Ayah 2:229ف 2۔ وہ طلاق رجعی جس میں خاوند رجوع کر کے عورت کو لوٹا لینے کا حق کھتا ہے وہ دو مرتبہ کی طلاق ہے پھر دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد یا تو اس کو دستور اور قاعدہ شرعی کے مطابق روک لینا اور رکھ لینا ہے یا اس کو خوش اسلوبی اور بھلے طور پر چھوڑ دینا ہے اور تم کو یہ بات حلال نہیں کہ تم طلاق دیتے وقت ان عورتوں سے اس مال میں سے جو تم نے ان کو دیا ہے کچھ واپس لے لو مگر ہاں ایسی صورت میں جبکہ دونوں میاں بیوی کو اس بات کا خطرہ اور اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے قوانین اور اس کی قائم کردہ حدود کی رعایت نہیں کرسکیں گے اور ان حدود خداوندی کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو مال کا لے لینا حلال ہے لہٰذا اگر تم لوگوں کو اس کا خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود اور اسکے قوانین کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس مال کے لینے دینے میں کوئی گناہ نہیں جس کو دے کر عورت اپنی جان اس خاوند سے چھڑا لے یہ سب احکام اللہ تعالیٰ کی مقررہ کردہ حدود اور اس کے بیان کردہ ضابطے ہیں، لہٰذا ان سے آگے نہ بڑھو اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرے گا اور آگے بڑھے گا تو یہی وہ لوگ ہیں جو اپنا نقصان کرنے والے اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ( تیسیر)
طلاق رجعی وہ کہ عورت کا شوہر اس کو ایک مرتبہ یا دو مرتبہ طلاق صریح دے دے اس طلاق میں شوہر کو رجوع کرنے کا حق ہوتا ہے اگر وہ چاہے تو عدت کے اندر قول سے یا عمل سے رجوع کرسکتا ہے مگر عدت پوری ہوجانے کے بعد یہی رجعی بائنہ ہوجاتی ہے۔
طلاق بائنہ وہ جس میں رجوع کا حق نہیں ہوتا مگر ہاں عورت کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے اس کی شکل ایک تو وہ ہے جو ہم نے عرض کی کہ عدت کے اندر رجوع نہ کرے تو یہی رجعی بائنہ ہوجاتی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ طلاق کے ساتھ بائن کا لفظ ملا کر طلاق دے یعنی تجھ کو طلاق بائن دی تو یا تو بائن ہے یا کنایہ کے الفاظ سے طلاق دے اور نیت طلاق کی ہو یا غصہ کی حالت ہو یا جھگڑے میں طلاق کا نام آ رہا ہو تو ان سب حالتوں میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوگی ۔ مثلاً جانکل جا ۔ اپنے ماں باپ کے ہاں چلی جا ۔ میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں کنایہ کے الفاظ اور ان کی قسمیں کتب فقہ میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔
بہر حال بائنہ طلاق کے بعد عور ت سے نکاح ہوسکتا ہے مگر رجوع کا حق خاوند کو نہیں ہوتا ۔ طلاق صریح کے ساتھ بعض الفاظ بڑھا دینے سے بھی بائنہ طلاق ہوجاتی ہے۔ مثلاً اشد طلاق یا پہاڑ کے برابر طلاق یا بد ترین طلاق وغیرہ۔
بائنہ مغلظ وہ کہ شوہر اپنی عورت کو تین مرتبہ طلاق دے دے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد نہ رجوع کرسکتا ہے نہ نکاح کرسکتا ہے ، مگر تحلیل کے بعد یعنی حلالہ کرانے کے بعد پھر پہلے خاوند سے نکاح ہوسکتا ہے اس کا بیان آگے آتا ہے۔
طلاق کی اس تفصیل کے بعد ایک بات اور یاد رکھنے کے قابل ہے وہ طلاق دینے کا طریقہ جس طرح ہم نے طلاق کی تین قسمیں ذکر کی ہیں ۔ یعنی رجعی ، بائنہ اور بائنہ مغلظہ اسی طرح طلاق واقع کرنے کے بھی تین طریقے ہیں ۔ ایک سب سے بہتر اور احسن دوسرا اس سے کم درجہ کا وہ بھی اچھا ہے اگرچہ بہت اچھا نہیں ہے۔ تیسرا طریقہ سنت کے خلاف طریقہ ہے تینوں قسموں کے نام یہ ہیں ۔ طلاق احسن ، طلاق حسن اور طلاق بدعی ۔ سب سے بہتر طلاق کا طریقہ یہ ہے کہ جب عورت حیض سے فارغ ہو اور طہر شروع ہو تو اس طہر میں اس سے ہمسر نہ ہو اور صرف ایک طلاق دے دے اور ایک ہی طلاق کے بعد وہ اپنی عدت پوری کرے یعنی تین حیض آجائیں اور وہ بائنہ ہوجائے اس کو احسن طلاق کہتے ہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ہر طہر میں ایک طلاق دیتا ہے مگر اس طہر میں ہم بستر نہ ہوتا کہ ادھر طلاقیں ختم ہوں ادھر تیسرے حیض کے بعد عدت پوری ہوجائے ا س کو طلاق حسن اور طلاق السنتہ کہتے ہیں ۔ ان دو صورتوں کے علاوہ جو طریقہ اختیار کرے گا وہ بدعی طلاق ہوگی خواہ حیض کی حالت میں دے یا حمل کی حالت میں دے ۔ ایک مجلس میں تین دے یا ایک کے ساتھ تین دے۔
بہر حال طلاق بدعی بھی واقع ہوجاتی ہے اگر خاوند گناہ گار ہوتا ہے اس مختصر تحقیق کو جو ہم نے عرض کی ہے یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ مزید تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔
آیت زیر بحث کے ابتدائی حصہ میں طلاق رجعی کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رجعی طلاق تو دو مرتبہ ہے یعنی رجعت کا حق تو صرف دو طلاقیں دینے کے بعد تک عدت کے اندر اندر رہتا ہے کیونکہ عدت کے بعد تو رجعی بھی بائنہ ہوجاتی ہے جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں ۔ دو طلاقیں دینے کے بعد اب دو اختیار ہیں یا تو معروف کے ساتھ روک لو یا احسان کے ساتھ چھوڑ دو ۔ روکنے کا یہ مطلب کہ رجوع کرلو اور چھوڑنے کا یہ مطلب کہ عدت پوری کرلینے دو رجوع نہ کرو تا کہ نکاح ختم ہوجائے اور وہ چھوٹ جائے یا تیسری طلاق دے دو کہ تیسرے حیض کے بعد عدت بھی پوری ہوجائے اور طلاقیں بھی ختم ہوجائیں۔
امساک کے ساتھ معروف فرمایا اور تسریح کے ساتھ احسان فرمایا ۔ معروف کا یہ مطلب کہ رجوع کرنے میں عورت کا ستانا مقصود نہ ہو بلکہ حسن سلوک کرنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کا ارادہ ہو او احسان کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تذلیل اور دل شکنی کی نیت نہ ہو بلکہ جھگڑے کا ختم کرنا مقصود ہو اور اس کا جو کچھ حق ہو وہ خوش اسلوبی کے ساتھ دے کر اس کو رخصت کر دے۔
آیت کے دوسرے حصے میں خلع کا قانون کا ذکر ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں کہ تم کو یعنی شوہروں کو یہ بات حلال نہیں کہ اپنی بیویوں کو چوڑتے وقت کچھ مال و صول کرلو خواہ وہ مال تمہارے اس دیئے ہوئے مال ہی کا کوئی حصہ کیوں نہہو جو تم نے ان کو مہر میں دیا تھا مگر ہاں ایک صورت میں حلال ہے کہ اس صورت میں نہ دینے میں گناہ نہ لینے میں گناہ ۔ یعنی دونوں میاں بیوی پر کوئی گناہ نہیں اور وہ صورت یہ ہے کہ دونوں میاں بیوی کو اس امر کا اندیشہ ہو کہ اگر ہمارا نکاح قائم رہا تو ہم دونوں حقوق زوجیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، لہٰذا اگر تم کو خوف ہو کہ یہ دونوں میاں بیوی حقوق زوجیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے مقررہ قوانین کی صحیح پابندی نہ کرسکیں گے تو پھر دونوں کے ذمہ کچھ گناہ نہیں ۔ اگر عورت اس خاوند کو کچھ دے کر اس سے اپنا پیچھا چھڑا لے ، جاننا چاہئے کہ اگر عورت خلع کا درخواست کرے اور خاوند اس کو منظور کرے تو حنیفہ کے نزدیک طلاق بائن ہوجائے گی۔
حضرت امام شافعی (رح) خلع کو فسخ فرماتے ہیں اور احناف کے نزدیک یہ طلاق بائن ہے خلع کے متعلق چند باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔
1۔ جب عورت اپنے خاوند سے کہے کہ اس قدر مال پر تو مجھ سے خلع کرلے اور خاوند منظور کرے تو عورت پر طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور عورت کو مال ادا کرنا ہوگا ۔
2۔ خلع اس صورت میں ہوتا ہے جب میاں بیوی میں جھگڑا رہے۔ موافقت کی کوئی صورت نہ نکلے اور دونوں کو اس بات کا خوف ہو کہ ان سے قوانین الٰہی کی پابندی نہ ہو سکے گی۔
3۔ نا موافقت کی حالت میں اگر زیادتی عورت کی جانب سے ہو اور وہ خلع کی درخواست کرے تو عورت اس درخواست خلع کی وجہ سے گناہ گار ہوگی مگر مرد کو مال لینے میں گناہ نہ ہوگا ، البتہ مہر سے زیادہ لینا مکروہ ہوگا ۔ مثلاً شوہر نے عورت کو مہر کے پانچ سو روپے دیئے تھے ، لیکن خلع کے عوض میں عورت سے سات سو وصول کر لئے تو دو سو روپے جو مہر سے زائد ہیں ان کا لینا مکروہ ہوگا ۔
4۔ اور اگر ناموافقت کی حالت میں نشو و نما اور زیادتی مرد کی ہے تو پھر مطلقا ً مال کا لینا مکروہ ہوگا ، نہ مہر اور نہ مہر سے کم کچھ لینا، اگرچہ خلع ہر حال میں ہوجائے گا ، یعنی عورت پر طلاق بائن واقع ہوجائے گی جو خلع کا منشا اور مفہوم ہے، البتہ مرد گناہ گار ہوگا۔
5۔ ایک فقہی احتمال اور بھی نکل سکتا ہے کہ مرد عورت کو ناشزہ سمجھتا ہو اور عورت مرد کو زیادتی سمجھتی ہو تو اس صورت میں خلع کی درخواست کرنے پر نہ عورت کو گناہ ہوگا اور نہ مال لینے میں مردکو گناہ ہوگا لیکن مہر سے زیادہ لینا بہر حال مکروہ ہوگا ۔
6۔ اسی طرح طلاق بالمال کا بھی حکم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں خلع کا لفظ نہیں بولا جاتا ۔ بلکہ مرد کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ تجھ کو مثلاً پانچ سو روپے کے عوض طلاق ہے اگر عورت نے اس پیش کش کو منظور کرلیا تو طلاق بائن اس پر واقع ہوجائے گی اور پانچ سو روپے عورت کو لازم ادا کرنے ہوں گے اور اگر عورت نے پیش کش کو ٹھکرا دیا تو وہ بدستور نکاح میں رہے گی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عورت مرد کو پیش کش کرے کہ مجھ کو پانچ سو روپے کے عوض ایک طلاق یا دو تین طلاقیں دے دے تو اس کو بھی طلاق بالمال کہتے ہیں، لیکن اس صورت کا حکم یہ ہے کہ مرد طلاق دے دے گا تو عورت کو روپیہ ادا کرنا ہوگا اور اگر نہ دے گا تو حالت بدستور قائم رہے گی یہ نہیں کہ مرد کے منظور کرتے ہی طلاق واقع ہوجائے ۔
خاصہ یہ کہ لفظ خلع بولا جائے یا طلاق بالمال کی شکل میں مرد کو پیش کش کو عورت منظور کرے تو ان صورتوں میں نفس منظوری ہی سے طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ خلع کی شکل ہو یا طلاق بالمال کی ۔ بہر حال مہر سے زیادہ لینا خاوند کو مکروہ ہوگا اور یہ ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ مما تیتموھن سے مراد آیت میں خواہ زیر بحث آیت ہو یا چوتھے بارے کی آنے والی آیت ہو اس میں مال سے مراد مہر ہی ہے نفقہ مراد نہیں ہے، کبھی یہ خیال کیا جائے کہ ہم نے پانچ سو تو مثلاً عورت کو مہر کے دیئے اور دو سو اس کو کھانے پینے کی خرچ کے لئے دیئے ، لہٰذا سات سو ہوگئے ، اس لئے فقیر نے اس کی تصریح مناسب سمجھی کہ نفقہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ دیئے ہوئے مال سے مراد ہی مال ہے جو مہر میں دیا گیا ہو اور اس سے زائد لینا مکروہ ہے اگر عورت قصور وار ہے اور اس میں سے کچھ تھوڑا بہت لینا بھی مکروہ اور موجب گناہ ہے اگر مرد قصور وار ہو۔ (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عدت تک مرد چاہے تو عورت کو پھر رکھ لے ۔ یہ بات پہلی طلاق میں ہے اور دوسری میں بعد اس کے نہ پھر سکے گی تو موافق شرع اس کے حق ادا کرسکے تو رکھے کہ پھر قضیہ نہ ہو اور نہ رکھ سکے تو رخصت کرے اس نیت سے نہ اٹکادے کہ عاجز ہو کر جو میں نے دیا تھا وہ پھر جاوے یہ جب روا ہے کہ ناچاری ہو اور کسی طرح دونوں کی خو نہ ملے اور مرد کی طرف سے ادائے حق میں قصورنہ ہو اس وقت سب لوگ مل کر عورت سے کچھ پھر وادیں اور مرد کو راضی کر کے طلاق دلوا دیں ۔ اس کو خلع کہتے ہیں ۔ ( موضح القرآن)
فان خفتم میں جو خطاب ہے اس میں کئی قول ہیں یعنی اگر تم لوگ اس بات کا خوف کرو کہ دونوں میاں بیوی اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ ضابطوں کی پابندی نہ کرسکیں گے۔ بعض نے اس خطاب سے مراد حکام اور قاضی وغیرہ لئے ہیں اور بعض نے میاں بیوی کے سرپرست اور اوپر والے مراد لئے ہیں۔
جیساکہ حضرت شاہ صاحب (رح) کا رجحان معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے عام زوجین مراد ہوں ۔ جیسا کہ بعض حضرات نے اختیار کیا ہے۔ ( واللہ اعلم)
حضرت ثوبان ؓ سے امام احمد ، ابو دائود ، ترمذی ، ابن ماجہ، ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے جو عورت بلا کسی اندیشے اور خوف کے اپنے خاوند سے طلاق طلب کرتی ہے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
مطلب یہ ہے کہ مرد کی جانب سے کوئی برا برتائو نہ ہو اور پھر طلاق طلب کرے تو گناہ گار ہوگی ۔
حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اسی قسم کی ایک روایت ابن ماجہ نے نقل کی ہے اس میں اتنا اور زائد ہے ، حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت تک پہنچتی ہے ۔ یعنی جنت سے یہ ورت بہت دور رکھی جائے گی۔
ثابت بن قیس کی بیوی جمیلہ ؓ کا واقعہ بن عباس سے بخاری میں منقول ہے کہ اس نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول ﷺ میں ثابت کے دین میں یا اخلاق میں کوئی عیب نہیں نکالتی نہ کسی عیب کی وجہ سے میں اس سے ناراض ہوں بلکہ مجھے طبعا ً نفرت ہے اور میں اس طبعی منافرت کے باعث اس کو دیکھنا گوارہ نہیں کرتی اور میں اسلام میں کفر کی کوئی بات پسند نہیں کرتی ، یعنی اس حالت میں اس کے حقوق زوجیت بجا لانے میں کوتاہی ہوجائے گی اور یہ بات اسلام کی نہیں بلکہ کفر اور جاہلیت کی بات ہے ۔
سرکار نے ارشاد فرمایا اس نے تجھ کو مہر میں کیا دیا ہے ۔ جمیلہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایک باغ دیا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا اس کا باغ اس کو لوٹا دے گی ۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کا باغ اس کو واپس کردوں گی ۔ نبی کریم ﷺ نے ثابت ؓ کو بلا کر اس کا باغ واپس کر ا دیا ۔
ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ نے فرمایا اس باغ سے زیادہ اور کچھ اس عورت سے نہ لے ۔ محدثین اور فقہاء کے اس مسئلے میں اور اس حدیث کی شرح میں بہت سے اقوال میں ہم نے تسہیل میں حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک اختیار کیا ہے۔
حدیث مذکور سے یہ ثابت ظاہر ہے کہ نشور عورت کی جانب سے تھا پھر بھی مہر سے زیادہ لینے کی ممانعت فرمائی۔ واللہ اعلم ۔ اب آگے تیسری طلاق کا حکم بیان فرماتے ہیں۔ ( تسہیل)
Ayah 2:230ف 3۔ پھر اگر دو طلاقوں کے بعد شوہر اپنی عورت کو تیسری طلاق بھی دیدے تو پھر وہ عورت اس تین طلاقیں دینے والے کیلئے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک یہ عورت اپنی عدت پوری کر کے کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اور وہ دوسرا خاوند اس سے ہم بستر ہو کر طلاق نہ دے دے اور یہ اس طلاق کی عدت نہ گزار لے ، پھر اگر وہ دوسرا خاوند اس کو طلاق دے دے تو اس عورت پر اور اس کے پہلے خاوند پر اس بات میں کچھ گناہ نہیں کہ دوبارہ نکاح کر کے دونوں آپس میں پھر تعلقات وابستہ کرلیں ۔ بشرطیکہ ان دونوں کو اس امر کا یقین اور ظن غالب ہو کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ضابطے اور قائم کردہ حدود کو نگاہ رکھیں گے اور یہ مذکورہ احکام اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ ضابطے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان حدود قوانین کو ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش مند اور جاننے والے ہیں۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ تیسری طلاق کے بعد خواہ پہلی دو طلاقیں صریح ہوں یا کنایہ ہوں یا ایک صریح اور دوسری غیر صریح ہو۔ بہرحال پھر کوئی طریقہ پہلے خاوند کے لئے حلال ہونے کا نہیں سوائے اس طریقہ کے جس کو قرآن نے ذکر کیا ہے اور اسی کو حلالہ کہتے ہیں ۔ ہم نے تیسیر میں پوری رعایت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترجمہ کا خلاصہ کیا ہے جس کی تفصیل یہ ہے۔
1۔ تین طلاقوں کے بعد عدت پوری کرے۔
2۔ عدت پوری ہونے کے بعد دوسرے شخص سے اگرچہ وہ مراہق یعنی قریب البلوغ ہی ہو اس سے نکاح کرے۔
3۔ پھر وہ دوسرا خاوند اس سے ہم صحبت اور ہم بستر ہو۔
4۔ پھر وہ اپنی خوشی سے اس عورت کو طلاق دے یعنی نکاح کے وقت اس مرد سے کوئی ایسی شرط نہ کی جائے اور کچھ لالچ دے کر یہ وعدہ نہ لیا جائے کہ تم کو دوسرے دن چھوڑ دیناہو گا ۔
5۔ پھر یہ عورت اس دوسرے خاوند کی طلاق کے بعد عدت پوری کرے۔
6۔ عدت کے بعد اگر پہلا خاوند اور یہ عورت اس بات کا یقین کریں کہ اب وہ باتیں نہ ہوں گی۔ جو پہلی دفعہ ہوچکی ہیں اور اب آئندہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں گے تو دونوں نکاح کر کے ازدواجی تعلقات کو دوبارہ قائم کرسکتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تیسری طلاق کے بعد پھر نہیں بلکہ دونوں کی خوشی ہو تو بھی نکاح نہیں بندھ سکتا جب تک بیچ میں اور خاوند کی صحبت نہ ہوچکے۔ ( موضح القرآن)
ہم نے جو یہ عرض کیا ہے حلالہ میں کوئی شرط نہ لگائی جائے یہ اس لئے کہ اگرچہ حلالہ ہوجائے گا اور پہلے خاوند سے نکاح صحیح ہوجائے گا لیکن اس طرح شرط کر کے نکاح کرنے والا اور نکاح کرانے والے سب گناہ گار ہوں گے اور حضرت حق نے یہ جو فرمایا کہ یہ ضابطے ہم ان لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جو اہل علم و دانش ہیں یہ اس لئے کہ وہی اہل علم اپنے علم اپنے علم پر عمل کرتے ہیں جو اہل فہم و دانش ہیں ورنہ بےعلم یا بےعمل عالم ان ضابطوں پر نہ عمل کرتے ہیں نہ ان سے صحیح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
لقوم میں جو لام ہے وہ نفع کا ہے صلہ کا نہیں ہے کیونکہ قوانین کی تبیین تو ہر عالم اور جاہل کے لئے ہے لیکن اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو اہل علم و دانش ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے حلالہ کرنے والے شوہر کو التیس المستعار فرمایا ہے ، یعنی مستعار خاوند امام احمد اور ترمذی نے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس پر جو حلالہ کرے اور اس پر جس کے لئے حلالہ کرایا جائے۔
ایک دن نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں رفاعہ قرظی کی بیوی نے حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی اس نے مجھ کو طلاق مغلظہ دے دی تھی پھر مجھ سے عبد الرحمن بن زبیر نے نکاح کرلیا ۔ مگر وہ بالکل ایسا ثابت ہوا جیساچادر کا زکونہ ۔ یہ کہہ کر اپنی چادر کے کونے کو دونوں ہاتھ میں لے کر ہلانے لگی۔
سرکار نے فرمایا پھر رفاعہ کی طرف واپس جانا چاہتی ہے ۔ اس نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ﷺ سرکار نے فرمایا جب تک وہ تیری مٹھاس نہ چکھ لے اور تو اس کی مٹھاس نہ چکھ لے ۔ پہلے خاوند سے نکاح نہیں کرسکتی ۔ یعنی دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح جب ہی ۔۔۔ ہوسکتا ہے جب پہلے خاوند سے لذت اندوز ہوجائے اور وہ تیرے ساتھ ہم بستر ہو لے ۔ اس روایت کو تقریباً تمام محدثین نے نقل کیا ہے۔ بخاری مسلم ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ نے حضرت عائشہ ؓ سے اور حضرت امام احمد نے حضرت ابن عباس ؓ سے ، ابن عباس کی روایت میں اس عورت کا نام غمیصار یا رمیصاء لیا گیا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:231ف 1۔ اور جب تم نے اپنی عورتوں کو رجعی طلاق دے دی ہو اور وہ مطلقہ عورتیں اپن عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو پھر دو باتوں میں سے ایک بات پروری ہے کہ ان کو یا تو شرعی دستور کے موافق روک لو اور ان سے رجوع کرلو یا ان کو شرعی قاعدے سے خوش اسلوبی کے ساتھ چھوڑ دو اور ان کو ستانے اور تکلف پہنچانے کی غرض سے کہ ان پر ظلم و زیادتی کیا کرو گے نہ روک رکھو اور جو شخص ایسا کرے گا کہ ظلم اور زیادتی کے ارادے سے ان کو ستانے کے لئے روکے گا تو و ہ اپنے حق میں برا کرے گا اور خود ہی اپنا نقصان کرے گا اور آیات الٰہی اور احکام الٰہی کو ہنسی کھیل نہ ٹھہرائو اور اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو یاد کرتے رہو جو اس نے تم پر کئے ہیں اور بالخصوص اس کتاب کو اور حکمت و دانائی کی باتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس غرض سے نازل فرمائی ہیں اور ان کی وجہ سے تم کو نصیحت فرمائے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ ( تیسیر)
حضرت ابن عباس ، مجاہد ، مسروق ، حسن قتادہ اور ضحاک وغیرہم نے فرمایا ہے کہ بعض لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنی عورت کو رجعی طلاق دے دیتے اور وہ جب اپنی عدت پوری کرنیکے قریب ہوتی تو رجوع کرلیتے اور چند دن بعد پھر طلاق دے دیتے اور جب وہ عدت پوری کرنے کے لگ بھلگ ہوتی تو پھر رجوع کرلیتے اور چند دن بعد پھر طلاق دے دیتے غرض اس طرح اسکو تنگ کرتے کہ بجائے تین حیض کے نو حیض میں اسکا پیچھا چھوٹتا زمانہ جاہلیت میں اس سے زیادہ بری حالت تھی اس دور میں طلاق کا کوئی شمار ہی نہیں تھا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ عورتوں کو تنگ کرنے سے محفوظ رکھا جائے اگرچہ یہ مسئلہ اوپر بھی آیا ہے لیکن وہاں ضمنا ً ذکر فرمایا تھا ۔ یہاں مستقلاً بیان کرنا مقصود ہے اس لئے تکرار نہیں ہے ، نیزاوپر کی آیت سے صرف اتنا معلوم ہوا تھا کہ طلاق رجعی کے بعد رجوع کا حق ہے اور ایک یاد دو طلاقوں کے بعد رجوع ہوسکتا ہے۔ اس آیت میں اسکی تصریح ہے جو رجعت عدت کے اندر ہونی چاہئے اور مقصود رجعت سے گھرکرنا اور آئندہ حسن سلوک سیرہنا ہو محض عورت کو ستانا اور عدت کو طویل کرنا نہ ہو ۔
ابن ابی حاتم نے حضرت عروہ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تجھ کو طلاق بھی نہیں دوں گا اور تیرے پاس بھی نہیں جائوں گا ۔ اس نے پوچھا یہ کیونکر ہوگا اس نے جواب دیا طلاق دوں گا اور جب عدت پوری ہونے لگی گی رجوع کرلوں گا ۔
اس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے خاوند کی بات سنائی اس وقت تک غالباً طلاق کی تجدید نازل نہیں ہوئی تھی ۔ اس واقعہ کے بعد اوپر والی آیت بھی نازل ہوئی کہ طلاق رجعی دو مرتبہ ہے اور یہ آیت بھی نازل ہوئی کہ اس قسم کی قانون گجائش نکال کر عورت کو ضرور پہنچانا اپنے اوپر خود ظلم کرنا ہے اور احکام الٰہی کے ساتھ مذاق کرنا ہے۔ قانون کا منشا دیکھنا چاہئے تم نے قانون گنجائش نکال کر اس کے اصل منشا کے خلاف کرنا شروع کردیا تو ایسا کرنا آیات الٰہی کے ساتھ استہزا کرنا ہے۔ اسی لئے فرمایا ۔ فقد ظلم نفسہ۔
ابن جریرنے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اشعر یین پر خفگی کا اظہار فرمایا۔ اس پر میں نے عرض کیا ۔ یا رسول لالہ ﷺ ! اشعر والوں پر کیوں ناراض ہوتے ہیں۔
حضور ﷺ نے فرمایا ! تم میں کچھ لوگ ادھر طلاق دیتے ہیں ادھر رجوع کرتے ہیں ۔ یہ طلاق کا طریقہ مسلمانوں کا نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ اللہ کے احکام کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ امساک اور تسریح کی بحث ہم اوپر کرچکے ہیں یعنی رجوع کرو تو نیت یہ ہو کہ اچھا سلوک کرو گے اور آئندہ پہلے طورطریق پر نبھائو گے اور چھوڑو تو خوش اسلوبی کے ساتھ اس کے حقوق دے کر اسے رخصت کردو۔ رجوع اس غرض سے نہ ہو کہ عورت کی عدت طویل کردو تا کہ اس پر تعدی اور زیادتی کرو یا رجوع کر کے کوئی اور تکلیف پہنچائو۔
ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی آیات سے مذاق کرنا ہے ۔ حسن ، قتادہ ، مقاتل اور ربیع کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو طلاق دے کر کہتا ہے کہ میں نے تو ہنسی سے کہہ دیا تھا اور ہزل کیا تھا عبادہ بن صامت کا قول ہے کہ کوئی آدمی کسی سے کہتا کہ میں نے اپنی لڑکی کو تیرے نکاح میں دیا پھر کہہ دیتا میں تو ہنسی سے کہہ رہا تھا ۔ اسی طرح بعض لوگ غلام کو آزاد کردیتے اور کہتے ہم نے تو یوں ہی ہنسی میں کہا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے احکام کو ہنسی اور کھیل نہ بنائو ۔ ہزل کا یہ مطلب ہے کہ لفظ تو ارادے سے کہے اور مقصود یہ ہو کہ اس لفظ کا اثر واقع نہ ہو ۔ طلاق ، عتاق اور نکاح میں ہزل کو شریعت نے جد کے قائم مقام کردیا ہے۔ یعنی اگر ہنسی میں بھی کہو گے تو طلاق واقع ہوجائے گی ۔ اسی طرح نکاح اور عتاق کو سمجھنا چاہئے۔
بعض روایات میں رجعت کا لفظ بھی آیا ہے۔ بعض میں بجائے عتاق کے رجعت ہے، لیکن ترمذی میں صرف طلاق عتاق اور نکاح کو فرمایا ہے۔ ہمارے زمانے میں جو فتنوں کا زمانہ ہے ۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ غصے میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، حالانکہ یہ بھی غلط ہے ۔ آیات الٰہی کو مذاق بنانے کا ۔
بعض حضرات نے یہ مفہوم لیا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت بغیر تدبیر اور غور و فکر کی جائے اور بدون خشوع اور خضوع کے قرآن کو پڑھنے اور تلاوت کے آداب کی رعایت نہ کرے تو یہ بھی آیات الٰہی کا مذاق ہے ۔ کتاب سے مراد یہاں قرآن ہے۔ جیسا کہ ہم نے تیسیر میں عرض کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات بیشمار ہیں ۔ عام انعامات کے ساتھ خصوصی احسان کا ذکر فرمایا ۔ قرآن و حکمت کا نزول بندوں پر روحانی اور باطنی احسان ہیں۔
حکمت کی تفسیر ہم اوپر بیان کرچکے ہیں ۔ علمائے سلف تو حکمت کے معنی سنت کرتے ہیں۔ یعنی قرآن و سنت کے احسان کو یاد کرو اور اسرار قرآنی بھی ہوسکتے ہیں اور احکام قرآن کی علتیں اور مصلحتیں بھی ہوسکتی ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کے کلمات طیبات اور ان کے غوامض و اسرار بھی ہوسکتے ہیں ، چونکہ آیت میں بعض امور قبیحہ سے ممانعت فرمائی تھی ۔ اس لئے آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس بات کو سمجھ لو کہ اسے ہر بات کی خبر ہے وہ تمہاری نیت اور تمہارے ارادوں سے بخوبی واقف ہے۔ اگر عورتوں کو ضرر پہنچانے کی غرض سے رجوع کرو گے اور احکام الٰہی کا مذاق اڑائو گے تو وہ تم کو سخت سزا دے گا اور تمہارے اعمال پر شدید مواخذہ کرے گا ۔ ( تسہیل)
Ayah 2:232ف 2۔ اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کے وقت پر پہنچ جائیں یعنی عدت کی معیاد پوری کرلیں تو تم ان کو اس امر سے نہ روکو کہ وہ اپنے تجویز کردہ خاوندوں سے نکاح کرلیں جب کہ وہ عورتیں اور وہ ہونے والے شوہر سب آپس میں شرعی دستور کے موافق رضا مند ہوں اور حکم مذکور کے ذریعہ تم میں سے ہر اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخر ت پر یقین رکھتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور وقوع قیامت کا معتقد ہو ۔ اس نصیحت پر عمل کرنا اور اس نصیحت کو قبول کرنا بڑی صفائی اور بہت زیادہ پاکیزگی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے احکام کی مصالح کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اس لئے اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلے میں اپنی رائے اور اپنی مصلحت کو ترجیح نہ دیا کرو بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے حکم پر عمل کیا کرو اور اس کی نصیحت کو قبول کیا کرو۔ ( تیسیر)
اس آیت کے نزول کا تعلق بھی اسی قسم کے ایک واقعہ کے ساتھ ہے ۔ معقل بن لیسار کی ہمشیرہ جن کا نام جمیلہ ہے۔ عاصم بن عدی کے نکاح میں تھی ۔ سوئے اتفاق سے ان کے خاوند نے طلاق دے دی ۔ طلاق یا تو بائنہ ہوگی یا رجعی ہوگی تو عدت پوری ہوچکی ہوگی ۔ بہر حال عاصم نے چاہا کہ پھر جمیلہ سے نکاح کرے اس پر معقل بن یسار ؓ نے جمیلہ کو ایسا کرنے سے روگا ۔ اس پر حضرت حق کی جانب سے ایک خاص ضابطہ اور قانون نافذ کیا گیا ۔ نیز زمانہ جاہلیت میں اس قسم کا ایک لغو دستور تھا کہ جب عورت عدت پوری کرنے کے بعد کسی شخص سے نکاح کرنا چاہتی تو عورت کا پہلا شوہر محض عصبیت کی بنا پر مزاحمت کرتا اور عورت کو نکاح نہ کرنے دیتا یا کبھی ایسا ہوتا کہ طلاق بائنہ کے بعد اگر عورت اپنے پہلے ہی خاوند سے نکاح کرنا چاہتی تو عورت کے اولیاء مانع ہوتے کہ ہم پہلے شوہر سے نکاح نہ کرنے دیں گے۔ جیسے معقل بن یسار نے اپنی بہن جمیلہ کو روکا کہ پہلے خاوند سے نکاح نہ کر۔ اسی طرح عورت کی آزادی اور اس کے حق خود ارادیت میں مداخلت ہوتی تھی ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اس تمہید کی روشنی میں جو ہم نے عرض کی ہے آیت کا مطلب سمجھئے جو حسب ذیل ہے۔
1۔ تم نے عورت کو طلاق دے دی اور وہ اپنی عدت بھی پوری کرچکی تو اب اسکو اختیار ہے کہ وہ جس شوہر سے چاہے اپنا نکاح کرلے اگر پہلے نے تین طلاقیں دے دی ہوں تو پہلے سے نہیں بلکہ کسی دوسرے سے نکاح کرنا چاہے تو کرلے اور جس سے وہ نکاح کرنا چاہتی ہے وہ عورت اور یہ ہونے والا شوہر باہر قاعدہ شرعیہ کے موافق رضا مند بھی ہوں یعنی عقد صحیح کرنا چاہتے ہوں ۔ مہر بھی مناسب مقرر ہو اور گواہوں کے سامنے نکاح ہو اور حقوق زوجیت کے پورا کرنے کا التزام بھی ہو اور باہم حسن سلوک کے ارادے ۔۔۔ سے نکاح کرتے ہوں تو ایسی حالت میں نہ تو پہلے خاوند کو مزاحمت کا حق ہے کہ وہ یہ کہہ کر عورت کو روکے کہ میں کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرنے دوں گا اور نہ عورت کے اولیاء کو یہ حق ہے کہ وہ مزاحمت کریں گے اور یہ کہہ کر روکیں کہ ہم تو پہلے خاوند سے نکاح نہ کرنے دیں گے۔
2۔ عضل کے معنی ہیں معنی کرنا ، روکنا ، تنگ کرنا ، یہاں مراد ہے عورتوں کو نکاح سے روکنا۔
3۔ بعض لوگوں نے طقتم میں مخاطب ازدواج کو ٹھہرایا ہے اور تعضلوہن میں مخاطب اولیاء کو قراردیا ہے، حالانکہ اقعات و حالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مزاحمت خاوندوں کی جانب سے بھی ہوتی تھی اور اولیاء کی جانب سے بھی ہوتی تھی اور آیت کے عموم کا مقتضا بھی یہی ہے کہ یہ تمام صورتوں کو شامل ہونا چاہئے۔ نیز اس طرح کہ ایک جگہ خطاب خاوندوں کو ہو اور دوسری جگہ خطاب عورت کے اولیاء کو ہو انتشار ضمائر لازم آتا ہے اس لئے مناسب یہ ہے کہ خطاب کو دونوں جگہ عام رکھا جائے جیسا کہ بعض مفسرین نے اس کی تصریح کی ہے اور جیسا ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں ا س کا لحاظ رکھا ہے ورنہ تعضلوہن میں خطاب عام رکھنا چاہئے تا کہ ہر مزاحمت کرنے والے کو ممانعت شامل ہو سکے۔
4۔ البتہ اگر عورت غیر کفو میں نکاح کرے یا عدت پوری ہونے سے قبل کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے یا تین طلاقوں کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کرے یا مہر مثل سے کم مہر مقرر کرے تو دلی کو روکنے کا حق ہے اور اگر عورت اپنی ناسمجھی سے ایسا کرے تو ولی کو یہ بھی حق ہے کہ وہ کسی مسلمان حاکم اور قاضی سے نکاح فسخ کرا دے۔
5۔ اس لئے حضرت حق جل مجدہ ٗ نے تراضوا بینھم کے ساتھ معروف کی قید بیان فرمائی ہے ، تا کہ جو صورتیں معروف کے خلاف ہوں اس میں روکنے کا حق اولیاء کو ہر مسلمان کو باقی رہے گا ۔ مثلاً کوئی عورت بغیر گواہوں کے نکاح کرنے لگے یا کسی ذی رحم محرم سے نکاح کرنے پر آمادہ ہوجائے یا نا بالغہ بدون ولی کی اجازت کے نکاح کرنے لگے تو ایسے نکاح شرعا ً باطل ہیں اور ان کو روکنے کا ہر مسلمان کو حق ہے، خواہ وہ ولی ہو یا غیر ولی ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ نکاح میں کوئی شرعی نقص نہ ہو اور جانبین کی باہمی رغبت ہو اور لڑکی اور لڑکا رضا مند ہوں تو اس میں مزاحمت کرنا اور روکنا موجب فتنہ اور موجب خطرات ہے اسی لئے فرمایا اس سے باز رہو یہ بات تمہارے لئے بہت صفائی اور پاکیزگی کی بات ہے اور کسی معصیت میں مبتلا ہونے سے حفاظت ہے یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں ۔ عام طور پر مسلمان ان تمام نزاکتوں کو سمجھتے ہیں جن کی طرقرآن کریم نے اپنے خاص انداز میں ارشاد فرمایا اور سبحان اللہ کیا خوب ارشاد فرمایا ہے۔ ہم نے ازکی کا ترجمہ صفائی کیا ہے۔
بعض حضرات نے اس کا ترجمہ زیادہ نافع کیا ہے جب کھیتی بڑھتی ہے اور اس میں نموہوتا ہے تو عرب کہتے ہیں ز کا الزاع ۔ اس محاورے سے یہ معنی کئے گئے ہیں ۔ بہر حال صفائی کیا جائے یا نافع کیا جائے مطلب میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور یہ جو فرمایا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ نصیحت کرنے کے اہل ہیں اور ان ہی سے توقع ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نصائح کو قبول کریں گے اور ان سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حکم ہے عورتوں کے والیوں کو کہ اسکے نکاح میں اسی کی خوشی رکھیں جہاں وہ راضی ہو وہاں کردیں اگرچہ اپنی نظر میں اور جگہ بہترمعلوم ہو۔ ( موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے نہایت اختصار کے ساتھ چند الفاظ فرمائے ہیں اور جو کچھ فرمایا ہے خوب فرمایا ہے عوام کے لئے اتنی ہی ضرورت تھی۔ ( تسہیل)
Ayah 2:233ف 1۔ اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں خواہ یہ مائیں مطلقہ ہوں یا نکاح میں ہوں یہ کامل دو سال کی مدت اس کے لئے ہے جو شیر خوارگی اور رضاعت کا پورا کرنا چاہے اور اس شیر خوارگی کی تکمیل مقصود ہو اور شرعا ً جس کا وہ بچہ ہے اس کے ذمہ ان مائوں کا مناسب دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی شخص کو مکلف نہیں کیا جاتا اور کوئی حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کا وسعت اور بساط کے موافق چونکہ عورتوں کو دودھ پلانا آسان ہے اور مردوں کی عورت کا خرچہ اٹھانا سہل ہے۔ اس لئے دونوں کو وسعت کے قابل ہر ایک کو حکم دیا گیا نہ کسی ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور نہ کسی مولودہ یعنی باپ کو اس کے بچہ کی وجہ سے ضرر اور نقصان پہنچایا جائے اور اگر کسی بچہ کا باپ زندہ نہ ہو تو بچہ کا جو محرم وارث ہو اس کے ذمہ اسی کے مثل حکم ہے اور اگر چند وارث ہوں تو پھر ایک کے ذمہ اپنے اپنے ورثہ کی رقم کے موافق خرچ کی ذمہ داری ہے۔ یعنی بچہ کے مرنے کے بعد جو اس کے وارث بنتے ہوں ان پر بچہ کی پر وش کا حق ہے پھر اگر دونوں ماں باپ آپس کی رضا مندی اور آپس کے مشورے سے دو سال سے کم ہیں دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر ایسا کرنے میں کوئی گناہ نہیں اور اگر تم اپنی اولاد کو ماں کے علاوہ کسی اور انا سے دودھ پلوانا چاہو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کو ان کا وہ حق قاعدے اور دستور کے موافق ادا کردو اور ان کے حوالے کردو جو تم نے ان کو دینا کیا تھا یعنی جو اجرت ان سے طے ہوئی ہے وہ قاعدے کے موافق خواہ پہلے خواہ پہلے ان کے حوالے کردو اور اللہ تعالیٰ سے اس کے احکام کے بارے میں ڈرتے رہو اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ ( تیسیر)
چونکہ اوپر کی آیتوں میں عورتوں کی طلاق اور عدت وغیرہ کا ذکر تھا اسی کی مناسبت سے رضاعت کا ذکر بھی فرمایا کیونکہ عام طور سے طلاق کے قصے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ شیر خواہ بچوں کا کیا ہوگا ان کو ماں دودھ پلائے گی یا مرد کوئی انتظام کرے گا ۔ اسی قسم کے امور کے متعلق ایک مستقل ضابطہ ارشاد ہوتا ہے اور بچہ کی ماں چونکہ بچہ کی تربیت اور اس کی اصلاح وغیرہ کی اپنی مامتا اور کمال شفقت کے باعث زیادہ نگرانی کرسکتی ہے اس لئے اسکو مقدم فرمایا اور اس کو ترجیح دی اور اسکے استحقاق کو ظاہر فرمایا اور حکم دیا کہ مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلایا کریں ۔ یہ حکم استحبابی ہے بعض لوگوں نے اس حکم کو وجوبی قرار دیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دیاستہ ً یہ حکم وجوبی ہو اور کوئی عورت بلا کسی عذر اور مجبوری کے دودھ پلانے سے انکار کرے تو آخرت میں اس سے باز پرس ہو ، لیکن قضاء اس کو مجبور نہیں کیا جائے گا اور قاضی اس کو دودھ پلانے پر مجبور نہیں کرے گا کہ وہ ضرور دودھ پلائے مگر ہاں خاص خاص صورتوں میں جبر کیا جائے گا جن کو ہم آگے عرض کریں گے۔
1۔ دودھ پلانے کی حالت میں باپ کے ذمہ کھانے اور کپڑے کا ذکر فرمایا تا کہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ جس طرح عورت کو دودھ پلانا ضروری ہے اسی طرح اس شخص پر جس کے لئے بچہ جنا جاتا ہے یعنی باپ پر عورت کا کھانا کپڑا واجب ہے اور ظاہر ہے کہ عورت کا کھانا کپڑا دو صورتوں میں مرد پر واجب ہوتا ہے ایک جبکہ عورت نکاح میں ہو اور دوسرے جبکہ وہ عدت میں ہو اور انہی دو صورتوں میں ماں کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو وہی دودھ پلائے کیونکہ اگر وہ نہ بچہ کے باپ کے نکاح میں ہو اور نہ باپ کی عدت میں ہو پھر تو وہ ایک اجنبی عورت کے حکم میں ہوگی اور اگر وہ دودھ پلائے گی تو اس کو دودھ پلانے کی اجرت دی جائے گی اور بچہ کا باپ اس کو دودھ پلانے کی مزدوری دے گا نہ یہ کہ اس کے کھانے کپڑے کا ذمہ دار ہوگا اور جب ان دونوں مذکورہ حالتوں میں کہ عورت نکاح میں ہو یا عدت میں پہلے ہی سے نان و نفقہ واجب ہے پھر رضاعت کو نا ن و نفقہ کے ساتھ مقید فرمانا شاید اس غرض سے ہو کہ عورت کا نان و نفقہ تو اسکی خدمت اور پابندی کی وجہ سے مرد پر لازم ہوتا ہے اور جب وہ بچہ کو دودھ بھی پلائے گی تویقیناخدمت میں کوتاہی ہوگی جب کہ وہ نکاح میں ہو اور اگر عدت میں ہو تو پابندی کے ساتھ ایک شغل کا اضافہ ہوگا ۔
لہٰذا یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اب نان و نفقہ میں بھی کمی ہونی چاہئے کیونکہ دودھ پلانے کی وجہ سے عورت خدمت میں کوتاہی کر رہی ہے یا نان و نفقہ کے ساتھ دودھ پلانے کی اجرت بھی دینی چاہئے کیونکہ عدت کی حالت میں ایک ذمہ داری بڑھا دی گئی ہے۔
اس مصلحت سے فرمایا کہ نان و نفقہ کا وجوب بدستور رہے گا منکوحہ کے کھانے کپڑے میں کمی نہیں ہوگی اور معتدہ جب تک عدت میں ہے اس کو نان و نفقہ کے علاوہ کوئی اجرت لینے کا حق نہ ہوگا کیونکہ ان دونوں حالتوں میں عورتوں پر بھی دیانتا ً دودھ پلانا واجب ہے۔
2۔ پورے دو سال کو ارادے کے ساتھ مقید فرمایا تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کوئی اس مدت کی تکمیل نہ کرنی چاہے تو پہلے بھی چھڑا سکتا ہے جیسا کہ آگے آجائے گا ۔ باقی دو سال سے زیادتی تو وہ یہاں مسکوت عنہ ہے ، کیونکہ یہاں اس مدت کا ذکر کرنا مقصود ہے۔ جس مدت تک ماں کو دودھ پلانا اور باپ کو دودھ پلوائی دینے کا تعلق ہے ۔ کھانے کپڑے کے ساتھ بالمعروف فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ دودھ پلانے کے زمانے میں جس قسم کے کھانے کپڑوں کا دستور ہو یا جو حاکم اپنی رائے سے دونوں کی حالت دیکھ کر مقرر کر دے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت و وسعت سے زیادہ بار نہیں ڈالتا ۔ اس کے جس قدر احکام ہیں خواہ وہ عورت کے لئے ہوں یا مرد کے لئے ہوں یا جوان کے لئے ہوں یا بوڑھے کے لئے بیمار کے لئے ہوں یا تندرست کے لئے ، غربت کے لئے ہوں یا مالدار کے لئے ہر شخص کے حسب حال اور اس کی حالت کے مناسب ہیں وہ کسی شخص کو ایسا حکم نہیں دیتا جو اس کی بساط اور طاقت سے زیادہ ہو ، ہم نے تیسیر میں اس مقام کی مناسبت سے تفسیر کردی ہے ورنہ آیت کا مفہوم عام ہے۔
3۔ اگر عورت کی عدت پور ی ہوچکی ہو اور نکاح کا کوئی تعلق باقی نہ رہا ہو تب عورت کو یہ حق ہے کہ وہ مرد سے دودھ پلانے کی اجرت طلب کرے خواہ انکار کر دے اس پر قضاء ً کوئی جبر نہیں کیا جائے گا البتہ اگر بچہ کسی او عورت کے دودھ کو منہ ہی نہ لگائے یا کوئی انا ہی نہ ملے اور بازار کا دودھ بچہ کو مضر ہوتا ہو تو بچہ کی ماں کو دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا۔
4۔ اسی طرح اگر عورت دودھ پلانے پر رضا مند ہو اور اجرت بھی مناسب طلب کرتی ہو ، یعنی اتنی ہی اجرت جو عام سے انائیں لیتی ہیں اور عورت کے دودھ میں کوئی خرابی بھی نہ ہو تو اس کا حق فائق ہوگا اور مرد کو یہ حق نہ ہوگا کہ وہ انا کو ترجیح دے اور ماں کو چھوڑ کر انا سے دودھ پلوائے۔
5۔ ہاں اگر عورت کے دودھ میں خرابی ہو اور بچے کو نقصان پہنچتا ہو تو بیشک باپ کو حق ہوگا کہ وہ بجائے ماں کے کسی انا سے دودھ پلوائے اور ماں کو نہ پلانے دے اسی طرح اگر ماں انا سے زیادہ اجرت مانگتی ہو تو باپ کو اس زیادتی کے قبول کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا اور اس کو یہ حق ہوگا کہ وہ انا سے دودھ پلوائے اور ماں کو زیادہ اجرت نہ دے اور ایسی حالت میں جب باپ زیادہ اجرت مانگنے کی وجہ سے بچے کو ماں کی بچائے انا سے دودھ پلوائے اور ماں یہ مطالبہ کرے کہ بچے کو میرے پاس رکھا جائے تو انا کو اس کے پاس رکھ کر دودھ پلوانا ہوگا ۔
غرض لا تضاروالدۃ بولدھا ولا مولودلہ بولدہ کا مفہو م اس قدر عام ہے کہ اس میں ہر ایک کو ضرر سے بچانے کی رعایت رکھی گئی ہے اور ہر جہت سے خیال رکھا گیا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ بچے کی صحیح پرورش ہو ۔ اس کو اچھا دودھ دیا جائے اور باپ کو یا ماں کو کسی طرح ضرر نہ پہنچے اور نہ کسی کا حق تلف ہو ، ہم نے چند صورتیں عرض کردی ہیں ۔ مزید تفصیلات کتب فقہ میں مذکور ہیں۔
6۔ اگر بچہ کا باپ مرجائے اور بچہ مالدار ہو تو اس کی پرورش اس کے مال میں سے کی جائے گی ۔ اور اس کی پرورش کے اخراجات اس کے مال میں سے ادا کئے جائیں گے لیکن باپ کی عدم موجودگی میں بچہ کا کچھ مال بھی نہ ہو تو پھر اس کے وارث پر ذمہ داری عائد ہوگی اور اس وارث کو مثل باپ کے سمجھا جائے گا ۔
جیسا کہ ہم نے تیسیر میں تھوڑی سی تصریح کی ہے۔
7۔ وارث سے مراد یہ ہے کہ بچہ کے مرنے کے بعد جو اس کے شرعاً وارث ہوتے ہیں مگر وارث کے ساتھ محرم کے شرط ہے ۔ محرم کا مطلب یہ ہے کہ اس بچہ میں اور اس وارث میں ایسا رشتہ ہو کہ اگر دونوں میں سے ایک کو مرد اور دوسرے کو عورت فرض کریں تو دونوں کا آپس میں نکاح حرام ہو ، مثلاً بھائی یا چچا دادا یا بہن یا ماں غر ض اس کی ورثہ بھی پہنچتا ہو اور محرم بھی ہو خواہ ذی رحم ہو یا نہ ہو اور خواہ وہ وارث مرد ہو یا عورت ہو۔
بہر حال بچہ کی پرورش کا حق ایسے وارث مذکور کو برداشت کرنا ہوگا۔
8۔ اور اگر چند وارث ہوں تو سب پر حصہ رسدی خرچہ پڑے گا ۔ یعنی جیسا ورثہ ویسا خرچہ ، فرض کرو اگر بچہ مال دار مرتا تو ایک وارث اس کے مال میں سے ایک ثلث کا حقدار ہوتا ، یا ایک چوتھائی کا حقدار ہوتا تو بچہ کی پرورش کا خرچہ بھی اسی نسبت سے ان پر عائد ہوگا ۔ فرض کرو ایک بچہ کا ماں ہے اور اس کا دادا بھی ہے دونوں اس بچہ کے وارث بھی ہیں اور محرم بھی ہیں ۔ ماں ایک ثلث ورثہ کی اور دادا دو ثلث ورثہ کا حقدار ہے ، لہٰذا پرورش کا خرچہ بھی ماں پر ایک ثلث اور دادا دو ثلث ڈالا جائے گا ۔
9۔ اگر ماں باپ چاہیں تو باہمی مشورے اور رضا مندی سے دو سال سے کم میں بھی دودھ چھڑا سکتے ہیں کمی کی گنجائش ہے البتہ زیادتی میں دو سال یا ڈھائی سال کی تجدید ہے علی اختلاف القولین معینہ مدت سے آگے بڑھنا حرام ہے۔
01۔ اگر کسی مصلحت سے تم اپنی اولاد کو انا ہی سے دودھ پلوانا چاہو تو پلوا سکتے ہو، جبکہ جو کچھ تم نے اس کو دنیا کیا ہو وہ اس کو دستور کے مطابق دے دو اور مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ماں سے جو حق ٹھہرا تھا اور جو کچھ اس کو دنیا کیا تھا وہ قاعدے کے موافق بچہ کی ماں کو ادا کردو یہ نہ کرو کہ اس کا حق اور اس کی اجرت تو ادا نہ کرو اور بچہ انا کو دے دو ، یہ شرط و جو بی نہیں ہے کہ بدون اس کے دودھ پلوانا جائز نہ ہو بلکہ بہتر یہ ہے کہ اور معاملہ کی صفائی کا تقاضا یہ ہے کہ جو کسی سے دنیا کیا ہو وہ دے دو ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر ماں کا کچھ حق ہو تو اس کو معروف کے ساتھ ادا کردو ۔ اور انا سے کچھ ٹھہرایا ہو تو وہ اس کو معروف کے ساتھ اداکر دو اور خوش معاملگی کے ساتھ انا کی اجرت انا کو دے دو خواہ پہلے یا پیچھے جو اس سے طے کیا ہو ۔
11۔ بعض حضرات نے بالمعروف کو اتیتم سے متعلق کیا ہے ۔ اب مطلب یہ ہوگا کہ جو انا کو دستور کے مطابق دینا کیا تھا ۔ یعنی معروف سے مراد ہے کہ معاملہ صاف ہونا چاہئے ۔ وہ کھانے اور کپڑے پر تمہارے بچہ کو دودھ پلائے گی یا نقد لے گی یا دونوں اور نقد لے گی تو کیا لے گی ۔ کھانا لے گی تو کیسا لے گی ۔ غرض یہ سب باتیں واضح طور پرلے ہونی چاہئیں ۔ ( واللہ اعلم الصواب)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر مرد اور عورت میں طلاق ہوئی اور لڑکا رہا دودھ پیتا تو ماں دو برس بند رہے اس کے دودھ پلانے کو اور باپ اس کا خرچ اٹھا دے اور اگر باپ مرگیا تو لڑکے کے وارث اس کا خرچ اٹھاویں اور جو دو برس سے کم میں چھڑا دیں اپنی خوشی سے تو بھی روا ہے اور باپ کسی اور سے پلوا لے ماں کو بند نہ رکھے تو بھی روا ہے لیکن اس کے بدلے میں ماں کا کچھ حق نہ کاٹ رکھے۔ (موضح القرآن)
آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں کسی نے آیت کو صرف مطلقہ عورتوں کے ساتھ مخصوص رکھا ہے کسی نے منکوحہ اور معتدہ وغیرہ کو عام رکھا ہے۔ لا تضاد کا ترجمہ کسی نے بنا پر فاعل کیا ہے اور کسی نے بنا بر مفعول کیا ہے۔ اسی طرح و علی الوارث مثل ذالک میں بھی کئی قول ہی۔
وتشاور کا بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر دو سال سے قبل دودھ چھڑانے پر میاں بیوی رضا مند ہوجائیں تو اطباء سے مشورہ کرلیں تا کہ بچے کو ضرر نہ ہو۔ (تسہیل)
Ayah 2:234ف 2۔ اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور وفات پاجائیں اور وہ مرنے والے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں یعنی مرنے والوں کی ہوائیں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن نکاح اور بنائو سنگار وغیرہ سے روکے رکھیں اور اپنے آپ کو اس مدت تک انتظار میں رکھیں پھر جب وہ بیوائیں اپنی میعاد عدت کو پوراکر لیں اور اپنی عدت ختم کرلیں تو وہ عورتیں اپنے متعلق ضابطہ شرعی کے موافق جو کارروائی کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سب سے با خبر ہے اور اس سب کی پوری طرح خبر رکھتا ہے۔ ( تیسیر)
اوپر طلاق کی عدت تین حیض فرمائے تھے ۔ اسی سلسلے میں بیوہ کی عدت کا بھی ذکر فرمایا مطلقہ عورت کی عدت کے بیان میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ اس عدت کی بڑی وجہ استبراء رحم ہے تا کہ حمل کا معاملہ صاف ہوجائے اور نسب میں کسی قسم کی غلطی واقع نہ ہو ۔ یہاں بھی یہی مقصود ہے ، نیز یہ عدت اس غم اور افسوس کو بھی شامل ہے جو خاوند کے مرجانے سے عورت کو پیش آتا ہے اور نکاح جیسی نعمت کے چھن جانے سے جو صدمہ ہوتا ہے ۔ اسی بناء پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی عورت جو اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور قیامت کے دن کا یقین رکھتی ہے اسکو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی مردے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن سوگوار رہے اگرچہ نکاح کی نعمت سے محرومی تو طلاق میں بھی ہوتی ہے لیکن طلاق میں میاں بیوی کو کچھ نہ کچھ دخل ہوتا ہے اور موت کی وجہ سے جو نعمت سلب ہوتی ہے اس میں کسی کو بھی دخل نہیں ہوتا ۔ اس لئے شاید یہاں عدت کی میعاد طلاق کی مدت سے زائد کھی ہو اور چونکہ طلاق میں خاوند زندہ ہوتا ہے ۔ اس لئے استبراء رحم کے لئے تین حیض رکھے اور یہاں چونکہ خاوند موجود نہیں ہوتا جو استبراء رحم کے معاملہ میں ایک واقف کار اور رازوں فریق ہوتا ہے اس لئے عدت کی میعاد کو زیادہ رکھا ہو اور چونکہ اس عدت میں استبراء رحم کے ساتھ عورت کے سوگ کی بھی رعایت ہے۔ اس لئے سوائے حاملہ کے یہ مدت ہر بیوہ کے لئے مقرر ہے خواہ وہ صغیرہ یا غیر مدخول بہا ہی کیوں نہ ہو۔ ( واللہ اعلم)
بمصالح احکام حاملہ کی بحث انشاء اللہ سورة طلاق میں آئے گی۔
1۔ اپنے نفس کو روکے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس مدت میں نہ کسی سے نکاح کریں نہ کسی سے صاف اور کھلے الفاظ میں نکاح کی بات چیت کریں ، نہ بنائو سنگار کریں ۔ جیسے خوشبو لگانا ۔ مہندی لگانا ۔ سرمہ لگانا ۔ زیور پہنچا، رنگے ہوئے کپڑے پہننا ۔ بلا ضرورت گھر سے نکلنا۔ یہ سب باتیں عدت میں ناجائز ہیں اور اگر بیوہ عورت کسی ضرورت کی وجہ سے مثلاً نادار ہو اور محنت مزدوری کو گھر سے نکلے تب بھی شام کو اسی مکان میں آ کر سوئے جس میں وہ عدت گزار رہی ہو اور عدت میں جو باتیں بیوہ کو ممنوع ہیں وہی باتیں اس عورت کو ممنوع ہیں جو طلاق بائنہ کی عدت گزار رہی ہو وہ بھی تین حیض تک نہ بنائو سنگار کرے اور نہ گھر سے نکلے اور اگر کسی مجبوری سے گھر چھوڑنا پڑے تو جس گھر میں جا کر بیٹھے وہاں ان تمام امور کی پابندی کرے یہ نہ سمجھے کہ اب گھر سے نکل آئی تو بس عدت ختم ہوگئی۔
2۔ چار مہینے دس دن کا مطلب یہ ہے کہ ایک سو تیس دن کی مدت ہے، مگر ہاں اگر کسی عورت کا خاوند چاند رات کے دن مرا ہو تو پھر چاند کے حساب سے عدت پوری کی جائے خواہ کوئی چاند انتیس کا ہو یا تیس کا ، لیکن اگر چاند رات کو نہیں مرا کسی اور تاریخ کو مرا ہے تو ایک سو تیس دن پورے کرنے ہوں گے۔
عدت ختم ہونے کا وہی وقت ہوگا جو خاوند کے دم نکلنے کا وقت ہے۔
3۔ آیت زیر بحث میں بالمعروف کا مطلب یہ ہے کہ شرعی طریقہ سے نکاح کریں ۔ نکاح صحیح کریں ۔ مہر مناسب ہو ، رشتہ کفو میں ہو تو کسی کو ان کے حق ارادیت میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔
جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں ایک بالغہ عورت کو جو حق دیا ہے اگر وہ اس کو شرعی قاعدے کے موافق استعمال کرتی ہے تو کسی کو روکنے اور دخل دینے کی اجازت نہیں ہے البتہ اگر وہ اس حق کو ضابطہ شریعۃ کے خلاف استعمال کرنے لگے۔ مثلاً جس نے نکاح حرام ہے وہ اس سے نکاح کرنے لگے یا بغیر گواہوں کے نکاح کرے تو بیشک حکام کو یا عورت کے سے پرستوں کو بلکہ ہر مسلمان کو حسب استطاعت روکنے کا حق ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ۔ طلاق کی عدت تین حیض فرمائی اور موت کی عدت چار مہینے دس دن ، یہ دونوں جب ہیں کہ حمل معلوم نہ ہو اور اگر حمل معلوم ہو تو حمل تک ( موضح القرآن)
اب آگے ان ہی عورتوں کے متعلق ایک مسئلہ اور بیان فرماتے ہیں جس کی طرف ہم اوپر کی سطروح میں اشارہ کرچکے ہیں۔ ( تسہیل)