2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 2:1

الٓمّٓۚ Open ayah 2:1 in the Quran reader

الف لام میم (یہ حروف مقطعات میں سے ہے) ۔

(1) امام وکیع اور عبد بن حمید نے ابو عبد الرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ وہ الم اور حم کو ایک آیت شمار کرتے تھے۔ (2) بخاری نے تاریخ میں ترمذی (انہوں نے اسے صحیح بھی کہا ہے) ابن الضریس، محمد بن نصر اور ابن الانباری نے المصاحف میں حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) ابن مردویہ، ابوذر الہروی نے فضائل میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس کے برابر ہے۔ میں نہیں کہتا ہے لفظ آیت الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے۔ اور میم ایک حرف ہے۔ (3) امام سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، دارمی، ابن الضریس، طبرانی اور محمد بن نصر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے اسی طرح موقوفا روایت کرتے ہیں۔ (4) محمد ابن نصر، ابو جعفر النحاس نے کتاب الوقف والا ابتداء میں الخطیب نے تاریخ میں اور ابو نصر السنجرانی الابانۃ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قرآن کو پڑھو تمہیں اس پر اجر دیا جائے گا۔ میں نہیں کہتا کہ لفظ آیت الم ایک حرف ہے لیکن الف پر دس نیکیاں ہیں اور لام پر بھی دس اور میم پر بھی دس پس یہ تیس نیکیاں شمار ہونگی۔ (5) ابن ابی شیبہ، البزار نے فضل العلم میں ابوذر الہروی، ابو نصر السنجری نے ضعیف سند کے ساتھ عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے قرآن پڑھا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر حرف کے بدلہ میں ایک نیکی لکھیں گے۔ میں نہیں کہتا کہ لفظ آیت ” الم، ذلک الکتب “ ایک حرف ہے بلکہ چار حرف ہیں الف ذال، الف اور کاف۔ امام محمد بن نصر اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور السنجری نے عوف بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے قرآن میں سے ایک حرف پڑھا اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیں گے میں نہیں کہتا کہ بسم اللہ ایک حرف ہے بلکہ تین حرف ہیں یاء، سین، میم اور میں نہیں کہتا کہ ” الم “ ایک حرف ہے بلکہ تین حرف ہیں۔ الف لام اور میم۔ (7) محمد بن نصر التلفی نے کتاب الوجیز میں مجاز اور مجیز کے ذکر میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے قرآن مجید میں سے ایک حرف پڑھا اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیں گے جیسے باء تاء اور ثاء۔ (8) امام ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اور ابو نصر السجری نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب آدمی اپنی حاجت سے فارغ ہو کر اپنے گھر لوٹ آئے تو اسے قرآن کے پاس آنا چاہئے پھر اسے کھول کر تلاوت کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر حرف کے بدلہ میں اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف کی دس نیکیاں، لام کی دس نیکیاں اور میم کی دس نیکیاں ہیں۔ (9) ابو جعفر النحاس نے الوقف والا ابتداء میں اور ابو نصر السجری نے حضرت قیس بن سکن سے روایت کیا ہے کہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ قرآن مجید کو سیکھو کیونکہ ہر حرف کے بدلہ میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس برائیاں مٹا دی جاتی ہیں میں نہیں کہتا کہ ” الم “ ایک حرف ہے۔ بلکہ الف پر دس لام پر دس اور میم پر دس نیکیاں ہیں۔ (10) امام وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم والنحاس نے کئی طرق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت الم کے بارے میں نقل فرمایا ہے کہ انا اللہ اعلم یعنی الف سے لام سے اللہ اور میم سے اعلم مراد ہے۔ (11) امام ابن جریر اور بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ الم اللہ تعالیٰ کے ناموں کے حرف ہجاء میں سے مشتق کئے ہوئے حروف ہیں۔ (12) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الم، حم اور ن کاٹے ہوئے نام ہیں۔ (یعنی علیحدہ علیحدہ کئے ہوئے) المص، الر، المر، کھیعص، طہ، طسم، یس، ص، حم، ق اور نون یہ قسمیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے قسم کھائی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہیں۔ (13) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ المص، الر، المر، کھیعص، طہ، طسم، یس، ص، حم، ق اور نون یہ قسمیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے قسم کھائی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہیں۔ (14) امام جریر نے مکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ الم قسم ہے۔ (15) امام ابن جریج نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ الم اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ (16) امام ابن جریج اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ الم، حم اور طس اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ (17) امام ابن ابی شیبہ نے اپنی تفسیر میں عبد بن حمید اور ابن المنذر نے حضرت عامر ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان سورتوں کے شروع والے حروف کے بارے میں ان سے پوچھا گیا جیسے الم، الر، انہوں نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کے ہجاء کے حروف ہیں جب تو ان کو جڑے گا تو یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام بن جائے گا۔ (18) عبد بن حمید نے حضرت ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں کہ الم میں الف چابی ہے اس کے نام اللہ کی اور لام چابی ہے اس کے نام لطیف کی، اور میم چابی ہے اس کے نام مجید کی۔ (19) ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ سورتوں کے شروع والے حروف اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے نام ہیں۔ حروف مقطعات اسماء الٰہی ہیں (20) ابو الشیخ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں سدی سے روایت کیا ہے کہ شروع والے حروف سب کے سب اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہیں۔ (21) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ الم قرآن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ (22) ابن جریر نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” الم “ قرآن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ (23) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حضرت مجاہد سے روایت کیا ہے کہ الم، حم، المص، ص ابتدائی حروف ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی ابتدا فرمائی۔ (24) امام ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت حسن ؓ سے روایت کیا کہ الم اور طسم فواتح ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سورتوں کو شروع فرمایا۔ (25) امام ابن المنذر نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ الم، المر، حم اور ق وغیرہ حروف ہجاء ہیں جن کا ایک معنی اور مفہوم ہے۔ (26) امام ابن جریر نے حضرت زید بن اسلم صحابی سے روایت کیا کہ ” الم “ اور اس جیسے حروف سورتوں کے نام ہیں۔ (27) ابن اسحاق اور بخاری نے تاریخ میں اور ابن جریر نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے جابر بن عبد اللہ بن رباب ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ یہود کے آدمیوں میں سے ابو یاسر بن اخطب، رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اس وقت آپ سورة بقرہ کی پہلی آیت لفظ آیت ” الم، ذلک الکتب “ تلاوت فرما رہے تھے۔ پھر ابو یاسر کا بھائی حیی بن اخطب کے پاس کے پاس آیا اور کہا کیا تم جانتے ہو اللہ کی قسم میں نے محمد ﷺ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا جو اس پر نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” الم ذلک الکتب “ اس نے کہا کیا تو نے اس کو سنا ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! یہ سن کر حیی بن اخطب ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چلا آیا (وہاں پہنچ کر) کہنے لگا یا محمد کیا آپ نے یہ آیت لفظ آیت ” الم ذلک الکتب “ پڑھی ہے جو آپ پر اتاری گئی ؟ آپ نے فرمایا ہاں کہنے لگے کیا آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرئیل لے کر آئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! انہوں نے کہا آپ سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے انبیاء بھیجے ہیں ہم نے نہیں جانا کہ کسی نبی کے لیے یہ بیان کیا گیا ہو کہ اس کے بادشاہت کی مدت کتنی ہے ؟ اور آپ کے علاوہ اس کی امت کی مدت کتنی ہے۔ اور اپنے ساتھی کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ الف کا عدد ایک ہے اور لام کے عدد تیس ہیں اور میم کے چالیس ہیں تو اس حساب سے اکہتر سال ہوئے کیا تم نبی کے ایسے دین میں داخل ہوتے ہو کہ جس کی بارشاہی اور امت کی مدت اکہتر سال ہے پھر رسول اللہ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا یا محمد ! کیا اس کے علاوہ بھی کوئی آیت ہے آپ نے فرمایا ہاں اس نے پوچھا وہ کونسی ؟ آپ نے فرمایا لفظ آیت المص، کہنے لگا یہ زیادہ بھاری اور زیادہ لمبی ہے الف کا عدد ایک ہے لام کے تیس اور میم کے چالیس اور صاد کے نوے یہ ایک سو اکسٹھ ہوئے۔ کیا اس کے علاوہ بھی آپ کے پاس ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! کہنے لگا وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا الر کہنے لگا یہ زیادہ بھاری ہے اور زیادہ لمبی ہے الف کا عدد ایک ہے لام کے تیس اور را کے دو سو اکتیس سال ہوئے۔ کیا اس کے علاوہ آپ کے پاس اور بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں المر کہنے لگا یہ بھی زیادہ بھاری ہے اور زیادہ لمبی ہے الف کا عد ایک ہے اور لام کے تیس اور میم کے چالیس اور را کے دو سو۔ یہ دو سو اکہتر ہوئے پھر کہنے لگا تو نے ہم پر معاملہ کو خلط ملط کردیا یہاں تک کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ کو تھوڑی مدت دی گئی یا زیادہ، پھر سب لوگ کھڑے ہوگئے۔ اور ابو یاسر نے اپنے بھائی حیی اور اس کے ساتھ جو ان کے علماء تھے ان کو مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ تم نہیں جانتے شاید اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے لیے یہ سب جمع کردیا ہے۔ اکہتر، اکسٹھ سو، دو سو اکتیس، اور دو سو اکہتر اور یہ سب سات سو چونتیس ہوئے۔ اور کہنے لگے کہ ان کا معاملہ ہم پر مشتبہ ہوگیا اور وہ گمان کرنے لگے کہ یہ آیات ان کے بارے میں نازل ہوئی لفظ آیت ” ھو الذی انزل علیک الکتب منہ ایت محکمت ہن ام الکتب واخر متشبھت “ (ترجمہ وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اس میں بعض آیتیں محکم ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری مشابہ ہیں یعنی جن کے معنی معلوم سورة آل عمران کے آتے نہیں) ۔ (28) امام ابن المنذ ابن جریج سے روایت فرماتے ہیں کہ یہود (اپنی کتابوں میں) محمد ﷺ اور ان کی امت کا ذکر پاتے تھے اور یہ نہیں جانتے تھے کہ محمد ﷺ کی امت کی مدت کتنی ہے جب محمد ﷺ کی بعثت ہوئی اور ” الم “ نازل ہوئی تو کہنے لگے کہ ہم جانتے تھے کہ یہ امت بھیجی ہوئی ہے لیکن ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ اس کی مدت کتنی ہے اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو وہ اس امت کے نبی ہیں اب ہم کو معلوم ہوگیا کہ محمد ﷺ کی مدت کتنی ہے اس لئے کہ ” الم “ ہمارے حساب جمل کے اعتبار سے اکہتر سال نبتی ہے سو ہم ایسے دین کو کیا کریں گے جس کی مدت صرف اکہتر سال ہے۔ پھر جب الر نازل ہوئی اور یہ ان کے حساب جمل سے دو سو اکتیس سال تھی کہنے لگے کہ یہ اب دو سو اکتیس اور اکتر ہوگئے۔ کہا گیا پھر المر نازل ہوا۔ یہ ان کے حساب جمل کے اعتبار سے دو سو اکہتر سال ہوئے اسی طرح سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات نازل ہوئے تو کہنے لگے کہ ان کا معاملہ ہم پر مشتبہ ہوگیا ہے۔ (29) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ تین حروف (یعنی ” الم “ ) انتیس حروف میں سے ہیں تمام زبانیں ان کو استعمال کرتے ہیں نہیں ہے اس میں کوئی حرف مگر وہ چابی ہے اس کے اسماء میں سے ایک اسم کی، اور نہیں ہے اس میں کوئی حرف مگر وہ ایک اور تین آیات میں سے ہے اور نہیں اس میں کوئی حرف مگر وہ ایک اور تین آیات میں سے ہے اور نہیں اس میں کوئی حرف مگر وہ قوم کی مدت اور ان کی عمر کے بارے میں ہے سو الف چابی ہے اس کے نام مجید کی، سو الف سے مراد اللہ کی نعمتیں ہیں اور لام سے اللہ کی مہربانی ہے۔ اور میم سے اللہ کی بزرگی ہے۔ سو الف سے مراد ایک سال لام سے مراد تیس سال اور میم سے مراد چالیس سال ہیں۔ (30) امام ابن المنذر، ابو الشیخ ابن حبان سے اپنی تفسیر میں داؤد بن ابی ھند (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت شبعی سے سورتوں کے آغاز کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا اے داؤد ہر کتاب کے لیے ایک مخفی چیز ہوتی ہے۔ اور اس قرآن کی مخفی چیز سورتوں کے آغاز ہیں۔ سو تو اس کو چھوڑ دے اور سوال کر اس چیز سے جو تیرے لئے ظاہر ہو (یعنی تیرے لئے مفید ہو) ۔ (31) حضرت ابو نصر السجری نے الابانۃ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آخر حرف جو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ کو پیش فرمائے وہ یہ تھے (آیت) الۗمّۗ ۝ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ۝
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اس میں ہدایت ہے متقیوں کے لئے۔

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ ڔ (1) امام الفریابی، عبد بن حمید، ابن الضریس، ابن جریر اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سورة بقرہ کی پہلی چارآیات مؤمنین کی تعریف ہے اور دو آیتیں کافروں کی (بری) صفات کے بارے میں ہیں اور تیرہ آیتیں منافقین کی (بری) صفات کے بارے میں ہیں اور چالیس آیت سے ایک سو بیس آیات تک نبی اسرائیل کے بارے میں ہے۔ (2) وکیع نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ سورت بقرہ کی یہ پہلی چار آیات لفظ آیت ” المفلحون “ تک مؤمنین کی اچھی صفات کے بارے میں نازل ہوئیں اور اس کے بعد دو آیتیں لفظ آیت ” عظیما “ تک کافروں کی بری صفات کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اور دس آیات تک منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اہل ایمان کی صفات (3) امام جریر نے ربیع ابن انس (رح) سے روایت کیا ہے کہ سورة بقرہ کی پہلی چار آیات ان لوگوں کے بارے میں ہیں جو ایمان لائے اور دو آیتیں کفار کے بارے میں ہیں۔ (4) امام ابن جریر اور حاکم نے حضرت ابن مسعو ود ؓ سے روایت کیا ہے کہ الم اللہ تعالیٰ کے نام میں سے ایک نام ہے اور ام الکتاب سے مراد قرآن ہے لفظ آیت ” لاریب فیہ “ سے مراد نہیں ہے شک اس میں۔ (5) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ذلک الکتب “ سے مراد ہے ” ھذا الکتب “ یعنی یہ کتاب۔ (6) امام ابن جریر اور ابن الانباری نے المصاحف میں حضرت عکرمہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (7) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لا ریب فیہ “ کا معنی ہے ” لاشک فیہ “ یعنی اس میں شک نہیں۔ (8) امام احمد نے الزہد میں اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابو داؤد سے روایت کیا ہے کہ الریب کا معنی ہے شک کرنا اور وہ کفر میں سے ہے۔ (9) الطستی نے مسائل ابن عباس ؓ میں نقل کیا ہے نافع بن ازرق (رح) حضرت عباس سے پوچھا کہ اللہ عزوجل کے اس قول لفظ آیت ” لاریب فیہ “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ” لاشک فیہ “ یعنی اس میں کوئی شک نہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا کیا عرب اس معنی کو جانتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں کیا تو نے ابن زبعری کو یہ شعر کہتے ہوئے نہیں سنا :۔ لیس فی الحق یا امامۃ ریب انما الریب ما یقول الکذوب (10) عبد بن حمید نے حضرت قتادہ رضٰ اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ” لاریب فیہ “ سے مراد ہے لا شک فیہ یعنی اس میں کوئی شک نہیں۔ (11) امام ابن جریر نے حضرت مجاہد سے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے۔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ (1) امام وکیع نے اور ابن جریر، شعبی (رح) فرماتے ہیں ھدی سے مراد ہے گمراہی میں سے ہدایت پانا۔ (2) امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” ھدی “ سے مراد ہے ہدایت کا نور اور ” للمتقین “ سے مراد ہے ایمان والے۔ (3) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ھدی للمتقین “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے حکم سے ڈرتے ہیں یعنی اس کی سزا سے ان چیزوں کے چھوڑنے پر جو وہ ہدایت میں سے جانتے ہیں۔ اور وہ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ان باتوں کی تصدیق کرتے ہیں جو آپ کی طرف سے آئیں۔ (4) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ھدی للمتقین “ سے مراد وہ مؤمنین ہیں جو شرک سے بچتے ہیں۔ اور وہ میری اطاعت کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔ (5) عبد بن حمید نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ھدی للمتقین “ کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہدایت اور روشنی کو اس شخص کے لیے کردیا ہے جو اس کی تصدیق کرتا ہے اور نور ہدایت ہے متقین کے لئے۔ (6) امام ابن ابی حاتم نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ ایک کشادہ میدان میں روکے جائیں گے۔ تو آواز دینے والا آواز دے گا متقی لوگ کہاں ہیں ؟ پس لوگ رحمن کی رحمت میں کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے نہ تو پردہ فرمائیں گے اور نہ ان سے پوچھیں گے پوچھا گیا متقین سے کون لوگ مراد ہیں۔ فرمایا وہ لوگ جو شرک سے اور بتوں کی عبادت سے بچتے رہے اور خالص اللہ کی عبادت کرتے رہے۔ پس وہ لوگ جنت کی طرف چلے جائیں گے۔ (7) امام احمد عبد بن حمید، البخاری نے التاریخ میں ترمذی (انہوں نے اسے حسن کہا ہے) ابن ماجہ ابن ابی حاتم، حاکم (انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے الشعب میں حضرت عطیہ سعدی (رح) سے روایت کرتے ہیں جو صحابہ میں سے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مؤمن بندہ اس بات کو نہیں پہنچتا کہ وہ متقین میں سے ہوجائے یہاں تک کہ چھوڑ دے اس چیز کو جس میں کوئی حرج نہیں بچتے ہوئے اس چیز سے جس میں حرج ہے۔ (8) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب التقوی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی سے پوچھا گیا کہ تقوی کیا ہے ؟ اس نے کہا کیا تو نے کبھی ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس میں کانٹے ہوں ؟ اس نے جواب دیا ہاں ! پھر اس نے پوچھا اس راستے پر چلنا ہو تو کس طرح تو کرتا ہے ؟ اس نے جواب دیا جب میں کوئی کانٹا دیکھتا ہوں تو اس سے ہٹ جاتا ہوں یا اس سے بچ کرجاتا ہوں یا اس سے رک جاتا ہوں فرمایا یہی تقوی ہے۔ (9) امام ابن ابی شیبہ ابن ابی الدنیا، ابن ابی حاتم نے طلق بن حبیب سے روایت کیا ہے کہ اس سے کہا گیا کیا آپ ہمارے لئے تھوڑی بات میں بھی تقوی کو جمع نہیں فرماتے یعنی تقوی کی مختصر اور جامع تعریف فرما دیں کہ لوگ اس کو سمجھ لیں ؟ انہوں نے فرمایا تقوی وہ عمل ہے جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ ہو اور اللہ کی طرف سے ہدایت کی روشنی میں ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تقوی اللہ کی نافرمانی کو چھوڑنے کا نام ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف (ہدایت والے) نور پر ہو۔ (10) امام احمد نے الزہد میں اور ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو درداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ پورا تقوی یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ یہاں تک کہ رائی کے دانے کے برابر بھی اس سے ڈرے (اور) یہاں تک کہ بعض حلال چیزوں کو چھوڑ دے اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ شاید یہ حرام ہو تو یہ چیز اس کے اور حرام کے درمیان پردہ بن جائے گی۔ (11) ابن ابی الدنیا نے حضرت حسن سے روایت کیا ہے کہ تقوی متقین کے ساتھ برابر رہتا ہے یہاں تک کہ انہوں نے حرام سے ڈرتے ہوئے بہت سی حلال چیزوں کو چھوڑ دیا۔ (12) ابن ابی الدنیا نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا ہے کہ متقین اس لئے نام رکھا گیا کیونکہ وہ لوگ ان چیزوں سے بھی بچتے ہیں جن سے نہیں بچا جاتا۔ کامل متقی کون ہے ؟ (13) امام ابن ابی الدنیا نے حضرت عبد اللہ بن مبارک (رح) سے روایت کیا ہے کہ اگر ایک آدمی سو چیزوں سے بچتا ہے اور ایک چیز سے نہیں بچتا تو وہ متقین میں سے نہ ہوگا۔ (14) امام ابن ابی شیبہ اور ابن ابی الدنیا نے عون بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے کہ پورا تقوی یہ ہے کہ تو ان چیزوں کا علم حاصل کرے جن کا تجھے علم نہیں۔ یہاں تک کہ تو ان کو جان لے۔ (15) امام ابن ابی الدنیا نے رجاء سے روایت کیا ہے کہ جس کو خوش لگے یہ بات کہ وہ متقی بن جائے تو وہ اونٹ کے بچے سے بھی زیادہ عاجز ہوجائے کہ جو بھی اس کے پاس آتا ہے وہ بلبلا اٹھتا ہے۔ (16) ابن ابی الدنیا نے مالک بن انس کے طریق سے وہب بن کیسان (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کو نصیحت لکھی۔ امابعد۔ کہ اہل تقوی کی کچھ نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ پہچانے جاتے ہیں اور وہ لوگ بھی اس کو اپنے جانوں سے پہچان کراتے ہیں۔ مثلا مصیبت پر صبر کرنا اور قضائے الٰہی پر راضی رہنا اور نعمتوں پر شکر کرنا اور قرآن کے حکم کی تابعداری کرنا۔ (17) امام ابن ابی الدنیا نے ابن مبارک (رح) سے روایت کیا ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) سے فرمایا اے میرے بیٹے ! کسی آدمی کے تقوی کا تین چیزوں سے پتہ لگایا جاتا ہے : اس کا اللہ تعالیٰ پر حسن و خوبی کے ساتھ توکل کرنا اس مصیبت پر جو اس پر اترے اور اس کا اچھی طرح راضی ہونا اس چیزوں میں جو اس کو دی گئیں اور جو فوت ہوجائے اس سے اچھی طرح سے بےپرواہ ہوجانا۔ (18) ابن ابی الدنیا نے سہم بن سحاب سے روایت کیا ہے کہ تقوی کا میدان یہ ہے کہ تیری زبان برابر اللہ کے ذکر سے تروتازہ رہے۔ (19) احمد نے الزہد میں اور ابن ابی الدنیا نے سعید بن ابی سعید مقبری سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ایک آدمی عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا اے معلم الخیر یعنی خیر کے سکھانے والے کس طرح میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا بن جاؤں جیسا وہ چاہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ایک چھوٹے سے عمل کے راستے تو اللہ تعالیٰ سے دل کی گہرائی کے ساتھ محبت کرو اور تو عمل کر اپنی محنت اور قوت کے ساتھ جتنا ہو سکے اور اپنے جنس کے بیٹے پر تو رحم کر جیسے تو اپنی جان پر رحم کرتا ہے۔ اس نے پوچھا کہ میری جنس کا بیٹا کان ہے اے معلم الخیر ؟ انہوں نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) کی تمام اولاد اور جس تکلیف کو تو پسند نہیں کرتا کہ وہ تیرے پاس آئے سو تو بھی اس کو کسی کے پاس مت لا یعنی کسی کو تکلیف نہ دے پس تو یقیناً اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ (20) امام ابن ابی الدنیا نے ایاس بن معاویہ سے روایت کیا ہے کہ تقوی کی اصل یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے پھر لوگ آپس میں ایک دوسرے سے فضیلت لے جاتے ہیں تقوی کے لحاظ سے اور گناہوں سے بچنے کے لحاظ سے۔ (21) ابن ابی الدنیا نے عون بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے کہ تقوی کی ابتداء اچھی نیت اور اس کا آخر توفیق الٰہی ہے اور بندہ ان کے درمیان ہے اور وہ ہلاک کرنے والا اور شبہات میں ڈالنے والے کے درمیان ہے۔ اور نفس مدد کرتا ہے ان (مہلکات اور شبہات) کے راستے پر چلنے کی۔ اور دشمن مکار ہے یعنی شیطان بھی غافل اور عاجز نہیں ہے کہ انسان کو ہلاکت میں ڈال دے۔ (22) امام ابی الدنیا نے محرز طفاری سے روایت کیا ہے کہ وہ شخص تقوی کی چابیوں کی کیسے امید رکھتا ہے جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے تقوی کی تعریف اور پہچان (23) ابن ابی الدنیا نے عمر بن عبد العزیز سے روایت کیا ہے کہ دن کو روزہ رکھنا اور رات کو قیام کرنا اور ان کے درمیان میں معاملات کو خلط ملط کرنا تقوی نہیں ہے۔ لیکن تقوی یہ ہے کہ اس چیز کو چھوڑ دینا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا اور اس چیز کو ادا کرنا جس کو اللہ تعالیٰ نے فرض فرمایا سو جو شخص اس کے بعد نیکی کی توفیق دیا گیا پس وہ خیر ہی خیر ہے۔ (24) امام ابی ابن الدنیا نے محمد بن یوسف فریابی سے روایت کیا ہے کہ میں نے سفیان ثوری کو عرض کیا میں دیکھتا ہوں لوگوں کو کہ وہ سفیان ثوری کا ہر وقت تذکرہ کرتے ہیں اور آپ رات بھر سوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مجھے فرمایا چپ ہوجاؤ ! اس کام کا دارومدار تقوی پر ہے۔ (25) امام ابن ابی الدنیا نے شبیب بن شبہ سے روایت کیا ہے کہ حکماء میں سے ایک آدمی نے عبد الملک بن مروان کے پاس آکر بات کی۔ اور متقی کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا۔ کہ وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق پر ترجیح دے اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دے خواہشات اس کو غم میں مبتلا نہ کریں۔ لالچ اس کے لئے رکاوٹ نہ بنے۔ اپنے ارادہ کی بلندیوں کو اپنے دل کی آنکھ سے دیکھے اور ان کا تلاش کرنے والا ہو۔ اس میں زہد چھپا ہوا ہو۔ جب لوگ سو جائیں تو وہ غم کی حالت میں رات گزاردے۔ دنیا میں غم زدہ اور قیدی بن کر زندگی گزارے۔ اس کے ارادے سے راحت کا خیال ختم ہوجائے سوائے اس کی اچھی آرزو کے۔ اس کی شفا قرآن ہو اور اس کی دوا حکمت کا کلام اور اچھی نصیحت ہو وعظ و نصیحت پر معاوضہ طلب نہ کرے اور اس کے علاوہ اس سے کسی چیز سے راحت و لذت نہ ملے یہ سن کر عبد الملک نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ ہم سے زیادہ پر امید ہے اور بہتر زندگی والا ہے۔ (26) امام ابن ابی شیبہ اور ابو نعیم نے الحلیہ میں میمون بن مہران سے روایت کیا ہے کہ کوئی آدمی متقین میں سے نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اپنے شریک کے حساب لینے سے زیادہ سخت اپنی ذات کا حساب لے یہاں تک کہ تو جان لے کہ اس کا کھانا کہاں سے ہے۔ اس کا پہننا کہاں سے ہے۔ اس کا پینا کہاں سے ہے۔ کیا وہ حلال میں سے ہے یا حرام میں سے ؟ (27) ابن ابی الدنیا نے عمر بن عبد العزیز سے روایت کیا ہے کہ جب وہ والی بنائے گئے۔ اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا میں تم کو اللہ کے تقوی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ڈر قائم مقام ہے ہر چیز سے اور کوئی چیز اللہ کے ڈر کا قائم مقام نہیں۔ (28) عمر بن عبد العزیز نے فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ نہیں کوئی مرنے والا مگر اس کا نائب ہوتا ہے مگر تقوی کا کوئی نائب نہیں (29) ابن ابی الدنیا نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا مجھ سے بات کر، اس نے کہا متقین کے لیے خوشخبری ہے۔ (30) امام ابن الدنیانے مالک بن دینار سے فرمایا قیامت متقین کی خوشی کا دن ہے۔ (31) امام ابن الدنیا نے محمد بن یزید رحبی سے روایت کیا ہے کہ ابو درداء ؓ سے کہا گیا کہ انصار میں سے کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس نے شعر نہ کیا ہو آپ کو کیا ہوگیا کہ آپ شعر نہیں کہتے ہو ؟ انہوں نے فرمایا میں نے اشعار کہے ہیں سو اس کو غور سے سنو :۔ یرید المرء ان یعطیء مناہ ویابی اللہ الا ما ارادا ترجمہ : ارادہ کرتا ہے آدمی کہ دیا جائے اس کی خواہش کے مطابق اور اللہ تعالیٰ انکار فرماتے ہیں جو کچھ اس نے ارادہ کیا۔ یقول المرء فائدتی وذخری وتقوی اللہ افضل ما استفادا ترجمہ : آدمی کہتا ہے میرا فائدہ اور میرا ذخیرہ اور اللہ تعالیٰ کا تقوی افضل ہے ان چیزوں سے جس کا اس نے فائدہ طلب کیا۔ (32) امام ابن ابی حاتم نے ابو العفیف سے روایت کیا ہے کہ جو معاذ بن جبل ؓ کے اصحاب میں سے تھے کہ اہل جنت چار قسموں پر جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ متقین پھر شاکرین، پھر خائفین (یعنی اللہ سے ڈرنے والے) پھر اصحاب الیمین (یعنی دائیں طرف والے)
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو ایمان لاتے ہیں غیب پر اور قائم کرتے ہیں نماز کو اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں۔

(1) امام ابن جریر نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ھدی للمتقین “ سے (اللہ تعالیٰ ) نے ان لوگوں کی تعریف اور ان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ “ (یعنی جو غیب پر ایمان لاتے ہیں) (2) ابن اسحاق اور ابن جریر نے حضرت عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو غیب کی باتوں کی تصدیق کرتے ہٰ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا۔ (3) امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کی کہ لفظ آیت ” الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ “ سے مراد عرب کے مؤمنین ہیں پھر فرمایا اور ایمان سے مراد تصدیق ہے اور غیب سے مراد جو کچھ جنت اور دوزخ کے کاموں میں سے بندوں سے غائب ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا اس کی تصدیق اہل کتاب یا اس علم کی وجہ سے جو ان کے پاس ہے۔ اور لفظ آیت ” والذین یؤمنون بما انزل الیک “ اہل کتاب کے مؤمن مراد ہیں پھر دونوں فریقوں کی جمع کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” اولئک علی ھدی “ کہ یہ لوگ ہدایت پر ہیں۔ (4) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الذین یؤمنون بالغیب “ سے مراد ہے (ایمان لانا) اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر اس کی جنت اور اس کی دوزخ پر اور آخرت کے دن پر اور اس کی ملاقات پر اور موت کے بعد زندگی پر۔ ایمان بالغیب کا مطلب (5) عبد بن حمید اور ابن جریر نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الذین یؤمنون بالغیب “ سے مراد ہے ایمان لاؤ تم موت کے بعد اٹھنے پر، حساب پر، جنت اور دوزخ پر اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی تصدیق کرو جو اس نے اس قرآن میں وعدے فرمائے۔ (6) امام الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ارزق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” الذین یؤمنون بالغیب “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے جو چیز غائب ہے جنت اور دوزخ کے معاملے میں سے۔ انہوں نے پھر کہا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! کیا تو نے ابو سفیان بن حرث کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ؟ وبالغیب امنا وقد کان قومنا یصلون الاوثان قبل محمد ترجمہ : کہ ہم غیب پر ایمان لائے اور ہم ایسی قوم تھے کہ محمد ﷺ سے پہلے بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ (7) امام ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مندہ اور ابو نعیم ان دونوں نے معرفۃ الصحابہ میں تویلہ بنت اسلم ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے ظہر اور عصر کی نماز بنی حارثہ کی مسجد میں پڑھی ہم نے مسجد ایلیا (یعنی بیت المقدس) کی طرف رخ کیا۔ ہم نے دو سجدے کئے تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت الحرام کا (نماز میں) رخ فرما لیا ہے یہ سن کر مرد عورتوں کی جگہ پر لوٹ گئے اور عورتیں مردوں کی جگہ پر لوٹ گئیں پھر ہم نے باقی دو رکعتیں ادا کیں اس حال میں کہ ہم بیت الحرام کی طرف رخ کئے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ (8) سفیان بن عینیہ، سعید بن منصور، احمد بن منیع، نے اپنی سند میں ابن ابی حاتم، ابن الانباری نے المصاحف میں، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور ابن مردویہ نے حرث بن قیس سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ابن مسعود ؓ سے پوچھا اے اصحاب محمد ﷺ کیا اللہ کے نزدیک اس چیز کا بھی حساب کیا جائے گا جو تم نے ہم سے سبقت کی رسول اللہ ﷺ کے دیکھنے سے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محمد ﷺ پر تمہارے ایمان لانے کا حساب کیا جائے گا۔ اگرچہ تم نے ان کو نہیں دیکھا۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت اور رسولت کا امر بالکل واضح تھا۔ اس شخص کے لئے ہے جس نے آپ کو دیکھا اور اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ایمان غیب لانے والے سے افضل ایمان والا نہیں ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ لفظ آیت ” الم ذلک الکتب لاریب فیہ “۔ (9) البزرا، ابو یعلی، المرھبی نے فضل العلم میں حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا مجھے بتاؤ اہل ایمان میں سے افضل کس کا ایمان ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! فرشتوں کا۔ آپ نے فرمایا وہ اسی طرح سے ہے اور یہ حق ہے ان کے لئے کہ وہ ایمان لائیں کوئی چیز ان کو ایمان لانے سے نہیں روکتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ مرتبہ عطا فرمایا جو ان کو مرتبہ عطا فرمانا تھا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! انبیاء کا ایمان افضل ہوگا ؟ جن کو اللہ تعالیٰ نے رسالت اور نبوت کے ساتھ نوازا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ اسی طرح سے ہے اور یہ حق ہے ان کے لئے کہ وہ ایمان لائیں کوئی چیز ان کے ایمان لانے سے نہیں روکتی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ مرتبہ عطا فرمایا جو ان کو مرتبہ فرمانا تھا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر شہید کا ایمان افضل ہوگا ؟ جو انبیاء کے ساتھ شہید ہوئے۔ آپ نے فرمایا وہ اسی طرح سے ہے۔ اور یہ حق ہے ان کے لئے کہ وہ ایمان لائیں۔ اور کوئی چیز ان کو ایمان لانے سے نہیں روکتی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء کرام کے ساتھ شہادت سے نوازا۔ بلکہ ان کے علاوہ اور لوگ ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا وہ کون لوگ ہیں یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا مردوں کی پشتوں میں وہ قومیں جو میرے بعد آئیں گی مجھ پر ایمان لائیں گی حالانکہ مجھے نہیں دیکھا ہوگا اور میری تصدیق کریں گے حالانکہ مجھے نہیں دیکھا ہوگا۔ پائیں گے لٹکے ہوئے کاغذ کو یعنی اللہ کی کتاب کو سو عمل کریں گے جو کچھ اس میں لکھا ہوا ہوگا۔ سو یہی لوگ اہل ایمان میں سے افضل ایمان لانے والے ہیں۔ (10) حضرت حسن بن عروہ نے اپنے مشہور حزب میں بیہقی نے دلائل میں اصبہانی نے الترغیب میں۔ عمرو بن شعیب اپنے باب دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا مخلوق میں سے تمہارے نزدیک کس کا ایمان زیادہ اچھا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا فرشتوں کا۔ آپ نے فرمایا اور کیا ہے ان کے لیے وہ ایمان نہ لاتے حالن کہ وہ اپنے رب کے پاس ہیں صحابہ نے عرض کیا انبیاء کا (ایمان اچھا ہے) آپ نے فرمایا اور کیا ہے۔ ان کے لئے وہ ایمان نہ لاتے حالانکہ وحی ان پر نازل ہوتی ہے۔ صحابہ نے پھر عرض کیا کہ ہم (ایمان میں اچھے ہیں) آپ نے فرمایا اور کیا ہے تم کو کہ تم ایمان نہ لاتے حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ خبر دار ! بلاشبہ میرے نزدیک ایمان میں سے سب اچھے وہ لوگ ہیں۔ جو تمہارے بعد ہوں گے پائیں گے صحیفہ (یعنی اللہ کی کتاب) کو اور ایمان لائیں گے جو کچھ اس میں ہے۔ (11) امام طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک دن صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا کچھ پانی ہے ؟ صحابہ کرام ایک مشکیزہ لائے اور آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے اس پانی پر اپنا ہاتھ مبارک رکھ دیا اور اپنی انگلیوں کو کھول دیا۔ رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کی طرح پانی ابلنے لگا آپ نے فرمایا اے بلال ! لوگوں کو وضو کے لیے بلاؤ۔ سب صحابہ رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان وضو کرنے لگے۔ اور ابن مسعود نے پینے کا ارادہ کیا جب سب نے وضو کرلیا تو آپ ﷺ نے ان کو نماز پڑھائی پھر آپ لوگوں سے باتیں کرنے کے لیے بیٹھ گئے۔ اور فرمایا اے لوگو ! مخلوق میں سے ایمان کے اعتبار سے کون اچھا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا فرشتے ! آپ نے فرمایا کہ فرشتے کیوں ایمان نہ لاتے حالانکہ وہ اللہ کے حکم کو دیکھ رہے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا پھر انبیاء کا ایمان سب سے اچھا ہے۔ یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا انبیاء کیوں ایمان نہ لاتے حالانکہ وہ دیکھتے ہیں اس وحی کو جو آسمان سے اترتی ہے لوگوں نے پھر عرض کیا کہ آپ کے صحابہ ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ صحابہ کیوں ایمان نہ لاتے حالانکہ وہ دیکھتے ہیں اس کو جس کو وہ دیکھتے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا لیکن لوگوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے اچھے وہ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے جو مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ مجھے نہیں دیکھیں گے اور میری تصدیق کریں گے حالن کہ مجھے نہیں ثیکھیں گے وہ میرے بھائی ہیں۔ (12) امام اسماعیل نے اپنی معجم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کس کا ایمان زیادہ پسندیدہ ہے ؟ کہا گیا فرشتوں کا آپ ﷺ نے فرمایا کس طرح وہ ایمان نہ لائیں گے حالانکہ وہ تو آسمان میں ہیں اور اللہ تعالیٰ سے وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے۔ پھر کہا گیا انبیاء کا آپ ﷺ نے فرمایا کس طرح وہ ایمان نہ لائیں حالانکہ ان کے پاس وحی آتی ہے صحابہ نے عرض کیا پھر ہمارا ایمان (سب سے اچھا ہے) آپ نے فرمایا کس طرح حالانکہ تم پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور اس کے رسول تمہارے درمیان موجود ہے لیکن ایک قوم ہے جو میرے بعد آئے گی۔ مجھ پر ایمان لائے گی۔ حالانکہ مجھے نہیں دیکھے گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ایمان سب سے زیادہ پسندیدہ ہے اور یہ لوگ میرے بھائی ہیں اور تم میرے اصحاب ہو۔ (13) البزار نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کون سی مخلوق کا ایمان زیادہ اچھا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا فرشتوں کا۔ آپ نے فرمایا فرشتے کیسے ایمان نہ لاتے ؟ صحابہ نے پھر عرض کیا نبیوں کا آپ نے فرمایا نبیوں کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ وہ کیسے ایمان نہ لاتے ؟ لیکن لوگوں میں سب سے اچھا ایمان ان کا ہے جو تمہارے بعد آئیں گے اور وحی پر مشتمل کتاب کو پائیں گے اس پر مسند ایمان لائیں گے۔ اور اس کی تابعداری کریں گے سو لوگوں میں سے یہی لوگ زیادہ اچھے ایمان والے ہیں۔ (14) ابن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں عوف بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کاش میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرتا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے ساتھی آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں (تم میرے بھائی ہو) لیکن تمہارے بعد ایک قوم ایسی آئے گی تمہارے ایمان کی طرح جو مجھ پر ایمان لائے گی اور تمہاری تصدیق کی طرح تصدیق کرے گی اور تمہاری مدد کی طرح مدد کرے گی۔ اے کاش کہ میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرتا۔ بعد میں ایمان لانے والوں کی فضیلت (15) امام ابن عساکر نے الاربعین السباعیۃ میں ابو یزید کے طریق سے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کاش کہ میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرتا ؟ صحابہ میں سے ایک صحابی نے عرض کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔ تم میرے اصحاب ہو۔ اور میرے بھائی وہ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے نہ دیکھا ہوگا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ لفظ آیت ” الذین یومنون بالغیب ویقیمون الصلوۃ “۔ (16) امام احمد، دارمی، الباوردی، ابن قانع نے معجم الصحابہ میں بخاری نے تاریخ میں طبرانی اور حاکم نے ابو جمعہ انصاری ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا کوئی قوم ہم سے زیادہ اجر والی ہے ؟ ہم آپ پر ایمان لائے اور ہم نے آپ کی تابعداری کی۔ آپ نے فرمایا تمہیں ایمان لانے سے کس چیز نے روکا رسول اللہ ﷺ تمہارے درمیان موجود ہیں۔ تمہارے پاس آسمان سے وحی آتی ہے بلکہ میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے ان کے پاس کتاب دو تختوں کے درمیان، وہ اس پر ایمان لائیں گے اور جو کچھ اس کتاب میں ہوگا اس پر عمل کریں گے وہ لوگ تم سے زیادہ اجر والے ہوں گے۔ (17) امام ابن ابی شیبہ، ابن ابی عمر، احمد اور حاکم نے ابو عبد الرحمن جہنی ؓ سے روایت کیا ہے اس درمیان کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اچانک دو سوار نمودار ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دونوں شخص کندی قبیلہ سے ہیں یا مذحج قبیلہ سے یہاں تک کہ جب وہ آئے تو وہ دونوں مذحج قبیلہ سے تھے۔ ان میں سے ایک آپ کے قریب ہوا تاکہ آپ سے بیعت کرے جب اس نے آپ کا ہاتھ پکڑا تو کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے بتائیے جو شخص آپ پر ایمان لائے آپ کی تابعداری کرے اور آپ کی تصدیق کرے تو اس کے لیے کیا اجر ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کے لئے خوشخبری ہے اس شخص نے آپ کے ہاتھ مبارک کو چھوا اور چلا گیا پھر دوسرا آدمی آیا اور آپ کے ہاتھ مبارک کو پکڑا تاکہ آپ سے بیعت کرے کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے بتائیے جو شخص آپ پر ایمان لائے آپ کی تصدیق کرے اور آپ کی تابعداری کرے حالانکہ اس نے آپ کو نہیں دیکھا آپ نے فرمایا اس کے لئے خوشخبری ہے۔ پھر خوشبجری ہے پھر اس آدمی نے آپ کے ہاتھ مبارک کو چھوا اور چلا گیا۔ (18) امام الطیالسی اور احمد اور بخاری نے تاریخ میں الطبرانی اور حاکم نے ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور سات مرتبہ خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو مجھ پر ایمان لایا اور مجھے نہیں دیکھا۔ (19) امام احمد، ابن حبان نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے آپ کو دیکھا اور آپ پر ایمان لایا پھر آپ نے فرمایا خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔ اور خوشخبری ہے پھر خوشخبری ہے اس شخص کے لئیجو مجھ پر ایمان لایا اور مجھے نہیں دیکھا۔ بن دیکھے ایمان لانے پر بشارت (20) امام طیالسی اور عبد بن حمید نے نافع (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر ؓ کے پاس آکر کہنے لگا اے ابو عبد الرحمن کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! کہنے لگا آپ کے لیے خوشخبری ہے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو ایسی بات کی خبر نہ دوں جس کو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا انہوں نے کہا ضرور بتائے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا اور مجھے نہیں دیکھا۔ (21) امام احمدابو یعلی اور طبرانی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لے لایا اور سات مرتبہ خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا اور مجھے نہیں دیکھا۔ (22) امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوع روایت کیا ہے میری امت میں سے وہ لوگ جو میرے بعد آئیں گے ایک ان میں سے اس بات کو پسند کرے گا کہ میرے رؤیت (یعنی دیکھنے) کو اپنی اہل و عیال اور اپنے مال کے بدلہ میں خریدے۔ قولہ تعالیٰ : ومما رزقنھم ینفقون۔ (23) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویقیمون الصلوۃ “ سے مراد پانچویں نمازیں ہیں اور لفظ آیت ” ومما رزقنھم ینفقون “ سے مراد ان کے مالوں کی زکوٰۃ ہے۔ (24) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویقیمون الصلوۃ ‘ سے مراد ہے کہ نماز کو اس کے فرض ہونے کی وجہ سے قائم کرتے ہیں۔ اور ” ومما رزقنھم ینفقون “ سے مراد یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ کو اس کا حساب کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں۔ (25) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اقامۃ الصلوۃ “ سے مراد ہے رکوع، سجود، خشوع اور پوری توجہ کے ساتھ تمام ارکان کو ادار کرنا۔ (26) عبد بن حمید نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویقیمون الصلوۃ “ سے مراد ہے نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنا۔ اس کے لئے وضو کرنا رکوع کرنا، اور سجدہ کرنا ہے۔ اور لفظ آیت ” ومما رزقنھم ینفقون “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے فرائض میں خرچ کرنا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا ہے یعنی اس کی اطاعت میں اور اس کے راستے میں خرچ کرنا۔ (27) امام ابن المنذر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ لفظ آیت ” ومما رزقنھم ینفقون “ سے سارے نفقات کے علاوہ خاص طور پر زکوٰۃ مراد ہے (قرآن مجید میں) نماز کے ذکر کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جب زکوٰۃ کا نام نہیں لیا تو نماز کے ذکر کے بعد یہ فرما دیا لفظ آیت ” ومما رزقنھم ینفقون “۔ (28) امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومما رزقنھم ینفقون “ سے مراد ہے آدمی کا اس کے اہل و عیال پر خرچ کرنا۔ (29) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومما رزقنھم ینفقون “ سے مراد ہے کہ نفقات قریب کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرتے ہیں اپنی خوشحالی اور تنگدستی کے مطابق یہاں تک کہ صدقات کے فرائض سورة برات میں نازل ہوئی اور یہ پہلے صدقات کو منسوخ کرنے والے ہیں۔
Ayahs 2:4–5

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس پر اتارا گیا آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہ لوگ بڑی ہدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے اور یہ لوگ ہی کامیاب ہیں۔

(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک “ سے مراد ہے کہ جو چیز آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں وہ لوگ اس چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ اور اس چیز کی بھی تصدیق کرتے ہیں جو آپ سے پہلے رسول اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور ان کے رب کی طرف سے جو کچھ آیا ہے اس کا انکار نہیں کرتے۔ اور لفظ آیت ” وبالاخرۃ ہم یوقنون “ کہ وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔ دوبارہ اٹھنے پر جنت پر، دوزخ پر، حساب پر اور میزان پر یعنی یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو گمان کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے تو جو آپ سے پہلے نازل ہوا تھا۔ اس چیز کا انکار کرتے ہیں جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس آیا۔ (2) امام عبد بن حمید نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والذین یؤمنون بما انزل الیک “ سے مراد ہے وہ فرق کرنے والی کتاب جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا لفظ آیت ” وما انزل من قبل “ سے مراد ہے وہ کتابیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں۔ لفظ آیت ” اولئک علی ھدی من ربھم، واولئک ہم المفلحوں “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ ہدایت اور فلاح کے مستحق ہوگئے حق کے ساتھ۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حق کو ثابت کردیا اور یہ اہل ایمان کی صفت ہے پھر مشرکین کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” ان الذین کفروا سواء علیہم “ دو آیتیں۔ (3) امام عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے زوائد المسند میں حاکم اور بیہقی نے الدعوات میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول میرا ایک بھائی ہے جس کو تکلیف ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کو کیا تکلیف ہے ؟ اس نے عرض کیا اس کو تھوڑا سا جنون ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو میرے پاس لے آؤ۔ (ہم اسے لے آئے) اور آپ ﷺ کے سامنے اس کو لٹا دیا نبی اکرم ﷺ نے (ان آیتوں کے ساتھ اس پر دم فرمایا فاتحہ الکتاب، سورة بقرہ کی پہلی چار آیات، اور یہ دو آیتیں لفظ آیت ” والہکم الہ واحد “ اور آیت الکرسی اور سورة بقرہ کی آخری تین آیات اور یہ آیت آل عمران میں سے لفظ آیت ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو “ اور یہ آیت اعراف میں سے لفظ آیت ” ان ربکم اللہ “ اور سورة مؤمنین کے آخر میں سے یہ آیت ” فتعال اللہ الملک الحق “ اور یہ آیت سورة جن میں سے لفظ آیت ” وانہ تعالیٰ جد ربنا “ اور سورة صافات کی پہلی دس آیات اور سورة حشر کے آخر میں سے تین آیات اور لفظ آیت ” قل ھو اللہ احد “ اور معوذ تین۔ آدمی اٹھ بیٹھا گویا کہ اسے کبھی کوئی شکایت ہی نہ تھی۔ (4) ابن سنی ” عمل الیوم واللیلہ میں عبد الرحمن بن ابی لیلی کے طریق سے ایک آدمی سے روایت کیا ہے کہ جس نے اپنے باپ سے اسی طرح روایت کیا۔ شیطان سے حفاظت کا ذریعہ (5) ابن الضریس نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے یہ آیات پڑھیں سورة بقرہ کی اول چار آیات، آیۃ الکرسی اور آیۃ الکرسی کے بعد کی دو آیتیں اور سورة بقرہ کے آخر میں سے تین آیتیں۔ اس دن اس کے اور اس کے اہل کے شیطان قریب نہیں آئے گا۔ اور کوئی چیز اس کے اہل میں اور اس کے مال میں نہیں آئے گی جس کو وہ ناپسند کرے گا اور ان دونوں کو کسی مجنون پر پڑھے گا تو وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ (6) امام دارمی، ابن المنذر، طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے رات کو سورة بقرہ میں سے تین آیات پڑھیں تو شیطان صبح تک اس گھر میں داخل نہیں ہوگا اور وہ دس آیتیں یہ ہیں۔ شروع کی چار آیات آیہ الکرسی ا کے بعد کی دو آیتیں اور آخری تین آیات جس کی اول آیت لفظ آیت ” للہ مافی السموات “ ہے۔ (7) امام سعید بن منصور، دارمی اور بیہقی نے شعب الایمان میں مغیرہ بن سبیع ؓ (جو حضرت عبد اللہ ؓ کے اصحاب میں سے تھے) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے سونے کے وقت سورة بقرہ میں سے دس آیات پڑھیں تو وہ قرآن کو نہیں بھولا۔ اس کو اول میں سے چار آیات اور آیہ الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں۔ اور اس کے آخر کی تین آیتیں۔ (8) امام طبرانی اور بیہقی نے الشعب میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب کوئی تم میں سے مرجائے تو اس کو روکے نہ رکھو اور اس کو قبر کی طرف جلدی لے جاؤ اور (اس کو قبر میں رکھنے کے بعد) اس کے سر کی جانب فاتحۃ الکتاب اور اس کے قدموں کی جانب سورة بقرہ کی آخری آیات پڑھو اس کی قبر میں۔ (9) امام طبرانی نے الکبیر میں عبد الرحمن بن علاء بن الجلاج سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو میرے والد نے کہا اے میرے بیٹے ! جب تو مجھے میری قبر میں رکھنے لگے تو لفظ آیت ” بسم اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ “ پڑھنا۔ پھر مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا۔ پھر میرے سر کی جانب سورة بقرہ کا شروع اور اس کا آخر پڑھنا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا فرماتے ہوئے سنا ہے۔ (10) ابن النجار نے اپنی تاریخ میں محمد بن علی المطلبی کے طریق سے خطاب بن سنان سے قیس بن ربیع سے ثابت بن صیحون نے انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کیا ہے کہ ہم یسیری (مقام) پر اترے اس مقام کے رہنے والے کچھ لوگ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے یہاں سے چلے جاؤ کیونکہ ہمارے پاس اس جگہ پر (جب) کوئی آتا ہے تو اس کا سامان لے لیا جاتا ہے (یہ سن کر) میرے ساتھی وہاں سے چلے گئے اور میں پیچھے (اسی جگی) رہ گیا اس حدیث کی وجہ سے جو مجھ کو حضرت ابن عمر ؓ نے بیان فرمائی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے رات میں تینتیس آیتیں پڑھیں اس رات میں اس کو سات ضرر دینے والی چیزیں ضرر نہیں دی گی۔ اور نہ چور (سامان چرا کر) لے جانے والا۔ اور اس کو اس کی جان میں اور اس کے اہل میں اور اس کی مال میں صبح تک عافیت دی جائے گی۔ جب شام کا وقت آیا تو میں نہیں سویا حتی کہ میں نے اس شیاطین کو دیکھا کہ تیس مرتبہ سے بھی زیادہ لوگ آئے۔ اپنی تلواروں کو سونتے ہوئے مگر مجھ تک نہ پہنچ سے جب صبح ہوئی میں نے وہاں سے کوچ کیا اور ان میں سے ایک بوڑھا آدمی مجھ کو ملا اس نے کہا تو انسان ہے یا جن ؟ میں نے کہا میں انسان ہوں پھر میں نے کہا تیرا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا ہم تیرے پاس ستر مرتبہ سے بھی زیادہ آئے تھے ہر دفعہ ہمارے اور آپ کے درمیان لوہے کی دیوار حائل ہوجاتی تھی۔ میں نے ان کو حدیث بیان کی اور 33 آیتیں یہ ہیں سورة بقرہ کے شروع کی چار آیتیں ” مفلحون “ تک۔ اور آیۃ الکرسی، اور اس کے بعد کی دو آیتیں ” خلدون “ تک اور سورة بقرہ کے آخر کی تین آیتیں لفظ آیت ” للہ ما فی السموت وما فی الارض “ سے آخر تک اور سورة اعراف میں سے تین آیات ” ان ربکم اللہ “ سے ” من المحسنین “ تک اور سورة بنی اسرائیل کی آخری آیات لفظ آیت ” قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن “ سے آخر تک اور سورة صافات کی پہلی دس آیات ” لازب “ تک اور دو آیتیں سورة رحمن سے لفظ آیت ” یامعشر الجن والانس “ سے لے کر ” فلا تنتصران “ تک اور سورة حشر کے آخر سے لفظ آیت ” لو انزلنا ھذا القرن علی جبل “ سے آخر تک اور دو آیتیں ” قل اوحی “ سے ” وانہ تعلی جد ربنا ما اتخذ صاحبۃ “ سے لے کر ” شططا “ تک میں نے یہ حدیث شعب بن حرب کو بیان کی انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ ہم ان دو آیات کا نام آیات الحرب رکھتے ہیں۔ اور ہم کہا کرتے تھے کہ ان آیات میں ہر بیماری سے شفا ہے۔ انہوں نے مجھے پر شمار کیا جنون کو اور جذام کو اور برص وغیرہ کو۔ محمد بن علی فرماتے ہیں کہ میں نے ان آیات کو اپنے شیخ پر پڑھا جس کو فالج ہوگیا تھا یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اس کی تکلیف کو دور فرما دیا۔ (11) امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے شروع دن سے سورة بقرہ کی دس آیات پڑھیں تو شیطان شام تک اس کے قریب نہیں آئے گا اور اگر اس نے ان کو شام کے وقت پڑھا تو شیطان صبح تک اس کے قریب نہیں آئے گا اور وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے مال میں کسی ناپسندیدہ چیز کو نہ دیکھے گا اور اگر اس کو کسی مجنون پر پڑھے گا تو اس کو افاقہ ہوگا وہ آیات یہ ہیں۔ (سورۃ بقرہ) شروع کی چار آیات آیۃ الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں اور اس کے آخر میں تین آیات۔
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے برابر ہے کہ آپ ان کو ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے

(1) امام ابن جریج ابن ابی حاتم، طبرانی نے الکبیر میں ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین کفروا سواء علیہمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یؤمنون “ اور اس جیسی دوسری آیات قرآن مجید میں سے ان سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس بات پر حریص تھے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں اور ہدایت پر ان کی تابعداری کریں نہیں ایمان لائیں گے مگر وہ لوگ جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سعادت یعنی نیک بختی (ذکر اول میں لکھی جا چکی ہے یعنی لوح محفوظ میں) تو وہی ایمان لائے گا اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفاء ہے (یعنی بدبختی لکھی جاچکی ہے (ذکر اول میں) یعنی لوح محفوظ میں) تو وہ ایمان نہیں لائے گا اور گمراہ ہوگا۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے کہ کہا گیا یا رسول اللہ ! ہم قرآن میں سے پڑھتے ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں اور کبھی ہم پڑھتے اور ہم نا امیدی کے قریب ہوجاتے ہیں آپ نے فرمایا کیا میں تم کو اہل جنت اور اہل نار کے بارے میں نہ بتادوں ؟ عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے آپ نے فرمایا لفظ آیت ” الم۔ ذلک الکتب لاریب فیہ، ھدی للمتقین “ سے ” مفلحون “ تک یہ لوگ جنت والے ہیں صحابہ نے عرض کیا ہم تمنا کرتے ہیں کہ ہم ہی یہ لوگ ہوں گے۔ پھر فرمایا لفظ آیت ” ان الذین کفروا سواء علیہمء انذرنھم “ سے عظیم تک یہ لوگ دوزخ والے ہیں ہم نے کہا یا رسول اللہ ! ہم لوگ تو وہ نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ (3) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین کفروا “ سے مراد ہے کہ (انہوں نے انکار کیا) اس چیز کا جو تیری طرف اتارا گیا۔ اگرچہ وہ یہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے اس چیز پر جو آپ سے پہلے آیا (ہدایت میں سے) پھر فرمایا لفظ آیت ” سواء علیہمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یؤمنون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے انکار کیا جو تیری ذات وصفات کا ذکر ان کے کتابوں میں تھا۔ اور انکار کیا اس عہد کا جو تیرے لئے ان سے وعدہ لیا گیا تھا۔ اور انکار کیا جو آپ لے کر آئے اور اس کا بھی انکار کیا جو جو ان کے پاس تھی ان کتابوں میں سے جو تیرے علاوہ (دوسرے پیغمبر) لائے تھے سو کس طرح وہ تجھ سے ڈرتا اور خوف دلانا سنیں گے حالانکہ وہ اس چیز کا انکار کرچکے ہیں۔ آپ کی ان صفات کا جو ان کے پاس مذکور ہیں۔