2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 2:1

الٓمّٓ ۟ۚالٓمّٓۚ Open ayah 2:1 in the Quran reader

الم۔

حروف مقطعات کی بحث الم : یہ حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات انتیس سورتوں کے شروع میں آئے ہیں اور وہ یہ ہیں : ا ل م۔ ا ل ر ۔ ا آمآآ۔ ا آمآرٰ ۔ حٰآ۔ حٰآآآآ۔ کھٰیٰعٓصٓ۔ طٰسٓ۔ طٰسٓمّٓ۔ طٰہٰ ۔ یٰسٓ۔ صٓ۔ قٓ۔ نٓ۔ ان میں ا ل م ر چھ جگہ ہے۔ اور ا ل ر پانچ جگہ ہے اور حٰمٓ چھ جگہ ہے اور طٰسٓمّٓ دو جگہ ہے۔ اور ان کے علاوہ باقی سب ایک ایک جگہ ہیں۔ کیونکہ یہ متشابہات میں سے ہیں۔ اس لیے مفسرین ان کے سامنے یوں لکھ دیتے ہیں۔ اللّٰہ اعلم بمرادہ بذلک۔ (اللہ کو اس کا معنی معلوم ہے) بہت سے اکابر جن میں خلفاء اربعہ اور ابن مسعود ؓ بھی ہیں ان کا موقف یہی ہے۔ جیسا کہ ابن کثیر نے نقل کیا ہے۔ بعض حضرات نے ان کے کچھ معانی بھی بتائے ہیں کسی نے کہا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں جن کے شروع میں آئے ہیں۔ حضرت مجاہد کا قول ہے کہ ا ل م ر قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ حضرت شعبی نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ا ل م ر میں الف اللہ کا پہلا حرف ہے اور لام اللہ کے نام لطیف کا پہلا حرف ہے اور میم مجید کا پہلا حرف اور ایک قول یہ ہے، الف سے الاء اللہ یعنی اللہ کی نعمتیں اور لام سے لطف اللہ یعنی اللہ کی مہربانی اور میم سے مجد اللہ یعنی اللہ کی بزرگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن اس میں سے کوئی بات رسول اللہ ﷺ سے منقول نہیں ہے۔ مفسرین نے حروف مقطعات کے ذریعہ سورتیں شروع کرنے کی یہ حکمت بھی لکھی ہے کہ اہل عرب کو یہ بتانا تھا کہ یہ کتاب جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ہے اس کے کلمات انہیں حروف سے مرکب ہیں جو تمہاری گفتگو اور محاورات میں استعمال ہوتے ہیں۔ تم فصیح وبلیغ ہو اس جیسی کتاب بنا کر لاؤ۔ جب ماہرین اس جیسی کتاب بنا کر نہیں لاسکتے تو ایک امی جس نے کسی سے کچھ نہیں پڑھا اس کے بارے میں کیسے کہتے ہو کہ اس نے اپنے پاس سے بنا لیا۔ اگر یہ کلام کسی غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو تم لوگ اس جیسا کلام بنانے سے کیوں عاجز رہ جاتے۔ اس کے علاوہ اور بھی حکمتیں بیان کی ہیں جو مفسر بیضاوی نے لکھی ہیں۔ ان حروف کو اس طرح الگ الگ پڑھا جاتا ہے ان میں تجوید کے قواعد کے مطابق مد بھی ہیں جو مدحرفی مثقل اور مد حرفی مخفف کے نام سے کتب تجوید میں بیان کیے گئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا تو اس کی وجہ سے اسے ایک نیکی ملے گی اور نیکی دس نیکیوں کے برابر ہوگی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے (بلکہ) الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (رواہ الترمذی ص 413 وقال حدیث حسن صحیح)
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ۛۖۚ— فِیْهِ ۛۚ— هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ۟ۙذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيْهِ ۛ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اس میں ہدایت ہے متقیوں کے لیے۔

قرآن مجید بلا ریب اللہ کی کتاب ہے (ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ) (یہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں) مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی۔ اس کا وحی الٰہی ہونا اور خدا وند قدوس کی طرف سے نازل ہونا یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں نظر صحیح کی جائے تو کسی عاقل کے لیے کسی طرح کے کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں اگر کسی کو کوئی شک ہے تو اس کی کج فہمی کی وجہ سے ہے اس کے شک کا اعتبار نہیں۔ اور جو شخص فکر صحیح کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے لیکن پھر بھی منکر ہے اور کہتا ہے کہ مجھے شک ہے تو اسے حقیقت میں شک نہیں ہے۔ ضد اور عناد نے اسے اس پر آمادہ کیا ہے کہ حق اور حقیقت کا انکار کرے۔ قرآن مجید متقیوں کیلئے ہدایت ہے (ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ) (یہ کتاب ہدایت ہے متقیوں کیلئے) سورة بقرہ میں دوسری جگہ (رکوع 23) میں قرآن مجید کو (ھُدًی لِّلنَّاسِ ) فرمایا اور یہاں (ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ) فرمایا ہے۔ دونوں باتیں صحیح ہیں۔ قرآن کی دعوت عام ہے ہر انسان کو قرآن نے حق کی دعوت دی ہے اور بار بار سمجھایا ہے اور دلائل پیش کیے ہیں جن کو سامنے رکھ کر تھوڑی سی سمجھ رکھنے والا بھی ہدایت پر آسکتا ہے لیکن چونکہ اس سے وہی لوگ نفع حاصل کرتے ہیں۔ جو اپنی عقل و فکر کو استعمال کر کے حق قبول کرتے ہیں اور یہ طے کرچکے ہیں کہ ہمیں گمراہی میں نہیں رہنا اور شرک و کفر سے بچنا ہے، اس لیے یہاں (ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ) فرمایا، لفظ اِتِّقاء (جس سے متقی کا لفظ ماخوذ ہے اور اس کی جمع متقین ہے) اس کا معنی بچنے کا ہے اور ڈرنے کے معنی میں بھی لیا جاتا ہے۔ لفظ تقویٰ اور اِتِّقاء دونوں کا مادہ ایک ہی ہے شرک اور کفر سے بچنا اور ایمان قبول کر کے چھوٹے بڑے گناہوں سے بچنا اور مزید ترقی کر کے متشبیہات سے بچنا اور اپنے باطن کو صرف ذات حق تعالیٰ شانہٗ ہی میں مشغول رکھنا اور اسی کی طرف متوجہ رہنا یہ سب تقویٰ میں آتا ہے۔ (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ) میں جو یہ بات بتائی گئی تھی کہ اس میں ہدایت پر ثابت رہنے کی دعا ہے۔ یہاں بھی وہ ہی بات کہی جاسکتی ہے۔ جو لوگ متقی ہیں۔ قرآن مجید پڑھ کر اور سن کر ان کی صفت تقویٰ میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور ایمان بڑھ جاتا ہے (فَزَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّ ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ) ۔
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ۟ۙالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو ایمان لاتے ہیں غیب پر اور قائم کرتے ہیں نماز کو اور ہمارے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں

متقین کی صفات : اس کے بعد متقین کی صفات بیان فرمائیں، اول یہ کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جن باتوں کی خبر دی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے جو باتیں بتائی ہیں، ماضی سے متعلق ہوں یا مستقبل سے ان سب کو مانتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں، بغیر دیکھے صرف خبر پر ایمان لے آنا یہ ایمان بالغیب ہے اور ایمان بالغیب ہی معتبر ہے۔ جب قیامت کا دِن ہوگا تو وہاں کے حالات سب ہی دیکھ لیں گے اور مان لیں گے لیکن دیکھنے کے بعد مان لینا اور ایمان لانا معتبر نہیں۔ متقیوں کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی (وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ) یعنی وہ نماز قائم کرتے ہیں، یُصَلُّوْنَ نہیں فرمایا بلکہ (وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ) فرمایا۔ نماز قائم کرنا یہ ہے کہ نماز کے فرائض و واجبات و سنن و مستحبات سب کو خوف دھیان اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے۔ تفسیر ابن کثیر میں حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد نقل کیا ہے : اقامۃ الصلوۃ اتمام الرکوع و السجود و التّلاوۃ و الخشوع والاقبال علیھا فیھا۔ یعنی نماز کا قائم کرنا یہ ہے کہ رکوع سجدہ پورا پورا ادا کیا جائے اور تلاوت بھی صحیح ہو اور نماز میں خشوع بھی ہو اور نماز پڑھتے وقت نماز کا دھیان بھی ہو۔ پھر فرمایا : (وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) (اور ہمارے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں) متقیوں کی صفت اقامت الصلوٰۃ بیان کرنے کے بعد ( جو عبادات بدنیہ میں سے سب سے اہم اور سب سے بڑی عبادت ہے) مالی عبادت کا ذکر فرمایا۔ یعنی متقیوں کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ان میں مالی فرائض (زکوٰۃ اور عشر) اور واجبات (صدقہ فطر وغیرہ) نفلی صدقات سب داخل ہیں۔
Ayah 2:4

وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَمَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ— وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ ۟ؕوَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ Open ayah 2:4 in the Quran reader

، اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو اتارا گیا آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔

پھر فرمایا (وَ الَّذِیْنَ یَؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ) (جو لوگ متقی ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا) ایمان وہ معتبر ہے جس میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے تمام رسولوں پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان ہو۔ اللہ کے کسی ایک نبی یا اس کی کسی ایک کتاب کا انکار کرنا بھی کفر ہے۔ (لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ ) میں اسی بات کا اعلان کیا گیا ہے۔ (وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ) کے عموم میں قرآن کریم سے پہلی تمام کتابوں اور صحیفوں کا علم ہے اور جن کا علم نہیں، ان سب پر ایمان لانا اور اللہ کی کتاب ماننا فرض ہے۔ پھر فرمایا (وَ بالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ) (اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں) ایمان کے تین اہم جزو ہیں۔ توحید، رسالت اور موت کے بعد زندہ ہونے پر ایمان لانا، یہاں ان تینوں چیزوں کو بتادیا ہے، اور ساتھ ہی نماز اور زکوٰۃ کا بھی ذکر فرما دیا۔ کیونکہ ایمان قلبی کے بعد دوسرا درجہ نماز کا ہے اور اس کے بعد زکوٰۃ ہے۔ ایک فریضہ بدنیہ اور دوسرا فریضہ مالیہ بیان فرما دیا۔
Ayah 2:5

اُولٰٓىِٕكَ عَلٰی هُدًی مِّنْ رَّبِّهِمْ ۗ— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۟اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہ لوگ بڑی ہدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے اور یہ لوگ ہی کامیاب ہیں

(اُولٰٓءِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ ) (آخر تک) اس آیت میں ان لوگوں کے لیے ہدایت پر ہونے اور کامیاب ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔ جن کی صفات پہلے بیان ہوئیں۔ ان کو اس بات کی سند دی گئی کہ یہ ہدایت پر ہیں اور حقیقی اور واقعی کامیابی انہی کو حاصل ہونے والی ہے جو آخرت میں اللہ کی رضا اور دخول جنت کی صورت میں حاصل ہوگی۔ اللہ کی رضا سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں۔
Ayahs 2:6–7

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ Open ayah 2:6 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے برابر ہے کہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْ ؕ— وَعَلٰۤی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ؗ— وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۟۠خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡ‌ؕ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ Open ayah 2:7 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ان کے دلوں پر، اور ان کے سننے کی قوت پر، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

کافروں کی گمراہی اور آخرت میں بدحالی۔ اہل ایمان کے اوصاف بیان فرمانے کے بعد ان آیات میں ان کافروں کا ذکر فرمایا ہے۔ جن کا اللہ کے علم میں خاتمہ کفر پر ہونا ہے اور جو لوگ حق واضح ہوتے ہوئے اور حق و باطل کو سمجھتے ہوئے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ ہمیں ہرگز کسی حالت میں اسلام قبول نہیں کرنا۔ اللہ جل شانہ نے ہر شخص کو فطرت ایمانیہ پر پیدا فرمایا پھر اس کے ماں باپ اس کو کفر پر ڈال دیتے ہیں اور وہ اپنے ماحول اور معاشرہ کی وجہ سے ایمانی استعداد کو کھو بیٹھتا ہے اور اپنے کو اس درجہ میں پہنچا دیتا ہے کہ کسی قیمت پر اسلام قبول کرنے کو تیار نہیں۔ جب انہوں نے اپنی شرارت اور عناد کی وجہ سے اپنی استعداد خود برباد کردی تو اپنی تباہی کا سبب وہ خود ہی بن گئے لیکن چونکہ اللہ بندوں کے تمام افعال کا خالق ہے اس لیے اس خلق افعال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی جسے مہر لگانے سے تعبیر کیا گیا۔ یہ مسئلہ قدرے باریک ہے اس لیے اسی اجمال پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔ جو لوگ کافر ہیں خواہ یہود و نصاریٰ ہوں خواہ ہندو و مشرک ہوں خواہ دوسری کسی قوم کے افراد ہوں اہل اسلام ان سے ملتے رہتے ہیں اور دلیل سے ان کو عاجز اور خاموش کردیتے ہیں اور ان میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو قرآن اور اسلام کو حق جانتے ہیں پھر بھی نہ صرف یہ کہ خود اسلام قبول نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اسلام قبول کرنے سے روکتے ہیں اور جو کوئی اسلام قبول کرلیتا ہے اس کو کفر میں واپس لانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسلام کو حق جانتے ہوئے قومی یا مذہبی عصبیت کے باعث اسلام کے خلاف کتابیں لکھتے ہیں۔ ان کے احوال اوراقوال پر نظر کرو تو ان کا عناد اور ان کا حال معلوم کرنے کے بعد آیۃ (سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ) کا مطلب بالکل واضح طور پر سمجھ میں آجاتا ہے۔
Ayahs 2:8–10

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ۟ۘوَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۘ‏ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور بعضے لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخری دن پر ایمان لائے۔ حالانکہ وہ ایمان والے نہیں ہیں۔

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ— وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۟ؕيُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ‌ۚ وَمَا يَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

وہ دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے، اور نہیں دھوکہ دیتے مگر اپنی جانوں کو۔ اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ ۙ— فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۚ— وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۙ۬۟ — بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ ۟فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ‌ۚ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ‏ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں بڑا روگ ہے سو اللہ نے ان کا روگ بڑھا دیا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

منافقین کی تاریخ اور نفاق کے اسباب جب سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور دین اسلام خوب پھیلنے لگا تو یہودیوں اور خاص کر ان کے علماء اور احبار کو یہ بات زیادہ کھلی اور یہ لوگ دشمنی پر اتر آئے۔ کچھ لوگ اوس اور خزرج میں سے بھی اسلام کے مخالف ہوگئے۔ اسلام کی اشاعت عام ہوجانے کے بعد کھل کر یہ لوگ مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اور دشمنی کے اظہار سے بھی عاجز تھے۔ اس لیے انہوں نے یہ چال چلی کہ ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا، اندر سے کافر تھے اور ظاہر میں مسلمان تھے۔ ان کا سردار عبداللہ ابن ابی تھا۔ حضور اقدس ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے اوس اور خزرج نے عبداللہ بن ابی کو اپنا بادشاہ بنانے اور اس کو تاج پہنانے کا مشورہ کیا تھا۔ سید العالمین ﷺ کے ہوتے ہوئے کسی کی سرداری نہیں چل سکتی تھی اس نے اور اس کے ساتھیوں نے ظاہری طور پر اسلام قبول کر کے اپنے کو مسلمانوں میں شمار کرا دیا اور اندر سے اسلام کی کاٹ میں لگے رہے۔ ان کے اس طریقہء کار میں یہ راز پوشیدہ تھا کہ اسلام قبول کرنے پر جو منافع ہیں وہ بھی ملتے رہیں اور کنبے اور قبیلے سے باہر بھی نہ ہوں اور اہل کفر سے بھی گٹھ جوڑ رہے اور ان سے بھی فائدہ ملتا رہے۔ اور یہ بھی پیش نظر تھا کہ اگر العیاذ باللہ اسلام اور داعی اسلام ﷺ کا قیام اور بقا زیادہ دیر تک نہ رہے تو حسب سابق پھر سرداری مل جائے گی لہٰذا یہ اوپر سے مسلمان اور اندر سے کافر رہے اور اسلام اور داعی اسلام کی ناکامی کے انتظار میں رہنے لگے۔ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم مؤمن ہیں اور اس طرح سے اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ اور خالص کافروں سے تنہائیوں میں ملتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ یہ لوگ اپنے کو مسلمان ظاہر کرنے کے لیے نمازیں بھی پڑھتے تھے لیکن چونکہ دل سے نمازی نہ تھے، اس لیے جماعتوں کی حاضری میں سستی کرتے تھے، اور اکساتے ہوئے اوپر کے دل سے نماز پڑھتے تھے جہادوں میں بھی شریک ہونے کے لیے ساتھ لگ جاتے تھے لیکن کبھی تو درمیان سے واپس آگئے اور کبھی ساتھ رہتے ہوئے ہی مکروفریب کو کام میں لاتے رہے۔ حضرت سرور عالم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تکلیفیں پہنچانے اور دل دکھانے کی تدبیریں کرتے رہتے تھے۔ جھوٹی قسمیں کھا کر کہتے تھے اور قسم کھا جاتے تھے کہ ہم نے تو نہیں کہا۔ ان لوگوں کے حالات سورة بقرہ کے دوسرے رکوع میں اور سورة نساء کے رکوع 21 میں اور سورة منافقون میں اور سورة حشر میں بیان کیے گئے ہیں۔ اور سورة برأۃ میں خوب زیادہ ان کی قلعی کھولی گئی ہے۔ سیرت کی کتابوں میں ان لوگوں کے نام بھی لکھے ہیں کہ یہ کون کون تھے اور کس قبیلہ سے تھے۔ البدایہ والنہایہ اوائل کتاب المغازی ص 336 ج 3 تا ص 340 میں یہودی علماء اور احبار جنہوں نے اسلام اور داعی اسلام ﷺ کی کھل کر مخالفت اختیار کی اور خوب زیادہ دشمنی میں لگ گئے، ان کے نام اور ان لوگوں کے نام جو یہودیوں اور اوس و خزرج میں سے منافق بنے ہوئے تھے واضح طور پر ذکر کئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ مروت کا برتاؤ فرماتے رہے اور ان کی ایذاؤں کو سہتے رہے، آپ احسن اسلوب سے اپنی دعوت کو لے کر آگے بڑھتے رہے اور دین اسلام کو برابر ترقی ہوتی رہی۔ اس میں جہاں یہ حکمت تھی کہ شاید یہ لوگ مخلص مسلمان ہوجائیں وہاں یہ مصلحت بھی تھی کہ اگر ان کے ساتھ سختی کریں گے تو عرب کے دوسرے قبائل جو مسلمان نہیں ہوئے ہیں اور صحیح صورت حال انہیں معلوم نہیں وہ اسلام کے قریب آنے کے بجائے اور دور ہوجائیں گے۔ اور شیطان ان کو یہ سمجھائے گا کہ دیکھو محمد ( رسول اللہ ﷺ کا اپنے ماننے والوں کے ساتھ کیسا برتاؤ ہے۔ بالآخر ایک دن وہ آیا کہ یہ لوگ سختی اور ذلت کے ساتھ مسجد نبوی سے نکال دیے گئے۔ جس کی تفصیل سیرۃ ابن ہشام (جلد ثانی کے اوائل) میں مذکور ہے۔ مذکورہ بالا آیات میں اور ان کے بعد والی چند آیتوں میں منافقین کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اوّل تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ اس بات کے مدعی ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر بھی ایمان لائے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ دعویٰ سرا سر جھوٹ ہے۔ یہ اہل ایمان نہیں ہیں۔ ایمان فعل قلب ہے۔ صرف زبانی دعویٰ سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہوگا۔ جب تک دل سے ان چیزوں کی تصدیق نہ کرے جو اللہ نے اپنے نبیوں کے ذریعہ بتائی ہیں اور جن پر ایمان لانے کا حکم فرمایا ہے اس وقت تک کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا۔ منافقین کے اسی دوغلے پن کو کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں۔ حالانکہ مومن نہیں۔ سورة مائدہ میں اس طرح بیان فرمایا : (مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاھِھِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُھُمْ ) (یعنی یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے مونہوں سے کہا کہ ہم ایمان لائے اور حال یہ کہ ان کے دل ایمان نہیں لائے) اس دورنگی اور دوغلے پن کو قرآن و حدیث میں نفاق اور منافقت سے تعبیر کیا گیا ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں۔ ان کو منافق فرمایا گیا ہے۔ یہ کلمہ لفظ ” نَفَقْ “ سے ماخوذ ہے۔ نفق اس سرنگ کو کہتے ہیں۔ جس میں دونوں طرف سے راستہ ہو چونکہ منافقین اسلام میں ایک دروازہ سے داخل ہوتے ہیں اور دوسرے دروازہ سے نکل جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے اس عمل کا نام نفاق رکھا گیا۔ مفردات امام راغب میں ہے : و منہ النفاق و ھو الدخول فی الشرع من باب و الخروج عنہ من باب و علی ذلک نبہ تعالیٰ بقولہ ان المنافقین ھم الفاسقون ای الخارجون من الشرع۔ منافقت کفر کی بد ترین اور خبیث ترین قسم ہے۔ اس میں کفر بھی ہے، جھوٹ بھی ہے۔ دھوکہ دہی بھی ہے۔ ایسے لوگ صرف بندوں ہی کو دھوکہ نہیں دیتے بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی دھوکہ دیتے ہیں اور ایمان اور اہل ایمان کا مذاق بناتے ہیں اور جو کھلے کافر ہیں ان کو بھی دھوکہ دیتے ہیں ان سے کہتے ہیں کہ ہم تم میں سے ہیں۔ اور حال یہ ہے کہ وہ کسی میں سے نہیں جس کو سورة نساء میں یوں بیان فرمایا ہے : (یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیْلًا مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ وَ لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ ) ” یعنی وہ لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کو بس تھوڑا بہت یاد کرتے ہیں، ایمان اور کفر کے درمیان مذبذب ہیں نہ ان کی طرف ہیں اور نہ ان کی طرف “ وجہ اس کی یہ ہے کہ منافق کسی کا نہیں ہوتا وہ صرف اپنا ہوتا ہے۔ جہاں دنیا اور دنیاوی منافع دیکھتا ہے موقعہ دیکھ کر اسی طرف ہوجاتا ہے۔ اور اتنے ہی وقت کے لیے ہوتا ہے جتنے وقت تک ضرورت محسوس کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی مثال ایسی ہے۔ جیسے بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان ایک بکری ہے وہ گابھن ہونے کے لیے کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے۔ (مشکوٰۃ ص 17) منافقین اپنے اس عمل کو چالبازی اور ہوشیاری سمجھتے ہیں کہ ہم نے خوب اللہ تعالیٰ اور مومنین کو دھوکہ دیا اور اپنا کام نکالا۔ حالانکہ اس دھوکہ دہی اور چالبازی کا برا انجام خود انہی کے سامنے آئے گا۔ اور یہ چالبازی انہیں کے لیے وبال جان بنے گی وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خوب سمجھتے ہیں حالانکہ اپنے اصل نفع اور نقصان تک کو نہیں سمجھتے۔ نفاق کا مرض بہت پرانا ہے اور اس میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ زمانہء نبوت کے منافقین اس مرض میں مبتلا تھے۔ جیسے جیسے اسلام آگے بڑھتا گیا منافقوں کا نفاق بھی بڑھتا رہا، مرض نفاق حسد اور حب دنیا کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، دنیا میں ایسا شخص ذلیل ہوتا ہے اور آخرت میں منافق کے لیے سخت سزا ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ نفاق رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھا آج تو یا اسلام ہے یا کفر ہے۔ ان کا یہ ارشاد امام بخاری نے نقل کیا ہے۔ شراح حدیث نے فرمایا ہے کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ چونکہ ہم دلوں کا حال نہیں جانتے اس لیے ہم کسی مدعی اسلام کو یوں نہیں کہیں گے کہ یہ منافق ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کے منافقوں کے نفاق کا علم تھا اس لیے متعین طریقے پر ان کو منافق قرار دیا گیا، ہم ظاہر کے مکلف ہیں جو شخص کہے گا میں مسلمان ہوں، اس کو مسلمان سمجھیں گے جب تک کہ اس سے کفر کا کوئی کلمہ یا کفر کا کوئی کام صادر نہ ہو اگر کسی کے بارے میں اندازہ ہو کہ یہ ظاہر میں مسلمان بنتا ہے، اندر سے مسلمان نہیں ہے اسے منافق کہے بغیر اپنی حفاظت کریں گے۔
Ayahs 2:11–15

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ۙ— قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ۟وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح ہی کرنے والے ہیں۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ۟اَلَا ۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَلٰـكِنۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

خبردار بلاشبہ یہی لوگ مفسد ہیں لیکن نہیں سمجھتے ہیں۔

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ ؕ— اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ ۟وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡاۤ اَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰـكِنۡ لَّا يَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسا کہ اور لوگ ایمان لائے تو کہتے ہیں کہ کیا ہم ایمان لائیں جیسے یہ بیوقوف ایمان لے آئے۔ خبردار بلاشبہ یہی بیوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا ۖۚ— وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِهِمْ ۙ— قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ ۙ— اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ ۟وَاِذَا لَقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡاۤ اٰمَنَّا ۖۚ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰى شَيٰطِيۡنِهِمۡۙ قَالُوۡاۤ اِنَّا مَعَكُمۡۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَهۡزِءُوۡنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ ان سے ملتے ہیں جو ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ اور جب تنہائیوں میں اپنے شیطانوں کے پاس ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بیشک ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف مذاق بنانے والے ہیں۔

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَیَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ ۟اَللّٰهُ يَسۡتَهۡزِئُ بِهِمۡ وَيَمُدُّهُمۡ فِىۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ‏ Open ayah 2:15 in the Quran reader

اللہ ان کا مذاق بناتا ہے اور ان کو ڈھیل دے رہا ہے وہ اپنی سرکشی میں اندھے ہو کر بھٹک رہے ہیں۔

منافقوں کے دعوے اور ان کا طریق کار ان آیات میں منافقین کے بعض دعوے نفل فرمائے ہیں۔ اور ان کا طریقہء کار ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے تھے کہ اجی ہم کہاں فساد کہاں ؟ ہمارا کام تو اصلاح کرنا ہی ہے۔ ان کی تردید میں فرمایا کہ خبر دار بلاشبہ یہ لوگ فسادی ہی ہیں لیکن اس کا شعور نہیں رکھتے، جس فساد میں یہ لوگ مبتلا تھے اس میں کئی طرح سے حصہ لیتے تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنے کھڑے کرتے تھے۔ اور دشمنان اسلام کو لڑائیوں پر آمادہ کرتے تھے اور مسلمانوں کے بھید دشمنوں تک پہنچاتے تھے۔ اور جو لوگ مسلمان ہونے کا ارادہ کرتے ان کو اسلام سے روکنے کا سبب بنتے تھے۔ اور مسلمانوں کا مذاق بناتے تھے فساد کے کاموں میں مبتلا ہوتے ہوئے ان کا دعویٰ یہ تھا کہ ہم تو اصلاح ہی کرنے والے ہیں۔ مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم دونوں فریق یعنی مسلمین اور کافرین کی مدارات کرتے ہیں۔ دونوں میں جوڑ لگانے اور دونوں کے تعلقات استوار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ (و کذا نقلہ السیوطی عن ابن عباس فی الدر) انہوں نے اپنے نفاق کو اصلاح سے تعبیر کیا، ان کا دعویٰ جھوٹ تھا۔ دونوں فریق میں سے ہر فریق ان کو اپنی جماعت سے علیحدہ سمجھتا تھا۔ (لاَ اِلٰی ھٰؤلاَءِ وَلَا اِلٰی ھٰؤْلَاءِ ) جس شخص سے دونوں جانب میں سے کوئی بھی مطمئن نہ ہو وہ کیا جوڑ بٹھا سکتا ہے۔ پھر ایمان اور کفر میں جوڑ بٹھانے کا ارادہ کرنا بھی مزید کفر ہے۔ ایمان اور کفر کا جوڑ بیٹھ ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا ان کا دعویٰ اصلاح صرف دھوکہ ہے اور وہ اس کے نتیجہ سے ناواقف ہیں، ان کے عمل سے جو فساد پھیلتا ہے اس کو نہیں سمجھتے اور آخرت میں جو اس کا وبال ان پر پڑے گا اس کو نہیں جانتے۔ اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ ایمان لے آؤ یعنی دین اسلام کو سچے دل سے قبول کرو تو وہ کہتے تھے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ تو بیوقوف ہیں ہم بیوقوفی کا کام کیوں کریں۔ حضرات صحابہ اور خاص کر انصار کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ ان کو انہوں نے بیوقوف بنایا۔ اور گویا اپنے سمجھدار اور ہوشیار ہونے کا دعویٰ کیا۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ بلاشبہ یہ خود بیوقوف ہیں، لیکن جانتے نہیں ہیں۔ جس نے ایمان کھویا کفر اختیار کیا اسلام کو نقصان پہنچایا اپنی آخرت برباد کی اور دنیا میں مومنین اور کافرین دونوں کے نزدیک مطعون اور قابل ملامت ہوا، اس کی بیوقوفی میں کیا شک ہے ؟ منافقین کا یہ طریقہ تھا کہ مومنین سے کہتے تھے کہ ہم تو ایمان لا چکے ہیں اور جب تنہائیوں میں اپنے شیطانوں یعنی کفر کے سرغنوں کے پاس جاتے تھے جو کھلے کافر تھے تو ان سے کہتے تھے کہ بلاشبہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ یہ جو ہم مسلمانوں سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں یہ تو ہمارا مذاق ہے۔ ان کا مذاق بنانے کے لیے بطور دل لگی ہم ان کے سامنے ان کی جماعت میں ہونے کا اقرار کرلیتے ہیں لیکن اندر سے اور دل سے ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ (قال ابن عباس کان رجال من الیھود اذا لقوا اصحاب النبی ﷺ او بعضھم قالوا انّا علی دینکم و اذا خلوا الی شیاطینھم و ھم اخوانھم قانلوا انّا معکم ای علی مثل ما انتم علیہ انما نحن مستھزؤن ساخرون۔ (درمنثور ج 1 ص 31) انہوں نے یہ جو کہا کہ ہم مسلمانوں کا مذاق بناتے ہیں اس کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کا مذاق بناتا ہے یعنی وہ ان کے اس استہزاء اور مذاق بنانے کا بدلہ دے گا، انہوں نے استہزاء کر کے مسلمانوں کے ساتھ جو حقارت کا معاملہ کیا، اس کی پاداش میں آخرت میں ذلیل اور رسوا ہوں گے۔ اور ان کے استہزاء کا وبال انہیں پر پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت فائدہ میں ہیں حالانکہ وہ دوزخ کی طرف جا رہے ہیں یہاں دنیا میں مسلمانوں کی طرف اشارے کرتے ہیں زبانوں سے کن اکھیوں سے ان کا مذاق بناتے ہیں۔ آخرت میں مومنین ان پر ہنسیں گے۔ (فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْکُفَّارِ یَضْحَکُوْنَ ) سورة حدید کے دوسرے رکوع میں منافقین کے پیش آنے والے ایک استہزاء کا ذکر ہے۔ (فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاھِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ ) جس کی تفسیر انشاء اللہ اپنی جگہ پر بیان ہوگی۔ دنیا میں منافقین اپنے مال اور جائداد وغیرہ میں مشغول ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہیں ان کا سمجھا غلط ہے ان کا مال اور جائیداد ان کو گمراہی اور سرکشی میں لگائے ہوئے ہے اور وہ اسی گمراہی میں حیران اور سرگرداں ہو کر بھٹک رہے ہیں۔ دنیاوی مال اور جائیداد سے دھوکہ کھانا اور یہ سمجھنا کہ کفر کے ہوتے ہوئے یہ ہمارے لیے مفید اور نافع ہے بہت بڑا دھوکہ ہے سورة مومنون میں فرمایا : (اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ نُسَارِعُ لَہُمْ فِی الْخَیْرَاتِ بَل لّاَ یَشْعُرُوْنَ ) ” کیا یہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال اور بیٹے دیئے چلے جاتے ہیں (اس طرح) ہم ان کو جلدی جلدی فائدے پہنچا رہے ہیں (بات یوں نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔ “
Ayah 2:16

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰی ۪— فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ ۟اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالۡهُدٰى فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُهُمۡ وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ‏ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلہ گمراہی خرید لی۔ سو ان کی تجارت نفع مند نہ ہوئی۔ اور نہ وہ ہدایت پر چلنے والے بنے

منافقین نے ہدایت کے بدلہ گمراہی خریدلی اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے ہر شخص کو فطرت ایمان پر پیدا فرمایا پھر عقل اور ہوش بھی دیا۔ اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ کتابیں نازل فرمائیں اس سب کے باوجود اگر کوئی شخص ہدایت کو اختیار نہ کرے اور گمراہی کو اختیار کرے تو یہ ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والا بن گیا اس نے اپنی عقل و بصیرت کی پونجی کو جس کے ذریعہ ہدایت پر چل سکتا تھا، ضائع کردیا اور گمراہی اختیار کرلی۔ یعنی اپنی پونجی گمراہی حاصل کرنے میں لگا دی ایسے لوگوں کی یہ تجارت نفع مند نہیں، بلکہ سراسر نقصان اور خسران کا باعث ہے۔ حقیر دنیا کے لیے گمراہی لی، ہدایت سے منہ موڑا، آخرت کی بربادی کو خریدا، فطرت سلیمہ جو ان کی پونجی تھی اس کو برباد کیا، ایسی تجارت میں نفع کہاں ؟ نقصان کو نفع سمجھنا بہت بڑی حماقت اور خود فریبی ہے۔ اہل ایمان کو دھوکہ دیا ان کی بیوقوف بتایا اور خود ہی دھوکہ میں پڑے اور برباد ہوئے۔
Ayahs 2:17–18

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا ۚ— فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَا حَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ ۟مَثَلُهُمۡ كَمَثَلِ الَّذِى اسۡتَوۡقَدَ نَارًا ‌ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوۡرِهِمۡ وَتَرَكَهُمۡ فِىۡ ظُلُمٰتٍ لَّا يُبۡصِرُوۡنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی پھر جب اس آگ نے اس شخص کے آس پاس کو روشن کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی کو ختم کردیا۔ اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ دیکھ نہیں رہے ہیں۔

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ۟ۙصُمٌّۢ بُكۡمٌ عُمۡىٌ فَهُمۡ لَا يَرۡجِعُوۡنَ ۙ‏ Open ayah 2:18 in the Quran reader

یہ لوگ بہرے ہیں، گونگے ہیں اندھے ہیں پس یہ لوگ رجوع نہ ہوں گے۔

منافقوں کے بارے میں دو اہم مثالیں منافقوں نے ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا اور دل میں ان کے ایمان نہ تھا ظاہری ایمان قبول کرنے سے جو کچھ انہیں دنیاوی فائدہ پہنچ گیا مثلاً جان و مال محفوظ کرلیا کہ مسلمان ان سے تعرض نہ کریں اس کو اولاً ایسے شخص سے تشبیہ دی جو اندھیری رات میں آگ جلائے اور اس روشنی سے راستہ دیکھنے کا فائدہ حاصل کرنا چاہے، اور ان لوگوں کا جو انجام ہونے والا ہے کہ مرتے ہی سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کو اس آگ کے بجھانے سے تشبیہ دی جس کو انہوں نے روشنی کے لئے جلایا تھا، دنیا میں جھوٹے منہ سے ایمان ظاہر کر کے ذرا سا فائدہ اٹھا لیا اور ہمیشہ کے لیے عذاب الیم میں گرفتار ہوئے، جیسے کوئی شخص اندھیری رات میں آگ جلائے اور روشنی ہوجائے تو وہ روشنی اللہ تعالیٰ شانہٗ ختم فرما دے اور یہ آگ جلانے والا اندھیروں میں حیران کھڑا رہ جائے نہ کچھ دیکھ سکے نہ بوجھ سکے، منافقوں نے اپنے طور پر بڑی ہوشیاری کی کہ ایمان ظاہر کر کے دنیا کا کچھ فائدہ اٹھا لیا لیکن دل میں جو کفر گھسا ہوا ہے اس کی وجہ سے موت کے بعد جن مصیبتوں میں گرفتار ہوں گے اس کو نہ سوچا اور کفر میں بڑھتے بڑھتے اس درجے پر پہنچ گئے کہ بہرے بھی ہیں حق سننے کے قابل نہ رہے اور گونگے بھی ہیں جن کے منہ سے کلمہ حق ادا نہیں ہوسکتا اور اندھے بھی ہیں جو راہ حق نہیں دیکھ سکتے۔ اپنا نفع نقصان جاننے اور سمجھنے سے غافل ہیں۔ ان کے بارے میں اب نہ سوچا جائے کہ وہ حق کی طرف رجوع کریں گے اور دل سے مسلمان ہوں گے۔ (ذکر ابن کثیر فی شرح المثل عدۃ اقوال و قد اختر نا ما نقلہ عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ قال ھذا مثل ضربہ اللّٰہ للمنافقین انھم کانوا یعتزون بالاسلام فیناکحھم المسلمون ویوارثونھم و یقاسمونھم الفئ فلما ماتوا سلبھم اللّٰہ ذلک العزکما سلب صاحب النار ضوء ہ۔ )
Ayahs 2:19–20

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ ۚ— یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ؕ— وَاللّٰهُ مُحِیْطٌ بِالْكٰفِرِیْنَ ۟اَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيۡهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعۡدٌ وَّبَرۡقٌ‌ ۚ يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ‌ؕ وَاللّٰهُ مُحِيۡطٌ‌ۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ان کی ایسی مثال ہے جیسے آسمان سے تیز بارش ہو رہی ہو اس میں اندھیریاں ہوں اور گرج ہو اور بجلی ہو یہ لوگ موت کے اندیشے کے سبب اپنے کانوں میں انگلیاں دے رہے ہیں کڑک کی وجہ سے، اور اللہ تعالیٰ احاطہ کئے ہوئے ہیں کافروں کو،

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ ؕ— كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ ۙۗ— وَاِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا ؕ— وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۟۠يَكَادُ الۡبَرۡقُ يَخۡطَفُ اَبۡصَارَهُمۡ‌ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمۡ مَّشَوۡا فِيۡهِ وَاِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَيۡهِمۡ قَامُوۡا‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمۡعِهِمۡ وَاَبۡصَارِهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائی کو اچک لے۔ جب کبھی ان کے لیے روشنی ہوئی تو اس میں چلنا شروع کردیا اور جب اندھیرا ہوگیا تو کھڑے کے کھڑے رہ گئے، اور اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کے سننے اور دیکھنے کی قوتوں کو ختم فرما دے، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

ان دو آیتوں میں منافقین کی دوسری مثال پیش فرمائی جیسے تیز بارش ہو، اندھیریاں چھائی ہوئی ہوں، گرج بھی ہو اور بجلی کی چمک بھی ہو موت کا سامنا ہو۔ جو لوگ وہاں موجود ہوں کڑک کی آواز سے خوف زدہ ہو رہے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ ابھی موت آجائے گی۔ کڑک کی آواز کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں دیئے ہوئے ہیں۔ سخت بجلی ان کی آنکھوں کی روشنی سلب کرنے کو ہے اسی حیرانی اور پریشانی میں کھڑے کھڑے جب ذرا بجلی چمکتی ہے تو اس کی روشنی میں ایک دو قدم چل لیتے ہیں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو حیران سرگرداں کھڑے رہ جاتے ہیں۔ منافقوں کی یہی حالت ہے جب غلبہ اسلام کو دیکھتے ہیں اور اس کا نور پھیلتا ہوا نظر آتا ہے تو اس کی طرف بڑھنے لگتے ہیں پھر جب دنیا کی محبت زور پکڑتی ہے اور دنیاوی فائدے کفر اختیار کئے رہنے میں نظر آتے ہیں تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں یعنی ایمان کی طرف بڑھنے سے رک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم وقدرت سے سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس کی طرف بڑھنا اور اس کا دین قبول کرنا لازم ہے۔ وہ چاہے تو سننے اور دیکھنے کی ساری قوتیں ختم فرما دے اور بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مفسر بیضاوی لکھتے ہیں کہ منافقین کو اصحاب صیب (بارش والوں) سے تشبیہ دی اور ان کے (ظاہری) ایمان کو جو کفر اور دھوکے بازی کے ساتھ ملا ہوا تھا ایسی بارش سے تشبیہ دی جس میں اندھریاں ہوں، اور گرج ہو اور بجلی ہو۔ یہ تشبیہ اس اعتبار سے ہے کہ بارش اگرچہ فی نفسہ نافع ہے لیکن جب مذکورہ صورت میں بارش نازل ہوئی تو اس کا نفع ضرر سے بدل گیا اور منافقین نے جو نفاق اس لیے اختیار کیا کہ مومنین کی طرف سے جو تکالیف پہنچنے والی ہوں اور کھلے کافروں کی طرف سے جو تکالیف پہنچتی ہوں ان سے بچاؤ ہوجائے ان کی اس منافقت کو کانوں میں انگلیاں دینے سے تشبیہ دی جیسے کوئی شخص بجلیوں کی کڑک سے اپنے کانوں میں انگلیاں دے رہا ہو اور موت سے ڈر رہا ہو تو جس طرح کانوں میں انگلیاں دینے سے اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر کے فیصلے کو نہیں ٹالا جاسکتا اس طرح سے منافقت اختیار کرنے سے مصائب و آلام سے حفاظت نہیں ہوسکتی۔ اور شدت الامر کی وجہ سے جو ان کی حیرانی اور یہ پریشانی تھی کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں اسے بجلی سے تشبیہ دی کہ کوئی موقع پاتے ہیں تو ذرا اپنے مقاصد میں آگے بڑھ جاتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ خوف لگا ہوا ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں نہ اچک لے۔ لہٰذا چند قدم چلتے ہیں پھر جب بجلی کی چمک ختم ہوجاتی ہے تو بلا حس و حرکت کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ پھر دوسری طرح سے بھی اس تشبیہ کی تقریر کی ہے ( راجع البیضاوی ج 1 ص 39) ۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ پہلی مثال ان منافقوں کے بارے میں پیش فرمائی ہے جو بہت مضبوطی کے ساتھ کفر پر جمے ہوئے تھے۔ ان کے بارے میں فرمایا : (وَ تَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصَرُوْنَ ) اور دوسری مثال ان منافقوں کے بارے میں ہے جن کو اسلام کے بارے میں تردد تھا کبھی اس کی حقانیت دل میں آتی تو اس کی طرف مائل ہونے لگتے اور جب دنیاوی اغراض سامنے آتیں اور دنیا کی محبت زور پکڑ لیتی تو وہ میلان ختم ہوجاتا تھا اور کفر ہی پر جمے رہ جاتے تھے۔
Ayah 2:21

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۟ۙيٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ۙ ‏ Open ayah 2:21 in the Quran reader

اے لوگو ! عبادت کرو اپنے رب کی جس نے تم کو پیدا فرمایا اور ان لوگوں کو بھی پیدا فرمایا جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ،

دعوت توحید اور دلائل توحید مومنین مخلصین اور کافرین اور منافقین کا ذکر کرنے کے بعد اب دلائل کے ساتھ توحید کی دعوت دی گئی اور اللہ جل شانہٗ کی شان خالقیت اور شان ربوبیت بیان فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نعمت کا تذکرہ فرمایا جس کا مظاہرہ سب کے سامنے ہے اور ایک کم سمجھ آدمی بھی اس کو دیکھتا ہے۔ (اوّل): تو یہ فرمایا کہ تم اپنے رب کی عبادت کرو جو تمہاری پرورش فرماتا ہے اور یہی نہیں کہ صرف پرورش فرماتا ہے بلکہ اس نے تم کو وجود بھی بخشا ہے، ممکن ہے کوئی ناسمجھ یہ کہنے لگتا کہ مجھے تو میرے ماں باپ نے پیدا کیا، اس وہم کو دفع فرمانے کے لیے فوراً ہی یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ تم سے پہلے ہیں ان سب کو اسی نے پیدا فرمایا ہے اس نے وجود بھی دیا اور وہ وجود کو باقی رکھے ہوئے بھی ہے اور وجود کے باقی رہنے کے جو اسباب ہیں وہ بھی اسی نے پیدا فرمائے ہیں، پھر یہ فرمایا کہ جب اسی ذات پاک کی عبادت کو اختیار کرو گے اسی میں لگو گے تو تم کو صفت تقویٰ حاصل ہوگی۔ تقویٰ عربی زبان میں بچنے اور پرہیز کرنے کو کہتے ہیں اور اس کے بہت سے درجات ہیں۔ سب سے بڑا درجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پاک کا مراقبہ رکھے اور ہر وقت اسی کی طرف دل و دماغ کو متوجہ رکھے، اس کے لیے جیئے اور اسی کے لیے مرے، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچنا بھی تقویٰ کے مفہوم میں داخل ہے۔ جب کسی کو خلوت اور جلوت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی ذات پاک کا استحضار رہے گا تو کہاں گناہ کرسکے گا اور جب گناہوں سے بچے گا تو ظاہر ہے دوزخ سے بھی محفوظ رہے گا۔ اسی لیے بعض مفسرین نے اس کا ترجمہ یوں لکھا ہے ” تاکہ تم دوزخ سے بچو “۔ سب سے بڑا گناہ شرک ہے۔ شرک سے بھی بچے اور توحید کو اختیار کرے جو سب سے بڑی عبادت ہے اور چھوٹے بڑے گناہوں سے بھی پرہیز کرے، ایسا کرے گا تو ظاہر ہے کہ دوزخ سے ضرور اس کی حفاظت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور شان خالقیت کا مظاہرہ تو ہر چھوٹی بڑی چیز میں ہوتا ہے لیکن بہت واضح چیزیں جو سب کے سامنے ہیں اور کم سمجھ بھی جن کو سمجھتا اور جانتا ہے ان میں سے تین چیزیں بیان فرمائیں۔ جن میں سے اوّل یہ ہے کہ اس نے زمین کو پیدا فرمایا۔ یہ زمین سب کے سامنے ہے اس پر بستے ہیں اور رہتے سہتے ہیں اگر کوئی نابینا ہو تو وہ بھی یہ تو جانتا ہی ہے کہ میں کس چیز پر آباد ہوں کس چیز پر چل پھر رہا ہوں، جو زمین ہے اس کا وجود ہی بتاتا ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا بڑی قدرت والا ہے پھر زمین کا وجود محض وجود ہی نہیں بلکہ انسانوں کے لئے اس کا وجود بہت بڑی نعمت ہے ساری زمین انسانوں کے لئے بچھونا ہے جس پر رہتے سہتے ہیں، چلتے پھرتے ہیں اس کے اتنے بڑے پھیلاؤ میں انسانوں کے رہنے کے مکانات بنانے، چلنے پھرنے، سفر کرنے، حاجتیں پوری کرنے کے مواقع ہیں اگر زمین پر پہاڑ ہی پہاڑ ہوتے یا پانی ہی پانی ہوتا تو اس پر رہنا دشوار ہوجاتا۔ زمین کے ساتھ ہی آسمان کا ذکر فرمایا اور وہ یہ کہ آسمان کو تمہارے لیے چھت بنایا۔ یہ چھت ستاروں سے مزین ہے، دیکھنے میں بھلی معلوم ہوتی ہے اس کی طرف نظر کرنے سے فرحت اور بشاشت محسوس ہوتی ہے۔ صاحب بیان القرآن نے اپنے رسالہ رفع البناء کے آخر میں لکھا ہے کہ بعض حکماء کا قول ہے کہ آسمان کی طرف دیکھنے کے دس فائدے ہیں۔ (1) غم کا کم ہونا (2) وسواس کی تقلیل (3) وہم اور خوف کا ازالہ (4) اللہ کی یاد (5) قلب میں اللہ کی عظمت کا پھیل جانا (6) افکار ردیہ کا جاتا رہنا (7) سوداوی مرض کے لیے نافع ہے (8) مشتاق کی تسلی (9) محبین کا مونس ہونا (10) دعا کرنے والوں کا قبلہ ہے۔ 1 ھ نقلہ عن کتاب الحکمۃ للغزالی۔
Ayah 2:22

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً ۪— وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ— فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۟الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّـكُمۡ‌ۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا وَّاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت، اور اتارا آسمان سے پانی، پھر نکال دیا اس کے ذریعہ پھلوں سے تمہارے لیے رزق، لہٰذا مت بناؤ اللہ کے لیے مقابل، حالانکہ تم جانتے ہو۔

پھر بارش کے پانی کا تذکرہ کیا اور یہ فرمایا کہ اللہ جل شانہٗ نے آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ طرح طرح کے پھل پیدا فرمائے جو بنی نوع انسان کے لیے رزق ہیں اور غذا ہیں ان کے ذریعہ انسانوں کی پرورش اور بقا ہے اس میں دلائل قدرت بھی ہیں اور شان ربوبیت کا اظہار بھی ہے۔ ایک ہی زمین ہے اس میں طرح طرح کے پھل ہیں جن کے رنگ بھی مختلف ہیں مزے بھی مختلف ہیں۔ آخر میں فرمایا کہ جب اپنے رب اور خالق کو تم نے اس کے دلائل قدرت کے ذریعہ اور اس کی نعمتوں کے واسطہ سے پہچان لیا تو عقل اور سمجھ کا تقاضا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اس کو ایک جانو اور ایک مانو، اس کی الوہیت اور ربوبیت کا اقرار کرو۔ اور اس کے مقابل شریک مت ٹھہراؤ۔ اس کے علاوہ نہ کوئی رب ہے نہ کوئی خالق ہے نہ نعمتیں دینے والا ہے نہ زندگی کے اسباب پیدا کرنے والا ہے۔ ان سب باتوں کو جاننے اور سمجھتے ہوئے اس کے لیے شریک تجویز کرنا اور کسی کو اس کے علاوہ عبادت کا مستحق سمجھنا علم، فہم اور عقل و دانش کے خلاف ہے۔
Ayah 2:23

وَاِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۪— وَادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ وَادۡعُوۡا شُهَدَآءَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم اس کتاب کی طرف سے شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کی تو لے آؤ کوئی سورت جو اس جیسی ہو اور بلا لو اپنے مدد گاروں کو اللہ تعالیٰ کے سوا اگر تم سچے ہو۔

رسالت محمدیہ ﷺ کی دلیل اور قرآن پاک کا اعجاز توحید کے ثابت کرنے کے بعد رسالت کے ماننے اور تسلیم کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے، کوئی شخص خالق ومالک کو مان لے تو اس کی معرفت کی بھی ضرورت رہتی ہے اس کی ذات وصفات کو جاننا اور ماننا لازم ہے اور ان کا علم خود بخود نہیں ہوسکتا اور خالق ومالک جل مجدہ کی عبادت کے طریقے اپنے پاس سے ایجاد نہیں کئے جاسکتے۔ لہٰذا ان سب چیزوں کے سمجھانے اور بتانے کے لیے اللہ جل شانہٗ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا، جو انسان تھے اور انسانوں سے انسان کی زبان میں بات کرتے تھے، جتنے بھی انبیاء (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ان کو نبوت ثابت کرنے کے لیے ہر ایک زمانہ کے ماحول کے اعتبار سے معجزات دیئے گئے۔ آخر الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ خطہء عرب میں پیدا ہوئے، مکہ معظمہ آپ کا وطن تھا جو جزیرہ عرب میں واقع ہے اس زمانہ میں فصاحت و بلاغت کا بڑا چرچا تھا، اہل عرب جب مختلف مواقع میں جمع ہوتے تھے تو مقابلے کے طور پر مختلف قبائل اپنے اپنے قصیدے سنایا کرتے تھے۔ جس کا قصیدہ بہت زیادہ فصیح بلیغ سمجھا جاتا اس کو کعبہ شریف پر لٹکا دیتے تھے اور یہ گویا ایک قسم کا چیلنج ہوتا تھا کہ کوئی شخص اس کے مقابلہ میں قصیدہ لکھ کر پیش کرے، حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ خاتم النبیین ﷺ کی بعثت عامہ سارے عالم کے انسانوں کے لیے ہے، قیامت آنے تک آپ ہی رسول ہیں۔ آپ ہی کے لائے ہوئے دین کو قبول کرنے میں سب کی نجات ہے آپ سے بیشمار معجزات کا ظہور ہوا، جو حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ اور ان معجزات پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں، ان معجزات میں بہت بڑا معجزہ اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہے جو آپ پر نازل ہوئی جس کا نام قرآن مجید ہے۔ اس زمانہ میں چونکہ فصاحت و بلاغت کا بہت چرچا تھا اور مخاطبین اولین چونکہ اہل عرب ہی تھے۔ اس لیے یہ ایک ایسا معجزہ دے دیا گیا جس کی فصاحت و بلاغت کے سامنے تمام شعراء عرب عاجز رہ گئے۔ اور اس کو دیکھ کر بہت سے شعراء نے کلام کہنا ہی چھوڑ دیا جن میں حضرت لبید ؓ بن ربیعہ بھی تھے۔ ان کا قصیدہ بھی ان قصائد میں شامل ہے، جن کو مقابلہ کے لئے کعبہ شریف پر لٹکا دیا جاتا تھا۔ انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے ان سے دریافت کرایا کہ زمانہ اسلام میں آپ نے کیا اشعار کہے ہیں انہوں نے جواب دیا۔ ابدلنی اللّٰہ بالشعر سورة البقرۃ و سورة آل عمران (الاصابہ ج 3 ص 326) مذکورہ بالا آیات میں اہل عرب کو قرآن جیسی کوئی سورت بنا کر پیش کرنے کے لیے تحدی کی گئی ہے یعنی مقابلہ میں کوئی سورت لانے کا چیلنج کیا گیا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ تم سب اپنے حامیوں اور مدد گاروں کو بلا لو اور اللہ تعالیٰ کے سوا سارے حمایتیوں کو جمع کرو پھر قرآن کریم جیسی کوئی سورت بنا کر پیش کرو۔ پہلے دس سورتیں بنا کر لانے کا چیلنج کیا گیا تھا پھر ایک سورت لانے کے لیے فرمایا گیا تمام فصحاء بلغاء ایک چھوٹی سی چھوٹی سورت بھی بنا کر نہ لاسکے اور یکسر عاجز رہ گئے۔ سورة یونس میں ارشاد فرمایا : (قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) ” آپ فرما دیجیے کہ لے آؤ تم کوئی سورت اس جیسی، اور بلا لو جس کو بھی بلا سکتے ہو اللہ کے سوا، اگر تم سچے ہو۔ “ قرآن کریم کا معجزہ ہونا ایسی ظاہر بات ہے جو سب کے سامنے ہے اور سب کو اس کا اقرار ہے، دشمن بھی اس کو جانتے اور مانتے رہے ہیں۔ زمانہ نزول قرآن میں بعضے جاہلوں نے تو یہ کہہ کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی کہ (لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَ مِثْلَ ھٰذَا) (اگر ہم چاہیں تو اس جیسا کہہ دیں) لیکن کر کچھ نہ سکے اور کچھ لوگوں نے قرآن کے مقابلہ میں کچھ عبارتیں بنائیں پھر خود ہی آپس میں مل کر بیٹھے تو تسلیم کرلیا کہ یہ قرآن جیسی نہ بنی اور آج تک بھی کوئی بنا کر نہ لاسکا اور نہ لاسکے گا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں ارشاد ہے اور سورة بنی اسرائیل میں فرمایا : (قُلْ لَّءِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلآی اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَ لَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا) ” آپ فرما دیجیے کہ یہ بات ضروری ہے کہ اگر جمع ہوجائیں تمام انسان اور تمام جنات کہ وہ لے آئیں اس قرآن جیسا تو نہیں لائیں گے اس جیسا اگرچہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔ “
Ayah 2:24

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖۚ— اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ ۟فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَلَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوۡا النَّارَ الَّتِىۡ وَقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ  ۖۚ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

سو اگر تم نہ کرو اور ہرگز نہیں کرسکو گے، سو ڈرو آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ وہ تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے۔

قرآن کے مقابلہ سے ہمیشہ عاجز رہیں گے اس آیت میں فرمایا ہے کہ تم ہرگز قرآن کے مقابلہ میں اس جیسی کوئی سورت بنا کر نہیں لاسکتے ہو اور کبھی بھی نہ لاسکو گے اس میں رہتی دنیا تک کے لیے قرآن کے دنیا میں باقی رہنے کی پیشین گوئی کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی ہے کہ اس جیسا کوئی بھی جماعت یا کوئی فرد نہیں بنا سکتا۔ یہ دونوں پیشینگوئیاں صادق ہیں، سچی ہیں، سب کے سامنے ہیں چونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت عام ہے تمام افراد انسانی جب تک بھی دنیا میں رہیں ان پر فرض ہے کہ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کا دین قبول کریں۔ چونکہ سارے انسانوں کے لیے، سارے زمانوں اور سارے مکانوں میں آپ کی دعوت ہے اور یہ دعوت قیامت آنے تک ہے اس لیے کسی ایسے معجزہ کی بھی ضرورت تھی جو ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہے یہ معجزہ قرآن مجید ہے جو اللہ کا کلام ہے اور اس کا مقابلہ کرنے سے ہمیشہ کے لیے تمام انسان اور جنات افراد اور جماعتیں عاجز ہیں اور عاجز رہیں گے۔ قرآن موجود ہے اس کی دعوت عام ہے اس کی حقانیت اور سچائی واضح ہے پھر بھی کفر میں اور شرک میں بیشمار قومیں کروڑوں افراد مبتلا ہیں قرآن سنتے ہیں اور اس کو حق جانتے ہیں لیکن مانتے نہیں۔ عناد، ضد اور تعصب قومی اور مذہبی نے ان کو دعوت قرآن کے ماننے سے اور اسلام قبول کرنے سے روک رکھا ہے، سب کچھ جانتے ہوئے پھر اسلام قبول نہ کرنا اپنے لیے عذاب آخرت مول لینا ہے۔ اسی لیے ارشاد فرمایا کہ اگر تم قرآن کے مقابلہ کوئی سورت نہیں لاسکتے اور ہرگز نہیں لاسکو گے تو دوزخ کی آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ یعنی قرآن لانے والے کی رسالت اور دعوت کے منکر ہو کر عذاب دائمی کے مستحق نہ بنو اور دیکھتے بھالتے دھکتی ہوئی آگ کا ایندھن نہ بنو، اس آگ کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ہیں۔ انسان تو وہی ہیں جو اس کے منکر میں اور ایمان لانے کو تیار نہیں اور پتھروں کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ پتھر جن کی دنیا میں مشرکین عبادت کیا کرتے تھے، دوزخ میں ہوں گے۔ سورة انبیاء میں فرمایا : (اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ اَنْتُمْ لَھَا وٰرِدُوْنَ ) ” بیشک تم اور وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ تم اس پر وارد ہونے والے ہو۔ “ تفسیر درمنثور میں ج 1 ص 63 بحوالہ طبرانی، حاکم اور بیہقی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ پتھر جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (وَ قُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ) میں فرمایا ہے۔ کبریت (گندھک) کے پتھر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے جیسے چاہا پیدا فرما دیا۔
Ayah 2:25

وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ؕ— كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ— قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۙ— وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا ؕ— وَلَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۙۗ— وَّهُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ؕ ڪُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡهَا مِنۡ ثَمَرَةٍ رِّزۡقًا ‌ۙ قَالُوۡا هٰذَا الَّذِىۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَاُتُوۡا بِهٖ مُتَشَابِهًا ‌ؕ وَلَهُمۡ فِيۡهَآ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ‌ۙ وَّهُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور بشارت دیجیے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے کہ بلاشبہ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جب کبھی بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل بطور غذا کے دیا جائے گا تو کہیں کہ یہ وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے دیا گیا، اور ان کو ہم شکل پھل دیئے جائیں گے اور ان کے لیے ان باغوں میں بیویاں ہوں گی جو پاکیزہ بنائی ہوئی ہیں۔ اور وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے۔

اہل ایمان کو جنت کی بشارت کافروں کی سزا بتانے کے بعد (جو اوپر کی آیت میں مذکورہوئی) اس آیت میں اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں کی جزاذ کر فرمائی ہے جو طرح طرح کی نعمتوں کی صورتوں میں ظاہرہو گی۔ (اوّل): تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ باغوں میں رہیں گے یہ باغات دارالنعیم میں ہوں گے جسے جنت کہا جاتا ہے، ان باغوں میں رہنے کے لیے مکان بھی ہوں گے جیسا کہ سورة صف میں (وَ مَسَاکِنَ طَیّْبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ) فرمایا ہے، ان باغات میں نہریں جاری ہوں گی۔ جو صاف ستھرے پانی کی ہوں گی جس میں کسی طرح کا تغیر نہ ہوا ہوگا، اور دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا مزہ تبدیل نہ ہوا ہوگا۔ اور شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے لذت کا ذریعہ ہوں گی۔ اور صاف ستھرے شہد کی نہریں ہوں گی جیسا کہ سورة محمد میں ان نہروں کا ذکر فرمایا ہے۔ اور جو شراب وہاں پی جائے گی وہ لذت کے لیے ہوگی۔ اس سے نہ نشہ آئے گا اور نہ سر میں درد ہوگا۔ سورۃ الصافات میں فرمایا ہے : (لاَ فِیْھَا غَوْلٌ وَّ لاَ ھُمْ عَنْھَا یُنْزَفُوْنَ ) (نہ اس میں درد ہوگا نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا) اور سورة واقعہ میں فرمایا : (لاَ یُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ) (نہ اس سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا۔ ) (دوم): یہ فرمایا کہ ان باغوں کے درختوں میں جو پھل ہوں گے وہ ان کو کھانے کے لیے پیش کئے جائیں گے اور جب کبھی بھی کوئی پھل لایا جائے گا تو کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے دیا گیا تھا اور وجہ اس کی یہ ہوگی کہ وہ پھل آپس میں ہم شکل ہوں گے اگرچہ لذت اور مزے میں مختلف ہوں گے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ من قبل سے مراد ہے کہ دنیا میں جو پھل ہمیں دیئے گئے تھے یہ اسی جیسا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ وہیں جنت میں جو پھل دیئے جائیں گے ان کے بارے میں کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ابھی پہلے کھایا تھا۔ مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ پہلے معنی لینا زیادہ ظاہر ہے تاکہ لفظ کُلَّمَا کا عموم باقی رہے ( کیونکہ جنت میں سب سے پہلے جب پھل ملے گا اس کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ وہی ہے جو اس سے پہلے دیا گیا تھا اسی وقت صحیح ہوسکتا ہے جب من قبل سے دنیا والے پھل مراد لیے جائیں) لیکن صاحب تفسیر نسفی لکھتے ہیں : والضمیر فی بہ یرجع الی المرزوق فی الدنیا و الاخرۃ لان قولہ ھذا الذی رزقنا من قبل انطوی تحتہ ذکر ما رزقوہ فی الدارین۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ ” یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے دیا جا چکا ہے “۔ دونوں پھلوں کے بارے میں ہے، دنیا والے پھل اور جو پھل وہاں دیئے جاتے رہیں گے دونوں مراد ہیں جو پھل ان کو دیئے جائیں گے دیکھنے میں بظاہر دنیاوی پھلوں کے مشابہ ہوں گے، جس چیز کو پہلے دیکھا ہو اس سے انس اور الفت زیادہ ہوتی ہے اور اس کی طرف طبعی میلان زیادہ ہوتا ہے اس لیے ظاہری صورت میں وہ پھل دنیا والے پھلوں کی طرح ہوں گے اور حقیقت میں ان کا مزہ اور کیف دوسرا ہی ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جنت کے پھلوں سے دنیا میں کوئی پھل نہیں بس ناموں کی مشابہت ہے یعنی پھلوں کو دیکھ کر اہل جنت کہیں گے کہ یہ سیب ہیں، یہ انار ہیں، ہم نے اس کو دنیا میں کھایا تھا لیکن وہ مزے میں دنیاوی پھل کی طرح نہ ہوں گے بلکہ ان کا مزہ اور کیف جنت کے اعتبار سے ہوگا جیسا کہ سورة ا آآ سجدہ میں فرمایا ہے : (فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) بعض حضرات نے یہ اشکال کیا ہے کہ دنیا والے پھل مراد لیے جائیں تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ جنتی پھل صرف انہی پھلوں کے مشابہ ہوں جو دنیا میں تھے، یہ اشکال کوئی وزن دار نہیں ہے اس لیے کہ اگر شروع داخلہ کے وقت دنیا والے پھلوں کے مشابہ دیئے جائیں اور پھر ان پھلوں کے انواع و اقسام پیش کیے جاتے رہیں جو دنیاوی پھلوں کے مشابہ نہ ہوں اور ان میں آپس میں مشابہت ہو تو اس میں کوئی بات عقل و فہم سے بعید نہیں ہے۔ اہل جنت کو بار بار اور ہمیشہ ایسے پھل دیئے جانا کہ جن میں ظاہری مشابہت ہو اور حقیقت میں مزہ اور کیف الگ الگ ہو اس سے بہت زیادہ استغراب واستعجاب ہوگا۔ اور اس سے خوشی دوبالا ہوگی۔ (سوم): یہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے بیویاں ہوں گی جو پاکیزہ بنائی ہوئی ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مطھرۃ من القذی و الاذی کہ وہ گندگی اور تکلیف دینے والی چیز سے پاک ہوں گی۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا : من الحیض والغائط و البول والنخام والبصاق و المنی والولد۔ یعنی وہ بیویاں حیض سے، اور پیشاب پاخانہ سے، ناک سے نکلنے والے بلغم سے، تھوک سے اور منی سے پاک و صاف ہوں گی اور اولاد بھی نہ ہوگی جس کے باعث نفاس آتا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا : مطھرۃ من الاذی والمأثم یعنی وہ بیویاں ہر تکلیف والی چیز سے اور نافرمانی سے پاک ہوں گی۔ ان سب اقوال کا خلاصہ یہ نکلا کہ ان عورتوں میں کسی قسم کی کوئی چیز گھن والی اور تکلیف دینے والی نہ ہوگی۔ ان کا ظاہر اور باطن سب کچھ عمدہ اور بہترین ہوگا۔ شوہروں کی بات مانیں گی نافرمانی نام کو بھی نہ ہوگی۔ (مذکورہ اقوال تفسیر ابن کثیر میں نقل کیے گئے ہیں) مفسر بیضاوی لکھتے ہیں کہ مُطَھَّرَۃٌ (باب تفعیل سے) فرمایا اور طاھِرَاتٌ نہیں فرمایا، اس سے ان کی طہارت اور پاکیزگی کو نہایت اعلیٰ طریقے پر بیان فرمانا مقصد ہے کہ ان کو ایک پاک کرنے والے نے پاک بنایا ہے اور وہ پاک بنانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ان بیویوں کا حسن و جمال دوسری آیات میں بیان فرمایا ہے۔ سورة رحمن میں ارشاد فرمایا : (کَاَنَّہُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ) (گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں) اور سورة واقعہ میں فرمایا (وَحُوْرٌ عِیْنٌ کَاَمْثَال اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ) (وہ سفید رنگ کی بڑی بڑی آنکھوں والی ہوں گی گویا کہ وہ چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں۔ ) (چہارم): یہ فرمایا (ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) یعنی اہل جنت ہمیشہ ان باغوں میں رہیں گے۔ نہ وہاں سے نکلیں گے اور نہ نکالے جائیں گے، نہ نکلنا چاہیں گے۔ کما فی سورة الکھف (لاَیَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلاً ) صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کو خوشخبری سنانے کے لیے) ایک ندا دینے والا پکار کر ندا دے گا تمہارے لیے یہ بات طے کردی گئی ہے کہ تندرست رہو گے لہٰذا کبھی بھی بیمار نہ ہو گے اور یہ کہ زندہ رہو گے۔ کبھی تمہیں موت نہ آئے گی۔ اور جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور یہ کہ نعمتوں میں رہو گے پس تم کو کبھی محتاجگی نہ ہوگی۔ ( صحیح مسلم ج 2 ص 38) دُنیا کی نعمتوں میں کدورت ملی ہوئی ہے۔ خوشی کے ساتھ رنج ہے تندرستی کے ساتھ بیماری ہے۔ پھولوں کے ساتھ کانٹے ہیں۔ مال اور عہدوں کے ساتھ دوسروں کا حسد اور دشمنی ہے اور سب سے آخری بات یہ ہے کہ سب نعمتیں فانی ہیں، صاحب نعمت بھی فانی ہے نعمتوں کا دوام اور ہمیشگی کسی کے لیے نہیں۔ آخرت کی نعمتیں ابدی ہیں دائمی ہیں ہمیشہ کے لیے ہیں۔ ان کے زوال اور چھن جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا۔ زندگی بھی دائمی ہوگی۔ (خَالِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا) ان کی شان میں فرما دیا ہے۔ (جعلنا اللّٰہ تعالیٰ منھم)