2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرہ کی نیت کرو ، تو اسے پورا کرو اور اگر کہیں جاؤ تو جو قربانی میسر آئے ، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے ۔ مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوالے تو اسے چاہئے کہ فدیے کے طور پر روزہ رکھے یا صدقہ دے یا قربانی دے ، اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر ، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے ۔ یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہوں ۔ اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔

ہمارے پاس آیات حج کی تاریخ نزول کا کوئی صحیح علم نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں ایک روایت ہے جس میں آیا ہے کہ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ” اور اگر کہیں گھر جاؤ تو جو قربانی میسر ہو ۔ “ 6 ھ میں صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی ، لہٰذا اسلام میں حج کب فرض ہوا اس کی صحیح تاریخ بھی ہمیں معلوم نہیں ، اس میں اختلاف رائے ہے کہ حج فرض کس آیت سے ہوا ، اس آیت سے یعنی وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ” اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو یا وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیتِ مَنِ استَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلًا ” جن لوگوں کے پاس زاد راہ کی استطاعت ہو ان پر اللہ کی جانب سے حج بیت اللہ فرض ہے ۔ بہرحال ان دونوں آیات کے نزول کے بارے میں تاریخ کا تعین کرنے والی کوئی روایت ، منقول نہیں ہے۔ امام ابن قیم جوزی اپنی کتاب زادالمعاد میں لکھتے ہیں کہ حج 9 ھ یا 10 ھ میں فرض ہوا ہے ۔ انہوں نے یہ سن اس قیاس میں متعین کیا ہے کہ رسول ﷺ نے دس ہجری کو حج فرمایا ۔ ظاہر ہے کہ لازماً آپ ﷺ نے یہ فریضہ فرض ہونے کے بعد ادا کیا ہوگا جو 9 ھ یا 10 ھ میں ہوسکتا ہے ، لیکن صرف یہ بات صحیح دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ ہوسکتا ہے کہ حج پہلے سے فرض ہو۔ مگر بعض مجبوریوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے رسول ﷺ نے اسے 10 ھ تک مؤخر فرمادیاہو ۔ جبکہ 9 ھ میں رسول ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج مقرر فرماکر بھیجا ۔ روایات میں یہ بات آچکی ہے کہ رسول ﷺ جب غزوہ تبوک سے واپس ہوئے تو آپ نے حج کا ارادہ فرمایا تھا۔ اس کے بعد جب آپ ﷺ نے یہ خیال کیا کہ مشرکین حسب عادت حج کے موسم میں مکہ مکرمہ آتے ہیں اور ان میں سے بعض لوگ بالکل ننگے ہوکر طواف کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں میں خلط ہونے کو پسند نہ فرمایا۔ اس کے بعد سورت برأت نازل ہوئی ۔ رسول ﷺ نے حضرت علی ؓ کو ارسال فرمایا تاکہ وہ سورت برأت کا ابتدائی حصہ لوگوں کو سنائیں ، جن مشرکین کے ساتھ جو معاہدے تھے انہیں ختم کردیں اور جب لوگ منیٰ میں قربانی کے وقت جمع ہوں تو اعلان کردیں یادرکھو ! کوئی کافر جنت میں داخل نہ ہوگا ، اس سال کے بعد کو ئی مشرک طواف نہ کرسکے گا ۔ کوئی ننگا شخص طواف نہ کرسکے گا ۔ جن لوگوں نے رسول ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ کررکھا ہے ، تو وہ اپنی معیاد تک ہی رہے گا ۔ یہی وجہ تھی کہ خود رسول ﷺ نے حج نہ فرمایا اور انتظار کیا کہ بیت اللہ پاک ہوجائے ۔ مشرکین اور برہنہ ہوکر طواف کرنے والوں سے۔ یہاں یہ بات دل کو لگتی ہے کہ اسلام نے فریضہ حج اور مناسک حج اکثر وبیشتر برقرار رکھے تھے ۔ اور ان تاریخوں سے بہت پہلے ایسی روایات موجود ہیں کہ ہجرت سے پہلے ہی مکہ مکرمہ میں حج فرض ہوچکا تھا لیکن ان روایات کی سند قوی نہیں ہے ۔ سورت حج ، جو ارحج قول کے مطابق سورت ہے ۔ اس میں حج کے اکثر وبیشتر مناسک کا ذکر ہوا ہے۔ یوں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان مناسک کا حکم دیا تھا۔ سورت حج کی یہ آیات ملاحظہ فرمائیں : (یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (جو اس ہدایت کے ساتھ ) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو ، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھو اور لوگوں کو حج کے لئے اذن عام دے دو کہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں تاکہ وہ فائدے دیکھیں ، جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں ۔ اور چند مقررہ دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں ۔ خود بھی کھائیں اور تنگ دست اور محتاج کو بھی دیں۔ پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کرلیں اور اس قدیم گھر کا طواف ۔ یہ ہے اصل معاملہ (اے سمجھ والو) اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے ۔ تمہیں ایک مقرر وقت تک ان (ہدی کے جانوروں) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے ، پھر ان کے قربان کرنے کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے ۔ اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے ایک شعائر اللہ میں شامل کیا ہے ۔ تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے ، پس انہیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو اور جب (قربانی کے بعد) ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور ان کو بھی کھلاؤ جو قناعت کئے بیٹھے ہیں اور ان کو جو اپنی حاجت پیش کریں ان جانوروں کو ہم نے اس طرح تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو ۔ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خوں ، مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ۔ اس نے ان کو تمہارے لئے اس طرح مسخر کیا ہے تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت سے تم اس کی تکبیر کرو اور اے نبی بشارت دے نیکو کاروں کو۔ “ ان آیات میں اکثر مناسک کا ذکر ہوا ہے یا اشارہ ملتا ہے ، مثلاً ہدی ، نحر ، طواف ، احلال ، احرام اور تسمیہ ، یہی مناسک حج کے اساسی شعائر ہیں ۔ خطاب ابراہیم (علیہ السلام) کے تاریخی واقعہ کی شکل میں ، مسلمانوں سے ہورہا ہے ، ان آیات میں واضح طور پر یہ اشارہ کیا جاتا ہے کہ حج کافی ابتدائی دور میں فرض ہوگیا تھا۔ کیونکہ حج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا ، جن سے مسلمانوں کی نسبت تھی ۔ چونکہ مشرکین مکہ خانہ کعبہ کے مجاور تھے ، کلید بردار تھے ، اور ایک عرصہ تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان سخت کشمکش برپا تھی ، ہوسکتا ہے کہ فریضہ حج کی ادائیگی کو مناسب وقت تک مؤخر کردیا گیا ہو ۔ لیکن یہ تاخیر تو الگ بات ہے ۔ تو اس پارے کی ابتدائی آیات میں ہم اس رائے کو ترجیح دے چکے ہیں کہ بعض مسلمان ، بہت پہلے سے فریضہ حج ادا کرتے تھے ۔ یعنی دوہجری میں تحویل قبلہ کے بعد۔ بہرحال حج کی تاریخ کے سلسلے میں بحث کافی ہے ، اب ہم تشریح آیات ، شعائر حج کے بیان اور ان ہدایات کی تشریح کریں گے جو ان کے اثناء میں دی گئی ہیں۔ وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ” اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرے کی نیت کرو تو اسے پورا کرو ، اور کہیں گھر جاؤ جو قربانی میسر آئے ، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سرنہ مونڈو جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے ۔ مگر جو شخص یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بناپر اپنا سرمنڈوالے تو اسے چاہئے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ۔ پھر اگر تمہیں امن نصیب ہوجائے (اور تم حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ) تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے ، وہ حب مقدور قربانی دے اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر ، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے ۔ یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہوں ۔ اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ “ ان آیات میں ، سب سے پہلے وہ حسن الفاظ اور حسن تعبیر قابل دید ہے جسے اس قانون سازی کے لئے اختیار کیا گیا ہے ، فقروں کی تقسیم ، بامقصد اور بہترین طرز ادا ، ہر فقرے میں الگ بیان اور الفاظ وفقرات مختصر ، جن میں کوئی لفظ بھی زیادہ نہیں ۔ ہر حکم کے ساتھ شرائط تحدید اور سب احکام کو خوف اللہ اور تقویٰ کے ساتھ مربوط کرتے چلے جانا ۔ پہلے فقرے میں کہا گیا ہے کہ حج اور عمرے کو شروع کرچکنے کے بعد ، مطلقاً تکمیل لازمی ہے ۔ جب حاجی حج کا آغاز کردے ، عمرہ کرنے والا عمرے کا آغاز کردے ، نیت باندھ لے خواہ علیحدہ علیحدہ یا دونوں کے ساتھ اور اس کی توجہ کا مرکز خالص اللہ کی رضاجوئی ہو ، تو انہیں حکم ہے وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ” اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرے کی نیت کرو ، تو اسے پورا کرو۔ “ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ لفظ ” پورا کرو “ کے ذریعہ ہی سب سے پہلے حج فرض ہوا ہے ۔ لیکن بعض نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جب تم شروع کرو تو پھر پورا کرو۔ مکمل کرو۔ یہ مفہوم زیادہ ظاہر ہے ۔ اس لئے کہ یہاں یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ حج بھی فرض ہوگیا اور عمرہ بھی فرض ہوگیا ۔ کیونکہ بعض علماء عمرے کو فرض نہیں سمجھتے ، لہٰذا یہاں مقصد یہی ہوگا کہ حج وعمرہ شروع کرنے کے بعد واجب ہوجاتے ہیں ۔ اتمام لازمی ہے ابتداً عمرہ واجب نہیں ہوتا لیکن جبب اس کی نیت کرکے احرام باندھ لیا جائے تو پھر پورا کرو۔ اب اتمام واجب ہوگا اور عمرہ تمام مناسک میں حج ہی کی طرح ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمرے میں ، میدان عرفات میں وقوف نہیں ہوتا ۔ نیز عمرے کے لئے مقررہ اقات بھی نہیں ۔ پورے سال میں کسی وقت بھی ادا کیا جاسکتا ہے ۔ حج کی طرح معلوم مہینوں کے اندر ہی اس کی ادائیگی لازمی نہیں ہے۔ اتمام حج وعمرہ کے اس عام حکم سے حالت احصار کو مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے ۔ احصار کسی جانی دشمن کی وجہ سے ہو (اس پر سب مذاہب کا اتفاق ہے ) یا بیماری یا بیماری کی طرح کوئی اور رکاوٹ ہو۔ جس کی وجہ سے حج اور عمرے کی تکمیل ممکن ہو ، فقہاء کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ بیماری کی وجہ سے احصار جائز ہے یا نہیں ۔ راحج بات یہ ہے کہ بیماری کی وجہ سے احصار معتبر ہے ۔ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ” اور اگر کہیں گھر جاؤ، تو ہدی جو بھی میسر ہو ، جناب باری میں پیش کرو۔ “ اس حالت میں حاجی یا عمرے کی نیت کرنے والا وسعت و سہولت کے مطابق جو قربانی کرسکے کرے اور احرام توڑ دے ۔ وہیں جہان حالت احصار پیش آئی ۔ اگرچہ وہ مسجد حرام تک نہ پہنچ سکے ۔ میقات سے احرام باندھنے کے سوا ، مناسک حج ادا نہ کرسکے ۔ مناسک عمرہ ادا نہ کرسکے (میقات وہ مقام ہے جہاں حاجی اور عمرہ کرنے والا احرام باندھتا ہے ، پھر اس کے سلے ہوئے کپڑے پہننا حرام ہوجاتا ہے ، بال چھوٹے کرنا ، منڈوانا ، ناخن چھوٹے کرنا منع ہوجاتا ہے۔ نیز اس پر خشکی کا شکار کھیلنا اور اس کا کھانا منع ہوجاتا ہے۔ 6 ھ ہجری میں بھی یہی پیش آیا ، جب رسول ﷺ اور آپ کے ساتھی حدیبیہ پہنچے تو مشرکین نے آپ کو مسجد حرام آنے سے روک دیا ۔ اس مذاکرات ہوئے اور معاہدہ صلح حدیبیہ طے ہوا ۔ اس کے مطابق طے ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اگلے سال عمرہ ادا کریں ۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی اور رسول ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ جہاں تک پہنچے ہیں وہیں رک جائیں ، قربانی کریں اور عمرہ کی نیت ختم کرکے احرام سے باہر آجائیں ۔ مسلمان تعمیل امر سے ہچکچانے لگے ۔ ان پر یہ بات گراں گزر رہی تھی کہ وہ کیونکر ہر ہدی کو اس کے مقام نحر سے پہلے ہی قربانی کردیں ، حالانکہ عادہً وہ منیٰ میں ایسا کرتے ہیں ۔ ان کی ہچکچاہٹ دیکھ کر رسول ﷺ آگے بڑھے اور اپنی قربانی ذبح کرکے احرام سے باہر نکل آئے ۔ اس پر سب نے تعمیل کی ۔ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِسے مراد وہ ہے جو میسر آجائے ۔ ہدی میں جن مویشیوں سے ہوگی وہ یہ ہیں ، اونٹ ، گائے ، بھینس اور بھیڑ بکری ۔ صرف اونٹ ، بھینس اور گائے میں سات افراد تک شریک ہوسکتے ہیں ۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر سات افراد ایک اونٹنی میں شریک ہوئے تھے ۔ یہ ہے تیسیر۔ ہاں بھیڑ بکری صرف ایک آدمی کے لئے ہدی ہوگی ۔ حالت احصار ، جیسا کہ حدیبیہ میں پیش آیا ، یابیماری کی وجہ سے گھر جانے کے حالات کو اصل حکم سے اس لئے مستثنیٰ کیا گیا کہ مسلمانوں پر تنگی نہ ہو ، اس کی حکمت صرف مسلمانوں کے لئے سہولت کی گنجائش رکھنا ہے ۔ مناسک حج کی غرض وغایت یہی ہے کہ انسان اللہ کے نزدیک ہوجائے اور اس کے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوجائے ۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض سرانجام دینے کے لئے تیار ہوجائے ۔ جب اس نے نیت کرلی ، احرام باندھ لیا اور دشمن اس کی راہ میں حائل ہوگیا یا بیماری اور یا اسی طرح کا کوئی اور عذر لاحق ہوگیا تو حاجی یا عمرہ کی نیت کرنے والا حج یا عمرے کے ثواب سے کیوں محروم ہو۔ اس حالت کا حکم ایسا ہی ہوگا جیسے حج مکمل ہوگیا ، عمرہ ادا ہوگیا ، چناچہ ایسا شخص وہیں قربانی کرکے احرام سے نکل آئے گا ۔ یہ سہولت ایسی ہے جو اسلام کی روح ، اسلامی عبادات کے مقاصد اور شعائر حج وعمرہ کی اصل غرض وغایت کے عین مطابق ہے ۔ پہلے حکم کی اس استثناء کے بعد ، اب روئے سخن ایک دوسرے حکم ، عام حکم ، حج کے لئے بھی عمرے کے لئے بھی اس کی طرف پھرتا ہے۔ وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ” اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ “ یہ حکم اس حالت کے لئے ہے کہ جہاں حج وعمرہ مکمل ہورہے ہیں اور احصار نہ ہو ، حج ، عمرے یا دونوں کی نیت کی صورت میں آدمی اس وقت تک حالت احرام میں رہتا ہے اور اسے سرمونڈوانے کی اجازت نہیں ہوتی جب تک قرباقنی اپنی جگہ پہنچ کر ذبح نہ ہوجائے ۔ یعنی میدان عرفات میں وقوف کرکے ، مزدلفہ آنے کے بعد بمقام منیٰ ، ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو ۔ اس قربانی کے بعد حاجی احرام سے نکلتا ہے ۔ اس سے پہلے اس کے لئے سرمونڈوانا ، بال چھوٹے کرنا یا دوسرے کام جو محرم کے لئے جائز نہیں ان کا ارتکاب کرنا منع ہے ۔ اب اس عام حکم میں بھی استثنا (Proviso) ہے۔ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍمگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بناپر اپنا سر منڈوالے تو اسے چاہئے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ! اگر ایسی بیماری لاحق ہوجائے جس میں سرمنڈوانا ضروری ہو یا سر میں جوئیں وغیرہ پڑجائیں اور دیر تک ان میں کنگھی نہ کی گئی اور جوئیں وغیرہ پڑگئیں تو اس وقت تک ہدی کے محل تک پہنچنے سے پہلے بھی سرمنڈوانا جائز ہے ۔ کیونکہ اسلام سہولت کا دین ہے ، لہٰذا تکمیل حج سے پہلے بھی سرمنڈواسکتا ہے ۔ البتہ اس صورت میں ایسے شخص کو فدیہ دینا پڑے گا یا تین دن کے روزے یا چھ مساکین کو کھانا یا ایک بکری ذبح کرکے صدقہ کرنا ، فدیہ کی یہ تحدید رسول ﷺ کی احادیث میں کی گئی ہے ۔ امام بخاری (رح) نے اپنی سند کے ساتھ کعب بن عجرہ سے روایت کی ہے ، فرماتے ہیں : مجھے رسول ﷺ کے پاس لے جایا گیا ، میری حالت یہ تھی کہ میرے بالوں سے میری چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں ۔ آپ نے فرمایا میرا یہ خیال نہ تھا کہ تم اس قدر مصیبت میں پڑگئے ہو ۔ کہا تمہارے پاس بکری ہے ؟ میں نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا : تین روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ اور کھانے کی مقدار یہ ہو کہ مساکین کو نصف صاع غلہ ملے ، اور اپنے سر کو منڈوالو۔ اب حج کا ایک دوسرا ، عام حکم سنیں فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ” پھر اگر تمہیں امن نصیب ہوجائے تو جو شخص تم سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے ۔ وہ حسب مقدور قربانی دے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جب احصار کی صورت درپیش ہو اور تم فریضہ حج ادا کررہے ہو ، پس جو شخص ایام حج آنے سے پہلے عمرہ کرنا چاہتا ہو تو وہ حسب مقدور قربانی دے۔ اس حکم کی تعمیل یہ ہے کہ ایک شخص عمرہ کے لئے نکلے ، میقات پر احرام باندھے ، عمرہ ادا کرلے ، یعنی طواف اور سعی بین صفا مروہ سے فارغ ہوجائے ، پھر وہ حج کی نیت کرلے اور ایام حج کا انتظار کرے ۔ یہ اس صورت میں ہے کہ ایک شخص یہ عمرہ حج کے مہینوں میں کررہا ہو ، حج کے مہینے شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں ، حج سے عمرہ کرنے کی یہ ایک صورت ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھے اور عمرہ ادا کرنے کے بعد حج کے ایام کا انتظار کرے ۔ یہ تمتع کی دوسری صورت ہے ۔ ان دونوں صورتوں میں تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے ۔ یہ قربانی عمرہ کے بعد ہوگی تاکہ وہ احرام سے نکل آئے ۔ یہ شخص ادائے عمرہ اور آغاز حج کے درمیانی عرصہ میں حلال رہے گا ۔ حسب مقدور قربانی اونٹ ، گائے ، بھیڑ بکری کی ہوگی۔ اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ” اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور ساتھ گھر پہنچ کر اس طرح پورے دس روزے رکھ لے ۔ “ اس سلسلے میں اولیٰ یہ ہے کہ حج کے تین روزے ذوالحجہ کو عرفات پر وقوف سے پہلے ہی رکھ لے اور باقی سات دن گھر لوٹ کر رکھ لے۔ اس طرح پورے دس روزے رکھ لے ، مزیدتاکید کے لئے کہا گیا ہے ہدی اور روزے کی حکمت صرف یہ ہے کہ حاجی کا تعلق اللہ کے ساتھ مسلسل قائم رہے ، یعنی عمرہ اور حج کے درمیانی عرصے میں جب وہ احرام سے باہر آجاتے تو اس کا یہ شعور ختم نہ ہوجائے کہ وہ ایام حج کی فضا میں ہے ۔ اسے برائیوں سے خاص طور پر بچنا چاہئے اور یہ کہ اللہ مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے ۔ یہ شعور اور جذبہ بالعموم ایام حج میں زندہ ہوتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو مسجد الحرام کے رہنے والے ہیں تو ان کے لئے ایام حج میں عمرہ جائز نہیں ہے ۔ وہ صرف حج کریں گے ۔ وہ عمرے اور حج کے درمیان قربانی کرکے احرام سے نہیں نکل سکتے ۔ اس لئے ان پر فدیہ ، قربانی یا روزہ لازم نہیں ہے ۔ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ” یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے ، جن کے گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ “ جو احکام یہاں تک بیان ہوچکے ہیں ان کے آخر میں اب قرآن مجید ایک زوردار تعقیب اور نتیجہ پیش کرتا ہے اور حجاج کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ” اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ خوب سزا دینے والا ہے ۔ “ تقویٰ ہی امتثال امر کی گارنٹی ہے ۔ اللہ کا خوف اور اللہ کی سزا کا خوف ہی تعمیل احکام کا ضامن ہے ۔ احرام میں تو ایک وقت کے لئے پابندی عائد ہوجاتی ہے ۔
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں ۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے اسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ، کوئی بدفعلی ، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو اور جو نیک کام تم کروگے وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفر حج کے لئے زاد راہ ساتھ لے جاؤ اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے ۔ پس اے ہوشمندو ، میری نافرمانی سے پرہیز کرو

قانونی پابندی لیکن اگر احرام کی حالت ختم ہوجائے تو پھر تقویٰ اور اللہ خوفی وہ واحد نگرانی ہے جو انسان پر اچھا اثر ڈال سکتی ہے اور ایک مومن کی نگہبان ہوسکتی ہے ۔ اب حج کے خصوصی احکام بیان ہوتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ حج کے آداب کیا ہیں ؟ اوقات کیا ہیں ؟ سابق پیراگرافوں کی طرح اس مقطع کا اختتام بھی اسی تلقین اللہ خوفی اور اتقاء پر ہوتا ہے ۔ الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الألْبَابِ ” حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں ۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے ، اسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ، کوئی بدعملی ، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو ، اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفر حج کے لئے زاد راہ ساتھ لے جاؤ اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے ۔ پس اے ہوشمندو ، میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔ “ اس آیت کی ظاہری عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں ۔ اوقات معلوم ہیں ۔ وہ شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں ۔ لہٰذا صرف ان اوقات کے اندر ہی حج کی نیت درست ہوگی ۔ اس سے پہلے کہ اگر کوئی نیت کرے تو صحیح نہ ہوگی۔ اگرچہ بعض مذاہب نے سنت رسول ﷺ کی بنیاد پر اسے جائز قرار دیا ہے اور وہ اس آیت کا مفہوم بیان کرتے ہیں کہ حج کے جو معلوم اوقات ہیں وہ مناسک حج کی ادائیگی کے لئے ہیں ۔ نہت پہلے بھی درست ہے ۔ یہ رائے امام مالک (رح) ، امام ابوحنیفہ (رح) ، امام احمد بن حنبل (رح) نے اختیار کی ہے ۔ ابراہیم نخعی (رح) ، ثوری (رح) اور لیث بن سعد بھی اسی طرف گئے ہیں ۔ جبکہ امام شافعی (رح) نے پہلی رائے اختیار کی ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، جابر ؓ ، عطاء (رح) ، طاؤس (رح) مجاہد (رح) وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے ۔ چانچہ یہی رائے زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔ اب ان معلوم ایام میں اگر کوئی اپنے اوپر حج فرض کرلے یعنی وہ یہ پختہ ارادہ کرلے کہ وہ حج ادا کرے گا اور احرام باندھ لے تو اسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران میں کوئی رفث کوئی بدفعلی کوئی جھگڑے لڑائی کی بات نہ سرزد ہو ۔ رفث سے مراد یہاں جماع اور دواعی جماع کا تذکرہ ہے ۔ عورتوں کے سامنے یا عام محفلوں میں جدال سے مراد لڑائی جھگڑا جس سے فریق دوم غصہ ہوجائے اور فسوق سے مراد تمام بدفعلیاں ہیں چھوٹی ہوں یا بڑی ۔ ان افعال کے ذکر سے مراد یہ ہے کہ ان تمام کاموں سے دوران حج بچنا چاہئے جو تحرج و احتیاط اور اللہ کی جانب تنہائی اور یکسوئی کی فضا کے خلاف ہوں ، کیونکہ حج کے دوران انسان تمام دنیاوی معاملات ترک کردیتا ہے ، اور یہ پورا عرصہ تعلق باللہ کے قیام کی روحانی مشقوں کا عرصہ ہوتا ہے ۔ ایام حج وہ پیریڈ ہے جس میں انسان اپنے داعی لباس سے بھی علیحدہ ہوکر اللہ کے گھر میں چلا جاتا ہے ۔ لہٰذا یہاں اسے چاہئے کہ اس گھر کے شایان شان احترام اور ادب کو ملحوظ رکھے ۔ برے افعال روکنے کے بعد اب کہا جاتا ہے کہ تم اچھے کام کثرت سے کرو وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ” اور جو نیک کام تم کروگے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ “ کیا مومن کے لئے یہی کافی نہیں ہے کہ اس کا آقا اس کے ہر اچھے کام کو ہر وقت دیکھتا رہتا ہے ۔ اللہ دیکھ رہا ہے یہ احساس جگالو ، تمہارا آقا دیکھتا ہے ۔ بڑھتے چلے جاؤ، زیادہ سے زیادہ بھلائی جمع کرلو ۔ یہ ہوتا ہے مومن کا احساس ۔ یقیناً اخروی جزاء سے پہلے ہی ایک عظیم انعام ہے ۔ اس کے بعد یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ سفر حج کے دوران مقدور زادراہ کا انتظام کرو ۔ ہر قسم کا زاد راہ ۔ روح کے لئے بھی اور جسم کے لئے بھی ۔ احادیث میں آتا ہے کہ یمنیوں میں کچھ لوگ حج کے لئے ایسے حال میں چل پڑتے تھے کہ پاس کچھ بھی نہیں ۔ وہ کہتے ہم تو اللہ کے گھر کی زیارت کو جائیں گے اور وہ ہمیں روٹی بھی نہ دے ۔ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ انسان جو بھی کام کرے وہ مکمل تیاری سے کرے ۔ پوری تیاری کے ساتھ دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرے اور پھر اعتماد اور بھروسہ مکمل اسی پر ہو ۔ ان لوگوں کی یہ بات نہ صرف اسلام کے مزاج کے خلاف تھی بلکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بات چیت میں ایک قسم کی بےباکی کا اظہار بھی ہوتا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ حج کرنے کو ذات باری پر ایک قسم کا احسان سمجھتے تھے ۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حج کرتے ہیں لہٰذا وہ زاد راہ کا ذمہ دار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زاد راہ کی دونوں اقسام ، جسمانی زاد راہ اور اللہ خوفی اور تقویٰ کا زاد راہ کا انتظام کرنے کا حکم دیا ۔ اور کہا کہ اللہ کے جناب میں بےباکی اختیار نہ کرو۔ تعبیر ایسی ہے کہ ہر وقت ہر لمحہ تقویٰ ہی تمہارا زاد راہ ہو ، زاد حیات ہو وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الألْبَابِ ” سفر حج کے دوران زاد راہ ساتھ لے جاؤ ۔ بہترین زادراہ پرہیزگاری اور اللہ خوفی ہے۔ “ تقویٰ روح اور قلب کی خوراک ہے ۔ اس سے روح کو قوت حاصل ہوتی ہے ۔ تقویٰ اور اللہ خوفی سے روح طاقتور ہوتی ہے ۔ پھڑپھڑاتی لہلہاتی ہے ۔ روح اس سے جلاپاتی ہے اور روشن ہوجاتی ہے ۔ تقویٰ ہی مدار نجات ہے ۔ وہی لوگ ہوشمند ہیں جو تقویٰ اور اللہ خوفی کی راہ لیں اور ہر کام میں اسے کام میں لاکر خیر و برکت حاصل کریں۔
Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

اور حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ پھر جب عرفات سے چلو تو مشعر حرام کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو ۔ اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے ، ورنہ اس سے پہلے تم بھٹکے ہوئے تھے ۔

مزید احکام حج بیان ہوتے ہیں ، کیا تجارت جائز ہے ۔ کیا دوران حج حاجی مزدوری کرسکتا ہے ؟ وقوف کہاں ہو اور کہاں سے واپسی جائز ہے ؟ ذکر و استغفار کا کیا طریقہ ہے ، یہ مسائل سنئے ! لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ (198) ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ پھر جب عرفات سے چلو ۔ تو مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے نہیں کی ہے ، ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے ۔ پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو ، اور اللہ سے معافی چاہو ، یقینا ً وہ معاف کرنے والا ، رحم فرمانے والا ہے ۔ “ امام بخاری (رح) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ، فرماتے ہیں عکاظ مجنہ اور ذوالمجاز دور جاہلیت کے مشہور تجارتی میلے ہوا کرتے تھے ۔ مسلمانوں نے خیال کیا کہ شاید دور اسلام میں ان میلوں میں تجارت کرنا اب جائز نہیں ہے ۔ اس پر حکم آیا کہ موسم حج میں ” اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ “ ابوداؤد نے ، اپنی سند کے ساتھ ایک دوسرے واسطے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں : مسلمان ایام حج اور اس کے بعد تجارتی موسم میں خرید وفروخت سے پرہیز کرتے تھے ۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ تو اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا ، اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرتے جاؤ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ ابوامامہ تیمی کی ایک روایت میں ہے ، کہتے ہیں میں حضرت ابن عمر سے پوچھا ہم باربرداری کا کام کرتے ہیں ۔ کیا ہمارا بھی حج ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم طواف نہیں کرتے ، نیکی کے کام نہیں کرتے ، جمرے نہیں مارتے ، پھر سر نہیں منڈواتے ؟ کہتے ہیں ہم نے جواب دیا ہاں ، ابن عمر نے فرمایا ایک صاحب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اس نے آپ ﷺ سے یہی سوال دریافت کیا جو آپ لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں ۔ آپ نے اس وقت تک کوئی جواب نہ دیا جب تک جبریل یہ آیت لے کر آ نہیں پہنچے ۔ اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ ابن جریر (رح) نے ابوصالح ، حضرت عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام ، سے روایت کی ہے۔ اس نے کہا اس نے سوال کیا امیر المومنین کیا تم حج میں تجارت کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا بھائی ہمارے لوگوں کی معیشت کا دارومدار ہی حج پر تھا۔ تجارت کے بارے میں اوپر کی پہلی دوروایات سے اہل اسلام کی جس احتیاط کا اظہار ہوتا ہے پھر وہ دوسری روایت میں بار برداری اور مزدوری کے بارے میں جس احتیاط اور پرہیز کا ذکر ہے ، یہ اسی احتیاط اور پرہیز گاری کا ایک حصہ ہے جو اسلام نے مسلمانوں کے اندر دور جاہلیت کے ہر فعل وہر رسم کے خلاف پیدا کردی تھی ۔ مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ وہ دور جاہلیت کے کسی فعل یا کسی رسم کا ارتکاب اس وقت تک نہ کرتے تھے جب تک اس کے بارے میں اسلام کوئی فیصلہ نہ سنا دیتا ۔ اس پارے کی ابتداء میں ہم اس پر بحث کرچکے ہیں ، یعنی صفاومروہ کے درمیان سعی کے بیان کے ضمن میں ۔ ایام حج کے دوران بیع وشراء باربرداری و مزدوری کی اجازت قرآن نے دے دی مگر اس کی تعبیر یوں ہے کہ یہ اللہ کا فضل ہے ۔ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ ” تم اگر اپنے رب کا فضل تلاش کرو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “ حلال کمائی کی تعبیر فضل الٰہی سے کی گئی ہے ۔ تاکہ تجارت کرنے والے ، مزدوری کرنے والے یا دوسرا کوئی نفع اور کام کرنے والے ، یہ سمجھیں کہ وہ محض دولت نہیں کماتے بلکہ یہ اللہ کا فضل بھی ہے ۔ یہ کام صرف مادی جسم کا سروساماں ہی نہیں ہے بلکہ اسے تقدس حاصل ہے اور فضل اللہ ہے ۔ اور اللہ اسے اپنے فضل سے نوازتا ہے ۔ اس لئے تجارت کی اس نوعیت یعنی فضل خداوندی کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ فضل خداوندی اسے تب ہی مل سکتا ہے جب وہ لین دین کرے اور ان اسباب کے ذریعے ہی اسے تلاش کرے جو اللہ تعالیٰ نے نظام رزق کے لئے مقررکئے ہوئے ہیں ۔ جب قلب مومن میں یہ احساس جاگزیں ہوجاتا ہے اور پھر وہ طلب رزق میں نکلتا ہے تو وہ اس سعی میں بھی دراصل عبادت کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کے لئے یہ سرگرمی حالت حج کے خلاف نہیں ہے ۔ کیونکہ حج بھی اللہ کے لئے ہے اور یہ تجارت بھی فضل الٰہی ہے ۔ اسلام سب سے پہلے قلب مومن میں ایسے جذبات اور ایسے تصورات بٹھا دیتا ہے اور پھر اسے میدان میں عمل اتار دیتا ہے اور کھلا چھوڑدیتا ہے کہ وہ جس طرح چاہے کام کرے ۔ اس نقطہ نظر سے اس کا ہر فعل ، اس کی ہر حرکت اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلب رزق ، تجارت کے حکم کو بھی احکام حج کے عین وسط میں بیان کردیا اور تلاش فضل کے ساتھ ہی شہر حرام کے پاس ذکر اور عرفات سے واپسی کے مسائل بیان ہوئے۔ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ ” پھر جب عرفات سے چلو ، تو مشعرالحرام کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے ۔ “ عرفات پر وقوف (کھڑا ہونا) افعال حج کا مرکزی ستون ہے ۔ اصحاب سنن نے دیلمی کی روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا : حج عرفات ہے (تین مرتبہ فرمایا) کوئی شخص طلوع فجر سے پہلے پہلے عرفات تک جاپہنچے تو گویا اس نے حج پالیا۔ منیٰ میں قیام کے تین دن ہیں ۔ لیکن اگر کوئی دو دن گزار کر چلاجائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور کوئی تاخیر کرے تو بھی گناہ گار نہیں ۔ عرفات کے میدان میں کھڑے ہونے کا وقت یوم عرفہ کے زوال کے بعد شروع ہوجاتا ہے یعنی 8 ذوالحجہ کے دن ظہر سے ۔ اور یہ وقت دوسرے دن ، یعنی یوم النحر ، قربانی کے دن کے طلوع فجر تک ۔ امام احمد کا قول یہ ہے کہ وقوف عرفہ کا وقت دن کے شروع ہی سے شروع ہوجاتا ہے ۔ وہ ایک حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو انہوں نے روایت کی ہے۔ دوسرے اصحاب سنن کے علاوہ امام ترمذی نے روایت کرکے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ شعبی عروہ بن مضرس ابن حارثہ ابن لام الطائی سے روایت کرتے ہیں ۔ میں رسول ﷺ کے پاس مقام مزدلفہ میں آیا ، جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے ، میں نے کہا اللہ کے رسول ﷺ میں طے پہاڑ سے آیا ہوں ۔ میری سواری بھی تھک گئی ہے اور میں بھی چور چور ہوگیا ۔ اللہ کی قسم میں ہر پہاڑ پر کھڑا ہوا ہوں ۔ کیا میرا حج مکمل ہوگیا ؟ اس پر رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص ہماری اس نماز میں پہنچ جائے اور ہمارے ساتھ یہاں توقف کرے یہاں تک کہ ہم یہاں سے چل پڑیں ۔ بشرطیکہ وہ اس سے پہلے دن کے وقت یا رات کے وقت میدان عرفات میں کھڑا ہوچکا ہو۔ تو اس کا حج پورا ہوگیا اور اس کی تکلیف دور ہوگئی۔ درج بالا دو اقوال کے مطابق ، رسول ﷺ نے عرفات پر وقوف کے وقت کو قدرے بڑھایا یا اسے یوم النحر کی صبح تک بڑھادیا ، یعنی ذوالحجہ کی دسویں تک ، یہ کیوں ؟ اس لئے کہ مسلمانوں کا طرزعمل مشرکین کے طرزعمل سے قدرے مختلف ہوجائے ۔ ابن مردویہ اور حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے۔ دونوں نے عبدالرحمٰن بن مبارک سے حضرت مسور ابن مخرمہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ہمیں عرفات میں خطبہ دیا۔ حمد وثناء کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا (امابعد) آج کا دن حج اکبر کا دن ہے ۔ مشرکین اور بت پرست غروب شمس سے پہلے ہی چلنا شروع کردیتے تھے ۔ جب سورج ابھی پہاڑیوں کے سروں پر ہوتا اور سورج کے سامنے پہاڑیاں یوں نظر آئیں گویا کہ آدمیوں کے عمامے ہیں اور ہم ان کے طرز عمل کے خلاف دوسرے دن طلوع الشمس سے پہلے پہلے یہاں سے چلیں گے ۔ رسول ﷺ کی یہ روایت کہ آپ یوم عرفہ کے دن ، غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہوئے ۔ صحیح مسلم میں جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت میں ہے ۔ آپ یوں عرفات میں کھڑے رہے ، سورج غروب ہوگیا ، زردی تھوڑی تھوڑی واضح ہوگئی ۔ اور سورج کی ٹکیہ صاف غائب ہوگئی ۔ اسامہ آپ کے پیچھے آپ کی سواری پر بیٹھ گئے ۔ رسول ﷺ اب آگے بڑھے ۔ اونٹنی کی لگام خوب کھینچ لی ۔ یہاں تک کہ اس کا سر ہودج کے اگلے حصے سے لگنے لگا ۔ آپ ﷺ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ فرماتے رہے : لوگو ! آرام سے ، رک رک کر چلوجب راستے میں پہاڑی آجاتی اور سواری کو اوپر چڑھنا ہوتا تو آپ مہار ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ سہولت سے چڑھ جائے ۔ جب آپ ﷺ مزدلفہ پہنچے تو آپ ﷺ نے مغرب و عشاء کی دونوں نمازیں ایک اذان اور دواقامتوں کے ساتھ پڑھائیں ۔ دونوں نمازوں کے درمیان تسبیح کچھ نہ تھی ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے آرام فرمایا۔ صبح طلوع ہونے کے بعد جب روشنی خوب پھیل گئی تو آپ ﷺ نے صبح کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ پڑھائی ۔ آپ ﷺ پھر اونٹنی پر سوار ہوگئے اور مشعرالحرام تک آئے اور رو قبلہ ہوکر وہاں دعا فرمائی ۔ تکبیر وتہلیل فرمائی ۔ یہاں آپ ﷺ کھڑے ہی رہے ، یہاں تک کہ زردی پھیل گئی ۔ اور طلوع آفتاب سے پہلے ہی آپ وہاں سے روانہ ہوگئے ۔ یہ ہے وہ فریضہ جو ادا کیا اور رسول ﷺ نے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّين ” پھر جب تم عرفات سے چلو ، تو مشعر حرام کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو ۔ اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے ۔ ورنہ اس سے پہلے تو تم بھٹکے ہوئے تھے۔ “ مشعر حرام سے مراد مزدلفہ ہے ۔ قرآن مجید کا حکم یہ ہے کہ عرفات سے واپسی پر یہاں آکر اللہ کو یاد کرو ، یاد دلایا جاتا ہے کہ اس ذکر کی بھی اس نے انہیں ہدایت کی ہے ۔ اس کی ہدایات میں سے یہ ہدایت ہے اور یہ ذکر گویا ان کی جانب سے ایک شکر یہ ہے کہ جو وہ اللہ تعالیٰ کا ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ وہی ہے جس نے انہیں ہدایت دی ورنہ اس ہدایت سے پہلے تو ان کی حالت یہ تھی وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّين ” ورنہ اس سے پہلے تو تم بھٹکے ہوئے تھے۔ “ پہلی جماعت مسلمہ ، صحابہ کرام اس حقیقت کو خوب اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کا گہرا احساس اپنے اندر پاتے تھے ۔ عرب گمراہی میں ڈوبے ہوئے تھے ، انہوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔ عقائد خراب ، بتوں ، جنوں اور ملائکہ کے پجاری ، فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھنے والے ، جنوں کو اللہ تعالیٰ کا رشتہ دار سمجھنے والے ، غرض یہ اور اس قسم کے بیشمار نطریاتی اور عملی گمراہیوں میں یہ لوگ ڈوبے ہوئے تھے ۔ ان غلط تصورات اور باطل عقائد کی اساس پر ان لوگوں نے اپنے لئے ایک نظام عبادت اور نطام زندگی وضع کرلیا تھا ۔ بعض جانوروں کی پشت کا گوشت اور یا پورا گوشت بغیر کسی معقول جواز کے انہوں نے حرام قرار دے دیا تھا ، جواز یہ پیش کرتے تھے کہ ان جانوروں کا اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق ہے ۔ وہ اپنی اولاد کو اللہ کے لئے نذر کرتے اور جنات کو اس میں شریک کرتے ۔ اور اس کے علاوہ بےشمارجاہلی عبادات ورسومات تھے جن کا کوئی جواز نہ تھا ، صرف ان بےبنیاد اور غلط عقائد کا نتیجہ تھے ۔ نیز ان عقائد کی وجہ سے ان کا اجتماعی نظام فاسد ہوچکا تھا اور وہ بحیثیت قوم اخلاق باختہ تھے ۔ ان کے اندر طبقاتی امتیازات گھر کرچکے تھے مثلاً ایک یہ کہ وہ عرفات تک نہ جاتے اور جس کی اصلاح اس آیت سے کی گئی ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ ” پھر جہاں سے اور لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو۔ “ اور قرآن مجید نے ان تمام فسادات اور رسومات کو ختم کرکے رکھ دیا ۔ اس کے علاوہ ان کے درمیان مسلسل خاندانی رقابتیں اور قبائلی جنگیں جاری رہتی تھیں اور وہ اجتماعی طور پر کسی بھی وقت ایک قوم نہ بن سکتے تھے تاکہ اقوام کی برادری میں ان کی کچھ وقعت ہوتی ۔ ان کا خاندانی نظام برباد ہوچکا تھا اور جنسی تعلقات میں سخت بےراہ روی پائی جاتی تھی اور وہ اس جنسی بےراہ روی پر فخر کرتے تھے ۔ ان کے زبردست لوگ ضعفاء کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتے تھے اور اس سلسلے میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے سوا ان کے معاشرے میں کوئی میزان عدالت نہ تھی ۔ غرض اس وقت کے عرب معاشرے کا اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو وہ انسان کی فکری اور عملی گمراہی اور فساد کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔ اور یہ صرف اسلام تھا ، جس نے اس معاشرے کو بلند کیا اور اسے فکری اور عملی ضلالت سے نجات دی ۔ اور جب وہ قرآن مجید کی یہ آواز سنتے وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّين ” اللہ کو اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ، ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے ۔ “ تو ان کے حافظہ کے اسکرین پر ان کے تخیلات کے نگار خانہ میں ، ان کے شعور کے نہاں خانہ سے یکلخت وتصاویر ۔ ان کی زندگی کی بھدی تصاویر ، ان کی زندگی کے گرے ہوئے بدنما نقشے سامنے آجاتے ہوں گے ۔ ان کی تاریخ تو ان بدنما مناظر سے بھری پڑی تھی ۔ خیال و شعور کی اسکرین پر اپنی یہ تصاویر دیکھ کر جب وہ پھر اپنی موجودہ پاکیزہ زندگی اور اپنے اس بلند مقام پر نگاہ ڈالتے ہوں گے جو اسلام نے انہیں عطا کیا ، جہاں تک اسلام نے انہیں بلند کیا ۔ تو وہ اس سچائی کی گہرائیوں تک جاپہنچے ہوں گے ۔ وہ بغیر کسی مبحث کے یہ سمجھ جاتے ہوں گے کہ ان کی زندگی میں اسلام کا اساسی رول کیا ہے ؟ عربوں کے علاوہ بھی ہر قوم ، ہر نسل کے مسلمانوں کے سلسلے میں یہ بات اب بھی ایک زندہ حقیقت ہے ۔ اسلام کے بغیر ان کی حیثیت کیا رہ جاتی ؟ اس نظریہ حیات کو اگر نظر انداز کردیاجائے تو ان کا وزن کیا رہ جاتا ہے ؟ جب لوگ اسلام کی روشنی پالیتے ہیں ، اور جب ان کی پوری زندگی میں اسلامی نظام حیات نافذ ہوجاتا ہے اور ایک حقیقت بن جاتا ہے ۔ تو وہ گراوٹ سے رفعت ، چھٹ پنے کے مقابلے میں عظمت ، گمراہی کے بدلے ہدایت اور پریشان خیالی کے مقابلے میں فکر مستقیم پاجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں یہ تبدیلی اس وقت رونما نہیں ہوتی جب تک وہ صحیح معنوں میں مسلمان نہیں بن جاتے ۔ اور جب تک وہ اپنی پوری زندگی کو اسلامی نظام حیات کے مطابق استوار نہیں کرلیتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پوری انسانیت ایک اندھی جاہلیت میں سرگرداں ہے ۔ اور اس وقت تک یوں ہی رہے گی جب تک وہ اسلام کے حظیرہ ہدایت میں داخل نہیں ہوجاتی ۔ اس راز کو تو صرف وہی شخص کماحقہ پاسکتا ہے ، جس نے جاہلیت میں کچھ دن گزارے ہوں ، جس میں آج کل پوری انسانیت مبتلا ہے اور جس نے پوری دنیا کو بدی سے مالا مال کردیا ہے ، جس کا ہر جگہ دور دورہ ہے ، پھر ایسا شخص اسلامی تصور حیات کو پالے اور پھر اس کے مطابق زندگی بسر کرکے دیکھ لے اور تجربہ کرکے معلوم کرے کہ اسلامی نظام زندگی کس قدر اعلیٰ وارفع نظام ہے اور اس کے علاوہ اس کے ماحول میں جو نظام ہیں وہ ناپاکی ، غلاظت اور گندگی کے ڈھیر ہی ڈھیر ہیں ۔ جب انسان اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام زندگی کی بلند ترین چوٹی پر چڑھ جاتا ہے وہاں سے پوری انسانیت کے تمام تصورات زندگی ، تمام مروجہ اجتماعی نظام اور زندگی کے تمام طور وطریقوں پر نظر ڈالتا ہے ، ان تمام بڑے بڑے فلسفیوں کے تصورات پر ، تمام جدید وقدیم مفکرین کے افکار پر ، تمام جدید وقدیم نطام ہائے زندگی پر انسان اس بلندی اور اسلامی نظام حیات کی بلند چوٹی سے جب نظر ڈالتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ پوری انسانیت کس مصیبت ، کس بدبختی میں مبتلا ہے ۔ ان فضولیات اور ان بدبختوں نے اس کس قدر ذلیل ولاغر کردیا ہے ۔ وہ ایسی ژولیدہ فکری اور علمی افراتفری میں مبتلا ہے کہ کوئی عقلمند آدمی اس میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ اور پھر وہ بزعم خود غلط انسان کا دعویٰ یہ ہے کہ اسے اللہ کے بھیجے ہوئے نظام زندگی کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی یاد دہانی اللہ تعالیٰ یہاں کرا رہے ہیں اور جس کا احسان مومنین کو یاد دلایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم کرم ہے کہ اس نے تمہیں اس نعمت کبریٰ سے سرفراز کیا وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ ” اور اسے اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے۔ اگرچہ اس سے قبل تم گم کردہ راہ تھے۔ “
Ayah 2:199

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں ، وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو ، یقینا ً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔

حج مسلمانوں کا ایک عظیم سالانہ اجتماع ہے ۔ اس میں وہ باہم ملتے ہیں ، اسلام کے اس آسرے کے سوا کوئی آسرا نہیں ہوتا ، اسلامی نشانات کے سوا سب نشانات مٹ جاتے ہیں ۔ بدن پر غیر سلے دوکپڑے ، باقی ہر چیز سے عاری ۔ ضروری ستر کے علاوہ سرپاؤں ننگے ، فرد اور فرد کے درمیان کوئی جدائی نہیں ۔ قبیلے اور قبیلے کے درمیان کوئی اختیار نہیں ، قوم اور قوم کے درمیان کوئی جدائی نہیں ، اسلامی نظریہ حیات ہی سب کا عقیدہ ہے ، اسلامی نسب میں سب کا نسب ہے ۔ اسلامی رنگ ہی سب کا رنگ ہے ۔ قریش دور جاہلیت میں اپنے آپ کو ” حمس “ بہادر وغیور کرہتے تھے ۔ انہوں نے اپنے لئے ایسے امتیازات اختیار کئے ہوئے تھے جو انہیں تمام عربوں سے الگ کردیتے تھے ، ان امتیازات میں سے ایک یہ تھا کہ وہ عام عربوں کی طرح عرفات پر ” وقوف عرفہ “ پر ” وقوف “ نہ کیا کرتے تھے ۔ نہ وہ قیام (عرفات) سے لوٹتے تھے جہاں سے تمام لوگ واپس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ احکام حج میں خصوصی طور پر ان کے لئے حکم نازل ہوا ، اور امتیاز ختم کرکے انہیں اس مساوات کے دائرے کے اندر لے آیا گیا ، جو اسلام پیدا کرنا چاہتا تھا ، چناچہ تمام مصنوعی امتیازات کو ختم کرکے ذی امتیاز قبیلہ قریش کو امت مسلمہ کے اندر ضم کردیا گیا ۔ حکم دیا گیا ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” اور پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے پلٹو ، اور اللہ سے معافی چاہو ، یقیناً وہ معاف کرنے والا ہے۔ “ امام بخاری نے ہشام ، اس کے باپ کے واسطہ سے حضرت عائشہ کی یہ حدیث روایت کی ہے۔ فرماتی ہیں !” قریش اور ان کے دین کے پیروکارنہ صرف وہاں رک جاتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو ” حمس “ کہتے تھے جبکہ تمام عرب اقوام عرفات میں ” وقوف “ کرتیں ۔ جب اسلام ظہور پذیر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ عرفات پر جائیں اور وہاں وقوف فرمائیں اور پھر وہاں سے پلٹیں ۔ یہ ہے مراد اس آیت سے حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ ” جہاں سے لوگ پلٹیں ۔ “ جہاں اور لوگ ٹھہریں وہاں تم بھی ٹھہرو ، جہاں سے اور لوگ پلٹیں وہیں سے تم بھی پلٹو ، اسلام کی نظر میں انساب اور طبقات کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ تمام لوگ ایک ہی امت کے فرد ہیں ۔ بالکل برابر ، ہوں جس طرح کنگھی کے دندانے ۔ کسی کو کسی پر برتری نہیں ۔ سوائے تقویٰ اور خدا خوفی کے ۔ اسلام نے تو حکم دیا ہے کہ وہ عام طور پر رنگارنگ لباس پہنتے ہیں اسے اتار پھینکیں ۔ اللہ کے گھر میں بھائیوں کی طرح سادہ شکل اور عام حیثیت میں آئیں ۔ بھائی بھائی سے برابری کے ساتھ ملے ۔ جب رنگا رنگ کپڑے تک اتروالئے گئے تو قوم ونسب پر فخر کے کیا معنی ؟ چھوڑ دو ، چھوڑ دو جاہلیت کے تمام تعصبات کو ۔ یہ تو ناپاک ہیں ۔ اسلامی رنگ میں رنگ جاؤ۔ اللہ سے مغفرت کے طلب گار بنو۔ جو دوران حج تمہارے دلوں میں کھٹکے ۔ جن کا تم سے ارتکاب ہوگیا ۔ جو غصے میں تمہاری زبان پر آگئیں ۔ اگرچہ معمولی ہوں کیونکہ ان سے تمہیں روکا گیا تھا ، حکم تھا کسہ شہوانی فعل کو سوچو بھی مت۔ کسی بدفعلی ارتکاب نہ ہو اور کسی سے غصے کی بات نہ کرو۔ یوں اسلام ، دوران حج مسلمانوں کے سلوک اور طرز عمل کو درست کردیتا ہے ۔ ایک امت اور ایک ملت کی تصور پر ، جس میں کوئی طبقاتی امتیاز نہ ہو ۔ جس میں کسی قوم اور قوم کے درمیان کوئی فرق نہ ہو ، جس میں لسانی بنیادوں پر لوگوں کے درمیان امتیازات نہ ہوں ۔ جس میں وطن کی بنیاد پر قوم ، قوم سے جدا نہ ہوجاتی ہو ۔ غرض مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ ہر چیز سے استغفار پڑھیں جو انہیں اس بلند اور پاکیزہ تصور زندگی سے دور پھینک دیتی ہو۔
Ayah 2:200

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب اپنے رب کے احکام ادا کرچکو تو جس طرح پہلے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے تھے ، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر (مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے ) ان میں سے کوئی تو ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ، ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دے دے ، ایسے شخص کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ، اختتام حج کے بعد عرب سوق عکاظ ، مجنہ اور ذوالمجاز نامی بازاروں کو جاتے ۔ یہ بازار صرف خروید وفروخت ہی کے بازار نہ تھے ۔ بلکہ ان میں تقریروں ، اشعار اور آباء اجداد کی نفرتوں کا بھی مقابلہ ہوتا ۔ ان بازاروں میں ہر شخص اپنا نسب نامہ بیان کرتا ۔ اس وقت عربوں کی حالت یہ تھی کہ ان نفرتوں اور کارہائے نمایاں کے بیان و اظہار کے علاوہ عربوں کے پاس کوئی پروگرام ہی نہ تھا ۔ ان کے پاس کوئی انسانی مشن نہ تھا ، جس کی راہ میں وہ اپنی عظیم قوت گویائی اور بلاغت اور عظیم عملی قوتوں کو کام میں لاتے ۔ عربوں کو بلند ترانسانی مشن تو صرف اسلام نے دیا ہے ۔ اسلام سے پہلے ان کی حالت یہ تھی کہ نہ زمین پر ان کا کوئی پروگرام ہے اور نہ آسمانوں پر ان کا کوئی ذکر یا مقام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حج سے فارغ ہوکر لوگ ان میلوں اور بازاروں میں اپنے قیمتی اوقات اور اپنی قیمتی طاقتوں کو ان لغو اور بےکار باتوں میں صرف کرتے ۔ اپنے حسب ونسب بیان کرتے ، اپنے آجاؤ اجداد کے کارنامے یاد کرتے ۔ اور فخر ومباہات کے ساتھ ........ لیکن جب اسلام آیا اور انہیں ایک عظیم نصب العین دیا گیا ، انہیں زندگی کا ایک جدید تصور دیا گیا ، بلکہ انہیں ایک نیا جنم دیا گیا تو وہ بامقصد اور بامراد قوم بن گئے ۔ قرآن کریم انہیں صرف وہ تعلیم دیتا ہے جس میں ان کی بھلائی ہے۔ مناسک حج ادا کرچکنے کے بعد ، اب اسلامی تعلیم پر کھئے کہ آباء و اجداد کے تذکروں کی بجائے اللہ تعالیٰ کو یاد کرو فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ” پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کرچکو ۔ تو جس طرح پہلے اپنے آباء اجداد کا ذکر کرتے تھے ، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ “........” جس طرح پہلے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے تھے ۔ “ ان الفاظ سے معلوم ہوتا نہیں کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ اب بھی آباء و اجداد کا تذکرہ جائز ہے ۔ اس تمثیل میں تنقیدی پہلو ہے اور مقصد یہ ہے کہ اس کام سے بہتر کام میں اپنے اوقات صرف کرو یعنی جس طرح تم پہلے اپنے آباء اجداد کا تذکرہ کرتے تھے جو ایک فضول حرکت تھی ۔ جو کوئی جائز یا مستحسن کام نہیں تھا ، اس کو بدل دو ۔ اب اللہ کو یاد کرو بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو بالخصوص موسم حج میں جبکہ تم نے عام لباس بھی اتار کر ایک خاص لباس پہن لیا ہے ۔ اسی طرح آباء اجداد پر تکابر وتخافر کے لباس کو اتار پھینکو۔ صرف اللہ کے ذکر ہی سے انسان کا رتبہ بلند ہوتا ہے ۔ آباء اجداد کے جائز وناجائز تفاخر کے ذریعے نہیں ۔ اب زندگی کی جدید قدروں کا میزان ومعیار تقویٰ ہے ۔ اللہ کا خوف ہے اور تعلق باللہ ہے ۔ اس کا ذکر اور اس کی خشیت ہے۔
Ayahs 2:201–202

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور کوئی کہتا ہے ، اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے ۔ اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا ۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی ۔

اب یہاں انسانوں کو اسلامی میزان اور اسلامی معیار کے مطابق تولا اور پرکھا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو انسانوں کی قدریں بتاتا ہے اور ان کے مطابق مختلف لوگوں کی قیمتیں متعین کرکے دکھاتا ہے : فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ (200) وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (201) أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ ” ان میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی ، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا ، ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی ۔ “ لوگوں میں دونقطہ ہائے نظر ہیں ۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پیش نظر صرف دنیا ہے ۔ اسے حصول دنیا کا بےحد شوق ہوتا ہے ۔ ہر وقت دنیاوی امور ہی میں مصروف رہتا ہے ۔ اس نقطہ نظر کے حامل لوگ حج کے موقع پر آیا کرتے تھے ، ان لوگوں کی دعائیں کچھ اس قسم کی ہوا کرتی تھیں :” اللہ ! اس سال کو بارش کا سال بنائیے ، تروتازگی کا سال بنائیے ، اچھی اولاد کا سال بنائیے وغیرہ۔ یہ لوگ اپنی دعاؤں میں آخرت کا ذکر تک نہ کرتے تھے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے ۔ کیونکہ ہر نسل اور ہر علاقے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کے پیش نظر صرف دنیا ہی دنیا ہوتی ہے اور یہ لوگ جب اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگیں تو بھی دنیا ہی مانگتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا شغل ہی دنیا میں ہوتا ہے۔ ان کے دل و دماغ پر دنیا ہی چھائی ہوتی ہے ۔ اور دنیا اس کی ذات کی گہرائیوں تک اتر چکی ہوتی ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان کا پورا حصہ اس دنیا ہی میں عطا کردیتا ہے ۔ اگر ان کے لئے یہاں کچھ مقرر ہو ، ان کے مقدر میں ہو ، اور آخرت میں تو ایسے لوگوں کا کچھ حصہ نہیں ہے مطلقاً کچھ نہیں ۔ دوسرا گروہ ایسا ہے جس کا نقطہ نظر سابق سے زیادہ وسیع ہے ۔ ان کا نفس بلند اور فطرت عظیم ہے ۔ یہ لوگ واصل باللہ ہیں ۔ یہ لوگ اچھی دنیا کے بھی طالب ہیں لیکن وہ عالم آخرت میں بھی حصہ چاہتے ہیں ۔ اسے بھی صاف بھولے ہوئے نہیں ہیں ۔ یہ گروہ کہتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ “ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے دونوں جہانوں کی بھلائی کے طلب گار ہیں ۔ یہ بھلائی کا نام نہیں لیتے اس کی تخصیص نہیں کرتے ، یہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ اللہ ان کے لئے جو بھلائی چاہے اختیار کرے ۔ وہ مختار ہے اور یہ لوگ اس کے اختیار پر راضی ہیں ۔ اس قسم کے لوگوں کو اللہ ضمانت دیتا ہے کہ ان کا حصہ انہیں ضرور ملے گا ۔ اس میں دیر نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکاتے ہیں ۔ ان قرآنی تعلیمات کی رو سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو ، اپنے تمام امور اس کو سپرد کردے ، اللہ کو اپنا اختیار دے دے ، اور پھر اللہ اس کے لئے جو اختیار کرے اس پر راضی ہو ، تو ایسے شخص کو دنیاوی بھلائیاں بھی ملیں گی اور آخرت میں بھی خیر ہی خیر اس کے حصے میں ہوگی اور جس شخص نے اپنے پیش نظر صرف دنیاہی کو رکھا تو ایسا شخص تو آخرت کو ابھی سے کھوبیٹھا ۔ اس نقطہ نظر والے شخص نے اپنی دعا میں بھی راہ اعتدال کو اختیار کیا ہے اور یہ اسلام کے پیدا کردہ ایک ایسے تصور حیات پر جما ہوا ہے جو نہایت موزوں اور نہایت خوشگوار ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ ترک دنیا اختیار کرلیں ۔ کیونکہ انہیں خلافت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور منصب خلافت انہوں نے اس کرہ ارض پر سنبھالنا ہے ۔ اسلام کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنے دنیاوی امور میں بھی اللہ کی طرف متوجہ رہیں ۔ وہ اپنے نقطہ نظر کو اس قدر محدود نہ کریں کہ وہ خود دنیا کے محدود دائرے کے اندر محدود ہوکر رہ جائیں ۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان کو اس کی محدود دنیا کی چار دیواری سے آزاد کردے ۔ یوں کہ وہ اس دنیا میں بھی کام کرے ، اس سے کام بھی لے ۔ مگر اس کے اندر نہ گھر جائے ۔ اس کے پنجے سے آزاد بھی رہے ۔ وہ یہاں منصب خلافت کے تمام فرائض سرانجام ۔ لیکن اس کی نظریں افق اعلیٰ پر ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام اہتمامات ، وہ تمام سرگرمیاں جن کے فوائد اس دنیا تک محدود ہوں ۔ ان پر اگر ایک انسان ۔ ایک مومن انسان اسلامی تصور حیات کے مقام بلند سے ایک حقارت آمیز نظر ڈالے تو وہ سب کچھ اسے حقیر و ذلیل اور بےوقعت نظر آئے گا بشرطیکہ وہ اسلامی تصور حیات کی بلند چوٹی پر پہنچا ہواہو۔