Ayah 2:210ھل ، کے لفظ کے ساتھ عربی میں ایسا سوال ہوتا ہے جس میں ناپسندیدگی کا اظہار بھی ہو۔ اس کے جواب میں وہ وجوہات بیان کی گئیں ہیں جن کی وجہ سے بعض مخالفین ، اسلام کو قبول کرنے میں پش وپیش کررہے ہیں اور پورے کے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوتے ۔ وہ کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ؟ وہ کس چیز کا انتطار کررہے ہیں ۔ یہ اسی طرح بغیر کسی وجہ کے انتظار کرتے رہیں گے ، اور اللہ تعالیٰ بادلوں کا کا چتر لگائے آجائے گا۔ فرشتے آجائیں گے ؟ بالفاظ دیگر کیا یہ لوگ اس خوفناک دن کا انتظارکر رہے ہیں ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے ہوئے آئیں گے اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے ہوں گے کوئی بات نہ کرے گا ۔ مگر وہ شخص جسے بات کی اجازت ہوگی اور وہ بات بھی درست کررہا ہوگا۔
اچانک ........ ہم اس تہدید آمیز سوال کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ گویا وہ دن پہنچ ہی گیا اور فیصلہ ہو ہی گیا ۔ معاملہ ختم ہی ہوگیا ۔ لوگوں کے سامنے اچانک وہ منظر آجاتا ہے ، جس سے انہیں ڈرایا جارہا تھا۔ جس کی طرف اشارہ ہورہا تھا۔ قُضِيَ الأمْرُ (” اور فیصلہ ہو ہی گیا) “ وقت کا دفتر لپیٹ کر رکھ دیا گیا ۔ فرصت کے اوقات ختم ہوگئے ۔ نجات مشکل ہوگئی ۔ اب تو گویا لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس اللہ کے سامنے جس کے آگے سارے معاملات کو پیش ہونا ہے : وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ ” تمام امور نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ۔ “
یہ قرآن مجید کا انوکھا انداز ہے ۔ تمام دوسری تقاریر اور تحریروں سے یہ انداز اسے امتیازی حیثیت دیتا ہے ۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید ، چند لمحوں کے اندر اندر کسی بھی منظر کو زندہ ومتحرک صورت میں پیش کرتا ہے ۔ انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ اس منظر کے سامنے کھڑا ہے اور وہ دیکھتا ہے ، سنتا ہے ، اور اپنی آنکھوں سے گویا اس منظر کا معائنہ کررہا ہے۔
کب تک یہ لوگ پیچھے رہیں گے اور اس سلامتی میں داخل نہ ہوں گے ۔ خوفناک دن ان کے انتظار میں ہے ۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آنے ہی والا ہے ۔ اور سلامتی ان کے قریب ہے ۔ دنیا کی سلامتی اور آخرت کی سلامتی ، جس دن آسمان پر بادل پھٹے پھٹے ہوں گے اور فرشتے اتر رہے ہوں گے ۔ جس دن روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے ، کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے ، وہ دن جب فیصلہ اللہ کرے گا ۔ وہ دیکھو گویا اس نے معاملات چکا دئیے اور سب معاملات کو آخر کار اللہ کے حضور پیش ہونا ہی ہے ۔ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ
اب اس اندازکلام میں اچانک ایک اور تبدیلی آتی ہے ۔ روئے سخن رسول اللہ ﷺ کی طرف جاتا ہے ۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ ذرا بنی اسرائیل سے تو پوچھئے ، بنی اسرائیل ان لوگوں کے سرخیل تھے جو دعوت اسلامی کو قبول کرنے میں متردد تھے اور پس وپیش کرتے تھے ۔ اسی صورت میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے ” اللہ نے بیشمار واضح نشانیاں انہیں دکھائیں لیکن پھر بھی انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ لیکن انہوں نے ایمان کی نعمت اور سلامتی کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا ۔ حالانکہ یہ انعامات بذریعہ رسول خود ان کے ہاں بھیجی گئیں تھیں۔ “
Ayah 2:211بات پھر بنی اسرائیل کی طرف پلٹتی ہے اور یہ ایک قدرتی امر ہے ۔ ڈرایا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل جیسا موقف اختیار نہ کرو ، اس میں تو ہلاکت ہے۔ جو تردد اور انکار حق کا موقف ہے ۔ بغاوت اور سلامتی سے دور بھاگنے کا موقف ہے ۔ ہٹ دھرمی اور بار بار طلب معجزات کا موقف اور معجزات دیکھ کر بھی بغض وعناد رکھتے اور انکار کرتے چلے جانے کا موقف ۔ یہ ہیں وہ مقامات جہاں یہ قدم ڈگمگاسکتے ہیں ، پائے استقامت پھسل سکتا ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پہلے سے خبردار کردیتا ہے ، تاکہ مسلمان بنی اسرائیل کی طرح تلخ انجام تک نہ پہنچ جائیں۔
سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ ” بنی اسرائیل سے پوچھو کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انہیں دکھائی ہیں (اور پھر یہ بھی انہی سے پوچھ لو کہ) اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اسے کیسی سخت سزا دیتا ہے۔ “
سوال سے مراد یہ نہیں ہے کہ رسول ﷺ جائیں اور بنی اسرائیل سے سوال کریں اور وہ پھر کوئی جواب دیں۔ یہ تو اسالیب قرآن میں سے ایک اسلوب ہے ۔ مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ بنی اسرائیل کے سامنے بکثرت معجزات پیش کئے گئے ۔ بیشمار کھلی نشانیاں ان کے سامنے آتی رہیں ۔ بعض نشانیاں تو ان کی ضد اور مطالبے پر دکھائی گئیں اور بعض معجزات اللہ تعالیٰ نے از خود اس وقت کی کسی مصلحت کی خاطر صادر فرمائے ، لیکن کثرت معجزات کے باوجود ان کا طرز عمل کیا تھا ، تردد اور وعدہ خلافی ، ہٹ دھرمی اور پش وپیش کرنا لیکن مسلسل یہ لوگ امن وسلامتی کے اس سایہ سے دور رہے جو صرف حظیرہ ایمان پر سایہ فگن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر ایک عام تعقیب آتی ہے وَمَنْ يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ” اللہ کی نعمت پالینے کے بعد جو قوم اسے شقاوت سے بدلتی ہے ، اسے اللہ سخت سزا دیتا ہے۔ “ یہاں جس نصیحت کا ذکر ہورہا ہے وہ نصیحت اسلام ہے یا اس سے مراد ایمان کی نعمت ہے ۔ دونوں تقریباً مترادف ہیں ۔ اللہ کی نعمت کو شقاوت سے بدل دینے کی اعلیٰ مثال تاریخ بنی اسرائیل میں ملے گی ۔ جب انہوں نے نعمت کو شقاوت سے بدلا تو اطمینان اور سکون وقرار سے محروم ہوگئے ۔ انہوں نے تسلیم ورضا سے انکار کردیا ۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے آگے سرتسلیم خم نہ کیا۔ انہوں نے ہمیشہ شک اور تردد کا رویہ اپنایا ۔ قدم قدم پر معجزات طلب کرتے رہے ۔ ہر مرحلے پر دلائل پوچھتے رہے لیکن نہ معجزات سے انہیں اطمینان ہوا نہ دلائل بینات سے وہ قائل ہوئے ۔ نہ انہوں نے اللہ کے نور اور ہدایت سے استفادہ حاصل کیا ۔ اور ” اللہ کے عذاب شدید سے ڈرو “ اس کی اعلیٰ ترین مثال بھی تاریخ بنی اسرائیل ہے ۔ اور اس کے انجام بد کا انتظار وہ سب لوگ ، ہر دور میں اور ہر جگہ کرتے ہیں جو نعمت اسلام کے مقابلے میں شقاوت اور بدبختی کو اختیار کرتے ہیں اور پھر وہ اس پر فخر کرتے ہیں (تاریخ شاہد ہے کہ ایسے لوگ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے جس طرح بنی اسرائیل)
انسانیت نے جب بھی اس نعمت عظمیٰ کو بیچ کر شقاوت اور بدبختی حاصل کی ، اسے آخرت سے بھی پہلے اس کی اس دنیاوی زندگی میں سخت سے سخت سزادی گئی۔ ذرا کرہ ارض پر پھیلی ہوئی اس بدبخت انسانیت کی حالت زار پر نگاہ تو ڈالئے ! کیا وہ ایک شدید عذاب میں مبتلا نہیں ہے ؟ دیکھتے نہیں کہ وہ ہر جگہ کس بدبختی اور تلخی ہی پاتی ہے ۔ ہر جگہ حیرت و اضطراب کا شکا رہے ۔ انسان ، انسان کو کھائے جارہا ہے بلکہ انسان خود اپنی جان اور اپنے اعصاب کو کھائے جارہا ہے ۔ فرد انسانیت کی تلاش میں دوڑتا ہے۔ اور انسانیت فرد کی متلاشی ہے۔ لیکن دونوں خالی سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ غرض عالم انسانیت میں اس وقت ایک مہلک خلا ہے ۔ اس خلاکو بعض نام نہاد تہذیب مغرب کے فرزند بھرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر کبھی مسکرات کے استعمال سے اور کبھی منشیات کے کثرت استعمال سے ۔ بعض اوقات ان لوگوں سے ایسی حرکات ہوجاتی ہیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ وہ بھاگ رہے ہیں اور کوئی خوفناک غول ان کے تعاقب میں ہے ۔
فرزندان تہذیب مغرب کی صرف شکل و صورت ہی کا مطالعہ کیجئے ۔ یہ عجیب عجیب شکلیں بناتے ہیں ، اور پھر ان کی نمائش کرتے ہیں ۔ کوئی عورت سرجھکائے ہوئے ہے ۔ کسی نے سینہ بالکل ننگا کررکھا ہے ، کوئی منی اسکرٹ پہنے ہوئے ہے ، کسی نے ایسا ٹوپ بنایا ہے جیسے کوئی حیوان سر پر رکھا ہوا ہے۔ بعض نے ایسی ٹائیاں باندھ رکھی ہیں ، جن پر ہاتھی کی تصویر ہے ، ایسی قمیصیں پہنی ہیں جن پر شیر یا ریچھ کی تصویر ہے ۔
دراصل ایک نظر دیکھئے ! ان کے مجنونانہ رقص ، ہیجان انگیز گانے ، متکلفانہ طرز زندگی ، تقریبات اور مجالس میں شوخ لباس ، انوکھی اور جاذب نظر شکلیں بناکر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ، اور عجیب و غریب طرح اپنے آپ کو ممتاز کرکے جذبات کی تسکین کرنا ہے۔
ایک نظر ان لوگوں کی بدلتی ہوئی خواہشات پر بھی نظر ڈالئے ۔ خواہشات بدل جاتی ہیں ، خاوند بدل جاتے ہیں ، دوست بدل جاتے ہیں ، لباس بدل جاتے ہیں ، ہر موسم میں ، بلکہ ہر صبح وشام میں ۔
یہ سب چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ معاشرہ قلق اور بےچینی اور حیرت و اضطراب میں مبتلا ہے ۔ جس میں کوئی اطمینان نہیں ہے ۔ جس میں کوئی امن نہیں ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان اقوام کی حالت خوفناک حد تک گرگئی ہے ۔ چناچہ یہ لوگ اپنے معاشرے اور اپنی تہذیب سے فرار اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ وہ کوئی راہ نہیں پاتے ۔ یوں لگتا ہے جیسے فرزندان تہذیب کی روح خالی ہے ۔ خود اپنے سایے سے بھاگ رہے ہیں ، گویا کہ جنات اور بھوت ان کا پیچھا کررہے ہیں۔
کیا یہ عذاب الٰہی نہیں ہے ۔ یقیناً یہ عذاب ہے اور ہر اس شخص کے لئے جو اسلامی نظام زندگی اختیار نہیں کرتا ۔ جو اللہ کی یہ پکار نہیں سنتا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً ” اے ایمان لانے والو ! امن وسلامتی میں داخل ہوجاؤ پورے کے پورے ۔ “
غرض اللہ کے انعامات پر پختہ یقین کسی چیز سے بھی نہیں بدلتا الّا یہ کہ کسی کو خداوند کریم کا یہ عذاب گھیر لے تو یقیناً پختہ ایمان ختم ہوجاتا ہے ۔ العیاذباللہ۔
اس سے پہلے بیان ہوا کہ جو لوگ دعوت اسلامی قبول کرنے میں پس وپیش کررہے ہیں اور نعمت کے مقابلے میں شقاوت اور بدبختی لے رہے ہیں ، ایک سخت عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔ اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی جنت کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہوگا اور کافروں کا کیا حال ہے اور ان کا انجام کیا ہوگا ؟ بتایا جاتا ہے کہ اشخاص کی قدر و قیمت معلوم کرنے اور احوال اور اقدار حیات کے ناپ تول کے لئے مسلمانوں کا ترازو کیا ہے ؟ اور کافروں کا ترازو کیا ہے ؟
Ayah 2:212کافروں کے لئے اس دنیا کی حقیر عارضی چیزوں اور چھوٹی چھوٹی ضروریات کو ہی اہم اور مزین بنایا گیا ہے ۔ یہ چیزیں انہیں اتنی بھلی لگیں کہ وہ انہی کے ہوکررہ گئے ۔ اور آگے نہ بڑھے ۔ ان کی نظریں انہی پر ٹک گئیں اور ان سے آگے حقائق تک نہ پہنچ سکیں ۔ ان لوگوں کو ان حقیر چیزوں کے علاوہ ، بلند اقدار کا علم ہی نہیں ہے اور جو شخص دنیا میں پھنس جاتا ہے ، دنیا کی آخری حد پر جا کے ہی دم لیتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ان کی عقل وفکر ان بلند مقاصد تک رسائی اختیار کرسکے جو مرد مومن کی توجہ کا مرکز ہیں اور جن کو مومن کی نگاہ بلند نے بہت دور اور بلند آفاق میں پالیا ہے ۔
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک مومن بنیادی ساز و سامان کو بالکل ہی نظر انداز کردیتا ہے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ دوں ہمت ہے ، اس لئے نہیں کہ اس میں حصول دنیا کا جوہر نہیں ہے۔ اس لئے بھی نہیں کہ منفی الفکر ہے اور دنیا کی ترقی و کمال میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے ، یہ محض اس لئے ہوتا ہے کہ وہ ایک نہایت ہی بلند مقام سے ، اس عارضی دنیا پر نگاہ غلط انداز ڈالتا ہے ، باوجود اس کے کہ وہ اس دنیا میں اللہ کا نائب ہے ، اس کی دیکھ بھال اس کی ذمہ داری میں ہے ۔ وہ اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیتا ہے ، وہ اس کی تہذیب اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے ، لیکن وہ اس مقام کی تمام بوقلمونیوں میں سے اپنے لئے اس اعلیٰ مقصد کو تلاش کرکے چن لیتا ہے جو بہت ہی اعلیٰ ہے ، ارفع ہے ، اور قیمتی ہے۔ اس کی نگاہ انتخاب اس پر پڑتی ہے کہ اس دنیا کے لئے ایک نظام زندگی چاہئے ۔ انسانیت ٹھیکریاں اور خزف تلاش کرتی پھرتی ہے ، اس کی راہنمائی اس کان تک جانی چاہئے جہاں موتی ہی موتی ہیں ۔ لوگوں کے سروں پہ اور زمین کی چوٹیوں پر اللہ کا علم بلند ہونا چاہئے تاکہ انسانیت اس مقام بلند تک ترقی کرسکے ۔ انسانیت اس دنیا کی ذلیل و حقیر چیزوں سے نظریں اٹھاکر آگے بھی دیکھے کہ اس قصر دنیا سے آگے اور جہاں بھی ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل میں ایمان کی چنگاری نہیں ہے وہ بڑے مقاصد ، اعلیٰ نصب العین اور وسعت فکر ونظر سے محروم ہوتے ہیں اور ایسے لوگ دنیا کے غلام ہوتے ہیں اور بندگان دنیا کہلاتے ہیں۔
یہ کوتاہ ہمت اور زمین کی آلائشوں میں گھرے ہوئے بونے قد کے لوگ ، یہ دنیا وی اغراض کے بندے اور مطلب پرست ، بڑی حقارت سے ایمان داروں پر نظر ڈالتے ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے دنیا کی تمام آلودگیوں ، تمام کدورتوں اور تمام حقیر سازوسامان کو ان کفار کے لئے کھلا چھوڑ دیا ہے اور اپنے سینوں میں پاک آرزو ہائے عالیہ لئے پھرتے ہیں ، ان آرزؤں کا تعلق ان کی ذات ہی سے نہیں ہوتا ، بلکہ وہ تمام انسانیت کی آرزوئیں ہوتی ہیں ۔ ان تمناؤں کی تعلق ان کا ذات ہی سے نہیں ہوتا ، بلکہ یہ ان کے نظریہ حیات کی تمنائیں ہوتی ہیں ۔ بلکہ وہ تمام انسانیت کی آرزوئیں ہوتی ہیں ۔ ان تمناؤں کا تعلق ان کا ذات ہی سے نہیں ہوتا ، بلکہ یہ ان کے نظریہ حیات کی تمنائیں ہوتی ہیں ۔ اب یہ کفار ذرا اور گہری نظر اور سنجیدگی سے دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ ان آرزؤں کے حصول کے لئے نہ صرف یہ کہ دنیا کو ترک کئے ہوئے ہیں بلکہ وہ اس جدوجہد میں تھک کر چور چور ہوگئے ، وہ ان کی خاطر بڑی سے بڑی مشکلات کا مقابلہ کررہے ہیں اور ان بونے لوگوں نے جن دنیاوی لذائذ کو زندگی کی روح سمجھ رکھا ہے اور جو ان کا بلند ترین مقصد ہے ، ان پر ان اولوالعزم لوگوں نے لات ماردی ہے ۔ غرض ایسے حالات میں یہ بونے اور دوسرے درجے کے لوگ ان لوگوں کی زندگیوں پر نظر دوڑاتے ہیں جو صحیح معنوں میں مومن ہیں تو یہ لوگ ان کے مقاصد بلند تک نہیں پہنچ سکتے ۔ ان کی زندگی کے راز کو نہیں پاسکتے ۔ تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ وہ بےاختیار ان سے مذاق کرتے ہیں ، ان کے حال پر انہیں ہنسی آتی ہے ، پھر وہ ان کے نظریات کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہوں نے جو طرز عمل اختیار کررکھا ہوتا ہے اس پر منہ چڑاتے ہیں زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا ” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کے لئے دنیا کی زندگی بڑی محبوب اور دل پسند بنادی گئی ہے ۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ “
لیکن جس ترازو میں یہ کفار ، زندگی کی قدروں کو تولتے ہیں ، وہ حقیقی ترازو نہیں ہے ۔ سچائی کا ترازو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ، اور اللہ کے ترازو میں ایمان والوں کا کیا وزن ہے اور کیا قدر و قیمت ہے وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ” مگر قیامت میں پرہیز گار مومن ہی ان کفار کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ “
یہ ہے سچائی کا ترازو اور پھر ہے بھی دست قدرت میں ۔ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اپنی اس قدر و قیمت کا تعین اس ترازو سے کریں ۔ وہ منزل کی طرف بڑھتے چلیں اور ان احمقوں کی حماقتوں کی طرف توجہ ہی نہ کریں ، مذاق اڑانے والوں کے مذاق کی طرف دھیان ہی نہ دیں ، کافروں کی گھٹیا اقدار کو خاطر ہی میں نہ لائیں ۔ اس لئے کہ اہل ایمان تو ان کفار کے مقابلے میں ، دار آخرت میں بلند مرتبت ہوں گے ۔ آخری حساب جب ہوگا تو اہل ایمان کا حساب زیادہ نکلے گا ، اور اس بات پر اللہ گواہ ہے جو احکم الحاکمین ہے ۔
اللہ نے ان کے لئے بھلائی رکھ چھوڑی ہے ، وہ رزق سے بھی زیادہ کشادہ ہے یعنی روح کی غذا ہے ، وہ یہ دولت انہیں دنیا میں بھی عطاکرے گا اور آخرت میں بھی ۔ یا دنیا وآخرت دونوں میں جو وہ مناسب سمجھے ، کیونکہ وہ مختار ہے ۔ حکیم ہے ، وہی سمجھتا ہے کہ ان کے لئے بھلائی کس میں ہے ۔ رزق دنیا کی اہمیت ہی کیا ہے وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ” دنیا کا رزق تو اللہ کو اختیار ہے ، جسے چاہے بےحساب دے ۔ “
وہی داتا ہے ، جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، جس پر چاہتا ہے عطیات کی بارش کردیتا ہے ، وہ کبھی کفار کو دنیاوی شان و شوکت دیتا ہے اور یہ اس کی حکمت ہوتی ہے۔ اس میں ان کی کوئی فضیلت نہیں ہوتی ۔ وہ اپنے مختار بندوں کو بھی دنیا وآخرت دونوں میں دیتا ہے ۔ ہر قسم کی داد وہش کا سرچشمہ وہی ہے لیکن برگزیدہ لوگوں کے لئے اس کی پسند ہی اعلیٰ اور دیرپا ہوتی ہے۔
انسانی زندگی میں ہر وقت انسانوں کے یہ دونوں نمونے پائے جاتے ہیں ۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی قدر و قیمت اپنے فکر و عمل کی قدر اللہ رب العزت سے اخذ کرتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کی صفات اور زمین کی عارضی چیزوں ، اور چھوٹے چھوٹے مقاصد سے بلند ہوجاتے ہیں ۔ ان لوگوں کی انسانیت ایک ٹھوس حقیقت ہوتی ہے ۔ یہ لوگ زندگی کے حکمران ہوجاتے ہیں ، زندگی کے غلام نہیں ہوتے ۔ بعینہٖ اسی طرح ایسے لوگوں کے مقابلے میں کچھ دوسرے لوگ ہیں ، جن کے لئے دنیا کی زندگی کو محبوب بنادیا گیا ہے۔ وہ دنیا کی عارضی ساز و سامان کے غلام بنادیئے گئے ہیں ۔ وہ بنیادی اقدار کے غلام ہیں ۔ یہ لوگ ضروریات زندگی کے دام میں گرفتار ہیں اور دنیا کے اس گندے دلدل میں ایسے پھنسے ہیں کہ اب اس سے نکل ہی نہیں سکتے ۔
لیکن اس افتادہ مخلوق خدا کے پاس جتنا سازوسامان ہو ، ان پر مرد مومن ایک نہایت ہی بلند مقام سے نظر ڈالتا ہے ۔ اگرچہ اپنی جگہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں ۔ صاحب فضل وکرم ہیں اور ایمان والے محروم ہیں ۔ کبھی تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں اور کبھی ان کا مذاق آڑاتے ہیں ۔ حالانکہ وہ خود ہمدردی کے مستحق ہیں ، خود وہ قابل رحم وقابل شفقت ہیں۔
زندگی کے اعلیٰ قدروں کے بیان اور اہل ایمان کے بارے میں کافروں کے موقف کی وضاحت اور خود اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کفار کے وزن اور مقام کے تعین کے بعد ، اب اگلی آیات میں وہ اصل کہانی بیان کی جاتی ہے کہ لوگوں کے درمیان تصورات ونظریات اور اقدار ومقاصد کے بارے میں اختلاف رائے شروع کیسے ہوا ؟ اور پھر وہ اصول بتادیا جاتا ہے جس پر اختلاف کرنے والے یہ لوگ ایسے اختلافات ختم کرسکتے ہیں اور عدالت کی وہ ترازو بتائی جاتی ہے جو ان کے اختلافات کے بارے میں ، ان لوگوں کے درمیان ، آخر کار یہ فیصلہ دے گی ۔
Ayah 2:213یہ ہے وہ کہانی ۔ پہلے سب لوگ ایک امت ہی کے افراد تھے ۔ ایک تصور زندگی اور ایک ہی طرز عمل تھا۔ یہ اشارہ ہے اس چھوٹے انسانی خاندان کی طرف ، جو حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کی ان اولاد پر مشتمل تھا ۔ اور ابھی ابن آدم کے درمیان افکار ونظریات کا اختلاف پیدا نہ ہوا تھا ۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کا آغاز ایک چھوٹے سے خاندان سے محض اس لئے کیا کہ انسانی زندگی میں خاندانی نظام خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ابتدا میں انسانیت پر ایک ایسا دور گزرا ہے ، جس میں سب انسان ایک ہی سطح کے تھے ، ان کا ایک ہی رخ تھا ، ایک ہی نظریہ تھا ۔ وہ صرف ایک ہی خاندان کی شکل میں تھے ۔ رفتہ رفتہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ انسان ترقی کرگئے ۔ پھر ادھر ادھر بکھرکر بسنے لگے ان کے بودوباش کے طریقوں میں اختلاف ہوگیا ۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو خوبیاں ودیعت کی تھیں وہ ظاہر ہونے لگیں ۔ یہ خوبیاں اللہ نے تخلیق کے وقت ان کے اندر رکھ دی تھیں ۔ کسی میں کم تھیں کسی میں زیادہ ۔ اس کی حکمت اللہ ہی کے علم میں ہے اور زندگی کی بوقلمونی کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ کسی میں کچھ استعداد اور کسی کا کچھ رجحان ۔
قدرت کی اسکیم کے مطابق لوگوں کے درمیان نقطہ نظرکا اختلاف پیدا ہوگیا ، لہٰذا انسانیت نے اگلے درجے میں قدم رکھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کے لئے نبی بھیجے جو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے تھے وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ” اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے ، ان کا فیصلہ کرے ۔ “
یہاں وہ عظیم حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے یہ کہ لوگوں کے درمیان اختلاف رائے ایک طبعی امر ہے ۔ کیونکہ اختلاف ان کی تخلیق کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے ۔ اس اختلاف ہی کے نتیجے میں وہ اسکیم روبعمل آتی ہے جس کی خاطر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ۔ یعنی زمین پر نیابت الٰہی اور منصب خلافت کے چلانے میں انسان کو مختلف قسم کے فرائض سرانجام دینے تھے ، ان کے لئے مختلف قسم کے لوگ اور گوناگوں قابلتیں رکھنے والوں کی ضرورت تھی ، تاکہ یہ سب افراد مل کر نظام خلافت کو پوری ہم آہنگی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور اس کرہ ارض کی تعمیر و ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ اسکیم کو روبعمل لائیں اور ہر شخص اس میں اس کے لئے طے شدہ رول ادا کرے ، لہٰذا ضروری ہے کہ مختلف فرائض کی ادائیگی کے لئے لوگوں کی صلاحتیں بھی مختلف ہوں اور جس طرح انسان کی ضروریات ہیں اسی طرح انسانوں کی استعداد بھی مختلف ہو : وَلَا یَزَالُونَ مُختَلِفِینَ اِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذَٰلِکَ خَلَقَھُم ” اور یہ لوگ یونہی مختلف رہیں گے ۔ ماسوائے ان کے جن پر اللہ رحم فرمائے اور اسی اختلاف کے لئے تو اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے ۔ “
قابلیتوں اور فرائض کے اس قدرتی اختلاف کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان افکار کا اختلاف جنم لیتا ہے ، ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں ۔ ان کا طریقہ کار اور پھر آخر کار ان کا نظام زندگی بدل جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ یہ فطری اختلافات مطلوب حد تک ہونے ضروری ہیں ۔ البتہ ان اختلافات کو ایک وسیع دائرے کے اندر رہنا چاہئے اور یہ اختلافات تعمیری ہونے چاہییں اور سیدھے ہونے چاہئیں ۔ یہ وسیع دائرہ کیا ہے جس کے اندر یہ محدود ہوں ؟ وہ ایمانی تصور حیات کا دائرہ ہے اور یہ اس قدر وسیع ہے کہ مختلف استعداد رکھنے والے لوگ ، مختلف طاقتوں کے مالک لوگ ، اور مختلف قابلیتوں کے لوگ اس کے اندر پوری ہم آہنگی کے ساتھ کام کرسکتے ہیں ۔ ایمانی تصور حیات ان اختلافات یعنی فطری اختلافات کو نہ دباتا ہے اور نہ ہی بالکل ان کا قتل عام کرتا ہے بلکہ ان کو ایک تنظیم میں لاتا ہے اور ہم آہنگ کرتا ہے اور ان سب کے رخ کو اصلاح و ترقی کی شاہراہ کی طرف موڑ دیتا ہے۔
اندریں حالات میں ایک ایسے معیار کا وجود ضروری ہوگیا کہ باہم ٹکراؤ کی اس صورت میں لوگ اس کی طرف رجوع کریں ۔ جو ایک حاکم عادل ہو ، جس کے سامنے فریقین پیش ہوں اور جس کا قول فیصل ہو ، جس کے بعد بحث و تکرار ہی نہ رہے ، وہ ایسا ہو کہ سب لوگ اس کے ذریعہ ذوق یقین اپنے اندر پیش کریں فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا ” تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلاف رونما ہوگئے تھے ، ان کا فیصلہ کرے ۔ “
ہمیں چاہئے کہ لفظ بالحق پر غور کریں ۔ یہ دراصل اس امرپر قول فیصل ہے کہ حق وہی ہے جو کتاب اللہ میں ہے ۔ اور اس حق کو اس لئے اتارا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے مختلف تصورات ، ان کے طریقہ ہائے کار اور ان کی اقدار کے لئے بمنزلہ دیانت دار منصف ہے اور تمام اختلافات میں فیصلے کا آخری مقام ہے ۔ اس کے سوا سچائی کہیں نہیں ملے گی ، اس کے ساتھ کوئی متوازی منصف نہیں ہے ، اس کی بات کے بعد پھر کوئی بات نہیں ہے ، یہ حق جو ایک اور لاشریک ہے ، اس کے بغیر تمام اختلافات اور نظریات میں اسے حکم بنائے بغیر ، اور بغیر کسی مزید مقدمہ بازی اور بغیر کسی اعتراض کے اس کے حکم کو حکم آخر تسلیم کئے بغیر اس زندگی کی گاڑی سیدھی پٹری پر روانہ نہیں ہوسکتی ۔ ہرگز نہیں ہوسکتی ۔ لوگوں کے درمیان موجود شدید اختلافات ختم نہیں ہوسکتے ۔ زمین پرامن قائم نہیں ہوسکتا اور کسی صورت میں بھی ، ان تدابیر کے بغیر ، انسان امن وسلامتی میں داخل نہیں ہوسکتا۔
لوگ اپنے تصورات اور قوانین حیات کہاں سے لیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قوانین حیات اور نظام حیات کے سرچشمے کے تعین کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کتاب اللہ کی اس حیثیت کو تسلیم کیا جائے کہ تمام اختلافات کا آخری فیصلہ کتاب اللہ ہی سے ہوگا۔ نیز یہ کہ یہ دوئی قبول نہیں کرتا ۔ اللہ پاک نے اس کتاب کو نازل فرمایا اور حق کے ساتھ نازل فرمایا۔ وہ منبع ایک ہی ہے ۔ اس میں تعدد ممکن نہیں اور یہ وہی منبع ہے جہاں سے کتاب اللہ کا نزول ہوا اور اس لئے ہوا کہ وہ اختلافی امور میں قوت فیصلہ ہو ، معیار حق ہو۔
وہ کتاب اپنی ماہیت کے اعتبار سے ایک ہی ہے۔ سب رسول اسی ایک کتاب کو لے کر آتے رہے ہیں ، لہٰذا تمام آسمانی کتابیں ایک ہی کتاب ہیں اور تمام ملتیں بھی دراصل ایک ہی ملت ہیں اور ان کتب ورسل کے تصورات حیات بھی دراصل ایک ہی ہیں ۔ ایک اللہ ، ایک معبود ، تمام انسانوں کے لئے ایک ہی قانون ساز ، البتہ مختلف ادوار اور مختلف ملل ونحل اور مختلف طرز ہائے زندگی اور مختلف قسم کے ادوار کے لئے تفصیلی اور جزوی احکام میں قدرے فرق ہوا۔ اور تمام حذف واضافہ کے بعد آخری مستقل اور مکمل صورت قرآنی تعلیمات اور ان تعلمیات کے ذریعہ زندگی کو بغیر کسی رکاوٹ کے ترقی کی راہ پر آزادانہ طور پر ڈال دیا گیا ، تاکہ انسانی زندگی اپنے وسیع دائرے میں ، اللہ کی راہنمائی اور ہدایت کی روشنی میں ، اللہ کی شریعت اور زندہ نظام زندگی کے مطابق اپنے وسیع حدود میں ترقی کرتی چلی جائے ۔
کتاب اللہ کے بارے میں قرآن کریم کا یہ فیصلہ ہی دراصل تمام نظریات اور تمام عقائد کے بارے میں صحیح اسلامی نقطہ نظر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اصل میں ہر نبی اسی ایک دین کو لے کر آیاجو چند بنیادی عقائد یعنی عقیدہ توحیدوغیرہ پر مشتمل رہا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہر امت نے اپنے رسول کے اٹھ جانے کے بعد رفتہ رفتہ اپنے اصل دین سے انحراف اختیار کرلیا اور غلط روایات اور کہانیوں کا ایک ایسا انبار جمع ہوا کہ اس کے اندر دین اصل الاصول دب کر رہ گئے ۔ لوگ اصل دین سے دور جاپڑے ۔ یوں ضرورت پیش آتی ہے کہ ایک جدید رسالت ایک جدید نبی کے ذریعے بھیجی جائے ۔
جدید نبی ضرور آتا رہا لیکن دراصل دین اسلام کی تجدید ہی ہوتی رہی ۔ خرافات کا جو انبار دین میں داخل ہوچکا تھا یہ رسول اس کی نفی کرتا رہا۔ اور اس دور کے حالات کے مطابق لوگوں کو ایک نظام ایک قانون دیا جاتا رہا ۔ ایک نظام معاشرت کی بنیاد رکھتا رہا ، تاآنکہ قرآن نازل ہوا اور اب دینی نظریات و عقائد کے بارے میں قرآن کریم ہی لائق اتباع ہے اور حق ہے۔
بعض غیر مسلم علماء جب تاریخ مذاہب و عقائد پر بحث کرتے ہیں تو ان کا منہاج بحث یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر نبی کی تعلیمات کو نبی ماقبل سے مختلف ثابت کرتے ہیں ، یوں گویا وہ نظریاتی ارتقاء ثابت کرتے ہیں۔ بعض مسلم محققین بھی اس منہج بحث سے متاثر ہوجاتے ہیں اور غیر شعوری طور پر وہ بھی ادیان کے اصل نظریات و عقائد میں تغیر وبتدل ڈھونڈتے ہیں ۔ یہ انداز بحث مستشرقین اور مذاہب کے بارے میں خود مغرب کے اہل تحقیق اختیار کرتے ہیں۔
ایمان کے اصل تصور میں تسلسل اور ثبات کا یہ نظریہ ہی اس کتاب کا مقصد نزول ہے ، جسے سچائی کے ساتھ نازل کیا گیا ہے اور اس لئے نازل کیا گیا کہ وہ لوگوں کے درمیان ، ان کے اختلافی مسائل کے بارے میں فیصلہ کرے ۔ ہر دور میں ، ہر رسول ، نبی کے بارے میں اور ابتدائی زمانوں سے لے کر آج تک تمام مسائل کے بارے میں کرے ۔
اس بات کی ضرورت تھی کہ ایک ایسی ترازو موجود ہو جس کے مطابق سب لوگ اپنے نظریات و عقائد کی قیمت معلوم کریں ۔ ایک قول فیصل ہو جس کے بعد بحث ختم ہوجائے ، نیز اس بات کی بھی اشد ضرورت تھی کہ اس ترازو اور اس قول فیصل کا سرچشمہ انسانی نہ ہو ۔ یہ ترازو اور قول فیصل اس ذات کا ہو جو انسانی خواہشات سے متاثر نہ ہو ، وہ انسانی نقائص سے بھی پاک ہو اور اس سرچشمے میں انسان کی طرح جہالت بھی نہ ہو ۔ پھر اس قسم کی ترازو قائم کرنے کے لئے لامحدود علم کی ضرورت ہے ۔ ہر واقعہ کا علم ضروری ہے ، خواہ ہوچکا ہے ، ہورہا ہے یا ہونے والا ہے ۔ یہ علم ہو بھی مطلق یعنی وہ علم نہ زمانے کی قید سے مقید ہو کر ایک ہی چیز زمانے کے اعتبار سے جدا ہوجاتی ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل قرار پاتی ہے ۔ ایک چیز یقینی ، ظنی اور مجہول کہلاتی ہے ۔ ایک ہی چیز کبھی حاضر ہوتی ہے کبھی غائب ہوتی ہے ۔ کبھی قابل مشاہدہ ہوتی ہے اور کبھی چھپی ہوئی ۔ پھر مکان کی قید سے ایک ہی چیز قریب ہوتی ہے ، پھر وہی بعید ہوتی ہے ۔ کبھی دائرہ نظر میں ہوتی ہے کبھی پس پردہ ہوتی ہے ، یا کبھی محسوس ہوتی ہے اور کبھی غیر محسوس ہوتی ہے ، غرض ایسے اللہ و معبود کے علم کی ضرورت ہے جو یہ جانے کہ کیا پیدا کیا اور کس نے پیدا کیا ۔ اسے معلوم ہو کہ مفید کیا ہے اور کیا سب کے لئے مفید ہے ۔
اس قسم کی میزان قائم کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ میزان قائم کرنے والا ضروریات سے بےنیاز ہو ، نقص سے پاک ہو ، فنا سے مبرا ہو ، کوئی چیز اس سے بچ نہ سکتی ہو ، اور موت اسے لاحق نہ ہوتی ہو ، وہ طمع سے پاک ہو ، اسے کسی چیز کی رغبت نہ ہو اور نہ کسی کا ڈر ہو ۔ وہ اس پوری کائنات پر غالب ہو اور اس کی ہر چیز اور ہر شخص پر حکمرانی ہو ۔ غرض میزان اس اللہ اور معبود کی ہو جو خواہشات سے پاک ، ضروریات سے پاک اور اس میں کوئی قصور اور کمی نہ ہو۔
رہی خود انسان کی عقل و دانش ، تو اس کے لئے تو یہی کافی ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات پر نظر رکھے ، بدلتے ہوئے ماحول پر اس کی نظر ہو ، نئی نئی ضروریات اس کے سامنے ہوں اور پھر وہ ان حالات میں ایک متعین وقت اور ایک مخصوص صورتحال میں ، ہم آۃ ن گی پیدا کرے ، لیکن اس صورت میں جب انسان کے پاس کوئی معیار حق موجود ہو ، جس کے ذریعہ انسان اپنی غلطی اور اپنی راستی کا اندازہ کرسکے ۔ اپنی راست روی اور کج روی معلوم کرسکے ، برسر حق اور برسر باطل ہونے کا اندازہ کرسکے اور یہ سب فیصلے اسی معیار کے مطابق ہی ہوں ۔ صرف یہی ایک صورت ہے جس کے مطابق زندگی صحیح ڈگر پر چل سکتی ہے ۔ اور لوگ اس بات پر مطمئن ہوسکتے ہیں کہ ان کے امور سیاست و قیادت رب معبود کے ہاتھ میں ہیں۔
یہ کتاب سچائی کے ساتھ اس لئے نہیں اتاری گئی کہ یہ لوگوں کے درمیان قدرتی صلاحیتیوں کے امتیازات ختم کردے ۔ متنوع وسائل حیات کو ختم کردے ، مختلف طور طریقوں اور مختلف قابلیتوں کا فرق اور امتیاز مٹاڈالے بلکہ اس کتاب کا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اگر لوگوں کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو حق کے مطابق فیصلہ کردے۔
اس حقیقت کو اگر صحیح طرح ذہنن نشین کرلیا جائے تو اس کے منطقی نتیجہ کے طور پر اسلام کا تاریخی نقطہ نظر اچھی طرح سمجھاجاسکتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام اس کتاب کو ، جسے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ، لوگوں کے اختلافی امور میں ایک لازمی حاکمیت کا درجہ دیتا ہے۔ وہ اس کتاب کو انسانی زندگی کا اصل الاصول قرار دیتا ہے۔
اب قافلہ حیات کو دیکھا جائے گا کہ اگر وہ اس اصل سے متفق ہے ، اس کے مطابق جارہا ہے ، اس اصول پر قائم ہے ، تو وہ راہ حق پر ہے ۔ اگر قافلہ نظام حیات سے نکل جائے اور کچھ دوسرے اصولوں پر چل پڑے ، تو معلوم ہوجائے گا کہ اب یہ قافلہ راہ باطل پر گامزن ہوگیا ہے ۔
اگر تاریخ انسان کے کسی دور میں تمام کے تمام انسان اس نظام باطل پر راضی بھی ہوجائیں تب بھی وہ اس باطل کو حق میں نہیں بدل سکتے ۔ باطل ، باطل ہی رہے گا ۔ اس لئے کہ لوگ حق و باطل کھرے اور کھوٹے کو معلوم کرنے کا معیار ہی نہیں ہیں ۔ وہ حکم نہیں ہیں ۔ لوگ اگر خود کسی بات کا فیصلہ کرلیں تو وہ حق نہیں بن جائے گی اور نہ یہ کہ اگر پوری انسانی آبادی کوئی فیصلہ کردے تو وہ دین بن جائے گا ۔
اسلام کا نظریہ ہے کہ اگر لوگ کسی بات پر عمل پیرا ہیں ۔ اگر لوگ کسی بات کے قائل ہوگئے ہیں ، اگر سب لوگ کسی غلط اصول پر اپنی زندگیاں استوار بھی کرلیں تب بھی وہ قول ، وہ فعل اور وہ اصول حق میں نہیں بدل جاتا ۔ اگر وہ اللہ کی کتاب کے خلاف ہو ، لوگوں کا اجتماع اس باطل کو اصول دین میں داخل نہیں کردیتا ، نہ لوگوں کے اس عمل سے وہ اصول دین کی تعبیر وتشریح بن جائے گا ۔ ایسی باتوں پر اگر صدیوں عمل ہوتا رہا ہے ۔ تب بھی اس کے معنی یہ نہیں کہ اب وہ جائز ہوگئی ہیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے اور اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اصول دین میں لوگوں نے کئی نئی چیزیں داخل کردی ہیں اور صرف اس صورت میں ہم ان چیزوں کو دین سے علیحدہ کرسکتے ہیں کہ کتاب اللہ کو حکم مانیں ۔ خود اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ مختلف مراحل میں لوگوں نے اصول دین سے انحراف کیا اور یہ انحراف رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے ۔ لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا چونکہ ایک عرصہ سے لوگوں کی زندگی کا اجتماعی نظام اس انحراف پر استوار ہوگیا ہے اس لئے اب یہ انحراف ہی اسلامی نظام کی واقعی اور عملی شکل ہے ۔ ہرگز نہیں ، ایسا نہیں ہوسکتا۔
اگر تاریخ میں اسلام سے کوئی انحراف ہوا ہے اور تعامل بن گیا تو اسلام اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ انحراف اب بھی ایک غلطی تصور ہوگی ۔ اسے حجت نہ سمجھاجائے گا اور نہ وہ کوئی نظیر قرار پائے گا ۔ اس لئے جو لوگ نئے سرے سے اسلامی نظام زندگی قائم کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ ان تمام انحرافات کو اکھاڑ پھینکیں ، ان کو کالعدم قرار دیں ۔ اور سب لوگ اس کتاب کی طرف لوٹ آئیں جو نازل ہی اس لئے کی گئی ہے کہ حق کے ساتھ لوگوں کے اختلاف کا فیصلہ کرے اور ان کے درمیان حکم ہو۔
جب یہ کتاب آئی تو لوگ ہر طرف سے خواہشات میں گھرے ہوئے تھے ۔ لوگوں پر ان کی خواہشات غالب تھیں ۔ خوف اور لالچ مرغوبات اور کجروی لوگوں کو اللہ کی اس کتاب کی حاکمیت سے دور کئے ہوئے تھی ۔ لوگوں نے حق کی طرف لوٹنا چھوڑ دیا تھا ۔ محض خواہشات نفسیانیہ کی بناپروَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ” اختلاف ان لوگوں نے کیا جنہیں حق کا علم دیا جاچکا تھا ، انہوں نے روشن ہدایات پالینے کے بعد محض اس لئے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے ۔ “
بغی سے مراد حسد ہے۔ لالچ میں منافست ہے ۔ حرص میں مقابلہ اور خواہشات نفسانیہ کی حسد ہے ۔ غرض یہ حسد اور منافست ہی ہے جس نے لوگوں کو اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام زندگی کے بارے میں اختلاف کو ہوا دینے پر آمادہ کیا ۔ لوگ تفرقہ بازی ، عناد اور بحث و تکرار میں مبتلا رہے ۔
اس اصول کے مطابق مذہبی اختلافات کا تاریخی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اگر اصول دین کے بارے میں کبھی دوآدمیوں کے درمیان اختلاف ہوا ہے تو دو میں سے ایک کے دل میں حسد ضرور تھا ، یا دونوں ہی حسد کا شکار تھے لیکن اگر ان فریقین میں ایمانی قوت موجود ہو تو پھر اتحاد واتفاق کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ” پس جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھایا ، جس میں ان لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ “
اہل ایمان کو اس لئے ہدایت نصیب ہوئی کہ ان کے دل صاف تھے ، ان کی روح یکسو تھی ، ان کے دلوں میں حق تک پہنچنے کی امنگ تھی ۔ اگر حالات ایسے ہوں تو پھر حق تک پہنچنا اور اس پر جم جانا بہت ہی آسان ہوجاتا ہے وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ” اللہ جسے چاہتا ہے ، راہ راست دکھا دیتا ہے۔ “
وہ راہ کون سی ہے جس کی طرف یہ کتاب راہنمائی کرتی ہے ؟ وہ نظام جو حق پر قائم ہوتا ہے اور حق پر چلتا ہے اور حق پر جمارہتا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کے مطابق کبھی ادہر ادہر نہیں بدلتا۔ انسانوں کی مرغوبات اور ان کے رجحانات کے ہاتھ میں ایک کھلونابن کر نہیں رہ جاتا۔
اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے راہ مستقیم کے لئے چن لیتا ہے ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کون لوگ ہیں جن میں قبولیت حق کی استعداد ہے اور پھر اس پر جم سکتے ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو سلامتی کی راہ پالیتے ہیں بلکہ سلامتی کے دائرے میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ یہی لوگ غالب ہوں گے ۔ اگرچہ دنیا پرستوں کی نظروں میں ان کی کچھ قدروقیمت نہیں ہوتی اور یہ لوگ محروم تصور ہوتے ہیں ۔ اگرچہ یہ دنیا پرست ان کا مذاق اڑاتے ہیں ، جس طرح کافر مومنین کا مذاق اڑاتے ہیں ۔
اب تک جو ہدایات دی گئیں ان کا مقصد یہ تھا ، جماعت مسلمہ کے دل میں ایک مکمل واضح اور جامع تصور حیات قائم ہوجائے ۔ یہ ہدایات یہاں ختم ہوجاتی ہیں ۔ اب جماعت مسلمہ کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ وہ ذرا ان اہل ایمان کے حالات کا مطالعہ کرے ، جو اپنے مخالف دشمنان اسلام ، مشرکین اور اہل کتاب کے اختلاف رائے رکھتے تھے ، پھر ان نظریاتی اختلافات کی وجہ سے ان پر بیشمار مصیبتیں آئیں ۔ ان اختلافات کی بناپر بڑی بڑی جنگیں لڑی گئیں ، لوگوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے اور وہ چور چور ہوگئے۔
جماعت مسلمہ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ یہ سنت اللہ ہے جو زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے ۔ یوں اہل ایمان کو عام لوگوں سے علیحدہ کردیا جاتا ہے اور انہیں جنت میں داخل کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ تاکہ وہ اس میں داخل ہوں اور اس کے مستحق ہوں۔ سنت اللہ یہ ہے کہ نظریاتی لوگ اپنے نظریات کی مدافعت کریں ۔ وہ اپنے عقائد ونظریات کے لئے مشکلات ، تکالیف اور دکھ و درد برداشت کریں ۔ انہیں کبھی فتح نصیب ہوگی کبھی شکست لیکن وہ ہر حال میں اپنے نظریات پر ثابت قدم رہیں گے ، کوئی سختی انہیں متزلزل نہ کرسکے گی ۔ کوئی قوت انہیں ڈرا نہ سکے گی ۔ مشکلات اور آزمائشوں کے پے درپے حملوں میں وہ ہمت نہ ہاریں ۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ لوگ اللہ کی نصرت کے مستحق ہوجائیں گے ۔ کیونکہ وہ اللہ کے دین کے امین بن گئے ہیں اور جو امانت ان کے سپرد کی گئی ہے اس میں وہ دیانت دار ہیں ۔ وہ اس کو بچانے کی قابلیت رکھتے ہیں اور اس کے لئے وہ جنت کے بھی مستحق ہیں ۔ ان کی روحیں خوف سے آزاد ہوگئی ہیں ، وہ ذلت سے آزاد ہوگئے ہیں ۔ وہ عیش و آرام کے حریص نہیں رہے ۔ بلکہ انہیں اب خود اپنی زندگی کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ ایسے حالات میں اللہ کے یہ سپاہی آب وگل کی اس دنیا سے بہت ہی دور ہوجاتے ہیں اور جنت اور اللہ کے زیادہ قریب ہوجاتے ہیں۔
Ayah 2:214یہ تھا اللہ تعالیٰ کا خطاب ، پہلی اسلامی جماعت سے ۔ فرماتے ہیں کہ میری ایک سنت ہے کہ میں اپنے بندوں میں سے جس کے ہاتھ میں اپنا علم پکڑاتا ہوں ۔ جنہیں میں اس دنیا میں اپنا امین بنالیتا ہوں ، جن کے ذریعے میں اسلامی نظام قائم کرتا ہوں ، اور شریعت نافذ کرتا ہوں انہیں پہلے مصائب کی بھٹی میں ڈال کر ان کی تربیت کرتا ہوں ، یہ میری تاریخی سنت ہے۔
ذرا انسانی تاریخ میں اسلامی تحریکات کا مطالعہ تو کرو ۔ یہ خطاب صرف مدینہ طیبہ کی پہلی تحریک اسلامی کے لئے مخصوص نہ تھا ، بلکہ یہ خطاب ہر اس تحریک کے لئے ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کائنات میں یہ عظیم رول ادا کرنے کے لئے منتخب کرلیتا ہے جو اسلامی نظام کے داعی ہوں ، ان سے یہ خطاب ہے ۔
یہ ایک عظیم ، دور رس اور خوفناک تجربہ ہے ، رسولوں کا چیخ اٹھنا ، رسولوں کے ساتھ مومنین کا پکار اٹھنا ، سب کا بیک آواز پکار اٹھنا کہ کب آئے گی اللہ کی مدد ؟ “ اس سوال ہی سے مصائب وشدائد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جنہوں ان خدا رسیدہ لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ، یقیناً وہ مصائب وشدائد ناقابل برداشت ہوں گے ، جنہوں نے ایمان سے بھرے ہوئے ان دلوں کو متاثر کرلیا اور ان کے منہ سے بھی یہ کربناک چیخ نکل ہی گئی ” کب آئے گی اللہ کی مدد ؟ “
اللہ کی سنت ہے کہ جب ایمان سے بھرے ہوئے یہ دل ان ہلامارنے والے مصائب کو برداشت کرلیتے ہیں تو پھر اللہ کی بات پوری ہوجاتی ہے اور اس کی مدد آپہنچتی ہےأَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ” ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔ “
ہاں اللہ کی نصرت محفوظ ہوتی ہے ، ان کے لئے جو اس کے مستحق ہوتے ہیں اور اس کے مستحق وہ لوگ ہوتے ہیں جو آخر وقت تک ثابت قدم رہتے ہیں ۔ جو تنگی اور مصیبت میں ثابت قدم رہتے ہیں جو لوگ مصائب کے مقابلے میں کھڑے رہتے ہیں ۔ شدائد کی آندھیوں کے آگے جھکتے نہیں ، جنہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ صرف اللہ ہی ہے جو امداد ونصرت دے سکتا ہے (اور جب اس کی مشیئت ہوگی وہ نصرت دے گا ) حالت یہ ہوجائے کہ مصائب انتہاء کو پہنچ جائیں اور اہل ایمان کا کوئی اور سہارا نہ رہے ۔ اللہ کے سوا کسی اور نصرت وامداد کا کوئی ذریعہ نہ رہے ۔ صرف اللہ ہی نصرت باقی رہ جائے اور اہل ایمان بھی صرف اللہ ہی کی طرف نظریں اٹھائے ہوئے ہیں ۔
یہ ہے وہ حالت جس کی بناپر اب تو مومنین داخلہ جنت کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ وہ جنت میں داخل ہوتے ہیں ، آزمائش وامتحان کے بعد ، صبرواثبات کے بعد ، صرف اللہ کی ہی طرف یکسو ہوجانے کے بعد صرف اللہ کے لیے اپنا شعور خالص کردینے کے بعد اور اللہ کے سوا ہر چیز اور ہر سبب بھول چکنے کے بعد ۔
اسلامی جدوجہد اور اس کے دوران میں مصائب وشدائد پر صبر کے نتیجے میں انسان کو ایک عظیم قوت عطا ہوجاتی ہے ۔ انسان کو اپنی ذات پر حاکمیت حاصل ہوجاتی ہے ۔ اذیت ومصیبت کی بھٹی میں نفس انسانی کے عناصر صاف و شفاف ہوجاتے ہیں ۔ اسلامی نظریہ حیات میں گہرائی ۔ زندگی اور قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔ نہ نظریہ زندہ اور تابندہ ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس کے اس نظریہ کے اعداء کی آنکھیں بھی چکاچوند ہوجاتی ہیں اور یہ وہ مقام ہوتا ہے۔ جہاں پھر یہ دین کے ازلی دشمن بھی فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہونے لگتے ہیں ۔
ہر مسئلہ حق میں یہی کچھ ہوتا ہے ۔ آغاز سفر میں حاملین حق کو مشکلات پیش آتی ہیں ، لیکن جب وہ ثابت قدمی دکھائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے دشمن اور محارب بھی ان کی طرف جھکتے ہیں اور اس نظریہ حیات کے شدید ترین دشمن اور اس کے طاقتور مخالف بھی ہتھیار ڈالتے ہیں اور اس کی دعوت کی نصرت اور امداد کرنے لگتے ہیں لیکن اگر یہ نتیجہ نہ بھی نکلے ، تو بھی اس سے زیادہ عظیم نتائج نکلتے ہیں ۔
دعوت اسلامی کے حاملین کی روح تمام دنیاوی فتنوں ، تمام دنیاوی خرابیوں پر غالب آجاتی ہے ۔ یہ روح حرص و لالچ اور عیش و عشرت کی غلامی سے آزاد ہوجاتی ہے ۔ یہاں تک کہ آخر میں جاکر مرد مومن کو اپنی زندگی کالالچ بھی نہیں رہتا۔ جب نفس انسانی اس مقام تک پہنچ جائے تو وہ پوری کائنات کو جیت لیتا ہے ۔ ان تمام دلوں کو جیت لیتا ہے جو اس مقام تک مشکلات پر غالب ہو کر پہنچتے ہیں ۔ یہ وہ نفع ہے جو تمام مصائب تمام سختیوں پر بھاری ہے ۔ جو اہل ایمان اس مقام تک پہنچنے کے لئے برداشت کرتے ہیں ، یہ وہ اہل ایمان جو اللہ کے علم کے امین ہیں ۔ جو اللہ کے دین ، اس کی شریعت اور اس کی امانت کے اٹھانے والے ہیں ۔
یہ آزادی ہی اہل ایمان کو ، اس جہاں میں داخلہ جنت کے اہل بناتی ہے ۔ یہ ہے اصل راہ ۔ یہ وہ راہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے روز اول تحریک اسلامی کو دکھائی ۔ ہر دور میں اٹھنے والی ہر اسلامی تحریک کے لئے یہی راہ ہے ۔
یہی ہے راہ ایمان و جہاد کی راہ ، آزمائش وابتلا کی راہ ، صبر وثبات کی راہ ، صرف اللہ وحدہ لاشریک کی طرف رخ ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح مدد آتی ہے ، پھر دیکھئے کہ انعامات کی بارش کس طرح ہوتی ہے۔