2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

صدقات کے اصل حق دار وہ فقراء ہیں جو جہاد کی غرض سے پابند کردیئے گئے ہیں یہ لوگ کہیں ملک میں جا آ نہیں سکتے ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان لوگوں کو مال دار سمجھنا ہے اے مخاطب تو ان کے فقر کو ان کے چہرے کی علامت سے پہچان سکتا ہے وہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر سوال نہیں کرتے پھرتے اور مال میں سے جو کچھ بھی تم خیرات کرتے ہو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے1

ف 1 تم لوگ جو کچھ خرچ کرتے ہو اس کے اصل حقدار وہ فقیر اور حاجت مند لوگ ہیں جو جہاد فی سبیل اللہ اور خدمت دین کی غرض سے پابند کردیئے گئے ہیں اور مقید ہوگئے ہیں اور اسی پابندی اور خدمات دینیہ کی وجہ سے وہ ملک میں کہیں آ جا نہیں سکتے اور کمانے کے لئے کہیں آتے جاتے نہیں ان کے سوال نہ کرنے اور سوال سے پرہیز کرنے کی وجہ سے ناواقف آدمی ان کو تو انگر اور مال دار سمجھتا ہے۔ اے مخاطب البتہ تو ان کی احتیاج اور ان کے فقر کو ان کی حالت ان کی ہئیت اور ان کے چہرے مہرے سے پہچان سکتا ہے وہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر مانگتے نہیں پھرتے اور تم جو کچھ مال میں سے خیرات کرتے ہو اور کام کی جو چیز بھی خرچ کرتے ہو یقین جانو اللہ تعالیٰ کو وہ خوب معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس کی پوری اطلاع ہے۔ (تیسیر) احصار روک دینا جیسا کہ دوسرے پارے میں عرض کیا جا چکا ہے یہاں مطلب یہ ہے کہ دینی مشاغل کی وجہ سے انہوں نے اپنے کو روک رکھا ہے وہ دینی مشاغل خواہ جہاد ہو خواہ علم دین کا حاصل کرنا ہو بہرحال ایک خاص خدمت کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔ لایستطیعون ضربا فی الارض کا یہ مطلب ہے کہ دینی مشاغل کے باعث کمانے کے لئے کہیں آ جا نہیں سکتے یہ مطلب نہیں کہ اپاہج ہیں بلکہ عادۃ جب آدمی ایک کام میں منہمک ہوتا ہے اور چوبیس گھنٹے اس میں لگا رہتا ہے تو اور کوئی کام نہیں کرسکتا اسی طرح یہ لوگ بھی ہر وقت طلب علم اور جہاد کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں اس لئے کوئی دوسرا کام نہیں کرسکتے۔ تعفف مقصود اور مراد سے نفس کو تب کلف بچانا اور مقصد کو ترک کردینا یہاں یہ مطلب ہے کہ سوال سے بچتے ہیں اور اپنی حاجت کسی کے روبرو بیان نہیں کرتے سوال سے بالکل اجتناب کرتے ہیں۔ سیما اس علامت کو کہتے ہیں جس سے خبر پہونچائی جائے یہاں ان کی شکستہ حالی اور فقر و فاقہ کا اصمحلال مراد ہے یعنی چہرے پر جو فقر و فاقہ کی وجہ سے زردی نمایاں ہو رہی ہے اس سے ان کے فقر کا پتہ چل سکتا ہے اور بظاہر چونکہ وہ خود دار واقع ہوئے ہیں کسی سے سوال کرتے نہیں تو بیخبر لوگ ان کو دولت مند سمجھتے ہیں حالانکہ ہیں وہ محتاج۔ الحاف لپٹنا سر ہوجانا جیسا کہ عام طور سے ہمارے زمانے کے سائل کرتے ہیں کہ دینے والے کو پیچھا چھڑانا مشکل ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بالکل سوال نہیں کرتے چہ جائیکہ کسی کو لپٹیں یا تنگ کریں یا کسی کو برا بھلا کہیں اس آیت میں جن لوگوں کو دینے کی ترغیب ہے وہ مہاجرین ہیں جو مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آ گیء تھے اور مسجد نبوی کے ایک چوبرتے پر قیام پذیر تھے یہ لوگ قرآن شریف سیکھتے تھے اور دینی تعلیم حاصل کرتے تھے اور حسب ضرورت نبی کریم ﷺ کے حکم سے جہاد کے لئے جاتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ تقریباً چار سو آدمی تھے مدینہ میں ان کا کوئی مکان نہ تھا مسجد کے چبوترے پر پڑے رہتے تھے رات کو قرآن سیکھتے تھے اور جہاد کے لئے یہ لوگ مخصوص تھے۔ مجاہد کا قول ہے یہ لوگ قریش کے مہاجر تھے سعید بن جبیر کا قول ہے یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں زخمی ہوجانے کی وجہ سے بےکار ہوگئے تھے بعض لوگوں نے کہا آیت عام ہے ہر ایسے محتاج کو دینے کا حکم ہے جو سوال سے بچتا ہو اور اس کی خود داری کے باعث لوگ اس کو غنی سمجھتے ہوں۔ جیسا کہ بعض خوش پوشاک شریف کہ عام لوگ ان کی حالت سے بیخبر ی کے باعث ان کو دولت مند سمجھتے ہیں مگر وہ محتاج ہوتے ہیں بعض حضرات نے کہا ہے کہ مطلقاً سوال کی نفی نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دینے والوں کو تنگ نہیں کرتے سوال کرتے ہیں تو نرمی سے سوال کرتے ہیں مگر یہ مطلب تعفف کے منافی ہے۔ ایک ضروری بات اور بھی یاد رکھنی چاہئے کہ حقدار کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے علاوہ کسی دوسرے کو نہ دو ، بلکہ صدقات کا ایک خاص ضابطہ ہے کہ ضرورت اور احتیاج کا اندازہ لگا لیا جائے کبھی ایک خاص سبب کی وجہ سے فقراء کا ایک گروہ زیادہ مستحق ہوتا ہے اور کسی دوسرے مخصوص سبب کی وجہ سے دوسرے گروہ کو ترجیح ہوتی ہے یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ اصل میں تو یہی لوگ مستحق ہیں لیکن کسی اور عارض کی وجہ سے یا کسی اور ضرورت کے پیش نظر ان کے علاوہ دوسروں کو دینے میں ثواب کا زیادہ ہونا ممکن ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی بڑا ثواب ہے ان کا دینا جو اللہ کی راہ میں اٹک گئے ہیں کما نہیں سکتے اور اپنی حاجت ظاہر نہیں کرتے جیسے حضرت کے اصحاب تھے اہل صفہ نے گھر بار چھوڑ کے حضرت کی صحبت پکڑی تھی علم سیکھنے کو اور جہاد کرنے کو اسی طرح اب بھی جو کوئی حفظ کرے قرآن کو یا علم دین میں مشغول ہو لوگوں کو لازم ہے کہ ان کی مدد کریں۔ (موضح القرآن) خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ دینی خدمت میں مشغول ہوں اور جہاد میں یا علم کی طلب میں لگے رہتے ہوں ان کی خدمت کرنی چاہئے نیز آیت میں سوال کی مذمت بالخصوص الحاف کے ساتھ سوال کرنے برائی ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک شخص لکڑیوں کا گٹھا اپنی کمر پر لاد کر لائے اور اس کو فروخت کر کے اپنی گذر کرے یہ بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے پھر کوئی دے اور کوئی نہ دے۔ اور فرمایا نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ اس شرم والے بردبار کو جو لوگوں کے سوال کرنے میں پرہیز کرتا ہے، پسند کرتا ہے اور اس بد زبان سائل پر غضب ناک ہوتا ہے جو لوگوں سے لپٹ کر مانگتا ہے اور دینے والوں کو تنگ کرتا ہے ایک اور روایت اوپر گذر چکی ہے کہ فقیر وہ نہیں ہے جو مانگتا پھر تا ہے اور اس کو ایک نوالہ یا دو نوالے لوٹا دیتے ہیں بلکہ فقیر وہ متعفف ہے جو لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتا یعنی ایک نوالہ مل گیا تو دوسرے مکان پر جا آواز لگائی۔ مزنی فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ اپنے ایک خطبے میں فرما رہے تھے جو سوال سے بچا اللہ تعالیٰ اس کو سوال کرنے سے محفوظ کر دے گا جس نے بےنیازی سے کام لیا اللہ تعالیٰ اس کو بےنیاز کر دے گا جس شخص نے پانچ او قیے ہوتے سا تھے سوال کیا تو یہ الحاف کا مرتکب ہوا مزنی کو ان کی والدہ نے بھیجا تھا کہ جائو بیٹا کہ تم بھی کچھ حضور سے مانگ کر لائو سب لوگ حضور سے سوال کر کے لا رہے ہیں یہ جب پہنچے تو حضور تقریر فرما رہے تھے تقریر کے الفاظ سن کر انہوں نے سوچا کہ ایک اونٹنی میرے پاس ہے ایک میرے ملازم کے پاس ہے پانچ اوقیہ سے تو یہ دو اونٹنیاں ہی زائد ہیں۔ یہ لوٹ کر چلے آئے اور اپنی والدہ کو واقعہ سنایا۔ اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ سوال کی حرمت کے نصاب میں علماء کے مختلف اقوال ہیں مشہر یہ ہے کہ صدقہ الفطر اور قربانی کے وجوب کا جو نصاب ہے وہی سوال کی حرمت کا نصاب ہے یعنی حاجت اصلیہ ہے زائد جس شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سونے اور چون تولے چاندی کی قیمت کا سامان ہو اس پر سوال حرام ہے۔ (واللہ اعلم) اب آگے انفاق فی سبیل اللہ کی تعمیم مذکور ہے یعنی خیرات کا کوئی وقت اور کوئی زمانہ خاص نہیں جب موقعہ ہو اور جس وقت ضرورت ہو خیرات کرو ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ رات اور دن پوشیدہ اور علانیہ اپنے مال خیرات کیا کرتے ہیں تو ا ن کے رب کے پاس ان کا ثواب محفوظ ہے اور ان پر نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم گین ہوں گے2

ف 2 جو لوگ اپنے مال رات کو اور دن کو خفیہ اور علانیہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کو قیامت میں ان کے رب کے حضور ان کا ثواب ملے گا اور ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ اور موجود ہے۔ نیز ایسے لوگوں کو نہ کسی قسم کا خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ بلا کسی زمانے کی تخصیص کے اور بلا حالات کے اتار چڑھائو کے ان لوگوں کو خیرات کرنے سے دھیان ہے نہ رات اور دن کا خیال کرتے ہیں نہ پوشیدہ اور علانیہ کی بحث میں پڑتے ہیں بلکہ جیسا موقعہ ہوتا ہے خرچ کرتے ہیں اگرچہ خفیہ خیرات علانیہ خیرات سے بہتر ہے لیکن بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ چھپانے کے انتظار میں حاجت مند کا کام خراب ہوتا ہے تو علانیہ ہی دے دیتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ضرورت مند کی ضرورت اور حاجت کا خیال رکھنا مقدم ہے۔ خوف اور غم کا مطلب ہم اوپر کئی مرتبہ بیان کرچکے ہیں یعنی نہ ان کو کوئی ایسی ناگوار چیز پیش آئے گی۔ جس کا خوف ہو اور نہ کسی گزشتہ واقعہ پر ان کو غم اور افسوس ہوگا یعنی ہر اعتبار سے مطمئن اور مامون ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ قیامت کے دن ہر شخص خوف زدہ ہوگا اور بڑے سے بڑا آدمی ڈر رہا ہوگا اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی ہیبت اور واردگیر سے ڈرنا اور بات ہے اور خوف و غم کی کسی چیز کا پیش نہ آنا اور بات ہے ان دونوں باتوں میں فرق ہے۔ بعض حضرات نے کہا ہے آیت حضرت صدیق اور حضرت عثمان کے بارے میں نازل ہوئی بعض نے کہا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے بعض نے کہا عبدالرحمٰن بن عوف کے حق میں یہ آیت اتری ہے۔ بہرحال شان نزول کچھ بھی ہو آیت کا حکم عام ہے جو شخص بھی بلا قید زمانہ اور بلا تخصیص احوال خرچ کرتا رہتا ہے اس کو یہ آیت شامل ہے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پوشیدہ خیرات علانیہ سے بہتر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خفیہ کو آشکارا پر مقدم کیا ہے۔ اب آگے اور ایسے احکام بیان کئے جاتے ہیں جن کا تعلق مال سے ہے مثلاً بلا سود کے قرض دینا قرض دار کو مہلت دینا تنگدست کو قرض معاف کردینا لین دین کو تحریر کرلینا لیتے دیتے وقت گواہ مقرر کرنا کاتب موجود نہ ہو تو رہن رکھنا اور کسی چیز کا گرو رکھ کر کام نکال لینا وغیرہ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہاں تک خیرات کا بیان تھا آگے سود کو حرام فرمایا ، جب خیرات کا تقید ہوا تو قرض کا دینا ادنی ہے قرض پر سود کا ہے کو لیا چاہئے۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خیرات کی تاکید فرمائی اور محتاج پر خرچ کرنے کا حکم دیا تو کسی ضرورتمند کو قرض دینا تو اس سے کم درجے کی چیز ہے قرض میں تو رقم واپس ہوتی ہے اور قرض تو کوئی ضرورت مند ہی لیتا ہے خیرات تو بعض دفعہ بلا ضرورت بھی لوگ لے لیتے ہیں لہٰذا کسی حاجت مند کو قرض دے کر اس پر سود کیوں لیا جائے۔ (تسہیل)
Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ سود خوار ہیں وہ نہیں اٹھیں گے مگر جیسے وہ شخص اٹھتا ہے جس کے آسیب نے چمٹ کر حواس باختہ کردیا ہو یہ سزا ان کو اس لئے ہوگی کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے پھر جس شخص کے پاس اس کے رب کی جانب سے نصیحت پہونچ چکی اور وہ آئندہ کے لئے باز آگیا تو جو گزر چکا اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے اور جو کوئی دوبارا پھر وہی کرے تو ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں وہ اس آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔3

ف 3 جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت میں قبروں سے نہیں اٹھیں گے مگر جیسے وہ شخص اصھتا ہے جس کو شیطان یعنی آسیب سے چمٹ کر حواس باختہ کردیا ہو اور خبطی بنادیا ہو۔ یہ سزا ان کو اس لئے دی جائے گی کہ ان سود خوروں نے یہ کہا تھا کہ بیع بھی تو سود کی مثل ہے اور جب بیع حلال ہے تو سود جو اسی کی مثل ہے وہ بھی حلال ہے حالانکہ بیع کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور سود کو اس نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر اب جس شخص کو اس کے رب کی جانب سے نصیحت پہنچ چکی اور وہ سود کھانے اور سود کو حلال کہنے سے باز آگیا اور آئندہ کے لئے قول اور فعل سے رک گیا تو جو کچھ اس سے پہلے ہوچکا وہ اسی کا رہا یعنی اس حکم سے قبل جو سود لے چکا اس کی واپسی ضروری نہیں اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے اور جس شخص نے اس تحریم کے بعد پھر اعادہ کیا خواہ سود کھایا یا سود کو حلال کہا تو ایسے لوگ اہل دوزخ ہیں یہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ (تیسیر) ربا کے معنی ہیں زیادتی اور شرعاً اس کے معنی ہیں وہ زیادتی جو بدون کسی عوض کے حاصل کی جائے مثلاً دس تولہ چاندی کے بدلہ میں کوئی شخص بارہ تولہ چاندی وصول کرے تو یہ دو تولے چاندی ایسی زیادتی ہے جو بغیر کسی عوض کے وصول کی گئی اس زیادتی کو ربا کہتے ہیں۔ سود کھانے کا مطلب یہ ہے کہ سود لینے ہیں لینے کو کھانے سے تعبیر فرمایا اس لئے کہ مالی منافع اور فوائد میں کھانا خاص اہمیت رکھتا ہے …… یتخبطہ الشیطان من المس کا مطلب یہ ہ کہ جو حالت آسیب زدہ شخص کی ہوتی ہے وہی قبروں سے اٹھتے وقت ان سود خوروں کی حالت ہوگی یعنی بد حواس اور مجنون ہوں گے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ مرگی کے مریض کی طرح بےہوش ہوں گے جب لوگ قبروں سے نکل کر موقف کی طرف بھاگتے ہوں گے تو سود خوار مرگی والے کی طرح گرے پڑے ہوں گے یا یہ مطلب ہو کہ گبھی گرتے ہوں گے کبھی اٹھتے ہوں گے اور چونکہ سود خوار جو غریب سے زائد روپیہ وصول کرتا ہے اور روپیہ کا اثر خاص طور پر دل و دماغ پر زیادہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ مال کے نقصان کا دماغ پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے ۔ اس لئے سود خوار کے دل و دماغ کو قیامت میں بےکار کردیا جائے گا۔ اعاذ نا اللہ منہ عوف بن مالک کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے کہ جس شخص نے سود کھایا وہ قیامت کے دن مجنوں اور خبطی بن کر کھڑا ہوگا بعض روایات میں سود خوار کا خون کی نہر میں غوطہ کھانا بھی مروی ہے۔ جیسا کہ معراج کے واقعات میں علامہ زرقانی نے بعض احادیث نقل کی ہیں ان احادیث کا مطلب بھی یہی ہے کہ سرمایہ دار غریب کا خون چوستا ہے اس لئے سزا بھی اسی قسم کی تجویز کی گئی ہے خبیث جنات کا جو اثر ہوتا ہے اس کو شیطان کا مس فرمایا ہے ہمارے ہاں لوگ اس کو آسیب کا اثر کہتے ہیں اسی رعایت سے ہم نے آسیب زدہ کہا ہے جو لوگ جنات اور آسیب کے اثر کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس موقع پر عجیب تاویلات و توجہات سے کام لیا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو سرے سے جنات ہی کے قائل نہیں ہیں اگر جنات کے قائل ہوں اور ان کے اس اثر کا انکار کریں کہ وہ کسی کو لپٹ کر پاگل یا مجنوں کردیتے ہیں تب بھی کچھ گنجائش ہوسکتی ہے لیکن یہ لوگ تو سرے سے ہی جنات کے وجود ہی کے منکر ہیں اور چونکہ جنات کا انکار صریحہ کے خلاف ہے اس لئے قابل التفات نہیں۔ بہرحال سود خوار قیامت کے دن مختل الدماغ اور فاسد العقل ہوں گے انما البیع مثل الربوا کا مطلب یہ ہے کہ یہ سود کھانے والوں کا استدلال ہے وہ سود کو بیع پر قیاس کرتے ہیں اور دونوں چیزوں کو نفع اندوزی میں ایک کو دوسرے کی مثل بناتے ہیں اور جب بیع حلال ہے تو سود بھی حلال ہے یا ان کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر سودحرام ہو تو لازم آئے گا کہ بیع بھی حرام ہو کیونکہ بیع بھی سود کی مثل ہے اور لازم باطل لہٰذا ملزوم بھی باطل ہے ، حالانکہ اس استدلال کا باطل ہونا بالکل ظاہر ہے کہ جو حلال و حرام کا مالک ہے وہ خود فرماتا ہے کہ ہم نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے اور نص صریح کے مقابلہ میں سود خوروں کا استدلال لغو اور باطل ہے جب دونوں میں تماثل ہی نہیں تو پھر استدلال ہی ختم ہے سود خوروں کے استدلال کا دارومدار تو تماثل پر تھا اسی تماثل کی نفی فرما دی یعنی حلال و حرام میں تماثل کہاں ہے جو تمہارا استدلال صحیح ہو۔ موعظۃ کے معنی نصیحت کے ہیں ۔ یہاں مراد اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی ہیں مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کی ممانعت آجائے اور لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ خدا تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے تو اب جو کوئی سود خوری سے باز آجائے اور سود کو بیع کی طرح حلال کہنا چھوڑ دے تو سابقہ لیا ہوا سود اس کی ملک شمارہو گا اور اس کو واپس کرنے کی ضرورت نہ ہوگی البتہ سود کا حکم موصول ہوجانے کے بعد پھر اس کا مرتکب ہوگا تویقینا دوزخی ہوگا اور دوزخی بھی کیا بلکہ ہمیشہ آگ کے عذاب میں مبتلا ہوگا کیونکہ اس نے حرام کو حلال کہا اور کسی حرام چیز کو حلال کہنا یا حلال کہہ کر اس کا استعمال کرنا کفر ہے اور کفر خلود نار کا موجب ہے لہٰذا یہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ۔ نلہ ما سلف فرمانے کے بعد وامرہ الی اللہ بھی ارشاد فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ باز آجانے والے کا معاملہ ہمارے ساتھ متعلق ہے تم کو اس سے کوئی مطالبہ کرنے یا اس کے متعلق کسی قسم کی بدگمانی کرنے کا حق نہیں ہے اگر اس نے نیک نیتی کے ساتھ توبہ کی ہے اور صدق دل سے سود کو ترک کیا ہے تو ہم اس کی توبہ کو قبول کرلیں گے اور اس کی توبہ کو اس کو نفع دے گی ۔ یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن ہم ہی اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے اس کے بارے میں تم کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہ ہوگا ۔ ( واللہ اعلم) ومن عاد کا مطلب کئی طرح بیان کیا گیا ہے کیونکہ اوپر دو قسم کے جرم کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اول سود کھانا ، دوسرے اس کو بیع کی طرح حلال کہنا اسی رعایت سے عود کے معنی بھی کرنے چاہئیں ینی جس شخص نے نصیحت اور اللہ تعالیٰ کا حکم موصول ہونے کے بعد پھر سود کھایا اور اس کو بیع کی طرح حلال کہا تو اس شخص کے دوزخ کا دخول بھی ہے اور اس میں خلود بھی ہے یا سود تو نہیں کھایا مگر اس کو بیع کی طرح حلال کہا تو یہ بھی دوزخی ہے اور ہمیشہ اس میں رہنے والا ہے کیونکہ حرام کو حلال کہنے والا کافر ہے اور کافر ہمیشہ عذاب میں رہنے والا ہے یا فقط سود کھایا مگر حلال سمجھ کر کھایا تو بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا ۔ ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سود کھایا مگر حرام سمجھ کر کھایا تو یہ صورت یہاں زیر بحث نہیں ہے کیونکہ عود جب ہی صادق آئے گا جب سابقہ اور مروجہ صورتوں میں سے کسی صورت کا ارتکاب عمل میں آئے اور ظاہر ہے کہ حرام سمجھ کر سود کھانے والا نزول تحریم سے قبل کوئی بھی نہ تھا اس لئے معتزلہ کا یہ کہنا کہ فاسق بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا ۔ اس آیت سے ثابت نہیں ہوسکتا یہاں صرف وہی صورتیں زیر بحث ہیں جن کا ارتکاب پہلے سے ہوتا چلا آ رہا ہے یعنی سود کو حلال سمجھ کر کھانا اور اس کو بیع کی مثل بتانا واللہ اعلم احادیث سے اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ سود خور ہیں وہ قیامت کے دن قبروں سے خبطی اور مجنون ہو کر اٹھیں گے یعنی فقط سود کھانے والوں کی بھی یہ حالت ہوگی ، خواہ وہ انما البیع مثل الربوا کہتے ہوں یا نہ کہتے ہوں ۔ معراج کے بیان میں یہ بھی آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کچھ لوگوں پر گزرے جن کے پیٹ اتنے بڑے تھے جیسے ایک گھر اور اس پیٹ میں سانپ بھرے ہوئے تھے ۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ سود خور ہیں آپ ﷺ نے یہ بھی دیکھا کہ ایک شخص خون کی نہر میں پڑا ہے ۔ جب وہ کنارے پر آتا ہے تو منہ کھول دیتا ہے اور ایک فرشتہ کنارے پر کھڑا رہتا ہے وہ اس کے منہ میں ایک پتھر دے دیتا ہے یا پتھر مارتا ہے اور وہ پھر اسی نہر میں لوٹ جاتا ہے۔ ابن مسعود ؓ کی روایت میں ہے کہ سود کے تہتر دروازے ہیں سب سے کم درجہ کا دروازہ یہ ہے کہ جیسے اپنی ماں سے برے فعل کا مرتکب ہوا ۔ جابر ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سود کھانے اور کھلانے والے پر اور گواہوں پر اور سود کی کتابت کرنے والوں پر لعنت کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے سونا بدلے میں سونے کے اور چاند ی بدلے میں چاندی کے اور گیہوں بدلے میں گیہوں کے اور جو بدلے میں جو کے اور کھجور بدلے میں کھجور کے نمک بدلے میں نمک کے برابر سر ابرادر ہاتھ در ہاتھ ہونے چاہئیں اگر کوئی کمی بیشی ہوگی تو وہ سود ہوگا ۔ حنیفہ نے اس حدیث کی رو سے ان اشیاء میں سود کی علت کیل مع الجنس اور وزنی مع الجنس قرار دی ہے یعنی دونوں چیزیں وزن سے فروخت ہوتی ہیں یا پیمانے سے دی جاتی ہوں اور ایک ہی جنس کی ہوں تو ان میں کمی بیشی اور ادھارسود ہوگا باقی مسائل ربوا کی تفصیل کتب فقہ سے معلوم کرنی چاہئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی منع سے پہلے جو لیا دینا میں پھر دینا نہیں پہنچتا اور آخرت میں اللہ کا اختیار ہے چاہے تو بخشے باقی بعد منع کے جو لیوے وہ دوزخی ہے اور خدا کے حکم کے سامنے عقل کی دلیل انی اس کی یہی سزا ہے جو فرمائی۔ ( موضح القرآن) ہمارے زمانہ میں سود کے مسئلہ نے خاص اہمیت حاصل کر رکھی ہے ۔ یورپ کے حریصانہ طرز عمل نے اور ایشیاء کے مہاجنوں کی زر پرستی نے بعض لوگوں کو سود خواری کا گرویدہ بنادیا ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ اسلام نے جس چیز کو حرام کیا ہے اس کی حرمت میں کس قدر حکمتیں پنہاں ہیں وہ دولت کی ظاہری فراوانی کو دیکھ کر اس کی طرف مائل ہوتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اسی سود خواری کے باعث دنیا میں کمیونزم اور سوشلزم کو ترقی ہو رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب دنیا میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جو تمام سرمایہ داروں کو زیر و زبر کر کے رکھ دے گا ۔ افسوس ہے کہ مسلمانوں کو ایسے زمانے میں سود خواری کا شوق پیدا ہوا ہے جبکہ سود خوار دنیا خود سود خواری سے پریشان ہوگئی ہے اور سود خواری کچھ عرصہ کی مہمان رہ گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حلال کے ہزاروں دروازے کھول رکھے ہیں ان دروازوں پر قناعت نہ کرنا اور حرام چیزوں کی طرف نگاہ کرنا یا دانشمندوں کا کام نہیں ہے اگر سود کا کچھ ظاہر نفع معلوم بھی ہوتا ہے تو وہ دائمی اور پائیدار نہیں ہے ، بلکہ وہ بہت سی خرابیوں اور تباہیوں کی جڑ ہے ، چناچہ آگے کی آیت میں اسی خرابی کی طرف اشارہ فرماتے ہیں ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناسپاس گناہ گار کو پسند نہیں کرتا ۔1

ف 1۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی نا سپاس کفر کرنے والے گناہ کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔ ( تیسیر) مطلب صاف ہے کہ سود کو ہماری حمایت اور ہمدردی حاصل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹانے کے درپے ہے اگر دنیا میں سود خوار کو مالی نقصان نہ بھی ہو تو آخرت میں تو یقینا خالی ہاتھ بلکہ مجنون و پاگل ہو کر اٹھے گا اور دنیا میں بھی اتنا تو ہوتا ہی ہے کہ سود خوار کے مال میں برکت نہیں ہوتی اور سود خوار کی طبیعت میں اس جرم سے بہت سی اخلاقی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔ لالچ حرص ، بخل ، بےرحمی ، طاعت کی توفیق کا سلب ہوجانا یہ وہ بیماریاں ہیں جو ہر شخص کو سود خوار میں نظر آتی ہیں ۔ ہاں سود کے مقابلہ میں صدقات و خیرات کو ہماری سرپرستی حاصل ہے ہم صدقات کرنے والے کے مال کو بڑھاتے ہیں اور ان کے ثواب کو زیادہ کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے جس نے اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں قبول کرتا مگر پاک چیز کو پھر اللہ تعالیٰ اس صدقہ کو بڑھاتا اور پا لتا ہے جیسے تم اپنی گھوڑی کو بچھڑے کو پالتے ہو۔ مطلب یہ کہ جس گھوڑی کے بچھڑے کی حفاظت کرتے ہو اور اس کی پرورش کا خیال رکھتے ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کے صدقہ کی پرورش اور نگرانی کرتا ہے۔ طبرانی نے ابو برزدہ اسلمی ؓ سے مرفوعا ً روایت کیا ہے کہ ایک روٹی کا ٹکڑا اللہ تعالیٰ کے پاس بڑھ کر احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے اور حدیث میں آتا ہے کہ صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ سود کا مال خواہ بڑھتا ہوا نظر آئے مگر وہ حقیقتاً گھٹتا ہے اور صدقہ دینے سے مال خواہ کم ہوتا دکھائی دے مگر وہ بڑھتا اور زیادہ ہوتا ہے ہم نے دوسرے پارے میں بھی ایک موقع پر عرض کیا تھا کہ قرآن کا ایک خاص فلسفہ اور خاص نظریہ ہے دنیا تعداد کی کمی بیشی کو جانتی ہے جو چیز تعداد میں زیادہ ہو اس کو زیادہ اور جو تعداد میں کم ہو اس کو کم سمجھا جاتا ہے لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ تعداد کی کمی بیشی قابل اعتبار نہیں بلکہ یہ دیکھو کہ پاک کیا ہے اور نا پاک کیا ہے حرام کیا ہے اور حلال کیا ہے۔ لا یستوی الخبیث و الطیب ولو اعجبک کثرۃ الخبیث یعنی ناپاک اور پاک دونوں برابر نہیں ہوسکتے ۔ خواہ نا پاک کی زیادتی اور کثرت کتنی ہی خوش نما معلوم ہوتی ہو یہی وہ چیز ہے جس کا اپنے خاص انداز میں قرآن کریم بار بار اعلان کرتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دنیا کی مادی آنکھیں ہمیشہ انکار کرتی ہیں مگر یہ کہ خدا تعالیٰ جس کو صحیح فہم عطا کر دے وہ اس کو سمجھتا اور دیکھتا ہے اس کو ہم اپنے الفاظ میں انوار و برکات کے سلب ہوجانے سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ حرام کے ارتکاب سے توفیق طاعت سلب ہوجاتی ہے ۔ عمل کی برکت اور نور جاتا رہتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو بحث مباحثہ سے سمجھ میں مشکل سے آتی ہے ۔ البتہ ارباب سلوک اور اصحاب ذوق اس کو خوب سمجھتے ہیں اس فلسفہ کو ظاہر کردینے کے بعد آخر میں کفار اور اثیم سے بیزاری کا اظہار فرمایا ہوسکتا ہے کہ کفار سے مراد وہ لوگ ہوں جو سود کو حلال اور بیع کو مثل کہنے پر اصرار کرتے ہوں اور اثیم سے وہ مراد ہوں جو حرام کے ارتکاب میں مشغول رہتے اور انہماک رکھتے ہوں اور ہوسکتا ہے کہ آیت عام ہو اور ہر ناسپاس اور مرتکب جرائم سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہو ۔ حضرت حق جل مجدہ ٗ کی شان اس سے برتر اور بلند ہے کہ وہ کسی خوگر کفر اور جرائم پیشہ شخص کی جانب التفات فرمائے بلکہ وہ ایسے لوگوں کو ناپسند کرتا ہے اور ایسے نا لائقوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مال دار ہو کر محتاج کو قرض بھی مفت نہ دے جب تک سود نہ رکھ لے یہ نعمت کی نا شکری ہے۔ (موضح القرآن) محق ۔ محاق کے معنی ہیں تدریجی طور پر کسی چیز کا کم ہونا یہاں تک کہ وہ چیز بالکل ختم ہوجائے جیسے چاند کا نور کم ہوتے ہوتے بالکل ختم ہوجاتا ہے بھلا جس چیز کے کم کرنے اور گھٹانے کے درپے خود حق تعالیٰ جل شانہٗ ہو اس کو زیادتی اور بڑھوتری کا سبب سمجھنا اس سے بڑھ کر بھی کوئی نا دانی ہوسکتی ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:277

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ ادا کی تو ان کے رب کے پاس ان کا ثواب محفوظ ہے اور نہ ان کو کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے2

ف 2۔ البتہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ بجا لائے یعنی اوامرا کو بجا لائے اور نواہی سے باز رہے اور خاص طور پر نماز کے پابند رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے تو ایسے لوگوں کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور ایسے لوگوں کو ان کا ثواب ان کے رب کے ہاں ملے گا اور ان لوگوں کو نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ یہ لوگ کبھی غمگین ہوں گے۔ ( تیسیر) اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافرانہ اقوال و افعال کی مذمت فرمائی تھی اور کافروں کے انجام کا ذکر کیا تھا۔ زیر بحث آیت میں اس کے مقابلہ میں اہل ایمان کے اقوال و افعال کا ذکر فرمایا ہے جیسا کہ قرآن مقدس کا طریقہ اور داب سے اوپر کی آیت میں کافروں کا قول انما البیع مثل الربوا کا ذکر تھا یہاں اس کے مقابلہ میں ان الذین امنوا فرمایا وہاں سود کھانے کا ذکر تھا ۔ یہاں عملوالصالحات اور آتا الزکوٰۃ فرمایا اور اعمال صالح کے ساتھ نمازکا ذکر بھی فرمایا۔ کیونکہ نماز کو تمام اعمال میں ایک خصوصیت حاصل ہے اور نماز کو حرام سے بچانے اور حلال پر آمادہ کرنے میں بڑا دخل ہے۔ اوپر کی آیتوں میں سود کو گھٹانے کا ذکر کیا تھا یہاں مسلمانوں کے اجرکا اعلان فرمایا اور اس اجر کو اپنے پاس فرمایا اور ظاہر ہے کہ جس اجر وثواب کا اللہ تعالیٰ ضامن اور امین ہو اس کا کیا ٹھکانہ ہوگا ۔ اوپر کی آیت میں دخول جہنم اور اس میں ہمیشہ رہنے کا ذکر تھا اس آیت میں ہر قسم کے خوف سے بےخوف رہنے اور ہر غم سے بےغم ہونے کا ذکر ہے یعنی نہ کوئی خطرہ پیش آئے گا اور کسی مقصود و مطلوب کے فوت ہونے کا رنج و غم ہوگا ۔ بہر حال جس ترتیب سے کفار کی مذمت فرمائی تھی اسی ترتیب سے اہل ایمان کے لئے بشارت کا اظہار فرمایا ۔ اوپر کی آیت میں آئندہ سود لینے کی ممانعت فرمائی تھی ۔ آگے کی آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ پچھلا چڑھا ہوا کبھی نہ لو۔ ( تسہیل)
Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم حقیقی ایماندار ہو3

ف 3۔ اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی گرفت سے ڈرو اور جو رقم سود کی بقایا ہے اسے بالکل چھوڑ دو اگر تم حقیقی اور کامل مومن ہو کیونکہ کمال ایمان کا مقتضا یہی ہے کہ جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل کی جائے۔ ( تیسیر) سدی نے کہا کہ یہ آیت حضرت عباس بن عبد المطلب اور بنی مغیرہ کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ بعض لوگوں نے کہا ثقیف کے کچھ لوگوں کا قریش پر قرض تھا۔ انہوں نے مول اور بیاج دونوں کا مطالبہ کیا تھا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ زمانہ جاہلیت میں مختلف طریقہ سے سرمایہ دار سود لیا کرتے تھے اور یہ تو عام بات تھی کہ مقروض کو میسر نہ ہوا تو میعاد بڑھا دی اور میعاد کے ساتھ اصل رقم میں اضافہ کردیا ۔ مثلاً 001 روپے قرض لئے اور ایک سال کی میعاد مقرر کی اور اس پر سود مقرر کرلیا مثلاً ایک سو دس قرار دیئے اب سال بھر کے بعد مقروض کو بن نہ آیا اس نے کہا چھ مہینے کی معیاد اور بڑھا دو ۔ سرمایہ دار نے میعاد بڑھا دی مگر قرض کی رقم کو ایک سو بیس کردیا جب اللہ تعالیٰ نے سود کی ممانعت فرمائی اور گزشتہ کا لیا ہوا سود در گزر فرما دیا تو آئندہ کے لئے حکم جار ی کردیا کہ آئندہ کوئی سود کا مطالبہ نہ کیا جائے اور جو سود چڑھا ہوا ہو اس کو بالکل چھوڑ دیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی منع آنے سے پہلے جو لے چکے سو لے چکے اور اگلا چڑھا ہوا اب نہ مانگو ( موضح القرآن) ہم نے اوپر عبا س بن عبد المطلب کے جس شریک کا ذکر کیا ہے اس کا نام تفسیر مظہری نے خالد بن الولید بتایا ہے۔ ( واللہ اعلم) اب آگے اس حکم کی تعمیل نہ کرنے والوں کو وعید سنا کر تنبیہ کرتے ہیں ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ (تسہیل)
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

پھر اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے جنگ کا اعلان سن لو اور اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے اصل مال تمہارے لئے ہیں نہ تم کسی پر زیادتی کرو اور نہ تم پر زیادتی کی جائے4

ف 4۔ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا یعنی پچھلے چڑھے ہوئے سودکا مطلبہ ترک نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جانب سے ایک سخت جنگ کا یقین کرو اور اللہ و رسول کی جانب سے جنگ کا اعلان سن لو اور ہوشیار و خبردار ہو جائو یعنی دنیا میں تمہارے خلاف جہاد ہوگا اور آخرت میں تم کو آ گ کا عذاب دیا جائے گا اور اگر تم توبہ کرلو تو تم کو تمہارے اصل مال پہنچتے ہیں اور تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے نہ تم سود کا مطالبہ کر کے کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر زیادتی اور ظلم کیا جائے کہ تمہاری اصل رقم واپس نہ کی جائے یا اس رقم میں سے دیا ہوا سود وضع کرلیا جائے ۔ ( تیسیر) فاذنوا ۔ ذال کے زیر اور زبر دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے ہم نے تیسیر میں دونوں قراءتوں کی رعایت سے ترجمہ کردیا ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے جنگ کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ رسول کی طرف سے جہاد اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت میں عذاب۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سود خور سے کہا جائے گا لڑائی کے لئے اپنے ہتھیارسنبھال لے۔ عمرو بن العاص کی روایت میں ہے جب کسی قوم میں سود خواری علم ہوگی تو اس پر قحط واقع ہوجائے گا اور جب کسی قوم میں رشوت خواری بڑھے گی تو اس پر ہیبت اور رعب چھا جائے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم لوگ سود کھانے سے باز نہ آئو گے اور بقایا کا مطالبہ کرو گے تو پیغمبر ﷺ تم سے جہاد کرے گا جیسا کہ آج بھی اگر کوئی شخص سود کھائے تو امام کو حق ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کرے اور اس کو قید کرے اور اگر وہ توبہ نہ کرے یہاں تک کہ وہ حکم الٰہی کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ صاحب قوت ہو اور اس کے حمایتی مزاحمت کریں اور اس کو قید ہونے سے روکیں تو ان لوگوں کے خلاف جہادکرے یہی حکم ہے ان لوگوں کے لئے جو نماز کے تارک ہوں یا زکوٰۃ کے تارک ہوں یا کسی اور فرض کے تارک ہوں یا کبائر میں سے کسی کبیرہ کے مرتکب ہوں اور کبیرہ کے ارتکاب پر اصرار کریں اور امام کے جبر کرنے پر مزاحمت کریں اور گردہ بنا کر مقابلہ کریں تو ان لوگوں کا حکم باغیوں کا ہوگا اور انکے خلاف جہاد کرنا واجب ہوگا بلکہ اگر کسی سنت متوارثہ کے ترک پر اصرار کریں اور گردہ بندہ کر کے مقابلہ پر آمادہ ہوجائیں تو ان کے خلاف بھی امام کو جہاد کرنا ہوگا ۔ وان تبتم کا مطلب یہ ہے کہ اگر توبہ کرلیں اور پچھلے سود کا مطالبہ ترک کردیں تو وہ اپنی اصل رقم لے سکتے ہیں اگرچہ توبہ نہ کرنے کی شکل کا یہاں صراحتہً ذکر نہیں ہے لیکن ظاہر ہے کہ اگر سود کو حرام سمجھتے ہوئے توبہ نہیں کرتے تو باغی ہیں ان پر باغیوں کے احکام جاری ہوں گے اور اگر معاذ اللہ حلال سمجھ کر توبہ نہیں کرتے تو مرتد ہوں گے اور ان پر مرتدین کے احکام جاری ہوں گے۔ یہ تمام احکام کتب فقہ میں مذکور ہیں نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر کوئی ظلم کرے۔ اس کا مطلب صاف ہے جیسا کہ تیسیر میں عرض کیا جاچکا ہے ۔ تم پر ظلم نہ کہ تمہاری اصل رقم نہ دلوائی جائے۔ یا لیا ہوا سود واپس دلوایا جائے اور دوسروں پر ظلم یہ کہ اصل رقم یعنی مول سے زیادہ حاصل کرو۔ اس آیت کو مسلمانان بنی مغیرہ اور بنی عمرو نے سن کر کہا ، ہم اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ کرتے ہیں ہم کو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کی طاقت اور ہمت نہیں ہے چناچہ صرف راس المال یعنی اصل رقم اور مول لینے پر راضی ہوگئے اور سود کے بقایا کا مطالبہ ترک کردیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگلا سود لیا ہوا تمہارے اصل مال میں حساب کرے تو تم پر ظلم اور منع کے بعد اگلا چڑھا سود تم مانگو تو تمہارا ظلم ہے۔ ( موضح القرآن) لا تظلمون ولا تظلمون کی اس تشریح کے بعد کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ صاحب تفسیر مظہری نے ایک اور بات بھی کہی ہے وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ مطل الخنی ظلم یعنی ہوتے سا تھے قرض خواہ کو ٹالنا اور قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا ظلم ہے یہ جو فرمایا کہ نہ تم پر کوئی ظلم کرے ۔ اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تمہاری اصل رقم کے لوٹانے میں ہوتے سا تھے کوئی تاخیر نہ کرے اور تمہارے مطالبے پر فوراً رقم ادا کردی جائے۔ سبحان اللہ ! کیا معتدل قانون ہے ایک طرف مقروض سے سود لینے کو منع فرمایا تو دوسری طرمقروض کو تاکید فرمائی کہ اگر ہوتے سا تھے نہ دو گے یا قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرو گے اور قرض خواہ کو ٹال مٹول بتائو گے تو ظالم قرار دیئے جائو گے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر مدیون تنگ دست ہو تو اس کو اس کے خوش حال ہونے تک مہلت دینی چاہئے اور رہی یہ بات کہ تم اس تنگ دست کو معاف ہی کردو تو یہ تمہارے لئے اور بھی بہت ہے بشرطیکہ تم سمجھو1

ف 1۔ اور اگر مدیون صاحب حسرت اور تنگدست ہو تو اس کو اس کے خوش حال اور آسودہحال ہونے تک مہلت دینے کا حکم ہے اور اس وقت تک کے لئے ایسے مدیون کو مہلت دینی چاہئے جس وقت تک اس کا ہاتھ با فراغت ہو اور رہی یہ بات کہ تم اپنا فرض اور لینا بالکل ہی معاف کردو اور مطالبہ ترک کردو تو یہ تمارے لئے مہلت دینے سے زیادہ بہتر اور بدرجہا اچھا ہے بشرطیکہ تم اس بہتری کو سمجھو اور تم کو عماف کردینے کے ثواب کی خبر ہو۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اگر مدیون تنگ دست ہے تو اس کو مرفہ الحال ہونے تک مہلت دو اور بالکل ہی قرض کو اس کے ذمہ سے معاف کردینا یہ مہلت دینے سے زیادہ اچھا ہے اور ایسا کرنے میں مہلت دینے سے زیادہ ثواب اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس مہلت ہی کو تصدیق فرمایا ہو اور مطلب یہ ہو کہ مہلت دیدیا کرو ، کیونکہ مہلت دینا ایک قسم کا صدقہ ہے اور یہ صدقہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ ( واللہ اعلم) عمران بن حصین ؓ سے مرفوعا ً منقول ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کوئی مسلمان جو اپنے مدیون کی مدت دین پوری ہونے کے بعد اس کو مہلت دیتا ہے تو مہلت کے ہر دن میں اس کو صدقہ کا ثواب ملتا ہے ۔ بہر حال ظاہر معنی وہی ہیں جو ہم نے پہلے ذکر کئے ہیں اور وہی عام مفسرین کی رائے ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ قیامت کے دن عرش الٰہی کے سایہ میں سب سے پہلے اس شخص کو جگہ دی جائے گی ۔ جو تنگدست مدیون کو مہلت دیتا ہے یا اس کو معاف کردیتا ہے اور اپنا مطالبہ یہ کہہ کر چھوڑ دیتا ہے کہ میرا جو کچھ تیرے ذمہ نکلتا ہے وہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوش نودی کی غرض سے تجھ پر صدقہ کرتا ہوں اور یہ کہہ کر قرضہ کی دستاویز کو جلا دیتا ہے۔ اس روایت کو طبرانی نے نقل کیا ہے۔ اسی طرح حضرت عثمان ؓ اور ابی الیسر وغیرہ سے مروی ہے کہ جس نے مقروض کو مہلت دی یا اس کے ذمہ سے اپنے قرضہ کو گرا دیا تو یہ شخص قیامت کے دن عرش الٰہی کے سایہ میں ہوگا ۔ حضرت ابو قتادہ ؓ کا ایک واقعہ ہے کہ وہ اپنے مقروض سے قرض مانگنے گئے تو وہ چھپ گیا انہوں نے اس سے دریافت کیا تو نے چھپنے کی کیوں کوشش کی ۔ اس نے کہا ناداری اور مفلسی کی وجہ سے ابو قتادہ ؓ نے کہا قسم کھا کر تو واقعی مفلس ہے اس نے قسم کھائی کہ واقعی میں مفلس ہوں اس پر ابو قتادہ ؓ نے دستاویز منگا کر اس کے حوالے کردی اور کہا میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جس ۔۔۔۔ نے تنگ دست مقروض کو مہلت دی یا اس کو معاف کر کے سبکدوش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو قیامت کی سختیوں سے نجات دے گا ۔ مسلم کی وہ روایت تو مشہورہی ہے کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کی فرشتے جب جان نکالنے آئے تو اس سے دریافت کیا کہ تو نے کوئی نیک کام کیا ہے اس نے کہا میں نے تو کبھی کوئی بھلا کام نہیں کیا ۔ فرشتوں نے کہا یاد کر شاید تجھے کوئی اپنی نیکی یاد آجائے اس نے کہا میں ایک کاروباری آدمی ہوں لوگوں کو قرض بھی دیا کرتا تھا لیکن جب میں اپنے کارندوں کو تقاضے کے لئے بھیجتا تھا تو یہ فرمائش کردیا کرتا تھا کہ خوش حال مقروض کو مہلت دے دینا اور تنگدست کو در گزر کردینا ۔ شاید اللہ تعالیٰ مجھ سے در گزر فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ موت کو حکم دیا کہ ہمارے اس بندے کو در گزر کردو اور اس کے ساتھ رحمت کا معاملہ کرو ۔ بہر حال اس با ب میں بہت سی روایتیں ہیں۔ البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جس طرح قرض خواہ کو رعایت کرنے کا حکم ہے اسی طرح مقروض کو بھی تاکید ہے کہ قرض کو ادا کر دے اور مقروض نہ مرے۔ بخاری نے ابو موسیٰ ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ مقروض مرا ہو اور قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ چھوڑ کے بھی نہ مرا ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بخاری و مسلم نے روایت کی ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے جو بندہ ادائیگی کی نیت سے قرض لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض ادا کردیتا ہے اور جو لوگوں کا مال کھا جانے کی نیت سے قرض لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو تباہ و برباد کردیتا ہے اور فرمایا نبی کریم ﷺ نے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی شخص اللہ کی راہ میں شہید کیا جائے پھر زندہ کیا جائے پھر شہید کیا جائے۔ اور اس کے ذمہ کسی کا دینا ہو تو وہ جب تک قرض ادا نہیں کرے دے گا جنت میں نہ جاسکے گا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب دیکھا سود موقوف ہو اب لگو مفلس سے تقاضا کرنے یہ نہ چاہئے بلکہ فرص دو اور اگر توفیق ہو تو بخش دو ۔ ( موضح القرآن) اب آخر دوسرے احکام کو بیان کرنے سے قبل قیامت کے دن کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور رب العالمین کی پیشی میں حاضر ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تا کہ جو احکام دیئے گئے ہیں ۔ ان کی تعمیل یہ سمجھ کر کرو کہ ایک دن خدا کے سامنے جانا ہے اور وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ ملنا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جس دن تم سب خدا کی طرف لوٹائے جائو گے پھر ہر شخص نے جو کچھ کمایا ہے وہ اس کو پورا پورا دیا جائے گا اور ان پر کسی کا ظلم نہیں کیا جائے گا2

ف 2۔ اور مسلمانو ! تم اس دن سے ڈرو جس دن تم خدا کی طرف لوٹائے جائو گے اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں حاضر کئے جائو گے۔ پھر اس دن ہر شخص کو اس کی کمائی اور اس کے کئے کا پورا پورا دیا جائیگا اور ہر شخص کو اپنے کئے کی پوری جزا ملے گی خواہ وہ خیر ہو یا شر ہو اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہ کیا جائے گا ۔ یعنی نہ اجر میں کمی اور نہ سزا میں زیادتی ، لہٰذا تمام احکام کی تم بھی پوری پوری پابندی کیا کرو تا کہ اس دن کہیں ذلت و رسوائی نہ ہو۔ ( تیسیر) قرآن مقدس کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اوامرو نواہی کی بحث میں قیامت کا اور خدا کی پیشی میں جانے کا اور دوزخ کی ہولناکی اور جنت کی بشارت کا ذکر کرتا ہے تا کہ ان چیزوں کے اثر سے طاعت کی رغبت اور معصیت کی نفرت ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آخری امت ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی نزول آیت کے بعد ۔۔۔۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اس آیت کو سورة بقرہ کی دو سو اسی آیت کے بعد رکھیئے یعنی سورة بقرہ میں اس آیت کا نمبر دو سو اکیاسی ہو۔ سدی نے کہا اس آیت کے بعد نبی کریم ﷺ صرف اکیس دن زندہ رہے۔ بعض کا قول ہے کہ اکیاسی دن زندہ رہے۔ ( واللہ اعلم) (تسہیل)