Ayah 2:94ف 2 اے پیغمبر ﷺ آپ ان لوگوں سے فرمائیے کہ اگر تمہارے خیال کے مطابق دار آخرت اور عالم آخرت اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے ہی لئے خاص ہے اور وہاں کے منافع اور عیش و آرام بلا شرکت غیرے خالص تمہارے لئے ہیں تو اچھا اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو ذرا موت کی تمنا تو کر کے دکھائو اور یوں کہہ دو کہ ہم موت کی تمنا کرتے ہیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ تم دلائل اور بحث و مباحثہ سے قائل نہیں ہوتے تو آئو میں تم سے ایک بہت ہی ہلکا سا مطالبہ کرتا ہوں۔ اسی پر تمہارے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ہوجائے گا اور تم کو معلوم ہوجائیگا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ آخرت میں تم ہی نجات یافتہ ہو اور جنت کے تم ہی مستحق ہو اور دنیا کے انسانوں میں سے سوائے تمہارے اور کوئی عالم آخرت میں نجات یافتہ نہیں ہے۔ اول تو ہم سب پہلے ہی پہل جنت میں داخل کرائے جائیں گے اور اگر کوئی گنہگار جہنم میں چلا بھی گای تو وہ بھی چند دن کے لئے جائیگا پھر اس پر سے عذاب اٹھا لیا جائے گا اور وہ بھی جنت میں داخل ہوجائیگا بس اس عقیدے پر تو معاملہ سہ ہوگیا۔ اب تم موت کی تمنا اور آرزو کرو اور یہ کہہ دو کہ یا اللہ ہم کو موت دے دے کیونکہ ان تمام نعمتوں کو موت ہی رو کے ہوئے ہے۔ اگر موت آجائے تو وہ سب نعمتیں جو دار آخر ت سے متعلق ہیں تم کو میسر آجائیں۔ ہرچند کو موت سے یقین ہو تو اس کو من وجہ موت ضرور مرغوب اور محبوب ہونی چاہئے اور یہاں وہ موت نہیں ہے جس کی حدیث میں ممانعت آئی ہے بلکہ یہ تو خاص حالات ہیں پھر یہ موت بھی بقائے الٰہی کے شوق میں ہوگی تو یہ موت وہ نہیں ہے جو انسان دنیا کے مصائب سے گھبرا کر مانگتا ہے۔ آگے بطور پیشین گوئی فرماتے ہیں کہ چونکہ ان کے دل میں چور ہے۔ اس لئے یہ بھی موت کی تمنا کرنے اور اپنے لئے موت مانگنے پر آمادہ نہ ہوں گے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہتے تھے کہ جنت میں ہمارا سوا کوئی نہ جاوے گا اور ہم کو عذاب نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر یقینا بہشتی ہو تو مرنے سے کیوں ڈرتے ہو۔ (موضح القرآن) (تسہیل)
Ayahs 2:95–96ف 3 اور ہم بتائے دیتے ہیں کہ یہ مدعیان نجات و فلاح اپنے ان اعمال کفر یہ کے باعث جو یہ اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکے ہیں کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے حال کو خوب جانتا ہے ۔ اور اے پیغمبر ! یہ متو کی تمنا کیا کریں گے۔ آپ ان کو دوسرے عام لوگوں سے بھی زندگی کا زیادہ حریص پائیں گے اور لوگوں کا تو کہنا ہی کیا آپ ان کو مشرکین سے بھی حیات دنیویہ کا بڑھ کر حریص و آرزو مند پائیں گے۔ ان کی حالت تو یہ ہے کہ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی عمر ہزار برس کی ہوجائے اور فرض کرو اگر اتنی عمر ہو بھی جائے تب بھی اس قدر جینا اس کو عذاب سے تو کچھ بچا نہیں سکتا اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے پیش نظر ہے۔ (تیسیر)
قرآن نے جو پیشین گوئی فرمائی تھی وہ پوری ہوئی اور اس سے ہی معلوم ہوگیا کہ ان کو اپنے دعادی اور اپنی باتوں پر خود ہی اطمینان نہیں ہے اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہیں اس میں یہ جھوٹے ہیں مرنے کی تمنا کیسی ؟ ان کو تو جینے کی حوس و حرص سب سے زیادہ ہے اور عجیب بات تو یہ ہے کہ ان مشرکین عرب سے بھی ان کو زیادہ جینے کی خواہش ہے جو عالم آخرت کے بالکل ہی منکر ہیں اور جو یوں کہتے ہیں۔
ان ھی الاحیوتنا الدنیا نموت و نحی وما نحن بمبعوثین۔
تو جن کے سامنے صرف دنیا ہی دنیا ہے اور آخرت کی زندگی پر اعتقاد ہی نہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ چونکہ صرف دنیا ہے اس لئے یہاں زیادہ سے زیادہ زندگی میسر ہوجائے۔ یہ یہودی باوجود اس کے کہ عالم آخرت پر یین رکھتے ہیں اور وہاں کے عیش کو خلاص اپنے لئے کہتے ہیں اور وہاں کی آسائش سے دوسروں کو محروم سمجھتے ہیں، پھر بھی یہ ان مشرکین سے زیادہ زندہ رہنے کی حرص رکھتے ہیں اور ان میں سے ایک ایک اس خواہش میں مبتلا ہے کہ ہزار ہزار سال زندہ رہے ، حالانکہ اگر اتنی بڑی عمر ہو بھی جائے تو اس قدر جینا عذاب سے نہیں بچا سکتا۔
خلاصہ یہ کہ اخروی مفاد و منافع کے استحقاق کا اعتقاد رکھتے ہوئے پھر درازی عمر کی تمنا بس یہ دعویٰ ہی دعویٰ ہے ورنہ دل میں یہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ ان کی بد اعمالیوں اور بد اعتقادیوں کے باعث ان کا جو کچھ حشر ہونے والا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:97–98ف 1 اے پیغمبر آپ فرما دیجیے جو شخص بلا وجہ جبرئیل علیہ سے عداوت و دشمنی کرے تو کرے اس دشمنی کی کوئی وجہ تو ہے نہیں جبرئیل کا کام تو یہ ہے کہ اس نے یہ قرآن اے محمد ﷺ آپ کے قلب پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل کیا ہے، اس قرآن کی شان تو یہ ہے کہ یہ ان کتب سماویہ کی تصدیق کرنیوالا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئیں ہیں اور یہ قرآن دین حق کی رہنمائی کرنے والا ہے اور ایمان والوں کو بشارت و خوشخبری سنانے والا ہے۔ اب کوئی شخص خواہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہو خواہ اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا دشمن ہو خواہ خصوصیت کے ساتھ حضرت جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہو ان سب کی دشمنی ایک حیثیت رکھتی ہے اور اس دشمن کی سزا یہ ہے کہ ایسے کافروں کا اللہ تعالیٰ دشمن ہے۔ (تیسیر)
یہود سے کسی موقع پر گفتگو ہو رہی تھی دوران گفتگو میں جہاں اور باتیں ہو رہی تھیں ان میں اس کا بھی ذکر آگیا کہ یہ قرآن کونسا فرشتہ لیکر آتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا خدا کا فرشتہ لے کر آتا ہے جس کا نام جبرئیل ہے اس پر یہودی بگڑ کر بولے وہ جبرئیل (علیہ السلام) تو ہمارا دشمن ہے اس لئے کہ وہ وقتاً فوقتاً ہم پر سخت احکام لاتا رہا ہے نیز ہم کو تباہ و برباد کرتا رہا ہے اگر یہ قرآن وہ لاتا ہے تو ہم اس پر ایمان نہیں لاسکتے پہلی آیت میں اس اعتراض کا جواب ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) تو ایک درمیانی فرشتہ ہے وہ تو صرف قرآن کو پیغمبر تک پہنچا دیتا ہے پیغامبر میں تو دو باتیں ہونی ضروری ہیں ایک یہ کہ فرمانبردار ہو اور جو حکم اس کو دیا جائے وہ اس کی تعمیل کرے۔ دوسرے وہ امانت دار ہو کہ پیغام میں کچھ کمی بیشی نہ کرے سو یہ دونوں باتیں جبرئیل میں بوجہ اتم موجود ہیں وہ فرشتہ ہے اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کیا کرتے پھر اس کی امانت داری پر ہم خود اس کے شاہد ہیں، نیز یہ کونسی معقول بات ہے کہ ایک قاصد اور پیغامبر کی دشمنی کے باعث پیغام خداوندی کو ماننے سے انکار کردیا جائے۔ قرآن کو دوسری آسمانی کتابوں کے معیار پر جانچ کر دیکھو۔ جبرئیل کی ذات سے کیوں بحث کرتے ہو۔ اگر اس قرآن میں پہلی کتابوں کی تصدیق موجود ہے اور بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کا سامان اس میں بدرجہ اتم موجود ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے بشارت اور خوشخبری سے لبریز ہے تو یہی وہ باتیں ہیں جو عام طور سے تمام کتاب سماویہ میں پائی جاتی ہیں۔ پھر اس پر ایمان لانے سے انکار کرنا حماقت و جہالت نہیں تو اور کیا ہے۔
دوسری آیت میں ایک ضابطہ اور اصول بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور اس کے رسول اور جبرئیل (علیہ السلام) ان سب کی محبت اور عداوت ایک ہی حکم رکھتی ہے۔ کیونکہ مامور کی مخالفت آمر کی مخالفت سمجھی جاتی ہے۔ جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ میکائیل (علیہ السلام) کا نام اس لئے لیا کہ شاید انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا تھا کہ بجرئیل (علیہ السلام) کے علاوہ اگر میکائیل (علیہ السلام) یا کوئی اور فرشتہ اس قرآن کو لاتا تو اس کے مان لینے میں کچھ مضائقہ نہ تھا۔
جیسا کہ بعض روایت سے معلوم ہوتا ہے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ یہود نے کہا کہ یہ کلام لاتا ہے جبرئیل (علیہ السلام) اور وہ ہمارا دشمن ہے کئی بار ہمارے دشمنوں کو ہم پر غالب کر گیا کوئی اور فرشتہ لاتا تو ہم مانتے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتے جو کرتے ہیں بےحکم نہیں کرتے جو ان کا دشمن ہو اللہ بیشک ان کا دشمن ہے۔ (موضح القرآن)
آگے کی آیتوں میں ان کے کفر کی علت اور ان کی عہد شکنی کا بیان ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:99–101ف 2 اور بلاشبہ ہم نے آپ کی جانب بہت سے دلائل واضح نازل فرمائے ہیں اور ایسے دلائل وبراہین کا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا مگر وہی شخص جو نافرمانی اور عدول حکمی کا عادی ہو اور کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ جب کبھی بھی ان لوگوں نے کوئی عہد کیا تو ان ہی میں سے ایک جماعت نے اس عہد کو توڑ پھینکا بلکہ ان میں اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ اس عہد کا یقین ہی نہیں رکھتے اور جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ رسول تشریف لائے جو اس کتاب کی جوان کے پاس ہے تصدیق بھی فرماتے ہیں تو ان ہی اہل کتاب میں سے ایک فریق نے اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی توریت کو اس پس پشت ڈال دیا کہ گویا ان کو بالکل اس کتاب کے احکام کا علم ہی نہیں ۔ (تیسیر)
یہود عام طور سے دلیل مانگا کرتے تھے ارشاد ہوا اے پیغمبر ﷺ ہم نے تو آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جو دلائل واضحہ اور براہین ساطعہ سے لبریز ہے اور اس کا ایک ایک لفظ اعجاز ہے کوئی ہوشمند جس میں ذرا سی بھی قابلیت ہو ایسے محکم دلائل کا منکر نہیں ہوسکتا مگر ہاں ایسے فاسق ہی ان دلائل کا انکار کرسکتے ہیں جو نافرمانی کے عادی ہوچکے ہوں اور ان یہود کی حالت تو یہ ہے کہ جب کبھی انہوں نے کوئی عہد کیا ہوگا تب ہی ان ہی میں سے کسی نہ کسی فریق نے اس کو توڑاہو گا۔ ان کی عادت ہی یہ ہے کہ ان تسلیم شدہ عہود و مواثیق کو توڑتے رہے ہیں جو ان کو بھی تسلیم تھے بلکہ ان میں سے اکثر تو ایسے ہیں کہ جو ان عہد و پیمان کا یقین بھی نہیں رکھتے۔ یہی حالت آج اس عہد کی کر رہے ہیں جو یہ نبی آخر الزمان ﷺ کے بارے میں کرچکے ہیں کہ آج توریت الٰہی کو ایسا پشت ڈال دیا ہے جیسا اس کو جانتے ہی نہیں آخر توریت میں ان کا ذکر موجود ہے اور ان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ توریت کا مصدق ہوگا اور جب وہی مصدق آیا تو انہوں نے اس کو نہیں مانا اور اپنی کتاب تک کو فراموش کردیا۔
خلاصہ یہ ہوا کہ قرآن تو قرآن یہ تو توریت کے بھی منکر ہیں آگے ان کی اور حرکات کفر یہ کا بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:102ف 1 ان یہود نے کتاب الٰہی کے … احکام کو تو پس پشت ڈال دیا اور اس کی بجائے اس چیز کے پیچھے ہو لئے اور اس جادو کے علم کی اتباع اور پیروی اختیار کی جس کو حضرت سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور لوگوں میں اس علم کا چرچا کیا کرتے تھے اور حضرت سلیمان کی طرف جادو کی نسبت کرتے تھے حالانکہ حضرت سلیمان نے کفر نہیں کیا البتہ ان شیاطین کی یہ حالت تھی کہ وہ خود بھی جادو کرتے تھے اور لوگوں کو بھی جادو سکھایا کرتے تھے اور یہی وہ علم سحر ہے جس کا اتباع یہود کر رہے ہیں۔ نیز ان یہود نے اس سحر کی اتباع اختیار کی جو بابل میں ان دونوں فرشتوں پر ایک خاص حکمت کے ماتحت نازل کیا گیا تھا جن کا نام ہاروت اور ماروت تھا اور وہ دونوں فرشتے کسی شخص کو اس وقت سحر کا علم نہیں بتاتے تھے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیتے ہوں کہ اس بات کو خوب سمجھ لے کہ ہم خدا کی طرف سے مخلوق کے لئے ایک فتنہ اور آزمائش ہیں لہٰذا تو کفر کی بات نہ سیکھ … اور اس کا معتقد ہو کر کافر نہ ہو اس پر بھی کچھ لوگ ان دونوں فرشتوں سے ایسی باتیں سیکھ لیتے تھے جن کے ذریعہ سے کسی مرد اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق اور جدائی ڈلوا دیں حالانکہ یہ یقینی امر ہے کہ وہ جادوگر اس سحر کے ذریعہ مشیت الٰہی اور اذن خداوندی کے بغیر کسی کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور علم سحر سے سحر کے حصول سے بس ایسی باتیں سیکھتے ہیں جو ان کے لئے ضرر رساں ہیں اور ان کے لئے کسی خاص درجہ میں نافع نہیں اور یہ یہودی بھی یقینا اس بات سے واقف ہیں کہ جس نے سحر اختیار کیا اور کتاب الٰہی کے بدلے میں جادو کو خریدا تو ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں رہا اور بیشک وہ چیز بہت بری ہے جس پر وہ اپنی جانوں کو فروخت کر رہے ہیں اور اپنے ایمانوں کو برباد کر رہے ہیں کاش وہ اس بات کو بھی جانتے کہ ان باتوں کا نتیجہ ابدی عذاب ہوگا اور کاش ان کو اتنی سمجھ ہوتی کہ وہ علم سے نفع حاصل کرسکتے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ ان یہود کا یہ حال ہے کہ بجائے کتاب الٰہی کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے یہ اس جادو کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں۔ جو حضرت سلیمان کے عہد میں شیاطین چپکے چپکے لوگوں کو سناتے تھے کیونکہ حضرت سلیمان کے عہد میں شیاطین اور انسان ملے جلے رہتے تھے یہ شیاطین علم سحر انسانوں کو سکھاتے اور اس کی بڑی تعریف کرتے اور یہ کہتے کہ حضرت سلیمان اسی سحر کی بدولت آج حکمران بنے ہوئے ہیں اور یہ علم ان ہی کا ہے تم بھی سیکھ لو یہ کہہ کر لوگوں کو سکھایا کتے اور اس پر عمل کرنی کی ترغیب دیا کرتے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی اس علم سے برأت ظاہر فرمائی کہ جو چیز با اعتبار اعتقاد کے کفر ہو اور عمل کے اعتبار سے ناجائز اور حرام ہو اس کو سلیمان کیوں اختیار کرتے بلکہ شیاطین ہی لوگوں کو سکھاتے اور بتاتے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہود نے نبی کریم ﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کہا ہو کہ یہ پیغمبر کس طرح سچا ہوسکتا ہے یہ تو سلیمان کو نبی بناتا ہے حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) تو ایک جادوگر تھا جو اپنے جادو کے زور سے ہوا پر اڑا پھرتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ شیاطین سلیمان (علیہ السلام) کی جانب نسبت کرتے تھے حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) کا دامن اس سے بالکل پاک ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیاطین نے جادو کی کتابیں لکھ کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نیچے زمین میں دفن کردی تھیں۔ پھر حضرت سلیمان کی وفات کے بعد ان کتابوں کو نکال کر یہ مشہور کردیا کہ سلیمان (علیہ السلام) جادو کے بہت بڑے ماہر تھے۔ دیکھو یہ سب ان ہی کی کتابیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس بات کو رد فرما دیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا اس علم سے کوئی واسطہ نہ تھا بلکہ یہ تمام کارروائی شیاطین کی تھی اور یہ یہود اس سحر کا بھی اتباع کرتے ہیں جو بابل میں ہاروت اور ماروت دو فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا۔ ہاروت اور ماروت کے متعلق مفسرین نے بہت سے اقوال نقل کئے ہیں اور زہرہ ستارہ کا قصہ بھی نقل کیا ہے ان روایتوں کی امام رازی نے درایتہ اور ابن کثیر نے روایتہ تضعیف اور تنفیص کی ہے اور بعض محدثین نے ان کی توثیق فرمائی ہے لیکن قرآن کا جہاں تک تعلق ہے اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ جادو کے طریقے رائج تھے ایک وہ جو عہد سلیمانی میں شیطان سکھایا کرتے تھے اور دوسرے وہ جو خاص حکمت و مصلحت کے ماتحت بابل میں دو فرشتوں کو دے کر بھیجا گیا تھا۔ وہ فرشتے بھی سحر کا علم سکھاتے تھے۔ لیکن جب کوئی ان کے پاس سیکھنے جاتا تو پہلے اس کو یہ فہمائش کردیا کرتے تھے کہ ہم بطور ایک آزمائش کے خدا کی طرف سے آئے ہیں۔ تو ایسا علم نہ سیکھ جس کی تاثیر پر اعتقاد رکھنا کفر ہے اور اس کے عمل کی بھی اکثر صورتیں کفر ہیں۔ اگر کوئی اصرار کرتا تو وہ اس کو سکھا دیتے اور لوگ عام طریقے سے وہ باتیں سیکھ لیتے جن سے بیوی اور سا کے شوہر کے مابین جھگڑا کرا دیں اور دونوں میں جدائی ڈلوا دیں۔ اگر بدون مشیت الٰہی اور اس کے ارادے کے وہ جادوگر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے اور جادو سیکھنے والے ان فرشتوں سے ایسی باتیں حاصل کیا کرتے تھے جو ان کو سرا سر ضرر رساں ہوتی تھیں اور ان کے لئے کوئی خاص نافع نہ ہوتی تھیں۔
حضرت حق تعالیٰ نے علم سحر کا ذکر کرنے کے بعد پھر یہود کو تنبیہہ فرمائی اور یہ فرمایا کہ یہ لوگ بھی اس کی خرابیوں کو جانتے ہیں اور ان کو یہ بات معلوم ہے کہ جو شخص اس کام کو اختیار کرتا ہے۔ آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے اور چونکہ یہ اپنے علم پر عمل نہیں کرتے اس لئے ان کا جاننا نہ جاننے کے برابر ہے۔
اس لئے آخر میں فرمایا لو کانو یعلمون جیسا کہ ہم نے ترجمہ کے خلاصہ میں عرض کیا ہے جن روایات کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے زمانے میں جب بنی آدم کے گناہ بکثرت آسمان پر چڑھنے لگے تو بعض فرشتوں نے اس پر قیل و قال شروع کی اور بنی آدم کا ذکر نفرت و حقارت سے کرنے لگے۔ اس پر حق تعالیٰ نے ان کو خطاب فرمایا کہ چونکہ بنی آدم میں قوت غضب اور قوت شہوت وغیرہ ودیعت کی گئی ہے اس لئے ان سے گناہ سر زد ہوتے ہیں۔ اگر تم میں بھی اس قسم کی قوتیں رکھ دی جائیں اور تم کو زمین پر بھیج دیا جائے تو تم بھی اس قسم کی معاصی میں مبتلا ہو جائو۔
فرشتوں نے عرض کیا اے پروردگار ہم تو تیری نافرمانی کسی طرح نہیں کرسکتے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا اچھا تم اپنے میں سے دو فرشتوں کو منتخب کرو تاکہ میں ان مذکورہ خواہشات سے متصف کر کے ان کو زمین میں بھیجوں۔ چناچہ فرشتوں نے ہاروت اور ماروت کو اپنے میں سے منتخب کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو قوائے نفسانیہ سے متصف فرما کر بابل بھیج دیا اور ارشاد فرمایا کہ تم انسانوں کو زنا اور شراب اور قتل وغیرہ معاصی سے روکو اور لوگوں میں جو جھگڑا ہو اس کا فیصلہ کیا کرو اور شام کے وقت اس اسم اعظم کو پڑھ کر آسمان پر آ جایا کرو اور صبح کو پھر زمین پر چلے جایا کرو۔
جب انہوں نے یہ کام شروع کیا تو بابل کے اطراف میں ان کی بڑی شہرت ہوگئی کہ وہ شخص بابل میں ایسے آئے ہیں جو نہایت انصاف کے ساتھ بلا رو رعایت لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہیں اور کسی سے رشوت وغیرہ نہیں لیتے۔ چناچہ اہل مقدمات فصل خصومات کی غرض سے ان کے پاس آنے لگے۔ ایک دن اسی فصل خصومات کے سلسلے میں ایک عورت بھی ان کے پاس آئی جو بہت خوبصورت تھی اور اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے زیادہ حسین تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ وہ عورت فارس کی تھی اور اس کا نام بےرخت تھا۔ وہ بہت عمدہ لباس پہن کر آئی اور اپنے خاوند کے خلاف اس نے اپنے حق کا مطالبہ کیا اور اصل میں اس کو اسم اعظم کا شوق تھا۔ وہ اسی کی تلاش میں آئی تھی۔ چناچہ ہاروت اور ماروت اس حسینہ کو دیکھ کر اس پر فریفتہ ہوگئے اور اس سے برے کام کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے جواب دیا کہ تم اور مذہب پر ہو۔ میں اور مذہب پر ہوں پھر میرا خاوند بڑا غیرت دار آدمی ہے۔ اس کو معلوم ہوگا تو وہ مجھے قتل کر ڈالے گا۔ تم پہلے میرے بت کو سجدہ کرو۔ پھر میرے خاوند کو قتل کرو۔ اس کے بعد تمہاری بات پوری ہوسکتی ہے۔ ان دونوں نے کہا معاذ اللہ شرک اور قتل یہ ہم سے کس طرح ہوسکتا ہے۔
یہ سن کر وہ عورت چلی گئی لیکن ان دونوں پر اس کے عشق کا غلبہ ہوگیا اور جب یہ اس کی محبت میں پریشان ہوگئے تو انہوں نے اس کو پیغام بھیجا کہ ہم دونوں تیرے ہاں مہمان ہونا چاہتے ہیں۔ اس نے بخوشی منظوری دے دی۔ جب یہ اس کے ہاں پہنچے تو اس نے اپنے مکان کو خوب آراستہ کیا اور خود بھی خوب بنی سنوری اور دستر خوان کو پرتکلف کھانوں سے سجایا اور دستور کے موافق شراب بھی دستر خوان پر رکھی۔
جب یہ وہاں پہونچے تو اس نے ان سے باتیں شروع کیں اور اس نے کہا تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہو بشرطیکہ چار باتوں میں سے کسی ایک بات کو منظور کرو یا تو میرے صنم کو سجدہ کردیا میرے خاوند کو قتل کردیا مجھے وہ اسم اعظم بتائو جس کو پڑھ کر تم آسمان پر چڑھ جاتے ہو یا شراب کا ایک جام پی لو۔ یہ سن کر ان دونوں نے مشورہ کیا اور دوسرے گناہوں کو سخت سمجھ کر شراب پر رضا مند ہوگئے چناچہ شراب کا ایک جام پی لیا۔ شراب کا نشہ ہونا تھا کہ اس کو اسم اعظم بھی بتادیا اور اس کے بت کو بھی سجدہ کیا اور اس کے خاوند کو بھی قتل کردیا۔
بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت اسم اعظم پڑھ کر آسمان پر اڑ گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی روح زہرہ نامی ستارے سے ملا دی۔ جب ان فرشتوں ک نشہ اترا تو ان کو اسم اعظم یاد نہ رہا تھا۔ اب یہ بہت پچھتائے اور بہت نادم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حالات سے فرشتوں کو آگاہ کیا اور یہ فرمایا کہ یہ فرشتے جو عالم شہود کے رہنے والے تھے جب قوائے نفسانیہ پر قابو نہ پا سکے اور ہر قسم کے معاصی میں مبتلا ہوگئے تو بنی آدم نے تو اس عالم کو دیکھا بھی نہیں اور ان کو تو شہود نصیب بھی نہیں ہوا اگر وہ معاصی میں مبتلا ہوگئے تو بنی آدم نے تو اس عالم کو دیکھا بھی نہیں اور ان کو تو شہود نصیب بھی نہیں ہوا اگر وہ معاصی میں مبتلا ہوئے تو ان پر تم ناراض کیوں ہوتے ہو اور کیوں ان پر نفرت کرتے ہو۔
ملائکہ نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اہل زمین کے لئے استغفار شروع کردی۔ ان دونوں فرشتوں کو جب توبہ کی کوئی شکل سمجھ میں نہیں آئی تو ادریس (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لئے دعا فرمائیے تاکہ ہماری توبہ قبول ہو سکے۔
حضرت ادریس (علیہ السلام) نے فرمایا۔ میں جمعہ کے روز تمہارے لئے دعا کروں گا۔ چناچہ جمعہ کے روز حضرت ادریس (علیہ السلام) نے فرمایا۔ میں نے تمہارے لئے دعا کی تھی مگر آج قبول نہیں ہوئی۔ آئندہ جمعہ تک انتظار کرو جب دوسرا جمعہ ہوا تو حضرت ادریس (علیہ السلام) نے کہا حق تعالیٰ تم کو اختیار دیتا ہے چاہے آخرت کا عذاب اختیار کرلو چاہے دنیا کا عذاب قبول کرلو۔
چنانچہ فرشتوں نے دنیا کے عذاب کو ہلکا سمجھ کر اسے اختیار کرلیا۔ اور اب وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ایک آتشین کنوئیں میں الٹے لٹکے ہوئے ہیں اور ہر روز فرشتے ان کو باری باریآ کر کوڑے لگاتے ہیں اور پیاس کے مارے ان کی زبانیں لٹکی ہوئی ہیں یہ وہ روایت ہے جس کو بیہقی اور مسند امام احمد نے نقل کیا ہے ۔ روایت کی صحت و عدم صحت سے ہمیں بحث کرنی مقصود نہیں ہے جس قدر مفہوم قرآن عزیز کی آیت سے ظاہر ہوتا تھ وہ ہم نے عرض کردیا ہے یہ بھیہو سکتا ہے کہ ہاروت و ماروت فرشتے نہ ہوں بلکہ انسانوں میں سے دو آدمیوں کا نام ہو اور ان کے زہدو اتقا کی وجہ سے ان کو فرشتہ فرمایا ہو اور ان پر علم سحر کی حقیقت و کیفیت الہام فرما دی گئی ہو اور اس وقت کے لوگ جو عام طور پر سحر اور جادو ٹونے کے شغل میں مبتلا تھے حتی کہ انبیاء (علیہ السلام) کے معجزات کو بھی جادو سمجھتے تھے اس کو صاف کرنی کی غرض سے دو شخصوں کو اسکام کے لئے مقرر کیا ہو تاکہ وہ سحر اور معجزے کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کردیں اور مادہ فرشتے ہی ہوں ا ن کو یہ کام سپرد کیا گیا ہو اور انبیاء (علیہم السلام) کے تقدس اور برتری کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے یہ کام لینا مناسب نہ ہو۔ اس لئے فرشتوں کے ذریعہ اس کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا ہو۔
چنانچہ فرشتوں کا یہ کہنا کہ انما نحن فتنۃ فلاتکفر اس سے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مقصد خاص تھ کہ لوگوں کو سحر کی تعلیم و تفصیل کے ساتھ اس کی خرابی اور اس کے نقصانات سے بھی آگاہ کردیں اور یہ بتادیں کہ ہم لوگوں کے لئے ایک امتحان ہیں خدا تعالیٰ ایک ہری چیز کی برائی کو ظاہر کر کے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کون اس کو سمجھ کر اور سیکھ کر اس سے بچتا ہے اور کون مبتلا ہوتا ہے۔ اس تقریر سے وہ فرق بھی سمجھ میں آگیا ہوگا جو شیاطین اور ہاروت اور ماروت کے طریقہ تعلیم میں تھا ۔ شیاطین تو تعلیم بھی دیتے تھے اور اس پر عمل کرنی کی ترغیب بھی دیتے تھے اور فرشتے ایک شئے کی حقیقت سے تو آگاہ کرتے تھے مگر اس سے بچنے اور پرہیز کرنی کی ترغیب دیتے تھے اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ کوئی شخص ایک کافر سے فلسفہ اور علوم عقلیہ حاصل کرے اور وہ کافر استاذ اس طالبعلم کو اس طرح تعلیم دے کہ خود اس کو کافر بنا دے اور گمراہ کر دے اور ایک یہی علوم عقلیہ کسی دین دار عالم سے پڑھے کہ اس کو فلسفہ کا علم بھی حاصل ہوجائے او وہ صرف حق کی حمایت اور باطل کے رد میں اس کو استعمال کرے اور وہ اس علم سے کسی کو گمراہ نہ کرے اور یہ استاد پڑھاتے وقت اس طالبعلم سے یہ عہد بھی لے لے کہ دیکھو یہ علم بڑا خطرناک ہے کسی ملحد اور بےدین سے مقابلہ ہوجائے تو ضرورت کے طور پر اس کو استعمال کرلینا اور یہ نہ کرنا کہ دین حق کی مخالفت میں اس کو استعمال کرو۔ یہی وہ فرق ہے جو شیاطین کے اور فرشتوں کے سحر سکھانے اور سحر کی تعلیم دینے میں تھا ایسا جادو جس میں خبیث ارواح یا کواکب سے استعانت حاصل کی جائے یا الفاظ کفریہ کا استعمال کیا جائے یا غیر اللہ کی عبادت اور شیاطین سے امداد طلب کی جائے خواہ اس سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے یا نفع پہنچایا جائے تو یہ حرام و کفر ہے اور اگر کفر یہ الفاظ نہ ہوں اور ان سے بغیر شرعی اجازت کے کسی کو نقصان پہنچایا جائے یا ہلاک کیا جائے یا کوئی ناجائز غرض حاصل کی جائے تو یہ فسق ہے اور اگر ایسے کلمات ہوں کہ جن کا مفہوم اور ان کے معنی سمجھ میں نہ آتے ہوں تو اس کے استعمال سے بچنا واجب ہے باقی کسی جائز عمل سے ارواح طیبہ یا ملائکہ کو متوجہ کرنا یا کس مریض کے گلے میں لکھ کر ڈال دینا یا پانی میں گھول کر پلانا یا پھونک کر دم کرلینا یہ سب امور سباح ہیں۔ باقی سحر کے اقسام اور تفصیلات معلوم کرنے کے لئے تفسیر عزیزی کو ملاحظہ کیا جائے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن کا مفہوم ہاروت و ماروت اور زہرہ کے اس قصے پر موقوف نہیں ہے جس کو ہم نے نقل کیا ہے ۔ اگر اس روایت کو صحیح نہ مانا جائے جیسا کہ ابن کثیر نے کہا ہے تب بھی قرآن کا مطلب اور مفہوم اپنی جگہ قائم ہے۔ سحر کے اثرات بھی دوسری مہلک یا غیر مہلک اشیاء کے اثرات کی طرح حضرت حق تعالیٰ کے حکم اور ان کی مشیت پر موقوف ہیں بالذات کوئی چیز نہیں ہیں اور یہ بات بھی نہیں ہے کہ سحر کا اثر صرف تفریق زوجین کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ بعض نے سمجھا ہے بلکہ اس کے اثرات بہت وسیع ہیں جیسا کہ روزمرہ کے حالات اس پر شاہد ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:103ف 2 اور اگر یہ یہودی ایمان لے اتٓے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے اور اس قسم کی حرکات شنیعہ اور بد اعمالیاں ترک کردیتے تو خدا تعالیٰ کے ہاں ان کا معاوضہ اور بدلہ ان باتوں سے بدرجہا بہتر ہوتا جن میں وہ مبتلا ہیں کاش ان کو اتنی سمجھ ہوتی۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ یہودی جو دنیا کے لالچ اور پیغمبر آخر الزماں کی عداوت میں ہر قسم کی بد اعمالی کا ارتکاب کرتے پھرتے ہیں۔ اگر خدا کے آخری نبی پر ایمان لے آتے اور ان بد اعمالیوں سے پرہیز کرتے تو اللہ کے ہاں جو کچھ اس کا معاوضہ ملتا وہ اس فائدہ سے کہیں زیادہ ہوتا جس کو وہ سحر اور کفر کے ذریعہ حاصل کر رہے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی یہود نے اپنے دین اور کتاب کا علم چھوڑدیا اور لگے تلاش میں اعمال سحر کے اور سحر لوگوں میں دو طرف سے آیا ایک حضرت سلیمان کے عہد میں آدمی اور شیطان ملے رہتے تھے۔ ان شیطانوں سے سیکھا اور یہود اس کو نسبت کرتے تھے۔ حضرت سلیمان کی طرف کہ ہم کو ان سے پہنچا ہے اور جن و انس پر ان کی حکومت اسی جادو کے زور سے تھی سو اللہ تعالیٰ نے بیان کردیا کہ یہ کام کفر کا ہے سلیمان کا کام نہیں اس کے عہد میں شیطانوں نے سکھایا ہے اور دوسرے ہاروت و ماروت کی طرف سے وہ شہر بابل میں دو فرشتے تھے جو بصورت آدمی رہتے تھے۔ ان کو علم سحر معلوم تھا جو کوئی طالب اس کا جاتا اول کہہ دیتے کہ اس میں ایمان جاتا رہے گا۔ پھر اگر وہ چاہتا تو سکھا دیتے۔
اللہ تعالیٰ کو آزمائش منظور تھی۔ سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسے علموں سے آخرت کا کچھ فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے اور دنیا میں بھی ضرر پاتے ہیں اور بغیر حکم خدا کے کچھ نہیں کرسکتے اور علم دین اور علم کتاب سیکھتے تو اللہ کے ہاں ثواب پاتے۔ (موضح القرآن)
یہود کی عام حالت یہ تھی کہ وہ کوئی نہ کوئی شرارت کرتے ہی رہتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں انہوں نے ایک اور شرارت شروع کی۔ مجلس میں شریک ہونے والوں کا قاعدہ تھا کہ جب کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تھی تو کہا کرتے تھے اس کو پھر فرما دیجیے یا ہماری رعایت کیجیے یا ہمارا انتظار کیجیے یا ہماری طرف بھی ملاحظہ فرمائیے۔
بہرحال اس قسم کے جملے بولا کرتے تھے یہودی تو ذومعنی الفاظ بولنے کے عادی تھے۔ انہوں نے اپنی زبان میں سے گالی اور برائی کا ایک کلمہ ایسا نکالا کہ عبرانی میں تو اس کے معنی گالی تھے اور عربی میں اس کے معنی رعایت کرنے اور لحاظ رکھنے کے تھے۔ وہ لفظ تھا راعناً اس لفظ کو یہ حضور کی مجلس میں تقریر کے دوران میں بولتے مسلمان سمجھتے کہ یہ بھی ہماری طرح حضور ﷺ کو اپنی طرف مخاطب کرنی کی غرض سے بولتے ہیں تاکہ سرکار تقریر میں ان کا بھی لحاظ رکھیں اس لئے مسلمان بھی راعنا کہنے لگے۔ آگے کی آیت میں اس کا رد فرماتے ہیں اور مسلمانوں کو دوسرا لفظ تعلیم فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:104ِف 3 اے ایمان لانے والو ! تم پیغمبر کو مخاطب کرتے وقت رعناً نہ کہا کرو بلکہ اگر نبی کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہو تو انظرنا کہا کرو اور یہ بات سن لو اور یاد رکھو اور ان کافروں کے لئے جو نبی کی شان میں گستاخی اور بےادبی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بڑا الم انگیز عذاب ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ یہود پیغمبر ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے اور حضرت کلام فرماتے ۔ بعض بات جو نہ سنی ہونی چاہئے کہ پھر تحقیق کریں تو کہتے راعناً یعنی ہماری طرف بھی متوجہ ہو ان سے مسلمان بھی سیکھ کر کسی وقت یہ لفظ کہتے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ یہ لفظ نہ کہو اگر کہنا ہو تو انظرنا کہو اس کے بھی معنی یہی ہیں اور آگے سے سنتے رہو کہ پوچھنا ہی نہ پڑے یہود ک و اس لفظ کے کہنے میں دعا تھی اس کو زبان دبا کر کہتے تو راعینا ہوجاتا یعنی ہمارا چرواہا اور ان کی زبان میں راعنا احمق کو بھی کہتے ہیں۔ (موضح القرآن)
واسمعوا کی جو توجیہہ حضرت شاہ صاحب نے بیان فرمائی ہے و ہ بھی محض بعض مفسرین کا قول ہے۔ واللہ اعلم
آگے یہود کی ایک اور پوشیدہ بات کو ظاہر کرتے ہیں اور وہ بات ایسی ہے کہ اس میں مشرک بھی ان کے ہم نوا تھے ظاہر میں تو جب کبھی مسلمانوں سے ملتے تو یہی کہتے کہ ہماری یہ آرزو ہے کہ تم پر کوئی ایسی بھلی بات نازل ہو جو ہمارے دین سے بھی بھلی ہو اور ہم بھی تمہارا دین اختیار کرلیں۔ مگر کیا کریں تمہارے دین میں کوئی بات ہمارے دین سے بہتر اور اچھی ہے ہی نہیں۔ اس لئے ہم تمہارے دین کو قبول نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس دروغ بیانی کا رد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:105ف 1 کافروں کو یہ بات ذرا بھی نہیں بھائی خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکوں میں سے ہوں اور وہ بالکل اس امر کو پسند نہیں کرتے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی بھالئیا ور بہتری تم پر نازل کی جائے حالانکہ یہ چیز ان کی خواہش پر موقوف نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عنایت سے جس کو چاہتا ہے مختص کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا صاحب اور مالک ہے۔ (تیسیر)
یعنی اہل کتاب کو اصالتاً اور مشرکوں کو تبعاً یہ امر ناگوار ہے کہ تم کو نبوت یا وحی یا اور کسی قسم کی نصرت و فتح وغیرہ حاصل ہو۔ یہود کو تو اہل کتاب ہونے کی وجہ سے حسد اور جلن تھی اور چونکہ مشرک صاحب کتاب نہیں تھے لیکن ان کو بھی اہل کتاب کی دیکھا دیکھی یہ ناگوار تھا کہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہو یا نبی ﷺ پر وحی نازل ہو۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اپنی رحمت یعنی نبوت یا علم یا وحی یا اور کسی قسم کی فتح و نصرت کسی سے دریافت کر کے نہیں دیا کرتا بلکہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا ہوں اس رحمت کے لئے مخصوص کرلیتا ہوں۔ اگٓے ان اہل کتاب کے ایک اور اعتراض کا جواب ہے قرآن کا جب کوئی حکم اٹھا لیا جاتا یا کسی آیت کی بجائے دوسری آیت نازل ہوجاتی تو کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سوچ سمجھ کر کیوں نہیں کوئی حکم دیا جو اب اس کو اٹھانا پڑا اور اس کی جگہ دوسرا حکم بھیجا یہ اعتراض ممکن ہے اہل کتاب نے کیا ہو یا مشرکوں اور اہل کتاب نے مل کر کیا ہو بعض لوگوں نے قبہل کی تحویل اور تبدیل کے متعلق اس اعتراض کا ذکر کیا ہے۔ بہرحال آگے کی آیتوں میں اس اعتراض کا جواب ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:106–107ف 2 اور اگر ہم کسی آیت کے حکم کو موقوف کردیتے ہیں یا اس آیت کو یاد رکھنے والوں کے حافظ سے بھلا دیتے ہیں تو اس کی بجائے اس سے بہتر اور نافع آیت لے آتے ہیں یا اسی کی مثل دوسری آیت لے آتے ہیں کیا اے اعتراض کرنیوالے تو اتنی بات کو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر شئی پر قادر ہے اور کیا اے معترض تو یہ نہیں جانتا کہ آسمان اور زمین کی سلطنت خاص اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی یار و مددگار نہیں۔ (تیسیر)
نسخ کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے ذریعہ ہٹانا اور زائل کرنا اور اس کے پیچھے دوسری چیزی کو ثابت کرنا جیسے دھوپ کا سایہ کو نسخ کرنا اور سایہ کا دھوپ کو منسوخ کرنا یا بڑھاپے کا جوانی کو نسخ کر کے اس کی جگہ قائم ہوجانا اور ایک چیز کو بعینہ دوسرے مادہ میں نقل دینا جیسے کہہ دیتے ہیں میں نے کتاب کو نسخ کرایا یعنی کتاب کی عبارت دوسری کتاب میں نقل کرا لی ۔ اب یہ لفظ کبھی فقط ازالہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی فقط ثابت کرنے کے معنی میں اور کبھی دونوں باتوں کے لئے استعمال کرتے ہیں اسی سے تناسخ ہے اور اسی سے وہ مناسخہ ہے جو میراث کی تقسیم میں استعمال ہوتا ہے۔ بہرحال قرآن کریم میں ایک حکم کو دوسرے حکم سے ہٹانے کے لئے استعمال ہوا ہے۔
مطلب یہ ہوتا ہے کہ پہلے حکم کا جو وقت اللہ کے نزدیک بندوں کی مصلحت کے لحاظ سے مقرر ہوتا ہے جب وہ وقت پورا ہوجاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا حکم بھیج دیا جاتا ہے۔ خواہ وہ آیت قرآن میں اور حافظوں کے ذہن میں باقی رہے یا حکم کے ساتھ قرآن سے بھی نکال لی جائے اور ذہنوں سے بھی بھلا دی جائے پھر اس کی جگہ دوسری آیت نازل فرما دیں جو پہلے حکم کے قائم مقام ہو اور پہلے حکم سے ملتا جلتا ہو یا پہلے حکم سے آسان ہو اور ثواب میں پہلے حکم کے ثواب سے زیادہ ہو اور یا بالکل ہی معاف فرما دیں۔
غرض یہ سب صورتیں نسخ کی ہیں۔ پھر یہ نسخ یا تو اس طور پر ہو کہ قرآن کی منسوخ آیت ہی کو قرآن میں نہ رکھا جائے اور حکم کے استھ تلاوت کو بھی منسوخ کردیا جائے یا تلاوت باقی رکھی جائے اور حکم اٹھا لیا جائے یا ناسخ اور منسوخ دونوں کو رکھا جائے یعنی ناسخ کی بھی تلاوت باقی رہے اور منسوخ کی بھی یا حکم باقی رہے اور تلاوت منسوخ کردی جائے اور جس طرح قرآن کی آیت قرآن کے لئے ناسخ ہوتی ہے۔ اسی طرح صحیح اور قطعی الثبوت حدیث بھی ناسخ ہوسکتی ہے علی اختلاف اقوال الائمہ رحمہم اللہ اجمعین اور نسخ احکام میں ہوا کرتا ہے اخبار میں نہیں ہماری ابتدائی تقریر سے یہ بات صاف ہوگئی ہوگی کہ حق تعالیٰ کا نسخ وہ نہیں ہے جیسے کوئی حکومت اپنے حکم کو یا کوئی حکیم اپنے نسخہ کو غلط سمجھ کر بدلات ہے یا کوئی حکومت اپنا حکم رعایا کی مخالفت سے ڈر کر بدلتی ہے بلکہ وہ حکیم مطلق اور مالک مطلق ان تمام عیوب سے پاک ہے اس کے نسخ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے علم میں وہ حکم ہی اس وقت کے لئے تھا جب وہ وقت منتہی اور پورا ہوگیا تو اس کو ہٹا لیا اور جو دوسرا حکم اس کے بعد جاری ہونیوالا تھا اس کا اعلان کردیا۔ پہلا حکم بھی بندوں کی مصلحت کے اعتبار سے تھا اور دوسرا حکم بھی بندوں کی مصلحت کے اعتبار سے ہے اور بالکل اس حکم کو اٹھا لینا بھی مصالح خداوندی اور بندوں کے حالات کے اعتبار سے ہے۔ آیت کے ایک حصہ میں نسخ اور اس کی صورت کا اعلان ہے اور آیت کے باقی ٹکڑے بطور دلائل کے ہیں یعنی معترض کو بتایا ہے کہ اللہ ہر شئے پر قدرت رکھتا ہے ایک حکم کی جگہ دوسرے حکم کو جاری کرنے پر پورا قادر ہے پھر اس دعویٰ کی دلیل ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی تمام سلطنت اسی کی ہے ۔ اس کو کسی کا خوف نہیں۔ پھر تمہارا سرپرست و حمایتی اور تمہارا مددگار ہے جو حکم دیتا ہے اس میں تمہاری مصلحت کی رعایت ہوتی ہے۔ سبحان اللہ الفاظ کی کیا خوب ترتیب و تشکیل ہے۔
حضرت شاہ صاحب قدیر پر حاشیہ کہتے ہیں۔ یہ بھی یہود کا ایک طعن تھا کہ تمہاری کتاب میں بعضی آیت نسخ ہوتی ہے۔ اگر اللہ کی طرف سے تھی تو پھر کیا عیب دیکھا کہ موقوف کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیب نہ پہلی میں تھا نہ پچھلی میں پر حاکم ہر وقت جو چاہے سو حکم کرے۔ (موضح القرآن)
آگے کی آیت میں مسلمانوں کو خطاب فرماتے ہیں اور اہل کتاب کی دشمنی سے آگاہ کرتے ہیں اور وقت کے مناسب مسلمانوں کو عمل کرنیکا طریقہ بتاتے ہیں اور بعض مسلمانوں جو کبھی کبھی غیر ضروری سوال کرلیا کرتے تھے اس سے منع فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:108ف 3 کیا مسلمانو ! تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ایسے غیر ضروری اور بےموقع سوالات کرو جس طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰ سے سوالات کئے جا چکے ہیں اور جو شخص ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کرے تو یقین جانو وہ شخص سیدھی اور صحیح راہ سے بھٹک گیا اور دور جا پڑا۔ (تیسیر)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہودی بہت بےہدہ اور بےجا سوال کیا کرتے تھے مسلمانوں کو اس غلط روی سے باز رہنے کی ہدایت اس آیت میں فرمائی ہے اور ہدایت کا ایک بہترین پیرا یہ اختیار کیا ہے ایمان کے بدلے کفر کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ہو کر کفر کی باتیں کرے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی یہود کے بہانے سے تم اپنے نبی کے پاس شہ بےنہ لائو جیسے وہ اپنے نبی کے پاس لاتے تھے۔ شہ بےنکالنے گویا یقین چھوڑ کر انکار پکڑنا ہے۔ صموضح القرآن) یہ ممکن ہے جس طرح یہود کافروں کو ابھارا کرتے تھے کبھی کبھی مسلمانوں سے بھی کہتے ہوں تم اپنے نبی سے یہ بات پوچھو یا فلاں سوال کرو اس لئے مسلمانوں کو تنبیہہ فرمائی ہو کہ تم ایسا نہ کرنا۔
بعض لوگوں نے ام تریدون سے یہود کو خطاب مراد لیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں یہود مراد ہوں۔ اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا۔ اے یہودیو ! کیا تم اپنے اس پیغمبر سے بھی اس قسم کے سوالات کرنا چاہتے ہو، جس طرح تمہارے بڑے اس رسول کی تشریف آوری سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کرچکے ہیں ۔ ان سوالات کی تفصیل چھٹے پارے میں مذکور ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:109–110ف 1 اہل کتاب میں سے اکثر لوگ محض اپنے ذاتی اور طبعی بغض و حسد کی وجہ سے یہ چاہتے ہیں اور دل آرزو رکھتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر مرتد بنادیں اور کافر کردیں۔ حالانکہ ان پر دین حق واضح ہوچکا ہے۔ دین حق واضح ہوجانے کے بعد پھر اس قسم کی مذموم خواہش رکھتے ہیں۔
اے مسلمانو ! اگر تم کو ان پر غصہ آئے تو اس وقت تک تم ان سے کوئی مواخذہ نہ کرو اور درگزر کرتے رہو جب تک اللہ تعالیٰ نے اپنا کوئی اور حکم تم کو نہ بھیجے یقین جانو کو اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوۃ ادا کرتے رہو اور تم جو اعمال خیر بھی اپنے بھلے کو آگے بھیجتے رہو گے ان سب اعمال کو یعنی ان کے ثواب کو اللہ تعالیٰ کے ہاں پورا پورا پائو گے یقین مانو ! کہ تمہارے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے پیش نظر اور اس کی نگاہ میں ہیں۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب قدیر پر حاشیہ لکھتے ہیں آخر حکم بھیجا یہود کو مدینے کے نزدیک سے نکال دیا۔ (موضح القرآن)
مطلب یہ ہے کہ یہود کی یہ تمنا تو بہت بری ہے لیکن ابھی انتقام کا موقع نہیں ہے بلکہ نظر انداز کنے اور درگزر کرنے کا وقت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ جہاد کا حکم دیگا اس وقت ان کے مناسب حال ان کے اتھ کارروائی کرنا جو قتل کے لائق ہو اس کو قتل کرنا جو جلا وطنی کے قابل ہو اس کو جلا وطن کردینا اور جن پر جزیہ کا حکم ہو ان پر حفاظتی محصول قائم کردینا اور جب تک جہاد کا حکم نہ آئے تم دوسرے فرائض ادا کرتے رہو۔ جب جہاد فرض ہوجائیگا ا س وقت اس فریضہ کا اضافہ کرلینا آگے بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ جو کار خیر زندگی میں کرو گے ان سب کا ثواب اللہ کے خزانہ سے اس عالم میں پائو گے۔
آگے کی آیت میں بنی اسرائیل کے ایک اور دعوے کا رد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:111–112ف 2 اور یہ یہود و نصاریٰ یوں کہتے ہیں کہ جنت میں ہرگز کوئی شخص سوائے ان لوگوں کے جو یہود ہوئے یا سوائے ان لوگوں کے جو نصاریٰ ہوئے داخل نہ ہو سکے گا یہ ان کی باتیں ہی باتیں ہیں جو دلیل سے خالی ہیں آپ ان سے فرمائیے اگر تم لوگ اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو اس دعویٰ پر دلیل پیش کرو واقعہ یہ ہے کہ دوسرے لوگ ضرور جنت میں جائینگے کیونکہ آئین اور قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا دے اور وہ خلوص کے ساتھ نیک روش کا پابند ہے تو ایسے لوگوں کا اجر وثواب ان کے مالک کے پاس موجود و محفوظ ہے اور ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف اندیشہ ہے اور نہ وہ کبھی غمگین ہونگے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ یہودی تو الگ اس کے مدعی ہیں کہ ہمارے سوا کوئی جنت میں نہ جانے پائے گا اور نصاریٰ الگ اس کے مدعی ہیں کہ ہمارے سوا اور کوئی نہیں جائے گا تو گویا جنت بس ان دونوں کے حصہ میں آگئی کہ یا فقط یہود جائیں گے یا صرف نصاریٰ جائیں گے چونکہ دونوں کا یہ دعویٰ اپنی اپنی جگہ بلا دلیل و سند کے ہے اس لئے دلیل کا مطالبہ فرمایا امانی امنیۃ کی جمع ہے جس کے معنی خواہش اور تمنا کے ہیں عرب امانی ایسے کلام پر بولا کرتے ہیں جو عاری عن الدلیل ہو آگے ضابطہ فرما دیا کہ جنت ایسی چیز نہیں جو کسی خاص فرقہ کا حصہ ہو بلکہ ہمارا قانون یہ ہے کہ جو دل سے مسلمان ہو اور نیکیوں کا پابند رہے تو اس کو اس کے رب کے پاس اجر ملتا ہے۔ اسلم وجھہ للہ کا مطلب یہ ہے کہ جس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا اور سالم اللہ تعالیٰ ہی کا ہوگیا۔
جیسے فرمایا رجلا سلما لرجل یعنی ایک شئے اس طور پر کسی کی کردی جائے کہ دوسرا کوئی اس میں شریک نہ ہو ہرچند کہ وجھہہ کے معنی چہرے کے ہیں لیکن وجہ بول کر ذات مراد لیا کرتے ہیں۔ ہم نے ترجمہ میں دونوں کی رعایت کی ہے مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کردیا اور فرمانبرداری اور اطاعت گذاری کے لئے اس کے قدموں پر منہ رکھ دیا۔ قرآن میں یہ کلمات چند جگہ آئے ہیں اردو میں ایسا کوئی ایک لفظ ہم کو نہیں مل سکا جس سے اس کا ترجمہ کیا جائے۔
احسان کے معنی نبی کریم ﷺ نے ان تعبداللہ کانک تراۃ سے کئے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اس طور پر عبادت کیا کہ گویا تو اس کو دیکھ رہا ہے مراد اخلاص ہے خلاصہ یہ ہے کہ جس کا اعتقاد پختہ ہوگا اور اس کے اعمال میں اخلاص ہوگا وہی اللہ تعالیٰ کے دربار میں اجر وثواب پائے گا اور ہر قسم کے خون و حزن سے مامون رہے گا جنت کسی خاص شخص یا خاص فرقہ کی میراث نہیں ہے کہ اس کو ملے دوسرے کو نہ ملے۔ (تسہیل)
Ayah 2:113ف 3 اور یہود نے کہا نصاریٰ کسی قابل اعتبار شئے پر نہیں اور نصاریٰ نے کہا یہود کسی قابل اعتبار شئے پر نہیں حالانکہ یہ لوگ توریت و انجیل کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور ان دونوں کی دیکھا دیکھی عرب کے بےپڑھے لکھے جاہل بھی ان ہی کی سب بات کہنے لگے کہ یہود و نصاریٰ کسی شئے پر نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کے مابین ان امور کا فیصلہ کر دے گا جن امور میں یہ اختلاف کیا کرتے ہیں۔ (تیسیر)
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نجبران کے نصاریٰ کا وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو یہود کے علماء بھی آگئے اتفاقاً دونوں میں گفتگو ہونے لگی۔ گفتگو نے مناظرے کی شکل اختیار کرلی۔ رافع بن حرملہ یہودی نے کہا تم کسی دین پر نہیں یعنی تمہارا دین کچھ نہیں اس پر عیسائیوں نے یہود کو کہا کہ تم کسی دین پر نہیں یعنی تمہارا مذہب کچھ نہیں شئے سے مراد بنیاد یا دین ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایک نے دوسرے کے دین کی تحقیر کی اور ہیچ بتایا حالانکہ یہ اپنی اپنی کتابوں میں ایک دوسرے کی تصدیق دیکھتے اور پڑھتے ہیں ، پھر بھی ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں۔
لایعلمون سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک عرب کے مشرک ہیں۔ چونکہ یہ لوگ عام طور سے امی اور بےپڑھے لکھے تھے اس لئے ان کو لایعلمون سے تعبیر فرمایا انہوں نے بھی یہود و نصاریٰ کے سی بات کہنے لگے سو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان تما مامور میں ان کا فیصلہ کردیگا جن کے متعلق یہ آپس میں جھگڑا کر رہے ہیں3(311)
Ayah 2:114ف 1 اور اس شخص سے بڑھ کر کون گناہ گار ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مساجد میں اس کا نام لینے اور اسکی عبادت کرنے سے روکے اور لوگوں کو منع کرے اور مساجد کی تخریب کرنے کے درپے ہو اور ان کی ویرانی کیلئے کوشش اور سعی کرتا پھرے ان لوگوں کو یہ لائق نہ تھا کہ وہ مساجد میں بغیر کسی خوف اور ڈر کے داخل ہوتے یعنی جب کبھی مسجد میں آتے تو ڈرتے ہوئے آتے اس قسم کے ظالم لوگوں کے لئے دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔ (تیسیر)
مساجد کو ذکر الٰہی سے روکنے اور ان کے ویران کرنے کی کوشش کرنیکا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام لانے سے بازرکھا جائے اور لوگوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کیا جائے تاکہ لوگ نماز پڑھنی ترک کردیں اور ترک صلوۃ مساجد کی ویرانی کا سبب ہوجائے یا مساجد کی تخریب کا مطلب یہ ہو کہ مساجد کی عمارت کو منہدم کردیاج جائے اور مساجد کو برباد کرایا جائے اگر پہلا مطلب ہو تو اس میں مشرکین عرب اور اہل کتاب سب ہی شریک ہیں مشرکوں کا طرز عمل تو ظاہر ہی تھا کہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے منع کرتے تھے اور ایذا پہونچاتے تھے۔ نمازیوں ک ے قریب آکر تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے صلح حدیبیہ کے دنوں میں عمرہ کرنے اور مسجد حرام کا طواف کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا اور مسجد حرام میں داخل ہی نہیں ہونے دیا۔ رہے اہل کتاب تو ان کا ذکر ابھی آچکا ہے کہ ان کی خواہش بھی یہی رہتی تھی کہ وہ مسلمانوں کو مرتد کرلیں اور کوئی مسافر آتا جاتا تو اس کو بھی بہکا دیتے اور اسلام لانے سے روکتے اور اسلام سے روکنا یا مسلمانوں کو کافر بنانا مساجد کی ویرانی کو مستلزم ہے اس لئے اس گناہ اور ظلم میں سب ہی شریک ہیں اور مساجد اللہ میں مسجد حرام مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ داخل ہیں بلکہ اور تمام مساجد بھی داخل ہیں کیونکہ ہر جگہ کی کافر اس قسم کی ریشہ دوانیوں میں مبتلا ہیں اور اگر دوسرے معنی مراد ہوں تو پھر مساجد اللہ سے مراد مسجد اقصیٰ ہوگی اور جمع محض تعظیم کیلئے ہوگی اور اس کا تعلق طیطس نامی بادشاہ کے اس واقعہ سے ہوگا جبکہ اس نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا تھا اور اس زمانہ کے نصاریٰ نے اس کی امداد کی تھی اور محض یہود کی دشمن اور عداوت کی وجہ سے بیت المقدس کو برباد کردیا تھا اور اس دن سے بیت المقدس حضرت عمر ؓ کے زمانہ تک ویران پڑی رہی اور پھر خلیفہ دوم نے اس کو تعمیر کرایا۔
بہر حال ایت کو اگر عام رکھا جائے تو زیادہ بہتر ہے اور یہ جو فرمایا کہ ان لوگوں کو یہ زبیا نہیں تھا کہ مساجد میں بےباک اور نڈر ہوکر داخل ہوتے اس کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ ان لوگوں کو مساجد میں بےباک اور بےخوف ہوکر داخل ہونا مناسب نہ تھا مساجد کو بہر حال خدا کا گھر کہاجاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو ہر مذہب و ملت کے لوگ قابل تعظیم سمجھتے ہیں لہٰذا جو مکان اس کی طرف منسوب کیا جائے اس میں کم از کم ادب و احترام سے تو داخل ہوناچاہئے چہ جائے کہ اس کو خراب کرنیکے درپے ہوجائے اورک اس میں خدا کا نام لینے سے روکا جائے یا اس کو منہدم کر دیاجائے یہ بہت ہی نا مناسب بات ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ پیش گوئی کے طورپر فرمایا ہو کہ یہ بےادب اور گستاخ لوگ مساجد میں نہیں داخل ہوں گے مگر ڈرتے ہوئے چناچہ یہ پیش گوئی اسلامی اقتدار کے زمانے میں پوری ہوچکی مشرکوں کو تو حضور اکرم ﷺ کی زندگی ہی میں ایک اعلان کے ذریعہ مسجد حرام میں داخل ہو نیکی ممانعت کردی گئی جو انشاء اللہ سورة برأۃ میں آئے گی۔
اور خلیفہ دوم اور خلیفہ سوم کے عہد میں جب مسلمانوں کا قبضہ فلسطین اور شامپر ہوگیا تو بیت المقدس میں اگرچہ یہود و نصاریٰ کا داخلہ بند تو نہیں کیا گیا مگر اسلامی اقتدار کیوجہ سے جو یہودی یا نصرانی مسجد اقصیٰ میں عبادت یا زیارت کی وجہ سے جاتا تھا وہ ڈرتا ہوا جاتا تھا دنیا کی رسوائی سے مراد کفار کی مغلوبیت اور محکومیت اور قتل اور حفاظتی ٹیکس وغیر ہ ہے کیونکہ یہ سب امور موجب ذلت و رسوائی ہیں اور یہ جو فرمایا خدا کے ذکر سے مساجد الٰہی کو روکنا اس لفظِ ذکر میں جس طرح نماز داخل ہے اسی طرح اذان اور اعتکاف اور خدا کی تسبیح وتحمید یا اور کوئی مسنون وظیفہ بھی داخل ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نصاریٰ آپکو منصف جانتے تھے اور یہود کو ظالم کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے دشمنی کی اور ہم نے ان کو مانا۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب نصاریٰ نے غلبہ پایا تو مسجد بیت المقدس کو ویران کیا اور یہود کی مسجدیں اجاڑیں یہود کی ضد سے یہ کیا انصاف ہے کہ آدمیوں کی ضد سے اللہ کی مسجدیں ویران کریں اور فرماتا ہے کہ یہ بھی لائق نہیں کہ اس ملک میں حاکم رہیں آخر اللہ تعالیٰ نے وہ ملک شام مسلمانوں کے ہاتھ لگایا۔ (موضح القرآن)
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ شاہ صاحب (رح) نے دوسرا قول اختیار کیا ہے آگے آیت میں بھی یہی تفصیل ملحوظ خاطر رہے۔ (تسہیل)