2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsکشف الرحمٰن

Ayahs 2:47–48

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اسے اولاد یعقوب (علیہ السلام) میرے وہ احسانات یاد کرو جو میں نے تم پر کئے ہیں اور یہ کہ میں نے تم کو اقوام عالم پر فوقیت عطا کی تھی

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو کہ جس دن کوئی شخص کسی شخص کے ذرا بھی کام نہ آسکے اور نہ کسی کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہو سکے اور نہ کسی سے کوئی فدیہ لیا جائے اور نہ لوگوں کو کسی مدد گار کی مدد پہنچے3۔

ف 3 ۔ اے یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ! میرے ان احسانات کو یاد کرو جو احسانات و انعامات میں نے تم پر کئے اور اس بات کو بھی یاد کرو کہ میں نے تم کو اقوام عالم پر خاص فوقیت اور فضیلت عطا کی تھی اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ تو کوئی کسی کے کام آسکے اور نہ کسی کی طرف سے کوئی سفارش قبول کی جاسکے اور نہ کسی کی طرف سے کوئی فدیہ اور معاوضہ حاصل کیا جاسکے اور نہ ان لوگوں کو کسی طرف دار کی طرف داری اور مددگار کی مدد پہنچ سکے۔ (تیسر) چونکہ یہاں سے احسانات کی تفصیل شروع کرنی مقصود تھی اس لئے پھر ان کو تاکید کی غرض سے توجہ دلائی گئی اور اقوام عالم سے مراد یا تو ان کے زمانے کی اقوام ہیں اور یا پھر بزرگ اور فضیلت سے بعض خصوصیات مراد ہونگی جو ان کو عطا کی گئی ہوں گی یہ مطلب نہیں کہ امت محمدیہ پر بھی ان کو فضیلت اور برتری حاصل تھی دوسری آیت میں قیامت کے عذاب سے ترہیب اور تخویف ہے اور نیز ان کے اس عقیدے کا بطلان ہے جو وہ کہا کرتے تھے کہ ہم بڑے لوگوں کی اولاد ہیں ہم کو اس عالم میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کسی مقدمہ میں مجرم کے لئے سزا سے بچنے کے عام طور سے چار ہی طریقے ہوسکتے ہیں یا تو کوئی مجرم کی طرف سے وہ مطالبہ ادا کرائے جو اس پر واجب ہے یا پھر کوئی زبردست سفارش پہنچ جائے جس سے حاکم متاثر ہوجائے اور یا پھر مجرم کو چھڑانے کی غرض سے کوئی فدیہ اور تا ان دے دیا جائے اور یا کوئی زبردست مددپہنچ جائے جو حکومت سے زبردستی چھڑا کرلے جائے قیامت میں ان چاروں صورتوں کا کافر کے لئے کوئی امکان نہیں۔ بنی اسرائیل کے سلسلے میں جن احسانات کا ذکر فرمایا ہے ظاہر ہے کہ یہ احسانات ان کے بڑوں پر اور گزشتہ لوگوں پر ہوئے تھے۔ جو بنی اسرائیل نبی آخر الزمان کے دور میں تھے ۔ ان پر یہ احسانات نہیں ہوئی تھے لیکن پہلے لوگوں کیساتھ اور باپ دادا کے ساتھ جو احسان کیا جائے اس کا نفع اور اس کا اثر اولاد کو بھی پہنچتا ہے۔ اس لئے حضور ﷺ کے زمانے اور دور ک بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا۔ بعض لوگوں نے اس طرح بھی ترجمہ کیا ہے کہ اے بنی اسرائیل تم میرے وہ احسانات یاد کرو جو میں نے تم پر یعنی تمہارے بڑوں پر وقتاً فوقتاً کئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ بنی اسرائیل کہتے تھے کہ ہم کیسے ہی گناہ کریں پکڑے نہ جائیں گے۔ ہمارے باپ دادا سے پیغمبر ہم کو چھڑا لیں گے۔ (موضع القرآن) (تسہیل)
Ayahs 2:49–50

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور یاد کرو اس زمانے ک جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب کرنے کی جستجو میں رہتے تھے وہ تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور اس اقعہ کو یاد کرو جب ہم نے دریا کو تمہاری وجہ سے پھاڑ دیا پھر ہم نے تم کو تو بچا لیا اور فرعون والوں کو غرق کردیا اور تم یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے ۔1

ف 1۔ اور اے بنی اسرائیل اس زمانے کو یاد کرو جبکہ ہم نے تم کو فرعون کی قوم اور اس کے متبعین کے مظالم اور ان کی غلامی سے نجات دی جن کی حالت یہ تھی کہ وہ تم کو سخت اور بدترین سزا دینے کی تلاش اور فکر میں لگے رہتے تھے اور وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کردیا کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑدیا کرتے تھے اور سا عذاب اور اس نجات میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی اور تم وہ موقعہ بھی یاد کرو جب ہم نے تمہارے راستہ دینے کی خاطر سمندر کو پھاڑ دیا پھر ہم نے تم کو تو غرق ہونے سے بچا لیا اور فرعون کی قوم اور اس کے متعبین کو تمہاری آنکھوں دیکھتے اس سمندر میں غرق کردیا۔ (تیسیرا) فرعون عمالقہ کی قوم میں سے تھا اور وہ سام بن نوح کی اولاد میں سے تھا اس کا نام تو اصل میں ولید بن مصعب تھا لیکن مصر کے بادشاہوں کا لقب اس زمانے میں فرعون تھا جیسا ایران کے بادشاہوں کو کسریٰ اور روم کے بادشاہوں کو قیصر اور یمن کے بادشاہوں کو تبغ اور حبش کے بادشاہوں کو نجاشی کہا جاتا تھا اسی طرح شاہان مصر کو فرعون کہتے تھے۔ آل سے یہاں فرعون کی قوم اور اس کے متعلقین مراد ہیں یہ لوگ بنی اسرائیل پر طرح طرح کے مظالم توڑا کرتے تھے اور جب سے ان کو کاہنوں اور نجومیوں نے یہ بتادیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری سلطنت کے لئے اور تیرے لئے ہلاکت کا موجب ہوگا تب سے انہوں نے بنی اسرائیل کے ہر پیدا شدہ بچہ کو قتل کرنا شروع کردیا تھا لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے مگر اولاد ذکور اور نرینہ اولاد کو ذبح کر ڈالتے تھے مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسویٰ کو پروان چڑھایا اور بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے آزاد بخشی اور فرعون اور آل فرعون کو غرق کردیا اور فرعون اور آل فرعون کا غرق اس طرح واقع ہوا کہ بنی اسرائیل کنارے پر کھڑے یہ تمام منظر دیکھ رہے تھے سحر ایسے دریا کو کہتے ہیں جس کا پانی شور اور کھاری ہو۔ علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ سجر سے مراد قلزم ہے اور سجر قلزم کی کنیت ابو خالد ہے چونکہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں مشہور تھا اس لئے یہاں اجمالاً اس کا ذکر فرمایا دوسری جگہ انشاء اللہ تفصیل آئیگی نبی کریم ﷺ سے ابو یعلی نے ایک ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے ہ بنی اسرائیل کے لئے دریا جس دن پھاڑا گیا ہے وہ دن عاشور ہ یعنی محرم کی دسویں تاریخ تھی۔ فائدہ :- وفی ذلکم کا مشار الیہ بعض نے نجات کو اور بعض نے عذاب کو قرار دیا ہے ہم نے دونوں احتمال کی رعایت کر کے ترجمہ کیا ہے اور بلا کا ترجمہ امتحان اور آزمائش سے کیا اور یہ واقعہ ہے کہ حضرت حق مجل مجدہ خیر اور شرک کی دونوں حالتوں میں بندے کی آزمائش کیا کرتے ہیں جیسا کہ سورة انبیاء میں ارشاد ہے۔ ونبلوکم بالشر والخیر فتنہ۔ (تسہیل) ۔
Ayahs 2:51–52

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا پھر تم لوگوں نے موسیٰ کے پیچھے ایک بچھڑا بنا لیا اور تم ظلم کر رہے تھے۔

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

پھر اس گئو سالہ پرستی کے بعد بھی ہم نے تم سے درگذر کیا کہ شاید تم احسان مانو گے2

ف 2 اور وہ موقعہ یاد کرو جب ہم نے حضرت موسیٰ سے چالیس دن اور رات کا وعدہ کیا تھا پھر جب وہ اس وعدے کے مطابق طور پر گئے تو تم نے ان کے جانے کے بعد ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تمہاری حالت یہ تھی کہ تم ظلم اور ناانصافی پر تلے ہوئے تھے لیکن تمہاری اس ناشائستہ حرکت کے بعد بھی جب تم نے توبہ کی تو ہم نے تم کو معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا کہ شاید تم اس معافی کا احسان مانو گے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب تم فرعون کے مظالم سے نجات پانے کے بعد مطمئن ہوئے اور تم نے یہ خواہش کی کہ اب اگر ہم کوئی شریعت یا مستقل کتاب مل جائے تو ہم اس پر عمل کریں اور اس کو اپنا دستور العمل بنائیں کیونکہ اب ہم حکومت کافرہ مسلطہ سے آزاد ہوچکے ہیں اور وہ تمام رکاوٹیں دور ہوچکی ہیں جو ہماری راہ میں ایک کافر حکومت نے حائل کر رکھی تھیں اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا ہ تم تیس راتیں طور پر آ کر رہو پھر ان تیس راتوں میں دس رز بڑھا کر پوری چالیس کردیں جس کی تفصیل انشاء اللہ نویں پارے میں آئیگی بہرحال جب حضرت مسویٰ حسب وعدہ وہاں تشریف لے گئے تو تم نے ان کے پیچھے سامری کے بہکانے سے ایک گئوسالہ کی پرستش شروع کردی لیکن ہم نے تمہاری توبہ قبول کرلی اور تم کو درگزر فرما دیا یہ سب کچھ اس توقع پر کیا کہ تم اس نعمت کا حق مانو گے اور شکر گزار ہو گے آسمانی احکام میں چونکہ دن رات کا تابع ہے اس لئے صرف راتوں کا ذکر فرمایا اور دن کو تابعہ نیکی وجہ سے ذکر نہیں کیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے حاضری کا وعدہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے توریت عطا کرنیکا وعدہ فرمایا۔ اس لئے باب مفاعلت لائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باب مفاعلت صرف وعدہ سے کے معنی میں ہو جیسا کہ عام مترجم ترجمہ کر رہے ہیں باقی تفصیل انشاء اللہ آگے آئے گی۔ حضرت شاہ صاحب ظلمون کے نیچے کہتے ہیں اس کا قصہ سورة اعراف اور سورة طٓہ میں بیان کیا گیا ہے۔ (موضح القرآن) (تسہیل)
Ayahs 2:53–54

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

اور وہ احسان یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور فیصلہ کن چیز عطا کی تاکہ تم صحیح راستہ اختیار کرو

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور وہ بات یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اسے میری قوم تم نے اس بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے بڑا نقصان کیا سو اب تم اپنے خالق کے سامنے توبہ کرو اور ایک دوسرے کو قتل کرو یہی طریقہ تمہارے خلاق کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے پھر خدا تعالیٰ نے تم پر توجہ فرمائی بیشک وہی بڑا توبہ قبول کرنیوالا نہایت مہربان ہے۔3

ف 3۔ اور ہمارا وہ احسان یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب توریت اور فرقان عطا فرمایا تاکہ تم سیدھی راہ پائو اور اس پر چلتے رہو اور اے بنی اسرائیل ! تم وہ بات بھی یاد کرو جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم ! بلاشبہ تم نے اس بچھڑے کو معبود بنا کر اپنا بڑا نقصان کیا۔ اب اس شرک کی تلافی یونہی ہوسکتی ہے کہ تم اپنے موجد اور خالق کی طرف رجوع کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو جس کا طریقہ یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو اور یہ قتل تمہارے خالق کے نزدیک بہتر ہے چناچہ اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تم پر توجہ فرمائی اور تمہاری توبہ قبول کی۔ یقین جانو ! وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ (تیسیر) حضرت حق جل مجدئہ کا یہ بہت بڑا احسان تھا کہ اس نے بنی اسرائیل کی دینی اور دنیوی تربیت کا سامان مہیا کیا اور حضرت موسیٰ کو ان کی ہدایت کے لئے توریت اور فرقان عطا فرمایا فرقان کے معنی فیصلہ کرنیوالی چیز ہے۔ یہاں یا تو وہ احکام ہیں جن سے حق و باطل الگ الگ ہوجاتے ہیں یاتوریت ہی کو فرقان فرمایا اور یا فرقان سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ہوں کہ ان سے بھی سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ بہرحال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب واپس تشریف لائے تو انہوں نے اپنی قوم کی بےثباتی اور شرک کی آلودگی پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور ان سے کہا ۔ اب تم اپنے پیدا کرنیوالے کے سامنے توبہ کرو اور تمہاری توبہ جب قبول ہوگی جب تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ جو لوگ گئوشالہ پرستی سے محفوظ رہے وہ ان کو قتل کریں جو گئو سالہ پرستی کے مرتکب ہوئے … چناچہ ایسا ہی ہوا اور جو حکم ان کو ملا تھا اس کی تعمیل کی اور بلا رعایت عزیز و اقارب بےگناہوں نے گناہ گاروں کو ایک میدان میں بٹھا کر قتل کرنا شروع کیا۔ اس وقت تمام لوگوں پر ابر سے یا آندھی سے تاریکی چھا گئی۔ جب تقریباً ستر 70 ہزار آدمی قتل کئے جا چکے تو وہ تاریکی ہٹ گئی اور روشنی ہوگئی اور قتل بند کرنے کا حکم ہوا اور جو باقی رہ گئے تھے اور جو قتل ہوچکے تھے ان سب کے قبول ہونے کا اعلان کردیا گیا ۔ فائدہ :- یا تو مرتدین کی توبہ یہی ہوگی کہ ان کو قتل کیا جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زبان سے بھی توبہ کی ہو اور قتل کی سزا بھی ملی ہو جیسا ہماری شریعت میں بھی یہ دسوتر ہے کہ زانی توبہ بھی کرے اور رجم بھی کیا جائے۔ اسی طرح قتل عمد کا مرتکب توبہ بھی کرے اور قتل بھی کیا جائے واللہ اعلم آگے اور احسانات یاد دلاتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:55–56

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:55 in the Quran reader

اور وہ زمانہ یاد کرو جب تم نے کہا (اے موسیٰ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو کھلم نہ دیکھ لیں گے ہرگز تیری تصدیق نہیں کریں گے اس پر تم کو ایک کرک ناک بجلی نے آپکڑا اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے تھے

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:56 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو تمہارے مرے پیچھے زندہ کر اٹھایا کہ شاید تم احسان مانو گے۔1

ف 1۔ اور وہ موقعہ بھی یاد کرو جب تم نے حضرت مسویٰ سے کہا تھا کہ جب تک ہم خود اللہ تعالیٰ کو علانیہ اور کھلم کھلا نہ دیکھ لیں گے ہرگز تیری بات کی تصدیق نہیں کریں گے چناچہ اس گستاخی پر ایک کر کناک بجلی نے تمہاری آنکھوں دیکھتے تم کو آلیا پھر ہم نے تمہارے مرے پیچھے تم کو زندہ کر اٹھایا کہ شاید تم ہمارا احسان مانو اور شکر گزار بنو۔ (تیسر) واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ توریت لے کر طور سے واپس آئے تو انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہم جب تک خود اللہ تعالیٰ سے اس کا کلام نہ سنیں تو یہ کیسے مان لیں کہ یہ توریت اسی کا کلام ہے اس پر حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے 70 آدمیوں کو منتخب کیا اور ان کو لیکر طور پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ کا کلام انہوں نے سنا کلام سن کر کہنے لگے ہم تو اس کو دیکھ کر یقین لائیں گے تب ایک ایسی بجلی جس میں کڑک بھی تھی ان پر گری اور وہ مر کر رہ گئے اس پر حضرت موسیٰ نے جناب باری سے دعا کی کہ بنی اسرائیل بہت جلد بدگمان ہوجاتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ کہہ دیں کہ موسیٰ نے ہمارے آد میں کو قتل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی دعا سے ان لوگوں کو زندہ کردیا جن لوگوں کو حضرت موسیٰ نے منتخب کیا تھا یہ ان لوگوں میں سے تھے جو گئو سالہ پرستی میں شریک نہیں تھے صاعقہ ایسی بجلی کو کہتے ہیں جس میں ہولناک آواز بھی ہو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف کڑک ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی آگ آسمان سے نازل ہوئی ہو ۔ بہرحال دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا دیکھنا محال ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آخرت میں بھی ان کا دیدار نہیں ہوگا اس عالم میں ان کے دیدار سے یقینا اہل جنت مشرف ہوں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ (تسہیل)
Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ابر کو سایہ افگن کیا اور ہم نے تم پر من اور سلویٰ اتارا جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان میں سے کھائو اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا لیکن وہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے ۔2

ف 2 اور ہم نے تمہارے سروں پر بادل کو سایہ افگن کیا اور تمہارے لئے ہم نے ترنجیں اور بیٹریں نازل فرمائیں اور تم سے کہا کہ جو حلال اور لذیذ چیزیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان میں سے کھائو اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔ (تیسیر) یہ احسان ان پر اس وقت ہوا جب وہ ارض تیہ میں تھے کیونکہ فرعن سے نجات پانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم اپنے اصل وطن شام میں چلے جائو اور وہاں قوم عمالقہ کا قبضہ ہے ان سے جہاد کرو اور ان پر فتح حاصل کرلو بنی اسرائیل پہلے تو اس پر آمادہ ہوگئے لیکن شام کے قریب جا کر لڑنے سے انکار کردیا اللہ تعالیٰ نے سزا دی اور کہا چالیس سال تک در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرو اور جنگلوں میں مارے مارے پھرو چناچہ خانہ بدوشوں کی طرح ایک جنگل میں جا بسے اور ان کے خیمے وغیرہ بھی پھٹ گئے کھانے کو بھی کچھ نہ رہا تو اللہ تعالیٰ نے سورج کی گرمی سے بچائو کے لئے ان پر ابر کا سایہ کردیا اور رات کو اللہ تعالیٰ درختوں پر ترنجین پیدا کردیتا جس کو یہ سمیٹ لائے اور شام کو بیٹریں ان کے پاس جمع ہوجاتیں جن کو یہ آسانی سے پکڑ لیتے بیٹروں کے گوشت اور ترنجیں پر زندگی بسر کرتے رہے ان کو یہ بھی حکم ہوا تھا کہ بقدر ضرورت ان چیزوں کا استعمال کرنا ذخیرہ بنا کر نہ رکھنا لیکن انہوں نے حرص کی وجہ سے اٹھا اٹھا کر رکھنا شروع کیا نتیجہ یہ ہوا کہ گوشت سڑنے لگا اسی کو فرمایا ہ ہمارا کوئی نقصان نہ کرسکے ہاں اپنا آپ نقصان کرتے رہے اسی جنگل کو جس میں بنی اسرائیل چالیس سال تک رہے ارض تیہ اور وادی تیہ کہتے ہیں تفصیل انشاء اللہ سورة مائدہ میں آئے گی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب فرعون غرق ہوچکا اور بنی اسرائیل خلاص ہو کر چلے جنگل میں ان کے خیمے پھٹ گئے تو سارے دن ابر رہتا دھوپ کا بچائو اور اناج نہ پہنچا تو من اور سلویٰاترتا کھانے کو من ایک چیز تھی میٹھی دھنیے کے سے دانے رات کو اوس میں برستے لشکر کے گرد ڈھیر ہو رہتے صبح کو ہر آدمی اپنی قوت کے برابر چن لاتا اور سلویٰ ایک جانور کا نام ہے شام کو لشکر کے گرد ہزاروں جانور جمع ہوتے اندھیرا پڑے پکڑ کر لاتے کباب کر کے کھاتے مدتوں تک یہی کھایا کئے۔ من اور سلویٰ کا ترجمہ ترنجبین اور بٹیروں سے کیا گیا ہے ہوسکتا ہے کہ ترنجبین سے ملتی جلتی کوئی اور میٹھی چیز ہو اسی طرح سلویٰ کوئی اور پرندہ ہو جو بٹیریا کوئے کی ہم شکل ہو (موضع القرآن) السبیل۔
Ayah 2:58

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور جب ہم نے حکم دیا کہ تم لوگ اس بستی میں داخل ہو پھر جہاں چاہو اس میں خوب جی بھر کر کھاتے پھرو اور دروازے میں عاجزی سے کمر کو جھکائے ہوئے داخل ہونا اور زبان سے حظ یعنی بخش دے کہتے جانا تو ہم تمہاریخطائیں بخش دینگے اور نیک روش اختیار کرنیوالوں کو ہم مزید مراعات دینگے۔3

ف 3 اور وہ زمانہ یاد کرو جب اے بنی اسرائیل ہم نے تم کو حکم دیا کہ تم اس بستی میں داخل ہو پھر اس کی چیزیں میں سے بےتکلفی کے ساتھ خوب جی بھر کر اور شکم سیر ہو کر کھائو اور یہ بھی حکم دیا کہ جب اس بستی کے دروزے میں داخل ہونے لگو تو عاجزی کے ساتھ کمر کو جھکائے ہوئے داخل ہونا اور زبان سے حطۃ کہتے جانا یعنی بخشدے ہماری توبہ ہے ایسا کرو گے تو ہم تمہائیں خطائیں معاف کردیں گے اور مزید برآں نیک روش اختیار کرنے والوں کے ساتھ اور بھی سلوک کریں گے۔ جس بستی میں داخل ہنے کا حکم ہوا تھا وہ بیت المقدس یا اس کے قریب اور کوئی بستی تھی اور ہوسکتا ہے کہ وہ اریحا ہو جیسا کہ عبداللہ عباس فرماتے ہیں۔ بہرحال بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب وادی تیہ میں پڑے پڑے گھبرا گئے تو ان کو کسی شہر میں جانے کا حکم ہوا جس کی تفصیل آگے آتی ہے لیکن اس بستی یا شہر میں جاتے وقت یہ ہدایت کی گئی کہ سجدہ کر کے اور شکر کے نفل پڑھ کر داخل ہونا یا تواضع اور عاجزی کرتے ہوئے دروازے میں جانا یا کمر کو جھکائے ہوئے ادب سے داخل ہونا اور زبان سے حطہ کہئے جانا یعنی ہمارے گناہ ہم پر سے گرا دے اور ہماری خطائیں اور کو تا ہیں معاف کر دے۔ اگر تم نے اس حکم کی تعمیل کی تو ہم تمہاری سب خطائیں معاف فرما دیں گے اور نیک لوگوں کو اس کے علاوہ اور زیادہ بھی دیں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس جنگل میں پھنسے تھے، اپنی تقصیر سے کہ سورة مائدہ میں بیان ہے۔ پھر ایک کھانے سے تھک گئے۔ تب ایک شہر میں پہنچایا اور حکم کیا کہ دروازے میں سجدہ کر کر جائو اور حطہ کہو یعنی گناہ اترے۔ (موضح القرآن) فائدہ :- اگر اس واقعہ کا تعلق بھی وادی تیہ سے ہو جیسا کہ شاہ صاحب نے فرمایا تو یہ اسی واقعہ کا ایک حصہ سمجھا جائے جس کا بیان آگے آتا ہے اور یہ جو فرمایا کہ نیک اور مخلصین کو زیادہ دیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ثواب اور زیادہ دیا جائیگا۔ (تسہیل)
Ayah 2:59

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

پھر جو لوگ ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کی جگہ جس کی ان سیفرمائش کی گئی اور دوسرا لفظ بدل دیا اس پر ہم نے ان ظالموں پر ا ن کی نافرمانیکے باعث آسمان سے عذاب نازل کیا۔4

ف 4 پھر ان ظالموں اور نا انصافوں نے اس کلمہ کی بجائیجس کا ان کو حکم دیا گیا تھا ایک اور کلمہ اس کلمہ کے خلاف بدل لیا یعنی جو کچھ بتایا تھا اس کے خلاف کہنے لگے۔ تب ہم نے ان ظالموں پر اس توجہ سے کہ وہ عدول حکمی اور نافرمانی کیا کرتے تھے۔ آسمان سے عذاب نازل کیا۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری بتائی ہوئی بات کا مذاق اڑایا حطۃ کی بجائے۔ حبۃ فی شعیرۃ یا حتطۃ فی شعیرۃ یا حنطۃ کہنا شروع کیا یعنی غلہ جو میں ملا ہوا آیا۔ گیہوں جو میں ملے ہوئے یا گیہوں یا حنطۃ حمراء یعنی لال گیہوں اور داخل ہوتے وقت بجائے تواضع کے پائوں آگے پھیلا کے سرین کے بل زمین پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اس گستاخی اور سرکشی کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ یہ عذاب طاعون کا عذاب تھا۔ جس کی وجہ سے 70 ہزار آدمی مرگئے۔ حضرت اسامہ بن زید اور سعدبن مالک اور خزیمہ بن ثابت ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں ۔ فرمایا نبی کریم ﷺ نے یہ طاعون ایک عذاب ہے اور اس عذاب کا بقیہ ہے جس عذاب میں تم سے پہلے لوگ مبتلا کئے گئے تھے۔ جب یہ ظاعون کسی سر زمین میں واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو اور جب تم کو یہ اطلاع ملے کہ کسی سر زمین میں طاعون واقع ہے تو اس میں داخل بھی نہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ٹھٹھے سے حطۃ کے بدلے کہنے لگے حنطۃ یعنی گیہوں اور سجدے کے بدلے سرین پر پھسلنے پھر شہر میں جا کر ان پر طاعن پڑا یعنی وبا، پھوڑے کی دوپہر میں قریب 70 ہزار آدمی مرے۔ (موضح القرآن) ہر چند کہ طاعون بھی منملہ زمین کی بیماریوں کے ایک بیماری ہے۔ لیکن چونکہ اس کے وقوع کا حکم آسمانی تھا اس لئے اس کو آسمانی عذاب فرمایا۔ (تسہیل)
Ayah 2:60

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم کے واسطے پانی کی دعا کی اس پر ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ تم ایک خاص پتھر پر اپنی لکڑی مارو پھر لکڑی کے مارتے ہیں اس پتھر سے بارہ چشمے بہہ نکلے بنی اسرائیل کے ہر ایک قبیلے نے اپنا اپنا گھاٹ جان لیا اللہ تعالیٰ کی روزی سے کھائو اور پیئو اور ملک میں فساد نہ برپا کرتے پھر۔1

ف 1 اور وہ موقعہ یاد کرو جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب کیا اور پانی کے لئے خدا سے دعا کی اور اس پر ہم نے حضرت مسویٰ کو حکم دیا کہ تم اپنی لکڑی اس خاص پتھر پر مارو چناچہ لکڑی مارنے سے اس پتھر میں سے بارہ چشمے بہہ نکلے بنی اسرائیل کے ہر ایک قبیلے نے اپنا اپنا گھاٹ اور پانی پینے کا موقع جان لیا ارشاد ہوا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور پئیو اور زمین میں فساد نہ برپا کرتے پھرو۔ (تیسرا) یہ واقعہ بھی اسی وادی تیہ میں پیش آیا جب پیاس لگی اور پانی باقی نہ رہا۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے درخواست کی۔ حضرت موسیٰ نے خد تعالیٰ کی جناب میں دعا کی اس پر ارشاد ہوا کہ فلاں پتھر پر لکڑی مارو۔ لکڑی مارنے سے بارہ چشمے بہہ نکلے۔ حضرت یعقوب کے بارہ لڑکے تھے ہر لڑکے کی اولاد ایک خاندان تھا۔ جیسا کہ فرماتے ہیں وقطعنھم اثنتی عشرۃ اسباطا امما۔ یعنی ہم نے ان کو بارہ قبیلوں اور بارہ خاندانوں میں تقسیم کردیا پتھر سے بارہ چشمے نکلے ہر قبیلہ کا ایک چشمہ سب نے اپنا اپنا چشمہ متعین کرلیا ہر قبیلہ اپنے چشمے سے پانی لیتا ۔ حضرت موسیٰ کے عصا کی بابت مشہور ہے کہ وہ جنت کا تھا اور حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے ہمراہ لائے تھے اور حضرت آدم کی اولاد میں ہر نبی اس کا محافظ ہوتا تھا یہاں تک کہ حضرت شعیب نے وہ عصا حضرت موسیٰ کے سپرد کیا حضرت موسیٰ کے عصاکا نام علیق یا نبغہ تھا اور اس کا طول دس ذراع تھا واللہ اعلم جس پتھر کو عصا مارنے کا حکم ہوا تھا وہ یا تو کوئی خاص پتھر تھا جیسا کہ ہمارے ترجمے سے ظاہر ہے یا عام پتھر مارنے کا حکم ہوا ہو جیسا کہ بعض لوگوں نے یہی قول اختیار کیا ہے اور معجزے کے اعتبار سے اس کو راجح اور اوفق فرمایا ہے۔ بہرحال یہ حضرت موسیٰ کا معجزہ تھا کہ ایک پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے نبی کریم ﷺ کی انگلیوں سے بعض غزوات میں پانی کا نکلنا اور اس پانی سے پورے لشکر کا سیراب ہونا ثابت ہے اللہ تعالیٰ کی روزی سے بنی اسرائیل کو کھانے پینے کی اجازت دی گئی چونکہ وہ لوگ ناشکری اور نافرمانی کے خوگر تھے اس لئے فساد برپا کر نیکی ممانعت کی گئی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اسی جنگل میں پانی نہ ملا تو ایک پتھر سے بارہ چشمے نکلے بارہ قوم تھے کسی میں لوگ زیادہ سکی میں کم ہر قوم کے موافق ایک چشمہ تھا اس سے پہچان لیا جب لشکر کوچ کرتا تو پتھر ساتھ اٹھا لیتے جب مقام ہوتا تو رکھ دیتے۔ موضح القرآن (تسہیل)
Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ایک ہی قسم کی خوراک پر ہرگز نہیں رہ سکتے سو تو اپنے رب سے ہمارے واسطے دعا کر کہ وہ ہمارے لئے ایسی چیزیں پیدا کرے جو عام طور پر زمین سے اگتی ہیں زمین کا ساگ اور زمین کی ککڑی اور زمین کا گیہوں اور اس کی مسور اور اسکی پیاز موسیٰ نے کہا کیا تم بہتر شئے کے مقابلہ میں ادنیٰ درجہ کی چیز کو لینا چاہتے ہو تم کسی شہر میں جا اترو بلاشبہ وہں تم کو وہ چیزیں مل جائیں گی جو تم مانگتے ہو اور ذلت و پستی ان پر چمٹا دی گئی اور وہ غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ احکام خداوندی کا انکار کیا کرتے تھے۔ اور ناحق جانتے ہوئے پیغمبروں کو قتل کردیا کرتے تھے اس دلیری کا سبب یہ تھا کہ وہ نافرمانی کے خوگر تھے اور حدود شرعیہ سے نکل جایا کرتے تھے۔2

ف 2 اور وہ بات یاد کرو جب تم نے موسیٰ سے کہا تھا اے موسیٰ ہم ایک ہی قسم کی خوراک پر ہرگز صبر نہیں کرسکتے اور ایک ہی قسم کے کھانے پر نہیں رہ سکتے کہ بس من اور سلویٰ ہی کھاتے رہیں تم اپنے رب سے ہمارے واسطے دعا کرو کہ وہ ہمارے لئے ایسی چیزیں پیدا کرے جو زمین اگا کرتی ہیں۔ جیسے زمین کا ساگ اور ککڑی اور اس کا گیہوں اور زمین کی مسور اور اس کی پیاز ان کی اس خواہش اور مطالبہ پر حضرت موسیٰ نے فرمایا کیا تم ایسی چیز کے مقابلہ میں جو بہتر اور بڑھیا ہے وہ لینا چاہتے ہو جو گھٹیا اور کم درجہ کی ہے اچھا اگر تم کو اسی پر اصرار ہے تو اب تم کسی شہر میں جا اترو وہاں تم کو وہ چیزیں ملیں گی جن کا تم مطالبہ کر رہے ہو اور اس قسم کی گستاخیوں اور ناشائستہ حرکات کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر ذلت اور پستی چمٹا دی گئی اور ذلت و مسکنت ان سے وابستہ کردی گئی اور وہ غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے اور اس ذلت و غضب کا باعث یہ ہوا کہ وہ لوگ احکام خداوندی کے منکر ہوجاتے تھے اور احکام الٰہی کے ماننے اور قبول کرنے سے انکار کردیا کرتے تھے اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو ناحق قتل کردیا کرتے تھے اور اس جرأت و بےباکی کی وجہ یہ تھی کہ وہ نافرمانی اور بےحکمی کے خوگر تھے اور حدود شرعیہ سے باہر نکل جایا کرتے تھے۔ (تیسیر) یہ واقعہ بھی ارض تیہ میں پیش ایٓا جب ایک قسم کے کھانے سے جی بھر گیا تو حضرت موسیٰ سے دعا کرانے لگے اور یہ درخواست کی کہ اپنے رب سے ہمارے لئے یہ ترکاریاں طلب کیجیے قوم کے معنی عام طور سے گیہوں کئے گئے ہیں بعض لوگوں نے لہسن کیا ہے اور اس سوال کا مطلب بظاہر یہ تھا کہ ہم کو کسی آبادی میں جانی کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ بھی جانتے تھے کہ یہ چیزیں اس جنگل میں کہاں میسر ہوسکتی ہیں اور باوجودیکہ من اور سلویٰ دو چیزیں تھیں لیکن ان دونوں کو طعام واحد کہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کو ملا کر کھاتے تھے اس لئے ایک قسم کی غذا کہہدیا۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا ای کنعمت بلا مشقت و کلفت کے مل رہی ہے اور وہ لذیذ بھی ہے اب اس کی جگہ جو چیز طلب کر رہے ہو وہ ظاہر ہے کہ محنت و مشقت سے حاصل ہوگی اور وہ اس قدر لذیذ بھی نہ ہوگی تو بہتر کو کمتر سے بدلتے ہو تو اچھا جائو اب کسی شہر میں جائو وہاں جا کر کھیتی باڑی کرو تو تم کو تمہاری اشیاء مسئولہ مل جائیں گی۔ یہ شہر ارض تیہ کے اسٓ پاس کوئی آبادی ہوگی جہاں جانے کا حکم ہوا اور یہی ان کی وہ گستاخیاں اور نافرمانیاں تھیں جس کے باعث ان پر آئندہ ذلت و مسکنت لازم کردی گئی۔ چناچہ آج تک یہودیوں کی یہی حالت ہے۔ خواہ وہ کتنے ہی دولت مند ہوں لیکن اپنی حرص اور اپنے بخل کے باعث مسکنت اور فقر میں مبتلا ہیں اور یہ ذلت و مسکنت ان پر دائمی طور پر لازم کی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اقوام عالم میں ان کی کوئی قیمت نہیں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذلت سے مراد ان کی محکومی اور غلامی ہو۔ جیسا کہ نویں پارے میں فرمایا ہے۔ واذتاذن ربک لیبعثن علیھم الی یوما لقیمۃ من یسومھم سوئالعذاب اور یہ سنت اللہ ہے کہ نافرمانیوں کی سزا اس طرح بھی دی جاتی ہے کہ حکمرانوں کی حکومت چھین کر ان کو محکوم اور غلام کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہود کے لئے بھی دائما غلامی اور محکومی لکھ دی گئی ہو اور مہارے زمانے میں جو ان کی حکومت قائم کرنی کی سعی کی جا رہی ہے تو وہ ظاہر ہے کہ فلسطین کے علاقہ میں جو حکومت قائم ہوگی وہ بھی موجودہ زمانے کی کوئی چھوٹی سی محکوم حکومت ہوگی۔ ایسی چھوٹی چھوٹیریاستیں تو ان کی اس سے پیشتر بھی سلطنت عباسیہ کے دور میں بن چکی ہیں۔ آگے اس ذلت و مسکنت اور غضب الٰہی میں مبتلا ہونے کا سبب بیان فرمایا کہ یہ لوگ احکام الٰہی کو ماننے سے منکر ہوتے تھے اور نبیوں کو قتل کردیا کرتے اور ناحق کا مطلب یہ ہے کہ یہ بھی جانتے تھے کہ انبیاء کو قتل کرنا بہت بڑا ظلم ہے تو ایک فعل کو ناحق سمجھتے ہوئے کرتے تھے۔ جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں اشارہ بھی کیا ہے آگے پھر اس انکار اور قتل انبیاء کا سبب فرمایا کہ نافرمانی اور حدود الٰہیہ سے باہر نکل جانے کے عادی تھے بعض مفسرین نے دوسرے ذلک کو بھی ذلت و مسکنت وغیرہ ہی کا سبب قرار دیا ہے۔ بہرحال ایک بات بالکل ظاہر ہے جس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ احکام الٰہی کو ترک کردینا اور نافرمانی کا خوگر ہونا اور احکام شرعیہ کی توہین کرنا اور انبیاء (علیہم السلام) کی یا علمائے حق کی تواہین و تذلیل کا مرتکب ہونا یہ ایسے امور ہیں جو دنیا میں ذلت اور فقر اور غضب الٰہی اور محکومی اور غلامی کو لازم کردیا کرتے ہیں۔ یہود کی یہ سزا سن کر شاید کسی کو شبہ ہو کہ اب تو اگر توبہ کر کے کوئی یہودی ایمان بھی لائے تو شاید اس کی توبہ بھی قبول نہ ہو اور اس کا ایمان بھی غیر معتبر ہو۔ اس شبہ کا آگے کی آیت میں ازالہ فرماتے ہیں یا یہود کے اس زعم باطل کا رد کرنا ہے کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد میں اس لئے ہم خواہ کچھ بھی کرتے پھریں آخر جنت کے ہم ہی مالک ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عام اعلان کرنا مقصود ہو جیسا کہ قرآن کا قاعدہ ہے کہ روحانی امراض اور اخلاقی خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے اصلاح اور علاج کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے اور کفار کے تذکرے میں مومنین کی جانب بھی توجہ دلاتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور نصاریٰ اور ستارہ پرست ان میں سے جو کوئی بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پھر ایمان لائے اور نیک کام کرتا ہے تو ایسے لوگوں کو ان کا اجر ان کے رب کے ہاں ملنے والا ہے اور ان کو نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔1

ف 1 بلاشبہ جو لوگ مسلمان ہیں اور جو یہودی اور نصاریٰ ہیں اور فرقہ صائبین غرض کوئی بھی ہو ان میں سے جو کوئی بھی اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لائے اور نیک اعمال کا پابند رہے تو ایسے لوگوں کو ان کی خدمت کا صلہ ان کے رب کے ہاں ملنے والا ہے اور ان پر کسی طرح کا خوف اور اندیشہ نہیں ہے اور نہ وہ کبھی حزین و غمگین ہوں گے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ خواہ کوئی منفق ہو یا کھلم کھلا یہودی اور نصرانی ہو یا فرقہ صائبین یعنی کواکب پرست موجود بھی دعوت اسلامیکو قبول کرلے گا اور سچے دل سے اپنے اعتقاد اور اعمال کو درست کرلے گا تو اس کو اس کی محنت اور خدمت کا اجر ملے گا۔ ہم نے ان الذین امنوا سے مراد منافقین لئے ہیں جو محض زبان سے اسلام کا اظہار کرتے ہیں چونکہ یہ اعلان جملہ غیر مسلموں کے لئے ہے اس لئے ہم نے بھی بعض مفسرین کی رائے سے اتفاق کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ان سے مراد اہل ایمان ہوں منافق نہ ہوں۔ جیسا کہ مفسرین کا عام رجحان یہی ہے تو پھر اس کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی بادشاہ کسی خاص انعام کا اعلان کرتے وقت اپنوں کا اور غیروں کا سب کا نام لیا کرتا ہے اب مطلب یہ ہوگا کہ خواہ مومنین ہوں خواہ یہودی اور نصرانی اور ستارہ پرست ہوں غرض یہ کہ کوئی بھی ہو جو اللہ تعالیٰ پر اور روز آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک اعمال کا پابند رہے گا ان کو یہ صلہ ملے گا اس تقریر کے بعد یہ شبہ نہیں رہتا کہ مومن تو پہلے ہی سے مومن ہے وہ کیا ایمان لائے گا اگر کوئی پہلے سے مومن ہے تو اچھا فہو المراد یہاں تو ہر شخص کو یہ بتانا ہے کہ ہر وفادار اور باغی کی نجات کا معیار یہ ہ جو اس پر پہلے سے پورے ہیں وہ تو ہیں ہی اور جو نہیں ہیں وہ یہ اوصاف پیدا کریں۔ بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ اس آیت میں مومنین سے وہ مومن مرد ہیں جو نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل بت پرستی سے بیزار تھے اور راہ حق کے متالشی تھے رہا فرقہ صائبین تو اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں کسی نے کہا نصاریٰ اور مجوس کے بین بین کوئی فرقہ ہے کسی نے کہا حضرت نوح (علیہ السلام) کے دین پر ہیں کسی نے کہا ملائکہ کی پرستش کرتے ہیں کسی نے کہا کواکب پرست ہیں یہ ممکن ہے کہ یہ فرقہ ابتداء میں کسی نبی کا پیرو ہو پھر آگے چل کر بگڑ گیا ہو اور مختلف رسوم شرکیہ میں مبتلا ہوگیا ہو۔ الغرض اس فرمان کا شاہی خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے دربار میں کسی شخص کی تخصیص نہیں ہے جو مطیع اور فرمانبردار ہو اور اس کا اعتقاد صحیح ہو وہ اس صلہ اور انعام کا مستحق ہوگا خواہ وہ پہلے سے وفادار ہو یا کوئی مخالف ہو اور اب ایمان لا کر اعمال صالحہ کا پابند ہوجائے اس آیت میں ایمان بااللہ اور ایمان بالآخرت اور اعمال صالحہ کا ذکر فرمایا یہ وہ چیزیں ہیں جو ہر پیغمبر کی شریعت میں مشترک ہیں اس لئے یہود اور نصاریٰ وغیرہ کا ذکر کیا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے جو پیرو ان چیزوں کے پابند تھے وہ بھی اجر وثواب اور نجات کے مستحق تھے لیکن یہ سب کچھ اسی وقت تک کے لئے تھا جب تک نبی آخر الزمان کی بعثت اس عالم میں نہیں ہوئی تھی لیکن نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کے بعدشریعت اسلامیہ کی پیروی اور نبی کریم ﷺ کی اطاعت کے سوا اور کوئی راہ نات کی نہیں اور اس آیت میں پیغمبر کے ذکر نہ کرنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پیغمبر پر ایمان لانا ضروری نہیں کیونکہ تمام امور شرعی کے ذکر کا ایک جگہ التزام نہیں ہے۔ ایمان کی تکمیل کے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اس کے فرشتے اس کی کتابیں اس کے رسول سب ہی کو تسلیم کیا جائے تعجب ہے کہ بعض لوگوں نے نبی کریم ﷺ پر ایمان نہ لانے کو اس آیت سے کس طرح سمجھ لیا جب کہ عدم ذکر عدم ایمان کو مستلزم نہیں ایمان باللہ وہی معتبر ہوسکتا ہے جو پیہ پیغمبر کے سمجھانے اور بتانے سے اختیار کیا جائے رسالت کے واسطے سے جو توحید اختیار کی جائے وہی توحید ہے ورنہ وہ ایک مذاق ہے جو آج کل کے مدعیان توحید خدا کی توحید کے ساتھ کر رہے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب ہیں یعنی کسی فرقے پر موقوف نہیں یقین لانا شرط ہے اور عمل نیک اپنے اپنے وقت جس نے یہ کیا ثواب پایا یہ اس واسطے فرمایا کہ بنی اسرائیل اسی پر مغرور تھے کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں ہم ہر طرح خدا کے ہاں بہتر ہیں یہودی کہتے ہیں حضرت موسیٰ کی امت کو نصاریٰ حضرت عیسیٰ کی امت کو صائبین بھی ایک فرقہ ہیں حضرت ابراہیم کو مانتے ہیں۔ (موضح القرآن) جہاں رسولوں پر ایمان لانے کا ذکر آئے گا وہاں اس مسئلہ پر انشاء اللہ مزید روشنی ڈالی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ساتویں پارے میں فرمایا ہے۔ والذین یومنون بالاخرۃ یومنون بہ یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں، آج کل آخرت پر ایمان رکھنا بھی ایک فیشن بن گیا ہے آخرت پر ایمان کا دعویٰ اور قرآن سے انکار ایک عجیب مضحکہ خیز سی چیز ہے پھر لطف یہ ہے کہ اس قسم کی مضحکہ انگیز باتوں کا قرآن سے استدلال نعوذ بااللہ من شرور انفسنا آگے پھر اپنے احسانات اور ان کی احسان فراموشی کا تذکرہ فرماتے ہیں (تسہیل)
Ayahs 2:63–64

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور وہ واقعہ یاد کرو جب تم سے ہم نے عہد لیا اور ہم نے کوہ طور کو اٹھا کر تمہارے اوپر معلق کردیا اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو پوری عزیمت اور قوت سے قبول کرو اور جو احکام اس میں ہیں ان کو یاد رکھو تاکہ تم محفوظ رہو۔

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر تم اس قول وقرار کے بعد اپنے عہد سے پھرگئے سو اگر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی تم پر نہ ہوتی تو تم ضرور تباہ برباد ہوجاتے ۔2

ف 2 اور وہ بات یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد اور قول وقرار لیا اور تمہارے سروں پر طور پہاڑ کو اٹھا کر معلق کردیا اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو پوری قوت اور کوشش کے ساتھ فوراً قبول کرو اور جو احکام اس کتاب میں مذکور ہیں ان کو یاد رکھو اور پڑھتے رہو تاکہ تم متقی ہو جائو اور عذاب الٰہی سے محفوظ رہو پھر تم اس قول وقرار کے بعد اپنے عہد سے پھرگئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی تم پر نہ ہوتی تو یقینا تم بڑا نقصان اٹھانیوالوں میں سے ہوجاتے (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب ان کو تورایت عطا ہوئی تو اس کے احکام ان کو سخت معلوم ہوئے اور ان کے حال کے مناسب بعض احکام تھے بھی سخت تو انہوں نے پہلے تو یہ کہنا شروع کیا کہ ہم سے اللہ تعالیٰ خود فرمائے کہ یہ کتاب ہم نے عطا کی ہے اس پر حضرت موسیٰ ایک جماعت کو لیکر طور پر پہنچے وہاں جو بات پیش آئی اس کا ذکر اوپر آچکا ہے ۔ جب موسیٰ اس جماعت کو لیکر واپس آئے تو اس نے شہادت بھی دے دی اور شہادت میں اتنا فقرہ اور بڑھا دیا کہ ہاں یہ کتاب تو اللہ تعالیٰ نے ہی عطا فرمائی ہے مگر اتنا کہہ دیا ہے کہ تم سے جو عمل ہو سکے وہ کرنا اور جو نہ ہو سکے تو اس کو ہم معاف کردیں گے۔ غرض اس کے بعد قوم نے بالکل ہی صاف طور سے کہہ دیا کہ جناب اس توریت کے احکام پر عمل کرنا ہمارے بس کا کام نہیں۔ چناچہ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا اور وہ طور پہاڑ کا ایک حصہ اٹھا کرلے آئے اور ان پر اس کو معلق کردیا۔ بنی اسرائیل یہ دیکھ کر توبہ کرنے لگے اور سجدے میں گرے مگر سجدہ آدھے چہرے پر کیا اور ایک آنکھ سے اس پہاڑ کو دیکھتے رہے کہ کہیں ہم پر گرتا تو نہیں حکم ہوا اس کتاب کو مضبوطی اور قوت کے ساتھ قبول کرو اور جو احکام ا س میں ہیں ان کو پڑھتے رہو تاکہ وہ احاکم یاد رہیں۔ آخر انہوں نے تسلیم کیا اور قول وقرار کیا۔ اسی عہد کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے مگر اس میثاق کے بعد پھر اپنے عہد سے پھرگئے، اس پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا ورنہ اگر اس کی طرف سے گرفت ہوتی تو بالکل ہی ہی تباہ و برباد ہوجاتے، چناچہ آگے اپنی گرفت اور اپنے عذاب کا ایک واقعہ بتاتے ہیں یہاں اگر یہ شبہ کیا جائے کہ اسلام میں تو جبر نہیں ہے پھر بنی اسرائیل پر کیوں جبر کیا گیا اور پہاڑ ان پر معلق کر کے ان سے کیوں عہد لیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک کسی کو اسلام قبول کرنے پر ابتداً مجبور نہیں کیا جاسکتا لیکن کوئی اسلام قبول کرنے کے بعد شریعت کے ماننے سے انکار کرے یا احکام الٰہی کو تسلیم نہ کرے تو اس پر جبر کیا جاسکتا ہے یہ لوگ چونکہ پہلے اپنی رغبت سے اسلسام قبول کرچکے تھے، اس لئے ان کو شریعت موسوی پر قائم رہنے اور اس پر عمل کرنے کی غرض سے مجبور کیا گیا، نزول توریت سے قبل یہ لوگ خود ہی مطالبہ کرتے تھے کہ کوئی کتاب ہم کو دی جائے جب کتاب عنایت ہوئی تو اس کے قبول کرنے سے انکار کرنے لگے، اس پر پہاڑ معلق کیا گیا، کہا جاتا ہے کہ یہود کے ہاں اب تک سجدے کا دستور یہی ہے کہ چہرے کے باتیں حصہ پر سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کا مطلب یہ ہے کہ توبہ کی توفیق عطا فرمائی یا مرتے دم تک مہلت دے دی اور اس عہد شکنی کے عوض کوئی عتاب نازل نہیں کیا۔ بعض مفسرین نے فضل اللہ سے نبی کریم ﷺ کی بعثت مراد لی ہے تو اس صورت میں یہ خطاب ان یہود سے ہوگا جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں موجود تھے اور اب مطلب یہ ہوگا کہ توریت میں نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لانے کا یہی عہد لیا گیا تھا، تمہارے بڑوں نے تو اس نبی کا زمانہ پایا ہی نہیں مگر تم نے پایا اور تم ایمان نہیں لائے تو جس طرح تمہارے بڑے عہد شکنی کے مرتکب ہوئے تھے تم بھی اس کے مرتکب ہو رہے ہو لیکن یہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کا ایک انعام ہے، اس کی برکت سے اب کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوگا جیسا پہلے لوگوں پر نازل ہوتا رہا ہے، واللہ اعلم حضرت شاہ صاحب تتقون پر فرماتے ہیں جب تورات اتری تو کہنے لگے ہم سے اتنے حکم نہ ہوں گے تب پہاڑ اوپر آیا کر گرپڑے تب ڈر کر قبول کرلیا۔ موضح القرآن (تسہیل)
Ayahs 2:65–66

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں سے خوب واقف ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن کے مقررہ احکام میں زیادتی کی تھی سو ہم نے ان کو کہا کہ تم ذلیل و خوار بندر بن جائو

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

پھر ہم نے اس مسخ کے واقعہ کو ان لوگوں کے لئے جو وہاں موجود تھے اور ان کے لئے جو پیچھے آنیوالے تھے ایک عبرت آموز واقعہ بنادیا اور ان لوگوں کے لئے جو ڈرنے والے ہیں۔ اس واقعہ کو موجب نصیحت بنایا۔3

ف 3 اور تم ان لوگوں کا حال تو خواب اچھی طرح جانتے ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے بارے میں زیادتی کی تھی اور جو احکام ہفتہ کے دن کے لئے ان کو دیئے گئے تھے۔ ان احکام کی مخالفت میں حد سے تجاوز کر گئے تھے۔ پھر ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم بندر ہو جائو۔ ذلیل و خوار اور پھٹکارے ہوئے پھر ہم نے اس واقعہ مسخ اور عقوبت کو ان لوگوں کے لئے جو وہاں موجود تھے اور جو پیچھے تھے ، ایک عبرت آموز واقعہ بنادیا اور جو لوگ خدا سے ڈرنے والے ہیں ان کے لئے اس واقعہ کو موجب نصیحت و موعظت بنایا۔ (تیسیر) منجملہ اور احاکم کے یہود کو یہ بھی حکم تھا کہ ہفتہ کے دن عبادت میں مشغول رہا کرو اور اس دن مچھلیاں نہ پکڑا کرو۔ لیکن کچھ لوگوں نے کھلم کھلا اور کچھ لوگوں نے حیلہ اور فریب کر کے ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنی شروع کردیں، آخر ان پر مسخ کا عذاب نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے امر تکوینی سے یہ لوگ بندر بنا دیئے گئے، ان کی صورتیں تو بندروں کی سی ہوگئیں مگر فہم باقی رہا ایک دوسرے کو دیکھتے اور پہچانتے تھے اور روتے تھے، آخر تیسرے دن سب مرگئے۔ ان پر ایسا خوفناک قہر نازل ہوا کہ صرف بندر ہو جائو پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ خاسئین بھی فرمایا جس کے معنی ذلیل اور رحمت سے دور اور پھٹکارے ہوئے کے ہیں ان بندر نما انسانوں نے تین دن تک نہ کچھ کھایا نہ کچھ پیا اور نہ ان کی نسل باقی رہی بلکہ وہ سب مرگئے اور یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ آج کل جو بندر ہیں یہ ان کی اولاد ہیں بلکہ بندر ایک مستقل جانور ہے جو ہمیشہ سے چلا آتا ہے یہ لوگ تو ان بندروں کی شکل بنا دیئے گئے تھے باقی عقل و شعور سب آدمیوں کا سا موجود تھا، حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ ان کے جوان بندر اور بوڑھے سوئر کی شکل میں منتقل کردیئے گئے، مابین یدیھا کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ہم نے اختیار کیا کہ جو لوگ وہاں موجود تھے اور جو بعد میں آئے ان کے لئے یہ واقعہ عبرت انگیز اور سبق آموز کردیا گیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بستیاں مراد ہوں جو شہر کے آگے اور پیچھے آباد تھیں، بہرحال جو لوگ اس واقعہ کے دیکھنے والے ہیں اور جو بعد میں آنیوالے ہیں ان کے لئے یہ درد ناک واقعہ نکال یعنی عبرت ہے اور جو اہل خوف وتقویٰ ہیں ان کے لئے موعظت و نصیحت ہے اس لئے کہ لوگ دو ہی قسم کے ہوتے ہیں، نافرمان اور فرمانبردار سونا فرمانوں کے لئے اس واقعہ کو نکال فرمایا اور فرمانبرداروں کے لئے موعظت ارشاد ہوا، یہ واقعہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوا تھا، تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ نویں پارے میں آ جائیگی۔ حضرت شاہ صاحب نے بھی سورة اعراف پر محول کیا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور وہ زمانہ یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم ایک بیل ذبح کرو انہوں نے کہا کیا آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں موسیٰ نے جواب دیا میں اس بات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جائوں ۔1

ف 1 اور اے بنی اسرائیل تم اس واقعہ کو یاد کرو جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم ایک بیل ذبح کرو اس پر حضرت موسیٰ کی قوم نے کہا کیا آپ ہمارا مذاق بنانا چاہتے ہیں اور ہم سے ہنسی کرتے ہیں حضرت موسیٰ نے فرمایا میں اس بات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جائوں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ عامیل نامی ایک شخص تھا جو قتل ہوگیا تھا مرنے سے پہلے اس کا بیان قلم بند نہیں ہوسکا قاتلوں نے یہ ہوشیاری کی کہ مقتول کی لاش شارع عام پر یا کسی شخص کے دروازے کے آگے ڈال دی جب قاتل کا پتہ نہ چلا تو مقتول کے وارثوں نے حضرت موسیٰ سے عرض کی جناب ہمارے چچا کے قاتل کا پتہ نہیں چلتا آپ اللہ سے دعا کیجیے حالانکہ وہی بھتیجے قاتل تھے اس پر حضرت موسیٰ نے جب دعا کی تو یہ حکم ہوا حضرت موسیٰ نے قوم کو سنایا کہ اللہ تعالیٰ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم ایک بیل کو ذبح کرو اس پر قوم کے لوگوں نے یہ کہا کہ آپ کیا ہم سے مذاق کرنا چاہتے ہیں چونکہ تمسخر اور مذاق ایک عبث فعل ہے اور یہ کام سمجھ دار لوگوں کا نہیں ہے بلکہ جاہلوں کا کام ہے اس لئے موسیٰ نے کہا میں جاہلوں میں ہو جائوں اس پر خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہم نے بقرۃ کا ترجمہ بیل کیا ہے چونکہ آگے کی آیت میں جو کام ذکر کیا ہے وہ عام طور پر بیل ہی کیا کرتا ہے اس لئے ہم نے بیل ہی ترجمہ کیا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ گائے ہو اور وہ لوگ گائے سے کھیتی کا کام لیتے ہوں بیل کو استعمال نہ کرتے ہوں، (واللہ اعلم) بنی اسرائیل کی چونکہ عام عادت تھی کہ ہر بات میں حجتیں نکالا کرتے تھے وہی طریقہ انہوں نے اس موقعہ پر بھی اختیار کیا چناچہ جس قدر تحقیق کرتے گئے اسی قدر سختی بڑھتی گئی اور معاملہ سنگین ہوتا گیا۔ شددا علی انفسھم فشد اللہ علیھم ان کی سمجھ میں قتل کی تحقیق کا تعلق بیل کے ذبح کرنے سے نہیں آیا اس لئے سوال جواب کرنے شروع کردیئے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:68–71

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا آپ اپنے رب سے ہمارے لئے درخواست کیجیے کہ وہ ہم کو اس بیل کے اوصاف بیان کر دے کہ وہ کیسا ہو موسیٰ نے کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ بیل ایسا ہو جو نہ تو بہت بڈھا ہو اور نہ بالکل بچہ ہو بلکہ وہ بیل ان دونوں حالتوں کے درمیان متوسط عمر کا ہو سو جو تم کو حکم دیا گیا ہے اس کو بجا لائو۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہماری خاطر اپنے رب سے اتنی درخواست اور کردیجیے کہ وہ ہم کو بتادے اس کا رنگ کیسا ہو موسیٰ نے کہا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایک زرد رنگ کا بیل ہے جس کا رنگ بہت گہرا شو خ ہے جو دیکھنے والوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہماری خاطر اپنے رب سے آپ اتنا اور دریافت کیجیے کہ وہ ہم کو بتادے کہ وہ بیل کس قسم کا ہو کیونکہ وہ بیل ابھی ہم پر مشتبہ ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو اب کے ہم ضرور راہ پالیں گے۔

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا خدا تعالیٰ فرماتا ہے وہ بیل محنت کش نہ ہو کہ زمین کو جو تنا ہو اور نہ وہ کھیتی میں آبپاشی کرتا ہو وہ صحیح سالم ہو اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو اس پر ان لوگوں نے کہا اب آپ پوری اور صاف بات لائے پھر انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔2

ف 2 انہوں نے کہا اے موسیٰ آپ اپنے رب سے ہمارے لئے درخاوست کیجیے کہ وہ اس بیل کا حال اور اس کا وصف بیان کرے کہ وہ کیسا ہو کتنا بڑا ہو۔ حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ فرمتا ہے وہ بیل نہ تو بہت بوڑھا ہو اور نہ بالکل بچہ ہو بلکہ اس کی عمران دونوں حالتوں کے درمیان ہو اب جو کچھ تم کو حکم دیا گیا ہے اس کو کر ڈالو اپر انہوں نے کہا آپ اپنے رب سے ہمارے لئے یہ درخواست اور کردیجیے کہ وہ یہ بیان کرے کہ اس بیل کا رنگ کیسا ہو حضرت موسیٰ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ ایک ایسا بیل ہو جس کا رنگ زرد ہو اور زرد بھی بہت گہرا اور شوخ جو دیکھنے والوں کو فرحت بخش اور خوش آئند ہو یہ سن کر انہوں نے کہا اچھا ایک اور درخواست اپنے رب سے ہمارے لئے کردیجیے کہ وہ ذرا واضح طور پر یہ بیان کر دے کہ وہ بیل کیسا ہو اور اس کے اوصاف کیا ہوں وہ گھر کھڑا رہتا ہو یا ہل میں جوتا جاتا ہو کیونکہ اس بیل کا معاملہ ہم پر مشتبہ ہوگیا ہے اور اس میں ابھی کچھ اشتباہ باقی ہے اور ہم انشاء اللہ اب کی دفعہ ضرور راہ پالیں گے اور اس کو ٹھیک ٹھیک سمجھ جائیں گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو ہل ہی میں جوتا گیا ہو جس سے زمین جوتی جائے اور نہ اس کو پانی میں لگایا گیا ہو جس سے کھیتی کی آب پاشی کی جائے صحیح سالم اور بےداغ ہو وہ کہنے لگے اب آپ صاف اور پورا جواب لائے ہیں پھر انہوں نے ان اوصاف کا بیل تلاش کر کے اس کو ذبح کیا حالانکہ پے در پے ان کے سوالات اور حجت بازی سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ یہ کام کرنے والے نہیں ہیں۔ (تیسیر) بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ایک شخص کی لڑکی تھی اس سے کسی نے شادی کا پیام دیا باپ نے انکار کردیا اس پر اس پیام دینے والے نے لڑکی کے باپ کو قتل کردیا قاتل کا پتہ نہ چلتا تھا اس پر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے درخواست کی کہ قاتل معلوم ہونا چاہئے تاکہ بےچینی دور ہو اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ عمویل یا عامیل ایک سرمایہ دار آدمی تھا اس کے وارثوں نے اسے قتل کردیا پھر اس کو شہر کے دروازے پر یا کسی دوسرے محلہ میں ڈال آئے قریب تھا کہ ورثا مقتول میں اور ان محلے والوں میں سخت جنگ ہوجائے لیکن کسی سمجھ دار شخص نے دونوں فریق میں یہ کہہ کر بیچ بچائو کرا دیا کہ جب ہم میں اللہ کا پیغمبر موجود ہے تو اس سے دریافت کرو تم آپس میں کیوں لڑتے ہو چناچہ اس بات پر سب مل کر حضرت موسیٰ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مفسرین کے اقوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ نزول تورات سے قبل کا ہے اور اس وقت تک بنی اسرائیل کو اس قسم کے قتل کا حکم معلوم نہ تھا جب حضرت مسویٰ نے جناب باری میں دعا کی تو ارشاد ہوا کہ تم ایک بیل کو ذبح کرو۔ چنانچہ اس قسم کے بیل کو بڑی مشکل سے تلاش کیا تو بنی اسرائیل کو معلوم ہوا کہ اس عمر اور اس رنگ و روپ کا بیل ایک لڑکے کی ملک ہے جو جنگل میں چرتا رہتا ہے اور سوائے اس لڑکے کے وہ بیل کسی کے ہاتھ نہیں آسکتا ۔ صاحب در منشور حضرت وہب بن منبہ سے نقل کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک بڑا نیک آدمی تھا۔ اس کا ایک لڑکا تھا اور اس کے پاس ایک بچھڑا تھا، اس نیک شخص نے مرتے وقت اس بچھڑے کو خدا کے سپرد کر کے جنگل میں چھوڑ دیا اور اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ جب یہ لڑکا بڑا ہوجائے تو اس سے کہنا کہ وہ جنگل میں جا کر خدا سے یوں دعا کرے کہ اے اللہ ! ابراہیم و اسحاق و یعقوب میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ بچھڑا میرے پاس آجائے۔ یہ لڑکا جب بڑا ہوا تو ماں کا بہت خدمتگار تھا جو مزدوری کر کے لاتا تھا اس میں سے ایک تہائی خیرات کرتا تھا اور ایک تہائی خرچ کرتا تھا اور ایک تہائی ماں کو دیا کرتا تھا۔ ماں نے اس کو یہ کہہ دیا تھا کہ جب تک مجھ سے دریافت نہ کرے اس بچھڑے کا سودا کسی سے نہ کیجیو۔ ابتدا ایک آسمانی فرشتے نے بطور امتحان اس لڑکے سے بات چیت کی اور تین دن تک اس بچھڑے کی قیمت لگاتار رہا۔ لیکن لڑکا ہر روز یہ کہطتا رہا کہ میں اپنی ماں سے دریافت کرلوں فرشتہ یہ کہتا رہا کہ تو چاہے جتنی قیمت لے لے مگر اپنی ماں سے دریافت نہ کر، آخر تیسرے دن فرشتے نے کہا کہ اس کی قیمت بہت آئے گی مگر تو اس وقت تک اس بیل کو فروخت نہ کیجیو جب تک اس کی کھال بھر کر سونا نہ حاصل کرے، لڑکا ہر روز کی بات اپنی ماں کو بتاتا رہا۔ ماں نے کہا بیٹا ! جب تک مجھ سے دریافت نہ کرلے کسی سے ہاں نہ کیجیو۔ بنی اسرائیل تلاش کرتے ہوئے اس لڑکے کے پاس پہنچے اور اس بیل کی قیمت لگاتے رہے۔ یہ کہتا رہا میں اپنی ماں سے دریافت کرلوں۔ آخر فرشتے نے جو قیمت بتائی تھی اس قیمت پر ماں نے اجازت دے دی اور بیل کا سودا ہوگیا۔ لڑکے نے جنگل میں جا کر دعا کی اور وہ بیل اس لڑکے کے پاس آکھڑا ہوا بہرحال اس غیر مرفوع روایت کا درجہ کیسا ہی ہو اور قتل کے وجوہات کچھ بھی ہوں قرآن شریف سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف اس قدر ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں کوئی خون ہوا اور قاتل کا پتہ نہ چلا اللہ تعالیٰ نے یہ احسان کیا کہ قاتل کو معلوم کرنے کا طریقہ بتایا تاکہ صحیح انصاف ہو سکے اور مقتول کا خون رائیگاں نہ ہو اور قاتل کے ساتھ جو سازش میں شریک تھے وہ نمایاں ہوجائیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ اگر یہ لوگ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی ان کو اس کا پتہ نہیں لگتا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا ہے جو شخص زرد رنگ کا جوتا پہنے گا تو جب تک اس جوتہ کو استعمال کرے گا وہ خوش اور مسرور رہے گا۔ بعض حضرات نے اس موقعہ پر ترتیب آیات کی بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ قتل کے بعد بنی اسرائیل کو بیل ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا اس لئے واذ قتلتم کی آیت مقدم ہوئی اور واذ قال موسیٰ لقومہ کی آیت مئوخر ہوئی۔ یہ شبہ کرنے کے بعد پھر اس کے جوابات دیئے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس بحث کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ نزول کی ترتیب اور ہو اور تلاوت کی ترتیب دوسری ہو۔ نیز یہ کہ ترتیب خواہ کچھ ہو لیکن واقعہ بہرحال پورا ذکر کردیا گیا ہے اور چونکہ اوپر سے بنی اسرائیل کی بد عنوانیوں اور شرارتوں کا ذکر چلا آ رہا ہے۔ اس لئے وہ سلسلہ بھی قائم رکھا گیا۔ (تسہیل)
Ayahs 2:72–73

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور یاد کرو جب تم لوگوں نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا پھر تم ایک دوسرے پر اس کا الزام دھرنے لگے اور اللہ تعالیٰ کو اس امر کا ظاہر کرنا مقصود تھا جو تم چھپانا چاہتے تھے۔

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

اس لئے ہم نے حکم دیا کہ تم ذبح شدہ بیل کا ایک ٹکڑا مقتول سے لگا دو اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر دے گا اور وہ تم کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو1

ف 1 اور یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اسلاف میں سے کسی نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا پھر تم آپس میں جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے پر اس کا الزام لگانے لگے حالانکہ اللہ تعالیٰ کو اس کا ظاہر کرنا مقصود تھا جس کو تم چھپانے اور مخفی رکھنے کے در پے تھے لہٰذا ہم نے حکم دیا کہ اس ذبح شدہ بیل کا ایک ٹکڑا اس مقتول کے جسم سے لگا دو اللہ تعالیٰ اسی طرح قیامت میں مردوں کو زندہ کر دے گا اور تم کو وہ اپنی قدرت کی نشانیاں اور دلائل دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو اور عقل سے کام لو۔ غرض ان لوگوں نے بڑی قیمت ادا کر کے اس بیل کو حاصل کیا اور امر خداوندی کے موافق اس کو ذبح کیا پھر اس کا ایک حصہ خواہ وہ زبان ہو یا دم کا کوئی حصہ ہو مرنے والے کے بدن سے لگایا جس سے وہ مقتول زندہ ہوگیا اور اس نے اپنے ان ہی وارثوں میں سے ایک شخص کا نام بتادیا جو مدعی بنے پھرتے تھے الزام لگانے لگے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے سے الزام کو دفع کرتا تھا اور دوسرے پر ڈالتا تھا اور یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس چیز کو جسے وہ چھپانا چاہتے تھے ظاہر کرنیوالا تھا ہر عمل کا یہی حال ہے خواہ کوئی عمل اچھا ہو یا برا ہو اور اس کو کتنا ہی چھپا کر کیا جائے وہ ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کوئی آدمی کسی ایسے پتھر میں جس میں نہ کوئی دروازہ ہو اور نہ کوئی روشن دان ہو گھس کر بھی کوئی عمل کرے گا خواہ وہ کوئی بھی عمل ہو وہ ایک دن ظاہر ہو کر رہے گا۔ بیہقی نے حضرت عثمان سے روایت کی ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کسی شخص کا کوئی پوشیدہ عمل خواہ نیک ہو یا بد اللہ تعالیٰ اس طرح ظاہر کردیتا ہے جس طرح چادر کہ اس چادر سے پہچانا جاتا ہے یعنی اس عمل کو چادر بنا کر اڑھا دیا جاتا ہے جس سے ہر شخص کو معلوم ہوجاتا ہے غرض نیکی بدی چھپتی نہیں اسی کو فرمایا واللہ مخرج ماکنتم تکتمون اور یہ جو فرمایا کذالک یحی اللہ الموتی اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے عامیل کو زندہ کردیا اسی طرح ہم قیامت کے دن تمام مردوں کو زندہ کردیں گے وہ اپنی توحید کے دلائل اور اپنی قدرت کی نشانیاں اسی طرح دکھایا کرتے ہیں تاکہ تم لوگ عقل سے کام لو عامیل کو اگرچہ بغیر اس کے بھی زندہ کرسکتے تھے لیکن ان کے کسی فعل کی مصلحت اور حکمت کا کون احاطہ کرسکتا ہے ممکن ہے کہ اس میں ادائے واجب کا امتحان مقصود ہو اور یتیم کو نفع پہچونچانا ہو اور توکل کی برکت اور اولاد پر شفقت اور ماں کی اطاعت کا اظہار مقصود ہو۔ واللہ اعلم حضرت شاہ صاحب موضح القرآن میں فرماتے ہیں بنی اسرائیل میں ایک شخص مارا گیا تھا اس کا قاتل معلوم نہ تھا اس کے وارث ہر کسی پر دعویٰ کرتے اللہ تعالیٰ نے اس طرح اس مردے کو جلایا اس نے بتایا کہ ان وارثوں ہی نے مارا تھا۔ موضح القرآن (تسہیل)