Ayah 2:207ف 3 اور لوگوں میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کی رضا مندی تلاش کرنے کی غرض سے اپنی جان تک فروخت کر ڈالتا ہے اور اپنی جان بھی صرف کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں پر بڑی مہربانی اور بڑی شفقت فرماتا ہے۔ (تیسیر)
اس آیت کا تعلق بظاہر حضرت صہیب بن سنان رومی سے معلوم ہوتا ہے یہ صہیب وہی مشہور صحابی ہیں جو موصل کے علاقے کے رہنے والے تھے رومیوں نے ایک زمانہ میں موصل پر حملہ کیا تو ان کے بزرگوں کو گرفتار کرکے روم میں لے گئے یہ صہیب وہیں بڑھے پلے اس لئے اس کو رومی کہتے ہیں اگرچہ عراقی عرب ہیں یہ مکہ میں آکر مسلمان ہوئے تھے بڑی عمر کے آدمی تھے۔ نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لے گئے تو یہ بھی ایک دن چھپ کر ہجرت کی غرض سے نکلے کفار مکہ نے ان کو راہ میں گھیر لیا تو انہوں نے للکار کر کہا سن لو ! میں پہلے تو تمہاری تیروں سے خبر لوں گا اور جب تیر ختم ہوجائیں گے تو تلوار سے مقابلہ کروں گا اگر تم کو مقابلہ منظور ہو تو مقابلہ کرلو اور اگر مال چاہتے ہو تو مکہ میں میرا مال دفن ہے میں تم کو بتادیتا ہوں تم جا کر وہ مال نکال لو اور مجھ کو مدینہ جانے دو ۔
کفار دفینہ حاصل کرنے پر رضا مند ہوگئے اور ان کا پیچھا چھوڑ دیا اور انہوں نے تمام مال جہاں دفن کر رکھا تھا وہ ان کو بتادیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا
ربع البیع لبا یحییٰ یعنی ابا یحییٰ کی بیع نفع آور ہوئی اور صہیب کی تجارت سود مند ہوئی صہیب کی کنیت ابو یحییٰ ہے جب یہ مدینہ پہونچے تو حضر ت عمر ؓ کی سرپرستی میں صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان کو مبارک باد دی۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلے میں قتل کیا جائے کسی نے کہا مجاہد فی سبیل اللہ کے بارے میں ہے بہرحال ہر وہ مخلص مسلمان جو اللہ کی راہ میں تکلیف اٹھائے اور دین کی خدمت میں ایذا دیاجائے اس آیت سے مراد لیا جاسکتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حال صاحب ایمان کا کہ اللہ کی رضا پر اپنی جان دیوے۔ موضح القرآن
بہرحال آیت کا شان نزول اگرچہ کسی مخصوص منافق اور مخلص مسلمان کے لئے ہو۔ لیکن آیت اپنے مفہوم میں عام ہے اب آگے عام مسلمانوں کو خطاب ہے اور اسلام میں پوری طرح داخل ہونے کی تاکید ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:208–210ف 1 اے ایمان والو ! تم اسلام میں پوری طرح داخل ہوجائو اور اسلام کے تمام احکام مانو ! اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو اور اس امر کا یقین کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے پھر اگر اس کے بعد بھی کہ تم کو صاف صاف احکام اور واضح اور روشن دلائل پہونچ چکے ہیں تم سیدھی راہ سے ڈگمگا جائو گے اور پھسل جائو گے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور بڑی رحمت کا مالک ہے کیا یہ لوگ جو دلائل کی روشنی حاصل ہونے کے بعد بھی راہ مستقیم سے ہٹتے ہیں صرف اس بات کی راہ دیکھ رہے ہیں اور صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس آئیں اور تمام کاموں کا فیصلہ ہی کردیاجائے اور تمام فیصلہ ہی چکا دیاجائے حالانکہ بندوں کے تمام کاموں کا مرجع تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور تمام امور اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (تیسیر)
شریعت موسویہ میں بعض باتیں ناجائز تھیں اور بعض کی تعظیم ضروری تھیں مثلاً ہفتہ کے دن کی تعظیم ضروری تھی اور اونٹ کا گوشت اور دودھ حرام تھا اب بعض یہود نے اسلام قبول کرنے کے بعد یہ خیال کیا کہ اسلام میں ہفتہ کے دن کی توہین اور تذلیل ضروری نہیں اور شریعت موسویہ میں تعظیم واجب ہے اسی طرح اونٹ کا گوشت کھانا اور دودھ پینا اسلامی شریعت میں فرض نہیں اور شریعت موسویہ میں حرام ہے اس لئے اگر ہم لوگ ہفتہ کے دن کی تعظیم کا اعتقاد رکھیں مگر علماً تعظیم نہ کریں اور اونٹ کا گوشت اور دودھ ترک کردیں اگرچہ حرام ہونے کا اعتقاد نہ رکھیں تو اس میں شریعت موسویہ کی رعایت بھی ہوجائے گی اور اسلا میں بھی ہم کسی بدعت کے مرتکب نہ ہوں گے بعض نومسلم یہودنے نبی کریم ﷺ سے یہ دریافت کیا یا رسول اللہ ! اگر ہم رات کو تہجد کی نماز میں بجائے قرآن شریف کے توریت پڑھ لیا کریں تو اس میں کوئی خرابی تو نہیں۔ اس قسم کے شکوک و شبہات کو دور کرنے کی غرض سے فرمایا کہ اسلام میں پوری طرح داخل ہو یہ نہ کرو کہ کچھ یہودیت اختیار کرو اور کچھ اسلام کی باتیں مانو۔
اسلام ایک کامل مذہب ہے اس کا کامل ہونا جب ہی ہے کہ جس چیز کی رعایت اسلام میں نہیں ہے اس کی رعایت نہ کی جائے اور کسی ایسے کام کو جو اسلام نے دین نہیں بتایا اس کو دین سمجھ کر نہ کیا جائے ایسا کرنا ایک شیطانی لغزش ہے اور اسی حکم سے بدعات اور رسومات کفر یہ کو لازم سمجھ کر کرنا اور بدعات کو دین سمجھ کر بجا لانے کی خرابی اور مردود ہونا معلوم ہوتا ہے۔
بعض حضرات نے اس آیت کو بھی عام رکھا ہے اور ان اہل کتاب کے ساتھ خاص نہیں رکھا جو مسلمان ہوچکے تھے لیکن آگے کی آیتوں کے ربط کا لحظ رکھتے ہوئے پہلا ہی قول بہتر معلوم ہوتا ہے اگرچہ عموم کی گنجائش بھی ہے اور یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ سب کے سب اسلام میں داخل ہوجائو۔
سلم خواہ فتح سین کے ساتھ ہو یا کسرئہ سین کے ساتھ ہو دونوں کے معنی انقیاد اور اطاعت اور اسلام کے ہیں صحیح تحقیق یہی ہے کافۃ کے معنی پور سے کے ہیں یعنی پورے پورے اسلام میں داخل ہو جائو اور پوری طرح شریعت اسلامیہ کے فرمانبردار بن جائو۔
الزلل کے اصلی معنی تو پائوں پھسل جانے کے ہیں مگر یہاں مراد یہ ہے کہ دین حق سے عدول کر جائو اور راہ حق کو چھوڑ دو بیتنۃ کے معنی روشن دلیل اور واضح حجت ہیں چونکہ بعض نے یہاں اس لفظ سے احکام مراد لئے تھے اس لئے ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں دونوں کا لحاظ رکھا ہے۔
عزیز حکیم کا مطلب یہ ہے کہ بےپناہ قوت کے مالک ہیں چاہیں تو ابھی سزا دے دیں لیکن چونکہ حکیم ہیں اس لئے بعض مصالح کے اعتبار سے مجرم کی فوری گرفت نہیں کرتے۔
ھل ینظرون کے لفظی معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ نہیں انتظار کر گے مگر اس بات کا ہم نے محاورے کی رعایت سے یوں ترجمہ کیا ہے کہ یہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں۔ ظلۃ کہتے ہیں سائبان کو یا وہ چیز جو سایہ کرے حتیٰ کہ آج کل چھتری کو بھی ظلہ کہہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری کی حقیقت تو معلوم نہیں ہوسکتی۔
ابن جریر ؓ نے ایک روایت ابوہریرہ ؓ سے نقل کی ہے حدیث طویل ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب لو گ حشر کے میدان میں کھڑے ہوں گے اور گرمی اور پسینوں سے پریشان ہورہے ہوں گے تو سب انبیائ (علیہ السلام) کی خدمت میں شفاعت کی غرض سے حاضر ہوں گے اور آخر میں نبی کریم ﷺ اس سفارش پر آمادہ ہوجائیں گے کہ مخلوق کا حساب کتاب لے کر ان کو جنت اور دوزخ میں بھیجاجائے۔ چناچہ آپ ﷺ سجدے میں خدا کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد دعا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کی سفارش قبول فرمائے گا اور ابر کے سائبانوں میں اس کی تجلی مخلوق کی جانب متوجہ ہوگی اور یکے بعد دیگرے آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام فرشتے اتر آئیں گے اور تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہوئے اس بادل کے ہمراہ ہوں گے۔
ابن مسعود ؓ کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے کہ لوگ اس دن آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور ہر شخص حساب و کتاب اور آخری فیصلہ کا منتظر ہوگا کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ ابر کے سائے میں عرش سے کرسی پر جلوہ فرما ہوگا۔
ابن عمرو ؓ نے کہا جب اللہ تعالیٰ نازل ہوگا تو خالق و مخلوق کے درمیان کے ستر ہزار پردے ہوں گے یعنی پردے نور کے ہوں گے بعضے پردے تاریکیوں کے ہوں گے بعضے پردے پانی کے ہوں گے اس تاریکی میں پانی کی آواز اتنی ہولناک ہوگی کہ لوگوں کے دل دہل جائیں گے۔ کفار کے جمود اور بےپروائی کو ان الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے کہ گویا یہ لوگ ایمان لانے کے لئے اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جس دن اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجائے گا اور حساب و کتاب ہوکر جزا و سزا کا آخری فیصلہ ہوجائے گا۔
اسی مضمون کو آٹھویں سپارے میں ان الفاظ کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے۔
ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملکہ ادیاتی ربک ادیاتی بعض ایات ربک
یعنی کیا یہ لوگ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں یا آپ کا پروردگار تشریف لائے یا آپ کے پروردگار کی بعض نشانیاں آجائیں۔
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ فرشتوں کا آنا، آخری فیصلوں کا ہونا۔ اللہ تعالیٰ کا متوجہ ہونا اس دن ہوگا حالانکہ اس کا ایمان لانا ان کے حق میں کچھ مفید نہ ہوگا اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری اور فرشتوں کے اترنے کو انیسویں پارے میں اس طرح ارشاد فرمایا ہے۔
ویوم تشقق السمآء بالغمام ونزل المکۃ تنزیلا۔
یعنی جس دن بادل کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور فرشتے بکثرت اتارے جائیں جس بادل کے واسطے سے حق تعالیٰ کی توجہ مخلوق کی جانب جلوہ فرما ہوگی اس کی حقیقت بھی معلوم نہیں ہوسکتی۔ اتنا کہا جاسکتا ہے کہ عالم بالا بلکہ عالم عرش و کرسی کے سلسلے میں بادل کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے غمام رقیق اور سفید رنگ کے بادل کو کہتے ہیں لیکن اوپر تلے اس کے ٹکڑے جمع ہوکر وہی غلیظ ابر بن جاتا ہے۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم مجر دات سے اوپر والے عالم کے لئے جس ابر کا استعمال ہوتا ہے اس کا رنگ ہلکا زرد ہے نبی کریم ﷺ کی معراج میں جس اخرف کا ذکر آتا ہے وہ بھی اسی قسم کا کوئی بادل تھا۔ بہر حال اس قسم کی آیتوں میں جو طریقہ سلف کا رہا ہے وہ صحیح اور بہتر ہے یعنی ان کی حقیقت کے درپے نہ ہوناچاہئے جس طرح اس کی ذات عقل و فہم سے بالاتر ہے اسی طرح حضرت حق جل مجدۂ کی صفات اور ان صفات کی کنبہ بھی معلوم نہیں ہوسکتی البتہ ان باتوں کے وجود اور وقوع پر ایمان لاناچاہئے اور حقیقت کے معلوم کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کے تمام احکام کو ت سلیم کرو اور اسلام میں پوری طرح داخل ہو اور اپنی طرف سے کچھ گھٹائو بڑھائو نہیں۔ حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو واجب کو واجب ، مستحب کو مستحب اور مباح کو مباح سمجھو اورش یطان کی پیروی نہ کرو کہ بدعات میں مبتلا ہوجائو اور غیر شرعی چیزوں کو شرعی سمجھنے لگو پھر اگر اس کے بعد بھی کہ تم کو اسلام کے صاف احکام اور روشن دلائل حاصل ہوچکے ہیں تم جادئہ حق سے ہٹو گے تو عذاب الٰہی کے مستحق ہو گے کیا یہ لوگ اپنی حرکات سے باز آنے کے لئے صرف اس امر کا انتظار کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے اور بادل میں تجلی فرمائے اور فرشتے نازل ہوں اور حساب و کتاب کے تمام معاملات ختم کردئیے جائیں اور تمام قصے چکا دئیے جائیں یعنی قیامت آجائے اور اس قسم کے تمام معاملات تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کئے جائیں گے یہ اگر انتظار کر رہے ہیں تو کرنے دو اس دن کا آنا اور ان امورکا فیصلہ ہونا یہ سب باتیں تو خدا ہی کے قبضے میں ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ اس دن کے آجانے کے بعد پھر توبہ کرنا یا ایمان لانا بالکل بےسود اور بےکار ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیغمبروں اور قرآن پر یقین نہیں لائے تو اب منتظر ہیں کہ خدا آپ آوے اور ہر کسی کو اس کے عمل کے موافق جزا دیوے۔ (موضح القرآن)
اب آگے نعمت کی ناشکری اور ناشکری کی سزا پر بنی اسرائیل کے واقعات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں تاکہ امت محمدیہ ﷺ کو تنبیہ ہو کہ اگر قرآن اور پیغمبر جیسی نعمت پر ناشکری کی تو بنی اسرائیل کا سا حال نہ ہو (تسہیل)
Ayah 2:211ف 2 اے پیغمبر ﷺ ! آپ بنی اسرائیل کے علماء سے دریافت تو کیجئے کہ ہم نے ان بنی اسرائیل کو کتنے واضح دلائل عطا کئے تھے اور عام قاعدہ ہمارا یہی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بعد اس کے کہ وہ نعمت اس شخص کے پاس پہنچ چکی ہو بدلتا ہے تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے ناسپاس اور نافرمان کو سخت سزا دینے والا ہے (تیسیر)
نعمت یہاں سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ انعامات ہیں جو دقتاً فوقتاً بنی اسرائیل کے بزرگوں پر ہوتے رہے مثلاً ًتوریت کا ملنا انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا پے درپے آتے رہنا دریا کو پھاڑنا من اور سلویٰ کا نازل فرمانا وغیرہ وغیرہ تبدیل نعمت کا مطلب یہ ہے کہ واضح دلیلیں عطا ہوئیں تھیں ۔ اس لئے کہ ہدایت اختیار کرتے مگر انہوں نے ان کو ذریعہ گمراہی بنایا توریت سے ہدایت قبول کرنے کی بجائے اس کو اپنی ضلالت اور گمراہی کے لئے استعمال کیا انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کی بجائے ان کو قتل کردیا۔ دریا کو پار کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بت بنانے کی خواہش کی۔ من اور سلویٰ کو ذخیرہ بنانے لگے نعمت کے پہنچ جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا علم حاصل ہوجائے یا وہ نعمت بےتکلف حاصل ہوسکے۔
سخت سزا کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بھی ان کو مختلف سزائیں دی جائیں اور آخرت میں بھی وہ عذاب میں مبتلا کئے جائیں۔
خلاصہ یہ کہ خدا کی نعمت کے جواب میں ناسپاسی کی روش اختیار کی اور ناشکری کا طریقہ استعمال کیا لہٰذا اسی تبدیل نعمت کی پاداش ان کو بھگتنی پڑی چونکہ یہ معلومات عام طور سے علماء کو ہوتی ہے۔ اس لئے علماء بنی اسرائیل سے دریافت کیجئے تاکہ آپ کے زمانے کے بنی اسرائیل کو ب ھی ان سزائوں کا حال معلوم ہوجائے جو ان کے بزرگوں پر نازل ہوتی رہیں شاید ان کو سن کر قرآن اور نبی آخر الزمان ﷺ جیسی عظیم الشان نعمت کی قدر کریں اور ناسپاسی سے باز آئیں۔
اب آگے اس قسم کی ناسپاسی اور اس مرض کی اصلی وجہ بیان فرماتے ہیں تاکہ بیماری کی اصل علت معلوم ہوجائے۔ (تسہیل)
Ayah 2:212ف 3 جن لوگوں نے کفر اور انکار کی روش اختیار کر رکھی ہے ان کے لئے دنیوی زندگی خوش نما اور مزین و آراستہ کردی گئی ہے اور منکروں کی حالت یہ ہے کہ مسلمانوں سے تمسخر کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ یہ مسلمان جو کفر و شرک سے بچتے ہیں اور اللہ و رسول ﷺ کے فرمانبردار ہیں ان کافروں سے قیامت کے دن بلند وبالا تر ہوں گے اور اعلیٰ مراتب و درجات پر فائز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب اور بہ کثرت روز کی عنایت کرتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ کفار کے لئے چونکہ دنیوی زندگی کو خوش نما اور خوش منظر کردیا گیا ہے اس لئے وہ دنیوی زندگی پر قانع ہیں اور آخرت کی زندگی کا ان کو خیال بھی نہیں آتا بلکہ اس کے منکر ہیں اور اس انکار میں یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ جو لوگ مسلمان ہیں جیسے عبداللہ بن مسعود، عمار، صہیب بلال ؓ وغیرہ ان غریب مسلمانوں کے ساتھ یہ منکر مذاق کرتے ہیں اور ان پر پھبتیاں کستے ہیں حالانکہ جن کو غریب اور ذلیل سمجھتے ہیں یہ مسلمان ان کافروں سے قیامت کے دن بلند مرتبہ ہوں گے منکرین جہنم میں پڑے ہوں گے اور مسلمان جنت کے بالاخانوں میں اونچے اونچے تختوں پر بیٹھے ہوں گے اور کفار اپنی مال حالت پر مغرور نہ ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بکثرت روزی دیتا ہے یعنی دولت مندی کوئی حق و باطل کی علامت نہیں ہے یہ تو ہماری مشیت پر موقوف ہے کوئی یہاں دولت مند ہے مگر قیامت میں محتاج اور فقیر ہے کوئی یہاں فقیر ہے وہاں دولت مند ہے کوئی یہاں اور وہاں دونوں عالم میں خوشحال ہے۔
مفسرین نے اس آخری جملہ کی کئی طرح مناسبت بیان کی ہے ہم نے تسہیل میں ایک پہلو اختیار کرلیا ہے ۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ پر نہ کوئی نگراں ک ہے اور نہ ان سے کوئی حساب لے سکتا ہے اس لئے جس کو چاہتے ہیں دیتے ہیں اور جس قدر چاہتے ہیں عطا کرتے ہیں۔
حضرت سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ سے حساب نہیں لیا جاتا دنیوی زندگی کی تربین کا مطلب یہ ہے کہ ان کو یہی زندگی اچھی اور بھلی معلوم ہوتی ہے چونکہ دنیا کی محبت اور خوشنمائی دین حق سے اغراض اور دین حق میں اختلاف پیدا کرنے کی وجہ ہے اس لئے عام طور سے امم سابقہ کی حالت بیان کرتے ہیں۔
زیر بحث آیت میں ان کافروں کا ذکر تھا جو مکہ کے غریب مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے آگے کی آیت میں عام طور سے دین میں اختلاف پیدا کرنے والوں کا ذکر فرماتے ہیں شاید یاد ہوگا ہم اوپر تقویٰ کی بحث میں یہ کہہ چکے ہیں کہ تقویٰ کے مختلف مراتب ہیں محض کفرو شرک سے پرہیز کرنے والے کو بھی متقی کہہ سکتے ہیں اسی مفہوم کی جانب ہم نے تیسیر میں اشارہ کیا ہے تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ مسلمان خواہ کسی درجہ کا متقی ہو بہرحال وہ دین حق کے منکر سے قیامت میں بہتر اور برتر ہوگا۔ (تسہیل)
Ayah 2:213ف 1 سب لوگ ابتدا میں ایک ہی جماعت اور ایک ہی خیال اور ایک ہی طریق کے تھے پھر باہم مختلف ہوگئے اور ان میں اختلاف رونما ہوا تو اس اختلاف کے رفع کرنے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا جن کا حال یہ تھا کہ وہ حق کے قبول کرنے والوں کو بشارت دیا کرتے تھے اور منکرین حق کو ان کے انجام سے ڈرایا کرتے تھے اور ان پیغمبروں کے ہمراہ مختلف کتابیں اور صحیفے بھی برحق اور برحمل نازل فرمائے تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے مابین ان کے امور مختلفہ کا فیصلہ فرما دے اور جس امر حق میں انہوں نے جھگڑا شروع کر رکھا تھا اس کو صاف کردے لیکن واقعہ یہ ہوا کہ اس کتاب میں اور کسی نے اختلاف پیدا نہیں کیا مگر ان ہی لوگوں نے اختلاف کیا جن کو وہ کتاب دی گئی تھی اور یہ اختلاف بھی محض آپس کی ضد سے اور ہٹ سے کیا اور اس کے بعد کیا جب کہ ان کو واضح دلائل اور صاف احکام پہنچ چکے پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر حق میں ہمیشہ اپنے فضل اور اپنی توفیق سے ایمان والوں کی رہنمائی فرمائی جس میں لوگ اختلاف کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے راہ راست کی جانب اس کی رہنمائی فرماتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ابتداء میں سب کی سب ایک ہی طریق کی پابند تھی اور وہ طریق اسلام تھا پھر جب ان کی اولاد بڑھی تو ان میں اختلاف شروع ہوگیا اور باپ نے جو تعلیم دی تھی اس کے پابند نہ رہے تو اللہ تعالیٰ نے آگے پیچھے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو کتابیں اور صحیفے دے کر بھیجا یعنی پیغمبر آئے اور ان پر حسب ضرورت آسمانی کتابیں اور صحائف بھی نازل ہوتے رہے یہ آسمانی کتابیں حق و انصاف پر مشتمل تھیں اور جس قسم کی ضرورت اس زمانے میں درپیش تھی ٹھیک ٹھیک اس ضرورت کو پورا کرنے والی تھیں۔ ان انبیاء کی بعثت اور نزول کتب کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان امور مختلفہ کا جن میں لوگ اختلاف کر رہے تھے فیصلہ کردے کیونکہ پیغمبر اور کتب سماویہ کا کام یہی ہے کہ وہ امر واقعی کو ظاہر کردیتی ہے اور امر واقعی کے ظاہر ہوجانے کے بعد امر غیر حق خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔
بہرحال ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ باہمی سب اختلافات ختم ہوجاتے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے طریقہ کو سب لوگ اختیار کرلیتے مگر ہوا یہ کہ بعض لوگوں نے اس کتاب کو نہ مانا اور اس میں ہی اختلاف پیدا کردیا اور یہ اختلاف صرف ان ہی لوگوں نے کیا جن کو وہ کتاب ملی تھی یعنی پڑھے لکھے اور سمجھ دار لوگوں نے کیونکہ ابتدائی مخاطب یہی لوگ ہوتے ہیں اور ان ہی سے یہ امید ہوتی ہے کہ یہ خود سمجھ کر دوسروں کو سمجھائیں گے اور ان کو راہ راست پر لائیں گے لیکن یہاں انہی لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف پیدا کردیا اور یہ ختلاف بھی اس حالت میں کیا جب ان کو واضح دلائل اور صاف و روشن احکام پہنچ چکے اور یہ اختلاف بھی محض آپس کے حسد کی وجہ سے کیا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فیہ کی ضمیر امر حق کی طرف راجع ہو یعنی جن لوگوں کو کتاب ملی تھی انہوں نے ہی امر حق میں ا ختلاف پیدا کردیا۔
بینات کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کے معجزے دیکھنے اور کتاب کے احکام معلوم کرنے کے باوجود پھر جھگڑا گیا۔ اس پر ہم نے اہل ایمان کی اپنے حکم اور اپنی رحمت و فضل سے اس معاملہ میں جس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے تھے صحیح رہنمائی کی۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر زمانے میں ایسا ہوتا رہا ہے پہلے تو لوگ کچھ دنوں ایک راہ پر رہے پھر کفرو ایمان کی راہیں تقسیم ہوگئیں اللہ تعالیٰ نے اس اختلاف کو مٹانے کی غرض سے پیغمبر بھیجے کتابیں نازل فرمائیں تاکہ امر حق کو ظاہر کردیاجائے لیکن دلائل واضحہ آجانے کے بعد بھی لوگوں نے محض آپس کے حسد اور ضد سے نبیوں کی تکذیب اور کتابوں کا انکار شروع کردیا اور کتاب کی صداقت اور اس کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اہل ایمان کو صحیح ہدایت عطا فرمائی اور وہ لوگوں کی مختلف فیہ باتوں سے محفوظ رہے اور یہ ہدایت الی الحق حضرت حق کی مشیت پر موقوف ہے جس کو وہ چاہتا ہے سیدھی راہ بتادیا کرتا ہے
یہ ہوسکتا ہے کہ اختلاف کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو آدم (علیہ السلام) سے لیکر نوح (علیہ السلام) تک اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھیوں میں سے بچ گئے تھے ان کی اولاد ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہود و نصاریٰ ہوں اور راہ راست پر قائم رہنے والے امت محمدیہ ﷺ کے مسلمان ہوں۔ ( واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے کتابیں اور نبی متعدد بھیجے اس واسطے نہیں کہ ہر فرقہ کو جدی راہ فرمائی اللہ کے ہاں سے سب خلق کو ایک ہی راہ کا حکم ہے جس وقت اس راہ سے کسی طرف بچلے ہیں اللہ نے نبی بھیجا کہ سمجھا دے اور کتاب بھیجی کہ اس پر چلے جاویں پھر کتاب والے کتاب میں بچلے تب دوسری کتاب کی حاجت ہوئی سب نبی اور سب کتابیں اسی ایک راہ کو قائم کرنے کو آئے ہیں اس کی مثال جیسے تندرستی ایک ہے اور مرض بیشمار جب ایک مرض پیدا ہو ایک دوا اور پرہیز اس کے موافق فرمایا جب دوسرا مرض پیدا ہوا دوسری دوا اور پرہیز اس کے موافق فرمایا اب آخری کتاب میں ایسی راہ فرمائی کہ ہر مرض سے بچائو ہے یہ سب کے بدلے کفایت ہوئی۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کی تقریر سے وہ بات صاف ہوگئی اور ایک بہت اچھی مثال دے کر حضرت شاہ صاحب (رح) نے سمجھایا کہ اصل مذہب تو سب کے لئے اسلام ہے لیکن جب کبھی لوگ بگڑے ہیں تو حضرت حق نے ان کی فوری ہدایت کا انتظام فرمایا ہے لیکن حضرت حق کی مہربانی سے کسی کو شفا ہوتی اور کوئی بدنصیب محروم رہا اذن کے معنی تو اصل میں حکم اور اجازت کے ہیں لیکن یہاں اسکا فضل اسکی توفیق، اس کا ارادہ وغیرہ مراد ہے اس آیت نے گذشتہ قوموں کا ایک مفصل نقشہ پیش کردیا ہے تاکہ مسلمانوں کو تسلی ہو۔ اب یہ بات صاف ہوگئی کہ پہلے کافر بھی ایسا ہی کرتے رہے ہیں ہر زمانے کے لوگوں نے انبیاء کی تکذیب کی ہے اور کتب سماویہ میں جھگڑے پیدا کئے ہیں اور انبیاء کو اذیتیں پہنچائی ہیں اور مسلمانوں کو ستایا ہے۔
آگے کی آیت میں انہی باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے تاکہ مسلمانوں کو یہ سن کر اطمینان ہوجائے کہ ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے آج جو کچھ ہورہا وہ کوئی نئی چیز نہیں ہے پہلے لوگوں نے بھی اپنے پیغمبروں کے ساتھ اور ان کے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ اسی قسم کے وحشیانہ سلوک کئے ہیں اور ان کو اتنی مہلت دی گئی ہے کہ اللہ کے نیک بندوں نے مصائب سے تنگ آکر خدا تعالیٰ سے نصرت و امداد کی دعائیں کی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا ہے یہی سلوک مکہ کے کفار تمہارے ساتھ کر رہے ہیں پھر جس طرح پہلے مسلمانوں نے صبر کیا اسی طرح تم بھی صبر کرو جس طرح انکی امداد کی گئی اسی طرح تمہاری بھی مدد کی جائیگی۔ (تسہیل)
Ayah 2:214ف 2 مسلمانو ! کیا تم نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجائو گے اور بدون کسی محنت و مشقت کو برداشت کئے تم بہشت میں چلے جائو گے حالانکہ ابھی تک تم کو اپنے سے پہلے مسلمانوں کی طرح کے حالات و واقعات سے سابقہ نہیں پڑا اور جو مسلمان تم سے پہلے ہو گزرے ہیں جیسے عجیب و غریب حالات ان کو پیش آئے تھے وہ ابھی تم کو پیش نہیں آئے ان پر ان کے مخالفین کی جانب سے بڑی سختی اور تکلیف واقع ہوئی اور مصائب و آلام سے وہ ہلا ہلا دئیے گئے یہاں تک کہ اس وقت کے پیغمبر اور اس کے ساتھی مسلمان بےچین و مضطرب ہوکر کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی اس پر ان کو تسلی دی گئی کہ آگاہ رہو اور سن لو ! اللہ تعالیٰ کی مدد بہت ہی قریب آنے والی ہے (تیسیر)
بوس کے معنی ہیں فقر، سختی، مسکنت اور ضراء کے معنی ہیں۔ مرض، خوف اپاہج ہوجانا، زلزلہ کے معنی ہیں حرکت اور تحریک یعنی کسی چیز کو زور سے ہلانا اور حرکت دینا۔
مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلے جو مسلمان گذر چکے ہیں ان پر بڑے مصائب و آلام واقع ہوئے ہیں کچھ تو عام طورپر سے نیک اور مخلص بندوں پر بلائیں نازل ہی ہوتی رہتی ہیں نیز اہل حق پر اہل باطل کی جانب سے بھی طرح طرح کے تشدد ہوتے ہیں وہ سب سے پہلے پیغمبروں پر اور پیغمبروں کے ساتھیوں پر ہوتے رہے فقر و فاقہ اور طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کئے گئے پھر مخالفوں کی جانب سے حملے اور لڑائیاں اس قدر شدید ہوئیں کہ اہل حق ہلاہلا دئیے گئے۔ زلزال یازلزلہ جنگ کے موقع پر بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ سورة احزاب میں ہے وزلزلوا زلزالا شدیدا ایک طرف تو یہ ہوا کہ ان پر اس قدر مظالم ہوئے کہ پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔
دوسری طرف پیغمبروں کی معرفت پر جو نصرت اور مدد کے وعدے ان سے کئے گئے تھے ان میں تاخیر ہوئی تو پیغمبر اور اس کے ساتھی مسلمان بےقرار ہوکر دعائیں کرنے لگے کہ جس مدد کا وعدہ کیا گیا ہے وہ مدد کب آئیگی۔ ارشاد ہوا تمہاری دعا قبول ہوئی میں ہی تمہارا حامی اور مدد گار ہوں اور میری مدد قریب ہی آنے والی ہے پس جب تم سے پہلے لوگوں کو اس قدر مصائب کا سامنا کرنا پڑا تو کیا تم یہ سمجھتے ہو اور تمہارا یہ خیال ہے کہ تم کو ان حالات و واقعات سے دوچار نہ ہونا پڑے گا اور تم جنت میں داخل ہو جائو گے ۔
حضرت خباب ابن ارت سے مروی ہے کہ ہم نے کفار کے مظالم سے پریشان ہوکر ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتے اور آپ ہمارے لئے مدد نہیں مانگتے۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو لوگ تم سے پہلے تھے ان کو طرح طرح کی سزائیں دی جاتی تھیں کسی کے سَر پر آرہ رکھ کر اس کو چیرا جاتا تھا اور وہ اس پر بھی اپنے دین سے نہ پھرتا تھا اور لوہے کی کنگھیوں سے بعض لوگوں کے جسم کی کھال اتاری جاتی تھی مگر اس پر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتا تھا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے اس کام کو پورا کر کے رہے گا اور ایک دن ایسا ہوگا کہ ایک سوار حضر موت سے صفاء تک بےخوف و خطر چلا جائے گا اور اس کے دل میں سوائے خدا کے کسی کا ڈر نہ ہوگا مگر تم لوگ جلد بازی کرتے ہو یعنی تم پر تو وہ مصائب آئے بھی نہیں جو تم سے پہلوں پر آچکے ہیں اور یہ جو فرمایا کہ بدون سختیاں جھیلے اور مشقت اٹھائے۔
جنت میں چلے جائو گے اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی گناہ گار اللہ تعالیٰ کے فضل سے جنت میں نہ جائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ مشقت کچھ نہ کچھ تو ہوتی ہی ہے لیکن جیسی مشقت ویسا مرتبہ چونکہ صحابہ کرام ؓ درجات عالیہ کے وارث ہوں گے اس لئے ان کا امتحان بھی ان کی شان کے موافق ہوگا۔ جتنا کسی کا مرتبہ زیادہ ہوتا ہے اسی قدر اس پر بلائیں واقع ہوتی ہیں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور مسلمانوں کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کب آئے گی اس کا بھی یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ ان کو خدا کے وعدے میں کوئی شک تھا بلکہ وعدہ کا کوئی وقت مقرر نہ تھا اور مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے اہل باطل اور دین حق کے کے منکر چڑھے چلے آتے تھے ایسے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور تضرح کے ساتھ دعا کرتے تھے اور حضرت حق جل مجدہ سے دعا کرنا اور عاجزی کے ساتھ اسکی جناب میں گریہ وزاری کرکے مددطلب کرنا شیوئہ تسلیم و رضا کے منافی بھی نہیں۔
جیسا کہ نبی کریم ﷺ سے عام غزوات میں عموماً اور غزوئہ بدر میں خصوصاً فتح و نصرت کی دعائیں ثابت ہیں یہ ہوسکتا ہے کہ یہ آیت غزئوہ احد کے موقع پر نازل ہوئی یا غزوئہ احزاب کے سلسلے میں نازل ہوئی ہو۔
جیسا کہ مفسرین کا خیال ہے بہرحال آیت عام ہے اور ایک مخلص مسلمان کو امر حق کی تبلیغ میں جو مصیبت پیش ا ٓئے یا زمانہ کے حوادثات کی وجہ سے جو تکلیف پہنچے اس سب کو شامل ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے حفت الجنۃ بالمکارہ وحفت النار بالشھرات جنت کو مصائب و مکارہ سے ڈھانکا گیا ہے اور جن ہم کو نفسانی خواہشات سے ڈھانکا گیا ہے ابتلا اور افتنان اہل حق اور خدا تعالیٰ کے سچے اور مخلص بندوں کے ورثہ میں چلا آیا ہے اب آگے پھر احکام اور لفظ بر کی تفصیل شروع ہوتی ہے (تسہیل)
Ayah 2:215ف 3 اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کیا چیز خرچ کریں اور کیا چیز خیرات کیا کریں آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے مال میں سے جو کچھ بھی خیرات کرو تمہاری مرضی اور تمہاری استطاعت پر موقوف ہے لیکن یہ سن لو کہ وہ ماں باپ کے لئے حق ہے اور قرابت داروں کا حق ہے اور یتامی اور مساکین کا حق ہے اور مسافر کا حق ہے اور تم جو نیک کام بھی کرو خواہ خیرات ہو یا خیرات کے علاوہ کوئی اور نیک کام ہو بہرحال اللہ تعالیٰ اس سے واقف اور با خبر ہے (تیسیر)
شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صدقہ اور خیرات کے فضائل بیان فرمائے تھے اس پر ایک صاحب جن کا نام عمرو بن الجموح ہے انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ہم اپنے اموال میں سے کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی انفاق کے معنی تو اصل میں خرچ کرنے کے ہیں جہاں بھی کوئی خرچ کرے لیکن قرآن شریف میں چونکہ عام طور سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے یہ لفظ بولا جاتا ہے اس لئے ہم نے تیسیر میں خیرات کردیا ہے اور جہاں اس قسم کا موقع ہوتا ہے وہاں ہم اکثر جگہ خیرات ہی کرتے ہیں اس کو یاد رکھناچاہئے تاکہ کوئی شبہ نہ ہو اگر سائل کے سوال یہ بھی ہے کہ کہاں خرچ کریں تب تو جواب بالکل سوال کے مطابق ہے اور اگر شان نزول کی رعایت نہ کی جائے تب جواب میں مصارف خیرات کا ذکر کرنا بطور اتمام کے ہوگا اور یہ ایک خوبی ہوگی کہ جواب میں اور زائد بات بھی بتادی جائے۔
مطلب یہ ہوگا کہ خرچ کو دریافت کرتے ہو تو خرچ کو کیا ہے جو توفیق ہو خرچ کرو لیکن مصارف اور خرچ کے مواقع زیادہ اہم ہیں وہی خرچ اور خیرات موجب ثواب ہوں گے جو اپنے موقع اور مصرف میں خرچ کئے جائیں اس لئے جواب کے ساتھ مصارف خیر بھی بیان فرما دئیے۔
مال کو اس آیت میں خیر فرمایا کیونکہ مال اگر صحیح مصرف میں خرچ کیا جائے تو وہ یقینا نیک اور بھلائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اس لئے اس کو خیر فرمادیا۔ اور مصارف خیر میں ماں باپ کا ذکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صدقات نافلہ مراد ہیں زکوۃ مراد نہیں ہے اس لئے کہ زکوۃ ماں باپ کو دینے کا حکم نہیں۔
آخر میں یہ فرما دیا کہ جو نیک کام بھی کرو یہ سمجھ کر کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اس نیکی سے باخبر اور واقف ہے اس سے دو باتیں ہوں گی ایک تو نیت میں اخلاص ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ ملاحظہ فرما رہے ہیں تو نیک کام نیک نیتی سے کرنا چاہئے دوسرے یہ کہ ثواب کی طرف سے اطمینان ہوگا کہ جب آقا ہمارے کام کو خود ملاحظہ کر رہا ہے تو اجر وثواب کے ملنے میں کوئی اندیشہ نہیں بلکہ وہ ضرور اجر عنایت فرمائے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں لوگوں نے پوچھا تھا کہ مالوں میں کس مال کا خرچ کرنا بہت ثوا ب ہے جواب میں فرمایا کہ مال کوئی ہو لیکن جس قدر ٹھکانے پر خرچ ہو ثواب زیادہ ہے۔ (موضح القرآن)
اب آگے احکام کے سلسلے میں جہاد کے وجوب کا اعلان فرماتے ہیں اور اسی میں ایک لطیف پیرایہ کے ساتھ اس امر کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں کہ احکام کی مصالح اور حکمتوں کے درپے نہ ہوا کرو بلکہ احکام کی تعمیل پر دھیان رکھا کرو۔ (تسہیل)
Ayah 2:216ف 1 مسلمانو ! تم پر جہاد کرنا فرض کیا گیا ہے اور وہ جہادتم پر اپنی طبیعت کے اعتبار سے شاق اور گراں معلوم ہوتا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم پر گراں اور شاق ہو اور وہ حقیقت میں تمہارے لئے بہتر ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی کام کو پسند کرتے ہو اور کوئی امر تم کو مرغوب و محبوب ہو اور وہ حقیقتاً تمہارے لئے شر اور موجب خرابی اور ہلاکت ہو اور ہر شے کی بری بھلی حقیقت کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم صحیح طورپر نہیں جانتے کہ تمہارے حق میں کیا چیز اچھی اور نافع ہے اور کیا چیز بری اور ضرر رساں ہے۔
جہا د و قتال کے متعلق ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں کہ جہاد ایک آئینی لڑائی کو کہتے ہیں جو محض اپنے تحفظ اور دین حق کی آزادی اور اعلاء کلمۃ اللہ کی غرض سے لڑی جاتی ہے اور مقصد محض یہ ہوتا ہے کہ دین حق پر عمل کرنے میں مخالفوں کی طرف سے کوئی مزاحمت نہ کی جائے جہاد فرض کفایہ ہے اگر ایک جماعت مسلمانوں کی جہاد کرتی رہے تو دوسروں پر ضروری اور فرض نہیں البتہ اگر کفار یلغار کردیں اور دشمن کا ہجوم ہو تو اس وقت جہاد فرض عین ہوجاتا ہے جہاد کی بہت سی شرطیں ہیں جن کا متحقق ہونا جہاد کے لئے ضروری ہے اگر شرطیں متحقق نہ ہوں تو جہاد فرض نہیں ہوگا چونکہ جہاد میں ترک وطن کرنا پڑتا ہے اور مال خرچ ہوتا ہے اور مختلف تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے ہر شخص پر طبعاً گراں ہوتا ہے اور یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ناپسند اور گراں ہوتا ہے طبعات کسی کا م کا شاق ہونا اور بات ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر اس کو حق سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اور بات ہے اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ہر حکم کی حکمت اورا سکی حقیقت مصلحت کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اور بات ہے۔ اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ہر حکم کی حکمت اور اسکی حقیقی مصلحت کو سمجھنا ہمارے علم اور ہماری عقل سے بالاتر ہے ایک جہاد پر کیا موقوف ہے عام ادا مرِ الٰہیہ کا یہی حال ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے ان کی مصالح کا پوری طرح کون احاطہ کرسکتا ہے ہم جہاد اور قتال کو ایک خطرناک چیز سمجھتے ہیں لیکن کون جانتا ہے کہ جہاد میں مسلمانوں کی زندگی مضمر ہے۔
حضر ت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے جہاد تمہارے اوپر واجب ہے ہر امیر کے جھنڈے کے نیچے جہاد کرو خواہ وہ امیر نیک اور صالح ہو یا فاسق و فاجر ہو۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ مکہ فتح ہوجانے کے بعد مکہ سے ہجرت کرنا ختم ہوگیا مگر ہاں جہاد اور نیت باقی ہے جب تم کو بلایاجائے اور جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو نکل آیا کرو۔ (تسہیل)
Ayah 2:217ف 2 اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے شہر حرام میں لڑنے اور جنگ کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں اور یہ بات دریافت کرتے ہیں کہرجب جو حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے اس مہینے میں جنگ کرنا کیسا ہے آپ فرما دیجئے کہ شہر حرام میں جان بوجھ کر لڑنا اور قتال کرنا بڑا جرم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ سے اور اس کے دین سے لوگوں کو روکنا اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا اور اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام یعنی کعبہ سے لوگوں کو روکنا اور مسلمانوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے منع کرنا اور جو لوگ مسجد حرام کے حقیقی اہل اور اس کی تولیت اور نگرانی کے اپنی پرہیز گاری اور تقوے کے باعث حقیقی مستحق تھے ان کو وہاں سے نکالنا اور ان کو پریشان کرکے مسجد حرام سے نکلنے اور ہجرت کرنے پر مجبور کرنا یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہر حرام میں قتال کرنے سے حرم اور گناہ میں بہت بڑی ہیں اور دین میں اس قسم کی فتنہ پر داری با اعتبار مضرت اور قباحت اس قتل سے کہیں بڑھ کر ہے جو اس وقت زیر بحث ہے اور اے مسلمانو ! یہ مشرک تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے اور تم سے برابر جنگ کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ یہ تم کو اگر ان کا بس چل جائے تو دین حق سے باطل کی طرف لوٹا دیں اور تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں اور برگشتہ کردیں اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے گا اور مرتد ہوجائے گا پھر کفر ہی کی حالت میں مرجائے گا تو ایسے لوگوں کے تمام نیک اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں نیست و نابود ہوجائیں گے یعنی کیے نہ کئے برابر ہوجائیں گے اور ایسے ہی لوگ اہل جہنم ہیں یہ اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (تیسیر)
نبی کریم ﷺ نے غزوئہ بدر سے تقریباً دو مہینے پہلے عبداللہ بن حجش ؓ کی سرپرستی میں آٹھ آدمیوں کا ایک چھوٹا سا سریہ مکہ والوں کے ایک قافلہ پر حملہ کرنے کی غرض سے بھیجا تھا چلتے وقت سرکار دو عالم ﷺ نے ایک ہدایت نامہ لفافہ میں بند کرکے عبداللہ بن حجش ؓ کو دے دیا اور فرمایا کہ دو منزلیں طے کرنے کے بعد اس ہدایت نامہ کو پڑھنا اور اپنے ساتھیوں کو سنا دینا جو تمہارے ساتھ جانے کو آمادہ ہو اس کو اپنے ہمراہ لے جانا اور جو رخصت ہو ناچاہئے اسے واپس کردینا۔
چنانچہ حضرت عبداللہ بن حجش ؓ نے دوسری منزل پر پہنچ کر وہ ہدایت نامہ پڑھا اور لوگوں کو سنایا اس ہدایت نامہ میں حملہ کا پر ورگرام تھا اس مقام کا نام بتایا گیا تھا جہاں پہنچ کر کافروں کے قافلہ کا انتظار کرنا تھا اور آخر میں کامیابی کی دعا تھی۔
چنانچہ سب لوگ امیر کے ساتھ جانے پر آمادہ ہوگئے اور آٹھوں آدمیوں سے کسی نے رخصت طلب نہیں کی چناچہ یہ لوگ روانہ ہوئے۔ سوئے اتفاق سے بحران کے قریب سعید بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کے اونٹ گم ہوگئے یہ دونوں اپنے اپنے اونٹ کو تلاش کرنے میں لگ گئے اور باقی آدمی ان کو اپنے مقام کا پتہ بتا کر آگے بڑھ گئے اور اصل میدان جس کا نام بطحن نخلہ تھا وہاں پہنچ گئے اور چھپ کر قافلہ کا انتظار کرنے لگے تھوڑی دیر میں قریش کا قافلہ وہاں سے گزرا۔ یہ قافلہ عمرو بن الحضرمی حکم بن کسی ان اور نوفل بن عبداللہ اور عثمان بن عبداللہ پر مشتمل تھا مسلمانوں نے خیال کیا اگر ان کو اسوقت گرفتار نہیں کیا جاتا تو صبح تک یہ لوگ حرم میں داخل ہوجائیں گے اس لئے یہی مشورہ ہوا کہ ان کو گرفتار کرلیا جائے اور ان کے ساتھ جو کشمش اور کچے چمڑے کا سامان ہے اس پر قبضہ کرلیاجائے۔ چناچہ واقد بن عبداللہ سہمی نے ایک تیر چلایا جو عمرو بن الحضرمی کے لگا اور عمرو بن الحضرمی مرگیا حکم بن کیسان اور نوفل بن عبداللہ اور عثمان بن عبداللہ کو گرفتار کرلیا گیا۔
جس دن یہ واقع پیش آیا اس دن رجب کی پہلی تاریخ تھی عبداللہ بن حجش ؓ کے آدمی 03 جمادی الثانی سمجھتے تھے ہجرت کے بعد یہ پہلا واقعہ تھا جس میں ایک کافر مسلمان کے ہاتھ سے مارا گیا اور تین کافر گرفتار ہوئے جب مسلمان واپس مدینہ حاضر ہوئے اور تمام مال اور تینوں قیدی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کردئیے گئے۔
اس واقعہ پر کفار قریش نے یہ مشہور کیا کہ محمد ﷺ نے اشہر حرام کے احترام کو ترک کردیا اور رجب میں ہمارے آدمیوں سے جنگ کی حالانکہ اس مہینہ کا تو ہمیشہ سے احترام ہوتا چلا آیا ہے اور اس میں لڑائی بند رہتی تھی محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں نے اشہر حرام کی توہین کا ارتکاب کیا اور ہر مسلمان کو یہی حیال ہوا کہ ہم جہاد کے ثواب سے محروم رہے بلکہ ہم کو گناہ ہوا اگرچہ ہم جمادی الثانی کی آخری تاریخ سمجھتے تھے اور ہم نے قصداً شہر حرام کی توہین کا ارتکاب نہیں کیا لیکن دیکھئے اب کیا ہوتا ہے اس پر نبی کریم ﷺ نے قیدیوں کو اور مال غنیمت کو روک دیا اور وحی الٰہی کے منتظر رہے نہ تو مال غنیمت کی تقسیم کرنے کا حکم دیا اور نہ قیدیوں کا کوئی فیصلہ فرمایا۔ عبداللہ بن حجش ؓ کے آدمیوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ ہم نے اس واقعہ کی شام کو رجب کا چاند دیکھا ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ چاند رات کا چاند تھا یا پہلی تاریخ کا چاند تھا ہم تو اس کو 03 تاریخ کا چاند سمجھتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور ان آیات کے نازل ہونے پر نبی کریم ﷺ نے مال غنیمت میں سے خمس نکالنے کے بعد باقی مال مجاہدین پر تقسیم کرادیا۔ جو شان نزول ہم نے عرض کیا ہے اس کی روشنی میں تیسیر پڑھئے تو مطلب صاف سمجھ میں آجائے گا اس شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال کافروں نے بھی کیا ہوگا اور مسلمانوں نے بھی کیا ہوگا۔ بہر حال جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک شہر حرام میں قتال نہیں کرنا چاہئے لیکن مسلمانوں نے دانستہ ایسا نہیں کیا بلکہ جمادی الثانی کا مہینہ سمجھ کر کیا اور چونکہ قصدا ً اور جان بوجھ کر شہر حرام میں لڑائی نہیں کی اس لئے وہ قابل مواخذہ نہیں اور تم جو شرارتیں اور فتہ پردازیاں مسلمانوں کے ساتھ اور خود نبی کریم ﷺ کے ساتھ کرتے رہے وہ خدا کے نزدیک اس لڑائی سے کہیں بڑھ کر ہیں کیونکہ اس قسم کا فتنہ اور کفرو شرک کا ایسا کھلا مظاہرہ اور دین حق سے روکنا اور خدا کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے لوگوں کو روکنا اور مسجد حرام سے ا ن لوگوں کو جو اس کے صحیح خدمت گزار ہیں جلا وطن کرنا یہ سب باتیں تو قتل سے بڑی ہیں۔
آگے کافروں کی حالت اور ان کی غر ض فاسد کو ظاہر فرما دیا ہے کہ یہ تو تم کو ہمیشہ تنگ کرتے رہیں گے اور اس غرض سے تم کو ستاتے ہی رہیں گے قتال کرتے رہیں گے کہ تم کو مرتد کردیں اور تم کو کفر کی طرف لوٹا دیں۔ پھر آخر میں ارتداد کا ضرور بتایا کہ یہ ارتداد تو کفر سے بھی بدتر ہے کیونکہ قانون کو تسلیم کرکے پھر اس سے بغاوت کرنا بد ترین جرم ہے جس کی سزا قانون الٰہی میں سوائے قتل کے اور کچھ نہیں ہے کافر کو تو جزیہ لے کر امن دیا جاسکتا ہے لیکن مرتد سے جزیہ قبول نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو قتل کردینے کا حکم ہے یا وہ توبہ کرکے پھر اسلام قبول کرلے اور کافر نے جو بھلے کام اور نیک اعمال کفر کی حالت میں کئے ہوں اور پھر وہ اسلام لے آئے تو ان کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ زمانہ کفر کے نیک اعمال کا ثواب اس کو مل جائے گا اور اگر کفر ہی پر مرگیا تو وہ اعمال نیک بےکار اور رائیگاں ہوجائیں گے۔
گویا کافر کے نیک اعمال معلق رہتے ہیں اگر مرنے سے پہلے ایمان لے آیا تو ان اعمال سابقہ کا ثواب مل جائے گا اور اگر کفر ہی پر مرا تو وہ نیک اعمال برباد ہوجائیں گے لیکن مرتد کا معاملہ بالکل دوسرا ہے حتیٰ کہ جو اعمال اس نے اسلام کی حالت میں کئے تھے وہ مرتد ہوتے ہی سب بیکار و برباد ہوجاتے ہیں صرف یہی نہیں کہ بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور میراث کا حق جاتا رہتا ہے بلکہ نمازیں، روزے اور حج اگر کیا ہو تو وہ بھی کالعدم۔
اگر مرتد دوبارہ مسلمان ہوجائے تو اس کو تمام اعمال پھر کرنے ہوں گے نمازیں پھر پڑھنی ہوں گی، روزے پھر رکھنے ہوں گے حج دوبارہ کرنا ہوگا اور قیامت میں صرف ان ہی اعمال کا ثواب ملے گا جو دوبارہ اسلام لانے کے بعد کئے ہوں گے غرض مرتد ہوتے ہی دنیا اور آخرت دونوں میں اعمال کا کالعدم، آخرت میں ثواب ختم اور دنیا میں بیوی نکاح سے خارج۔
امام شاعی (رح) کا مسلک اس کے خلاف ہے وہ فیمت و ھو کا فر کو قید واقعی قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک یہ حبط اعمالکا حکم جب ہوگا جب وہ مرتد ہونے کے بعد کفر ہی پر مر بھی جائے اختلاف کی تمام صورتیں اس شکل میں ظاہر ہوں گی جبکہ مرتد قبل از موت پھر مسلمان ہوجائے۔
امام شافعی (رح) فرمائیں گے دوبارہ حج کی ضرورت نہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) فرمائیں گے اگر وسعت ہے تو پھر اس پر حج کرنا فرض ہے۔ (واللہ اعلم)
بعض حضرات نے آیت میں والمسجد الحرام کا عطف و کفربہ پر کرکے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام کے ساتھ کفر کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کا یہ مطلب کہ کسی کو خدا کا شریک ٹھہرانا اور مسجد حرام کیس اتھ کفر کا یہ مطلب کہ مسجد حرام میں خدا کی عبادت کی بجائے بت رکھ کر ان کی عبادت کرنا اس معنی کی بھی گنجائش ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
حضرت شاہ صاحب (رح) ارشاد فرماتے ہیں حضرت نے ایک فوج بھیجی جہاد پر انہوں نے کافروں کو مارا اور لوٹ لائے۔ مسلمانوں کو خبر رہی کہ وہ دن جمادی الثانی کا ہے اور وہ غزئہ رجب تھا کافروں نے اس پر بہت طعن کیا اور مسلمانوں کو شبہ پڑا اس پر یہ آیت اتری یعنی ان مہینوں میں ناحق کی لڑائی اشد گناہ ہے اور جن کافروں نے مسلمانوں سے ان مہینوں میں قصور نہ کیا ان سے لڑنا منع نہیں۔ (موضح القرآن)
ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ اشہر حرام کا حکم اب یہ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ کی پہل نہ کرے اور اگر دشمن ان کا احترام نہ کرے تو اس کا مقابلہ کیا جائے صرف احتیاط سے جنگ کی ممانعت باقی نہیں ہے چونکہ کفار مکہ اشہر حرام میں غیر اشہر احرام میں برابر فتنہ پردازیاں کرتے رہے ہیں اور اب بھی ان کا مقصد یہی ہے کہ تم سے اس لئے جنگ کرتے رہیں کہ تم کو تمہارے دین سے لوٹا دیں لہٰذا یہ مکہ کے کفار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اس آیت سے اس قدر تو معلوم ہوگیا کہ عبداللہ بن حجش ؓ کی مختصر فوج کے مسلمان گناہ گار نہیں ہیں لیکن اب اس امر کا خیال ہوا کہ جہاد کے ثواب سے محروم رہے گا گناہ نہیں ہوا اس کو اگلی آیت سے دور فرما دیا۔ (تسہیل)
Ayah 2:218جو لوگ دین حق پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں ہجرت کی یعنی ترک وطن کیا اور خدا کی راہ میں جہاد کیا تو حقیقتاًک یہی لوگ ایسے ہیں جو کہ رحمت خداوندی کے امید وار ہیں اور ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہوا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی مغفرت اور مہربانی کرنے والا ہے (تیسیر)
جہاد کی نیت سے جانا بھی جہاد ہی ہے اس لئے ایمان اور ہجرت تو پہلے ہی سے موجود تھے اب جہاد کو نکلے تو مجاہد بھی ہوگئے اور اگر کوئی معمولی غلطی ہوگئی تو ہم غفور ہیں اس کو معاف کردیں گے اور رحیم ہیں اس لئے تمہارے ایمان لانے اور تمہاری ہجرت اور تمہارے جہاد کو قبول فرما کر تم پر مہربانی فرمائیں گے۔ (تسہیل)