2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 2:150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور جہاں کہیں سے آپ باہر جائیں تو اپنا منہ نماز پڑھتے وقت مسجد حرام کی جانب رکھا کیجئے اور تم لوگ جہاں کہیں بھی ہوا کرو اپنے منہ نمازوں میں اسی طرف کیا کرو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف الزام قائم کرنیکا کوئی موقع نہ رہے مگر ہاں وہ جو ان میں سے بالکل ہی ہٹ دھرم ہیں سو ایسے لوگوں سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرتے رہو اور اس لئے بھی تاکہ تم پر اپنے فضل کی تکمیل کروں اور اس واسطے بھی تاکہ تم صحیح راہ پائو3

ف 3 اور آپ جہاں کہیں سے بھی باہر سفر میں جائیں تو نماز پڑھتے وقت اپنے چہرے یعنی اپنے آپ کو مسجد حرام کی طرف رکھا کیجئے۔ اور اے مسلمانو ! تم بھی جہاں کہیں ہو یہ بات یاد رکھو کہ نماز پڑھنے میں اپنا منہ اسی مسجد حرام کی طرف رکھاکرو یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ تمہارے مخالف لوگوں کو تمہارے مقابلے میں کوئی اعتراض کرنے اور الزام قائم کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے مگر ہاں جو لوگ بالکل ہی ناانصاف اور ہٹ دھرم ہیں وہ تو باز آئیں گے نہیں سو ایسے غلط کار لوگوں سے کسی قسم کا خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرتے رہو اور میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قبلہ کو اختیار کرنے کا حکم تم کو اس لئے بھی دیا تھا تاکہ تم پر اپنے احسانات اور اپنی نعمتوں کی تکمیل کردوں اور اس غرض سے بھی تاکہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور اس کے قبلہ کی طرف راہ پائو۔ (تیسیر) یعنی وہ معترض جو یوں کہتے تھے کہ نبی آخر الزماں کی علامت تو ہماری کتابوں میں یہ تھی کہ نمازوں میں اس کا قبلہ کعبہ ہوگا یا وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ پیغمبربات بات میں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام لیتا ہے۔ لیکن قبلہ کے معاملہ میں ان کی مخالفت کرتا ہے ایسے معترضین کا منہ بند ہوجائے اور یہ بھی منجملہ اور مصلحتوں کے ایک مصلحت ہے کہ معقول طریقہ کار سے مخالفوں کو خاموش اور ساکت کر ایاجائے ناانصاف اور ہٹ دھرم لوگوں سے یا تو عرب کے کفارمراد ہیں یا یہو د کے معاندین کہ یہ لوگ کچھ اور کہہ دیں گے سو ایسے نالائقوں کی کوئی فکرنہ کرنا چاہئے اور نہ اس قسم کے معاندوں کا کوئی خوف کرنا چاہئے اتمام نعمت فرمایا مسلمانوں کے لئے کعبہ کی جہت مقرر کرنے کو جو افضل و اعلیٰ جہت ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب کوئی نعمت نہیں رہی جس کا اتمام کیا جائے کیونکہ دین کی تکمیل اور اتمام نعمت کا ذکرانشاء اللہ سورة مائدہ میں بھی آئے گا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ قبلہ کے اعتبار سے تم پر اپنے احسان کی تکمیل کردوں تھتدون کے بھی کئی مطلب ہیں اور ہم نے ایک معنی بیان کردئیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے صحیح راہ یابی مقصود تھی کہ تم راہ حق حاصل کرلو اور اس پر قائم رہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ اتمام نعمت جنت میں داخل ہونا ہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ اتمام نعمت اسلام پر موت کا آجانا ہے اور یہ بھیہوسکتا ہے کہ اتمام نعمت حضرت حق تعالیٰ کا دیدار ہو۔ بہر حال چونکہ قبلہ کا معاملہ نہایت اہم تھا اور اس مسئلہ کو مختلف وجوہات کی بنا پر اہمیت حاصل تھی اس لئے حضرت حق نے اس کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔ معترضین کے جواب کعبہ کی فضیلت اور امت محمدیہ کی شرافت و بزرگی، بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے اور پھر کعبہ کی طرف رجوع کرنے کے مصالح اور حکم اور مسلمانوں کو نڈر اور مخالفوں کے طعن سے بےپرواہ ہو نیکی ہدایت اور تکمیل احسانات کا اعلان اور حکم قبلہ کی اہمیت کے لحاظ سے بار بار تاکید غرض ان تمام باتوں کو مفصل بیان فرمایا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر کو تمہید کے طورپر بیان فرمایا اور ان تمام مباحث مذکورہ کو ایک بہترین اعلان پر جس کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا سے ہے ختم فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:151–152

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

یہ احسان بھی اسی طرح ہے جس طرح ہم نے تم لوگوں میں تمہارے ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ہماری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور تم کو پاک صاف کرتا ہے اور تم کو کتاب اور دانائی کی باتیں سکھاتا ہے اور تم کو ان چیزوں کی تعلیم دیتا ہے جن کو تم خود نہیں جان سکتے تھے

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم ان نعمتوں پر مجھ کو یاد کرو میں تم کو یاد رکھوں گا اور میرے احسانات کا شکریہ ادا کرتے رہو اور میری نافرمانی نہ کیا کرو1

ف 1 جس طرح ہم نے کعبہ کو قبلہ مقرر کرکے تم پر اپنی نعمت کی تعمیل فرمائی اسی طرح ہم نے تم لوگوں میں ایک عظیم المرتبت رسول بھیجا جو تم میں ہی سے ہے اور اسکی شان یہ ہے کہ وہ تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہی اور تم کو م شرکو کفر کی گندگی سے پاک کرتا ہے اور محاسن اخلاق کے ساتھ تمہیں سنوارتا ہے اور تم کو کتاب الٰہی کی تعلیم دیتا ہے اور اس کتاب الٰہی کے احکام کی حکمتیں اور ان کے رموز سکھاتا ہے اور فہم و دانش کی باتیں بتاتا ہے اور تم کو وہ وہ باتیں بتاتا ہے جن کی تم کو نہ تو خبر تھی اور جن کو نہ تم خود جان سکتے تھے لہٰذاتم مجھ کو یاد کرو میں بھی تم کو اپنی رحمت و مہربانی سے یاد رکھوں گا اور میرے احسانات کا شکر بجا لاتے رہو اور میری نافرمانی اور ناسپاسی نہ کرو۔ (تیسیر) کاف تشبیہہ میں بعض مفسرین نے اتمام نعمت کے سلسلے میں بجائے کعبہ کے آخرت کو اختیار فرمایا ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمانے کے ساتھ ربط دیا ہے۔ بعض نے فاذکرونی کے ساتھ اس کاکو ربط دیا ہے چونکہ اس قسم کی ترکیبوں میں وسعت ہے اس لئے جو ترکیب چاہیں اختیار کریں چونکہ کچھ احسانات اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا وغیرہ کے واقعات اوپر بیان ہوچکے ہیں اور آخر میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا تذکرہ فرمایا ہے تو مطلب یہ ہے کہ ابتداء میں بھی احسان کا ذکر اور آخر میں بھی احسان کا ذکر کرنے سے یہ بات معلوم ہوجائے کہ امت محمدیہ کی زندگی حضرت حق کے احسانات میں گھری ہوئی ہے اور تمام زندگی اور تمام حالات ظاہری و باطنی حضرت حق کے انعامات اور احسانات پر مشتمل ہیں باقی آیات و احکام تزکیہ کتاب حکمت وغیرہ کے الفاظ وہی ہیں جو پہلے پارے کے آخر میں گزر چکے ہیں۔ ہم نے تیسیر میں کافی تفصیل کردی ہے مالم تکونو اتعلمون کا مطلب صاف ہے کہ جو باتیں بدون وحی الٰہی کے نہ معلوم ہوسکیں ان کو کس کی مجال ہے کہ سوائے انبیاء کے معلوم کرسکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اپنے پیغمبر کی معرفت وہ باتیں ہم کو بتائیں جس سے دنیا کے تمام انسان یکسرنا آشنا تھے جو دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کعبہ کے زمانے میں فرمائی تھی وہ لفظ بہ لفظ پوری ہوئی دونوں آیتوں کو بہ یک وقت سامنے رکھ کر پڑھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کا چربہ ہے ایک طرف خلیل (علیہ السلام) ہاتھ پھیلا پھیلا کر دعا کر رہے ہیں اور دوسری طرف قدرت کی خاموش قلم قبولیت دعا کا اعلان لکھ رہی ہے تم مجھ کو یاد کرو میں تم کو یاد رکھوں گا الفاظ مقابلہ کے لئے استعمال فرمائے ہیں باقی کہاں بندے کا ذکر اور کہاں ان کی یاد پھر لطف یہ ہے کہ انعامات الٰہی پر خدا کا ذکرکرنا یا ان نعمتوں کو یاد کرکے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری میں مشغول ہونے پر بھی صلہ اور جزا کا اعلان فرمایا کہ اگر تم میری نعمتوں پر شکریہ کے طورمیری اطاعت اور میرے محسن ہونے کا تذکرہ کرو گے تو اس ذکر پر بھی میں تم کو نوازوں گا اور میں بھی دنیوی مصائب و آلام کے موقع پر اور قبر کی وحشت اور میدان حشر کی گھبراہٹ میں تم کو فراموش نہیں کرونگا۔ آگے کے الفاظ میں شکر کی تاکید فرمائی ہے جو خود از زیادہ نعمت کا موجب ہے ۔ لئن شکرتم لازیدتکم یعنی جس قدر شکر کرتے جائو گے میں نعمتیں بڑھاتا جائوں گا۔ دوسرے جملہ میں ناسپاس اور ناشکری کو ممنوع قراردیا ہے اور یہ بھی مہربانی ہے کہ دوا کے ساتھ پرہیز کی بھی تاکید کی جارہی ہے اور ان چیزوں کے ممنوع ہونے کا اعلان کر رہے ہیں جو مضر ہیں کیونکہ کفران نعمت سلب نعمت کو اسی طرح مستلزم ہے جس طرح بد پرہیزی بربادیٔ صحت کو بلکہ موت کو مستلزم ہے۔ ولئن کفر تم ان عذابی لشدید سبحان اللہ ! کیا کلام ہے اور کس قدر رعائتیں ہیں کہ جن کا احاطہ ناممکن ہے۔ حدیث قدسی میں آتا ہے اے ابن آدم جب تو نے میرا ذکر کیا تو میرا شکر ادا کیا اور جب تو نے مجھ کو فراموش کردیا تو میرا کفر کیا۔ حضرت امام غزالی (رح) فرماتے ہیں ذکر کبھی زبان سے ہوتا ہے کبھی قلب سے اور کبھی جوارح سے زبان کا ذکر تو یہ ہے کہ انسان سبحان اللہ الحمد اللہ وغیرہ کہے قلب کا ذکر یہ ہے کہ دلائل قدرت پر غور وفکر کرے اور جوارح کا ذکر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں منہمک ہوجائے اور بندے کا کوئی عضو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرنے پائے۔ ایک اور حدیث قدسی میں ہے جسکو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے دونوں ہونٹ حرکت کرتے ہیں تو میں اس کے پاس اور اس کے ساتھ ہی ہوتا ہوں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے ذاکر کی مثال ایسی ہے جیسا زندہ شخص اور جو ذکر نہیں کرتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے میت ذکر کی فضیلت میں بکثرت احادیث مروی ہیں جو کتب احادیث سے معلوم ہوسکتی ہیں۔ بعض علماء مفسرین نے بندے کے ذکر کی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی اس طرح تفصیل کی ہے کہ تم مجھ کو اطاعت کے ساتھ یاد کرو میں تم کو اپنی رحمت اور مغفرت کے ساتھ یاد کروں گا تم مجھ کو مجاہدے کے ساتھ یاد کرو میں تم کو مشاہدہ کے ساتھ یاد کروں گا تم مجھ کو دعا کے ساتھ یاد کرو میں تم کو اجابت کے ساتھ یاد کروں گا تم مجھ کو تذلل اور عاجزی کے ساتھ یاد کرو میں تم کو تفصل اور اپنی فضیلت کے ساتھ یاد کروں گا تم مجھ کو لوگوں کی جماعت میں یاد کرو میں تم کو فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا تم مجھ کو آرام و عیش کی حالت میں یاد کرو میں تم کو مصیبت و بلا میں یاد رکھوں گا ۔ تم مجھ کو خوشحالی میں یاد کرو میں تم کو تنگی اور بیماری میں یاد کروں گا تم مجھ کو آسانی اور یسر میں یاد کرو میں تم کو سختی میں یاد کروں گا تم مجھ کو زندگی میں یاد کرو میں تم کو مرنے کے بعد یاد کروں گا تم مجھ کو دنیا میں یاد کرو میں تم کو آخرت میں یاد کرو گا تم مجھ کو صدق و اخلاص کے ساتھ یاد کرو میں تم کو خصوصیت اور اختصاص کے ساتھ یاد کروں گا تم مجھ کو عبودیت کے ساتھ یاد کرو میں تم کو ربوبیت کے ساتھ یاد کروں گا۔ (تسہیل)
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو صبر سے اور نماز سے قوت حاصل کرو بیشک اللہ صبرکرنیوالوں کے ساتھ ہے2

ف 2 اے ایمان والو ! تم محنت اٹھانے اور تکلیف برداشت کرنے اور نماز پڑھنے سے قوت اور سہارا حاصل کرو اور صبرو نماز سے مدد لو۔ اور یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ صبرکرنیوالوں کے ساتھی اور ہمراہی ہیں اور وہ صبر کرنیوالوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ (تیسیر) چونکہ اوپر کی آیت میں شکر بجا لانے اور نا شکری اور ناسپاسی سے بچنے کا حکم فرمایا تھا شکرنام ہے اطاعت گزاری اور فرمانبرداری کا اور کفرنام ہے ترک شکر یعنی معصیت اور نافرمانی کا اور چونکہ ان دو باتوں کے بجا لانے میں انسان کو مختلف قسم کی تکالیف کا سامنا ہوتا ہے حکم کی بجا آوری میں بھی محنت اور حنطوظ نفس کو ترک کرنے میں ب ھی تکلیف اس لئے ان دونوں باتوں کے سہل اور آسان ہونے کا طریقہ تعلیم کرتے ہیں کہ صبر کے خوگر اور نماز کے عادی ہوجائو اور ان دونوں چیزوں سے استعانت اور مدد حاصل کرو تو شکر کی بجا آوری اور کفر سے حافظ ہوجائیگی یا ربط کی تقریریوں ہوسکتی ہے کہ اوپر دشمنوں کے طعن وتشنیع کا ذکر کیا تھا اور ان کے اعتراضات بیان کئے تھے۔ جہاں تک معترضین کے جوابات کا تعلق تھا اور دلائل کے ساتھ ان کا رد کرنا تھا وہ تو اوپر بیان کردیا اور جہاں تک مسلمانوں کو ان لغو اعتراضات اور بےہودہ طعن وتشنیع سے تکلیف پہنچنے کا تعلق ہے اس کا مداوا اس آیت میں بیان فرماتے ہیں کہ صبر کی عادت ڈالو اور نماز کے پابند رہو تو اس قسم کے طعن وتشنیع اور اعتراضات سے جو اثر طبائع پر ہوتا ہے وہ زائل ہوجائیگا نیز یہ کہ اوپر ذکرکا بیان تھا اور نماز خود ایک مستقل ذکر ہے اور ایسا ذکر ہے جو معاصی اور منیہات سے روکتی ہے اس لئے لا تکفرون کا علاج بھی ہے اور صبرچون کہ مختلف قسم کی چیزوں پر ہوتا ہے ایک طعن وتشنیع پر صبر ہے ایک مار پیٹ پر صبر ہے ایک قتل پر صبر ہے جو عام طورپر میدان جہاد میں پیش آتا ہے جس طرح مصائب میں کمی بیشی ہے اسی طرح صبر اور اس کے اجر میں کمی اور زیادتی ہے۔ غرض آگے کی آیتوں میں کچھ مصائب و آلام کا ذکر ہے امتحان اور ابتلا کا اظہار ہے اور بعد میں بشارت اور ثواب کا اعلان ہے اور یہ چیز مھتدون تک مسلسل ہے۔ نیزان آیات ما سبق میں ایک بات بالکل صاف اور نمایاں تھی کہ امت محمدیہ ﷺ ایک تبلیغی اور اپنے پروگرام کو دنیا سے تسلیم کر انیوالی جماعت ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی جماعت سے باطل کی ہر قوت ٹکراتی اور اس کو پاش پاش کرنی کی فکر کرتی ہے اس لئے نہ معلوم مسلمانوں کو کہاں کہاں اور کس کس سے مقابلہ کی نوبت آئے اور کس قدر جانی اور مالی نقصان برداشت کرنے پڑیں۔ اس لئے ہر قسم کے چھوٹے بڑے نقصانات اور مصائب اور ان کے اجر کو بتایا تاکہ مسلمانوں میں ان سب مصائب کو برداشت کرنے کی استعداد پرورش پائے اور وہ اس روشنی میں ہر امتحان میں پامردی کا ثبوت دیں اور ثابت قدم رہ کر اجرو ثواب کے مستحق ہوں۔ اگر آپ آگے کی آیتوں کا ترجمہ پڑھیں گے تو ربط آیات اور ان کا مطلب سمجھنے میں آسانی ہوگی اور انشاء اللہ بڑی مدد ملے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں سے اشارت ہے کہ جہاد میں محنت اٹھائو اور مضبوطی اختیارکرو ۔ (موضح القرآن) (تسہیل)
Ayahs 2:154–156

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں شہید کئے جائیں ان کو یوں نہ کہو کہ وہ مردے ہیں بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں لیکن تم ان کی زندگی کا ادراک نہیں کرسکتے

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور البتہ ہم تمہیں قدرے خوف اور بھوک اور مال و جان کے نقصان اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور آپ ان صبر کرنیوالوں کو بشارت دے دیجئے

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

کہ جب ان پر کسی قسم کی کوئی مصیبت بھی آتی ہے تو وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ملک ہیں اور ہم سب اسی کی طرف واپس جانیوالے ہیں3

ف 3 اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کردئیے جائیں ان کے متعلق یوں نہ کہو کہ وہ مردے ہیں اور وہ مرچکے ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ تم ان کی حیات کا ادراک نہیں کرسکتے اور یاد رکھو ہم تم کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کریں گے اور قدرے خوف اور کسی قدر فقرو فاقہ سے اور تھوڑے سے مالی و جانی نقصان اور پھلوں کی کمی سے تمہارا امتحان لیں گے اور اے پیغمبر آپ ایسے صبر کرنیوالوں کو بشارت دیدیجئے جن کی حالت یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت بھی پہنچتی ہے تو وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور ہم سب کی بازگشت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے اور ہم سب اسی کی طرف واپس ہونے والے ہیں۔ (تیسیر) اللہ کی راہ کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے واسطے اور اعلاء کلمۃ اللہ کی غرض سے جنگ کرتے ہیں اور اس میں مارے جاتے ہیں اور اگرچہ اصولاً ان کے لئے یہ کہنا جائز ہے کہ فلاں شخص مرگیا فلاں صاحب کا انتقال ہوگیا یا وہ شہید ہوگیا لیکن شہید فی سبیل اللہ کو چونکہ عالم برزخ کی زندگی میں ایک خاص فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے اس لئے اس کو عام مردوں کی طرح سمجھنے اور دوسرے مردوں پر قیاس کرنے سے روکا گیا ہے اور اس امر کی ممانعت کی گئی ہے کہ ان کو عام مردوں میں شمار نہ کرو۔ اگرچہ عالم برزخ میں ہر شخص کو ایک قسم کی زندگی عطا ہوتی ہے جس میں ابتدائی پوچھ گچھ کے علاوہ اس کے عذاب وثواب کا ٹھکانہ اس کو دکھایاجاتا ہے اور اس کو جزاو سزا کا ادراک ہوتا ہے لیکن شہید فی سبیل اللہ کی حیات عام مردوں سے قوی ہوتی ہے جس کا اثر اس کے جسم کو بھی پہنچتا ہے اور اس کا جسم زمین کی خورد وبرد سے محفوظ رہتا ہے اگرچہ یہ بات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی خصوصیات میں سے ہے لیکن شہید کو بھی یہ مرتبہ عطا کیا ہے اور وہ جس طرح دفن کیا جاتا ہے اسی طرح قیامت میں اٹھایاجائے گا بلکہ اس کے جسم سے تازہ خون بہتا ہوگا۔ یہ بات تو ہر شخص سمجھتا ہے کہ موتکاتعلق جس سے ہے روح تو ہر مرنے والے کی اپنی حالت پر رہتی ہے اور اس میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا البتہ اس جسم سے جسکے ساتھ وہ وابستہ تھی اس کا تعلق ختم ہوجاتا ہے اور روح جو ترقی جسم کے ساتھ کر رہی تھی وہ ترقی اس کی ختم ہوجاتی ہے اور اسی طرح و ہ دنیوی نعمتیں جو کھانے اور پینے سے حاصل تھیں وہ بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ گویا روح کا جسم سے علیحدہ ہونا دو باتوں کو صاف نمایاں کردیتا ہے ایک عملی ترقی اور دوسری دنیوی زندگی کے مادی فوائد یہی وجہ ہے کہ مرنے کے بعد مرنے والے کا مال تقسیم کرلیا جاتا ہے اور اسکی بیوہ سے نکاح کیا جاسکتا ہینہ اب کوئی ترقی کرسکتا ہے اور نہ اپنے مال سے کوئی فائدہ حاصل کرسکتا ہے انہی دو اعتبار سے شہداء کی زندگی عام مسلمانوں سے مختلف ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں ہر ابن آدم کا عمل جب ابن آدم مرجاتا ہے تو ختم ہوجاتا ہے لیکن مجاہد فی سبیل اللہ کا عمل ختم نہیں ہوتا فانہ ینی لہ عملہ الی یوم القیمۃ اس کا عمل قیامت تک اس کے لئے بڑھتا رہتا ہے۔ دوسری بات کھانا پینا اور مختلف نعمتوں سے بہرہ مند ہونا تو اس کی بھی احادیث صحیحہ میں تصریح موجود ہے کہ شہداء کی ارواح سبز یا سفید پرندوں کے حواصل میں داخل کردی جاتی ہیں وہ پرندے جنت میں جہاں چاہیں کھاتے پھرتے رہیں اور شام کو عرش الٰہی کی قندیلوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں بھی یرزقون فرحین فرمایا ہے۔ بہر حال لذات اور اعمال دونوں کے اعتبار سے ان کو زندگی کے فوائد حاصل ہیں ان کے جسم پر دنیا کی زمین تصرف نہیں کرسکتی باقی کسی اور وجہ سے ان کی لاش برباد کردی جائے تو اس کا امکان ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عرصہ دراز تک محفوظ رہتی ہے۔ اسی طرح سبز پرندوں کی کیفیت اور کھانے پینے کی کیفیت بھی نہیں سمجھائی جاسکتی۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ عالم برزخ میں ا ن سے ایک امتیازی سلوک برتا جاتا ہے خواہ اس کی کیفیت کچھ ہو اور اس کو خواہ کسی الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہو۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ کی ارواح مقدسہ پر جو اثرات حیات مرتب ہوتے ہیں وہ شہدا سے بہت قوی اور اعلیٰ ہوتے ہیں حتیٰ کہ ان کی ازواج مطہرات سے کوئی شخص نکاح بھی نہیں کرسکتا اور نہ ان کا کوئی ترکہ تقسیم ہوسکتا ہے عدم شعور کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری سمجھ سے ان کی زندگی بالاتر ہے اور یہ واقعہ بھی ہے کہ دوسرے عالم کی صحیح کیفیات کو بجز نفوس قدسیہ اور ارواح طیبہ کے کون سمجھ سکتا ہے ۔ نقصانات میں آزمائش کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ بات ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ آزمائش و امتحان خیر اور شردونوں طریقوں پر ہوتا ہے جہاد کے موقعہ پر تو یہ نقصانات عام طورپر پیش آتے ہیں اور دشمنوں کے ہجوم کیوقت ان امور کا پیش آنا ظاہری ہے اور جہاد کے علاوہ بھی اس قسم کے حادثات سے ایک انسان دوچار ہوتا ہی رہتا ہے دشمن کے حملہ کا خوف، فقروفاقہ، لڑائی کے وقت سامان خوراک کی کمی، جانوں اور مالوں کا خرچ، زراعت کی تباہی وغیرہ یہ ایسی باتیں ہیں جو بالعموم اور جہاد کے موقعہ پر بالخصوص پیش آتی رہتی ہیں اس قسم کے مصائب پر صبر کرنے والوں کو بڑی بشارتیں ہیں امتحان کا مطلب یہاں بھی وہی ہے جو اوپر عرض کیا تھا دوسروں پر ظاہر کرنے کی غرض سے یا خود مبتلا پر ظاہر کرنے کی غرض سے اس قسم کے امتحانات ہوتے رہتے ہیں اور جس کسی کا مرتبہ زیادہ ہوتا ہے وہ اس قسم کے امتحانات میں زیادہ مبتلا ہوتا ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت حق جل مجدہ جس بندے کو پسند فرماتے ہیں اور دوست رکھتے ہیں اس کی طرف بلائیں اس سرعت کے ساتھ آتی ہیں جس طرح نشیب میں پانی دوڑتا ہے۔ نبی کریم ﷺ معمولی سی معمولی تکلیف کے موقعہ پر بھی انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا کرتے تھے ایک دفعہ ہوا سے چراغ بجھ گیا تو آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بھی کوئی مصیبت ہے فرمایا عائشہ ہر وہ چیز جس سے دل کو پریشانی اور جی کو قلق ہو اس پرانا للہ پڑھنا چاہئے۔ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں جو بندہ مصیبت کے وقت بجائے گھبرانے اور چلانے اور رونے کے اس کو پڑہتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس کو اس سے نقصان کا نعم البدل عطا فرماتا ہے اور آخرت کے لئے اس کا اجر وثواب جمع کرلیتا ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) سے منقول ہے کہ اس آیت میں خوف سے مراد اللہ تعالیٰ کا خوف ہے اور جوع سے مراد رمضان شریف کے روزے ہیں اور نقص من الاموال سے مراد زکوۃ ہے اور انفس سے مراد امراض اور بیماری ہیں اور نقص ثمرات سے مراد اولاد کی موت ہے کیونکہ اولاد انسان کے قلب کا پھل ہے۔ ترمذی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ جب کسی بندے کا لڑکا مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے لڑکے کو قبض کرلیا۔ وہ عرض کرتے ہیں ہاں ہم نے اس کی جان قبض کرلی ؟ ارشاد ہوتا ہے تم نے میرے بندے کے قلب کا پھل توڑ لیا۔ و ہ عرض کرتے ہیں الٰہی ایسا ہی ہوا۔ ارشاد ہوتا ہے پھر میرے بندے نے کیا کہا، فرشتے عرض کرتے ہیں اس نے آپ کی حمد بیان کی اور انا للہ وانا الیہ راجعون کہا ارشاد ہوتا ہے اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس گھر کا نام بیت الحمد رکھو اب آگے اس بشارت کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:157

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی جانب سے خاص خاص عنایتیں بھی ہونگی اور عام رحمت بھی ہوگی اور یہی لوگ صحیح راہ یافتہ ہیں4

ف 4 یہ حضرت صابرین وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی جانب سے خاص خاص عنایتیں بھی نازل ہونگی اور عام رحمت بھی جس میں سب شریک ہوں گے ان پر توجہ ہوگی اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی صحیح اور حقیقی مصد کی جانب رہنمائی کی گئی ہے۔ (تیسیر) صلوۃ اور رحمت متقارب المعنی ہیں ابن عباس نے فرمایا یہاں صلوٰۃ سے مراد مغفرت ہے یا ثنا حسن ہے بعض نے کہا صلوٰۃ کے ساتھ رحمت محض تاکید کے لئے کہا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر رحمت کے بعد رحمت اور مہربانی پر مہربانی نازل ہوتی رہے گی گویا یہ لوگ پیہم اور متواتر مہربانیوں کے مستحق ہوں گے یا وہ مطلب ہے جس کی طرف ہم نے ترجمہ میں اشارہ کیا ہے کہ عام بندوں پر جو مہربانی ہونے والی ہے اس میں تو یہ شریک ہی ہونگے اور وہ مہربانی اور رحمت تو ان کو میسر ہی ہوگی۔ اس کے علاوہ ان حضرات پر خاص مہربانیاں اور عنایتیں بھی ہونگی جو ان کی شان اور ان کے مرتبے کے مناسب ان پر نازل ہونگی۔ صحیح مقصد سے مراد جنت ہے یا راہ حق وثواب ہے اور ہوسکتا ہے کہ صبر کرنے اور انا للہ وانا الیہ راجعون کہنے کی توفیق ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اصل حقیقت کی جانب رہنمائی ہو کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو مالک اور نقصان کا تدارک کرنیوالا جان گئے اور سمجھ گئے۔ (واللہ اعلم) آیات ماسبق میں کعبہ کی تعمیر کا قبلہ مقرر کرنا مذکور تھا بیچ میں اور بہت سے ضمنی مسائل آگئے تھے اب پھر ایک خاص مسئلہ کو بیان فرماتے ہیں جس کا تعلق مناسک حج کے ساتھ ہے اور مسلمانوں میں جو ایک غلط فہمی پھیلنے کا اندیشہ تھا اس کا ازالہ کرنا مقصود ہے تاکہ صفا اور مروہ کے درمیان جو سعی کی جاتی ہے اس کو ممنوع نہ سمجھا جائے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں (تسہیل)
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ پہاڑ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں یعنی مواقع عبادت کی علامتیں سو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرنے میں اس کے ذمہ درا بھی گناہ نہیں اور جو اپنے شوق سے کوئی نیکی کرے تو اللہ تعالیٰ بڑا قدر دان ہے سب جاننے والا ہے5

ف 5 بلاشبہ صفا اور مروہ منجملہ نشانات خداوندی اور علامات عبادت ہیں لہٰذا جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ بجا لائے تو ان دونوں پہاڑوں کے مابین سعی کرنے اور آنے جانے میں اس پر کچھ بھی گناہ نہیں اور جو شخص اپنی رغبت اور خوشی سے کوئی کار خیر کرے اور کچھ نیکی بجا لائے تو یقین مانو ! اللہ تعالیٰ بڑا قدر دان اور شخص کے خلوص اور اس کی نیت کو جاننے والا ہے۔ (تسہیل) شعائر یا تو شعیرہ کی جمع ہے یا شعارہ کی جس کے معنی ہیں علامت کے۔ شعائر اللہ سے مراد مذہبی اصطلاح میں وہ مکان اور زمان اور وہ علامات و اوقعات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے مقرر ہوں ان کو شعائر اللہ کہتے ہیں مثلاً کعبہ، عرفات، مزولفہ، منیٰ رمی جماد کے نشانات صفا مروہ اور تمام مساجد اسی طرح رمضان، اشہر حرم ، عید الفطر، عیدالنحر، جمعہ ایام تشریق اسی طرح اذان ، اقامت ، ختنہ، نماز با جماعت ، نماز جمعہ، نمازعیدین، چونکہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کو اور اس کی عبادت کو یاد دلاتی ہیں اس لئے ان کو شعائر اللہ اور خدا تعالیٰ کی یادگاریں کہاجاتا ہے۔ ان ہی چیزوں میں سے صفا اور مروہ بھی خدائے قدوس کی وہ یادگاریں ہیں اور چونکہ حضرت ہاجرہ ؓ جیسی صابرہ اور شاکرہ عورت ان پہاڑیوں کے مابین دوڑی تھیں اور سات مرتبہ گئی آئی تھیں۔ اس لئے حج اور عمرہ کے موقع پر تمہارا ان کے درمیان سعی کرنا کوئی گناہ کی بات نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھ رہے ہیں چونکہ زمانۂ جاہلیت میں کافروں نے ان دونوں پہاڑیوں پر دو بت رکھ دئیے تھے ان کی تعظیم کرتے تھے۔ ایمان لانے کے بعد یہ خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں ہماری اس سعی سے ان بتوں کی تعظیم تولازم نہیں آئیگی۔ صفا پر جو بت رکھا تھا اس کا نام اساف اور مروہ پر جو بت رکھا تھا اس کا نام نائلہ تھا ان بتوں کی وجہ سے مسلمانوں کو اس مسئلہ میں شک ہوا اس کو رفع فرما دیا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں اور اسکی عبادت بجا لانے کی یادگاروں میں سے ہیں ۔ زمانۂ جاہلیت کے غلط اور جاہلانہ افعال سے ان مقامات کی اصل عظمت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اور بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینے کے لوگ کفر کے زمانہ میں بھی صفا اور مروہ کے طواف کو برا جانتے تھے۔ بہر حال ہر دو فریق کی غلط فہمی کو دور کردیا۔ شاکر بھی انہی افعال میں سے ہے کہ جب بندے کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی شکر گزار اور شکر بجا لانے کے ہوتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ کی طرف اس فعل کی نسبت کریں تو اس کے معنی قدردانی اور شکر کا بدلہ اور صلہ دینے کے ہوتے ہیں۔ علیم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر شخص کی نیت سے واقف ہے جو بتوں کے احترام کی نیت سے آئے تھے وہ ان کو بھی جانتا تھا اور جو ہمارے حکم کی تعمیل کرنے کی غرض سے آئیں گے ہم ان کی بھی نیت سے واقف ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں صفا اور مروہ دو پہاڑ ہیں مکہ کے شہر میں عرب کے لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے ہمیشہ حج کرتے رہے لیکن کفر کے وقت میں اکثر غلطیاں پڑگئیں تھیں ان دو پہاڑوں پر دو بت دھریک تھے حج میں وہاں بھی طواف کرتے تھے۔ جب لوگ مسلمان ہوئے جانا یہ بھی کفر کی غلطی تھی اب وہاں نہ جانا چاہئے اس پر نہ آیت اتری۔ (موضح القرآن) ادھر کئی آیتوں میں یہ فرمایا تھا کہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ جان بوجھ کر حق بات کو چھپاتے ہیں یعنی نبی کریم ﷺ کی نبوت کو جانتے ہیں۔ قرآن کو پہچانتے ہیں قبلہ کو سمجھتے ہیں لیکن ان سب باتوں کا کتمان کرتے ہیں کہ کہیں ہم کو ایمان لانا نہ پڑے۔ کسی حق بات اور مسئلے کو چھپانا کبیرہ گناہ ہے اس لئے اس کی مزید تفصیل بیان کرتے ہیں اور صفا اور مروہ کی سعی کا حکم بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں تاکہ آیت کا حکم عام ہوجائے کہ جو بھی کتمان حق کرے گا وہ لعنت اور اسی کے ساتھ عذاب جہنم میں مبتلا ہوگا اور چونکہ عام قاعدے کی بناء پر ہر حکم میں استثنا ہوتا ہے اس لئے آخر میں یہ بھی فرما دیا کہ اگر کوئی اس فعل مذموم سے توبہ کرلے اور آئندہ اس قسم کے جرم کا ارتکاب نہ کرے تو ہم اس کو معاف کردیں گے اس پوری وعید کو مع استثنا کے آگے کی آیت میں بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:159–162

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ان مضامین کو چھپاتے ہیں جن کو ہم نے نازل کیا ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ صاف وصریح ہیں اور صحیح راستہ دکھانے والے ہیں بعد اس کے کہ ہم ان مضامین کو کتاب میں لوگوں کیلئے خوب کھول کر بیان بھی کرچکے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت کرتا ہے اور سب لعنت کرنیوالے بھی ا ن پر لعنت کرتے ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر ہاں وہ لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور حق بات کو صاف صاف بیان کردیں تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں بکثرت توبہ قبول کرنیوالا نہایت مہربانی کرنیوالا ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کفر کرتے رہے اور کفر ہی کی حالت میں مرگئے تو ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی سب کی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

یہ لوگ اس لعنت میں ہمیشہ رہیں گے ان پر سے نہ تو کسی وقت عذاب ہلکا کیا جائیگا اور نہ ان کو مہلت ہی دیجائے گی1

ف 1 یقیناً جو لوگ ان مضامین اور احکام کو چھپاتے ہیں جن کو ہم نے نازل فرمایا ہے اور وہ احکام صاف و واضح ہیں اور وہ مضامین و احکام صحیح راستہ دکھانے والے ہیں اور یہ لوگ ان مضامین کا اخفا بھی اس کے بعد کرتے ہیں جبکہ ہم عام لوگوں کیلئے ان کو خوب کھول کر کتب سماویہ میں بیان کرچکے ہیں۔ اس صراحت و وضاحت کے باوجود جو بدبخت ان مضامین و احکام کو چھپاتے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت فرماتا ہے اور لعنت کرنیوالے بھی ایسوں پر لعنت بھیجتے ہیں مگر ہاں وہ حضرات اس لعنت سے مستثنیٰ ہوتے ہیں جو اس قسم کے جرم سے رجوع کرلیں اور تائب ہوجائیں اور اپنے اس فعل کی تلافی کردیں اور حق بات کو ظاہر کردیں تو میں ایسے لوگوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرماتا ہوں اور ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں تو بہت توبہ قبول کرنیوالا اور بڑی مہربانی قبول کرنیوالا ہوں۔ البتہ جو لوگ اپنی کافرانہ روش پر قائم رہیں اور کفر ہی کی حالت میں مر بھی جائیں تو ایسے بدبختوں پر خدا کی لعنت اور مزید براں فرشتوں کی اور انسانوں کی بھی سب کی لعنت اس طور پر پڑتی رہے گی کہ وہ اس لعنت میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے ایسے لوگوں پر سے نہ تو کسی وقت عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی۔ (تیسیر) بظاہر آیت کا تعلق اہل کتاب اور ان کے ان علماء سے ہے جو نبی ﷺ آخر الزماں کی نبوت ؐاور آپکی نسبت ان صاف اور واضح پیشن گوئیوں کا اخفا کرتے تھے جو توریت و انجیل اور دوسرے صحیفوں میں مذکور تھیں۔ جیسا کہ ہم نے ربط کی تقریر میں عرض کیا ہے اگرچہ آیت عام ہے اور اس میں ہر کام تم حق کو داخل کیا جاسکتا ہے خواہ وہ امت محمدیہ کا کوئی شخص ہو یا امم سابقہ کا کوئی عالم ہو۔ ہم نے ما سے مراد مضامین اور احکام لئے ہیں تاکہ کتاب کی ہر ایک بات شامل ہوجائے کوئی کا تم حق یہ کہہ سکتا تھا کہ میں ان احکام کو بیان تو کردوں مگر وہ مغلق بہت ہیں اور بہت پیچیدہ اور الجھے ہوئے ہیں اس لئے میں ان کو بیان نہیں کرتا اور چھپاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے یہ فرما کر دروازہ بند کردیا کہ اول تو وہ مضامین میرے نازل کردہ ہیں پھر خود نہایت صاف اور واضح ہیں پھر ان کا ایک ایک لفظ ہدایت سے لبریز ہے اور میں نے ان کو خوب کھول کر اور واضح طور پر بیان کیا ہے۔ ایسے مضامین کو چھپانا تو محض خیانت اور بددیانتی سے ہوسکتا ہے ورنہ ان کے چھپانے اور اخفا کرنی کی کوئی وجہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیتا ہے اور اپنی بارگاہ سے دفع کردیتا ہے یعنی بھلے کاموں کی توفیق سلب کرلیتا ہے لاعنون سے مراد فرشتے اور مسلمان ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ہوں۔ بعض نے کہا کہ جن و انس کے علاوہ دوسری مخلوق مراد ہے خواہ وہ چوپائے ہوں یا حشرات الارض ہوں یا پرندے ہوں چونکہ ملعون انسان کی نحوست کا تمام عالم کی اشیاء پر اثر پڑتا ہے اس لئے سب ہی ایسے انسانپر لعنت کرتے ہیں جو حق بات کو چھپا کر خدا تعالیٰ کے دین کو نقصان پہونچائے۔ بالخصوص وہ بلاعنہ جو نبی کریم ﷺ کی نبوت کے مضامین و احکام کو چھپائیں اور رحمۃ للعالمین کی خوبیوں کی کتمان کرکے لوگوں کو آپ پر ایمان لانے سے روکیں۔ خدا کی مخلوق کے لعنت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ملعون کے حق میں بددعا کرتے ہیں۔ حضرت مجاہد کا قول ہے جب بارش نہیں ہوتی اور قحط پڑتا ہے تو ہر جان دار حتیٰ کہ چوپائے اور بچھو اور موذی کیڑے بھی فساق و فجار کے حق میں بد دعا کرتے ہیں کہ خدا ان پر لعنت کرے ان کے گناہوں کیوجہ سے ہم کو بھی قحط میں مبتلا ہونا پڑا توبہ کا مطلب ہم بیان کرچکے ہیں بندے کی توبہ یہ کہ ندامت اور پشیمانی کے ساتھ خدا کیفرف رجوع کرے اور خدا تعالیٰ کی توبہ یہ کہ رحمت کے ساتھ بندے کی جانب توجہ فرمائے اور چونکہ خالی توبہ کا فی نہ تھی اس لئے اصلحوا کا لفظ بڑھایا کہ تلافی بھی کرے اور اس نقصان کا تدارک بھی کرے جو اس کی شرارت اور کتمان حق سے بنی نوع انسان کو پہنچا ہے اور جو امر حق اس نے چھپایا تھا اس کو ظاہر کردے اور لوگوں کو بتادے چونکہ یہاں اہل کتاب کا ذکر ہے اس لئے مطلب یہ ہوگا کہ توبہ کرکے مسلمان ہوجائیں اور جن لوگوں کو کتمان حق کرکے گمراہ کیا تھا ان کے سامنے اس حق کا اظہار کریں اور اگر ایسا نہ کریں گے اور اپنے کفر پر قائم رہیں گے اور کتمان حق کا ارتکاب کرکے خود بھی توبہ اور ایمان سے محروم رہیں گے اور دوسروں کو بھی نبی آخر الزماں کی رسالت پر ایمان لانے سے روکیں گے اور اسی حالت پر ان کو موت بھی آجائے یعنی مرتے دم تک کفر ہی پر قائم رہیں گے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ خدا کی لعنت اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت میں مبتلا رہیں گے اور جو خدا کی رحمت سے دور کردیاجائے اور مخلوق کی بد دعائیں اس پر پڑتی ہوں تو اس کا جہنم کے عذاب میں جانا یقینی ہے اس عذاب کی حالت یہ ہے کہ کسی وقت بھی ان پر سے ہلکا نہ ہوگا بلکہ بڑھتا ہی جائے گا اور مہلت بھی نہ ہوگی کہ واپس چلے جائیں یا تھوڑی دیر کیلئے رخصت مل جائے اور کچھ آرام کرلیں یا یہ مطلب ہے کہ جہنم میں داخل ہونے سے پیشتر ان کو کچھ مہلت مل جائے کہ وہ کوئی معذرت کرسکیں یا کوئی عذر پیش کرسکیں اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھاجائے گا یعنی خدا کی نظر رحمت سے بالکل محروم رہیں گے (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) لاعنون پر لکھتے ہیں یہ ان کے حق میں ہے جن کو علم خدا کا پہنچا اور غرض دنیا کے واسطے چھپا رکھا۔ (موضح القرآن) ہم نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ رسالت اور قیامت اور مرنے کے بعد جی اٹھنا اور قرآن کی صداقت اور توحید الٰہی یہ وہ اہم مسائل ہیں کہ قرآن کریم نے ان کو بار بار مختلف عنوانات اور مختلف دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے کوئی سورت قرآن کریم کی ایسی نہیں ملے گی جس میں ان مسائل پر روشنی نہ ڈالی گئی ہو۔ چنانچہ یہاں بھی کتمان حق کی بحث میں نبی کریم ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا اصل مقصد تھا۔ اب اسکی مناسبت سے آگے توحید کا ذکر ہے پہلے دعویٰ ہے پھر اس کے دلائل ہیں پھر مشرکوں پر اعتراض ہے پھر قیامت میں ان کے سرداروں اور حمایتیوں کی بےبسی اور اظہار بیزاری ہے۔ (تسیہیل)
Ayahs 2:163–164

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور تمہارا معبود حقیقی تو ایک ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ بےانتہا مہربان نہایت رحم والا ہے

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں کے اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے باہمی اختلاف میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر چلتی ہیں اور اس پانی میں جسکو اللہ نے آسمان کی جانب سے نازل کیا پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ فرمایا اور ہر قسم کے حیوانات اس زمین میں پھیلا دئیے اور ہوائوں کے رخ بدلنے میں اور اس ابر میں جو آسمان و زمین کے درمیان حکم الٰہی کا پابند رہتا ہے اہل عقل کیلئے بڑے دلائل ہیں1

ف 1 اور جو تم سب لوگوں کے معبود ہونے کا مستحق ہے اور وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں۔ وہی بےحد مہربان اور انتہائی رحم کرنے والا ہے بلا شبہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور بنانے میں اور رات و دن کے آگے پیچھے آنے جانے اور گٹھنے بڑھنے میں اور ان کشتیوں اور جہازوں میں جو سمندر کے اندر لوگوں کے فائدے کی چیزیں اور اسباب و سامان لیکر چلتے ہیں اور اس پانی میں جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے اتارا اور برسایا پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرنے اور بالکل خشک ہوجانے کے بعد زندہ اور ترو تازہ کیا اور اس زمین میں ہر قسم کے حیوانات کو پھیلا دیا اور ہوائوں کے رخ اور کیفیات بدلنے میں اور بادل میں جو آسمان و زمین کے مابین مقید و مسخر رہتا ہے ان سب چیزوں میں ان لوگوں کے لئے وجود باری اور توحید الٰہی کے بڑے دلائل موجود ہیں جو صحیح عقل رکھتے ہیں اور عقل سلیم سے کام لیتے ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ چونکہ وہ صفت رحمت میں کامل ہے اس لئے وہی مستحق عبادت بھی ہوسکتا ہے اور وہی معبود ہونے کے قابل ہے اس کے سوا نہ کسی کی رحمت اس قدر عام ہے اور نہ کوئی اس کے سوا معبود ہے۔ رمن رحیم مبالغہ کے صیغے میں ہیں اور اسی رعایت سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ چضرت اسمائ ؓ بنت یزید رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا اس اعظم ان دو آیتوں میں ہے ایک سورة بقرہ کی آیت الھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم اور دوسری آل عمران کی آیت الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم حضرت انس ؓ کی روایت یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں سے زیادہ سرکش شیاطین کے حق میں کوئی دوسری چیز سخت نہیں ہے اگرچہ رحمن و رحیم کے الفاظ بھی دلیل کے قائم مقام ہیں لیکن آگے اور چند دلائل بیان فرمائے تاکہ مسئلہ توحید کو مختلف پہلوئوں سے ثابت کیا جائے چناچہ عالم علوی اور عالم سفلی کی ایسی ہم اشیاء کا ذکر فرمایا۔ جن کی تخلیق میں نہ خدا کے سوا کسی کو دخل ہے اور نہ سوائے خدا کے کوئی دوسرا بنا اشیاء کا ذکر فرمایا جن کی تخلیق میں نہ خدا کے سوا کسی کو دخل ہے اور نہ سوائے خدا کے کوئی دوسرا بنا سکتا ہے اور نہ یہنظام اس خوبی کے ساتھ کسی کی شرکت میں چل سکتا ہے۔ آسمان و زمین کی ساخت اور ان کی پیدائش جس طرز پر کی گئی ہے اور جو فوائد ان سے مخلوق کے وابستہ ہیں وہ کسی بھی مخفی اور پوشیدہ نہیں ہیں۔ جس قدر دنیا سائنس میں ترقی کرتی جاتی ہے اور نئی نئی ہلاکت آفریں ایجادیں کرتی ہیں اسی قدر اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ چیزوں کے کمالات نمایاں ہوتے جاتے ہیں اور ابھی نہیں کہا جاسکتا کہ فضا آسمانی میں اور اسی طرح ذرات ارضی میں قدر ت کی کون کون سی قوتیں پوشیدہ ہیں ارض و سما کی وہ بےپناہ طاقتیں جو اب تک معلوم ہوسکی ہیں ان میں سے ہر ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ذات ان کی وحدانیت اور ان کی الوہیت پر ایک مستقل دلیل اور ایک مضبوط گواہ ہے۔ لیل و نہار کے اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ ایک کے پیچھے دوسرا آتا اور جاتا رہتا ہے بلکہ اختلاف کا مفہوم اس قدر عام ہے کہ اس میں دن کا گھٹنا اور بڑھنا اور مختلف مقامات کے اوقات کا اختلاف بھی شامل ہے۔ رات دن کا یہ اختلاف اللہ تعالیٰ کی توحید کے لئے ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ اسی طرح دریائوں اور سمندروں میں کشتیوں اور جہازوں کا چلنا اور ہر قسم کے اسباب اور مال تجارت کو ادھر سے ادھر لے جانا اور لاکھوں آدمیوں کو اس کنارے سے اس کنارے پر لے جانا بالکل ظاہر ہے سچ تو یہ ہے کہ موجودہ دور نے جہاز رانی میں جو ترقی کی ہے اس نے دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے کو ملا دیا ہے سمندروں کی یہ تسخیر بھی اس کے کمال خالقیت کی کھلی ہوئی دلیل ہے۔ گرمی کے موسم میں جو زمین خشک ہوجاتی ہے اس کو زمین کی موت سے تعبیر فرمایا ہے اور بارش کے بعد جو زمین پر سبزہ اور ترو تازگی نظر آتی ہے اس کو اس کی زندگی فرمایا ہے ۔ بارش کا برسنا اور زمین کا ہر سال مر کر زندہ ہونا جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر ایک دلیل ہے اسی طرح ان کی الوہیت اور ان کی توحید پر بھی زندہ ہونا جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر ایک دلیلی ہے اسی طرح ان کی الوہیت اور ان کی توحید پر بھی دلیل ہے۔ دابۃ ہر اس حیوان کو کہتے ہیں جو زمین پر چلتا ہے خواہ وہ ذوی العقول ہو یا غیر زوی العقول ہو۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان سے پانی برسایا اس سے مختلف نباتات پیدا فرمائیں جو ایک جاندار کی زندگی اور زندہ رہنے کا سامان ہے پھر اس نبانات سے فائدہ اٹھانے کیلئے جاندار اور ذی روح مخلوق کو پیدا کیا تاکہ وہ زمین کی پیداوار کھا کر زندہ رہے ہوائوں کا چلنا اور ان کا رخ بدلنا جس کو تصریف الریاح فرمایا ہے۔ یہ مفہوم بھی بہت عام جس میں ہر قسم کی ہوائیں داخل ہیں خواہ وہ پروا ہو پچھوا ہو۔ شمالی ہو جنوبی ہو، ہلکی ہو، تیز ہو گرم ہو ٹھنڈی ہو، رحمت کی ہوا ہو یا عذاب کی۔ غرض تمام ہوائوں کی الٹ پلٹ اور تبدیلی کو لفظ تصریف شامل ہے اور چونکہ ہوائوں کی یہ تمام تبدیلیاں اور تصریفات اسی وحدہ لا شریک کے حکم کیک تابع ہیں اس لئے حدیث نبی کریم ﷺ نے ہوا کو سب دشتم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خدا کے بیشمار لشکوں میں سے پانی اور ہوا دو لشکر ہیں۔ بادلوں کا آسمان و زمین کے درمیان مسخر رہنا اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کا تابع ہونا یہ بھی منجملہ دلائل توحید کے ایک بہت بڑی دلیل ہے جو حضرت حق کے واجب الوجود ہونے اور ان کے وحدہ لا شریک ہونے کو ثابت کرتی ہے اسی بنا پر آخر میں اہل عقل اور اصحاب خرد اور ارباب دانش کی طرف اشارہ فرمایا اور یہ امر قرآن کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ جب کوئی دعویٰ کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس دعویٰ کی دلیل بھی بیان فرماتا ہے چناچہ اس موقعہ پر بھی الھکم الہ واحد ایک دعویٰ ہے اور اس کے آگے کائنات عالم کی مختلف اشیاء سے اس پر استدلال کیا گیا ہے۔ دنیا کے اہل باطل میں دو فریق خاص طورپر مشہور رہے ہیں ایک وہ جو خدا کے منکر ہیں اور دوسرے وہ جو خدا کو تو مانتے ہیں لیکن اس کے ساتھ مختلف عنوان سے شرک بھی کرتے ہیں قرآن نے جب کبھی توحید کی بحث کی ہے تو ان دونوں فریق کو پیش نظر رکھا ہے اور اپنی خالقیت اور کمال صنع سے دونوں کو رو کیا ہے۔ ہم نے ابتداء ہی میں دونوں باتوں کی طرف اشارہ کردیا تھا جس طرح یہ عالم امکان ایک واجب الوجود کا محتاج ہے اسی طرح وہ واجب الوجود ہر ممکن کی شرکت سے بھی پاک ہے اور اگر وجود وجوب کے تعدد کا قول کیا جائے تو اس قول کا محال ہونا بدیہی ہے جس کو ہم کسی موقعہ پر انشاء اللہ عرض کردیں گے۔ یعقلون سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جب ہماری عقل کو دخل ہے تو ہر فرعی مسئلہ کو عقل سے سمجھنے کی کوشش کی جائے اور جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کو چھوڑ دیاجائے یہی وہ تخیل ہے جس میں آج کل کا نوجوان طبقہ مبتلا ہے۔ جہاں تک اصول توحید و رسالت کات علق ہے اس پر تو دلائل سے بحث کی جاسکتی ہے لیکن مسائل فرعیہ کا ہر شخص کی عقل کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کسی دلیل عقلی قطعی کے خلاف نہ ہو کسی حاکم کے حاکم ہونے پر تو گفتگو ہوسکتی ہے اور اس سے اس کے حاکم ہونے کا ثبوت طلب کیا جاسکتا ہے لیکن اس کو حاکم تسلیم کرلینے کے بعد پھر اس کے حکم کو نہ ماننا اور اس میں شکوک و شبہات پیدا کرنا بےوقوفی اور جہالت ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے اس شخص کے لئے خرابی ہو جس نے ان آیتوں کو پڑھ کر اور ان کو کلی کے پانی کی طرح تھوک دیا یعنی اس میں غور و فکر نہیں کیا ۔ (تسہیل)
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے علاوہ اوروں کو بھی خدا کا ہمسر قرار دیتے ہیں یہ لوگ ان شریکوں سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ سے کرنی چاہئے اور جو ایمان والے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے میں نہایت سخت اور بہت مضبوط ہیں اور کاش یہ ظالم لوگ اس وقت کو جسوقت عذاب کا مشاہدہ کرینگے اب جان لیتے کہ ہر قسم کی قوت اللہ ہی کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب کرنیوالا ہے2

ف 2 بنی نوع انسان میں بعضے لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کو اس کا ہمسر اور شریک قرار دیتے ہیں اور ان انداد سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئے اور جو لوگ اہل ایمان ہیں ان کی محبت اللہ تعالیٰ کیس اتھ اس محبت سے نہایت مستحکم اور قوی تر ہے جو دوسرے لوگوں کو اپنے اصنام اور انداد کے ساتھ ہے اور کیا اچھا ہوتا اگر یہ ظالم لوگ جو خدا کے ساتھ شرک کر رہے ہیں اس بات کو جس کو یہ قیامت کے دن مشاہدہ عذاب کے وقت سمجھیں گے آج دنیا میں جان لیتے کہ ہر قسم کی قوت اور زور اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اور نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب شدید ترین عذاب ہے۔ (تیسیر) ند کے معنی تو وہی ہیں جس کو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں مثیل، شبیہ ، مقابل ، ضد ، برابر، یہاں اصنام اور مشرک کے بت مراد ہیں جن کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں اور پھر ان کو خدا کی عبادت میں شریک تجویز کرتے ہیں۔ اصنام کو انداز اس لئے کہتے ہیں کہ وہ آپس میں ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ یوں بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اصنام کو معبود تجویز کرتے ہیں محبت اصل میں قلب کے مائل ہونے کو کہتے ہیں لیکن جب یہ محبت بندے کی طرف نسبت کی جائے تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اسکی رضا جوئی مراد ہوتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی جانب نسبت کی جائے تو اللہ تعالیٰ کا اکرام اور بندے کو نیکی کی دنیا اور معاصی میں مبتلا ہونے سے اس کی حفاظت کرنا مقصود ہوتا ہے اور مسلمانوں کی محبت کو مستحکم اور قوی فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی محبت پائیدار نہیں ہوتی کچھ بھلا ہوگیا تو محبت قائم ہے اور کچھ نقصان ہوگیا تو ان شرکاء سے بدظن ہوگئے یا کوئی خطرہ پیش آگیا تو بتوں کو چھوڑ کر خدا کو پکارنے لگے۔ غرض ان کی محبت کا منبی چونکہ فاسد ہے اس لئے اس کو ثبات اور دوام نہیں اور مسلمان ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے وابستہ رہتا ہے اور نفع اور ضرر کا اس کو مالک جانتے ہوئے اس سے محبت قائم رکھتا ہے۔ نفع حاصل ہوجائے تو اللہ کا شکر کرتا ہے اور کچھ نقصان پہنچ جائے تو صبر کرتا ہے اور اس کی قضا پر راضی رہتا ہے مسلمان کے اعتقاد اور اس کی محبت میں حوادثات کی جہ سے کبھی اضمحلال نہیں ہوتا اور چونکہ اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا کار ساز نہیں ہے اس لئے اس کے خیال میں کبھی یہ وہم بھی نہیں آتا کہ میں خدا کو چھوڑ کر کہیں اور بھی جاسکتا ہوں۔ آیت کے آخری حصہ کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکوں کو بہرحال قیامت میں مشاہدہ عذاب کے وقت تو اس امر کا یقین آ ہی جائیگا کہ تمام قوت اور طاقت خدا کے قبضے میں ہے اور اس کا عذاب بھی بڑا ہی سخت ہے لیکن اس وقت اس یقین کا کوئی فائدہ مرتب نہیں ہوگا تو جو بات یہ جب جانیں گے اور سمجھیں گے کیا اچھا ہو کہ اب دنیا میں جان لیں اور اس کا یقین کرلیں کہ ہر قسم کی قوتوں کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور اس کی سزا سخت ہے۔ مفسرین نے اس مقام پر اپنے اپنے ذوق کے موافق مختلف معنی کئے ہیں اور بہت سے احتمالات پر بحث کی ہے تفسیر مظہری میں تفصیل موجود ہے نے سہل اور آسان مطلب اختیار کرلیا ہے تاکہ اردو داں طبقے کو مطلب سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) نے اذیرون العذاب سے دنیاوی مصیبت مراد لی ہے کیونکہ دنیا میں بھی بعض ایسے مصائب پیش آتے ہیں کہ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر قسم کی قوتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے بہرحال مختلف طریقوں سے ترجمہ کیا جاسکتا ہے لیکن سب کا حاصل یہی ہے کہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب کی سختی اور اس کی قوت کا ان کو یقین حاصل ہوجاتا۔ بعض لوگوں نے لو کی جزا بھی نکالی ہے یعنی اگر ایسا ہوجاتا تو یہ لوگ بتوں کی محبت سے باز آجاتے لیکن ہم نے تیسیر میں ایسی عبارت اختیار کی ہے جس میں جزا نکالنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور یوں بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ یہ ظالم معائنہ عذاب کے وقت دیکھتے کہ ان کے اصنام اور معبود ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے تو اس امر کا یقین کرلیتے کہ ہر قسم کی قوت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اس کے سوا کوئی دوسرا نفع اور ضررکا مالک نہیں ہے۔ غرض یہ کہ صاحب تفسیر مظہری نے اس موقعہ پر تقریباً چھ سات طریقے اختیار کئے ہیں۔ ( واللہ اعلم بالصواب) اس آیت میں ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے وہ یہ کہ اہل ایمان کی اس محبت کا اعتراف کیا گیا ہے جو ان کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے قائم ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کسی کی کیا خوش قسمتی ہوسکتی ہے جس کا محبوب خود اسکی محبت کا عتراف اور اقرار کرلے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:166–167

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

وہ وقت ایسا ہوگا جبکہ وہ لوگ جنکی پیروی کی جاتی تھی ان لوگوں سے علیحدگی اختیار کرلیں گے جو انکی پیروی کیا کرتے تھے اور وہ سب عذاب کا مشاہدہ کرلیں گے اور ان کے تمام باہمی تعلقات منقطع ہوجائیں گے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو پیروی کرنے والے تھے اس حالت کو دیکھ کر یوں کہیں گے کاش ہم کو دوبارہ دنیا میں جانے کا کوئی موقعہ مل جائے تو ہم بھی ان سے اسی طرح بیزاری کا اظہار کریں جس طرح انہوں نے آج ہم سے بیزاری ظاہر کی ہے اللہ تعالیٰ یوں انکے اعمال انہیں موجب حسرت و پشیمانی کرکے دکھائے گا اور ان کو دوزخ کی آگ سے نکلنا کبھی نصیب نہ ہوگا۔3

ف 3 مشاہدہ عذاب کا وقت وہ وقت ہوگا جب کہ وہ تمام ذی اثر اور صاحب اقتدار لوگ جنکی پیروی کی جاتی تھی اور ان کا کہا چلتا تھا ان سب لوگوں سے بیزار اور علیحدہ ہوجائیں گے جو ا ن کی پیروی کیا کرتے تھے اور ان کے کہنے پر چلتے تھے اور یہ سب تابع اور متبوع عذاب خداوندی کا مشاہرہ کریں گے اور ان کے ہر قسم کے باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں گے اور وہ تمام پیروی کرنیوالے عوام اپنے سرداروں اور بڑوں کی یہ حالت دیکھ کر یوں کہیں گے۔ کاش ! ہم کو کسی طرح باز گشت میسر آجائے اور ایک دفعہ دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو ہم بھی ان سے اسی طرح بےزاری کا اظہار کریں اور ان سے الگ ہوجائیں جس طرح یہ ہم سے آج الگ ہوگئے اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ان کو حسرت و ندامت کی شکل میں دکھائیگا اور انکو آتش دوزخ سے کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ (تیسیر) برأت اور تبری کے معنی ہیں علیحدگی، بیزاری، خلاصی، پیچھا چھڑانا، جسکی صحبت نہ پسند ہو اس سے الگ ہوجانا مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت کرنے والے عام طور سے دو قسم کیل وگ ہوتے تھے ایک تو وہ جو آباد ی میں ذی اثر اور ذی اقتدار ہوتے تھے جیسے سردار، نمبردار، چودھری، سرمایہ دار، قوم کے بڑے لوگ، قوم کے روساء اور دوسرے وہ چھوٹے لوگ جو ان بڑوں کے زیر اثر ہوتے تھے اور ان کی اتباع کرتے تھے اور ان کے کہنے پر چلا کرتے تھے۔ قیامت کے دن جب جہنم اور اس کا عذاب سامنے آئے گا تو یہ چھوٹے اور کمزور لوگ ان بڑے لوگوں سے یہ خواہش کریں گے کہ ہم کو اس عذاب سے بچائو کیونکہ تم ہمارے بڑے ہو، اور ہم تمہارے کہنے کی وجہ سے کفر اور شرک کا ارتکاب کرتے تھے لیکن قیامت کے خطرناک دن میں بھلا کون کسی کے کام آسکتا ہے۔ وہ بڑے لوگ ان کو دھتکار دیں گے کہ ہم کو اپنی پڑی ہوئی ہے ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ اس موقعہ پر ہر قسم کے تعلقات، میل جول، برادری، رشتہ داری، ایک فریق کا متبوع ہونا دوسرے کا تابع ہونا، غرض ہر قسم کا ارتباط قطع ہوجائیگا۔ اس مایوسا نہ طرز عمل کو دیکھ کر یہ چھوٹے لوگ جو بڑوں کے تابع فرمان تھے غصہ ہوکر یہ کہیں گے کہ کسی طرح دنیا میں ہم ایک دفعہ پھر چلے جائیں تو تم سے بدلہ لیں اور تم کو ایسا ہی کورا جواب دیں جیسا تم نے کورا جواب دے کر ہم سے اپنا پیچھا چھڑایا ہے۔ یہ اس گفت و شنید کا کا خلاصہ ہے جو اس دن تابع اور متبوع چھوٹوں اور بڑوں کے درمیان پیش آئیگی۔ قرآن حکیم میں اور بھی کئی مقامات پر مختلف عنوان سے یہ واقعہ ذکر کیا گیا ہے مزید تفصیل اس موقع پر عرض کردی جائے گی۔ آگے ارشاد ہوتا ہے کہ جس طر ح یہ ہولناک منظر ان کو پیش آئیگا اسی طرح ان کے برے اعمال حسرت و ندامت کرکے اللہ تعالیٰ ان کو دکھائے گا۔ رویتہ سے مراد یہاں اگر قلب کی رویت ہے تب تو حسرات تیسرا مفعول ہے ورنہ حسرات ترکیب میں حال ہے حسرت کے معنی سخت ندامت اور پشیمانی کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب ان کو بُرے اعمال ان کے دکھائے جائیں گے تو ان پر سخت ندامت اور پشیمانی واقع ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بُرے اعمال کو حسرت و ندامت کی شکل میں پیش کیا جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اعمال صالحہ کو دکھایا جائے اور کہا جائے کہ ان نیک اعمال کے ترک کرنے کی وجہ سے تم عذاب میں مبتلا ہو۔ تو اس پر ان کو سخت حسرت و پشیمانی ہو۔ بہر حال بُرے اعمال کے ارتکاب پر اور بھلے اعمال کے ترک پر دونوں ہی باتیں اس دن حسرت و پشیمانی کا موجب ہونگی بلکہ کافروں نے جو کام اپنے نزدیک نیک سمجھ کر کئے ہونگے اور وہ وہاں بیکار ثابت ہونگے تو اس پر بھی ندامت ہوگی اور چونکہ چاروں طرف ہر اعتبار سے حسرت ہی حسرت نظر آئیگی اس لئے اس دن کا نا م ہی یوم الحسرۃ ہے۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جن کو لوگ پوجتے ہیں سو اللہ کے اس روز پوجنے والوں کو جواب دینگے اور ان کی امید سب طرف ٹے ٹوٹے گی اور افسوس کھائیں گے۔ اس وقت کچھ فائدہ نہیں افسوس کا یہاں سے بت پرستوں کا احوال ہے۔ (موضح القرآن) شاہ صاحب (رح) نے متبوع سے کافروں کے معبد مراد لئے ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ معبود ان باطلہ بھی اس دن اپنی برأت کا اظہار کریں گے اور اپنی پوجا کرنیوالوں کی پوجا کا انکار کردیں گے ماکنتم ایانا تعبدون یعنی تم تو ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو تفسیر کی ہے اس میں حسرت و ندامت کی شدت زیادہ ہے کیونکہ جن کو معبود سمجھ کر اور حاجت روا اور مشکل کشا جان کر پوجا تھا جب وہی ان کی امداد سے انکار کردیں گے تو اس وقت پشیمانی زیادہ ہوگی اور نجات کی آس بالکل ہی ٹوٹ جائیگی۔ اب مطلب یہ ہوگا کہ جب ان کے معبود ان کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ جن کو ہم معبد سمجھتے تھے وہ خود آج پریشان اور کسمپرسی میں مبتلا ہیں تو بگڑ کر کہیں گے کاش ہم دنیا میں کسی طرح ایک بار پھر چلے جائیں تو تمہاری عبادت سے بالکل الگ رہیں اور تمہاری پرستش سے دست بردار ہوجائی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو لطیف معنی بیان کئے ہیں اس کی بھی گنجائش ہے اور یہ شاہ صاحب کی دقیق نظری کا کمال ہے اور اس معنی کو اوپر کی آیت سے بہت ہی ربط ہے کیونکہ اوپر کی آیت میں انداد کی محبت کا ذکر تھا اور اس آیت میں اس محبت کے انجام بد کا ذکر ہے سبب کے معنی اصل میں تو اسی کے ہیں ہم نے ہر قسم کے تعلقات منقطع ہوجانے کے ساتھ تفسیر کی ہے مگر حضر ت شاہ صاحب (رح) نے امید ٹوٹ جانا کیا ہے۔ (تسہیل)