2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے ایمان والوں جب تم آپس میں ایک مقرر مدت کیلئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والے کو چاہئے کہ تمہارے مابین انصاف کے ساتھ لکھ دے اور کاتب لکھنے سے انکار نہ کے بلکہ جیسا کچھ اللہ تعالیٰ نے اسکو سکھایا ہی اس کے موافق لکھ دیا کرے اور جس کے ذرحق ہے یعنی مدیون خود دستاویز کا مضمون لکھوائے اور اس مدیون کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا پروردگار ہے اور غین دار کے حق میں سے چھ کم نہ کرے پھر اگر وہ مدیون کم عقل یا کمزور ہو یا دستاویز کا مضمون بتائے اور لکھوانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اس مدیون کا مختار کار انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔3 اور تم اپنے مردوں میں سے دو شاہدوں کو گواہ کرلیا کرو اور اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو جن گواہوں کو تم قابل اطمینان سمجھ کر پسند کرو ان میں سے ایک مرد اور دو عورتیں گواہ ہوجائیں تا کہ ان دونوں عورتوں میں سے اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے۔ اور گواہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور تم دین کے کسی معاملہ کو اس کی مقررہ میعاد تک لکھنے سے اکتا یا نہ کروخواہ وہ دین کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو1 یہ میعادی دستاویز کا لکھ لینا اللہ کے نزدیک بہت انصاف کی بات ہے۔ اور گواہی کے لئے بھی یہ طریقہ بہت درست ہے اور اس سے بھی قریب تر ہے کہ تم کسی شک و شبہ میں نہ پڑ جائو مگر ہاں کوئی سود ا نقد اور دست بدست ہو جس کا تم آپس میں لین دین کیا کرتے ہو تو اس معاملہ کے تحریر نہ کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور ہاں اس قسم کی خریدو فروخت کے وقت بھی احتیاطا ً گواہ کرلیا کرو اور نہ کسی کاتب کو نقصان پہنچایا جائے اورو نہ کسی گواہ کو اور اگر تم ایسا کرو گے تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہوگی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اللہ تعالیٰ تم کو باہمی معاملات کی تعلیم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شئی سے واقف ہے۔2

ف 3۔ اے ایمان والو جب تم آپس میں ایک میعاد معین تک ادھار اور قرض کا معاملہ کیا کرو یعنی ایسامعاملہ جس میں باہم عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کے ذمہ دین لازم آتا ہو تو اس معاملہ کو ایک دستاویز کی شکل میں لکھ لیا کرو۔ اور تمہارے مابین جو کوئی لکھنے والاہ و اس کو چاہئے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ لکھے یعنی مضمون میں کمی بیشی نہ کرے اور فریقین میں سے کسی کی رعایت نہ کرے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے بلکہ جیسا اللہ تعالیٰ نے اس کو سکھایا ہے اس کا تب کو چاہئے کہ اس کے موافق لکھ دیا کرے اور کاتب کو دستاویز کا مضمون وہ شخص بتائے اور لکھوائے جس کے ذمہ حق کا ادا کرنا ہے یعنی مدیون جس پر دین واجب ہے خواہ وہ دین ثمن ہو یا مبیع ہو اور لکھوانے والے کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہے جو اس کا پروردگار ڈرتا رہے اور اس حق کو لکھوانے اور بتلانے میں کچھ کمی نہ کرے بلکہ صحیح صحیح لکھوائے اور اس حق میں سے کچھ کم نہ کرے ، پھر اگر وہ مدیون جس کے ذمہ دین واجب ہے نا قص العقل اور خفیف العقل ہو یا کمزور ہو یعنی بہت بوڑھا یا نابالغ ہو یا کسی وجہ سے خود دستاویز کا مضمون بتانے اور لکھوانے کی صلاحیت اور استعداد نہ رکھتا ہو تو ایسی حالت میں اس کا کارندہ اور مختارکارانصاف کے ساتھ ساتھ ٹھیک ٹھیک لکھوادے۔ ( تیسیر) ولیکتب بینکم میں بینکم کا تعلق کاتب سے بھی ہوسکتا ہے اور ولیکتب سے بھی ہوسکتا ہے ہم نے ترجمہ میں ایک قول کی رعایت سے اور تیسیر میں دوسرے قول کی رعایت سے ترجمہ کیا ہے اسی طرح کما علم اللہ کی ترکیب میں بھی دو احتمال تھے ہم نے ایک کو اختیار کرلیا ہے جیسا کہ ہمارے لفظ بلکہ سے سمجھ میں آسکتا ہے ۔ ولا یبخس منہ کی ضمیر میں بھی دو احتمال ہیں ۔ ایک یہ کہ حق میں کمی نہ کرے دوسرا یہ کہ حق کو لکھوانے میں کمی اور کوتاہی نہ کرے ہم نے تیسیر میں دونوں کی رعایت کردی ہے۔ ولیہ میں بھی مفسرین کے دو قول ہیں ایک یہ کہ جس پر حق واجب ہے اور اس کا کارکن اور دوسرا یہ کہ مجبوری کی حالت میں صاحب حق لکھوا دے یعنی جس کا لینا ہے وہی دستاویز کا مضمون لکھوا دے۔ ہم نے پہلی صورت اختیار کرلی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ بعض معاملات تو ہاتھ در ہاتھ ہوتے ہیں جیسے روپیہ دیا ۔۔۔۔۔ کوئی چیز لے لی ، روپیہ دیا مکان لے لیا ۔ روپیہ دیا گیہوں لے لئے ۔ قیمت دی غلام خرید لیا ۔ یہ نقد اور ہاتھ در ہاتھ کا سودا کہلاتا ہے اس کا حکم آگے آئے گا اور بعض معاملات ادھار اور قرض کے ہوتے ہیں ۔ جس میں عوض فی الحال نہیں ہوتا بلکہ بعد کو عوض ادا کرنے کی کوئی میعاد نہیں ہوتی ۔ مثلاً گیہوں لے لئے اور قیمت ایک مہینے بعد دی ۔ نکاح کرلیا دواع ہوگئی اور مہردو سال بعد دیا ۔ ایک شخص ملازم رکھ کر خدمت لے لی اور تنخواہ چھٹے مہینے دی اس قسم کے معاملات کا یہاں حکم بیان کیا گیا ہے۔ اس قسم کے معاملات کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ چیز فی الحال لے لی اور قیمت ادا کرنے کا کوئی وعدہ کرلیا کہ دو مہینے میں دیں گے یا چاند کی فلاں تاریخ کو دیں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ چیز کی قیمت فی الحال ادا کردی اور چیز دینے کا کوئی وعدہ کرلیا کہ تین مہینے میں دیں گے یا چاند کی فلاح تاریخ کو دیں گے ۔ اس کو شہر والے کم سمجھتے ہیں البتہ زمیندار اور کاشتکار خوب سمجھتے ہیں ۔ اس کو بیع سلم کہتے ہیں اور کاشتکار اس کو بدنی کہتے ہیں ۔ یہ بیع عام طور سے دیہات میں بہت ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کا شکار کو ایک بھائو ٹھہرا کر روپیہ بانٹ آئے اور یہ وعدہ لے آئے کہ ہم اپریل کی پندرہ تاریخ کو تم سے سومن گیہوں یا ہزار من جو یادس من گھی لیں گے اس کو بدنی کہتے ہیں اور یہ شریعت اسلامی میں بعض شرائط کے ساتھ جائز ہے ۔ آیت میں ان دونوں صورتوں کا بیان ہے خواہ چیزفی الحال لو اور قیمت بعد میں دو ، خواہ قیمت فی الحال دو اور مال بعد میں لو۔ اسی کو تداینتم بدین الی اجل مسمیٰ کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور یہ ان تمام شکلوں کو شامل ہے جس میں دو معاملہ کرنے والوں میں سے ایک کے ذمہ حق لازم ہوتا ہو خواہ ثمن کا ، خواہ بیع کا ، اور چونکہ ادھار کا معاملہ ایسا معاملہ ہے کہ اس میں بھگتان آگے چل کر ہوتا ہے خواہ وہ بھگتان قیمت کا ہو یا وہ بھگتا شئے کا ہو ۔ اس لئے قرآن کریم نے الی اجل مسمیٰ کا لفظ قانون میں بڑھایا ہے ۔ یعنی معیاد صاف طور سے معین ہوکر فلاں مہینے کی فلاح تاریخ کو بھگتان ہوگا ۔ میعاد مجہول نہ ہو مثلاً یوں نہ کہے کہ جس دن مینہ برسے گا اس دن دوں گا یا جس دن آندھی آئے گی اس دن ادا کروں گا یا جب فصل کٹے گی جب دوں گا اور چونکہ قرض کے معاملات میں میعاد زیر بحث ہوتی ہے اس لئے تحریر کا حکم دیا تا کہ آئندہ کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو ۔ اگرچہ جمہور علماء کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں ، لیکن بعض نے وجوبی کہا ہے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جہاں معاملہ تھوڑا ہو اور کسی قسم کے جھگڑے اور خطرہ کا اندیشہ نہ ہو وہاں تحریر نہ کرائی جائے تو مضائقہ نہیں لیکن جہاں کسی جھگڑے کا خطرہ یقینی ہو اور کسی حق دار کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو وہاں ضرور تحریر کرالی جائے اور تحریر کا معاملہ دین ہی پر کیا موقوف ہے اور ہاتھ در ہاتھ کے معاملہ میں بھی اگر مصلحت کا تقاضا ہو تو تحریر کرا لینی چاہئے۔ مثلاً کوئی مکان نقد روپیہ لے کر خریدا لیکن یہ اندیشہ ہوا کہ کل کوئی حقدار نہیں آیا یا شفیع نے قیمت کم لگا کرلینا چاہا ۔ فروخت کرنے والا منکر ہوگیا تو ان احتمالات کے پیش نظر اگر ضرورت محسوس کی جائے ۔ تو دستاویز لکھوا لی جائے۔ کاتب کو جو حکم ہے وہ بھی استحبابی ہے اور اسی وجہ سے کتابت پر اجرت لینا جائز رکھا گیا ہے اگرچہ بعض علماء نے واجب اور بعض نے واجب علی الکفایہ فرمایا ہے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بستی میں سوائے ایک کاتب کے کوئی دوسرا کاتب ہی نہ ہو اور عاقدین اس سے کتابت کا مطالبہ کریں تو اس کو انکار کرنے کا حق نہ دیا جائے اور وجوباً اس کو لکھنے کا حکم دیا جائے۔ ادھار کی ایک شکل اور بھی ہوسکتی ہے وہ یہ کہ ثمن بھی ادھار ہو اور بیع بھی ادھار ہو اس کو کالے با لکالے کہتے ہیں ۔ اس قسم کے بیع مختلف فیہ ہے اور حنیفہ کے نزدیک یہ بیع ناجائز ہے اور یہ اس آیت میں زیر بحث نہیں ہے۔ علیہ الحق کا مطلب یہ ہے کہ جس کے ذمہ حق کی ادائیگی ہے وہی دستاویز کا مضمون لکھوائے تا کہ اس کے اقرار سے حق ثابت ہوجائے کیونکہ حق کے لئے اقرار کا ہونا ضروری ہے اور وہ اسی طرح حاصل ہوسکتا ہے کہ جس پر حق ہے وہی دستاویز لکھوائے۔ یہاں سفیھا کا مطلب یہ ہے کہ عقل کا ناقص نیم مجنوں کبھی کچھ کہتا ہے کبھی کچھ یا بوڑھا بہت ہے کہ کہتا کچھ ہے منہ سے نکلتا کچھ ہے۔ اسی طرح نابالغ کہ اس کی بات بھی ٹھکانے کی نہیں ہوتی یا یہ باتیں نہ ہوں مگر وہ جس پر حق کی ادائیگی واجب ہے دستاویز کا مضمون لکھوانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہو مثلاً گونگا ہے۔ غیر ملکی ہے جو بول نہیں سکتا یا مریض ہے یا پردہ نشین عورت ہے جو کاتب کے روبرو نہیں آسکتی یا دستاویز کی عبارت نہیں لکھوا سکتا تو اس کا کارندہ یا مختار کار یا وارث ٹھیک ٹھیک لکھوا دے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول یہ ہے کہ ایسی مجبوری کی حالت میں جس کا حق چاہئے یعنی دائن اور لین دار ہی لکھوا دے۔ اس صورت میں اگرچہ اقرار حق کا فائدہ تو حاصل نہیں ہوگا لیکن پھر بھی فی الجملہ یہ فائدہ تو حاصل ہی ہوجائے گا کہ جو چیز زبانی کہی جاتی ہے وہ تحریر میں آجائے گی اور آئندہ نزاع کا خطرہ نہ رہے گا۔ ( واللہ اعلم) خلاصہ یہ ہے۔ (1) مسلمان جب کوئی ایسا معاملہ کریں جس میں دونوں عاقدین میں سے کسی ایک کے ذمہ حق باقی رہتا ہو تو اس کے لئے ایک معیاد معین ہونی چاہئے اور اسی مقررہ معیاد پر دائن کو مدیون سے اپنا مطالبہ کرنا چاہئے۔ (2) اس قسم کے معاملات کے لئے مناسب یہ ہے کہ دستاویز لکھ لی جایا کرے۔ (3) ہرچند کہ دستاویز کا لکھنا مستحب ہے لیکن اگر کوئی عارض اور ضرورت پیش آجائے تو امر استحبابی موکد ہوجائے گا ۔ (4) دستاویز کا لکھنا صرف اسی قسم کے معاملات کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہر ایسے معاملہ کا جس میں باہمی نزاع کا خطرہ ہو تحریر کرلینا مناسب ہے۔ (5) جس معاملہ کے متعلق کتابت کا حکم ہوا ہے اسی کے متعلق کاتب کو یہ حکم ہے کہ وہ کتابت سے انکار نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو طریقہ کتابت کا اس کو تعلیم کر رکھا ہے اس کے موافق جب ضرورت ہو تو لکھ دیا کرے انکار نہ کرے۔ (6) دستاویز کا مضمون لکھوانے کی ذمہ داری اس شخص پر ہے جو مدیون ہے خواہ قیمت کی ادائیگی کا اس پر حق ہو یا مبیع کی ادائیگی کا۔ (7) دستاویز کا مضمون لکھوانے والے کو یہ بھی حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور حق والے کے حق میں کوئی کمی نہ کرے اور لکھوانے میں اس کو نقصان نہ پہنچائے۔ (8) اگر سوئے اتفاق سے دستاویز لکھوانے والا اس قابل نہ ہو تو اس کا مختیار یا وارث یا کارندہ لکھوا دے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی مجبوری کی حالت میں کہ جب مدیون لکھوانے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا تو دستاویز کا مضمون دائن ہی لکھوا دے۔ (9) آیت سے اگرچہ ہر معاملہ دین کی کتابت کا حکم مفہوم ہوتا ہے ۔ جیسے بیع اور بیع سلم اور اجارہ اور قرض بلکہ نکاح اور خلع اور صلح وغیرہ کو بھی تداین کا مفہوم شامل ہے۔ لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے اس آیت سے بیع سلم یعنی بدنی کو مراد لیا ہے اور بظاہر یہی مناسب بھی ہے کیونکہ اوپر کی آیتوں میں سود کو حرام فرمایا تھا جو ظاہری اعتبار سے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے ۔ اس لیے اس کی حرمت کے ساتھ بیع سلم کی حلت کا اظہار فرمایا ۔ اور منشاء یہ ہے کہ ہم نے سودکو حرام کیا تو اس کی حرمت پر ایمان لائو اور اس سے اجتناب کرو ۔ ہم تم کو بیع سلم کی اجازت دیتے ہیں ۔ اگر تم دولت ہی کمانی چاہتے ہو تو بیع سلم سے کمائو یہ بیع تمہارے لئے حلال ہے اور اس میں نفع کی بہت امید ہے ۔ عبد اللہ بن عباس ؓ کی اس روایت کی بناء پر عام طور سے مفسرین نے یہاں بیع سلم سے بحث کی ہے۔ بیع سلم کو ہم بتا چکے ہیں کہ اس کو ہماری اصطلاح میں بدنی کہتے ہیں۔ (01) بدنی یا بیع سلم کے مسائل کتب فقہ سے معلوم کئے جاسکتے ہیں یہاں صرف اتنی بات یاد رکھنی چاہئے کہ بیع سلم ان چیزوں میں جو کیلی ہوں یا وزنی ہوں جائز ہے بلکہ جو چیزیں گنتی سے فروخت ہوتی ہیں ان میں بھی جائز ہے بشرطیکہ ان معدودات میں زیادہ فرق نہ ہو یعنی کوئی چھوٹا کوئی بڑا نہ ہو ۔ وزنی چیزوں میں سونا چاندی شامل نہیں ہے اور بیع سلم اسی بیع کو کہتے ہیں جو موجل ہو ، یعنی مبیع بعد میں ادا کی جائے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس کی سات شرطیں ہیں جن کا عقد کے وقت ذکر کرنا ضروری ہے۔ 1۔ جنس معلوم ہو مثلاً گیہوں ، چنا، باجرہ وغیرہ۔ 2۔ نو ع معلوم ہو یعنی سفید ہو یا لال ہو ، کھجور برنی ہو یا غیر برنی ہو وغیرہ۔ 3۔ صفت معلوم ہو یعنی تازی ہوگی یا پرانی ہوگی ، اعلیٰ درجے کی ہوگی یا اوسط درجے کی ہوگی۔ 4۔ مقدار معین ہو دس سیر ہوگی یا من بھرہو گی۔ 5۔ مدت معین ہو مثلاً دو ماہ میں یا چار ماہ میں ادا کرنی ہوگی۔ 6۔ راس المال کی مقدار کا اظہار ۔ 7۔ اور اس مکان اور مقام کا نام جہاں مال سپرد کیا جائے گا بعض شرطوں کے متعلق امام صاحب اور صاحبین میں اختلاف بھی ہے جو کتب فقہ سے معلوم ہوسکتا ہے ۔ اب آگے قانون کی اور دفعات کا بیان ہے۔ (تسہیل) 1۔ اور علاوہ دستاویز کے اپنے مردوں میں سے دو شخصوں کو گواہ بھی کرلیا کرو یعنی دونوں شخص مسلمان ہوں ۔ عاقل بالغ ہوں آزاد ہوں اور عادل و دیندار ہوں ۔ پھر اگر وہ دو گواہ جن کو تم اس معاملہ دین پر گواہ بنانا چاہتے ہو مرد نہ ہوں یعنی دو مرتبہ میسر نہ آئیں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہوں میں سے گواہ کرلیا کروجن کو تم دیندار اور معتبر ہونے کی وجہ سے پسند کرتے ہو یعنی فاسق اور قلیل المروۃ وغیرہ نہ ہوں ایک مرد کی جگہ دو عورتیں اس لئے مقرر کی گئی ہیں کہ ان دونوں عورتوں میں سے کوئی ایک عورت شہادت دیتے وقت کچھ بھول جائے تو ان میں سے ایک دوسری کو یاد دلائے اور اس طرح شہادت مکمل ہو سکے اور گواہ جب گواہ بننے کے لئے بلائے جائیں تو گواہ بننے سے انکار نہ کیا کریں اور تم اس دین کے میعاد معاملہ کو بار بار لکھنے سے اکتا یا نہ کرو اور سستی نہ کیا کرو خواہ وہ دین کا معاملہ چھوٹا یا بڑا ہو بلکہ جو میعاد اہل معاملہ مقرر کیں اس معیاد تک کے لئے لکھ دیا کرو۔ ( تیسیر) شہدا جب طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں اس کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ گواہ بننے کو بلائے جائیں اور دوسرا یہ کہ گواہی دینے کو بلائے جائیں ہم نے پہلی صورت اختیار کرلی ہے کیونکہ گواہی دینے کا حکم آگے آ رہا ہے گواہی دینے کو بلائے جائیں تو حاضری کا حکم و جو بی ہوگا اور گواہ بننے کو بلائے جائیں تو حاضری کا حکم استحبابی ہوگا ۔ ہم نے جو صورت اختیار کی ہے اس میں گواہ بننے والوں کو گواہ فرمانا با اعتبار مایول کے فرمانا یعنی جن دو مردوں کو بلایا ہے اگرچہ وہ بالفعل گواہ نہیں ہیں لیکن معاملہ کو سنتے ہی اور دستاویز پر اقرار لیتے ہی گواہ ہوجائیں گے۔ ان تکتبوہ کی ضمیر کے بھی تین مرجمع ہوسکتے ہیں ۔ ایک حق ، دوسرا دین ، تیسرا کتاب یعنی چھوٹا ہو یا بڑا ، یا دین کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا یا دستاویز چھوٹی ہو یا بڑی اس کے لکھنے سے گھبرایا اور اکتا یا نہ کرو اسی طرح الیٰ اجلہ کی ضمیر کے بھی تین مرجمع ہوسکتے ہیں ۔ ہم نے ایک صورت اختیار کرلی ہے مطلب یہ ہے کہ دستاویز تو صرف اس غرض کے لئے لکھوائی جاتی ہے کہ دستاویز کو دیکھ کر معاملہ کی تفصیل یاد آجائے ورنہ دعویٰ کے ثبوت کے لئے تو اصل گواہوں کی ضرورت ہے دستاویز ہو اور گواہ نہ ہوں تو حق ثابت نہ ہوگا اور گواہ ہوں مگر دستاویز نہ ہو تو حق ثابت ہوجائے گا ۔ بشرطیکہ گواہ گواہی کے لائق ہوں ، یعنی مسلمانوں کے باہمی معاملات میں گواہ مسلمان ہوں ۔ عادل ہوں فاسق نہ ہوں آزاد ہوں غلام نہ ہوں بالغ ہوں نابالغ نہ ہوں جس کے حق میں گواہی دے رہے ہوں اس کے عزیز نہ ہوں جس کے خلاف گواہی دیں اس سے ان کی کوئی عداوت نہ ہو اور چونکہ دعویٰ کا ثبوت گواہوں پر موقوف ہے۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ دستاویز کی تحریر کے ساتھ دو گواہ بھی اپنے میں سے بنا لیا کرو تا کہ وہ دستاویز کو سن لیں یا واقعہ کا مشاہدہ کرلیں یا مدیون ان کے سامنے حق کا اقرار کرلے یا دستاویز کا مضمون سن کر ان گواہوں کے روبرو اس کی تصدیق کرے اور اس کی صحت کا اقرار کرلے۔ بہر حال شہادت کی تفصیلات بھی فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے پھر ارشاد فرمایا اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بنا لو اور مردوں کے نہ ملنے کا یہ مطلب ہے کہ دو نہیں ملتے ایک ملتا ہے یہ مطلب نہیں کہ کوئی مرد ملتا ہی نہیں یعنی نفی الشمول کا طریقہ مطلوب ہے شمول النفی کا نہیں ۔ لہٰذا اگر ایک مرد موجود ہو تو دو عورتیں ایک مرد کے قائم مقام ہوسکتی ہیں جب کہ حدود و قصاص کا مقدمہ نہ ہو عام طریقہ سے چونکہ عورتیں حافظہ کی کمزور ہوتی ہیں اور واقعات کو صحیح طور سے کم یاد رکھتی ہیں اور ان کے ذہن سے اکثر باتیں نکل جاتی ہیں یا صحیح طور پر بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتیں اس لئے دو عورتیں کو ایک مرد کے قائم مقام کردیا گیا ہے۔ ان تضل احدھما تعلیل کے قائم مقام ہے اور یہ علۃ عدد کی بیان فرمائی ۔ جیسا کہ ہم نے تیسیر میں اشارہ کردیا ہے ورنہ اصل علۃ تو تذکیر ہے لیکن ان کا بھول جانا چونکہ سبب ہے تذکیر کا اس لئے ضلال ہی کو علت قرار دے دیا ۔ بھولنے کا مطلب بھی یہ ہے کہ واقعہ یا واقعہ کا کچھ حصہ ذہن سے نکل جائے تو دوسری یاد دلادے اور اس طرح شہادت کی تکمیل ہوجائے۔ ممن ترضون کا مطلب ہم نے تیسیر میں ظاہر کردیا ہے کہ شہادت کے اہل ہوں اور تم ان کو عادل اور معتبر ہونے کی وجہ سے پسند کرتے ہو۔ ولا تسئموا ان تکتبوہ میں نے تین احتمال عرض کئے تھے ان تینوں احتمالات کی گنجائش ہے یعنی دین کے ماملہ کو یا حق کے معاملہ کو لکھنے سے ملول نہ ہوا کرو اور اکتا یا نہ کروخواہ دین کا معاملہ یا وہ حق چھوٹا ہو یا بڑا ہو اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دستاویز کے لکھنے سے اکتا یا نہ کرو خواہ وہ دستاویز چھوٹی ہو یا بڑی ہو اس کی طے شدہ میعاد تک کے لئے لکھ دیا کرو۔ یہاں اجل سے وہ مدت مراد ہے جو آپس میں عاقدین کے مابین طے ہو اور چونکہ دستاویز آئندہ کے لئے معاملہ کی شرائط وغیرہ کو مستحضر کرنے میں مفید ہوتی ہے اور دستاویز کو پڑھ کردہ باتیں یاد آجاتی ہیں جو معاملہ کے وقت طے ہوئی تھیں اور اس طرح باہمی نزاع اور جھگڑا نہیں بڑھتا اور مسلمانوں میں باہم منازعت نہیں پیدا ہوتی ایسی چیز جو مسلمانوں کو باہم جھگڑنے سے روکتی ہو اس کے لکھنے سے اکتانا یا اس میں سستی نہیں کرنی چاہئے ، بلکہ جب کوئی ایسا معاملہ لکھنے کو کہے اور تم کو لکھنا آتا ہو تو اس کو لکھ دیا کرو۔ اب آگے قانون کی مصلحت اور بعض صورتوں کا استثناء ذکر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل) 2۔ یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک بہت انصاف کی بات ہے یعنی انصاف کو خوب قائم رکھنے والا ہے اور گواہی کے لئے بہت معین و مدد گار ہے اور شہادت کا خوب دوست رکھنے والا ہے اور یہ لکھ لینا اس بات سے قریب تر ہے اور اس امر کے لائق ہے کہ تم یعنی گواہ، حاکم اور صاحب حق کسی شک و شبہ میں نہ پڑ جائو لہٰذا ان مصالح کا لحاظ رکھتے ہوئے دین کے معاملہ کو قلم بند کرلینا ہی بہتر اور اچھا ہے مگر وہاں کوئی سودا نقد اور دست بدست ہو جس کا تم آپس میں لین دین کیا کرتے ہو اور روز مردہ لیتے دیتے رہتے ہو تو اس قسم کی تجارت اور لین دین کے نہ لکھنے میں تم پر کوئی الزام اور کوئی ضرر نہیں ۔ ہاں اس قسم کی خریدو فروخت میں بھی احتیاطاً گوا ہ کرلیا کرو یعنی کاتب کو یا گواہ کو تکلیف پہنچائو گے تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے اور اس میں تم کو گناہ ہوگا اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی اس کے احکام کی مخالفت نہ کرو اور اللہ تعالیٰ تم کو ایسے مفید احکام کی تعلیم دیتا ہے جو تمہارے لئے دنیا میں بھی سود مند ہیں اور دین میں بھی اللہ تعالیٰ سب چیزوں کا جاننے والا اور ہر شے سے واقف ہے۔ ( تیسیر) لا یضار کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ہم نے بیان کیا مگر دوسرے معنی اور بھی ہوسکتے ہیں یعنی نہ کاتب نقصان پہنچائے اور نہ گواہ ۔ پہلے معنی بنا بر معقول ہیں اور دوسرے معنی بنا بر عاقل ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو دین کے معاملات کی کتابت کا حکم دیا تو اس میں تمہارے بھلے کی بات ہے اول تو یہ کہ اللہ کے نزدیک یہ بڑے انصاف کی بات ہے اور اس سے انصاف خوب قائم رہتا ہے اور تحریر کی وجہ سے کسی کی حق تلفی نہیں ہوسکتی ۔ دوئم شہادت دینے میں یہ تحریر خوب مدد پہنچاتی ہے شاید اس تحریر کو دیکھ کر واقعہ یاد کرلیتا ہے اس طرح یہ تحریر شہادت کو مضبوط کرنے میں مفید ہوتی ہے ۔ سوئم یہ کہ تحریر کی موجودگی میں نہ گواہ شبہ میں پڑ سکتا ہے نہ حاکم اور نہ لین دار کو کوئی شبہ ہوسکتا ہے اور نہ دین دار کسی شک میں پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا جب دستاویز بھی ہو اور گواہی دینے والے گواہ بھی ہوں ۔ تو صاحب حق کا حق ثابت ہونے میں کوئی خطرہ باقی نہیں رہ سکتا اور انصاف طلب کرنے والے کو صحیح انصاف مل سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ شبہ ہوتا تھا کہ اگر کتابت اس قدر مفید ہے تو کیا ہر چھوٹا بڑا معاملہ جو صبح سے شام تک ہم لیتے دیتے رہتے ہیں وہ بھی تحریر میں آیا کرے مثلاً چار آنیکے آلو لائیں تو وہ بھی لکھوائیں اور آٹھ آنے کی پیاز لائیں تو وہ بھی لکھی جائے۔ حضرت حق تعالیٰ نے اس قسم کے دست بدست لین دین کو مستثنا قرار دیا اور فرمایا ۔ الا ان تکون تجارۃ حاضرۃ تدیرونھا بینکم تجارت حاضرہ کا مطلب یہی ہے کہ آمنے سامنے کا لین دین جو تم میں روز مرہ دائرہ ہے اس قسم کے لین دین کی کتابت ضروری نہیں ۔ نہ تم پر کوئی الزام ہے اور نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہے ہاں اس قسم کے معاملات میں بھی گواہ کرلیا کرو تو احتیاطا ً اچھا ہے کیونکہ اس قسم کا اندیشہ تو بہر حال ہے ہی کہ کل کلاں کو کوئی بات نکل آئے دکان دار کہنے لگے مجھے پیسے وصول نہیں ہوئے یا میں نے تو یہ مال فروخت نہیں کیا بلکہ جو میں نے فروخت کیا تھا وہ دوسرا مال تھا یا میں نے خیارعیب کی شرط نہیں لگائی تھی ۔ اسی طرح مشتری کہنے لگے کہ میں تو جا کر یعنی خیار شرط کے ساتھ لے گیا تھا یا مجھ کو ابھی پورا مال نہیں ملا ۔ بہر حال اس قسم کے نزاع کا خطرہ رہتا ہے اس لئے اگر ہر سودے پر گواہ کرلو تو اچھا ہے۔ کاتب اور گواہ کو ضرر نہ پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے شغل کا خیال نہ کیا جائے اور اپنے کام کے لئے ان کو مجبور کیا جائے یا کاتب کو کتابت کی اجرت نہ دی جائے یا اجرت کے لئے اس کو پریشان کیا جائے یا ایک مقدمہ میں کئی گواہ ہوں اور ایک گواہ بیمار ہو یا کمزور ہو یا کسی کام میں مشغول ہو اور وہ کہے دوسرے گواہ کو لے جائو اور تم کہو کہ نہیں تم ہی چلو اور میری شہادت دو گواہ کے آنے جانے کا خرچ اس کو نہ دیا جائے اور کاتب اور گواہ کا نقصان پہنچانا یہ کہ دستاویز میں کمی بیشی کر دے یا باوجود فرصت کے کتابت سے انکار کر دے یا اجرت بہت زیادہ طلب کرے گواہ کا نقصان یہ کہ گواہ زیادہ نہ ہوں اور صرف دو ہی گواہ ہوں پھر گواہی سے عذر کریں یا کوئی کام نہ ہو پھر بہانہ کریں۔ بہر حال ہم نے دونوں معنی کردیئے ہیں اور دونوں کی گنجائش ہے اگرچہ پہلے معنی کو بعض حضرات نے ترجیح دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ کاتب اور گواہ اہل معاملہ کو تکلف پہنچائیں اور نہ اہل معاملہ کی جانب سے کاتب کو اور گواہ کو کوئی ضرر پہنچانایا جائے۔ بہر حال یہ ضرر جس کی طرف سے بھی ہو گناہ اور فسق کی بات ہے اور یہ جو فرمایا کہ نہ لکھنے میں الزام نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی دنیوی نقصان کا اندیشہ نہیں ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اس رکوع میں ہر امر استحبابی ہے اور روزمرہ کا لین دین جس کو تجارت حاضرہ فرمایا ہے اس میں کتابت کا حکم نہ دینا آسان اور تکلیف سے بچانے کی غرض ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ پورا قانون مسلمانوں کو باہمی منازعت اور آپس میں جھگڑے سے بچانے کے لئے ہے ۔ اگر کہیں اس قسم کا اندیشہ نہہو یا ضعیف ہو تو وہاں کتابت کی ضرورت نہیں ہوگی اور کسی معاملہ میں باہمی نزل کا خطرہ قوی ہو خواہ وہ تجارت حاضر ہ ہی کیوں نہ ہو تو وہاں کتابت اور شہادت کا اہتمام نافع اور مفید ہوگا ۔ آخر میں بندوں کو قوانین کی بےاعتنائی سے ڈرایا ہے اور اپنے احسان کا اظہار کیا ہے کہ اس قسم کے قوانین جس میں تمہارے دین اور تمہاری دنیا کے مصالح مضمر ہیں ۔ ہم نے تم کو تعلیم کئے ہیں کیونکہ ہم ہی تمہارے دین و دنیا کے نشیب و فراز کو جانتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس آیت میں دو چیز کا تقید فرمایا ایک تو وعدہ کے معاملہ کو لکھنا کہ اس میں پھر قفیہ نہ ہو اور اپنے تئیں شبہ نہ پڑے اور شاہد کو دیکھ کر یاد آوے۔ دوسرے شاہد کرلینا ہر معاملہ پر دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں جن کو ہر کوئی پسند رکھے اور تقید فرمایا کہ تو پسند اور شاہد نقصان کسی کام نہ کریں ۔ جو حق واجبی ہے سو ہی ادا کریں اور لکھنے میں جو دینے والا اپنی زبان سے کہے سو لکھیں یا اس کا کوئی بزرگ کہے اگر اس کو عقل نہ ہو۔ ( موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے پوری آیت کا خوب خلاصہ نکالا ہے چونکہ کوئی بات اس میں نئی اور زائد نہیں ہے۔ اس لئے اس پر کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں اب آگے شہادت اور رہن بالقبض کے بارے میں ارشاد ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم کہیں سفر میں ہو اور دستاویز لکھنے کو کاتب نہ پائو تو کوئی چیز باقبضہ رہن کردی جائے اور اگر ایسے موقع پر تم میں سے ایک دوسرے کا اعتبار کرے تو جس شخص کا اعتبار کیا گیا ہے یعنی مدیون اسکو چاہئے کہ اعتبار کرنے والے کا حق پورا پورا ادا کر دے اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا پروردگار ہے اور شہادت کو چھپایا نہ کرو اور جو شہادت کو چھپائے گا تو یقینا اس کا قلب مجرم ہوگا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سب سے واقف ہے1

ف 1۔ اور اگر تم دین کا معاملہ کرتے وقت کہیں سفر میں ہو اور دستاویز لکھنے کو کاتب نہ پائو یعنی دستاویز کی تکمیل دشوار اور ناممکن ہو تو ایسی حالت میں رہن رکھنے کی کوئی چیز ہو جو مدیون دائن کے قبضہ میں دے دے تا کہ اس سے لین دار کو اطمینان حاصل ہوجائے اور اگر ایسے موقع پر تم آپس میں ایک دوسرے کا اعتبار کرو اور رہن کی ضرورت نہ سمجھو تو جس شخص کا اعتبار کیا گیا ہے یعنی مدیون اس کو چاہئے کہ جس شخص نے اعتبار کیا ہے یعنی دائن اس کا حق پورا پورا ادا کردے اور اللہ تعالیٰ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے اور شہادت کو چھپایا نہ کرو اور جو شخص شہادت کا اخفا کرے گا اور گواہی کو چھپائے گا تو اس کا قلب مجرم و گناہگارہو گا ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سب سے واقف ہے۔ ( تیسیر) رھن کے معنی ہیں کسی شے کو روک لینا شریعت میں اس چیز کا نام ہے جو کسی ایسے حق کے بدلے میں روکی جائے جس حق کا اس سے پورا وصول کرنا مقصود ہو اس لئے فقہانے کہا ہے۔ رہن ایک ایسا عقد لازم ہے جس کا استرداد رہن کو مرتہن سے اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک مرتہن کا ایک درہم بھی باقی ہے۔ جو شخص کوئی چیز رہن رکھے اس کو راہن اور جس کے پاس رکھی جائے اس کو مرتہن ۔۔۔۔ اور جو شے رکھی جائے اس کو مرہون کہتے ہیں۔ رہن کے عقد میں بھی ایجاب اور قبول ضروری ہے اور دین کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب مرتہن شے مرہون پر قبضہ کرلے جب تک مرتہن کا مرہون پر قبضہ نہ ہوجائے رہن کا عقد صحیح نہ ہوگا چونکہ عام طور پر سفر میں لکھنے پڑھنے اور گواہوں کے ملنے میں دشواری ہوتی ہے اس لئے رہن کے معاملہ کو سفر کے ساتھ مقید فرمایا ورنہ یہاں حقیقی شرط مراد نہیں ہے۔ لہٰذا جس طرح سفر میں رہن کا معاملہ جائز ہے اسی طرح حضر میں جائز ہے اور جس طرح کاتب میسر نہ آنے کی صورت میں جائز ہے ۔ اسی طرح کاتب کی موجودگی میں بھی رہن کا معاملہ جائز اور درست ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی زرہ کا واقعہ مشہور ہے جو ایک یہودی کے پاس رہن تھی ۔ یہودی کا نام ابوالشحم تھا ۔ سرکار دو عالم ﷺ نے بیس صاع جو کے بدلے میں اپنی زرہ رہن رکھی تھی اور اپنے اہل و عیال کے لئے اس سے جو حاصل کئے تھے اور جب حضور ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ ؐ کی زرہ مرہون تھی اور ظاہر ہے کہ یہ معاملہ مدینہ منورہ میں ہوا تھا جو حضر بھی تھا اور وہاں کاتب کا میسر آنا بھی دشوار نہ تھا۔ ولم تجدوا کاتبا ً کا مطلب یہ ہے کہ دستاویز کی ترتیب دشوار اور ناممکن ہو مثلاً کاتب موجود ہے مگر قلم اور دوات موجود نہیں یا قلم دوات بھی ہے لیکن کاغذ نہ ملے یا کاتب موجود ہے لیکن وہ اچھی طرح کتابت نہیں کرسکتا یہ سب صورتیں ولم تجدوا کاتبا ً کو شامل ہیں۔ فرھن مقبوضہ کے معنی بھی کئی طرح ہوسکتے ہیں یعنی سفر ہو اور کتابت کی دشواری ہو تو جس چیز پر اعتماد اور اعتبار کیا جائے وہ رہن با قبضہ ہے یا یوں ترجمہ کیا جائے تو پھر وہ شخص صاحب حق ہو وہ کوئی چیز رہن رکھ لے یا یوں ترجمہ کیا جائے کہ اگر سفر ہو اور لکھنے کی دشواری ہو تو تم لوگ باہمی اطمینان کے لئے رہن رکھنے کی چیزوں میں سے کوئی چیز صاحب حق کے پاس رہن رکھ دو ۔ ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں تینوں معنی کی رعایت رکھی ہے اگرچہ مطلب سب کا یکساں ہے رہن کی تجویز کے بعد پھر ارشاد فرمایا کہ یہ شکل اطمینان کی غرض سے ہے ورنہ اگر باہم تم ایک دوسرے پر بلا دستاویز اور گواہ اور بلا رہن کے اعتبار کرلو تو پھر نہ دستاویز اور گواہ بنانے کی ضرورت ہے اور نہ کسی چیز کو گرو رکھنے کی ضرورت ہے البتہ ایسی صورت میں اس امر کا خیال رکھنا چاہئے کہ صاحب حق جس نے مدیون کا اعتبار کیا ہے اس کا حق ٹھیک ٹھیک اسی طرح ادا کیا جائے جس طرح کسی کی امانت ادا کی جاتی ہے۔ دین کو امامت محض ایک خاص نسبت کی وجہ سے فرما دیا ، یعنی جس طرح امانت امین پر لازم ہوتی ہے ۔ اسی طر ح دین بھی مدیون پر لازم ہوتا ہے ورنہ دین اور امانت میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔ اپنے بعض اکابر نے امانتہ کی ضمیر کا مرجع مدیون کو قراردے کر یوں ترجمہ کیا ہے کہ پھر وہ شخص جس کا اعتبار کیا گیا ہے اپنے اعتبار کو پورا کرے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے۔ بہر حال مطلب یہ ہے کہ ایسی حالت میں جبکہ محض اعتبار اور شخص بھروسہ پر کوئی معاملہ کیا جائے تو اس کی ادائیگی میں نہ سمجھ کر کوتاہی نہ کی جائے کہ نہ دستاویز اور گواہی ہیں نہ کوئی چیز رہن ہے تو ہم سے کوئی کیا لے لے گا ۔ حالانکہ زبان کا پاس اور صاحب حق کا اعتبار دستاویز اور رہن وغیرہ سے کہیں بڑھ کر ہے اور یہ جو فرمایا شہادت کا اخفا نہ کیا کرو اس کا مطلب یہ ہے کہ شہادت غلط دے دو یا بالکل ہی شہادت نہ دو ۔ اسی طرح اصل معاملہ مخفی ہوجائے گا اور ایسا کرنے والا کتمان شہادت کا مجرم ہوگا اگر گواہ کو گواہی کے لئے طلب کیا جائے ۔ اور یہ جانتا ہو کہ میری گواہی نہ ہونے سے کسی حق دار کا حق ضائع ہوجائے گا تو اس کو گواہی دینا فرض ہے ۔ جیسا کہ ہم ولا یاب الشھداء میں اشارہ کرچکے ہیں اور اگر کسی صاحب حق کو یہ معلوم نہ ہو کہ فلاں شخص کو میرا معاملہ معلوم ہے تو وہ شخص جس کو معاملہ معلوم ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر میں شہادت نہ دوں گا تو صاحب حق کا حق مارا جائے گا خود جا کر صاحب حق کو بتادے کہ مجھے آپ کے حق کا علم ہے اگر آپ چاہیں تو مجھ کو شہادت کے لئے طلب کرسکتے ہیں اس کہنے کے بعد اگر صاحب حق اس کو گواہی میں طلب نہ کرے تو پھر اس گواہ پر یہ واجب نہیں کہ خود قاضی کی عدالت میں جا کر شہادت دے اور چونکہ ادائے شہادت واجب ہے اس لئے اس پر کوئی اجرت حاصل کرنا بھی ناجائز ہے ۔ البتہ سواری کا کرایہ یا ریل کا خرچ لیا جاسکتا ہے نفس شہادت کی کوئی اجرت نہیں لی جاسکتی۔ فانہ اثم قلبہ یہ اس لئے کہ قلب اعضائے انسانی میں رئیس الاعضا ہے اس لئے گناہ کی نسبت اس کی طرف کی تا کہ گناہ کی اہمیت معلوم ہو نیز اس لئے کہ قلب ارادہ نہ کرتا تو زبان کیوں جھوٹ بولتی اور کسی چیز کا اخفا اور چھپا لینا یہ کام ہے بھی قلب کا اور اس لئے بھی کہ یہ نہ سمجھاجائے کہ جھوٹی گواہی سے صرف زبان ہی گناہ گارہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں بنی آدم کے جسم میں ایک لوتھڑا اور مضغہ ہے اگر وہ درست ہے تو تمام جسم صحیح اور درست رہتا ہے اگر وہ خراب ہوجائے تو پھر تمام جسم خراب ہوجاتا ہے سن لو ! وہ لوتھڑا قلب ہے اس روایت کو صحین نے نقل کیا ہے۔ قلب کی اہمیت جسمانی اطباء کے نزدیک بھی مسلم ہے اس لئے وہ عام طور سے قلب کی اصلاح کے درپے رہتے ہیں اور روحانی اطباء کو بھی قلب کی فکر رہتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں روحانیت اور مادیت دونوں کی تقسیم صاف سمجھ میں آجاتی ہے انبیاء علہیم السلام اور علمائے کرام اور مشائخ عظام بھی قلب سے بحث کرتے ہیں اور ڈاکٹر اور طبیب وغیرہ بھی قلب سے بحث کرتے ہیں لیکن ایک کا مقصد قلب کی اصلاح سے روحانی اصلاح مراد ہوتی ہے اور دوسرے فریق کا مقصد قلب کی اصلاح اور تقویت سے جسم کی اصلاح مقصودہوتی ہے حالانکہ جسم فانی ہے اور نہ روح باقی ہے آج کل ہماری توجہ ان اطباء کی طرف زیادہ ہے جو فانی چیز کو کچھ دنوں کے لئے سنبھالتے اور درست رکھتے ہیں او جن کا علاج بھی عارضی او اس سے حاصل شدہ صحت بھی عارضی اور ان اطباء کی طرف ہماری توجہ کم ہے جو روح کے معالج ہیں اور جن کی اصلاح اور سنبھال دائمی زندگی بخشنے والی ہے۔ بہر حال اس تفصیل اور تقسیم کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے ، یہ بات آپ کو تمام قرآن کی تفسیر میں روشنی دے گی اور قرآن کا سمجھنا آپ کے لئے سہل ہوگا ، انشاء اللہ تعالیٰ ۔ تفسیر مظہری نے بعض حضرات سے نقل کیا ہے کہ قلب کے گناہ گار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قلب مسخ ہوجاتا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کیونکہ ہر گناہ قلب کی روحانیت کو ضرر پہنچاتا ہے قلب سے نیکی کی توفیق کا سلب ہوجانا اس کا مسخ ہوجانا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ۔ اکبر الکبائر یعنی بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ ایک تو اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ۔ دوسرے جھوٹی شہادت دینا ہے ۔ تیسرے شہادت کو چھپانا ہے ، آیت کا آخری جملہ واللہ بما تعلمون علیم اگرچہ عا م ہے لیکن اس میں خاص اشارہ بھی ہے کہ ہم تمام اعمال کو جانتے ہیں خواہ وہ تمہارے جوارح اور اعضا ظاہری سے متعلق ہوں اور خواہ ان اعمال کا تعلق تمہارے قلوب سے ہم ہم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اب آگے کی آیت میں ان ہی اعمال کی مزید تحقیق ارشاد فرماتے ہیں تا کہ یہ معلوم ہوجائے کہ قلب کے افعال و اعمال میں سے وہ کون سی چیزیں ہیں جو اللہ کے نزدیک قابل مواخذہ ہیں اور وہ کون سی چیزیں ہیں ۔۔ جو قابل در گزر ہیں ۔ سورة بقرہ میں جس کثرت کے ساتھ عقائد و اعمال کا ذکر آیا ہے اور ذات وصفات پر جو دلیلیں بیان کی گئی ہیں اور احکام کا فلسفہ جس خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور تمثیلات اور امم سابقہ کے حالات و واقعات کو جس طرح ظاہر کیا گیا ہے ان سب کو لحاظ رکھتے ہوئے سورة بقرہ کا اتمام بھی ایسی جامع آیات کے ساتھ فرمایا ہے جن کی خوبیاں بیان کرنے سے ہماری یہ تفسیر عاجز اور قاصر ہیں۔ ( تسہیل)
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کی ملک ہے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کردو یا چھپائے رکھو اللہ تعالیٰ تم سے اس کا محاسبہ کرے گا پھر جس کو چاہے بخش دے گا اور جس کو چاہے عذاب کردے گا اور اللہ تعالیٰ ہر شی پر پوری طرح قادر ہے2

ف 2۔ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو مخلوق زمین میں ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور تمام کائنات اسی کی مملوک ہے اور جو باتیں تمہارے دلوں میں ہیں تم اپنے جی کی ان باتوں کو اگر ظاہر کردو یا ان کو دل ہی دل میں پوشیدہ رکھو ۔ دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ تم سے ان باتوں کا حساب لے گا اور حساب لینے کے بعد جس کو بخشنا چاہے گا بخش دے گا اور جس کو عذاب کرنا اور سزا دینا منظور ہوگا اس کو عذاب کرے گا اور سزا دے گا اور اللہ تعالیٰ ہر شی پر پوری طرح قادر ہے خواہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو معاف کر دے یا کسی کو سزا دے۔ ( تیسیر) بعض مفسرین نے ما فی انفسکم سے مراد کتمان شہادت لی ہے لیکن آیت اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہے اور قرائن سے بھی یہی صحیح ہے ۔ روایات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس کے ظاہری عموم سے صحابہ کرام ؓ سخت پریشان ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اب تک تو ہم یہی سمجھتے تھے کہ افعال اختیار یہ پر مواخذہ اور محاسبہ ہوگا ۔ اب اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان افعال قلبیہ پر بھی محاسبہ ہوگا اور جو ہمارے اختیار اور ہماری طاقت سے باہر ہیں اور جن کے روکنے پر اور جن کے بچنے پر ہم کو کوئی دسترس نہیں ہے اس پر نبی کریم ﷺ نے ازراہ شفقت و محبت آیت کے ظاہری مفہوم کے پیش نظر ان صحابہ سے فرمایا کیا تم اہل کتاب کی طرح سمعنا و عصیان کہنے کا ارادہ کرتے ہو یعنی ہم نے سنا اور سن کر نہیں قبول کیا بلکہ تمہاری شان تو یہ ہونی چاہئے کہ یوں کہو۔ سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر۔ چنانچہ صحابہ نے یہی الفاظ کہے اور سمع و اطاعت کا اعلان کیا اس پر آگے کی آیتیں نازل ہوئیں ۔ اس واقعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ آیت کے مفہوم کو عام سمجھے اور نبی کریم ﷺ نے بھی ان کو موافقت کی ۔ اگرچہ نبی کریم ﷺ آیت کے صحیح مفہوم سے واقف تھے اور آپ کو آیت کا صحیح مطلب معلوم تھا۔ اور آپ جانتے تھے کہ آیت کا مفہوم اگرچہ عام ہے لیکن غیر اختیاری افعال مراد نہیں ہیں پھر بھی صحابہ کی دل جوئی اور غایت شفقت کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ نے آیت کو ظاہری مفہوم پر حمل کیا اور صحابہ کو تسلی دی اور سمجھایا کہ اہل کتاب کی روش اختیار نہ کرو بلکہ سمع وطاعت جو مسلمانوں کا طریقہ ہے اسے اختیار کرو اور خدا تعالیٰ سے مغفرت کی التجاء کرو۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح ظاہری اعضاء یعنی ہاتھ ، پائوں ، کان ، آنکھ ، زبان وغیرہ کے افعال دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ بعض اختیاری، بعض غیر اختیاری اسی طرح اعمال قلبیہ کی بھی دو قسمیں ہیں ایک اختیاری اور ایک غیر اختیاری مثلاً اپنے ارادے سے کسی کو مارنا ، گانی دینا ، جھوٹ بولنا ، شراب پینا ، غیبت کرنا وغیرہ یہ سب افعال اختیاری ہیں اور بلا کسی قصد کے کوئی بات منہ سے نکل جائے یا بلا قصد ہاتھ کی حرکت غلط ہوجائے یا کہنا کچھ چاہتا ہو اور منہ سے کچھ اور نکل جائے اس قسم کے تمام افعال کو غیر اختیاری کہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ افعال اختیاری پر تو مواخذہ ہے ، لیکن غیر اختیاری افعال پر مواخذہ نہیں ہے۔ یہی حالت انسانی قلوب کی بھی ہے مثلاً ریا ، نفاق ، کبر عجب ، حسد ، کینہ ، دنیا کی محبت وغیرہ یہ وہ اعمال ہیں جو قلب کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور چونکہ دل صدہا خطرات وساوس کی گزر گاہ بھی ہے اس لئے بہت سے فاسد خیالات اس میں آتے اور نکل جاتے ہیں اور کبھی جم بھی جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ قوی ہو کر پختہ ارادہ بن جاتے ہیں اس پختہ ارادہ کو عزم گناہ کہتے ہیں ۔ قلب انسانی کے یہ تمام اعمال خواہ وہ خیالات و وساوس ہوں یا وہ ریا اور نفاق اور کبر و حسد ہوں اور خواہ وہ کسی گناہ کے عزائم ہوں یہ سب ما فی انفسکم میں داخل ہیں اور ان سب پر محاسبہ کا اعلان ہے۔ البتہ وہ خیالات و وس اس جو آئے اور نکل گئے اور دل ان پر جما نہیں وہ قابل عفو ہیں ۔ جیسا کہ آگے کی آیت میں اس کی وضاحت آجائے گی وہ خیالات جو آتے جاتے رہتے ہیں اور جو دل میں جگہ پکڑنے کے بعد عزم بن جاتے ہیں اور ان کی پانچ قسمیں ہیں اور یہ سب قصد و ارادے کے مراتب ہیں جن کے نام درجہ بدرجہ رکھے گئے ہیں ۔ قصد کا پہلا درجہ جس ہے ۔ دوسرا خاطر ، تیسرا حدیث النفس ، چوتھا ھم ، پانچواں عزم ، ان پانچوں کو بعض حضرات نے نظم بھی کردیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ مراتب القصد خمس ھا جس ذکروا و خاطر فحدیث النفس فاستمحا یلیہ ھم فحزم کلھا رفعت سوے الاخیر فقیہ الاخذ قدوقعا مطلب یہ ہے کہ سوائے عزم اور پختہ ارادے کے باقی سب قابل معافی ہیں ۔ ان تبدوا کا مطلب یہ ہے کہ کبھی دل کی بات دل ہی میں رہتی ہے مگر کبھی انسان کی زبان اور ہاتھ پائوں سے ظاہر ہوجاتی ہے ۔ مثلاً دل میں کفر کا عزم کیا ، پھر کفر کا اظہار بھی کردیا ۔ دل میں تکبر تھا پھر اس کو زبان سے ظاہر بھی کردیا ۔ دل میں کسی مسلمان کو مارنے کا ارادہ کیا پھر ہاتھ سے اس کو مار بھی دیا ۔ دل میں شراب پینے کا عزم کیا ، پھر شراب کو منہ سے پی بھی لیا ۔ دل سے کسی بری مجلس میں جانے کا ارادہ کیا پھر پائوں سے چل کر اس مجلس میں شریک بھی ہوگیا ۔ یہ سب صورتیں ما فی انفسکم کے ظاہر کرنے کی ہیں۔ تخفوہ کا یہ مطلب ہے کہ دل میں ہی یہ باتیں رہیں اور ان کا ظہور نہیں ہوا اگر ظہور نہ ہو تب بھی ان سب باتوں محاسبہ ہوگا سوائے ان چار قسموں کے خیالات کا یعنی ہا جس ، خاطر ، حدیث الفنس اور ہم کہ یہ قابل عفو ہیں اور ان کا مواخدہ نہ ہوگا ، جو کچھ احقر نے عرض کیا ہے اس سب کا حاصل یہ ہے۔ 1۔ اعضاء ظاہری سے بعض اعمال کا صدور اختیاری ہے بعض کا غیر اختیاری۔ 2۔ افعال قلوب کی بھی دو قسمیں ہیں بعض اختیاری اور بعض غیر اختیاری۔ 3۔ افعال اختیار پر یہ محاسبہ اور مواخذہ ہوگا ۔ 4۔ افعال غیر اختیاریہ خواہ وہ جوارح سے صادر ہوں ، خواہ قلب ان کی گزر گاہ ہو وہ قابل عفو اور لائق در گزر ہیں۔ 5۔ آیت کے ظاہری عموم سے یہ آیت بعض طلبائع پر شاق ہوئی جس سے لوگ گھبرائے اور دربار رسالت میں مودب ہو کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا ۔ 6۔ نبی کریم ﷺ نے بھی آیت کو اس کے ظاہر پر حمل فرمایا۔ 7۔ آیت کا ظاہر پر حمل فرمایا یہ آپکی غایت شفقت اور غایت محبت پر مبنی تھا اور ایسا ہوتا ہے بعض اور مواقع پر بھی ہوا ہے جیسا کہ استغفر لھم اولاد تستغفر لہم کی آیت میں انشاء اللہ آجائے گا ۔ وہاں بھی شوق استغفار کی وجہ سے آپ نے ظاہری مفہوم کا اعتبار کیا اور ستر مرتبہ سے زائد استغفار کرنے کا اظہار فرمایا۔ 8۔ جن لوگوں کی طبیعت پر شاق ہوا تھا ان کو تسلی دے کر سمع وطاعت کی تاکید فرمائی جو اس امت کے مسلمانوں کی ایک امتیازی شان ہے۔ 9۔ آگے آیت میں پیغمبر اور مسلمانوں کی تعریف ہے اور ان کی وفاداری کو سراہا گیا ہے۔ 01۔ آخری آیت میں اس آیت کی توضح اور مضمون کی وضاحت فرما کر اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے۔ جس کے باعث عام طبائع گرانی محسوس کر رہے تھے۔ 11۔ اس وضاحت کو بعض مفسرین نے نسخ فرمایا ہے اور اس آخری آیت کو اس زیر بحث آیت کا ناسخ قرار دیا ہے حالانکہ وہ ناسخ نہیں ہے بلکہ جو معنی مخفی تھے ان کو اس آخری آیت نے واضح کردیا ہے ( واللہ اعلم) حدیث میں آتا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ نے میری امت سے محض دل کی باتوں کو جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا اس پر عمل نہ کریں در گزر فرما دیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں سے معلوم ہوا کہ دل کے خیال پر بھی حساب ہوگا۔ یہ سن کر اصحاب نے حضرت ؐ سے عرض کیا یہ حکم سخت مشکل ہے۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل کی طرح انکار مت کرو بلکہ قبول رکھو اور اللہ سے مدد چاہو ، پھر لوگوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور قبول کیا ۔ اللہ کے یہاں یہ بات پسند ہوئی تب اگلی دو آیتیں اتریں ، ان میں حکم آیا کہ مقدور سے باہر کی چیز کی تکلیف نہیں ۔ اب جو کوئی دل میں خیال گناہ کا کرے اور عمل میں نہ لاوے اس کو گناہ نہیں لکھتے۔ ( موضح القرآن) سلف کے مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں بعض نے کہا یہ آیت منسوخ ہے اور آگے کی آیتیں اس کی ناسخ ہیں ۔ بعض نے کہا ناسخ نہیں بلکہ مراد کی وضاحت کرنے والی ہیں اور سلف کے بزرگ اس قسم کی آیات کو بھی جو مراد کو واضح کرنے والی ہوتی ہیں ناسخ کہہ دیا کرتے ہیں ورنہ یہ حقیقی نسخ نہیں ہے کیونکہ نسخ احکام میں جاری ہوتا ہے اجنار میں نہیں ۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور اس کا عام مفہوم اپنی حالت پر باقی ہے ۔ ما فی انفسکم پر حساب ہوگا ۔ اگرچہ قلوب کے غیر اختیاری اعمال پر صرف حساب لیسیر ہوگا ۔ حساب مناقشہ نہیں ہوگا ۔ حضرت عبد اللہ عباس ؓ سے مروی ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ بندوں سے فرمائے گا کہ جو اعمال تم ظاہر میں کرتے تھے نامہ اعمال کی کتاب میں میرے لکھنے والوں نے وہی لکھے ہیں اور جو کچھ تم اپنے دلوں میں پوشیدہ رکھتے تھے میں آج تم سے اس کا حساب لوں گا اور جس کو چاہوں گا بخشوں گا اور جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا ۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کا مفاد بھی اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ قلوب کی اختیاری اور غیراختیاری اعمال پر محاسبہ ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ غیر اختیاری پر صرف حسا ب لیسیر ہو اور اختیاری پر حساب مناقشہ ہو ۔ واللہ اعلم صحیح تحقیق ہماری نظر میں وہی ہے جو ہم نے اوپر نقل کی ہے اور وہی اپنے اکابر کی تحقیق ہے۔ ( تسہیلض
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول پر جو کچھ اس کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ اس پر یقین لایا اور مومنین بھی اس پر یقین لائے یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے کہتے ہیں کہ ہم اس کے رسولوں پر ایمان لانے میں کسی رسول کی تفریق نہیں کرتے اور ان سب نے یوں کہا ہم نے سنا اور خوشی سے قبول کیا اے ہمارے پروردگار ہم تیری مغفرت کی آرزو مند ہیں اور تیری طرف سب کی بازگشت ہے3

ف 3۔ رسول یعنی محمد ﷺ کی جانب جو کچھ ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا وہ رسول اس کی تصدیق کرتے اور اس کے حق ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان بھی اس نازل شدہ چیز کے حق ہونے پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ رسول اور مسلمان سب کے سب اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان اور اعتقاد رکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ہم اس کے رسولوں پر ایمان لانے میں کسی رسول کی تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں ۔ کسی کو پیغمبر سمجھیں اور کسی کو پیغمبر نہ سمجھیں۔ اور ان سب یعنی رسول اور مومنین نے یوں کہا ہم نے آپ کا فرمان سنا اور تمام احکامات کو بخوشی مانا اور رغبت کے ساتھ قبول کیا ۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم آپ کی مغفرت اور بخشش کے خواہش مند ہیں ۔ ہماری مغفرت فرما دیجئے اور ہم سب کی بازگشت آپ ہی کی طرف ہے اور ہم سب کو آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ ( تیسیر) ما انزل الیہ من ربہ سے مراد یا تو قرآن ہے یا قرآنی اوامرو نواہی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ جو احکام سورة میں بیان ہوئے ہیں وہ مراد ہیں ۔ مثلاً نماز ، زکوٰۃ ، صیام ، احکام ، حج اور جہاد حیض اور طلاق اور ایلا کا حکم وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان قرآن کو کلام الٰہی مانتے ہیں اور جو احکام نازل ہوتے ہیں اس پر ایمان لاتے ہیں اور قرآن کے حق ہونے پر اعتقاد رکھتے ہیں ۔ اس اعلان کے بعد قرآن پر اعتقاد رکھنے کی تفصیل بیان فرمائی تا کہ یہ عملوم ہوجائے کہ کن کن چیزوں پر اعتقاد رکھنے اور ایمان لانے کو قرآن پر ایمان لانا کہتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں یہاں چار باتیں فرمائیں ۔ اول اللہ تعالیٰ پر یعنی اس کی توحید اور اس کی ذات وصفات پر ایمان رکھنا ۔ دوسرے فرشتوں پر یعنی وہ خدا کے بندے اور اس کے مطیع و فرمانبردار اور اس کے برگزیدہ ہیں ۔ تیسرے تمام کتب سماویہ پر کہ وہ سب کتابیں اپنے اپنے زمانے میں واجب التعمیل تھیں اور ان کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرنا ضروری تھا ۔ چو تھے رسولوں پر یعنی ان پر اس طرح ایمان لانا کہ کسی رسول کی رسالت میں تفریق نہ کرنا بلکہ سب کو خدا کا رسول اور پیغامبر ماننا یہ نہیں کہ کسی رسول پر ایمان لائیں کسی پر نہیں ۔ پھر اس تفصیل کے بعد سب کی طرف سے سمع وطاعت کا اعلان بخشش کی طلب اور آخرت میں حضرت حق جل مجدہٗ کی بارگاہ میں پیشی اور حاضری کا اقرار ہے۔ آیت میں مسلمانوں کی مدح اور مسلمانوں کی تعریف کرنا اور ان کی وفا شعاری اور اطاعت گزاری کا اظہار مقصود ہے اور مسلمانوں کی تقویت اور ان کے مرتبہ کی رفعت کے لحاظ سے پیغمبر کا ذکر بھی ان کے ساتھ کردیا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ رسول کا ایمان صحابہ کے ایمان سے اکمل اور مبنی علی المشاہدہ ہے بلکہ آپ اول المسلمین ہیں اور اجمالاً آپ کو پہلے سے تمام امور پر ایمان حاصل ہے اور صحابہ کا ایمان کامل اور حجت و براہن سے ناشی ہے اس لئے دونوں میں تفاوت اور فرق ہے ۔ مگر باوجود تفاوت اور فرق کے پھر بھی صحابہ کے ایمان کے ساتھ رسول کے ایمان کا ذکر فرمانا ایسا ہی ہے جیسے دسویں پارے میں آیت یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین میں صحابہ کے ساتھ رسول کا یا اپنا ذکر فرمایا ہے ۔ یعنی اے نبی آپ کو اللہ تعالیٰ اور وہ مسلمان جو آپ کے پیر وہیں کافی ہیں یا یہ معنی ہیں کہ اے نبی آپ کی اور آپ کے پیرو مسلمانوں کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ اس طرح آیت زیر بحث میں بھی باوجود تفاوت ایمانی کی صحابہ کے ایمان کے ساتھ رسول کے ایمان کا ذکر فرمایا ہے ہم نے اسی فرق کی رعایت سے تیسیر میں فرق کردیا ہے اور یوں ترجمہ کیا ہے کہ رسول قرآن کی تصدیق کرتے ہیں اور اس پر اعتقاد رکھتے ہیں اور مسلمان قرآن کو مانتے اور جو احکام نازل ہوتے ہیں ان پر ایمان لاتے ہیں۔ ہم نے ابھی عرض کیا ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کو پہلے سے اجمالا ً تمام امور پر ایمان حاصل ہے اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ پھر سورة الشوریٰ میں کیوں ارشاد فرمایا۔ ما کنت تدری ملا الکتاب ولا الایمان شبہ کا جواب یہ ہے کہ سورة شوریٰ میں تفصیل کی نفی فرمائی ہے اجمال کی نہیں اور ہماری تقریر میں اجمال کا ذکر ہے تفصیل کا نہیں لہٰذا کوئی تعارض نہیں ہے۔ غفرانک کے دو معنی ہوسکتے ہیں ۔ ہم نے تیسیر میں دونوں کو ظاہر کردیا ہے ۔ ہم کو بخشش دیجئے ، یا ہم بخشش کے آرزو مند ہیں۔ والیک المصیر کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کی بازگشت صرف آپ ہی کی طرف ہے خواہ مرنے کے وقت یا قبروں سے اٹھنے کے وقت ، بہر حال مسلمانوں کی مدح اور تعریف توبیچ میں ایک خاص مناسبت سے آگئی تھی ۔ اب آگے کی آیت میں وان تبدوا ما فی انفسکم کی وضاحت اور اصل مراد کا ذکر کیا جاتا ہے، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)