2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 2:243

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

تم نے ان لوگوں کے حال پر کچھ غور کیا ، جو موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے ؟ اللہ نے ان سے فرمایا : مرجاؤ۔ اور پھر اس نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑافضل فرمانے والا ہے ، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔ “

درس 16 ایک نظر میں اس سبق کی اہمیت اور اس میں امم سابقہ کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان کی صحیح قدروقیمت تب ہی ذہن میں بیٹھ سکتی ہے ، جب ہم پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ قرآن امت مسلمہ کی ایک زندہ کتاب ہے ، یہ کتاب اس کے لئے ایک رہنما ئے ناصح ہے ۔ یہ اس کی مرشد ہے ۔ یہ اس کا مدرسہ ہے جہاں وہ امن سے زندگی کا سبق حاصل کرتی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی اسلامی جماعت کے لئے اس کتاب کو ضابطہ ترتیب قرار دیا ۔ جس نے اپنے وقت پر اس کتاب کی روشنی میں اسلامی نظام قائم کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا اور یہ کہ پہلی اسلامی جماعت کو اس منصب پر اس وقت فائز کیا گیا ، جب اس کتاب کے مطابق اسے اچھی تیار کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے لئے یہ مقام متعین کیا ہے کہ وہ تحریک اسلامی کا ایک زندہ راہنما ہوگی اور یہ کہ رسول ﷺ کی وفات کے بعد اس تحریک کی آنے والی نسلوں کے لئے یہ کتاب زندہ قائد کا کام سرانجام دے گی ۔ ان آنے والی نسلوں کی تربیت کرے گی اور انہیں اس قائدانہ رول کے لئے تیار کرے گی ، جس کے لئے اس کتاب نے اس تحریک کی ہرنسل کے ساتھ پختہ وعدہ کررکھا ہے کہ جب بھی تحریک اسلامی اس کتاب کو اپنا ہادی اور راہنما تسلیم کرے گی ، جب بھی اس کی ہدایت کو اپنائے گی ، جب بھی تحریک اپنا یہ عہد پورا کرے گی کہ وہ مطیع فرمان ہے اور اپنا نظام زندگی اس کتاب سے اخذ کرے گی ، اس کتاب کو باعث عزت سمجھے گی ، اور تمام نظاموں پر اس کو غالب کرے گی تو تحریک اسلامی دنیا میں اعلیٰ مقام پائے گی ۔ سب سے برتر ہوگی اور یہ اللہ کا وعدہ ہے ، یہ اس کتاب کا وعدہ ہے ۔ یاد رکھو ! قرآن مجید محض ایک کتاب تلاوت ہی نہیں ہے یہ تو ایک مکمل دستور حیات ہے ۔ یہ تو دستور ترتیب ہے ۔ یہ تودستور عمل ہے اور پوری زندگی کے لئے راہ عمل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں امم سابقہ کے تجربے اور ان کے واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں تاکہ ان سے جماعت مسلمہ عبرت حاصل کرے ، اس لئے یہ کتاب نازل ہی اس لئے ہوئی کہ اس سے اس جماعت کی ترتیب ہو ۔ اس کتاب میں آدم (علیہ السلام) سے لے کر رسول اللہ ﷺ کے دور تک تمام کرہ ارض پر ان تمام ایمانی دعوتوں کے تجربات بیان کئے گئے ہیں ۔ یہ تمام دعوتی تجربات امت مسلمہ کے لئے تا قیامت زاد راہ ہیں ۔ نفس انسانی کے تجربات اور حیات انسانی کے مختلف واقعاتی تجربات اس کتاب میں ضبط ہیں تاکہ امت مسلمہ اپنی راہ ورسم سے باخبر ہوجائے ، اپنے لئے زاد راہ کا ساز و سامان تیار کرے اور اس راہ میں ان متنوع تجربات کا ذخیرہ اس کے لئے مشعل راہ ہو۔ یہی وہ مقاصد ہیں جن کی خاطر قرآن مجید میں بکثرت قصص بیان ہوئے ، یہ قصے مختلف نوعیت رکھتے ہیں اور ہر قصے میں امت کے لئے واضح اشارات پائے جاتے ہیں ۔ قرآن مجید نے اور اقوام کی نسبت ، بنی اسرائیل کے قصے زیادہ تعداد میں نقل کئے ہیں ، جس کی متعدد وجوہات ہیں ۔ ان میں سے کچھ وجوہات ہم نے فی ظلال القرآن پارہ اول کی تفسیر میں ، آغاز ذکر بنی اسرائیل کے موقع پر بیان کئے ہیں ۔ کچھ وجوہات اس بارے میں مختلف مقامات پر ہم نے بیان کی ہیں ۔ بعض وجوہات یہاں کی مناسبت سے پیش خدمت ہیں ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ امت مسلمہ کی بعض آنے والی نسلیں ان حالات سے گزریں گی ، جن سے بنی اسرائیل گزرے ۔ مسلمان اپنے دین اور اپنے نظریہ حیات کے معاملے میں وہی موقف اختیار کریں گے جو بنی اسرائیل نے اختیار کیا ۔ اس لئے قرآن مجید نے درحقیقت سرد لبراں ، قصص بنی اسرائیل کی صورت میں بیان کیا ہے تاکہ مسلمانوں کی آنے والی نسلیں ان سے نصیحت حاصل کریں اور عبرت پکڑیں ۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آنے والی نسلوں کے ہاتھ میں ایک صاف آئینہ تھما دیا تاکہ وہ ہر وقت اس میں اپنی شکل دیکھ سکیں ، اور زندگی کی گزرگاہوں میں ، جو نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ، ان کے بارے میں پیشگی ہدایات ان کے پاس ہوں۔ امت مسلمہ کی تمام نسلوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس کتاب الٰہی کو خوب سمجھ بوجھ کر پڑھیں ۔ وہ اس کی ہدایات پر اس طرح غور کریں کہ گویا یہ ہدایات آج اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہورہی ہیں ، تاکہ آج کے مسائل کو ان کی روشنی میں حل کیا جائے اور انسانیت کے لئے آج کے سفر میں ، اس کے مستقبل کی تاریکیاں روشن کرے ۔ اس کتاب کو محض کلام جمیل سمجھ کر اور نہایت ہی حسن قرأت سے پڑھ کر ہی نہ بیٹھ جاؤیا اسے یہ سمجھ کر نہ پڑھو کہ یہ ایک رفتہ وگزشتہ حقیقت کی محض ایک روئیداد ہے ۔ اور اس حقیقت کو اس کرہ ارض پر اب دوبارہ نہیں دہرایا جاتا۔ ہم اس قرآن مجید سے اس وقت تک فائدہ نہیں اٹھاسکتے جب تک اس میں ہم روزمرہ کی واقعاتی زندگی کے حقائق کے بارے میں ہدایات تلاش نہ کریں ۔ آج کے مسائل کا حل اور کل کے مسائل کی منصوبہ بندی ، بعینہ اسی طرح جس طرح پہلی جماعت اسلامی اس کتاب کو اس طرح لیتی تھی ۔ وہ اپنے تمام موجودہ مسائل کا حل اس کتاب میں تلاش کرتی تھی ۔ جب بھی ہم قرآن مجید کو ، اس فہم و تدبر کے ساتھ پڑھیں گے ، ہمیں جس چیز کی تلاش ہوگی وہ ہمیں اس میں ملے گی ۔ بلکہ ہم اس میں ایسی عجیب ہدایات پائیں گے ، جن تک کسی ایسے شخص کا ذہن نہیں پہنچ سکتا ، جو اس کتاب کو غفلت سے پڑھتا ہے ، ہمیں اس کا ہر کلمہ ، اس کا ہر لفظ ، اس کی ہر عبارت اور اس کی ہر ہدایت زندہ جاوید نظر آئے گی ۔ چلتی پھرتی نظر آئے گی ، زندہ ومتحرک نظر آئے گی اور صاف صاف اشارہ کرتی نظر آئے گی وہ ہے تمہاری راہ ! وہ ہے نشان راہ ! یہ کتاب کہے گی یہ کرو اور اس سے بچو ، وہ کہے گی : یہ تمہارا دوست ہے اور یہ دشمن ہے ۔ وہ کہے گی : یہ احتیاط کرو اور یہ تیاری کرو ۔ غرض یہ کتاب ہماری زندگی کے ہر حال کے بارے میں ہم سے طویل اور مفصل گفتگو کرے گی اگر ہم اس انداز سے قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو یقیناً ہمیں اس میں زندگی بھی ملے گی اور زندگی کا سازوسامان بھی ملے گا۔ اور تب ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو صحیح طرح سمجھ سکیں گے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، جب اللہ اور رسول تمہیں اس بات کی طرف بلائیں ، جو تمہیں زندہ کرتی ہے ، تو اس پر لبیک کہیں۔ “ قرآن کریم دراصل زندگی کی طرف دعوت ہے ۔ دائمی زندگی اور تازہ بتازہ زندگی کی دعوت ہے ۔ وہ تمہیں ایسی زندگی کی طرف دعوت نہیں دیتا جو گزرچکی ہے اور جو صفحات تاریخ کا ایک ورق بن چکی ہے۔ اب اس تمہید کی روشنی میں ذرا اس پورے سبق پر ایک نظر دوڑائیں ۔ اس سبق میں امم سابقہ کے تجربات میں سے دوتجربے پیش کئے گئے ہیں ۔ امت مسلمہ جن عملی تجربات سے گزری ، ان دوتجربات کو بھی اس ذخیرہ میں شامل کیا جارہا ہے ۔ امت کے سامنے یہ تجربات رکھ کر اسے ، ان حالات کے لئے تیار کیا جارہا ہے جو اس کی زندگی میں پیش آنے والے ہیں ۔ اس لئے کہ وہی ایمانی نظریہ حیات کی وارث ہے اور امم سابقہ کے تجربات کے اس ، سرسبز کھیت کی دہقانی اب اس امت کے حصے میں ہے اور اسے میدان میں ایک اہم رول ادا کرنا ہے۔ پہلا تجربہ ایسے لوگوں کا ہے جس کا نام قرآن مجید نے نہیں لیا ۔ یہ واقعہ قرآن مجید نے پورے اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ، لیکن جس مقصد کے لئے اسے لایا گیا ہے وہ اچھی طرح پورا ہوجاتا ہے ۔ یہ ایسے لوگوں کا تجربہ ہے جو أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ ” موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کرنکلے تھے اور ہزاروں کی تعدد میں تھے ۔ “ لیکن انہیں خروج وفرار اور اس خوف وہراس نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور وہ جس انجام سے ڈر کے بھاگ رہے تھے اور جو اللہ نے ان کے لئے مقدر کررکھا تھا ، اس نے انہیں آلیا۔ ان سے اللہ نے کہا : مُوتُوا مرجاؤ۔ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ” پھر اس نے ان کو زندگی بخشی “ نہ ان کی جدوجہد انہیں موت سے بچاسکی اور نہ دوبارہ زندگی حاصل کرنے کے لئے ان کو کچھ جدوجہد کرنی پڑی ۔ دونوں حالات میں اللہ کی مشیئت نے فیصلہ کیا۔ اس تجربہ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے متوجہ ہوتے ہیں اور انہیں قتال فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دیتے ہیں ۔ اس لئے کہ زندگی دینے والا بھی وہ ہے اور مال دینے والابھی وہ ہے ۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ زندگی قبض کرے اور مال واپس لے لے ۔ دوسرا تجربہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ، تاریخ بنی اسرائیل سے لیا گیا ہے ۔ اس دور میں ان کی مملکت تباہ ہوچکی تھی ۔ ان کے مقدسات لوٹ لئے گئے تھے ۔ وہ دشمنوں کے سامنے ذلیل و خوار ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اپنے نبی کی تعلیمات اور اپنے رب کی ہدایات کو پس پشت ڈال دیا تھا ۔ اور اس وجہ سے وہ ذلت اور خواری میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ لیکن اس گراوٹ کے بعد وہ پھر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے اپنے کپڑے جھاڑے اور نئے سرے سے تیار ہوئے اور ان کے دلوں میں نظریہ حیات پھر سے زندہ ہوگیا اور ان کے دلوں میں اپنے نظریہ حیات کے لئے پھر سے ولولہ جہاد پیدا ہوا اور اپنے نبی سے کہنے لگے : ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ” ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ “ قرآن مجید جس الہامی انداز میں اس تجربے کا بیان کرتا ہے ، اس سے تمام حقائق کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور اس میں دور اول کی تحریک اسلامی کے لئے جس طرح واضح اشارات پائے جاتے ہیں ، اسی طرح ہر دور کی اسلامی جماعت کے لئے واضح ہدایات موجود ہیں ۔ اس قصے سے جو عام عبرت حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مومنین کی ایک مٹھی بھر تعداد نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور اس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو ایک عظیم کامیابی نصیب ہوئی ، اگرچہ اس پورے واقعہ میں لشکر اسلام کو بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس مہم میں کئی نقائص تھے جو سامنے آئے ، متعدد کمزوریاں بار بار سامنے آتی رہیں ۔ لشکر کشی کے مختلف مراحل میں ، فوج در فوج لوگ الگ ہوتے رہے اور نافرمانیاں کرتے رہے ، لیکن ان سب کمزوریوں کے باجود بنی اسرائیل کا یہ اٹھنا ، آلودگیاں جھاڑ کر اٹھنا اور نظریہ حیات کو لے کر اٹھنا ، مٹھی بھر ثابت قدم مومنین کی وجہ سے کامیاب رہا ۔ اس کامیابی کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو نصرت ، عزت اور استقرار حاصل ہوا ، حالانکہ اس سے پہلے وہ شکست فاش کھاچکے تھے ۔ انتہائی ذلت کی زندگی بسر کررہے تھے ، طویل عرصہ تک جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے تھے اور ان پر دوسری اقوام مسلط تھیں ۔ اس کامیابی کے نتیجے میں بنی اسرائیل میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حکومت قائم ہوئی ، جن کے دور میں بنی اسرائیل کی حکومت اپنے عروج کو پہنچی اور ان حضرات کا دور ان کی تاریخ کا سنہرا دور قرار پایا ۔ جس کے بارے میں بنی اسرائیل فخریہ انداز میں بات کرتے ہیں اور اس مقام تک بنی اسرائیل اپنی نبوت کبریٰ کے دور میں بھی نہ پہنچے تھے ۔ یہ تمام کامیابی نتیجہ ہے اس نظریاتی قیام کا ، جبکہ انہوں نے نظریہ حیات کو جاہلیت کے ڈھیروں کے نیچے سے نکالا اور ایک قلیل جماعت اس نظریہ کو لے کر اس ثابت قدمی سے اٹھی اور جالوت کی عظیم افواج سے ٹکراگئی اور کامیاب رہی۔ اس تجربے کے دوران بعض جزوی مسائل کے بارے میں بھی ہدایات دی گئی ہیں ، جن کی اس دور میں اسلامی جماعت کو بہت ضرورت تھی اور اس کے لئے بہت اہم تھیں ۔ مثلاً یہ کہ اجتماعی جوش و خروش بعض اوقات قائد کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ اگر وہ محض ظاہر بینی سے کام لے اور حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے ۔ اس لئے قائدین کا فرض ہے کہ وہ کارکنان کو کسی سخت معرکے میں ڈالنے سے پہلے انہیں آزمائے ۔ اس واقعہ میں بنی اسرائیل کے اصحاب رائے ، نبی وقت کے پاس گئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ کوئی بادشاہ مقرر کردیں ، جس کی قیادت میں وہ اپنے دین کے دشمنوں سے لڑیں ، اس لئے کہ ان دشمنوں نے ان سے حکومت چھین لی ہے ، ان کی دولت پر قابض ہوگئے ہیں ، وہ ان مقدسات سے بھی محروم کردیئے گئے ہیں جو آل موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے عہد میں ان کے پاس محفوظ تھے ۔ جب نبی وقت نے ان سے ، ان کے اس ارادے کے بارے میں تسلی چاہی اور ان سے کہا : قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلا تُقَاتِلُوا ” کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور تم پھر نہ لڑو۔ “ انہوں نے نبی کے اس سوال اور طلب یقین دہانی کو اچھا نہ سمجھا ۔ یہ بات ان پر ناگوار گزری اور ان کا جوش و خروش انتہا کو پہنچ گیا اور کہنے لگے قَالُوا وَمَا لَنَا أَلا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا ” بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم راہ اللہ میں نہ لڑیں ، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے ۔ اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کردئیے گئے ہیں ؟ “ لیکن اس جوش و خروش کی آگ جلد ہی بجھ گئی ۔ جذبات کا طوفان ختم ہوگا ۔ اور اس راہ کے مختلف مراحل میں وہ بیٹھتے گئے ۔ جیسا کہ اس واقعہ میں تفصیلات آئی ہیں یا سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا ، وہ سب پیٹھ موڑ گئے ۔ “ بنی اسرائیل کی تو یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں ، اپنے عہد سے پھرجاتے ہیں اور اپنے ساتھی کو آدھی راہ میں چھوڑ دیتے ہیں ، لیکن ایسے واقعات انسانی جماعتوں میں بہرحال پائے جاتے ہیں اور خصوصاً ان جماعتوں میں جو اپنے ایمان ویقین کے اعتبار سے ، اور اپنی اعلیٰ تربیت کے اعتبار سے ابھی اعلیٰ معیار تک نہ پہنچی ہوں ۔ اس لئے جماعتی زندگی کا یہ منظر بھی ، ہر دور کی جماعت مسلمہ کے سامنے پیش کیا جانا ضروری تھا ، تاکہ ہر دور کی مسلم جماعت بنی اسرائیل کے اس تجربے سے فائدہ اٹھائے۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے ظاہری جوش و خروش ، جذباتی اور فوری اقدام کی آزمائش صرف ایک مرتبہ ہی نہ ہو بلکہ بار بار کارکنوں کو آزمانا چاہئے ۔ جب بنی اسرائیل کے اپنے مطالبے پر قتال فرض ہوئی تو ان کی اکثریت نے پیٹھ پھیرلی ۔ وہی قلیل تعداد رہی جس نے اپنے نبی کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو قائم رکھا ۔ اور یہ وہی لوگ تھے جو پہلے تو نبی وقت کے طالوت کی سربراہی پر لڑتے رہے کہ وہ بادشاہت کے قابل ہی نہیں ہے ۔ لیکن جس وقت اس کی بادشاہی کی علامت ظاہر ہوگئی اور نبی اسرائیل کو اس کی قیادت میں وہ مقدسات واپس مل گئے جو دشمنوں کے قبضے میں چلے گئے تھے اور جنہیں فرشتوں نے اٹھاکر واپس کیا ، تب بنی اسرائیل قیادت پر تو راضی ہوئے لیکن ان کی اکثریت پہلے مرحلے ہی میں جہاد سے مکر گئی ۔ اور وہ پہلی آزمائش ہی میں ، جو ان کے قائد نے قائم کی ، ناکام ہوگئے۔ فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا ، تو اس نے کہا :” ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ۔ جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں ۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے ، جو اس سے پیاس نہ بجھائے ، ہاں ایک آدھ چلو کوئی پی لے ، مگر ایک گروہ قلیل کے سوا سب ہی دریا سے سیراب ہوئے ۔ “ لیکن یہ قلیل تعداد بھی آخر تک ثابت قدم نہ رہ سکی ۔ یہ قلیل تعداد ایک زندہ خطرہ کے مقابلے میں آئی ، جب انہوں نے دشمن کی کثرت اور ان کی قوت کو دیکھا تو حوصلے پست ہوگئے ۔ دل متزلزل ہوگئے فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ ” پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔ “ اس شرمناک موقف کے مقابلے میں صرف چنے ہوئے مٹھی بھر لوگ ڈٹ گئے ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا ۔ اور اس پر یقین کیا اور انہوں نے کہا : كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ” بارہا ایسا ہوا کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے ۔ “ یہ تھا وہ قلیل گروہ جس نے پلڑا بھاری کردیا ۔ اور اللہ کی امداد آگئی اور بنی اسرائیل عزت اور استقرار کے مالک بن گئے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک صالح ، دانشمند اور مومن قیادت کی شان کیا ہوتی ہے ؟ طالوت کی قیادت میں یہ تمام صفات موجود ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طالوت لوگوں کی نفسیات سے اچھی طرح واقف تھے ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کا ظاہری جوش و خروش دیکھ کر دھوکہ نہ کھایا ۔ پھر انہوں نے صرف ایک ہی تجربہ پر اکتفا نہ کیا ۔ انہوں نے اپنے فوجیوں کے عزم اور اطاعت امر کا ، اصل معرکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی امتحان لیا ۔ جو لوگ ان آزمائشوں میں ناپختہ پائے گئے انہیں جدا کرکے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ پھر اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری ۔ ایک ایک تجربہ کے بعد ان کی فوج گھٹتی ہی رہی لیکن وہ بڑھتے چلے گئے اور ہمت نہ ہاری ۔ آخر کار ان کے ساتھ مٹھی بھر لوگ ہی جمے رہے لیکن چنے ہوئے لوگ منتخب مجاہد تھے ۔ اب وہ خالص قوت ایمان اور اللہ کے بھروسہ کے بل بوتے پر معرکے میں کود پڑے اور اللہ کا وعدہ تو ایمان والوں سے سچا ہوتا ہی ہے ۔ اس معرکہ میں جو آخری عبرت ہے وہ یہ ہے کہ جو انسان اللہ سے لو لگالیتا ہے تو اس کی اقدار بدل جاتی ہیں ، اس کے تصورات کے پیمانے بدل جاتے ہیں ، کیونکہ اس کی نظر صرف اس دنیا کے اس محدود دائرے پر ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ اس دنیا سے بہت ہی آگے ، ایک وسیع دائرے میں جاکر سوچتا ہے ۔ جو تمام معاملات کا اصل الاصول ہے ۔ یہ مٹھی بھر اہل ایمان جو ثابت قدم رہے جو معرکے میں کود پڑے ، اور جنہوں نے اللہ کی نصرت حاصل کی ، وہ بھی تو اپنی قلت دیکھ رہے تھے کہ ان کی تعداد کم ہے ۔ اور ان کے دشمن تعداد میں بہت ہی زیادہ ہیں اور جنہیں دیکھ کر ان کے دوسرے بھائی یہ پکار چکے قَالُوا لا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ ” ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں ۔ “ لیکن اس مٹھی بھر ایماندار جماعت نے اس صورت حال کے بارے میں وہ فیصلہ نہ کیا ۔ اس نے بہت ہی مختلف فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ” بارہا ایسا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔ “ اس کے بعد یہ گروہ مٹھی بھر ایمانداروں کا گروہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے : رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ” اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر ۔ ہمارے قدم جمادے اور کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر۔ “ یہ جماعت محسوس کرتی تھی کہ قوتوں کا ترازو کافروں کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ وہ تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے اس گروہ نے اللہ سے نصرت طلب کی اور اس نے وہ امداد اس ہاتھ سے وصول کرلی جس کا وہ ہاتھ مالک تھا ، اور جس کو وہ ہاتھ عطا کرسکتا تھا۔ جب اہل ایمان اللہ تک پہنچ جاتے ہیں تو ان کے پیمانے بدل جاتے ہیں ، ان کی اقدار بدل جاتی ہیں اور جب دل میں صحیح ایمان پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ دل کی دنیا میں اللہ کے ساتھ معاملہ کرنا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ ہم اس ظاہری اور جھوٹی دنیا کے معیاروں کے مطابق کوئی معاملہ کریں ۔ اس سطور میں ہم نے ان تمام اشارات کا احاطہ نہیں کرلیا ، جو اس قصے میں پائے جاتے ہیں ۔ اس لئے کہ قرآنی اشارات اور حکمتوں کا القاء ہر اس شخص پر اس کے حالات کے مطابق ہوتا ہے اور نیز اس مقدار کے مطابق ہوتا ہے جس قدر اس کو ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ہر شخص اپنا حصہ لے لیتا ہے ، پھر بھی اشارات اور حکم کا بڑ احصہ محفوظ ہوتا ہے اور مختلف حالات میں اپنی اپنی مقسوم کے مطابق ، ان اشارات کا انکشاف ہوتا رہتا ہے ۔ غرض اس عمومی تبصرے کے بعد اب مناسب ہے کہ آیات پر تفصیلاً بحث کی جائے۔ یہ لوگ کون تھے ؟ جو ہزاروں میں تھے اور جو موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکلے ۔ یہ کس سرزمین کے باشندے تھے ؟ تاریخ کے کس دور میں نکلے یہ لوگ ان کے بارے میں تاویلات وتوجیہات کے انبار میں اپنے آپ کو گم نہیں کرنا چاہتا ۔ اگر اللہ تعالیٰ کو ان کے بارے میں کچھ بتانامقصود ہوتا تو وہ ضرور بتا دیتا ۔ جیسا کہ قرآن مجید کے بعض دوسرے متعین قسم کے قصص کے سلسلے میں کیا گیا ہے ۔ یہاں مطلب صرف عبرت کا حصول اور مسلمانوں کو نصیحت کرنا ہے ۔ مقصد یہ نہیں کہ قصہ بذات خود مطلوب ہے تاکہ اس کے اشخاص ، مقام واقعہ اور زمان واقعہ کی تفصیلات دی جائیں ۔ یہاں اگر مکان وزمان کا تعین بھی کرلیا جائے تو بھی اس سے معنی ومطلب میں نہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی ۔ یعنی واقعہ سے عبرت لینا۔ یہاں مقصود صرف یہ ہے کہ موت وحیات کے ظاہری اسباب اور ان اسباب سے بھی آگے اس کی اصل حقیقت کے بارے میں مسلمانوں کے نقطہ نظر کو درست کردیا جائے ۔ اور یہ بتادیا جائے کہ موت وحیات کا فیصلہ اس دنیا میں نہیں ہوتا ۔ یہ فیصلے قادرمطلق اور مدبر الکون کرتا ہے۔ اور یہ کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے نوشتہ پر مکمل اطمینان کرلینا چاہئے ۔ اور اس دنیا میں انسان کو بغیر کسی خوف وخطر اور بغیر کسی جزع وفزع کے اپنے فرائض سر انجام دینے چاہئیں ۔ تقدیریں لکھنے والا موجود ہے اور زندگی اور موت کا آخری فیصلہ صرف اس کے ہاتھ میں ہے ۔ یہاں مقصدیہ کہنا ہے کہ موت کے ڈر سے موت ٹل نہیں جاتی اور جزع وفزع کرنے سے ، چیخنے پکارنے سے ، زندگی میں اضافہ نہیں ہوجاتا ، نہ ان سے قضائے الٰہی ٹل سکتی ہے ۔ نہ اجل ان سے ذرا بھی موخر ہوسکتی ہے۔ اللہ ہی ہے جو زندگی عطا کرتا ہے ۔ وہی زندگی کی بخشش کرتا ہے اور وہی ہے جو زندگی واپس لے لیتا ہے۔ دونوں حالات میں اس کا فضل انسان کے شامل حال ہوتا ہے ۔ لیتا ہے پھر اس کا فضل ہے اور اگر دیتا ہے پھر فضل ہے ۔ زندگی دینے کے پس منظر میں اور زندگی نہ دینے کے پس منظر میں دونوں حالات میں اس کی عظیم حکمت عملی کارفرماہوتی ہے ۔ ان دونوں حالات میں لوگوں کی مصلحت ہے ۔ دونوں صورتوں میں لینے اور دینے میں اللہ کا فضل ہمارے شامل حال ہوتا ہے : إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَشْكُرُونَ (243) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے ، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ “ ان لوگوں کا جمع ہونا ، پھر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونا ، پھر اپنے گھروں سے نکل پڑنا اور موت کے ڈر سے نکل پڑنا ، لازماً ایسے حالات میں جزع وفزع ، ہائے ہو کا عالم ہوگا۔ ان کا یہ بھاگنا کسی جنگجو دشمن کے ڈر سے ہو یا کسی سخت وبائی بیماری کے پھوٹ پڑنے کی وجہ سے ہو ، چاہے وجہ جو بھی ہو ، اس سے موت کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ” اللہ نے فرمایا : مرجاؤ۔ “ اللہ تعالیٰ نے کس طرح انہیں کہا ؟ وہ کس طرح مرگئے ؟ کیا وہ اسی مصیبت کی وجہ سے مرگئے ، جس کی وجہ سے نکلے تھے یا وہ کسی دوسرے ایسے سبب کی وجہ سے مرگئے جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔ اس کی کوئی تفصیل قرآن مجید نے نہیں دی ہے ۔ کیونکہ ان تفصیلات کی اس مقصد کے لئے کوئی ضرورت نہ تھی یعنی عبرت انگیزی ۔ بتانا یہ ہے کہ جزع وفزع اور خوف وہراس کی وجہ سے وہ اس چیز سے بچ نہ سکے جس کی وجہ سے وہ بھاگ رہے تھے ۔ وہ موت سے بچ نہ سکے اور اللہ کے فیصلے کو رد کرنے کی کوئی سبیل نہ تھی ۔ اگر وہ اللہ کی طرف لوٹ آتے اور صبر وثبات اور سنجیدہ رویہ اختیار کرتے تو یہ زیادہ بھلا ہوتا ۔ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ” پھر اس نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی۔ “ کسی طرح اس نے ان لوگوں کو زندہ کردیا ؟ کیا انہی لوگوں کی موت کے بعد معجزانہ طور پر زندہ کردیا گیا۔ یا ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا کئے جو طاقتور اور بہادر تھے اور آباء و اجداد کی طرح آہ وبکا کرنے والے نہ تھے ۔ ان باتوں کی تفصیل بھی قرآن مجید نے پیش نہیں فرمائی ۔ اس لئے ہمیں بھی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس کی تشریح میں طرح طرح کی تاویلات شروع کردیں اور بےسند روایات کے انباروں میں خوامخواہ اپنے آپ کو گم کردیں ، جیسا کہ بعض تفاسیر میں ذکر ہوا ہے ۔ جو کچھ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے ، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ، بغیر کسی جدوجہد ومشقت کے ان کو دوبارہ زندگی دے دی ، حالانکہ انہوں نے موت سے بچنے کے لئے جو آہ وبکا کیا تھا ، اس سے ان کی موت رک نہ سکی۔ خلاصہ یہ ہے کہ آہ وبکا اللہ کے فیصلے کو روک نہیں سکتی ۔ جزع وفزع سے زندگی محفوظ نہیں ہوجاتی ۔ زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک شخص کو اس کی اپنی جدوجہد کے بغیر ہی دی جاتی ہے ۔ اگر یہ ہے حقیقت تو پھر بزدلو ! تمہاری آنکھیں نیند کے لئے ترس جائیں اور تمہیں کبھی چین نہ ملے :
Ayah 2:244

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور خوب جان رکھو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ “

یہاں اس حادثے کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے ، بلکہ اس کی مغز سامنے آجاتی ہے ۔ اور یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کی نسلوں میں سے پہلی نسل کے سامنے اس واقعہ کو کس غرض کے لئے بیان کیا گیا تھا۔ یہ کہ کہیں زندگی کی محبت کی وجہ سے تم گھروں ہی میں نہ بیٹھ جاؤ۔ موت کے ڈر سے کہیں پیچھے نہ ہٹ جاؤ۔ ان وجوہات سے کہیں جہاد فی سبیل اللہ ترک نہ کردو ۔ موت وحیات تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور تم صرف اللہ کی راہ میں لڑو۔ کسی اور مقصد کے لئے نہ لڑو۔ صرف اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجاؤ اور اس کے سوا تمام جھنڈوں کو ترک کردو ۔ اس کی راہ میں لڑو اور یاد رکھو وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” خوب جان رکھو کہ وہ سنتا ہے اور جانتا ہے۔ “ وہ بات سنتا ہے اور اس کے پس منظر کو بھی جانتا ہے ۔ وہ سنتا ہے ، اور دعا قبول کرتا ہے ، اور یہ بھی جانتا ہے کہ انسان کی زندگی اور اس کے قلب ونظر کے لئے کیا مفید ہے اور کیا نہیں ہے ۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اپنی جدوجہد جاری رکھو۔ تمہارا کوئی عمل بھی ضائع نہ ہوگا ۔ اور وہی ہے جو زندگی دیتا ہے اور وہی ہے جو زندگی واپس لیتا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ قربانی اور خرچ کا دوسرا نام ہے ۔ قرآن مجید کے اکثر مقامات میں جہاد و قتال کے ساتھ ساتھ مال خرچ کرنے اور انفاق فی سبیل اللہ کا تذکرہ بھی ہوتا ہے ۔ بالخصوص رسول ﷺ کے دور میں تو انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت اور زیادہ اس لئے تھی کہ آپ ﷺ کے دور میں جہاد فی سبیل اللہ میں لوگ رضاکارانہ طور پر حصہ لیتے تھے اور مجاہدین اپنا خرچہ خود برداشت کیا کرتے تھے ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ وہ جذبہ جہاد سے تو سرشار ہوتے تھے لیکن وہ مال سے محروم ہوتے تھے اور ان کے پاس اسلحہ اور سواری نہ ہوتی ۔ اس لئے نادار مجاہدین کی سہولیات کے لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو باربارانفاق فی سبیل اللہ کی طرف متوجہ کیا جاتا رہے ۔ اس لئے قرآن مجید بہت ہی موثر انداز میں انفاق کی دعوت دیتا ہے :
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

تم میں سے کون ہے ، جو اللہ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کردے ۔ گھٹانا بھی اس کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی ، اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے۔ “

جس طرح موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اگر اللہ نے زندگی لکھی ہوئی ہے تو موت آہی نہیں سکتی ، اسی طرح مال انفاق فی سبیل اللہ سے نہیں جاتا ۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے نام قرض حسن ہوتا ہے ۔ اللہ اس کا ضامن ہے اور وہ اس قرض کو بڑھا چڑھا کر کئی گنادے گا۔ دنیا میں بھی ایسے شخص کا مال بڑھے گا اسے سعادت و برکت نصیب ہوگی اور آخرت میں بھی سکون اور راحت نصیب ہوگی ۔ اور آخرت میں تو ایسے شخص کے لئے بیشمار سازوسامان اور انعام واکرام ہوگا۔ اسے اللہ کا قرب نصیب ہوگا اور اللہ راضی ہوگا۔ انسان حرص اور بخل کی وجہ سے غنی نہیں ہوتا۔ غنا وفقر تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ انفاق اور خرچ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے : وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُط ” گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی ۔ “ اور آخر کار تم سب نے اللہ کی طرف پلٹ کرجانا ہے ۔ جب تم چار وناچار اللہ کی طرف روانہ ہوگئے اور اس دنیا سے رخصت ہوگے ، تو اس وقت تمہیں مال و دولت سے کیا فائدہ ہوگا : وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ” اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔ “ اور اگر اسی کی طرف بہرحال جانا ہے تو پھر موت سے ڈرنا کیا ؟ جزع وفزع سے کیا حاصل ؟ نہ موت کا ڈر اس لئے کہ اللہ کی طرف تو جانا ہے ۔ نہ فقر ومسکنت کا ڈر ، اس لئے کہ بہرحال اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہی ہے۔ تو پھر مومنین کو چاہئے کہ وہ اللہ کی راہ میں زور وشور کے ساتھ جہاد شروع کریں ۔ وہ جان بھی پیش کریں اور مال بھی ۔ وہ یقین کرلیں کہ اس دنیا میں ان کے گنے چنے سانس ہیں ۔ زندگی محدود ہے ۔ ان کا رزق مقرر ہے ۔ ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ جرأت وبہادری کی زندگی گزاریں ۔ شریفانہ اور آزادانہ زندگی بسر کریں ۔ آخر کار جانا انہوں نے اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے ہے ۔ ان آیات کی تشریح ، ایمانی ہدایات کی توضیح اور تربیتی ہدایات کے اظہار کے بعد مناسب ہے کہ قرآن مجید کے حسن ادا اور اظہار خیال کی فنی خوبیوں کو بھی کچھ وقت دیں ۔ مناسب نہیں کہ یوں ہی گزرجائیں أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ ” کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟ جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے ۔ انداز تعبیر ایسا ہے ، جیسا کہ یہ لوگ ہزارہا کی تعداد میں صفیں باندھیں کھڑے ہیں اور ان کا معائنہ ہورہا ہے۔ (جس طرح گارڈ آف آنر کا معائنہ ہوتا ہے) ، قرآن نے صرف دو الفاظ استعمال کرکے ان لوگوں کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے أَلَمْ تَرَکیا آپ نے نظر نہیں ڈالی ۔ ان دو الفاظ کے سوا ، کوئی اور انداز تعبیر وہ نقشہ نہیں کھینچ سکتا تھا جو ان دو الفاظ نے پردہ تخیل پر منقش کردیا ۔ یوں لگتا ہے کہ گویا یہ لوگ صف بستہ کھڑے ہیں اور ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ ان کی حالت یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں ۔ گھروں سے نکل پڑے ہیں ، ڈرے سہمے ، پھٹی پھٹی نظروں سے ادہر ادہر دیکھ رہے ہیں ۔ اب قرآن مجید صرف ایک لفظ استعمال کرتا ہے اور یہ تمام لوگ میدان معائنہ کی بجائے اب میدان مقتل میں پہنچ جاتے ہیں۔ گویا گارڈ آف آنر کیا معائنہ کرنے والا حاکم مطلق ایک کاشن دیتا ہے مُوتُوا ” مرجاؤ “ اور نقشہ بدل جاتا ہے ۔ اس لفظ سے احساس دلایا جاتا ہے کہ موت کے سامنے بند نہیں باندھے جاسکتے ۔ تمہارا طرز عمل غلط ہے ۔ یہ لفظ بتاتا ہے کہ اللہ کے فیصلے کا کاشن کی طرح نافذ ہوتے ہیں ۔ ادہر لفظ نکلتا ہے ، ادہر اس پر عمل ہوجاتا ہے۔ جس طرح پریڈ کے میدان میں ہوتا ہے۔ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ” پھر ان کو زندہ کردیا۔ “ کیونکر ؟ اس کی کوئی تفصیل یہاں نہیں ۔ اللہ قادر ہے ، مالک ہے ۔ موت وحیات کی زمام اس کے ہاتھ میں ہے ۔ بندوں کے ہر معاملے میں خود وہ متصرف ہے ۔ اس کا کوئی ارادہ مسترد نہیں ہوسکتا۔ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ یہ انداز تعبیر ہی بتا دیتا ہے کہ اللہ کے ہاں موت وحیات کے فیصلے کس طرح ہوتے ہیں اور امر الٰہی کے نفاذ کا منظر کیا ہوتا ہے۔ یوں جیسے پریڈ کا میدان اور کاشن پر کاشن ۔ اوپر ہمارے پردہ تخیل پر موت وحیات کا منظر تھا۔ روح کو مٹھی میں لے لینے ، قبض کرنے اور پھر یکلخت اسے آزاد کرنے کے مناظر تھے ۔ اس کے متصلاً مابعد جب رزق کا معاملہ آتا ہے تو قرآن مجید اس کے لئے قبض اور بسط کے الفاظ استعمال کرتا ہے وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ ” اللہ مٹھی بند کرتا ہے اور کھولتا ہے۔ “ تنگی رزق وفراخی رزق کی یہ تعبیر اس لئے اختیار کی تاکہ قبض روح اور اعادہ روح کے سابقہ مضامین سے متناسق الفاظ آجائیں ۔ یہ دونوں جگہ الفاظ کا اختصار ، معانی کا استحضار قرآن مجید کا عظیم الشان اعجاز ہے ۔ ایک طرف عجیب منظر کشی ہے ۔ دوسری طرف استعمال الفاظ میں عجیب تناسق اور ہم آہنگی ہے ۔ معانی چلتے پھرتے نظرآتے ہیں اور حسن ادا کی تو کوئی انتہاء نہیں ہے ۔ اب قرآن مجید دوسرا تجربہ امت مسلمہ کے سامنے رکھتا ہے ۔ اس کے کردار بنی اسرائیل ہیں ۔ واقعہ حضرت موسیٰ کے زمانہ مابعد کا ہے :
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

پھر تم نے اس معاملے پر غور کیا ، جو موسیٰ کے بعد سرداران بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا ؟ انہوں نے اپنے نبی سے کہا ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ نبی نے پوچھا ! کیا کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو ؟ وہ کہنے لگے : بھلایہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم راہ اللہ میں لڑیں ، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کردئیے گئے ہیں ؟ “ مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا ؟ تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے ، اور اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو ہے۔ “

کیا تو نہیں دیکھا ، گویا یہ ابھی ابھی کا واقعہ ہے اور دیکھا ہوا منظر ہے ۔ بنی اسرائیل کے سردار جمع ہوئے ہیں ۔ ان کے اکابرین اور اہل الرائے کا ایک عظیم اجتماع ہے ۔ وہ اپنے نبی وقت کے پاس آتے ہیں ۔ سیاق کلام میں نبی کا نام نہیں لیا جاتا ، اس لئے کہ مقصد قصہ گوئی نہیں ہے ۔ اگر نبی کا نام لیا جائے تو اس سے قصے کی مقصدیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوجاتا۔ بنی اسرائیل میں نبیوں کی کثرت تھی ان کی طویل تاریخ میں بیشمار نبی مبعوث ہوئے ۔ غرض یہ سردار اور یہ امراء جمع ہیں ۔ وہ نبی وقت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ ان کے اوپر ایک بادشاہ مقرر فرمادیں ، جس کی کمانڈ میں وہ فی سبیل اللہ جہاد کریں ۔ اس جنگ کے لئے وہ فی سبیل اللہ کا لفظ استعمال کررہے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ جنگ کی نوعیت کا اظہار بھی کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان نے کروٹ لی ہے ۔ ایمان پیدا ہوکر کھڑا ہوگیا اور اپنے آپ کو جھاڑ کر اقدام کے تیار ہوگیا ۔ ان کا یہ شعور زندہ ہوگیا کہ وہ تو ایمان اور نظریہ حیات کے حاملین ہیں ۔ وہ تو حق اور سچائی کے علمبردار ہیں ۔ ان کے دشمن ضلالت ، کفر اور باطل کے علمبردار ہیں ۔ ان کے سامنے اب ایک منزل ہے ، جہاد فی سبیل اللہ کی منزل۔ غرض مقصد کی یہ وضاحت ، مقصد کا تعین اور مقصد کی قطعیت سے کامرانی اور فتح مندی کی نصف منزل طے ہوجاتی ہے ۔ اس لئے مومن کے ذہن میں سب سے پہلے یہ بات واضح ہوکر بیٹھ جانی چاہئے کہ وہ حق پر ہے اور اس کا دشمن باطل پر ہے ۔ اس کے شعور میں مقصد متعین ہو ۔ خالص اللہ کے لئے ہو ۔ اس میں کسی دوسری چیز کی آمیزش نہ ہو اور نہ ہی اس میں کوئی التباس ہو جس کی وجہ سے اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کدھر جارہا ہے ؟ نبی نے چاہا کہ وہ نیت کی پختگی اور عزم کی سچائی کے بارے میں تسلی کرلیں ۔ معلوم کرلیں کہ آیا وہ اس قدر عظیم ذمہ داری کے اٹھانے کا بل بوتا بھی نہیں رکھتے ہیں یا نہیں ۔ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں ۔ سوچ سمجھ کر مطالبہ کررہے ہیں : قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلا تُقَاتِلُوا ” نبی نے پوچھا ! کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو۔ “ آیا ایسا ممکن ہے کہ تم پر جہاد فرض کرلیا جائے اور تم اس سے پیٹھ پھیر لو ؟ اب تم تو آزاد ہو ۔ جہاد نہ کرو۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اس مطالبے کو مان لیتے ہیں اور تم کو جہاد کا حکم دیا جاتا ہے تو پھر یہ تم پر فرض ہوجائے گا ۔ پھر تم انکار نہ کرسکوگے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک نبی کو ایسا ہی سوال کرنا چاہئے کہ وہ معاملہ کی تاکید و توثیق کرے ۔ انبیاء کے کلمات اور ان کی باتیں مذاق نہیں ہوا کرتیں ۔ ان کے احکام میں نہ ترددہوتا ہے اور نہ ہی ذرہ بھر تاخیر ہوسکتی ہے۔ نبی وقت کے اس استفسار پر ان کا جوش و خروش عروج تک پہنچ گیا ۔ سردار نے بتایا کہ جنگ ناگزیر ہوچکی ہے ۔ اس کے سوا کوئی چارہ کا رہی نہیں رہا ہے۔ درستی حالات کا مدار اب صرف جہاد اور جہاد فی سبیل اللہ پر ہے۔ جنگ متعین ہے اور اس میں تردد کی کوئی گنجائش نہیں قَالُوا وَمَا لَنَا أَلا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا ” کہنے لگے : بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم راہ اللہ میں نہ لڑیں جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کردئیے گئے ہیں ؟ “ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں بات واضح ہے ۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ جنگ ضروری ہے ۔ ان کے دشمن اللہ کے دشمن ہیں ۔ اللہ کے دین کے دشمن ہیں۔ انہیں گھروں سے نکال دیا گیا ہے ۔ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیا گیا ہے ۔ اس لئے ان دشمنوں کے ساتھ جنگ کرنا واجب ہے ۔ بلکہ ان کے سامنے واحد راستہ ہی یہ ہے کہ وہ ان دشمنان حق کے ساتھ جنگ کریں ۔ اس لئے اس سلسلے میں ان سے بار بار پوچھنا اور تکرار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ تو عزم صمیم ہے اور ہم یہ عزم کئے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ وقتی بہادری ، اور حالات امن کی یہ جرأت مندی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی ۔ قرآن مجید جلہد ہی تصویر کا دوسرا رخ سامنے کردیتا ہے فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے۔ “ یہاں آکر بنی اسرائیل کی ایک اہم خصوصیت معلوم ہوجاتی ہے ۔ اپنی تاریخ میں وہ سخت وعدہ خلاف رہے ہیں ، عہد کرکے فوراً پھرجائیں گے ۔ جب حکم دیا جائے تو اطاعت سے پہلو تہی کریں گے ۔ فرائض کی ادائیگی میں پیچھے رہتے ہیں ۔ حق سے منہ موڑتے ہیں اور باہمی اختلافات ان کا شعار ہوتا ہے ۔ لیکن یہ صفات ہر اس جماعت میں پائی جاتی ہیں جن کی ایمانی تربیت مکمل نہ ہوئی ہو ۔ جن کو دیر تک گہری اور اعلیٰ معیار کی تربیت سے نہ گزارا گیا ہو ۔ یہ ایک ایسی کمزوری ہے ، جس پر تحریک کی قیادت کو خبردار رہنا چاہئے اور اس کی فکر کرنی چاہئے ۔ مشکلات راہ میں اس کا خیال رکھنا چاہئے ۔ یہ نہ ہو کہ مشکلات میں کمزوریاں سامنے آجائیں اور معاملات مشکل ہوجائیں ۔ ایسے حالات میں ان تمام انسانی جماعتوں کو پیش آتے رہتے ہیں جن کی صفوں میں ابھی تک کمزور لوگ موجود ہوں اور جن کو پگھلا کر میل کچیل سے صاف نہ کیا گیا ہو۔ اس روگردانی پر اللہ تعالیٰ صرف یہ تبصرہ فرماتے ہیں وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ” اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔ “ یہ بنی اسرائیل کے لئے سخت نکیر ہے ۔ ان لوگوں نے پہلے جہاد کا مطالبہ کیا ۔ جہاد فرض کیا گیا اور قبل اس کے کہ یہ لوگ میدان جہاد کو جائیں ، انہوں نے انکار کردیا ۔ حالانکہ تعداد میں یہ بہت زیادہ ہیں ۔ بہت ہی ذلیل ہیں یہ لوگ ۔ ذلت کے ساتھ ساتھ ظالم بھی ہیں ۔ اپنے نفس کے لئے ظالم ، نبی کے لئے بھی ظالم ، حق کے لئے بھی ظالم ۔ انہوں نے حق کو پہچانا اور پھر اسے اہل باطل کے ہاتھوں ذلیل ہونے دیا ۔ جو شخص سچائی اور یقین کو پہچان لے اور یقین کرے کہ وہ حق پر ہے ۔ یہ جان لے کہ اس کا دشمن باطل پر ہے ۔ جس طرح بنی اسرائیل کے سرداروں نے جان لیا تھا ، اور نبی سے مطالبہ کردیا تھا کہ وہ ان کے لئے ایک باشاہ مقرر کردے تاکہ اس کی سرکردگی میں وہ دشمنوں سے ، اللہ کی خاطر جنگ کریں اور پھر یہ شخص پیٹھ پھیر لے اور دشمن کے مقابلے میں علم جہاد بلند نہ کرے اور نہ ہی تکالیف اٹھائے ، سب کچھ جانتے ہوئے تو یہ شخص ظالم ہے ، اور اسے اس ظلم کی سزا دی جائے گی ۔ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ” اور اللہ ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔ “
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے ۔ یہ سن کر وہ بولے : ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حق دار ہوگیا ؟ اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں ۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے۔ “ نبی نے جواب دیا : اللہ نے تمہارے مقابلے میں اس کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے ، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے ۔ “

اس بحث و تکرار اور سوال و جواب سے بنی اسرائیل کی ایک اور خصوصیت کا اظہار ہوتا ہے ، جس کا تذکرہ اس سورت میں بارہا ہوا ہے ۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کے لئے ایک بادشاہ مقرر ہو ، جس کی قیادت میں رہ کر ، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کریں ، لیکن بادشاہ کے تقرر کا اعلان ہوتے ہی انہوں نے سرجھکالئے ، گردنیں پھیرلیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے بادشاہ کی تقرری اور نبی کی جانب سے اس کی اطلاع پر اس معاملے میں بحث و تکرار میں مشغول ہوگئے ۔ طالوت کی بادشاہت پر ناک بھنویں چڑھانے لگے ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ طالوت کے مقابلے میں اپنے آپ کو موروثی طور پر زیادہ مستحق رکھتے ہیں ۔ طالوت ایک تو شاہی خاندان سے نہ تھا ، دوسرے یہ کہ وہ کوئی دولت مند آدمی نہ تھا کہ دولت کی بناپر وراثت کے استحقاق کو نظر انداز کردیاجائے ۔ غرض یہ تاریک خیالی اور یہ لجاجت بنی اسرائیل کی مستقل خصوصیت ہے ۔ نبی وقت نے بتایا کہ وہ ذاتی خصوصیات کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے اور یہ کہ اس کے انتخاب میں حکمت کارفرما ہے : قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ” اللہ نے تمہارے مقابلے میں اس کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے ، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ “ وہ ایسا شخص ہے جسے اللہ نے چنا ہے ۔ یہ تو اس کی صفت ہے ۔ اس کو دماغی اور جسمانی قابلیتیں دی ہیں ۔ یہ اس کی دوسری ترجیح ہے اور پھر اللہ جسے چاہے اپنا ملک عطا کردے ۔ وہ اس کا ملک ہے ۔ دنیا اس کی ہے ۔ وہ متصرف ومختار ہے ۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چن لے ۔ وہ بڑی وسعت والا ہے ۔ بڑے علم والا ہے ۔ اس کے فضل وکرم پر کوئی خازن مقرر نہیں ۔ اس کی دادوہش کے لئے کوئی حد وقید نہیں ہے ۔ وہی جانتا ہے کہ بھلائی کس میں ہے ۔ وہی جانتا ہے کہ کس موقع پر کیا فیصلہ بہتر ہے ؟ یہ ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں ایک مسلمان کا نقطہ نظر درست ہونا چاہئے ۔ اور اس کا ذہن کدورت سے صاف ہونا چاہئے ۔ لیکن کیا کیا جائے معاملہ بنی اسرائیل سے آپڑا ہے ۔ ان کے نبی اس بات سے خوب واقف ہیں ۔ نبی وقت جانتا ہے کہ نبی اسرائیل کا مزاج ان بلند حقائق کا متحمل ہی نہیں ہے ۔ حالات ایسے ہیں کہ فہمائش کے لئے وقت نہیں ہے ۔ معرکہ حق و باطل سرپر ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ وقت کی کمی کے باعث ان کے سامنے ایک ایسا معجزہ ظاہر کردیا جائے جس سے ان کے دل نرم ہوجائیں ۔ وہ بےحد متاثر ہوں اور انہیں اس قیادت پر اطمینان ہوجائے اور وہ یقین کرلیں :
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

ان کے نبی نے کہا : اللہ کی طرف سے اس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا ، جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے سکون قلب کا سامان ہے ، جس میں آل موسیٰ اور آل ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں اور جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں ۔ اگر تم مومن ہو ، تو یہ تمہارے لئے بہت بڑی نشانی ہے۔ “

تیہ کی سرگردانی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے زمانہ مابعد میں اس دور کا واقعہ ہے جبکہ حضرت ہوشع نبی تھے ۔ اس دور میں بنی اسرائیل کے دشمنوں نے ان پر حملہ کیا ۔ ان سے ان کا علاقہ بھی چھین لیا اور وہ تبرکات بھی چھین لئے جو ان کے پاس ایک بکس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے خاندانوں سے محفوظ چلے آرہے تھے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس بکس میں تورات کا وہ نسخہ بھی محفوظ تھا ، جو کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے دیا گیا تھا۔ نبی وقت نے اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علامت قراردیا کہ یہ معجزہ تمہارے سامنے رونما ہوگا۔ یہ بکس تمہارے پاس لوٹ آئے گا ۔ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے تاکہ ان کے دلوں پر اطمینان کی بارش ہوجائے ۔ نبی وقت نے فرمایا کہ یہ معجزہ اس بات کا شاہد صادق ہوگا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے بشرطیکہ تمہارے دلوں میں ایمان ہو۔ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معجزہ رونماہوا اور تب جاکر ان لوگوں کو یقین ہوا کہ طالوت اللہ کی جانب سے مقرر ہیں ۔ اب طالوت نے ان لوگوں کو منظم کیا جنہوں نے جہاد میں شریک ہونے سے انکار نہ کیا تھا ، اور انہوں نے نبی وقت کے ساتھ جو پختہ عہد کیا تھا ، وہ اس پر قائم تھے ۔ یہ سب باتیں قرآن مجید نے ، اپنے اسلوب قصص کے عین مطابق ترک کردیں ۔ قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی قصے کے ایک منظر کے بعد متصلاً دوسرا منظر پیش کردیتا ہے ۔ اور درمیان کی غیر ضروری کڑیاں چھوڑدیتا ہے (دیکھئے میری کتاب التصویر الفنی فی القرآن) ۔ چناچہ یہاں بھی جو منظر پیش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت طالوت لشکر اسلام کو لے کر دشمن کی طرف مارچ کررہے ہیں :
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا ، تو اس نے کہا : ایک دریا پر اللہ کی طرف تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ۔ جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں ۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے کہ جو اس سے پیاس نہ بجھائے ہاں ایک آدھ چلو کوئی بھر لے ، مگر ایک گروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے ۔ “ پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔ “ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں اللہ سے ملنا ہے انہوں نے کہا بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔ “

یہاں پہلے قدم پر ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوت کا انتخاب کیوں فرمایا تھا۔ وہ ایک سخت معرکہ سر کرنے جارہے تھے ، لیکن ان کے ساتھ جو فوج تھی وہ شکست خوردہ لوگوں پر مشتمل تھی ۔ یہ لوگ اپنی طویل تاریخ میں بار بار ہزیمت اٹھاچکے تھے ۔ اور بار بار ذلت اٹھانے کے خوگر ہوگئے تھے ۔۔ اور مقاتلہ ایک فاتح اور غالب قوم کی فوج کے ساتھ تھا ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ اس ظاہریہ شان و شوکت والی فوج کے مقابلے میں ایک ایسی فوج لے کر جائیں جن کے ضمیر قوت ، پوشیدہ قوت سے بھرے ہوئے ہوں ، یہ پوشیدہ قوت ، قوت ارادہ ہی ہوسکتی ہے۔ اتنا پختہ ارادہ کہ وہ ہر خواہش اور ہر رجحان کو ضبط کرسکے ۔ وہ محرومیت اور شدائد کے مقابلے میں چٹان کی طرح کھڑا ہوسکے ۔ جو ضروریات اور لازمی حاجات سے بھی بلند ہوجائے ۔ وہ اطاعت حکم کو ترجیح دے اور اس سلسلے میں مشکلات اور تکلیفات کو انگیز کرے ۔ آزمائش کے بعد آزمائش سے گزرتا چلاجائے ، لہٰذا اس چنے ہوئے ، اللہ کے پسند کئے ہوئے کمانڈر کا فرض تھا کہ وہ اپنی فوج کی قوت ارادی کو آزمائے ۔ اس کی ثابت قدمی اور صبر کو پرکھے کس حدتک وہ خواہشات نفس اور مرغوبات کے مقابلے میں ٹھہر سکتے ہیں ۔ کس قدر وہ ضروریات زندگی سے محرومی اور مشکلات برداشت کرسکتے ہیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ کمانڈر نے یہ حکم فوج کو اس وقت دیا جبکہ وہ سخت پیاسے تھے ۔ پیاس سے نڈھال ہورہے تھے ۔ یہ جاننے کے لئے کہ کون ہے جو صبر کرتا ہے اور کون ہے جو پیٹھ پھیر کر واپس ہوجاتا ہے ، الٹے پاؤں پھرتا ہے اور کنج عافیت میں بیٹھ جاتا ہے چناچہ اس مختا رکمانڈر کی فراست صحیح ثابت ہوئی ۔ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” ایک گروہ قلیل کے سب اس سے سیراب ہوئے ۔ “ انہوں نے پیا لیکن خوب پیٹ بھر کر حالانکہ ان کو اجازت یہ دی گئی تھی کہ وہ صرف ہاتھ سے ایک آدھ چلو بھر کر پی لیں ۔ اس قدر کہ پیاس کی تیزی ختم ہوجائے ۔ لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ وہ واپس ہونا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی اکثریت نے گویا ہتھیار ڈال دئیے ۔ پیاس کے سامنے ، اور پیٹھ پھیرلی دشمن سے ، اس لئے یہ جدا ہوگئے ۔ یہ اس قابل ہی نہ تھے کہ طالوت اور اس کے ساتھیوں کے ذمہ جو مہم سر کرنی تھی اس میں ان کو شریک کیا جائے ۔ بہتری اسی میں تھی ۔ دانشمندی یہی تھی کہ وہ اس فوج سے الگ ہوجائیں جس نے فی الوقعہ جنگ لڑنی ہے ۔ یہ دراصل کمزوری ، شکست اور ناکامی کا بیج تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج کی کامیابی عظیم تعداد کی وجہ سے نہیں ہوا کرتی بلکہ پختہ ارادے اور مضبوط ایمان ، مضبوط دل اور مستقبل مزاجی سے ہوا کرتی ہے۔ اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ صرف چھپی ہوئی نیت ہی کافی نہیں بلکہ عملی تجربہ بھی ضروری ہے ۔ میدان جنگ میں قدم رکھنے سے پہلے اس راہ کے نشیب و فراز سے واقفیت ضروری ہے ۔ اس تجربے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو قائد چنا تھا وہ کس قدر اولوالعزم تھا ۔ اس کی ہمت کی بلندی تو دیکھو کہ اکثر لوگوں نے اعلان جہاد کے وقت ہی انکار کردیا لیکن اس کا ارادہ متزلزل نہ ہوا۔ پھر پہلے تجربہ ہی میں اس کی فوج کی اکثریت ناکام رہی اور انہوں نے پیٹھ پھیرلی ۔ لیکن وہ ثابت قدم رہا اور اپنی راہ پر گامزن رہا ۔ یہاں پہلے تجربے نے جیش طالوت کو اگرچہ چھان کر رکھ دیا ، کمزور لوگ اگرچہ الگ ہوگئے تھے لیکن اب بھی تجربات کا سلسلہ جاری ہے : اب یہاں آکر فی الواقعہ وہ ایک قلیل تعداد میں رہ گئے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ دشمن کے پاس ایک عظیم قوت ہے ۔ جالوت جیسا کمانڈر اس کی قیادت کررہا ہے ۔ وہ مومن ہیں انہوں نے اپنے نبی کے ساتھ جو کیا تھا ، اس پر وہ اب بھی قائم ہیں ۔ لیکن اب وہ اپنی آنکھوں سے حالات کو دیکھ رہے ہیں ، وہ صدق دل سے محسوس کررہے ہیں کہ وہ اس عظیم قوت کے ساتھ مقابلے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ اب یہ آخری اور فیصلہ کن تجربہ ہے ۔ یہ تجربہ کہ کون دنیا کی ظاہری قوت پر بھروسہ کرتا ہے اور کون ہے جو ظاہری قوت کے مقابلے میں اللہ کی عظیم قوت پر بھروسہ کرتا ہے۔ ایسے معاملات میں صرف وہ لوگ ہی ثابت رہ سکتے ہیں جن کا ایمان مکمل ہوچکا ہو ، ان کے دل اللہ تک پہنچ چکے ہوں ۔ ان کی قدریں بدل چکی ہوں ۔ وہ خیر وشر کا امتیاز اپنے ایمان کی روشنی میں متعین کرتے ہوں ، ان ظاہری حالات کی روشنی میں نہیں جن میں عوام الناس گرفتارہوتے ہیں۔ یہاں آکر اب وہ مٹھی بھرگنے چنے اہل ایمان کھل کر سامنے آجاتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کی تعداد کا یقین ایمان کی روشنی میں ہوتا ہے۔ جن کا پیمانہ ظاہر بیں کے پیمانوں سے مختلف ہوتا ہے : یہ ہے اصول ان لوگوں کا جنہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ایک دن اللہ کے سامنے پیش ہوں گے ، کہ بار بار ایسا ہوا ہے کہ کم لوگ کثیر تعداد پر غالب آگئے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ مصائب وشدائد کے مختلف مراحل سے گزرکر ، کٹھن حالات سے دوچار ہوکر ، مقام برگزیدگی اور مقام عالی پر فائز ہوچکے ہوتے ہیں اور غالب اس لئے ہوتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہ اس عظیم قوت تک رسائی پاچکے ہوتے ہیں ، جو تمام قوتوں کا سرچشمہ ہوتی ہے ، تمام قوتوں پر غالب ہوتی ہے جس کے احکام نافذ ہوتے ہیں جو اپنی مخلوق کے مقابلے میں جبار ہے ، جو دنیا کے جباروں کو پاش پاش کردیتی ہ ہے ، جو ظالموں کو ذلیل کردیتی ہے اور بڑے بڑے گردن فرازوں پر غلبہ پالیتی ہے ۔ ان کو یہ کامیابی اللہ کے اذن سے ہوتی ہے ، خود ان میں کوئی کمال نہیں ہوتا ۔ اس کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی ذات برترہوتی ہے ۔ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ اس لئے کہ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہوتا ہے ۔ وہ اس لئے کامیاب ہوتے ہیں کہ اذن الٰہی ایسا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں کہہ کر یہ مٹھی بھر لوگ ثابت کردیتے ہیں کہ یہ ہیں وہ لوگ جو معرکہ حق و باطل کے لئے چن لئے گئے ہیں۔ اب ہم اس کہانی کو لے کر ذرا آگے بڑھتے ہیں ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ نہایت ہی قلیل افراد پر مشتمل ایک گروہ ہے جسے یہ یقین ہے کہ وہ ایک دن اللہ کے سامنے پیش ہوں گے ۔ اسے اس ملاقات کا پورا یقین ہے اور یہی یقین اس کی اس مصابرت کا سرچشمہ ہے ۔ یہ گروہ اپنی قوت حکم الٰہی اور اذن اللہ میں تلاش کرتا ہے ۔ اسے اللہ پر پورا بھروسہ ہے ، اس لئے اسے اپنی کامیابی کو پورا یقین ہے اور یہ گروہ ان لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے جو اللہ کے ہاں صابرین کہلاتے ہیں ۔ غرض یہ گروہ جو صابر ہے ثابت قدم ہے اور غیر متزلزل ، ضعف و قلت کے باوجود خائف نہیں ۔ یہ گروہ اچانک میدان معرکہ میں ایک عظیم قوت کے مقابلے میں کود پڑتا ہے اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ تجدید عہد کرتا ہے ۔ اس کے دل اللہ تک جاپہنچتے ہیں ، صرف اللہ سے نصرت مانگتے ہیں اور اس ہولناک معرکے میں کود پڑتے ہیں ۔
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے پر نکلے تو انہوں نے دعا کی اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر ، ہمارے قدم جمادے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر “

یہ ہے صحیح طریقہ ” اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر۔ “ یہ ایسی تعبیر ہے جس سے فیضان صبر کا پورا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اللہ کی طرف سے فیضان اس طرح ہوتا ہے جس طرح ایک برتن بھر کر ان پر انڈیل دیا جائے اور ان کا پیالہ دل اس سے لبریز ہوجائے ۔ اس کے نتیجے میں ان پر طمانیت اور سکینت نازل ہوجاتی ہے اور وہ اس ہولناک معرکے کے تیارہوجاتے ہیں ۔” ہمارے قدم جمادے۔ “ اس لئے کہ قدم اس کے دست قدرت میں ہیں ۔ وہی ہے جو ان کو اپنی جگہ ثابت کرتا ہے کہ متزلزل نہ ہوں ، پھسلیں نہیں ، جگہ چھوڑ کر نہ جائیں ” اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب فرما۔ “ موقف واضح ہے ایمان کا مقابلہ کفر کے ساتھ ہے حق باطل کے مقابلے میں صف آراء ہے اسی لئے اللہ کو پکارا جاتا ہے کہ اللہ اپنے دوستوں کی مددفرما ، جو تیرے کافر دشمنوں کے مقابلے میں صف آراء ہیں ۔ ان لوگوں کے ضمیر میں کوئی شک وشبہ نہیں ، کوئی خلجان نہیں ، ان کی فکر میں کوئی کھوٹ نہیں اور نصب العین کی صحت اور طریق کار کے تعین میں کوئی شک نہیں ۔