Ayah 2:168ف 1 اے لوگو ! زمین میں جو چیزیں موجود ہیں ان میں سے وہ چیزیں جو شرعاً حلال و پاکیزہ ہوں ان کو تم کھائو اور دیکھو شیطان کی پیروی نہ کرو اور اس کے قدم بقدم نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اشیاء خوردنی تمہارے لئے زمین میں پیدا کی ہیں ان میں سے جو شریعت نے حلال و پاکیزہ فرمائی ہیں ان کو حسب ضرورت کھانے اور استعمال کرنے کی اجازت ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ حلال چیزوں کو حرام کرکے بیٹھ جائو اور ان کا کھانا ترک دو جیسا کہ بعض یہود اب تک اپنی منسوخ شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھ رہے ہیں یا بعض عرب کے قبائل بعض جانوروں کو بتوں کیلئے خاص کرلیتے تھے اور ان کی سواری اور ان کے گوشت کو حرام سمجھتے تھے یا جیسے مشرکین ہند گائے کو قابل تعظیم سمجھ کر اسکا گوشت نہیں کھاتے یا بعضے جاہل اپنی یا اپنے عزیزوں کی بیماری کی وجہ سے اپنے پر بعض ماکولات اور مشروبات کو حرام کرلیتے ہیں یا جیسے بعض لوگ غصہ میں کسی چیز کے کھانے پر قسم کھالیتے ہیں اور اس چیز کو اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں یا جیسے بعض جاہل صوفی ٹھنڈا پانی یا لذیذ کھانوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں اور اسکی اعلیٰ درجہ کی ریاقت و عبادت سمجھتے ہیں تحریم کے یہ سب طریقے حرام ہیں جو چیزیں شریعت محمدیہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام کرنیکا حق کسی کو نہیں ہے۔ حلال کے ساتھ طیب کی قید بھی لگائی۔
بعض حضرات نے طیب سے خوش ذائقہ اور لذیذ اشیاء مراد لی ہیں یعنی جو چیز شرعاً حلال ہو اور مرغوب طبع اور لذیر بھی ہو اگر طیب کے یہ معنی کئے جائیں تو دائوں کو مستثنیٰ کرنا ہوگا کیونکہ دوا کا استعمال جائز ہے اور بسا اوقات دوا مرغوب طبع اور لذیذ نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ ہے کہ وہ چیز چلال و طیب نہ ہو تو فی حد ذاتہ حرام ہو جیسے شراب، خون، مردار وغیرہ اور نہ کسی عارض کیوجہ سے اس میں حرمت آتی ہو جیسے رشوت، غصب، سود، اسیاء مسروقہ وغیرہ
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے بارگارہِ رسالت میں ایک دفعہ درخواست کی تھی یا رسول اللہ ؐ میرے لئے دعا کر دیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مستجاب الدعوات کردے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے سعد میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بعض دفعہ انسان حرام کا ایک لقمہ کھا لیتا ہے اور اس کی دعا اس حرام کے لقمہ کی وجہ سے چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی جس شخص کا گوشت اور رشوت سود کے مال سے بڑھے گا اس کے لئے دوزخ کی آگ ہی سزا وار ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جس طرح بتوں کی عظمت اور ان کے احترام کی وجہ سے کسی جانور یا کسی کھیت کو یا کسی جانور کے دودھ کو یا کسی مادہ کے اس بچہ کو جو پیٹ میں ہو حرام سمجھنا ایک شیطانی اور مشرکانہ فعل ہے۔
اسی طرح کسی سانڈ کو یا بکرے اور مرغ کو تقرب کی نیت سے غیر اللہ کے نام پر نامزد کرنا بھی ایک حرام فعل ہے اور یہ بھی حلال کو حرام کرنی کی ایک صورت ہے جسکی تفصیل انشاء اللہ چند آیتوں کے بعد آجائیگی
مطلب یہ ہے کہ خواہ کوئی ایسا فعال کیا جائے جس سے حلال جانور حرام ہوجائے اور اس میں حرمت آجائے یا غیر اللہ کی تعظیم اور تقرب کی نیت سے کسی حلال کو اپنے اوپر حرام کرلو یہ دونوں صورتیں غیر شرعی اور خطوات شیطان سے ہیں۔ غرض جو ماکولات و مشروبات حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کی ہیں ان کو کھائو پیو، بشرطیکہ ان میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو خطوۃ یا خطوۃ اس فاصلہ کو کہتے ہیں جو چلنے والے کے دونوں قدم کے درمیان ہوتا ہے یعنی ایک قدم اٹھا کر دوسرا قدم رکنے کے مابین کا فاصلہ لیکن چونکہ اب یہ پیروی کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اس لئے ہم نے تیسیر میں دونوں کا لحاظ رکھا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عرب کے لوگوں نے دین ابراہیم (علیہ السلام) کو کئی طرح بگاڑا تھا اول سوائے خدا کے اوروں کو پوجنے لگے اور ان کی نیاز جانور ذبح کرنے لگے کہ وہ مردار ہوتا ہے اور کفر ہے اور مواشی میں سے کئی چیزیں حرام ٹھہریں سورة مائدہ اور انعام میں جن کا بیان ہے اور گوشت خوک حلال سمجھا ان باتوں پر اللہ تعالیٰ ان کو الزام دیتا ہے۔ (موضح القرآن)
اب آگے شیطان کا طریقہ کار کا ذکر ہے کہ وہ کیسی بری باتوں پر انسان کو ابھارتا اور آمادہ کرتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:169ف 2 شیطان کا کام تو سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ تم کو بری اور بےحیائی کی باتیں سکھاتا ہے اور نیز یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم اللہ کے ذمہ ایسی باتیں لگائو جن کی نہ تمہارے پاس کوئی سند ہے اور نہ تم ان باتوں کی حقیقت کو جانتے ہو۔ (تیسیر)
سوء سے مراد ہر قسم کے معاصی ہیں اور فحشاء سے گناہوں کی بد ترین قسم مراد ہے اس لئے فحشا کی تفسیر زنا کے ساتھ اور بخل کے ساتھ کی گئی ہے۔
بعض نے کہا سوء سے مراد وہ گنا ہے جس پر شریعت نے کوئی حد مقرر نہ کی ہو اور فحشاء سے مراد وہ گنا ہیں جن پر شریعت نے کوئی سزا اور حد مقرر کی ہو۔
بعض حضرات نے حلال و طیب کے مقابلے کی وجہ سے بری اور گندی چیزوں کے ساتھ تفسیر کی ہے اور یہ جو فرمایا کہ اللہ کے ذمہ ایسی باتیں لگائو جس کا تم کو علم نہیں اس کا مطلبیہ ہے کہ حلال کو حرام خود کرو اور یہ کہہ دو کہ اللہ کا حکم یہی ہے اور اس نے ہی یہ فرمایا ہے کہ بتوں کی نیاز دلوایا کرو ان کی سفارش سے تم کو میری بارگاہ میں تقرب حاصل ہوجائے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مسئلے اپنی طرف سے بنالو جیسے اب بھی بہت غلط العام ٹھہر رہے ہیں۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے زمانہ میں بہت سی بدعات اور رسومات شرکیہ میں لوگ مبتلا ہیں اور ان سب رسومات قبیحہ اور بدعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف منسوب کرتے ہیں فقیر عرض کرتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب کے دور پر کیا موقوف ہے ہمارے زمانے میں بھی عوام کا یہی حال ہے کہ پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کی سنت سے بےاعتنائی ہے اور بدعات کا نہایت اہتمام ہے۔
بہر حال شیطان کا یہی طریقہ کار ہے کہ وہ لوگوں کو غیر شرعی امور پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور شیطان کے وسوسہ کو لفظ امر سے تعبیر فرمایا امر کے معنی حکم دینے کے ہیں تو اس میں یہ نکتہ ہے کہ شیطان کے وسوسہ پر اس طرح کار بند ہوتے ہیں جس طرح کوئی حاکم کا حکم مانتا ہے ۔ (واللہ اعلم) اب آگے مشرکین کی ایک اور دلیل کار و فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:170ف 3 اور جب ان منکرین حق سے کہاجاتا ہے کہ جو احکام اور جو کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے تم اس پر چلو اور اسکی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں نہیں اسکی پیروی نہیں کرینگے بلکہ ہم تو اس طریقہ کی پیروی کرینگے جس طریقہ پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے اور اپنے آبائو اجداد کو جو کرتے دیکھا ہے وہ کرینگے کیا یہ لوگ ان ہی کی پیروی کرینگے خواہ ان کے آبائو اجداد کی یہ حالت ہوک ہ نہ وہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں اور نہ ان کو صحیح راہ میسر ہوئی ہو۔ (تیسیر)
یہ لوگ یا تو مشرکین ہیں یا یہود ہیں اور ہوسکتا ہے کہ دونوں ہوں کیونکہ اس مرض میں تقریباً سب ہی اہل باطل مبتلا ہیں۔
ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کی مجلس میں یہودیوں سے گفتگو ہورہی تھی جب یہودی جواب دینے سے عاجز ہوگئے تو انہوں نے کہا تمہاری یہ باتیں ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن ہم اپنے آبائو اجداد کے طریقوں کو نہیں چھوڑ سکتے وہ لوگ ہم سے بہتر تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
بہر حال مطلب یہ ہے کہ جب ان لوگوں کو سمجھایا جاتا ہے کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کہنے سے باز آئو اور اپنی طرف سے ھذا حلال و ھذا حرام نہ کہو یہ تمام مشرکانہ رسومات کو ترک کردو اور ما انزل اللہ کی اتباع اور پیروی کرو۔ ماانزل اللہ سے مراد خواہ قرآن ہو یا وہ احکام ہوں جن پر قرآن مشتمل ہے تو اس مطالبہ پر وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ما انز ل اللہ کی بجائے اپنے بڑوں کی اتباع کریں گے گویا مطلقاً اتباع کا انکار نہیں کرتے بلکہ قرآن کے مقابلے میں اپنے آبائو اجداد کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہیں آخر میں اس دعویٰ کا رد ہے کہ اگرچہ تمہارے بڑوں کو نہ اتنی سمجھ ہو کہ کتاب سے مسائل کا استنباط کرسکیں اور نہ کتاب میں کوئی ایسی نص ہو جو ان کے افعال کی تاکید اور رہنمائی کرتی ہو۔
یہ جواب اس تقریر پر ہے جب کہ یہود مراد مراد ہوں اور اگر مشرک ہوں تب مطلب یہ ہوگا کہ خواہ تمہارے بڑوں کو نہ دین کی سمجھ ہو اور نہ کسی آسمانی کتاب یا پیغمبر کی ان کو رہنمائی حاصل ہو تب بھی ان کی اتباع کو احکام قرآنی پر ترجیح دو گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب معلوم ہو کہ باپ دادوں کی رسم خلاف حکم خدا کے ہے پھر اس پر نہ چلے۔ (موضح القرآن)
اب آگے ان مشرکین کی بےعقلی اور ناسمجھی کی ایک مثال بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:171ف 4 اور ان کافروں کو دین حق کی طرف بلانے اور دعوت دینے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسے جانور کے پیچھے چلاتا ہو جو سوائے پکارنے اور آواز دینے کے اور نہ کچھ سنتا ہے اور نہ سمجھتا ہے یہ کفار بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں لہٰذا یہ کوئی کام کی بات نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اس مثال میں ایک طرف نبی کریم ﷺ ہیں جو داعی الی الحق ہیں اور دوسری طرف مشرک ہیں جو اپنے آبائو اجداد کے طریقوں پر اڑے ہوئے ہیں وہ شخص جانور کی طرح پکارنے والے کی آواز تو سنتے ہیں مگر سمجھتے کچھ نہیں۔ اسی اعتبار سے ان کو بہرا، گونگا، اندھا کہا گیا ہے کہ وہ نہ حق بات کو سنتے ہیں نہ دین حق کی تائید میں کچھ بولتے ہیں اور نہ امر حق کی روشنی ان کو نظر آتی ہے وہ بالکل غیر ذوی العقول بہائم کی طرح ہیں۔
بعض حضرات نے اس مثال کی تشریح اس طرح کی ہے کہ یہ کافر اپنی بےعقلی اور نافہمی میں اور مقدمات دین کے سمجھنے اور سمجھانے میں اس جانور کی طرح ہیں جو آواز نکالتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ آواز سنائی دیتی ہے نہ وہ جانور خود اس کو سمجھتا ہے اور نہ دوسرے جانور اس کو سمجھتے ہیں یعنی یہ تمثیل صرف کافروں کی ہے۔ داعی الی الحق سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ یہ مثال اصنام کو اور بتوں کو پکارنے کی ہے کہ مشرک ان کو پکارتے ہیں مگر وہ سنتے سمجھتے خاک نہیں۔
بہر حال مثال کی تشریح میں مختلف اقوال ہیں ہم نے جو قول سلف سے مشہور تھا اس کو اختیار کرلیا ہے خلاصہ یہ ہے کہ کافروں کی بےعقلی کا حال یہ ہے جو اس مثال سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ ایک شخص ایسے جانور کے پیچھے چلاتا ہے جو بجز دعا اور ندا کے کچھ نہیں سمجھتا، اسی طرح یہ کافر ظاہری بات چیت تو سنتے ہیں لیکن دین حق کی بات اور کام کی بات نہ کان لگا کر سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں دین کی بات سننے سے بالکل بہرے گونگے اور اندھے بنے ہوئے ہیں اور امر حق پر غور کرنے اور سمجھنے سے بالکل عاری ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کافروں کو سمجھانا ویسا ہی ہے جیسا کوئی جنگل کے جانوروں کو بلادے سو وہ سوائے آواز کے کچھ نہیں سمجھتے یہ حال ہے جو شخص کہ آپ علم نہ رکھے اور علم والے کی بات کو قبول نہ کرے۔ (موضح القرآن)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے بھی اس مثال کا تعلق صرف منعوق بہ سے رکھا ہے۔ ناعق سے کوئی بحث نہیں کی ہے اور اسی طرف حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) کا بھی رجحان معلوم ہوتا ہے ۔ واللہ اعلم)
اوپر کی آیتوں میں حلال و حرام کے بارے میں مشرکین کی کج روی اور غلط راہ روی کا اظہار تھا۔ اب آگے مسلمانوں کو خطاب فرماتے ہیں کہ وہ ماکولات و مشروبات میں کفار کا طریقہ اختیاہ نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا استعمال کریں اور اس کا شکر بجا لائیں جو ایک فرمانبردار بندے کی بندگی کا صحیح طریقہ ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:172–173ف 1 اے ایمان والو ! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان میں جس کو چاہو حسب ضرورت کھائو اور استعمال کرو اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو اگر تم اسی کے بندے اور عبادت گزار ہو اللہ تعالیٰ نے بس تم پر یہ چیزیں حرام کی ہیں ۔ مردہ جانور اور بہتا خون اور سور کا گوشت اور ایسا جانور جو تقرب کی نیت سے غیر اللہ کی ساتھ نامزد کیا گیا ہو ان سب چیزوں کو اس نے حرام کیا ہے پھر ان میں یہ گنجائش اور آسانی رکھی ہے کہ جو شخص بھوک سے بیقرار اور بےبس ہوجائے بشرطیکہ نہ تولذت اور مزے کا طالب ہو اور نہ ضرورت و حاجت کی مقدار سے تجاوز کرنے والا ہو تو ایسی حالت میں اگر وہ کچھ تھوڑا سا کھالے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا نہایت مہربانی کرنیوالا ہے۔ (تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کافروں کی دیکھا دیکھی کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنانے کی کوشش نہ کریں اور نہ کسی ایسے فعل کا ارتکاب کریں جس سے حلال چیز حرام ہوجائے چونکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے جب تک ان کی حرمت پر کوئی دلیل نہ ہو اس لئے طیبات کی قید کے ساتھ ان کی عا م اجازت دے دی۔ اگر کھانا چاہوتو طیبات کو کھائو اگر کھانے کی چیز ہو اور اگر برتنے کی چیز ہو تو اس کو برتو اور استعمال کرو عام اجازت ہے۔ البتہ جو چیزیں ناپاک اور نجس ہیں ان سے اجتناب کرو ہم نے ان کو حرام کردیا ہے اور وہ یہی ہیں جیسے مردہ جانور یعنی جو جانور اپنی موت سے مرجائے اور اس کو ذبح کرنی کی نوبت نہ آئے تفصیل انشاء اللہ سورة مائدہ میں آجائیگی اور بہنے والا خون جو عام طور سے ذبح کے وقت بہتا ہے کلیجی اور تلی حلال ہے کیونکہ وہدم مفسوح نہیں ہے اسی طرح مردہ جانوروں میں ٹڈی اور مچھلی مستثنیٰ ہے یہ اگر اپنی موت سے بھی مرجائیں تو ان کا کھانا جائز ہے چونکہ عام طور سے سور کھانے والے اس کا گوشت کھاتے ہیں اس لئے گوشت کا ذکر فرما دیا ورنہ سور کے نجس العین ہونے کی وجہ سے اس کی ہر چیز کا کھانا اور استعمالکرنا حرام ہے خواہ اسکی چربی ہو یا اس کے اعصاب ہوں یا اس کی کھال ہو اور ما اھل بہ لغیر اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بت یا دیوی یا کسی بزرگ یا کسی پیر اور پیغمبر کیلئے کوئی جانور نامزد کردیاجائے اور اس کے ذبح سے محض غیر اللہ کا تقرب اور ان کی خوشنودی مقصود ہو ایسے نامزد جانور کو خواہ اللہ تعالیٰ ہی کا نام لیکر ذبح کیا جائے تب بھی اس کا کھانا حرام ہے باغ کا ترجمہ ہم نے طالب لذت سے کیا ہے یہ معنی صاحب مدارک سے لئے گئے ہیں ورنہ عام طور سے اس کے معنی نافرمانی کرنے والا کئے جاتے ہیں۔
امام شافعی (رح) کے نزدیک تو امام وقت کا باغی مراد ہے اور حنیفہ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ نافرمانی کرنے والا نہ ہو یعنی اضطرار کی حالت سے قبل ہی کھانے بیٹھ جائے مگر صاحب مدارک نے جو معنی کئے ہیں ان میں کسی توجیہ کی ضرورت نہیں اس لئے ہم نے وہ معنی اختیار کرلئے ایسا ہی اختلاف عادٍ میں بھی ہے۔
امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ وہ کوئی ناجائز سفر نہ کر رہا ہو مثلاً چوری یا زنا وغیرہ کے ارادے سے سفر نہ کر رہا ہو اور حنیفہ کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ حد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو یعنی خوب پیٹ بھر کر نہ کھائے بلکہ محض تھوڑا سا جان بچانے کی غرض سے کھالے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ شخص جو بھوک سے بیقرار ہوجائے اور مرنے لگے تو محرمات کا بقدر ضرورت استعمال کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کا مقصد مزہ حاصل کرنا نہ ہو اور نہ اس کا مقصد پیٹ بھر کر کھانا ہو تو اس پر کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں۔
ضروری فائدہ : اس موقعہ پر ایک بات تو یہ سمجھ لینی چاہئے کہ ہمارے زمانے میں عوام اور بعض خواص اس ما اھل بہ میں بہت الجھتے ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ جب ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیاجائے اور بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا جائے تو وہ جانور پھر حرام نہیں ہوناچاہئے خواہ وہ غیر اللہ ہی کے نام کا ہو لیکن لوگوں کا یہ خیال صحیح نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا نام لیکرذبح کرنا کسی حرام کو حلال نہیں کرسکتا اگر یہ بات ہوتی تو ہر حرام جانور کو اللہ کا نام لیکر ذبح کرنے کے بعد کھا سکتے حالانکہ یہ بدیہی البطلان ہے اللہ کے نام کی بجائے اگر غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے تو حلال جانور بھی حرام ہوجائیگا لیکن اگر حرام جانور کو اللہ کا نام لیکر ذبح کیا جائے تو وہ حلال نہیں ہوسکتا اس اصول کو ذہن نشین کرلیناچاہئے۔
اب غور کرنا چاہئے جو جانور تقرب کی نیت سے غیر اللہ کے ساتھ نامزد کردیا اس میں محض اس نیت اور نامزدگی کیوجہ سے حرمت آگئی کیونکہ نیت کرنے والے کا مقصد یہ ہے کہ میں اس جانور کو فلاں شخص کی خوشنودی کیلئے ذبح کروں گا اور یہی وجہ ہے اگر اس سے یہ کہاجائے تو اتنا گوشت لیکر خیرات کردے اور اس جانور کو ذبح نہ کر تو وہ اس پر رضا مند نہی ہوتا بلکہ اس جانور کو ذبح کرنا ہی اس بزرگ کے تقرب کا موجب سمجھتا ہے۔
ہمارے فقہا نے تو یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر کسی رئیس یا بادشاہ کے آنے پر اس کے احترام اور اس کو خوش کرنے کی غرض سے کچھ جانور ذبح کئے جائیں تو ان کا گوشت کھانا بھی حرام ہے۔ اسی طرح ہمارے شہر میں ایک دستور ہے کہ دولہا کے آنے پر دو تین بکرے اس کے سامنے ذبح کردیتے ہیں اور دلہن کو جب لے جاتے ہیں تو اس کے قدموں پر مرغا ذبح کرتے ہیں سب ذبیحے جو غیر اللہ کی تعظیم، تقرب اور خوشنودی کی غرض سے کئے جاتے ہیں ما احل بہ لغیر اللہ میں داخل ہیں خواہ ایسے جانوروں کو بسم اللہ اللہ اکبر ہی کہہ کر کیوں نہ ذبح کیا جائے۔
ایصال ثواب اور صدقہ دوسری چیز ہے عوام نے اس کو مخلوط کردیا ہے اور اس خلط کیوجہ سے الجھتے ہیں ورنہ مسئلہ بالکل صاف ہے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے لعن اللہ من ذبح لغیر اللہ زیادہ تفصیل تفسیر عزیزی میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے دوسری بات اور یاد رکھنی چاہئے کہ تمام حرام چیزوں کا یہاں حصر نہیں ہے بلکہ یہاں حصر اضافی ہے۔ حصر حقیقی نہیں ہے جن چیزوں کو مشرکین حرام ٹھہرایا کرتے تھے ان کے مقابلہ میں حصر ہے باقی حصر حقیقی نہیں کیونکہ ان کے علاوہ بھی اور بہت سی چیزیں کتاب اور سنت سے حرام ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مواشی میں اتنی ہی چیزیں حرام ہیں سو بھی جب آدمی بھوک سے مرنے لگے تو یہ بھی معاف ہیں بشرطیکہ بےحکمی نہ کرے یعنی نوبت اضطرار کی نہیں پہنچی اور کھانے لگے اور زیادتی بھی نہ کرے قدر ضرورت کھاوے۔ (موضح القرآن)
جس طرح حرام و حلال کو بدلنا اور شرعی احکام کو تبدیل کرنا حرام ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام جو کتاب الٰہی میں مذکور ہوں ان کو چھپانا اور لوگوں کی خواہش کے مطابق کتمان حق کرنا بھی حرام ہے۔ آگے کی آیتوں میں ال کی مذمت ہے چونکہ اس قسم کی تحریف و تبدیل عام طور سے اہل کتاب کیا کرتے تھے اس لئے بعض لوگوں نے اس سے یہود مراد لئے ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جو بھی اس قسم کی ناشائستہ حرکت کا ارتکاب کرے گا وہ اس وعید کا مستحق ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے بیان فرمائی ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:174–176ف 2 بلاشبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے احکام چھپاتے ہیں اور اس کتمان احکام کے معاوضہ میں لوگوں سے ثمن قلیل اور معمولی اجرت وصول کرتے ہیں تو ان لوگوں کی حالت سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ کے انگارے بھر رہے ہیں اور قیامت میں اللہ تعالیٰ ان سے نہ رخ دے کر بات کرے گا اور نہ ان کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرے گا اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا۔ یہ احکام الٰہی میں خیانت کرنے والے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر اس کی جگہ گمراہی اور مغفرت کو نظر انداز کرکے اس کی جگہ عذاب قبول کرلیا۔ تعجب ہے کہ ان لوگوں کو دوزخ کے عذاب کی کیسی برداشت ہے اور یہ آگ کی کیسے سہار کرنے والے ہیں ان کے لئے جس عذاب کا ذکر کیا گیا ہے اس عذا ب کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب کو صحیح مضامین و احکام کے ساتھ نازل کیا تھا اور جو لوگ ایسی ٹھیک اور صحیح نازل کی ہوئی کتاب میں اختلاف ڈالیں اور کج روی اختیار کریں تو یقینا وہ ایک ایسی ضد اور مخالفت میں مبتلا ہیں جو راہ حق سے بہت دور ہے۔ (تیسیر)
کتاب سے مراد نوریت ہے اور اگر عام رکھاجائے تو ہر آسمانی کتاب مراد ہوگی یعنی جو لوگ آسمانی کتاب کے احکام کو دنیاوی نفع حاصل کرنی کی غرض سے چھپائیں۔ ان کی سزا یہ ہے ثمن قلیل کا استعمال مقابلہ کی وجہ سے کیا ہے ورنہ حقیقی خریدو فروخت نہیں ہے۔ دنیاوی فائدہ خواہ کتنا ہی زیادہ ہو وہ قلیل ہی ہے امر حق کو چھپا کر جو فائدہ حاصل کیا جائے اس کی ظاہری صورت کچھ بھی ہو لیکن اس کا کھانا ایسا ہے جیسے کوئی آگ سے پیٹ بھرے۔ حرام کے ذریعہ سے جو چیز حاصل کی جائے اس کا نتیجہ چونکہ عذاب کی شکل میں ظاہر ہوگا اس لئے وہ حرام کا مال آگ کے انگارے ہیں۔
قیامت میں اللہ تعالیٰ کے کلام نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مہربانی اور تلطف کے ساتھ کلام نہیں کرے گا اور نہ انکے گناہ معاف فرما کر ان کو گناہوں کی نجاست سے پاک کرے گا ہدایت و گمراہی اور عذاب و مغفرت میں چونکہ حقیقی بیع و شرا اور لین دین نہیں ہے اس لئے ہم نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے کیونکہ مطلب یہ ہے کہ ہدایت قبول کرنی کی استعداد کو برباد کردیا اور گمراہی کی استعداد کو بڑھایا یہ تو دنیا میں کیا اور آخرت میں مغفرت سے محروم رہے اور مغفرت کی بجائے عذاب پلے بندھا اور یہ جانتے ہوئے کہ ہماری اس گمراہی کی جزا دوزخ کی آگ ہوگی پھر گمراہی پر اصرار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کی آگ پر بڑے ہی صابر ہیں اسکو تعجب کے الفاظ سے ادا فرمایا کہ ان کی ہمت دیکھو اور دوزخ کی آگ برداشت کرنے کو دیکھو کہ کیسے اس پر آمادہ ہیں اور آگ کی سہار پر کیسے جری ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ جو لوگ ایسی کتاب میں جو حق ہو اور منزل من اللہ ہو اس کے احکام کو بدلیں یا چھپائیں تو وہ سخت ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔
شقاق کو ہم پہلے پارے میں بتا چکے ہیں کہ یہ شق سے مشتق ہے جس کے معنی پہلو کے ہیں چونکہ مخالف پہلو پھر کے بیٹھتا ہے اس لئے اب اس کے معنی ضد اور خلاف وغیرہ سے کئے جاتے ہیں اس آیت میں شقاق کے ساتھ بعید کی قید بھی لگائی تاکہ معلوم ہو کہ ان کی ضد اور ان کا شقاق راہ حق سے بہت دور ہے اور اسی وجہ سے یہ دین حق کے قریب نہیں آسکتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود نے اپنی کتاب میں سے پیغمبر آخر الزماں کی صفت چھپا ڈالی اور بہت آیتوں کے معنی بدل ڈالے غرض دنیا کے واسطے۔ (موضح القرآن)
اب تک جو کچھ ذکر ہوا اس کا تعلق بڑی حد تک منکرین حق کے اعتراضات اور ان کے جوابات کے ساتھ تھا اور اسی سلسلے میں توحید و رسالت کا اثبات اور قرآن کریم کی حقانیت اور دین حق کے منکرین کا انجام وغیرہ مذکور تھا۔ درمیان میں قبلہ کی بحث آگئی اب آگے یہود کے ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے نیک اعمال کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور جس طرح اب تک روئے سخن منکروں کی جانب تھا اور کہیں کہیں مسلمانوں سے خطاب ہوجاتا تھا اسی طرح اب آخر سورت تک روئے سخن مسلمانوں کے ساتھ ہے اور درمیان میں کہیں کہیں کافروں کا ذکر بھی آجائیگا اور چونکہ بر یعنی بھلائی اور نیکی کی تفصیل میں جملہ اعتقادات اور معاملات کو دخل ہے خواہ وہ دینوی معاملات ہوں یا دینی اس لئے ان سب کا ذکر ہے مثلاً اعتقادات میں اللہ پر ایمان لانا اور قیامت پر ایمان رکھنا اور فرشتوں پر ایمان لانا وغیرہ اور احکام و معاملات میں ایفائے عہد نکاح، جہاد، قصاص، وصیت، صیام، حج، انفاق فی سبیل اللہ، حیض، ایلائ، طلاق، رضاعت، عدت، مہر، بیع وشرائ، سود کا لین دین، قرض اور رہن اور شہادت اور دستاویز کی کتابت وغیرہ یہ سب چیزیں بر میں داخل ہیں تو گویا باقی سور ت میں لفظ بر کی تشریح و تفصیل کا بیان ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت بخشش اور نصرت اور کفار کے مقابلے میں فتح کی دعا پر سورت کو ختم کیا گیا ہے ، یہود جب اپنے متعلق عذاب کا ذکر سنتے تو کہتے ہم جہنم میں کس طرح جاسکتے ہیں ہم میں تو بہت سی باتیں مغفرت کی موجود ہیں اور سب سے بڑی نیکی تو ہم میں یہی ہے کہ جس قبلہ کی طرف ہم کو منہ کرنے کا حکم ہوا ہے اسی طرف منہ کرکے اپنی عبادت کرتے ہیں یہ بھلائی کیا کم ہے یہی ہماری مغفرت اور بخشش کیلئے کافی ہے اس کا جواب فرمایا اور جواب کے ساتھ لفظ بر کی تفصیل شروع کدی اور چونکہ اعمال کو بجا لانے اور نیک باتوں پر عمل کرنے اور احکام شریعت کی تعمیل کرنے کے صرف مسلمان ہی اہل ہیں اس لئے ان کی ہی جانب روئے سخن ہے اور یہ کہ ضمنات کہیں کہیں منکرین حق کا ذکر بھی آگیا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:177ف 1 کوئی سب نیکیوں میں یہی نیکی نہیں ہے کہ تم عبادت کے وقت اپنا رخ مشرق کی جانب کرلو مغرب کی طرف کرلو بلکہ اصلی بھلائی اور حقیقی نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر اور ملائکہ کے وجود پر اور تمام کتب سماویہ پر اور سب پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان پر یقین رکھے اور مال کی محبت کے باوجود اہل قرابت کو اور بن باپ کے بچوں کو اور مساکین کو مسافروں کو اور سوال کرنیوالوں کو مال دیتا ہو اور لوگوں کی گردنیں چھڑانے میں مال دیتا ہو اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکو ۃ بھی ادا کرتا ہو اور وہ لوگ جو ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کو بھی ادا کرنے والے ہوں جب وہ کوئی عہد کریں اور وہ خصوصیت کے ساتھ تنگدستی اور بیماری میں اور معرکہ کار زار کے وقت صبر کرنیوالے اور ثابت قدم رہنے والے ہوں یہ حضرات جوان خوبیوں کے ساتھ متصف ہیں یہی سچے اور راست گو ہیں اور یہی حقیقی متقی اور پرہیز گار ہیں۔
بربر اس پسندیدہ فعل کو کہتے ہیں جو اپنے کرنے والے کو جنت میں پہونچا دے مطلب یہ ہے کہ اے اہل کتاب تم نے تمام نیکیوں اور اعمال خیر کو صرف اس بات میں منحصر کردیا ہے کہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلو بس اس کے بعد کسی اور کام کی ضرورت نہیں حالانکہ یہبات نہیں ہے بلکہ تمہارا دین چونکہ منسوخ ہوچکا ہے اس لئے بیت المقدس کی جہت غربی یا شرقی کی جانب منہ کرلینا ہی کوئی نیکی نہیں ہے نیز یہ کہ اعتقادات صحیحہ اور دیگر اعمال خیر کو ترک کردینا اور ان سے بےاعتنائی برتنا اورص رف جہت قبلہ کو اہمیت دینا اور اسی کو باعث مغفرت اور نجات سمجھنا کوئی بھلائی اور نیکی نہیں ہے بلکہ اصلی بھلائی تو یہ ہے کہ جہاں تک عقیدے اور ایمان کات علق ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور فرشتوں کے وجود پر ایمان لائے اور سب آسمانی کتابوں کو تسلیم کرے اور تمام پیغمبروں پر یقین لائے سب پیغمبروں میں نبی آخر الزماں ﷺ بھی شامل ہیں اور جہاں تک اعمال کا اور معاملات کا تعلق ہے اس اعتبار سے بھی بھلائی اور نیکی اس شخص کی ہے جو مال کی محبت اور حاجت کی موجودگی میں اپنا مال غربا کو دیتا ہو۔
جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ کونسا صدقہ بڑا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا ایسی حالت میں صدقہ دنیا کو تو تندرست ہو اور مال کا خواہش مند ہو تنگدستی اور فقر کا خوف دامن گیر ہو اور مال داری کی توقع رکھتا ہو اور اتنی تاخیر نہ کرے کہ جان گلے میں آجائے اور اس وقت کہے کہ اتنا فلاں کو دینا اور اتنا فلاں شخص کودینا۔
مطلب یہ ہے کہ مال زندگی اور تندرستی میں صدقہ کرے جبکہ یہ خیال ہو کہ پیسہ رہیگا تو میرے کام آئے گا جیسا کہ عام طورپر انسان کو خیال ہوتا ہے کہ نہ معلوم کیا وقت ہے وقت بےوقت کو پیسہ رہناچاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ خرچ ہوجائے تو میں محتاج ہوجائو بلکہ اسکو اور بڑھاناچاہئے ان تمام باتوں سے بےخوف اور بےنیاز ہوکر خیرات کرے یہ نہیں کہ مرتے وقت تک مال کو چھاتی سے لگائے بیٹھا رہے اور مرنے کے وقت وصیت کرنے لگے کہ فلاں کو اتنا اور فلاں کو اتنا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خدا کی محبت میں مال صرف کرے جیسا کہ بعض حضرات نے اختیار کیا ہے اور یہ معنی اس وقت ہوں گے جب حبہ کی ضمیر کو خدا کی طرف پھیراجائے رشتے کنبے کے لوگوں کو مقدم کیا کیونکہ اگر اہل قرابت محتاج اور فقیر ہوں تو ان کے دینے میں دوہرا اجر ہے۔
نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ مسکین کو صدقہ دینا ایک صدقہ ہے اور رشتہ دار کو صدقہ دینا دوہرا صدقہ ہے اس لئے کہ صدقہ بھی ہے اور صلہ بھی۔
اور ارشاد ہے افضل الصدقۃ علی ذی الرحم الکاشح صدقات میں سے افضل و ہ صدقہ ہے جو ایسے قرابت دار کو دیاجائے جو ناخوش اور بدخو ہو یعنی جو رشتہ دار تجھ سے رو گرداں رہتا ہو اور تجھ کو بر ا بھلا کہتا ہو اس کو دنیا افضل صدقہ ہے یتامیٰ سے مراد وہ نابالغ بچے جن کا باپ مرجائے مساکین سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی آمدنی ان کی ضروریات کے لئے کافی نہ ہوتی ہو۔
جیسا کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ مسکین وہ نہیں ہے کہ جس کو ایک کھجور یا دو کھجوریں اور ایک لقمہ یا دو لقمے بس کرتے ہیں اور وہ ان کو لیکرلوٹ جاتا ہے یعنی وہ دریوزہ گر جو گلی کو چوں میں مانگتے پھرتے ہیں جہاں سے کچھ مل گیا وہ لیکر آگے بڑھ گئے بلکہ مسکین وہ ہے جس کو اس قدر مال میسر نہ ہو جو اسکی ضرورت کے لئے کافی ہوجائے اور نہ اس کی حالت کو کوئی جانتا ہو کہ اس کو کچھ پہنچا دے مسافر جو تنگدست ہو اور سفر میں اس کے پاس زاد راہ نہ ہو یا زاد راہ خرچ ہوجائے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ابن السبیل سے مراد وہ مہمان ہے جو مسلمانوں کے پاس آ کر ٹھہرے نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ مہمان کا اکرام کرے سوال کرنے والوں کے متعلق حضرت علی ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ سائل خواہ گھوڑے پر ہی چڑھ کر سوال کرے مگر اس کا حق ہے۔
زید بن اسلم کی روایت میں ہے کہ سائل کو دو خواہ گھوڑے پر ہی سوار ہوکر آئے۔ حضرت ام بخید نے عرض کی یا رسول اللہ ! بعض دفعہ سائل آتا ہے اور میرے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ ارشاد فرمایا اگر کچھ نہ ہوا کرے تو ایک جلا ہوا بکری کا کھُر ہی دے دیا کر گردنیں چھڑانے سے وہ قیدی مراد ہیں جو کافروں کے قبضے میں ہوں یا غلام خرید کر آزادکرنا مراد ہے یا مکاتب کو آزاد کرانا۔ مکاتب سے مراد وہ غلام ہے جس کا آقا روپے کی ایک مقدار مقرر کردے کہ تو اس قدر روپیہ مجھ کو دے دے تو میں تجھ کو آزاد کروں اس مکاتب غلام کی امداد کرکے اس کو آزاد کرا دے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی ایسے مقروض کا قرضہ ادا کردے جو قرض میں دبا ہوا ہو اور قر ض میں اسکی گردن بندھی ہوئی ہو۔
ایثار مال کے بعد پھر زکوۃ کا ذکر کرنے سے یہ مطلب ہے کہ زکوۃ ایک حق واجب ہے اور اسکی ایک مقدار مقرر ہے اور اس کا ادا کرنا فرض ہے اور زکوۃ کے علاوہ مال کا دینا حق غیر واجب ہے اور اس کی مقدار بھی مقرر نہیں اور اس طرح بھی فرق کیا جاسکتا ہے کہ زکوۃ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور باقی بندوں کے حقوق ہیں اور یہ مطلب نہیں کہ اوپر جن لوگوں کا بیان ہے ان کو زکوۃ نہیں پہنچتی یا وہ زکوۃ کے مستحق نہیں ہیں بلکہ صرف مطلب یہ ہے کہ زکوۃ ادا کرنے کے بعد اگر اللہ نے مال دیا ہے تو اور بھی خیر کے کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ اذا عا ھدوا کا مطلب یہ ہے کہ جب عہد کرلیں تو پورا کریں اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جب عہد کریں تو اس وقت پورا کرنے کی نیت ہو۔ یہ نہیں کہ عہد تو کرلیں اور بعد میں کسی دبائو کی وجہ سے پورا کریں عہد کرتے وقت پورا کرنے کی نیت نہ ہو خواہ عہد اللہ تعالیٰ سے ہو جیسے نذر کا پورا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہنا یا بندوں سے ہو جیسے وعدہ کا پورا کرنا قسم کو پورا کرنا، امانت کو ادا کرنا وغیرہ، فقر و تنگدستی اور بیماری اور میدان جہاد کی تکلیف پر صبر کرنیوالوں کو مخصوص طور پر ذکر کیا اس لئے کہ یہ باتیں مشکل ہیں اور ان پر ثابت قدم رہنا جواں مردوں کا کام ہے۔
اس لئے فرمایا کہ میں ان خوبیوں کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کرتا ہوں خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ ان اوصاف کے ساتھ موصوف ہیں وہی دین حق کی اتباع کرنے اور بھلائیوں کا اندازہ لگانے میں سچے ہیں اور وہی لوگ تمام خصائل رذیلہ اور کفرو شرک سے محفوظ ہیں یہ آیت نہایت ہی جامع ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ جس نے آیت پر عمل کیا اس نے اپنے ایمان کو کامل کرلیا اس لئے کہ شریعت کے کل احکام کا خلاصہ تین چیزیں ہیں صحت، اعتقاد، حسن معاشرت اور تہذیب نفس اسلام کے تمام جزئیات ان ہی کلیات کے تحت میں داخل ہیں اور اس آیت میں ان تینوں قسموں کے بڑے بڑے شعبے ذکر کردئیے گئے ہیں دالنبین تک صحت اعتقاد کا ذکر ہے اور وفی الرقاب تک حسن معاشرت ہے اور آخری حصے میں تہذیب نفس ہے۔
سبحان اللہ کیا بہترین ترکیب کے ساتھ لفظ بر کا خلاصہ بیان فرمایا ہے یہ سب مع الصابرین اور مواقع صبر کے اٹھارہ اوصاف ہیں اب آگے اسی لفظ بر کے کچھ جزئیات مذکور ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:178–179ف 1 اے ایمان والو ! ان مقتولین کے بارے میں جو عمدا، قتل کئے جائیں تو تم پر قصاص فرض کیا جاتا ہے آزاد آدمی قتل کیا جائے آزاد آدمی کے بدلے میں اور غلام قتل کیا جائے ۔ غلام کے بدلے میں اور عورت قتل کی جائے۔ عورض کے عو ض میں مگر ہاں جس قاتل کے لئے اس کے بھائی طالب قصاص کی جانب سے کچھ معاف کردیاجائے اور اولیائے مقتول میں سے کوئی شخص اپنا قصاص کا حق قاتل کو معاف کردے تو پھر فریقین کو اس بات کا خیال رکھناچاہئے کہ طالب دیت کو تو بھلائی اور معقول بات کی پیروی کرنا ہے اور قاتل کو خوش دلی اور خوبی کے ساتھ طالب دیت کو خوں بہا ادا کردینا اور پہونچا دینا ہے یہ حکم دیت و عفو تمہارے پروردگار کی جانب سے تخفیف و ترحم و مہربانی ہے پھر اس قانونی تخفیف کے بعد اگر کوئی شخص زیادتی اور تعدی کرے گا تو اسکو آخرت میں بڑا دردناک عذاب ہوگا اور اے صاحبان خرد و فہم اس قانون قصاص میں تمہاری زندگی اور تمہاری جانوں کا بچائو ہے ہم کو امید ہے کہ تم قانون کی خلاف ورزی اور ناحق خون ریزی سے پرہیز گرو گے۔ (تیسیر)
قصاص کے معنی ہیں برابر اور مماثلت کے یعنی ایک انسان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو اس نے کیا ہے قتل کیا ہے تو قتل کیا جائے ہاتم کاٹا ہے تو ہاتھ کاٹاجائے کسی نے کسی کا پائوں کاٹا ہے تو پائوں کاٹا جائے وغیرہ وغیرہ۔
قتل جمع ہے قتیل بمعنی مقتول کی چونکہ یہاں قتل عمد کا قصاص بیان کیا گیا ہے اس لئے ہم نے تیسیر میں قتل عمد کی قید لگا دی ہے۔ قتل عمد اس کو کہتے ہیں جس میں قاتل قصداً کسی شخص کو کسی آہنی ہتھیار سے یا کسی ایسی چیز سے جس سے گوشت کٹ کر خون بہہ سکے قتل کردے اس آیت میں اس قسم کے قتل کا قصاص مذکور ہے رہا قتل خطا تو اس کا حکم پانچویں پارے میں انشاء اللہ تعالیٰ آجائے گا خواہ خطا کی یہ شکل ہو کہ کسی مسلمان کو کوئی کافر حربی سمجھ کر قتل کردیاجائے یا تیر کسی شکارپر چلایا اور وہ تیر کسی مسلمان کو لگ گیا اور وہ مرگیا یہ سب صورتیں وہیں ذکر کی جائیں گی۔
زمانہ جاہلیت میں قصاص کو ایک تماشا بنا رکھا تھا بڑے لوگوں پر قصا ص معاف تھا صرف تھوڑا سا روپیہ دے دلا کر مقتول کے وارثوں کو خاموش کردیا جاتا تھا ایک طرف تو یہ تھا کہ چھوٹے آدمیوں کی جان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی دوسری طرف کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ مقتول کے وارث بجائے قاتل کے اسکے کسی عزیز کو قتل کر ڈالتے تھے اور کبھی ایسا ہوتا تھا کہ بجائے ایک شخص کے قاتل کے خاندان کے بہت سے آدمیوں کو قتل کرد یا جاتا تھا لیکن اسلام جو ایک منصفانہ شریعت لیکر آیا تھا اس نے ان تمام غلطیوں کی اصلاح کی جس میں دنیا مبتلا تھی اور قصاص کا مکمل قانون دنیا کے روبرو پیش کردیا چناچہ اس آیت کا نزول بھی ایسے موقعہ پر ہوا جبکہ دو قبیلوں میں باہمی نزاع تھا ایک قبیلے کے کئی خون دوسرے قبیلے کے ذمے چڑھ گئے تھے ۔ مقتولین کا قبیلہ قصاص کا طالب تھا قاتلوں کا قبیلہ چونکہ باعزت اور بڑے لوگوں کا قبیلہ تھا اس لئے وہ اپنی برتری کے باعث اس مساوات سے انکار کرتے تھے یا واقعہ اس طرح تھا کہ مقتولین کا قبیلہ بڑے لوگوں کا قبیلہ تھا وہ انتقام کے لئے یہ مطالبہ کرتا تھا کہ ہم اپنے غلام کے بدلے میں تمہارا آزاد آدمی قتل کریں گے اور لونڈی کے بدلے میں تمہاری آزاد عورت کو قتل کریں گے کیونکہ ہم قوت اور مال میں تم سے اونچے ہیں بہر حال ان لوگوں نے اپنا فیصلہ نبی کریم ﷺ کے روبرو پیش کیا اس پر یہ قانون قصاص نازل کیا گیا۔ اس مختصر تمہید کے بعد اس آیت کے متعلق چند باتیں سمجھ لینی چاہئیں۔
(1) اسلامی قانون میں کسی مقتول کے قصاص کا حق اس کے ورثاء کا حق تسلیم کیا گیا ہے حکومت کو نافذ کرنے کا حق ہے لیکن اگر ورثاء مقتول کو معاف کردیں تو حکومت کو خود بدلہ لینے کا حق نہیں ہے اور انصاف بھی یہی ہے کہ کسی شخص کے مرنے کا اثر جس جماعت اور جس سوسائٹی پر پڑتا ہے اسکو ہی یہ حق ہوناچاہئے کہ چاہے وہ انتقام لے یا معاف کردے یا خون بہا لے لے۔ ہاں حکومت وہاں خود مدعی ہوسکتی ہے جہاں مقتول کا کوئی وارث نہ ہو اور مقتول کی جانب سے کوئی مدعی نہ ہو موجودہ تہذیب میں یہ دستور نہیں ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ کافر حکومتوں کا قانون اسلامی قانون کے خلاف ہے کیونکہ مروجہ قانون میں سرکار خود مدعی ہوتی ہے۔
(2) جب قانون اسلامی میں قصاص اولیائے مقتول کا حق ہے تو وہ معاف بھی کرسکتے ہیں یا بجائے قصاص کے خون بہا لے سکتے ہیں جس طرح وہ فیصلہ کرلیں حکومت کو فریقین کا فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا۔
(3) دیت یا خون بہا کی مقدار اسلام نے سو اونٹ یا ایک ہزار دینار یا دس ہزار درم مقرر کئے ہیں اور درم کی مقدار آج کل انگریزی سے تقریباً ساڑھے چار آنے ہوتی ہے۔ جب کبھی اونٹوں پر یا دینار درم پر فریقین کی صلح ہو تو شریعت نے جو مقدار مقرر کی ہے وہی لینی ہوگی اس سے زیادہ لینے کا حق نہ ہوگا ہاں کم ہوجائے تو مضائقہ نہیں۔
مثلاً مدعی پچاس اونٹوں پر صلح کرلے اور اگر صلح کسی اور سامان اور اشیاء پر ہوجائے تو پھر گنجائش ہے چاہے وہ مال جس پر صلح ہوئی ہو وہ ہزار دینار سے زائد کا ہو تب بھی لے لینا جائز ہوگا بلکہ صلح ہوجانے کے بعد اگر اولیائے مقتول چاہیں تو اس سامان کے بدلے میں نقد روپیہ لے لیں یہ بھی جائز ہے اور کسی سامان پر صلح ہوجانے کے بعد نقد روپے کی مقدار اگر شرعی مقررہ مقدار سے بڑھ جائے تب بھی لے لیناجائز ہے۔
مثلاً فریقین نے غلہ پر صلح کرلی ۔ صلح کے بعد یہ طے ہوا کہ بجائے غلہ کے اسکی قیمت دے دو اور وہ قیمت ہزار دینار یا دس ہزار درم سے زیادہ ہوئی تب بھی اس قیمت کا لیناجائز ہوگا۔
(4) خوں بہا قاتل کے مال میں سے لینا ہوگا اور کسی سے وصول نہیں کیا جائے گا اور وہ مال جو قاتل سے لیاجائے گا وہ مقتول کے وارثوں پر ورثہ کی طرح تقسیم کیا جائے گا اور ہر ایک کو حصہ رسدیدیاجائیگا۔
(5) مقتول کے ورثہ میں سے اگر ایک شخص بھی اپنے قصاص کا حق معاف کردے گا تو سب کے قصاص کا حق ساقط ہوجائیگا کیونکہ قتل کی تقسیم نہیں ہوسکتی البتہ دیت میں ان کا حق باقی رہے گا۔
مثلاً ایک مقتول کے چار لڑکے ہوں ایک اس میں سے قصاص کو معاف کردے تو باقی تین کا حق بھی ساقط ہوجائیگا اور وہ مجرم کے قتل کا مطالبہ نہیں کرسکیں گے ہاں خوں بہا میں ان کا حق باقی رہے گا اور وہ تینوں بیٹے اپنے حصے کا خوں بہا وصول کرلیں گے۔
(6) چونکہ قتل کے مقدمہ میں سب مسلمانوں پر ذمہ داری ہوتی ہے کوئی مدعی بنتا ہے کوئی گواہی دیتا ہے کوئی ملزم کو گرفتار کرکے پیش کرتا ہے کوئی حکم کی تنقید کرتا ہے کبھی قاتل خود پیش ہوکر اقرار کرلیتا ہے۔
لہٰذایا ایھا الذن امنوا میں خطاب بھی بنام ہے بعض لوگوں نے حکام کو مخاطب بنایا ہے بعض نے اولیائے مقتول کو اور بعض نے قاتل کے حمایتوں کو۔ اگرچہ سب احتمال صحیح ہیں لیکن عموم بہتر ہے یہ اس لئے کہ قانون کا فائدہ ہر مسلمان کو پہنچتا ہے۔
(7) اس آیت میں تو نہ حصر ہے کہ یوں کہاجائے بس قصاص یا تو آزاد آدمیوں کے درمیان جاری ہوگا یا دو غلاموں کے درمیان جاری ہوگا یا دو عورتوں کے درمیان جاری ہوگا اور ان صورتوں کے علاوہ اور کسی صورت میں قصاص نہیں ہوگا بلکہ آیت کا منشا صرف اس مساوات کا ظاہر کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان میں رکھی ہے اگر کوئی آزاد آدمی اپنے علاوہ کسی دوسرے کے غلام کو قتل کردے گا یا کوئی مرد کسی عورت کو قتل کردے گا یا کوئی عورت کسی مرد کو قتل کردے گی تب بھی قاتل پر قصاص جاری ہوگا اور کوئی بڑا کسی چھوٹے آدمی کو قتل کردے تو اس پر بھی قصاص جاری ہوگا یا اگر چند آدمی مل کر ایک مسلمان کو قتل کردیں تو ان سب پر قصاص جاری ہوگا۔ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قصاص میں کوئی امتیاز نہ برتا جائے البتہ وہ صورتیں مستثنا ہوں گی جن کو شریعت نے خود مستثنا کردیا ہو۔ مثلاً باپ یا ماں اپنے بیٹے کو قتل کردے یا کوئی اپنی لونڈی اور غلام کو قتل کردے تو اس قسم کے قتل کا حکم علیحدہ ہے جو قانون کی کتابوں میں مفصل مذکور ہے بلکہ یہ آیت تو اپنے مفہوم میں اتنی وسیع ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کافر کو بھی قتل کردے گا تو اس مسلمان پر بھی قصاص جاری ہوگا اور احناف کا یہی مسلک ہے۔
جس طرح اس آیت میں بنی نوع انسان کی مساوات کا اعلان ہے اس سے یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ طریقہ قتل میں بھی مساوات برتی جائے اور جس طرح قاتل نے مقتول کو قتل کیا ہے بعینہ اسی طرح قاتل کو بھی قتل کیا جائے کیونکہ یہ صورت سب جگہ اختیار نہیں کی جاسکتی اس لئے اگر کیفیت قتل میں کوئی امکانی شکل سعادت کی حاصل ہوسکتی ہو تو امام کو اختیار ہے کہ وہ اولیائے مقتول کی دل جوئی کے لئے قاتل کو اسی طرح قتل کرائے جس طرح اس نے قتل کیا تھا۔
جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک یہودی کو سزا دی تھی جس نے ایک لڑکی کا زیور اتارنے کی غرض سے اس کا سر پتھر سے کچل دیا تھا اور آپ نے بھی اس یہودی کا سر پتھر سے کچلوایا تھا لیکن کیفیت قتل میں چونکہ سب جگہ مساوات ناممکن ہے اس لئے قاتل کو تلوار سے قتل کردینا کافی ہے۔
اور یہی مذہب ہے امام احمد اور امام ابوحنیفہ کا اور حدیث میں بھی ہے لا فود الا بالسیف
(7) اور یہ جو فرمایا کہ قاتل کو اس کے بھائی کی جانب سے کچھ معاف کردیا جائے۔ طالب قصاص یا فریق مقدمہ کو بھائی فرمایا یہ اس لئے تاکہ رحم اور مہربانی کا برتائو کیا جائے۔ نیز اس لئے کہ مسلمان کا قاتل اسلام سے خارج نہیں ہوجاتا بلکہ دینی بھائی رہتا ہے ۔ شئی کا ترجمہ ہم نے کچھ کیا ہے اس لئے کہ ورثاء مقتول میں سے کوئی ایک وارث بھی ہو خواہ وہ چھٹے حصے کا وارث ہو یا آٹھویں حصہ کا وارث ہو اپناحق معاف کردے گا تو قاتل کو قتل نہیں کیا جائیگا۔
اب اس کے بعد وارث مقتول کو تو معقول اور بھلے طریق پر مال کا مطالبہ کرنا چاہئے یعنی سختی اور تنگی کا برتائو نہیں کرنا چاہئے اور قاتل کو خوش اسلوبی اور حسن سلوک کے ساتھ خون بہا ادا کردیناچاہئے خواہ مخواہ مقتول کے وارث کو ٹلانا اور پریشان نہیں کرنا چاہئے یہ قصاص کے قانون میں دیت اور عفو کی دفعہ بڑھانا تمہارے پروردگار کی جانب سے رحمت اور تمہارے لئے آسانی اور سزا میں تخفیف ہے۔ ورنہ قاتل کو صرف سزائے قتل ہی دی جایا کرتی۔
زیادتی کا مطلب یہ ہے کہ قاتل سے خوں بہا بھی وصول کرلیا اور پھر اسے قتل بھی کرڈالا معاف کرکے پھر قتل کی پیروی کرنے لگے یا کسی قتل کا جھوٹا دعویٰ کردے یا کسی غیر قاتل کو قتل کردے۔
غرض اعتدی ہر ایک صورت کو شامل ہے اور یہ جو فرمایا کہ قصاص میں تمہاری زندگی ہے یہ اس لئے کہ اس قانون کی وجہ سے لوگ قتل کا ارتکاب کرنے سے ڈریں گے نیز یہ کہ ایک قتل کی وجہ سے باقاعدہ قتال شروع ہوجاتا ہے اور ایک آدمی کے قتل کی وجہ سے بہت سے قتل ہوجاتے ہیں اور قانون قصاص نہ ہونے کی وجہ سے آپس میں تلخیاں اور بد مزگیاں بڑھ جاتی ہیں یہ سب باتیں اس قانون سے دور ہوجائیں گی اور تمہاری جانیں بچ جائیں گی۔
ہم نے اپنے ترجمہ اور تیسیر کی رعایت سے تفسیر کی ہے اور بہت سے احتمالات کو ترک کردیا ہے اور ائمہ مجتہدین کے اختلافات سے بھی بحث نہیں کی ہے کیونکہ ہماری تفسیر میں اس قدر گنجائش نہیں ہے ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) الدر پر فرماتے ہیں صاحب کے بدلے صاحب اور غلام کے بدلے غلام اسی طرح عورت یعنی ہر صاحب دوسرے صاحب کے برابر ہے۔ ہر غلام دوسرے غلام کے برابر ہے اشراف اور کم ذات کا فرق نہیں دولت مند اور فقیر کا فرق نہیں جیسے کفر میں معمول ہی ہو رہا تھا۔
فائدہ : جس کو معاف ہوا یعنی مقتول کے وارث اگر قصاص معاف کرکے مال پر راضی ہوں تو قاتل کو چاہئے کہ ان کو راضی کرے اور منت اٹھا کر خوں بہا پہنچادے۔
فائدہ : یہ آسانی ہو یعنی اگلی امت پر قصاص ہی مقرر تھا اس امت پر معاف کرنا اور مال پر صلح کرنی بھی ٹھہری۔
فائدہ : پھر بھی جو کوئی زیادتی کرے یعنی صلح کرکے مبلغ خوں بہا لے کر پھر مارنے کا قصد کرے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) تتقون پر فرماتے ہیں یعنی حاکموں کو چاہئے کہ قصاص دلانے میں قصور نہ کریں تا آئندہ خون بند ہو۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ فرمایا ہے وہ تقریباً تسہیل میں آچکا ہے اس لئے اس پر کچھ مزید کہنے کی ضرورت نہیں قتل کا بیان قرآن میں کئی جگہ آئے گا مزید کچھ عرض کرنے کی ضررت ہوگی تو وہاں عرض کردیاجائے گا۔
بعض اپنے اکابر نےاتباع بالمعروف کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ مدعی کو طریقہ شرعی کی پیروی کرنی چاہئے اور کوئی ایسا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے جو غیر مشروع ہو مثلاً یوں کہہ دے کہ میں تو جب قصاص سے دست بردار ہوتا ہوں جب قاتل مجھے شراب پلائے یا اپنی لڑکی مجھے دے دے یا اور کسی غیر شرعی چیز کو معانی کی شرط ٹھہرائے بہر حال یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ( تسہیل )
Ayah 2:180ف 2 تم پر یہ بھی فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو آثار و قرائن سے موت نزدیک و قریب معلوم ہو تو وہ اپنے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے لئے انصاف کے ساتھ کچھ وصیت کردے بشرطیکہ وہ مرنے والا مال بھی چھوڑ رہا ہو خدا سے ڈرنے والوں پر یہ لازم اور ضروری ہے۔ (تیسیر)
جب تک میراث کا حکم اور ترکہ کی تقسیم کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے اس وقت تک مسلمان بھی سابقہ دستور پر عمل کرتے تھے یعنی جب کوئی مر جاتات ھا تو اس کا ترکہ صرف نرینہ اولاد کو مل جاتا تھا اور اگر مشرکوں میں سے کوئی کسی کے لئے وصیت کرتا تھا تو اپنی شہرت کی غرض سے دور کے لوگوں کو دلوایا جاتا تھا اور ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کو نظر اندازکر دیا جاتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں والدین اور اہل قرابت کے لئے وصیت لازمی قرار دی باقی صورت کو آیت میراث کے نزول تک اپنی حالت پر باقی رہنے دیا۔
(تیسیر) موت کے حاضر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بیماری اور مضر کی حالت سے یہ اندازہ ہوجائے کہ موت نزدیک ہے۔ مال کی شرط لگائی اس لئے کہ اگر مال ہی نہ ہوگا تو ماں باپ اور قرابت داروں کو دلوائے گا کیا البتہ اس میں اختلاف ہے کہ مال بہت ہو تب وصیت کرے یا تھوڑے مال میں بھی وصیت ضروری ہے۔ عام مفسرین کی رائے تو یہی ہے کہ مال خواہ تھوڑا ہو یا بہت لیکن حضرت علی ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ تھوڑے مال میں وصیت کو ضروری نہیں خیال کرتے بلکہ وصیت کیلئے کثیر مال کی موجودگی ضروری سمجھتے ہیں پھر کثیر مقدار میں بھی لوگوں کے مختلف اقوال ہیں قتادہ نے کہا ہزار دینا ہونے چاہئیں کسی نے کہا سات سو دینار کسی نے کہا پانچ سو دینار کو کثیر مال کہاجاتا ہے۔ ( واللہ اعلم)
انصاف کا مطلب یہ ہے کہ وصیت ثلث سے زائد نہ ہو اور یہ نہ کیا جائے کہ غریبوں کو چھوڑ دیاجائے اور اہل ثروت کیلئے وصیت کی جائے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کفر کی رسم میں مردے کا وارث اولاد کے سوا کوئی نہ تھا۔ اولاد میں بھی فقط بیٹا سو اول اللہ صاحب نے اولاد ہی وارث رکھی پر مردے کو ضرور ہوا کہ ماں باپ کو اور ناتے والوں کو موافق حاجت اپنے روبرو دلوا دے ۔ (موضح القرآن)
اب آگے وصیت سننے کے بعد وصیت کو تبدیل کرنے کی مذمت فرماتے ہیں۔ ( تسہیل )
Ayah 2:181ف 3 اور جن لوگوں نے اس وصیت کوسنا خواہ وہ وصی ہوں یا گواہ ہوں یا اور دوسرے لوگ ہوں پھر سننے کے بعد اس وصیت کے مضمون کو تبدیل کردیا اور اس تبدیل و تغیر کی وجہ سے موصی لہم میں سے جس کو نقصان پہنچے گا تو سوائے اس کے نہیں کہ اس نقصان اور حق تلفی کا گناہ ان ہی لوگوں پر ہوگا جو اس تبدیل و تغیر کے ذمہ دار ہوں گے مرنے والے پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔
یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ سب سنتا اور سب کو جانتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ کسی مرنے والے کی وصیت کو سننے کے بعد اس میں کچھ کاٹ چھانٹ کرنا اور اس کے مضمون کو بدل دینا اور حاکم کے سامنے جھوٹا بیان دے کر غلط فیصلہ کرالینا اور جن کے لئے مرنے والے نے وصیت کی تھی ان میں سے کسی کو نقصان پہنچا دینا ان سب امور کا گناہ ان لوگوں پر ہوگا جو اس قسم کی حرکات کے مرتکب ہونگے مرنے والے سے مواخذہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ گواہی دینے والوں کی گواہی کو سنتا ہے اور فیصلہ کرنیوالوں کو بھی جانتا ہے کہ انہوں نے قصداً غلط فیصلہ کیا ہے یا شہادتوں کی بنا پر فیصلہ کرنے میں معذور ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مردہ کہہ مرا تھا پر دینے والوں نے نہ دیا تو مردے پر گناہ نہیں وہی ہیں گناہ گار (موضح القرآن)
اب آگے ایک اور شکل کو صاف فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر مرنے والے ہی سے کوئی کوتاہی ہوگئی اور اس کے مرنے کے بعد موصی لہم میں جھگڑا ہوا اور کسی شخص نے فریقین کو رضا مند کرکے باہم فیصلہ کرا دیا اور وصیت میں کچھ ایسا رد و بدل کردیا جس سے فریقین مطمئن ہوگئے تو ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں گو ظاہر میں وصیت کا مضمون اس شکل میں بھی تبدیل ہوگیا لیکن تبدیلی قابل مواخذہ نہیں۔ ( تسہیل )