2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور خدا ہی کی ملک ہے مشرق بھی اور مغرب بھی سو جہاں سے بھی تم اس کی جانب متوجہ ہو گے وہیں اللہ تعالیٰ کی توجہ موجود ہے بیشک اللہ تعالیٰ صاحب وسعت اور ہر ایک سے با خبر ہے2

ف 2 اور مشرق و مغرب دونوں اللہ ہی کی مملوک ہیں لہذا تم جہاں سے بھی اس کی جانب اپنا رخ کرو گے اور اسکی جانب متوجہ ہو گے ادھر ہی اللہ تعالیٰ کا رخ اور اسکی ذات اور اسکی توجہ موجود ہوگی۔ یقین جانو ! اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت اور فراخ حوصلہ اور کمال علم کا مالک ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ مشرکین عرب جو مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں اور مسلمانوں کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے نہیں دیتے اور مسلمانوں کو اس سے رنج ہوتا ہے اور وہ مکانوں یا جنگلوں میں جاکر نماز ادا کرتے ہیں تو ان کو اس آیت میں تسلی دی ہے کہ یہ گھبرانے کی باتں نہیں اللہ تعالیٰ تو مشرق و مغرب یعنی تمام روئے زمین کا مالک ہے وہ کسی خاص مکان کے ساتھ مختص نہیں ہے یہ کہ تم کو جہاں بھی موقعہ ملے اور تم جس جگہ سے بھی اللہ تعالیٰ کا رخ کرو گے اور اسکی جانب متوجہ ہوگے وہیں اس کی توجہ کو موجود پائو گے ۔ اس کا علم اور اسکی وسعت رحمت سے کائنات کا کوئی گوشہ خالی نہیں ہے بعض مفسرین نے اس آیت کو تحویل قبلہ کے سلسلہ کی ایک کڑی بتایا ہے اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا یا بیت المقدس سے کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ملا تب یہود نے اعتراض کیا کہ مسلمانوں نے ایک جہت چھوڑ کر دوسری جہت کیوں اختیار کی۔ اس پر فرمایا کہ تمام جہات کے ہم ہی مالک ہیں ہم ہر طرف موجود ہیں بلکہ تمام کائنات پر ہم محیط اور چھائے ہوئے ہیں ہمیں اختیار ہے کہ خواہ کوئی جہت مقرر کردیں کسی جہت کی پرستش تو مقصد ہے ہی نہیں اصل پرستش تو ہماری ہے۔ قبلہ خواہ کعبہ ہو یا بیت المقدس ہو وہ تو محض تنظیم کی غرض سے ہے تاکہ عبادت کے وقت سب مسلمانوں کا رخ ایک طرف ہو اور عبادت میں یک جہتی کا مظاہرہ ہو یہ نہ ہو کہ ایک مسلمان مشرق کی طرف سجدہ کر رہا ہو اور دوسرا مغرب کی طرف کر رہا ہو اور خدا کی عبادت میں بھی انتشار اور تفریق ہو یہ بات جماعتی زندگی پر بُری طرح اثر انداز ہوتی ہے اس لئے ایک جہت کا تقرر کیا گیا ہے رہا یہ امر کہ کعبہ چھوڑ کر بیت المقدس کی جہت کیوں اختیار کی یا بیت المقدس چھوڑ کر پھر کعبہ کو اختیار کیوں کیا سو اس کی مصلحت کو ہم ہی خوب جانتے ہیں اور چونکہ ہم ہی کمال علم کے مالک اور کامل العلم ہیں اس لئے ہمارا کوئی حکم حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ بہرحال کسی جہت کا تقرر اور اس کا تعین قومی نقطہ نگاہ اور مسلمانوں کی مرکزیت کے لحاظ سے ضروری ہے ورنہ نہ کعبہ کی پرستش مقصود ہے اور نہ بیت المقدس کی۔ بعض حضرات نے یہود و نصاریٰ کے باہمی جھگڑے سے اس آیت کا تعلق بیان کیا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسا کہ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ بھی یہود اور نصاریٰ کا جھگڑا تھا کہ ہر کوئی اپنے قبلہ کو بہتر بتاتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ مخصوص ایک طرف نہیں اس کے حکم سے جس طرف منہ کرو وہ متوجہ ہے (موضح القرآن) (تسہیل)
Ayahs 2:116–117

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے وہ پاک ہے تما م عیوب سے بلکہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اسی کے ملک ہے سب اسی کے محکوم ہیں

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

ایجاد کرنیوالا ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جب کسی کام کو پورا کرنا چاہتا ہے تو بس اس کو اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے3

ف 3 اور لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے میں اسکی جملہ عیوب سے پاکی بیان کرتا ہوں اس کو صاحب اولاد کہنا کس قدر لغو اور مہمل بات ہے بلکہ جو مخلوق بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسکی مملوک ہے اور مملوک ہونے کے ساتھ سب اسکے محکوم اور مطیع و منقاد ہیں کہ اس کا ہر حکم ان پر جاری اور نافذ ہوکر رہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کا موجد ہے اور اسکی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ بس اس کو کہہ دیتا ہے ہوجا ! سو وہ ہوجاتا ہے۔ یہود حضرت عزیر کو اور نصاریٰ حضرت مسیح کو ابن اللہ کہا کرتے تھے اور کبھی اپنے آپکو بھی خدا کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے۔ نحن ابناء اللہ واحباء ہ یعنی ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ مشرکین عرب بھی ان کی دیکھا دیکھی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنے لگے اور چونکہ فرشتے نظر نہ آتے تھے اور ان کا ذکر آتا تھا تو ان بدبختوں نے یہ طعنہ دیا کہ بھلا فرشتے ہمارے سامنے کیسے آسکتے ہیں وہ تو اللہ کی بیٹیاں ہیں اس لئے پردے میں رہتی ہیں۔ غرض اس آیت میں ان سب کی بات نقل کرکے پہلے تعجب فرماتے ہیں پھر اس دعویٰ کا رد کرتے ہیں سبحنہ ایسا ہی ہے جیسے ہم ارد و میں تعجب کے موقعہ پر کہا کرتے ہیں سبحان اللہ کیا خوب بات ہے بیہقی نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ سبحان اللہ کا کیا مطلب ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تنزیہ اللہ من کل سوئِ ہر عیب سے اللہ تعالیٰ کی پاکی اور برأت کرنا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے کسی نے دریافت کیا جناب ہم لا الہ الا اللہ الحمد اللہ اللہ اکبر کا مطلب تو جانتے ہیں لیکن یہ سبحان اللہ کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے جواب دیا اس کلمہ کا کون انکارکر سکتا ہے یہ تو ایسا کلمہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے اور فرشتوں کو اس کے کہنے کا حکم دیا ہے اور اس کی مخلوق میں سے بہترین انسان اس کلمہ کے کہنے کے لئے مضطرب اور بےچین رہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم حضرت حسن بصری ؓ سے روایت کیا ہے کہ سبحان اللہ اسم لا یستطیع الناس ان ینتحلوہ یعنی یہ ایک ایسا نام اور کلمہ ہے جس کو لوگ اپنے لئے نہیں استعمال کرسکتے کیونکہ ہر قسم کے عیوب اور کمزوری سے سوائے اللہ تعالیٰ کے کون منزہ ہوسکتا ہے یہ ممکن ہے کہ اہل کتاب میں سے بعض بیوقوفوں نے یہ خیال کرکے اللہ تعالیٰ کا بےاولاد ہونا اس کیلئے عیب ہے یہ عقیدہ گھڑا ہو یا جیسا کہ قاضی بیضاوی نے فرمایا کہ سابقہ ارباب شرائع اللہ تعالیٰ پر باپ کا اطلاق کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہمارا باپ تو چھوٹا باپ ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا باپ ہے کیونکہ سب کی پرورش کرتا ہے۔ ابتداً محض تعظیم و ادب کیلئے استعمال کیا گیا پھر سچ مچ اس کی طرف گمراہوں نے اولاد کی نسبت کردی ہو۔ بہر حال بات کہیں سے آئی مگر گمراہوں کا عقیدہ بن گئی۔ حضرت حق تعالیٰ اس عقیدہ کا رد فرماتے ہیں کہ جو چیز تمہارے لئے قابل فخر ہے وہ اللہ تعالیٰ کیلئے عیب ہے تم اس کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو۔ بیٹا باپ کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تبعیض و تجزی سے پاک ہے۔ باپ بیٹے کا محتاج ہوتا ہے۔ بیماری میں بڑھاپے میں اس کو اولاد کی احتیاج ہوتی ہے مرنے کے بعد وارث کی اور کام کو سنبھالنے والے کی ضرورت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ عنی اور بےنیاز ہے بیٹا باپ کا مدد گار ہوتا ہے اسے کسی معین و مددگار کی ضرورت نہیں باپ کوئی کام کرتا ہے تو بیٹا اس کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین بغیر کسی مادے اور بغیر کسی مشین اور آلے کے اور بغیر کسی ہاتھ بٹانے والے کے اور بغیر کسی نمونہ کو دیکھنے کے خود ہی ایجاد کئیے اور بنا کھڑے کئے اور وہاں تو ہر کام کی یہی حالت ہے کہ بس کن کہنے کی دیر ہے ارادے کا تعلق اس شے سے ہو اور وہ ظاہر ہوئی پھر بیٹا باپ کا ہمسر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمسر سے پاک ہے غرض وہ جب ہر قسم کی احتیاج اور تغیرات اور ہر قسم کے ہمسر اور شریک سے بالاتر ہے تو اس کے لئے اولاد کا ثابت ہونا اور اس پاک ذات کی طرف اولاد کی نسبت کرنا اس کی سخت توہین ہے۔ ایک حدیث قدسی میں شتمنی اور کذبنی کے الفاظ آئے ہیں یعنی ابن آدم مجھ کو گالی دیتا ہے اور میری تکذیب کرتا ہے جبکہ وہ کہتا ہے کہ میری کوئی اولاد ہے حالانکہ نہ میرا کوئی ہمسر اور نہ میں کسی سے پیدا ہو یعنی مجھ کو کسی نے جنا نہیں تو جب مجھ کو کسی نے جنا ہی نہیں تو مجھ سے کون پیدا ہوسکتا ہے ۔ لم یلد ولم یولد کا یہی مطلب ہے اور میری تکذیب یہ ہے کہ ابن آدم یوں کہتا ہے کہ میں مخلوق کو مرنے کے بعد دوبارہ نہیں پیدا کرسکتا حالانکہ میں نے ہی تو ابتداء مخلوق کو پیدا کیا ہے پھر دوبارہ اس کو کیوں نہیں بنا سکتا۔ تانتون کا مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات پر میرا ہی حکم چلتا ہے نہ کوئی موت کو ٹال سکتا ہے نہ بیماری کو نہ فقر کو ٹال سکتا ہے نہ غنیٰ کو اب آگے ان کافروں کا ایک اور قول نقل فرما کر اس کا رد فرماتے ہیں اور اس قول میں یہ احتمال ہے کہ فقط یہود کا ہو یا صرف اہل کتاب کا ہو یا فقط کفار عرب کا ہو یا اس سے بیہودہ بات میں سب شریک ہوں ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور بےعلم لوگ یوں کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی اور دلیل کیوں نہیں آجاتی اسی طرح وہ لوگ بھی جو ان سے پہلے ہو گذرے ہیں ان ہی کی سی بات کہہ چکے ہیں ان سب پہلوں اور پچھلوں کے دل آپس میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں بیشک ہم نے ان لوگوں کیلئے بہت سی دلیلیں صاف صاف بیان کردی ہیں جو یقین حاصل کرنا چاہتے ہیں4

ف 4 اور جو لوگ علم سے بےبہرہ ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بلا واسطہ کیوں کلام نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی دلیل اور نشانی کیوں نہیں آجاتی جس پر اس پیغمبر کی نبوت ثابت ہوجائے جس طرح کی یہ باتیں کہہ رہے ہیں اسی طرح کی باتیں اور مطالبے وہ لوگ بھی کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہوئے ہیں ان پہلے اور پچھلے جاہلوں کے قلوب آپس میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ یقین جانو ! کہ ہم نے تو بہت سے دلائل رسالت محمدیہ ﷺ کے ان لوگوں کیلئے واضح طور پر بیان کردئیے ہیں جو اطمینان و یقین حاصل کرنے کے طلب گار ہیں۔ (تیسیر) علم سے بےبہرہ ہیں یعنی جاہل جیسے کفار عرب یا جاہل اہل کتاب وہ اہل کتاب کے عالم ہو بےعمل ہیں اور وہ اپنے علم سے نفع اٹھانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ غرض ان سب جاہلوں کی یہ بات ہے ایۃ سے یہ مطلب ہے کہ کوئی معقول دلیل یا کوئی معجزہ اور یہ جو فرمایا قلوب ایک دوسرے کے مشابہ ہیں یہ اسی کافرانہ ذہنیت کی طرفاشارہ ہے جو عام طور سے کفار میں مساوی ہے کوئی کافر پہلی قوموں میں سے ہو یا ہمارے زمانے کا ہو سب کی ذہنیت اور سب کے اعتراضات ملتے جلتے ہوں گے اور یہ کفر کی آب و ہوا کا ہی اثر ہے ان کی ان باتوں کا جو جواب دیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اور کیا دلیل چاہتے ہیں دلائل تو ہم صاف صاف بیان کرچکے ہیں قرآن کی ہر آیت میں ایک مستقل دلیل ہے خود نبی کریم ﷺ کی ذات اپنی نبوت پر ایک مجسم دلیل ہے کائنات عالم کا ایک ایک ذرہ جس کی طرف قرآن توجہ دلاتا ہے وجود باری اور اسکی وحدانیت پر ایک روشن اور واضح دلیل ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ تمام دلائل ان ہی لوگوں کے لئے ہیں جو ان سے نفع اٹھائیں اور وہ لوگ وہ ہیں جو یقین و اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں ورنہ سرکش اور معاند کے لئے کوئی دلیل بھی مفید نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگلی امت جو یہود تھے وہ بھی اپنے نبی سے یہی کہتے تھے جو اب کے لوگ کہنے لگے۔ (موضح القرآن) شاہ صاحب (رح) نے یہاں بھی ایک قول اختیار کرلیا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے آپ کو دین حق دیکر خوش اور ڈر سنانے کو بھیجا ہے اور آپ سے دوزخ میں جانے والوں کی باز پرس نہ ہوگی1

ف 1 اے پیغمبر ہم نے آپ کو خلق کی ہدایت کے لئے دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ آپ ایمان لانے والوں کو خوش خبری دیں اور منکروں کو عذاب خدا سے ڈرائیں اور آپ سے اہل دوزخ اور اصحاب جحیم کی کوئی باز پرس نہ ہوگی۔ (تیسیر) مدعا یہ ہے کہ آپ تک یہود کے دعاوی اور ان کے اقال فاسدہ کا رد تھا اسی سلسلے میں نبی کریم ﷺ کی نبوت کا اعلان کیا اور آپ کی تسلی فرمائی۔ اعلان تو اس لئے کیا کہ اہل کتاب حق کو لے کر آئے ہیں اور آپ کا لقب بشیر و نذیر ہے اگر وہ چاہیں تو اہل کتاب سے دریافت کرلیں اور تسلی اس لئے کہ آپ اہل کتاب سے توقعات قائم نہ کریں یہ لوگ ماننے والے نہیں اور کسی کے ایمان لانے نہ لانے کے آپ ذمہ دار بھی نہیں اور نہ جہنم میں جانے والوں کی آپ سے کچھ باز پرس ہونے والی ہے ۔ چناچہ آگے اہل کتاب کی حالت بیان فرماتے ہیں کہ اے پیغمبران سے ایمان لانے کی امید نہ کرو اور نہ ان کو راضی کرنے اور خوش رکھنے کی فکرکرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تجھ پر الزام نہیں کہ ان کو مسلمان کیوں نہ کیا۔ (موضح القرآن) یہ باز پُرس کی تفصیل ہے کہ اگر کوئی ایمان نہ لائے گا تو وہ جہنم میں داخل ہوگا کیونکہ جہنم ایمان نہ لانے والوں کی جگہ ہے اور جب جہنم والوں کی آپ سے باز پرس نہیں تو کسی کے ایمان نہ لانے کا آپ پر الزام نہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:120–121

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور یہود و نصاریٰ آپ سے اس وقت تک ہرگز خوش نہیں ہوسکتے جب تک آپ ان کے دین کے پیرو نہ ہوجائیں آپ کہہ دیجئے سیدھی راہ تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ بتادے اور اگر اس علم کے بعد جو آپ کے پاس پہونچ چکا ہے آپ نے بالفرض ان کی خواہشات کی پیروی کرلی تو آپ کو اللہ کے ہاتھ سے بچانے والا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ مددگار

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

وہ اہل کتاب جو اپنی کتاب کی اس طرح تلاوت کیا کرتے ہیں جو اس کتاب کی تلاوت کرنے کا حق ہے تو ایسے لوگ پر یعنی دین حق پر ایمان لے آتے ہیں اور جو اس کو نہیں مانتے تو وہی لوگ ہیں نقصان اٹھاے والے2

ف 2 اور یہ یہود و نصاریٰ آپ سے ہرگز کبھی خوش نہ ہوں گے جب تک آپ ان کی ملت اور ان کے دین کے متبع اور پیرو نہ ہوجائیں اور چونکہ یہ بات ان کے طرز عمل سے ظاہر ہے اس لئے اے نبی آپ ان سے فرما دیجئے کہ ہدایت یعنی حقیقی سیدھی راہ تو وہی ہے جو راہ خدا تعالیٰ کسی کو بتادے اور اے پیغمبر اگر کبھی آپ خدانخواستہ اس بات کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح اور قطعی علم آچکا ہے ان کی خواہشات اور ان کے خیالات فاسدہ کی پیروی کرنے لگیں تو پھر آپکو اللہ تعالیٰ سے بچانے والا نہ کوئی آپ کا حمایتی ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب یعنی توریت و انجیل دی ہے اور وہلوگ اس کتاب کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرتے ہیں تو وہ لوگ دین حق پر ایمان لے آتے ہیں اور صحیح راہ کو اختیار کرلیتے ہیں اور جو شخص اس دین حق کو نہ مانے گا اور اس کا منکر ہوگا تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہوں گے اور خسارے میں پڑیں گے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری کی دشمنی اور تعصب کا تو یہ عالم ہے کہ وہ اے نبی آپ سے اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتے جب تک آپ ان کے دین کو قبول نہ کرلیں۔ حالانکہ ان کے دین کی یہ حالت ہے کہ اول تو انہوں نے خود ہی اس کو تحریف کرکے مسخ کردیا تھا اور اب تو وہ منسوخ ہوجانے کے بعد محض خواہشاتِ نفسانی کا مجموعہ رہ گیا ہے اور یہ جو فرمایا قل ان ھدی اللہ ھو الھدی یہ اس لئے کہ یا تو انہوں نے کہا ہوگا کہ آپ ہماری ملت قبول کرلیں تو ہم آپ سے خوش ہوجائیں اور آپ کی مخالفت ترک کردیں یا ان کے عناد اور دشمنی سے یہ ظاہر ہوتا ہوگا کہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام انکی ملت کے پیرونہ ہونگے وہ آپ سے مطمئن نہ ہونگے لہٰذا ارشاد ہوا کہ ان سے فرما دیجئے کہ ہدایت اور سیدھی راہ تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ بتائے ہر زمانے کی ہدایت اور اس کے طور طریقے جدا جدا ہوتے ہیں سابقہ دور میں توریت و انجیل کی بتائی ہوئی راہ خدا کی راہ تھی۔ لیکن اس زمانے میں خدا کی راہ وہ ہے جو قرآن بتاتا ہے پھر پیغمبر کو خطاب فرما کر تنبیہ کی کہ اگر آپ اپنے حق اور علم صحیح آنے کے بعد ان کی تالیف قلوب کی غرض سے یا ان کے مسلمان ہوجانے کی توقع پر کبھی ان کی خواہشات کا بالفرض اتباع کیا تو اللہ تعالیٰ کی وہ نصرت و حمایت جو اس وقت تم کو حاصل ہے وہ سلب کرلی جائے گی اگرچہ نبی کریم ﷺ سے اس کا ظہور یا وقوع محال تھا لیکن ایک شخص کو جس سے کسی فعل شنیع کے ارتکاب کا اندیشہ نہ ہو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو اچھا نہہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب آپ ﷺ کو ہو اور آپکی امت کو تنبیہ مقصود ہو کہ یہودونصاریٰ کی خواہشات کا اتباع حضرت حق کی ولادیت اور نصرت کے منافی ہے۔ دوسری آیت میں بعض اہل کتاب کی تعریف ہے۔ جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے ہمراہی جنہوں نے دین حق کو قبول کرلیا تھا اور نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں داخل ہوگئے تھے تلاوت کا حق ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کتاب کے حلال و حرام کو سمجھتے ہیں اور اس میں تحریف و تبدیل نہیں کرتے تو جو لوگ کتاب آسمانی کی تلاوت پوری توجہ کے ساتھ اس پر عمل کرنے کی غرض سے کرتے ہیں تو اسلام کو قبول ہی کرلیتے ہیں اور نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لے ہی آتے ہیں اور جو محض نام کے تلاوت کرنے والے ہیں وہ ایمان سے محروم رہتے ہیں اور ان ہی کا دیوالہ نکل جاتا ہے اور بعض لوگوں نے یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ جو لوگ اہل کتاب میں سے اپنی اپنی کتاب کی تلاوت اس طرح کرتے ہیں کہ تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں تو وہی اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں یعنی اہل کتاب میں سے وہ لوگ جو صرف توریت و انجیل کا نام لیتے ہیں اور صحیح طریقہ پر اس کو پڑھتے بھی نہیں وہ دین موسوی اور عیسوی پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔ ہاں جو لوگ ان کتابوں کو توجہ کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ کم از کم ان سے بہتر ہیں جو محض نام کے یہودی یا عیسائی ہیں ان سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ اگر وہ اپنی اپنی کتابوں کو اسی طرح توجہ کے ساتھ پڑھتے رہے تو ایک دن اسلام پر ایمان لے آئیں گے اور نبی آخر الزماں ﷺ کے حلقہ بگوش ہوجائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت عام ہو اور مسلمان بھی اس میں شامل ہوں اور مطلب یہ ہو کہ جو اپنی کتاب کو اس کی تلاوت کا حق ادا کرکے پڑھتا ہے وہی اس پر ایمان رکھتا ہے اور جو سرسری طورپر تلاوت کرتے ہیں اور غور و تدبر کے ساتھ نہیں پڑھتے ہوہ اس کتاب پر برائے نام ایمان رکھتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ جو تلاوت کا حق ادا کرکے پڑھتے ہیں وہی اس کے اتباع اور اس کی پیروی کا حق ادا کرتے ہیں حضرت عمر ؓ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ جب تلاوت کرتے ہوئے جنت کا ذکر آئے تو خدا تعالیٰ سے جنت طلب کرو اور جب قرآن میں جہنم کا ذکر آئے تو اس سے پناہ مانگا کرویہ قرآن کی تلاوت کا حق ہے۔ واللہ اعلم حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی یہود میں کم لوگ با انصاف بھی تھے کہ اپنی کتاب کو پڑھتے تھے سمجھ کر وہ اس قرآن پر ایمان لائے ایک ان کے عالم تھے عبداللہ بن سلام انکے ساتھ کئی اور بھی مسلمان ہوئے۔ (موضح القرآن) ان تفصیلات کے بعد آخر میں پھر ایک بار بنی اسرائیل کو اپنے احسانات کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔ اور ان کے اکثر ناشائستہ کاموں اور نافرمانیوں کا ذکر کرنے کے بعد پھر ان کو قیامت کے دن سے ڈراتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:122–123

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) میرے وہ احسانات یاد کرو جو میں نے تم پر کئے ہیں اور یہ کہ میں نے اقوام عالم پر تم کو فوقیت عطا کی تھی

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور تم اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص کسی کے ذرا بھی کام نہ آسکے اور نہ کسی کی طرف سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے اور نہ کسی طرف سے کوئی سفارش نفع دے گی اور نہ لوگوں کو کسی مدد گار کی مدد پہنچ سکے3

ف 3 اے یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ! تم میرے ان احسانات کو یاد کرو جو انعامات و احسانات میں تے تم پر کئے ہیں اور اس بات کو بھی یاد کرو کہ میں نے تم کو اقوام عالم پر خاص فوقیت و برتری عطا کی تھی اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ تو کوئی کسی کے کام آسکے اور نہ کسی کی طرف سے کوئی فدیہ اور معاوضہ قبول کیا جائے اور نہ کسی کو کوئی سفارش مفید و نافع ہو اور نہ ان کو کسی طرف دار کی طرف داری اور کسی مددگار کی مدد پہنچ سکے۔ (تیسیر) اقوام عالم کا مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے اسی قسم کی آیت کے تحت میں عرض کیا تھا کہ یا تو اس زمانہ کی اقوام مراد ہیں اور یا پھر بعض خصوصیات میں ان کو برتری اور فوقیت حاصل ہو یہ مطلب نہیں کہ قیامت تک جو لوگ پیدا ہوں گے ان پر بھی ان کو فضیلت حاصل تھی کیونکہ امت محمدیہ بہرحال تمام امم سابقہ سے بہتر اور برتر امت ہے مجرم کو حاکم کی سزا سے نجات دلانے اور بچانے کی یہی چند صورتیں ہیں کہ کوئی مجرم کی طرف سے مطالبہ اور وہ حق ادا کردے جو اس کے ذمہ واجب ہے اور یا کوئی کسی کی طرف سے فدیہ اور تاوان ادا کرکے مجرم کو چھڑا لے جیسا کہ آج کل جرمانہ کی رقم جو مجرم کی طرف سے ادا کردے تو مجرم رہا ہوجائیگایا پھر کوئی سفارش سود مند ہوتی ہے اور حاکم کسی کی سفارش سے متاثر ہوکر مجرم کو درگذر کردیتا ہے اور یا پھر کوئی زبردستی چھڑا کرلے جائے جیسا کہ فاتح عام طورپر مفتوح قوم کے قیدیوں کو چھو ڑ دیتے ہیں یا کمزور حکومتوں میں خود مجرم کے طرف دار مجرم کو چھین لیتے ہیں۔ غرض ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی قیامت کے دن کافروں کے حق میں چلنے والے نہیں ہے یہاں تک یہود کی حرکات مذمومہ کا ذکر تھا اور جن حرکات میں نصاریٰ اور مشرکین عرب بھی ان کے ہم نوا تھے ان کا بھی ذکر ان کے ساتھ فرمایا۔ اب آگے کی آیتوں میں تحویل قبلہ تمہید ہے اور تحویل قبلہ سے قبل کعبہ اور بنائے کعبہ کا ذکر فرمایا اور کعبہ کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر ضروری تھا اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرماتے ہیں نیز ضمناً یہود کے اس مشہور خیال کا بھی رد ہے کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور نبوت ان ہی کی اولاد کا حق ہے لہٰذا سوائے یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے ہم کسی نبی پر ایمان نہیں لائیں گے اور چونکہ ہم ان کی اولاد میں ہیں اس لئے ہم دوزخ میں بھی نہیں جائیں گے اور ہم ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں وہ بھی یہودی تھے ہم بھی یہودی ہیں ان سب امور کو بہترین ترتیب و تمہید کے ساتھ مع تحویل قبلہ کی بحث کے چوتھے رکوع تک بیان فرماتے ہیں اور چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بزرگی مشرکین عرب میں بھی مشہور تھی اور وہ بھی اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر سمجھتے تھے اس لئے ان کو بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات تے تنبیہ مقصود ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا سو وہ ان باتوں کو پوری طرح بجا لایا تو خدا نے فرمایا کہ میں تجھ کو لوگوں کا مقتدا بنائوں گا وہ بولا اور میری اولاد میں سے بھی خدا نے فرمایا میرا یہ عہد وقرار ظالموں کو شامل نہ ہوگا1

ف 1 اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور ان کا امتحان لیا سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان تمام باتوں کو پورا کردیا اور وہ پوری طرح ان امور کو بجا لائے اس امتحان کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تم کو لوگوں کا امام اور مقتدا بنائوں گا یہ سن کر حضرت ابراہیم نے عرض کی اور میری اولاد میں سے بھی بعض بعض کو پیشوا اور مقتدا بنائیے گا ارشاد ہوا میرا یہ عہد اور خدمت انسانی کا یہ عہدہ اور منصب ظالموں کو نصیب نہیں ہوگا۔ (تیسیر) ابتلاء کے معنی امتحان کے ہیں قرآن میں ابتلا اور بلا عام طور سے اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور کہیں کہیں علم کو بھی اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے مثلاً ولنبلونکم بشئی اور بلونھم بالحسنات والسیئات یعنی ہم تمہارا امتحان لیں گے بعض مصائب میں مبتلا کرکے اور ہم نے ان کو آزمایا برائی اور بھلائی سے اور فرماتے ہیں ولیعلم اللہ الذین امنو امنکم اور علم اللہ ان فیک ضعفاً یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ بات جان لے کہ تم میں مومن کون ہے اور اللہ نے یہ بات معلوم کرلی کہ تم میں کمزوری پیدا ہوگئی ہے۔ اور کبھی کبھی اس معنی کیلئے فتنہ اور افتنان بھی استعمال ہوتا ہے۔ انما اموالکم واولادکم فتنۃ اور وظن دائود انما فتنہ اور وھ لا یفتنون۔ یعنی تمہارے مال اور اولاد ایک قسم کا امتحان ہیں اور حضرت دائود یہ سمجھ گئے کہ ہم نے ان کو امتحان میں مبتلا کردیا اور کیا وہ لوگ آزمانے کی غرض سے فتنوں میں مبتلا نہ کئے جائیں گے امتحان سے دو باتیں مقصود ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ ممتحن کو طالب علم کا حال معلوم ہوجائے اور یہ معلوم کرلیاجائے کہ اس کی قابلیت کیسی ہے اور وہ کس درجہ کا مستحق ہے سو یہ معنی تو حضرت حق جل مجدہ کی شان کیلئے محال ہیں اور کسی طرح بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کسی بندے کا امتحان اس لئے لیتے ہیں کہ اس کی حالت معلوم کریں کہ وہ کیسا ہے جبکہ وہ علام الغیوب ہے اور ان کا علم ازلی تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ ہاں امتحان سے کبھی ایک اور بات بھی مقصود ہوتی ہے وہ یہ کہ طالب علم کی قابلیت اور استعداد کا دوسروں پر اظہار ہوجائے تاکہ اس کیساتھ جو سلوک کیا جائے اس پر دوسروں کو کوئی اعتراض اور تعجب نہ ہو جیسے استاد کبھی دریافت کرتا ہے کہ جو لڑکا اس لفظ کے معنی بتائے گا کو کو یہ انعام ملے گا۔ حالانکہ استاد ہر طالب علم کی قابلیت سے واقف ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس انعام کا کون مستحق ہے یا کبھی کسی مجرم کا امتحان اس غرض سے لیا جاتا ہے کہ اس کو اپنا مجرم ہونا ثابت ہوجائے اور جو سزا اس کو دی جائے اس پر اس کو تعجب نہ ہو جیسے منافقوں کو جہاد کا حکم دیا اور ان کی کمزوری اور ان کے دل کا چور سب پر نمایاں ہوگیا اور خود ان کو بھی معلوم ہوگیا حضرت حق کا امتحان میں کسی بندے کو مبتلا کرنا اور اسکی آزمائش کرنے کا مطلب یہی دوسرا اور تیسرا ہوتا ہے جیسا ہم نے بیان کیا اور علم حاصل کرنے کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ کامیاب ہونیوالے اور ناکام ہونیوالوں کی حالت نمایاں ہوجائے۔ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بندے کی حالت سے واقف ہوناچاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری اس تقریر کو سمجھ لینے کے بعد لفظ ابتلا اور افتنان اور علم اور اختباء وغیرہ کے متعلق کوئی شبہ باقی نہیں رہے گا یہ سب الفاظ قریب المعنی ہیں اور ان سب کا مطلب جب کبھی یہ الفاظ حضرت حق کی طرف منسوب ہوں یہی ہوتا ہے کہ بندے کی کمزوری یا اس کی ثابت قدمی کا اظہار ہوجائے اور پھر جو اچھا برا سلوک اس کے ساتھ کیا جائے اس پر کسی کو تعجب اور اعتراض کا موقعہ باقی نہ رہے کلمات سے اس آیت میں مفسرین نے مختلف باتیں مراد لی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب بہت سی باتیں منسوب ہیں۔ جیسا کہ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے مثلاً چاند سورج اور کواکب کو دلائل سے شکست دینا قوم سے مناظرہ کرنا ایک ظالم بادشاہ سے بحث کرنا باپ کو اور قوم کو چھوڑ دینا بتوں کو توڑنا آگ میں ڈالا جاناترک وطن کرنا، مناسک حج کا ادا کرنا، بیوی اور بچے کو خدا کے حکم سے بیت اللہ کے قریب لق و دق جنگل میں چھو ڑ دینا، مونچھوں کا کتروانا، داڑھی رکھنا، کلی کرنا، ناک میں پانی دینا، مسواک کرنا ، ناخن کترنا، مانگ نکالنا یا سرمنڈانا، بغل کو صاف کرانا استرا لینا، ختنہ کرنا، جمعہ کے دن غسل کرنا کعبہ کو اس کی بنیادوں پر از سر نو تعمیر کرنا غرض بہت سی باتیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ثابت ہیں نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سب باتیں کلمات میں داخل ہیں یا ان میں سے بعض باتیں داخل ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے علاوہ کچھ اور احکام ہوں جن کے بجا لانے کا ان کو حکم دیا گیا ہو اور انہوں نے اسکی تعمیل کی ہو اور اس کے بعد ان کو امامت کا لقب دیا گیا ہو اور بجائے نبوت کے لفظ امامت اسلئے فرمایا کہ ان کی امامت اور ان کی اقتدار ہمیشہ کیلئے ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جس قدر نبی تشریف لائے ان کو حضرت ابراہیم کی اقتدار اور ان کی پیروی کا حکم دیا گیا اور ان ہی کے طریقہ کو اختیار کرنے کے لئے فرمایا پھر وہ خود بھی ایک بہت بڑی امت کے مقتدا تھے یعنی ان کی امت ایک بہت بڑی جماعت تھی جو انکی اقتدا کرتی تھی چونکہ ان کی اولااد میں نیک اور بد دونوں قسم کے لوگ ہونے والے تھے۔ جیسا کہ سورة والصفت میں ہے ومن ذری تھا محسن و ظالم لنفسہ مبین اس لئے فرمایا کہ تیری اولاد میں سے یہ عہدہ ظالموں کے سپرد نہیں کیا جائے گا۔ ظالم سے یہاں مراد گنہگار ہیں چونکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام معصو م ہوتے ہیں اس لئے کوئی گناہ گار نبوت کا مستحق نہیں ہوسکتا اگر یہ شبہ کیا جائے کہ آدم (علیہ السلام) کے ذکر میں فتکونا من الظلمین اور عصی ادم ربہ نغوی آیا ہے اور حضرت یونس (علیہ السلام) کے ذکر میں انی کنت من الظلمین آیا ہے تو وہاں نبوت ظلم کے ساتھ کیوں جمع ہوگئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ظلم کے مختلف درجات ہیں اور ہر ایک شخص کا مرتبہ الگ الگ ہے یہاں حقیقی ظلم مراد نہیں ہے بلکہ معمولی لی لغزش کو انہوں نے اپنی شان کے منافی سمجھ کر ظلم سے تعبیر کیا ہے اور اسی طرح حضرت حق نے آدم کے لئے عصیاں کا لفظ فرمایا ہے ۔ وہاں بھی عصیاں سے حقیقی عصیاں مراد نہیں ہے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ عصیاں اور ظلم کے جو الفاظ کسی نبی کے متعلق استعمال کئے گئے ہیں وہ ان کی شان کے لحاظ سے بطور مجاز استعمال کئے گئے ہیں ورنہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نہ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور نہ قصداً کسی صغیرہ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس موقعہ پر بعض مفسرین نے اور بہت سی کتابیں بیان کی ہیں اور مختلف مباحث کا ذکر کیا ہے اور اہل سنت اور حضرات امامیہ کے اختلاف کا بھی ذکر کیا ہے لیکن ہم نے تطویل کے اندیشہ سے ان سب کو چھوڑ دیا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اعلان امامت اگر اس وقت کیا گیا تھا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تبلیغ احکام کی اجازت نہ تھی تب تو مطلب یہ ہوگا کہ تم کو لوگوں کا امام بنایاجائے گا اور تم کو تبلیغ احکام کا کام سپرد کیا جائے گا اور اگر تبلیغ احکام کی اجازت ہوچکی تھی تب اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہاری امت کو بڑھائوں گا اور لوگوں کو بکثرت تمہارے دین میں شامل کروں گا اور تم کو ان سب کا امام بنائوں گا (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بنی اسرائیل بہت مغرور اس پر تھے کہ ہم اولاد ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو وعدہ دیا کہ نبوت اور بزرگی تیرے گھر میں رہے گی اور ہم ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں اور اس کا دین ہر کوئی مانتا ہے اب اللہ تعالیٰ ان کو سمجھاتا ہے اللہ کا وعدہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو ہے جو نیک راہ پر چلیں اور اس کے دو بیٹے تھے۔ پیغمبر ایک مدت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں بزرگی رہی۔ اب اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں پہنچی اور اس کی دعا ہے دونوں کے حق میں اور فرماتا ہے کہ دین اسلام ہمیشہ سے ایک ہے سب پیغمبر اور سب امتیں اسی پر گذریں وہ یہ کہ جو حکم اللہ بھیجے پیغمبر کے ہاتھ سو قبول کرنا اب مسلمان ہیں اسی راہ پر اور تم اس سے پھرے ہو۔ (موضح القرآن) اب آگے کی آیتوں میں کعبہ اور اسکی تعمیر اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:125–126

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے واسطے مرجع اور پناہ کی جگہ مقرر کیا اور کہا کہ مقام ابراہیم (علیہ السلام) کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیا کرو اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی طرف یہ حکم بھیجا کہ میرے گھر کو زائرینو مجاورین کے لئے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک رکھو

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب اس جگہ کو ایک امن والا شہر بنا دے اور اس شہر کے رہنے والوں میں سے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اسکو کھانے کے لئے قسم قسم کے میوے عطا فرما خدا نے فرمایا اور جو شخص کفر کرے گا اس کو بھی تھوڑی مدت کے لئے خود سود مند کرونگا پھر اس کو جبراً دوزخ کے عذاب میں پہونچائوں گا اور وہ پہونچنے کی بہت بری جگہ ہے2

ف 2 اور وہ بات بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے مرجع اور جمع ہو نیکی جگہ اور موضع امن اور مقام اطمینان مقرر کیا اور یہ حکم دیا کہ مقام ابراہیم (علیہ السلام) کو برکت حاصل کرنے کی غرض سے نماز پڑھنے کی جگہ بنائو کہ طواف سے فارغ ہوکر وہاں دورکعتیں پڑھا کرو اور ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا کہ خانہ کعبہ کو زائرین اور آفاقی لوگوں کے لئے اور مجاورین و مقامی لوگوں کے لئے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک اور صاف رکھنا یعنی تعمیر کے بعد اس کی تطہیر کا خوب اہتمام کرنا اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے جناب باری میں عرض کی۔ اے میرے پروردگار اس نو آبادی کو ایک مستقل شہر بنادے اور شہر بھی امن وامان کا بنا اور اس شہر کے رہنے اور بسے والوں میں سے جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو گوناگوں اور مختلف اقسام کے پھلوں سے روزی عطا کر۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ رزق رسانی میں خصوصیت نہیں برتی جائیگی بلکہ جو نافرمانی کرے گا اور کفر کی راہ اختیار کرے گا اس کو بھی چند روزہ زندگی میں خوب عیش و آرام سے سود مند کروں گا اور تھوڑے دنوں دنیوی منافع کو اسے برتنے کا موقعہ دوں گا پھر مرنے کے بعد اس کو مجبورومضطر کرکے آتش دوزخ میں پہونچائوں گا اور وہ دوزخ بازگشت کی بہت بُری جگہ ہے۔ (تیسیر) بیت اللہ کو مرجع اس لئے فرمایا کہ وہاں بار بار لوٹنے کی خواہش ہوتی ہے یا اس لئے کہ ہر سال لوگوں کی الٹ پلٹ ہوتی رہتی ہے اور خدا کے مہمان آتے جاتے رہتے ہیں مثابہ لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ کو بھی کہتے ہیں ہم نے ترجمہ میں دونوں کی رعایت کی ہے ۔ امت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص خانہ کعبہ کا طواف اور مناسک حج ادا کرتا ہے وہ دوزخ سے مامون ہوجاتا ہے اور یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ حرم میں جو شخص داخل ہوجاتا ہے وہ مامون سمجھاجاتا ہے اور اس سے کوئی تعارض نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ سورة عنکبوت میں فرماتے ہیں اولم یروا انا جعلنا حرما امنا و یتخلف الناس یعنی کیا دیکھتے نہیں کہ ہم نے حرم کعبہ کو امن والا کردیا ہے حالانکہ حرم کے باہر اور اس کے آس پاس لوگ مارے اور لوٹے جاتے ہیں اگرچہ آئمہ میں تھوڑا سا اختلاف ہے لیکن حنفیہ کا مسلک یہی ہے کہ قاتل اگر حرم میں داخل ہوجائے تو اس کو وہاں قتل کی سزا نہیں دی جائیگی البتہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائیگا کہ وہ پریشان ہوکر حرم چھوڑ دے پھر حرم سے باہر قتل کردیاجائیگا۔ مقام ابراہیم (علیہ السلام) ایک پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کو بلند کیا تھا اور اسی پر کھڑے ہوکر حج کا اعلان فرمایا تھا حدیث میں آتا ہے کہ مقام ابراہیم (علیہ السلام) اور سنگ اسودیہ دونوں پتھر حضرت آدم (علیہ السلام) جنت سے اپنے ہمراہ لائے تھے اور یہ قیامت میں حج و زیارت کرنے والوں کے حق میں شہادت دیں گے اور ان کو آنکھیں اور زبان عطا ہوگی۔ قاضی بیضاوی نے کہا یہ حکم امت محمدیہ (علیہ السلام) کے لئے ہے کہ وہ مقام ابراہیم (علیہ السلام) کو نماز پڑھنے کی جگہ مقرر کریں اور یہ حکم اس کے قریب نماز ادا کرنے سے بھی حاصل ہوسکتا ہے آج کل یہ پتھر ایک تہہ خانے میں رکھ دیا گیا ہے اور تہہ خانہ کی چھت پر اس پتھر کے بالائی محاذ میں طواف کے بعد دورکعتیں پڑھتے ہیں۔ طائفین سے مراد بیرونی اور آفاقی لوگ ہیں اور عاکفین سے مکی بھی مراد ہوسکتے ہیں اور وہ لوگ بھی مراد ہوسکتے ہیں جو مسجد الحرام میں عبادت کرنے اور مسجد کی خدمت کرنے کی غرض سے ٹھہر جاتے ہوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس جگہ کیلئے دعا فرمائی کہ اس کو شہر بنادے یعنی اسکی آبادی بڑھا کر اس کو شہر کی حیثیت عطا کردے نیز یہ شہر امن دینے والا ہو امن کی تفسیر اوپر کی آیت میں گذر چکی ہے پھلوں ی کی دعا کرتے وقت اس خیال سے کہ منصب امامت میں اللہ تعالیٰ نے ظالموں کا انکار فرما دیا تھا خود ہی نافرمانوں کو مستثنا کردیا۔ لیکن یہاں ارشاد ہوا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کافروں کو اپنی دعا سے مستثنا کیوں کرتے ہو یہ فرق دینوی معاملات میں نہیں ہے رزق تو ہر برے بھلے، مومن کافر، دوست دشمن، باغی اور وفا دار حتیٰ کہ تمام مخلوق کو دیاجائے گا البتہ قیامت میں باغیوں کو کشا کشاں اور مار مار کر جہنم میں داخل کردیا جائے گا اور پھلوں کی روزی کا یہ مطلب نہیں کہ صرف پھل ہی کھانے کو دئیے جائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اور اناج کے علاوہ پھل بھی عنایت کیجیئو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے طائف کی سرزمین کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا مظہر بنادیا (تسہیل)
Ayahs 2:127–129

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) خانہ کعبہ کی بنیادیں ا ونچی کر رہا تھا اور اس کے ساتھ اسماعیل (علیہ السلام) بھی اے ہمارے پروردگار ہم سے قبول فرما بیشک تو ہی ہے سننے والا جاننے والا

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم کو اور زیادہ اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی جماعت پیدا کر جو تیری فرمانبردار ہو اور ہم کو ہمارے حج کے احکام بھی سکھا دے اور ہم سے درگزر فرما بیشک تو ہی بڑا درگزر کرنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان لوگوں میں ایک ایسا رسول مبعوث فرما جو انہی میں سے ہو وہ رسول تیری آیتیں ان کے روبرو تلاوت کیا کرے اور ان کو کتاب اور دانائی کی باتیں سکھایا کرے اور ان کو پاک صاف بنائے بلاشبہ تو ہی بہت زبردست بڑی حکمت والاف 1

ف 1 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ کی بنیادیں بلند کررہا تھا اور اساس کعبہ پر دیواریں اٹھا رہا تھا اور اس کے ہمراہ اسکا لڑکا بھی اس کام میں شامل تھا دونوں باپ بیٹے جناب باری کی خدمت میں عرض کر رہے تھے اے ہمارے پروردگار ! ہماری اس خدمت کو اور ہمارے اس عمل کو قبول فرمالے بیشک تو خوب سننے والا جاننے والا ہے اور ہمارے پروردگار ہم کو اور زیادہ مخلص اور مطیع و فرمانبردار بنادے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کر جو تیری مطیع و فرمانبردار ہو اور اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ہمارے حج کے احکام بتادے اور سکھادے اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ توجہ فرماتے ہوئے ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمادے۔ بیشک تو بڑی توجہ فرمانیوالا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! اس امت مسلمہ میں ایک ایسا رسول مبعوث کیجیئو جو انہی میں سے ہو اور اس کی شان یہ ہو کہ وہ تیری آیتیں ان کو پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور ان کو کتاب آسمانی اور اس کے احکام کے رموز اور حکمتیں سکھائے اور احکام قرانی کے حکم و علل کی ان کو تعلیم دیا کرے اور اس تلاوت وتعلیم کے ذریعہ ان کو معاصی اور اخلاق رذیلہ سے پاک کردے اور ان کی اصلاح کرکے ان کو سنوار دے اس میں شک نہیں کہ تو ہی کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ (تیسیر) کہا جاتا ہے کہ کعبہ کی اصل بنیاد تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے ڈالی تھی مگر حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان میں اس کانشان باقی نہ رہا اور وہاں ایک ریت کا ڈھیر ہوگیا اسی ڈھیر کو صاف کرکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بنیادوں کو اونچا کیا اور پھر اس پر دیواریں اٹھائیں بعض لوگوں نے دیواریں اونچی کرنا مراد لیا ہے ان کا مطلب شاید یہ ہوگا کہ بنیادیں تو بھری ہوئی تھیں۔ دیواریں اونچی کرکے چھت پائی ہوگی ہم نے ترجمہ میں دونوں باتوں کی رعایت کردی ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چن رہے تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) گارا اور پتھر دے رہے تھے یا دونوں باری باری تعمیر کرتے ہوں گے کسی خدمت کو انجام دینے کے بعد نیک بندوں کو اس کی قبولیت کی فکر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس عمل کو قبول فرما لے۔ اسی قبولیت کی دعا فرمائی اور آخر میں فرمایا آپ ہماری دعا کے سننے والے بھی ہیں اور ہمارے قلب کی حالت سے واقف بھی ہیں کہ ہم یہ کام محض تیری خوشنودی کے لئے کر رہے ہیں۔ دوسری دعا میں موجودہ خلوص کو بڑھانے اور فرمانبرداری کو زیادہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد میں سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کرنے کی درخواست کی ہے جو باپ دادا کے طریقوں پر قائم رہے کیوں کہ یہ تو معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی اولاد میں بعض ظالم بھی ہوں گے اس لئے ایک جماعت فرمایا اور اس جماعت سے غالباً حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کے لئے اشارہ ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ امت محمدیہ مراد ہو مناسک کے معنی غایت عباد ت ہے اور عام طورپر یہ لفظ حج اور احکام حج کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ حج میں تکلیف اور مشقت بہت ہوتی ہے اور اکثر کام روزمرہ کی عادت کے خلاف کرنے پڑتے ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہاں عام عبادت مراد اور یہی صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم کو ہماری تمام عبادتوں کے طریقے اچھی طرح سمجھا دے اور سکھادے۔ توبہ کے اصلی معنی رجوع کے ہیں جب یہ فعل بندے کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس کے معنی خدا کی طرف رجوع کرنے کے ہوتے ہیں کہ بند ہ نے اپنی خطائوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف رجوع کیا اور جب خدا کی طرف اس فعل کی نسبت کی جاتی ہے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی اور اپنے فضل اور اپنی رحمت کے ساتھ بندے کے حال پر توجہ فرمائی لیکن عام طورپر ترجمہ کرنیوالے بندے کا توبہ کرنا اور خدا تعالیٰ کا توبہ قبول کرنا ترجمہ کرتے ہیں۔ ہم نے تیسیر میں دونوں باتوں کی رعایت رکھی ہے چونکہ درگزر کرنے کے موقع پر حضرت حق کی مہربانی اور رحمت کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کو صف رحیم سے دونوں باپ بیٹوں نے یاد کیا آخری آیت میں جس پیغمبر کیلئے دعا فرمائی ہے وہ بالاتفاق نبی کریم ﷺ ہیں۔ خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا میں اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہوں۔ کتاب سے مراد قرآن ہے اور حکمت سے مراد کسی نے کہا سنت ہے کسی نے کہا فہم ہے کسی نے کہا حق و باطل کے درمیان فصل کرنا ہے کسی نے کہا علم و عمل مراد ہے کسی نے قرآن کی صحیح مراد کے سمجھنے کا سلیقہ مراد لیا ہے۔ تزکیہ کے معنی پاک کرنا اور سنوارنا ہے۔ بحمد اللہ ہم نے تیسیر میں تمام امور کا لحاظ رکھا ہے حضرت حق جل مجدہ کا انبیاء کو مبعوث فرمانا اور اپنی مخلوق کو صحیح تعلیم سے آشنا کرنا چونکہ ان کے بےانتہاء مصالح پر مبنی ہے اور انکی زبردست قوت کی دلیل ہے اس لئے اس دعا کو انک انت العزیز الحکیم پر ختم فرمایا۔ اب آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور ان کے طریقہ کا ذکر فرماتے ہیں اور ان کے خاندان کا توحید الٰہی پر قائم رہنا اور اسلام پر زندہ رہنا اور اسلام پر مرنا ان سب امور پر توجہ دلاتے ہیں تاکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو عبرت ہو اور وہ غور کریں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر کون قائم ہے اور ان کے صحیح جانشین اور قائم مقام کون ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:130–131

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اور کون ایسا ہوگا جو ملت ابراہیمی (علیہ السلام) سے اعراض کرے مگر ہاں وہی شخص جو اپنے آپ ہی کو نہ سمجھتا ہو اور ہم نے دنیا میں بھی ابراہیم (علیہ السلام) کو منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ نیک لوگوں میں سے ہے

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جس وقت ابراہیم (علیہ السلام) کے رب نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ تو فرمانبردار بن اس نے کہا میں فرمانبردار ہوا رب العالمین کاف 2

ف 2 اور کون شخص ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور اس کے دین کو قبول کرنے اور اختیار کرنے سے روگردانی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرے مگر ہاں وہی شخص رو گردانی کرے گا جو اپنی ذات ہی سے بیخبر ہو یعنی ایسا احمق ہو جو اپنے آپے کو بھی نہ سمجھتا ہو اور اس کو خود اپنی بھی معرفت حاصل نہ ہو حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس ملت کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو منتخب فرمایا تھا اور اس کو برگذیدہ کیا تھا اور اسی ملت کی وجہ سے وہ آخرت میں بھی زمرئہ صاحلین اور نیک و شائستہ لوگوں میں سے ہے جس وقت اس کے رب نے اس کو القا اور الہام کے طور پر فرمایا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) ! تو اطاعت و فرمانبرداری اختیار کر۔ اس نے کہا میں نے رب العالمین کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کی اور اپنے تمام کام رب العالمین کے سپرد کردئیے۔ (تیسیر) سفہ کے معنی بیوقوف ہونے کے ہیں جو شخص اپنی قدروقیمت اور اپنے مرتبہ سے بیخبر ہو اس کو اپنی ذلت کا احساس بھی نہیں ہوتا اور جو اپنے آپے کو نہ پہچانے وہ خدا کو کیا پہچانے گا اسی لئے بعض لوگوں نے سفہ نفسہ کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ اس نے نفس کو ذلیل کرلیا اور اپنی ذات کو حقیر کیا۔ بہرحال ملت ابراہیمی سے وہی شخص اعتراض کرسکتا ہے جو پرلے درجہ کا احمق اور سفیہ ہو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تو وہ شان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملت اسلامی کی تبلیغ کیلئے برگزیدہ کیا اور ان کے ثبات اور ان کے اولو العزمی کی شہادت دی کہ وہ قیامت میں بھی جماعت صلحات میں سے ہے اور ان کمتصف بالکمال ہونا دائمی ہے ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جس وقت قوم کی کواکب پرستی کو دیکھ کر دل بےزار ہوا اس وقت یہ بات قلب میں ڈالی گئی اور اسی القا کو قال سے تعبیر فرمایا ہے کہ ابراہیم راستہ تو ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ بندہ اپنے کو ہمارے سپرد کردے اور ہمارے احکام کی تعمیل کے لئے اپنی ذات کو وقف کردے۔ چناچہ انہوں نے فوراً اس کو قبول کرلیا ہم نے اسلام کے بہت سے معنی کا لحاظ رکھتے ہوئے ترجمہ کیا ہے۔ مسلمان ہوجا اپنے دین کو خالص خدا کے لئے کرلے، اسلام پر قائم رہ، فرمانبردار بن، اطاعت شعار ہوجا، اپنی ذات کو میرے سپرد کردے ، مطیع و منقاد ہوجا۔ غرض بہت سے معنی ہیں اور یہاں سب مراد لئے جاسکتے ہیں خواہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں کفروبت پرستی کا کتنا ہی زور ہو لیکن بہر حال اسلام موجود تھا۔ ادھر قلب میں اسلام القا ہو اور ادھر انہوں نے قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اور یہی وہ تعمیل ارشاد ہے جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا آج قرآن جو آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے ان کے اوصاف ظاہری اور باطنی اور ان کے اخلاق اور ان کے صبر و تحمل اور ان کی جرأت و دلیری سے ان کے مراتب علیہ اور ان کے درجات علی سے لبریز نظر آتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:132–134

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور اسی ملت مذکور پر قائم رہنے کی ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹوں کو وصیت کرگیا ہے اور یعقوب (علیہ السلام) بھی کہ اے میرے بیٹو اللہ نے تمہارے لئے اس دین یعنی اسلام کو منتخب کیا ہے سو تم نہ مرنا مگر مسلمان ہی مرنا

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

اے یہود کیا تم یعقوب (علیہ السلام) کے مرتے وقت موجود تھے جب اس نے اپنے بیٹوں سے دریافت کیا کہ تم میرے مرنے کے بعد کس کی عبادت کرو گے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اسکی عبادت کرینگے جو آپکا معبود ہے اور آپ کے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کا معبود ہے وہی معبود وجود یکتا و یگانہ ہے اور ہم سب اسی کے اطاعت گزار رہیں گے

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کی کمائی ان کے لئے ہے اور تمہارا کیا تمہارے لئے ہے اور ان کے کاموں کی تم سے کوئی باز نہ کی جائے گی1

ف 1 اور وہ ابراہیم (علیہ السلام) اسی بات کی اپنے بیٹوں کو وصیت فرما گئے اور حکم دے گئے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) بھی اپنے بیٹوں کو یہی حکم دے گئے اور وہ حکم یہ تھا کہ اے میرے بیٹو ! اللہ نے اس دین اسلام کو تمہارے لئے منتخب فرمایا ہے لہٰذا تم مرتے دم تک اس پر قائم رہنا اور تم بجز اسلام کے اور کسی حالت میں نہ مرنا کیا جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی موت کا وقت قریب آیا تو تم خود وہاں موجود تھے جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے یہ دریافت کیا کہ تم میرے مرنے کے بعد کس کی پرستش کرو گے تو ان سب نے جواب دیا کہ ہم اس کی پرستش و عبادت کریں گے جو آپ کا اور آپ کے باپ دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحق (علیہ السلام) کا معبود ہے آپ اور آپ کے بڑے جس معبود برحق کی عبادت کرتے رہے ہیں اسی کی ہم عبادت کرتے رہیں گے وہی معبود برحق جو یکتا اور وحدہ لا شریک ہے اور ہم اس کے مطیع و فرمانبردار رہیں گے۔ وہ ایک جماعت تھی جو اپنے زمانے میں گذر چکی جو کچھ انہوں نے کمایا اور کسب کیا وہ ان کے کام آئے گا اور جو کچھ تم کمائو گے اور کسب کرو گے وہ تمہارے کام آئیگا اور ابن کے اعمال کی تم سے کوئی باز پرس اور پوچھ کھ نہ کی جائیگی۔ (تیسیر) وصیت کسی اچھی چیز اور کسی بھلے کام کی خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی ہو آگے بڑھانے اور دوسرے تک پہنچانے کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مشرکین عرب اور یہود و نصاری جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام تو احترام کے ساتھ لیتے تھے اور ان کی تعریف بھی بہت کرتے تھے مگر اس کے ساتھ ہی ان کو یہودی یا نصرانی یا مشرک کہتے تھے۔ ان سب لوگوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عقائد و اعمال سے آگاہ فرمایا اور یہ بتایا کہ تم لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق جو کہتے ہو انکی وصیت اور ان کے اعمال اور ان کے اقوال تمہارے دعوے کے خلاف ہیں۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو جو حکم دیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی جو حکم دیا وہ تو یہ تھا کہ اسلام پر قائم رہنا اور اسلام ہی پر مرنا کیونکہ یہی دین اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے پسند فرمایا ہے اور بنی اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرف چونکہ خاص طورپر نسبت کرتے تھے کہ وہ تو مرتے وقت اپنی اولاد کو یہودی اور نصرانی رہنے کا حکم دے گئے تھے اس لئے فرمایا کہ تمہارے اس دعوے پر یا تو کوئی صحیح نقل اور معتبر روایت ہو یا تم نے خود ان سے مرتے وقت یہ حکم اور یہوصیت سنی ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی موت کے وقت جو صحیح معاملہ پیش آیا تھا اس کو بیان فرمایا کہ اس نے تو جب اپنے بیٹوں سے دریافت کیا تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ ہم تو آپ کے اور آپکے بڑوں کی توحید پر قائم رہیں گے اور باپ دادوں کے ذکر میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا نام بھی لیا یہ اس لئے کہ چچا بھی باپ کے قائم مقام ہوتا ہے جیسے خالہ بمنزلہ ماں کے ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اپنے چچا حضرت عباس ؓ کے متعلق یہ قول مشہور ہے کہ اکرمو العباس فانہ بقیہ ابائی یا عمر اما شعرت ان عم الرجل منوابیہ۔ ( (متفق علیہ) یعنی عباس ؓ کا ادب و احترام کیا کرو وہ میرے باپ دادوں میں سے باقی رہ گیا ہے بہر حال جب یہ معلوم ہوگئی کہ بنی اسرائیل کے پاس نہ کوئی صحیح نقل ہے اور نہ اپنامشاہدہ ہے تو معلوم ہوا کہ ان کا دعویٰ غلط اور بےبنیاد ہے اور یہ لوگ ان بزرگوں کے ہم عقیدہ اور ہم مذہب نہیں ہیں اور ان کا نام لینا ان بزرگوں کی اولاد ہونا یان کی محبت کا دعویٰ کرنا ان کے حق میں کچھ مفید اور نافع نہ ہوگا اس لئے فرمایا کہ تم سے تو ان کا کوئی ذکر بھی نہیں کیا جائیگا نہ تم سے ان کے اعمال و افعال وغیرہ کی کوئی باز پرس ہوگی تو ایسی حالت میں تمہارے محض دعویٰ سے تم کو کیا نفع پہونچ سکتا ہے۔ ہاں ! اگر ان کے نام لیوا اور ان کی اولاد ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی اتباع بھی کرتے اور انکی محبت کے دعویٰ کے ساتھ ان کے مسلک اور ان کے دین پر بھی چلتے اور ان کی صحیح اطاعت کرتے تو بیشک ان حضرا ت کی نسبت تمہارے لئے مفید اور نفع ہوتی ام کنتم کا خطاب ہوسکتا ہے کہ یہود کو ہو اور ہوسکتا ہے کہ نصاریٰ کو ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں کو ہو۔ واللہ اعلم۔ اب آگے ان کی یہودیت اور نصرانیت کی تبلیغ اور دعوت کا رد فرماتے ہیں (تسہیل)