Ayah 2:215جیسا کہ واضح ہے ، سورت کے اس حصے میں احکام کے سوال و جواب کی فضا ہے ۔ جیسا کہ ہم آیت یسئلونک عن الاھلۃ کی تفسیر میں بیان کر آئے ہیں کہ یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کس قدر بیدار تھا ، جماعت کے افراد کے دلوں پر کس طرح چھایا ہوا تھا اور یہ کہ مسلمان اپنی روزمرہ کی زندگی کے ہر معاملے میں اپنے نظریے کا حکم معلوم کرنے کے لئے کس قدر بےتاب تھے تاکہ ان کا طرز عمل ان کے نظریہ حیات کے مطابق ہو اور یہ ایک صحیح مسلمان کی پختہ علامت ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اسلام کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کرے ۔ اور وہ اس وقت تک عملی قدم نہ اٹھائے جب تک یہ معلوم نہ کرلے کہ اس بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے ؟ جس چیز کو اسلام برقرار رکھے وہ اس کا دستور اور قانون بن جائے اور جسے اسلام ترک کردے وہ اس کے لئے ممنوع اور حرام ہوجائے ۔ یہ حساسیت دراصل اس نظریہ حیات پر پختہ ایمان کی علامت ہے۔
یہودیوں ، منافقین اور مشرکین نے ، اسلام کی بعض اصلاحات کے خلاف جو اعتراضات شروع کر رکھے تھے وہ اس سلسلے میں وہ سازش کے طور پر حملے کررہے تھے ، ان سے متاثر ہوکر یا ان کی اصل حقیقت اور حکمت معلوم کرنے کی خاطر بعض مسلمان بھی سوالات اٹھا رہے تھے ۔ ان اصلاحات کے خلاف یہودی سخت زہریلا پروپیگنڈا کرتے تھے اور بعض مسلمان اس سے متاثر بھی ہوجاتے ۔ ایسے مواقع پر قرآن مجید کا کوئی حصہ نازل ہوتا اور مسئلہ زیر بحث کا فیصلہ کردیتا ۔ مسلمان یقین حاصل کرلیتے ، سازشیں ختم ہوجاتیں ۔ فتنے اپنی موت آپ مرجاتے اور سازشیوں کی سازش خود ان کے گلے پڑجاتی ۔
ان سوالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں قرآن مجید چومکھی فکری جنگ لڑرہا تھا ، کبھی یہ معرکہ خود مسلمانوں کے دل و دماغ میں برپا ہے۔ کبھی مسلمانوں کی صفوں میں اور کبھی ان دشمنان اسلام کے خلاف ہے جو اسلام سے برسر پیکار تھے اور اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔
یہ سبق بھی اس فکری جنگ کا حصہ ہے اور اس میں بعض سوالات کے جوابات دیئے گئے ہیں ۔ مثلاً انفاق ، اس کی مقدار ، اس کے مصرف اور مال کی قسم جس سے انفاق کیا جائے ، کے بارے میں سوال ، حرام مہینوں میں لڑنے کے بارے میں سوال ، شراب اور جوئے کے بارے میں سوال ، یتیموں کے بارے میں سوال ، ان سب سوالات کے اسباب وہی تھے جن کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں اور آیات پر بحث کے وقت تفصیلات عرض ہوں گی انشاء اللہ !
اس سوال سے پہلے انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں متعدد آیات نازل ہوچکی تھیں ۔ جن حالات میں تحریک اسلامی کا آغاز ہوا ، ایسے حالات میں انفاق فی سبیل اللہ نہایت ضروری ہوتا ہے ، تاکہ اسلامی جماعت مصائب ومشکلات اور ان جنگی معرکوں میں دشمنوں کا مقابلہ کرسکے ، جو اسے درپیش آنے والے تھے ۔ انفاق کی اہمیت ایک دوسری وجہ سے بھی اس دور میں زیادہ ہوگئی تھی ، مثلاً یہ کہ تحریک اسلامی میں ساتھیوں کے درمیان اجتماعی تکافل کے قیام کی بھی اشد ضرورت تھی ۔ افراد جماعت کے مابین ظاہری امتیازات کو ختم کرنے کی ضرورت تھی ، تاکہ ہر فرد یہ سمجھے کہ وہ ایک جسم کا عضو ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور نہ کوئی چیز ان سے روکی جاتی ہے ۔ شعوری طور پر ایک جماعت کے قیام کے لئے اجتماعی تکافل اور انفاق کا نظام قائم کرنا بہت ضروری ہے ۔ افراد جماعت کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی ضروریات کا لحاظ رکھا جائے ۔
ایسے حالات میں بعض مسلمانوں نے سوال کیا تھا کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ سوال تو یہ تھا کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ نوعیت انفاق کیا ہو ؟ جواب میں انفاق کی صفت اور انفاق کے مصارف بیان کئے گئے :
قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ ” جو مال بھی تم خرچ کرو “ اس تعبیر میں دواشارے ہیں ۔ ایک یہ کہ جو چیز بھی تم خرچ کرو اسے خیر ہونا چاہئے ۔ دینے والے کے لئے بھی خیر ہو ، لینے والے کے لئے بھی ۔ اس معاشرے کے لئے بھی جس میں یہ لین دین ہورہا ہے اور اپنی ذات میں بھی وہ خیر ہو ۔ اس طرح ہو کہ عمل بھی پاک ۔ تحفہ بھی پاک ۔ چیز بھی پاک۔
دوسرا اشارہ یہ ہے کہ خراچ کرنے والے کو اچھی طرح سوچ کر اپنے مال سے اعلیٰ تر چیز خرچ کرنی چاہئے ۔ اس کے پاس جو بہترین چیزیں ہوں انہیں خرچ کرے ۔ اس میں دوسروں کو شریک کرے ۔ انفاق سے دل پاک ہوجاتا ہے ۔ نفس کا تزکیہ ہوتا ہے اور دوسروں کا فائدہ ہوتا ہے ۔ ان کی اعانت ہوجاتی ہے ۔ پھر تلاش کرکے اپنے مال میں سے بہتر چیز خرچ کرنا ایک ایسا اقدام ہے جس سے دل میں طہارت آجاتی ہے ۔ نفس انسانی پاک وصاف ہوجاتا ہے اور انفاق کو اپنانے کا اعلیٰ مفہوم سامنے آتا ہے۔
لیکن یہ محض اشارہ ہے اور اسے لازم اور فرض قرار نہیں دیا گیا ۔ جبکہ دوسری آیت میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں مناسب ہے کہ اوسط درجے کا مال اللہ کی راہ میں دیا جائے ۔ نہ بہت قیمتی ہو اور نہ بالکل ردی ہو ، البتہ آیت میں یہ اشارہ ہے کہ نفس پر قابو پانے کے لئے بہتر مال خرچ کیا جائے اور اہل ایمان کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہی قرآن کریم کا انداز تربیت ہے یعنی بذریعہ ترغیب اور آمادگی اصلاح کی جاتی ہے ۔
انفاق کا طریقہ اور مصرف کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ” اپنے والدین رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ “
انفاق کرنے والے اور ان لوگوں کے درمیان مخصوص روابط ہیں ۔ بعض افراد اور انفاق کرنے کے درمیان نسبتی رشتہ ہے ۔ بعض کے درمیان رحم کے رشتے ہیں ۔ بعض کے ساتھ محض رحم و شفقت کا رشتہ ہے اور بعض کے ساتھ نظریات کے وسیع حدود میں صرف انسانی ہمدردی کا تعلق ہے ۔ اور سب کو ایک ہی آیت میں سمودیا گیا ہے ۔ والدین ، اقربین ، یتامی ، مساکین ، مسافر ، ان سب کو اسلامی نظریہ ٔ حیات کے وسیع دائرے میں ضروریات اور بوقت ضرورت معاونت کی گارنٹی حاصل ہے ۔
انفاق کے مصارف میں وہی ترتیب ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے ۔ نیز بعض دوسری آیات میں بھی اس کی وضاحت کی گئی اور بعض احادیث میں اس کی مزید تفصیل اور تشریح کا ذکر ہے ۔ صحیح مسلم میں ایک روایت ہے جس میں رسول ﷺ نے ایک شخص سے کہا :” پہلے اپنے نفس سے آغاز کرو اور اس پر صدقہ کرو۔ اس سے زیادہ ہو تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو ، اگر پھر بھی کچھ بچ جائے تو رشتے داروں پر خرچ کرو ، اگر ان سے بھی بچ جائے .......“
مصارف کی اس ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے نفس انسانی کی تربیت اور اس کی قیادت اور راہنمائی کے لئے کیا حکیمانہ اور سادہ انداز اختیار کیا ہے۔ اسلام انسان کے ساتھ اس کی حقیقت کے مطابق معاملہ کرتا ہے ۔ اس کی فطرت ۔ اس کے میلانات اور اس کے رجحانات کے عین مطابق۔ اسلام انسان کو ساتھ لے کر اس طرح چلتا ہے جس طرح بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ کھڑا ہوجاتا ہے اور ایک متعین مقام پر ہوتا ہے ۔ اسلام اس کا ہاتھ پکڑ کر قدم بقدم اسے لے کر چلتا ہے ۔ آہستہ آہستہ اس کی یہ رفتار اس کی فطرت ، اس کے رجحانات اور اس کی استعداد کے تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے ۔ وہ تدریج کے ساتھ اپنے ساتھ پوری زندگی کو نشوونما اور ترقی دیتا جاتا ہے ۔ وہ بلندی کی طرف جارہا ہوتا ہے۔ لیکن تنگی اور تھکاوٹ کا اسے احساس تک نہیں ہوتا ۔
اسلام کی ترقی کا انداز یہ نہیں ہے کہ کسی کو بیڑیاں اور ہتھکڑیاں پہناکر اور اسے گھسیٹ کر بلندیوں تک لے جایا جائے ۔ نہ ہی اس کی فطری قوتوں اور فطری رجحانات کو دبایا جاتا ہے کہ وہ ایک پرندے کی طرح پنجرے میں بند ہوجائے اور پھڑپھڑائے اسے راہ ترقی پر اس طرح نہ لے جایا جائے کہ ترقی نہ رہے بلکہ ظلم بن جائے ۔ یا اسے ٹیلوں اور پہاڑیوں سے اڑاتے ہوئے لے جایاجائے ۔ بلکہ اسے آہستگی اور نرمی سے اوپر کی طرف لے جایاجائے ۔ قدم زمین پر ہوں ، آنکھیں آسمان پر ہوں اور دل افق کے ساتھ لٹکا ہوا ہو اور اس کی روح عرش کی بلندیوں میں واصل باللہ ہو۔
یہ بات تو اللہ کے علم میں تھی کہ انسان میں حب ذات کا داعیہ ہے ۔ اس لئے اللہ نے حکم دیا کہ پہلے اپنی ذات کے لئے بقدر کفایت سامان مہیا کرو۔ ذات کے بعد پھر دوسرے رشتہ داروں پر انفاق کا حکم دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے کھانے پینے کی پاک چیزوں کو جائز قرار دیا ۔ اسے ترغیب دی کہ وہ ان حلال چیزوں سے لطف اٹھا 4 ے ۔ البتہ یہ پابندی لگادی کہ عیاشی اور غرور سے دور رہے ۔
انفاق و صدقہ تو تب شروع ہوتا ہے جب انسان بقدر کفایت خود اپنی ضروریات پوری کرلے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :” بہترین صدقہ تو وہ ہے جو ضروریات پورا کرکے دیا جائے اور اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے زیادہ بہتر ہے اور شروع اپنے خاندان سے کرو۔ “
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں :” رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص ایک انڈے کے برابر سونا لے کر حاضر ہوا۔ اس نے عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ یہ مجھے کان سے ملا ہے ۔ آپ ﷺ اسے لے لیں ۔ یہ صدقہ ہے اور اس کے سوا میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا۔ وہ رسول ﷺ کے داہنے جانب سے لے آیا اور وہی بات دہرائی ، تو آپ ﷺ نے پھر منہ پھیرلیا۔ پھر بائیں جانب سے آیا اور وہی بات دہرائی ۔ رسول ﷺ نے پھر منہ پھیرلیا۔ پھر وہ پیچھے کی طرف سے آیا اور وہی بات دہرائی ۔ اس پر رسول ﷺ نے اس سونے کو لے لیا اور اسے اس پر دے مارا۔ اگر اسے لگی ہو تو یاد رکھنا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” تم میں ایک صاحب میرے پاس وہ سب کچھ لے کر آجاتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ صدقہ ہے ، اور پھر بیٹھ جاتا ہے لوگوں سے بھیک مانگنے ۔ بہترین صدقہ وہ ہے جو غنا پر کیا جائے۔ “
یہ حقیقت اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ انسان سب سے پہلے اپنے قریبی افراد خاندان سے محبت کرتا ہے ، اپنی اولاد سے اور اپنے والدین سے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی ذات کے بعد انفاق کے لئے ان افراد کو مستحق قرار دیا تاکہ وہ اپنی دولت کا کچھ حصہ ان پر خوشی ورضا کے ساتھ خرچ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں انسان کے اس فطری میلانات کا لحاظ رکھا ہے ، جو بےضرر ہیں ، بلکہ ان کا لحاظ رکھنے میں بھلائی اور حکمت پوشیدہ ہے ۔ اور اس حکمت کے ساتھ ساتھ بعض ایسے افراد کی کفالت بھی ہوجاتی ہے جو صدقہ دینے والے کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں اور خود امت مسلمہ کے بھی افراد ہیں ۔ اگر ان حضرات کی اعانت ان کے اس قریبی رشتہ دار نے نہ کی تو وہ محتاج ہوں گے ۔ ان کے لئے اپنے اس قریب رشتہ دار سے امداد حاصل کرنا زیادہ بہتر ہے ، بہ نسبت اس کے کہ وہ کسی دور کے شناسا یا غیر شناسا شخص سے امداد لینے پر مجبور ہوجائیں ۔
پھر یہ فائدہ مزید ہے کہ اس کے ذریعہ انسان کی پہلی تربیت گاہ یعنی خاندان کے اندر امن و محبت میں اضافہ ہوگا اور افراد خاندان کے درمیان روابط مضبوط ہوں گے جو ایک عظیم انسانیت کی تعمیر میں خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے ۔
اپنے قریبی رشتہ داروں کے بعد انسان فطرتاً اپنے جملہ رشتہ داروں کو درجہ بدرجہ اور تعلقات ورابط کے مطابق ترجیح دیتا ہے اور خالق فطرت اس بات سے خوب واقف ہے ۔ اور یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے کیونکہ یہ رشتہ دار بھی بہرحال امت کا ایک حصہ ہیں اور اسلامی معاشرے کے اجزاء ہیں ۔ چناچہ ایک دولت مند مسلمان اپنے قریبی رشتے داروں کے دائرہ سے ایک قدم اور باہر نکل آتا ہے ۔ اس کی پیش رفت بدستور اس کے فطری رجحانات اور میلانات کی سمت میں ہے اور ان کے دور کے رشتے داروں کی ضرورت بھی پوری ہو رہی ہے اور دور کے رشتے داروں کے ساتھ محبت اور رشتے کے تعلقات بھی استوار ہورہے ہیں ۔ یوں اسلامی جماعت کی ابتدائی یونٹ کے باہم تعلقات مربوط ہوجاتے ہیں اور روابط قوی ہوجاتے ہیں۔
اپنی ذات اور قریب وبعید رشتے کے لوگوں پر خرچ کرنے کے بعد بھی اگر کچھ بچ رہتا ہے تو پھر اسلام کا حکم یہ ہے کہ معاشرے کے ان ضعفاء پر خرچ کرو جنہیں دیکھ کر ہی ایک آدمی شرافت ، جذبہ رحمت اور جذبہ اشتراک میں جوش میں آجاتا ہے اور ایک شریف انسان ایسے کمزور لوگوں کی امداد کے تیار ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگوں میں یتیم سب سے پہلے درجے میں آتے ہیں جو چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور کمزور بھی ۔ پھر ان مساکین کا درجہ ہے جن کے پاس اخراجات کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ لیکن وہ اپنی شرافت اور سفید پوشی کی وجہ سے ۔ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ۔ پھر مسافروں کا نمبر آتا ہے جن کے پاس اگر مال و دولت ہوتا ہے لیکن ان سے دور گھر میں اور اس کے حصول میں رکاوٹیں ہوتی ہیں۔
ابتدائی دور میں تحریک اسلامی میں ایسے لوگوں کی کثرت تھی ۔ یہ لوگ اپنی دولت مکہ مکرمہ میں چھوڑ کر ہجرت کر آئے تھے ، اور اب یہ لوگ اسلامی معاشرے کے افراد تھے ۔ اسلام تحریک اسلامی کے خوش حال لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے کہ وہ ایسے نادار لوگوں پر خرچ کریں ۔ اس سلسلے میں اسلام ان لوگوں کے پاک فطری رجحانات کو ابھارتا ہے اور ان کی تطہیر کرتا ہے اور بڑی نرمی اور تدریج کے ساتھ ان لوگوں کو نصب العین تک پہنچا دیتا ہے۔ پہلے ان خوش حال لوگوں کے نفوس کا تزکیہ کیا جاتا ہے ۔ اور وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں وہ طیب نفس کے ساتھ خرچ کرتے ہیں ، خرچ پر راضی ہوتے ہیں ۔ بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی جبر کے ، اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ معاشرے کے ضعیف اور محتاج لوگوں کو ان کی ضروریات مل جاتی ہیں ۔ دوسرے یہ کہ تمام افراد معاشرہ باہم پیوست ہوجاتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے کفیل اور مددگاربن جاتے ہیں لیکن اس اجتماعی کفالت میں نہ جبر ہے اور نہ کسی کا نقصان ہے ۔ اسلام کی یہ راہنمائی نہایت ہی لطیف ۔ نہایت ہی خوشگوار اور نہایت ہی دوررس ہے ۔ اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ یہ راہنمائی نہ جابرانہ ہے ، نہ مصنوعی ہے اور نہ اس میں کسی قسم کا تشدد ہے ۔
انفاق فی سبیل اللہ کے اس کفالتی انتظام کا سررشتہ بھی افق اعلیٰ سے ملادیا جاتا ہے ۔ اس لئے انفاق کرکے دل مومن میں تعلق باللہ کا ایک جوش پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس کی دادودہش میں ، اس کے قول وفعل میں ، اس کے ضمیر ونیت میں اور اس کے فہم و شعور میں ، غرض اس کی پر چیز میں تعلق باللہ پیدا ہوجاتا ہے وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ” اور جو بھی بھلائی تم کروگے ، اللہ اس سے باخبر ہوگا۔ “ اللہ تعالیٰ اس انفاق سے بھی باخبر ہے ۔ اس کی غایت سے بھی خبردار ہے ، اس کے پس منظر میں جو نیت ہے اس کا بھی اسے علم ہے ۔ اس لئے یہ انفاق ہرگز ضائع نہیں ہوسکتا ۔ وہ اللہ کے کھاتے میں لکھا گیا ہے اور اس کھاتے میں کوئی چیزضائع نہیں ہوتی ۔ وہ لوگوں کے حقوق میں کوئی کمی نہیں کرتا اور نہ ان پر کسی قسم کا ظلم کرتا ہے ، لیکن اس پر ریاکاری کا کچھ اثر ہوتا ہے نہ دھوکہ بازی اس کے ہاں چل سکتی ہے ۔
یوں قرآن کی یہ راہنمائی دلوں کو لے کر افق اعلیٰ کی بلندیوں تک جاپہنچتی ہے ۔ یہ دل صاف و شفاف ہوجاتے ہیں ، یکسو ہوجاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں ، لیکن بڑی نرمی کے ساتھ ، بڑی دھیمی رفتار کے ساتھ ، بغیر کسی مصنوعی طریقے کے ، بغیر کسی جابرانہ ذریعے کے ۔ یہ ہے وہ نظام تربیت جسے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا ہے جو علیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے ۔ اور اس نظام تربیت کے اصولوں کے مطابق اسلامی نظام زندگی تیار ہوتا ہے۔ یہ نظام انسان کی نکیل اپنے ہاتھ میں لے کر ایک عام انسان کی قیادت سنبھالتا ہے ۔ وہ جہاں بھی ہو وہاں سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور اسے عروج و کمال کے اس مقام بلند تک لے جاتا ہے جہاں تک یہ انسانیت اسلام سے قبل اپنی پوری تاریخ میں پہنچ سکی ہوتی ۔ ہاں انسانیت نے یہ مقام بلند اگر کبھی حاصل کیا ہے تو وہ صرف اسلامی نظام زندگی کے سایہ میں ، اسلام کے صراط مستقیم پر چل کر ۔
انفاق فی سبیل اللہ کے بعد ، جہاد فی سبیل اللہ کا حکم آجاتا ہے اور اس میں بھی اسلام نے وہی منہاج تربیت اختیار کیا ہے جو انفاق کے سلسلے میں اختیار کیا گیا ہے۔
Ayah 2:216قتال فی سبیل اللہ بہت بارگراں فریضہ ہے ۔ اس کے باوجود یہ ایسا ہے کہ اس کی ادائیگی واجب ہے ۔ اس لئے کہ اس میں ایک مسلمان کے لئے بھی بڑی خیر ہے ، اسلامی جماعت کے لئے بھی خیر کثیر ہے بلکہ اس میں پوری انسانیت کی عظیم بھائی ہے ۔ یہ فریضہ محض سچائی کے لئے ہے ، بھلائی کے لئے ہے اور اصلاح احوال کے لئے ہے ۔
اسلام چونکہ ایک فطری دین ہے ، اس لئے وہ ہر معاملے میں اپنا موقف اور نقطہ نظر بھی عین فطرت کے مطابق اختیار کرتا ہے ۔ اس فریضے کی ادائیگی میں جو مشقتیں اور دشواریاں ہیں اللہ ان کا انکار نہیں کرتا۔ نہ اسے آسان اور ہلکا تصور کیا جاتا ہے۔ نہ اس بات کا انکار کیا جاتا ہے کہ نفس انسانی اسے بتقاضائے فطرت ناپسند کرتا ہے اور اسے بھاری سمجھتا ہے ۔ اسلام نہ فطرت کا انکار کرتا ہے ۔ نہ کسی معاملے میں نظام فطرت سے متصادم ہوتا ہے ۔ نہ انسان پر اس کے ان فطری احساسات کو حرام قرار دیتا ہے ، جن کے انکار کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ جن کو کالعدم نہیں گردانا جاسکتا ۔ البتہ اسلام ان فطری احساسات کا علاج ایک دوسرے طریقے سے کرتا ہے ۔ اسلام فطرت کی ان تاریکیوں کو ایک جدید قسم کی روشنی سے ختم کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ تم جو فرض عائد کیا گیا ہے بیشک وہ شاق ناپسندیدہ ہے ، لیکن اس کے پس منظر میں ایک عظیم مصلحت ہے جس کی وجہ سے وہ بہت ہی ہلکا ہوجاتا ہے ، آسان ہوجاتا ہے ۔ اس کی مشقت کم ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے ذائقے کی کڑواہٹ کم ہوجاتی ہے ۔ اس کے ذریعہ ایک پوشیدہ بھلائی وجود میں آتی ہے ۔ اس پوشیدہ بھلائی کو انسان کی سطحی نظر اچھی طرح نہیں دیکھ سکتی ۔ اس نقطہ نظر کو پالینے کے بعد ، انسانی روح پر معرفت کے لئے دروازے کھل جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ انسان اس معاملے کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے ۔ اب انسان جہاد و قتال کے مسئلے پر ایک نئے زاویہ سے نگاہ ڈالتا ہے ۔ اور پھر جب انسان مشکلات سے دوچار ہوتا ہے اور مصائب میں گھر اہوتا ہے ، تو اس کے روح کے اس زاویہ ار معرفت کے اس نئے دروازے سے اس کے قلب ونظر پر ٹھنڈی ٹھنڈی خوشگوار ہواچلتی ہے اور اسے اطمینان نصیب ہوتا ہے اس لئے کہ عین ممکن ہے شاید ان مشکلات کے بعد آسانیاں ہوں اور کسے خبر ہے کہ شاید پسندیدہ امر کا انجام یہ نہ ہوگا ۔ یہ تو وہی ہے جو دور دراز انتہاؤں کا علم رکھنے والا ہے جبکہ تمام لوگ اس علم کے ایک حصہ سے بھی خبردار نہیں ہیں ۔
جب نفس انسانی پر یہ خوشگوار بادنسیم چلتی ہے تو اس پر ٹوٹنے والے تمام مصائب اور مشقتیں اور سختیاں آسان ہوجاتی ہیں ۔ امید وبقا کے دریچے کھل جاتے ہیں ، سخت تپش میں بھی دل ٹھنڈک محسوس کرتا ہے اور یقین وامید کے ساتھ اطاعت اور ادائے فرض کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔
اسلام فطرت کے ساتھ یوں معاملہ کرتا ہے کہ وہ انسان کے فطری رجحانات پر کوئی نکیر نہیں کرتا ۔ اور نہ ہی انسان کو کسی مشکل فرض کے سرانجام دینے پر محض آرڈر اور حکم کے ذریعہ مجبور کرتا ہے ، بلکہ وہ انسان کی تربیت کرکے اسے اطاعت پر آمادہ کرتا ہے ۔ امید کا دائرہ وسیع کردیتا ہے ۔ وہ اسے یہ تعلیم دیتا ہے کہ ادنیٰ چیز کو خرچ کرکے اعلیٰ ترین حاصل کرو ، وہ انسان کو ذاتی خواہشات کے مقابلے میں نہیں بلکہ خوشی ورضا سے کھڑا کرتا ہے تاکہ انسان کی فطرت کو اس بات کا احساس ہو کہ اللہ کا رحم وکرم اس کے شامل حال ہے کیونکہ وہ انسانی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ۔ وہ وہ معترف ہے کہ انسان پر جو فریضہ عائد کیا گیا ہے وہ ایک مشکل کام ہے ۔ وہ اس کی مجبوریوں سے بھی واقف ہے اور انسان کی بھی قدر کرتا ہے اور بلندہمتی ، التجا اور امید کے ذریعے اسے مسلسل آگے بڑھانے کی ہمت بھی دیتا رہتا ہے ۔
یوں اسلام انسانی فطرت کی تربیت کرتا ہے ، وہ فرائض پر ملول نہیں ہوتی ، صدمات کی ابتلا میں جزع وفزع نہیں کرتی اور نہ مصائب شروع ہوتے ہی وہ ہمت ہار بیٹھتی ہے ۔ اگر مشکلات کے مقابلے میں کمزوری ظاہر ہوجائے تو شرمندہ ہو کر صاف گرہی نہیں جاتی بلکہ ثابت قدم رہنے کی سعی کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اسے عنداللہ معذور سمجھاجائے گا۔ اسے یہ امید ہوتی ہے کہ اللہ اس کی امداد کرے گا اور اپنی طرف سے قوت بخشے گا اور مصائب کا مقابلہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیتی ہے ۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان مشکلات کی تہہ میں کچھ خیر پوشیدہ ہو۔
مشکلات کے بعد آسانیاں آجائیں ۔ تھکاوٹ اور ضعف کے بعد بہت بڑا آرام نصیب ہوجائے ۔ یہ فطرت محبوبات ومرغوبات پر فریفتہ نہیں ہوتی اس لئے کہ عیش و عشرت کا نتیجہ حسرت بھی تو ہوسکتی ہے۔ محبوب کی تہہ سے مکروہ بھی برآمد ہوسکتا ہے ۔ کبھی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روشن تر امیدوں کے پس پردہ ہلاکت اور مصیبت انتظار کررہی ہو۔
تربیت کا یہ عجیب نظام ہے ۔ بہت ہی گہرا اور بہت ہی سادہ ۔ یہ نظام نفس انسانی کے سرچشموں ، اس کے پوشیدہ گوشوں اور اس کے مختلف گزرگاہوں کا شناسا ہے ۔ یہ نظام تربیت سچائی اور صداقت سے کام لیتا ہے ۔ اس میں جھوٹے اشارے ، جھوٹے تاثرات اور نظر فریب جعل سازی نہیں ہوتی ۔ پس یہ حقیقت ہے انسان کا ناقص اور ضعیف ذہن کسی بات کو ناپسند کرے حالانکہ وہ خیر ہی خیر ہو۔ اور یہ بھی حق ہے کہ انسان کسی چیز کو پسند کرے اور اس کا جانثار ہو ۔ لیکن اس میں شر ہی شر ہو ۔ اور یہ بھی حق ہے کہ اللہ جانتا ہے اور انسان نہیں جانتے ۔ لوگوں کو عواقب اور انجام کا کیا علم ہے ۔ وہ کیا جانیں کیونکہ پردہ گرا ہوا ہے اور پس پردہ کیا ہے ؟ غرض لوگوں کو ان حقائق کا علم نہیں ہوسکتا جو ہماری خواہشات ، جہالت اور نفس کے تابع نہیں ہیں۔
قلب انسانی کے اندر یہ ربانی احساس ، اس کے دریچے کھول دیتا ہے ۔ اس کے سامنے ایک نئی دنیا نمودار ہوجاتی ہے ۔ یہ دنیا اس محدود دنیا سے بالکل مختلف ہے جسے ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں ۔ اس کی نظروں کے سامنے کچھ دوسرے عوامل بھی آجاتے ہیں جو اس کائنات کی گہرائیوں میں کام کررہے ہوتے ہیں ، جو معاملات کی کا یا پلٹ دیتے ہیں ، جو نتائج کی اس ترتیب کو الٹ دیتے ہیں جن میں انسان کو تمنا ہوتی ہے یا وہ ان کی توقع کئے ہوئے ہوتا ہے ۔ جب قلب مومن تن بہ تقدیر اس ربانی احساس کے تابع ہوجاتا ہے ، تو پھر وہ پرامیدہوکر کام کرتا ہے ۔ اسے امید بھی ہوتی ہے اور اللہ کا ڈر بھی ، لیکن وہ تمام نتائج برضا ورغبت دست قدرت کے سپرد کردیتا ہے جو حکیم ہے اور علیم ہے ۔ جس کا علم سب کو گھیرے ہوئے ہے ۔ یہ ہے دراصل سلامتی کے کھلے دروازے کا داخلہ ۔ نفس انسانی کو اسلام کا صحیح شعور اس وقت تک نصیب نہیں ہوسکتا ، جب تک اس میں یہ یقین پیدا نہ ہوجائے کہ خیر اسی میں ہے جسے اللہ نے خیر بتایا ، بھلائی اس میں ہے کہ اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ کو آزمانے اور اللہ سے براہین طلب کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ پختہ یقین ، پرسکوں امید اور سعی پیہم ہی سلامتی کے دروازے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو انہی دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے اور حکم دیتا کہ نیمے دروں اور نیمے بیروں میں نہیں بلکہ پورے پورے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بڑے سادہ عجیب لیکن بہت گہرے منہاج کے ساتھ اس سلامتی کی طرف لے جارہا ہے ۔ بڑی نرمی ، بڑی آسانی اور دھیمی رفتار سے ۔ سلامتی کے اس راستے پر وہ انہیں اس طریقے سے لے جارہا ہے کہ آخرکار وہ ان پر قیام امن کے لئے قتال بھی فرض کردیتا ہے ۔ سلامتی کیا چیز ہے ؟ سلامتی یہ ہے کہ میدان جنگ میں انسان کی روح اور اس کا ضمیر مطمئن اور امن وسلامتی سے رہیں ۔
قرآن کریم کی اس آیت میں قتال کی نسبت سے جو اشارہ کیا گیا ہے ، وہ قتال تک ہی محدود نہیں ہے ۔ قتال تو ان امور کی ایک واضح مثال ہے جسے نفس انسانی فطرتاً پسند نہیں کرتا۔ لیکن اس میں نتائج کے اعتبار سے بھلائی ہوتی ہے ۔ یہ نکتہ دراصل مومن کی پوری زندگی میں اس کا فلسفہ حیات ہے ۔ اس کے تمام واقعات زندگی پر اس کا پرتو ہوتا ہے ۔ انسان تو کسی معاملے میں یہ نہیں جانتا کہ خیر کہاں ہے اور شر کہاں ہے ؟ بدر کے دن مسلمان نکلے کہ قریش کے قافلے کو لوٹ لیں اور ان کے مال تجارت پر قبضہ کرلیں ۔ اللہ نے ان سے غنیمت کا وعدہ بھی کر رکھا تھا ، وہ سمجھتے تھے کہ یہی قافلہ اور اس کا مال تجارت بس انہیں ملنے ہی والا ہے ۔ ان کے تصور میں بھی یہ نہ تھا کہ انہیں قریش کی فوج کے ساتھ دوچار ہونا پڑے گا ، لیکن اللہ کا کرنا یہ تھا کہ قافلہ بچ نکلا اور ان کا سامنا قریش کی ساز و سامان سے لیس فوج سے ہوگیا اور اس کے نتیجہ میں اہل اسلام کو وہ کامیابی نصیب ہوئی جس کی آواز بازگشت پورے جزیرۃ العرب میں سنی گئی ۔ اب دیکھئے کہ مسلمانوں کی کامیابی کے مقابلہ میں قافلہ اور اس کے تجارتی سامان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟ اب دیکھئے ، مسلمانوں نے اپنے لئے جو پسند کیا اس کی قدر و قیمت کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو اختیار کیا اس کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے اور لوگ نہیں جانتے ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی نوجوان اپنا کھانا بھول گیا یعنی مچھلی ۔ جب پتھر کے پاس پہنچے تو مچھلی دریا میں چلی گئی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آگے چلے گئے اور اپنے خادم سے کہا لاؤ ہمارا ناشتہ آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں ۔ خادم نے کہا آپ نے دیکھا ، یہ کیا ہوا ؟ جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے ، اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کردیا کہ میں اس کا ذکر آپ سے کرنا بھول گیا ۔ مچھلی توعجیب طریقے سے نکل کردریا میں چلی گئی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اسی کی تو ہمیں تلاش تھی ، چناچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر واپس ہوئے اور وہاں انہوں نے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا ۔ یہی وہ مقصد تھا جس کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سفر اختیار کیا ۔ اگر مچھلی کا واقع نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ لوٹتے اور وہ پورا مقصد فوت ہوجاتا جس کے لئے انہوں نے یہ تھکا دینے والا سفر اختیار کیا تھا۔
ہر اگر انسان اگر تامل کرے تو وہ بعض مخصوص تجربوں میں اس سچائی کو دریافت کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کئی ایسے تجربات سے دوچار ہوا جو اسے ناپسند تھے ۔ لیکن ان کے پس پردہ وہ خیر عظیم کارفرما تھی ۔ اور کئی پر ذائقہ اور لذید چیزیں بھی تھیں ۔ لیکن ان کی تہہ میں شر عظیم نہا تھا۔ کئی ایسے مقاصد ہوتے ہیں کہ جن سے انسان محروم ہوجاتا ہے اور اسے اپنی اس محرومی کا بےحد صدمہ بھی ہوتا ہے لیکن ایک عرصہ کے بعد نتائج دیکھ کر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محروم رکھ کر دراصل بلائے عظیم سے نجات دی تھی ۔ کئی مصائب وشدائد ایسے جاں گسل ہوتے ہیں ، کہ انسان بڑی ناخوش گواری سے ان کے کڑوے گھونٹ بھرتا ہے اور قریب ہوتا ہے کہ ان مصائب کی سختی کے نتیجے میں اس کی جان ہی نکل جائے ، لیکن ایک طویل عرصہ نہیں گزرتا کہ ان سختیوں کے نتائج اتنے اچھے نکلتے ہیں جتنے ایک طویل پر آسائش زندگی کے نتیجے میں اچھے نہ ہوسکتے تھے۔
یہ ہے منہاج تربیت جس کے مطابق اللہ نفس انسانی کو لیتا ہے کہ وہ ایمان لے آئے ، اسلام میں داخل ہوجائے اور آنے والے نتائج اللہ کے سپرد کردے ۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ بقدر استطاعت ، ظاہری جدوجہد کے میدان میں اپنی پوری قوت لگادے ۔
تحریک اسلامی کو امن وسلامتی کی طرف لے جایا جارہا تھا کہ وہ پوری کی پوری سلامتی کے نظام میں داخل ہوجائے ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی حرام مہینوں میں قتال کے بارے میں فتویٰ بھی ہے ۔ چناچہ فرماتے ہیں
Ayah 2:217متعدد روایات میں آیا ہے کہ یہ آیات عبداللہ ابن حجش کے سریہ کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک سیل شدہ خط دیا اور آٹھ افراد ان کے ساتھ روانہ کئے جو سب کے سب مہاجر تھے ، انصار کا ان میں کوئی نہ تھا۔ آپ ﷺ نے عبداللہ کو حکم دیا کہ وہ دو رات دن کے سفر سے پہلے اس خط کو نہ کھولے ۔ جب اس نے مقررہ وقت پر خط پڑھا تو اس کی عبارت یہ تھی جب تم میرے اس خط کو پڑھو تو آگے بڑھو یہاں تک کہ وادی بطن نخلہ میں جا اترو ۔ جو مکہ اور طائف کے درمیان ہے ۔ یہاں تم قریش کے حالات نگاہ میں رکھو اور ہمیں ان کی اطلاع دیتے رہو ۔ لیکن اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ لے جانے پر مجبو رنہ کرنا ۔ یہ واقعہ بدر کبریٰ سے پہلے کا ہے ۔ عبداللہ بن حجش نے خط پڑھ کر کہا ” سر آنکھوں پر “۔ اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہا کہ رسول ﷺ نے تو مجھے حکمم دیا ہے میں بطن نخلہ جاؤں ۔ وہاں قریش کو نگاہ میں رکھوں اور ان کے حالات کی اطلاع رسول ﷺ کو دوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس سے منع کیا ہے کہ میں تم میں سے کسی کو اپنے ساتھ لے جانے پر مجبور کروں ۔ تم میں سے جو شخص شہادت کا درجہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور اسے اس کا شوق ہے تو وہ چلے اور اگر کوئی اسے ناپسند کرتا ہے تو واپس ہوجائے ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کو بجالاؤں گا۔ چناچہ وہ آگے چلا اور اس کے تمام ساتھی اس کے ساتھ ہولیے ، کوئی بھی ان میں پیچھے نہ مڑا ۔ وہ مجاز کے راستے گئے اور ابھی اس راستے پر ہی تھے کہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ گم ہوگیا۔ وہ عبداللہ بن حجش کے قافلے کے پیچھے رہ گئے تاکہ اونٹ تلاش کرلیں ۔ باقی چھ افراد آگے بڑھ گئے ۔ جب یہ بطن نخلہ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کا ایک قافلہ جارہا ہے ، جس کے اونٹوں پر سامان تجارت لدا ہوا ہے ۔ اس قافلے میں عمروالحضرمی اور تین دوسرے افراد تھے ۔ عمرو کو قتل کردیا گیا اور دوگرفتار ہوئے اور ایک بھاگ نکلا ۔ انہوں نے پورے قافلے کے سامان کو قبضے میں کرلیا۔ اس دستے کا یہ خیال تھا کہ حملے کا دن جمادی الاخر کا آخری دن ہے ۔ حالانکہ دراصل حملے کا دن رجب کا پہلا دن تھا ۔ اور حرام مہینوں کا آغاز ہوگیا تھا ، جن کا احترام عرب بھی بہت زیادہ کرتے تھے اور اسلام نے بھی ان کے احترام کو برقرار رکھا تھا۔ جب یہ دستہ اس قافلے اور قیدیوں کو لے مدینہ پہنچا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے غنیمت پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں حرام مہینوں میں لڑنے کا حکم دیا ہی کب تھا ؟ قافلہ اور قیدی کھڑے کردیئے گئے اور آپ ﷺ نے ان کے لینے سے انکار فرمایا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تو لوگ گھبراگئے اور انہوں نے یقین کرلیا کہ ان سے ایک عظیم جرم کا ارتکاب ہوگیا ہے ، وہ تو مارے گئے ۔ مسلمان بھائیوں نے بھی انہیں سخت سست کہا کہ انہوں نے یہ کیا کیا ؟ قریش مکہ نے کہا محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں نے حرام مہینوں کی حرمت کو ختم کردیا ہے ، انہوں نے ان میں خونریزی ، مال کو چھین لیا اور لوگوں کو قید کرلیا ۔ یہودیوں نے اس واقعے سے رسول ﷺ کے لئے فال بدنکالی ۔ انہوں نے کہا : عمروالحضرمی کو واقد بن عبداللہ نے قتل کیا :” عمرو “ یعنی جنگ کی عمارت بن گئی ” حضرمی “ یعنی جنگ سرسبز ہوگئی ” واقد “ جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔
غرض اس واقعے کے بعد ، گمراہ کن پروپیگنڈے کا طوفان برپا ہوگیا اور اسے مختلف مکارانہ طریقوں سے اہل عرب کے درمیان پھیلایا گیا۔ اور اس میں رسول ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو ایک ایسے شخص کی شکل میں پیش کیا گیا جو عربوں کے تمام مقدسات کا انکار کرتا ہے اور صدیوں سے قائم روایات کو پامال کررہا ہے۔ اور جب بھی مصلحت کا تقاضا ہو وہ ہر بندھن کو توڑتا ہے ۔ (نعوذباللہ) اس پروپیگنڈا کے طوفان بدتمیزی کے دوران ، اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ، جنہوں نے بات کو کاٹ کر رکھ دیا اور معاملے کا فیصلہ سچائی کے ساتھ کردیا گیا۔ رسول ﷺ نے مال غنیمت اور قیدیوں کو قبول فرمالیا :
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ” لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو : اس میں لڑنا بہت برا ہے۔ “ یہ آیات نازل ہوئیں ۔ انہوں نے حرام مہینوں میں لڑائی جھگڑے کو تو برا اور گناہ کبیرہ قرار دیا اور کہا یہ تو ٹھیک ہے ، لیکنوَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ” مگر راہ اللہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ اللہ پرستوں کا بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا ، اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے۔ “
یہ جنگ مسلمانوں نے شروع نہ کی تھی ، دشمنی کا آغاز انہوں نے کیا تھا۔ یہ تو مشرکین ہی تھے جنہوں نے پہل کی ۔ انہی لوگوں نے اللہ کی راہ میں لوگوں کو روکا ، انہی لوگوں نے اللہ سے کفر کیا۔ انہی لوگوں نے اللہ پرستوں کو مسجد حرام سے روکا ۔ انہی لوگوں نے اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے ہر گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ۔ انہوں نے خود بھی اللہ کا انکار کیا اور لوگوں کو بھی اللہ کا منکر بنایا ۔ انہوں نے مسجد حرام کی حرمت کا بھی انکار کیا اور اس کی حرمت کو توڑا ۔ اس میں مسلمانوں کو اذیت دی اور ہجرت سے پہلے پورے تیرہ سال تک ، وہ مسلمانوں کو اذیتیں دے دے کر انہیں ان کے دین سے روکتے رہے ۔ پھر انہوں نے اس پر بھی اکتفا نہ کیا بلکہ انہوں نے مسجد حرام کے باشندوں کو ان کے گھروں سے نکالا حالانکہ وہ قابل احترام اور امن کی جگہ تھی ۔ انہوں نے حرم کے تقدس کا کوئی خیال نہ رکھا اور اس کے احترام کے کسی اصول پر عمل نہ کیا ۔
اللہ کے نزدیک باشندگان حرم کو ان کے گھروں سے نکالنا حرام مہینوں میں جنگ کرنے سے زیادہ برا ہے ۔ اور لوگوں کو محض دین اور نظریہ کی وجہ سے مصائب میں مبتلا کرنا اور انہیں تکالیف پہنچانا قتل سے بھی زیادہ برا ہے ۔ چونکہ مشرکین مکہ نے اعلانیہ ان دوکبائر کا ارتکاب کرلیا تھا ، لہٰذا ان کا یہ استدلال کہ مسلمانوں نے حرام مہینوں کے احترام کا کوئی خیال نہیں کیا ، یا بیت الحرام کی حرمت کا کوئی خیال نہیں کیا ، یہ محض پروپیگنڈا ہے اور ساقط الاعتبار ہے ۔ چناچہ ان آیات کے ذریعہ خود مسلمانوں کا موقف واضح ہوکر سامنے آگیا کہ مسلمان تو درحقیقت ان لوگوں کے خلاف برسرپیکار ہیں جو حرم مقدس کا کوئی احترام نہیں کرتے ۔ دراصل حرم شریف اور حرام مہینوں کے احترام کو اپنے لئے ایک پردہ اور پناہ بنالیا ہے جس کی آڑ میں یہ لوگ جب چاہیں قداست اور پاکی کا ڈھنڈورا پیٹیں اور جب چاہیں اس تقدس کو پامال کردیں ۔ مسلمانوں کا یہ فرض تھا کہ یہ لوگ جہاں ملیں انہیں ختم کردیں کیونکہ یہ لوگ باغی اور شرپسند ہیں ، کسی احترام کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے ، کسی جعلی پردے کے پیچھے من مانی کرنے نہ دیتے ۔ کیونکہ ان کے دل میں کوئی حقیقی احترام نہیں ہے۔
حرمتوں کے شعار اور روایات دراصل ایک حق بات تھی مگر اس سے وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے ، کفار مکہ ماہ حرام کی بےحرمتی کا جو پروپیگنڈا کررہے تھ ، وہ تو محض ظاہرداری تھی ، اس کے پردے میں چھپ کر دراصل وہ ثابت یہ کرنا چاہتے تھے ، مسلمان زیادتی کررہے ہیں اور یہ ان کا موقف درست نہیں ہے ۔ حالانکہ ظلم و زیادتی کی ابتدا خود انہوں نے کی ۔ یہ وہی تھے جنہوں نے بیت الحرام کی حرمت کا کوئی خیال نہ کیا۔
اسلام زندگی کا ایک حقیقت پسندانہ نظم ہے ۔ وہ محض مثالوں اور نطریاتی شکلوں پر مبنی نہیں ہے وہ انسانی زندگی کا حقیقت پسندانہ مطالعہ کرتا ہے۔ اس کی مشکلات ، اس کے میلانات اور اس کے واقعی حالات پر نظر رکھتا ہے۔ اس کی حقیقت پسندانہ راہنمائی کرتا ہے ۔ وہ اس زندگی کو زمین پر بطور حقیقت واقعیہ چلاتا ہے اور آہستہ آہستہ اسے ترقی کی سمت میں لے جاتا ہے ۔ وہ اس کے مسائل کو اس طرح حل کرتا ہے کہ وہ حل ایک عملی حل ہو۔ محض خام خیالی اور فلسفیانہ تخلیات ہی نہ ہوں بلکہ وہ ایسا حل پیش کرتا ہے جو عملی دنیا میں چل بھی سکے ۔
اب ذرا قریش کی حالت کو دیکھئے ۔ یہ لوگ سخت ظالم اور سرکش تھے ، مقامات مقدسہ میں کچھ حیثیت ہی نہ رکھتے تھے ۔ وہ حرمتوں کے تقدس کے قائل ہی نہ تھے ۔ وہ ہر اچھے اخلاق ، ہر دینداری اور ہر اچھے نظریہ کو کچل رہے تھے ۔ حق کے مقابلے میں اکڑگئے تھے اور لوگوں کو حق قبول کرنے سے روکتے تھے ۔ مومنین کو انہوں نے فتنوں میں مبتلا کررکھا تھا ، اور انہیں سخت اذیتیں پہنچاتے تھے ، وہ انہیں مسجد حرام سے نکال رہے تھے حالانکہ عربوں کی روایات کے مطابق مسجد حرام اور بیت الحرام درالامان تھے اور ان میں انسان کیا ، حیوانوں اور کیڑوں مکوڑوں کو بھی امن امان حاصل تھا ، لیکن ان سب حقائق کے باوجود ان لوگوں نے ان حرمتوں کی آڑ میں پوری دنیا کو سر پر اٹھا رکھا تھا ، اور ان حرمتوں کا ڈھنڈوراپیٹ رہے تھے ۔ وہ چلاتے تھے دیکھو ، یہ ہے محمد ﷺ اور اس کے ساتھی ، انہوں نے حرام ماہ کی حرمت کو پامال کردیا۔
اب دیکھئے اسلام ان کے مقابلے میں کیا رویہ اختیار کرتا ہے ۔ کیا اسلام ان کے مقابلے میں کوئی نظری ، مثالی اور خیالی جواب لاتا ہے اور مسئلے کا نظریاتی جائزہ لیتا ہے ۔ اگر اسلام اس معاملے میں کوئی خیالی حل پیش کرتا ہے تو یقینا ً وہ آئیڈیل ضرور ہوتا لیکن نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں کی حالت یہ ہوتی کہ ان کو غیر مسلح کردیا جاتا۔ جب کہ ان کا مقابلہ ایک ایسے شریر اور سرکش دشمن سے تھا ، جو ہر ہتھیار استعمال کرتا تھا اور کوئی حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہ کرتا تھا ۔ ہرگز نہیں ، اسلام کبھی بھی یہ رویہ اختیار نہیں کرتا کیونکہ اس کا مقابلہ ایک حقیقی صورت حال سے تھا۔ اس نے اس صورت حال کا مقابلہ کرنا تھا ۔ اور اسے اپنے راستے سے ہٹانا تھا۔ اسلام شر و فساد کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ وہ اس زمین کے اختیارات ایک صالح قوت کے ہاتھ میں دینا چاہتا تھا ، وہ اختیارات اور قیادت ایک صالح جماعت کے ہاتھ میں دینا چاہتا تھا۔ اس لئے وہ ہرگز یہ نہ کرسکتا تھا کہ یہ حرمتیں مفسدوں اور باغیوں کے لئے قلعہ بن جائیں اور اس کے اندر پناہ لے کر یہ لوگ پاک طینت صالح اور تعمیری کام کرنے والوں پر وار کریں ۔ اور جوابی حملے سے بالکل محفوظ بیٹھے ہوں۔
اسلام تو ان لوگوں کے مقابلے میں حرمتوں کا بہت خیال رکھتا ہے جو خود ان کا لحاظ رکھیں اور وہ حرمتوں کے اصول ودرایت کا سختی سے پابند ہے ۔ لیکن وہ ہرگز کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ خود تو ان حرمتوں کا کوئی خیال نہ کرے ، ان کو خوب توڑے اور اپنے لئے انہیں ایک حصار قرار دے رہے ہیں اور اس کی اوٹ سے نیک بندوں کو اذیت دے ، بھلے لوگوں کو قتل کرے اور ہر برائی کا مزے سے ارتکاب کرے اور ان حرمتوں کی اوٹ میں جوابی حملے سے محفوظ ومامون رہے اور لوگوں کو تلقین کرے کہ ان حرمتوں کا لحاظ رکھو۔
اسلام نے ہر معاملے میں یہی پالیسی اختیار کی ہے ، مثلاً اسلام میں غیبت حرام ہے ، لیکن فاسق کی غیبت ، غیبت ہی نہیں ہے۔ اگر وہ اپنے فسق وفجور میں مشہور ہو تو جو لوگ اس کے فسق وفجور کے نتیجے میں داغہائے سینہ رکھتے ہیں ۔ وہ معاف ہیں ۔ اسلام الجہر (بدگوئی ) کو حرام قرار دیتا ہے لیکن اس شخص کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے ، جس پر ظلم کیا گیا ہو ، اگر کوئی مظلوم ہے تو وہ اس ظالم کے خلاف علی الاعلان بدگوئی کرسکتا ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہے ۔ اگر ظالم کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی ، اس نیت سے کہ وہ غیبت ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم ظالم کو ایک اچھے اصول کی پناہ دیتے ہیں حالانکہ وہ اس بات کا مستحق نہیں ہے کہ وہ اس اصول سے فائدہ اٹھائے۔
لیکن برابر کے اس معاملے میں باوجود اسلام اپنا معیار گرنے نہیں دیتا ، وہ اپنی اونچی سطح سے اتر کر ان شریروں اور ظالموں کی سطح تک نہیں اترتا ۔ وہ اپنے مخالفین کے مقابلے میں اوچھے ہتھیار استعمال کرتا ہے ، نہ غیر اخلاقی وسائل یا قابل نفرت ذرائع ۔ وہ مسلمانوں کو صرف یہ حکم دیتا ہے کہ ظالموں کے ہاتھ توڑدو ، ان سے لڑائی کرو ، ان کو قتل کردو۔ اور زندگی کے ماحول کو ان سے پاک کردو ، کھلے طور پر اور علی الاعلان ۔
اصل مسئلہ ہے قیادت کا ، جب قیادت پاک لوگوں کے ہاتھ میں آجائے ، جو مومن ہوں ، سلیم الفطرت ہوں اور جب زمین کو ان لوگوں کی نجاست سے پاک کردیا جائے جو کسی حرمت کا لحاظ نہیں رکھتے اور تمام مقدسات کو پامال کرتے ہیں تب جاکر تمام مقدسات کی حرمت بحال ہوگی اور اس طرح بحال ہوگی جس طرح اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔
یہ ہے اسلام ۔ صریح ، واضح ، قوی اور باطل کا سر پھوڑنے والا جس میں کوئی لگی لپٹی نہیں ۔ کوئی ہیر پھیر نہیں ۔ نہ وہ کسی دوسری طاقت کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کوئی ہیرا پھیری کرے یا اس سے کوئی دھوکہ دے ۔ اور یہ ہے قرآن مجید جو مسلمانوں کو ایک مضبوط موقف عطا کرتا ہے ۔ اس قدر مضبوط جس پر ان کے قدم ڈگمگانہ پائیں ۔ وہ راہ اللہ میں آگے ہی بڑھتے جائیں اور اللہ کی اس زمین کو ہر قسم کے شر و فساد سے پاک کردیں ۔ قرآن مجید ان کے دل و دماغ کو شیشے کی طرح صاف نقطہ عطا کرتا ہے ، وہ ان کے دلوں میں کسی قسم کا قلق ، کسی قسم کا خلجان نہیں رہنے دیتا ، شبہات ووساوس ان کے دلوں سے ختم کردیئے جاتے ہیں ۔ قرآن صاف صاف کہتا ہے دیکھو ! وہ شر ہے ، فساد ہے ، نافرمانی ہے اور باطل ہے ، لہٰذا اسے کوئی حرمت اور کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے ۔ اس باطل کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ان حرمتوں کو ڈھال بناکر خود ان کی حرمتوں پر ضربیں لگائے ۔ قرآن مجید واضح طور پر یہ ہدایت کرتا ہے کہ اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلو ، یقین کے ساتھ ، اطمینان کے ساتھ ، اپنے ضمیر کی سلامتی کے ساتھ اور اپنے اللہ کے ساتھ جڑے ہوئے ۔
اس حقیقت کے بیان اور اچھی طرح ذہن نشین کرنے اور مسلمانوں کو دلجمعی اور صبر وثبات دینے کے بعد اب انہیں بتایا جاتا ہے کہ جس شر سے ان کا مقابلہ ہے وہ کوئی سطحی شر نہیں ہے وہ بہت ہی گہری برائی ہے ۔ دشمنوں کا منصوبہ بہت ہی گہرا ہے اور وہ اس پر بطور اصول جمے ہوئے ہیں ۔
وَلا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا ” اور وہ تم سے لڑتے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہارے دین سے تم کو پھیرکر لے جائیں۔ “
یہ ہے صحیح رپورٹ ، جو علیم وخبیر کی طرف سے ہے اور جو بتاتی ہے کہ شر اپنے ناپاک موقف پر کس قدر مصر ہے ، کفار ، مسلمانوں کو اپنے دین سے ہٹانے کے لئے کس قدر زور لگا رہے ہیں اور یہ کہ مسلمانوں کے دشمنوں کا یہ ایک مستقل نصب العین ہے ، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کسی طرح اسلام سے دور کردیں ۔ دشمنان اسلام کا یہ نصب العین ایسا مستقل نصب العین ہے کہ یہ کسی دور میں اور کسی علاقے میں کبھی تبدیل نہیں ہوا ۔ زمین پر اسلام کا وجود ہی ان کو ناگوار ہے ۔ دین کے دشمن اس سے ہمیشہ خائف رہے ہیں ۔ ہر دور میں یہ لوگ اسلامی جماعت اور اسلامی تحریک سے خائف رہتے ہیں ۔ نفس اسلام سے انہیں چڑ ہے ، انہیں اس سے سخت اذیت ہوتی ہے ۔ وہ ہر وقت اس سے خوف کھاتے ہیں ۔ اسلامی نظام کی قوت اور اس کی سنجیدگی سے ہر باطل پرست خائف رہتا ہے ۔ اللہ کا ہر باغی اس سے مرعوب ہوتا ہے ۔ ہر مفسد اسلام کا ناپسند کرتا ہے ۔ اسلام بذات خود کفر سے ایک جنگ ہے ۔ اسلام کی روشن سچائی ، اس کا پائیدار نظام زندگی اور اس کا پائیدار طریق کار ہی باطل کے لئے چیلنج ہے ۔ ان خوبیوں کی وجہ سے اسلام بذات خودکفر اور فساد کے لئے اعلان جنگ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ باطل پرست ، باغی اور مفسد کبھی اسلام کو برداشت نہیں کرتے ۔ وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ اہل اسلام کو کسی نہ کسی طرح فتنے میں ڈال دیں ۔ انہیں واپس کفر کی طرف لے آئیں ۔ چاہے کفر کی کوئی صورت ہی وہ اختیار کریں لیکن اسلام کو چھوڑدیں ۔ جب تک اس کرہ ارض پر کوئی ایسی جماعت بھی موجود ہے جس کا نصب العین اسلامی نظام زندگی ہے ، جو اسلام کی پیروکار ہو اور اسلام میں زندہ رہنا چاہتی ہو ۔ اس وقت تک باطل پرست اپنے باطل پر اور اپنے فساد پر پر امن طور پر گامزن نہیں رہ سکتے ۔ اس لئے وہ تحریک اسلامی سے ہر وقت خائف رہتے ہیں ۔
اسلام کے یہ دشمن ، مسلمانوں کے خلاف کئی قسم کی جنگ لڑتے ہیں اور اس میں قسم قسم کے ہتھیار استعمال کرتے ہیں ، لیکن ان کا مقصد ایک ہی رہتا ہے اور ہمیشہ وہی ان کے پیش نظر رہتا ہے یہ کہ اگر ان کا بس چل سکے تو یہ لوگ صادق مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیر دیں۔ جب ان کا کوئی ہتھیار ناکارہ ہوجاتا ہے تو یہ فوراً دوسرا ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ جب ان کا ایک ہتھیار کند ہوجاتا ہے تو یہ لوگ دوسرا ہتھیار تیز کرلیتے ہیں ، لیکن علیم وخبیر کی یہ سچی رپورٹ اپنی جگہ قائم ہے اور مسلمانوں کو ان مخالفین کے ہتھکنڈوں سے خبردار کرتی ہے کہ وہ ہتھیار نہ ڈالیں ۔ مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان کفار کی سازشوں کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں ۔ ان کے ساتھ جنگ پیش آئے تو اس میں صبر و تحمل سے کام لیں ۔ اور اگر ایسا نہ کریں گے تو دنیا وآخرت میں خسارہ اٹھائیں گے ۔ وہ ایسے عذاب سے دوچار ہوں گے جو کسی عذر سے معاف نہ ہوگا اور جو کسی جواز سے کم نہ ہوگا :
وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا ، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوجائیں گے ۔ ایسے لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔ “
حبطت حبوط سے نکلا ہے ۔ عرب کہتے ہیں حبطت الناقۃ ، یعنی اونٹنی پھول گئی ۔ جب وہ کوئی ایسی چیز لے جس سے وہ پھول جائے اور آخر کار مرجائے (جس طرح شفتل اور بعض دوسرے چاروں سے جانور پھول جاتے ہیں ) ۔ قرآن مجید نے اس لفظ کو کفار کے اعمال کے لئے استعمال کیا ہے جس سے حسی اور معنوی مفاہیم کا تطابق بھی معلوم ہوتا ہے ۔ جس طرح اونٹنی بظاہر پھول کر بڑی ہوجاتی ہے لیکن اس کا انجام ہلاکت ہوتا ہے ۔ اس طرح کفار کے اعمال بہت ہی بڑے اور پھولے ہوئے معلوم ہوتے ہیں ۔ لیکن انجام ان کا کچھ نہیں ہوتا بلکہ تباہ ہوجاتے ہیں ۔
یہی حال اس شخص کا ہوگا ، جو اسلام کو سمجھنے اور اس کا تجربہ کرلینے کے بعد ، اس سے روگردانی کرے گا ۔ محض اذیتوں اور مصیبتوں سے گھبر اکر ۔ اگر وہ حد سے گزرجائیں تو اس کا انجام یہی ہوگا جس کا اللہ نے ذکر فرمایا : کہ دنیا وآخرت میں اس کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور آخرت میں وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے ۔
جو دل ایمان کا ذوق آشنا ہوجائے ، صحیح طرح وہ اسلام کو سمجھ لے ، اس بات کا امکان ہی نہیں کہ وہ فی الواقع اسلام کو چھوڑ دے اور راہ ارتداد اختیار کرے ۔ الا یہ کہ کسی کا دل و دماغ اس قدر فاسد ہوجائے جس کی اصلاح کی کوئی صورت نہ رہے لیکن یہ حکم ان لوگوں کا نہیں ہے جو ناقابل برداشت عذاب سے بچنے کے لئے تقیہ اختیار کرلیں۔ اللہ رحیم وکریم ہے ، اس نے مسلمانوں کو اجازت دی ہے کہ جب مصائب اس کی قوت برداشت سے بڑھ جائیں تو وہ ظاہری رواہ روی اختیار کرلیں بشرطیکہ ان کا دل اسلام پر ثابت قدم ہو ، قلب ایمان پر مطمئن ہو ۔ لیکن اللہ نے کسی صورت میں بھی کفر حقیقی اور ارتداد حقیقی اختیار کرنے کی کوئی رخصت نہیں دی ۔ یوں کہ وہ کافر ہوکر رہ جائے نعوذ باللہ من ذلک۔
اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ تنبیہ اور تحذیر روز قیامت تک اپنی جگہ پر قائم ہے۔ مسلمان کے لئے اس بات کا کوئی عذر نہیں ہے کہ وہ مصائب اور شدائد سے تنگ آکر اپنا دین ایمان چھوڑ دے ۔ اور ایمان واسلام سے منحرف ہوجائے اور اس حق کو ترک کردے جو اس نے چکھا اور جانا ۔ بلکہ یہ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جس قدر ممکن ہو وہ مجاہدہ کرے ۔ جبر وثبات سے کام لے اور سخت جانی سے کام لے ۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے ۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو اس پر ایمان لے آئیں اور پھر اس کی راہ میں مصائب برداشت کریں یونہی نہیں چھوڑ دیتا ۔ وہ ان کی تکالیف پر انہیں جزائے خیر دیتا ہے اور وہ دو باتوں میں سے ایک ضروری ہوتی ہے یا اس کی نصرت آجاتی ہے اور مومن کامیاب ہوجاتا ہے اور یا اسے شہادت کا مقام بلند حاصل ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:218جن لوگوں کو اللہ کی راہ میں اذیت دی جائے ۔ وہ اللہ کی خصوصی رحمت کے امیدوار ہوتے ہیں اور جس کا دل ایمان سے معمور ہو وہ کبھی بھی مایوس نہیں ہوتاإِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ، وہ رحمت الٰہی کے جائز امید وار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے۔ “
جب ایک مومن رحمت خداوندی کا امیدوار ہو تو اللہ اسے کبھی نامراد نہیں لوٹاتے ۔ مہاجرین وانصار کے مخلص مومنین نے ، اگرچہ وہ قلیل تعداد میں تھے ، اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو اپنے کانوں سے سنا تھا ، انہوں نے جہاد کیا ، مشکلات پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کردیا ۔ بعض کو شہادت نصیب ہوئی اور بعض کو نصرت خداوندی پہنچی ۔ دونوں خیر ہیں۔ دونوں اللہ کی رحمت ہیں ۔ یہ لوگ اللہ کی مغفرت اور اللہ کی رحمت کے مراتب پر فائز ہوگئے کیونکہ اللہ غفور ہے اور رحیم ہے ۔ یہ ہے طریقہ مومن۔
اب سیاق کلام بعٓض منہیات کی طرف آتا ہے ۔ شراب اور جوئے کے احکام بیان ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں چیزیں ان لذات میں سے ہیں ۔ جن میں عرب کانوں تک غرق تھے ۔ کیونکہ اس دور میں اس کے سامنے کچھ اونچے مقاصد نہ تھے جن وہ اپنے آپ کو مصروف رکھتے اور یوں ان کی قیمتی قوتیں کام میں صرف ہوتیں۔