2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے ان کے نبی نے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ ضدوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی جانب سے تسکین قلب کا سامان ہے اور کچھ وہ بقیہ اشیاء بھی ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) چھوڑ گئے تھے اس صندوق کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے یقینا اس صندوق کے آنے میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو2

ف 2 اور ان کے نبی حضرت شمویل نے ان سے کہا کہ طالوت کے من جانب اللہ بادشاہ مقرر ہونے کی یہ علامت ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق بلا کسی سعی کے آجائے گا جس میں تمہارے رب کی جانب سے سکون و طمانیت اور برکت کا سامان ہے اور کچھ وہ بقیہ اشیاء بھی ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) چھوڑ گئے تھے۔ اس صندوق کو فرشتے اٹھا کرلے آئیں گے۔ بلا شبہ اس صندوق کے آجانے میں تمہارے لئے بہت بڑی نشانی ہے بشرطیکہ تم یقین کرنے والے ہو اور تم ایمان رکھتے ہو۔ ( تیسیر) بنی اسرائیل میں اوپر کے لوگوں سے ایک صندوق چلا آتا تھا ان کا خیال اس کے متعلق یہ تھا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ یہ صندوق اترا تھا ۔ بہر حال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جب یہ صندوق پہنچا تو اس میں وہ توریت رکھا کرتے تھے اور یہ صندوق ایک متبرک چیز خیال کی جاتی تھی ۔ جب کبھی دشمنوں سے لڑتے تو یہ صندوق اسلامی لشکر میں فرشتے لئے رہتے اور اس صندوق کی برکت سے فتح کے امیدوار رہتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل میں خرابی پھیلی تو قوم عمالقہ کے لوگ وہ صندوق ان سے چھین کرلے گئے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں دہشت ڈال دی کیونکہ ان کے بہت سے آدمی اس صندوق کی بےادبی کرنے کی وجہ سے مرگئے تو انہوں نے گھبرا کر اس صندوق کو دو بیلوں پر رکھ کر اپنے ملک سے باہر نکال دیا اور بیلوں کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ فرشتے ان بیلوں کو ہنکا لائے اور اس طرح وہ صندوق طالوت کے مکان پر پہنچ گیا اور جس علامت کی شمویل نبی نے اطلاع دی تھی وہ نشانی پور ی ہوگئی اور ان لوگوں نے طالوت کی بادشاہت کو تسلیم کرلیا ۔ سکینۃ کے معنی ہیں ۔ تسکین ، اطمینان ، طمانیت ، وقار ، قرآن کریم میں یہ لفظ اکثر جگہ استعمال ہوا ہے ۔ نبی کریم ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ وہ مسلمان جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے اور وہ لوگ جو غزوہ ٔ حنین میں شریک تھے ان سب کے متعلق نزول سکینہ کا ذکر آیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ سکینہ قلب کی ایک حالت ہے جس کی وجہ سے قلب کی پریشانیاں اور تفکرات اور ہموم و عموم دور ہوجاتے ہیں اور قلب میں ایک تقویت اور سکون پیدا ہوجاتا ہے اور یہ حضرات حق کی ایک خاص توجہ اور ایک خاص عنایت کا اثر ہوتا ہے خواہ یہ جنگ کے موقعہ پر میسر ہو اور خواہ نماز کے مصلے پر کسی کو نواز دیں میدان جنگ میں نازل فرمائیں تو ہمت اور تقویت زیادہ ہو اور دل بڑھ جائے اور بزم میں کسی پر نازل فرما دیں تو ما سوا اللہ سے مستغنی اور بےپروا کردیں کہتے ہیں کہ اس صندوق میں توریت کی تختیاں تھیں ۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عمامہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نعلین تھیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے کچھ کپڑے تھے ۔ ایک بوری میں من اور سلویٰ کے زمانے کی بچی ہوئی ترنجین تھی اور چند کلمات فرج تھے یعنی وہ کلمات جو پریشانی کے وقت پڑھے جاتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ پریشانی کو دور فرما دیتا ہے وہ کلمات یہ ہیں۔ لا الہ الا اللہ العلیم الکریم سبحان اللہ رب السموات السبع ورب العرش العظیم والحمد للہ رب العالمین آل کا لفظ یہاں محض موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی تفخیم شان کے لئے ہے اس لئے ہم نے اس کا کوئی ترجمہ نہیں کیا اور جن لوگوں نے تفخیم کے لئے مراد نہیں لیا تو وہ اولاد موسیٰ (علیہ السلام) اور اولاد ہارون (علیہ السلام) ترجمہ کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اس سے مراد اولاد یعقوب (علیہ السلام) کے دوسرے ابنیاء ہیں۔ بہرحال یہ ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے علاوہ دوسرے انبیاء کی بھی کچھ چیزیں اس صندوق میں ہوں اور ان کو آل موسیٰ (علیہ السلام) اور آل ہارون (علیہ السلام) فرمایا ہو ۔ غرض ان تبرکات کی وجہ سے مجاہدین کے قلب کو تسلی اور طمانیت ہوتی تھی اور اسی غرض سے یہ صندوق میدان جہاد میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تھا اور اس کی برکت سے مسلمان اور ان کا نبی کامیاب ہوتا تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ یہ صندوق تین ذراع لمبا اور دو ذراع چوڑا تھا۔ فیہ کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے اتیان قرار دیا ہے۔ اس تقریر پر ترجمہ یوں ہوگا کہ اس صندوق کے آنے میں تمہارے پروردگار کی جانب سیت سکین و اطمینان ہے۔ ( واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا اس میں تبرکات تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی لڑائی کے وقت سردار کے آگے لے چلتے اور دشمن پر حملہ کرتے تو اس کو آگے دھر کر پھر اللہ فتح دیتا ۔ جب یہ بدنیت ہوگئے وہ صندوق ان سے چھینا گیا ۔ غنیم کے ہاتھ لگا ، اب جو طالوت بادشاہ ہوا وہ صندوق خود بخود رات کے وقت اس کے گھر کے سامنے آموجود ہوا ۔ سبب یہ کہ غنیم کے شہر میں جہاں رکھا تھا ان پر بلا پڑی پانچ شہر ویران ہوئے تب نا چار ہوئے دو بیلوں پر لاد کر ہانک دیا ، پھر فرشتے بیلوں کو ہانک کر یہاں لے آئے ۔ (موضح القرآن) اب آگے مزید تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت فوجیں ہمراہ لیکر باہرنکلا تو اس نے کہا یقینا اللہ تعالیٰ تم کو ایک نہر سے آزمائے گا سو جو شخص اس نہر کا پانی پی لے گا وہ میرا نہیں ہے اور جس نے اس کے پانی کو نہ چکھا تو یقینا وہ میرا ہے مگر ہاں جو اپنے ہاتھ سے ایک چلوبھر لے تو اتنی رخصت ہے پھر ان میں سے بجز معدودے چند کے سب نے اس کا پانی پی لیا پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی ایمان والے اس نہر کو پار کر گئے تو کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم میں یہ طاقت نہیں کہ آج جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرسکیں اور جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ان کو خدا کے سامنے جانا ہے انہوں ں نے کہا بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ چھوٹی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں اور اللہ تعالیٰ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے3

ف 3 پھر جب طالوت کو بادشاہ تسلیم کرلیا گیا اور وہ اپنے لشکر اور فوجوں کو لے کر بیت المقدس سے نکلا اور عمالقہ کی طرف چلا تو طالوت نے شمویل (علیہ السلام) نبی کو وحی کے موافق اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تم سب کی ایک نہر کے ذریعہ آزمائش کرنے والا ہے ، لہٰذا جو شخص اس میں سے سیر ہو کر پانی پئے گا وہ میرے ہمراہمیوں سے نہ ہوگا اور وہ مجھ سے نہ ہوگا اور جو شخص اس کے پانی کو بالکل نہیں چکھے گا اور اس پانی کو زبان پر بھی نہیں رکھے گا تو لاریب وہ میرے ہمراہ اور میرے دین ہوگا اور میرا مطیع سمجھا جائے گا ، مگر ہاں جو کوئی اپنے ہاتھ میں ایک چلوبھر لے تو اس قدر پانی کی رخصت ہے پھر سب نے نہر پر پہنچتے ہی خوب سیر ہو کر پینا شروع کردیا ۔ مگر ان میں سے تھوڑے آدمیوں نے احتیاط سے کام لیا کسی نے غریمتہ پر عمل کیا اور کسی نے رخصت پر۔ بہر حال جب طالوت اور اس کے ساتھی مخلص اہل ایمان نہر کو عبورکر چکے تو اس وقت انہوں نے جالوت اور اس کے لشکر کو دیکھ کر آپس میں بعض نے کہا کہ ہم میں آج جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلہ کی طاقت نہیں معلوم ہوتی۔ یہ سن کر ان لوگوں نے جو جانتے تھے کہ وہ اللہ سے ملاقات کرنے والے اور اس کی جناب میں حاضر ہونے والے ہیں ۔ یہ کہا کہ بسا اوقتا ایسے واقعات پیش آئے اور بہت دفعہ ایسا ہوچکا ہے کہ تھوڑی تھوڑی جماعتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں ۔ اصل چیز تو صبر و استقلال اور ثابت قدمی ہے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں اور ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے اور ثابت قدم رہنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ظاہری دکھاوے کو تو سب طالوت کے سب ہولئے لیکن راہ کھرے کھوٹے کے امتیاز کے لئے ایک نہر کو امتحان گاہ مقرر کردیا گیا ۔ طالوت نے شمویل نبی کی ہدایت کے موافق اعلان کردیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ تم کو نہر کے پانی کے ساتھ آزمانا چاہتا ہے اس نہر کے پانی کا حکم یہ ہے کہ کوئی شخص اس کا پانی بالکل نہ چکھے یہ عزیمت ہے اور ایک چلو یعنی جتنا کف دست میں آجائے اتنا لے لو تو یہ رخصت ہے اور جو اس سے زیادہ پئے گا وہ ہماری جماعت سے خارج ہے۔ چنانچہ جو ناقص الایمان تھے وہ چھٹ گئے اور جو کامل الایمان تھے وہ نمایاں ہوگئے خواہ انہوں نے عزیمت پر عمل کیا ہو یا رخصت پر ان کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی پھر ان میں بعض کامل تھے جو ظاہری اسباب سے بےنیاز اور بالا تر تھے ان کی باہمی گفتگو کا ذکر فرما دیا تا کہ مخلص مسلمانوں کی ہمت بڑھے۔ کامل الایمان اور اکمل الایمان کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔ رہے وہ جنہوں نے علی الاعلان حکم کی خلاف ورزی کی ان کو جماعت سے خارج کردیا گیا ان کی صحیح تعدادمعلوم نہیں ہوئی ۔ ستر ہزار اور ایک لاکھ بیس ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے کم و بیش ہو ، وہ جاعت سے بھی خارج ہوئے اور ان کی پیاس بھی نہ بجھی ، ان ہی تین سو تیرہ میں حضرت دائود کے والد ایشا بھی تھے۔ جنود، جند کی جمع ہے۔ جند سخت زمین کو کہتے ہیں اور مخلوق کی ہر ہر قسم کو بھی جند کہتے ہیں ۔ یہاں لشکر اور فوجیں مراد ہیں ۔ غرفہ سے مراد پانی کی وہ مقدار ہے جو ہتھیلی میں آجائے غرفہ عمارت کے اس بالائی حصہ کو بھی کہتے ہیں جیسا کہ انشاء اللہ آگے آجائے گا ۔ فئۃ جماعت کو کہتے ہیں خواہ اس میں تھوڑے آدمی ہوں یا بہت ، ظن کی بحث ہم پہلے پارے میں کرچکے ہیں۔ ہم نے مولانا شاہ ولی اللہ صاحب (رح) کا ترجمہ اختیار کیا ہے۔ ملقوا اللہ کی بحث بھی پہلے پارے میں آچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کی وجہ سے بجائے ملاقات اور ملنے کے ہم اس کا ترجمہ اس کی پیشی میں حاضرہونا اور اس کے حضور حاضر ہونا کیا کرتے ہیں ۔ طالوت عبرانی لفظ ہے جیسا کہ بیضاوی نے تصریح کی ہے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے کہ جنگ بدر میں ہماری تعداد اتنی ہی تھی جتنی طالوت کے مخلص ہمراہیوں کی یعنی تین سو تیرہ۔ قتادہ نے اس قول کو نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے اگرچہ سند متصل نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بدر میں اپنے اصحاب سے فرمایا ، تمہاری تعداد اتنی ہی ہے جتنی طالوت کے ہمراہیوں کی اس دن تھی جس دن وہ جالوت کا مقابل ہوا تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ۔ طالوت کے ساتھ نکلنے کو سب تیار ہوئے ہوس سے اس نے تقید کیا کہ جو شخص جو ان اور بےفکر ہو وہی نکلے ایسے بھی اسی ہزار نکلے۔ اس نے چاہا کہ اس کو آزما دے ایک منزل پانی نہ ملا ۔ بعد اس کے ایک نہر ملی اس نے تقید کیا کہ ایک چلو سے زیادہ جو کوئی پیوے وہ میرے ساتھ نہ آوے تین سو تیرہ آدمی رہ گئے باقی سب موقوف ہوئے ( موضح القرآن) اب آگے اسی قصے کی اور بقیہ تفصل ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کی فوجوں کے سامنے تو انہوں نے خدا کی جناب میں عرض کی اے ہمارے پروردگار جتنا صبر ہے سب ہم پر انڈیل دے اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور اس کا فرقوم پر غالب کرنے میں ہماری مدد فرما1

ف 1 اور جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان جالوت اور اس کی فوجوں کے بالمقابل کھلے میدان میں نکل کر آئے تو حضرت حق کی جناب میں دعا کرنے لگے اور انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر و استقلال انڈیل دے اور ہمارے قدم جمائے رکھ اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور ا س کا فرقوم پر ہم کو غالب کر اور ہماری مدد فرما ۔ براز زمین کے کھلے میدان کو کہتے ہیں اور جو چیز کھلے میدان میں ہوتی ہے وہ نمایاں اور ظاہر ہوتی ہے اس لئے بزار کا ترجمہ ظہور کرتے ہیں ظاہر ہوئے سامنے آئے۔ مطلب یہ ہے کہ میدان جنگ میں نکل کر سامنے آئے۔ افراغ کے معنی میں انڈیلنا ، اردو میں بولا کرتے ہیں ے۔ ساری مشک انڈیل دو ، صراحی میں جو کچھ ہے سب انڈیل دو ۔ یہاں صبر کے طلب کرنے میں مبالغہ ہے یعنی ہمارے قلوب پر جتنا صبر ہو سب ۔۔۔ ڈال دے آخری ٹکڑے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے قہر کے ساتھ ہماری مدد فرما یعنی ان کافروں پر غالب کر دے۔ دعا کے الفاظ میں بہترین ترتیب ہے اور صبر و استقلال کی طلب ہے کہ ہمارے قلب پر بکثرت صبر نازل فرما صبر سے ثبات قدم حاصل ہوتا ہے پھر اس کی دعا کی اور آخر میں صبر و استقامت جو غلبہ کا موجب ہے اس غلبہ اور فتح کی دعا کی ۔ اور دعا کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ قلت تعداد کی وجہ سے انتہائی اضطراب تھا ۔ کہاں تین سو تیرہ اور کہاں جالوت کی فوج لیکن پھر بھی ان لوگوں کی ہمت کو شابات ہے کہ انہوں نے صبر و استقلال کا دامن نہیں چھوڑا اور جناب باری کی درگاہ میں التجا کی اور عاجزانہ درخواست کی آگے اللہ تعالیٰ ان کی فتح و کامرانی کا تذکرہ فرماتا ہے اور اسلامی جہاد کا فلسفہ اور جنگ کی حکمت بیان فرماتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

پھر طالوت کے ساتھیوں نے خدا کے حکم سے جالوت والوں کو شکست دیدی اور دائود نے جالوت کو مار ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے دائود (علیہ السلام) کو سلطنت اور نبوت عطا فرمائی اور جو کچھ اور بھی چاہا اس کو سکھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض لوگوں کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہے تو زمین تباہ ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اہل عالم پر بڑا فضل کرنے والا ہے2

ف 2 اس دعا کے بعد طالوت کے ساتھیوں نے جالوت والوں کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے چکنا چور کردیا اور ان کو شکست دے دی اور ایشیا کے لڑکے دائود نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد دائود کو سلطنت اور حکمت یعنی نبوت عطا کی اور بھی جو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا دائود کے لئے مناسب سمجھا اس کو تعلیم کردیا اور سکھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو یعنی اہل باطل کو بعض لوگوں یعنی اہل حق کے ہاتھوں دفع نہ کرائے اور اہل باطل کو شکست نہ دلاتا رہے تو زمین تبا ہ ہوجائے اور زمین اہل شر و فساد کی شرارتوں اور فساد سے بھر جائے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ اہل عالم پر بڑا صاحب فضل ہے کہ بروں کو اچھوں کے ہاتھوں دفع کرا دیتا ہے اور بروں کو مغلوب کرتا رہتا ہے۔ ( تیسیر) ہزم کے معنی ہیں توڑنے کے یہاں مقاتل کی شکست مراد ہے۔ ہم نے تیسیر میں دونوں رعایتیں رکھی ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں لشکر جب بالمقابل ہوئے تو جالوت اپنا فوجی لباس پہن کر تنہا آگے بڑھا اور کہنے لگا تم سب کو میں اکیلا ہی کافی ہوں آئو پہلے مجھ سے مقابلہ کرو اس وقت شمویل بنی کے کہنے سے طالو ت نے ایشیا کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ تمہارے کتنے لڑکے ہیں ۔ انہوں نے عرض کیا میرے چھ لڑکے ہیں ۔ حضرت دائود کا ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ چھوٹے تھے اور اس وقت میدان جنگ میں بھی نہیں تھے ، بلکہ وہ بکریاں چرانے گئے ہوئے تھے۔ مگر شمویل نبی کے حکم سے دائود کو بلایا گیا ۔ جب دائود حسب طلب آ رہے تھے تو راہ میں ان کو تین پتھروں نے آواز دے کر کہا ۔ اے دائود ہم کو تو اٹھا لے ہم تجھے کام دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے وہ پتھر اٹھا لئے اور جب شمویل نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو شمویل نبی نے جالوت کے مقابلہ کے لئے ان کو منتخب کیا ۔ چناچہ انہوں نے وہ تینوں پتھر اپنے گوپیہ میں رکھ لئے اور آگے بڑھے اور جالوت کو للکارا جالوت نے کہامجھ کو تجھ پر رحم آتا ہے تو کیوں میرے ہاتھ سے مرنے کی خواہش کرتا ہے۔ حضرت دائود نے فرمایا نہیں میں ہی تیرا مقابلہ کروں گا ۔ چناچہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپناگوپیا پھرا کر وہ تینوں پتھر اس کے ماتھے پر مارے اس کا ماتھا ہی صرف کھلا ہوا تھا۔ باقی تمام بدن زرہ بکتر سے ڈھکا ہوا تھا۔ حسن اتفاق سے وہ پتھر اس کے سر میں گھس گئے سرپاش پاش ہوگیا ۔ جالوت کے مرتے ہی اس کا لشکر فرار ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فتح دی اور ان کا ملک واپس ہوا ۔ اس واقعہ کے بعد طالوت نے اپنی بیٹی کی شادی حضرت دائود (علیہ السلام) سے کردی اور طالوت کے بعد وہ بادشاہ ہوئے اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو ملک بھی عنایت کیا اور نبوت بھی عطا فرمائی۔ حکمت کا مفہوم وسیع ہے ۔ اور سب سے بڑی دانش اور فہم صحیح نبوت ہے یہاں وہی مراد ہے اور جو کچھ سکھایا وہ لوہے کی زرع بنانا اور پہاڑوں کو اور پرندوں کو مسخر کرنا وغیرہ ہوگا یا حسن صوت ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ تدبیر سلطنت اور انتظام حکومت ہو۔ ( واللہ اعلم) اور یہ جو فرمایا بعض کو بعض سے دفع کراتے رہتے ہیں اس کا مفہوم بھی عام ہے ایک تو یہی شریروں کو نیکوں کے ہاتھوں دباتے رہتے ہیں اور کافروں کو جو مفسد ہیں اور مسلمان جو مصلح ہیں ان کے ہاتھوں مغلوب کرتے رہتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ کرتے رہیں تو زمین کفر و شرک کی آلودگی سے لبریز ہوجائے اور یہی سب سے بڑا فساد ہے کہ خدا کی زمین کو شرک سے تباہ کیا جائے چونکہ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب فضل ہے اس لئے اہل باطل کو ایسا موقع نہیں دیتا کہ وہ زمین کو اپنے افعال قبیحہ اور مفاسد کی آماجگاہ بنالیں اور کبھی کبھی جو مسلمان مغلوب ہوجاتے ہیں تو وہ عارضی مغلوبیت ہوتی ہے یا کسی غلطی یا جرم کی پاداش میں ایسا ہوجاتا ہے اور جب سزا کی مدت پوری ہوجاتی ہے اور مسلمان اپنی کمزوریوں کو دور کرلیتے ہیں تو پھر انہی کو غلبہ عطا ہوجاتا ہے۔ بہر حال ایک معنی تو یہی ہیں جو عام طور سے بیان کئے جاتے ہیں اور ایک معنی اور بھی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر برے لوگوں پر سے بلائیں اور آفات اور مصائب اچھے لوگوں کی برکت سے دفع نہ کرتا رہے تو سب دنیا والے اپنے اعمال کی سزائوں میں مبتلا کردیئے جائیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ جہان والوں کی مصیبتوں کو اپنے نیک بندوں کے صدقے میں اور نیک بندوں کی برکت سے ٹالتا رہتا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نمازیوں کی برکت سے بےنمازیوں کی اور حج کرنے والوں کی برکت سے حج نہ کرنے والوں کی اور اپنی اصلاح کرنے والوں کی برکت سے اصلاح نہ کرنے والوں کی مدافعت ہوتی رہتی ہے۔ ابن عدی نے ابن عمر سے مرفوعاًنقل کیا ہے اگرچہ سند میں ضعیف ہے کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ ایک نیک مسلمان کی برکت سے اس کے آس پاس پڑوس کے سو گھروں کی بلا دور کردیا کرتا ہے پھر ابن عمر ؓ نے استشہاد کے طور پر یہ آیت پڑھی ۔ ولو لا دفع اللہ الناس (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تین سو تیرہ آدمیوں میں حضرت دائود (علیہ السلام) کا باپ اور یہ ان کے چھ بھائی تھے ان کی راہ میں تین پتھر ملے اور بولے کہ ہم کو اٹھا لے جالوت کو ہم ماریں گے ۔ جب مقابلہ ہوا جالوت خود باہرنکلا ، کہا تم سب کو میں کفایت ہوں میرے سامنے آتے جائو ۔ پیغمبر نے دائود کے والد کو بلایا کہ اپنے بیٹے مجھ کو دکھا۔ اس نے چھ بیٹے دکھائے جو قدآور تھے۔ حضرت دائود کو نہ دکھایا وہ قدر آور نہ تھے اور بکریاں چراتے تھے پیغمبر نے ان کو بلوایا اور پوچھا کہ تو جالوت کو مارے گا ۔ انہوں نے کہا ماروں گا پھر اس کے سامنے گئے وہ تین پتھر فلاخن میں رکھ کر مارے اس کا ماتھا کھلا تھا اور تمام بدن لوہے میں غرق تھا ماتھے کو لگے اور پیچھے کو نکل گئے۔ فائدہ بعد اس طالوت نے اپنی بیٹی ان کو نکاح کردی بعد طالوت کے یہ بادشاہ ہوئے۔ فائدہ نادان لوگ کہتے ہیں کہ لڑائی کرنی نبیوں کا کام نہیں ۔ اس قصے سے معلوم ہوا کہ جہاد ہمیشہ رہا ہے اور اگر جہاد نہ ہو تو مفسد لوگ ملک کو ویران کردیں۔ ( موضح القرآن) یہ ممکن ہے کہ حضرت شاہ صاحب (رح) کے زمانے میں بھی ایسے لوگ ہوں جنہوں نے جہاد کا انکار کیا ہو اور حضرت شاہ اسماعیل شہید کے جہاد پر اعتراض کیا ہو ۔ شاہ صاحب (رح) نے اس کا جواب دیا ہو اور ہمارے زمانے میں تو انگریزی تسلط اور یورپین تعلیم کے باعث لوگوں نے جہاد کے خلاف اتنی کتابیں لکھ ڈالیں کہ پچاسوں الماریاں ان ہفوات سے بھر جائیں اور حکومت متسلطہ کو خوش کرنے کی غرض سے ایسی رکیک اور بعید از عقل تاویلیں کی کہ اعاذنا اللہ منھا بہر حال ان ضمنی واقعات کو بیان کرنے کے بعد اصل مضمون جو توحید و رسالت ہے اس کا اعادہ فرماتے ہیں اور پہلے نبی کریم ﷺ کی نبوت اور رسالت کی تصدیق فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم آپ کو صحیح پڑھ کر سناتے ہیں اور بیشک آپ پیغمبروں میں سے ہیں3

ف 3 یہ آیتیں جن بنی اسرائیل کے واقعات مذکور ہوئے یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم آپ کو صحیح اور واقع کے مطابق پڑھ کر سناتے ہیں اور بلا شبہ آپ ہمارے رسولوں اور پیغمبروں میں سے ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جبریل (علیہ السلام) کے واسطے سے جو یہ کلام آتا ہے تو یہ بھی ہم ہی بھیجتے ہیں ، لہٰذاجبرئیل کا پڑھنا بھی ہمارا ہی پڑھنا ہے ۔ حق کا یہ مطلب ہے کہ جو واقعات ہم بیان کرتے ہیں وہ واقعہ کے عین مطابق ہیں ان کے صحیح ہونے میں تو اہل کتاب کو ذرا شک نہیں اور چونکہ نہ تم نے یہ واقعات ان کی کتابوں میں پڑھے نہ کسی تاریخ میں دیکھے اور نہ تم کو ان کی خبر ہے پھر جو تم ان کو صحیح صحیح بیان کرتے ہو تو بجزو حی کے تمہارے پاس اور کوئی تمہارے ذریعہ نہیں اور وحی الٰہی کے ذریعہ سے کسی بات کو بیان کرنا یہی پیغمبری ہے۔ اب آگے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے مخصوص حالات کا ذکر ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ جتنے پیغمبر ہیں ہم نے ان میں سے بعض حضرات کو بعض پر فضلیت و بزرگی عطا فرمائی ہے بعض ان میں سے وہ ہیں جن کو اللہ نے شرف ہم کلامی بخشا اور ان کے بعض کو مراتب درجات میں بلند فرمایا اور مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے دلائل واضحہ عطا فرمائے اور ہم نے روح قدس کے ذریعہ اس کی تائید فرمائی اور اگر خدا کو منظورہوتا تو وہ لوگ جو پیغمبروں کے بعد ہوئے وہ ان صاف احکام کے بعد جو ان کے موصول ہوچکے تھے آپس میں نہ لڑتے لیکن ان لوگوں نے آپس میں اختلاف کیا پھر کوئی ان میں سے ایمان لایا اور کوئی ان میں سے کافر ہوا اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ لوگ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے1

ف 1 یہ جتنے رسول ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت اور فضلیت عطا فرمائی ہے ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور ان کو کسی فرشتے کے بغیر ہم کلامی کا شرف بخشا اور ان کے بعض کو درجات و مراتب میں بلند مقامات پر فائز کیا اور ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم کو دلائل واصحہ اور معجزات ظاہرہ عطا فرمائے اور ہم نے روح القدس یعنی جبریل (علیہ السلام) سے ان کو قوت بخشی اور جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ ان کی تائید کی اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو جو لوگ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد ہوتے رہے یعنی ان کی امت کے لوگ وہ ان صاف اور کھلے کھلے دلائل کے بعد جو ان کو پیغمبروں کی رسالت سے پہنچ چکے تھے آپس میں قتل و قتال نہ کرتے اور دین حق میں باہم اختلاف نہ کرتے۔ لیکن انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور باہم دین میں مختلف ہوگئے۔ لہٰذا کوئی ان میں ایمان لایا اور کوئی ان میں کافرہوا یعنی کفر ہی پر قائم رہا اور یہ باہمی اختلاف قتل قتال کا موجب ہوا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا اور اس کو منظور ہوتا تو یہ لوگ آپس میں قتل و قتال نہ و کرتے ، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے جو اس کی حکمت کا مقتضا ہوتا ہے وہ اس کی قدرت پورا کر کے رہتی ہے۔ ( تیسیر) یہاں ان رسولوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے یا وہ رسول مراد ہیں جن کا حال نبی کریم ﷺ کو بتایا جا چکا ہے اور بظاہر یہ ہے کہ انک لمن المرسلین کی جانب اشارہ فرمایا ہے اور تمام رسول مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام رسول نفس رسالت میں اگرچہ مساوی ہیں جیسا کہ لا نفرق بین احد من رسلہ سے ظاہر ہے کہ ہم سب رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں یہ تفریق نہیں کرتے کہ کسی پر ایمان لائیں اور کسی پر نہ لائیں باقی ان سب کا آپس میں مراتب و درجات اور خصوصیات کے اعتبار سے تفاوت تو یہ ظاہ رہے اور اسی امر کو اس آیت میں بیان کرنا ہے جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا ہے۔ ولقد فضلنا بعض النبین علی بعض واتینا دائود ربورا ً یعنی ہم نے بعض نبیوں کو بعض سے زیادہ کیا اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی خصوصیات یکساں نہیں ہیں کسی کو کسی خصوصیت سے نوازا ہے کسی کو کسی مرتبے سے سرفراز فرمایا ہے ، مثلاً کسی کی شریعت کامل ہے کسی کی اکمل ہے کسی پر مستقل کتاب نازل کی گئی ہے کسی پر صرف چند صحیفے نازل فرمائے ہیں کسی کی امت کم ہے کسی کی زیادہ کسی کو چند معجزات دیئے گئے اور کسی کو بکثرت معجزات سے نوازا گیا کوئی مستقل شریعت کا مالک اور وارث بنایا گیا اور کوئی صرف دوسرے رسولوں کی شریعت کا عامل اور محافظ کیا گیا ۔ کسی کے پاس حضرت جبریل (علیہ السلام) صرف ایک مرتبہ یا ایک مرتبہ سے چند مرتبہ زائد تشریف لائے اور کسی کے پاس بکثرت آتے رہے اور کسی کی ہر قیمت نگہبانی کرتے رہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کلیم کیا ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) کی طرح بدون نطفہ کے پیدا کر کے اپنا کلمہ اور اپنی روح ٹھہرایا ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو زبور اور حکمت و نبوت اور حسن صوت سے نواز اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ایک ایسا ملک اور سلطنت بخشی جو ان کے علاوہ کسی دوسرے کو عنایت نہیں کی اور محمد الرسول ﷺ کی تمام اگلی اور پچھلی خطائیں معاف فرما دیں ۔ صاحب خان نے فرمایا ہے کہ تمام امت کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ ہمارے پیغمبر افضل الانبیاء ہیں ۔ آپ کی رسالت کا پیام تمام مخلوق کے لئے ہے ، اور آپ ؐ کو بےشماردلائل اور معجزات دے کر تمام مخلوق کے لئے مبعوث فرمایا ہے اور کوئی نشانی اور کوئی معجزہ ایسا نہیں ہے جو کسی نبی کو دیا گیا ہو ، مگر یہ کہ ٓپ ؐ کو اس سے بڑھ کر عطا کیا گیا ہے۔ تمام انبیا کے معجزات ختم ہوگئے لیکن نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم قیامت تک باقی رہنے والا ہے جس کے جواب سے تمام انسان اور جنات عاجز ہوچکے ہیں۔ حضرت جابر ؓ سے بخاری اور مسلم نے مرفوعا ً نقل کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ 1۔ مجھے وہ رعب اور ہیبت دی گئی ہے جس کا اثر مخالف کے قلب پر ایک مہینے کی راہ پر پڑتا ہے یعنی میرا مخالف اور دشمن مجھ سے اس قدر فاصلہ پر و کہ اسے مجھ تک پہنچنے میں صرف ایک مہینہ صرف ہو تو وہ اتنے فاصلہ سے میری ہیبت اپنے قلب میں محسوس کرے گا ۔ 2۔ تمام زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک قرار دیا گیا لہٰذا میری امت میں جس شخص پر کسی جگہ نماز کا وقت آجائے تو وہ وہیں نماز ادا کرلیا جائے ، یعنی تمام زمین مسجد ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ جہاں مسجد نہ ہو تو مسجد تلاش کرتا پھرے جیسے مسافر جنگل میں جا رہا ہو یا جہاز میں سفر کررہا ہو تو جہاں وقت آجائے اپنا کپڑا بچھا کر نماز پڑھ لے۔ 3۔ اور میرے لئے غنائم کو حلال کردیا ہے حالانکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے غنیمت حلال نہ تھی۔ 4۔ مجھ کو شفاعیت کا مرتبہ عطا کیا گیا ہے یعنی قیامت کے دن مجھ کو شفاعت کی اجازت دی جائیگی۔ 5۔ مختلف نبی اپنی اپنی قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور میری بعثت تمام لوگوں کے لئے عام ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے جس کو مسلم نے نقل کیا ہے کہ مجھ کو دوسرے انبیا پر چھ باتوں میں فضلیت دی گئی ہے۔ 1۔ مجھ کو جو امع الکلم کی نعمت سے نوازا گیا ہے یعنی میرا کلام جامع ہوتا ہے۔ 2۔ میری مدد عب اور ہیبت سے کی گئی ہے۔ 3۔ میرے لئے غنائم حلال کردیئے گئے ہیں۔ 4۔ میرے لئے تمام زمین کو مسجد اور طہور کردیا گیا ہے۔ 5۔ میں تمام مخلوقات کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔ 6۔ اور مجھ پر ابنیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے یعنی میرے بعد اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا ۔ رہا یہ امر کہ حدیث میں آتا ہے کہ تم مجھ کو انبیاء پر فضلیت نہ دیا کرو۔ ایک حدیث میں ہے کہ تم مجھ کو حضرت یونس (علیہ السلام) پر بھی فضلیت نہ دیا کرو یا یہ کہ تم یوں نہ کہا کرو کہ میں یونس سے بہتر ہوں ۔ ان تمام احادیث کا مفادیہ ہے کہ فضلیت کی تفصیل میں نہ جائو بلکہ یہ معاملہ خدا کے سپرد کرو وہی خوب جانتا ہے کہ ایک نبی کو دوسرے نبی پر کس قسم کی فوقیت حاصل ہے ۔ یا ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ کی مراد یہ ہو کہ اس طرح فضلیت بیان کرو جو دوسرے انبیاء کی توہین کو مسلزم ہو۔ جیسا کہ ہمارے زمانے کے قصہ گو واعظ اور جاہل نعت خواں کیا کرتے ہیں ۔ جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور کلام بھی بلا واسطہ فرمایا اگرچہ بلا حجاب نہیں ۔ وہ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں ۔ حضرت آدم کے بارے میں بھی فرمایا ہے۔ انہ نبی مکلم یعنی وہ ایک ایسے نبی ہیں جن سے کلام کیا گیا ہے اور خود نبی کریم ﷺ کی بھی شرف تکلم حاصل ہے ، لیکن عام مفسرین نے اس آیت میں حضرت مویٰ (علیہ السلام) مراد لئے ہیں۔ چھٹے پارے میں ارشاد ہے وکلم اللہ موسیٰ تکملیما ً درجات و مراتب کی بلندی سے بعض نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور بعض نے حضرت ادریس (علیہ السلام) مراد لئے ہیں ۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں جن کو بیشمار مراتب اور گونا گوں مدارج و مناصب عالیہ سے سرفراز فرمایا ہے جیسا کہ اوپر حدیث سے معلوم ہوچکا ہے کہ مجھ کو وہ دیا گیا ہے جو کسی کو نہیں دیا گیا اور آپ کی عظمت مخامت کی وجہ سے ان درجات کو مبہم رکھا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی شان اس قدر بلندو برتر ہے کہ ذہن ان کے سوا کسی اور کی طرف منتقل ہی نہیں ہوسکتا۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ یہود و نصاریٰ نے ان کے متعلق انتہائی افراط وتفریط سے کام لیا ہے یہود نے ان کی تحقیر میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور نصاریٰ نے ان کی تعظیم ایسی کی کہ ان کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے۔ بینات سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ مشہور معجزات ہیں جن کا ذکرآگے آجائیگا ۔ مثلاً مردوں کو زندہ کرنا ، بیماروں کو اچھا کرنا اور ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد انجیل ہو جو دلائل واضحہ کو مشتمل تھی ۔ روح القدس عام طور سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو کہا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے۔ قل نزلہ روح القدس ۔ قدس کے معنی طہارت اور برکت کے ہیں یا قدس تقدیس یعنی تطہیر کے معنی میں ہے۔ شاید جبرئیل کو اس وجہ سے روح کہا گیا ہو کہ جس طرح روح جسمانی حیات کا سبب اور ذریعہ ہے اسی طرح حضرت جبریل معنوی اور باطنی حیات کا ذریعہ اور سبب ہیں ، کیونکہ تمام آسمانی کتابیں جو بیشمار علوم اور روحانیت کا سر چشمہ ہیں ۔ حضرت جبرئیل ہی کی معرفت نازل ہوئی ہیں ۔ حضرت جبرئیل کی تائید کا مطلب یہ ہے کہ ابتداء سے لیکر انتہا تک حضرت جبرئیل نے ان کی امداد و نگرانی کی ۔ نفخ روح کے وقت سے لے کر جب تک وہ آسمان پر تشریف لے گئے اس وقت تک حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ان کے مدد گار بنے رہے۔ جیسا کہ ساتویں پارے میں ارشاد ہے۔ از ایدتک بروح القدس اور ہوسکتا ہے کہ روح القدس سے خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہوں اور ظاہر ہے کہ ان کی روح کو قدس اس بنا پر کہا گیا ہے کہ وہ نطفہ کی تخلیق اور حیض کی غذا سے پاک و صاف تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قدس سے مراد حضرت حق جل مجدہٗ کی ذات اقدس ہو اور روح سے مراد حضرت جبرئیل ہوں اور یہ اضافت و نسبت تشریفی ہو لیکن عام طور سے مفسرین کے نزدیک روح القدس سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت حسان ؓ کے متعلق حضور اکرم ﷺ کے یہ الفاظ احادیث میں آتے ہیں ۔ روح القدس محک اور کبھی فرماتے و جبرئیل معک پہلے پارے میں بھی اس نفعہ کی مختصر تحقیق گزر چکی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت علم اور قول کا مظہر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جس طرح صفت حیات کا مظہر حضرت اسرافیل اور صفت ارادہ اور جود کا مظہر حضرت میکائل اور صفت قدرت کا مظہرحضرت عزرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ لہٰذا حضرت جبرئیل کو مظہر علم ہونے کا اعتبار سے روح القدس اور مظہر قول ہونے کے اعتبار سے روح الامین کہتے ہیں ۔ واللہ اعلم آیت کے آخری حصہ میں اپنی حکمت اور اپنی مشیت کا اظہار فرمایا ہے جس سے نبی کریم ﷺ کو تسلی اور تشفی دینا مقصود ہے اور حضور کو یہ بتانا ہے کہ باوجود انبیاعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری اور دلائل و معجزات اور کتب سماویہ کے نزول و ظہور کے بعد بھی تمام بنی نوع انسان کا دین حق کو قبول نہ کرنا اور باہم اختلاف اور قتل و قتال کرنا اور کسی کا مسلمان ہونا اور کسی کا منکر و کافر رہنا یہ کوئی نئی بات نہیں اگر آپ پر بھی سب لوگ ایمان نہیں لاتے اور امر حق کا انکار کرتے ہیں تو آپ کو اس پر حزن و ملال نہ ہونا چاہئے۔ یہ امور تو ہماری حکمت و مشیت کے ماتحت ہوتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کرتے ہیں، البتہ اگر ہم چاہتے تو ایسا نہ ہوتا لیکن ہماری حکمت کا مقتضایہ نہ ہوا کہ ہم جبر واکراہ کے ساتھ کسی کو مسلمان بنائیں ، لہٰذا کسی پیغمبر کی امت میں بھی ایسا نہ ہوا کہ سب کے سب مسلمان ہوجاتے۔ رہا حکمت کا معاملہ تو یہ ضروری نہیں کہ بندوں کو اس کی پوری حقیقت معلوم ہوجائے ہمارے لئے صرف اتنا عقیدہ ضروری ہے کہ ایسا کرنے میں حضرت حق کی کوئی مصلحت و حکمت ضرور ہے۔ اقتتلال فرمایا ، اختلاف کو جیسا کہ ہم نے تیسیر میں اشارہ بھی کیا ہے یہ اس لئے کہ باہمی اختلاف ہی بڑھتے بڑھتے قتل و قتال کا موجب ہوگیا اور چونکہ اس کا بھی احتمال تھا کہ اختلاف رہتا اور قتل و قتال کی نوبت نہ آتی اس لئے مکرر فرمایا ۔ ولو شاء اللہ ما قتلوا تا کہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ بات بھی مشیت پر موقوف تھی چونکہ مشیت کا تعلق ترک قتال سے نہ ہوا ۔ لہٰذا قتال اور اختلاف دونوں واقع ہوئے اور بات بھی یہی ہے کہ اس کی مشیت اور اس کے ارادے پر کوئی قابو یافتہ نہیں۔ ولکن اللہ یفعل ما یرید نبی کریم ﷺ کی رسالت کا اظہار اور دوسرے پیغمبروں کے مراتب وغیرہ کا ذکر فرمانے کے بعد جو ایک خاص مناسبت سے آگیا تھا پھر اسی مضمون سابق کا اعادہ فرماتے ہیں ۔ یعنی وہی لفظ بر جس کو ولکن البر من امن اللہ میں فرمایا اسی کی تفصیل و توضیح مقصود ہے چناچہ ابھی چند سطریں پیشتر قرض حسنہ کا ذکر فرمایا تھا اسی سلسلہ میں انفاق فی سبیل اللہ کی پھر تاکید فرماتے ہیں اس کے آگے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات وصفات کا ذکر ہوگا جو رسالت کی ذکر سے مربوط ہے ۔ اس کے بعد پھر انفاق فی سبیل اللہ کی مختلف صورتیں ذکر کی جائیں گی۔ ( تسہیل)
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے کچھ خرچ کرو جس دن نہ تو کسی قسم کی خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوستی کام آئیگی اور نہ کوئی سفارش چلے گی اور جو لوگ منکر ہیں وہی ظالم ہیں2

ف 2 اے ایمان والو ! جو کچھ ہم نے تم کو عطا کیا ہے اور جو چیزیں ہم نے تم کو دے رکھی ہیں اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے کچھ خرچ کرتے رہا کرو جس دن نہ تو کوئی خریدو فروخت ہو سکے گی اور نہ آپس کی دوستی اور یاری چلے گی اور نہ سفارش ہوگی اور جو لوگ دین حق کا انکار کرنے والے ہیں وہی اپنی جان پر ظلم کررہے ہیں۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے خدا کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ قیامت سے پہلے جو نیک کام کرلو گے وہی قیامت میں مفید ہوں گے باقی قیامت کے دن اگر چاہو کہ نیک عمل کہیں سے خرید کرلے آئو یا کسی دوست سے نیکیاں حاصل کرلو یا کسی شخص کی سفارش سے نیک اعمال کا مطالعہ ترک کرا دو اور نیک اعمال پیش کرنے سے سبکدوش ہو جائو جیسا کہ دنیا میں ہوتا ہے تو ان تینوں باتوں میں سے وہاں کوئی بات بھی ہونے والی نہیں۔ ظاہر کے خرید فروخت تو وہاں سرے سے ہے ہی نہیں کیونکہ وہ دن بیع و شرا کا نہیں ہے رہی دوستی تو وہ بھی صرف متقیوں میں قائم رہے گی ورنہ تمام دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہوں گے۔ ثم یوم المقیۃ یکفر بعضکم ببعض ویلعن بعضکم بعضا ً البتہ پرہیز گار لوگوں کی دوستیاں اپنے حال پر رہیں گی۔ الا خلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالاالمتقین رہی سفارش تو اول تو کوئی کسی کی سفارش بلا اجازت اور بلا حکم خداوندی کر ہی نہ سکے گا ، جیسا کہ چند سطروں کے بعد ابھی آتا ہے ۔ دوم یہ کہ سفارش کے لئے بھی تو کم از کم کسی چیز کی ضرورت ہے اور کچھ نہ ہو تو خدا کی توحید اور انبیاء (علیہ السلام) پر ایمان تو ہو کفر خالص کے لئے تو سفارش کی اجازت ہی نہ ہوگی۔ ما للظلمین من حمیو ولا شفیع یظاع آیت میں جو انفاق کا حکم دیا گیا ہے اس سے یا تو زکوٰۃ مراد ہے جیسا کہ اکثر نے کہا ہے اور تارک زکوٰۃ کو حضرت حق نے زجرا ً مشرک فرمایا ہے۔ وویل للمشرکین الذین لا یوتون الزکوٰۃ اگر انفاق سے زکوٰۃ مراد ہو تو تارکین زکوٰۃ کو قیامت کی وعید سنانا مقصود ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ صدقات نافلہ مراد ہوں ۔ تب بھی قیامت کا ذکر کرنے سے صدقات کی کثرت پر ترغیب دلانا مقصود ہوگا اور جو دن ایسی پریشانی اور بےبسی کا ہو اس دن کے آنے سے پہلے جو بھلائی کرسکتے ہو اس سے غافل نہ رہو اور جو ہوسکتا ہے کرتے رہو ۔ ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں دونوں باتوں کی رعایت رکھی ہے۔ آخر میں ہر کافر کو ظالم فرمایا ہے حضرت عطا فرمایا کرتے تھے۔ الحمد للہ الذی قال والکفرون ھم الظلمون ولم یقل والظلمون ھم الکفرون یعنی خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہر کافر کو ظالم فرمایا اور ہر ظالم کو کافر نہیں فرمایا۔ بہر حال کافر اپنے اوپر ظلم کرنے سے ایسے ہوگئے کہ قیامت میں نہ کسی کی دوستی ان کو مفید ہوگی نہ کسی کی سفارش ان کے کام آئے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عمل کا وقت ابھی ہے آخرت میں نہ عمل بکتے ہیں نہ کوئی آشنائی سے دیتا ہے نہ کوئی سفارش سے چھڑا سکتا ہے جب تک پکڑنے والا نہ چھوڑے۔ ( موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے جس خوبی سے آیت کی تفسیر فرمائی ہے ۔ اس کی تعریف نہیں کی جاسکتی ۔ ( تسہیل)
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں وہ زندہ ہے ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اس پر نہ اونگھ طاری ہوتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے ایسا کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کی جناب میں کسی کی سفارش کرسکے ، جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے بعد ہونے والا ہے وہ سب کو جانتا ہے اور وہ سب اس کی معلومات میں سے کسی شئی کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے مگر ہاں جس قدر وہ خود چاہے اس کا تخت حکومت سب آسمانوں اور زمین پر چھاپا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی اور وہی سب سے برتر اور بزرگ تر ہے1

ف 1۔ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت اور بندگی کے قابل نہیں وہ زندہ ہے جس کو کبھی موت نہیں آئے گی وہ خود قائم رہنے والا اور دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے ۔ اس پر نہ اونگھ طاری ہوسکتی ہے اور نہ اس کو نیند دبا سکتی ہے ۔ جو موجودات آسمانوں میں سے اور جو مخلوقات زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اور اسی کی مملوک ہے ایسا کون ہے جو اسکی بارگاہ میں اسکی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو ان کے بعد ہونے والا ہے اس کو بھی جانتا ہے اور وہ تمام مخلوقات و موجودات اس کی معلومات میں سے کسی شے کو بھی اپنے احاطہ علمی میں نہیں لاسکتے۔ مگر ہاں جس قدر وہ کسی کو علم دینا چاہے اور اس کی کرسی نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے اور اس کی کرسی سب کو محیط اور سب پرچھائی ہوئی ہے اور آسمانوں اور زمین دونوں کی حفاظت اس اس کو کچھ شاق اور گراں نہیں گزرتی اور وہ سب سے بلندوبالاتر اور عظیم الشان ہے۔ ( تیسیر) حضرت حق جل مجدہٗ کی حیات کا یہ مطلب ہے کہ وہ حیات ازلی اور ابدی کے ساتھ متصف ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔ قیوم ہمیشہ قائم رہنے والا اور ہر شے کی تدبیر کرنے والا اور تمام عالم کو سنبھالنے والا ، خود قائم رہنے والا اور دوسروں کو قائم رکھنے والا ، سنۃ اونگھ جس سے مزاج کو فتور پیش آجائے یہ وہ حالت ہے جو سونے سے ذرا پہلے پیش آتی ہے۔ ابتدائی حالت کو سنۃ کہتے ہیں اس سے زیادہ کو نعاس اور اس سے زیادہ کو نوم کہا جاتا ہے بعض لوگوں نے سنۃ کا تعلق دماغ سے اور نعاس کا تعلق آنکھوں سے او نوم کا تعلق دل سے بتایا ہے بعض نے نعاس اور سنۃ کو ایک ہی چیز کہا ہے ۔ بہر حال دماغی اعصاب کو جو استر خاء نیند کی حالت میں ہوتا ہے وہ سنۃ اور نعاس کی حالت میں نہیں ہوتا ۔ کرسی کے معنی مشہور ہیں جو لکڑی یا اور کسی چیز کے مختلف اجزاء کو جوڑا کر بنائی جاتی ہے اور بیٹھنے کے کام آتی ہے لیکن یہاں یا تو محض اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کی وسعت کو ظاہر کرنا ہے یا اس کے علم کی وسعت مراد ہے یا اس کی سلطنت کی وسعت اور پھیلائو کا اظہار مراد ہے یا اس کی وسعت قدرت مراد ہے اور عام علماء سلف کا قول یہ ہے کہ وہ ایک جسم ہے ، تمام آسمانوں اور زمین سے بڑا عرش الٰہی سے چھوٹا جیسا کہ دار قطنی اور خطیب نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ کرسی اتنی بڑی ہے کہ اس کا اندازہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں کرسکتا اور ابن جریر اور ابو الشیخ اور ابن مردویہ اور بیہقی نے حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے مرفوعا ً نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کرسی کو دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ساتویں آسمان و زمین کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے ایک بہت بڑے میدان اور صحرائے عظیم میں ایک چھلا اور حلقہ پڑا ہوا ہو اور عرش کی وسعت کا یہ حال ہے کہ عرش کی کوئی حد ہی نہیں عرش کے مقابلے میں کرسی کی یہی حالت ہے کہ جیسے ایک بڑے جنگل میں کوئی چھوٹا سا چھلا یا حلقہ پڑا ہوا ہو ( واللہ اعلم) ادو کے معنی اصل تو کسی چیز کا بوجھ پڑنے سے ٹیڑھے ہوجانے کے ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر زمین و آسمان کی حفاظت کچھ ثقیل نہیں بلند وبالا تر کا مطلب یہ کہ ہر قسم کے عیب و نقص سے بالا تر ہے اور عظیم الشان کا مطلب یہ ہے کہ وہ جملہ صفات کمالیہ سے متصف ہے یا یہ کہ اس کی ذات سب کی عقل و فہم سے بالا تر ہے اور وہ سب سے بزرگ اور عظمت میں بڑھا ہے سب اس کے آگے حقیر ہیں ۔ یعلم ما بین ایدیھم وماخلفھم کے کئی معنی ہوسکتے ہیں یعنی امور دنیا کو بھی جانتا ہے اور امور آخرت کو بھی جانتا ہے اور تمام مخلوقات کے حائر و غائب حالات کو جانتا ہے ۔ غرض جو کچھ مخلوق کے آگے آئے گا اور جو ان کے پیچھے گزر چکا وہ سب سے واقف اور با خبر ہے۔ ہم نے ترجمہ اور تیسر میں ایک معنی اختیار کر لئے ہیں ورنہ اس جملہ کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ الا بما شاء کا مطلب یہ ہے کہ حضرت حق کو معلومات کا کوئی احاطہ تو کر ہی نہیں سکتا مگر ہاں جس قدر وہ کسی کو علم دنیا چاہیں اس قدردے دیتے ہیں ۔ یہی حالت شفاعت اور سفارش کی ہے کہ ان کی جناب میں کسی کی مجال نہیں کہ لب کشائی کرسکے مگر ہاں جس کو وہ اجازت دے دیں اور جس شخص کے حق میں سفارش کی اجازت دے دیں تو بیشک وہ اس کی سفارش کرسکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت حق کی توحید اور اس کی صفات کی عظمت کا اظہار کیا گیا ہے وہ ہمیشہ سے موجود ہے۔ وہی تمام مخلوقات کا موجد ہے۔ ہر قسم کے نقصان اور تغیر و تبدل سے پاک اور بری ہے سب چیزوں کا مالک اور تمام کائنات اس کی مملوک ہے۔ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر اس کو کامل قدرت و عظمت حال ہے نہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش کا حق حاصل ہے اور نہ کوئی کام اس پر گراں اور دشوار ہے اور نہ اس کو کوئی کام مغلوب کرسکتا ہے ، نہ وہ کسی کام سے تھکتا ہے اس کے مقابلہ میں سب حقیر اور سب اس کے بندے ہیں اس کا علم سب کو محیط ہے اور اس کی معلومات پر کسی کو احاطہ میسر نہیں قرآن کی اس آیت کا نام آیت الکری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب سے دریافت کیا ۔ اے کعب ! کتاب اللہ میں کون سی آیت افضل ہے انہوں نے پہلے تو تامل کیا ۔ حضور ﷺ نے پھر دریافت کیا تو انہوں نے عرض کیا ۔ آیت الکری آپ نے فرمایا ۔ اے ابو منذر تجھ کو علم مبارک ہو ۔ اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں ، یہ عرش کے قریب اللہ تعالیٰ کی تقدیس کرتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عالم مثال میں اللہ تعالیٰ نے اس کو شکل و صورت عنایت کی ہے اور یہ آیت خدائی پاکی بیان کرنے میں مشغول ہے۔ حضرت انس ؓ کی ایک روایت میں آیت الکری کو ربع قرآن فرمایا ہے یعنی اس کے پڑھنے کا ایسا ثواب ہوتا ہے جیسے کسی نے چوتھائی قرآن پڑھا یا یہ مطلب کہ تمام قرآنی مضامین کے ایک چوتھائی مضامین کو صرف یہ ایک آیت شامل ہے۔ نسائی کی ایک روایت میں ہے جس شخص نے آیت الکری کو پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک فرشتے کو مقرر کرتا ہے جو اس وقت سے لے کر دوسرے دن تک اس کی نیکیاں لکھتا اور اس کے گناہ مٹاتا رہتا ہے۔ حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں ہے کہ میں نے ممبر پر نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جو شخص ہر نماز مفروضہ کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے تو اس شخص کو جنت میں داخل ہونے سے سوائے موت کے اور کوئی چیز روکنے والی نہیں ۔ یعنی موت آجائے تو چلاجائے ۔ صرف موت بیچ میں مانع ہے ورنہ یہ شخص جنتی تو ہوچکا اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آیت الکرسی پر کوئی شخص مواظبت اور دوام اختیار نہیں کرتا۔ مگر صدیق یا عابد یعنی ہر نماز مفروضہ کے بعد آیت الکرسی پڑھنا یا عام طور سے آیت الکرسی کی قرأت کا اہتمام کرنا یہ صدیق اور عابد کا کام ہے ہر شخص اس کو اختیار نہیں کرسکتا اور جو شخص اپنی خواب گاہ میں سوتے وقت آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرتا ہے تو وہ خود بھی مامون رہتا ہے اور اس کا پڑوسی اور پڑوسی کا پڑوسی اور آس پاس کے اور چند گھر بھی مامون رہتے ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ایک اور روایت میں ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کوئی گھر ایسا نہیں ہے کہ اس میں آیت الکرسی پڑھی جائے ، مگر یہ کہ تیس دن تک اس گھر سے شیاطین الگ رہتے ہیں اور چالیس رات تک اس گھر میں کوئی جادوگر دنی یا جادوگر داخل نہیں ہوسکتا یعنی وہ گھرجادو کے اثر سے محفوظ رہتا ہے۔ اے علی ! تم خود بھی آیت الکرسی کو سیکھ لو اور اپنے اہل و عیال کو بھی سکھائو اور اپنے پڑوسیوں کو بھی سکھائو۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے بڑی کوئی آیت نازل نہیں فرمائی ۔ ابو دائود اور ترمذی نے حضرت اسماء بن یزید بن السکین سے روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے ایک اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم اور دوسری الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم علماء سند سے اس بارے میں بکثرت اقوال منقول ہیں کہ الحی القیوم کے ساتھ جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے کیونکہ یہ اسم اعظم ہے۔ اسم اعظم کی مزید تفصیل میں نے اپنی کتاب مشکل کشا میں بیان کی ہے احادیث میں کئی واقعات ایسے آئے ہیں کہ جنات صحابہ کی کھجوریں اور غلے چرا لیتے تھے جب انہوں نے ان جنات کو پکڑ لیا تو انہوں نے کہا تم ہم کو چھوڑ دو ہم تم کو ایسی چیز بتائیں گے جس کی وجہ سے تم اور تمہارا مال جنات سے بالکل محفو ظ رہے گا ۔ اس پر ان جنات نے صحابہ کرام ؓ کو آیت الکرسی بتائی۔ جب حضور ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا نے اس نے سچ کہا اگرچہ وہ جھوٹاے ایک روایت میں ہے اس خبیث نے سچ کہا ۔ احادیث میں یہ واقعات کئی طرح منقول ہیں ۔ ایک واقعہ ابی بن کعب ؓ کا ہے کہ ان کی کھجوریں گم ہوجاتی تھیں ایک رات کو وہ جاگتے رہے تو انہوں نے ایک شخص کو پکڑ لیا جس کے ہاتھ کتے کے ہاتھوں جیسے تھے اور ان پر بال تھے بالآخر اس نے آیت الکری بتا کر اپنا پیچھا چڑایا۔ دوسرا واقعہ ابو ایوب (علیہ السلام) کا ہے ان کا غلہ ایک جن چرا لیا کرتا تھا انہوں نے دو دفعہ تو اس کا چھوڑ دیا مگر تیسری مرتبہ چھوڑنے سے انکارکر دیا تو اس نے ان سے کہا اگر آپ مجھے چھوڑیں تو میں ایک ایس چیز تم کو بتائوں جس کی وجہ سے کوئی جن اور شیطان تمہارے غلہ کو ہاتھ نہ لگا سکے ۔ پھر اس نے آیت الکرسی بتائی۔ ایک واقعہ ابوہریرہ ؓ کا ہے جس کو بخاری نے فضائل القرآن میں نقل کیا ہے۔ وہ بھی اسی قسم کا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو صدقہ فطر کا نگہبان مقرر کیا ۔ ان کا کھانا ایک شیطان اس میں سے لے جاتا تھا تیسری بار ان سے بھی اس شیطان نے یہ کہا کہ اگر آپ سونے وقت آیۃ الکرسی پڑھا لیا کریں تو تمہاری ایک فرشتہ حفاظت کرے گا اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے پاس نہ آسکے گا۔ حضور ﷺ نے اس واقعہ کو سن کر فرمایا۔ وہ ہے تو جھوٹا مگر یہ بات اس نے سچ کہی ۔ ابن مردویہ نے حضور ﷺ کے یہ الفاظ نقل کئے۔ اما علمت ان ذلک کذالک یعنی ابوہریرہ ؓ کیا تو نہیں جانتا کہ یہ بات اسی طرح سے ہے ، یعنی آیت الکرسی ایسی ہی چیز ہے۔ ایک چوتھا قصہ ابن مسعود سے منقول ہے اس میں ایک شخص کا ایک جن سے کشتی لڑنے اور جن کو پچھاڑ دینے کا واقعہ ہے اس نے بھی دو تین مرتبہ بچھڑنے کے بعد یہ کہا کہ تم آیت الکرسی پڑھا کرو تمہارے پاس کوئی جن نہ آسکے گا ۔ بہر حال آیت الکرسی کی احادیث میں بڑی فضلیت آئی ہے۔ توحید الٰہی اور انبیاء کی رسالت جن میں نبی آخر الزمان ﷺ کی رسالت بھی شامل ہے۔ متصلا بیان کرنے کے بعد دین کے متعلق جبر واکراہ کی نفی فرماتے ہیں، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)