Ayahs 2:1–2ف 1۔ الف ۔ لام ۔ میم یہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کے منجانب اللہ ہونے میں ذرا سی بھی شک کی گنجائش نہیں یہ کتاب خدا سے ڈرنے والوں کو صحیح راہ دکھاتی ہے۔ ( تیسیر)
الف ۔ لام ۔ میم حروف تہجی ہیں ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں ۔ تمام قرآن میں یہ حروف انتیس 92 سورتوں کی ابتداء میں آتے ہیں کسی سورت کی ابتداء میں صرف ایک ایک حرف ہے۔ جیسے قاف ۔ نون ۔ صاد اور کسی سورت کی ابتداء میں حرف دو ہیں ۔ جیسے طا ۔ ہا یا سین اور کسی سورت کی ابتداء میں تین ہیں ۔ جیسے الف ۔ لام ۔ میم اور الف ۔ لام ۔ را اور کسی سورت کی ابتدا میں ان حروف مقطعات کی تعداد چار ہے جیسے الف ۔ لام ۔ میم ۔ صاد اور کسی سورت کی ابتدا میں ان کی تعداد پانچ ہے۔ جیسے کاف ۔ ہا ، ہا ، عین ، صاد اور حا ، میم ، عین ، سین ، قاف۔
بہر حال یہ حروف اللہ تعالیٰ کے اسرار اور اس کے بھیدوں میں سے کچھ ایسے بھید ہیں جن کو وہی خوب جانتا ہے یہ ہوسکتا ہے کہ ان حروف کے معنی اور ان کی حقیقی مراد سے اور اس بھید سے جو ان حروف میں پنہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو آگاہ کردیا ہو یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جب اس کے معنی سوائے اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کے کوئی نہیں جانتا تو پھر علماء مفسرین نے ان کے معنی کیوں بیان کئے ہیں۔ جواباً گزارش ہے کہ جن حضرات نے ان کے معنی بیان کئے ہیں وہ تخمینی ہیں جو محض تمثیل اور تنبیہ کے طور پر بیان فرمائے ہیں اور جو لوگ معنی کی نفی کرتے ہیں اور کچھ کہنے سے انکار کرتے ہیں وہ حقیقی معنی اور حقیقی مراد کا انکار کرتے ہیں لہٰذا بیان کرنے والوں اور خدا کے سپرد کرنے والوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب دہلوی نے اپنی تفسیر عزیزی میں ان حروف کی تحقیق کے بارے میں قدمائے مفسرین کے سولہ اقوال نقل کئے ہیں واللہ تعالیٰ اعلم بمرادہ ۔ اور یہ جو فرمایا کہ اس کتاب میں شک کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقتہ ً واقعہ کے اعتبار سے تو اس میں شک کی گنجائش ہے نہیں لیکن اگر کوئی اپنے تعصب اور سوئے فہم کی وجہ سے اس میں شکوک و شبہات پیدا کرے تو ایسے لوگوں کے شک سے اصل حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ کسی چیز میں شک و شبہ دو طریقے سے ہوسکتا ہے ۔ ایک تو یہ کہ اس چیز میں واقعتہً شبہ ہو اور دوسرے یہ کہ کوئی شخص بلا وجہ اپنی سمجھ کی خرابی اور ہٹ دھرمی سے اس میں شبہ نکالے تو آیت لاریب فیہ میں پہلی صورت مراد ہے۔ دوسری صورت زیر بحث نہیں ہے اور یہ جو ارشاد فرمایا کہ یہ کتاب متقیوں کی راہ نما ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ متقیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کی راہ نما نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ یوں تو یہ کتاب تمام بنی نوع انسان کے لئے ہدایت ہے جیسا کہ سیقول میں ھدی للناس فرمایا ہے لیکن خاص طور پر وہ لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں جن کو خدا کا خوف ہے اور جن کے دل میں ڈر ہی نہیں وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ تقویٰ کے معنی ہیں ، پوری احتیاط کے ساتھ کسی چیز سے بچنا شرعی اصطلاح میں اس کے معنی ان چیزوں سے بچنا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور جن سے اللہ کے رسول ﷺ نے بچنے کا حکم دیا ہے۔ تقویٰ کے مختلف مراتب ہیں ۔ کم سے کم اس شخص کو بھی متقی کہا جاتا ہے جو کفر و سڑک سے بچتا ہے اور اس پر بھی لفظ متقی کا اطلاق کیا جاتا ہے جو ہر قسم کے کبائر اور صغائر سے بچتا ہے اور جو ماسویٰ اللہ کو ترک کر کے صرف خدا ہی کا ہوجاتا ہے اس کو بھی متقی کہا جاتا ہے ۔ اس لئے جس طرح ایک اولو العزم پیغمبر کو بھی متقی کہتے ہیں اسی طرح اس گناہ گار مسلمان کو بھی متقی کہہ سکتے ہیں جو صرف کفر و شرک اور بدعت سے بچتا ہے۔ اس تقریر سے یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ یہ کتاب ہر درجہ کے انسان کے لئے راہ نما ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کی رہنمائی سے وہی لوگ حقیقتاً بہرہ مند ہوتے ہیں جو خدا سے ڈرنے والے ہیں (تسہیل)
Ayahs 2:3–4ف 2۔ وہ متقی لوگ ایسے ہیں جو پوشیدہ اور چھپی ہوئی باتوں پر یقین لاتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے جو ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ نیک کاموں میں خرچ کیا کرتے ہیں ۔ اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ وہ اس قرآن پر جو آپکی طرف نازل کیا گیا ہے یقین رکھتے ہیں اور ان کتابوں کو بھی مانتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل کی جا چکی ہیں اور وہ لوگ آخرت پر بھی پورا پورایقین رکھتے ہیں۔ ( تیسیر)
غیب کی باتوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ہماری نظروں سے غائب ہیں ، مثلاً عالم برزخ کے احوال قیامت ، جنت ، دوزخ ، مرنے کے بعد جی اٹھنا وغیرہ۔
نبی کریم ﷺ سے پہلے جو کتابیں نازل ہوچکی ہیں ان کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی خدا کی طرف سے نازل شدہ سمجھتے ہیں ۔ اگرچہ ان پر عمل کرنا اب منسوخ ہوچکا ہے۔ اقامت صلوٰۃ سے مراد یہ ہے کہ جملہ رعایتوں کے ساتھ نماز کی پابندی رکھتے اور اس پر مداومت کرتے ہیں ۔ خرچ کرنے سے مراد ہر قسم کا انفاق ہے خواہ صدقات واجبہ ہوں یا نافلہ ۔ آخرت سے مراد عالم معاد ہے یعنی قیامت کے متعلق جو باتیں قرآن نے فرمائی ہیں یا رسول اللہ ﷺ نے بتائی ہیں ان سب کے وقوع کا پورا یقین رکھتے ہیں۔ ( تسہیل)
Ayah 2:5ف 1۔ یہی مذکورہ حضرات وہ لوگ ہیں جو اس ہدایت پر قائم ہیں جو ان کے رب کی جانب سے ان کو عطاہوئی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی مراد اور فلاح پانے والے ہیں۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کا اوپر ذکر ہوا ہے خواہ وہ کفار مکہ میں سے ایمان لائے ہوئے یا اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے ہوں بہر حال وہ صفات مذکورہ سے متصف ہوں تو ان کو یہ بشارت ہے کہ وہ دنیا میں بھی ہر قسم کی ہدایت سے بہرہ مند ہیں اور آخرت میں بھی وہ پورے پورے کامیاب ہونیوالے ہیں ۔ فلاح کے معنی کسی چیز کو پھاڑنا یا توڑنا ، اور کھولنا وغیرہ ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیں اور یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب اور فائز المرام ہونے والے ہیں۔ یعنی جہنم سے بچ کر جنت میں داخل ہونیوالے ہیں ۔ ھدی للمتقین سے لیکر یہاں تک ایمانداروں کا ذکر تھا آگے دو آیتوں میں کافروں کا ذکر ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:6ف 2۔ بلا شبہ جو لوگ کفر اور انکار کے عادی اور خوگر ہوچکے ان کو خواہ آپ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (تیسیر) اس آیت میں یا تو مخصوص کافر مراد ہیں ۔ جیسے ابو جہل ، ابو لہب ، ولید بن مغیرہ اور احبار یہود وغیرہ یا یہ آیت عام ہے اگر دوسری صورت مراد لی جائے تو وہ کافر جو بعد میں مسلمان ہوئے وہ خاص ہوں گے اور آیت کے مصداق صرف وہی کافر ہوں گے جو اپنے کفر پر مصر اور ضدی اور ہٹ دھرم تھے اور جو لوگ ایسے نہیں تھے وہ اس آیت میں داخل نہیں ہوں گے ۔ ہم نے ترجمہ میں دونوں معنی کی رعایت رکھی ہے یہ جو فرمایا کہ آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا ان کے حق میں برابر ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ان کو تبلیغ کرنا چھوڑ دیں بلکہ آپ ان کو برابر تبلیغ کرتے رہیں کیونکہ آپ کو تبلیغ کا اجر وثواب ملے گا اور آپ اپنی تبلیغی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو سکیں گے۔ اسی لئے یوں فرمایا کہ ڈرانا اور نہ ڈرانا ان کے حق میں برابر ہے یوں نہیں فرمایا کہ آپ کے حق میں برابر ہے۔ کفر کے اصلی معنی تو پردے کے اور کسی نعمت کو چھپانے کے ہیں لیکن شریعت میں ان چیزوں میں سے کسی چیز کے انکار کو کفر کہتے ہیں جن چیزوں کو لیکر رسول کا تشریف لانا یقینی طور پر معلوم ہوچکا ہے اسی شرعی اور لغوی مناسبت کی وجہ سے قرآن میں کفر بہت سے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً نا سپاسی ، کفران نعمت ، ناقدری بیزاری ، منافقت ، جان بوجھ کر دین کا اعتراف نہ کرنا ۔ دل سے ٹھیک سمجھنا مگر زبان سے نہ کہنا ۔ دشمنی اور عناد سے کفر پر اڑے رہنا وغیرہ وغیرہ اور یہ جو فرمایا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس فرمانے کے بعد وہ معذور یا مجبور ہوگئے اور اب ان سے ایمان لانے کا حکم اٹھ گیا بلکہ وہ اس فرمانے اور عدم ایمان کی اطلاع دینے کے بعد بھی اسی طرح ایمان کے مکلف ہیں جس طرح پہلے تھے کیونکہ حضرت حق تعالیٰ کا ان کے ایمان نہ لانے کی اطلاع دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی طبیب حاذق ایک دیرینہ اور پرانے مریض کی بابت یہ کہے کہ یہ شخص صحت یاب نہ ہوگا اور یہ اس مرض میں مرجائے گا ۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان مخصوص کافروں کی موت اسی کفر کے مرض میں آئے گی اور ان کو روحانی صحت یعنی ایمان کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوگا اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں کہ اب یہ حکم کے مکلف ہی نہیں رہے یا یہ معذور سمجھ کر قیامت میں چھوڑ دیئے جائینگے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:7ف 3 ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے بہت بڑی سزا ہے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جس طرح ظاہری بدپرہیزی اور عد م احتیاط کے باعث انسانی جسم مختلف امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا مریض کے مرض میں اضافہ ہوجاتا ہے اسی طرح ایک انسان کی بد اعمالی اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت انسان کو روحانی امراض میں مبتلا کردیتی ہے یا روحانی مریض کے مرض میں اضافہ کا موجب ہوجاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص نے ترشی کا استعمال کیا اور اس کو زکام ہوگیا ۔ طیب نے اس کو دوا بتائی اور پرہیز کی تاکید کی لیکن وہ برابر بد پرہیزی کرتا رہا اور اس نے دوا استعمال نہیں کی یہاں تک کہ زکام بگڑ گیا اور بخار رہنے لگا پھر بھی وہ اپنی بد پرہیزی سے باز نہ آیا پھر مرض اور بڑھا یہاں تک کہ اس کو دق ہوگئی لیکن وہ کھانے پینے میں برابر بےاحتیاطی کرتا چلا گیا اور باوجود اطباء کے سمجھانے اور تیمارداروں کی درخواست کے وہ اپنی بدپرہیزی اور بےاحتیاطی میں بڑھتا چلا گیا اور اپنی ضد اور اصرار میں ایسا بڑھا کہ سمجھانے والوں کو بیوقوف سمجھنے لگا اور اپنی بےاحتیاطی اور بد پرہیزی کو اچھا سمجھنے اور اس کی تحسین اور درست ہے اور میں صحت کی طرف ترقی کر رہا ہوں اسی حالت میں اسکی دق آخری مرتبہ پر پہنچ گئی اور ایک دن اس کے مرض نے اسکو موت کے گھاٹ اتار دیا اس مریض کی مثال کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے جس طرح یہ امراض جسمانیہ کی حالت ہے ٹھیک اسی طرح روحانی امراض کو سمجھ لیجئے۔ جس کے لئے روحانی اطبا یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور ان کا کام اور ان کا وظیفہ ہی یہ ہے کہ وہ بندوں کی روحانی اصلاح کریں ، اگرچہ ان کو جسمانی امراض کے علاج میں بھی داخل ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ سے متعدد امراض کا علاج مروی ہے لیکن ان کا اصلی وظیفہ اور ان کا حقیقی کام انسانوں کی روحانی تربیت ہی ہے اور جس طرح جسمانی امراض میں دق اور سل ، زکام اور کھانسی ، نمونیہ اور میعادی بخار وغیرہ مشہور ہیں ۔ اسی طرح روحانی امراض میں کفر اور شرک ، فسق اور فجوز ، نفاق اور استہزا وغیرہ مشہور و معروف ہیں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا یہی کام ہے کہ وہ انسانوں کی روح اور ان کے قلوب کو ان امراض باطنیہ سے محفوظ رکھیں اور جوان امراض میں مبتلا ہوں ان کی مناسب دوا اور ان کے لئے مناسب پرہیز بتائیں ۔ جسمانی امراض کی ابتداء جس طرح کبھی قبض سے اور کبھی زکام سے اور کبھی خوراک کی کثرت سے ہوتی ہے اور بڑھتے بڑھتے مریض کے تغافل سے آخر وہ ملک اور لا علاج امراض میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ بالکل اسی طرح روحانی امراض کی ابتداء بھی قلب کی سیاہی سے ہوتی ہے اور بڑھتے بڑھتے مریض اپنی ضد اور ہٹ سے خطرناک اور افسوس ناک حالت پر پہنچ جاتا ہے۔ فرض کیجئے ایک شخص کو ابتداء میں زکام ہوا پھر اس کی بےاحتیاطی کے باعث اس زکام نے کھانسی کی صورت اختیار کرلی۔ شروع شروع میں تبجیز ہوئی پھر ہڈیوں میں بخار رہنے لگا ۔ پھر کھانسی اور بخار نے دق کی شکل اختیار کرلی اور آگے چل کرمریض کی نا لائقی اور بےاحتیاطی کے باعث اس کی دق چہارم درجے پر پہنچ گئی یہاں تک کہ اس کا مرض لا علاج ہوگیا اور ایک دن مرگیا ۔ بالکل اسی طرح روحانی مریض کی ابتداء قلب کی سیاہی سے شروع ہوتی ہے ، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص بلا عذر ایک جمعہ میں غیر حاضرہو جاتا ہے اور جمعہ کی نماز نہیں پڑھتا تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ ہوجاتا ہے اگر دوسرے جمعہ کو بھی وہ غیر حاضر رہا تودو سیاہ نقطے ہوجاتے ہیں اور تیسرے جمعہ کی غیر حاضری پر پورا قلب سیاہ ہوجاتا ہے پھر قلب پر زنگ آنا شروع ہوجاتا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں ۔ کلا بل ران علی قلوبھم ما نوا یکسبون اس حالت کے بعد بھی اگر بندے ن اپنی اصلاح نہ کی اور برابر نافرمانی کرتا رہا تو اس کا دل خدا کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے ارشاد ہوتا ہے ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن زکرنا اسکے بعد بھی اگر بندہ باز نہیں آیا تو اس کے قلب میں سختی پیدا ہوجاتی ہے ارشاد فرماتے ہیں وجعلنا قلوبھم قاسیہ اب بھی اگر باز نہیں آتا تو قلب پر مہر کردی جاتی ہے فرماتے ہیں ۔ بل طبع اللہ علیھا بکفرھم اس پر بھی اگر بد پرہیزی یعنی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی جاری رہی تو اس پر سے اپنی توفیق کا ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور جو وہ کرتا ہے اسکو کرنے دیتے ہیں ۔ فرماتے ہیں ۔ نولہ ما تولیٰ جس طرح دق کے مریض کے آخری درجے کو چوتھا درجہ کہتے ہیں اسی طرح روحانی مریض کے آخری درجے کو حیولۃ کہتے ہیں ۔ وہ حالت وہ ہوتی ہے جب کسی بدنصیب کے قلب کے لئے حضرت حق خود ردک بن جاتے ہیں ۔
ارشاد ہوتا واعلموا ان اللہ یحول بین المرء و قلبہ بعض دفعہ جسمانی مرض کی یہ نبوت ہوجاتی ہے کہ بہتر سے بہتر دوا اور غذا مریض کو بجائے سود مند ہونے کے مضر اور نقصان دہ ہونے لگتی ہے اسی طرح روحانی مریض کی کبھی یہ نوبت ہوجاتی ہے کہ آیات قرآنی بجائے نفع اس کے مرض کی زیادتی کا سبب بن جاتی ہے۔ سورة توبہ کے آخری رکوع میں فرماتے ہیں ۔ فاما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسا ً البی رجسھم وما تواوھم کافرون ۔ جسمانی مریض کی کبھی یہ حالت بھی ہوتی ہے کہ اسکو اپنی بدپرہیز بھی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی بےاحتیاطی کے متعلق یہ خیال کرتا ہے کہ وہ کوئی اچھا کام کام کر رہا ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ مریض کی یہ حالت بڑی خطرناک ہے اور ایسے مریض کو شفا ناممکن ہے ٹھیک اسی طرح روحانی مریض کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ افمن زین لہ سوء عملہ فرآہ حسنا اور سورة کہف میں فرماتے ہیں یحسبون انھم یحسنون ضعا اسی بناء پر نبی کریم ﷺ نے ایک سائل کے جواب میں جو ایمان کے متعلق سوال کر رہا تھا ارشاد فرمایا تھا ۔ اذا سرتک حسنتک وساء تک سیئتک فانت مومن یعنی جب تجھ کو تیری نیکی خوش کرے اور تیرا گناہ تجھ کو ملول کرے تو بس تو مومن ہے ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک نیکی اور بدی کا قلب میں احساس موجود ہے۔ اس وقت تک ایمان موجود ہے اور جس وقت نیکی اور بدی کا احساس جاتا رہے تو سمجھو کہ اب ایمان خطرے میں ہے ۔ قرآن نے روحانی مریض کی اس خطرناک حالت کو بطور استعارہ مہر اور پردے سے تعبیر کیا ہے۔ روحانی مریض کا اس خطرناک حالت پر پہنچ جانا خود اسکی اپنی نافرمانی اور ہٹ دھرمی کے باعث ہوتا ہے اور اس کے گناہوں کے باعث اس کی حالت دن بدن خراب ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ حالت کا خراب ہونا خدا کی طرف سے ایک قسم کا عتاب ہوتا ہے۔ اس لئے کہاجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہر کردی اور ہم نے ان کو اپنی یاد سے غافل بنادیا اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا ۔ ورنہ جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ سب بندے کے ہاتھوں کی کمائی کے باعث مرتب ہوتے ہیں ۔ آیت زیر بحث میں جس مہر اور پردے کو بطور استعارہ ذکر کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری اعتبار سے تو کان اور آنکھیں اور دل سلامت ہیں اور اپنا اپنا کام کرتے ہیں لیکن حق بات کے سننے اور سمجھنے اور دیکھنے کیلئے آنکھیں ایسی ہیں جیسے ان کے آگے پردہ پڑا ہوا ہے اور دل اور کان ایسے ہیں جیسے ان پر مہریں لگا دی ہیں ۔ اس لئے نہ حق بات کو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ ختم کے اصلی معنی تو کتم یعنی چھپانے کے ہیں لیکن مہر چونکہ آخر میں لگائی جاتی ہے اور مہر لگانا ایک ایسا فعل ہے جو حفاظت اور بچائو کی غرض سے سب سے آخر میں کیا جاتا ہے اس لئے یہاں قلوب وغیرہ کی محرومی اور آخری بدنصیبی کو مہر سے تعبیر فرمایا ہے جس طرح مہر کے بعد اندر کوئی چیز داخل نہیں ہوسکتی اسی طرح ان کے قلوب اور ان کے کان اور ان کی آنکھیں حق بات کو قبول نہیں کرتیں ۔ گویا ان کے عناد ان کی سزا کشی اور ان کے غرور وتکبر کی وجہ سے جو حالت ان کے دل اور کانوں اور آنکھوں کی ہوگئی ہے وہ ایسی ہے جیسے کسی مہر زدہ چیز کی ہوتی ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کو کفر پر مجبور کیا جا رہا ہے یہ اب معذور ہیں اور ان سے کسی باز پرس کا حق نہیں ہے۔ یہ تقریر جو میں نے عوام کیلئے عرض کی ہے اگر اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا گیا تو انشاء اللہ آئندہ نہ کوئی اشکال پیش آئے گا اور نہ کسی شبہ کی وجہ سے پریشانی ہوگی ۔ اس مضمون کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ یاد کرلینا چاہئے ۔ میں وقتاً فوقتاً آئندہ اس مضمون کی طرف اشارہ کرتا رہوں گا ۔ انشاء اللہ تعالیٰ اب مخلص مسلمانوں اور کھلے کافروں کا ذکر کرنے کے بعد منافقوں کا ذکر فرماتے ہیں ۔ منافق جو زبان سے اسلام کی صداقت خدا کی توحید اور رسول کی رسالت کا اقرار کرے لیکن دل سے اعتقاد نہ رکھے۔ اس قسم کے مخالف ابتدائے اسلام میں تو نہ ہونے کے برابر تھے لیکن جب مسلمان زور پکڑ گئے اور مسلمانوں کی قوت و شوکت بڑھ گئی اور کافروں کو کھلم کھلا مخالفت کی جرأت نہ ہوئی تو بدبختوں نے نفاق کا طریقہ اختیار کیا ، چناچہ عام طور سے مدنی سورتوں میں منافقوں کا ذکر زیادہ آتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayahs 2:8–10ف 4۔ اور لوگوں میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ظاہر ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آئے ہیں ۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں بلکہ منافق ہیں ۔ وہ اپنے خیال میں اللہ کو اور مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں حالانکہ وہ خود ہی اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کر رہے ہیں اور ان کو اس کا بالکل شعور اور تمیز نہیں ہے۔ ان لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کو ان کی جھوٹی باتیں بنانے کے باعث درد ناک سزا ملنے والی ہے۔
قلب اور زبان میں چونکہ موافقت نہ تھی اس لئے ان کو منافق فرمایا پھر جس عرض کیلئے فریب دینے کی کوشش کی تھی وہ نا کام ہوگئی تو خود ہی دھوکہ کھایا ۔ جو بات چھپانی چاہتے تھے وہ کسی نہ کسی طرح کھل گئی یہ سمجھتے تھے ہم اس ترکیب سے دھوکہ دے رہے ہیں ، حالانکہ خود دھوکے میں پڑگئے اور پھر غفلت اور گمراہی کی وجہ سے دھوکہ کا احساس بھی نہیں کر رہے اور جو عداوت اور حسد کی بیماری ان کے قلوب میں ہے وہ ان کی بےاحتیاطی اور بد پرہیزی کے باعث اور ترقی کر رہی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس میں اضافہ فرمارہا ہے ۔ جس قدر اسلام سے حسد کرتے ہیں اسی قدر اسلام اور مسلمان ترقی پذیر ہیں ۔ اس لئے بیماری میں اور اضافہ ہو رہا ہے ، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک آزاد یہ تھا کہ جس دین کو دل نہ چاہتا تھا نا چار قبول کرنا پڑا ، دوسرا آزار اللہ نے زیادہ کیا کہ حکم کیا جہاد کا جن کے خیر خواہ تھے ان سے لڑنا پڑا۔ ( تسہیل)
Ayahs 2:11–12ف 5۔ اور جب ان منافقین سے یہ کہا جائے کہ تم ملک میں فساد برپا نہ کرو تو یہ لوگ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنیوالے ہیں ۔ آگاہ رہو یہی لوگ فساد کرنیوالے ہیں مگر ان کو اپنے مفسد ہونے کا شعور نہیں ۔ ( تیسیر)
فساد اور اصلاح یہ دو لفظ قرآن میں ہیں عام طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ اگرچہ فساد کے اصل معنی تو حد اعتدال سے نکل جانے کے ہیں اور اصلاح اس کا مقابلہ ہے یعنی حد اعتدال کی پابندی کرنے کا نام اصلاح ہے مگر عام طور پر اس کے معنی ہر قسم کی شرارت اور ہر قسم کی درستی اور اصلاح کئے جاتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے فساد کا ترجمہ بگڑا اور اصلاح کا ترجمہ سنوار کیا ہے چونکہ آج کل یہ دونوں لفظ اردو میں بولے اور سمجھے جاتے ہیں ، اس لئے ہم نے ان کا کوئی خاص ترجمہ نہیں کیا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب ان کو ان کی خفیہ شرارتوں سے باز رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ اپنی مفسدانہ حرکات کا انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم تو یہ بغیر اصلاح کے اور کچھ کرتے ہی نہیں ہیں ۔ حضرت حق ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ لوگ ہیں تو پرلے درجے کے مفسد اور شرارتی کیونکہ نہ تو خود اسلام قبول کرتے ہیں نہ دوسروں کو اسلام لانے دیتے ہیں لیکن ان کو اپنے مفسد ہونیکا احساس نہیں ۔ ( تسہیل)
Ayahs 2:13–15ف 1۔ اور جب ان منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اس طرح ایمان لائو جس طرح دوسرے مخلص اور کامل انسان ایمان لائے ہیں تو یہ جواب دیتے ہیں کیا ہم بھی اس طرح ایمان لائیں جس طرح یہ کم عقل اور بیوقوف ایمان لائے ہیں آگاہ رہو کہ یہ منافق خود ہی بیوقوف ہیں مگر یہ اپنی بیوقوفی سے واقف نہیں ہیں اور یہ منافق جب مسلمانوں سے ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان دار ہیں اور جب خلوت و تنہائی میں اپنے سرداروں کے پاس جمع ہوتے ہیں تو ان کو اپنی معیت کا یقین دلاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں مسلمانوں سے تو ہم صرف ہنسی اور مذاق کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان منافقوں کو ان کے مذاق کی سزا دے رہا ہے اور ان کو ان کی شرارت اور سرکشی میں اس طور سے بڑھاتا ہے کہ وہ حیران و سرگرداں پھر رہے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ان منافقوں کی دوزخی پالیسی کا یہ حال ہے کہ جب ان سے ایمان لانے کو کہا جائے تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ مخلص مسلمانوں کو بیوقوف اور کم عقلی کہیں اور جب مسلمانوں کے سامنے پڑجائیں تو اپنے ایمان کا اقرار اور اعتراف کریں اور جب اپنے سرداروں اور چودھریوں کے پاس تخلیہ میں جائیں تو کہیں ہم تمہارے موافق ہیں ہم تو مسلمانوں کو جھانسہ دے رہے ہیں اور ان سے دل لگی کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلہ میں استہزاء کا لفظ فرمایا حالانکہ وہ استہزا سے پاک اور منزہ ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے تھا نے دار جو اریوں اور قمار بازوں سے کہے میں بھی آج تمہارے ساتھ جوا کھیلوں گا یا آج میں تم کو جوا کھلائوں گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ واقعی تھا نے دار جوئے میں شرکت کرے گا ۔ بلکہ اس کے کہنے کا مطلب ہوتا ہے کہ میں آج تم سب کو گرفتار کروں گا اور اس جوئے کا تم کو مزہ چکھائوں گا ۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کی استہزاء سے یہی مراد ہے۔ ہر گناہ کی سزا گناہ کی ہم شکل اور ہر نیکی کا صلہ اس نیکی کے مماثل ہوا کرتا ہے اسی مماثلت کی وجہ سے استہزا کی سزا کو بھی لفظ استہزا سے تعبیر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کا استہزا یہی ہے کہ وہ منافقین کی رسی دراز کر رہا ہے اور یہ اس ڈھیل کو کامیابی سمجھ رہے ہیں وہ ان کو انکی سرکشی اور طغیان میں بڑھا رہا ہے اور ان کو ان رسوا کن نتائج کی کچھ خبر نہیں جو عنقریب پیش آنے والے ہیں آخرت میں بعض گناہ گاروں کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے گا جہنم میں ان کو ایسا معلوم ہوگا کہ دوزخ کا دروازہ کھلا ہوا ہے وہ بھاگ کر جائیں گے کہ باہر نکل جائیں لیکن جب دروازے کے قریب پہنچیں گے تو اس کو بند پائیں گے۔ ان کے ساتھ بار بار یہی سلوک ہوگا اور یہ بار بار شرمندہ ہو کر واپس ہوں گے ہوسکتا ہے کہ یہ سلوک منافقوں کے ساتھ کیا جائے اور یہ ان کے اس استہزا کی سزا ہو جو وہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتے تھے جس طرح آنکھوں کے اندھے کیلئے عمی ہے اسی طرح عقل کے اندھے کیلئے عمہ ہے۔ حضرت شیخ الہند (رح) نے یعمھون کا ترجمہ اسی لئے عقل کے اندھے ہیں فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آنکھوں کا اندھا ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے اسی طرح عقل کے اندھے کوئی آخری اور صحیح رائے قائم نہیں کرسکتے اور حیران و سرگرداں پڑے پھرتے ہیں وہی حالت ان منافقین کی ہے اور اسی حال میں ان کو ان کی شرارتوں اور طغیان و سرکشی میں پڑھایا جا رہا ہے۔
فائدہ۔ منافقوں کا یہ قول کہ ہم بھی کیا بیوقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں یہ غالباً اپنے سرداروں سے کہتے ہوں گے یا اپنے دل میں کہتے ہوں گے یا آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہوں گے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:16ف 2 ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے صحیح راہ کو چھوڑ کر گمراہی اور کج روی اختیار کرلی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ تو ان کی یہ تجارت اور کاروبار کچھ سود مند ثابت ہوا اور نہ وہ راہ یافتہ ہوکر رہے۔ ( تیسیر)
بیع اور شرا کی اصل تو یہ ہے کہ جو شخص مال دیکر کوئی چیز خریدے تو خریدنے والے کو مشتری اور فروخت کرنیوالے کو بائع کہتے ہیں لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے معنی میں توسیع ہوگئی اور اب اشیاء دے کر اشیاء کے حاصل کرنے کو بھی بیع شرا کہتے ہیں ۔ حتیٰ کہ دو چیزوں میں سے ایک چیز کو بےرغبتی سے چھوڑ کر دوسری چیز کو رغبت کے ساتھ اختیار کرلینے پر بھی بیع شرا بولتے ہیں ۔ قرآن میں عام طور پر انسانی زندگی کے لئے اور اس کے نیک و بد اعمال کے لئے تجارتی اصطلاح استعمال کی گئی ہے یوں سمجھنا چاہئے کہ انسانی زندگی ہر انسان کا ایک سرمایہ ہے اسے اگر اچھے کام میں لگا دیا تو نفع کمائے گا اور اگر کسی بدبخت نے اپنی زندگی کے اس المال اور سرمایہ کو برے کا م میں خرچ کردیا تو اس کو گھاٹا ہوگا اور وہ دیوالیہ ہوجائے گا ، گویا برے کام کرنے والے نے اپنے سرمایہ سے نقصان اور گھاٹے کا مال خریدا اور اچھے کام کرنے والوں نے نفع کا مال خریدا جس نے نقصان کا سودا کیا وہ دیوالیہ ہوا ۔ اس کو قرآن کی اصطلاح میں خاسر کہتے ہیں ۔ اس اصطلاح کو اگر محفوظ رکھا گیا تو انشاء اللہ اس قسم کی تمام آیتوں کا مطلب سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہوگی ۔ اس آیت میں منافقین کی اسی حالت کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کو سرمایہ زندگی اور فطری استعداد عطا ہوئی تھی ۔ چاہتے تو ایمان لا کر نفع کما سکتے تھے ، لیکن نفع کا مال چھوڑ کر اس کے مقابلے میں کفر خرید لیا ۔ اب ظاہر ہے کہ جو گھاٹے کا سودا کرنے والوں کا انجام ہوتا ہے وہی انجام ان کا بھی ہوا ۔ دنیا میں بھی یہی رسوا ہوئے کہ ان کے نفاق کا حال کھل گیا اور آخرت میں بھی دیوالیوں کے گروہ میں اٹھیں گے۔ ان کو تجارت کرتے وقت اتنی سمجھ بھی نہ آئی کہ وہ ایمان جس کا خالی زبان سے اظہار کیا جائے وہ نفع بخش نہیں ہوتا بلکہ قلب میں بھی وہی اعتقاد ہو جو زبان سے ظاہر کیا جا رہا ہے چونکہ ان بدبختوں نے مال خریدتے وقت صحیح سوجھ بوجھے سے کام نہیں لیا اس لئے فرمایا وما کانوا مھتدین اب آگے انہی منافقین کی دو مثالیں بیان فرماتے ہیں تا کہ ان منافقین کا معاملہ اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔ ( تسہیل )
Ayahs 2:17–18ف 3۔ ان کی حالت اس گروہ کی حالت کے مشابہ ہے جس نے کہیں آگ جلائی ہو ، پھر جب اس آگ نے اس گروہ کے ارد گرد اور آس پاس کی تمام چیزوں کو روشن کردیا ہو تو اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے نور کو سلب کرلیا ہو اور ان کو سخت تاریکیوں میں اس طرح چھوڑ دیا ہو کہ ان کو اپنے آس پاس کی کوئی چیز نظر نہ آتی ہو ۔ وہ بہرے ہیں گونگے ہیں اور اندھے ہیں ، لہٰذا وہ گمراہی سے ہدایت کی جانب نہیں لوٹیں گے۔ ( تیسیر)
مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح روشنی حاصل کرنی کی غرض سے کچھ لوگ شب کی تاریکی میں آگ جلائیں اور آگ کی روشنی سے فائدہ حاصل کرنا چاہیں اور جب وہ آگ ان لوگوں کے چاروں طرف کی چیزوں کو روشن کر دے تو ایک دم آگ کی روشنی کو خدا تعالیٰ زائل کر دے اور وہ لوگ اندھیروں میں متحیر اور حیرت زدہ ہو کر رہ جائیں ۔ یہی حالت ان منافقین کی ہے کہ اسلام کی روشنی سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے کہ مسلمانوں میں مل جل کر مال غنیمت بھی حاصل کریں اور نکاح وغیرہ کے تعلقات قائم کر کے ورثہ کا بھی فائدہ اٹھائیں اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے محفوظ بھی رہیں ۔ لیکن ٹھیک اس وقت جبکہ ان کی یہ حرکات بآور ہونے کے قریب تھیں اور ان کے نفاق کا انشاء ہوگیا اور ان کا بھانڈا پھوٹ گیا اور یہ حیران رہ گئے یا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں چند روز اپنی مکاری سے فائدہ اٹھاتے رہے مگر مرنے کے بعد گونا گوں عذاب میں مبتلا کئے گئے ۔ بہرحال ان کی حیرانی اور ان کے تحیر اور ان کے کفر و نفاق کی تاریکیوں میں مبتلا ہونے کی مثال بیان کی گئی ہے اور چونکہ اس تحیر کی وجہ سے ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ نہ تو بات سنتے ہیں نہ سیدھی راہ کو کسی سے دریافت کرسکتے ہیں اور نہ راست پر چل سکتے ہیں اور بالکل اس جماعت کی طرح جس کی آگ کا نور اور روشنی ختم ہوچکی ہو اور وہ تصور حیرت بن کر رہ گئی ہو ۔ ان بدبختوں کی حالت ہوگئی ہے تو بھلا اب یہ کیونکہ کفر کی تاریکیوں اور اندھیروں سے نکل کر اسلام کی طرف آسکتے ہیں ۔ کہیں بہر ا اور گونگا اور اندھا بھی سیدھی راہ پر لگ سکتا ہے ، اس لئے فرمایا فھم لا یرجعون (تسہیل)
Ayahs 2:19–20ف 1۔ یا ان منافقوں کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے زور کا مینہ پڑ رہا ہو اس میں مختلف قسم کی تاریکیاں اور اندھیرے ہوں اور سخت کڑک چمک بھی ہو رہی ہو اس زور کی بارش میں جو لوگ چل رہے ہوں ان کی حالت یہ ہو کہ وہ کڑک کی آواز سے اپنی انگلیاں موت کے خوف سے اپنے کانوں میں گھسائے لیتے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ہر طرف سے اپنے علم وقدرت کے احاطہ میں لے رکھا ہے بجلی کی چمک کا یہ عالم ہے کہ وہ ان کی بصارت کو اور بینائی کو اچکے لیتی ہے جہاں ذرا بجلی نے چمک کر ان پر روشنی کردی تو اس روشنی میں چلنے لگے اور جب ان پر اندھیرا ہوگیا تو کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کو سلب کرنا چاہتاتو یقینا ان کے کان اور ان کی آنکھوں کو سلب کرلیتا اور یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء پر پوری طرح قادر ہے۔ ( تیسیر)
پہلی مثال سخت متعصب اور کٹر قسم کے منافقوں کی تھی جو روشنی سے بالکل ہی محروم تھی دوسری مثال ہلکے قسم کے منافقین کی ہے جو کبھی روشنی محسوس کرتے ہیں تو دو چار قدم چل لیتے ہیں اور دین حق کا نور دیکھ کر اسلام کی جانب کچھ مائل ہوجاتے ہیں پھر احکام شرعیہ کی پابندی اور تہدید و تخولیف اور منہیات سے پرہیز وغیرہ کو دیکھ کر اپنی ذاتی اغراض اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے کفر و ضلالت کی تاریکیوں میں حیرت زدہ بن کر کھڑے رہ جاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سب کافروں کو اپنی قدرت کے گھیرے میں لے رکھا ہے نہ یہ اسکے احاطہ علمی سے باہر نکل سکتے ہیں اور نہ ان کی تدبیریں اور حیلہ سازیاں آگے بڑھ سکتی ہیں ان مثالوں میں جو رعایتیں اور استعارے رکھے ہیں ان سے اہل علم حضرات ہی خوب واقف ہیں ۔ دین حق ایک زور کی بارش ہے جو انسانوں کو ہر قسم کی آرائشوں سے پاک کردیتی ہے اس کی بشارتیں نور ہیں اور اس کی وعیدیں ہولناک ہیں دنیا کے انسان مختلف تاریکیوں میں مبتلا ہیں مثلاً رات کا اندھیرا ، بادل کی تاریکی اور لگا تار بارش کا اندھیرا ، اسی طرح بدقسمت انسان ، کفر و شرک ، بدعت و گمراہی اور اسلام دشمنی کی تاریکیوں میں مبتلا ہیں ۔ اسلام کی نورانی ترقیاں اور اسکی ہمہ گیر روشنیاں قریب ہے کہ دشمنان دین کی آنکھوں کو خیرہ کردیں اور ان کی بینائی کو بیکار کردیں۔ دنیوی لالچ کے پیش نظر یہ منافق کوئی قدم بڑھاتے بھی ہیں تو پھر ٹھٹک کر رہ جاتے ہیں اگر اللہ کو منظور ہوتا تو ان کی آنکھوں کو اور ان کی قوت سماع کو بالکل ہی زائل کردیتا کیوں کہ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء ممکنہ پر پوری قدرت اور پورا اختیار رکھتا ہے یہاں تک تین قسم کے انسانوں کا ذکر فرمایا ۔ مخلص اہل ایمان ، کھلے کافر اور منافق ان تینوں قسم کے انسانوں کا ذکر کرنے کے بعد تمام بنی نوع انسانی کو عام طور سے ایمان و اسلام کی دعوت دیتے ہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ عقائد کے سلسلہ میں قرآن کے پیش نظر چند اہم چیزیں ہیں اللہ تعالیٰ کا وجود توحید سڑک کے مفاسد ، رسالت اور کتب سماویہ پر ایمان ، قرآن کی حقانیت اور اسکی صداقت پر ایمان ، قیامت اور مرنے کے بعد زندہ ہونے پر ایمان ، حشر و نشر حساب و کتاب اور ثواب و عذاب پر ایمان ، یہ چند چیزیں وہ ہیں جس میں تمام دنیا کے منکر ایک طرف ہیں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور ان کے متبعین دوسری طرف ہیں ورنہ اسلام کی بہت سی خوبیاں وہ ہیں جس کا وہ لوگ بھی اعتراف کرتے ہیں جو آسمانی شریعت پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے قرآن نے بار بار مختلف عنوانات اور مختلف دلائل کے ساتھ ان مخصوص چیزوں پر بحث کی ہے جن کے ماننے سے دنیا آج بھی انکار کرتی ہے ۔ قرآن نے اپنے تمام دعادی پر نہایت ہی معقول دلائل پیش کئے ہیں بلکہ قرآن کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کا کوئی بھی دعویٰ بلا دلیل کے نہیں ہوتا کبھی دلیل دعویٰ کے ساتھ ہی ہوتی ہے اور کبھی کچھ آگے چل کر دلیل ذکر کی جاتی ہے۔ اگر اس تقریر کو محفوظ رکھا گیا تو مجھے خدا کے فضل و کرم سے توقع ہے کہ قرآن کا بہت بڑا حصہ سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) ان تمثیلات کے متعلق موضح القرآن میں فرماتے ہیں یعنی دین اسلام میں آخر سب نعمت ہے اور اول کچھ محنت ہے جیسے مینہ آخر اسی سے آبادی ہے اور اول کڑک ہے اور بجلی ہے جو منافق ہیں وہ اول کی سختی سے ڈر جاتے ہیں اور ان کو آفت سامنے آتی ہے اور جیسے بجلی میں کبھی اجالا ہے اور کبھی اندھیرا ہے اسی طرح منافق کے دل میں کبھی اقرار ہے اور کبھی انکار اللہ صاحب نے سورة کے یہاں تک تین لوگوں کا احوال فرمایا اول مون دوسرے کافر جن کے دل پر مہر ہے یعنی قسمت میں ایمان نہیں۔
منافق جو دیکھنے میں مسلمان اور دل ان کا ایک طرف نہیں ۔ ( تسہیل)
Ayah 2:21ف 2۔ اے افراد انسانی تم اپنے اس پروردگار کی بندگی اور عبادت بجا لائو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ توقع ہے کہ تم خدا کے عذاب سے بچ جائو ، وہ پروردگار جس کی عبادت کے لئے تم کو دعوت دی جا رہی ہے وہ ایسا محسن ہے کہ اس نے تمہارے بسنے اور زندگی بسر کرنے کے لئے زمین اور آسمان کو چھت بنایا اور اس نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا ۔ اور اس پانی سے تمہاری غذا اور تمہارے کھانے کیلئے مختلف انواع و اقسام کے پھل اگائے، لہٰذا ایسے بڑے حقیقی محسن کا کسی کو ہمسر اور شریک نہ ٹھہرائو ، حالانکہ تم جانتے بوجھتے ہو۔ (تیسیر)
اس آیت میں تمام بنی نوع انسانی کو اپنے پروردگار کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ، چونکہ عبادت انتہائی تذلل اور عاجزی اور خشوع و خضوع کا نام ہے اس لئے انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس کی عبادت کا وہی مستحق ہوسکتا ہے۔ جو تمام مخلوق سے بالا اور برتر اور تمام مخلوق کا مربی اور محسن ہے ، زمین چونکہ پھیلی ہوئی ہے ۔ اس لئے اس کو فرش فرمایا اور آسمان چونکہ قبہ نما ہے اس لئے اسکو بناء سے تعبیر کیا ۔ تقویٰ کے معنی جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں پکنے اور احتیاط کرنے کے ہیں ۔ اس لئے ہم نے عذاب سے بچنے کے معنی کئے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس کا یہ مطلب ہو کہ تم متقیوں کے زمرے اور پرہیز گاروں کی جماعت میں شامل ہو جائو، جیسا کہ بیضاوی نے اختیار کیا ہے اور یہ جو فرمایا کہ توقع اور امید ہے کہ تم متقی ہو جائو اور اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں شاید اور توقع اور امید کے الفاظ کیوں ہیں وہ تو سب کچھ کرسکتے ہیں ۔ الو تو یہ بات کہ کلام میں وہی محاورے اور بول چال کا وہی طریقہ استعمال کیا ہے ۔
جو عام طور سے انسان بولتے اور سمجھتے ہیں نیز یہ کہ بادشاہوں کے کلام میں اس قسم کے الفاظ وعدے کے وقت بولے جاتے ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کلام میں بھی عسٰی اور لعل اور مراد وعدہ ہی ہوتا ہے اور یہی ایک کریم کی شان ہے کہ جب وہ کہتا ہے اچھا دیکھا جائے گا یا یوں کہے اچھا دیکھو شاید ہوجائے یا یوں کہے امید ہے کہ ایسا ہوجائے تو ان سب کا مطلب یہی سمجھا جاتا ہے کہ وعدہ ہوگیا ۔ اسی مطلب کے پیش نظر حضرت شاہ رفیع الدین صاحب (رح) ان الفاظ کا ترجمہ تاکہ فرمایا کرتے ہیں ۔ سماء اس چیز کو کہتے ہیں جو تمہارے اوپر سایہ فگن ہو یہاں آسمان مراد ہے کیونکہ وہ تمام عالم پر چھایا ہوا ہے ۔ آسمان کی جانب سے پانی نازل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ مفسرین فرماتے ہیں کہ آسمان سے غیر مرئی طریقہ پر بادلوں پر پانی نازل ہوتا ہے۔ پھر بادلوں سے زمین پر برستا ہے اور جو لوگ محض بخارات سے بارش کا تعلق سمجھتے ہیں ان کے لئے بھی ہمارا ترجمہ مضر نہیں ۔ پھر جو پانی پرستا ہے اس کے امتزاج اور زمین کے ساتھ ملنے سے مختلف پھل اور میوے پیدا ہوتے ہیں ند کے معنی مثل اور مخالف کے ہیں جس کو اردو میں جواب کہتے ہیں جیسے فلاں چیز فلاں چیز کا جواب اور مقابل ہے اور یا یہ چیز اس چیز کی مثل ہے اسی لئے اہل لغت نے مماثلت اور مشارکت کے معنی لئے ہیں ۔ ہم نے شاہ عبد العزیز صاحب (رح) دہلوی کا لفظ ہمسر اختیار کرلیا ہے کہ اس خدائے یکتا ئو یگانہ کا کوئی ہمسر نہ ٹھہرائو او جو فرمایا کہ تم جانتے بوجھتے ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہو ۔ اتنی بات ادنیٰ سے غور و فکر سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ جب اس کا رخانہ عالم میں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی دوسرا متصرف اور کار فرما نہیں ہے تو اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو کیوں شریک وسہیم بنایا جائے ۔ اب آگے نبی کریم ﷺ کی رسالت اور قرآن کی حقانیت کا ذکر فرماتے ہیں ۔ چوں کہ توحید باری کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی رسالت اور قرآن کی صداقت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے ۔ اس لئے توحید کی مناسبت سے رسالت اور قرآن کا ذکر فرماتے ہیں ۔ ( تسہیل)
Ayahs 2:22–24ف 1۔ اور اگر تم کو اس کتاب کے بارے میں جو ہم نے اپنے خاص بندے محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے کچھ شک و شبہ ہو کہ یہ ہم نے نازل نہیں کی بلکہ اس کتاب کو ہمارے بندے نے بنایا ہے تو تم اسکی مثل ایک چھوٹی سی سورت ہی بنا کرلے آئو اور تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے تمام مدد گاروں اور حمایتوں کو بلا لو اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو ۔ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا اور اس کتاب کی مثل کوئی چھوٹی سی سورت باوجود اپنے حمایتوں کے بنا کر نہ لائے اور ہم کہتے ہیں کہ تم اس قرآن کا جواب بنا کر لا بھی نہ سکو گے تو پھر اس آگ سے بچنے کی فکر کروجس آگ کا ایندھن بجائے لکڑی اور کوئلے کے آدمی اور پتھر ہیں اور وہ آگ کافروں اور دین حق کے منکروں کے لئے تیار کی جا چکی ہے۔ ( تیسیر)
ریب اصل میں نفس کے اضطراب اور قلق کو کہتے ہیں اور ظاہ ہے کہ جب دل میں اضطراب اور قلق ہوتا ہے تو طبیعت کسی ایک بات پر نہیں ٹکتی اور اسی کو شک کہتے ہیں ۔ ہم نے ابتدا میں بتایا تھا کہ کسی چیز میں شک کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ اس چیز میں واقعتہ ً شک ہو دوسرے یہ کہ کوئی شخص اپنی عقل کو کوتاہی اور ضد سے شک کرے ، چناچہ لا ریب فیہ میں پہلی صورت کی نفی تھی اب اس دوسری صورت کی نفی فرماتے ہیں کہ اگر تم کو واقعی اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے میں شک ہے اور تم اس قرآن کو محمد ؐ کا خو د ساختہ کلام سمجھتے ہو تو تم بھی اس قرآن کی مثل ایک ممدو د ٹکڑا اور چھوٹی سی سورت بنا لائو جو فصاحت و بلاغت اور پند و نصائح اور تاریخ امم ماضیہ اور غیب کی خبروں وغیرہ میں اس قرآن جیسی ہو آخر تم لوگ بھی عربی ہو عرب ک رہنے والے ہو عربی زبان سے واقف ہو پھر ہم تمہارے ساتھ اتنی رعایت اور کرتے ہیں کہ تم اپنے مدد گاروں کو بھی بلا لو اور تم سب مل کر ہمارے اس مطالبہ اور تحدی کا جواب دو شہید کے بہت سے معنی ہیں مجلس کا حاضر باش، مددگار ، گواہ ، امام ، مقتول فی سبیل اللہ وغیرہ۔
اس آیت میں شہدا سے مراد حمایتی اور اہل مجلس ہیں اور ہوسکتا ہے کہ معبود ان باطلہ مراد ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گواہ مراد ہوں تا کہ وہ یہ گواہی دیں کہ کفار مکہ جو جواب بنا کر لائے ہیں وہ واقعی قرآن کا جواب ہے اور یہ جو فرمایا من دون اللہ تودون کے اصل معنی تو قریب کے ہیں لیکن اس کے معنی میں توسیع ہوگئی ہے ۔ اب اس کے معنی ایک حد سے دوسری حد تک تجاوز کرنے کے آتے ہیں جیسا کہ تیسرے پارے میں ارشاد فرمایا ہے لا یتخذ المؤمنون الکافرین اولیاء من دون المؤمنین ۔ یعنی مسلمانوں کی موالاۃ اور دوستی سے کافروں کی دوستی کی طرف تجاوزنہ کرو یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ باقی اپنے سب شہداء کو دعوت دے دو ۔ اگر تم سچے ہو ، پھر بطور پیشین گوئی کے فرماتے ہیں اگر تم نے ایسا نہ کیا اور چھوٹی سی سورت اس قرآن کی مثل نہ لائے اور تم لا بھی نہ سکو گے تو پھر اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی پتھر ہیں ، جیسا کہ سورة انبیاء میں فرمایا ۔ انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم یعنی تم اور تمہارے وہ معبود جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو سب دوزخ کا ایندھن ہیں ۔ وقود اس چیز کو کہتے ہیں جو آگ بھڑکانے کیلئے آگ میں ڈالی جائے ۔ جن بتوں کو یہ پوجا کرتے تھے وہ عام طور سے پتھر کے ہوتے تھے اس لئے ان بتوں کو بھی ان پجاریوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا تا کہ مشرکوں کو مزید عبرت ہو کہ یہ کیسے کمزور اور ذلیل معبود تھے کہ ہم کو تو کیا عذاب سے بچاتے خود بھی اسی عذاب میں مبتلا ہیں جس میں ہم گرفتار ہیں ۔ وہ آگ کافروں کے لئے تیار کی جا چکی ہے جیسا کہ محققین کا مسلک ہے کہ جنت و دوزخ اس وقت موجود ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب قرآن کا جواب تمام دنیا کے کافر مل کر نہیں دے سکتے اور سب عاجز ہیں تو یہ قرآن نبی کریم ﷺ کا ایک ایسا معجزہ ہے جو قیامت تک جاری رہنے والا ہے ۔ پھر آپ ﷺ کے رسول برحق ہونے میں اور قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں کون سے شک اور تردد کی گنجائش باقی ہے پھر اگر اس صاف دلیل اور واضح حجت کے بعد بھی پیغمبر ﷺ کی رسالت اور قرآن کی صداقت کے منکر ہوتے ہو تو پھر اس عذاب سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کیا جا چکا ہے ، یہ انجام تھا نہ ماننے والوں کا۔
اب آگے پیغمبر ﷺ کی رسالت اور قرآن کی حقانیت کو تسلیم کرنے والوں اور ان کے حکم کی تعمیل کرنے والوں کو اپنے پیغمبر کی معرفت بشارت اور خوش خبری دیتے ہیں ۔ تنبیہ آیت وان کنتم فی ریب میں من مثلہ کی ضمیر نبی کریم ﷺ کی جانب بھی پھر سکتی ہے ۔ اگر ضمیر کو حضور کی جانب پھیرا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جیسا یہ ہمارا بندہ امی اور ان پڑھ ہے ۔ اسی جیسے شخص سے تم سب مل کر ایک چھوٹی سی سورت بنوا لائو ۔ یعنی مفسرین نے اس معنی کو اختیار کیا ہے اور من مثلہ سے من مثل عبدنا مراد لی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ( تسہیل
Ayah 2:25ف 2۔ اور اے نبی آپ ان لوگوں کو جو ایمان لا چکے ہیں اور وہ نیک اعمال کے پابند ہیں ۔ یہ مسرت آمیز خبر دے دیجئے کہ ان کے واسطے آخرت میں ایسی بہشتیں اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ۔ جب کبھی بھی ان کو ان بہشتوں میں سے کوئی پھل کھانے کو پیش کیا جائے گا تو وہ اس پیش کردہ پھل کو دیکھ کر ہر بار یہی کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو اس سے پیشتر ہم کو دیا جا چکا ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ ان کو ونوں دفعہ کے پھل صورت میں باہم ملتے جلتے دیئے جائیں گے اور ان لوگوں کے لئے جنت کے باغوں میں پاک و صاف عورتیں ہوں گی اور یہ لوگ ان بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ( تیسیر)
بشارت ایک ایسی خبر کو کہتے ہیں جو سننے والے کو مسرور کرنے والی ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ نیک عمل کرنیوالے اہل ایمان کو یہ خوش خبری دی گئی ہے کہ ان کو اس عالم میں ایسے باغ دیئے جائیں گے جن کے نیچے پانی کی نہریں بہہ رہی ہونگی ۔ یا تو باغ کے درخت نہروں کے کنارے پر لگے ہوئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ پانی اور درختوں کے نیچے بہہ رہا ہوگا اور یہ اپنے محلوں میں سے اس باغ کا نظارہ کر رہے ہوں گے ۔ جنت کے جو پھل ان کو کھانے کیلئے دیئے جائیں گے چونکہ وہ شکل و صورت میں دنیا کے پھلوں کے ہم شکل ہوں گے تو یہ تعجب سے کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل ہے جو ہم کو دنیا میں دیا گیا تھا ان کو بتایا جائے گا کہ تم کھا کر دیکھو ۔ اس پھل کی صورت تو دنیا کے پھل جیسی ہے لیکن اس کا مزہ دنیا کے پھلوں جیسا نہیں ہے یا یہ مطلب ہے کہ جنت ہی کے پھل جب ایک دفعہ کھائیں گے اور دوبارہ پھر ان کے سامنے وہ پھل لایا جائے گا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم ابھی کھاچکے ہیں ۔ اس پر فرشتے ان کو متنبہ کریں گے کہ صورت ایک سی ہے لیکن مزہ ایک سا نہیں ہے بلکہ ایک ہی پھل کا ہر دفعہ نیا مزہ ہوگا ۔ پاک کی ہوئی عورتیں جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کی ظاہری اور باطنی نجاست سے اہل جنت کی بیویوں کو اللہ تعالیٰ نے پاک اور صاف کردیا ہے جس طرح ان کو پیشاب پاخانہ وغیرہ کی ضروریات سے پاک رکھا گیا ہے اسی طرح ان کو باطنی آلائش حسد و کینہ اور بد خلقی وغیرہ سے بھی پاک صاف کردیا ہوگا ۔ عام اس سے کہ وہ عورتیں دنیا کی ہوں یا جنت کی حوریں ہوں ۔ ہمیشہ رہنے سے مراد یہ ہے کہ یہ ہر قسم کی نعمتیں دائمی ہوں گی ۔ یہ لوگ وہاں سے کبھی نکالے نہ جائیں گے اور نہ ان کو موت آئے گی ۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ بہشتیں کئی قسم کی ہوں گی اور ہر ہر جنت میں مختلف درجات ہوں گے اسی لئے حضرت حق سبحانہ ٗ نے جمع کا صیغہ ذکر فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے جنت کے نام اس طرح مروی ہیں ۔ جنت الفردوس ، جنت عدت ، جنت النعیم ، دار الخلد، جنت الماوی اور علیون بعض مفسرین نے دارالسلام ، دارلقرار ، دارالجلال وغیرہ کا اور ضافہ فرمایا ہے چونکہ لوگوں کے اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے مراتب مختلف ہوں گے ۔ اس لئے جنت میں بھی مختلف مراتب اور مختلف درجات عطاء کئے جائیں گے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جنت ایک ہی ہو اور اس کے مختلف درجات کے نام مختلف ہوں ۔ جیسا کہ اہل تحقیق کا قول یہ ہے ۔ حضرت شاہ عبد القادر صاحب (رح) فرماتے ہیں ۔ یعنی جنت کے ہر میوے کا مزہ جدا ہے اگرچہ صورت ملتی ہو صورت دیکھ کر جائیں گے کہ وہ ہی قسم ہے جو کھاچکے ہیں اور چکھیں گے تو مزہ جدا پاویں گے۔ (تسہیل)
Ayah 2:26ف 3۔ ہاں بیشک اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ خواہ وہ کوئی سی مثال بیان کرے، وہ مثال مچھر کی ہو یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی ہو ، پھر جو اہل ایمان ہیں وہ تو خوب جانتے اور یقین کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور بیان کردہ مثال بالکل درست اور بہت با موقع ہے اور وہ لوگ جو کفر کی روش اختیار کرچکے ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ آخر اس مثال کے بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ کا کون سا مقصد اور مطلب ہے اللہ تعالیٰ اس نازل کردہ مثال سے بہتوں کو گمراہ رکھتا ہے اور اسی مثال سے بہت سوں کو ہدایت عطا کرتا ہے۔