Ayahs 2:38–39یہاں آکر یہ معرکہ اپنے اصلی میدان ‘ زمین کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور اس وقت سے شروع ہے ۔ لمحہ بھر کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا ۔ اور یوں انسان ‘ آغاز انسانیت سے یہ راز پالیتا ہے کہ اگر وہ اس دنیا میں سرخروئی اور کامرانی چاہتا ہے تو اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے ؟ اور اگر وہ ذلت و خواری چاہتا ہے تو اس کی راہ کون سی ہے ؟
٭ ........ ٭ ........ ٭
لمحہ بھر کے لئے ذرا پیچھے کی طرف لوٹئے اور ابتدائی انسانیت کی اس کی دلچسپ کہانی کے بعض پہلوؤں کا جائزہ لیجئے ! اللہ تعالیٰ خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ معلوم ہوا کہ آدم پہلے ہی اس زمین کے لئے پیدا کئے گئے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے کیوں اسے جنت دکھائی گئی ہے ؟ کیوں ایک درخت کو حرام قرار دیا گیا ؟ اسے ابتلا ‘ میں ڈالا گیا ‘ یوں اسے زمین کی طرف اتارا گیا حالانکہ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق پیداہی اس لئے کیا گیا تھا کہ زمین پر فریضہ خلافت سر انجام دے ؟
میں سمجھتا ہوں کہ کشمکش آدم وابلیس کا یہ پہلا تجربہ کرایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اس کے ذریعے سے آدم (علیہ السلام) کو کاربار خلافت کے چلانے کے لئے تیار کیا جائے ۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) کی پوشیدہ قوتوں کو جگادیا گیا ۔ اسے لغزش کا تجربہ کرایا گیا اور اس کے نتائج سے دوچار کیا گیا۔ اس کے بعد ندامت و شرمندگی ‘ توبہ ‘ دشمن کی پہچان اور اللہ کی مامون پناہ گاہ میں آنے کا طریقہ سکھایا گیا۔
شجر ممنوعہ کی کہانی ‘ اس کے چکھنے کے لئے شیطان کی وسوسہ اندازی ‘ انسان اول کا نسیان عہد ‘ نسیان کے بعد ہوش میں آنا ‘ پشیمانی اور استغفار ۔ یہ سب کیفیات دو اروات ایسی ہیں جن کا تجربہ ہر انسان کو ہر لحظہ ہوتا رہتا ہے۔
اس انسان پر اللہ کی رحمت اور شفقت کا یہ تقاضا تھا کہ وہ اپنے دارالخلافہ میں تمام ایسے تجربات سے آراستہ ہو کر اترے جس کا پیش آنا اس کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھا ۔ تاکہ وہ اس وہ اس طویل اور نہ ختم ہونے والی کشمکش (کشمکش آدم وابلیس) کے لئے تیار ہو اور یہ تجربہ اس کے لئے نصیحت آموز اور سامان عبرت ہو۔
آپ دوبارہ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ پھر یہ تجربہ کہاں ہوا ؟ وہ جنت کون سی ہے جس میں آدم وحوا کچھ عرصے کے لئے قیام پذیر ہوئے ؟ فرشتے کیا ہیں ؟ ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں کیونکر خطاب کیا ؟ اور انہوں نے کیونکرجواب دیا ؟
بھائی ! یہ اور ایسی تمام دوسری باتیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں دراصل اللہ کے ان بھیدوں اور اسرار میں ہیں ۔ جن کی حقیقت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ‘ اللہ تعالیٰ جو علیم و حکیم ہے ‘ وہ جانتا ہے تھا کہ ان چیزوں کی حقیقی معرفت اور ان کی ماہیت معلوم کرنے سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ “ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ان چیزوں کی حقیقت معلوم کرنے اور ان کی اصلیت کا ادراک کرنے کی صلاحیت ہی نہیں دی ۔ وہ ان کی ماہیت کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مدرکات دیئے ہیں وہ صرف اس لئے دیئے ہیں کہ ان کے ذریعے انسان اس زمین میں کاروبار خلافت سرانجام دے ۔ یہ مدرکات حقیقت مغیبات کا علم حاصل کرنے کے لئے استعمال ہی نہیں ہوسکتے ۔ نیز فریضہ ٔ خلافت کے یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ ہم ان مغیبات کی حقیقت کو بھی جانتے ہوں ۔ اللہ کے قوانین قدرت کو کس قدر انسان نے مسخر کیا ہے ۔ انسان کو کائنات کے و رموز کا کتنا علم دیا گیا ہے ؟ کتنے اسرار غیبیہ ہیں ‘ جو اس کی نظروں سے اوجھل ہیں ؟ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے علم وادراک کی حضرت انسان کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کی حالت یہ ہے کہ اس کائنات کے بیشمار اسرار کان پردہ فاش کرنے کے باوجود ‘ وہ اب بھی ان تمام واقعات و حوادث سے مطلقاً بیخبر ہے جو اگلے لمحہ نمودار ہونے والے ہیں ۔ تمام مہیا او میسرہ آلات ........ اور ذرائع کے علم کے باوجودجو اسے میسر ہیں ‘ وہ کچھ نہیں جانتا کہ اگلے لمحہ میں کیا ہونے والا ہے ۔ اسے معلوم نہیں کہ وہ جو سانس لے رہا ہے وہ آخری سانس لے رہا ہے یا اس کے بعد وہ دوسرا سانس بھی لے سکے گا ۔ پردہ غیب میں جو حقائق پوشیدہ ہیں یہ ان میں سے ایک ادنیٰ مثال ہے۔ غرض فریضہ خلافت کی ادائیگی کے لئے اسے ان مغیبات میں سے کسی چیزکا جاننا بھی ضروری نہیں ہے ‘ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اگر انسان پر بعض اسرار کھول دیئے جائیں تو وہ اس کی کارکردگی پر الٹا اثر ڈالیں گے ۔ چناچہ ایسے پوشیدہ اسرار و رموز کی کئی قسمیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور اللہ کے سوا ان کا علم کسی کو بھی نہیں ہے ۔
اس لئے عقل انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اس میدان میں سعی لاحاصل کرے ۔ کیونکہ اس کے پاس وہ ذرائع اور آلات ہی نہیں جو اس میدان میں کام آتے ہیں ۔ جو شخص بھی اس میدان میں جدوجہد کرے گا ‘ اور اپنی قوتیں کھپائے گا ‘ اس کی جدوجہد اکارت جائے گی ۔ بالکل ضائع اور لاحاصل۔
جب عقل انسانی وہ ذرائع ہی حاصل نہیں جن کے ذریعے وہ عالم مغیبات کے بارے میں کسی چیز کا ادراک کرسکے تو پھر اسے کوئی حق نہیں کہ وہ محض ہٹ دھرمی کرکے غیبی حقائق کا انکار کرے ۔ کیونکہ کسی چیز کا انکار کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کے وجود کا علم حاصل ہو۔ اور مغیبات کا علم وادراک عقل کا کام ہی نہیں ہے ۔ نہ اس کے حیطہ قدرت اور دائرہ کار میں یہ چیزیں آتی ہیں ۔ اس کے پاس ان کے ادراک کے نہ وسائل ہیں اور نہ ہی عقل کو ان کے ادراک کی ضرورت ہے ۔ اور نہ ہی عقل انسانی کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ ان کا ادراک کرے۔
ہمیں یہ تسلیم ہے کہ وہمیات و خرافات کو تسلیم کرنا نہایت ہی خطرناک اور مضربات ہے ‘ لیکن یہ بات اس سے بھی بدرجہا زیادہ مضر اور خطرناک ہے کہ انسان ایک ایسی چیز کا انکار کرے جو اس کے علم کے دائرہ رسائی ہی سے باہر ہے ۔ یا کسی حقیقت کو محض اس لئے مستعبد سمجھاجائے کہ وہ انسان کے حدادراک اور حدود قدرت سے باہر ہے ۔ اگر ہم علم ویقین کا یہ معیار مقرر کرلیں تو یہ ایک حیوانی معیار ہوگا۔ گویا انسانیت پیچھے لوٹ کر دوبارہ حیوانیت کے مقام تک پہنچے گی ۔ جہاں عالم محسوسات سے آگے کوئی چیز نہیں ہوتی اور جس کے لئے محسوسات کی چار دیواری سے نکل کر وجود مطلق تک پہنچنے کا امکان ہی نہیں ہوتا۔
لہٰذا ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اس عالم غیب کو اس ذات ہی کے حوالے کردیں جو اس دنیا کا مالک ہے ‘ اور ہمارے لئے وہی کافی ہے جس کی اطلاع وہ ہمیں دے دے ۔ صرف اسی قدر کی ہمیں اس دنیا میں ضرورت ہے جس سے ہماری روحانی اور مادی اصلاح ہوجائے اور بس !
اب ہم اس قصے کے ان پہلوؤں کو لیتے ہیں جو بعض انسانی اور تکوینی حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ عالم موجودات کا تصور ‘ اس کا باہم ربط ‘ انسانی مزاج اور اس کا معیار حسن قبیح وغیرہ۔ کیونکہ انہی پہلوؤں میں بشریت کی ہدایت اور منفعت کا سامان ہے ۔
یہاں ظلال القرآن کی مناسبت سے ‘ اختصار کے ساتھ ہم ان اشارات ‘ تصورات اور حقائق پر ایک اچٹتی نظر ڈالنا چاہتے ہیں۔
1۔ اس قصے سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ مقام اور حیثیت ہے جو اسلامی تصور حیات ‘ خود انسان کو عطا کرتا ہے یعنی اس کائنات میں اس کی اہمیت ‘ ان اقدار کی اہمیت جن سے اسے پرکھا جاتا ہے اور زمین پر اس کے کردار کی اہمیت وغیرہ ۔ پھر یہ کہ اسلامی تصور حیات انسان اور عہد ربانی کے درمیان تعلق کی کیفیت کیا ہے ؟ اور اس عہد کی حقیقت کیا ہے جس کی بنیاد پر انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے ۔
چناچہ ملاء اعلیٰ میں تکریم انسانیت کی جو تقریب منعقد ہوتی ہے اور اس کے بعد جو عظیم الشان اعلان ہوتا ہے اس سے صاف صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلامی تصور حیات کے مطابق حضرت انسان کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یعنی وہ ایک ایسی مخلوق ہے جسے زمین میں خلیفۃ اللہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ اس کا نہایت ہی واضح اظہار اس منظر سے ہوتا ہے جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کا حکم ہوتے ہی سب کروبی اس بندہ خاکی کے آگے سربسجود ہوجاتے ہیں ۔ اس تقریب میں ابلیس استکبار کرتا ہے اور راندہ درگاہ ہوجاتا ہے ۔ اور یہ سب آغاز سے انجام تک خاص ذات کبریائی کی نگرانی میں ہوتا ہے۔
انسان کے بارے میں جب یہ نقطہ نظر اختیار کیا جاتا ہے تو نظریاتی دنیا اور عملی دنیا میں انسان کے اس تصور کے عظیم الشان اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
سب سے پہلا تصور یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان اس زمین کا مالک ہے ۔ یہ اسی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ اس کائنات کی تمام چیزیں بھی اس انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں ۔ اس لئے وہ ہر مادی چیز سے زیادہ معزز زیادہ قیمتی اور زیادہ عزیز ہے ۔ وہ دنیا کی تمام مادی اقدار سے بلند تر ہے ۔ لہٰذا یہاں اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کسی بڑے سے بڑے مادی مفاد ‘ یا عظیم سے عظیم مادی ترقیات کے لئے انسان کو ذلیل و خوار ہونے دیاجائے۔ لہٰذا کسی قسم کی مادی تحقیقات وفتوحات ‘ کسی قسم کی مادی پیداوار یا مادی عناصر میں سے کسی عنصر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ تمام مادیات اور تمام مصنوعات ‘ صرف انسان کی خاطر پیدا کی گئی ہیں ۔ اس لئے کہ اس کی انسانیت پروان چڑھے اور بحیثیت انسان یہاں اس کی زندگی قائم رہ سکے ۔ لہٰذا اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ محض انسانی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے اس کی اعلیٰ اقدار اور اس کی کرامت اور شرافت کے عناصر ترکیبی ہی کو خیرباد کہہ دیں اور انہیں ضائع کردیں۔
2۔ اس کہانی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس زمین پر انسان ہی اول درجے کی موثر طاقت ہے۔ وہی ہے جو اس زمین کے رنگ ڈھنگ بدلتا ہے اور انسان کی معاشرتی زندگی میں وہی باہمی ربط وتعلق کی نوعیت متعین کرتا ہے ۔ وہی ہے جو قافلہ حیات کا قائد وسالار ہے اور سمت سفر کا تعین کرتا ہے ذرائع پیداوار یا پیداوار کی تقسیم کے کسی نظام کو اس انسان کی قیادت کا مقام حاصل نہیں ہے ۔ یوں کہ انسان کی نکیل ان کے ہاتھ میں ہو اور وہ ذلیل و خوار ایک حیوان کی طرح ان کے پیچھے پیچھے عالم بےبسی میں چلتا ہو جیسا کہ آج کل کے بعض مادی فلسفے اس کی ایسی ہی تصویر کھینچتے ہیں ۔ اور جن کا نظریہ انسانیت یہ ہے کہ اس کی زندگی میں ........ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ان نظاموں میں جوں جوں مشین کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے ‘ انسان کی انسانیت پامال ہوتی جاتی ہے ۔
یہ بات شک وشبہ سے بالا ہے کہ انسان کے لئے جو نظام زندگی تجویز کرتا ہے یا تو وہ اس اسلامی نظریہ کے مطابق تجویز ہوتا ہے یا پھر اس مادی نقطہ نظر کے مطابق تشکیل پاتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں بلند انسانی اقدار کو یا تو عروج نصیب ہوتا ہے یا تو وہ پامال ہوتی ہیں ۔ انسان اشرف المخلوقات بن جاتا ہے یا ایک حقیر مشین اور آلہ ۔ آج کی اس مادی دنیا میں محض مادی ترقی اور کثرت پیداوار کی خاطر ہر قسم کی انسانی آزادیوں ‘ انسانی شرافتوں اور انسان کی انسانیت کو جو پامال اور برباد کیا جارہا ہے ‘ وہ صرف اسی نقطہ نظر کا فطری نتیجہ ہے جو مادی نظامہائے حیات اس انسان کی حقیقیت اور دنیا میں اس کی اہمیت کے بارے میں رکھتے ہیں۔
لیکن اس مادی دنیا کے برعکس انسان کی حقیقت اور اس کے مقصد تخلیق کے بارے میں اسلام جو تصور دیتا ہے ‘ اس کے ترازو اور معیار میں آداب انسانیت کی قدریں بلند ہوجاتی ہیں ‘ اخلاقی فضائل و محاسن اہمیت اختیار کرلیتے ہیں ‘ انسان کی زندگی میں ایمان ‘ نیکی اور اخلاص جیسی صفات اہمیت اختیار کرلیتی ہیں کیونکہ اسلامی تصور حیات کے مطابق یہی وہ اعلیٰ اقدار ہیں جن پر خلافت فی الارض کی ذمہ داری موقوف ہے۔
فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ ” پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ‘ ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا۔ “ غرض یہ اقدار تمام مادی اقدار سے زیادہ قیمتی اور برتر ہیں ۔ لیکن یہ بات بھی ہمارے ذہن میں رہنی چاہئے کہ ان مادی اقدار کا حصول بھی مقاصد خلافت فی الارض میں داخل ہے ۔ اس حد تک یہ مادی اقدار اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار کے تابع ہوں اور بذات خود اصل مقاصد نہ بننے پائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام انسانی ضمیر کو پاک وصاف اور ایک اعلیٰ زندگی بسر کرنے پر آمادہ کرتا ہے ‘ جبکہ تمام دوسرے مادی نظریات تمام روحانی اقدار کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ اور مادیت کے لئے آداب انسانیت تک کو قربان کردیتے ہیں ۔ اور یہ سب قربانی کس لئے دی جاتی ہے ؟ محض ضروریات زندگی سامان تعیش کی فراوانی اور حیوانوں کی طرح شکم پروری کی خاطر) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سید محمد قطب کی کتاب انسان اسلام اور مادیت)
اسلام کا تصور انسان کس قدر بلند ہے ؟ ذرا اس کے اس پہلو پر غور کیجئے کہ اس کی رو سے انسان ایک بااختیار اور صاحب عزم واراہ مخلوق ہے ۔ کیونکہ اگر ہو بااختیار اور ذی عزم نہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے معاہدے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔ کیونکہ اختیار ہی کی اساس پر انسان مکلف ہے اور جزاء وسزا کا مستحق ہے ۔ اگر وہ اپنے ارادے کا پکا اور خواہشات نفسانیہ پر قابوپالیتا ہے تو اس طرح وہ فرشتوں سے بھی ارفع مقام حاصل کرسکتا ہے ۔ اور ہر اس کجروی سے بچ سکتا ہے جس سے اسے سابقہ درپیش ہو ۔ لیکن اگر اس عزم پر خواہشات نفسانیہ غلبہ پالیں ‘ اس کی زندگی میں ہدایت پر ظلمت غالب آجائے اور وہ اپنے اس عہد الست کو بھول جائے جو اس نے اپنے خالق سے باندھا تھا تو وہ اس بلند مقام سے گر بھی سکتا ہے اور اپنے لئے شقاوت ونکبت کے تمام سامان بھی فراہم کرسکتا ہے ۔
اسلامی نظام زندگی نے ‘ اس کائنات میں انسان کو برتری اور شرافت کے جو اصول دیئے ہیں اس قصے میں ان کی صرف ایک جھلک دکھائی گئی ہے ۔ انسان کو یاددلایا گیا ہے کہ سعادت وشقاوت ‘ بلندی و پستی ‘ ایک بااختیار بلند مرتبت انسان اور مقید ومجبور حیوان جو قعر مذلت میں گرپڑا ہو ‘ ان دونوں کی راہیں کہاں سے جدا ہوتی ہیں ۔
اس قصے میں بیان کردہ ‘ واقعات کی تصویر کشی کے دوران یہ یاد دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ معرکہ آدم وابلیس کی نوعیت کیا ہے ؟ ایک طرف بندے اور خدا کا پیمان ہے اور دوسری طرف شیطان کی فتنہ انگیزی ہے۔ ایک طرف ایمان ہے اور دوسری جاب کفر ہے ‘ ایک محاذ پر حق ہے اور دوسرے پر باطل ہے ۔ “ ایک صفت اہل ہدایت کی ہے اور دوسری اہل ضلال کی ۔ لیکن میدان جنگ کہاں ہے ؟ انسان اور اس کی زندگی ۔ فاتح بھی انسان اور مفتوح بھی انسان ۔ سود و زیاں کا یہ بازار خود اس کے ضمیر میں ہے ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اسے متنبہ کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت چوکنا رہے کیونکہ وہ ہر وقت میدان کارزار میں ہے ۔ صورتیں دو ہی ہیں یا تو وہ لٹ جائے اور یا مال غنیمت لے کر ظفریاب ہوگا۔
اس قصے میں اسلام کے تصور خطا اور توبہ کی وضاحت بھی کردی جاتی ہے ۔ گناہ چونکہ ایک فرد سے سرزد ہوتا ہے ۔ لہٰذا توبہ بھی ایک انفرادی عمل ہے ۔ یہ ایک ایسا واضح اور صاف نظریہ ہے جس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ اہل کنیسا کی طرح یہاں کسی ایسے تصور کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان پیدا ہونے سے پہلے خطاکا مرتکب بن جاتا ہو۔ اسلام میں کسی لاہوتی کفارہ معاصی کا کوئی تصور نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انسان کو آدم (علیہ السلام) کے گناہ سے پاک کرنے کے لئے مصلوب ہوئے ۔ یہ ایک غلط تصور ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی ایک لغزش ایک انفرادی عمل تھا۔ اور اس سے چھٹکارا پانے کا طریقہ بھی انفرادی عمل ندامت اور توبہ تھا جو بالکل واضح اور صاف اور قابل فہم ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہر ایک خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہے ۔ اور سب کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ صاف اور سادہ اور آسان
صدبار اگر توبہ شکستی بازآ
ذرا غو رکیجئے کہ کس قدر واضح اور دل لگتا تصور ہے یہ ۔ ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنا بوجھ اٹھائے ۔ یہ تصور ہر انسان کو بھلائی کے حصول کی جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے اور وہ یاس وقنوط کا شکار نہیں ہوتاکیون کہ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُوہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “
اشارات قصہ آدم کا یہ صرف ایک پہلو ہے فی ظلال القرآن کے اس مقام پر ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ صرف اس ایک پہلو ہی میں بےبہا حقائق اور صحت مند تصورات کا ایک عظیم خزانہ موجود ہے ۔ اس قصے میں قیمتی اشارات وہدایات کا ایک وافر ذخیرہ ہے ۔
اس میں اسلام کے تصور اجتماع اور طرز معاشرت کی بنیادیں متعین کردی گئیں ہیں ۔ اور جنہیں بھلائی ‘ اخلاق اور دوسرے فضائل کے ذریعے استحکام بخشا گیا ہے ۔ جب ہم اس پہلو پر غور وفکر کرتے ہیں تو ہمیں قرآنی قصوں کی اہمیت اور مقصدیت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ قصے کس طرح اسلامی تصور حیات کی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں ۔ اور ان اعلیٰ اقدار کی وضاحت کرتے ہیں جو ان بنیادوں پر قائم ہوتی ہیں جس کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور جو اللہ ہی کی طرف متوجہ ہے ‘ اور جسے آخر کار اللہ ہی کی طرف جانا ہے ‘ وہ اس بات کی مستحق ہے کہ اس میں وہی اقدار بلند ہوں جو اللہ کے ہاں بلند ہیں ۔
معاہدہ خلافت انسانی دراصل ربانی ہدایت پہ قائم ہے ۔ اس کی اہم شرط یہ ہے کہ انسان اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی بسر کرے گا۔ اس معاہدے کے بعد پوزیشن یہ ہوجاتی ہے کہ انسان ایک ذی ارادہ مخلوق کی حیثیت سے ایک دورا ہے پر کھڑا ہے ۔ ایک طرف اسے خدا پکاررہا ہے ‘ اور وہ سن رہا ہے ۔ اگر وہ فیصلہ کرتا ہے تو صراط مستقیم پر چل پڑتا ہے ۔ دوسری جانب اسے شیطان پکار رہا ہے ۔ وہ ضلالت ........ یا حق ہے اور یا باطل ........ اور یا فلاح ہے اور یا خسران ........ یہ ہے حقیقت اور اسے قرآن کریم ہمیشہ بطور حقیقت اولیہ پیش کرتا ہے ۔ عالم انسان کے سارے نظریات و تصورات اور طرز ہائے زندگی بس صرف اس ایک حقیقت پر قائم ہیں ۔
درس 4 ایک نظر میں
یہاں آکر گفتگو کا رخ بنی اسرائیل کی طرف مڑجاتا ہے ۔ مدینہ طیبہ میں صرف انہوں نے دعوت اسلامی کا سختی سے مقابلہ کیا تھا۔ انہوں نے ظاہری اور خفیہ دونوں قسم کی تدبیروں کے ذریعے دعوت اسلامی کو ختم کرنے کوشش کی اور اس کا مقابلہ کیا ۔ وہ تحریک اسلامی کے خلاف پے درپے سازشیں کرتے رہے اور ظہور اسلام سے لے کر دعوت کے اس مرحلے تک ایک لمحہ بھر ان کی ریشہ دوانیوں میں کوئی کمی نہ آئی ۔ انہیں اس بات کا یقین ہوچلا تھا کہ اقتدار کی کنجیاں ایک ایک کرکے مسلمانوں کے ہاتھوں میں منتقل ہورہی ہیں ۔ جب سے اوس و خزرج کی لڑائیاں بند ہوئیں اور وہ راستے بند ہوئے جن کے ذریعے یہود مشرکین مدینہ کے اندر اثر ورسوخ پیدا کرتے اور ان پر اثر انداز ہوتے تھے ‘ پھر جب مسلمانوں کے لئے ‘ اس نئی کتاب کی بنیاد پر ایک نئے نظام زندگی کی تشکیل شروع ہوئی تو یہودیوں کو یہ احساس شدت سے ہورہا تھا کہ اس نئی تحریک نے انہیں ادب و ثقافت اور معیشت واقتصاد دونوں کے اہم شعبوں سے باہر نکال پھینکا ہے ۔
غرض یہ ہے وہ معرکہ جو یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اول روز سے شروع کیا اور آج تک وہ جوں کا توں قائم ہے ۔ آج بھی وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہی اوچھے ہتھیار استعمال کررہے ہیں جو اس وقت کررہے تھے ۔ ہتھیاروں کی شکل اگرچہ مختلف ہے ‘ رنگ ڈھنگ نیا ہے ۔ لیکن ان کی حقیقت اور مزاج بالکل وہی ہے ........ یاد رہے کہ یہودی اسلام و مسلمانوں کے خلاف اس حقیقت کے باوجود یہ معاندانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں کہ انسانی تاریخ میں پوری دنیا اس قوم کو ہمیشہ دھتکارتی رہی ۔ کبھی ادھر سے ادھر اور کبھی ادھر سے ادھر بھگایا جاتارہا ۔ اور یہ لوگ خاک چھانتے پھرے ۔ صدیاں یونہی گزرگئیں لیکن بالآخر انہیں آرام اور چین کی زندگی عالم اسلام ہی میں نصیب ہوئی ‘ جو سب کے لئے کھلا ہے اور جس میں عقیدہ و مذہب کی اساس پر کسی کے خلاف کوئی نفرت نہیں ہوا کرتی ہے ۔ جہاں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کو ہمیشہ بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور جہاں ہر اس شخص کو آنے کی کھلی اجازت رہی ہے جو اسلام کو اذیت نہ دے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں نہ کرتا ہو اور مسالم ہوکر رہے۔
توقع تو یہ تھی کہ یہود مدینہ ‘ اس نئے رسول اور اس نئی دعوت کو سب سے پہلے قبول کرتے اور ایمان لاتے ۔ جبکہ قرآن کریم اپنی عمومی حیثیت میں ان تمام تعلیمات کی تصدیق کررہا تھا جو تورات میں بیان کی گئی تھیں ۔ پھر ان کو ایک نئے رسول کی آمد کا انتظار بھی تھا ۔ ان کو اس کے اوصاف بھی معلوم تھے اور ان کے پاس کتب سماوی میں اس کے بارے میں بشارتیں موجود تھیں ۔ اور وہ ہمیشہ اللہ سے دست بدعا ہوا کرتے تھے کہ وہ نبی منتظر کے طفیل انہیں مشرکین عرب پر ظفریاب کرے۔
یہ سبق ‘ بنی اسرائیل کے ساتھ قرآن کی وسیع گفتگو کا پہلا حصہ ہے ۔ بنی اسرائیل کے ساتھ یہ گفتگو درحقیقت ان کے موقف کی تردید اور ان کی سازشوں کو طشت ازبام کرنے کے لئے ان پر ایک گہری تنقیدی حملہ ہے اور یہ بطور مجبوری اور ضرورت اس وقت شروع کیا گیا ہے ۔ جب دعوت اسلامی نے ‘ مدینہ میں آکر ‘ انہیں اسلام کی طرف بلانے میں اپنی پوری قوت صرف کردی ‘ ان پر حجت تمام کردی اور انہیں اس جدید تحریک کی طرف راغب کرنے کے لئے تمام ذرائع استعمال کرلئے گئے۔
اس سبق کا آغاز باری تعالیٰ کی اس جلیل القدر پکار سے ہوتا ہے جس میں باری تعالیٰ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے ‘ انہیں پکارا جاتا ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس عہد کو پورا کرے ‘ جو اس نے ان کے ساتھ کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں بطور تمہید ‘ پہلے خوف خدا اور تقویٰ و طہارت کی طرف بلاتا ہے اور اس کے بعد انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس کتاب اور ہدایت کو قبول کرلیں جو ان تمام کتابوں اور ہدایات کی تصدیق کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی طرف اتاریں ۔ انہوں نے قرآن کریم کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا اللہ تعالیٰ اس کی مذمت کرتا ہے ‘ اور انہیں اس بات کی نصیحت کرتا ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو سب سے پہلے اس کتاب کے منکر بنے ۔ اس کی اس روش کی بھی مذمت کی جاتی ہے کہ وہ حق کو چھپاتے ہیں اور حق و باطل کو باہم مشتبہ بناتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہ راست سے بھٹکائیں ۔ بالخصوص مسلمانوں کو ۔ اور اسلامی جماعت کی صفوں میں فتنہ کھڑاکریں اور انتشار پھیلائیں ۔ نیز جو لوگ نئے نئے حلقہ بگوش اسلام ہورہے تھے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پھیلائیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ وہ ان فتنہ انگیزیوں کو چھوڑ کر اسلامی جماعت میں شریک ہوجائیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھیں ‘ زکوٰۃ ادا کریں اور نظام جماعت قائم کریں اور اپنے آپ کو اس نئے دین میں ضم کردینے کے مشکل کام میں صبر اور نماز سے مددلیں ۔ اللہ ان کی اس روش پر سخت تنقید کرتا ہے کہ وہ مشرکین کو تو یہ کہتے ہیں کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود ایمان نہیں لاتے اور نہ اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔
اس کے بعدبنی اسرائیل کو وہ نعمتیں یاددلائی جاتی ہیں جن سے انہیں ‘ ان کی پوری تاریخ میں نوازا جاتا رہا تھا۔ دوران گفتگو حاضرین بنی اسرائیل کو یوں مخاطب کیا جاتا ہے کہ گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں خود یہ لوگ وہاں موجود تھے ۔ جو آج مدینہ میں موجود ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل ایک ہی امت ہیں اور صدیوں سے وہ ایک ہی قومیت اور اسی جبلت پر جمے ہوئے ہیں ۔ جیسا کہ اس کے بعد بھی وہ ہر دور میں ویسے ہی رہے اور انہیں خصوصیات کے حامل رہے ۔
اس کے بعد انہیں اس دن یعنی یوم قیامت سے ڈرایا جاتا ہے جہاں کوئی نفس کسی دوسرے کا بدلہ نہ دے سکے گا ۔ کسی کی کوئی سفارش نہ چلے گی نہ کسی سے کسی قسم کا فدیہ اور معاوضہ قبول ہوگا اور اس دن تمام لوگ بےیارو مددگار ہوں گے ‘ اور انہیں قیامت کے عذاب سے بچانے والانہ ہوگا۔
اب ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ نے انہیں فرعون سے نجات دی ۔ یہ منظر کشی ایسی ہی کہ گویا نظارہ آنکھوں کے سامنے ہے ۔ پھر ان انعامات کا ذکر ہوتا ہے جو پے درپے ان پر ہوتے رہے ۔ ان کے سروں پر بادلوں کے سائے کئے جاتے ہیں ۔ من وسلویٰ سے ان کی تواضح کی جاتی ہے اور پتھروں کا دل چیر کر ان کے لئے پانی فراہم کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد انہیں شرم دلائی جاتی ہے کہ ان انعامات کے بدلے میں وہ پے درپے کیا کیا سرکشیاں اور کیا کیا خرمستیاں کرتے رہے ۔ جب اللہ تعالیٰ ان کی ایک غلطی معاف کرتے تو وہ دوسری میں جاپڑتے ‘ ایک مصیبت سے نجات دیتے تو وہ اپنے لئے دوسری کا سامان کردیتے ۔
لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے ۔ وہی فساد اور کینہ پروری ‘ وہی کجروی اور گمراہی اور اس پر اصرار ۔ ہمیشہ انہوں نے اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ۔ امانت میں خیانت کی ۔ عہد کو پختہ باندھنے کے بعد توڑا ۔ اللہ تعالیٰ اور پیغمبروں کے ساتھ کئے ہوئے ہر میثاق کو انہوں نے بالائے طاق رکھا ۔ وہ یہاں تک آگے بڑھے کہ بغیر کسی جواز کے پیغمبروں کو قتل کرنے لگے ۔ رب کی آیات کو جھٹلانے لگے ۔ بچھڑے کو پوجنے لگے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی گستاخی اس حد تک پہنچ گئی کہ انہوں نے اس وقت تک ایمان لانے سے انکار کردیا جب تک وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو نہ دیکھ لیں ۔ ذرا غور کیجئے ! اس کے بعد یہ لوگ اللہ کے حکم کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں اور گاؤں میں داخل ہوتے وقت وہ الفاظ نہیں ادا کرتے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتائے تھے ‘ اور جس کے ادا کرنے کا حکم دیا تھا ۔ احکام سبت کی خلاف ورزی کرتے رہے ۔ عہد طور کو تو صاف بھول گئے ۔ جس گائے کا ذبح کرنے کا اللہ نے حکم دیا تھا ‘ اس میں ٹال مٹول کرنے لگے اور مجادلہ اور مباحثہ شروع کردیا۔
غرض یہ سب کام یہ لوگ اس ادعاء کے ساتھ کرتے رہے کہ بس ہدایت یافتہ امت اگر کوئی ہے تو بس وہ صرف یہودی اور بنی اسرائیل ہی ہیں ۔ قیامت میں اللہ میاں تو صرف بنی اسرائیل سے راضی ہوں گے ۔ تمام دین باطل ہیں ۔ تمام دوسری امتیں گمراہ ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم اس پہلی تنقیدی گفتگو ہی میں اس کی تردید کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ دوسری امتوں میں سے جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ یوم آخرت پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے تو ان کے رب کے نزدیک ان کے لئے اجر ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ انہیں کسی چیز کا حزن وملال ہوگا۔
بنی اسرائیل پر یہ بھرپور وار یا بعد میں سورت کے مباحثے کے ضمن میں آنے والی تنقیدیں ‘ وقت کی اہم ضرورت تھی ۔ اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ بنی اسرائیل کے تمام کھوکھلے دعوؤں کی قلعی کھول دی جائے اور ان کی تمام سازشوں سے پردہ اٹھایا جائے اور مسلمانوں کو ان تمام سازشوں اور مکاریوں سے آگاہ کردیا جائے ‘ جو ان کی جدید سوسائٹی کے خلاف کی جارہی تھیں۔ ان کے دل و دماغ میں وہ اصول بٹھادئیے گئے جن کی بناپر بنی اسرائیل یہ سازشیں کرتے پھرتے ۔ نیز مسلمانوں کو اس خلفشار اور فتنہ انگیزی کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہوجانے کی ترغیب دی گئی۔
تاریخ بنی اسرائیل پر یہ تنقید اس لئے بھی ضروری تھی کہ خود مسلمان متنبہ ہوجائیں ۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ خلافت ِ ارضی کے اس نئے منصب میں ان کے سامنے کیا کیا دشواریاں ہیں ؟ کہاں کہاں پھسلنے کا خطرہ ہے ؟ اس سلسلے میں سابقہ مقتدرامتوں سے کیا کیا لغزشیں ہوئیں اور جس کی وجہ سے وہ منصب خلافت سے محروم ہوئیں اور اس زمین میں اللہ کی امانت کے قیام ونگہبانی کا جو شرف انہیں حاصل تھا وہ کس طرح انہوں نے گنوایا ۔ اور انسانی قیادت کا نظام کس طرح اور کن اسباب کی بناء پر ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔ غرض اس پوری تنقیدی بحث میں کہیں تو کھل کر اور کہیں اشاروں اشاروں میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس راہ اور اس منصب میں ان کے سامنے کیسے کیسے مشکل مقامات آئیں گے ؟ جہاں لغزشوں اور پھسلنے کا سخت اندیشہ ہوگا۔ جیسا کہ اس بحث کے دوسرے حصے میں بھی ایسی ہی تنبی ہیں ہوں گی۔
مدینہ طیبہ میں امت مسلمہ کو ان تنیہات اور ہدایات کی اشد ضرورت تھی ‘ جیسا کہ ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر زمانے میں امت مسلمہ کو ان ہدایات کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ آنکھیں کھول کر گہرے اور بصیرت افروز احساس کے ساتھ قرآن کریم کا مطالعہ کریں اور بزرگ و برتر قیادت کی ان ہدایات اور تعلیمات کو اپنائیں ۔ جو اس نے اپنے پرانے دشمنوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مسلمانوں کو دیں ۔ مسلمانوں کو ہمیشہ اچھی طرح یہ معلوم ہونا چاہئے کہ انہوں نے ان جدی دشمنوں کی ان سازشوں اور مکاریوں کا مقابلہ کس طرح کرنا ہے ‘ جو یہ دشمن نہایت ہی خفیہ ذرائع اور گہرے فریب کارانہ طریقوں سے اسلامی معاشرہ کے خلاف کرتے ہیں ۔ جس شخص کا دل نور ایمان سے منور نہ ہو اور جو ظاہر و باطن اور خفیہ و اعلانیہ غرض اپنی پوری زندگی میں اس بزرگ و برتر قیادت خداوندی سے ہدایات نہیں لیتا ‘ وہ کبھی بھی ان خفیہ راستوں اور ناپاک راستوں اور زیر زمین ذرائع کا پتہ نہیں لگاسکتا جن کے ذریعے یہ خطرناک اور ناپاک سازشیں اسلامی معاشرے میں گھس آتی ہیں۔
اس بحث میں قرآن کریم کی طرز ادا کی فنی اور نفسیاتی ہم آہنگی کا ایک خاص پہلو قابل لحاظ ہے ۔ تاریخ بنی اسرائیل کی یہ بحث قصہ خلافت آدم کے اختتام کے متصلاً شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ بحث اس ذہنی پس منظر میں شروع ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے قصہ آدم وابلیس میں اشارے کئے ہیں ۔ چناچہ قرآن مجید کے اسلوب ادا میں اس بات کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ پیش کئے جانے والے قصے اور اس ماحول کے درمیان مکمل مطابقت اور ہم آہنگی ہو جس میں قصہ پیش ہورہا ہوتا ہے۔
ذرا پیچھے لوٹئے ‘ دوران بحث کہا گیا تھا کہ ” اللہ تعالیٰ نے اس زمین کی تمام مخلوقات کو تم انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ “ اس کے بعد زمین میں خلافت آدم کا قصہ شروع ہوتا ہے اور آدم اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک اعلانیہ معاہدہ ہوتا ہے ۔ آدم کو فرشتوں پر فضیلت دی جاتی ہے اس کے بعد ‘ آدم کو وصیت کرنا ‘ بھول چوک ‘ توبہ وندامت ‘ ہدایت الٰہی اور مغفرت الٰہی کے مضامین آتے ہیں اور آدم (علیہ السلام) کو جنت ہی میں شر کی قوتوں اور خیر کی قوتوں کی اس طویل اور نہ ختم ہونے والی کشمکش کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ‘ جو اس دنیا میں تا قیامت جاری رہنی تھی ۔ خیر ‘ اصلاح اور تعمیر کی قوتیں ایک ایسے انسان کی شکل میں پیش ہوتی ہیں جو مومن ہے اور اللہ کی رسی کو تھامے ہوئے ہے اور شر ‘ فساد اور تخریب کی قوتیں ابلیس کی صورت میں مجسم کھڑی ہیں۔
یہ تمام باتیں کرنے کے بعد ‘ اب بنی اسرائیل پر تنقید شروع ہوجاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ سے پختہ عہد باندھا اور پھر اسے توڑا ۔ ان پر کن کن نعمتوں کی بارشیں ہوئیں اور انہوں نے ان کی ناشکری کی ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین میں منصب خلافت سے محروم کردیا اور ذلت ومسکنت کو ان پر مسلط کردیا۔ مومنین کو ان کی مکاریوں سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اپنی تاریخ میں ان سے کیا کیا لغزشیں سرزد ہوئیں ؟ یہاں آکر زمین میں خلیفہ بنانے اور اس کے بعد بنی اسرائیل کو خلیفہ بنانے کے درمیان ایک واضح معنوی ربط پیدا ہوجاتا ہے اور سیاق کلام واضح طور پر باہم مربوط ہوجاتا ہے۔
قرآن کریم کے پیش نظر یہاں یہ مقصد نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کی قومی تاریخ پیش کرے بلکہ وہ اس تاریخ کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور مناسب اختصار یا مناسب بسط سے۔ اس طویل تاریخ کے بعض مناظر پیش کرتا ہے ۔ سورة بقرہ سے پہلے قرآن مجید کی تمام مکی سورتوں میں بھی یہ قصہ باربار آتا ہے۔
لیکن وہاں اس قصے کے بیان سے مطلوب یہ تھا کہ مکی زندگی کے پر آشوب دور میں مسلمانوں کی قلیل جماعت کی ڈھارس بندھائی جائے ۔ اس وقت مطلوب یہ تھا کہ آغاز کائنات سے آج تک قافلہ اہل ایمان کے دعوتی تجربات ‘ مسلمانوں کی اس قلیل جماعت کے سامنے پیش کئے جائیں اور مکہ مکرمہ میں سے جو مرحلہ درپیش تھا ‘ اس کے تقاضوں کے مطابق اسے ہدایات دی جائیں لیکن یہاں (مدینہ میں ) مقصد یہ تھا کہ یہودیوں کی ریشہ دوانیوں اور برے ارادوں سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے اور اسلامی جماعت کو متنبہ کیا جائے کہ یہودیوں کے ارادے کیا ہیں ؟ اور انہیں بروئے کار لانے کے لئے ان کے پاس وسائل کیا ہیں ؟ نیز امت مسلمہ کو متوجہ کیا جارہا ہے کہ خود وہ بھی انہی کوتاہیوں اور کمزوریوں میں مبتلا نہ ہوجائیں جن میں اس سے قبل یہودی مبتلا ہوچکے تھے ۔ چونکہ مکہ مکرمہ میں اور مدینہ طیبہ میں مقاصد بالکل مختلف تھے ‘ اس لئے قرآن کریم نے یہاں قصہ بنی اسرائیل کو مختلف اسلوب میں اور مختلف پہلوؤں سے پیش کیا ۔ اگرچہ جو حقائق پیش کئے گئے وہ یہاں اور وہاں بالکل ایک ہی تھے ۔ یعنی بنی اسرائیل کی گمراہی اور جادہ مستقیم سے انحراف (جب مکی سورتوں پر بحث ہوگی جو ترتیب نزول کے اعتبار سے بقرہ سے پہلے نازل ہوئیں تو وہاں ہم اس نکتے کی مزید وضاحت کریں گے۔ )
بنی اسرائیل کا قصہ قرآن کریم میں جہاں بھی آیا ہے ‘ اس کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس سیاق وسباق میں اسے پیش کیا گیا ہے وہ اس سے ہم آہنگ ہے ۔ اور اس مقام کے مقاصد ومطالب اور فکری ہدایات وتوجہات کا تکملہ ہے ۔ یہاں بھی یہ قصہ سیاق وسباق سے پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔ یہاں پہلے انسان کے شرف اور اس کی کرامت کا مضمون بیان ہوا ۔ اس کے بعد انسان اور اللہ کے درمیان عہد اور انسان کی جانب سے بھول چوک کے مضامین آئے ‘ جن میں بطور اشارہ یہ بتایا گیا ہے کہ انسانیت ایک اکائی ہے ۔ اس کی جانب آنے والے رسول اور ان کا پیش کردہ دین بھی ایک ہی سرچشمے سے نکلے ہیں ۔ دوران کلام نفس انسانی اور اس کے عناصر ترکیبی کی طرف بھی جابجا اشارہ کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان عناصرترکیبی کو نظر انداز کرنے اور ان سے انحراف کرنے کے عواقب ونتائج کیا ہوں گے ؟ جن پر انسان کے خلیفہ اللہ فی الارض ہونے کا دارومدار ہے اور جن کی اہمیت یہ ہے کہ جو شخص ان کا انکار کرے گا ‘ وہ اپنی انسانیت کا منکر بن جائے گا ‘ وہ ان اسباب کو گم کردے گا جن کی بناپر اسے خلافت فی الارض کا منصب ملا ‘ نتیجتاً انسان دوبارہ حیوانیت کے ارذل مقام میں جاگرے گا۔
قرآن کریم میں بنی اسرائیل کا قصہ سب سے زیادہ آیا ہے۔ اس قصے کے مختلف مقامات اور نصیحت آموز پہلو بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان سے اللہ تعالیٰ کا وہ حکیمانہ اسلوب تربیت معلوم ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو خلافت کبریٰ کے منصب کے لئے تیار کرنے اور اس کی تعلیم وتربیت کے مقصد کے لئے اختیار فرمایا۔
اس اجمالی بحث کے بعد ابب ہم چاہتے ہیں کہ قرآنی آیات پر تفصیلی نظر ڈالیں۔
Ayah 2:40جو لوگ بنی اسرائیل کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ‘ وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے اس قوم کو کن کن نعمتوں سے نوازا۔ اور یہ کہ نعمتوں کی اس مسلسل بارش کے مقابلے میں وہ کس مکروہ انداز میں بار بار حق کا انکار کرتے رہے ۔ یہاں ابتداء میں اللہ تعالیٰ اجمالاً ان نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اس نے ان پر کیں۔ اس کے بعد آنے والے پیرا گرافوں میں بالتفصیل ان کا ذکر آتا ہے ۔ یہ انعامات انہیں اس لئے یاد دلائے جاتے ہیں تاکہ انہیں اس بات کی دعوت دی جائے کہ جو عہد تم نے اللہ سے باندھا تھا اسے پورا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا سلسلہ جاری رکھے اور اپنی نعمتوں سے انہیں نوازدے ۔
يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ‘ میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ‘ اسے پورا کرو ‘ تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اسے میں پورا کروں۔ “
یہاں جس عہد کا ذکر ہورہا ہے ‘ وہ کون سا عہد ہے ؟ کیا اس سے ” عہد اول “ مراد ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان طے پایا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ (38) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” پھر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ‘ ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ‘ وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ‘ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ یا یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد الٰہی سے بھی پہلے کا وہ تکوینی عہد ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ اور فطرت انسانی کے درمیان تکمیل پایا ‘ جس میں فطرت کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کرے ۔ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کی پیروی کرے ۔ یہ فطری معاہدہ تو ایسا ہے جو بیان اور برہان کا محتاج نہیں کیونکہ انسانی فطرت اپنی حقیقت اور لدنی میلانات کی بناپر ہی خود بخود معرفت کردگار کی طرف متوجہ ہوا کرتی ہے ۔ صرف گمراہی اور فسادفطرت کی ہی کی وجہ سے انسان معرفت الٰہی سے غافل ہوجاتا ہے ۔ یا یہ وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ‘ بنی اسرائیل کے جد اعلیٰ کے ساتھ کیا اور جس کا ذکر اسی سورت میں عنقریب ہوگا۔ وَاِذبۡتَلٰیَ اِبۡرَاھِیۡمَ رَبَّہُ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنً ذُرِّیَتِیۡ قَالَ لَا یَنَالُ عَھۡدِیۡ الظَّالِمِیۡنَ ” یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو اس نے کہا ” میں تجھے سب لوگوں کو پیشوا بنانے والا ہوں ۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا ” اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے۔ “ اس نے جواب دیا ” میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔ “ (2۔ 124) یہ بنی اسرائیل کا وہ مخصوص عہد ہے جو اللہ نے ان کے ساتھ اس وقت طے کیا ، جبکہ کوہ طور ان کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ جو ہدایات انہیں دی جارہی ہیں ، وہ سختی سے ان پر عمل کریں اور جس کا ذکر بنی اسرائیل پر اس طویل تنقید کے ضمن ہی میں (2۔ 93) آرہا ہے۔
یہ تمام عہد اہل بیت کے لحاظ سے ایک ہی ہیں ۔ ان سے مدعا یہ ہے کہ اللہ کے بندے دل وجان سے اس کی طرف متوجہ ہوں ، اپنی پوری زندگی کو اس کے حوالے کردیں اللہ کا دین ایک ہی ہے اور تمام انبیاء جو پیغام لے کر آئے ، وہ ایک ہی ہے یعنی دین اسلام اور آغاز کائنات سے لے کر آج تک قافلہ ایمان ، اسی دین کو شعار بناکر چلتا رہا۔
غرض اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو دعوت دیتے ہیں کہ ان معاہدوں کی پابندی کرتے ہوئے وہ اس سے ڈریں اور اپنے اندر صرف اسی کی خشیت پیدا کریں ۔ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ ” اور مجھ ہی سے تم ڈرو۔ “
Ayah 2:41بنی اسرائیل کو دعوت دی جاتی ہے کہ ان معاہدوں کا تقاضا پورا کرتے ہوئے وہ اللہ کے نازل کردہ کلام پر ایمان لائیں ، جو ان کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہیں ، وہ اس کلام کا انکار کرنے اور کفر کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں ، کیونکہ ان کے لئے مناسب تو یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے اس پر ایمان لاتے ۔
وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ ” اور میں جو کتاب بھیجی ہے ، اس پر ایمان لاؤ۔ یہ اسی کتاب کی تائید میں ہے ، جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی ۔ لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ “
اسلام ، جسے اب حضرت محمد ﷺ اپنی آخری صورت میں لے کر آئے ہیں ، وہ وہی لازوال دین ہے جو ہمیشہ اللہ کی جانب سے آتا رہا ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مسلسل پیغام ہے اور آغاز انسانیت سے یہ اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک معاہدہ ہے ۔ اس سے پہلے بھی اس نے پوری انسانیت کو اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا اور آئندہ بھی وہ انسانیت کا ہادی ورہبر ہوگا ۔ یہ دین عہد نامہ قدیم اور عہدنامہ جدید کو باہم ملاتا ہے ۔ اور مستقبل کی انسایت کے لئے اللہ تعالیٰ کو جو خیر اور بھلائی مطلوب تھی ، اس کا اضافہ کرتا ہے ۔ یہ دین اب پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پروتا ہے اور انہیں باہم متعارف بھائی بھائی قرار دیتا ہے ۔ وہ انسانیت کو مختلف گروہوں ، جماعتوں ، نسلوں اور اقوام کی صورت میں تقسیم نہیں کرتا ، بلکہ وہ ان سب کو اللہ کے ایک ایسے بندوں کی صورت میں منظّم کرتا ہے جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں جو فجر انسانیت سے آج تک ناقابل تغیر ہے ۔
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اس بات سے رو کتے ہیں کہ وہ اس کتاب کا انکار محض دنیاوی مفادات کی خاطر نہ کریں جبکہ وہ ان تمام کتابوں کی تصدیق بھی کرتی ہے ، جو تمہارے پاس ہیں ۔ وہ زندگی کی تمام مصلحتوں اور ذاتی اغراض کی خاطر ، اس سچائی کو رد نہ کریں ، بالخصوص احبار اور مذہبی راہنما جو محض اسلام قبول کرنے سے ہچکچاتے تھے کہ انہیں معاشرے میں سیادت و قیادت کا جو مقام حاصل تھا ، وہ چلانہ جائے اور جو مالی مفادات وہ حاصل کررہے تھے ، وہ بند نہ ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں نصیحت کرتا ہے کہ وہ اللہ کا خوف کریں ۔ ایسے برے اور گھٹیاں خیالات دل میں نہ لائیں وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو اور میرے غضب سے بچو۔ “
دام و درہم ، مال و دولت اور دنیاوی مفادات کی بندگی یہود کا قدیم وصف ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہاں مالی مفادات سے یہودیوں کے مذہبی رہنماؤں کے وہ مفادات مراد ہوں جو وہ دینی خدمات ، جھوٹے فتو وں اور رؤسائے یہود کو شرعی سزاؤں سے بچانے کی خاطر ، آیات الٰہی میں تحریف کرنے کے عوض حاصل کرتے تھے ۔ جیسا کہ قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر اس کی تفصیلات آئی ہیں ۔ ان تمام مفادات کی حفاظت کرنے کے لئے یہ لوگ اپنی قوم کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے تھے ، کیونکہ اس صورت میں اس بات کا خطرہ تھا کہ ان کے ہاتھ سے قیادت اور سرداری چلی جائے گی ۔ نیز جیسا کہ بعض صحابہ اور تابعین نے اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں تصریح کی ہے ، یہ دنیا پوری کی پوری ثمن قلیل ہے ۔ کیونکہ آیات الٰہی پر ایمان لے آنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن اہل ایمان کو جو بہتر انجام ہونے والا ہے ، اس کے مقابلے میں اس پوری دنیا کی بلکہ اس پوری کائنات کی حقیقت ہی کیا ہے ۔
Ayah 2:42اگلے فقرے میں انہیں ان کی دوسری بری خصلت سے روکا جاتا ہے ، ان کی عادت تھی کہ وہ باطل کو حق کا رنگ دے کر پیش کرتے تھے اور سچائی کو چھپاتے تھے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کیا کررہے ہیں ، ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اسلامی معاشرے کے اندر فکری انتشار پیدا ہو اور مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات کا ایک طوفان کھڑا ہوجائے۔ وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔ “ یہودیوں نے ہر موقع اور ہر مناسبت میں سے حق کو چھپایا ، اس میں باطل کی رنگ آمیزی کی اور جب بھی انہیں موقع ملا انہوں نے انسانیت کو دھوکہ دینے کی پوری کوشش کی ۔ اس لئے قرآن کریم نے بار بار ان کی اس صفت اور عادت کی تفاصیل کو بیان کیا۔ وہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی جماعت میں ہمیشہ فتنے اور اضطرابات پیدا کرتے رہتے تھے۔ خلجان اور انتشار پیدا کرنے کے لئے کوشاں رہتے تھے ۔ چناچہ ان کے اس کردار کی کئی مثالیں اسی سورت میں آگے بیان کی گئی ہیں ۔
Ayah 2:43اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں دعوت دیتے ہیں کہ بدبختو قافلہ ایمان جارہا ہے ، اس میں شامل ہوجاؤ، جماعت کا ساتھ دو ، ورنہ مٹ جاؤگے ، مذموم تعصبات کو چھوڑ دو اور اس انفرادیت کو ترک کرکے مسلمانوں کے ساتھ اجتماعی عبادات اور فرائض ادا کرو۔ اس لئے کہ علیحدگی پسندی زمانہ قدیم سے یہودیوں کی عادت مستمر چلی آرہی ہے ۔ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ
” نماز قائم کرو ۔ زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ، ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ۔
Ayah 2:44“ اس کے بعد یہودیوں کو عموماً اور ان کے مذہبی پیشواؤں کو خصوصاً اس بات کی تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ مشرکین اہل عرب میں اپنے آپ کو ایمان کا داعی کہتے ہیں اور اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے وہ ایسے ہیں بھی ، اس لئے کہ وہ مشرکین کے مقابلے میں اہل توحید ہیں ، لیکن اس کے باوجود ، خود اپنی قوم کو ، اللہ کے اس دین پر ایمان لانے سے روکتے ہو ، جو تمام سابق ادیان کی تصدیق کرتا ہے۔ أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلا تَعْقِلُونَ تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو ، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ۔ “ اگرچہ ابتداء میں یہ آیت اس وقت بنی اسرائیل کے اندر موجود کمزوریوں کی عکاسی کررہی ہے ، تاہم یہ نفس انسانی اور بالخصوص ہر مذہب وملت کے دینی پیشواؤں کے لئے سرمہ بصیرت ہے ۔ کسی قوم اور ملک کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ نہ کسی خاص فعل اور زمانے تک محدود ہے ۔
جب کوئی دین ایک زندہ اور موجزن نظریہ حیات کے بجائے محض ایک پیشہ اور کاروبار بن جاتا ہے تو دین کے پیشواؤں کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی زبانوں سے جو
کچھ کہتے ہیں ، وہ ان کے دل میں نہیں ہوتا ! وہ بھلائی کا وعظ کرتے ہیں اور خود کار دیگر میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ لوگوں کو بر اور تقویٰ کی دعوت دیتے ہیں ، لیکن بر وتقویٰ جس چیز کا نام ہے ، وہ خود انہیں چھوکر بھی نہیں گزری ہوتی۔ وہ سیدھی بات کو غلط معنی پہناکر بتنگڑ بناتے ہیں ، نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے قطعی نصوص میں تاویلات کرتے ہیں ۔ وہ ایسی ایسی حسین تاویلات اور ایسے ایسے مدلل فتوے میدان میں لاڈالتے ہیں جو بظاہر آیات ونصوص کے ظاہر مفہوم سے بالکل موافق ہوتے ہیں لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دین کی حقیقت اور اصلیت سے کوسوں دور ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ یہ لوگ اپنے مفادات اور دلی خواہشات کے لئے کرتے ہیں اور ان لوگوں کی خاطر جو یا تو مالدار ہوتے ہیں یا اہل اقتدار ۔ یہودیوں کے مذہبی پیشوا یہی کام کرتے تھے ۔
لوگوں کو بھلائی کی طرف دعوت دینا ، اور پھر اپنی عملی زندگی میں خود ، اس کے خلاف چلنا ، ایک ایسا مرض ہے اور ایک ایسی وبا ہے جو نہ صرف یہ کہ خود داعیوں کے دلوں میں شبہات وشکوک پیدا کردیتی ہے ، بلکہ دعوت بھی اس سے مشکوک ہوجاتی ہے ۔ قول وفعل کے اس تضاد کی وجہ سے لوگوں کے دلوں اور ان کے افکار میں انتشار پیدا ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ لوگ کانوں سے تو بہترین بات سنتے ہیں لیکن آنکھوں سے قبیح ترین افعال دیکھتے ہیں ۔ قول وفعل کا یہ تضاد دیکھ کر وہ بےچارے حیران رہ جاتے ہیں ۔ ان کے ایمان نے یہ دعوت ووعظ سن کر جو دیا ان کی روحانی دنیا میں روشن کیا تھا ، وہ بجھ جاتا ہے ، دلوں سے ایمان کی روشنی ختم ہوجاتی ہے اور جب انہیں مذہبی پیشواؤں میں سے کوئی عقیدت نہیں رہتی ، تو اس کے نتیجہ میں پھر خود دین سے ان کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔
داعی بےعمل کی بات بےجان ہوتی ہے ۔ یہ ایک ایسی چنگاری ہوتی ہے جو دوسروں تک پہنچتے پہنچتے بجھ جاتی ہے ۔ ایسے داعیوں کی بات بےاثر ہوتی ہے ۔ اگرچہ وہ بات مقفع ومسجع ، چکنی چپڑی اور جوش و خروش سے پر ہو ، کیونکہ یہ بات ایسے دل سے نکلی ہی نہیں جو اس پر یقین رکھتا ہو۔ اثر تو اسی بات میں ہوتا ہے جو دل سے نکلتی ہے ۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔ ایک داعی اپنی بات کا صحیح مومن اسیوقت ہوسکتا ہے ، جب وہ اپنے کردار کے اعتبار سے اس بات کی تفسیر اور ترجمہ ہو ، جو دعوت وہ دے رہا ہے ، وہ خود اس کی زندگی کی صورت میں عملاً مجسم ہو۔ جب کوئی انسان اس معیار تک پہنچ جاتا ہے ، تو پھر لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس پر یقین کرتے ہیں ۔ اگرچہ اس کی باتیں چکنی چپڑی نہ ہوں اور اس کی تقریر ، دھواں دھار نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اس بات کے اندر اس کی چرب لسانی سے نہیں بلکہ اس کی واقعیت اور حقیقت پسندی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس وقت کلام کی صداقت ہی اس کا حسن ہوتا ہے ۔ چرب لسانی سے زور کلام پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سب باتوں کے باوجود قول وفعل میں تطابق ، ایمان وعمل کے درمیان ہم آہنگی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ یہ کوئی آسان طریقہ نہیں ہے جسے بسہولت اختیار کرلیا جائے ۔ اسے حاصل کرنے کے لئے سخت ریاضت اور جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ اس کے لئے تعلق باللہ ، اللہ کی اعانت وتوفیق اور اس کی ہدایت سے مدد لینے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ عملی زندگی کے مختلف احوال ، اس کی ضرورت اور اس کی مجبوریاں ، انسان کو اپنے دلی معتقدات سے یا ان باتوں سے جن کی طرف اسے دوسرے لوگ بلا رہے ہوتے ہیں ، دور پھینک دیتی ہیں یہ انسان ، خواہ کسی عظیم قوت کا مالک کیوں نہ ہو ، جب تک مالک الملک اور قادر مطلق ہستی کا دامن نہیں تھامے گا ، کمزور اور ناتواں ہی رہے گا ، کیونکہ شر ، فساد اور انسان کے لئے گمراہ کن شیطانی قوتیں ہر طرف جال بچھائے ہوئے ہیں ۔ اگرچہ انسان بسا اوقات اور بار بار ان پر غالب آسکتا ہے ۔ لیکن جوں ہی کسی لمحہ وہ کمزوری دکھاتا ہے ، تو گرجاتا ہے ، ذلیل ہوجاتا ہے ، اپنے ماضی ، حال اور مستقبل سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے ۔ لیکن جب انسان کا اعتماد اس ازلی اور ابدی طاقت پر ہوتا ہے ، تو پھر اس کی قوت کے کیا کہنے ، وہ ہر چیز پر غالب آجاتا ہے ۔ وہ اپنی کمزوریوں اور اپنی خواہشات نفس تک کو مغلوب کرلیتا ہے ۔ وہ اپنی ضروریات اور اپنی مجبوریوں پر بھی غالب آجاتا ہے ۔ وہ ان تمام قوتوں پر غالب آجاتا ہے جو اس کا سامنا کرتی ہیں۔
اس لئے قرآن کریم یہاں پہلے تو یہود کو اس طرف متوجہ کرتا ہے ، کیونکہ روئے سخن ان کی طرف ہے اور پھر ان کے بعد پوری دنیا کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اس مشکل کام اور کٹھن معرکے کو سر کرنے کے لئے صبر وثبات اور نماز ونیاز سے مددحاصل کریں ۔ یہودیوں سے مطلوب یہ تھا کہ مذہبی خدمات ، یا پوری دنیا کا مال ومتاع جو انہیں حاصل تھا ، اسے متاع قلیل سمجھیں اور اس کے مقابلے میں حق کو ترجیح دیں ۔ کیونکہ مدینہ میں اپنی مذہبی حیثیت اور مذہبی معلومات کی وجہ سے وہ اس سچائی وصد اقت کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ اس لئے ان کا فرض ہے کہ جلد قافلہ ٔ ایمان کے ہمرکاب ہوجائیں کیو ن کہ وہ پہلے سے لوگوں کو ایمان کی طرف بلا رہے ہیں ۔ چونکہ یہودیوں کی طرف سے کوئی ایسا فیصلہ کرنے کے لئے قوت و شجاعت کی ایک بڑی مقدار کی ضرورت تھی ، اس لئے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ صبر وثبات اور نیاز و نماز سے مدد لیں ۔
Ayahs 2:45–46وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلا عَلَى الْخَاشِعِينَ (45) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
بیشک نماز اور صبر سے مدد لو ، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لئے مشکل نہیں ہے ، جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ “
میں سمجھا ہوں کہ انہا کی ضمیر شان ہے (یعنی کسی فرد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ صورت حال کی طرف اشارہ ہے) یعنی صورت حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اعتراف حق کی دعوت دینا ، جب کہ اس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی ہوں ، بڑامشکل اور جاں گسل کام ہے ، یہ صرف ان بزرگوں کے لئے آسان ہے جو اپنے دلوں میں اللہ کی خشیت رکھتے ہوں اور اس کے مطیع فرمان ہو۔ جنہیں اللہ کی خشیت اور اس کے تقویٰ کا اچھی طرح شعور ہو ، اور جنہیں پورا یقین ہو کہ انہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صبر وثبات سے مددلینے کی اشد ضرورت انسان کو بار بار پیش آتی ہے ۔ یہ ہر مصیبت اور مشقت کا درماں ہے ۔ یہ ہر مشکل کا حل ہے اور انسان کے لئے مشکل ترین کام یہ ہے کہ قیادت اور سیاست کے منصب سے نیچے اترآئے ، حق وسچائی کی خاطر اپنے مفادات اور کسب وکمائی پر لات ماردے اور سب چیزوں سے بےنیاز ہوکر حق کا اعتراف کرے اور اس کے تابع ہوجائے ۔
سوال یہ ہے کہ انسان اس کام میں نماز سے کس طرح مددلے ؟
نماز درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک خاص ملاقات ہے ۔ اس سے دل غذا لیتا ہے اور روح ایک خاص تعلق کا احساس کرتی ہے ۔ اس کے اندر نفس انسانی کے لئے وہ سروسامان ہے ، جو دنیا کے تمام مال ومتاع سے زیادہ قیمتی ہے ۔ نبی ﷺ کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی معاملہ انہیں پریشان کرتا تو آپ نماز کی طرف لپکتے تھے ، حالانکہ آپ ﷺ کا حال یہ تھا اپنے رب سے ، آپ ﷺ ہر وقت جڑے رہتے تھے ، آپ کی روح ہر وقت وحی اور الہام سے مربوط تھی ۔ سرچشمہ خیر و برکت اب بھی ہر مومن کی دسترس میں ہے ، جسے زاد راہ کی طلب ہو ، جو سخت گرمی میں شراب بارد کا خواہاں ہو ، جو ایسے حال میں مدد کا طلب گار ہو ، جب ہر قسم کی مدد منقطع ہوگئی ہو اسے زاد راہ کی ضرورت ایسے حال میں پیش آئے جبکہ اس کا توشہ دان خالی ہو۔
اللہ کی طرف پلٹ کر جانے کا یقین (قرآن کریم میں بارہا ظن اور اس کے مشتقات یقین کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ نیز عربی زبان میں بھی علم العموم ظن کا استعمال یقین میں ہوتا ہے) اور ہر معاملے میں پلٹ کر اس کی طرف جانے کا یقین ہی انسان کے اندر صبرواستقلال پیدا کرتا ہے ۔ تقویٰ اور بھلائی کی حس اسی پر موقوف ہے ۔ دنیاوی اقدار اور اخروی اقتدار کے درمیان صحیح توازن اسی یقین کا مرہون منت ہے ۔ ان اقدار کا توازن جب درست ہوجاتا ہے ۔ ترازو کی ڈنڈی جب سیدھی ہوجاتی ہے تو پھر انسان کو یہ تمام دنیا ، متاع قلیل اور ایک حقیر چیزنظر آتی ہے ۔ تب جاکر آخرت صحیح نظر آتی ہے اور پھر کوئی عقلمند آدمی اسے ترجیح دینے اور اختیار کرنے میں ایک لمحہ بھر تردد نہیں کرتا۔
جب انسان اس نہج پر قرآن کریم میں غوروفکر کرتا ہے تو یہ ہدایات جو ابتدا میں بنی اسرائیل کو دی گئی تھیں ، سب کے لئے دائمی ہدایات بن جاتی ہیں ۔
چناچہ بنی اسرائیل کو دوبارہ پکارتے ہوئے ، دوبارہ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے اور آنے والی تفصیلات سے پہلے ، اجمالاً انہیں آنے والی گھڑی سے ڈرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح خطاب کرتے ہیں ۔