2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsکشف الرحمٰن

Ayahs 2:135–136

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور یہ اہل کتاب مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگ یہودی ہو جائو یا نصرانی تاکہ تم صحیح راہ پائو اے پیغمبر ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ ہرگز نہیں بلکہ ہم نے تو حضرت ابراہیم کی ملت اختیارکررکھی ہے وہ ابراہیم جو سب سے کٹ کر صرف خدا کا ہوگیا تھا اور مشرکین میں سے نہیں تھا

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

تم کہہ دو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور جو ہماری جانب نازل کیا گیا ہے اس پر اور اس پر جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کی جانب بھیجا گیا اور اس پر بھی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا اور اس پر بھی جو کچھ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی جانب سے عطا کیا گیا ہم ایمان لاتے ہیں ہم اسکے رسولوں میں سے کسی کو جدا نہیں کرتے یعنی سب کو رسول مانتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں

(ف 2) اور یہ یہود و نصاری مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم یہودی ہوجائو یا نصرانی ہوجائو تاکہ تم بھی راہ پر آجائو اور راہ یافتہ ہوجائو۔ یعنی یہود کہتے ہیں یہودی ہوجائو نصرانی کہتے ہیں نصاریٰ ہوجائو ۔ اے نبی ! آپ فرما دیجئے ہم نہ یہودی ہوں گے نہ نصرانی ہوں گے نہ نصرانی بلکہ ہم تو اس ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر قائم رہیں گے جو ماسوای اللہ سے ہٹ کر صرف اللہ تعالیٰ کا ہوگیا تھا اور وہ مشرکوں میں شامل نہ تھا یہ جن مسلمانوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہے ہیں وہ ان سے کہہ دیں ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف محمد ﷺ کی وساطت سے بھیجی گئی اور ہم ان چیزوں کو بھی مانتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی جانب بھیجی گئیں اور جو کچھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا اس کو اور جو کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کو ان کے پروردگار کی جانب سے دیا گیا اس سب کو مانتے ہیں اور اس کے حق ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور ان سب رسولوں پر ایمان بھی اس طرح رکھتے ہیں کہ ہم ان رسولوں میں سے کسی ایک کو بھی جدا نہیں کرتے کہ کسی پر ایمان لائیں اور کسی پر ایمان نہ لائیں بلکہ ان سب کی رسالت پر یکساں ایمان رکھتے ہیں اور ہم تو خدا تعالیٰ کے مطیع و فرمانبردار ہیں وہ جو حکم دیتا ہے اس کے آگے سر جھکاتے ہیں۔ (تیسیر) ہم نے حنیفا کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حال بنایا ہے لیکن ملت کی قید بھی بن سکتی ہے پھر مطلب یہ ہوگا کہ ہم اس ملت ابراہیمی پر قائم رہیں گے جو ملت بالکل سیدھی اور صاف ہے اور اس میں کسی قسم کی کجی نہیں ہے۔ حنیف کے معنی ہیں باطل سے کٹ کر اور پھر کر حق کی طرف ہوجانا مطلب یہ ہے کہ تمہاری یہودیت اور نصرانیت اول تو تحریف شدہ ہے پھر وہ دونوں منسوخ ہوچکی ہیں اس لئے ان پر اب ایمان لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہے مشرکین عرب سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرک بھی نہ تھے پھر محض ان کا نام استعمال کرکے گمراہی کی دعوت دینا ایک لغو اور مہمل فعل کا ارتکاب کرنا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وما کان من المشرکین سے یہود و نصاریٰ کے بعض مشرکا نہ عقائد کی طرف اشارہ ہو اور مطلب یہ ہو کہ وہ یہودیت و نصرانیت جو تحریف شدہ اور منسوخ ہونے کے علاوہ مشرکانہ عقائد کو بھی شامل ہو وہ کب قبول کرنے اورا ختیار کرنے کے قابل ہوسکتی ہے اور پھر ان لوگوں کے لئے کس طرح قابل ہوسکتی ہے جو ملت ابراہیمی کو اپنی راہ بنائے ہوئے ہیں اور خدا کے سب پیغمبروں اور ان کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے رسولوں کو رسول اور ان کی کتابوں کو آسمانی کتابیں تسلیم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں جس زمانے میں اس نے جو حکم بھیجا اس پر عمل کرتے ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ منسوخ فرما دیتا ہے اس کو چھوڑ دیتے ہیں مسلمان مشہور کتب سماویہ کے علاوہ ان صحیفوں تک کو مانتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئے تھے اور تمہاری حالت یہ ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبی نہیں مانتے ان کی کتاب کو کتاب برحق تسلیم نہیں کرتے ۔ نصاریٰ کی یہ حالت ہے کہ وہ یہود کے مخالف اور دشمن ہیں تو کہاں تم اور کہاں مسلمان۔ لہٰذا یہود نصاری کی یہ تبلیغ مسلمانوں کو ہدایت کے نام پر گمراہی کی دعوت دینا ہے۔ حضرت مفسرین نے اس موقعہ پر ملت اور شریعت کے فرق پر بڑی تفصیلی بحثیں کی ہیں ۔ بالخصوص حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب (رح) دہلوی نے اس مسئلے پر بڑی سیر حاصل بحث فرمائی ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا ملت ابراہیمی پر قائم رہنا اور نبی کریم ﷺ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم دینا اس سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ محمد ﷺ کی کوئی مستقل اور جدید شریعت نہیں ہے بلکہ آپ شریعت ابراہیمی پر قائم رہنا اور نبی کریم ﷺ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم دینا اس سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ محمد ﷺ کی کوئی مستقل اور جدیدشریعت نہیں ہے بلکہ آپ شریعت ابراہیمی کے پیرو اور تجدید کرنے والے ہیں۔ اس لئے حضرات مفسرین نے اس شبہ کا ازالہ فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ملت تو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی مشترک ہے اور ملت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی اطاعت کرنا اور چونکہ یہ سب میں مشترک ہے اس لئے ایک پیغمبر کو یہ حکم دیا جاسکتا ہے کہ تم اپنے سے پہلے پیغمبر کی ملت پر چلو جیسا کہ ساتویں پارے میں انبیاء سابقین کا ذکر فرمانے کے بعد حضرت حق نے ارشاد فرمایا اولک الذین ھدی اللہ فیھد اھم اقتدہ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت سے نوازا تھا۔ سو آپ بھی ا ن کی ہدایت کی اقتدار کیجئے۔ جب یہ بات سمجھ میں آگئی تو اب شریعت کو سمجھناچاہئے شریعت ہر زمانے کی ضرورت کے لحاظ سے ہر پیغمبر کی مختلف ہوتی ہے ۔ اگرچہ مقصد وہی حضرت حق کی اطاعت ہوتا ہے لیکن ہر زمانے کے اعتبار سے اس کے خصوصی طریقے بدلے ہوئے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ چھٹے پارے میں فرمایا لکل جکلنا منکم شرعتہ ومنھا جاً یعنی ہم نے تم میں سے ہر ایک کو ایک دستور اور ایک راستہ عطا کیا۔ لہٰذا شریعت ان تمام کلیات وجزیات اور اصول و فروع کا نام ہے جو کسی اولو العزم پیغمبر کو جو صاحب شریعت ہو عطا کی جائے۔ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت اور جناب سید المرسلین ﷺ کی شریعت اور ہے آپ کی شریعت ایک مستقل اور جدید شریعت ہے اور چونکہ اکثر مسائل اصولیہ وفروعیہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے باہم توافق اور اتحاد ہے اس لئے ملت ابراہیم (علیہ السلام) کو شریعت محمدیہ اور شریعت محمدیہ کو ملت ابراہیم کہہ دیاجاتا ہے اور مسلمانوں کا اہل کتاب کو یہ جواب دینا کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے پابند ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ ملت ابراہیمی جو شریعت محمدیہ ہے ہم اس کے پابند ہیں تم بھی اس شریعت محمدیہ کے پیرو ہوجائو جو صورتاً اور معناً بہت سی باتوں میں ملت ابراہیمی کے مرادف اور ہم معنی ہے اب چاہے یوں کہو کہ شریعت محمدیہ پر ایمان لے آئو جو ملت ابراہیمی سے ملتی جلتی ہے اور چاہے یوں کہو کہ ملت ابراہیمی کے پابند ہوجائو جو شریعت محمدیہ سے ملتی جلتی ہے۔ اب رہی یہ بات کہ اس طرح تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کو بھی ملت ابراہیمی کہا جاسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ملت تو سب پیغمبروں کی یکساں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اصول اور عقائد تو یقینا سب کے یکساں ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جس قدر پیغمبر ہوئے ہیں ان سب کی ملت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ہے بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی ملت ہے لیکن شریعت موسویہ اور شریعت عیسویہ کو اس بنا پر ملت ابراہیم نہیں فرمایا کہ ملت ابراہیم کے اصول اور بعض فروع میں جو تطابق اور توافق شریعت محمدیہ کو حاصل ہے وہ شریعت موسویہ اور عیسویہ کو حاصل نہیں ہے نیز یہ کہ حضرت ابراہیم کی ہستی اور ان کی بزرگی سب کے نزدیک مسلم تھی یہودی نصرانی، مشرکین عرب سب کا ان کا نام احترام کے ساتھ لیتے تھے۔ اس لئے سب کو یہ دعوت دی گئی کہ اگر تم لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے سچے نام لیوا ہو اور ان کے صحیح پیرو بنناچاہتے ہو تو اسکی صرف ایک ہی شکل ہے کہ تم شریعت محمدیہ کے پیرو ہوجائو کیونکہ اس وقت صرف شریعت محمدیہ ہی ایسی شریعت ہے جو اپنے اصول اور اکثر فروع میں ملت ابراہیمی کا صحیح چربہ ہے یہ ان مباحث کا بہت ہی مختصر خلاصہ ہے۔ جو اس موقع پر مفسرین نے بیان کیا ہے اگر اس کو محفوظ کرلیا گیا تو انشاء اللہ آئندہ تفسیر میں بہت مدد ملے گی اور یہ جو ہم نے کہا کہ اصول اور اعتقادیات میں تو سب مشترک ہیں لیکن شریعت کے فروعی مسائل اکثر جدا جدا ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض فروعی باتیں بھی سب پیغمبروں میں یکساں ہوتی ہیں۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اربع من سنن المرسلین الحیاء والنکاح والتعطیر والسواک یعنی چار چیزیں پیغمبروں کا طریقہ رہی ہیں۔ حیا کرنا، نکاح کرنا، خوشبو لگانا اور مسواک کرنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ملت میں سب مشترک ہوتے ہی ہیں مگر شریعت کی بھی بعض باتوں میں اشتراک ہوسکتا ہے لیکن اس قسم کے معمولی اشتراک کی وجہ سے کسی صاحب شریعت پیغمبر کو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ فلاں پیغمبر کی شریعت کا تابع ہے۔ مگر ہاں ! جب کہ وہ پیغمبر صاحب شریعت نہ ہو اور کسی دوسرے پیغمبر کی شریعت کا تابع ہو جیسا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیانی انبیاء اور چونکہ نبی کریم (علیہ السلام) خود صاحب شریعت اور ایک مستقل شریعت کے منبع ہیں۔ اس لئے آپکو شریعت ابراہیمی کا تابع اور پیرو کہنا صحیح نہیں ہوگا۔ ہاں ملت ابراہیمی کا تابع کہا جاسکتا ہے (تسہیل)
Ayahs 2:137–138

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

پھر اگر وہ اہل کتاب بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو بیشک وہ بھی ہدایت یافتہ ہوں گے اور اگر وہ روگردانی کریں تو سمجھ لو وہی ہیں برسر پیکارسو عنقریب آپ کی طرف سے اللہ تعالیٰ ان سے نمٹ لے گا اور وہی ہے سننے والا جاننے والا

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

ہم پر رنگ چڑھا دیا ہے اللہ نے اور رنگ چڑھانے میں اللہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے اور ہم صرف اسی کے عبادت گزار ہیں1

ف 1 سو اگر وہ یہود و نصاریٰ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو بلا شبہ وہ بھی ہدایت یافتہ اور راہ یاب ہوجائیں گے اور صحیح راستہ سے لگ جائیں گے اور اگر وہ دعوت حق کو قبول کرنے سے اعراض کریں اور منہ پھیریں تو جائے تعجب نہیں ہے کیونکہ وہ تو بس مخالفت ہی میں مبتلا ہیں اور وہ تو ہیں ہی برسر پیکار اب عنقریب اللہ تعالیٰ ان کی شرارت کے مقابلہ میں آپکی مدد کرنے کے لئے کفایت فرمائیگا اور ان کے مقابلہ میں آپ کے لئے کافی ہوگا اور وہ سب باتیں سنتا اور سب کے حال کو جاننے والا ہے ہم پر تو اللہ تعالیٰ نے دین فطرت کا رنگ چڑھا دیا ہے اور اللہ سے بہتر رنگ چڑھانے میں دوسرا کون ہوسکتا ہے اور ہم اسی کے عبادت گزار اور اسی کے غلام ہیں۔ (تیسیر) شقاق وفاق کا مقابل ہے وفاق کے معنی موافقت اور شقاق کے معنی مخالفت چونکہ ایک مخالف سے دوسرا مخالف پہلو پھیرتا اور بچاتا ہے اس کی مخالفت اور ضد اور ہٹ دھرمی کے موقعہ پر شقاق کا استعمال کرتے ہیں۔ کفایت کا ترجمہ اب اردو میں متروک ہوگیا اس لئے نمٹ لینا سلٹ لینا وغیرہ ترجمہ کرتے ہیں اصل مقصود یہ ہے کہ ان کے مقابلہ میں کسی اور کی ضرورت نہیں۔ اے پیغمبر ان کے لئے بس میں ہی تیری اس طرف سے کفایت کرونگا اور میں ہی ان سے نمٹنے کو کافی ہوں اور ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کا ضامن ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کے لئے فرمایا کہ ان کی شرارتوں سے آپ متاثر نہ ہوں ہم ان کے لئے کافی ہیں یہ تسلی کے ساتھ پیش گوئی بھی ہے جو پوری ہوئی۔ جس طرح کپڑے کو رنگتے ہیں اور کپڑے پر رنگ چڑھاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہم کو دین فطرت اور دین حق میں رنگ دیا ہے اور قلب کا کوئی گوشہ ایسا باقی نہیں رہا جس میں اللہ تعالیٰ کا رنگ سیرایت نہ کر گیا ہو جب اللہ تعالیٰ کے رنگ دینے کی حالت یہ ہو تو بھلا اب اس رنگ کو کون اتار سکتا ہے اور وہ رنگ کس طرح دور ہوسکتا ہے اور پکے اور پختہ رنگ پر کس کا رنگ چڑھ سکتا ہے اور ہم اپنے رنگنے والے کو چھوڑ کر کہاں جاسکتے ہیں ہم تو اسی کے عابد اور اسی کے غلام رہیں گے یہاں تک مسلمانوں کا وہ جواب ہے جو اہل کتاب کو دیا گیا۔ بعض لوگوں نے صبغۃ اللہ کا یہ مطلب بیان کیا کہ ہم کو دین فطرت پر پیدا کیا ہے اور ہم کو استعداد قبولیت عطا فرمائی اور ہم نے اسی استعداد کی وجہ سے ایمان قبول کیا ہے اس تقدیر پر اس آیت کی جانب اشارہ ہوگا جو سورة روم میں آئیگی فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا بعض حضرات نے فرمایا ہے مراد رنگ چڑھانے سے تطہیر ہے چونکہ ایمان نفوس انسانی کو جملہ آلائشوں سے اور ہر قسم کی نجاستوں سے پاک کردیتا ہے اس لئے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو پاک کردیا ہے اور اب ہمارے دل میں ایمان کے خلاف کسی چیز کا داہمہ اور شبہ بھی نہیں گزر سکتا۔ بہرحال کوئی معنی کئے جائیں اصل مقصد ہم نے عرض کردیا کہ اہل ایمان کی پختگی اور مضبوطی اور ثبات قدمی کا اظہار ہے اور یہ کہنا ہے کہ ہم کو اب کسی باطل کی دعوت دینا اور تبلیغ کرنا بیکار ہے۔ ہر مسلمان اللہ کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اہل کتاب کے بپتسہ کا جواب ہے جس کا نام نصاریٰ کی اصطلاح میں معمودیہ ہے وہ ساتویں دن بچہ کو زرد رنگ کے پانی میں غوطہ دیا کرتے ہیں یا جب کوئی شخص عیسائی ہوتا ہے تو اس کو ایک خاص رنگ کے ساتھ بپتسہ دیتے ہیں۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہود نے ایک دفعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کیا اے موسیٰ ! کیا تیرا ربرنگ بھی چڑھاتا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا خدا سے ڈرو اللہ کے متعلق کیسا سوال کرتے ہو۔ حضرت حق کی طرف اشارہ ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) ان سے کہہ دو ہاں میں سرخ اور زرد اور سیاہ اور سب قسم کے رنگوں میں رنگ دیا کرتا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نصاریٰ کے پاس دستور تھا جس کو اپنے دین میں داخل کرتے ایک زرد رنگ بناتے اور اس کے کپڑے بھی رنگ دیتے اور اس پر ڈال بھی دیتے یہ ان کے مقابل فرمایا۔ (موضح القرآن) بہر حال ! ملت ابراہیمی اور شریعت محمدیہ پر قائم رہنے اور دین حق پر پختہ رہنے کو خدائی رنگ اور خدا کی رنگت سے تعبیر کرنا بہترین تعبیر ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:139–140

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے کہو کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں کجج بحثی کرتے ہو حالانکہ وہی ہمارا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہی اور ہمارے عملہمارے لئی اور تمہارے عمل تمہارے لئے اور ہم تو خالص اسی کے اطاعت گزار ہیں

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تم یہ کہتے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یہ سب کے سب یہودی یا نصرانی تھے اے پیغمبر آپ ان سے کہئے کہ ان لوگوں کے مذہب سے تم زیادہ واقف ہو یا اللہ تعالیٰ اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو ایسی گواہی کو چھپائے جو گواہی خدا کی جانب سے اس کے پاس موجود ہو اور اللہ تعالیٰ ان کاموں سے بیجز نہیں ہے جو تم کر رہے ہو2

ف 2 اے نبی آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے کیا تم لوگ ہم سے اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کج بحثی اور کٹ حجتی کئے جاتے ہو حالانکہ وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور ہمارا بھی پروردگار ہے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور ہم نے تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے اعمال کو اور اپنے دین کو خالص کر رکھا ہے کیا تم اب یہی کہے جاتے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یہ سب لوگ یہودی یا نصرانی تھے آپ ان سے فرماتے اچھا یہ تو بتائو تم زیادہ ان لوگوں کے دین سے واقف ہو یا اللہ تعالیٰ حالانکہ تم جانتے ہو مگر جان بوجھ کر چھپاتے ہو اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوسکتا ہے جو ایسی شہادت کو چھپائے اور گواہی کا اخفا کرے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کو پہنچی ہو اور وہ شہادت اس کے پاس موجود ہو اور اللہ تعالیٰ ان اعمال سے غافل اور بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔ (تیسیر) محاجہ اس مناظرے کو کہتے ہیں جو محض مکابرہ اور مجادلہ ہو تحقیق حق کی غرض سے نہ کیا جائے سبط اس درخت کو کہتے ہیں جس کی بہت سی ٹہنیاں اور شاخیں ہوں۔ یہاں اسباط سے مراد کسی شخص کی اولاد اور اولاد کی اولاد ہے۔ بعض حضرات نے کہا ہے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو قبیلہ کہا جاتا ہے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد کو اسباط کہاجاتا ہے بہرحال ایک شخص کی اولاد جو پھیل جائے اسکو قبیلہ اور سبط کہتے ہیں یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بارہ بیٹوں کی اولادیں مراد ہیں ہر بیٹے کی اولاد ایک سبط ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں جو حضرات نبی ہوئے ان سب کو یہ لوگ یہودی اور نصرانی کہتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ بلاوجہ کا جھگڑا کیے چلے جاتے ہو کہ ہم جنت میں جائیں گے اور محمدی مسلمان نہیں بخشے جائیں گے حالانکہ یہ بحث کی کونسی بات ہے اللہ تعالیٰ تمہارا بھی رب ہے اور ہمارا بھی رب ہے ہر ایک کے اعمال بھی اپنے اپنے لئے ہیں نہ ربوبیت میں کوئی تخصیص ہے نہ اعمال میں پھر اس قسم کی کٹ حجتی سے کیا فائدہ ؟ اور خدا کا شکر ہے ہم نے اپنے آپ کو شرک کی آمیزش سے بچا کر اللہ کے لئے خاص کر رکھا ہے نہ ہم کسی کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں نہ ہم نے کسی انسان کو اللہ کے علاوہ اپنا رب بنا رکھا ہے جو کام کرتے ہیں حضرت حق کی خوشنودی کے لئے کرتے ہیں کیونکہ اخلاص اور مخلصین لہ الدین کے معنی ہی یہ ہیں پھر نہ بخشے جانے کا مطلب کیا ہے اور یہ بھی ان کے مکابرے اور محاورے کا جواب ہے اپنے اخلاص کا دعویٰ نہیں ہے شھادۃ عندہ من اللہ مطلب یہ ہے کہ ان کو خود بھی معلوم ہے کہ کوئی نبی یہودی اور نصرانی نہیں تھا بلکہ سب ملت اسلامیہ کے پابند تھے اور سب کا مذہب اسلام تھا جو اصل پیغمبروں کا مذہب ہے لیکن یہ جان بوجھ کر اپنی کتاب کو ایک قسم کی آسمانی شہادت ہے چھپا دیتے ہیں آگے پھر مکرر تاکید کیطورپر فرماتے ہیں کہ جو بزرگ گزر چکے ان کو اپنی اغراض مشئومہ کے لئے مت استعمال کرو اور گذشتہ لوگوں پر غلط الزام لگانے سے بچو چناچہ فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی ان کی کمائی ان کے لئے ہے اور تمہارا کیا تمہارے لئے ہے اور ان کے کاموں کی تم سے کوئی با پُرس نہیں کی جائیگی

ف 3 وہ بڑے لوگوں کی ایک جماعت تھی جو اپنے زمانے میں گزر چکی جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کے لئے ہے اور ان کے کام آئے گا اور جو کچھ تم کما رہے ہو اور کسب کر رہے ہو وہ تمہارے کام آئیگا۔ اور ان کے اعمال کی تم سے کوئی باز پرس اور پوچھ گچھ تک نہ کی جائیگی۔ (تیسیر) مطلب وہی ہے کہ جو کچھ وہ کر گئے اس کے متعلق تم سے سوال تک نہ ہوگا چہ جائے کہ ان کا محض انتساب تمہارے کام آئے اور وہ بھی ایسی حالت میں جب کہ تمہارے اعمال تمہارے عقائد ان بزرگوں کے صریح خلاف ہوں تو اس صورت میں تمہاری ان کے ساتھ نسبت یا فرضی محبت کے جھوٹے دعوے کب کام آسکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف مکہ کی عظمت، خانہ کعبہ کی تعمیر اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت وغیرہ کا ذکر کرنے اور تمہید بیان کرنے کے بعد اب تحویل قبلہ اور اس کے متعلقات کو بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

اب بیوقوف لوگ یوں کہیں گے کہ مسلمانوں کو اپنے اس قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا جس پر وہ کچھ عرصہ سے قائم تھے آپ کہہ دیجئے کہ سب مشرق اور مغرب اللہ ہی کی ملک ہیں وہ جس کو چاہتا ہے اس کو سیدھی راہ چلاتا ہے1

ف 1 کچھ دن جاتے ہیں کہ بیوقوف لوگ یو کہیں گے کہ مسلمانوں کو اس قبلہ کی سمت سے کس نے دوسرے قبلہ کی سمت پھیر دیا جس پر یہ کچھ عرصہ یعنی تقریباً سولہ سترہ مہینے سے قائم اور اس سمت کی جانب متوجہ تھے آپ ان کے جواب میں فرما دیجئے کہ ہر سمت خواہ وہ مشرق ہو یا مغرب اللہ ہی کی مملوک اور اسی کی ملک ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے صحیح راہ بتادیتا ہے۔ (تیسیر) سفیہ کے معنی ہیں کم عقل، سفہا سے یہاں مراد یا تو یہود ہیں یا منافق اور مشرک ہیں یا اہل کتاب اور مدینہ کے منافق مشرک ہیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ بعض کچے اور خام مسلمان ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب مشرک ہوں اور یہ واقعہ ہے کہ جو اس قسم کے جاہلانہ اور کم عقلی کے شبہات نکالے اور بےسوچے سمجھے اعتراض کرے وہ بیوقوف اور کم عقل ہی ہے یہود کا اعتراض تو اس بنا پر ہوسکتا ہے کہ وہ نسخ کے قائل نہ تھے عام اہل کتاب کو یوں شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ پیغمبر تو سب پیغمبروں کا نام لیتا ہے اور سب کا مذہب اسلام بتاتا ہے پھر اس قبلہ کو اس نے کیوں ترک کیا جو سب انبیاء کا قبلہ تھا۔ منافقوں کو یہ شبہ ہوا کہ یہ شخص خود مذبذب ہے ابھی کل بیت المقدس کو قبلہ بنایا تھا آج اس کو بدل دیا اگر واقعی یہ شخص خدا کا پیغمبر ہوتا تو ایسا نہ کرتا۔ مشرکوں نے کہا اپنے باپ کے قبلہ کو رواج دیناچاہتا ہے اس لئے اس نے بیت المقدس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ ٹھہرایا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں ہر قوم اور ہر فرقہ نے اپنے نقطہ نگاہ سے اعتراضات کئے اور یہ ایک طبعی بات تھی کہ کعبہ کو چھوڑ کر بیت المقدس کو قبلہ بنایا مسلمانوں کو بار خاطر ہوا وربیت المقدس سے کعبہ کی طرف رخ کرنا اہل کتاب کو ناگوار گزرا جب تک نبی کریم ﷺ مکہ معظمہ میں مقیم رہے تو کعبہ کی طرف نماز ادا کرتے رہے مگر ایسی سمت اختیار فرماتے رہے کہکعبہ بھی سامنے رہتا تھا اور صخرہ بیت المقدس کی جہت بھی حاصل ہوتی تھی یعنی کعبہ کی جنوبی دیوار جو دونوں رکنوں کے مابین ہے اس طرف منہ کرکے کھڑے ہوتے تھے اور دونوں قبلوں کی رعایت رکھتے تھے۔ لیکن مدینہ منورہ تشریف لے جانے کے بعد یہ نوعیت حاصل نہ ہوسکی اور لا محالہ ایک جہت اختیار کرنی پڑی اور بعض مصالح کے اعتبار سے وہ بیت المقدس کی جہت اختیار فرمائی جو اہل کتاب کا قبلہ تھا ہجرت کا مہینہ ربیع اول سے لیکر دوسرے رجب کے نصف تک آپ بیت المقدس کی جانب نماز پڑھتے رہے۔ اس لئے محدثین نے سولہ یا سترہ مہینے کہے ہیں اور چونکہ آپ کو کتاب سماویہ میں ذوالقبلتین فرمایا تھا اس لئے آپ سے وہ بات پوری کرائی گئی۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بیت المقدس یعنی صخرۃ اللہ کو قبلہ تجویز کرنا یہ نبی کریم ﷺ کا خود اپنے اجتہاد سے تجویز کردہ تھا بعض نے کہا نہیں بلکہ حضرت حق کے حکم سے تھا یہ کوئی ایسا اختلاف نہیں ہے ممکن ہے کہ جو جہت آپ نے اجتہاد سے تجویز کی ہو خدا کی طرف سے اسی جہت کی بعد میں منظوری آگئی ہو اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ صخرۃ اللہ کی بجائے کعبہ کو قبلہ مقرر کرنا آپ کے اختیار میں نہ تھا اگرچہ آپ کو اس کی تمنا اور خواہش تھی مگر آپ حکم الٰہی کے منتظر تھے اور وحی کے انتظار میں آسمان کی طرف دیکھتے تھے جیسا کہ آگے کی آیتوں سے معلوم ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مدینہ پہونچکر جو قبلہ اختیار کیا وہ خدا کے حکم ہی سے آپ نے اختیار کیا تھا سب سے پہلی نماز جو سولہ یا سترہ مہینے کے بعد کعبہ کی جانب پڑھی گئی وہ عصر کی نماز تھی۔ نسائی نے ابو سعید بن معلی سے روایت کی ہے کہ پہلی نماز ظہر کی تھی۔ اکثر مفسرین کا یہی قول ہے کہ آپ ﷺ مسجد بنی سلمہ میں ظہر کی ناز پڑھ رہے تھے دو رکعتیں پڑھ چکے تھے کہ تحویل قبلہ کا حکم ملا اور آپ نماز ہی میں کعبہ کی طرف گھوم گئے اور تمام نمازی بھی آپ کے ساتھ کعبہ کی طرف گھوم گئے ۔ مسجد نبی سلمہ کو اسی وجہ سے مسجد القبلتین کہاجاتا ہے۔ البتہ اہل قبا کو دوسرے دن صبح کی نماز میں یہ اطلاع پہونچی اور کسی آنیوالے نے کہا رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا ہے اور مسلمانوں کا قبلہ کعبہ کو مقرر کردیا گیا ہے چناچہ سب لوگ صخرۂ بیت المقدس کی جانب سے کعبہ کی سمت پھرگئے۔ صراط مستقیم سے یہاں مراد جہت کعبہ ہے یا کبھی بیت المقدس اور کبھی کعبہ کی تعیین مراد ہو حضرت حق تعالیٰ جس جہت کو کعبہ قرار دے دیں وہی صراط مستقیم ہے۔ بعض حضرات نے صراط مستقیم سے خدا کی توفیق مراد لی ہے اور مطلب یہ ہے کہ گمراہ لوگ بلاوجہ احکام خداوندی کے اسباب و علل پر بحث کرتے ہیں اور احکام کی تعمیل پر توجہ نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے اور سیدھا راستہ یہی ہے کہ جو حکم دیاجائے اس کو بجا لائے خواہ حکم کی علت خود حاکم بیان کردے اسی طرح کوئی علت خود سمجھ میں آجائے یا علت کا فہم و ادراک عقل میں نہ آئے۔ بہر حال حکم کی تعمیل کرنی چاہئے یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی حکم کی علت پر غور ہی نہ کیا جائے یا اللہ تعالیٰ کی حکمتوں پر بحث نہ کی جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ فہم علت کو تعمیل حکم کا مدار نہ سمجھا جائے۔ چونکہ بلا چوں و چرا ارشاد خداوندی کی بجا آوری امت محمدیہ کی خصوصیات میں سے ایک مشہور خصوصیت ہے۔ اس لئے آگے بطور جملہ معترضہ امت محمدیہ کا ذکر فرماتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) موضح القرآن میں لکھتے ہیں کہ حضرت ﷺ جب مکہ سے مدینے آئے سو ا برس نماز پڑھی بیت المقدس کی طرف پھر حکم آیا پڑھو کعبے کی طرف تب یہود اور بعضے کچے مسلمان ان کے بہکانے سے شہ بےلگے ڈالنے کہ وہ قبلہ تھا سب نبیوں کا اسکو چھوڑنا نشان نبی کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ لو گ یوں کہیں گے 21 موضح تحویل قبلہ کے سلسلے میں ایک بحث اور رہ گئی وہ یہ کہ اس میں حکمت کیا تھی کہ پہلے کعبہ کو قبلہ کیا یا کعبہ اور صخرہ بیت المقدس کو قبلہ کیا پھر خالص صخرہ کو قبلہ بنانے کا حکم ہوا پھر آخر میں صرف کعبہ کو قبلہ مقرر کیا۔ ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کسی فرمان کی حکمتوں کا کون احاطہ کرسکتا ہے اور یہ ضروری بھی نہیں کہ ہر حکم کی تمام حکمتیں تلاش کی جائیں ہوسکتا ہے کہ اہل کتاب کی تالیف قلوب کی غرض سے چند مہینے کیلئے صخرہ کو اختیار کیا ہو اور ہوسکتا ہے کہ محض امت محمدیہ کا امتحان مقصود ہو اور ہوسکتا ہے کہ ابتداء ان برکات کا حصول مقصود ہو جو صخرہ کو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا قبلہ بننے سے حاصل تھیں اور ان تمام برکات نبوت کو حاصل کرنے کے بعد انکی آخری تکمیل کے لئے کعبہ کو مقرر کیا گیا ہو۔ (واللہ اعلم) اگر کسی صاحب کو زیادہ شوق ہو تو وہ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) کی تفسیر عزیزی ملاحظہ فرمائیں اور کسی ذی علم سے اس کو سمجھیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں کے مقابلہ میں گواہ ہو اور تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ گواہ ہوں2 اور وہ قبلہ جس قبلہ پر اے پیغمبر آپ عارضی طور سے قائم تھے اس کو تو ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم اس شخص کو ج و رسول کی پیروی کرتا ہے اس شخص سے متمیز کردیں جو اپنی ایڑیوں کے بل الٹا پھرجاتا ہے اور بیشک وہ عارضی تبدیلی بہت شاق ہوئی مگر ان لوگوں پر نہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کردے بیشک اللہ لوگوں پر بہت شفقت کرنیوالا نہایت مہربان ہے3

ف 2 اور جس طرح ہم نے تم کو صراط مستقیم کی توفیق عنائت فرمائی اسی طرح ہم نے تم کو ایک معتدل اور بہترین برگزیدہ امت بنایا تاکہ تم اس شرافت اور بزرگی کے اعتبار سے قیامت میں لوگوں کے مقابلے میں انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں گواہ ہو اور رسول اللہ ﷺ تمہارے لئے تمہارے قابل اعتبار ہونے پر شاہد اور گواہ ہوں۔ (تیسیر) وسط ایک ایسی درمیانی جگہ کو کہتے ہیں جس کی ساخت ہر طرف سے برابر ہو اور کسی طرف میں زیادتی کی نہ ہو پھر اس کا استعمال عام ہوگیا اور ہر اس چیز کو کہا جانے لگا جو افراط وتفریط سے پاک ہو اور چونکہ درمیانی چیز قدرتاً بہتر اور برگزیدہ ہوتی ہے اس لئے شرافت و برگزیدگی کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے، جیسے قریش کو اوسط عرب کہتے ہیں یعنی قریش تمام عرب میں بہتر اور افضل ہیں اور ان کا خاندان اشرف و اعلیٰ ہے۔ نبی کریم ﷺ کو وسط کہاجاتا تھا یعنی اپنے خاندان میں سب سے زیادہ شریف اور برترو اعلیٰ تھے۔ اسی مناسبت سے نماز عصر کو صلوۃ وسطی کہتی ہیں اور قوم کا سردار جو مجلس کے بیچ میں بیٹھتا ہے اس کو وسط کہتے ہیں۔ بہر حال مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ خود چونکہ وسطہ ہیں اور ان کی شریعت بھی افراط وتفریط سے پاک ہے اور امت محمدیہ کا کعبہ بھی کرئہ ارضی کے مرکز میں واقع ہے لہٰذا ہم نے اس امت کو بھی وسط بتایا ہے اور چونکہ یہ امت تمام امم سابقہ سے بہتر، اشرف افضل، فضائل محمودہ کے ساتھ متصف اور انتہائی اعتدال پر ہے اس لئے یہی امت اس وقت جبکہ انبیاء (علیہم السلام) کی قومیں قیامت میں ان کی رسالت کی تبلیغ کا انکار کریں گی تو تم انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں ان کی قوموں کے خلاف گواہ بن کر پیش ہوگے اور تم یہ کہو گے کہ بیشک ان پیغمبروں نے اپنی اپنی قوموں کو دعوت تبلیغ دی تھی لیکن ان قوموں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا اور اپنے اپنے پیغمبروں کو تکذیب کی۔ چناچہ اس گواہی کے بعد نبی کریم ﷺ اپنی امت کے معتبر اور قابل شہادت ہو نیکی تصدیق و تائید فرمائیں گے۔ جیسا کہ بکثرت احادیث میں اس واقعہ کی تفصیل آتی ہے اور جب امت محمدیہ گواہی دے گی تو ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کو کہاں سے معلوم ہوا تم تو پیچھے آئے تھے اور یہ امتیں تم سے پہلے گذر چکی تھیں اس پر امت محمدیہ جواب دے گی کہ ہمارے رسول تشریف لائے اور انہوں نے وحی کے ذریعہ سے ہم کو بتایا کہ سب پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کو احکام پہنچا دئیے اور اپنی رسالت کی تبلیغ فرمائی لیکن ان کی قوموں نے ان کی تکذیب کی۔ حضرت جابر بن عبداللہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ ہم اور ہماری امت قیامت کے دن ایک ٹیلے کے اوپر سے سب کو دیکھتی اور جھانکتی ہوگی یعنی جس طرح اوپر سے کوئی نیچے آدمی کو جھک کر دیکھتا ہے۔ قیامت کے دن کوئی ایسا آدمی نہ ہوگا جس کی یہ خواہش نہ ہو کہ وہ ہم میں سے ہوتا کوئی نبی ایسا نہ ہوگا کہ جس کی قوم نے اس کو جھٹلایا ہو مگر یہ کہ ہم اس کے حق میں گواہی دیں گے کہ اس نبی نے یقینا ان کو رسالت کے احکام پہنچائے لیکن انہوں نے اس نبی کی تکذیب کی۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب قوموں سے دریافت کیا جائے گا کہ تم نے اپنے نبی کی بات کیوں نہیں مانی تو وہ قومیں جواب دیں گی ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا اور نہ ہم کو کسی نے سمجھایا تب امت محمدیہ انبیاء کی حمایت میں گواہی دے گی۔ اس پر اگر یہ شبہ کیا جائے کہ انبیاء خود مرتبے میں زیادہ ہیں کیا وہ قابل اعتبار نہ ہوں گے جو امت محمدیہ کو شہادت کے لئے پیش کیا جائے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک انبیاء زیادہ قابل اعتبار اور بلند مرتبہ ہیں لیکن اس وقت بدقسمتی سے وہ اپنی قوم کے مقابلے میں ایک فریق کی حیثیت سے ہوں گے اس لئے کسی دوسرے کی شہادت درکار ہوگی اور اگر یہ شبہ کیا جائے کہ جب امت محمدیہ نے اس واقعہ کا مشاہدہ نہیں کیا اور واقعہ کے وقت یہ امت موجود نہ تھی تو یہ غیر عینی شہادت کیسی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شہادت کا منبیٰ یقین ہے چونکہ یقین مشاہدے سے ہوتا ہے اس لئے اس کو یقین کے قائم مقام کرلیا گیا ہے اور یہاں واقعہ چونکہ بطریق وحی معلوم ہوا ہے اس لئے اس کا یقین حاصل ہے گو مشاہدے کے واسطے سے وہ یقین حاصل نہ ہوا ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس طرح ان دو باتوں میں دیکھا کہ تمہارے پاس ہے پوری بات اور مخالفوں کے پاس ناقص ایک یہ کہ تم سب نبیوں کو مانتے ہو اور یہود و نصاریٰ کسی کو مانتے ہیں کسی کو نہیں۔ دوسری یہ کہ تمہارا قبلہ کعبہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے مقرر ہوا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) پیشوا ہے سب کا اور یہود و نصاریٰ کا قبلہ پیچھے ثابت ہوا اسی طرح ہر بات میں تم پورے ہو اور امتیں ناقص ان کو حاجت ہے کہ تم بتائو اور تم کو حاجت نہیں کہ کوئی امت بتادے مگر تمہار نبی۔ (موضح القرآن) اللہ تعالیٰ شاہ صاحب (رح) کی قبر کو اپنی رحمت سے لبریز کردے کیا خوب توجیہ فرمائی یعنی تم دوسروں کے لئے مشعل ہدایت اور رہنما ہو نہ کہ دوسرے تمہارے لئے رہنما ہیں تمہارا رہنما اور واجب الاتباع تو صرف تمہارا نبی ہوسکتا ہے کوئی اور امت تمہاری رہنما نہیں ہوسکتی کیونکہ تم اور تمہاری شریعت کامل ہے۔ تمہاری تہذیب تمہارا تمدن، تمہاری کتاب، تمہارا کعبہ غرض ہر چیز تمہاری ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے اس لئے تم کو دوسروں کی اتباع اور نقل اتارنے کی ضرورت نہیں بلکہ دوسرے تم سے اچھی باتیں حاصل کرنے کے محتاج ہیں تم متبوع اور پیشوا اور رہنما بننے کیلئے بھیجے گئے ہو کسی کے تابع اور پیچھے چلنے کیلئے نہیں پیدا کئے گئے مگر ہاں صرف اپنے نبی محمد ﷺ کی اتباع اور اطاعت کے لئے پیدا ہوئے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) کی توجیہہ پر کسی مزید بحث کی ضرورت نہیں نہ کسی ربط کے بیان کی ضرورت ہے نہ کسی جملہ معترضہ کی تقریر کرنے کی حاجت ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب (تسہیل) 3 اور جس قبلہ کی سمت آپ کچھ عرصہ سے قائم تھے اس کو ہم نے محض اور مصلحت سے تجویز کیا تھا تاکہ ہم اس مخلص مسلمان کو جو رسول کی اتباع اور پیروی کرتا ہے اس بدنصیب شخص سے نمایاں اور متمیز کردیں جو کفر کی طرف الٹا پھرجاتا ہے اور ہمارے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ سمت قبلہ کی عارضی تبدیلی بلا شبہ سخت گراں اور شاق ہوئی مگر ان لوگوں پر کوئی گرانی نہ ہوئی جن کی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی اور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت فرمائی۔ اور جو نمازیں صخرۃ اللہ کی جانب پڑھی گئی ان کا اندیشہ نہ کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمہارے ایمان یعنی تمہاری نمازوں کو ضائع کردے۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑاشفقت کرنے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اصل میں شریعت محمدیہ کا قبلہ تو کعبہ ہی تجویز کردہ تھا اور چناچہ اب آخر میں اسی کو مقرر کردیا گیا۔ البتہ یہ درمیانی عرصہ جو الٹ پھیر ہوئی یہ بندوں کا امتحان لینے کی غرض سے ہوئی تھی کہ دیکھیں کون شخص پیغمبر کا تابع رہتا ہے اور کون اطاعت سے پھرجاتا ہے۔ یہاں امتحان کے لئے علم کا استعمال فرمایا حالانکہ ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰکو اپنے لئے معلوم کرنا مقصود نہیں ان کو تو سب کچھ معلوم ہے البتہ دوسروں کو معلوم کرانا منظور ہوتا ہے یا مجرم پر اتمام حجت مقصود ہوتا ہے اس لئے ہم نے ترجمہ میں متمیز کرنا، نمایاں کردینا، جدا کرنا وغیرہ کیا ہے۔ بعض علمائے کرام نے یوں فرمایا ہے کہ جس چیز کو ہم پہلے سے جانتے تھے کہ وہ موجود کی جائے گی اس کو ہم واقع کرکے فی الحاق موجود جان لیں کیونکہ ان کے علم ازلی میں یہ امر تو موجود ہے کہ میں فلاں چیز کو موجود کروں گا اور فلاں وقت موجود کروں گا لیکن جب تک کوئی چیز واقع نہ ہو اس کو موجود فی الحال جاننا نہیں کہا جاسکتا جب وہ واقع میں موجود ہی نہیں تو اس کو واقع کے خلاف موجود فی الحال کیسے اس کے عمل میں کہا جاسکتا ہے چناچہ مطلب حضرت حق کے جاننے اور ان کے علم کا یہ ہوتا ہے کہ ہم اس کو موجود فی الحال جان لیں اور یہ تغیر معلوم میں ہوتا ہے حضرت حق تعالیٰ کے علم میں نہیں۔ اب اس تقریر پر یوں بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے یہ اس لئے کیا تاکہ رسول کی پیروی کرنے والے اور نہ کرنے والے کو جسکو ہم پہلے سے جانتے تھے موجود فی الحال جان لیں۔ ( واللہ اعلم) اس واقعہ کا اثر بعض کمزور اور کچے مسلمانوں پر ہوا کہ وہ اسلام سے پھرگئے اس کے بعد بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوا کہ اگر اصل قبلہ ہمارا کعبہ ہی تھا اور یہ عارضی تبدیلی بہ عرض ابتلائو امتحان تھی تو اب نمازوں کا کیا ہوگاجو ہم نے سوال سال تک صرہ بیت المقدس کی سمت ادا کی ہیں اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کردیں۔ اس آیت میں نماز کو ایمان فرمایا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ نماز اور ایمان میں بہت ہی گہرا تعلق ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں نماز دین کا ستون ہے جس نے نماز کو قائم رکھا اس نے دین کو قائم رکھا اور جس نے نماز چھوڑ دی اس نے دین کو ڈھا دیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تمہارا قبلہ ابراہیم (علیہ السلام) کیوقت سے کعبہ مقرر ہے اور چند روز بیت المقدس ٹھہرایا ایمان آزمانے کو اور اس میں جو لوگ ایمان پر قائم رہے ان کو بڑا درجہ ہے (موضح القرآن) اب آگے تحویل قبلہ کا حکم مذکور ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

بیشک ہم آپ کے منہ کا بار بار آسمان کی طرف پھیرنا ملاحظہ کر رہے ہیں سو ہم آپ کو اسی قبلہ کی جانب پھیر دینگے جس کو آپ پسند کرتے ہیں بس اب آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجئے اور آئندہ تم سب لوگ جہاں کہیں بھی ہو نماز میں اپنے چہروں کو اسی مسجد حرام کی طرف کیا کرو اور یہ اہل کتاب بھی خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ تحویل قبلہ واقعی ٹھیک ہے اور ان کے رب کی جانب ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں ہے1

ف 1 اور اے نبی ؐ ہم آپ کا وحی کے انتظار میں باربار اپنے منہ کو آسمان کی طرف پھیرنا اور منہ اٹھا اٹھا کر دیکھنا ملاحظہ فرما رہے ہیں لہٰذا آپ اطمینان فرمائیے کہ ہم آپ کو اسی قبلہ کی جانب پھیر دیں گے اور متوجہ ہونیکا حکم دیدیں گے جس قبلہ کو آپ پسند کرتے ہیں سو اب آپ اپنا منہ مسجد حرام کی جانب پھیر لیجئے اور مسجد حرام کی جانب منہ کرکے نماز پڑھا کیجئے اور تم سب یعنی مسلمان اور پیغمبر جہاں کہیں بھی ہو آئندہ نماز میں اپنا منہ مسجد حرام کی ہی جانب کیا کرو اور یہ اہل کتاب عام طور سے ا س بات کو جانتے ہیں کہ یہ کعبہ کو قبلہ معین و مقرر کرنیکا حکم بالکل صحیح، ٹھیک اور ان کے رب کی جانب سے نازل شدہ ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے کاموں سے جو وہ کر رہے ہیں بیخبر اور غافل نہیں ہے۔ (تیسیر) تقلب کے معنی اولنا، بدلنا پھیرنا، الٹ پلٹ کرنا وغیرہ ہے چونکہ آپ حکم الٰہی کے انتظار میں بار باراپنا چہرہ مبارک اٹھا کر آسمان کی طرفدیکھا کرتے تھے کہ شاید کوئی فرشتہ آتا ہو اس حالت کو فرمایا کہ ہم دیکھ رہے ہیں جہاں کہیں کا مطلب یہ ہے کہ خواہ مدینہ میں ہوں یا مدینہ سے کہیں باہر ہوں بلکہ اگر بیت المقدس میں بھی آپ تشریف لے جائیں تو بھی نماز کعبہ کی طرف منہ کرکے پڑھیے۔ اہل کتاب کے علم کی وجہ سے یہ ہے کہ ان کتابوں میں مذکور ہے کہ وہ نبی آخر الزماں ذوالقبلتین ہوگا اور اس کا قبلہ کعبہ ہوگا اس بنا پر وہ جانتے ہیں کہ یہ حکم حق ہے اور رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے بجائے کعبہ کے مسجد الحرام فرمایا اس لئے کہ مدینہ منورہ میں کعبہ بعینہ تو نظر نہ آتا تھا۔ اس لئے جہت کی رعایت سے مسجد حرام کا نام لیا اور دور والوں کا حکم بھی یہی ہے کہ ان کو کعبہ کی جہت اور سمت کی طرف منہ کرنا چاہئے۔ رہا یہ امر کہ مسجد حرام کو مسجد حرام کیوں کہتے ہیں تو یہ اسکی حرمت اور احترام کی وجہ سے اس کا نام رکھا گیا ہے نیز مسجد حرام بلکہ تمام حرم میں قتل و قتال اور شکار وغیرہ کرنا حرام ہے یا اہل تصوف کے نزدیک ماسویٰ اللہ کو دیکھنا وہاں حرام ہے اس آیت سے حکم کی ایک اور علت بھی آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتی ہے وہ یہ کہ کعبہ کو قبلہ تجویز کرنی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ نبی کریم ﷺ کی خواہش کو پورا کرنا منظور تھا اس لئے کعبہ کو قبلہ مقرر کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ کو یہ خواہش کیوں ہوئی کہ کعبہ کو قبلہ مقرر کیا جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپکی استعداد کمالی کا مقتضا یہی تھا کہ آپ ایسی آرزو فرمائیں یا اس لئے کہ چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) کا تعمیر کردہ تھا اس لئے آپ چاہتے ہوں کہ اس کو قبلہ مقرر کردیاجائے اور چونکہ آپ کا مولد اور آپ کی پیدائش شہر مکہ میں ہوئی تھی اس لئے بھی ممکن ہے کہ آپ اسکی تمنا کرتے ہوں اور یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپکی علامات نبوت میں سے یہ علامت مشہور تھی کہ اس نبی کا قبلہ کعبہ ہوگا اس غرض سے آپ کا قلب اس کی خواہش کرتا اور بھی بہت سی وجوہ مفسرین نے نقل کی ہیں۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب تک بیت المقدس کی طرف نماز تھی تو حضرت کا دل چاہتا کعبہ کو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ کرتے شاید فرشتہ حکم لاتاہو کعبہ کی طرف کا پھر یہ آیت اتری تب سے کعبہ مقرر ہوا۔ (موضح القرآن) (تسہیل)
Ayahs 2:145–147

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر آپ اہل کتاب کے سامنے تمام دلائل پیش کردیں تب بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں اور نہ آپ ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے اور اگر آپ نے باوجود اس یقین کے جو آپکے پاس آچکا ہے خدانخواستہ ان کی خواہشات کی پیروی کی تو بیشک آپ بھی اس وقت ظالموں میں سے ہوجائیں گے

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دیک ہے وہ اس رسول کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بعض لوگ ان میں سے وہ بھی ہیں جو دیدائو دانستہ امر حق کو چھپاتے ہیں

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

حق وہی ہے جو آپ کے رب کی جانب سے نازل ہوا سو آپ ہرگز شک کرنیوالوں میں شامل نہ ہوں2

ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ ان اہل کتاب کی ضد اور مخالفت کا یہ حال ہے کہ اگر آپ ان اہل کتاب کے روبرو ہر قسم کے تمام دلائل بھی پیش کردیں تب بھی یہ آپ کے قبلہ کو ماننے والے نہیں اور چونکہ آپ کا قبلہ اب ہمیشہ کے لئے کعبہ مقررہوچکا ہے تو آپ بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں اور ان اہل کتاب کی تو یہ حالت ہے کہ یہ آپس میں بھی ایک فریق دوسرے فریق کے قبلہ کو نہیں مانتا اور اے پیغمبر ﷺ اگر آپ نے اس بات کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح اور قطعی علم آچکا ہے خدانخواستہ کہیں ان اہل کتاب کی خواہشات نفسانی کا اتباع کیا تو یقینا آپ بھی اس وقت ظالموں میں شمار ہوں گے جن لوگوں کو ہم نے کتاب آسمانی عطا کی ہے وہ اس پیغمبر کو خوب ا چھی طرح پہچانتے ہیں اور ایسا پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور ایک جماعت ان میں ایسی ہے کہ وہ لوگ امر حق کو چھپاتے ہیں حالانکہ وہ اس کے حق اور قطعی ہونے کو خوب جانتے ہیں۔ اے پیغمبر ﷺ امر حق وہی ہے جو آپ کے رب کی جانب سے نازل ہوا لہٰذا آپ ہرگز شک کرنے والوں میں شامل نہ ہوں اور آپ کا شمار شک کرنے والوں میں نہ ہو۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کی مخالفت اور سرکشی کا یہ عالم ہے کہ آئندہ کوئی صورت جہت قبلہ میں اتحاد کی نہیں ہے ان کے سامنے دنیا بھر کے دلائل بھی آپ پیش کردیں تو یہ کعبہ کو اپنا قبلہ نہیں بنائیں گے اور چونکہ اب صخرہ بیت المقدس جو عارضی طورپر بعض مصالح ظاہری اور باطنی کے اعتبار سے مقرر ہوا تھا وہ منسوخ ہوچکا تو اب آپ بھی اس منسوخ حکم کی تعمیل نہیں کرسکتے اور ان کی خود آپس میں یہ حالت ہے کہ یہود نے بیت المقدس کی غربی جہت کو قبلہ بنا رکھا ہے اور نصاریٰ نے بیت المقدس کی شرقی جانب کو اختیار کر رکھا ہے جہاں حضرت مریم (علیہا السلام) پر کلمۃ اللہ کا القا کیا گیا تھا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قبلہ کی یہ تقسیم ان کی خود ساختہ تھی یا آسمانی حکم سے کی گئی تھی۔ بہر حال ان حالات میں کیا توقع ہوسکتی ہے کہ یہ اہل کتاب کعبہ کی جہت کو اختیار کرلیں گے البتہ ان میں سے کوئی شخص مسلمان ہوجائے اور اسلام قبول کرلے تو وہ بات دوسری ہے اور آیت زیر بحث میں سے اس سے کوئی تعارض بھی نہیں جو بلاوجہ شبہ کیا جائے۔ اہل کتاب کی خواہشات کی پیروی سے روکنے کا بھی یہ مطلب نہیں کہ جب بہت سی خواہشات کی پیروی کرو گے جب ہی ظالم قرار دئیے جائو گے بلکہ کسی ایک خواہش کی اتباع بھی ظالم بنانے کے لئے کافی ہے جمع کا لفظ قرآن میں اس لئے لائے کہ اہل کتاب میں بکثرت گروہ ہیں اور ہر ایک گروہ کی مختلف خواہشات ہیں۔ اگرچہ آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد آپکی امت کے مسلمان ہوں اور اپنوں پر رکھ کر دوسروں کو سمجھانا ایک عام دستور ہے جو ہر زبان میں پایا جاتا ہے اور یہ جو فرمایا کہ وہ اس نبی کو اور اس کی نبوت کو ایسا پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اپنے بیٹے کی شکل صورت پہچاننے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا کیونکہ بیٹا انسان کو پیارا ہوتا ہے اور اس کو گھڑی گھڑی گود میں لیتا اور پیار کرتا ہے اور اس کو خوب پہچانتا ہے اسی طرح یہ اہل کتاب اپنی کتابوں میں آپ کی صفت پڑھ کر آپ کو خوب پہچانتے ہیں اور ان کو آپ کے نبی آخر الزماں ہونے میں کوئی اشتباہ نہیں ہے است قریر پر اس مشہور شبہ کی گنجائش نہیں رہتی جو بعض لوگوں نے اس تشبیہ پر حضرت عبداللہ بن سلام کی ایک روایت سے شبہ کیا ہے حالانکہ عبداللہ بن سلام کی روایت کا وہ مطلب ہی نہیں ہے جو یہ کہا جائے کہ اقوی اور القین کی ضعف اور متحمل سے تشبیہہ لازم آتی ہے۔ اس روایت میں تو عبداللہ بن سلام ؓ کے ایقان و ادغان کا اظہار ہے اسی بنا پر حضرت عمر ؓ نے ان کو پیشانی کو بوسہ دیا تھا) اگر تفصیل مقصود ہو تو حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز (رح) کی تفسیر عزیزی ملاحظہ کی جائے یہاں بیٹے کے بیٹا ہونے میں تشبیہ نہیں ہے جو کسی نئی بحث کا دروازہ کھولا جائے بلکہ یہاں تو بیٹے کے پہچاننے میں تشبیہہ ہے اس لئے فرمایا کہ کچھ لوگ ان اہل کتاب میں ایسے ہیں جو جان بوجھ کر حق کو چھپاتے اور کتمان حق کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور چونکہ یہ قبلہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امر واقعی ہے۔ لہٰذا اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اے پیغمبر ﷺ آپ شکی قسم کے لوگوں میں سے نہ ہوں بعض حضرات نے یعرفونہ کی ضمیر سے قبلہ کی بحث مراد لی ہے اگرچہ اس کی بھی گنجائش ہے لیکن ہم نے اپنے ترجمہ کے موافق شرح کی ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:148

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر ایک گروہ کی ایک سمت رہی ہے جس کی طرف وہ اپنی عبادت کے وقت منہ کرتا رہا ہے سو مسلمانوں تم نیک کاموں میں سبقت کرو تم جہاں بھی ہو گے اللہ تعالیٰ تم سب کو قیامت میں جمع کردے گا یقینا اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے1

ف 1 اور آخر اس کعبہ کی جہت کو قبلہ مقرر کرنے میں تعجب کی کیا بات ہے ہر قوم ہر گروہ اور ہر ایک ملت کا ایک قبلہ رہا ہے جس کی طرف وہ اپنی عبادت کے وقت منہ کرتا رہتا ہے تو اس میں بحث کرکے اپناوقت کیوں ضائع کرتے ہو تم نیک اعمال میں بڑھنے اور آگے نکلنے کی کوشش کرو تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تعالیٰ تم سب کو اپنے حضور میں حاضر کرے گا یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اس عالم میں ہر گروہ کی خواہ وہ اہل باطل ہو یا اہل حق ہو ایک نہ ایک ایسی جہت ہوا کرتی ہے جس کی طرف وہ اپنی عبادت کے وقت منہ کرتا ہے اہل حق ہو یعنی کسی آسمانی کتاب کا عامل ہو تو آسمانی حکم کی بنا پر اور اہل باطل ہو تو اپنی رائے اور اپنی سمجھ سے کوئی نہ کوئی سمت اختیار کرتا رہا ہے پھر اگر امت محمدیہ ﷺ جو ایک مستقل امت اور مستقل شریعت کی پابند ہے اس کے لئے بھی ایک قبلہ مقرر کردیا گیا تو آخر اس میں بلاوجہ بحث کیوں کرتے ہو بس اس بحث کو ترک کرو نیکیاں اور اعمال خیر کے حاصل کرنے میں لگ جائو اور یہ بات یادرکھو کہ تم کہیں بھی ہو یا کوئی جہت بھی اختیار کرو تم سب کو ایک دن اللہ تعالیٰ اپنے روبرو حاضر کرنے والا ہے اور یہ سب کو سمیٹ کر قیامت کے میدان میں جمع کرلینا اللہ تعالیٰ پر کچھ دشوار نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ ضد کرنی کہ ہمارا قبلہ بہتر ہے یا تمہارا عبث ہے بہتری اسی کی ہے جو نیکیوں میں زیادہ ہو ہر امت کو ایک ایک قبلہ کا حکم ہوا تھا آخر سب کو ایک جگہ جمع ہونا ہے۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب کی یہ تفسیر اس مشہور قول کی بنا پر ہے جو عام طورپر لوگوں نے اختیار کیا ہے یعنی ولکلٍ سے ہر امت مراد ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہر امت کیلئے اللہ تعالیٰ ایک قبلہ معین کرتا رہا ہے لہٰذا امت محمدیہ ﷺ کا قبلہ بھی اس نے کعبہ کو مقرر کردیا لیکن احقر کا ترجمہ اس سے عام ہے اور میں نے ولکل سے ہر ملت اور اس کے ماننے والے مراد لئے ہیں خواہ وہ ملت باطلہ ہو یا ملت آسمانی ہو اور اس کے ماننے والے خواہ کتابی ہوں یا غیر کتابی اگر وہ ملت کسی پیغمبر کی ہوگی تب تو ظاہر ہے کہ ان کا قبلہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مقرر ہوا ہوگا اور اگر وہ ملت کافرہ اور ملت مشترکہ ہوگی تو اس نے اپنی رائے اور اپنے بڑوں کے دیکھا دیکھی کوئی جہت اور سمت اپنی عبادت کے لئے مقرر کی ہوگی۔ بہر حال عبادت کے لئے کسی سمت خاص کا تقرر ایک عام دستور کے مطابق ہے۔ ملت آسمانی اور ملت کافرہ میں فرق یہ ہے کہ پہلا گروہ اپنا قبلہ خدا کے حکم سے تجویز کرتا ہے اور قبلہ کو محض عبادت کے وقت اسکی طرف منہ کرلینا سمجھتا ہے اور صرف اپنی تنظیم کی غرض سے ایسا کرتا ہے اور دوسرا گروہ یہ کام محض شیطان اور اصنام پرستوں کے مشورہ سے کرتا ہے اور جہت قبلہ کہ محض اس کی طرف منہ کرلینے کی چیز نہیں سمجھتا بلکہ اسکو معبود سمجھ کر اس کے آگے جھکتا ہے۔ بہر حال جب یہ دستور ایسا عام ہے تو امت محمدیہ نے ایسا کونسا نیا کام کیا ہے جو اس کو ہدف ملامت بنا کر مطعون کیا جارہا ہے اور ہر جگہ اسی کا چرچا ہورہا ہے اہل کتاب کہہ رہے ہیں انبیاء کا قبلہ اسی نبی نے ترک کردیا۔ مشرک کہہ رہے ہیں کہ اگر ابراہیم کی مسجد کو قبلہ بنانا تھا تو بیت المقدس کو کیوں قبلہ بنایا تھا اس آیت میں مسلمانوں کو بےموقعہ بحث و مباحثہ سے روکنا اور اعمال خیر کی ترغیب دینا مقصود ہے۔ بعض حضرات نے خیرات سے مراد قبلہ کا حکم لیا ہے یعنی کعبہ کو قبلہ بنانا یہ عمل خیر ہے تم اس حکم کی تعمیل میں عبادت کرو۔ بعض لوگوں نے اعمال خیر کو عام بنایا اور فاستبقوا کے امر کو عام کہا ہے یعنی یہ حکم اہل کتاب اور مسلمانوں سب کو ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جو حکم دینا تھا وہ دے چکا اب تم لوگ بےکار بحث مباحثہ نہ کرو بلکہ نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو۔ (واللہ اعلم) یہ آیت بھی منجملہ اور اسباب و علل کے ایک سبب ہے یعنی جس طرح قبلہ کے سلسلے میں اور اسباب اور مصالح ذکر فرمائے تھے یہ بھی اس حکم کی ایک مصلحت ہے کہ جس طرح اور سب امتوں کا قبلہ رہا ہے اس امت مستقلہ اور متعدلہ کا بھی ایک قبلہ ہوناچاہئے تھا۔ استباق ایسے بڑھنے کو کہتے ہیں جس میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور واقعی اعمال خیراسی قابل ہیں کہ ان میں ایک کو دوسرے سے بڑھنے اور آگے نکلنے کی ضرورت ہے۔ والسابقون السابقون اولک المقربون اب آگے اسی قبلہ کی عمومیتکا اعلان فرماتے ہیں کہ مسلمان خواہ سفر میں ہوں یا حضر میں ہوں ان کا قبلہ مسجد حرام ہی ہوگا۔ (تسہیل)
Ayah 2:149

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور آپ جہاں کہیں سے بھی باہر جائیں یعنی سفر کے لئے تو اپنا منہ نماز پڑھتے ہوئے مسجد حرام کی جانب کرلیا کیجئے اور بیشک یہ حکم حق ہے اور آپ کے رب کی جانب سے ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ ہرگز اس سے بیخبر نہیں ہے2

ف 2 اور آپ جس جگہ سے بھی کہیں باہر سفر میں تشریف لے جائیں تو اپنا چہرہ نماز میں مسجد حرام کی طرف رکھا کیجئے اور یقینا یہ حکم حق اور امر واقعی ہے اور آپ کے رب کی جانب سے نازل شدہ ہے اور تم جو کام کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے غافل اور بیخبر نہیں ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ خواہ آپ مقیم ہوں یا مسافر آپ کا قبلہ کعبہ ہی ہوگا البتہ جہاد کے موقعہ پر اگر کوئی خطرہ پیش ہو یا سفر میں سواری پرنوافل پڑھنے ہوں تو اس کے احکام جدا ہیں اور ان کا مبنیٰ مجبوری یا رعایت ہے اگرچہ آیت میں حضر کا ذکر نہیں ہے لیکن اول تو سفر سے ہی حضر کا حکم سمجھا جاتا ہے نیز جب آپ کو ابتداء بیت المقدس سے کعبہ کی جانب پھرجانے کا حکم دیا گیا تو آپ مقیم تھے اس لئے اقامت کا حکم متعین ہے اور یہ سفر کا حکم اگرچہ وحیث ماکنتم سے بھی سمجھاجاتا ہے لیکن یہاں اس کو واضح کرکے بیان فرمایا اور آگے پھر تاکید کے طور پر فرماتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مسجد الحرام کہتے ہیں مکہ کی مسجد کو حرام کے معنی جس جگہ بند رہنا چاہئے اس مکان میں کئی باتیں منع ہیں آدمی کو مارنا اور جانور کو ستانا اور درخت اور گھاس اکھاڑنا اور پڑا مال اٹھانا۔ (موضح القرآن) (تسہیل)