Ayah 2:191ف 3 اور اگر یہ نوبت آجائے کہ وہ نقص عہد کرکے تم سے لڑیں اور تم ان پر جہاں قابو پائو ان کو قتل کرو اور ان کو وہاں سے نکال دو جہاں سے انہوں نے تم کو پریشان اور تنگ کرکے نکالا ہے اور جو فتنہ شرک و کفرکا وہ برپا کرتے رہے ہیں اور مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکتے رہے ہیں وہ فتنہ اور شرارت قتل سے کہیں زیادہ سخت ہے۔
ہاں اتنا خیال رہے کہ مسجد حرام کے آس پاس جہاں تک حرم کی حد ہے وہاں ان کو اس وقت تک قتل نہ کرنا جب تک وہ تم کو وہاں قتل کرنے کا ارادہ نہ کریں پھر اگر وہ وہاں بھی تم سے لڑنے پر آمادہ ہوجائیں اور لڑنے کا سامان کرنے لگیں تو پھر تم ان کو بےکھٹکے قتل کرو ایسے کافروں کی جو حرم کا احترام نہ کریں اور حرم میں لڑنے کو تیار ہوئیں ایسی ہی سزا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب ان سے عہد شکنی کا وقوع ہوجائے اور تم کو لڑنا ہی پڑے۔ تو پھر کمی نہ کرنا جہاں کہیں موقع ملے ان کو ق تل کرنا اور نکالنے کا موقع ملے تو ان کو جبراً وہاں سے نکال باہر کرنا جہاں سے انہوں نے تم کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا تھا اور تم کو تنگ کرکے نکالا تھا اور تم اس قتل کی سز اکو سخت نہ سمجھنا کیونکہ جو فتنہ انہوں نے برپا کر رکھا ہے خواہ وہ شرک و کفر ہو خواہ تم کو مکہ سے نکالنا ہو اور مسلمانوں کو پریشان کرنا ہو۔
بہر حال ان کا یہ فتنہ ان کے قتل کرنے سے بدرجہا زیادہ سخت ہے اور ان کی عہد شکنی اور ان کا کفر اگرچہ اس کا متقضی ہے کہ ان کی کسی جگہ رعایت نہ کی جائے لیکن پھر بھی مسلمانو ! حرم کا احترام قائم رکھنا اور تم حدود حرم میں قتل کرنے کی پہل نہ کرنا لیکن جب دیکھو کہ وہ حدود حرم میں بھی برسر پیکار نظرآتے ہیں تو پھر تم کو بھی اجازت ہے کہ تم ان کو بےتکلف حرم میں بھی قتل کرو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مکہ جائے اما ن ہے لیکن جب انہوں نے ابتداء کی اور تم پر ظلم کیا اور ایمان لانے پر ستانے لگے کہ یہ مار ڈالنے سے زیادہ ہے۔ اب ان کو امان نہ رہی جہاں پائو۔ مارو۔
آخر جب مکہ فتح ہوا تو حضرت نے بھی حکم دیا کہ جو ہتھیار سامنے کرے اسی کو مارو باقی سب کو امن دیا۔ (موضح القرآن) ( تسہیل )
Ayah 2:192ف 4 پھر اگر یہ کفار اس پر بھی اپنی شرارت اور فتنے سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔ (تیسیر)
یعنی کفر سے باز آجائیں اور اسلام لے آئیں کیونکہ کفر ہی تمام حرکات شنیعہ اور غیر قانونی افعال کی جڑ ہے اور تمام فتنوں کی یہی ایک فتنہ اصلی اور حقیقی بنیاد ہے جب اس سے باز آجائیں اور کفر سے تائب ہوکر مسلمان ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے پہلے جرائم کو بخش دے گا اور اپنی مہربانی سے ان کو اعمال خیر کی توفیق عطا فرمائے گا اور اپنی اور نعمتوں سے بھی ان کو بہر ہ مند کرے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس سب پر اگر اب بھی مسلمان ہوں تو توبہ قبول ہے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کرچکے وہ کرچکے۔ اب بھی ان کے لئے گنجائش ہے اگر اپنی کافرانہ روش کو ترک کرکے اسلام کے آگے سرخم کردیں تو خدا تعالیٰ ان کے ساتھ مغفرت اور رحمت کا برتائو کرے گا۔ ( تسہیل )
Ayah 2:193ف 1 اور ان کفار عرب سے اس وقت تک جنگ جاری رکھو جب تک کہ فتنہ کا بالکل سد باب ہوجائے اور دین خالص اللہ تعالیٰ ہی کا ہوجائے پھر اگر یہ کفار عرب اپنے کفر سے باز آجائیں اور مشرکانہ روش سے توبہ کرکے مسلمان ہوجائیں تو یہ بات یاد رکھو کہ دست درازی اور سزا کی سختی کی اجازت سوائے ظالموں کے اور کسی پر نہیں ہے۔ (تیسیر)
یعنی ہرچند کہ عام کفار کے ساتھ جنگکا قاعدہ یہ ہے کہ خواہ وہ جارحانہ ہو یا مدافعانہ کہ ان سے کوئی معاہدہ ہوجائے یا وہ جزیہ یعنی حفاظتی ٹیکس اداکرنا قبول کرلیں تو جنگ ختم کردی جائے لیکن عرب کے بت پرستوں کے ساتھ جنگ کا یہ قاعدہ نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ وہ ہیں جن میں پیغمبر اسلام پیدا ہوئے ان کے سامنے قرآن نازل ہوا ان کے سامنے نبی کریم ﷺ کی ساری زندگی گزری اور باوجود ان تمام باتوں کو دیکھنے کے انہوں نے جو سلوک اسلام اور پیغمبراسلام اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا وہ نہایت معاندانہ تھا اس لئے ان کو جزیرہ العرب سے یا تو بالکل باہر کر دیاجائے اور نکال دیاجائے یا ان کو قتل کردیاجائے یا یہ لوگ شرک چھوڑ کر اسلام کے حلقہ بگوش ہوجائیں۔
اس لئے فرمایا کہ ان سے جنگ برابر جاری رکھو یہاں تک کہ ان کا فتنہ باقی نہ رہے اور بت برستی بالکل ختم ہوجائے اور مرکز اسلام ان سے پاک ہوجائے اور عرب میں کوئی مشرک باقی نہ رہے اور دین خالص اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہوجائے دین کے معنی جز اور طاعت کے ہیں اگرچہ شریعت کے معنی بھی استعمال ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ اس مقدس سرزمین پر اللہ تعالیٰ ہی کا قانون جاری ہو اسی کی فرمانبرداری ہو اور اسی کا بھیجا ہوا دین رائج ہو اور اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو ہاں اگر یہ لوگ توبہ کرکے اسلام قبول کرلیں اور کفرو شرک سے باز آجائیں تو قانون میں سوائے ظالموں کے کسی دوسرے پر تعدی دست درازی زیادتی اور سزا میں سختی کی اجازت نہیں ہے۔
ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اسکی وضع کے خلاف استعمال کرنا اور غیر ماوضع لہ میں استعمال کرنا مثلاً کوئی ٹوپی کو جوتی کی جگہ اور جوتی کو ٹوپی کی جگہ استعمال کرے یا کرتے کو پاجامہ کی جگہ اور پاجامہ کو کرتے کی جگہ استعمال کرے تو لغت کے اعتبار سے اس کو ظالم کہا جاسکتا ہے اس معنی کی رعایت سے مشرک کو ظالم کہا جاتا ہے کہ وہ اس عبادت کو جو اللہ تعالیٰ کے لئے مقرر کر رکھی تھی ۔ بتوں کے لئے اور غیر اللہ کیلئے استعمال کرتا ہے لہٰذا سب سے بڑے ظالم وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں لیکن جب یہ توبہ کرکے مسلمان ہوجائیں تو ظالم نہ رہیں گے اور سزا کی سختی ہے صرف ظالموں کے لئے لہٰذا ان پر کسی سختی کی اجازت نہ ہوگی کیونکہ اب یہ ظالم اور ناانصاف نہیں رہے۔
عدد ان کے معنی تو دراصل زیادتی اور تجاوز کے ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ کفار کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اور جو سزا ان کو ان کے کردار کے بدلے میں دی جاتی ہے وہ ظلم اور عددان نہیں ہے بلکہ وہ حق اور انصاف ہے کیونکہ وہ تو بغاوت اور شرارت کی سزا ہے لیکن قرآن نے مماثلت اور مشارکت کی وجہ سے ظلم کی جزاء کو عددان فرما دیا۔
جیسا کہ سورة شوریٰ میں ارشاد ہے وجزائو سئیۃ سئیۃ مثلہ حالانکہ ہم قصا ص کی بحث میں بتا چکے ہیں کہ یہ تعزیر میں مثلیت کا نفاذ ناممکن ہے مثلاً گالی کی سزا گالی نہیں ہوسکتی۔ اور زنا بالجبر کی سزا زنا بالجبر نہیں ہوسکتا۔ وقس علی ہذا اس لئے یہ صرف لفظی مماثلت ہے ورنہ ہر جرم کی سزا میں حقیقی مماثلت نہیں ہے اسی طرح یہاں بھی عدوان کے لفظ کا استعمال فرمایا ہے۔
بہرحال یہاں تک مسلمانوں کے ان شکوک کا جواب ہوگیا جو عمرے کی قصا کے وقت ان کو پیش آرہے تھے اور کفار عرب کیلئے ایک مستقل قانون بھی بتادیا اب صرف ایک شبہ باقی رہ گیا وہ یہ ہے کہ عمرے کی قصا ذی قعدہ میں ادا کرنے جائیں گے اور یہ مہینہ اشہر حرام میں سے ہے اس میں جنگ کرنا ممنوع ہے اور کفار لڑنے پر تل گئے تو ہم کیا کریں گے اس کا جواب آگے کی آیت میں آتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لڑائی کافروں سے اسی واسطے ہے کہ ظلم موقوف ہو اور دین سے گمراہ نہ کرسکیں اور حکم اللہ کا جاری رہے اگر تابع ہوکر رہیں تو لڑائی کی حاجت نہیں اور ایمان تو دل پر موقوف ہے زور سے مسلمان کرنا کیا حاصل۔ (موضح القرآن)
سبحان اللہ شاہ صاحب (رح) نے چند سطروں میں کیا خوب بات فرمائی اور جہا د کا فلسفہ کس خوبی سے بیان فرمایا چند لفظوں میں وہ بات سمجھا دی جو آج کل لوگوں کی سمجھ میں بڑی مشکل سے آتی ہے یعنی جہاد کا مقصد کسی شخص کے ضمیر کی آزادی کو سلب کرنا نہیں اور نہ جہاد اس غرض سے کیا جاتا ہے کہ کسی کو زبردستی مسلمان بنایاجائے بلکہ جہاد تو محض اس لئے کیا جاتا ہے کہ شرارت پسندوں کی شرارت اور فساد سے لوگوں کی آزادی کو محفوظ رکھاجائے اور اسلامی پروگرام کی ترویح میں جو لوگ رکاوٹ پیدا کریں ان کو سزا دی جائے اور ان سے لڑ کر ان کو شکست دی جائے اور ان کو محکوم کیا جائے اور خدا تعالیٰ کے دین پر عمل کرنے میں کسی شخص کو رخنہ اندازی اور مفاد مت کرنے کا موقع نہ دیاجائے اس سے زیاہ جہاد کا کوئی اور مقصد نہیں ہے اسلامی قانون جنگ پر احقر کا ایک مقالہ بھی ہے جو ریڈیو کی تقریروں میں شائع ہوچکا ہے اور سید ابو الاعلی مودودی کی ایک مستقل کتاب بھی ہے اور اس میں سید صاحب نے اس مسئلہ پر سیرحاصل بحث کی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ خو بحث کی ہے اور وہ کتاب ہر تعلیم یافتہ آدمی کو مطالبہ میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
سید ابو الا علی مودودی کی کتاب کا نام بھی غالباً اسلام کا قانون جنگ ہی ہے (نسہیل)
Ayah 2:194ف 2 حرمت کا مہینہ بدلہ اور عوض ہے حرمت کے مہینے کا اور یہ حرمتیں تو بدلے اور عوض معلومہ کی چیزیں ہیں لہٰذا جو شخص کسی چیز کی حرمت کا لحاظ نہ کرے اور تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اسی نے تم پر زیادتی کی ہے یعنی اس کو اس زیادتی کی سزا دو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ کوئی معاملہ حد سے تجاوز نہ ہونے پائے اور یہ بات اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ یعنی اس کی نصرت آمیز ہمدردیاں اور اس کی مہربانیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو خلاف آئین کام کرنے سے ڈرتے اور بچتے ہیں (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اگر کفار مکہ حرمت والے مہینہ کا احترام نہ کریں اور تم سے ماہ ذیقعدہ میں تفض عہد کرکے لڑنے پر آمادہ ہوجائیں تو تم بھی ماہ ذیقعدہ کی حرمت کے پابند نہیں ہو کیونکہ یہ حرمتیں خواہ اشہر حرام کی ہوں یا احرام کی ہوں یہ سب اولے بدلے اور مساویانہ سلوک کی چیزیں ہیں کوئی ان کا لحاظ کرے تو تم بھی کرو اور کافر نہ کریں تو تم بھی نہ کرو بلکہ جو زیاتی کرے اور ان چیزوں کی حرمت کا خیال نہ کرے تو تم بھی خیال نہ کرو جیسی وہ تم پر زیادتی کریں تم بھی ویسی زیادتی ان پر کرو۔
زیادتی کا مطلب وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ زیادتی کی سزا زیادتی نہیں ہے بلکہ محض مشاکلت کی وجہ سے اعتدا کا لفظ استعما ل کیا ہے ورنہ زیادتی کی سزا تو عین انصاف ہے اور مثل سے بھی وہی مراد ہے جو ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں کیونکہ سزا میں حقیقی مماثلت بعض صورتوں میں ناممکن ہے بعض دفعہ مقابلہ کی وجہ سے بدلے اور سزا پر وہی لفظ بول دیا کرتے ہیں مگر مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس طرح ممکن ہو جرم کی سزا مجرم کو دو ہاں اتنا خیال رکھو کہ کسی حالت میں حد سے تجاوز نہ کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی اگر کوئی کافر ماہ حرام کو مانے کہ اس میں تم سے نہ لڑے تو تم بھی اس سے نہ لڑو اور مکہ لوگ اسی مہینے میں ظلم کرتے رہے مسلمان پر پھر مسلمانان ان سے کیوں قصور کریں بلکہ سفر حدیبیہ ماہ ذیقعدہ میں تھا۔ عمرے کو حضرت محمد ﷺ گئے اور کافر لڑنے کو موجود ہوئے یہ آیت اس واسطے اتری کہ مسلمان خطرہ کرتے تھے کہ اگر ماہ حرام میں لگیں کافر لڑنے تو ہم کیا کریں۔
(موضح القرآن)
علماء امت کا اس پر اجماع ہے کہ اب اشہر حرم میں قتل و قتال جائز ہے اور جن آیتوں سے ممانعت کا حکم معلوم ہوتا ہے وہ منسوخ ہے مگر اب بھی افضل اور بہتر یہی ہے کہ اشہر حرام میں قتال کی خود ابتدا نہ کریں اگر کافر ان مہینوں میں لڑیں تو مسلمان بھی ان سے لڑیں۔
دوسری بات یہ یاد رکھنی چاہئے کہ حرم بلکہ تمام جزیرئہ عرب میں کافروں کو وطن بنانے کی اجازت نہیں ہے جیسا کہ اوپر اس کی تصریح کردی گئی ہے البتہ حرم میں قتال کی ممانعت ہے اگر کوئی کافر حرم میں گھس کر بس جائے تو اس کو وہاں سے باہر نکالنے کی کوشش کی جائے گی اور اس کو تنگ کیا جائے گا تاکہ وہ گھبرا کر حدود حرم سے باہر آجائے اور باہر آنے کے بعد اگر وہ جزیرئہ عرب چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تو اس کو قتل کردیاجائے لیکن اگر کافر حرم سے نہ نکلیں اور جنگ پر آمادہ ہوجائیں تو مجبوراً ان کو حرم میں بھی قتل کرنا جائز ہوگا اور اگر کوئی مسلمان مجرم کسی کو ق تل کرکے حرم میں جاگھ سے تو اس کو بھی تنگ کرکے باہر نکالاجائے گا اور باہر اس کو سزا دی جائے گی اور حرم سے باہر نکال کر اس پر قصاص جاری ہوگا۔
آخر میں ہم پھر ایک دفعہ اس امر پر توجہ دلاتے ہیں کہ بعض تراجم یا بعض تفاسیر میں جو آپ اس موقع پر باہم کچھ فرحی محسوس کرتے ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بعض حضرات ا ن آیتوں کا مفہوم عام رکھتے ہیں اور بعض حضرات آن آیات کا مضمون عمرے کی قضا کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔
جیسا کہ احقر نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے اس لئے یہ فرق معلوم ہوتا ہے آگے جہاد کی ایک مخصوص حکمت اور مصلحت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:195ف 3 اور تم اللہ کی راہ میں مال بھی خرچ کیا کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی میں نہ ڈالو اور خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ اچھے کام کیا کرو اور یقین مانو ! اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو خلوص و نیک نیتی کے ساتھ اچھے کام کیا کرتے ہیں (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے اور اس کے دین کو بلند کرنے کی غرض سے تم جس طرح اپنی جانیں دیتے ہو اسی طرح جہاد کے لئے مال بھی دیا کرو۔ اور دل کھول کر مال خرچ کیا کرو۔ اگر مجاہدین کی مالی ضروریات کو پورا نہ کرو گے اور سامان جنگ فراہم نہ کرکے خود اپنے ہاتھوں اپنے کو تباہ کیا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی بزدلی اور اپنے بخل کے باعث جہا د کو چھوڑ کے نہ بیٹھ جانا اگر ایسا کرو گے تو یہ مسلمانوں کی موت کے مترادف ہوگا اور اس کا یہ مطلب ہوگا کہ تم نے خود اپنے ہاتھوں اپنے کو تباہ کیا کیونکہ جب تم مقابلہ نہ کرو گے اور بخیل وبزدل ہوجائو گے تو لا محالہ تمہارے مخالف تم پر چھا جائیں گے اور تم دوسروں کے محکوم اور غلام ہوجائو گے اور غلامانہ زندگی اور موت دونوں ایک ہی چیزیں ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی چھوڑ کر جہاد نہ بیٹھو اس میں تمہارا ہلاک ہے۔ (موضح القرآن)
ابو عمران فرماتے ہیں کہ قسطنطنیہ کی جنگ میں ایک مہاجر مسلمان کافروں کی صفوں کو چیرتا ہوا اندر گھس گیا میں نے ابو ایوب انصاری سے کہا دیکھو اس شخص نے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دیا یہ سن کر حضرت ابو ایوب انصاری نے فرمایا۔ اس آیت کو میں خوب جانتا ہوں۔ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ جب اسلام پھیل گیا اور مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہوگیا تو ہم سب جمع ہوئے اور یہ رائے کرنے لگے کہ اب جہاد بند کرو اور اپنی کھیتی باڑی کا کام شروع کرو اور گھر بار کے دھندے میں لگو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ہلاکت یہ نہیں جس کو تم ہلاکت سمجھ رہے ہو بلکہ ہلاکت یہ ہے کہ مسلمان جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہیں اور اپنے ا ہل اور اپنے مال میں مشغول ہوجائیں۔
ابن سنن عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے اس کو نقل کیا ہے آج کل مسلمان ترک جہاد کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور بعض بزدل مسلمانوں کا تو یہ حال ہے کہ معمولی سے خطرے کو بھی برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے اور اس کو تہلکہ سے تعبیر کردیتے ہیں حالانکہ قرآن کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے یہ بزدل لوگ قرآن سے بالکل اس کے منشاء کے خلاف استدلال کرتے ہیں ۔ قرآن خطرے سے بچنے کو ہلاکت کہتا ہے یہ خطرے میں پڑنے کو ہلاکت سمجھتے ہیں۔ نعود بااللہ من ذالک۔
کسی قوم کو اپنی آزادی اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے جنگ نہ کرنا تباہی اور ہلاکت ہے نہ یہ کہ جنگ کرنا جہاد کرتے رہنا ہلاکت اور تباہی ہے۔ رہا عدم استطاعت اور شرائط کا فقدان وہ ایک دوسری چیز ہے جس قدر استطاعت ہو اس سے تو دریغ نہ کرنا چاہئے۔ (تسہیل)
Ayah 2:196ف 1 اور جب تم حج اور اسی طرح عمرے کی نیت کرلو تو حج اور عمرے کو محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لئے پوری طرح ادا کیا کرو پھر اگر تم سو اتفاق سے کسی دشمن یا کسی مرض یا خرچ کی کمی کے باعث روک دئیے جائو اور حج یا عمرہ بجا نہ لا سکو تو تم کو جو جانور قربانی کا میسر ہو اس کے قربانی کرکے احرام ختم کردو اور حلال ہوجائو لیکن یہ خیال رکھو کہ جب تک تمہاری قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے پر نہ پہونچ جائے یعنی کوئی شخص اس کو حرام میں لیجا کر ذبح نہ کردے اس وقت تک اپنے سروں کو نہ منڈوائو اور احرام سے نہ نکلو مگر ہاں کوئی ایسا بیمار ہو کہ جس میں سر منڈانا ضروری ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو مثلاً دادہو یا زخم ہو یا سر میں جوئیں پڑگئی ہوں تو لا چاری کو سر منڈا لے مگر فدیہ دے دے اور فدیہ یہ تین صورتیں ہیں کہ یا تو تین روزے رکھے جائیں یا چھ مساکین کو فی مسکین صدقہ ٔ فطر کے برابر گیہوں دیدے اور یا ایک قربانی کردے پھر جب تم مطمئن ہو یعنی کوئی رکاوٹ پیش ہی نہ آئے یا دشمن اور مرض وغیرہ کی رکاوٹ دور ہوجائے تو ہر شخص عمرے کو حج کے ساتھ ملا کر فائدہ اٹھائے اور دونوں کو ایک ہی سفر میں ادا کرے تو اس پر ایک قربانی جو اس کو میسر آسکے ۔ ضروری اور لازمی ہے لیکن کسی متمتع کو اگر قربانی میسر نہ ہو تو اس پر تین روزے تو ایام حج میں ہیں اور سات روزے اس وقت ہیں جب وہ بالکل حج سے فارغ ہوکر واپس ہو یہ تین اور سات پورے دس دن کے دس روزے ہوئے یہ سہولت و آسانی کہ ایک ہی سفر میں عمرے کو حج سے ملا کر فائدہ حاصل کرنا چاہو تو کرلو صرف اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل و عیال مسجد حرام کے آس پاس نہ رہتے ہوں یعنی میقات کے اندر کار رہنے والا نہ ہو بلکہ میقات سے باہر کا باشندہ ہو جس کو اصطلاح میں آفاقی کہتے ہیں اور دیکھو تمام احکام کی بجاآوری میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یہ بات اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ (تیسیر)
ہم نے تیسیر میں ضرورت کے لائق ترجمہ کا کافی خلاصہ کردیا ہے اب چند ضروری باتیں عرض کرنا چاہتے ہیں۔
(1) حج توار کان مخصوصہ کا نام ہے جو سرمایہ داروں پر فرض ہوتا ہے اور عمر میں صرف ایک دفعہ فرض ہوتا ہے اور اسکے ادا کرنے اور احرام باندھنے کے دن بھی مخصوص ہوتے ہیں البتہ عمرے کیلئے کوئی دن خاص نہیں جب چاہے عمرہ کرسکتا ہے البتہ رمضان میں عمرہ کرنے کی فضیلت احادیث میں آئی ہے ورنہ تمام سال میں جب چاہے عمرہ کرسکتا ہے۔
عمرہ اس کا نام ہے کہ حرم سے باہر نکل کر عمرہ کا احرام باندھے خانہ کعبہ کا طواف کرے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرے اور سر منڈوا کر احرام کھول دے عورت ہو تو سر نہ منڈوائے بلکہ ایک انگل سر کے بال کترا کر احرام سے نکل جائے۔
ہر چند کہ حج مالداروں پر فرض ہے اور عمرہ نہ فرض ہے نہ واجب ہے بلکہ سنت موکدہ ہے لیکن جو شخص خواہ اس پر حج فرض نہ ہو حج کی نیت سے اشہر حج میں احرام باندھ لے اور اسی طرح کوئی عمرے کی نیت سے عمرے کا احرام باندھ لے تو پھر حج اور عمرے کا پورا کرنا ضروری اور واجب ہوجاتا ہے جیسے نفل نماز کی نیت باندھنے کے بعد اور نفلی روزے کی نیت کرلینے کے بعد نماز اور روزے کا پورا کرنا ضروری اور لازمی ہوجاتا ہے۔
(2) اب فرض کرو کسی نے حج یا عمرے کا احرام باندھا اور وہ کسی وجہ سے روک دیا گیا مثلاً بد امنی ہوگئی یا کوئی دشمن مانع ہوگیا جیسے حدیبیہ میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو کفار مکہ نے روک دیا تھا یا کوئی بیماری پیش آگئی یا کسی کے پاس روپیہ ختم ہوگیا تو ایسی حالت میں احرام ختم کردے مگر اس طرح نہیں کہ رکتے ہی احرام کھول کر بیٹھ جائے بلکہ ایک قربانی کسی کے ہاتھ جو اپنا معتبر ہو حرم میں بھیج دے اور اس کو تاریخ بتادے کہ فلاں تاریخ حرم میں پہونچ کر اس قربانی کو ذبح کردینا اور جب وہ تاریخ آئے تو اس امر کا ظن غالب ہو کہ اس معتبر شخص نے میری قربانی ذبح کردی ہوگی تو اس وقت سر منڈوا کر حلا ل ہوجائے اور یہ جو قرآن کریم میں ہدی کا لفظ آتا ہے اس سے بکری، دُنبہ، بھیڑ، گائے اور اونٹ مراد ہوتے ہیں اب ان میں سے جو میسر ہو کم درجہ ایک بھیڑیا بکرا یا دنبہ ہے عرض جو توفیق ہو اس کو حرم میں بھیج کر ذبح کرا دے پھر حلال ہو اس کو دم احصار کہتے ہیں۔
(3) اسی حلال ہونے اور سر منڈوانے کے سلسلہ میں ایک اور مسئلہ بھی حضرت حق تعالیٰ نے بتادیا جو احصار اور غیر احصار دونوں حالتوں میں جاری ہوگا۔
مثلاً ایک آدمی کو ایسی بیماری پیش آگئی جس میں سر منڈوانا ضروری ہے یا سر میں کوئی زخم ہی ہوگیا یا سر میں درد کا دورہ پڑگیا یا بکثرت جوئیں پڑگئیں۔
غرض کوئی ایسی صورت پیش آگئی جس میں سر منڈوانا ضروری ہے تو اس شخص کو سر منڈوا لینا درست ہے خواہ وہ محصر ہو یا محصر نہ ہو مگر اس سر منڈوانے کے بدلہ فدیہ یعنی شرعی بدلہ دینا ہوگا اور اس فدیہ کی تین شکلیں ہیں تین روزے رکھ لے یا چھ مساکین کو کھانا دے دے اور کھانے کی وہی صورت جو مسکین کے لئے متعین ہے یعنی پونے دو سیر گیہوں یا ساڑھے تین سیر جو جو صدقہ فطر کا قاعدہ ہے ایک مسکین کو پونے دو سیر سے کم نہ دے اور نہ زیادہ دے اگر کسی نے ایک مسکین کو دو کا حصہ دے دیا تو ایک ہی شمار ہوگا اور چاہے تو ایک قربانی کردے اس کو دم جنایت کہتے ہیں اس کے لئے حرم کی شرط نہیں جہاں ایسا موقعہ پیش آئے وہیں ذبح کردے۔
خلاصہ یہ کہ تینوں باتوں میں سے جو بات چاہے وہ کردے اگر محصر ہے تو اس پر دم احصار بھی ہوگا اور دم جنایت بھی بشرطیکہ وہ بجائے روزوں کے اور صدقہ کے قربانی کرنا چاہے اور اگر وہ بیمار محصر نہیں ہے تو پھر اس کا فدیہ وہی تین چیزوں میں سے ایک چیز ہے اگر یہ قربانی کو اختیار کردے گا تو اس پر صرف دم جنایت ہوگا۔
(4) اب آگے کی بات سمجھ لینے کے لئے پہلے حج کی صورتیں سمجھ لیجئے۔ میقات سے گذرتے وقت یا تو فقط حج کا احرام باندھا جائے اس کو افراد کہتے ہیں یا حج اور عمرے دونوں کی نیت کرکے احرام باندھا جائے اس کو قرآن کہتے ہیں یا فقط عمرے کا باندھا جائے اور مکہ پہنچ کر عمرہ کرکے حلال ہوجائے پھر ساتویں تاریخ کو مکہ سے حج کا احرام باندھ لے اس کو تمتع کہتے ہیں یعنی ایک ہی سفر میں حج بھی کرے اور عمرہ بھی۔ اگر ایک سفر کے ساتھ دونوں ایک ہی احرام سے ادا کرے تو قران ہے اور اگر عمرے کے بعد احرام کھول کر پھر منیٰ میں جاتے وقت احرام باندھے تو تمتع ہے۔
بہرحال اس شخص پر جو ایک ہی سفر میں دونوں چیزیں ادا کرنا چاہتا ہے خواہ احرام ایک ہو یا نہ ہو اس پر ایک قربانی واجب ہے اونٹ اور گائے کے ساتویں حصے میں شریک ہوجائے یا مستقل ایک بکری بھیڑ وغیرہ کردے اس کو حنیفہ کے نزدیک دم شکر کہتے ہیں اور اس میں سے حاجی اگر کچھ گوشت کھاناچا ہے تو کھا بھی سکتا ہے۔
(5) اگر اس قسم کا تمتع کرنے والا قربانی نہ کرسکے تو وہ دس روزے رکھے ان روزوں کی صورت یہ ہو کہ تین روزے تو ایام حج میں رکھے ان کی آخری تاریخ نویں ذی الحجہ ہو یعنی ساتویں، آٹھویں نویں کا روزہ رکھے پھر ایام تشریق شروع ہوجائیں گے ان میں روزہ رکھنا ممنوع ہے تو اس لئے بالکل حج سے فارغ ہونے کے بعد جب لوٹو تب رکھ لو۔ اگر مکہ معظمہ میں قیام ہو تو مکہ میں رکھ لو۔ اور اگر حج کرتے ہی رخصت ہوجائو تو وطن میں آکر رکھ لو یہ تین اور سات پورے دس 01 ہوگئے۔
(6) میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے مکہ کے جانے والے زائر بغیر احرام باندھے نہیں گذر سکتے۔ مختلف جہت سے آنے والوں کے لئے الگ الگ میقات ہیں جیسے مدینہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ اور عراق والوں کے لئے ذات عرق اور شام سے آنے والوں کے لئے حجفہ اور نجد سے آنے والوں کے لئے قرن اور یمن کی طرف سے اور اسی طرح ہندوستان سے آنے والوں کے لئے یلملم پس جو لوگ ان میقات سے باہر کے باشندے ہیں ان کو تو یہ اجازت ہے کہ وہ اگر چاہیں تو ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج کرلیں خواہ ایک احرام سے جیسے قران کرنے والا یا دو احرام سے جیسے متمتع باقی رہے میقات کے اندر رہنے والے لوگ وہ قران یا تمتع نہیں کرسکتے کیونکہ مکہ ان سے بہرحال قریب ہے وہ جب چاہیں آکر عمرہ کرسکتے ہیں بخلاف دوسرے لوگوں کے کہ جو میقات سے باہر کے باشندے ہیں ان کو دشواری ہوگی۔ (واللہ اعلم)
اب گویا حج کی تین صورتیں ہوگئیں۔ افراد۔ قران۔ تمتمع
امام شافعی (رح) ک نزدیک افراد افضل ہے۔
امام اعظم (رح) کے نزدیک قران افضل ہے اور امام مالک (رح) کے نزدیک تمتع افضل ہے۔
تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے یہاں تو صرف اتنی بات ہے کہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرے دونوں کا ثواب حاصل کرنے والے اور دونوں کو ملا کرف ائدہ اٹھانے والے پر یوم نحر میں ایک قربانی واجب ہے اور قربانی میسر نہ ہو تو دس 01 روزے تین حج کے دنوں میں اور سات واپسی پر۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں سے حکم حج کئے ہیں حج کے طریق یہ کہ احرام باندھے پھر عرفہ کے دن عرفات میں حاضر ہو پھر وہاں سے چلے تورات رہے۔ مشعر الحرام میں پھر صبح عید منا میں پہنچ کر کنکر پھینکے پھر مکہ میں جاکر طواف رخصت کرے اور چلا جائے اور عمرے کے طریق یہ کہ احرام باندھے جن دونوں چاہے اور طواف کعبہ کرے اور صفا اور مرہ کے بیچ دوڑے پھر حجامت کرا کر احرام اتار دے اور حج اور عمرے میں قربانی ضرور نہیں مگر کسی سبب سے یہاں اللہ تعالیٰ نے تین سبب فرمائے۔ ایک یہ کہ احرام کرکے روکا گیا۔ مرض سے یا دشمن سے تو کسی کے ہاتھ قربانی بھیج دیوے۔ جب مکہ میں قربانی ذبح ہوتب یہ احرام سے نکلے پہلے حجاجت نہ کرے دوسرا یہ کہ آزار سے سر کے بالوں سے عاجز ہوکر احرام میں حجامت کرے تو اس کا بدلہ ہے یا قربانی پہنچانی یا تین روزے یا چھ محتاجوں کو کھلا دے تیسرا یہ کہ حج اور عمرہ جدا جدا نہ کرے ایک ہی سفر میں دونوں کو ادا کرے تو قربانی ضرور ہے پھر قربانی پیدا نہ ہو تو دس روزے تین حج کے دنوں میں اور سات پیچھے اور قربانی کم سے کم ایک بکری ایک شخص کو اور ایک گائے یا اونٹ سات شخص کو اور حج اور عمرہ سے جو قربانی آئے سو مکہ کے ساکنوں پر نہیں۔ (موضح القرآن)
سبحان اللہ ! حضرت شاہ صاحب (رح) نے پوری آیت کا کس قدر جامع خلاصہ نکالا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے یہ جو فرمایا ہے کہ مکہ کے ساکنوں پر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانی تو دونوں کو ملانے پر ہے مکہ والوں پر نہ تمتع ہے نہ قرآن پھر ان قربانی کیسی ؟ اب آگے پھر حج کا بیان ہے (تسہیل)
Ayah 2:197ف 2 ارکان حج بجا لانے کا زمانہ چند مہینے ہیں پھر جس شخص نے ان مہینوں میں حج کی نیت کے ساتھ احرام باندھ کر اور تلبیہ پڑھ کر اپنے اوپر حج کو لازم اور واجب کرلیا تو اس کو ایام حج میں تو بےحجابی ہوں یا اب احرام باندھنے کی وجہ سے ہوگئے ہوں اور نہ باہمی لڑنا جھگڑنا درست ہے اور تم جو نیک کام کرو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہوتا ہے اور دیکھو کھانے پینے کا سامان اور خرچ وغیرہ ساتھ لیکر جایا کرو کیونکہ سب سے بہتر زاد راہ تقویٰ ہے یعنی سفر حج میں زاد راہ کے ہمراہ لینے کا بہترین نفع اور فائدہ گدا گری اور لوٹ مار سے بچنا اور پرہیز کرنا ہے اور اے ارباب عقل و خرد میری گرفت اور میر سے عذاب سے ڈرتے رہو اور میرے احکام کی خلاف ورزی سے بچتے رہو۔ (تیسیر)
اشہر حج سے شوال ذیقعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن مراد ہیں دو مہینے اور دس 01 دن پر جمع کا لفظ بولا گیا ہے جیسا کہ کبھی دو پر بھی جمع کا اطلاق کردیاجاتا ہے یا دس دن کو پورے مہینے کے حکم میں لگا یا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دسویں تاریخ کی صبح صادق تک بھی احرام کے ساتھ کسی کو وقوف عرفات میسر ہوگیا تو اس کا حج ہوجائے گا ان ہی مہینوں میں حج کا احرام باندھنا درست ہوگا اگر شوال سے پہلے کوئی حج کا احرام باندھ لے گا تو مکروہ ہوگا وجوب حج کے لئے صرف احرام کا باندھ لینا کافی نہیں ہے حنفیہ کے نزدیک احرام کے ساتھ تلبیہ بھی پڑھنا ضروری ہے۔
رفث کو ہم نے ایک رکوع پہلے بھی عرض کیا تھا یہاں احرام کے بعد اپنی بیوی سے جماع کرنا یا اس کو اس غر ض کے لئے آمادہ کرنا یا اور دوسرے دواعی کا استعمال کرنا مراد ہے اگرچہ کھلم کھلا بےشرمی کی باتیں عام طورپر بھی ناجائز ہیں لیکن احرام باندھنے کے بعد اپنی بیوی سے بھی ایسی باتیں کرنا ناجائز ہیں ۔ فسوق سے مراد ہر قسم کی بےحکمی ہے خواہ وہ پہلے ہی سے ناجائز ہو یا احرام کی وجہ سے جو پابندیاں عائد ہوتی ہیں ان کی خلاف ورزی ہو فسق بہرحال ناجائز ہے جنگ وجدال یوں بھی بری چیز ہے اور احرام باندھنے کے بعد اور بھی بُری ہے وما تفعلوا من خیر کا مطلب یہ ہے کہ تم جو نیک کام کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہوتا ہے چونکہ ہر خادم اور غلام کی یہی خواہش ہوتی ہے اس کی کار گذاری اور خدمت گزاری کا علم اس کے آقا کو حاصل ہوجائے تاکہ وہ خادم انعام و اکرام کا مستحق ہو۔
اس لئے ارشاد فرمایا کہ تم جو اطاعت گزاری اور کار خیر بجالاتے ہو اس سب سے ہم باخبر اور واقف ہوتے ہیں یمن کے بعض لوگ بغیر سامان کے اور بغیر خرچ کے حج کو جایا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ ہم خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں اور متوکل ہیں ہر شخص اپنے مہمان کو کھانا کھلاتا ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ اپنے مہمانوں کو بھوکا رکھے گا اس خیال سے بغیر سفر کا خرچ اور کھانے کا سامان لئے چل کھڑے ہوتے تھے پھر جب راستے میں پریشان ہوتے تو بھیک مانگتے حاجیوں کو تنگ کرتے اور موقعہ ملتا تو لوٹ مار بھی کرلیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا حج کو جائو تو توشہ ہمراہ لے کر جائو کیونکہ بہترین توشہ پرہیز گاری ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سفر سے مراد سفر آخرت ہو۔ دنیا میں ہر شخص مسافر ہے اور سفر کے لئے تقویٰ اور پرہیز گاری کو توشہ بنانے کی طرف اشارہ ہو کیونکہ اس سفر میں ج س کے پاس پرہیز گاری کا توشہ ہوگا وہی مسافر کامیاب ہوگا۔
بہرحال اگر کسی کو صحیح توکل میسر نہ ہو تو اس کو اپنے ہمراہ خرچ اور کھانے پینے کا سامان ضرور رکھناچاہئے اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ گدا گری اور لوٹ مار سے محفوظ رہے گا آیت کے آخر میں اہل عقل و فہم سے اپیل کی ہے کہ مجھ سے ڈرتے رہو چونکہ عقل وفہم اور علم کا مقتضا خوف و حشیت ہے اس لئے اہل عقل کو مخاطب بنایا۔
لُب کے معنی ہیں عقل خالص حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حج کے واسطے احرام باندھنے کا وقت ہے غرہ شوال سے تاشب عید قرباں اس سے پہلے بہتر نہیں اور حج اور عمرہ لازم کرلینا احرام سے ہے احرام یہ کہ نیت کرے شروع کرنے کی اور زبان سے کہے لبیک تمام پھر جب احرام میں داخل ہوا تو پرہیز رکھے مرد عورت کی صحبت سے اور ہر گناہ سے آپس کے جھگڑے سے اور بدن کے بال اتارنے سے اور ناخن تراشنے سے اور خوشبو ملنے سے اور شکار مارنا منع ہوا اور مرد بدن پر سلے کپڑے نہ پہنے اور سر نہ باندھے اور عورت کپڑے پہنے سر ڈھانکے لیکن منہ پر کپڑا نہ ڈالے اور کفر کی غلطی ایک یہ تھی کہ بغیر خرچ کے حج کو جانا ثواب گنتے تھے اور توکل پر مقدور ہوتے ہوئے خرچ نہ لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مقدور ہو تو خرچ لے کر جائو بڑا فائدہ یہ کہ سوال نہ کرو ( موضح القرآن)
خلاصہ یہ ہے (1) کہ شوال ذیقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے یہ حج کے مہینے ہیں ان دنوں میں جو حج کی نیت سے جو احرام باندھ کر تلبیہ پڑھ لے گا اس پر حج کا پورا کرنا ضروری ہوگا اور وہ ارکان حج کے پورا کئے بغیر احرام نہیں کھول سکے گا۔ تلبیہ یہ ہے
لبیک اللم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک
(2) اسی طرح عمرے کی نیت سے جو احرام باندھ کر تلبیہ پڑھ لے وہ جب تک عمرہ پورا نہ کرے اور احرام نہیں کھول سکتا۔ ہاں عمرے کے لئے کوئی مہینہ مخصوص نہیں ہے جب چاہے عمرہ کرسکتا ہے۔
(3) احرام باندھنے کے بعد رفث اور فسوق اور جدال سے اجتناب کرے شکار نہ کرے اور نہ کسی کو اشارہ کرکے شکار بتائے اور نہ اور کسی طرح شکار کو بتائے سلے ہوئے کپڑے کو کرتہ ہو یا پاجامہ نہ پہنے، بال نہ کتروائے، سر نہ ڈھانکے، ناخن نہ کتروائے ، منہ نہ ڈھانکے ایسی جوتی نہ پہنے جس سے ٹخنے ڈھک جائیں۔
(4) جس کو صحیح توکل کی دولت میسر نہ ہو وہ بغیر زاد راہ لئے سفر نہ کرے باقی مسائل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمائیے۔ (تسہیل)
Ayah 2:198ف 1 اور اگر تم سفر حج میں کچھ سامان تجارت بھی لے جانا چاہوتو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے پروردگار کا فضل یعنی تجارت کا نفع حاصل کرو اور معاش کی تلاش کرو پھر جب تم لوگ عرفات میں قیام کرکے واپس لوٹو تو مشعر حرام کے پاس قیام کرکے خدا کا ذکر کرو اور ذکر کرنے اور خدا تعالیٰ کو یاد کرنے میں اپنی رائے کو دخل نہ دو بلکہ جس طرح تم کو اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے اور سکھا دیا ہے اس طرح اس کو یاد کرو اور یقین جانو کہ تم طریقہ ذکر سکھانے اور بتانے سے قبل بالکل جاہل اور بےعلم تھے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ا ہل عرب جب حج کرنے آتے تھے تو تجارت کا سامان بھی اپنے ہمراہ لے آیا کرتے تھے اب اسلام کے بعد بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید یہ جائز نہ ہو اس کو بتایا کہ حج میں تجارت بھی کرنی چاہو تو کرسکتے ہو اور تمہارے رب نے جو فضل اور نفع تمہارے لئے مقدر کردیا ہے اسے تلاش اور اس کی جستجو کرسکتے ہو۔
بہرحال مقصد اصلی تو حج ہو اور اگر تجارت بھی طبعاً ہوجائے تو کوئی حرج نہیں یہ مقصد نہ ہو کہ غرض تجارت ہو اور حج تابع ہو اور خیال کیا جائے کہ حج بھی کرتے آئیں گے اس طرح اگرچہ حج تو ہوجائے گا لیکن ثواب میں کمی ہوجائے گی اور اگر مقصد یہ ہو کہ سفر تو حج ہی کی غرض سے کرنا ہے لائو کچھ تجارت کا سامان بھی لے چلو اگر کچھ نفع ہوگیا تو خرچ میں سہولت ہوجائے گی اور خیرات بھی کرنے کا موقع ملے گا تو ایسی تجارت میں علاوہ نفع کے ثواب بھی ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے عام طور سے قرآن شریف میں تجارت کے نفع کو اپنا فضل فرمایا ہے اور واقعی نفع فضل سے بھی کیونکہ سو روپے کا جو مال تھا وہ فرض کرو سوا سو کا فروخت ہوا تو پچیس 52 روپے کہاں سے آئے اسی زیادتی کو حق تعالیٰ اپنا فضل فرماتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ سفر حج میں تجارت مباح سے رہا ثواب کی کمی بیشی کا معاملہ تو اس کا دارومدار نیت پر ہے جیسا کہ ہم نے تفصیل کردی ہے اور یہ جو فرمایا کہ عرفات سے لوٹو تو مشعر حرام کے پاس خدا کی یاد کرو اس کی تفصیل یہ ہے کہ نویں تاریخ کی شام کو جب وقوف عرفات سے واپس ہو تو اس پہاڑ کے پاس جس کا نام مشعر الحرام ہے اور اس پہاڑ پر میقدہ کے قریب امام کھڑے ہوکر دعا کرتا ہے ٹھہرا کرو اور وہاں مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھا کرو اور ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ دونوں نمازیں ادا کیا کرو اور اس میں تمہارے قیاس کو دخل نہ ہوناچاہئے بلکہ اس طرح کرو جس طرح تم کو بتادیا ہے نماز تو افضل ذکر ہے اس کے علاوہ اور بھی جو ذکر ہو سبحان اللہ۔ الحمد اللہ لا الہ الا اللہ ۔ اللہ اکبر اور دعا اور دعا میں تضرح اور گریہ وزاری اسی پہاڑ کے پاس ہو اس میدان کو مزولفہ کہتے ہیں اور اگرچہ سوائے بطن محسر کے تمام مزدلفہ میں قیام کرسکتے ہیں لیکن مشعر حرام کے پاس قیام افضل ہے جس طرح میدان عرفات میں سب جگہ سوائے بطن عرنہ کے ٹھہر سکتے ہیں لیکن جبل رحمت کے قریب ٹھہرنا افضل ہے۔ اسی طرح مزدلفہ میں مشعر حرام کے قریب ٹھہرنا افضل ہے ہاں بطن محسر جو مزدلفہ کے بائیں طرف نیچے کو ایک وادی ہے اس میں قیام نہیں کرنا چاہیے اور یہ جو فرمایا کہ اس بتانے سے قبل تم ناواقف اور بےعلم تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی خوبی اور بھلائی اور نجات کا طریقہ یہ سب چیزیں تو آسمانی وحی پر موقوف ہیں وہ نہ بتائے تو کسی کو کچھ بھی خبر نہ ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں گناہ نہیں کہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا یعنی حج میں مال تجارت بھی لے جائو روزی کمانے کو تو منع نہیں لوگوں نے اس میں شبہ کیا تھا کہ شاید حج قبول نہ ہو اس واسطے فرمایا۔ موضح القرآن (تسہیل)
Ayah 2:199ف 2 پھر دیکھو اے قریش اس کا خیال رکھو جہاں سے سب لوگ وقوف کرکے واپس آتے ہیں یعنی عرفات سے تو تم بھی وہیں جاکر وہاں سے لوٹا کرو یہ نہ کیا کرو کہ مزدلفہ ہی میں رہ جایا کرو اور زمانہ جاہلیت میں جو کرتے رہے اس سے توبہ کرو اور آئندہ کے لئے ان رسوم کا ارادہ ترک کردو اگر ایسا کرو گے تو یقین جانو ! اللہ تعالیٰ غفور ہے تمہاری سابقہ خطائوں کو معاف کردے گا اور وہ بڑا رحیم ہے آئندہ تم پر مہربانی کرے گا اور تم کو عمل خیر کی توفیق عطا فرمائے گا۔ (تیسیر)
مکہ کے قریش اپنے آپ کو مجاور حرم سمجھتے تھے اس لئے جب حج کو نکلتے تو منا سے چل کر مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور سب لوگوں کے ساتھ عرفات میں نہ جاتے اور کہتے ہم اللہ والے اور حرم کے رہنے والے ہیں ہم حرم سے باہر نہیں جائیں گے اور عام لوگوں کے ساتھ عرفات میں جاکر ٹھہرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔
مزدلفہ چونکہ حرم میں ہے اور عرفات حرم سے باہر ہے اس لئے قریش عرفات میں نہ جاتے تھے اس لئے ان کو تنبیہ فرمائی کہ حج کے احکام بجا لانے میں مجاور اور غیر مجاور سب برابر ہیں۔ یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو وقوف عرفہ تو حج کا فرض ہے وقوف عرفہ نہ ہوگا تو حج ہی نہ ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ بھی کفر کی غلطی تھی کہ مکہ کے ساکن عرفات تک نہ جاتے کہ عرفات حرم کے باہر ہے حرم کی حد پر کھڑے رہتے سو فرمایا کہ جہاں سے سب لوگ چلیں طواف کو تم بھی چلو اور اگلی تقصیر پر نادم ہو۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کے حاشیہ پر کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں صرف اتنی بات یاد رکھنی چاہئے کہ جاہلیت اور کفر کی تمام رسوم اس قابل ہیں کہ ان کو ترک کیا جائے اور صرف شریعت محمدیہ ﷺ کی پابندی کی جائے۔
Ayahs 2:200–202ف 3 پھر جب تم اپنے حج کے افعال سے فارغ ہوجائو اور اعمال حج کو پورا کرچکو تو اللہ تعالیٰ کا خوب ذکر کیا کرو یہ ذکر اسی طرح ہو جس طرح تم حج سے فارغ ہوکر اپنے آبائو اجداد کا ذکر کیا کرتے ہو بلکہ یہ ذکر ان کے ذکر سے بھی بڑھ کر ہونا چاہئے پھر ان لوگوں میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو یوں کہتے ہیں اور ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار جو کچھ تم تجھے دینا ہے ہم کو تو دنیا ہی میں دیدیے اور ایسے لوگوں کے لئے جو قیامت اور آخرت کے منکر ہیں آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ وہاں کی ہر نعمت سے محروم ہیں اور لوگوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یوں دعا مانگتے ہیں اور دعا میں یوں کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ہم کو دنیا میں بھی بہتری اور بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی ہم کو خوبی اور بھلائی مرحمت فرما اور ہم کو آگ کے عذاب یعنی دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ سو یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ان کے اعمال و افعال کے باعث دونوں جہاں میں بڑا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب لینے والا ہے۔ (تیسیر)
مناسک سے مراد حج کے اعمال و افعال ہیں جیسا پہلے پارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ذکر میں گذرا ہے وارنا مناسکنا حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جمعۃ الوداع میں فرمایا تھا خذدا عنی مناسککم یعنی مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ موسم حج میں عرب کا دستور تھا کہ حج سے فارغ ہوکر منا میں بازار لگاتے اور اپنے باپ دادوں کی بڑائیاں بیان کیا کرتے کوئی کہتا میرا باپ کھانا بہت کھلاتا تھا کوئی کہتا میرا باپ لوگوں کا بار اٹھا لیا کرتا تھا۔ لوگوں کا خوں بہا ادا کردیا کرتا تھا۔ سوائے اپنے آبائو اجداد کے ذکر کے ان کا اور کوئی کام نہ ہوتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا کہ منا میں جب تک ٹھہرو خدا کا ذکر کیا کرو اور اپنے باپ داد کے ذکر کو ترک کردو۔
بہرحال اس تاریخ کو جمرئہ عقبیٰ کی رمی اور سر منڈوانے قربانی سے فارغ ہونے کے بعد طواف زیارت اور صفا و مرہ کی سعی سے فارغ ہو کر جتنے دن منا میں گذارو اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو جیسا کہ تفصیل آگے کی آیت میں آتی ہے اور یہ جو فرمایا کہ بعض لوگ دنیا ہی میں سب کچھ چھاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض کافر ذکر تو اللہ تعالیٰ کا کیا کرتے تھے لیکن آخرت پر ایمان نہ رکھتے تھے۔ اس لئے ان کا ذکر اور ان کی دعائیں صرف دنیا کے لئے ہوتی تھیں۔
لہٰذا ایسے لوگوں کو بتادیا کہ جن لوگوں کا نصب العین دنیا ہی دنیا ہے اور آخرت کے منکر ہیں وہ قیامت میں ہر نعمت سے محروم ہوں گے اور ان کا وہاں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
دوسری آیت میں اچھے بندوں کی دعا فرمائی کہ وہ دنیا میں بھی حسنہ مانگتے ہیں اور آخرت میں بھی حسنہ طلب کرتے ہیں۔ حضرت انس ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مسلمان کی عیادت کو تشریف لے گئے جو سوکھ کر کانٹا ہوگیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو نے کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگا ہے یا تو کچھ مانگا کرتا ہے۔ اس نے عرض کیا ہاں رسول اللہ ؐ میں یہ دعا کیا کرتا ہوں۔
اللھم ما کنت معاقبی بہ فی الاخرۃ فعجلہ فی الدنیا
یعنی یا اللہ جو سزا تو نے میرے لئے آخرت میں تجویز کی ہے وہ مجھ کو دنیا ہی میں دے دے۔
آپ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ مجھ کو اس سزا کی اور اس عقاب کی طاقت اور استطاعت کہاں ہے تو نے اللہ تعالیٰ سے یوں دعا کیوں نہیں مانگی۔
ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں اس نے یہ دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا عنایت فرمائی۔
ابن م اجہ نے ابوہریرہ ؓ سے اور امام شافعی (رح) نے ابن ابی السائب سے نقل کیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ دو رکنوں کے درمیان گذرتے تھے تو یہی دعا پڑھتے تھے۔
ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ میں کسی رکن پر نہیں گذرا مگر میں نے وہاں ایک فرشتے کو دیکھا جو لوگوں کی دعا پر آمین کہتا ہے سو تم لوگ جب دونوں رکنوں کے درمیان گذرا کرو تو یہدعا کیا کرو۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
دنیا میں حسنۃ سے مراد بہت سی باتیں ہوسکتی ہیں یہ لفظ بہت ہی جامع ہے ہر قسم کی خیر کو شامل ہے۔
اکثر مفسرین نے اعمال خیر کی توفیق کہا ہے اور بعض حضرات نے یوں تفسیر کی ہے کہ وہ حالت جو تیرے نزدیک بہتر اور مستحسن ہو اور جس حالت کو تو پسند کرتا ہو اے پروردگار ! وہ عنایت کردے۔ اگرچہ لفظ حسنہ سے دنیوی نعمتیں اور دنیوی منافع بھی مراد لئے جاسکتے ہیں لیکن وہ مقصود بالذات نہیں ہیں اور نہ ان کو مطلوب بالذات سمجھناچاہئے اور آخرت میں حسنہ سے مراد ثواب اور رحمت ہے۔
اولک لھم نصیب مما کسبوا کے بھی دو طرح معنی کئے گئے ہیں ہم نے من کو سبیبہ قرار دے کر معنی کئے ہیں دوسری تقدیر پر معنی یوں ہوں گے یہی وہ لوگ ہیں جن کو اپنی کمائی میں سے حصہ ملنے والا ہے اسی طرح سریع الحساب کے بھی دو مفہوم ہیں ایک یہ کہ عنقریب ہی حساب لینے والا ہے یعنی اگرچہ حساب قیامت میں ہوگا لیکن قیامت قریب ہی ہے اس لئے حساب جلدی ہونے والا ہے اور ایک مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حساب لینے اور حساب کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ ادھر شروع کیا اور ادھر ختم۔ واللہ اعلم (تسہیل)
Ayah 2:203ف 1
اور منیٰ میں اللہ تعالیٰ کا گنتی کے چند روز تک ذکر کرتے رہو یعنی دس ۔ گیارہ۔ بارہ یا تیرہ بھی اور جو شخص دسویں کے بعد دو ہی دن میں مکہ واپس آنے میں جلدی کرے تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو مکہ واپس ہونے کے لئے ان دونوں میں تاخیر کرے یعنی بجائے بارہویں کے تیرھویں کو آئے تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں یہ سب طور طریقے اس شخص کے لئے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور جو نہ ڈرے اس کو گناہ ثواب سے کیا۔ غرض اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈرتے رہو اور اس بات کو خوب جان لو کہ تم سب اسی کے حضور میں جمع کئے جائو گے۔ (تیسیر)
مزدلفہ کی واپسی پر منا میں قیام کرنے کا حکم ہے یہاں دس تاریخ کی صبح کو پہونچتے ہیں منامین تین پتھر ہیں جن کو جمرہ کہتے ہیں ان پر سات سات کنکریاں ماری جاتی ہیں کنکریاں مارنے کو رمی کہتے ہیں۔ دسویں تاریخ کو تو صرف جمرہ عقبہ کی رمی ہوتی ہے باقی گیارہ بارہ کو اور کوئی ٹھہرے تو تیرہ کو بھی تینوں جمروں کی رمی کی جاتی ہے جمرئہک عقبہ کی رمی کا وقت طلوع صبح صادق کے بعد سے شروع ہوجاتا ہے ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہنا مستحب ہے گیارہ بارہ کو تینوں جمروں کی رمی کی جاتی ہے اور ان تاریخ میں رمی کا وقت زوال کے بعدش روع ہوجاتا ہے اور کوئی تیرہ کو بھی ٹھہرے تو اس دن بھی رمی کرنا ضروری ہوتا ہے مگر حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تیرھویں کی صبح صادق کے بعد بھی رمی کی جاسکتی ہے اگرچہ افضل یہی ہے کہ تیرھویں کو بھی زوال کے بعد رمی کی جائے آیت میں انہی تین دنوں کی طرف اشارہ ہے اختیار ہے کہ بارھویں کو تینوں جمروں کی رمی کرکے مکہ چلے آئو۔ اور چاہو تو تیرہ کو رمی کرکے آئو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان آیتوں میں یہ فرمانا کہ کفر کے وقت دستور تھا کہ حج سے فارغ ہوکر تین روز عید کے بعد خوشی کرتے اور بازار لگاتے اور اپنے باپ دادوں کے سا کے بیان کرتے اب اللہ نے تین روز ٹھہرنا مقرر کیا کہ اللہ کو یاد کرو ان دنوں میں دوپہر کو کنکر پھینکتے ہیں اور ہر نماز کے بعد تکبیر کہتے ہیں اور سوائے نماز ہر وقت اور کوئی چاہے تو دو ہی دن رہ کر رخصت ہو اور یہ تین دن رہے تو بہتر اور یہ فرمایا جن کو رغبت نری دنیا پر ہے وہ آخر ت سے محروم ہیں اب حج کا مذکور ہوچکا ہے (موضح القرآن)
خلاصیہ یہ کہ اسلام نے اس مذموم رسم کو بھی بدل دیا کیونکہ گذشتہ باپ دادوں کا ذکر کرنا ایک قسم کا بےجا فخر اور بےکاربات تھی ان کے واقعات کو دہرانے سے نہ ان کو کچھ فائدہ نہ بیان کرنے والوں کو کچھ حاصل اسکی جگہ اللہ تعالیٰ کا ذکر مقرر کیا گیا حج کے ذکر میں چونکہ دو قسم کے لوگوں کا ذکر آیا تھا ایک وہ جو دنیا ہی دنیا چاہتے ہیں دوسرے وہ جو دارین کی بھلائی کے طالب ہیں اب آگے اسی قسم کے دو شخصوں کا ذکر فرماتے ہیں ایک بد ترین منافق ہے اور دوسرا مخلص مسلمان ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:204–206ف 2 اور لوگوں میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہے کہ جس کی باتیں اور اسکی گفتگوں جو محض دنیوی زندگی کی غرض اور مقصد سے ہوتی ہے آپ کو حیرت زدہ کردیتی ہے اور آپ کو وہ باتیں دل کش اور خوش کن معلوم ہوتی ہیں اور اسکی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کی قسمیں کھا کھا کر اور اپنے مافی الضمیر پر خدا شاہد خدا شاہد کہہ کر آپ کو یقین دلاتا ہے حالانکہ وہ آپ کی مخالفت کرنے والوں اور آپ سے مخاصمت رکھنے والوں میں سب سے زیادہ شدید الخصومت اور بڑا جھگڑالو ہے اور جب وہ آپ کے پاس سے اور آپ کی مجلس سے پیٹھ پھیر کرجاتا ہے تو وہ اس غرض سے دوڑ دھوپ کرتا پھرتا ہے اور کوشش کرتا ہے اور اس قسم کی تدابیر اختیار کرتا ہے کہ شہر میں کوئی فساد برپا کرے اور لوگوں کی کھیتیوں کو تباہ کردے اور مویشیوں کو تباہ کردے اور اللہ تعالیٰ فساد اور تباہ کاری کو پسند نہیں کرتا اور جب اس کو بطور نصیحت کہا جاتا ہے کہ اللہ کا خوف کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈر تو اس کا گھمنڈ اور غرور اور اس کا غرہ اور نخوت اور زیادہ اس کو گناہ پر ابھارتی اور آمادہ کرتی ہے لہٰذا ایسے شخص کی کافی سزا جہنم ہے اور وہ بہت بُری آرام گاہ ہے (یعنی جہنم) تیسیر)
ہم نے تیسیر میں مفسرین کے تمام اقوال کا کم و بیش خلاصہ کردیا ہے یہ واقعہ یا لو ایک خاص شخص اخنس بن شریف سے تعلق رکھتا ہے جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو قسمیں کھا کر آپ کی محبت اور آپ پر ایمان رکھنے کا یقین دلاتا اور جب واپس جاتا تو شرارت کرتا مسلمانوں کی پختہ کھیتیوں کو آگ لگا دیتا مویشیوں کو ہلاک کردیتا بعض لوگوں نے کہا کہ آیت عام ہے ہر منافق کو شامل ہے بلکہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو کفر کو چھپائے اور ایمان کو ظاہر کرے اور جھوٹ کو چھپائے اور جھوٹ کو سچ کرکے ظاہر کرے۔
تعجب کے معنی ہیں اس شخص کو حیرت میں ڈال دینا ایسی چیز جس کو وہ نہ جانتا ہو اس کو اس طر ز پر ظاہر کرنا کہ وہ سچ سمجھ کر متحیر ہوجائے دنیوی زندگی کے کاموں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی غرض اور اس کا مقصد دنیوی زندگی ہوتا ہے بعنی دنیوی مقصد حاصل کرنے کی غرض سے خوب بنا بنا کر باتیں کرتا ہے اور قسمیں کھا کھا کر کہتا ہے کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور میرے دل میں بڑا پختہ ایمان ہے یا اللہ جانتا ہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ حق اور سچ ہے یا جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ میرے دل کی آواز ہے ۔
خصام یا تو مصدری معنی میں ہے یا خصیم کی جمع ہے ہم نے دونوں رعایتوں کے ساتھ تیسیر میں خلاصہ کیا ہے اور بھی بہت سے معنی ہوسکتے ہیں۔
مثلاً باطل پر جھگڑا کرنے والا گناہ میں نہایت سخت ۔ بات کا جھوٹا۔ گفتگو دانائی سے کرنے والا اور عمل میں خطا کار۔
حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے ابغض الرجال الی اللہ الالد الخصام خدا تعالیٰ کی نظر میں سب لوگوں سے زیادہ مبغوض وہ ہے جو بڑا جھگڑالو اور مقدمہ باز ہو۔
سعی کے معنی دوڑنے کے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پائوں سے نہ دوڑے بلکہ فساد انگیز تدبیریں کرے جیسا کہ فاسعو ا الی ذکر اللہ میں ہے حالانکہ نماز کے لئے دوڑ کر چلنے کی ممانعت ہے مطلب یہ ہے کہ نماز کے کاموں میں لگ جائے اور دنیا کے کام جھوڑ دے۔
بہرک حال یہاں سعی سے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو قتل کرتا پھرے رہزنی کرے فوجداریاں کرتا پھرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فساد کی کوشش کرے ہم نے تیسیر میں ہر ایک معنی کی رعایت کردی ہے حرث اور نسل سے یہاں عام طور سے کھیتی اور مواشی مراد لئے گئے ہیں لیکن ان الفاظ میں بھی بڑی تعمیم ہے حتیٰ کہ ظالم بادشاہوں کا ظلم اور امرائے جور کے مظالم جو بارش کی رکاوٹ اور قحط کا موجب ہوتے ہیں ان کو بھی یہ آیت شامل ہے کیونکہ قحط کی وجہ سے نبانات اور مواشی تباہ ہوجاتے ہیں لواطت اور زنا کو بھی بعض لوگوں نے شامل کیا ہے کیونکہ یہ افعال بھی انقطاع نسل کا سبب ہیں زکوۃ ادا نہ کرنا بھی بارش کے رک جانے کا سبب ہوتا ہے۔ ( واللہ اعلم) یہ ایسا بےباک اور اللہ تعالیٰ سے نڈر ہے کہ جب اس کو خدا سے ڈرایاجاتا ہے تو گناہ پر اور جری ہوتا ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں سب سے بڑا گناہ اللہ کے نزدیک یہ ہے کسی سے کہاجائے اور کوئی شخص اپنے بھائی سے کہے کہ خدا سے ڈر اور وہ جواب میں یہ کہے کہ اپنی خبر لے اور تو ڈر مجھ کو کیا کہتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حال منافق کا کہ ظاہر میں خوشامد کرے اور اللہ کو گواہ کرے کہ میرے دل میں تمہاری محبت ہے اور جھگڑے کے وقت کچھ کمی نہ کرے۔ اور قابو پادے تو لوٹ اور مار مچا دے اور منع کرنے سے اور ضد چھڑے زیادہ گناہ کرے۔
ایک شخص اخنس بن شریق تھا اس نے حضرت ؐ سے یہی سلو ک کئے تھے۔ (موضح القرآن) اب آگے منافق کی مناسب سے مخلص مسلمان کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)