2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

پھر اگر کسی شخص کو وصیت کرنیوالے کی جانب سے نا دانستہ کسی غلطی یا دانستہ کسی حق تلفی کا علم ہوا ہو اور وہوصیت کو بدل کر ورثا میں صلح کرا دے تو اس شخص پر کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے4

ف 4 البتہ جس شخص کو وصیت کرنے والے کی جانب سے نا دانستہ کسی بےعنوانی اور غلطی کا قصداً کسی جرم کے ارتکاب کا علم ہوجائے اور یہ بات تحقیق ہوجائے کہ مرنے والے نے غلطی سے وصیت کرنے میں کوئی خطا کی ہے یا جان بوجھ کر کوئی گناہ کیا ہے مثلاً ایک ثلث سے زیادہ وصیت کردی یا غیر مستحق کو مال دلوادیا۔ پھر اس شخص نے وصیت میں کچھ تبدیلی کرکے موصی لہم میں صلح کرا دی اور ان کا باہمی نزاع ختم کرا دیا تو یاد رکھو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ (تیسیر) یعنی مرنے والے سے جو کوتاہی ہوئی تھی اس پر جھگڑے کا اندیشہ پید ہوگیا اور اس شخص نے بیخ میں پڑ کر جھگڑا ختم کرادیا اور اس وجہ سے اس وصیت میں کچھ تبدیلی بھی کرنی پڑی تو اس پر مواخذہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے وہ تو گناہ گاروں کو معاف فرماتا ہے اور ان پر رحمت کرتا ہے اور یہ شخص جس نے صلح کرائی ہے یہ تو گناہ گار بھی نہیں پھر اس کے ساتھ رحمت کا برتائو کیوں نہ کیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کسی نے دیکھا کہ مردہ بےانصافی سے دلوایا گیا اولاد کو بہت تھوڑا بچا تو اوروں کو سمجھا کر صلح کرادے ایسا بدلنا گناہ نہیں۔ فائدہ اول اللہ صاحب نے یہ حکم فرمایا تھا بعد اس کے سورة نساء میں وارثوں کے حصے آپ ہی ٹھہرا دئیے اب مردے کا دلوانا موقوف ہوا۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) کے فائدہ کا مفاد یہ ہے کہ یہ ماں باپ اور قرابت داروں کے حق میں وصیت کا حکم اس وقت تھا جب تک ورثاء کے حصے مقرر نہیں ہوئے تھے اب چونکہ ورثاء کے سہام مقرر ہوچکے ہیں اب کسی وارث کے حق میں وصیت موقوف ہے اگر کوئی وارث کے حق میں وصیت کریگا تو باطل ہوگی ہاں وارث کے علاوہ اور کسی کے حق میں وصیت کرسکتا ہے لیکن ایک ثلث سے زائد نہ ہو اگر جان بوجھ کر ورثاء کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کسی کے حق میں وصیت کرے گا تو اگرچہ وصیت جاری ہوجائے گی لیکن ورثاء کو محروم کرنے والا گناہ گار ہوگا اور ثلث سے زائد اگر کوئی وصیت کی جائے گی تو وہ زیادتی باطل ہوگی مگر یہ کہ ورثاء اس زیادتی پر رضا مند ہوں بشرطیکہ ورثاء بالغ ہوں۔ واللہ اعلم خاف کا ترجمہ معلوم ہوجائے اور تحقیق ہوجائے کیا ہے جو شخص جانتا ہے اور علم رکھتا ہے وہی ڈرتا اور خوف کرتا ہے یہاں لازم بول کر ملزوم مراد لیا گیا ہے وارث کے لئے وصیت کی ممانعت کے متعلق نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے الا ان اللہ قد اعطی کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث لوگو ! سن لو ! اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دلوا دیا ہے اب وارث شرعی کے لئے کوئی وصیت نہیں ہے آگے ان ہی اعمال خیر اور اعمال بر کے سلسلے میں روزے کا بیان فرماتے ہیں۔ ( تسہیل )
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ فرض کیا گیا تھا اسی طرح تم پر بھی روزے کا رکھنا فرض کیا گیا ہے اس امید پر کہ تم پرہیز گار ہوجائو5

ف 5 اے ایمان والو ! جس طرح تم سے پہلی امتوں کے لوگوں پر روزے فرض کیا گیا تھا اور گذشتہ اقوام کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا اسی طرح تم پر بھی اے امت محمدیہ روزہ فرض کیا گیا ہے توقع ہے کہ تم پر پرہیز گاری اور تقوے کے خوگر ہوجائو گے۔ (تیسیر) صبح صدق سے لیکر آفتاب کے چھپنے اور آفتاب کے غروب ہونے تک جملہ ماکولات و مشروبات اور جماع سے رکنے اور پرہیز کرنے کا نام روزہ ہے ۔ تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی امتوں پر بھی روزہ فرض تھا مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے روزوں کی کیفیت اور نوعیت کیا تھی۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ الصلام پر صرف ایام بیض کے روزے فرض تھے یعنی ہر مہینے کی تیرہ ، چودہ، پندرہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت پر ہر ہفتہ کا روزہ فرض تھا اور عشرے کی دسویں تاریخ کا روزہ فرض تھا۔ نصاریٰ کے متعلق ابن حنظلہ کی روایت سے اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ ان پر رمضان کے روزے فرض ہوئے تھے پھر ان کا کوئی بادشاہ بیمار ہوا تو اس کی رعایا نے منت مانی کہ اگر ہمارا بادشاہ اچھا ہوجائے گا تو ہم دس روزے بڑھا لیں گے چناچہ بادشاہ کو صحت ہوگئی تو انہوں نے تیس کے چالیس کرلئے پھر کوئی دوسرا بادشاہ بیمار ہوگیا تو اس کی صحت پر سات روزے اور بڑھا لئے پھر کسی بادشاہ نے تین بڑھا کر پورے پچاس کرلئے اور بجائے قمری حساب کے اپنا رمضان بہار کے موسم میں مقرر کرلیا۔ بہر حال قرآن سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ پہلی امتیں بھی وجوب صوم میں امت محمدیہ کی شریک ہیں مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ روزے کا وقت ان کے ہاں کیا تھا۔ عشاء کے وقت سے لیکر دوسرے دن کی مغرب تک تھا۔ جیسا کہ درمنشور کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ میں بھی ابتداء یہی وقت تھا پھر بجائے عشا کے صبح صادق کا وقت مقرر ہوا یا ان امتوں کے روزے صبح صادق ہی سے شروع ہوتے تھے امم سابقہ کا ذکر اس لئے فرمایا تاکہ روزہ لوگوں پر آسان ہوجائے اور ہر مسلمان یہ سمجھے کہ یہ کوئی نئی عبادت نہیں ہے جو صرف ہم پر ہی فرض ہوئی ہے بلکہ ہم سے پہلوں پر بھی فرض تھا اس بات سے قدرے تسکین ہوجائیگی۔ نبی کریم ﷺ کی ہجرت کے تیسرے سال رمضان کے روزے فرض ہوئے ہیں اور آپ کو اپنی مقدس زندگی میں آٹھ رمضان کے روزے رکھنے کا اتفاق ہوا ہے ان آٹھ میں سے پانچ رمضان کا چاند تو انتیس کا ہوا ہے اور باقی تین میں چار تیس کا ہوا ہے۔ تتقون کا مطلب یہ نہیں کہ بس صرف یہی حکمت ہے کہ تم متقی بن جائو بلکہ روزوں کی بیشمار مصلحتوں میں سے ایک حکمت اور مصلحت کا ذکر فرما دیا جو نمایاں تھی اور یہواقعہ ہے کہ روزے کو پرہیز گاری میں بڑا دخل ہے کیونکہ روزہ رکھنے سے نفس کو خواہشات سے روکنے کی عادت پڑے گی اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہی تقویٰ کی بنیاد ہے۔ حضرت شاہ (رح) فرماتے ہیں یعنی روزے سے سلیقہ آ جاوے جی روکنے کا تو ہر جگہ روک سکو۔ (موضح القرآن) شاہ صاحب (رح) پر خدا کی رحمتیں نازل ہوں کیا خوب فرمایا اور کس قدر مختصر فرمایا۔ اب آگے اور سہولتیں اور رعاتیں ذکر کی جاتی ہیں ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل )
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

گنتی کے چند دنوں میں روزہ رکھ لیا کرو پھر جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اس کے ذمہ اور دوسرے دنوں سے گنتی کا پورا کرنا ہی اور وہ لوگ جو طاقت رکھتے ہوں تو ان کے ذمہ فدیہ ہے جو ایک مسکین کا کھانا ہے پھر جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرے تو وہ اسکے لئے بہتر ہے اور تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے بشرطیکہ تم سمجھ رکھتے ہوف 1

ف 1 گنے ہوئے چند دن ہیں جن کا روزہ رکھا کرو پھر ان میں بھی یہ رعایت کی جاتی ہے کہ جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو اس پر دوسرے دنوں کو شمار کرکے ان میں روزہ رکھتا ہے اور جو لوگ طاقت رکھتے ہوں اور روزہ نہ رکھناچا ہیں تو ان کے ذمہ روزہ کا فدیہ اور بدلا ہے جو ایک مسکین کا کھانا ہے اور جو شخص اپنی رغبت اور خوشی سے زیادہ کار خیر کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اور اگرچہ ہم نے بیمار اور مسافر اور اہل طاقت کو بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت دے دی ہے لیکن اس حال میں بھی تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم روزے کی فضیلت اور اس کی قدرو منزلت کو جانتے ہو۔ گنے ہوئے چند دن کا مطلب یہ ہے کہ تیس یا انتیس دن ہیں بیمار سے مراد ایسا بیمار ہے جس کو روزہ رکھنا شاق اور ناقابل برداشت ہو یا روزہ رکھنے سے اس کی بیماری میں اضافہ اور زیادتی ہوئی ہو سفر سے مراد وہ سفر ہے جس کو شرعی سفر کہتے ہیں یعنی تین منزل کے قصد سے نکلے اور جہاں جا کر قیام کرے وہاں پندرہ دن یا پندرہ دن سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ ہو اگر پندرہ دن کی وہاں ٹھہرنے کی نیت کرے گا تو مسافر کا حکم اس پر جاری نہ ہوگا اور بیمار اور مسافر کو رمضان کے بعد اپنے قضا روزے رکھنے ہوں گے چاہے متواتر روزے رکھ لے یا وقفہ کے ساتھ رکھ لے لیکن بہتر تو یہ ہے کہ دوسرے رمضان کے آنے سے پہلے پہلے روزوں کی قضا رکھ لے لیکن اگر سو اتفاق سے دوسرا رمضان آگیا اور پہلے رمضان کی قضا باقی ہے تو دوسرے رمضان کے روزے رکھنے کے بعد پھر پہلے رمضان کے روزوں کو پورا کرلے۔ مسافر اگر سفر میں روزہ رکھ سکتا ہو لیکن نہ رکھے تو نہ رکھنا جائز ہے البتہ رکھ لے تو افضل ہے جو شخص صبح صادق سے پہلے مسافر بن جائے تو اس کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن کوئی روزہ رکھ کر صبح صادق کے بعد سفر کرے تو اس کو افطار کا حق نہیں ہے مگر یہ کہ کوئی شدیدتکلیف پیش آجائے فدیہ طعام مسکین کا حکم ابتدائی تھا جو لوگوں کو روزے کا خوگر بنانے کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ مسکین کے کھانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کے کھانا کھلائے یا مروجہ اسی 08 تولہ کی تول سے پونے دو سیر گیہوں ایک مسکین کو دے دے ایک روزے کا فدیہ ایک ہی مسکین کو دیا جاسکتا ہے اب یہ فدیہ کا حکم صرف شیخ فانی اور دائم المرض مریض کے لئے ہے تندرست و توانا کیلئے نہیں رہا۔ شیخ فانی سے وہ ضعیف بوڑھا مراد ہے جس میں روزہ رکھنے کا سکت نہ ہو اور آئندہ بھی طاقت آنے کی امید نہ ہو اور دائم المرض سے مراد وہ مریض ہے جس کو صحت کی امید نہ ہو اور وہ ایسے مرض میں مبتلا ہو جسکی وجہ سے روزہ رکھنا ناممکن اور ناقابل برداشت ہو صرف ان لوگوں کیلئے حکم یہ ہے کہ یہ روزہ نہ رکھیں اور فدیے دے دیا کریں اور اگر ان کے پاس فدیہ دینے کونہ ہو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا کریں اور بخشش مانگا کریں اور اگر اتفاقاً شیخ فانی میں طاقت آجائے اور مریض اچھا ہوجائے تو باوجود فدیہ ادا کردینے کے بھی ان کو قضا رکھنی ہوگی اور فدیہ کا ان کو ثواب مل جائے گا۔ اور یہ جو فرمایا فمن تطوع خیراً تو اسکا مطلب یہ ہے کہ کوئی بجائے ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے دو مسکینوں کو یا تین مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلائے اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ایک مسکین کو پونے دو سیر کی بجائے دوسیر یا دو سیر سے زائد گیہوں دے دے یا روزہ بھی رکھے اور فدیہ بھی دے غرض یہ سب صورتیں تطوع کو شامل ہیں اور جو ایسا کرے گا اس کے لئے بہتر ہوگا یعنی کارخیر کی اور خیرات کی کثرت مفید ہی ہوگی۔ وان تصومو خیرلکم کا مطلب یہ ہے کہ مریض اور مسافر اور وہ صاحب استطاعت کہ جس کو ابتداء میں اجازت دی گئی تھی اور اب منسوخ ہوچکی ہے اگر یہ تینوں رعایت سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو اٹھا سکتے ہیں لیکن اگر یہ روزے کی فضیلت کو جانتے ہوں تو ان کے لئے روزہ رکھ لینا ہی بہتر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول یہی حکم اترا کہ مریض و مسافر چاہیں تو پھر فضا کرلیں اور جن کو طاقت ہے یعنی بےعذر ہیں وہ چاہیں کہ پھر قضا کریں تو بالفعل ہر روزے کے بدلے ایک فقیر کو کھلائیں اور تو بھی بہتر ہے روزہ ہی رکھیں پھر اس کے بعد جو آیت اتری اس میں فقط مریض و مسافر کو رخصت ملی قضا کی اور کسی کو نہیں۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو بات فرمائی ہے اس کی جانب بہت کم لوگوں نے توجہ کی ہے حضرت شاہ صاحب (رح) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مریض اور مسافر کو رخصت تھی کہ وہ بیماری اور سفر میں روزہ نہ رکھیں پھر بعد میں قضا کرلیں اسی طرح ابتدا میں صاحب طاقت کو بھی رخصت دی گئی تھی کہ وہ پے در پے اگر روزے نہ رکھ سکیں اور عادت نہ ہونے کی وجہ سے متواتر روزے رکھنے دشوار ہوں تو روزہ نہ رکھیں اور بعد میں بہ سہولت قصا رکھ لیں لیکن مریض و مسافر میں اور صاحب طاقت میں فرق یہ تھا کہ صاحب طاقت کو فدیہ بھی دینا پڑتا تھا اور فضا بھی رکھنی پڑتی تھی اور مریض و مسافر کی رخصت تو اپنے حال پر رہی مگر صاحب طاقت کی رخصت موقوف ہوگئی صاحب طاقت کو پورے رمضان کے رزے ہی رکھنے ہوں گے یہ نہ ہوگا کہ رمضان میں روزے چھوڑ دے اور ہر روزے کے بدلے میں فدیہ دے دے اور بعد میں قصا رکھ لے یہ بات کہ صاحب طاقت کو فدیہ بھی دینا لازم تھا اور قضا بھی رکھنی لازم تھی۔ یہ صرف شاہ صاحب (رح) نے اشارہ کیا ہے ورنہ عام طور سے یہی مطلب سمجھاجاتا تھا کہ ابتداء میں صاحب طاقت کو اختیار تھا کہ چاہے روزہ رکھ لے اور چاہے بجائے روزے کے فدیہ دے دے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مریض اور مسافر اب بھی رخصت پر ہے اور اسی حکم میں وہ حاملہ اور مرضعہ بھی ہے جس کو بچہ کے ضائع ہوجانے یا کسی مرض میں مبتلا ہوجانے کا خوف ہو اہل طاقت پر سے فدیہ موقوف ہوچکا شیخ فانی اور وہ مریض جو ای سے مرض میں مبتلا ہو جس سے شفا کی امید نہیں ان دونوں کے لئے اب بھی یہی حکم ہے کہ فدیہ دے دیا کریں اگر فدیہ دینے کو نہ ہو تو استغفار کرلیا کریں اور اگر کبھی شیخ فانی میں طاقت آجائے اور مایوس العلاج مریض تندرست ہوجائے تو باوجود فدیہادا کردینے کے روزوں کی قصا رکھیں۔ حیض والی اور نفاس والی عورت پر صرف قضا لازم ہے کیونکہ حیض و نفاس کی حالت میں روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ بعض حضرات نے فدیۃ طعام مسکین سے صدقہ فطرمراد ہے ان حضرات کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے سلسلے میں یہ بھی فرمادیا کہ اہل طاقت اور اصحاب استطاعت پر صدقہ فطر واجب ہے اگر یہ معنی لئے جائیں تو پھر کسی بحث کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی واللہ اعلم بالصواب۔ ( تسہیل )
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے قرآن کا وصف یہ ہے کہ وہ لوگوں کیلئے راہ نما ہے اور ہدایت کے صاف اور واضح حق ہے باطل کو جدا کرنیوالے دلائل کا مجموعہ ہے سو جو شخص تم میں سے اس مہینے کو پاتے تو اس کو چاہئے کہ اس ماہ کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اس کے ذمہ اور دوسرے دنوں سے گنتی کا پورا کرنا ہے اللہ تعالیٰ کو تمہارے لئے آسانی منظور ہے اور اس کو تمہارے لئے دشواری منظور نہیں یہ رعایت کے احکام اس لئے دئیے گئے تاکہ تم گنتی کو پورا کرلیا کرو اور تاکہ تم اس احسان پر کہ خدا نے تم کو صحیح طریقہ بتادیا اسکی بزرگی بیان کیا کرو اور تاکہ تم شکر بجا لائو2

ف 2 رمضان المبارک کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے قرآن شریف کا وصف اور شان یہ ہے کہ لوگوں کیلئے ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ ہے اور راہ پانے اور حق کو باطل سے جدا کرنے کے واضح اور روشن دلائل کا مجموعہ ہے لہٰذا جو شخص اس مہینے میں موجود ہو اور اس کو پائے تو وہ ضرور اس مہینے میں روزے رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو اس پر دوسرے دنوں کو شمار کرکے روزے رکھتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے اور وہ تم پر دشواری ڈالنا نہیں چاہتا یہ احکام ہم نے تم کو اس لئے دئیے ہیں کہ تم روزوں کی گنتی پوری کرلیا کرو اور اس احسان پر کہ اس نے تم کو صحیح طریقہ بتادیا تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور بزرگی بیان کرو اور اس لئے کہ تم اس کا احسان مانو اور شکر بجالائو۔ اس مہینے میں قرآن نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نزول کی ابتداء لیلۃ القدر میں ہوئی ہو اور لیلۃ القدر چونکہ رمضان میں ہوتی ہے اس لئے رمضان اور لیلۃ القدر دونوں میں نازل ہونا ثابت ہوتا ہے اور سورة دخان میں جو لیلۃ مبرکۃ میں نازل کرنا فرمایا ہے تو اس لیل مبارک سے بھی شب قدر مراد ہے اس طرح سب صورتیں جمع ہوجاتی ہیں اور کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔ داثلہ ابن اسقع کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف رمضان کی پہلی تاریخ کو نازل ہوئے ہیں اور زبور اٹھارہ رمضان کو نازل ہوئی ہے اور قرآن شریف چوبیس رمضان کو نازل ہوا ہے۔ حضرت جابر ؓ سے ابویعلی اور ابن مرددید نے یہ نقل کیا ہے کہ زبور بارہ تاریخ کو رمضان کی اور توریت چھ رمضان کو اور انجیل اٹھارہ رمضان کو نازل کی گئی ہے حضرت جابر اور واثلہ بن اسقع کی روایت میں تھوڑا سا فرق ہے۔ حضرت ابن عباس کا قول یہ ہے کہ لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر لیلۃ القدر میں پورا قرآن نازل کیا گیا تھا اور وہاں سے دقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا ایک قول یہ ہے کہ آسمان دنیا پر بیت المعمور میں قرآن شریف رکھ دیا گیا تھا اور لوح محفوظ سے بیت المعمور میں اتارا جانا رمضان میں ہوا پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا یہاں تک کہ تئیس سال میں پورا ہوا حضرت مجاہد اور ضحاک اور حسن بن فضل نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ شہر رمضان وہ ہے جس کے روزوں کی فرضیت کے بارے میں قرآن نازل ہوا جیسے کہا کرتے ہیں یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیت زکوۃ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس تقریر پر کسی توجیہہ کی ضرورت نہیں جو صورتیں ہم نے عرض کی ہیں ان سے وہ شبہ دور ہوجاتا ہے جو عام طور سے اس موقعہ پر کیا جاتا ہے کہ جب قرآن شریف تئیس سال تک متواتر نازل ہوتا رہا تو رمضان میں اس کے نزول کا ذکر کیوں کیا۔ قرآن کے نزول کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کی شان بیان فرمائی تاکہ قرآن کی عظمت سے رمضان کی عظمت اچھی طرح سمجھ میں آجائے بنیات دلائل ساطعہ اور براہین واضحہ کو کہتے ہیں اور فرقان کے معنی ہیں جدا کرنیوالا اور الگ الگ کرنیوالا۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کا ہر ایک حصہ ایسے روشن دلائل پر مشتمل ہے جس میں ہر سمجھدار انسان کیلئے صحیح راہ موجود ہے اور احکام کی مصالح اور حکمتوں کی جانب راہ مل سکتی ہے اور یہ قرآن حق و باطل کو الگ الگ کردیتا ہے پہلی ہدایت تو عام ہے اور دوسری ہدایت خاص ہے جو مخصوص بندوں کا حصہ ہے اور واقعی قرآن کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں ہر شخص کی ہدایت کا حصہ موجود ہے عوام کے لئے ان کی سمجھ کے لائق بات ہے اور خواص کے لئے ان کے لائق ذخیرہ موجود ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوسری ہدایت اور فرقان سے دیگر کتاب سماویہ مراد ہوں جیسا کہ بعض نے اختیار کیا ہے اگر ھدی اور فرقان سے دوسری آسمانی کتابیں مراد لی جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اس قرآن کی شان یہ ہے کہ لوگوں کے لئے ذریعہ ہدایت ہے اور دلائل ساطعہ سے لبریز ہے اور منجملہ دیگر کتب سماویہ کے ہے کہ وہ ہدایت کرنے والی اور حق و باطل کو الگ الگ کرنے والی تھیں جب انہی کتب سماویہ کی قسم میں سے جو ہدایت اور فرقان تھیں یہ بھی ہے تو یہ قرآن بھی ان ہی صفات سے متصف ہے مسافر کے لئے اور بیمار کے لئے مکر رعایت کا اعلان فرمایا تاکہ فلیصمہ یہ شبہ نہ پڑے کہ سب اہل ترخیص کی رخصتیں کالعدم ہوگئیں بلکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اہل طاقت کو جو رخصت ابتداء میں دی گئی تھی وہ موقوف ہوئی ہے بیمار اور مسافر کی رخصت اپنی حالت پر باقی ہے پھر اسی سلسلے میں اپنی مہربانی کا عام اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا مقصد تمہارے لئے دشواریاں پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ تمہارے دین میں تمہارے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہے پھر مصالح اور حکم کی جانب ارشاد فرمایا کہ روزہ اگر کسی شرعی عذر کی بنا پر رہ جائے تو دوسرے دنوں میں پورا کرنیکا حکم اس لئے دیا تاکہ روزوں کی گنتی پوری کرسکو اور شمار کی تکمیل کرلیا کرو اور تمہارے اثواب میں کمی نہ ہوا کرے اور قضا کرنے کا جو طریقہ ہم نے تم کو تعلیم کردیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کیا کرو یعنی اللہ اکبر کہا کرو یا تو اللہ اکبر مسرت کے طور پر کہا کرو جیسا مسلمانوں کا قاعدہ ہے یا مخصوص تکبیر کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ سلف سے منقول ہے کہ آخر رمضان میں تکبیر کہنے کی ترغیب ہے بعض کے نزدیک عید کی چاند رات میں تکبیر کہنے کی طرف اشارہ ہے بعض نے کہا عید کا چاند دیکھ کر تکبیر کہنی چاہئے۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ عید کی تکبیرات کی طرف اشارہ ہے جو عید گاہ کی راہ میں پڑھی جاتی ہیں یعنی اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد ابن عباس ؓ کی روایت میں عیدین کی تکبیرات اس طرح ہیں۔ اللہ اکبر کبیر اللہ اکبر کبیرا اللہ اکبر واجل واللہ الحمد اللہ اکبر علی ما ھدانا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ بھی قول ہے کہ جب عید کا چاند دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو یہاں تک کہ عید کی نماز سے فارغ ہو جائو کیونکہ اللہ تعالیٰ والتکبرو اللہ فرماتا ہے۔ بہر حال سلف سے مختلف اقوال منقول ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کو عام رکھا جائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت اسکی مستحق ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی بڑائی کا اظہار کیا جائے۔ لعلکم تشکرون کا یہ مطلب ہے کہ عذر شرعی کی بنا پر جو روزہ نہ رکھنے کی رخصت دے دی گئی اس پر اللہ کا شکر بجا لائو۔ عرض مصالح کی تین قسمیں بیان فرمائیں دنوں کے شمار کی تکمیل اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور اس کی عظمت کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کے شکر کی بجا آواری یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تکمیل عدت علت ہو قضا کی اور تکبیر اور شکر کی بجآوری ہو رمضان اور قرآن پر۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ رمضان کا مہینہ اسی سے ٹھیرا کہ اس میں اترا قرآن پس قرآن کی خدمت اس مہینے میں اول چاہئے اسی سبب سے رسول خدا نے تقید کیا تراویح کا اور آ پنے چند روز جماعت کروا کر پھر نہ کروائی کہ قرآن میں اشارات میں صریح فرض نہ ہوجائے۔ (موضح القرآن) چونکہ اس آیت میں تکبیر کا ذکر آیا ہے اور رمضان المبارک و اجابت دعا میں بڑا دخل ہے بالخصوص افطار کے وقت صائم کی دعا قبول ہوتی ہے اور بعض لوگوں نے سوال بھی کیا تھا کہ کیا ہمارا رب دور ہے جو اس کو زور سے پکارا کریں یا قریب ہے کہ اس کی خدمت میں جو درخواست پیش کرنی ہے اس کو آہستہ پیش کریں۔ آگے آیت میں اس کا جواب اور قبولیت کی دعا کی جانب اشارہ ہے۔ ( تسہیل )
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ﷺ جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق دریافت کریں تو میں قریب ہی ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو پہنچتا ہوں جب وہ مجھ کو پکارتا ہے سو ان کو چاہئے کہ وہ میرے احکام مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ نیک راہ پائیں3

ف 3 اور اے نبی ﷺ ! جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق دریافت کریں کہ وہ قریب ہے یا بعید ہے تو میں تو قریب ہی ہوں اور اپنے بندوں سے دور نہیں ہوں اور جب کوئی پکارنے والا پکارتا ہے اور دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں اور اس کی پکار کو پہنچتا ہوں لہٰذا ان بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ میرے احکام کو قبول کیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں اور میرے حاکم اور قادر مطلق ہونے پر یقین رکھیں ان کے اس طرز عمل سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خیر و فلاح حاصل کرسکیں گے۔ (تیسیر) چونکہ اوپر کی آیتوں میں روزہ اور احکام صیام میں رعایتوں کا ذکر تھا اور رعایتوں کی حکمت اور تکبیر و شکر کا بیان تھا اس لئے اس آیت میں اپنے علم اور اپنے با خبر ہونے کا اظہار فرمایا کہ میں قریب ہی ہوں بندوں کے جملہ احوال سے واقف ہوں۔ اجابت اور استجابت مترادف المعنی ہیں جب اللہ تعالیٰ کی طرف یہ افعال منسوب ہوں تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ بندے کی درخواست قبول فرماتا ہے اور بندے کی طرف منسوب ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے احکام کو قبول کرے۔ مطلب یہ ہے کہ جب میرے بندے آپ سے سوال کریں تو آپ میری جانب سے فرما دیجئے کہ میں قریب ہی ہوں ان کے قریب سے مراد ان کا علم ہے یعنی میرے علم نے ہر شے کا احاطہ کر رکھا ہے اور مجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے مجھے میرے علم کے اعتبار سے یوں سمجھو کہ میں تم سے قریب ہی ہوں جب کوئی مجھ سے دعا کرتا ہے بشرطیکہ کسی نا مناسب اور بےہودہ بات کی درخواست نہ کرے اور دعا کے آداب کا لحاظ رکھے تو میں اسکی دعا کو قبول کرلیتا ہوں پھر یا تو جو مانگتا ہے وہی عطا کردیتا ہوں یا کبھی وہ تو نہیں دیتا بلکہ اس پر سے کوئی بلا اس دعا کی وجہ سے ٹال دیتا ہوں یا اس دعا کے بدلے میں اس کے لئے ثواب کا ذخیرہ کردیتا ہوں یعنی دعا تو ضرور قبول ہوتی ہے یہ نہ سمجھناچاہئے کہ دعا قبول نہیں ہوتی البتہ قبولیت کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں جیسا کہ تفصیلات احادیث میں مروی ہیں۔ قرآن میں بھی دوسری جگہ ارشاد ہے ادعونی استجب لکم یعنی مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا لیکن تمام باتیں ان کی مصالح پر موقوف ہیں بندہ بعض دفعہ ایسی چیز مانگ لیتا ہے جو دے دی جائے تو بندے کو ضرر پہنچ جائے اس لئے چونکہ حکیم ہیں ان کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور وہی عطا کرتے ہیں جو بندے کے لئے مفید ہو۔ بعض لوگ عیش میں دعا نہیں کرتے اور مصیبت کے وقت دعا کرتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے جو شخص مجھ کو عیش و آرام میں پکارتا رہتا ہے میں مصیبت کے وقت اس کی دعا کو قبول کرلیتا ہوں اور جو بندہ عیش میں مجھ سے بےتوجہی کرتا ہے تو میں مصیبت کے وقت اس کی دعا قبول کرنے میں تاخیر کرتا ہوں۔ بہرحال چونکہ دعا کے قبول کرنے والے وہی ہیں اس لئے ان پر ایمان رکھنا چاہئے اور ہمیشہ ان کی اطاعت کرنی چاہئے اور ان کے ہر حکم کے آگے گردن جھکانی چاہئے اگر تم نے اطاعت و فرمانبرداری کا شیوہ اختیار کیا تو امید ہے کہ بندے خیر و فلاح سے ہم کنار ہوسکیں گے اور دین و دنیا کی بھلائی کا راستہ پالیں گے رشد کے معنی ہیں راہ پانا اہل لغت نے کہا کہ یہ غی کا مقابل ہے جس کے معنی ہیں گمراہی کے رشد اور رشاد ہم معنی ہیں راہ یابی، استقامت حصول خیر ان سب معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر کی آیت میں فرمایا کہ بڑائی کرو اللہ کی یعنی عید کے دن جو تکبیر کہتے ہیں بآواز بلند اس واسطے دوسری آیت میں فرمایا اللہ دور نہیں اور بلند آواز اور فائدے کے واسطے ہے ایک شخص نے حضرت سے پوچھا کہ ہمارا رب دور ہے تو ہم اس کو پکاریں یا نزدیک تو ہم آہستہ بات کہیں اس پر یہ آیت اتری۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عید کے دن جو تکبیر بلند آواز سے پڑھی جاتی ہے اس کے لئے فرمایا کہ وہ تو ایک خاص غرض سے ہے ہر موقعہ پر بلند آواز سے پکارنے کی ضرورت نہیں شاید وہ غرض یہ ہو کہ منکر دیکھیں کہ یہ مسلمان لوگ تیوہار کے دن بھی اللہ تعالیٰ ہی کی بڑائی بیان کرتے ہوئے عید گاہ جاتے ہیں دوسری قوموں کی طرح ان کے ہاں تیوہار میں بھی گانے بجانے کا حکم نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) اب آگے پھر رمضان کے متعلق احکام کا بیا ہے۔ ( تسہیل )
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

روزے کی شب میں اپنی عورتوں سے تمہارے لئے اختلاط حلال کردیا گیا ہے وہ عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو اللہ تعالیٰ اس بات سے واقف ہے کہ تم اپنے حق میں خیانت کر رہے تھے سو اب اس نے تمہاری توبہ قبول کرلی اور تم کو درگزر فرمایا پس اب تم ان سے تکلف ہم بستری کیا کرو اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر کردیا ہے اس کو طلب کرو اور تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح صادق کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے متمیز ہوجائے پھر رات تک روزے کو پورا کیا کرو اور مساجد میں جب تم اعتکاف کی حالت میں ہو تو ان عورتوں سے قربت نہ کرو یہ احکام اللہ تعالیٰ کی مقرر حدود ہیں سو ان کے نزدیک بھی نہ جائو اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے اپنے احکام بیان کیا کرتا ہے تاکہ وہ خلاف ورزی سے بچیں1

ف 1 روزے کی رات میں یعنی رمضان المبارک کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں سے خواہ وہ بیویاں ہوں یا باندیاں اختلاط اور ملنا حلال کردیا گیا اور ممانعت کا حکم موقوف ہوا وہ عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کی پوشاک اور لباس ہو۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پہلے ہی سے معلوم تھی کہ تم احکام الٰہی میں خیانت کرکے اپنے حق میں جرم کا ارتکاب کر رہے ہو مگر چونکہ تم نے معذرت کی تو اللہ تعالیٰ نے تم پر مہربانی اور اپنے کرم کے ساتھ توجہ فرمائی اور تم کو معاف فرما دیا اور تم کو درگزر کیا لہٰذا اب تم ان سے اگر چاہو تو بےتکلف ہم بستری اور مباشرت کرسکتے ہو ہماری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور مقدر کردی ہے اس کو طلب کرو اور جس طرح تم کو ہم بستری کی اجازت ہے اسی طرح تم کو یہ بھی اجازت ہے کہ تم رمضان کی راتوں میں اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک صبح صادق کی سفید دھاری رات کے سیاہ خط سے تمہارے لئے متمیز اور نمایاں ہو پھر صبح صادق سے لیکر شام کا سورج غروب ہونے یعنی رات تک روزے کو پورا کیا کرو اور دیکھو جب مساجد میں معتکف ہو اور اعتکاف کی حالت میں ہو تو اپنی عورتوں سے قربت اور اختلاط اور ہم بستری نہ کرنا یہ مذکورہ احکام اللہ تعالیٰ کی حدود اور اس کے ضابطے ہیں لہٰذا ان حدود کے قریب بھی نہ جانا کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کوئی قدم مقررہ حدود سے باہر نکل جائے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ احکام بیان فرمائے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے دوسرے احکام بھی صاف صاف کھول کر بیان کیا کرتا ہے تاکہ لوگ احکام الٰہی کی خلاف ورزی سے بچتے رہیں۔ (تیسیر) ایک دن اتفاق سے حضرت عمر فاروق ؓ عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر جو گھر گئے تو اپنی گھر والی سے مبتلا ہوگئے چناچہ غسل کرنے کے بعد روتے ہوئے اور اپنے اوپر ملامت کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا تمام واقعہ عرض کیا یا رسول اللہ میں عشاء کی نمازپڑھ کر گھر گیا تو میری گھر والی خوشبو لگائے ہوئے تھی میرے نفس نے اس کو مجھے بہت ہی خوشنما کرکے دکھایا اور میں اس کے پاس چلا گیا۔ حضور ﷺ نے اس کا قصہ سن کر فرمایا ! عمر ؓ تیری شان تو اس لائق نہ تھی اس پر اور چند لوگوں نے کھڑے ہوکر اسی قسم کی بات کا اعتراف کیا یا رسول اللہ ہم کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا ایک واقعہ قیس بن صرمہ انصاری کو پیش آگیا وہ دن بھر کے تھکے ہارے کھیت سے آئے تھے روزہ کھول کر کھانا طلب کیا گھر والی نے کہا تھوڑی سی دیر یہ لیت گئے اتنے میں آنکھ لگ گئی سونے کے بعد دوسرا روزہ شروع ہوگیا جب دوسرا دن ہوگیا تو یہ دوپہر کو بےہوش ہوگئے۔ اس واقعہ کا ذکر بھی نبی کریم ﷺ سے کیا گیا اس قسم کے واقعات روبر آہونے پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ رفث کے معنی عبداللہ ابن عباس ؓ سے منقول ہیں کہ یہ کلمہ بہت جامع ہے ایک شخص اپنی بیوی سے جو جو کچھ کرسکتا ہے یہ کلمہ اس سب کو شامل ہے مگر یہاں اس سے مراد جماع ہے ہم نے تیسیر میں اختلاط اور ملنا کیا ہے تاکہ سب باتوں کو شامل ہوجائے مردوں عورتوں کو باہم لباس فرمایا عورت کو لباس، فراش اور ازار کہا بھی جاتا ہے نیز یہ اس مفہوم کے لئے بہترین کنایہ ہے جس کو یہاں ادا کرنا مقصود ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات کی جانب اشارہ ہو کہ ایک دوسرے کا ازوار اور پردہ پوش ہے۔ عبداللہ ابن عباس ؓ سے اس کی تفسیر منقول ہے کہ ایک دوسرے کے لئے تسکین اور سکون قلب ہے اور یہ جو فرمایا ہم کو معلوم تھا کہ تم خیانت کر رہے ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں یہ بات موجود تھی کہ اس قسم کے حادثات پیش آئیں گے تم اپنی جانوں پر ظلم کرو گے بہر حال اب تم معذرت کر رہے ہو اور اپنے اوپر ملامت کر رہے ہو تو ہم تم کو سب کاموں کی صبح صادق تک کے لئے اجازت دیتے ہیں رات کو اپنی عورتوں کے ساتھ ہم بستری کرو اور کھائو پیو اب روزہ ہی صبح صادق سے شروع ہوگا اور رات تک پورا ہوگا۔ ما کتب اللہ لکم سے مراد یا تو رخصت اور اجازت کی طرف اشارہ ہے یا اولاد کی طرف اشارہ ہے جو اصل مقصد ہے ازدواجی زندگی کا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فطری مقام کی طلب اور غیر فطری محل سے اجتناب مراد ہو خیط کا ترجمہ دھاگا ہے یہاں صبح صادق کا نور مراد ہے چونکہ وہ ابتدا بالکل باریک اور ایک سفید خط کی شکل میں محسوس ہوتا ہے اس لئے اس کو خیط ابیض فرمای ہے وہ خط تو ایک ہی ہوتا ہے جو پھیلتا جاتا ہے لیکن سفید خط کی وجہ سے شب کی سیاہی میں بھی ایک خط پیدا ہوجاتا ہے اس لئے اسے خط اسود سے تعبیر کیا ہے ورنہ خط تو ایک ہی ہوتا ہے اور وہ صبح صادق کی روشنی ہے۔ پہلے من الفجر کا ٹکڑا نازل نہیں ہوا تھا صرف آیت میں من الخیط الاسود تک نازل ہوئی تھی اس پر حضرت عدی بن حاتم نے دو دھاگے بٹ کر اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لئے ایک دھاگا سفید اور ایک دھاگا سیاہ رات کو اٹھ اٹھ کر ان دھاگوں کو دیکھتے رہے صبح کو یہ واقعہ حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا آپ نے فرمایا تیرا تکیہ چوڑا ہے ایک روایت میں ہے کہ تیری عقل چوڑی ہے اس سے دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی مراد ہے پھر من الفجر نازل ہوا اور یہ بات صاف ہوگئی کہ ان دھاگوں سے مراد صبح صادق کے خط ہیں۔ بہر حال رمضان المبارک کی راتوں میں صبح صادق تک کھانے پینے اور عورتوں کے پاس جانے کی اجازت فرما دی گئی البتہ اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے ہر قسم کا لطف اندوز ہونا ممنوع قرار دیا گیا یہاں تک کہ شہوت کے ساتھ اعتکاف کی حالت میں عورتوں کو ہاتھ لگانا بھی حرام ہے اور فی المساجد کا مطلب یہ نہیں کہ صرف مساجد میں مباشرت حرام ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اعتکاف جو عام طورپر مساجد میں ہوتا ہے اس اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے مباشرت حرام ہے خواہ معتکف مسجد میں ہو یا کسی ضرورت سے مسجد کے باہر ہو حدود الٰہی کے قریب بھی نہ جائو یہ اس لئے فرمایا کہ قریب جانے میں خطرہ ہے اللہ کی مقررہ حدود سے دور ہوگے تو محفوظ رہو گے اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لئے واضح بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ ان سے واقف ہوکر خلاف ورزی سے بچیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب روزہ فرض ہوا تو مسلمان سارے رمضان میں عورت کے پاس نہ جاتے اور پہلی امت کی طرح رات کو سو کر پھر نہ کھاتے اس بیچ میں بعضے شخص نہ رہ سکے پھر حضرت ﷺ کے پاس عرض کیا تب یہ آیت اتری یعنی تم اپنی چوری کرتے تھے اللہ نے منع نہیں کیا اور کھانا صبح تک رخصت ہے جب دھاری سفید پڑے وہی صبح صادق ہے اور جب تک روشنی اونچی رہے ستون سی وہ صبح کاذب ہے مگر اعتکاف میں رات دن عورت کے پاس نہ جائے۔ (موضح القرآن) جاننا چاہئے کہ رمضان کے روزوں کا اجر بہت ہی زیادہ ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو ایمان کے ساتھ اور ثواب کی امید کے ساتھ رمضان کے روزے رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ ابن آدم کے ہر عمل کا ثواب دگنا چوگنا کرکے بڑھایا جاتا مگر روزے کے متعلق حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ روزہ خاص میرے لئے ہے اور اس کی جزا اور اس کا بدلہ میں خود دوں گا اور فرمایا روزہ دار کے لئے دو مسرتیں ہیں ایک تو افطار کے وقت اور دوسری مسرت اس دن ہوگی جس دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا۔ روزہ دار کے منہ کی بساند اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ اچھی ہے اور فرمایا روزہ ڈھال ہے روزہ دار کے لئے روزہ دار کو چاہئے کوئی فحش بات منہ سے نہ نکالے نہ کسی کو گالی دے اگر کوئی اس کو برا بھلا کہے تو اس کے جواب میں صرف اتنا کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں یعنی روزے کی حالت میں کوئی نا مناسب بات نہیں کہہ سکتا۔ ایک روایت میں ہے جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی امید کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام پہلے اور پچھلے گناہ بخش دیتا ہے دعا کے سلسلے میں بھی بہت سی احادیث میں سے ہم صرف ایک روایت یہاں نقل کرتے ہیں۔ حضرت سلمان ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا حیا دار اور کریم ہے جب کوئی بندہ اس کے روبرو دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کو اپنے بندے کے ہاتھ خالی پھیرتے ہوئے شرم آتی ہے یعنی جو سخی بھی ہو اور اسکی آنکھ میں لحاظ بھی ہو اور اس کی درگاہ سے سائل کس طرح خالی ہاتھ آسکتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ ، نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں جب رات ادھر سے آئے اور دن ادھر کو جائے اور سورج غروب ہوجائے تو بس روزہ ختم ہوا یعنی غروب آفتاب کے ساتھ روزہ افطار کرلیناچاہئے اور افطار میں تعجیبل اور سحری میں تاخیر مستحب ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اعتکاف کے لئے روزہ شرط ہے جو اعتکاف رمضان کے علاو دوسرے دنوں میں کیا جائے اس میں بھی روزہ رکھنا ضروری ہے عورت اگر اعتکاف کرنا چاہئے تو اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھا کرتی ہے اس جگہ اعتکاف کرے مردوں کو چاہئے کہ ایسی مسجد میں اعتکاف کریں جس میں پانچوں وقت کی نماز با جماعت ہونے کا اہتمام ہو اعتکاف کرنے والا کسی خاص ضرورت کی وجہ سے مسجد کے باہر بھی جاسکتا ہے جیسے حاجت ضروری کے لئے یا جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے لئے لیکن راستے میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں مزید مسائل فقہ کی کتابوں میں دیکھنے چاہئیں یا کسی مقامی عالم سے دریافت کرلینے چاہئیں۔ ( تسہیل )
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور تم آپس میں ناجائز طورپر ایک دوسرے کا مال نہ کھائو اور نہ ان مالوں کو اس غرض سے حکام تک پہونچائو کہ لوگوں کے مالوں کا ایک حصہ ناحق ظلم سے کھا جائو اور تم کو معلوم بھی ہوف 2

ف 2 اور تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق اور بلا کسی شرعی حق کے نہ کھائو اور نہ ان مالوں کو اس غرض سے حکام تک پہنچائو کہ تم لوگوں کے مال کا ایک حصہ بطور ظلم اور گناہ کھائو جائو اور تم کو اپنے گناہ اور اپنے ظلم کا علم بھی ہو۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کا مال ناحق مار لو ایسا نہ کرو جو طریقہ بھی غیر شرعی ہو وہ سب باطل میں داخل ہے مثلاً سود، خیانت، قمار، غصب، چوری ، لوٹ، رشوت مردے پررونے کی اجرت، گانے والی کی اجرت، کاہن کی مزدوری جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہتھیا لینا، غرض تمام وہ صورتیں جو اللہ تعالیٰ نے مباح نہیں فرمائیں ان کے ذریعہ سے کسی کا مال کھا لینا اور اڑا لینا ان سب سے منع فرمایا ہے اور حکام تک نہ پہنچائو کا مطلب یا تو حکام کو رشوت دینا ہے کہ حکام کو رشوت دے کر کسی مال پر قبضہ کرلو یا حکومت کا قبضہ کرادو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جھوٹا مقدمہ لگادو اور احکام کے ذریعہ مقدمہ جیت کر کسی کے مال کا ایک حصہ ظلماً ہتھیا لو۔ اثم کی تفسیر یہاں ظلم سے کی گئی ہے ہم نے تیسیر میں گناہ اور ظلم دونوں لفظ رکھے ہیں آخری جملہ میں تنبیہہ ہے کہ یہ کارروائی بھی جان بوجھ کر کرو اور یہ سمجھ کر کرو کہ ہم ظلم اور زیادتی سے کسی دوسرے بھائی کا مال کھا رہے ہیں اور جس طرح کسی پر جھوٹا مقدمہ لگا کر اس کا مال کھا جانا حرام ہے اسی طرح اگر کسی کے پاس ثبوت کے گواہ نہ ہوں اور وہ اپنا حق نہ ثابت کرسکتا ہو حالانکہ اس کا حق ہو تو ایسے شخص کا حق مار لینا بھی حرام ہے۔ بھا کی ضمیر عام مفسرین نے احوال کی طرف پھیری ہے لیکن بعض حضرات نے مقدمات احوال کی طرف لوٹائی ہے۔ بہرحال گنجائش اس کی بھی ہے حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے تم لوگ اپنے جھگڑے اور مقدمات میرے پاس لاتے ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض آدمی بہت زیادہ چرب زبان اور تیز تقریر کرنے والا ہوتا ہے پھر میں جیسا سنتا ہوں اس کے موافق فیصلہ دے دیتا ہوں۔ لہٰذا اگر میں کسی کے بھائی کے حق میں ڈگری دے دوں اور حقیقتاً اس کا حق نہ ہو تو اس کو وہ مال نہیں لینا چاہئے اور یوں سمجھناچاہئے کہ وہ آگ کا ایک حصہ وصول کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی غلط فیصلہ اپنی چرب زبانی سے حاصل کرے اور وہ فیصلہ حاکم نے غلط کیا ہو تو وہ ڈگری وصول نہ کرے بعض لوگوں نے یہ بھی مطلب بیان کیا ہے کہ ناحق کسی کا مال ہتھیالو اور حکام کی طرف منسوب کرو کہ ہم کو تو عدالت سے ڈگری ملی ہے ایسا نہ کرو۔ (واللہ اعلم) قاضی شریح بعض دفعہ فیصلہ کرتے وقت فرمایا کرتے تھے اے مدعی ! میں تیرے حق میں فیصلہ دے رہا ہوں اگرچہ میں جانتا ہوں کہ تو ظالم ہے لیکن گواہوں کی گواہی سے مجبور ہوں اور کوئی گنجائش میرے لئے نہیں ہے مگر یہ سمجھ لے کہ میرا فیصلہ تیرے لئے حرام مال کو حلال نہیں کرسکتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) ارشاد فرماتے ہیں نہ پہنچائو حاکموں تک یعنی کسی کے مال کی خبر نہ دو حاکموں کو یا اپنے مال نہ پہنچائو رشوت کہ حاکم کو رفیق کر کر کسی کا مال کھا جائو۔ (موضح القرآن) جس صورت کو حضرت شاہ صاحب (رح) نے واضح کیا ہے ہم نے تسہیل میں وہ صورت لے لی ہے اور اس کی طرف اشارہ کردیا ہے اب آگے اور اسی لفظ بر کی تفصیل مذکور ہے۔ ( تسہیل )
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ آپ سے ہر مہینے نئے چاند نکلنے کا حال دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے یہ چاند لوگوں کے لئے اور حج کے لئے اوقات کی شناخت کا ذریعہ ہیں اور یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں دروازے کو چھوڑ کر ان کے پیچھے کی جانب سے آئو بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پائو1

ف 1 اے پیغمبر ﷺ آپ سے کچھ لوگ ہر مہینے چاند کے نکلنے اور اس کے گھٹنے بڑھنے کا حال دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے وہ چاند اپنے گھٹنے بڑھنے کے اعتبار سے اوقات کی پہچان کا ذریعہ ہیں کہ ان سے مقررہ اوقات معلوم ہوتے رہتے ہیں اور اس بات میں کہ تم احرام باندھنے کے بعد اپنے گھروں میں دروازے کو چھوڑ کر ان کی پشت اور ان کے پیچھے کی جانب سے آیا کرو کوئی نیکی اور فضیلت نہیں ہے لیکن نیکی تو اس شخص کی ہے جو شخص نیکی اور تقویٰ اختیار کرے اور معصیت سے بچے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو توقع ہے کہ تم دونوں جہان میں کامیاب ہوگے اور فلاح پائو گے۔ (تیسیر) اوپر کی آیتوں میں روزے کا ذکر تھا جس میں صرف صبح سے شام تک کھانا پینا وغیرہ حرام ہوتا ہے پھر دائماً ناجائز مال کے کھانے کی مخالفت تھی آگے حج کا بیان آنے والا ہے جس کی طرف اس آیت میں بھی اشارہ ہے اور رمضان کو رویت ہلال سے اور حج کو شوال اور ذیقعدہ اور ذی الحجہ کے چاندوں سے ظاہری مناسبت ہے اس لئے اس آیت میں ہلال کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ابن عساکر نے نقل کیا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل اور ثعلبہ بن عتمہ جو دونوں انصاری ہیں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر دریافت کیا یا رسول اللہ ؐ! یہ کیا بات ہے کہ چاند جس دن دکھائی دیتا ہے تو ایک دھاگے کی طرح باریک ہوتا ہے پھر بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ پورا ہوکر اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے اس کے بعد پھر گھٹنے لگتا ہے یہاں تک کہ ایسا ہی ہوجاتا ہے جیسا پہلے تھا آخر یہ چاند ایک حالت پر کیوں نہیں رہتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اے پیغمبر ﷺ آپ سوالک کرنے والوں سے کہہ دیجیے کہ یہ لوگوں کے لئے اوقات کے معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں اور فریضہ حج کے لئے بھی کیونکہ رمضان کے روزوں کی قصا تو دوسرے دنوں میں ہوسکتی ہے لیکن حج کے دن تو مقرر اور اس کا وقت معین ہے اگر وقت میں غلطی ہوجائے تو پھر دوسرے ہی سال حج کے ارکان ادا ہوسکتے ہیں اس لئے حج کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔ لوگوں کے لئے اوقات کا مطلب یہ ہے کہ خواہ معاملات ہوں یا عبادات جن چیزوں کا وقت مقرر ہے یا لوگ اس کا وقت مقرر کرتے ہیں مثلاً اجارہ، قرض، بیع و شرا، ثمن کی ادائیگی یا بیع کا سپرد کرنا یا روزہ اور زکوۃ عید کی نماز، عدت حمل کی مدت اور رضاعت وغیرہ ان میں بعض چیزیں وہ ہیں جن کی فوقیت اختیاری ہے بعض وہ ہیں جن کی فوقیت شارع (علیہ السلام) کی جانب سے ہوچکی ہے اور اب اس میں تغیر و تبدل کا کسی کو حق نہیں تو اس قسم کے معاملات اور عبادات کے اوقات کی شناخت ہوجاتی ہے اس چاند کی تغیر و تبدیل میں یہ مصلت ہے کیوں کہ سورج تو ایک حالت پر رہتا ہے گھٹتا بھڑتا نہیں اگرچہ اس کے طلوع و غروب میں تبدیلی ضرور ہوتی ہے اور وہ ایک نئی مشرق سے نکلتا اور نئی مغرب میں ڈوبتا ہے لیکن اس کا احساس بہت کم ہوتا ہے اور تاخیر سے ہوتا ہے اور چاند چونکہ ہر مہینے گھٹتا بڑھتا ہے اور پھر اس کی تبدیلی اور کمی بیشی بھی ایک ضابطہ کے ماتحت ہے اس لئے اس کی طرف ذہن بہت جلد متوجہ ہوجاتا ہے حالانکہ یہ ایک ایسا حساب ہے کہ اس میں کسی کو دقت اور دشواری نہیں لوگ قمری حساب سے برسوں کا حساب کرلیتے ہیں بلکہ چاند کو دیکھ کر بتا دیتے ہیں آج فلاں تاریخ ہے اور چونکہ قمری حساب نہایت سہل اور آسان ہے بلکہ یوں سمجھو کہ فطری اور طبعی حساب ہے جس کو ہر پڑھا لکھا اور بےپڑھا لکھا سمجھ سکتا ہے۔ اس لئے صاحب شریعت نے اس کو ہی اختیار فرمایا اور عبادت میں ضروری طورپر اسی کو مقرر فرمایا رہے معاملات تو اگرچہ اس میں رخصت ہے اگر شمسی حساب سے کوئی شخص وقت مقرر کرے تب بھی جائز ہے لیکن معاملات میں بھی اگر قمری حساب اختیار کیا جائے تو آسان اور بہتر یہی ہے اور چونکہ شریعت نے اپنے تمام کاموں کے لئے اسی کو اختیار کیا ہے اس لئے قمری حساب کے راجح اور بہتر ہونے میں تو کسی کو انکار ہی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ راحج کو چھوڑ کر مرجوح کو اختیار کرے۔ حضرت حق تعالیٰ نے چاند کی منازل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے لتعلموا عدد السنین والحساب۔ اب زیر بحث لوگوں کے سوال کا مطلب اگر یہی تھا کہ وہ ہلال نور کی غرض اور اس کے گھٹنے بڑھنے کا مقصد دریافت کرنا چاہتے تھے تب تو جواب سوال کے مطابق ہے اور اگر ان کا منشا یہ تھا کہ وہ کوئی ریاضی اور ہئیت کا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے اور یہ پوچھناچاہتے تھے کہ یہ کیونکر اور کس طرح ہوتا ہے تب جواب اسلوب حکیم پر ہوگا۔ جیسا کہ عام مفسرین کا رجحان یہی ہے۔ ( واللہ اعلم) اسلوب حکیم کا مفاد یہ ہے کہ سائل کو اس کی توقع کے صاف جواب دیاجائے اور یہ غیر متوقع جواب اس کو تنبیہہ کرنے کی غرض سے دیا جائے کہ یہ جواب تیرے لئے اولیٰ اور قریب تر ہے اب یہ مطلب ہوگا کہ ان کو ان کے سوال کے جواب میں چاند کی کمی بیشی اور گھٹنے بڑھنے کی وہ حکمت بتائی گئی جو ان کے لئے مفید تھی اور اس بات پر تنبیہہ کی گئی کہ جو بات سائل کو معلوم کرنی چاہئے تھی اور جس سے آگاہ اور با خبر ہونا اس کے لئے ضروری تھا اس کو وہ بات دریافت کرنی چاہئے تھی اگر ریاضی اور ہئیت کا کوئی مسئلہ معلوم بھی ہوگیا اور اس کمی بیشی کی حکمت اور مصلحت معلوم نہیں ہوئی تو کیا فائدہ ہوگا۔ گھروں کی پشت سے آنے کا واقعہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایک دستور تھا کہ جب احرام باندھ کر حج کے لئے گھر سے نکل جاتے اور پھر کسی ضرورت سے قبل از حج گھر میں واپس آتے تو دروازے سے آنے کو ناجائز سمجھتے تھے بلکہ گھر کے پیچھے سے دیوار پر چڑھ کر گھر میں آتے یا پچھیت کی دیوار میں نقب لگا کر اندر آتے اس کو منع فرمایا اور دروازے سے داخل ہونے کا حکم دیا اور ان دو جملوں میں ایک بہت بڑے شرعی اصو ل کو بھی ظاہر کردیا کہ کسی امر مباح کو لازم اور اطاعت و عبادت سمجھ لینا یا کسی امر مباح کو معصیت اور حرام سمجھ لینا یہ دونوں باتیں شرعاً مذموم اور قابل ملامت اور بدعت میں داخل ہیں۔ دیکھو ! گھروں میں دروازوں سے آا یہ امر مباح تھا اس کو تو انہوں نے مصیت اور حرام سمجھ لیا تھا اور اسی طرح گھروں میں ان کے پیچھے سے داخل ہونا بھی فی حد ذاتہ مباح تھا اس کو انہوں نے طاعت اور عبادت قرار دے لیا تھا اللہ تعالیٰ نے دونوں کو رد فرمایا کہ ایک امر مباح کو طاعت اور عبادت سمجھنا بھی شرعاً خلاف ہے اور ایک امر مباح کو ناجائز اور معصیت سمجھنا بھی شرعاً قابل مذمت اور خلاف ہے اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے بڑے کام کی بات ہے۔ آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اس لغو اور بےاصل رسومات کو چھوڑو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ہم تکو توقع دلاتے ہیں کہ تم فلاح دارین حاصل کرنے میں کامیاب ہوگے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں لوگوں نے حضرت سے پوچھا کہ کیا سبب ہے کہ چاند ایک حالت پر نہیں رہتا۔ اللہ صاحب نے جواب فرمایا کہ اس پر حال بدلتے رکھے ہیں تا مہینے کی حد ٹھہرے پھر مہینوں سے برس ٹھہرے اس پر خلق کی معاملت اور اللہ کی عبادت کو وقت مقرر ہو عبادت جو برس پر مقرر ہے ایک روزہ ہے جس کا حکم مذکور ہوا دوسرے اس کا حکم آگے شروع ہوتا ہے کفر کی غلطیں میں ایک یہ تھی کہ جب گھر سے نکل کر احرام باندھا حج کا پھر کچھ ضرورت ہوئی کہ گھر میں جائے تو دروازے سے نہ جاتے چھت پر چڑھ کر آتے اللہ تعالیٰ نے اس کو غلط کیا۔ (موضح القرآن) آگے چند جہاد کے مسائل اور حرم کعبہ کا احترام اور اشہر حرم کی حقیقت کا بیان ہے۔ زمانہ جاہلیت میں ان کفار کا ایک اور طریقہ تھا کہ اشہر حرام جو ذیقعدہ ، ذوالحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں اس میں قتال بند رہتا تھا لیکن یہ لوگ کسی مصلحت سے لڑناچاہتے تھے تو ان مہینوں کو بدل دیا کرتے تھے اور یوں کہہ دیا کرتے تھے کہ اس سال رجب محرم کے بعد آئے گا کبھی کہہ دیتے کہ اب کہ ذیقعد صفر میں آئے گا۔ عرض اسی طرح اپنے مطلب کے لئے مہینوں کو آگے پیچھے کرتے رہتے تھے پوری تفصیل تو سورة برأت میں آئے گی مگر یہاں بھی ان کا ذکر ہے ۔ ( تسہیل )
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں تم بھی ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا2

ف 2 اور تم بھی اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو نقص عہد اور عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہوئے تم سے لڑیں اور دیکھو حد سے تجاوز نہ کرنا کہ کہیں ان کے نقص عہد کے بغیر ان سے لڑنے لگو کیونکہ اللہ تعالیٰ حد سے شرح سے تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور پسند نہیں کرتا۔ (تیسیر) بعض لوگوں نے اس کو جہاد کی پہلی آیت قرار دیا ہے لیکن اس میں اقدام کی شرط ہے پھر آگے کی آیت سے جو مطلقاً قتال کا حکم دیتی ہے اس کو منسوخ ٹھہرایا ہے لیکن فقیر کے نزدیک محقق قول یوں ہے کہ ان آیتوں میں ایک مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ 6؁ھ کے ذیقعدہ میں جب نبی کریم ﷺ نے عمرے کا ارادہ کیا اور مکہ تک پہنچ گئے تو کفار مکہ نے آپکو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا اور لڑنے پر آمادہ ہوگئے۔ چنانچہ وہاں ایک صلح نامہ لکھا گیا جس کا نام صلح حدیبیہ ہے اس صلح نامہ میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ اس سال مسلمان بغیر عمرہ کئے واپس چلے جائیں اور آئندہ سال آئیں تو ہم ان کو عمرہ ادا کرنے دیں گے۔ چنانچہ اس معاہدہ کے بعد مسلمان واپس چلے گئے معاہدہ کی تفصیل تو انشاء اللہ سورة فتح میں آئے گی اور احصار کے چند مسائل ابھی چند آیتوں کے بعد آتے ہیں اس سال واپس ہونے کے بعد جب آئندہ مسلمانوں نے عمرہ کی قضا کا ارادہ کیا تو کفا رکی شرارت سے یہ خیال داسن گیر ہوا کہ کہیں امسال پھر انہوں نے روکا اور لڑنے پر آمادہ ہوگئے تو ہماری کیا حیثیت ہوگی۔ حرم میں قتال کا حکم نہیں اسی طرح اشہر حرم ذیقعدہ ، ذی الحجہ، محرم اور رجب ان چار مہینوں میں بھی لڑنے کا حکم نہیں تو ان حالات میں ہم کو کیا کرنا ہوگا اس پر یہ احکام نازل کئے گئے یہ ہوسکتا ہے کہ جنگ کرنے کی یہ پہلی اجازت ہو اور ہوسکتا ہے کہ جنگ کرنے کی اجازت اور جہاد کے حکم کی پہلی آیت سورة حج کی ـاٰیت اذن للذین یقتلون ہو جو شان نزول ہم نے عرض کیا ہے اس کی روشنی میں آ یتوں کے ترجمہ کو پڑھناچاہئے کہ اس وقت کفار مکہ ایک معاہد قوم ہیں مسلمان معاہدے کی رو سے عمرے کی قضا کرنے کو جاناچاہتے ہیں خطرہ یہ ہے کہ کفار عہد کی خلاف ورزی کریں تو کیا ہو۔ ادھر حرم کعبہ کا احترام ، پھر اشہر حرم کی حرمت، پھر معاہدہ ان سب باتوں کے پیش نظر ان آیتوں کو سمجھا جائے تو انشاء اللہ کوئی دشواری نہ ہوگی فی سبیل اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کی بلندی اور اس کی رضا جوئی مقصود ہو۔ جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا یا رسول اللہ ! ایک شخص اپنی شجاعت اور بہادری کی وجہ سے لڑتا ہے ایک شخص اپنی حمیت اور اپنی بات کی پچ پر لڑتا ہے ایک آدمی لوگوں کے دکھانے کو لڑتا ہے ان میں کون سی لڑائی فی سبیل اللہ ہوگی۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا من قاتل لتکون کلمۃ اللہھی العلیا کہ ان لڑائیوں میں تو کوئی بھی فی سبیل اللہ نہیں ہے فی سبیل اللہ تو صرف اس شخص کی جنگ ہے جو صرف اس غرض کے لئے جنگ کرے کہ اللہ تعالیٰ کی بات اور اس کا دین اونچا ہوجائے اور یہ جو فرمایا جو تم سے لڑیں یہ اس بنا پر کہ ابھی کفار عرب کے عام قتل کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، یہ احکام بعد میں نازل ہوئے کہ جزیرۃ العرب میں ان کفار کو بسنے ہی نہ دو ۔ جیسا کہ آگے آتا ہے یا یہ لوگ اسلام قبول کرلیں یا قتل کردئیے جائیں ان کفار عرب سے جزیہ بھی نہ قبول کیا جائے غرض ان کو یہاں جب تک یہ اسلام قبول نہ کریں رہنے ہی نہ دیا جائے حد سے تجاوز نہ کرنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ ان کی عہد شکنی کے بدول ان سے قتال نہ کرو جو لوگ آیت کو ابتدائی جہاد کی فرضیت کے لئے قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ تم سے نہ لڑیں مثلاً بڈھے، بیمار، بچے عورتیں، دیوانے اور وہ جو تم کو امن کا پیغام دے دیں اور وہ فقیر فقراء جو راہب خانوں میں رہتے ہوں اور اپاہج لوگ یہ مستثنیٰ ہیں ان کو قتل نہ کیا جائے کیونکہ یہ لڑنے والے نہیں ہیں اگر کوئی ان کو قتل کرے گا تو وہ حد سے تجاوز کرنے والا ہوگا اور احضر نے جو محققین کا قول نقل کیا ہے اس تقدیر پر ولا تعتدوا کا مطلب یہ ہے کہ تم خود اپنی طرف سے عہد شکنی کرکے ان کے قتل میں پہل نہ کرنا کیونکہ یہ اعتدا ہے مگر ہاں جب وہ عہد شکنی کرکے تم سے لڑنے پر آمادہ ہوجائیں تو پھر تم کوتاہی نہ کرنا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حج کے ساتھ یہ مذکور بھی ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت شہر مکہ جائے امن تھا اگر یہاں دشمن کو دشمن پا تو بھی کچھ نہ کہتا اور حج کے اول و آخر میں تین مہینے ذیقعد، ذی الحجہ، محرم اور چوتھا رجب کہ وہ بھی وقت زیارت تھا یہ چار مہینے وقت امان تھے کہ تمام ملک عرب میں راہیں ج اری ہوتیں اور لڑائی موقوف رہتی۔ اللہ تعالیٰ ان کا حکم فرماتا ہے ان بیچ میں اور بھی لڑائی کے حکم اور جہاد کے آداب فرماتا ہے یہ جو فرمایا کہ زیادتی نہ کرو اس کے معنی یہ کہل ڑائی میں لڑکے اور عورتیں اور بوڑھے قصداً نہ مارئیے لڑنے والوں کو مارئیے۔ (موضح القرآن) ہم نے اوپر خلاصہ عرض کردیا ہے شاہ صاحب (رح) کے حاشیہ پر کچھ عر ض کرنے کی ضرورت نہیں مزید تفصیل مطلوب ہو تو روح البیان اور روح المعانی ملاحظہ کیجئے۔ ( تسہیل )