جس کا مقصد صرف تقویٰ ہے ۔ جس شخص کی حالت یہ ہے کہ وہ رخصتیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر عبادات سے پیچھا چھڑاتا ہے ، وہ تو پہلے ہی بھلائی سے محروم ہے ۔ وہ اگر روزہ رکھ بھی لے تو وہ مقصد پورا نہ ہوگا جو فرضیت صیام کا اصل مطالبہ ہے۔ پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ دین لوگوں کا ہے یا اللہ تعالیٰ کا ؟ دین اللہ کا ہے اور وہ رخصت اور نرمی اور عزیمت وتشدد کے مقامات کو خوب جانتا ہے ۔ بعض اوقات رخصت سے ایسے مقاصد کا حصول پیش نظر ہوتا ہے جو رخصت کے بغیر کسی طرح حاصل نہیں ہوتے ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو رعایتیں دی ہیں ، انہیں چاہئے کہ وہ ان سے استفادہ کریں ۔ خصوصاً ایسے دور میں جب مسلمانوں کی اخلاقی اور دینی حالت تباہ وبرباد ہوچکی ہو تو ایسے حالات میں احکام میں تشدد ، اصلاح احوال کے لئے مفید نہیں ہوتا ، ضرورت اس بات کی ہے کہ نرمی اور آسانی سے لوگوں کو اخلاقی تربیت دی جائے ، اور ان کے دلوں اور ان کی روح میں خوف خدا کو نئے سرے سے زندہ کیا جائے ۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر میں کہوں گا کہ امت کے عمومی فساد کے وقت احکام میں تشدد کرنا غیر موثر علاج ہے ۔ اس سے ذرائع اصلاح بند ہوجاتے ہیں ۔ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ عبادات کے فرائض اور معاملات کے احکام میں بہت بڑا فرق ہے ۔ عبادات میں معاملہ صرف بندے اور اس کے رب کا ہوتا ہے۔ اس میں عوام الناس کا براہ راست فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا ۔ جبکہ معاملات میں شریعت معاملے کے ظاہری پہلو پر نظر رکھتی ہے ۔ رہی عبادات تو ان کی ظاہری صورت اس وقت تک مفید نہیں ہوتی جب تک ان کی تہہ میں تقویٰ نہ ہو ۔ اگر دل میں تقویٰ ہو تو کوئی شخص ادھر ادھر نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا۔ اور ایک متقی شخص صرف اس رخصت سے فائدہ اٹھائے گا جس پر اس کا دل مطمئن ہوگا کہ رخصت سے فائدہ اٹھانے ہی میں اللہ کی رضا اور اطاعت ہے ۔ عبادات کے احکام میں سختی کرنا یا تنگی پیدا کرنے کی سعی کرنا ، یعنی اللہ تعالیٰ نے جن احکام کو عام چھوڑا ہے ، ان پر قیود کا اضافہ کرنا ، بعض اوقات عوام کے لئے سخت مشکلات تو پیدا کردیتا ہے لیکن اس سختی کے نتیجے میں کج رو افراد میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ اس لئے ہر حال میں بہتر رویہ یہ ہے کہ ہم معاملات کو اس طرح لیں جس طرح اس دین میں اللہ تعالیٰ نے طے کردیئے ہیں ۔ رخصتوں اور عزائم میں جو حکمتیں ہیں ان کے متعلق ہم سے اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اس نکتے پر جو کچھ کہہ دیا گیا وہ کافی وشافی ہے ۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ حالات سفر کے بارے میں جو متعدد احادیث مروی ہیں ، وہ سب یہاں نقل کردیں۔ ان میں سے بعض ایسی ہیں جن میں افطار کی طرف میلان جاتا ہے ۔ بعض ایسی ہیں جن میں روزہ توڑنے سے منع نہیں کیا گیا۔ ان سب روایات پر غور کرنے سے وہ نقشہ ذہن نشین ہوجاتا ہے ، جس پر صحابہ کرام کا تعامل تھا ۔ متاثرین فقہاء نے جو سختیاں کی ہیں ان سے پہلے اس معاملے میں سلف صالحین اور صحابہ کرام ؓ کا طرز عمل بمقابلہ متاخرین فقہاء اور ان کے فقہی بحوث کے ، دین اسلام کی روح اور اس کے مزاج کے زیادہ قریب تھا ۔ صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں اور ان کے طرز عمل کے مطالعہ سے اسلامی نظریہ حیات اور اس کی خصوصیات کا ایک ذوق پیدا ہوجاتا ہے۔ ۔ 1 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال ، ماہ رمضان میں ، جانب مکہ نکلے ۔ آپ ﷺ نے روزہ رکھا ۔ جب آپ ﷺ ” کراع الغمیم تک پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا ۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے اتنا اٹھا یا کہ لوگ دیکھ لیں ۔ اس کے بعد اسے نوش فرمایا۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ ” بعض لوگ تو روزے سے ہیں۔ “ آپ نے فرمایا !” یہ لوگ نافرمان ہیں ، یہ لوگ نافرمان ہیں۔ “ (مسلم۔ ترمذی) ۔ 2 حضرت انس ؓ سے روایت ہے :” ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے ۔ ہم میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض نے افطار کیا تھا۔ سخت گرم دن تھا۔ ہم ایک جگہ ڈیرہ ڈالا۔ سب سے زیادہ سایہ اس کا تھا جس کے پاس چادر تھی ۔ ہم میں سے بعض ایسے تھے کہ وہ ہاتھ کا سایہ کرکے اپنے آپ کو سورج کی تپش سے بچاتے تھے ۔ روزہ دار تو گرپڑے اور جن کا روزہ نہ تھا وہ اٹھ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے خیمے لگائے ، جانوروں کو پانی پلایا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آج تو افطار کرنے والوں نے ثواب لوٹ لیا۔ “ (بخاری ۔ مسلم۔ نسائی) ۔ 3 حضرت جابر ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : رسول ﷺ سفر میں تھے ۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص کے پاس لوگ جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ” اسے کیا ہوگیا ہے ؟ “ لوگوں نے بتایا ” یہ ایک روزہ دار ہے ۔ “ اس پر رسول ﷺ نے فرمایا ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ “ (امام مالک ، امام بخاری۔ مسلم۔ ابوداؤد۔ نسائی) ۔ 4 عمرو بن امیہ ضمری رضی عنہ سے روایت ہے ۔ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” ابو امیہ کھانے کا انتظار کرو ۔ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول میں تو روزے سے ہوں ۔ “ آپ نے فرمایا تو پھر سنئے مسافر سے متعلق :” اللہ تعالیٰ نے اس کا روزہ معاف فرمایا ہے اور نصف نماز معاف فرمادی ہے۔ “ (نسائی) ۔ 5 انس بن مالک ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے نماز کا ایک حصہ مسافر کے لئے معاف فرمادیا ہے ۔ سفر میں اس کے لئے افطار کی رخصت ہے۔ دودھ پلانے والی اور حاملہ کے لئے بھی یہی رخصت ہے ، اگر بچے کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو ۔ “ (روایت سنن) ۔ 6 ضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں :” حمزہ بن عمر اسلمی رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا ۔ یہ صاحب بہت روزے رکھتے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا !” چاہو تو روزہ رکھو چاہو تو افطار کرو۔ “ ۔ 7 حضرت انس ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں :” ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض نے افطار کیا تھا۔ نہ روزہ دار افطار کرنے والے پر نکتہ چینی کرتا اور نہ افطار کرنے والا رواہ رکھنے والے کے طرز عمل کو معیوب سمجھتا۔ “ (روایت مالک ، مسلم ، بخاری ، ابوداؤد) ۔ 8 حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے فرماتے ہیں :” ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ماہ رمضان میں شدید گرمی میں نکلے ۔ گرمی کی شدت کا یہ عالم تھا کہ ہم تپش سے بچنے کے لئے سر پر ہاتھ رکھ دیتے ۔ ہم سب میں صرف رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابن رواحہ ؓ روزے سے تھے ۔ “ (بخاری۔ مسلم۔ ابوداؤد) ۔ 9 حضرت محمد بن کعب سے روایت ہے فرماتے ہیں :” میں رمضان میں انس بن مالک ؓ کے پاس آیا۔ آپ سفر پر نکلنے والے تھے ۔ سواری تیار تھی ۔ آپ نے سفر کا لباس پہن رکھا تھا ۔ آپ نے کھانا منگوایا اور کھایا۔ سب نے کہا : کیا یہ سنت ہے ؟ “ آپ نے فرمایا ” ہاں ! “ اس کے بعد سوار ہوگئے۔ “ (ترمذی) ۔ 10 عبید ؓ بن حبیرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :” میں رسول اکرم ﷺ کے ایک صحابی ابوبصرہ غفاری ؓ کے ساتھ کشتی میں تھا ، ماہ رمضان میں کشتی کو پانی میں ڈال دیا گیا اور کھانا ان کے قریب لایا گیا ۔ انہوں نے فرمایا :” قریب ہوجایئے ۔ “ میں نے عرض کیا :” آپ نہیں دیکھ رہے کہ مکانات ابھی نظر آتے ہیں ؟ “ انہوں نے کہا ” کیا تم رسول اللہ ﷺ کی سنت سے منہ پھیرتے ہو ؟ “ چناچہ انہوں نے بھی کھانا کھایا اور میں نے بھی کھایا۔ “ (ابوداؤد) ۔ 11 منصور مکی سے روایت ہے کہ حضرت دحیہ ابن خلیفہ ؓ اپنے نواح دمشق کے ایک گاؤں سے ماہ رمضان میں سفر پر نکلے ۔ سفر اس قدر تھا جس طرح فساط گاؤں سے عقبہ گاؤں ہے اور یہ فاصلہ بقدر تین میل ہے ۔ آپ نے افطار کیا ۔ آپ کے ساتھ بیشمار لوگوں نے افطار کرلیا ، لیکن بعض دوسرے لوگوں نے روزہ افطار کرنے میں کراہت محسوس کی ۔ جب وہ اپنے گاؤں لوٹے تو فرمایا :” اللہ کی قسم میں نے آج وہ بات دیکھی ہے جو کبھی دیکھنے میں نہ آئی تھی ۔ لوگوں کے ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی سنت سے منہ پھیرلیا ہے۔ اے اللہ مجھے اپنی طرف اٹھالے ۔ “ (روایت ابوداؤد) ان تمام احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوشگوار اور آرام دہ سفر میں بھی رخصت افطار کو قبلیت حاصل ہوئی ہے بلکہ افطار کو ترجیح دی گئی ہے ۔ اور رخصت پر عمل کرنے کے لئے سفر کی مشقت یا دشواری کو ضروری شرط نہیں قرار دیا گیا جیسا کہ آخری دو احادیث میں سے خاص طور پر معلوم ہوتا ہے۔ آٹھویں حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اور عبیداللہ بن رواحہ ؓ کے سوا کسی اور کا روزہ نہ تھا ۔ لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات میں آپ ﷺ کی لئے بعض خصوصیات ایسی تھیں جو امت کے لئے نہ تھیں ۔ مثلاً ” لگاتار روزہ “ رکھنے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا حالانکہ آپ کبھی کبھی ” لگاتار “ روزے رکھتے تھے ۔ (” لگاتار “ کا مطلب یہ ہے ایک دن کا روزہ دوسرے دن سے بلاافطار مل جائے) صحابہ کرام نے اس سلسلے میں آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا !” میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے میرا رب ہر وقت کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔ “ (بخاری ۔ مسلم) پھر پہلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آپ ﷺ نے افطار فرمایا اور جنہوں نے افطار نہ کیا تھا ان کے بارے میں فرمایا !” یہ لوگ نافرمان ہیں ، یہ لوگ نافرمان ہیں۔ “ پھر یہ حدیث بھی سب احادیث سے متاخر کیونکہ یہ فتح مکہ کے سال کا واقعہ ہے ، چناچہ اس میں جو حکم ہے وہ سب سے آخر میں ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسندیدہ عمل طرز عمل کیا ہے۔ ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پردہ احساس جو تصویر ابھرتی ہے ، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کے وقت کچھ مخصوص واقعات تھے ، جن میں ایک متعین حکم دینا ضروری تھا ۔ رسول ﷺ ملت اسلامیہ کی تربیت فرما رہے تھے ۔ آپ کو ایک زندہ اور متحرک صورت حال سے واسطہ تھا ۔ محض جامد اور غیر متحرک بتوں سے واسطہ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک عام موضوع کے متعلق جو احادیث وارد ہوتی ہیں ان میں احکام وہدایات میں تنوع ہوتا ہے۔ اس لئے کہ احکام موقع ومحل کے مطابق دیئے جاتے ہیں ۔ تمام حالات و احادیث کو پیش نظر رکھ کر جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ سفر میں روزے کے مقابلے میں افطار زیادہ افضل ہے اور اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ عملاً مشقت موجود ہے یا نہیں ۔ رہی بیماری ، تو اس کے بارے میں قوال فقہاء کے علاوہ مجھے کچھ نہیں ملا۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ حالت ہے جس پر مرض اور بیماری کا اطلاق ہوسکتا ہو۔ اس کی نوعیت ، اس کی مقدار اور اس کی شدت وغیرہ کی کوئی قید نہیں ہے ۔ صرف ایک شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ بیماری اور سفر میں دن کے بدلے قضا کرنی ہوگی اور قضا لوٹانے میں بھی راحج مذہب یہ ہے کہ دنوں کی تعداد پوری کرنی ہے ۔ ضروری نہیں کہ روزے مسلسل ہوں۔ ان تفصیلات کا ذکر میں نے اس غرض سے نہیں کیا کہ میں فقہی اختلافات میں کوئی خاص دلچسپی رکھتا ہوں ۔ میر مقصد صرف اس بنیادی اصول کی وضاحت ہے جس کے مطابق اسلامی عبادات کو دیکھنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ ان کا اصل مقصد کیا ہے ؟ کیا یہ کہ انسان کے ذہن میں ایک ایسی شعوری حالت پیدا ہوجائے ، جو انسان کے طرز عمل پر اثر انداز ہو ۔ یہی وہ حالت ہے جس کا اثر انسان کے طرز عمل پر ہوتا ہے اور اسی سے انسان کی روحانی تربیت ہوتی ہے ۔ عبادات میں خشوع کا مطلب ہے دل کا اللہ کی طرف پوری طرح متوجہ اور گداختہ ہوجانا اور پوری زندگی میں حسن و سلوک اور بہتر طرز عمل صرف اسی شعوری حالت کے نتیجے میں پیدا ہوسکتے ہیں ۔ یہ تو ایک پہلو ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم اس دین کو اسی طرح قبول کریں جس طرح وہ ہے ۔ پورے فرائض و تکالیف کے ساتھ ۔ اطاعت و خشیت کے ساتھ ۔ اس کی عزیمتوں پر عمل کریں اور رخصتوں سے فائدہ اٹھائیں ۔ پوری ہم آہنگی سے ، اطمینان قلب کے ساتھ ، اس کی حکمتوں پر یقین رکھتے ہوئے اور اللہ خوفی کا پورا پورا احساس کرتے ہوئے ۔ اس بحث کے بعد اب پھر سیاق کلام کو لیجیئے ! وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” اور جو لوگ مشکل سے روزہرکھ سکتے ہوں تو وہ فدیہ دیں ۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی کے لئے بہتر ہے۔ لیکن تم اگر سمجھو ۔ تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ “ روزہ سنہ 2 ہجری میں جہاد کی فرضیت سے کچھ پہلے فرض ہوا۔ پہلے پہل روزہ کی تکلیف مسلمانوں کے لئے بہت ہی شاق تھیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے کھلی چھوٹ دے دی ، جو مشکل سے روزہ رکھ سکتے تھے ، (یطیقونہ کے معنی ہیں جو مشکل سے روزہ رکھ سکتے ہوں ۔ الاطاقہ کے معنی عربی میں مشکل اٹھانے کے ہوتے ہیں ۔ رخصت یہ دے دی کہ ایسے لوگ افطار کرلیں مگر انہیں ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہوگا۔ اس کے بعد انہیں ترغیب دی کہ وہ مساکین کے ساتھ مزید بھلائی کریں مثلاً یہ کہ بغیر فدی کی مقرر حد سے زیادہ مساکین کو کھانا کھلائیں ۔ مثلاً رمضان شریف کے ایک روزے کے بدلے اگر تین ، چار یا اس سے بھی زیادہ افراد کو کھانا دیں فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ” اور جو اپنی خوشی سے زیادہ بھلائی کرے تو یہ اس کے حق میں اچھا ہے۔ “ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” لیکن اگر تم سمجھو تو تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ “ کیونکہ ایسے حالات میں روزہ رکھنا بہت بڑی بھلائی ہے۔ ایسے حالات میں روزہ رکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزہ دار پختہ ارادے کا مالک ہے ۔ اس کے اندر قوت برداشت موجود ہے اور وہ اپنے آرام کو اللہ کی بندگی کے لئے قربان کرسکتا ہے ۔ اور یہ تمام امور جو اسلام کی نظام تربیت کے مقاصد اولیہ ہیں ۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مریض کے علاوہ دوسرے لوگ اگر جبر ومشقت کے ساتھ روزے رکھیں تو اس میں ان کے لئے جسمانی فائدہ بھی ہے۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا ، جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں ۔ لہٰذا اب جو شخص اس مہینے کو پائے ، اس کو لازم ہے اس کے پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو ، تو دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد کو پوری کرے ۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی چاہتا ہے ، سختی نہیں کرنا چاہتا۔ اس لئے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد کو پورا کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔ “

بہرحال یہ آیت ایک تمہید تھی ۔ اور جیسا کہ دوسری آیت میں ذکر ہوا ، اصل مقصد یہ تھا کہ تندرست اور مقیم پر بتدریج روزے کو علی الاطلاق فرض کردیاجائے ۔ ہاں البتہ یہ حکم ایسے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے لئے اب بھی باقی ہے جن کے لئے روزہ رکھنا مشکل ہو اور امید بھی نہ ہو کہ وہ پھر سے تندرست ہوکر روزہ رکھنے کے قابل ہوسکیں گے ۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ ان تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ کافی بوڑھے ہوگئے تھے اور ان میں روزہ رکھنے کی قدرت ہی نہ تھی ۔ اس لئے ان کی جانب سے فدیہ دیا جاتا تھا ۔ (حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے ۔ یہ اس بوڑے مرد اور اس بوڑھی عورت کے لئے ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ ان پر فرض ہوگا کہ وہ ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ۔ ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں : میں رمضان شریف میں عطاء کے پاس گیا۔ دیکھتا ہوں کہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا ! ابن عباس فرماتے ہیں (شھر رمضان) یہ آیت نازل ہوئی ۔ سابقہ منسوخ ہوگی ۔ البتہ نہایت بوڑھے شخص کے لئے اب بھی یہ رخصت ہے کہ وہ اگر چاہے تو ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھاناکھلا کر افطار کرے ۔ غرض اگلی آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ تندرست اور گھر میں مقیم شخص سے یہ رخصت اٹھالی گئی ہے ۔ اور آنے والی آیت فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ ” تم میں سے جو بھی اس مہینے کو پائے اس کے پورے روزے رکھے۔ “ نے اس آیت کو منسوخ کردیا ہے ۔ تندرست اور مقیم شخص کو اب دوبارہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ ضرور روزے رکھے ۔ یہ رمضان شریف کے روزے ہیں ۔ یہ وہ مہینہ ہے ۔ جس میں قرآن عظیم نازل ہوا ہے۔ رمضان میں قرآن کا آغاز ہوا یا یہ کہ اس کا زیادہ حصہ رمضان شریف میں نازل ہوا۔ قرآن اس امت کے لئے دائمی کتاب ہے ۔ قرآن ہی نے تو اس امت کو گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کر روشنی بخشی اور اسے اس عظیم الشان عروج تک پہنچایا ۔ خوف کے بدلے اسے چین نصیب ہوا ۔ اسے اس کرہ ارض پر تمکنت بخشی ۔ اسے ایسے مقومات اور ایسے عناصر دیئے جن کی بنیاد پر وہ ایک امت قرار پائی ۔ حالانکہ قرآن سے پہلے وہ کیا تھی ؟ کچھ نہ تھی اور اب بھی اس قرآن کے بغیر اس کرہ ارض پر ، اس امت کا مقام ہی کیا رہتا ہے ؟ اس کے بغیر تو وہ امت ہی نہیں رہتی ۔ نہ زمین پر اس کا کوئی مقام ہوگا نہ آسمان میں اس کا کوئی ذکر ہوگا ۔ لہٰذا انعامات کا کم ازکم شکریہ ہے کہ مسلمان شہر رمضان میں رو سے سے ہوں ، جس میں یہ قرآن نازل ہوا۔ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ” رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں ، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ وہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ “ یہ آیت روزے کو مطلقاً فرض کردیتی ہے اور تندرست اور مقیم سے افطار کی رخصت واپس لے لی جاتی ہے ۔ اب وہ فدیہ دے کر افطار نہیں کرسکتے ۔ ماسوائے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے ، جس طرح کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں ۔ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ” لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ وہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے ۔ “ یعنی جو اس مہینے کو پائے اور مسافر نہ ہو ۔۔ جو شخص ماہ رمضان کا چاند دیکھ لے ۔ اگر کسی کو چاند ہونے کا یقین ہوجائے چاہے جس ذریعہ سے بھی ، تو اسپر بھی روزہ اس طرح فرض ہے جو طرح چاند دیکھنے والے پر فرض ہے ۔ چونکہ یہ آیت بھی عمومیت کی حامل ہے ، اس لئے یہاں مریض اور مسافر کے لئے دوبارہ استثنائی دفعہ تجویز کی گئی ۔ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ” اور جو مریض ہو یا سفر پر وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ “ اب تیسری مرتبہ پھر اس اہم فریضہ کی ادائیگی کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ روزے کی فرضیت بھی ایک رحمت ہے اور افطار کے لئے رخصت بھی ایک رحمت يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ” اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی نہیں کرنا چاہتا۔ “ غرض اسلامی نظریہ حیات میں تمام عبادات وفرائض کا اصل الاصول یہ ہے کہ معاملات میں نرمی ہو اور ضرورت سے زیادہ سختی نہ ہو ۔ یہ عبادات ایسی ہیں کہ جس دل میں صحیح ذوق پیدا ہوجائے ، اسے یہ شعور ملتا ہے کہ وہ پوری زندگی کے معاملات میں نرم رویہ اختیار کرے سختی نہ کرے ۔ ان کے نتیجے میں ایک مسلمان میں سادگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس کی زندگی پاک ہوجاتی ہے ۔ اس میں کوئی تکلف نہیں ہوتا ، اس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہوتی ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک مسلمان کی پوری زندگی فرائض وواجبات کی ادائیگی ، عملی زندگی کے پورے معاملات میں ، ایک سیل رواں کی طرح جاری وساری ہیں ۔ اس کی زندگی اس طرح غیر محسوس طور پر ، اطمینان ، یقین اور تسلیم ورضا کے ساتھ ترقی کررہی ہوتی ہے جس طرح ایک درخت بڑھتا رہتا ہے اور یہ شعور ہر جگہ مومن کے ساتھ ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کے لئے اجر عبادت سے محروم ہی نہ ہوجائے وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ” اور جس ہدایت سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہارواعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔ “ اس فریضہ کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے دلوں میں اس ہدایت و راہنمائی کی قدر و قیمت کا صحیح شعور پیدا ہوجائے ، جو اللہ تعالیٰ نے انتہائی سہولت اور فراوانی سے انہیں فراہم کردی ہے اور ان کی حالت یہ ہوجائے کہ دوسرے ایام کے مقابلے میں ماہ صیام میں ، ان کے دلوں میں دین کا شعور زیادہ پختہ ہو ۔ ان کے دل معصیت اور گناہ کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیں ۔ ان کے اعضاء معصیت کے ارتکاب کے لئے تیار ہی نہ ہوں۔ وہ اس طرح لگیں کہ اللہ کی ہدایت کو محسوس کررہے ہیں ، بلکہ اسے چھو رہے ہیں ۔ ان کے دل اس اطاعت و بندگی کے ساتھ اللہ کی طرف مائل ہوں جیسا کہ رمضان شریف کی بحث کے آغاز میں کہا گیا ۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” اس امید پر کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ “ روزہ جو بادی النظر میں جسم وبدن کے لئے شاق و دشوار نظر آتا ہے دراصل اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے ۔ نیز یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے تربیتی مقاصد کیا ہیں ۔ اور یہ کہ اس تربیت کے ذریعے ایک مومن کو اس عظیم کردار کے لئے تیار کیا جارہا ہے جس کے لئے اس امت کو برپا کیا گیا ہے تاکہ وہ نہایت ہی خدا خوفی سے ، اللہ کی نگرانی اور ایک زندہ ضمیر کے ساتھ اس فرض کو ادا کرے۔ اس سے پہلے کہ روزے کے تفصیلی احکام بیان ہوں ، یعنی کس وقت سے کس وقت تک روزہ ہو اور اس میں کیا جائز ہے اور کیا منع ہے ، ہم روزے کی برکات کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ روزے کی مشقتوں کے عوض اللہ ہمیں پوراپورا معاوضہ عطا کرتا ہے ۔ یہ معاوضہ اور صلہ کیا ہے ؟ اللہ کا قرب اور دعاؤں کی قبولیت ۔ ذرا قرآن کے الفاظ کو دیکھئے۔