2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے ، اسے چھوڑ دو ، اگر وقعی تم ایمان لائے ہو ۔

اس آیت میں ان لوگوں کو جو ایمان لاچکے ہیں ۔ اس بات سے متعلق کردیا گیا ہے کہ وہ اس سود کو چھوڑدیں جو باقی رہ گیا ہے ۔ وہ اس وقت تک صحیح مومن نہیں ہوسکتے جب تک وہ اللہ سے ڈریں گے نہیں اور باقی ماندہ سودی رقم کو ترک نہ کردیں گے وہ صحیح مومن نہیں ہیں اگرچہ وہ اپنے ایمان کا اعلان کرتے پھریں ۔ اس لئے کہ اللہ کے احکام و فرامین کی اطاعت وانقیاد کے بغیر ایمان کے کیا معنی ہیں ۔ آیت انہیں کسی دھوکے میں نہیں رکھتی نہ وہ کسی بھی شخص کو اس شب ہے میں چھوڑتی ہے ، جو ایمان کے اعلان کے پردے میں چھپ کر اپنی حقیقت پر پردہ ڈالتا ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ نہ تو وہ مطیع فرمان ہوتا ہے اور نہ راضی برضائے شریعت ہوتا ہے ۔ وہ اپنی زندگی میں شریعت کو نافذ نہیں کرتا ۔ وہ اپنے معاملات میں شریعت کو حکم نہیں بناتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ دین اسلام میں اعتقادات اور اعمال میں فرق کرتے ہیں وہ صحیح مومن نہیں ہیں ۔ اگرچہ وہ طویل و عریض دعوائے ایمان کریں ۔ زبان سے ایمان کا اعلان کریں ، یہاں تک کہ وہ دوسری عبادات میں پابند صوم وصلوٰۃ کیوں نہ ہوں ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ................ ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے ۔ اسے چھوڑ دو ، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو ۔ “
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ اور رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ اب بھی توبہ کرلو اور سود چھوڑدو تو اپنا اصل سرمایہ تم لینے کے حق دار ہو نہ تم ظلم کرو ، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ “

اسلام نے ان لوگوں کے حق میں وہ سودی منافع چھوڑ دیا جو وہ کھاچکے تھے ۔ یہ فیصلہ نہ کیا کہ کھایا ہوا سود بھی ان سے لوٹایا جائے ۔ نہ اسلام نے ان کی تمام یا کچھ جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم دیا ۔ اس سبب سے کہ ان کے کاروبار میں سود شامل تھا ۔ اس لئے کہ اسلام میں کوئی بات حرام نہیں قرار پاتی جب تک اسے اللہ تعالیٰ حرام قرارنہ دیں ۔ بغیر قانون سازی کے کوئی حکم نہیں دیا جاسکتا ۔ اور قانون کا مزاج یہ ہے کہ وہ اپنے آثار اپنے نفاذ کے بعد ظاہر کرتا ہے ۔ جو گزرچکا سو گزرچکا ۔ گزرے ہوئے معاملات اللہ کے سپرد ہیں ۔ ان پر قانونی احکام کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ اس طرح اسلام نے سوسائٹی کو ایک بڑے دھماکہ خیز اقتصادی اور اجتماعی بحران سے بچالیا ۔ اگر اس قانون کا موثر بماضی قرار دیا جاتا تو ایک بہت بڑا بحران پیدا ہوجاتا ۔ یہ وہ اصول ہے جسے جدید قانونی نظام نے حال ہی میں اپنایا ہے ۔ اس لئے کہ اسلام میں قانون سازی اس لئے کی جاتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کی واقعی اور زندگی کی اصلاح ہو۔ وہ اسے صحیح راستے پر ڈالے ، اسے گندگیوں سے پاک کرے ، اسے ناجائز بندھنوں سے آزاد کرے تاکہ وہ ترقی کرے اور اس کا معیار بلندہو ، اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے اہل ایمان کے ایمان کو اس بات پر موقوف کردیا کہ وہ تب ہی مومن ہوں گے جب وہ اس قانون سازی کو قبول کریں ۔ وہ نازل ہوتے ہی اور علم میں آتے ہی اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کردیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام ان کے دلوں میں خوف اللہ اور تقویٰ بھی پیدا کرتا ہے ۔ تقویٰ کا شعور ہی وہ گارنٹی ہے جس کے ذریعہ اسلام اپنے قوانین نافذ کراتا ہے ۔ یہ وہ گارنٹی ہوتی ہے جو خود اہل ایمان کے نفس کے اندر پیدا ہوتی ہے ۔ یہ اندر کا چوکیدار ہوتا ہے اور اسلام میں اس کا درجہ ان گارنٹیوں اور چوکیداروں سے اونچا ہے جو کسی قانون کو روایتی طور پر حاصل ہوتا ہے ۔ اس لئے اسلامی قوانین کو نفاذ کے لئے وہ گارنٹی اور نگرانی حاصل ہوتی ہے جو جدید دور کے وضعی قوانین کو حاصل نہیں ہوتی ، اس لئے کہ یہ قوانین صرف خارجی دباؤ کی وجہ سے نافذ ہوتے ہیں ۔ اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ خارجی نگران کو کس خوبی سے جل دی جاسکتی ہے ۔ ایسے حالات میں جب انسان کے ضمیر کے اندر کوئی چوکیدار نہ بیٹھا ہو یعنی اللہ خوفی اور رضائے الٰہی کا نگران ۔ یہ تو تھی ترغیب اس بات کی کہ ربا کو ترک کردو ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دھمکی اور ترہیب بھی آتی ہے ۔ اور یہ دھمکی اس قدر شدید ہے کہ اس سے دل دہل جاتے ہیں ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ........ ........ ” اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ “ اللہ کی پناہ ! اور اس کے رسول کی جانب سے اعلان جنگ ! یہ ایسی جنگ ہے ، جو نفس انسانی کو درپیش ہے ۔ خوفناک جنگ ہے ۔ جس کا انجام بالکل سامنے ہے ۔ جس میں بشر کو شکست سے دوچار ہونا ہی ہے ۔ انسان فانی اور ضعیف ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی قوت جابرہ کا کیا مقابلہ کرے گا جو آن واحد میں سب کچھ بھسم کرکے رکھ دے گی ۔ اور اس کا نام ونشان مٹادے گی ۔ ان آیات کے نزول کے بعد ، رسول اکرم ﷺ نے حاکم مکہ کو حکم دیا کہ وہ مکہ کے آل مغیرہ کے ساتھ جنگ کریں ، اس لئے کہ وہ ان آیات کے نزول کے بعد بھی سودی کاروبار سے باز نہ آئے تھے ۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبے میں جاہلیت کے دور کے تمام سودی قرضوں کو ختم کردیا تھا ۔ اور آپ نے فرمایا سب سے پہلے میں اپنے چچا عباس ؓ کے قرضے کو معاف کرتا ہوں ۔ اور یہ بوجھ قرضداروں پر اسلام کے آنے کے بعد ایک عرصہ تک رہا ۔ لیکن جب اسلامی معاشرہ پختہ ہوگیا ۔ اور اس کی بنیادیں مضبوط ہوگئیں اور وقت آگیا کہ علاقے کے اقتصادی نظام کو اصول ربا سے ہٹا کر صحیح اسلامی اصولوں سے استوار کیا جائے تو اسلام نے یہ قدم اٹھایا ۔ اس موقع پر رسول ﷺ نے فرمایا۔ ” جاہلیت کے دور کا تمام سود میرے ان دونوں پاؤں کے نیچے ہے اور سب سے پہلا سودی قرضہ جسے میں موقوف کرتا ہوں وہ عباس کا سود ہے ۔ “ اس کے ساتھ ساتھ آپ لوگوں کو یہ تلقین بھی فرماتے کہ دورجاہلیت میں انہوں نے جو سود وصول کیا اسے واپس کردیں ........ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرے جو سودی اقتصادیات کو جاری رکھنے پر مصر ہیں ۔ اور جو اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں ۔ اگرچہ ایسے لوگ یہ اعلان کریں کہ وہ مسلمان ہیں ۔ حضرت ابوبکر ؓ نے مانعین زکوٰۃ کے خلاف جنگ اسی اصول کے تحت کی تھی حالانکہ وہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ یعنی کلمہ پڑھتے تھے ۔ نماز ادا کرتے تھے ۔ اس لئے جو شخص شریعت کی اطاعت کا انکار کردے اور اسے اپنی زندگی میں نافذ نہ کرے وہ مسلم نہیں رہتا ۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ اللہ اور رسول اللہ کی جانب سے سود خوروں کے خلاف اعلان جنگ توپ وتفنگ کی جنگ سے عام ہے ۔ جو ایک امام وقت کسی قوت کے خلاف کرتا ہے۔ یہ اعلان جنگ ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر اس معاشرے کے خلاف ہے جو اپنے اقتصادی نظام کی اساس سود پر رکھتاہو ، یہ جنگ ہمہ گیر اور خوفناک جنگ ہے ۔ یہ اعصاب کی جنگ ہے ۔ یہ دلوں کی جنگ ہے ۔ یہ خیر و برکت اور خوشحالی کے خلاف ربا کی جنگ ہے ۔ یہ سودی نظام کی جانب سے انسانیت کی سعادت اور خوشحالی اور اطمینان کے خلاف جنگ ہے ۔ یہ انسان کی کشاکش اور ایک دوسرے کے تعاقب کی جنگ ہے ۔ آخرکار یہ جنگ اقوام اور امم کے درمیان افواج اور اسلحہ کی جنگ ہے ۔ یہ ایک ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ ہے اس کرہ ارض پر اس لئے برپا ہوتی ہے کہ یہاں کا نظام اصول ربا پر مبنی ہوجاتا ہے ۔ اور جس کی وجہ سے اس زمین سے خیر و برکت ختم ہوکر رہ جاتی ہے اور خوشحالی ناپید ہوجاتی ہے ۔ یہ تمام جنگیں اور کشمکشیں ان سرمایہ داروں کی جانب سے برپا کی جاتی ہیں جو پوری دنیا کے سرمایہ پر قابض ہوتے ہیں ۔ اور ان جنگوں کے شعلے بھڑکاتے ہیں ۔ کبھی وہ یہ کام براہ راست کرتے ہیں اور کبھی بالواسطہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے دام تزویر میں کارخانوں اور کمپنیوں کو پھانس لیتے ہیں ۔ اس کے بعد اقوام اور حکومتیں ان کے دام میں شکار ہوتی ہیں ۔ اس کے بعد یہ حکومتیں ، اپنے شکار پر جھپٹتی ہیں اور یوں ان کے درمیان جنگ شروع ہوجاتی ہے ۔ کبھی یہ حکومتیں اپنے مفادات اور سرمائے کو بچانے کے لئے دوڑتی ہیں اور اپنی فوجی قوت میدان میں لاتی ہیں اور یوں میدان جنگ کے شعلے بھڑک ہیں ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ عوام الناس ٹیکس اور حکومتی واجبات ادا کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں ۔ عوام میں غربت عام ہوجاتی ہے ۔ محنت کار اور جفاکش لوگ تنگ آکر ایسی تحریکات سے وابستہ ہوجاتے ہیں جن کا مشن تخریب کاری اور تباہی پھیلانا ہوتا ہے ۔ اور یوں کسی بھی علاقے میں عوامی جنگ شروع ہوجاتی ہے ۔ اور اس سودی نظام کے تحت جو کشمکش برپا ہوتی ہے۔ اس کے عام بسہولت برآمدہونے والے نتائج یہ ہوتے ہیں کہ لوگوں کے نفوس خراب ہوجاتے ہیں ۔ اخلاقی تباہی پھیل جاتی ہے ۔ لوگوں میں عیاشی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور انسانیت کا ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ جاتا ہے۔ اور انسان کی روحانی دنیا ایسی تباہی کا شکار ہوتی ہے کہ اس جیسی تباہی انسان کے جسم کو کسی ایٹمی جنگ سے بھی نہیں پہنچ سکتی ۔ یہ جنگ جس کا اعلان سودی کاروبار کرنے والوں کے خلاف کیا گیا ہے ۔ ہر وقت اس کے شعلے بلندہوتے ہیں ۔ آج بھی یہ ہر طرف برپا ہے ۔ گم کردہ راہ انسانیت کا رطب دیا بس اس کی نظر ہورہا ہے ۔ لیکن یہ انسانیت اس کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔ انسانیت یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ دولت کمارہی ہے ۔ وہ ترقی کررہی ہے ۔ وہ بڑی کثرت سے مادی نتائج پیدا کررہی ہے ۔ متنوع مصنوعات تیار ہورہی ہیں ۔ لیکن یہ پیداوارہی اس کے لئے تباہی ہے ۔ یہی پیداوار اگر کسی پاک اور غیر سودی نظام سے ہوتی تو یہ انسانیت کیلئے نیک بختی اور خوشحالی کا سبب ہوتی ۔ لیکن یہ پیداوار سود کے ناپاک اور آلودہ نظام کے نتیجے میں سامنے آتی ہے ۔ اس لئے یہ انسانیت کے لئے ایک ایسا بوجھ ہے جس کے نتیجے میں انسانیت کا دم گھٹ رہا ہے ۔ جبکہ سود خوروں کا علمی گروہ عیش و آرام سے زندگی بسر کررہا ہے ۔ اور اسے اس پوری انسانیت کی مصیبتوں اور رنج والم کا کوئی احساس ہی نہیں ہورہا ہے ۔ اسلام نے پہلی اسلامی جماعت کو اس بات کی دعوت دی اور آج پوری انسانیت کو اس بات کی دعوت دے رہا ہے کہ وہ پاک و صاف ذریعہ آمدن اختیار کریں اور وبائی سودی نظام سے تائب ہوکر راہ راست اختیار کریں وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ................ ” اب بھی توبہ کرلو تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو ۔ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔ “ یہ ایک معصیت سے توبہ ہے ، ایام جاہلیت میں رائج خطاکاری سے رجوع ہے ۔ اور جاہلیت کا تعلق کسی خاص زمانے سے نہیں ہوتا یا کسی خاص نظام ہی پر جاہلیت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جاہلیت کی حقیقت یہ ہے انسان الٰہی نظام زندگی سے منحرف ہوجائے جب بھی یہ انحراف ہو اور جہاں بھی ہو ، وہ جاہلیت ہوگی ۔ ربا ایک ایسی خطاکاری ہے جس کے اثرات انسان کے تصور حیات ، انسان کے اخلاق اور انسان کے شعور پر چھاجاتے ہیں ۔ پھر اس کے اثرات سوسائٹی پر اور سوسائٹی کے اجتماعی تعلقات پر پڑتے ہیں ۔ پوری انسانی زندگی پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اقتصادی نشوونما اور ترقی پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اگرچہ وہ لوگ جو سودی کاروبار کرنے والوں کے جھانسے میں آچکے ہیں ، یہ سمجھتے ہیں کہ سودی نظام اقتصادیات وہ واحد نظام ہے جو نشوونما اور اقتصادی ترقی کا اہل اور سبب ہے۔ صرف اصل زر کی واپسی کا حق دینا ایک ایسا قاعدہ ہے جس کی رو سے نہ قرض دہندہ کو نقصان ہے اور نہ ہی قرض گیرندہ پر ظلم ہے ۔ رہی یہ بات کہ دولت میں اضافہ کیسے کیا جائے گا تو اس کے وسائل وذرائع علیحدہ ہیں ۔ جو ربا سے پاک وصاف ہیں ۔ اس کا پہلا ذریعہ ایک فرد کی ذاتی جدوجہد ہے ۔ دوسرا ذریعہ بطریقہ مضاربت باہم شراکت اموال ہے ۔ یعنی ایک شخص سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا اس کے ساتھ کاروبار کرے اور دونوں فائدے اور نقصان میں شریک ہوں ۔ نیز اقتصادی ترقی ان کمپنیوں کے ذریعہ بھی ممکن ہوگی جو اپنے حصص براہ راست بازار حصص میں فروخت کرتی ہیں ۔ (ماسوائے تاسیسی سندات کے جن کے ذریعہ زیادہ نفع سمیٹ لیا جاتا ہے۔ ) اور حلال اور جائز کاروبار سے منافع حاصل کرتی ہیں ۔ پھر ایسی رقومات سے بھی اقتصادی ترقی ممکن ہوگی جو بغیر منافع کے محض امانت کے طور پر بینکوں میں جمع ہوں گی ۔ اس طرح کہ ایسی رقومات کو بینک ، کمپنیوں ، صنعتوں ، تجارتی اور کاروباری مدات میں براہ راست استعمال کریں یا بالواسطہ ان میں شرکت کریں اور شرط یہ ہو کہ وہ اپنے لئے متعین منافع طے نہ کریں اور بینک اپنا منافع یا خسارہ ایک مقررہ نظام کے تحت ان لوگوں پر تقسیم کریں جو ان کے پاس اپنی امانتیں رکھتے ہیں ۔ اور بینک کو یہ اجازت ہو کہ وہ اپنی کاروباری مصروفیات کے عوض ایک مقرر اور معین منافع اپنے لئے رکھ لے ۔ غرض ان ذرائع اور وسائل کے علاوہ بھی اقتصادی ترقیات کے لئے مزید اور وسائل اور ذرائع بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں ۔ جن کی تفصیلات کا یہ موقع نہیں ہے ۔ اگر کسی قوم کا ایمان مضبوط ہو تو ایسے بیشمار وسائل پیدا کئے جاسکتے ہیں ۔ نیز نیت صاف ہوجائے اور پختہ ارادہ کرلیا جائے کہ ہم نے پاک اور صاف ذرائع سے وسائل رزق و ترقی حاصل کرنے ہیں اور گندہ اور ناپاک ذرائع پر لات مارنی ہے ۔ آخر میں قرآن کریم قرضوں کے بارے میں احکام کی ایک خاص شکل کو بیان کرتا ہے کہ اگر مدیون کے لئے قرضے کی ادائیگی ممکن نہ ہو ، اس کے لئے مشکلات ہوں تو اس کا حل یہ نہیں ہے کہ اس پر بذریعہ ربا قرضے کا اضافہ کردیا جائے ، بلکہ حل یہ ہے کہ اسے اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک اس کے حالات اچھے نہیں ہوجاتے ۔ اور جو شخص زیادہ بھلائی سمیٹنا چاہے اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ سرے سے قرضہ ہی معاف کردے ۔ اسلام کی نظر میں یہی بلند مرتبہ ہے ۔
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

تمہارا قرض دار تنگ دست ہو تو ہاتھ کھلنے تک اسے مہلت دو اور جو صدقہ کردو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم سمجھو ۔ “

یہ وہ خوشگوار دادوہش ہے جسے اسلامی نظام انسانیت کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ وہ یہ گھنی چھاؤں ہے جس میں ، خود غرضی ، لالچ ، بخل اور مفاد پرستی کی تپش میں تھکی ماندی انسانیت پناہ لیتی ہے اور سکون کا سانس لیتی ہے ۔ یہ قرضدار کے لئے بھی رحمت ہے اور قرض خواہ کے لئے بھی رحمت ہے ۔ اور اس پورے معاشرہ کے لئے بھی رحمت و شفقت ہے ۔ جس میں یہ دونوں رہتے ہیں ۔ ہمیں یقین ہے دور حاضر کی مادی جاہلیت کے زیر سایہ پلنے والے جدید مفلوک الحال لوگ ہماری یہ باتیں لایعنی تصور کریں گے اور یہ باتیں انہیں نامعقول نظر آئیں گی ۔ ان کے منہ کا بگڑا ہوا ذائقہ ، ان باتوں کے مٹھاس کا احساس ہر گز نہیں کرسکتا ۔ خصوصاً وہ وحشی سود خوارجو اس کرہ ارض کے کونے کونے پر پھیلے ہوئے ہیں ۔ جو اپنے شکار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔ جو ایسے محتاجوں اور مفلوک الحال لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ چکے ہیں ۔ جو روٹی کپڑے اور علاج معالجے کے ضرورت مند ہیں ۔ تاکہ ان کا استحصال کریں ۔ بعض اوقات ان کے پاس اس قدر رقم نہیں ہوتی کہ وہ اپنے مردے دفن کرسکیں اور ان لوگوں کو اس کنجوس اور بخیل دنیا میں کوئی نہیں ملتا ۔ جو ان کے لئے بےلوث معاون ثابت ہو ۔ اس لئے وہ مجبور ہوکر ان وحشی سودخوروں کے جال میں پھنس جاتے ہیں ۔ ان کی حالت ایک ایسے شکار جیسی ہوتی ہے جو خودچل کر دام میں اپنے آپ کو پھنساتا ہے ۔ ضرورتمندی اور مجبوری انہیں دھکیل کر ان سودخوروں کی طرف لے جاتی ہے ۔ بعض اوقات یہ سود خور تو ایسے بیت المالوں کی صورت میں منظم ہوتے ہیں جو سرمایہ فراہم کرتے ہیں اور بعض اوقات بینکوں کی شکل میں کام کرتے ہیں ۔ یہ سب کے سب اسلام کی نظر میں برابر ہیں ۔ ہاں فرق صرف اس قدر ہے کہ ان کی پشت پر سود کی اقتصادی نظریات کی قوت ہوتی ہے ۔ بڑی بڑی علمی کتابیں ان کے اس کاروبار کی تائید میں ہوتی ہیں ۔ بڑے بڑے تعلیمی ادارے اور انسٹی ٹیوٹ ان کی حمایت میں لگے ہوتے ہیں ۔ عدالتیں اور بڑی بڑی فوجیں اس نظام کی مؤید ہوتی ہیں ۔ یہ تمام ادارے جرم سود خوری کے لئے جواز فراہم کرتے ہیں ، ان کے حامی ان کو تحفظ دینے کے لئے ایک وسیع قانونی نظام اور ضابطے کا کررہے ہوتے ہیں اور مددگار ہوتے ہیں ۔ اور جو لوگ انہیں سود ادا نہیں کرتے ۔ اس قانونی نظام کے ذریعہ وہ ان کی پکڑ دھکڑ شروع کردیتے ہیں ۔ اور یہ سب داروگیر نصاف کے نام پر ہوتی ہے ۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ہماری یہ باتیں ہرگز ایسے لوگوں کے دلوں میں نہیں اترتیں ۔ لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ حق ہے اور ہمیں بھی یہ یقین ہے کہ تمام انسانیت کی فلاح اسی میں ہے کہ وہ ان باتوں پر کان دھرے ، اور ان پر عمل کرے یعنی وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ................ ” تمہارا قرضدار اگر تنگ دست ہو تو ہاتھ کھلنے تک اسے مہلت دو ، اور جو صدقہ کرو تمہارے لئے یہ بہتر ہے ۔ اگر سمجھو۔ “ اسلامی نظام زندگی میں ضابطہ یہ ہے کہ تنگ دست کا تعاقب نہ کیا جائے ۔ نہ تو قرض خواہ یہ کرے گا اور نہ ہی قانون اور عدالتوں کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ تنگ دست مقروض کا تعاقب کریں ۔ بلکہ اسے اس وقت تک مہلت دی جائے گی جب تک اس کے حالات اچھے نہیں ہوجاتے ۔ پھر اسلامی سوسائٹی مقروض کو اپنے حال پر نہیں چھوڑتی ۔ پہلے تو قرض خواہ سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اسے معاف کردے ۔ اگر وہ ایسا کرسکے ۔ وہ خود اس کے لئے بھی بہتر ہے اور مدیوں کے لئے بھی خیر ہے۔ یہ اس سوسائٹی کے لئے بھی بہتر ہے جو اپنے افراد کے لئے تکافل فراہم کرتی ہے ۔ بشرطیکہ داین ومدیون دونوں اس بات کو سمجھیں کہ اللہ کے علم میں جو کچھ ہے وہ ان کے لئے مفید ہے ۔ اگر قرض خواہ کو یہ اجازت دیدی جائے کہ وہ مدیون پر عرصہ حیات تنگ کردے اور اس کا تعاقب کرے تو اس صورت میں تحریم ربا سے جو فوائد مطلوب تھے ، وہ سب فوت ہوجائیں گے ۔ اس لئے کہ مدیون تنگ دست ہے اس کے پاس کچھ نہیں ۔ دوسری جانب سے قرض خواہ ازروئے قانون اسے تنگ کرنے کا مجاز ہے ۔ چناچہ یہاں شرط و جواب شرط کی شکل میں یہ حکم دیا گیا کہ اگر تنگ دست ہے تو اسے اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک اس کے مالی حالات اچھے نہیں ہوجاتے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تنگدستی کی صورت میں قرض خواہ کو یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ اگر وہ ایسی صورت میں کچھ معاف کردے یا سب کچھ معاف کردے تو اس کے لئے یہ بہت اچھا ہے ۔ مہلت کے علاوہ قرآن کریم نے دوسری جگہ ایسے نادار قرض داروں کے لئے زکوٰۃ فنڈ سے بھی ایک مد فراہم کی ہے ، تاکہ وہ اپنا قرضہ ادا کرسکے ۔ اور اس کی زندگی کا بوجھ اترجائے۔ اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلفُقرَآءِ وَالمَسَاکِینِ........ وَالغَارِمِینَ................” بیشک صدقات کے حق دار فقراء مساکین ،........ اور قرضدار ہیں ۔ “ الغارمین سے مراد وہ قرضدار ہیں جو قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے ہوں ۔ وہ نہیں جنہوں نے قرضے لے کر عیاشی اور لذت پرستی کی ہو ۔ بلکہ انہوں نے جائز مدات میں اخراجات کئے ہوں یا وہ معقول وجوہ کی بنا پر قرضدار ہوگئے ہوں ۔ اور ان کے حالات خراب ہوگئے ہوں۔ اب آخر میں قرآن کریم ۔ خاتمہ کلام پر ، ایک نہایت موثر اور گہرا اشارہ دیتا ہے جس سے ایک مومن پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ۔ وہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ کاش وہ سب ہی قرضہ معاف کردے ۔ اور قیامت کے دن اللہ کے ہاں فلاح پالے ۔
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اس دن کی رسوائی اور مصیبت سے بچو ، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے ۔ وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔ “

یہ وہ دن ہوگا ، جس میں سب اللہ کی طرف لوٹیں گے اور ہر شخص کو اس کی کمائی پوری پوری دی جائے گی ۔ وہ دن بڑا مشکل ہوگا۔ اس دن کی بابت دل مسلم میں بڑا خوف پایا جاتا ہے ۔ مومن کے ضمیر کی گہرائیوں میں شاید قیامت کا نقشہ اور اس کی ہولناکیاں موجود ہوتی ہیں ۔ اس لئے کہ باری تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا تصور ہی اس قدر خوفناک ہوتا ہے کہ اس سے انسان کا پورا وجود کانپ اٹھتا ہے ۔ یہ خاتمہ کلام ایسا ہے جو مذکورہ معاملات کی فضا کے ساتھ متناسق ہے ۔ یہ فضا لینے اور دینے کی فضا ہے ۔ کسب اور جزاء کی فضا ہے ۔ اس فضا میں انسان کی پوری زندگی کا تصفیہ ہورہا ہے ۔ انسان کی پوری زندگی کے فیصلے کی فضا ہے ۔ اس فضا سے دل مومن خائف ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس کی ہولناکیوں سے بچاتا ہے ۔ تقویٰ اور خدا خوفی وہ چوکیدار ہے جو انسانی ضمیر کی گہرائیوں میں بیٹھا ہوتا ہے ۔ اسلام ہر مومن کے دل کی گہرائیوں میں یہ چوکیدار بٹھا دیتا ہے۔ تاکہ دل مومن کے فرار کی کوئی راہ ہی نہ رہے ۔ یہ ہے اسلامی نظام جو ایک مضبوط اور قوی نظام ہے ۔ یہ ایک سنجیدہ اور زندگی سے بھرپور نظام زندگی ہے اور ایسا نظام ہے جو اس کرہ ارض پر عملاً چلنے کے قابل ہے ۔ انسانیت کے لئے یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ورأفت ہے ۔ یہ انسانیت کے لئے ایک اعزا ہے ۔ یہ ایک ایسی بھلائی ہے جس سے انسانیت کو دور رکھا جارہا ہے ۔ اور اللہ کے دشمن اور انسانیت کے دشمن انسانوں کو اس کی طرف آنے سے روکتے ہیں۔
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے لوگوجو ایمان لائے ہو ، جب کسی مقررہ مدت کے لئے تم آپس میں قرض کا لین دین کرو ، تو اسے لکھ لیا کرو ۔ فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو اسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہئے ۔ اور املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے اور اسے اللہ ، اپنے رب سے ڈرنا چاہئے کہ جو معاملہ طے ہوا اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے ۔ لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو ، یا املا نہ کرسکتا ہو ، تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے پھر اپنے مردوں میں سے دوآدمیوں کی اس پر گواہی کرالو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے ۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہئیں ، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہوگواہوں کو جب گواہ بننے کے لئے کہا جائے تو انہیں انکار نہ کرنا چاہئے معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، معیاد کی تعین کے ساتھ ساتھ اس کی دستاویز لکھوالینے میں تساہل نہ کرو ۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لئے زیادہ مبنی بر انصاف ہے ۔ اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے اور تمہارے شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو ، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں ، مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کرلیا کرو۔ “ کاتب اور گواہ کو نہ ستایا جائے ۔ ایساکروگے تو گناہ کا ارتکاب کروگے ۔ اللہ کے غضب سے بچو ۔ وہ تم کو صحیح طریق عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ “

درس 21 ایک نظر میں درس سابق کا موضوع سودخوری اور صدقہ تھا ، اس درس میں اسی موضوع کے تکمیلی احکام بابت قرضہ جات ، تجارت وغیرہ کا ذکر ہے ۔ درس سابق میں سودی کاروبار کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ اسی طرح وہاں سودی قرضہ جات اور سودی نظام تجارت اور بیع وشراء کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ قرض حسن ، جس میں ربا کا کوئی شبہ نہ ہو ، جس پر کوئی سودی منافع عائد نہ ہو ، کی بات ہورہی ہے ۔ ان تجارتی امور پر بحث ہورہی ہے جو دستی طور پر طے ہوتے ہیں اور جن میں کسی قسم کے سودی نفع کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ اس درس پر ایک نظر ڈال کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم قانون سازی کے لئے جو انداز تعبیر اختیار کرتا ہے وہ حیران کن انداز ہے ۔ قانون مدعی کو اس باریک بینی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ اس میں کسی لفظ کو بدل کر دوسرا لفظ اس کی جگہ نہیں رکھا جاسکتا ۔ کوئی فقرہ نہ بدلاجاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے ۔ اس خالص قانونی انداز تعبیر کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی خوبصورت ادیبانہ طرز ادا اور الفاظ کی خوشگواری اور مٹھاس اور روانی میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ قانونی مدعا دینی وجدان کے رنگ میں بیان ہوتا ہتے ۔ جو بہت ہی لطیف انداز میں اور نہایت ہی اثر آفرینی کے ساتھ اور بہترین طرز کے ساتھ جبکہ اس آیت کے ربط میں بھی کوئی خلل نہیں آتا ۔ اور مکمل قانونی مدعا بھی بیان ہوجاتا ہے ۔ اس میں معاہدہ کرنے والے فریقین کے درمیان جو جو احتمالات ہوسکتے ہیں ، جو جو موقف بھی ہوسکتا ہے ، لکھنے والوں کی ذمہ داری ، گواہوں کی ذمہ داری وغیرہ سب امور کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ غلط طور پر اثر انداز ہونے والے تمام عوامل کی نفی کردی گئی ہے ۔ اور ہر ممکن صورت کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں ۔ بیان مدعا میں ایک قانونی نکتے سے دوسرے قانونی نکتے کی طرف منتقل ہونے سے پہلے اسے مکمل طور پر بیان کردیا جاتا ہے۔ جسے دوبارہ نہیں دہرایا جاتا ۔ الایہ کہ اسکے اور جدید نکتے کے درمیان کوئی خاص تعلق ہو ۔ اس صورت میں پہلے بیان کردہ قانونی نکتے کے ساتھ اسے جوڑ دیا جاتا ہے اور اشارہ کردیا جاتا ہے۔ قرآن کریم جس طرح اپنی قانون سازی کے لئے انتخاب الفاظ وفقرات میں اعجاز رکھتا ہے ، اسی طرح وہ انسان کی ہدایت اور راہنمائی کے سلسلے میں نازل ہونے والی آیات میں بھی صاحب اعجاز ہے ۔ بلکہ قانونی عبارات میں اس کا اعجاز عام آیات سے بھی زیادہ واضح اور حیران کن ہے ۔ یہاں کوئی بھی قانونی مدعا اور اصول ایسے لطیف اور ٹیکنیکل پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے کہ کسی ایک لفظ کو بھی کسی دوسرے لفظ سے بدل کر وہ مدعا حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کسی لفظ کی جگہ کوئی دوسرا لفظ نہیں لے سکتا ۔ اگر قرآن مجید معجزہ نہ ہوتاتو خالص قانونی تعبیرات میں ، اس طرز ادا کے ساتھ ، کالص ادبی اور فنی پیرایہ اظہار میں کلام نہ کیا جاسکتا ، جس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔ ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے ۔ دیوانی ، شہری ، اقتصادی اور تجارتی معاملات میں دور جدید سے بھی تقریباً ایک ہزار سال پہلے قرآن کریم نے یہ قانون سازی کی ہے ۔ جسے تمام جدید ماہرین قانون تسلیم کرتے ہیں اور فقہاء اور محدثین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم اس معاملے میں سرخیل ہے ۔ یہ ایک عام قانون ہے اس آیت میں طے کیا گیا ہے ۔ اس آیت کی رو سے کسی معاہدے کا لکھنا نہایت ہی ضروری ہے ۔ اور اگر کسی قرضے کا معاملہ ہو اور اس قرضے کے سلسلے میں کوئی معیاد مقرر ہو تو اس صورت میں اس کا تحریر میں آنا فرض ہے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ تحریر میں نہ لائے ۔ اور اس کی حکمت بھی اس آیت کے آخر میں بیان کردی گئی ہے ۔ یہاں اس شخص کو بھی متعین کردیا گیا جو ان قرضہ جات کے سلسلے میں دستاویز تیار کرے گا۔ مثلا عرضی نویس ، یہ ایک تیسرا شخص ہوگا ۔ فریقین میں سے کوئی نہ ہوگا۔ کسی معاملے میں فریقین معاہدہ کے علاوہ تیسرے شخص کو بلانا ، محض زیادہ احتیاط کے لئے ہے تاکہ کوئی شک نہ رہے ۔ پھر کاتب کو بھی یہ حکم دیا گیا کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ لکھے گا ۔ فریقین میں سے کسی کی طرفداری نہ کرے گا۔ عبارت میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرے گا۔ اس لئے کہ لکھنے کا حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے یعنی کاتب کو بھی اللہ کی جانب سے حکم دیا جارہا ہے ۔ تاکہ وہ پیچھے نہ ہٹے ۔ لکھنے سے انکار نہ کرے اور لکھنے کا یہ کام اس کے لئے ایک بوجھ نہ ہو ۔ یہ تو اب اللہ تعالیٰ کی جانب سے منصوص فریضہ ہے ۔ اور ازروئے قانون یہ لکھنے والی کی ڈیوٹی ہے ۔ اور اس کا معاوضہ بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ۔ لکھنے کا عمل اس کی جانب سے اللہ تعالیٰ کے ہاں شکر نعمت ہے ۔ اللہ ہی ہے جس نے اپنا فضل کرکے اسے لکھنے کا فن سکھایا ۔ اس لئے اسے معاہدات کو تحریر میں لانا چاہئے کیونکہ اللہ ہی نے اسے یہ علم دیا ہے۔ یہاں تک شارع نے معیادی قرضے کو تحریر میں لانے کی قانونی دفعہ کو ختم کردیا۔ یہ بھی متعین کردیا گیا کہ لکھنے کی ڈیوٹی کون سر انجام دے گا ۔ اس پر یہ فریضہ عائد کردیا گیا کہ وہ لکھے ، اسی اثناء میں کاتب کو یہ بھی یاددلایا گیا کہ وہ اس ضمن میں اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرے ۔ اشارہ اس طرف ہے کہ صاحب فن ہونے کی وجہ سے اس کا فرض ہے کہ وہ لکھنے میں عدل و انصاف کے دامن کو تھامے رکھے۔ اس پہلہ دفعہ کی تکمیل کے بعد اب دوسری دفعہ کیفیت تحریر کے بارے میں ہے ۔ مدیون ، جس پر حق آرہا ہو ، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ دستاویز املاء کرائے ۔ قرضے کا اعتراف کرے ۔ قرضے کی مقدار لکھوائے ۔ اس کی شرائط طے کرے اور نوٹ کرائے اور اس کی میعاد لکھوائے ۔ یہ اس لئے کہ مدیوں کے ساتھ تحریر وستاویز میں کوئی زیادتی نہ ہوجائے ۔ کیونکہ اگر قرض فراہم کرنے والا دستاویز طے کرائے تو وہ شرائط یاقرضے میں اضافہ کرسکتا ہے ۔ میعاد میں کمی بیشی کرسکتا ہے ۔ یا اپنی مصلحت ومفاد کے لئے کچھ شرائط اس میں لکھ سکتا ہے ۔ اس لئے قرض لینے والا کمزور پوزیشن میں ہوتا ہے ۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ، دائن کی املاء کی اس مخالفت کرنے کی جراءت نہ کرسکے ۔ اس لئے کہ وہ سودا ہر صورت میں کرنا چاہتا ہے اور اسے سخت ضرورت ہے اور اس صورت میں دائن املاء کرکے اس کے ساتھ زیادتی کرے ۔ لیکن خود اگر مدیون دستاویز لکھوا رہا ہو تو وہ اپنی بات لکھوائے گا ، جو اس نے بطیب نفس قبول کی ہو ۔ ایسی صورت میں اس کا اقرار زیادہ قوی اور مضبوط ہوگا ۔ کیونکہ اس نے خود تحریر کو املاء کیا ہوتا ہے ۔ لیکن ساتھ ساتھ مدیوں کے ضمیر کو بھی بیدار کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ خوفی کو پیش نظر رکھے ۔ اور اس کے ذمے جو قرض ہے ۔ اس میں سے کسی چیز کو بھی کم نہ کرے ۔ اور نہ ہی اس دستاویز کی ضروری شرائط میں سے کسی ایک کو ترک کرے ۔ اگر مدیون نادان ہو ، اپنے معاملات کو اچھی طرح طے نہ کرسکتا ہو ، یا وہ ضعیف ہو یعنی عمر میں کم ہو یا ضعیف العقل ہو ، یا کسی اور عذر کی وجہ سے وہ املا نہ کرسکتا ہو یعنی ان پڑھ ہے ، جاہل ہے ۔ یا اس کی زبان میں کوئی لکنت وغیرہ ہے ۔ یا کوئی محسوس یا معقول سب ہو ، تو اس صورت میں اس کا ولی الامر یہ کام کرے اور اس ولی الامر کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ بھی فریقین کے ساتھ انصاف اور عدل سے معاملہ کرے ۔ یہاں عدل کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ بعض اوقات ولی الامر بھی لاپرواہی کرسکتا ہے ۔ اس لئے کہ قرضے کا تعلق اس کی ذات سے نہیں ہے تاکہ وہ اس تحریر میں تمام مفادات اور گارنٹیوں کو ضابطہ بند کردے ۔ اور یہ معاہدہ صحیح طور پر طے ہوجائے۔ یہاں آکر تحریری معاہدہ کے سلسلے میں بات ختم ہوجاتی ہے اور تحریر معاہدہ بابت قرضہ جات کے تمام پہلوؤں پر بحث مکمل ہوجاتی ہے ۔ اور اب معاہدے کے دوسرے ضروری جزء پر بات ہوتی ہے ۔ یعنی گواہان دستاویزات (Margucl Witnessess) ہر معاہدے ہر دوگواہوں کی شہادت ضروری ہے ۔ اور وہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں جن کی گواہی مقبول ہو ۔ ترضون کے دومفہوم ہیں ۔ ایک یہ کہ گواہ عادل ہوں اور امت میں ان کی شہادت کو قبولیت حاصل ہو۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ان کی شہادت پر معاہدے کے ہر دو فریق راضی ہو۔ لیکن بعض اوقات ایسے حالات ہوتے ہیں کہ شہادت میسر نہیں ہوتی اس لئے یہاں قانون میں یہ سہولت رکھ دی گئی ہے کہ اگر مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بن سکتی ہیں ۔ گواہی کا کام مردوں کے سپرد اس لئے کیا گیا ہے کہ ایک صحت مند اسلامی معاشرہ میں عموماً مرد ہی یہ کام کرتے ہیں ۔ کیونکہ اسلامی معاشرہ میں بالعموم ، عورت کو اپنی ضرریات زندگی کے لئے جدوجہد نہیں کرنی پڑتی ۔ وہ بحیثیت ماں اور بحیثیت صنف نازک اپنے فرائض سر انجام دیتی ہے ۔ اور اس کا سب سے بڑا فریضہ یہ ہے کہ وہ انسانیت کے سب سے بڑے سرمایہ یعنی بچوں کی پرورش اور تربیت کا کام کرے جو مستقبل کے نمائندے ہوتے ہیں اور ان بچوں کی قدروقیمت ان چند لقموں اور چند ٹکوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔ جو کوئی عورت اپنے عمل سے کماسکتی ہے ۔ جب کہ آج کے بےراہ اور محروم معاشرہ میں عورت کو مجبوراً اپنے ان فرائض کے ساتھ یہ کام بھی کرنا پڑتا ہے ، تو ایسے حالات میں اگر دو مرد گواہ نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بن جائیں ۔ سوال یہ ہے کہ ایک مرد کے مقابلے میں عورتیں دو کیوں رکھی گئی ہیں ؟ قرآن کریم نے اس بات کو مجمل نہیں چھوڑا ہے ۔ اس لئے کہ قانون سازی کے میدان میں ہر عبارت واضح ، متعین اور قانون سازی کے اصل سبب پر مشتمل ہونا چاہئے۔ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الأخْرَى................ ” تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے۔ “ سوال یہ ہے کہ عورت بھولتی کیوں ہے ؟ اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں کبھی یہ سبب ہوسکتا ہے کہ عورتوں کو عموماً معاہدات کے میدان میں زیادہ تجربہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ کسی معاہدے کے حالات اور شرائط پوری طرح اس کے ذہن میں نہ بیٹھے ہوں ۔ اور وہ مقدمہ بازی کے وقت ان کے بارے بالکل اچھی طرح شہادت نہ دے سکتی ہو ۔ اس لئے سہولت کے لئے دوسری عورت کو ساتھ رکھا گیا تاکہ شہادت کے وقت وہ اسے اصل بات یاد دلادے ۔ اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور موضوع متازعہ کے اصل حالات کو ذہن میں لاسکیں ۔ کبھی اس بھول سبب یہ ہوتا ہے کہ عورت بہت زیادہ منفعل مزاج ہوتی ہے ۔ عورت کی مامتا اور اس کی جسمانی اور عضویاتی اور طبیعاتی وظائف کا بھی یہ اہم تقاضا ہے کہ عورت منفعل ہو ۔ جلد لبیک کہنے والی ہو تاکہ وہ بچے کی نشوونما کے سلسلے میں اپنے طبیعی فرائض اچھی طرح سر انجام دے سکے ۔ یہ فرائض ایسے ہیں جو کسی بھی عورت کی شخصیت سے جدا نہیں کئے جاسکتے ۔ عورت پر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا کرم ہے اور اسی طرح پیدا ہونے والے بچے پر بھی اللہ کی رحمت ہے ۔ اس لئے عورت کا یہ مزاج کسی بھی وقت اس کی شخصیت سے جدا نہیں ہوسکتا ۔ اس کی اپنی شخصیت ہے اور اپنا مزاج ہے بشرطیکہ عورت صحت مند ہو اور اس کی شخصیت کو بگاڑ نہ دیا گیا ہو ۔ جبکہ معاہدات جیسے پیچیدہ معاملات اور ان معاملات میں شہادت دینا ایک ایسا فریضہ ہے ۔ جس میں کسی شخص کا اپنے موقف پر جمارہنے اور کسی بات سے متاثر نہ ہونا ایک ضروری امر ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ گواہ ایک حقیقت سے اچھی طرح واقف ہو اور ثابت قدم ہو ۔ ایسے مواقع پر دو عورتوں کا بیک وقت شہادت دینا اس بات کی ضمانت ہے کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے ۔ جبکہ وہ بھول اور فطری انفعال کی وجہ سے غلط ہورہی ہو ۔ اس طرح یاد دہانی کے بعد وہ اصلی واقعہ کی طرف لوٹ آئے گی ۔ آغاز آیت میں جس طرح لکھنے والوں کو یہ کہا گیا تھا کہ وہ لکھنے سے انکار نہ کریں ۔ اب گواہوں سے بھی کہا جاتا ہے کہ جب انہیں شہادت کے لئے بلایاجائے تو وہ شہادت حق دینے سے انکار نہ کریں ۔ گویا شہادت دینا ایک فریضہ ہے ، محض نفل اور غیرلازم کام نہیں ہے ۔ اس لئے کہ احقاق حق اور قیام عدل کا اہم ذریعہ شہادت حق ہے ۔ چونکہ یہہ فریضہ اللہ تعالیٰ نے عائد کیا ہے اس لئے اسلامی نظام عدل میں گواہ اپنی دلی رضا ، شعوری آمادی کے ساتھ شہادت دینے کے لئے آئیں گے اور وہ بغیر کسی نقصان دہی یا ہچکچاہٹ کے شہادت کے لئے آئیں گے ۔ اسی طرح وہ فریقین مقدمہ میں سے کسی پر کوئی احسان بھی نہ کررہے ہوں گے ۔ چاہے وہ ایک فریق کی طرف سے بلائے گئے ہوں یا دونوں کی طرف سے بلائے گئے ہوں۔ یہاں شہادت کی بات ختم ہوجاتی ہے ۔ اس لئے شارع اب ایک دوسرے اہم معاملے کے سلسلے میں ہدایات دیتے ہیں ۔ یہ ایک عام ہدایت ہے ۔ اس میں تحریر کی تاکید کی گئی ہے ۔ معاملہ چھوٹا ہو بڑا ہو ۔ بعض اوقات ایک انسان یہ بات سوچ کر کہ قرضہ تھوڑا ہے یا معاملے کی اتنی اہمیت زیادہ نہیں ہے ۔ وہ لکھنے میں سستی کرتا ہے ۔ یا بعض اوقات بعض دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان لکھنے میں کوتاہی کرلیتا ہے ۔ مثلاً شرم وحیاء ، سستی اور تن آسانی ، لاپرواہی اور عدم مبالات وغیرہ ۔ چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ وجدانی اور عملی وجوہات کی بناپر لکھنے اور تحریر میں لانے کو ضروری قرار دیتے ہیں ۔ ” تساہل نہ کرو “ جب نفس انسانی یہ محسوس کرتا ہے کسی کام کی مشقت اس کی قدر و قیمت سے زیادہ ہے تو اس وقت نفس انسانی متاثر ہوکر وہ کام کرنے سے کتراتا ہے اور قرآن کریم اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہے ۔” یہ طریقہ تمہارے لئے زیادہ مبنی برانصاف ہے ۔ “ اس لئے کہ کسی معاملے میں زبانی شہادت کے مقابلے میں دستاویزی شہادت کی اساس پر زیادہ سہولت کے ساتھ انصاف کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ زبانی شہادت کا دارومدار صرف حافظہ پر ہوتا ہے ۔ اسی طرح دومردوں یا دو عورتوں کی شہادت بمقابلہ ایک مرد یا ایک عورت کے زیادہ قوی ہے ۔ اور شکوک و شبہات میں مبتلاہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے ۔ اس صورت میں شک کی گنجائش کم سے کم ہوجاتی ہے ۔ یعنی معاہدہ کے اندر مشمولہ بیانات میں شک نہ رہے ۔ یا تمہارے نفوس کے اندر شک نہ رہے یا دوسرے لوگوں کے اندر شک نہ رہے ۔ یہاں شک کو عام رکھا گیا ہے ۔ یعنی کسی پہلو میں بھی شک نہ رہے ۔ یوں ان اقدامات کی حکمت آشکارا ہوجاتی ہے ۔ اور معاملہ کرنے والے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جو قانون سازی فرمائی ہے وہ نہایت ہی حکیمانہ ہے اور اس کے مقاصد بہت ہی گہرے ہیں اور نہایت ہی عملی ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ معاملات کے اندر صحت ، یقین ، اطمینان اور اعتبار قائم ہو۔ یہ احکام اس قرض کے بارے میں ہیں ، جو معیادی قرض ہو ، رہی وہ تجارت جو ہم روز مرہ کے معمولات کے مطابق کرتے ہیں ، تو روزمرہ کے معاملات میں یہ حکم نہیں ہے کہ انہیں لازماً ضابطہ تحریر میں لایاجائے ۔ اس میں گواہوں کی شہادت ہی کافی ہے ۔ اس لئے کہ ہر کام میں معاہدے اور تحریر کے لازم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی ۔ اس لئے کہ روزمرہ کی تجارتی سرگرمیاں بڑی تیزی سے اور مختصر وقت صرف کرکے کی جاتی ہیں ۔ اسلام قانون سازی انسانی زندگی کی بہتری کے لئے کرتا ہے۔ وہ انسانی زندگی کے تمام حالات کے پیش نظر رکھ کر قانون بناتا ہے ۔ وہ ایک عملی نظام قانون ہے ، جس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے ۔ نہ اس قانون کی وجہ سے زندگی کی پرسکون رفتار میں کمی آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ بظاہر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عام معاملات تحریر نہ کرنا رخصت ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ کتابت واجب ہے ۔ اور لازمی ہے ۔ بعض روایات میں یہ بھی ذکر ہے کہ ہر معاملے کی کتابت مستحسن ہے ۔ لازمی نہیں ہے ۔ لیکن راحج بات یہ ہے کہ کتابت معاملات لازمی ہے ۔ یہاں تک تو قانون سازی تھی اس قرضے کی بابت جس کی میعاد متعین ہو ، یا وہ تجارت جس کا تعلق روز مرہ لین دین سے ہو ، اور دونوں میں کتابت اور شہادت کو ضروری قراردیا گیا ہو ، لازماً یا بطور استحباب یہاں سے آگے اب کاتبوں اور گواہوں کے حقوق کا تعین کیا جاتا ہے۔ نیز ان کے فرائض کا بھی تعین کردیا جاتا ہے ۔ ان پر پہلا فریضہ یہ عائد ہوتا کہ سچائی اور لوگوں کے حقوق میں توازن پیدا ہو اور یہ لوگ بسہولت اپنے سوشل فرائض سر انجام دے سکیں ۔ بلاخوف وخطر ........ فرماتے ہیں۔ کسی لکھنے والے یا کسی گواہی دینے والے کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے ۔ محض اس وجہ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ، اس پر عائد کردہ فریضہ ادا کررہا ہے ۔ اگر تم ایسا کروگے تو یہ تمہاری جانب سے اللہ کے قانون کے خلاف بغاوت ہوگی اور اسلامی طریقہ حیات کی مخالفت ہوگی ۔ لہٰذا اسلامی ریاست کو چاہئے کہ وہ یہ تحفظ لازماً فراہم کرے ۔ کیونکہ کاتبین اور شاہد اکثر اوقات مقدمہ کے فریقین میں سے کسی ایک کے غیض وغضب کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے انہیں ایسے تحفظات اور ایسی ضمانتیں حاصل ہونی چاہئیں جن کی وجہ سے وہ مطمئن ہو کر اپنا فرض ادا کرسکیں ۔ بلکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو کہ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے اچھی طرح عہدہ برآ ہوسکیں اور شرح صدر کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے سکیں چاہے حالات کیسے ہی ہوں ۔ قرآن کریم کی یہ عادت ہے کہ وہ ہر وقت انسان کے ضمیر کا جگاتا رہے ، انسان کے دل میں یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار شخصیت ہے ۔ تاکہ اطاعت قانون کا جذبہ خود نفس انسانی کے اندر سے پیدا ہو ، اسلام صرف دفعات قانون کے دباؤ پر اکتفاء نہیں کرتا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اہل ایمان کو خدا خوفی کی دعوت دیتا ہے ۔ اور یہ بات تقریباً ہر مضمون کے خاتمہ پر کی جاتی ہے ۔ قرآن کریم اہل ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ یہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے تم پر اپنا فضل وکرم کیا ۔ وہی ہے جو تمہیں تعلیم دیتا ہے ۔ اور تمہاری راہ نمائی کرتا ہے ۔ اللہ خوفی سے ان کے دلوں کے دروازے معرفت الٰہیہ کے لئے کھل جاتے ہیں۔ ان کی روح علم حاصل کرنے کے لئے متوجہ ہوتی ہے ۔ اور یہ سب کچھ محض اس لئے ہے کہ وہ اللہ کے اس کے فضل وکرم کا شکرانہ ادا کرتے ہوئے اس کی اطاعت کریں ۔ اس سے راضی ہوں ، اور اس کی ذات پر مکمل بھروسہ کریں۔ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ” اللہ کے غضب سے بچو ، وہ تم کو صحیح طریق عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ “ اس کے بعد شارع قرضے کے احکام کی تکمیلی دفعات بیان کرتا ہے ۔ یہ احکام ذرا مؤخر اس لئے بیان کئے گئے ہیں کہ ان کا تعلق عام حالات سے نہیں ہے ۔ بلکہ بعض خاص حالات سے ان کا تعلق ہے ۔ مثلاً فریقین معاہدہ اگر سفر میں ہوں اور انہیں ایسا شخص نہ مل رہا ہو جو تحریر تیار کرے تو اللہ تعالیٰ نے بغیر تحریر کے زبانی معاہدہ کرنے کی بھی اجازت دے دی بشرطیکہ قبضہ موقعہ پر ہی دے دیا گیا ہو یعنی اس چیز کا قبضہ جو مقروض نے قرض خواہ کو بطور گارنٹی دینا ہو ۔ فرماتے ہیں۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اگر تم سفر کی حالت میں ہو ، اور دستاویز لکھنے کے لئے کوئی کاتب نہ ملے ، تو رہن بالقبض پر معاملہ کرو ۔ اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے ، تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہو ، اسے چاہئے کہ امانت ادا کرے اور اللہ ، اپنے رب سے ڈرے اور شہادت ہرگز نہ چھپاؤ اور جو شہادت چھپاتا ہے اس کا دل گناہ آلودہ ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہے ۔

لیکن اس ظاہری ضمانت کے ساتھ شارع اہل ایمان کے ضمیر کے اندر اللہ خوفی کا جذبہ پیدا کرکے انہیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ امانت دار بنیں ، اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، اس لئے کہ ظاہری ضمانت کے مقابلے میں اللہ خوفی وہ آخری ضمانت ہے جو کسی معاملے میں کارگر ثابت ہوسکتی ہے ۔ اور جس کی اساس پر کسی قانون پر صحیح طرح عمل کیا جاسکتا ہے۔ اور جس کی وجہ سے کسی حق دار تک اس کا حق اچھی طرح پہنچ سکتا ہے ۔ اور سب کے حقوق محفوظ ہوسکتے ہیں۔ مدیون پر بھروسہ کیا جاتا ہے کہ وہ قرضہ پوری طرح ادا کرے گا اور مقروض پر یہ اعتماد کیا گیا ہے کہ وہ مرہون چیز کو اپنی اصلی حالت میں واپس کرے گا ۔ دونوں کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ خدا خوفی کا رویہ اختیار کرکے اپنے اپنے فرائض سر انجام دیں ۔ اس لئے کہ اللہ ہی ہے جو ان دونوں کا رب ہے ۔ وہی دونوں کا نگہبان ، مربی ، سربراہ ، حکم اور قاضی ہے ۔ یہ تمام تصورات ، معاملات اور فرائض وذمہ داریوں کی ادائیگی کے معاملے میں بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ بعض مفسرین نے یہ کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے امانتداری کے معاملے میں آیت کتابت کو مسنوخ کردیا ہے ۔ لیکن یہ رائے درست نہیں ہے ۔ اس لئے کہ صرف حالت سفر میں معاملات کے اندر تحریر نہ کرنے کی رخصت ہے اور یہ امانت داری اور قرض مکفول کا تعلق بھی سفر کی حالت سے ہے اور سفر میں قرض خواہ اور قرض دار دونوں ہی ایک دوسرے پر بھروسہ کرکے معاملہ کرتے ہیں ۔ غرض تقویٰ و طہارت پر ابھارتے ہوئے یہاں شہادت کے سلسلے میں بات اختتام تک پہنچتی ہے ۔ اور یہاں شہادت سے مراد وہ شہادت نہیں ہے جو بوقت کتابت کسی تحریر پر ڈالی جاتی ہے بلکہ اس سے مراد ہو شہادت ہے جو عدالت میں دی جاتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ شہادت گواہ کے پاس ایک قسم کی امانت ہوتی ہے ۔ یہاں بات کی نسبت قلب مومن کی طرف کی جاتی ہے ۔ اور گناہ کا استناد قلب مؤمن کی طرف کیا جاتا ہے ۔ یوں شہادت کا چھپانا دراصل اپنے ضمیر میں گناہ کا چھپانا ہے ۔ دونوں باتوں کا تعلق دل و دماغ کی گہرائیوں سے ہے۔ چناچہ خاتمہ کلام ایک دہمکی آمیز فقرے سے کیا جاتا ہے۔ جس میں یہ توجہ دلائی جاتی ہے کہ اور وہ اپنے علم کے مطابق پوشیدہ قلبی اعمال پر بھی جزاء وسزادے گا۔ “ انہی ہدایات کی مزید تاکید اگلی آیت میں بھی جاری ہے ۔ مالک ارض وسماوات کے خوف پر دلوں کو ابھارا جاتا ہے ۔ جو اس کائنات کی تمام چیزوں کا مالک حقیقی ہے ۔ جو تمام دلی بھیدوں کا بھی جاننے والا ہے اور تمام ظاہری باتوں سے بھی خبردار ہے ۔ اور وہ تمام اعمال پر سزا اور جزاء بھی دینے والا ہے ۔ وہی ہے جو تمام بندوں کے معاملات پر فیصلے کرتا ہے۔ کسی اس کی رحمت نازل ہوتی ہے اور کوئی اس کے عذاب میں گرفتار ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور ہر چیز اس کی مشیئت کے تابع ہے ۔ اور اللہ کی مشیئت بےقید ہے ۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے ، سب اللہ کا ہے ۔ تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ بہرحال ان کا حساب تم سے لے گا ۔ پھر اسے اختیار ہے ، جسے چاہے ، معاف کردے اور جسے چاہے ، سزادے ۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “

قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ خالص قانون سازی کرنے والی آیات کے خاتمہ کلام پر بھی خالص وجدانی اور اخلاقی راہنمائی کرتا ہے ۔ یوں وہ دنیاوی زندگی کے لئے ضابطہ بندی کا تعلق بھی خالق کائنات سے جوڑ دیتا ہے ۔ اور یہ رابطہ ایک مستحکم رابطہ ہوتا ہے۔ جس میں ایک طرف تو اللہ خوفی کا تصور ہوتا ہے اور دوسری جانب مالک ارض وسما کی مغفرت اور رحمت کی امیداواری ہوتی ہے ۔ یہی اخلاقی ضمانت ہے جو اسلامی نظام قانون کو حاصل ہوتی ہے ۔ اور جو اسے دوسرے نظامہائے قانون سے ممتاز اور ممیز کردیتی ہے ۔ اور ایک اسلامی معاشرے میں ایک مسلمان کے دل میں اسلامی قانون کا بےحد احترام پایا جاتا ہے ۔ یہ اخلاقی گارنٹی اور قانون سازی اسلامی معاشرہ میں متوازی طور پر چلتی ہیں ۔ اسلام ان دونوں کی اخلاقی تربیت کا بھی انتظام کرتا ہے جس کے لئے وہ قانون سازی کرتا ہے ۔ نیز اسلام اس معاشرے کی اخلاقی تربیت بھی کرتا ہے جس کے لئے وہ قانون سازی کرتا ہے ۔ اور یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کی مکمل اور متوازن حکمت عملی پر مبنی ہوتا ہے ۔ کہ ایک طرف افراد ومعاشرہ کی اخلاقی تربیت ہورہی ہوتی ہے ، اور دوسری جانب ان کے لئے حکیمانہ قانون سازی ہورہی ہوتی ہے ۔ اللہ کا خوف اور قانون کا خوف ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ اور انسان کے کے لئے قانون وہی ہوتا ہے جو انسان کے خالق نے اس کے لئے تجویز کیا ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کے مقابلے میں اہل زمین کے قوانین ، اہل دنیا کی ضابطہ بندیاں ، اہل زمین کے نظام کیسے چل سکتے ہیں ۔ انسان کی کوتاہ سوچ ، انسان کا محدود علم ، انسان کی محدود فکر ، اس کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے ۔ انسان کی خواہشات آئے دن بدلتی رہتی ہیں ۔ کبھی وہ انسان کسی بات پر متفق نہیں ہوتے ۔ انسان کی کسی رائے کو قرار وثبات حاصل نہیں ہوتا ۔ اس کی معلومات آئے دن بدلتی رہتی ہیں ۔ ایسے حالات میں انسانیت کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق سے جداہوکر ماری ماری پھر رہی ہے ۔ حالانکہ اللہ وہ ذات ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ۔ وہ جانتا ہے کہ اس نے جس چیز کی تخلیق کی ہے اس کی فطرت کیا ہے ۔ اس کی مصلحت کیا ہے ، ہر آن اور ہر جگہ اس کے بدلتے ہوئے مصالح اور ضروریات کیا ہیں ۔ انسانیت جان لے کہ اس کی یہ عظیم بدبختی ہے کہ وہ اللہ کی شریعت اور اللہ کے منہاج زندگی سے روگردانی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ یاد رہے کہ الٰہی نظام زندگی سے فرار اور بغاوت کا آغاز مغرب میں اس وقت شروع ہوا ، جب لوگوں ظالم اور باغی کلیسا کا جؤا اپنی گردن سے اتارنا چہا ۔ مغرب میں لوگوں نے کنیسا کے تصور خدا اور تصور الٰہ کے خلاف بغاوت کی تھی ۔ جس کی طرف کنیسا لوگوں بلاتا تھا۔ اور جس تصور کے مطابق لوگوں کے لئے غور وفکر کرنا اور عقل سے کام لینا حرام تھا ۔ اور کلیسا نے مغرب میں عوام پر بھاری ٹیکس عائد کر رکھے تھے ۔ اور ان پر ایک ظالمانہ استبدادی نظام مسلط کررکھا تھا ، جس سے عوام کے اندر سخت نفرت پیدا ہوگئی تھی ۔ جب لوگوں نے اس جبر و استبداد سے گلوخاصی چاہی تو انہوں نے سوچا کہ جب تک وہ کنیسا کے خلاف اعلان جنگ نہ کریں گے اور اس جبر و استبداد سے گلو خاصی حاصل نہیں کرسکتے ۔ لیکن اس معاملے میں اہل مغرب حد اعتدال پر قائم نہ رہے ، انہوں نے اہل کنیسا سے آزادی حاصل کرنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خدا اور خدا کے اقتدار اعلیٰ سے بھی اپنے آپ کو آزاد کرلیا۔ اس طرح انہوں نے کرہ ارض پر سے ہر اس دین کو مٹادیا جس کی دعوت یہ ہو کہ لوگ اللہ کے نظام زندگی کے مطابق زندگی بسر کریں ۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری انسانیت پر ایک عظیم تباہی نازل ہوئی اور اس پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے۔ رہے ہم جو اسلام کے مدعی ہیں ، تو ہمارے حالات قابل غور ہیں ۔ ہمارا حال یہ ہے ہم نے اسلامی نظام زندگی سے بغاوت حاصل کرلی ہے ۔ اللہ کی شریعت اور اسلامی قانون کو ترک کردیا ہے ۔ اور ہمارے یہ حالات اس حقیقت کے باوجود ہیں کہ ہمارے سیدھے سادھے فطری دین نے ہمیں صرف وہی احکام دئیے ہیں جو ہم سے وہ تمام بوجھ اتارتے ہیں جو عیسائیت نے عائد کئے تھے ۔ وہ تمام بندھن توڑدیئے ہیں جن میں ہم ناجائز طور پر جکڑے ہوئے تھے ۔ اس دین نے ہمارے ساتھ نہایت ہی مشفقانہ رحیمانہ سلوک کیا اور ہمارے لئے راہنمائی ، یسر اور استقامت کا سامان فراہم کیا ۔ اور ایک ایسے راستے پر ہمیں گامزن کیا جو ہر طرف سے ترقی واصلاح کی طرف جاتا ہے ۔ اور جس راستے میں کامیابی ہی کامیابی ہے ۔