2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsکشف الرحمٰن

Ayahs 2:219–220

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

لوگ آپ سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں لیکن ان دونوں کا گناہ ان کے فائدہ سے بہت بڑھا ہوا ہے اور لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا خیرات کیا کریں آپ فرما دیجئے جو ضرورت سے فاضل ہو اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنے احکام کو صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کیا کرو

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

دنیا اور آخرت کے معاملات میں اورل وگ آپ سے یتیموں کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے بہر صورت ان کے حال کی اصلاح کرنا بہت بہتر ہے اور اگر تم ان کے خرچ کو شامل کرلو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ تعالیٰ بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے الگ پہچانتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم کو مشقت میں ڈال دیتا یقینا اللہ تعالیٰ کو ہر بات پر غلبہ حاصل ہے اور ہر کام کی حکمت معلوم ہے2

ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ لوگ آپ سے شراب اور جوئے کی بابت دریافت کرتے ہیں اور آپ سے ان دونوں چیزوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے اور ان کو جواب دے دیجئے کہ شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے یعنی ان دونوں کی وجہ سے انسان بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ہاں ! لوگوں کے لئے ان میں کچھ فائدے اور منافع بھی ہیں مگر ان دونوں کی وجہ سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے وہ گناہ ان کے نفع اور ان کیف ائدوں سے بڑھے ہوئے ہیں اور چونکہ فوائد سے خطرات بڑے ہیں اس لئے یہ دونوں ترک کردینے کے قابل ہیں اور اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کیا کریں اور کس قدر خرچ کیا کریں آپ ان سے فرما دیجئے جو ضرورت سے فاضل ہو اور جس کا خرچ کرنا سہل اور آسان ہو اللہ تعالیٰ اپنے احکام کو تمہارے لئے اسی طرح واضح اور صاف صاف بیان فرماتا ہے کہ تم دنیا اور آخرت کے معاملات میں ان احکام کو سوچ لیا کرو اور ان پر غور کرلیا کرو اور سوچ سمجھ کر ہمارے بیان کردہ احکام کے موافق عمل کیا کرو۔ اور اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے یتیموں یعنی بن باپ کے بچوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور ان کے مال اور ان کی نگرانی وغیرہ کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے کہ بہرحال ان کے مال اور ان کی حالت کی سنوار اور اصلاح بہت بہتر ہے یعنی بہر صورت یتیموں کے مصالح کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اور اگر بعض دشواریوں کی وجہ سے ان کے مال اور ان کا خرچ اپنے خرچ کے ساتھ شریک کرلو اور ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مال کو برباد کرنے خورد برد ک رنے والے کو اور ان کی اصلاح اور درستی اور ان کے مال کی حفاظت کرنے والے کو الگ الگ جانتا اور پہچانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو قانون کی سختی سے تم کو مشقت اور مصیبت میں ڈال دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست ہے اس لئے ایسا کرسکتا ہے اور چونکہ وہ بڑا صاحب حکمت ہے اس لئے ایسا نہیں کیا اور قانون کو نرم رکھا۔ (تیسیر) شراب اور جوئے کے مفاسد لوگ روز دیکھتے تھے اور جب تک ان کی ممانعت نازل نہیں ہوئی تھی لوگ شراب پیتے اور جوا کھیلتے تھے لیکن بعض سلیم الطبع حضرات ان کی خرابیوں کو محسوس کرتے تھے چناچہ حضرت عمر ؓ دعا فرماتے تھے اللھم بین لنا فی الخمر بیانا شافیاً یعنی یا اللہ شراب کے بارے میں ایسا بیان نازل فرما جو شافی ہو پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس کے بعد بھی حضرت عمر ؓ نے یہی دعا کی اس کے بعد یا یھا الذین اٰمنو الا تقربوا الصلوۃ کی آیت نازل ہوئی پھر بھی حضرت عمر ؓ نے یہی دعا کی پھر جب ساتویں پارے کی آیت نازل ہوئی تب حضرت عمر ؓ نے فرمایا انتھینا انتھینا یعنی ہم نے ترک کردی اور ہم باز آگئے۔ بہر حال جوئے کے نقصانات اور شراب کی خرابیوں کو دیکھ کر یہ سوال مسلمانوں نے کیا تھا اس پر جو جواب دیا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جوا اور شراب بالذات خواہ گناہ نہ ہوں لیکن یہ دونوں بڑے بڑے جرائم اور گناہ کی بڑی بڑی باتوں کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور انسان کے افعال ہی کو گناہ اور ثواب سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ان ہی پر حلال و حرام کا حکم لگتا ہے ورنہ کسی شے کی ذات اور عین کو گناہ نہیں کہا جاتا اس لئے فرمایا فیھا اثم کبیر یعنی ان دونوں ک ے استعمال سے روکنے والی ہے جب عقل ہی جاتی رہی تو پھر معاصی کا کیا ٹھکانا ہے زنا اور قتل وغیرہ سب اسی شراب ہی کی پیداوار ہیں اسی طرح جوئے سے مال کی محبت اور حرص اور لالچ پیدا ہوجاتا ہے پھر انسان مال حاصل کرنے کے اور ناجائز طریقے اختیار کرلیتا ہے۔ رہے منافع تو وہ بھی ظاہر ہیں شراب میں طاقت اور سرور وغیرہ حاصل ہوتا ہے جوئے میں جیتنے کی خوشی اور حصول مال کی لذت میسر ہوتی ہے بلا مشقت مال مل جاتا ہے لیکن مفاسد زیادہ اور منافع کم ہیں جو نفع ہوتا ہے اس کے مقابلہ میں جن گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے وہ بہت زیادہ ہیں اگرچہ آیت میں صراحتہً حرمت کا حکم نہیں ہے لیکن جس پہلو سے نفع اور نقصان کا مقابلہ فرمایا اس سے یہ معلوم ہوا کہ ترک پسندیدہ ہے کیونکہ جس چیز کا نفع باقی رہنے والا نہ ہو ضرر دیرپا اور باقی رہنے والا ہو اس کا ترک ہی بہتر ہے۔ چناچہ اس آیت کو سن کر بعض مسلمانوں نے تو اسی وقت ان دونوں کو ترک کردیا اور بعض نے یہ خیال کرکے کہ حرام تو فرمایا نہیں البتہ ان کے ضرر اور مفاسد سے مطلع کیا ہے تو آئندہ احتیاط سے کام لیں گے اس خیال سے ان دونوں کو ترک نہیں کیا جوئے اور شراب کی مزید بحث انشاء اللہ آگے آجائے گی۔ سوال کرنے والوں نے جو یہ دریافت کیا کہ کیا خرچ کریں تو یہ سوال بھی اس سوال تے ملتا جلتا ہے جو اوپر کی آیت میں گذر چکا ہے لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ پہلی آیت میں صرف جنس سے سوال ہوا ور یہاں جنس کے ساتھ کھپت اور مقدار کا بھی سوال ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے سوال کے جواب میں جو فرمایا تھا کہ جو توفیق اور ہمت ہو یہاں اس ہمت اور توفیق کی تحقیق مقصود ہو جیسا کہ جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اخراجات سے زائد ہو اور آسانی کے ساتھ دے سکو وہ دو کبھی ایسا نہ ہو کہ ہمت سے زائد دے بیٹھو اور پھر پریشانی میں مبتلا ہوجائو۔ کذلک کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے خیرات کا یہ مسئلہ بیان کیا ہے اسی طرح ہم اپنے اور احکام بھی صاف اور واضح کرکے بیان کرتے ہیں تاکہ تم آگے پیچھے کے تمام معاملات پر غور کرلیا کرو یا یہ مطلب ہے کہ انفاق کا تعلق دنیا اور آخرت دونوں سے ہے لہٰذا دونوں پہلوئوں پر غور کرلیا کرو۔ فی الدنیا والاخرۃ یبین سے بھی متعلق ہوسکتا ہے اب یہ مطلب ہوگا کہ ہم تمام احکام خواہ وہ دنیا کے ہوں یا آخرت کے ہوں صاف صاف بیان کرتے ہیں تاکہ تم خوب غور کرسکو اور یہ سوچ سکو کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے فانی کسقدر ضروری ہے اور باقی کہاں تک ضروری ہے تاکہ دنیا اور آخرت کے کام دنیا اور آخرت کی حیثیت کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا کرو۔ خلاصہ یہ کہ مال دنیوی ضرورتوں کو پورا کرنے کا بھی ذریعہ ہے اور آخرت حاصل کرنے کا بھی سبب ہے اگر صدقات واجبہ ہیں جیسے زکوۃ، صدقہ، فطر اور عشر وغیرہ تو وہ تو بہرحال ادا کرتے ہیں اور اگر صدقات نافلہ ہیں تو ان پر غور کرلیا کرو یہ بھی نہ ہو کہ ضروری اخراجات کے پریشان ہوتے پھرو اور یہ بھی نہ ہو کہ آخرت کو نظر انداز کردو۔ اسی سلسلے میں یتیوں کی بارے میں جو سوا ل کیا گیا تھا اس کا جواب ہے۔ یتامیٔ کا مال کھانے والوں کے متعلق چونکہ دوسری آیت میں سخت وعید آئی تھی اور یہ فرمایا تھا کہ جو لوگ زبردستی یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں انگارے بھرتے ہیں اس پر لوگ ڈر گئے اور جو لوگ یتیموں کے نگراں تھے انہوں نے یتیموں کی ہر چیز الگ کردی ان کا آٹا، گھی، لکڑیاں سب الگ رکھتے تھے پھر اگر کوئی بچہ کم کھاتا اور کھانا بچ جاتات و اس کو ہاتھ نہ لگاتے وہ سڑجاتا تو پھینکنا پڑتا۔ غرض اس طرح احتیاط تو ہوتی لیکن اس میں تکلیف زیاد ہوتی اور بعض صورتوں میں یتیم کا مال بھی ضائع ہوتا تھا اس پر لوگوں نے سوال کیا سوال کا جو جواب دیا گیا وہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد تو یتیم کے حال کی اصلاح اور اس کے مال کی حفاظت ہے یہ مقصد پورا ہوناچاہئے اگر مال کی علیحدگی میں یتیم کا کے حال کی اصلاح اور اس کے مال کی حفاظت ہے یہ مقصد پورا ہوناچاہئے اگر مال کی علیحدگی میں یتیم کا فائدہ ہو تو اس کو اختیار کرلو اور اگر ملانے میں فائدہ ہو تو اس کو اختیار کرلو ہم بدنیت کو بھی جانتے ہیں اور نیک نیت کو بھی پہچانتے ہیں تم کو آسانی ہوجائے اور یتیم کو نقصان نہ ہو تو کھانا پینا مشترک کرلو۔ اس اختلاط اور اشتراک میں کوئی مضائقہ نہیں اگر نیک نیتی کے ساتھ اشتراک کرنے والے سے کچھ کمی بیشی ہوجائیگی تو مواخذہ نہ ہوگا اور بدنیتی سے جو ملائے گا اور اس کی نیت فساد کی ہوگی تو اس کی گرفت ہوگی اور اس سے مواخذہ ہوجائے گا جو چیز خراب ہونے والی ہے اس کو ملا لیناچاہئے مثلاً دال، سالن ملا کر پکالو، ہاں آٹا اور لکڑیاں وغیرہ علیحدہ رکھو اشیاء کو ملانے اور اختلاط کی صورت میں خرچ اندازے ہی سے ہوگا اس میں کچھ تھوڑی بہت کمی ہوجائے گی اور یتیم کا کچھ حصہ تمہاری طرف آجائے گا اور کبھی تمہارا بھی کچھ حصہ اس کی طرف چلا جائے گا۔ بہر حال وہ تمہارے بھائی ہیں اگر مسلمان کی اولاد ہیں تو دین کے بھائی ہیں اور اگر کوئی کافر کا بچہ یتیم ہے تب بھی بنی نوع انسان سب انسانیت میں بھائی بھائی ہیں کافر کا یتیم اگر مسلمان کی پرورش میں ہو اور مسلمان کی زیر تربیت ہو تو اس کے بالغ ہونے کے بعد مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ بالغ شدہ یتیم کو جبراً مسلمان بنائے۔ عنت کے معنی اصل تو مشقت کے ہیں لیکن ہلاکت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے باقی مطلب وہی ہے جو ہم نے تیسیر میں ظاہر کردیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شراب اور جوئے کے حق میں کئی آیتیں اتریں ہر ایک میں ان کی برائی ہے آخر سورة مائدہ کی آیت اتری کہ صاف حرام ہوگئی جو چیز نشہ لا دے سب حرام ہے جو شرط بدی جاویک اس پر ما ل لیا جاوے سب حرام ہے۔ فائدہ : اور پوچھا لوگوں نے مال کس قدر خرچ کریں حکم ہوا کہ اپنی حاجت سے افزود ہو تو تب خرچ کرو جیسا آخرت کا فکر ضرور ہے دنیا کا بھی فکر ضرور ہے سارا اٹھا ڈالو تو دنیا کی حاجت میں عاجز رہو۔ فائدہ : اور یتیموں کے حق میں پہلے تقید اترا کہ جو کوئی ان کا مال کھاوے وہ اپنے پیٹ میں آتش بھرے پھر جو کوئی یتیموں کے رکھنے والے تھے ان کے مال اور خرچ کھانے اور پہننے کا جدا رکھنے لگے کہ ہمارے خرچ میں کوئی چیز نہ آ جاوے پھر سخت مشکل پڑی کہ ایک چیز یتیم کے واسطے تیار کی اس کے کام نہ آئی تو ضائع ہوئی تب یہ حکم اترا کہ خرچ اپنا اور ان کا ملا کر رکھو تو مضائقہ نہیں کہ ایک وقت ان کی چیز آپ نے خرچ کی تو دوسرے وقت اپنی چیز ان کے کام لگائی لیکن نیت چاہئے سنوارنے کی اللہ نیت دیکھتا ہے۔ (موضح القرآن) اگرچہ ہر قسم کا نشہ اور شراب حرام ہے لیکن خمر صرف اس شراب کو کہتے ہیں جو انگور کے شیرے سے حاصل کی جائے خواہ پکاکر یا سڑا کر۔ امام ابوحنیفہ اور ثوری اور فقہا کوفہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کا دوسرے آئمہ سے جو اختلاف ہے اس کو فقہ کی کتابوں میں مطالعہ کیا جائے یا مقامی علماء سے تحقیق کرلی جائے ہر وہ چیز جس میں دو طرفہ شرط بدی جائے وہ جوئے کے حکم میں ہے ہاں ایک طرفہ شرط کی چیز جوئے میں داخل نہیں جوا خواہ پانسے پھینک کر کھیلا جائے یا تاش اور شطرنج پر بازی لگائی جائے یا کسی کھیل کا میچ ہو حتیٰ کہ علماء سلف اس کھیل کو ناجائز کہتے تھے جو بچے اخروٹوں کی گیند بنا کر کھیلتے تھے اور اس میں ہار جیت ہوا کرتی تھی اگر ہار جیت کی شرط نہ ہو تو تب بھی لہو تو ضرور ہے اور اس قسم کے لہو سے احتراز اور اجتناب کرنا چاہئے۔ البتہ گھوڑے دوڑانا اور تیر اندازی کرنا اور قرعہ ڈال کر کسی چیز کا فیصلہ کرنا جائز ہے گھوڑا دوڑ اور تیر اندازی کا مطلب یہ ہے کہ جہاد کی نیت سے ان چیزوں کی مشق کی جائے اور ان میں وقت خرچ کیا جائے تو یہ جائز ہے یہ مطلب نہیں کہ گھوڑوں پر جوڑا کھیلاجائے۔ جیسا کہ ہمارے زمانے میں اس کا دستور ہے ریس یورپ کی ایک لعنت ہے اور اس ریس کے جوڑے پر کوئی پابندی نہیں ہے اگرچہ شرعاً ریس کا جو ابھی جوا ہے اور اسلامی قانون میں حرام ہے دوسرا سوال خرچ کے متعلق تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ؐ میرے پاس ایک دینار ہے فرمایا اپنی ذات پر خرچ کر اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایک اور بھی ہے ارشاد فرمایا اولاد پر خرچ کر اس نے کہا ایک اور بھی ہے ارشاد فرمایا گھر والوں پر خرچ کر اس نے کہا ایک اور بھی ہے فرمایا خادم پر خرچ کر اس نے کہا ایک اور بھی ہے فرمایا اب تو خود سمجھ لے جہاں مناسب سمجھے وہاں خرچ کر۔ حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا خرچ کرنے میں اپنی ات اور اپنی جان سے ابتداء کر یعنی پہلے اپنے پر خرچ کر پھر اگر کچھ بڑھے تو اپنی اہل پر صرف کر اگر اہل سے زیادہ ہو تو قرابت داروں پر خرچ کر پھر بڑھے تو ادھر ُ ادھر جہاں مناسب سمجھے خرچ کر۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی دوسری روایت میں ہے بہتر صدقہ وہ ہے جو اطمینان اور آسودگی کے ساتھ کیا جائے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور خرچ کی ابتداء اپنے عیال سے کر اوپر والے ہاتھ کا مطلب یہ ہے کہ سخی کا ہاتھ سائل کے ہاتھ سے بہتر ہے ایسا خرچ نہ کر کہ مفلس بن کر بھیک مانگنے لگے۔ تیسرے سوال کی تفصیل ہم عرض کرچکے ہیں یتیم کے مال میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے اور جگہ قرآن کریم میں آیا ہے ولا تقربو امال الیتیم الا بالتیھی احسن یتیم کی بھلائی اور اس کے مال کی حفاظت بہرصورت ضروری ہے اگرچہ دشواریوں کے پیش نظر اختلاط کی اجازت ہے لیکن پھر بھی اس کا خیال رہے کہ یتیم کی طرف کچھ بڑھتی چلا جائے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اپنی طرف کچھ بڑھتی آجائے۔ حضرت عائشہ ؓ فرمایا کرتی تھیں میں یتیم کا مال اپنے پاس رکھنا پسند نہیں کرتی کہیں اس کا کھانا پینا میرے کھانے پینے میں شامل ہوجائے باوجود رخصت کے حضرت ام المومنین یتیم کے مال سے بہت ڈرتی اور احتیاط کرتی تھیں۔ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) (تسہیل)
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور مسلمانو ! مشرکہ عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرو اور یاد رکھو ایک مسلمان لونڈی مشترکہ آزاد عورت سے کہیں بہتر ہے خواہ وہ مشترکہ عورت تم کو بھلی ہی کیوں نہ معلوم ہوتی ہو اور مشرک جب تک ایمان نہ لے آئیں ان کے نکاح میں مسلمان عورتیں نہ دو اور یاد رکھو ایک مسلمان غلام مشرک آزاد مرد سے کہیں بہتر ہے خواہ وہ مشرک مرد تم کو کتنا ہی بھلا کیوں نہ معلوم ہوتا ہو یہ مشرک مرد و عورت دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے اس غرض سے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔1

ف 1 اور مسلمانو ! تم شرک کرنے والی عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائیں اور یہ امر یقینی ہے کہ ایک مسلمان عورت خواہ وہ باندی ہی کیوں نہ ہو ایک شرک کرنیوالی عورت سے بدرجہا بہتر ہے خواہ وہ مشرکہ آزاد بیوی کیوں نہ ہو اگرچہ وہ مشرکہ تم کو اپنے مال اور حسن و جمال اور اپنے خاندان کی وجہ سے اچھی ہی کیوں نہ معلوم ہو اور جن مسلمان عورتوں کے نکاح کا تم کو اختیار حاصل ہے ان کو اس وقت تک شرک کرنیوالے مردوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ مشرک مسلمان نہ ہوجائیں اور یہ یقینی بات ہے کہ ایک مسلمان مرد خواہ وہ غلام ہی کیوں نہ ہو ایک مشرک مرد سے بدرجہا بہتر ہے خواہ وہ مشرک مرد آزاد ہی کیوں نہ ہو اور اگرچہ وہ مشرک مرد اپنے مال اور اپنے خاندان کی وجہ سے تم کو بھلا ہی کیوں نہ معلوم ہوتا ہو اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ مشرک جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور ایسے اعمال و عقائد کی ترغیب دیتے ہیں جو جہنم میں لے جانے کا موجب ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی دعوت دیتا ہے اور ایسے اعمال و عقائد کی ترغیب دیتا ہے جو مغفرت کا موجب اور دخول جنت کا ذریعہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے احکام لوگوں کے لئے اس واسطے صاف اور واضح طورپر بیان فرماتا ہے۔ تاکہ وہ لوگ نصیحت قبول کریں اور ان احکام پر عمل پیرا ہوکر جنت اور مغفرت کے مستحق ہوجائیں (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ مسلمان کسی مشترکہ سے نکاح نہیں کرسکتا خواہ وہ بت پرست ہو یا کواکب پرست ہو یا کسی اور مخلوق کو پوجتی ہو۔ اسی طرح مسلمان عورت کسی مشرک اور کافر کے نکاح میں نہیں دی جاسکتی خواہ وہ بت پرست ہو یا کواکب پرست ہو یا کسی اور مخلوق کو پوجتا ہو۔ اور خوا ہ وہ کافر اہل کتاب ہو البتہ مسلمان ایک کتابیہ سے نکاح کرسکتا ہے جیسا کہ سورة مائدہ میں آجائے گا۔ غرض یہ چار صورتیں ہیں۔ (1) مرد مسلمان ہو اور عورت مشرکہ ہو۔ (2) مرد مسلمان ہو اور عورت کتابیہ ہو۔ مثلاً یہودیہ ہو یا نصرانیہ ہو۔ (3) عورت مسلمان ہو اور مرد مشرک ہو۔ (4) عورت مسلمان ہو اور مرد کتابی یعنی یہودی یا نصرانی ہو ان چاروں صورتوں میں صرف دوسری صورت جائز ہے باقی تینوں صورتیں حرام ہیں دوسری صورت جو جائز ہے اس میں اس امر کی پابندی ضروری ہے کہ وہ کتابیہ صحیح معنی میں کتابیہ ہو ایسا نہ ہو کہ نہ وہ خدا کی قائد ہو نہ حضرت عیسیٰ کو مانتی ہو نو انجیل پر ایمان رکھتی ہو۔ جیسا کہ آج کل ہمارے تعلیم یافتہ حضرات یورپ اور امریکہ کی عورتوں سے نکاح کرلیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اہل کتاب ہیں حالانکہ وہ نہ عیسائی ہوتی ہیں اور نہ صحیح معنی میں یہودی ہوتی ہیں اس لئے بغیر تحقیق کے ان کا مذہب معلوم کئے بغیر ان سے نکاح کرنا نہیں چاہئے۔ اسی طرح بعضے مسلمان بھی آج کل نئے نئے عقائد اختیار کر رہے ہیں اور عقائد اعمال میں یورپین اقوام کے نقش قدم پر چل رہے ہیں نکاح سے پہلے ان کے بھی خیالات و عقائد کی خوب تحقیق کر لینی چاہئے اور شرک کی بھی حالت یہی ہے اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے علم یا قدرت میں یا اور دوسری صفت خداوندی میں کسی کو اللہ تعالیٰ کا مماثل سمجھتا ہو تو وہ مشرک ہے خواہ وہ اپنے مسلمان ہونے کا مدعی کیوں نہ ہو۔ نکاح کا معاملہ چونکہ اہم ہے اس لئے نکاح سے پہلے ان امور کی تحقیق ضروری ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ مسلمان باندی مشترکہ بیوی سے اور مومن غلام مشرک آزاد سے بہتر ہیں ہم نے اس کو تیسیر میں خلاصہ کردیا ہے اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ شرافت اسلامی کفر کی تمام شرافتوں سے اعلیٰ اور برگزیدہ ہے کافر خواہ کسی جہت سے بھی اچھا کیوں نہ ہو لیکن بہر حال وہ ایک مسلمان سے کمتر ہے اور یہ جو فرمایا کہ مشرک آگ کی طرف بلاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کی وجہ سے کو مخالطت اور مقارنت حاصل ہوگی وہ محرک ہوگی کفر اور شرک کی اور کفرو شرک و خول نار کے موجب ہیں اگرچہ یہ احتمال کتابیہ عورت میں بھی تھا لیکن اول تو کتابیہ کا ضرر مشرکہ سے کم ہے پھر بیوی بجائے اس کے کہ مرد پر اثر اندازز ہو مرد کے خیالات سے خود متاثر ہوجاتی ہے اور اگر کہیں ایسا ہو کہ مرد کے عیسائی یا یہودی ہوجانے کا احتمال قوی ہو مثلاً ایک ایسی کتابیہ ہو جو پہلے مسلمان خاوندوں کو عیسائی یا یہودی بنا چکی ہو اور اس امر کا ظن غالب ہو کہ یہ عورت اگر نکاح میں آئی تو اس مسلمان کو بھی عیسائی یا یہودی کرلے گی تو ایسی حالت میں ممانعت کی جاسکتی ہے۔ مسلمانوں میں جو فرق ضالہ ہیں ان کا بھی عام طور سے یہی حکم ہے کہ ان کی لڑکیوں سے نکاح کیا جاسکتا ہے مگر مسلمان اپنی لڑکیاں ان کے نکاح میں نہیں دے سکتے جس کتابیہ سے نکاح کرنا جائز ہے وہ کتابیہ ہے جو مسلمان سے عیسائی نہ ہوئی ہو یعنی پہلے مسلمان تھی پھر عیسائی ہوگئی ایسی نصرانیہ یا یہودیہ سے نکاح جائز نہیں ہے بلکہ اس کی کتابیہ سے نکاح کی اجازت ہے جو پہلے ہی سے اہل کتاب ہو۔ بہر حال سوائے اہل کتاب عورت کے کسی اور غیر مسلم سے نکاح کا تعلق قائم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسلام کی حالت میں جو نکاح ہوا ہو پھر ان مسلمان میاں بیوی سے کوئی کفر اختیار کرلے تب بھی وہ نکاح ٹوٹ جائے گا۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کتابیہ عورت سے اگرچہ نکاح کرنا مباح ہے لیکن مسلمان عورت کو چھوڑ کر کسی نصرانیہ یا یہودیہ سے نکاح کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔ حضرت عمر بن الخطاب ؓ نہایت سختی سے جھڑکا کرتے تھے ابن کثیر اور ابن جریر نے حضرت عمر ؓ سے بہت سے آثار نقل کئے ہیں جس میں سے بعض کی سند ضعیف اور بعض کی صحیح ہے ۔ طلحہ بن عبداللہ اور حذیفہ بن الیمان کے واقعہ میں سخت غصہ کا اظہار کیا۔ حضرت حذیفہ نے ایک نصرانی عورت سے نکاح کرلیا تھا حضرت عمر ؓ نے ان کو لکھا کہ تم اس نصرانیہ کو چھوڑ دو اس پر انہوں نے دریافت کیا کہ امیر المومنین کیا کتابیہ عورت سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ میں حرام تو خیال نہیں کرتا لیکن مجھ کو ڈر ہے کہ تم اس طرح کہیں مسلمان عورتوں کو معطل نہ کردو۔ حضرت ابن عباس سے ابن جریر نے بھی اس قسم کی روایت نقل کی ہے کہ مومنات سے نکاح کرو اور دین دار عورتوں سے نکاح کیا کرو ان سب اقوال کا ماحصل یہ ہے کہ گویا کتابیات سے نکاح مباح ہے لیکن مسلمان عورتوں کو بہر حال ترجیح ہے کیونکہ کفر کا اثر کتنا ہی ضعیف اور کمزور کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی اس کے اختلاط سے جو خطرات ہیں ان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور اسلامی تمدن اور معاشرت کے تحفظ کا بہترین طریقہ بھی یہ ہے کہ مسلمان کے بچوں کی پہلی معلمہ اور استانی مسلمان ہی ہو کیونکہ ہمارا عام تجربہ یہی ہے کہ آج کل جن کے گھروں میں کتابی عورتیں ہیں ان کی نرینہ اولاد تو اسلام پر قائد ہے لیکن ان لڑکیاں عام طور سے ماں کی وجہ سے عیسائی ہیں یہی حالت ان گھرانوں کی ہیں جن میں شیعہ عورتیں ہیں جو لوگ شیعہ عورتوں سے نکاح کرتے ہیں ان کے ہاں بھی یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ ان کے لڑکے سنی اور ان کی لڑکیاں شیعہ ہوتی ہیں۔ بالخصوص ایسے دور میں جب کہ مسلمان کفار کے زیر اقتدار ہوں اور اسلامی اقتدار مسلمانوں کے ہاتھوں میں نہ ہو اس قسم کے معاملات میں اور بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ کا مسلک بھی یہی ہے بخاری نے ان کا قول نقل کیا ہے وہ فرمایا کرتے تھے اس سے بڑھ کر اور شرک کیا ہوگا کہ وہ کہے عیسیٰ (علیہ السلام) میرے رب ہیں یعنی وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رب ماننے والی عورتوں کو مشرکات میں داخل کرتے تھے۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے مسلمان اور کافر میں نسبت ناتا جاری تھا اس آیت سے حرام ٹھہرا۔ اگر مرد نے یا عورت نے شرک کیا اس کا نکاح ٹوٹ گیا۔ شرک یہ کہ اللہ کی صفت کسی اور میں جانے مثلاً کسی کو سمجھے کہ اس کو ہر بات معلوم ہے یا وہ جو چاہے کرسکتا ہے یا ہمارا بھلا یا برا کرنا اس کے اختیار میں ہے اور یہ کہ اللہ کی تعظیم کسی اور پر خرچ کرے مثلاً کسی چیز کو سجدہ کرے اور اس سے حاجت مانگے اس کو مختار جان کر باقی یہود اور نصاریٰ کی عورت سے نکاح درست ہے ان کو مشرک نہیں فرمایا (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) کی عبارت کسی تفصیل کی محتاج نہیں ہے شرک کی جو تفصیل حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمائی ہے وہ ہر مسلمان کے لئے قابل توجہ ہے مسلمان اس کو پڑھیں اور غور کریں کہ وہ شرک سے کہاں تک محفوظ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عبداللہ ابن رواحہ ؓ کے پاس ایک کالی اور سیاہ فام لونڈی تھی انہوں نے ایک دن غصہ میں آکر اس کو ایک طمانچہ ماردیا پھر گھبرائے ہوئے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا اس لونڈی کا حال کیا ہے۔ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ! روزہ رکھتی ہے، نماز پڑھتی ہے اچھی طرح وضو کرتی ہے اللہ تعالیٰ کی توحید اور آپ کی رسالت کی گواہی دیتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ تو مومنہ ہے۔ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا خدا کی قسم میں اس کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرلوں گا۔ چناچہ جب انہوں نے اس سے نکاح کیا تو لوگ منہ جوڑنے لگے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ ایک مومنہ لونڈی مشرکہ بیوی سے بدرجہا بہتر ہے اب آگے عورتوں کے بارے میں اور چند مسائل کا ذکر ہے۔
Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور لوگ آپ سے حیض کا حکم پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے وہ گندی چیز ہے لہٰذا تم حالت حیض میں عورتوں کی ہم بستری سے علیحدہ رہا کرو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان سے ہم بستر نہ ہوا کرو پھر جب وہ اچھی طرح پاک ہوجائیں تو جہاں سے تم کو اللہ نے حکم دیا ہے وہاں سے ان کے پاس جائو یقینا اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت رکھتا ہے2

ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے حیض کی حالت میں عورتوں کی صحبت وغیرہ کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ آپ ان سے فرما دیجئے کہ حیض ایک گندی چیز ہے لہٰذا تم لوگ حیض کی حالت میں عورتوں کی ہم بستری سے علیحدہ اور الگ رہا کرو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں اور ان کا حیض بند نہ ہوجائے ان سے ہم بستری اور قربت نہ کرو مگر ہاں جب وہ اچھی طرح پاک ہوجائیں تو پھر جس جگہ سے تم کو اللہ نے حکم دیا ہے اور جہاں سے تم کو اجازت دی ہے اس جگہ سے ان کے پاس اگر جانا چاہو تو جائو یقینا اللہ تعالیٰ خطائیں معاف کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ گندگی سے بچنے والوں، پاک و صاف رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (تیسیر) حیض اس خون کو کہتے ہیں جو عورت کے رحم سے مقررہ دنوں میں آیا کرتا ہے کم سے کم اس کی مدت تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے اس بارے میں عورتوں کی عادت مختلف ہوتی ہے بعض پورے دس دن میں فارغ ہوتی ہیں بہرحال تین دن سے کم یا دس دن سے زیادہ جو خون عورت کو آئے یا حمل میں جو خون آئے وہ بیماری یا استحاضہ ہے اور اس کی حیثیت ایسی ہے جیسے بدن کے کسی اور حصے میں سے خون نکل آئے اور اس کا حکم بھی پھوڑے پھنسی یا کسی زخم کے خون کا سا ہوگا حیض سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا ۔ البتہ حیض کی مدت میں عورت کو جو خون آئے وہ حیض ہے خواہ اس کی رنگ سرخ ہو یا زردی مائل ہو یا میلے اور مٹیالے رنگ کا ہو اس زمانے میں جب کہ وہ حائضہ ہو نہ نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے نہ مسجد میں جاسکتی ہے نہ قرآن پڑھ سکتی اور نہ خاوند سے ہم صحبت ہوسکتی ہے اور اس کو یہ بھی جائز نہیں کہ وہ حیض کو چھپالے بلکہ اس کو اپنی حالت ظاہر کردینی چاہئے مبادا خاوند کو معلوم نہ ہو اور وہ اس کے پاس چلا جائے حیض کے زمانے میں مردوں کو جس علیحدگی کا حکم دیا گیا ہے اس سے مجامعت مراد ہے باقی جسم کے تمام حصے سے سوائے ناف سے لیکر گھٹنوں تک اس کا خاوند فائدہ حاصل کرسکتا ہے اور خون بند ہوجانے کے بعد اگر وہ پورے دس دن میں بند ہوا ہو تو بدون غسل کا انتظار کئے انی عورت سے وطی کرسکتا ہے اور اگر دس دن سے کم میں بند ہوا ہو تو عورت یا تو غسل کرلے یا اس پر ایک نماز کا وقت گزر جائے تب اس سے ہم بستر ہوسکتا ہے بشرطیکہ جس مدت میں خون بند ہوا ہے وہی عورت کی عام عادت بھی تھی اور اگر خون دس دن سے کم میں بند ہوا مگر عورت کی مقررہ عادت سے کم میں بند ہوا مثلاً خون پانچ دن میں بند ہوگیا اور عورت کی عادت سات دن میں بند ہونے کی تھی تو جب تک عادت کے دن پورے نہ ہوجائیں اور سات دن نہ گذر جائیں عورت سے ہم بستری کرنا درست نہیں اور اگر کوئی مرد حیض کے زمانے میں اتفاقیہ بےاحتیاطی کا مرتکب ہوجائے تو توبہ کرلے اور استحباباً ایک دینار یا نصف دینار صدقہ بھی کردے اس صدقہ کے مصارف وہی ہیں جو زکوۃ کے مصارف ہیں اور یہ صدقہ صرف مرد پر مستحب ہے چاہے تودیدے عورت پر نہیں ہے۔ من حیث امر کم اللہ کا مطلب یہ ہے کہ جو مقام اس کام کے لئے مقرر ہے اس مقام سے اس کے پاس آئو یہ نہ کرو کہ حیض سے زیادہ کسی اور گندگی میں جا پڑو ۔ آخری آیت میں اسی لئے فرمایا حق تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور معاصی سے پاک صاف رہنے والوں کو درست رکھتا ہے اگر حیض کی حالت میں کوئی کوتاہی ہوجائے تو توبہ کرو اور حیض کی گندگی اور عام گناہوں سے جن میں لواطت بھی شامل ہے الگ تھلک رہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حیض کہتے ہیں خون کو جو عورتوں کی عادت ہے اور خلاف عادت جو آوے سو آزار ہے اس کا تو حکم کبھی نہیں (موضح القرآن) شاہ صاحب (رح) نے فرمایا آزر سے آگے نہ چلو اس کا مطلب وہی ہے کہ ناف سے لیکر گھٹنوں تک کا حصہ حیض کی حالت میں استعمال نہ کرو اور اس حصے سے کسی قسم کا فائدہ نہ اٹھائو حتیٰ کہ نظر بھی نہ ڈالو آخر میں شاہ صاحب (رح) نے بھی لواطت کی ممانعت پر اشارہ فرمایا ہے آگے اور ایک بہترین پیرایہ سے عورت کی حیثیت کو واضح فرماتے ہیں ارشاد ہوتا ہے (تسہیل)
Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں سو اپنی کھیتی میں جس روش سے چاہو آئو اور اپنے لئے آگے بھی کچھ بھیجو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ تم یقینا اس کے حضور میں پیش ہونیوالے ہو اور اے پیغمبر ﷺ ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے3

ف 3 تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں یعنی وہ زمین جس میں کھیتی کی غرض سے بیج ڈالتے ہیں لہٰذا تم اپنی کھیتی میں جس روش سے چاہو اور جس طرح چاہو اور جس کیفیت سے چاہو آئو مگر آئو کھیتی میں اور اپنے لئے آگے کی بھی کچھ فکر کرو اور آئندہ کیلئے بھی ایسے نیک اعمال کرتے رہو جس سے تم آگے چل کر فائدہ اٹھائو اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس بات کو خوب جان لو اور یقین کرو کہ تم اللہ تعالیٰ سے ملاقی ہونے والے ہو اور اس سے ملاقات کرنے والے اور اس کے حضور میں حاضر ہونے والے ہو اور اے نبی ! ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے کہ جس ملاقات کی ان کو اطلاع دی جارہی ہے وہ ملاقات ان کے لئے نافع اور خوش آئند ہوگی۔ (تیسیر) یہ قاعدہ کہ جب مختلف تمدن اور مختلف تہذیبیں آپس میں ہم آغوش ہوتی ہیں اور جب ایک تہذیب کا دوسری تہذیب سے میل ہوتا ہے تو نئے نئے سوال پید ا ہوتے ہیں مکہ والوں کی معاشرت اور ڈھنگ کی تھی جب مدینے پہونچے تو وہاں کے لوگوں کی معاشرت اور رنگ کی پائی یہود کا کچھ خیال محبوس کا کچھ خیال مدینہ والوں کی کچھ اور تہذیب زمانہ جاہلیت میں حائضہ عورتوں کو بالکل اچھوت سمجھتے تھے محبوس تو حائضہ عورت کو گھر سے ہی نکال دیا کرتے تھے۔ یہود کا طریقہ بھی یہی تھا کہ حائضہ عورت کے ساتھ نہ کھاتے نہ پیتے نہ ایک گھر میں رہتے اس کے مقابلہ میں نصاریٰ کے ہاں کچھ پرہیز نہ تھا حتیٰ کہ وہ ہم بستری سے بھی پرہیز نہ کرتے تھے اور حیض والی عورتوں سے مجامعت کرنے میں احتراز نہ کرتے تھے ا سی طرح عورتوں کے پاس جانے کا ایک قصہ درپیش تھا۔ مکہ والے عورت سے ہر طرح لذت اندوز ہوتے تھے یہود کا خیال تھا کہ اگر مختلف آسن اور ہیئت کا استعمال کیا گیا تو بعض صورتوں میں بچہ بھینگا پیدا ہوگا انصار کی عورتیں اس کی عادی نہ تھیں چناچہ جب مکہ کے بعض مہاجرین نے انصاری عورتوں سے شادی کی تو اپنی عادت کے موافق جماع میں مختلف پہلو اختیار کئے انصاری عورتوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا ہم سے الگ رہو۔ دربار رسالت میں بعض عورتوں نے شکایت بھی کی کہ میرا خاوند مجھ کو ہر ترکیب اور ہر ہیئت سے استعمال کرنا چاہتا ہے یعنی مختلف پہلوئوں سے ہم بستری کرنا چاہتا ہے اس پر بعض حضرات نے سوال کئے ۔ حضرت حق کی جانب سے چند ضابطے مقرر کردئیے گئے جن کا خلاصہ یہ ہے۔ (1) جب عورت کو حیض آئے تو اس سے جدا رہو۔ ابتداء جدا رہنے کا لوگ مطلب یہ سمجھے کہ گھر سے نکال دیا کرو مگر نبی کریم ﷺ نے فرمایا گھروں سے جدا کرنا یہ عجمیوں کی رسم ہے جدا رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے ہم بستر نہ ہو۔ (2) ان کے ساتھ کھانے پینے کو جائز رکھا بلکہ ناف سے لیکر گھٹنوں تک کے علاوہ اس عورت کے ساتھ باقی جسم سے فائدہ اٹھانے کی بھی اجازت دی گئی حضرت مسروق نے بیوی عائشہ ؓ سے دریافت کیا ام المومنین جب عورت حائضہ ہو تو مرد اس سے کیا کرسکتا ہے اور کہاں تک اجازت ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا سب کچھ کرسکتا ہے مگر شرمگاہ سے بچے ایک روایت میں یہ ہے کہ جماع نہ کرے۔ تیسرا لفظ یہ ہے کہ آزار سے اوپر اوپر جو چاہے کرے۔ ابن جریر ، عبداللہ بن سعد انصاری نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ؐ! عورت جب حائضہ ہو تو اس کے خاوند کو کیا جائز ہے اور درست ہے۔ ارشاد فرمایا ازار سے اوپر اوپر (3) حیض ختم ہوجانے اور خون سے پاک ہوجانے کے بعد ان کے پاس حسب دستور آنے جانے کی اجازت ہے اگر دس دن پورے کرکے خون بند ہو تو بلا کسی انتظار کے اور اگر دس دن سے کم ہوں مگر عادت کے موافق ہوں تو غسل کا ایک نماز کا وقت گذر جانے کا انتظار کیا جائے اور اگر دس دن سے کم ہوں مگر عادت کے خلاف ہوں تو مقررہ عادت کے دنوں کا انتظار کرنا چاہئے۔ (4) ہر حال میں استعمال صرف اس مقام کا جائز ہوگا جس کی اجازت ہے رہا دوسرا مقام تو اس کی نہ کبھی اجازت ہوئی اور نہ اس کا کبھی حکم دیا گیا لہٰذا وہ بحالہ ممنوع اور حرام رہے گا۔ (5) مجامعت کرتے وقت ہر ہیئت کو اختیار کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ عورت کو تکلیف نہ ہو اور کسی نسوانی مرض میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو کھیت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف کھیت میں آئو خواہ آنے کا کوئی طریقہ اختیار کرو مگر آئو اسی زمین میں جہاں بیج ڈالنا ہے اور اس سے کھیتی یعنی اولاد پیدا ہونے کی توقع اور امید ہے۔ ایک شخص نے حضرت ابن عباس ؓ سے دریات کیا کہ عورت سے غیر فطری فعل کا کیا حکم ہے فرمایا مجھ سے کفر کی بات کا سوال نہ کر۔ ایک اور شخص نے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انی شئتم فرمایا ہے اے ابن عباس ؓ میں تو اپنی بیوی سے غیر فطری فعل کو جائز سمجھتا ہوں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ! ارے احمق اس کا مطلب یہ ہے کہ کھڑے بیٹھے اور آگے پیچھے سے جائو مگر شرم گاہ سے اور طرف تجاوز نہ کرو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً منقول ہے کہ جو شخص عورت سے غیر فطری فعل کرتا ہے وہ ملعون ہے وقد موا لا نفسکم کا مطلب اعمال صالحہ ہیں جو دوسرے عالم میں نفع دینے والے ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نیک اولاد کے حصول کی جانب اشارہ ہو یعنی نیک اولاد کی نیت اور خواہش رکھو صرف خط نفس مقصود نہ ہو۔ بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ جو شخص بیوی کے پاس جانے سے پہلے بسم اللہ الھم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا یہ دعا پڑھ لیتا ہے اس کی اولاد شیطان کے اثر سے محفوظ رہتی ہے احکام بیان کرنے کے بعدتقویٰ اور پرہیز گاری کا حکم دیا جیسا کہ قرآن کا قاعدہ ہے کیونکہ پرہیز گاری اور تقویٰ کی روشن ہی انسان کو معاصی سے روکتی اور احکام کا پابند بناتی ہے دوسرے ٹکڑے میں یہ بات سمجھائی ہے کہ خدا کے روبرو جانے کا یقین رکھو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خدا کی جزا اور سزا سے ملاقات کرنے کا یقین رکھو جب کہ اکثر مفسرین اسی طرح تفسیر کرتے ہیں۔ حضرت حق نے اپنے کلام کی کیا بہترین ترکیب رکھی ہے پہلے احکام فرمائے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ ان احکام کی پابندی آسان ہو پھر ارشاد فرمایا اس مالک حقیقی کے روبر وجانے اور حساب کتاب دینے کا یقین رکھو تاکہ تقویٰ کی دولت نصیب ہوسکے کیونکہ جن لوگوں کو خدا کی جناب میں پیش ہونے کا یقین ہوگا اور جو حشرونشر کا مراقبہ کرتے رہیں گے اور جن کی آنکھوں کے سامنے دوزخ و جنت کا منظر ہوگا اور جن کو حاکم کی باز پرس کا خطرہ لگا رہے گا وہی دوڑیں گے اور ابن ہی کو ت قوے کی روش اختیار کرنی آسان ہوگی اور آخر میں ایمان رکھنے والوں اور یقین کرنے والوں کے لئے بشارت کا اعلان فرما دیا چونکہ قیامت کا یقین اور خدا کی پیشی میں حاضر ہونے پر ایمان تقویٰ کا موجب ہے اور تقویٰ اور امرونواہی کی پابندی کا موجب ہے۔ لہٰذا جو لوگ احکام کے پابند رہیں گے وہی نجات دائمی کی بشارت کے مستحق ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس راہ سے چاہو جائو لیکن کھیتی ہی میں کھیتی ۔ کھیتی وہی جہاں تخم ڈالئے تو آگے اور آگے کی تدبیرکرو یعنی اس صحبت میں نیت چاہئے اولاد کی تو ثواب ہو۔ (موضح القرآن) بعض حضرات نے وقدموا سے یہ مراد لیا ہے کہ پارسا عورتوں سے شادی کیا کرو۔ (واللہ اعلم) (تسہیل)
Ayah 2:224

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو آڑ نہ بنائو کہ اس کے نام کی قسمیں کھا کر نیک سلوک کرنے سے اور پرہیز گار بننے سے اور لوگوں کے مابین باہم صلح کرانے سے اجتناب کرو اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا سب کو جانتا ہے1

ف 1 اور اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں کھا کر اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو آڑ اور حجاب نہ بنائو کہ بھلائی اور نیک سلوک کرنے سے اور تقویٰ ا ختیار کرنے سے اور لوگوں کے مابین اصلاح کرنے سے بچ جائو یعنی خلق کی اصلاح اور ان کے مابین مصالحت اور پرہیز گاری اور حسن سلوک جیسی باتوں کے نہ کرنے پر قسم کھا بیٹھو اور اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا اور سب کے دلوں کی نیت کو جانتا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ کار خیر اور بھلے کام جیسے حسن سلوک، تقویٰ اور لوگوں کی اصلاح یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان کو کرنا چاہئے نہ یہ کہ ان پر قسم کھا بیٹھو کہ ہم یہ کام نہیں کریں گے اور اگر کوئی کہے کہ یہ کام کرو تو عذر کریں کہ میں تو قسم کھاچکا ہوں اس لئے معذور ہوں جو شخص ایسا کرتا ہے تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کو اور اس کے نام کو نیک اعمال کے ترک کرنے کے لئے آڑ اور نشانہ بناتا ہے ایسا کرنے سے اس آیت میں منع فرمایا ہے حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کی بہن کو بشیر بن نعمان انصاری نے طلاق دیدی تھی اس پر انہوں نے قسم کھالی کہ میں بشیر کے ساتھ نہ کوئی بھلائی کروں گا نہ ان کے گھر جائوں گا نہ میاں بیوی کے ملاپ کی کوشش کروں گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کے نام پر تو بھلے کام کی کثرت ہونی چاہئے نہ یہ کہ اللہ کے نام کو بھلے کام کے چھوڑنے کیلئے آڑ بنالو بلکہ کبھی ایسی قسم کھالو تو اس قسم کا کفارہ ادا کرو اور کار خیر کو ترک نہ کرو۔ لا یمانھم کا تعلق لا تجعلوا اور عرضۃ دونوں سے ہوسکتا ہے عرضۃ کے چند معنی ہیں قوت ، ہمت ، نشانہ دو چیزوں کے درمیان آڑ اور حجاب یہاں آخری معنی مراد ہے۔ اصلاح بین الناس کا مفہوم بہت عام اور وسیع ہے اور رفاہ عام کے تمام کاموں کو شامل ہے اسی طرح ان تبروا بھی ہر قسم کی بھلائی اور نیکی کو شامل ہے اور سچ تو یہ ہے کہ حضرت حق نے ان تین لفظوں میں تمام ابواب خیر کو جمع کردیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہر قسم کے اعمال کو خواہ وہ ذاتی ہوں یا قومی اور جماعتی ہوں ان کو بجا لاتے رہو اور ان کو ترک کرنے پر قسم نہ کھائو کیونکہ اعمالِ خیر قابل ترک چیز نہیں ہیں چہ جائیکہ تم ان کے ترک کرنے پر قسم کھا بیٹھو۔ فرمایا نبی کریم ﷺ نے اگر کوئی شخص کسی چیز پر قسم کھا بیٹھے پھر اس کے خلاف میں بہتری اور خیر دیکھے تو اس کو چاہئے کہ اس خیر اور بہتر چیز کو کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) ارشاد فرماتے ہیں یعنی خدا کی قسم اچھا کام چھوڑنے پر نہ کھا وے مثلاً ماں باپ سے نہ بولوں گا اس فقیر کو نہ دوں گا اور اگر کھا بیٹھے تو قسم توڑے اور کفارت دے (موضح القرآن) اب آگے قسم کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہاری ان قسموں پر جو لغو ولا یعنی ہوں تم سے مواخذہ نہیں کریگا ۔ مگر ہاں ان قسموں پر جن کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا ہے تم سے مواخذہ فرمائیگا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بردبار ہے2

ف 2 اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری انق سموں پر جو لا یعنی اور لغو و بےہودہ ہوں کوئی مواخذہ نہیں فرمائے گا مگر ہاں ان قسموں پر تم سے مواخذہ فرمائے گا اور تمہاری گرفت کرے گا جن کا تمہارے دلوں نے قصد اور ارادہ کیا ہے یعنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کا ارادہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب مغفرت اور صاحب علم ہے کہ لغو و لا یعنی پر گرفت نہیں کرتا اور قصداً جھوٹی قسم کھانے پر فوری داروگیر نہیں فرماتا بلکہ اپنے حلم سے مجرم کو مہلت دیتا ہے۔ (تیسیر) لغو ایسے کلام کو کہتے ہیں جو بلا ضرورت اور بدون احتیاج بولا جائے اس میں کوئی خیر اور بھلائی نہ ہو یعنی ایسا کام جو ساقط الاعتبار ہو اور اس کا کوئی شمار نہ ہو یہ لفظ ویت کی بحث میں بھی آتا ہے اور وہاں بھی اس کو اس معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی اس معنی میں ہے کہ اس قسم کا کوئی شمار نہیں اور وہ ساقط الاعتبار ہے قسم کھانے والا کسی گذرے ہوئے واقع پر قسم کھائے جیسے کوئی کہے خدا کی قسم جمعہ کے روز بارش ہوئی تھی یا مستقبل پر کھائے جیسے کوئی کہے کہ خدا کی قسم میں کل ضرور آئوں گا اب اگر قسم کھانے والے نے ماضی پر قسم کھائی اور جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی بارش ہوئی تھی جمعرات کے دن اور قصداً جھوٹ بوالا اور جمعہ بتایا تو اس قسم کا نام غموس ہے اور اگر اس نے جان کر جھوٹ نہیں بولا بلکہ اسکا پختہ خیال تھا کہ بارش جمعہ کو ہوئی تھی اگرچہ حقیت میں اس کا یہ خیال غلط تھا مگر اس نے اپنے نزدیک سچی قسم کھائی تو اس کو لغو کہتے ہیں اسی طرح مستقبل پر قسم کھانے والے نے قسم کھائی کہ میں کل آئوں گا یہ قسم منعقدہ ہے اور ایک صورت مستقبل کی یہ ہے کہ قسم کھانے کا ارادہ نہ تھا نہ قسم کھانی چاہتا تھا بلا ارادہ منہ سے قسم نکل گئی تو اس قسم کو بھی اس اعتبار سے کہ اس پر کوئی مواخذہ نہیں لغو میں داخل کیا گیا ہے ، لہٰذا قسموں کی تین شکلیں ہوتی ہیں۔ 1۔ لغو اس پر نہ کوئی گناہ اور نہ کوئی مواخذہ۔ 2 ۔ عموس اس پر حنیفہ کے نزدیک اخروی مواخذہ ہے۔ اور اس کا مرتکب گناہ گار ہے لیکن اس پر کوئی کفارہ نہیں اس کو توبہ کرنا ضروری ہے تا کہ اخروی مواخذہ سے محفوظ رہے۔ 3۔ منعقدہ اس قسم کے خلاف کرنے والے پر بالا تفاق کفارہ ہے جس کی تفصیل سورة مائدہ میں انشاء اللہ آ جائیگی۔ یہاں صرف دو قسم کا قسموں کا ذکر ہے یعنی جو ماضی پر کھائی جائیں اگر جان بوجھ کر جھوٹی کھائی تو گناہ گار اور قیامت میں قابل گرفت اور اگر سچ سمجھ کر کھائی مگر وہ تھی جھوٹی تو نہ کوئی گناہ اور نہ کوئی مواخذہ۔ اب رہی لغو کی وہ قسم جو مستقبل پر بلا ارادہ منہ سے نکل گئی اور وہ جو قصدا ً قسم کھائی یعنی منعقدہ اور اس کا خلاف کیا تو ان دونوں قسموں کا ذکر سورة مائدہ میں انشاء اللہ آجائے گا ۔ یہاں صرف گزشتہ واقعہ پر قسم کھانے کی دونوں شکلوں کا ذکر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے جو لوگ عام طور سے لا واللہ بلے واللہ کہنے کے عادی ہیں حالانکہ نہ ان کا قسم کھانے کا ارادہ ہوتا ہے نہ ماضی مستقبل کی کوئی چیز ہوتی ہے اس قسم کے عادی لوگوں کی قسمیں لغو قسمیں ہیں ۔ ابن جریر نے حسن ابن ابی الحسن سے مرفوعاً اور ابن کثیر نے مرسلا ً نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو دیکھا کہ جب وہ نشانہ کی طرف تیر پھینکتے تو کہتے خدا کی قسم تیر نشانہ پر بیٹھ گیا ۔ کوئی کہتا واللہ میرا تیر خطا کر گیا ، کسی نے ان کی قسموں پر دریافت کیا یا رسول اللہ یہ حانث ہوئے اور ان پر کفارہ واجب ہوا ۔ سرکار نے جواب دیا نہیں تیر اندازوں کی قسم لغو ہوتی ہے صحابہ اور تابعین کی جماعت سے لغو کی مختلف تفسیریں منقول ہیں ۔ اگرچہ لغو قسموں پر بالا تفاق گناہ اور کفارہ نہیں لیکن قسموں کی کثرت سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے ولید بن مغیرہ کی مذمت میں فرمایا ہے۔ ولا تطع کل حلاف۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ناکاری قسم وہ جو منہ سے نکلے اور دل کو خبرنہ ہو ۔ ( موضح القرآن) اب آگے اس قسم کا ذکر ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جانے اور ہم بستری کی قسم کھاے بیٹھے تو اس کی قسم کا کیا حکم ہے۔ ( تسہیل)
Ayahs 2:226–227

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی بیویوں سے ہم بستر نہ ہونے کی قسم کھا بیٹھیں تو ان کو چار ماہ کی مہلت ہے پھر اگر یہ ل گ اس عرصہ میں رجوع کرلیں تو اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ چھوڑنے ہی کا پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے3

ف 3۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلا کرلیں یعنی ان سے ہم بستر ہونے کی قسم کھا لیں تو ان کے لئے چار مہینے انتظار کی مہلت ہے ، لہٰذا یہ ایلا کرنے والے مرد اگر رجوع کرلیں اور قسم توڑ کر اپنی بیویوں سے ہم بستر ہوجائیں تو یقین جانو ! اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کا مالک ہے ، کفارہ ادا کرنے سے قسم توڑنے کا گناہ معاف کر دے گا اور بڑی رحمت والا ہے۔ عورت کو ایلا سے جو تکلیف پہنچائی ہے رجوع کرلینے سے تم پر مہربانی فرمائے گا اور اگر یہ لوگ عورتوں کو طلاق دینے ہی کا پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ سب سننے والا اور سب باتوں کا جاننے والا ہے ۔ تمہاری قسموں کو سنتا ہے اور تمہارے دل کے ارادہ کو جانتا ہے۔ ( تیسیر) تربص کے معنی ہیں انتظار کرنے کے ۔ یہاں فرصت ، مہلت ، موقع کے الفاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے ہم نے تیسیر میں دونوں معنی کی رعایت رکھی ہے۔ عزم عزیمۃ قلب کی اس پختگی اور مضبوطی کو کہتے ہیں، جس کے بعد انسان اپنے ارادہ کو کر گزرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قسم کو جو اپنی بیوی سے ہم صحبت ہونے پر کھائی جائے اور یہ الفاظ کہے جائیں کہ خدا کی قسم میں تیرے پاس نہیں جائوں گا یا چار مہینے تک نہیں جائوں گایا چار مہینے تک نہیں جائوں گا یا چار ماہ سے زائد کسی مدت کا نام لے کر کہے یہ سب ایلا ہوگا ۔ چونکہ شریعت میں ایلا کی مدت چار ماہ ہے اس لئے خواہ کسی مدت کا نام لے یا نہ لے یا چار ماہ کا نام لے کر قسم کھائے یا چار ماہ سے زائد مدت کا نام لے کر قسم کھائے ۔ مثلاً یوں کہے کہ خدا کی قسم میں چھ ماہ تک یا سال بھر تک تیرے پاس نہ جائوں گا ۔ ہر حال میں چار ماہ کا موقع ہوگا اگر چار ماہ کے اندر اندر اس کے پاس چلا گیا تو قسم کا کفارہ دینا ہوگا اور وہ عورت بدستور اس کی بیوی رہے گی اور اگر چار ماہ تک گھر والی سے ہم بستر نہ ہو اور چار ماہ پورے ہوگئے تو عورت پر بائن طلاق ہوجائے گی یعنی یہ عورت نکاح سے نکل جائے گی ۔ ہاں اس سے دوبارہ نکاح ہو سکے گا ۔ بشرطیکہ عورت راضی ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ طلاق مغلظہ نہ ہوگی کہ حلالہ کی ضرورت پڑے بلکہ بغیر حلالہ کے اگر دونوں نکاح کرنا چاہیں تو نکاح ہو سکے گا ۔ ایک صورت باقی رہ گئی وہ یہ کہ اگر کوئی شخص چار ماہ سے کم مدت کی قسم کھالے۔ مثلاً کہے خدا کی قسم میں ایک ماہ تک یا دو ماہ تک یا تین ماہ تک تجھ سے ہم بستر نہ ہوں گا ۔ تو یہ قسم شرعا ً ایلا نہ ہوگی ۔ بلکہ اس کا حکم عام قسم کا حکم ہوگا اگر مدت سے پہلے گھر والی کے پاس چلا گیا تو قسم ٹوٹ جائے گی کفارہ دینا ہوگا اور اگر مدت پوری کردی تب وہ عورت بدستور بیوی رہے گی طلاق واقع نہ ہوگی اور قسم ختم ہوجائے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس نے قسم کھائی کہ اپنی عورت کے پاس نہ جاوے تو چار مہینے میں جاوے اور قسم کی کفارت دے نہیں تو طلاق ٹھہرے۔ ( موضح القرآن) اب اسی سلسلے میں عورت کے حقوق اور طلاق و عدت کے چند مسائل کا ذکر فرماتے ہیں۔ ( تسہیل)
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو وہ اپنے کو تین حیض تک روکے کھیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان کھتی ہیں تو ان کو یہ بات حلال نہیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں اور ان مطلقہ عورتوں کے خاوند ان سے عدت کے اندررجوع کرلینے کے حق دار ہیں بشرطیکہ وہ حسن سلوک کا ارادہ رکھتے ہوں اور عورتوں کا حق بھی ایسا ہی ہے جیسا دستور کے مطابق مردوں کا حق عورتوں پر ہے اور ہاں مردوں کو عورتوں پر ایک گو نہ فضلیت ہے اور اللہ تعالیٰ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے1

ف 1۔ اور وہ عورتیں جن کو طلاق دی گئی ہو وہ اپنے آپ کو نکاح کرنے سے تین حیض تک روکے رکھیں اور تین حیض کے پورا ہونے تک انتظار کریں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کو اس چیز کا چھپانا حلال نہیں جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں پیدا کیا ہو خواہ وہ حیض ہو یا حمل ہو اور جن عورتوں کو رجعی طلاق دی گئی ہو ان کے خاوند ان کو عدت کی مدت کے اندر اندر لوٹا لینے کا حق رکھتے ہیں کہ رجوع کر کے ان کو لوٹا لیں ۔ بشرطیکہ ان کا مقصد اصلاح اور حسن سلوک ہو ، محض عورت کو ستانے اور اذیت دینے کی نیت نہ ہو اور عورتوں کے حقوق بھی مردوں پر ویسے ہی ہیں جیسے دستورشرعی کے موافق مردوں کے حقوق ان عورتوں پر ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مردوں کو عورتوں پر ایک خاص درجہ اور فضلیت و برتری حاصل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کمال قوت کا مالک ہے جو اس کے احکام کی مخالفت کرتا ہے اس کی سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے اور کمال حکمت کا مالک ہے جو احکام مقرر کرتا ہے وہ انتہائی مصلحت اور حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔ (تیسیر) بعل کے معنی ہیں سید ، مالک یہاں خاوند مراد ہے۔ اصلاح کے معنی جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں بنانے اور سنوارنے اور حالات کو ساز گار بنانے کے ہیں یہاں میاں بیوی کے تعلقات میں اصلاح سے مراد حسن سلوک اور بہترین معاشرت کے ہیں۔ معروف کے معنی مشہور ہیں یہاں وہ برتائو مراد ہیں جو شریعت کے موافق ہو اور بھلے لوگوں میں رائج ہو یعنی ایک کا دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور آپس میں ایک دوسرے کے آرام و آسائش کی رعایت کرنا ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چند مسائل بیان فرمائے ہیں۔ 1۔ مرد جب عورت کو طلاق دے تو اس مطلقہ عورت کو طلاق کے بعد تین حیض آنے تک انتظار کرنا چاہئے ، تا کہ رحم کی حالت معلوم ہوجائے اور آئندہ اولاد میں کوئی مغالطہ واقع نہ ہو جب تک تین حیض پورے نہ ہوجائیں اس وقت تک کسی مرد سے نکاح نہ کرے ورنہ نکاح معتبر نہ ہوگا ۔ یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے اور حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک بجائے حیض کے لفظ قروع سے طہرمراد ہے ، یعنی تین حیض کی بجائے تین طہر پورے کرنے ہوں گے۔ طہر ان دنوں کو کہتے ہیں جن میں عورت کو حیض نہ آتا ہو ۔ بہر حال اس انتظار کی مدت کا نام عدت ہے او عدت ہر اس عورت پر واجب ہے کہ اس کے خاوند نے اس سے ہم بستری کی ہو یا خلوت صحیحہ کی ہو جو ہم بستری کے قائم مقام ہے۔ جس عورت سے اس کے خاوند نے نہ ہم بستری کی ہو نہ اس سے خلوت صحیحہ کی ہو پھر اس کو طلاق دی ہو تو اس پر عدت نہیں جس کا بیان انشاء اللہ سورة احزاب میں آجائے گا پھر یہ کہ مطلقہ عورت آزاد ہو باندی نہہو ۔ باندی کی عدت تین حیض سے کم ہے نیز یہ کہ مطلقہ عورت کو حیض آتا ہو نہ صغیرہ ہو کہ ابھی حیض شروع ہی نہیں ہوا نہ اتنی بڑھیا ہو کہ جس کا حیض آنا بند ہوچکا ہو جس کو آئسہ کہتے ہیں اور نہ حاملہ ہو ، صغیرہ اور آئسہ اور حاملہ کی عدت کا ذکر انشاء اللہ تعالیٰ سورة طلاق میں آئے گا ۔ غرض آزاد ہو ، حیض آتا ہو۔ اس سے ہم بستری یا خلوت صحیحہ ہوچکی ہو۔ ایسی عورت کو طلاق دی جائے تو یہ طلاق خواہ رجعی ہو یا بائنہ ہو یا بائنہ مغلظہ ہو ۔ بہر حال اس کو تین حیض پورے ہونے تک عدت گزارنی ضروری اور لازم ہوگی۔ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق ہی حیض کی حالت میں دی ہو تو وہ حیض عدت میں شمار نہیں ہوگا بلکہ اس کے علاوہ تین حیض پورے کرنے ہوں گے۔ 2۔ مطلقہ عورتوں کو اپنے رحم کی حالت کو چھپانے کی ممانعت ہے ۔ اس سے عدت کے حساب میں غلطی پڑجانے کا اندیشہ ہے۔ نیز بعض صورتوں میں خاوندوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اس لئے اگر حمل ہو تو صاف کہہ دے کہ مجھ کو حمل ہے اور حمل نہ ہو تو بتادے کہ مجھے حمل نہیں ہے ۔ حمل اور حیض کی تحقیق کبھی طلاق کے بعد ہوتی ہے اور کبھی طلاق سے قبل خاوند معلوم کرنا چاہتا ہے تا کہ طلاق صحیح اور شرعی طور پردے۔ بہر حال طلاق سے قبل ضرورت ہو یا طلاق کے بعد وہ صحیح حالت کو نہ چھپائیں بلکہ صاف بتادیں ۔ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا ذکر اس لئے فرمایا کہ ایمان کا مقتضا یہ ہے کہ سچی بات کہی جائے یہ مطلب نہیں کہ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت نہ ہو تو رحم کی حالت کا چھپانا جائز ہوجائے۔ 3 ۔ عورت کو طلاق رجعی دینے کے بعد عدت کے اندر اگر خاوند رجعت کرنا چاہیں تو وہ اس کا حق رکھتے ہیں ۔ خواہ عورت رضا مند ہو یا نہ ہو یہ رجعت صرف طلاق رجعی میں ہوسکتی ہے بائنہ میں نہیں ۔ اور رجعت بھی عدت ختم ہونے سے پہلے ہوسکتی ہے۔ عدت پوری ہوجانے کے بعد نہیں ہوسکتی ۔ عدت کے بعد پھر دونوں کی رضا مندی سے نکاح ہوسکتا ہے۔ جس طرح طلاق بائن میں باہمی رضا مندی سے نکاح ہوسکتا ہے ، البتہ طلاق مغلظہ میں نکاح بھی نہیں ہوسکتا ۔ رجعت کی شکل یہ ہے کہ زبان سے کہے میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا یا میں نے تجھ سے رجوع کیا یا کوئی فعل اس سے ایسا کرے جو میاں بیوی میں ہوتا ہے۔ تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کی جائے۔ رجعت کے ساتھ شرط لگائی کہ مقصد اصلاح ہو اور حسن سلوک سے بیوی کو کھنا ہو تکلیف پہنچانے اور ستانے کی غرض سے رجوع نہ کرے۔ اگرچہ رجعت ہو جائیگی۔ 4۔ مماثلت سے مراد وجوب میں مماثلت ہے۔ جنس حقوق میں اتحاد مقصود نہیں ہے کیونکہ خاوند کے حقوق اور طرح کے ہیں اور بیوی کے حقوق اور قسم کے ہیں مثلاً خاوند پر مہ رہے۔ نفقہ ہے سکونت کے لئے مسکن ہے لیکن عورت پر اس طرح کا کوئی حق نہیں ہے۔ فضلیت کی بات بالکل ظاہر ہی ہے علاوہ عقل اور دین کی کمی کے بعض امور میں عورت پر پابندی زیادہ ہے۔ نفلی روزوں کی اجازت اور گھر سے باہر جانے میں اجازت کی محتاج ہے عزیز اور حکم کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم زبردست ہیں جو چاہے حکم دے سکتے ہیں اور چونکہ حکیم میں اس لئے ہمارا حکم حکمت اور مصلحت کے موافق ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب مرد نے عورت کو طلاق کہی ابھی اس عورت کو اور نکاح روا نہیں جب تک تین بار حیض آوے تا حمل ہو وے تو معلوم ہوجائے کسی کا بیٹا کسی کو نہ لگ جاوے اسی واسطے عورت پر فرض ہے کہ اس وقت حمل ہو تو ظاہر کر دے اس مدت کا نام ہے عدت ۔ اس عدت تک مرد چاہے تو پھر عورت کو رکھ لے اگرچہ عورت کی خوشی نہ ہو اسی واسطے فرمایا کہ عورتوں کے حق بھی مرد پر بہت ہیں لیکن اس جگہ مرد ہی کو درجہ دیا۔ ( موضح القرآن) شاہ صاحب (رح) نے کیا خوب بات فرمائی ہے کہ حقوق واجبہ تو دونوں پر ہیں لیکن اس جگہ یعنی طلاق رجعی دے کر پھر رجوع کر لیناخواہ عورت راضی ہو یا نہ ہو اس معاملہ میں مرد ہی کو درجہ دیا اور اس کو ہی یہ تفوق عطا فرمایا کہ چاہے تو رجوع کرلے کیونکہ من وجہ تو نکاح ابھی باقی ہے اس لئے مرد کو حق ہے کہ چاہے تو عورت کو لوٹالے۔ ہاں عدت پوری ہوجانے کے بعد نکاح بالکل ختم ہوجاتا ہے پھر رجوع کی اجازت نہیں ، ہاں نکاح جائز ہے لیکن اب وہ عورت کے راضی ہونے پر موقوف ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مرد کو تین طلاقوں کا اختیار ہے اگر وہ دو طلاق دے چکا پھر اس عورت سے رجوع کرلیا یا عدت کے بعد نکاح کرلیا تو صرف ایک طلاق کا اختیار رہ گیا جب کبھی ایک طلاق اور دے دے گا تو وہ مغلظہ ہوجائے گی۔ ( تسہیل)