Ayah 2:264ف 2 اے ایمان والو ! تم احسان جتا کر یا سائل کو ایذا پہنچا کر اپنے صدقات کے ثواب کو اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور وہ نہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ یوم آخرت پر اس کو یقین ہے، لہٰذا اس منافق کی حالت ایسی ہے جیسے فرض کرو ایک صاف چکنا پتھر کہ اس پر تھوڑی سی مٹی جمع ہوئی ہو پھر اس پتھر پر زور کی بارش ہوجائے اور وہ بارش اس پتھر کو بالکل صاف کر کے چھوڑ دے یعنی جیسا تھا ویسا ہی کر دے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنی کمائی میں سے کچھ بھی نفع حاصل نہ ہوگا اور یہ لوگ اپنے کئے ہوئے کاموں سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکیں گے اور ا ن کی کمائی ذرا بھی ان کے ہاتھ نہ لگے گی اور اللہ تعالیٰ ایسے منکر اور ناسپاس لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ (تیسیر)
صفوان صاف چکنا اور سخت پتھر، جو حجم میں بڑا ہو، صلد بالکل صاف پتھر جس پر کوئی غبار وغیرہ نہ ہو، وابل، موٹی موٹی بوندوں کی تیز اور بکثرت بارش ، چونکہ بارش کے مختلف حالات ہوتے ہیں ، کبھی پھوار، کبھی ذرا تیز، کبھی بہت زور کی، اس لئے عرب کے لوگ ہر قسم کی بارش کا علیحدہ علیحدہ نام رکھتے ہیں۔
ترتیب یوں ہے (رش، طش، طل، نفخ، ھطل ، ویل) اوپر کی آیت میں من اور اذی کی تفصیل ہم عرض کرچکے ہیں اس آیت میں بھی اگر ایذا رسانی کو عام لے لیا جائے اور ہر قسم کی ایذا رسانی مراد ہو تو من کے معنی یہ ہوں گے کہ لوگوں پر احسان جتاتا پھرے، جیسے بعض شیخی خوروں کی عادت ہوتی ہے کہ میں نے یہ کیا اور میں نے وہ کیا یا یہ کہ صدقہ دے کر اللہ پر احسان رکھے۔
جیسا کہ حضرت ابن عباس کا یہی قول ہے اور اگر ایذا رسانی کو عام نہ لیا جائے تو پھر یہ مطلب ہوگا کہ سائل پر احسان جتا کر اور سا کو ایذا پہنچا کر اپنے صدقات کو باطل نہ رو اور ابطال ثواب کے لئے دونوں باتوں کا ہونا ضروری نہیں بلکہ صرف احسان جتانا یا فقط تکلیف پہنچانا بھی ابطال اجر کے لئے کافی ہے اسی لئے ہم نے تیسری میں وائو کا ترجمہ یا کیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں باتوں میں سے ہر ایک بات ثواب کو کھو دیتی ہے۔ صدقات کے باطل ہوجانے سے مراد ثواب کا باطل ہوجانا ہے ثواب کے باطل ہوجانے میں کئی قول ہیں۔
بعض حضرات نے کہا ہے احسان جتانے یا تکلیف پہنچانے سے ثواب ضائع ہوجاتا ہے اور گناہ قائم ہوجاتا ہے بعض نے کہا نہ ثواب ہوتا ہے اور نہ گناہ
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ آیت میں ابطال سے ثواب کا بڑھنا اور زیادہ ہونا مراد ہے مطلب یہ ہے کہ ثواب کا بڑھنا باطل ہوجاتا ہے اور احسان جتانے کا گناہ باقی رہتا ہے کرخی نے اسی کو راجح کہا ہے ۔ (واللہ اعلم)
خلاصہ یہ ہے کہ کسی نیکی اور طاعت کی صحت اور بقا کے لئے کچھ شرطیں ہیں۔ مثلا ً ہر انسان کے لئے طاعت کی صحت اور بقا کے لئے ایمان شرط ہے اگر ایمان نہ ہو تو نہ نیکی صحیح ہے اور نہ اس کا ثواب باقی ہے چناچہ کافر کسی نیکی کا کوئی ثمرہ نہیں اگر کوئی مسلمان مرتد ہوجائے تو اس کے تمام نیک اعمال ضائع ہوجائیں گے اسی کو حبط کہتے ہیں پھر جس طرح طاعت کی صحت و بقا کے لئے ایمان شرط ہے اسی طرح ایمان کے بعد کچھ اور بھی قیود ہیں۔ مثلاً ایک مسلمان کی طاعت جب صحیح ہو گ جب اس میں اخلاص ہو۔ اسی طرح کسی طاعت مثلاً صدقہ کا ثواب جب باقی رہے گا۔ جب اس میں من اور اذی نہ ہو، لہٰذا منافق کا صدقہ تو اس وجہ سے باطل ہوا کہ وہاں ایمان ہی نہ تھا اور مومن کے صدقات کا اجر اس لئے ضائع ہوا کہ وہاں اخلاص اور ترک من و اذی موجود نہ تھا، اگر اخلاص ہو تو صدقہ صحیح ہوگا لیکن ترک من و اذی نہ ہو تو صدقہ کا ثواب باقی نہ رہے گا، لہٰذا منافق کی طاعت تو شرط صحت یعنی ایمان کے موجود نہ ہونے سے ضائع ہوئی اور مسلمان کی طاعت اگرچہ ایمان کی وجہ سے صحیح تو ہوئی لیکن شرط بقا یعنی ترک من و اذی کے موجود نہ ہونے سے ضائع ہوئی اور اس کو بقا میسر نہ ہوا۔
اس موقعہ پر بعض معتزلہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ سیات بھی کفر کی طرح حسنات کو ضائع کر دیا کرتے ہیں جیسا کہ من اور اذی نے صدقہ کے اجر کو باطل کردیا، ہم نے جو تقریر اوپر کی ہے اس سے معتزلہ کا یہ استدلال بیکار ہوجاتا ہے کیونکہ کسی مخصوص حسنہ میں اگر بقا کی شرط مفقود ہوجانے کی وجہ سے اس حسنہ کو کوئی مخصوص سیہ حبط اور باطل کر دے تو اس مخصوص جزیہ سے معتزلہ کا وہ کلیہ کس طرح ثابت ہوسکتا ہے کہ ہر سیئہ ہر حسنہ کو اسی طرح ضائع کردیتی ہے جس طرح کفر اور ارتداد حسنات کو ضائع کردیتا ہے اس مقام پر اس تقریر کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے جو فقیر نے پہلے پارے میں بلے من کسب سیہ و احاطت بہ خطیئہ کی تفسیر کرتے ہوئے عرض کی تھی اور یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ یہاں شرط بقا کے مفقود ہونے کی وجہ سے مسلمان کا ثواب ضائع ہوا۔ یہ مطلب نہیں کہ ہر سیئہ ہر حسنہ کے لئے موجب حبط ہے اور یہاں منافق و ریا کار کے ساتھ تشبیہہ بھی صرف اس بات میں ہے کہ ثواب سے دونوں محروم رہے اگرچہ مشبہ بہ میں محرومی کی وجہ نفاق اور ریا ہے اور مشبہ کی محرومی کی وجہ من اور اذی ہے یہ اس وقت ہے جب مشبہ مومن اور مشبہ بہ منافق ہو اور اگر مشبہ بہ کافرو منافق نہ ہو اور عدم ایمان باللہ اور عدم ایمان بالآخر ت کی قید … حقیقی نہ ہو جیسا کہ بعض نے کہا ہے تو پھر مطلب یہ ہوگا کہ ریا کار ہونا مومن کی شان سے بعید ہے اور ریا کاری منافق کے قابل ہے، مشبہ اور مشبہ بہ میں عقائد کا فر ق نہ ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اور اوپر مثال فرمائی خیرات کی جیسے ایک دانہ بویا اور سات بالیں نکلیں سات سودا نے ملے یہاں فرمایا کہ نیت شرط ہے اگر دکھاوے کی نیت سے خرچ کیا تو جیسے دانہ بویا پتھر میں جس پر تھوڑی سی مٹی نظر آتی تھی جب مینہ پڑا تو وہ صاف ہوگیا اس میں کیا اگے گا۔ (موضح القرآن)
بغوی نے محمود بن لبید سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھ کو تمہارے متعلق بڑا خطرہ شرک اصغر کا ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ شرک اصغر کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ دیا ہے جس دن بندوں کو ان کے اعمال کا صلہ ملے گا تو اس دن اللہ تعالیٰ ریا کاروں سے فرمائے گا تم ان ہی لوگوں کے پاس جائو جن کے دکھانے کو اعمال کیا کرتے تھے، اپنا ثواب ان ہی سے حاصل کرو۔
بعض حضرات نے معتزلہ کا رد اور طریقہ پر بھی کیا ہے۔ ہم نے صرف مختصراً یہاں اپنے اکابر سے سنی ہوئی تقریر کو دہرا دیا ہے اگر کسی صاحب کو مزید تحقیق مطلوب ہو تو وہ روح البیان اور روح المعانی اک مطالعہ فرمائیں۔
اب آگے ان مخلصین کی خیرات کا ذکر فرماتے ہیں جو محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے نفس کو طاعات الٰہی پر آمادہ کرنے کی غرض سے صدقہ دیتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:265ف 3 اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی کی جستجو کرنے کی غرض سے اور اپنے دلوں کو مضبوط کرنے اور تقویت پہنچانے کے لئے اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کئے ہئے مالوں کی حالت ایسی ہے ۔ جیسے ایک باغ کی حالت کہ وہ باغ کسی بلند مقام پر اور ٹیلے پر واقع ہو پھر اس پر زور کی بارش ہو اجئے اور اس پر خوب مبینہ پڑجائے تو وہ دگنا اور چوگنا پھل لائے اور اگر اس پر زور کی بارش نہ بھی بر سے تو معمولی سی پھوار اور ہلکی سی بارش بھی اس کے لئے کافی ہے اور تمہارے تمام اعمال کو جو تم کرتے رہتے ہو اللہ تعالیٰ خوب دیکھتا ہے۔
اوپر کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جن کا صدقہ اجر کے اعتبار سے ایسا تھا جیسے دھلا ہوا پتھر یعنی جو مٹی پڑی تھی یا اس مٹی میں کوئی دانہ جما تھا وہ سب بہہ گیا خواہ وہ احسان رکھنے اور ایذا پہنچانے کی وجہ سے ہو، خواہ ریا اور دکھاوے کی وج ہ سے ہو اور خواہ مشبہ اور مشبہ بہ دونوں مسلمان ہوں اور خواہ مشبہ مسلمان ہو اور مشبہ بہ حقیقی کافر اور منافق ہو اس لئے ہم نے اوپر کی آیت میں کافرین کا ترجمہ منکر اور ناسپاس کیا تھا اب مخلصین کا ذکر ہے اور چونکہ مخلصین کا ہر کار خیر محض اس غرض سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل ہوجائے اور وہ اسی تلاش میں رہتے ہیں تو زکوۃ و خیرات میں بھی ان مخلصین کی یہی نیت ہوتی ہے۔
اس لئے ارشاد فرمایا۔ ابتغاء مرضات اللہ نیز اس قسم کے حضرات کی یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ طاعت اور کار خیر کے بجا لانے میں جو مشقت ہوتی ہے اور مشقت سے نفس گھبراتا ہے اس لئے کسی طرح نفس کو خوگر بنایا جائے چناچہ وہ بار بار کار خیر کو بجا لاتے ہیں اور مجاہدہ کرتے ہیں تاکہ ان کا نفس طاعت و عبادت کا خوگر ہوجائے تو گویا خیرات کرنے سے ان کا دوسرا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنے نفس کو طاعات الٰہی پر آمادہ کیا جائے اور اپنے نفوس کو مضبوط اور اپنے قلوب کو تقویت پہنچائی جائے تاکہ احکام الٰہی کی تعمیل میں کوئی قوت مزاحم نہ کرسکے۔
اسی کو حق تعالیٰ نے وتثبتا من انفسم سے تعبیر فرمایا ہے اور ہوسکتا ہے کہ تثبیت کے معنی تصدیق کے ہوں جیسا کہ قتادہ ابو صالح کا قول ہے اور اسی کو ابن جریر نے اختیار کیا ہے اور پھر ہوسکتا ہے کہ مطلب یہ ہو کہ ثواب کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی توقع رکھتے ہیں اس قول کو ابن کثیر نے اختیار کیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سچے اور پکے دل سے خیرات کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان مخلصین کو ایک خاص بصیرت حاصل ہے جو ان کو طاعت الٰہی میں ثابت قدم رکھتی ہے یہ سب اقوال سلف سے منقول ہیں اور ا نسب کی گنجائش ہے اور باظہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اوپر کی آیت میں خیرات و صدقات کے بطلان کی دو صورتیں فرمائی تھیں، ایک من و اذی اور دوسری ریا اور دکھاوا اور چونکہ ریا کاری کا اصل منشا اور جڑ اللہ پر اور قیامت کے دن پر صحیح ایمان کا نہ ہونا ہے۔
اس لئے ولا یئومن باللہ والیوم الاخر بھی فرمایا تھا اگر یہ ایمان بالکل نہ ہو تو کافر یا منافق ہوگا اور اگر ایمان تو ہو مگر پختہ نہ ہو تو کچا مسلمان ہوگا یہی دو قول اوپر کی آیت کے متعلق مفسرین سے منقول ہیں اور ان ہی کی طرف ہم نے تسہیل میں اشارہ بھی کردیا ہے۔
بہر حال ریا کار خواہ منافق ہو اور کافر ہو، خواہ وہ مسلمان ہو جس کا عقیدہ کچا اور حام ہو ، دو ہی صورتیں ثواب کو ضائع کرنے والی تھیں ایک ثواب کی زیادتی کو برباد کرنے والی تھی اور ایک بالکل ثواب کو باطل کرنے والی تھی اور وہ دونوں چیزیں جس سے اجر وثواب میں نقصان اور بطلان ہوتا تھا ان دونوں کو اوپر کی آیت میں ذکر فرمایا تھا تو اب اس آیت میں ان دونوں کے مقابلہ میں ایسی دو چیزیں ذکر فرمائیں جو ثواب کو بڑھانے والی اور دگنا چوگنا کرنے والی ہیں پہلی آیت میں احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے کو بطلان یا نقصان کا سبب قرار دیا تھا اس آیت میں اس کے مقابلہ کے لئے ابتغا مرضات اللہ فرمایا یعنی وہ لوگ تو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے اپنے مال خرچ کرتے ہیں اور جس شخص کا منتہائے نظر خدا تعالیٰ کی رضا مندی ہوگا وہ کسی پر نہ اپنی خیرات کا احسان جتائے گا اور نہ سائل کو تکلیف دے گا بلکہ وہ تو سائل کا ممنون ہوگا اور یہ سمجھے گا کہ سائل تو حضرت حق کی رضا مندی کا سبب اور ذریعہ ہے اور کوئی بھی ایسا بیوقوف ہوسکتا ہے کہ جو شخص اس کے حصول مقصد میں اس کی مدد کرے اس کو برا بھلا کہے یا اس پر کسی قسم کا احسان جتائے۔ اسی طرح اوپر کی آیت میں ریا کاری اور دکھاوے کو بطلان صدقہ کا موجب بتایا تھا اس کے مقابلہ میں وتثبیتا من انفسھم فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی خیرات … ریا کاری سے بھی پاک ہوتی ہے کیونکہ ان کا اعتقاد خام نہیں ہوتا بلکہ ان کے قلوب اس بارے میں پختہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا صدقہ قبول فرمائے گا اور ان کو اپنی مہربانی اور فضل سے ثواب عطا کرے گا اور چونکہ ان حضرات کو ثبات نفس کی دولت اور مرتبہ نصیب سے اس لئے ان کو کبھی ریا اور دکھاوے کا خیال بھی نہیں گذرتا۔
اب خلاصہ یہ ہوا کہ یہ لوگ چونکہ رضائے الٰہی کی جویاں ہیں اس لئے ان کا صدقہ من و اذی سے پاک ہوتا ہے اور چونکہ ان کا مقصد ثبات نفس ہوتا ہے اور پختہ اعتقاد کے ساتھ خیرات کرتے ہیں اس لئے ان کا صدقہ ریا اور دکھاوے سے بھی پاک ہوتا ہے۔
لہٰذا اس قسم کے مخلصین کی صدقات و خیرات کی یہ مثال اور یہ حالت ہے کہ جیسے کوئی باغ کسی بلند مقام پر یا کسی اچھی زمین پر واقع ہو پھر اگر اس پر زور کا مینہ برس جائے تو وہ دوسرے باغوں کے مقابلہ میں دگنا پھل لائے یا خود اپنی پہلی فصل کے مقابلہ میں دگنا چوگنا پھل لائے اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو معمولی اور خفیف سی بارش بھی اس کو کافی ہوجائے۔
یہ دو باتیں اس لئے فرمائیں کہ سب مخلصین بھی ایک حالت پر نہیں ہوتے اخلاص میں بھی کمی بیشی ہوتی ہے اور نسبتاً فرق ہوتا ہے اس لئے بارش کی کمی بیشی سے پھلوں کی کمی اور زیادتی میں بھی نسبتاً فرق ہوگا اگرچہ دونوں حالتوں میں صدقہ کا قبول ہونا اور ثواب میں بڑھوتری یقینی ہے لیکن باہم نسبتاً فرق اور تفاوت ہوسکتا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ بجائے اخلاص کی کمی بیشی کے مال کی کمی بیشی مراد ہو یعنی جو بہت مال خرچ کرے گا اس کو بہت ثواب ملے گا اور جو تھوڑا مال خرچ کرے گا اس کو تھوڑا اجر ملے گا۔ ہاں نیت کا درست ہونا اور شرائط وقیود کی پابندی کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
ربوۃ اس عمدہ اور اچھی زمین کو کہتے ہیں جو کسی بلند مقام پر واقع ہو بعض لوگوں نے کہا ہے بلند مقام پر ہونا ضروری نہیں صرف عمدہ اور اچھی ہو اور پیداوار کے اعتبار سے بہترین ہو۔ ہم نے تسہیل میں دونوں معنوں کی رعایت رکھی ہے ۔ ضعف کے معنی میں اگر صرف زیادتی کا لحاظ رکھا جائے تو ضعفین کے معنی دگنا ہوں گے اور اگر ضعف میں دگنے کا لحاظ رکھا جائے تو ضعفین کے معنی چوگنے ہوں گے۔ ہم نے تیسیر میں دونوں معنی کی رعایت رکھتے ہوئے دگنا چوگنا ترجمہ کیا ہیا ور مخلص بندوں کی خیرات اور حضرت حق کے فضل و احسان کے اعتبار سے چوگنا زیادہ مناسب ہے ۔ (واللہ اعلم)
طل ۔ اس بارش کو کہتے ہیں جو طش سے قدرے زائد اور نضح سے کم ہو جیسا کہ اوپر کی آیت میں معلوم ہوچکا ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ قیامت کے دن تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نہ تاطف و مہربانی کے ساتھ بات کرے گا نہ رحمت کے ساتھ ان کو دیکھے گا اور نہ ان کو اپنے قرب سے نوازے گا اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا ایک تو وہ جو صدقہ دے کر احسان جتاتا ہے دوسرا وہ جو ماں باپ کا نافرمان ہے تیسرا وہ جو شراب پینے کا عادی ہے۔ (نسائی)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مینہ سے مراد بہت مال خرچ کرنا اور اوس سے مراد تھوڑا مال سو اگر نیت درست ہے تو بہت خرچ کرنا بہت ثواب اور تھوڑا بھی کام آتا ہے۔ جیسے خالص زمین پر باغ ہے جتنا مینہ پر اس کو فائدہ ہے بلکہ اوس بھی کافی ہے اور نیت درست نہیں تو جس قدر زیادہ خرچ کرے ضائع ہے کیونکہ زیادہ مال دینے میں دکھاوا بھی زیادہ ہے جیسے پتھر پروانہ جتنا زور کا مینہ برسے اور ضرر کرے کہ مٹی دھوئی جائے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اگر اخلاص نہ ہوا اور نیت خراب ہو اور مقصد ریا کاری ہو تو نقصان ہی نقصان ہے خواہ تھوڑا خرچ کردیا بہت اور اگر اخلاص ہو۔ نیت صحیح ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور نفس کی اصلاح مقصود ہو تو فائدہ ہی فائدہ ہے خواہ بہت مال خرچ کردیا تھوڑا۔
اب آگے ایک لطیف اور عبرت انگیز عنوان کے ساتھ ان لوگوں کی حالت بیان کرتے ہیں جن کے صدقات و طاعات بعض کوتاہیوں کی وجہ سے اور شرائط وقیود کی پابندی نہ کرنے کے باعث فاسد و بیکار ہوجائیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:266ف 1 بھلا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے اور اس امر کو دوست رکھتا ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا اس باغ کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں اور اس باغ میں علاوہ کھجوروں اور انگوروں کے اور بھی مختلف قسم کے بکثرت پھل موجود ہوں اور اس باغ کے مالک کی یہ حالت ہو کہ اس کو بڑھاپا پہنچ چکا ہو اور اس کا بڑھاپا آگیا ہو اور اس کی اولاد کمزور اور ناتواں ہو کام سنبھالنے کے قابل نہ ہو اور باغ کی دیکھ بھال کی صلاحیت نہ رکھتی ہو ایسی حالت میں جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور بچے ناتواں ہوں اس باغ پر ایک ایسا گرم بگولہ آجائے جس میں تیز آگ ہو اور وہ باغ آگ بھرے بگولے سے جل جائے اور خاکستر ہوجائے جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ اسی طرح وہ تمہاری رہنمائی اور تمہارے سمجھانے کو اپنے واضح اور صاف دلائل بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو اور غور و فکر سے کام لو۔ (تیسیر)
اعصار اس سخت ہوا کو کہتے ہیں جو چکر کاٹتی ہوئی اوپر کو ستون کی طرح اٹھتی ہے اور عام طریقہ سے گرمی کے موسم میں یہ ہوائیں چلا کرتی ہیں اردو میں اس کو بگولا کہتے ہیں۔ عربی میں اس کو زوابعۃ بھی کہتے ہیں عوام کا خیال یہ ہے کہ ان میں جن ہوتے ہیں عرب کے لوگ بھی اس کو بہت بڑا جن سمجھتے تھے اور ام زوبعہ اور ابو زوبعہ ان بگولوں کو کہا کرتے تھے اور یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ان بگولوں میں شیطان مارد ہوتا ہے جب ہوا چکر کاٹتی ہوئی اڑتی ہے تو کوڑا کرکٹ بلکہ بعض دفعہ بڑی بڑی چیزوں کو اڑا لے جاتی ہے خاص کر ریگستانی علاقہ میں تو ان بگولوں کی وجہ سے سفر بند ہوجاتا ہے ان میں اس قدر حرارت اور سمیت ہوتی ہے کہ ہر جاندار کو یہ ہوا ہلاک کردیتی ہے اور نباتات کا تو کہنا ہی کیا ہے۔
ود کے معنی میں محبت اور تمنا دونوں شامل ہوتے ہیں۔ اس لئے کہیں محبت اور کہیں تمنا معنی کئے جاتے ہیں باوجود اور پھلوں کے کھجور اور انگور کا اس لئے ذکر کیا کہ ان دونوں کے درخت بکثرت ہوں۔
من کل الثمرات کا مطلب یہ ہے کہ اور بھی مختلف قسم کے پھل ہوں۔ حقیقی استغراق مراد نہیں ہے۔ بخاری میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک دفعہ اصحاب رسول اللہ ﷺ سے دریافت فرمایا تھا کہ یہ آیت کس کے بارے میں ہے۔
صحابہ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس پر حضرت عمر نے فرمایا ایک بات کہو تم جانتے ہو یا نہیں ؟
حضرت ابن عباس نے عرض کیا اے امیر المومنین اس آیت کے متعلق میرے جی میں ایک بات آئی ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے میرے بھتیجے جو تیرے جی میں ہے اسے کہہ ڈال اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھ اس پر حضرت ابن عباس ؓ نے کہا یہ عمل کی مثال ہے انہوں نے فرمایا کون سے عمل کی مثال ہے تب حضرت ابن عباس ؓ نے عرض کیا اے امیر المومنین ایک شخص نے اللہ کی طاعت کی پھر اللہ تعالیٰ نے ایک شیطان بھیجا اور وہ شخص جو طاعت الٰہی میں مشغول تھا گناہ کرنے لگا یہاں تک کہ اس کے سارے عمل غرق ہوگئے۔
ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اسی روایت کو مبنی قرار دیا ہے اگرچہ یہ آیت صدقات کی بحث میں مذکور ہے لیکن اپنی عمومیت کے باعث تمام اعمال حسنہ کو شامل ہے یعنی عمل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اس کے اعمال کا ثواب کام آئے۔ جہنم سے بچے اور جنت میں داخل ہو دنیا میں بھی اس کے اعمال پر اثرات مرتب ہوں نیک کاموں کی توفیق میسر ہو ایک عمل کی مقبولیت سے دوسرے عمل کی توفیق ملے پھر تیسرے کی پھر چوتھے کی اسی طرح اعمال حسنہ میں ترقی ہوتی رہے حتیٰ کہ اعمال صالحہ میں لذت اور حلاوت پیدا ہوجائے اور طاعات الٰہی میں ایک خاص قسم کی کیفیت اور سرور پیدا ہوجائے اور یہ بات جب ہی ہوتی ہے جب عمل کرنے والا تمام شروط وقیود کی رعایت کر کے وہ عمل بجا لائے اور اگر شروط قیود کی پابندی نہ کرے مثلاً کسی بدنصیب میں ایمان نہ ہو تب تو کوئی عمل صحیح ہی نہ ہوگا اور اگر ایمان تو تھا لیکن ریا اور دکھاوے کا خیال آگیا۔ یا سائل پر احسان رکھا یا سائل کو تکلیف پہنچا دی یا حرام مال سے خیرات کردی یا ہوتے سا تھے کوئی گھٹیا اور خراب چیز دے دی وغیرہ تو اگرچہ ایمان کی وجہ سے عمل صحیح ہوگی لیکن ثواب مرتب نہ ہو آیا ثواب مرتب ہوا تو کم ہوا یا عمل کی برکت اور نور سلب ہوگیا اور دوسرے نیک عمل کی توفیق نصیب نہ ہوئی بلکہ عمل کے غیر مقبول ہوجانے کی وجہ سے کسی گناہ میں مبتلا ہوگیا جیسا کہ اہل ذوق ان امور کو سمجھتے ہیں کہ شرائط وقیود کی کوتاہی کا صرف یہی نقصان نہیں ہوتا کہ اعمال خیر کم ہوجائیں یا ثواب میں کمی ہوجائے بلکہ بعض دفعہ شرائط قیود کی بےاعتنائی کسی نگاہ میں مبتلا کردینے کا سبب بن جاتی ہے۔ پھر محرومی اور مایوسی کی ایسی حالت ہوجاتی ہے جیسے ایک بوڑھے آدمی کا ہرا بھرا باغ جل کر خاک ہوجائے اور اس کے بچے چھوٹے چھوٹے ہوں بوڑھے اور بچوں کا ذکر احتیاج کی انتہائی تصویر ہے اور ضرورت کا مکمل نقشہ ہے یعنی آدمی خود بوڑھا ہو اور بچے چھوٹے چھوٹے ہوں ایسے وقت میں آمدنی کا ذریعہ برباد ہوجائے تو اس مصیبت کو بچنے والے ہی سمجھتے ہیں اس لئے آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے دلائل اور نظائر کو اس طرح بیان فرماتا ہے تاکہ تم لوگ غور و فکر کرو اور کسی صحیح نتیجے پر پہنچ جائو اور وہ یہ کہ دنیا کو زائل ہونے والا اور آخرت کو پیش آنے والا سمجھو۔
جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا ہے جو نیک کام کردیا مثلاً صدقہ دو اور خیرات کرو تو جو اس کے ثواب اور ثواب کو بڑھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو شرطیں بیان فرمائی ہیں ان کی رعایت کو ملحوظ رکھو کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنی کوتاہی اور شرائط سے بےاعتنائی کی وجہ سے قیامت میں اس بڈھے باغ والے کی طرح حسرت و افسوس سے ہاتھ ملو یا دنیا میں نیک اعمال کی توفیق سے محروم ہو جائو یا کسی خطرناک گناہ میں مبتلا ہو جائو یا اعمال حسنہ کے انوار و برکات کو کھو بیٹھو اور جب اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو تو تہی دامن اور خائب و خاسر ہو کر پیش ہو۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے کیا خوب فرمایا کہ شیطان کے آنے سے وہ بندہ بجائے نیک اعمال کے گناہ کرنے لگا شیطان کا آنا یہی ہے کہ اعمال خراب ہوجائیں نیک اعمال کی شرائط وقیود میں کوتاہی کرا دے ابھی بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن ہم نے تطویل کے خوف سے اپنی تفسیر کو مختصر کردیا ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس طرح ایک کافر اور منافق کے اعمال ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ناقابل اعتبار قرار دیئے جاتے ہیں اسی طرح اخلاص کے فقدان سے ایک مومن کے اعمال اور ان کا ثواب بھی برباد ہوجاتا ہے اور مومن کے اعمال کو بھی حبط سے تعبیر کردیا جاتا ہے۔
اسی لئے ہم نے تسہیل میں دونوں رعایتیں رکھی ہیں تاکہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ مذکورئہ تمثیل کا تعلق مومن اور کافر دونوں سے ہوسکتا ہے۔
نبی کریم ﷺ سے حاکم نے بڑھاپے کے لئے ایک دعا نقل کی ہے جو حسب ذیل ہے۔
اللھم او سع رزقک علے عند کبر سنی وانقضاء عمری۔ یعنی یا اللہ ! میرے بڑھاپے اور میری عمر کے پورا ہونے کے وقت اپنی روزی کو مجھ پر وسیع کر دیجیو۔ مطلب یہ ہے کہ بڑھاپا اور عر کا آخری دور بڑا نازک دور ہوتا ہے اور وہ بڑی احتیاج کا زمانہ ہوتا ہے ہاتھ پائوں تھک جاتے ہیں اور ضروریات بڑھ جاتی ہیں اس وقت کے لئے یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ الٰہی اس نازک ور میں وسعت رزق سے میری مدد فرمائیو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اب مثال فرمائی احسان رکھنے والے کی جو اپنی خیرات اچھی کو ضائع کرے۔ جیسے جوانی کے وقت باغ حاصل کیا توقع سے کہ بڑی عمر میں کام آوے عین کام کے وقت جل گیا۔ (موضح القرآن) اعمال صالحہ اور صدقات کے سلسلہ میں تین قسم کی صورتیں اب تک زیر بحث آچکی ہیں۔
(1) عمل میں صحت کی شرط بھی موجود ہو اور ثواب کی زیادتی اور بقا کے قیود بھی موجود ہوں۔
(2) عمل میں سرے سے صحت کی شرط ہی نہ پائی جائے۔ مثلاً ایمان و اخلاص ہی مفقود ہو۔
(3) صحت کی شرط یعنی ایمان تو موجود لیکن ثواب کی بقا ثواب کی زیادتی اور عمل کے مقبول ہونے کی شرائط نہ ہوں چناچہ اب سب امور کو حضرت حق تعالیٰ نے مختلف نظائر اور تمثیلات کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ اگرچہ الفاظ کے عموم کی وجہ سے مفسرین کے اقوال مختلف ہوگئے ہیں۔
بہرحال اب آگے پھر بعض شرائط وقیود کا ذکر فرماتے ہیں یہ قیودات بھی صدقہ کی مقبولیت ثواب کی زیادتی اور بقائے اجر کے سلسلے میں ہیں کچھ تو اوپر بیان ہوچکے ہیں۔ مثلاً ترک من و اذی اور ریا کاری سے اجتناب وغیرہ اور کچھ آگے آیت میں مذکور ہوتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:267ف 2 اے ایمان والو ! تم اپنی کمائی میں سے اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے بھلے کے لئے زمین سے نکالی اور پیدا کی ہیں اچھی عمدہ اور حلال چیزیں خدا کی راہ میں خرچ کیا کرو اور ناکارہ اور نکمی چیزوں کا قصد اور ارادہ نہ کیا کرو کہ ان میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرو حالانکہ تم خود کبھی اس خراب اور ناکارہ چیز کو لینے پر آمادہ نہیں ہوتے مگر ہاں اس کے لینے میں چشم پوشی اور رعایت سے کام لو تو یہ دوسری بات ہے اور اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری خیرات سے مستغنی ہے وہ تمہاری خیرات کا محتاج نہیں ہے اور وہ جملہ صفات کمالیہ سے متصف اور سزا وار حمد و ثنا ہے۔ (تیسیر)
یہاں طیب کو خبیث کے مقابلہ میں ذکر کیا ہے اسی مناسبت سے ہر لفظ کے تین تین معنی ہوسکتے ہیں۔ طیب حلال خبیث حرام طیب طاہر اور پاک خبیث نجس اور گندہ طیب جس کو دل پسند کرے اور طبیعت کو مرغوب ہو خبیث دل سے اتری ہوئی اور ناپسندیدہ چیز ان ہی معنی کی رعایت سے لوگوں نے ترجمہ کیا ہے۔
اغماض، چشم پوشی کرنا، غنی بےپرواہ ، مستغنی، احتیاج سے پاک حمد، مستحق حمد اور سزا وار ثناء مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان خدا کی راہ میں خرچ کریں تو اچھی عمدہ حلال اور پسندیدہ چیز خرچ کیا کریں حرام، ناپاک اور دل سے اتری ہوئی چیز خیرات نہ کیا کریں جو چیز اللہ کے لئے خرچ کریں خواہ وہ ان کی اپنی کمائی ہو اور خواہ زمین کی پیداوار ہو کمائی سے مراد تجارت بھی ہوسکتی ہے مواشی بھی ہوسکتے ہیں۔
حضرت مقدام نے مرفوعاً نقل کیا ہے فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ کسی شخص نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا نہیں کھایا یعنی ہر شخص کی بہترین خوراک وہی ہے جو اس کی اپنے ہاتھ کی کمائی ہو۔
مما اخرجنا لکم من الارض سے زراعت اور کھیتی باڑی اور پھول پھل حتی کہ چاندی سونے اور لوہے کی کانیں بھی مراد ہوسکتی ہیں جیسا کہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ عشری زمین میں جو کچھ پیدا ہو۔ اس میں عشر واجب ہوتا ہے بشرطیکہ بارش وغیرہ کا پانی دیا جائے اور اگر پانی کنویں سے کھینچ کردیا جائے تو عرش کا نصف واجب ہوتا ہے۔
معاون اور رکاز کے احکام بھی کتب فقہ میں تفصیلاً درج ہیں۔ اسی طرح مالی تجارت میں بھی زکوۃ واجب ہے ۔ آیت مذکورہ میں جس انفاق کا ذکر ہے اس سے عام طور پر مفسرین نے صدقات واجبہ مراد لئے ہیں۔ اگرچہ نفی صدقات بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اور اس کی بھی گنجائش ہے کہ دونوں مراد ہوں۔
بہرحال خدا کی راہ میں جو چیز دی جائے وہ عمدہ اور نفیس ہو پھر فرمایا ایسیچیز کے دینے کی نیت بھی نہ کیا کرو جو دل سے اتری ہوئی اور خراب ہو کیونکہ طبعاً آدمی اچھی چیز کو پسند کرتا ہے اور ناکارہ چیز کو پسند نہیں کرتا۔ اسی لئے فرمایا کہ خراب چیز اگر تم کو کوئی دے تو تم بھی اس کو نہیں لیتے۔ خواہ کوئی بطور ہدیہ تم کو پیش کرے یا تمہارے حق کے طور پر تم کو دے تو تم اس کو لینا گوارہ نہیں کرتے اور اگر کسی وقت چشم پوشی سے کام لو اور رعایت سے رکھ لو تو وہ دوسری بات ہے۔ اس لینے کو لینا نہیں کہتے لینا اور قبول کرنا تو وہی ہے جو نشاط اور قلب کی خوشی کیساتھ قبول کیا جائے پھر جب تم خود نکمی اور خراب چیز لینا گوارہ نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بری اور دل سے اتری ہوئی چیز کیوں دیتے ہو۔
اللہ تعالیٰ تمہاری خیرات اور تمہارے صدقات کا محتاج نہیں وہ تو جملہ صفات سے متصف اور سب خوبیوں کا مالک ہے۔
شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب بعض سستی چیزیں بازار سے خریدنے تھے اور خیرات کردیا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
براء سن عازب فرماتے ہیں کہ انصار اپنے باغوں میں سے کھجور کے خوشہ لا کر اصحاب صفہ کے لئے مسجد میں لٹکا دیا کرتے تھے۔ اصحاب صفہ بھوک کے وقت ان خوشوں میں سے کھجوریں جھاڑ کر کھالیا کرتے تھے۔ بعض حضرات نے ایسے خوشے لا کر لٹکا دیئے جس میں ناقص اور ردی کھجوریں تھیں۔ اس پر حضرت حق تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ دل سے اتری ہوئی چیز خیرات نہ کیا کرو۔ بلکہ جید اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں دیا کرو، با سی روٹی، کھوٹا روپیہ سڑا ہوا سالن گلی ہوئی ترکاری، گھن کھایا اناج، کھوٹی چاندی، کھوٹا سونا وغیرہ سب اسی قسم کی چیزیں ہیں جن کی ممانعت کی گئی۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ حکم ان کے لئے ہے جن کو اللہ نے مقدرت دی ہے اور جن کے پاس خود ہی اچھی چیز نہ ہو اور ان کا خود گذار نکمی اور خراب چیزوں پر ہو وہ مستثنا ہیں ان کو جو کچھ ہو وہ اسی میں سے دے دیں۔
لینفق ذوسعتہ من سعتہ ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ۔
چونکہ اعمال کے لئے شرائط اور قیود کی پابندی ضروری ہے اور شیطان اس پابندی میں خلل انداز ہوتا ہے۔ کبھی وضو خراب کرا دیتا ہے کبھی نماز میں وسوسہ انداز ہوتا ہے، کبھی زکوۃ میں رکاوٹ پیدا کردیتا ہے۔ کبھی شرائط کی خلاف ورزی پر آمادہ کرتا ہے۔ کبھی حرص اور لالچ دلا کر بری اور نکمی چیز خیرات کر ادیتا ہے اور کبھی خیرات ہی کرنے سے مانع ہوتا ہے اس لئے آگے کی آیت میں اس کے مکائد اور وساوس سے ہوشیار کرتے ہیں اور شیطان کی مذمت فرماتے ہیں اور اپنی مغفرت اور فضل کی جانب توجہ دلاتے ہیں تاکہ مرض کے ساتھ پرہیز کی طرف بھی اشارہ ہوجائے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی خیرات قبول ہونے کی یہ شرط بھی ہے کہ مال حلال کمایا ہو، حرام نہ ہو اور بہتر چیز اللہ کی راہ میں دیوے یہ نہیں کہ بری چیز خیرات میں لگا دے کہ لینے دینے میں آپ ویسی چیز قبول نہ کرے مگر ناچار ہو کر کیونکہ اللہ بےپروا ہے محتاج نہیں اور خوبیوں والا ہے خوب سے خوب پسند کرتا ہے۔ (موضح القرآن) (تسہیل)
Ayahs 2:268–269ف 3 شیطان تم کو مفلسی اور محتاجی سے ڈراتا ہے اور تم کو ناشائستہ اور بری باتوں کی ترغیب اور مشورہ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی طرف سے گناہ بخشنے اور زیادہ دینے کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت بڑا فیاض اور ہر چیز کا جاننے والا ہے وہ جس کو چاہتا ہے صحیح فہم عطا فرما دیتا ہے اور یقین جانو کہ جس کو صحیح فہم دے دیا گیا اس کو بہت بڑی بھلائی اور خیر کثیر سے نوازا گیا اور نصیحت تو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو صحیح اور خالص عقل رکھتے ہیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ شیطان تم کو یہ کہہ کر ڈراتا ہے کہ دیکھو اگر خیرات کرو گے یا عمدہ اور نفیس چیزیں بانٹ کر بیٹھ جائو گے تو دیوالیہ نکل جائے گا۔ فقیر اور محتاج ہو جائو گے ایک طرف ڈراتا ہے دوسری طرف بری بات یعنی بخل کی ترغیب دیتا ہے اور خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے جب ایسا ہو تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ یاد کرو اس کا وعدہ یہ ہے کہ جب ہماری راہ میں خرچ کرو گے تو عام دستور کے مطابق ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے کیونکہ نیکی اور طاعت کفارئہ سیات کا موجب ہوتی ہے۔
ان الحسنات یذھبن السیات نیز یہ کہ ہم تم کو اپنا فضل عطا فرمائیں گے یعنی دنیا میں مال بڑھا دیں گے یا آخرت میں ثواب زیادہ دیں گے پھر فرمایا یہ بات بالکل صاف اور ظاہر ہے مگر وہی سمجھتا ہے جس کو صحیح فہم اور دین کی سمجھ عطا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ چونکہ ہر شخص کی حالت کو خوب جانتا ہے اس لئے جس کو چاہتا ہے دین کے فہم اور صحیح سمجھ سے بہرہ مند کر دیات ہے اور بات تو یہ ہے کہ جس کو دین کا فہم عطا کردیا گیا اس کو خیر کثیر کا مالک بنادیا گیا۔
حدیث میں آتا ہے ہر روز جب خدا تعالیٰ کے بندے صبح کرتے ہیں تو دو فرشتے آواز لگاتے ہیں ایک کہتا ہے یا اللہ ! خرچ کرنے والے کو عضو عطا فرما دے دوسرا کہتا ہے۔ یا اللہ ! روک کر رکھنے والے کا مال تلف کر دے۔
سورئہ سبا میں ارشاد ہے۔ وما انفقتم من شئی فھو یخلفہ تم جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کا عوض عطا فرما دیتا ہے وعید اور وعد میں فرق یہ ہے کہ وعید عام طور سے شرک کے لئے استعمال ہوتا ہے اور وعد شر اور خیر دونوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یعنی ہوتے دونوں وعدے ہیں لیکن ایک ضرر اور نقصان کا وعدہ اور ایک نفع کا اور کبھی نقصان کا وعدہ اس لئے ہم نے یعدکم کا ترجمہ ڈرانے سے کیا ہے۔ شیطان کا ڈرانا یہی کہ مختلف قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور اوہام و تخیلات میں مبتلا کرت ا ہے۔ فحشا کا ترجمہ عام طور سے بےحیائی کیا جاتا ہے۔
صاحب کشاف نے کہا ہے کہ اہل عرب بخیل کو بھی فاحش کہتے ہیں اور یہی معنی یہں زیادہ مناسب ہیں کہ شیطان بخل کی ترغیب دیتا ہے اور سخی کو بخیل بنانے کی سعی کرتا ہے ۔ امر کے معنی حکم کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شیطان کسی انسان پر قابو پا لیتا ہے تو تحکمانہ انداز میں مشورہ دیتا ہے بخشش سیئات کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ دینے اور خیرات کرنے سے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں فضل کے معنی زیادتی، بزرگی، بڑائی وغیرہ کے ہیں یہاں خیرات کرنے والوں کے مال کی یا ثواب کی افزوتی مراد ہے۔ حکمت کے مفسرین نے بہت معنی کئے ہیں لیکن تقریباً سب قریب المعنی ہیں یہاں دین کا صحیح فہم اور قرآن کی صحیح سمجھ مراد ہے۔
حضرت شاہ صاحب واسع علیم پر فرماتے ہیں یعنی جب دل میں خیال آوے کہ مال خیرات میں دے ڈالوں تو میں مفلس رہ جائوں اور ہمت آوے بےحیائی پر کہ اللہ تعالیٰ کی تاکید سن کر پھر بھی خرچ نہ کرے تو جان لیوے کہ یہ شیطان کی طرف سے آیا اور جب خیال آوے کہ خیرات سے گناہ بخشے جاویں گے اور لالہ کے یہاں کمی نہیں چاہے گا تو اور دے گا تو جان لیوے کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ۔ (موضح القرآن)
فقیہ ابوللیث فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی سامان کو متاع قلیل فرمایا ہے اور دین کے فہم کو خیر کثیر فرمایا ہے لہٰذا ایک عالم دین کو کسی دنیا دار کے سامنے اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرنا چاہئے۔
بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ ایک طرف شیطان کے وسوسے اور تخیلات ہیں فقر و افلاس کے اندیشے ہیں بخل کی ترغیب و تحریص ہے اور دوسری طرف حصہ جل و علا جو بڑے فیاض اور صاحب وسعت ہیں ان کی مغفرت اور فضل کا وعدہ ہے مگر ان باتوں کا صحیح فیصلہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کو حضرت حق نے دین کا صحیح فہم عطا کیا ہے اور جو لوگ ارباب سلوک ہیں وہی شیطان کی تخویف اور خدا کے وعدوں کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں اور یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ کون سی بات فع کرنے کے قابل ہے اور کون سی ایمان لانے اور قبول کرنے کے لائق ہے۔
حضرت شاہ صاحب نے خوب فرمایا ہے اور نہایت مناسب اور موزوں تقسیم کی ہے مگر جب تک کوئی شیخ کامل نہ ہو اور کسی مرشد کی صحبت میسر نہ ہو ان باتوں پر واقفیت حاصل نہیں ہوتی اور نہ ان خطرات کا صحیح احساس اور ادراک ہوتا ہے جو قلب پر دار ہوتے رہتے ہیں آیت کے آخر میں صحیح عقل والوں سے اپیل ہے کیونکہ جن کے پاس عقل سلیم ہے اور جو عقل خلاص کے مالک ہیں وہی قرآنی نصائح سے نصیحت پذیر ہوتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:270ف 1 اور تم لوگ جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اور جس قدر خرچ کرتے ہو اور جس طرح بھی خرچ کرتے ہو اور جہاں کہیں خرچ کرتے ہو یا تم کسی قسم کی نذر اور منت مانتے ہو سو اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے اور بےجا کام کرنے والوں کا کوئی مددگار اور ساتھی اور حمایتی نہ ہوگا۔ (تیسیر)
نذر کہتے ہیں دل سے کسی چیز کو اپنے اوپر لازم کرلینا خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو اور شرعاً نذر کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایسینی کی کو جس کی شریعت اسلامیہ میں نظیر موجود ہو اپنے اوپر لازم کرلینا خواہ وہ عبادت مالیہ ہو یا مدنی خواہ مشروط ہو یا غیر مشروط
بہرحال صدقات اور خیرات کے ساتھ نذر کو بھی شامل کردیا کیونکہ نذر کرنے اور منت ماننے کے بعد اس منت کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ اگر مشروط اور معلق ہو تو شرط پوری ہونے کے بعد اور اگر مشروط نہ ہو تو جس طرح منت مانی ہو اس کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے آیت اپنے عموم کی وجہ سے ہر قسم کے خرچ پر اور ہر قسم کی نذر پر صادق آتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے تیسیر میں اشارہ کردیا ہے۔
حضرت حق کے علم اور اطلاع کا منشا یہ ہے کہ خرچ زیادہ ہو یا کم ہو طاعت میں خرچ کردیا معصیت میں طاعت میں خرچ کر کے احسان جتائو یا سائل کو اذیت پہنچائو دکھاوے کو خرچ کردیا اللہ کے لئے خرچ کرو۔ ردی اور گھٹیا مال دو یا عمدہ اسی طرح منت اچھی مانو یا بری اللہ تعالیٰ کے لئے نذر مانو یا غیر اللہ کے نام کی منت مانو، نذر کو پورا کردیا نہ پورا کرو۔
غرض ہم کو تمام باتوں کا علم ہوتا ہے طاعت کو صحیح طور پر بجا لائو گے اور منت کو صحیح طور پر ادا کرو گے تو اجر وثواب عطا فرمائیں گے اور اگر کوتاہی کرو گے اور شرائط وقیود کے پور کرنے میں کمی کرو گے یا غیر اللہ کے نام کی منتیں مانو گے یا معصیت کی نذر کرو گے یا اللہ کے نام کی نذر کرو گے تو ہم سزا دیں گے اور تمہارے اجر وثواب کو کم کردیں گے یا بالکل غارت کردیں گے۔
آخر میں فرمایا جو لوگ شرائط کے پورا کرنے کی رعایت نہیں کرتے اور احکام الٰہی کی مخالفت کرتے ہیں یا فسق و فجور میں خرچ کرتے ہیں وہ ظالم ہیں اور ایسے ظالموں کا قیامت میں کوئی حمایتی اور مددگار نہ ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی قبول کی تو واجب ہوگئی اب ادا نہ کرے گا تو گناہگار ہے نذر اللہ کے سوا کسی کی نہ چاہئے مگر یہ کہے کہ اللہ کے واسطے فلانے شخص کو دوں گا تو مختار ہے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب کا مطلب یہ ہے کہ منت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے نام کی ہونی چاہئے غیر اللہ کے نام کی منت حرام ہے۔ ہاں ! یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرا کام کردیا تو میں فلاح غریب کو کھانا کھلائوں گا یا کوئی مسجد تعمی کروں گا یا فلاں بزرگ کی روح کو ثواب پہنچائوں گا ایک کنواں کھدوا کر کسی بزرگ کے لئے وقف کر دوں گا یہ طریقہ نذر میں جائز ہے مگر نذر اور منت فقط خدا کے نام پر کی جائے۔
اب آگے صدقات کی کیفیت بیان فرماتے ہیں کہ صدقہ کا ظاہر کرنا بہتر ہے یا پوشیدہ طور پر دینا اچھا ہے ۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:271ف 2 اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو اور علانیہ خیرات کردو تو بھی یہ اچھی بات ہے اگر ان صدقات کو پوشیدہ رکھو اور پوشیدہ طور پر فقیروں کو پہنچا دو اور فقرا کو دیدو تو یہ چھپا کر فقیروں کو دینا تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کچھ گناہ تم سے دور کر دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمہارے کئے ہئے سب کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔ (تیسیر)
چونکہ لوگوں کے حالات مختلف ہیں کوئی علانیہ دینے کو پسند کرتا ہے کوئی چاہتا ہے چھپا کر دے حضرت حق تعالیٰ نے دونوں طرح دینے کی اجازت فرما دی اگرچہ اخفا کو ترجیح دی کہ یہ طریقہ ہر اعتبار سے مامون و محفوظ ہے اس میں ریا کا بھی کوئی موقعہ نہیں اور فقیر کو بھی شرمندگی نہیں ہوتی اور اگر کسی کو پورا اطمینان ہو اور اس کی نیت یہ ہو کہ دوسروں کو بھی خیرات کی ترغیب ہو تو علانیہ خیرات میں بھی مضائقہ نہیں۔
بعض حضرات نے فرمایا ہے صدقات واجبہ کا ظاہر کر کے دنیا بہتر ہے اور صدقات نافلہ کا چھپا کردینا بہتر ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس کا ایک قول ہے کہ نفلی خیرات کا خفیہ دینا علانیہ دینے سے ستر درجے زیادہ افضل ہے اور صدقات مفروضہ کا علانیہ دینا چھپا کردینے سے پچیس درجے زیادہ افضل ہے اور یہی حال دوسرے فرائض و نوافل کا ہے کہ فرائض کو ظاہر کر کے ادا کرے اور نوافل کو پوشیدہ رکھے۔
بعض حضرات نے صدقات نافلہ اور صدقات مفروضہ دونوں میں اخفا کو افضل کہا ہے۔ بہرحال سب قسم کی گنجائش ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ ہر شخص کی حالت جدا ہے اور ہر شخص اپنے قلب کی کیفیت کا خود ہی صحیح اندازہ لگا سکتا ہے۔ اگرچہ صدقات کا کفارئہ سیات ہونا ظاہر ہے خواہ علانیہ ہوں یا خفیہ یہ مطلوب نہیں کہ صرف خفیہ صدقات سے سیئات دور کئے جائیں گے علانیہ سے نہیں مگر یہاں دونوں احتمال ہیں کہ یہ جملہ یکفر عنکم یا تو مستقل جملہ ہے اور یا ان تحفوھا کی قید ہ۔
ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے وہ پہلی تقدیر پر عرض کیا ہے اور اگر دوسری صورت ہ تب بھی اس معنی کو متلزم نہیں کہ علانیہ صدقہ دینے سے گناہ معاف نہ ہوں گے۔ بلکہ اس تخصیص کا منشا صرف اس قدر ہوگا کہ خفیہ دینے والے کو ایک ایسے فائدے سے آگاہ کرنا ہوگا جو قریب الحصول ہے ۔ آیت کی دوسری ترکیب کی بنا پر ترجمہ یوں ہوگا۔ اگر تم اپنے صدقات چھپا کردو گے تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور تمہارے کچھ گناہ اس اخفا سے معاف ہوجائیں گے یا یہ اخفا تمہارے کچھ گناہ تم سے دور کر دے گا۔ (واللہ اعلم)
گناہ سے مراد صغیرہ گناہ ہیں اور یہی جمہور کا مذہب ہے کہ اعمال خیر سے صغائر دور ہوجاتے ہیں وہاں اخفش نے اس من کو زائدہ قرار دیا ہے اور اس تقدیر پر یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام گناہ تم سے دور کر دے گا ۔ فقیر عرض کرتا ہے کہ یہ معنی بھی کچھ مستبعد یا جمہور کے خلاف نہیں ہیں۔ صغائر تو صرف صدقات کی برکت سے زائل کردیئے جائیں گے اور کبائر کے لئے انہی صدقات کی برکت سے … توبہ کی توفیق نصیب ہوجائے گی اور اس طرح تمام سیئات زائل کردیئے جائیں گے کیونکہ کبائر کی معافی کے لئے علمائنے دو ہی صورتیں فرمائی ہیں ایک توبہ دوسرے فضلو رحمت البتہ کسی عمل خیر کا مقبول ہوجانا شرط ہے اور اگر بدنصیبی سے کوئی عمل قبولیت کا درجہ حاصل نہ کرسکے تو پھر صغائر کی بھی توقع نہیں چہ جائیکہ کبائر
آخر میں ارشاد ہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھتا ہے خواہ کوئی عمل علانیہ ہو یا خفیہ ہم سے کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے اسی طرح تمہارے صدقات بھی خواہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ بہرحال ہم سے مخفی نہیں ہیں۔
حدیث شریف میں آتا ہے قیامت کے دن سات قسم کے آدمی عرش الٰہی کے سایہ میں ہوں گے ان سات میں ایک وہ شخص بھیہو گا جو سیدھے ہاتھ سے دیتا ہے اور الٹے ہاتھ کو خبر نہیں ہوتی ایک اور حدیث میں ہے پوشیدہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔
انس بن مالک سے ایک روایت مروی ہے جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدا کیا تو فرشتوں نے عرض کیا۔ اے اللہ ! بھلا اس مخلوق سے بھی کوئی مخلوق سخت آپ نے پیدا کی ہے۔
ارشاد ہوا ! لوہا اس سے زیادہ سخت ہے فرشتوں نے عرض کی لوہے سے بھی کوئی سخت ہے ارشاد ہوا۔ ہاں آگ ہے پھر فرشتوں نے عرض کی۔ الٰہی ! آگ سے بھی کوئی چیز زیادہ سخت ہے ارشاد ہوا پانی پھر فرشتوں نے عرض کیا الٰہی ! پانی سے بھی کوئی چیز سخت ہے ارشاد ہوا ہم نے ہوا کو پیدا کیا ہے پھر فرشتوں نے عرض کیا اے پروردگار ! بھلا ہوا سے بھی کوئی چیز سخت تر ہے ارشاد ہوا ہمارے وہ بند وہ بندہ جو سیدھے ہاتھ سے دیتا ہے اور الٹے ہاتھ کو خبر نہیں ہونے دیتے۔
حضرت حسن بصری ؓ کا قول بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ اس آیت میں صدقات مفروضہ اور نافلہ دونوں مراد ہیں اور دونوں میں بجائے اعلان کے اخفاء افضل ہے۔ (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اگر نیت دکھاوے کی نہ ہو تو خیرات کھلی بھی بہتر کہ اوروں کو شوق آوے اور چھپی بھی بہتر ہے کہ لینے والا نہ شرما دے ۔ (موضح القرآن)
اب آگے صدقات کے متعلق ایک اور بات ارشاد ہوتی ہے۔ بعض لوگ صرف مسلمانوں کو خیرات دیتے تھے اور کافروں کو نہیں دیا کرتے تھے۔ مدینہ کے بعض انصار اس خیال سے اپنے کافر رشتہ داروں کو خیرات نہیں دیتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائیں اور خیرات کی رکاوٹ سے اسلام قبول کرلیں اس پر آگے کی آیت نازل ہوئی۔ (تسہیل)
Ayah 2:272ف 3 اے پیغمبر ! ان کافروں کو ہدایت پر لے آنا اور صحیح راہ پر لگا دینا اور اوامرو نواہی کا پابند کردینا آپ کے ذمہ ضروری اور لازم نہیں ہے البتہ یہ کام تو اللہ تعالیٰ کا ہے وہ جس کو چاہے صحیح راہ سے بہرہ ور کر دے اور مقصود مطلوب تک اس کو پہنچا دے اور مسلمانو ! تم جو کچھ بھی اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہو اور جو کچھ بھی صدقہ خیرات کرتے ہو سو اپنے ہی نفع کی غرض سے اور اپنے ہی بھلے کو کرتے ہ اور تم سوائے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کی خوشنودی کے اور کسی غرض کے لئے خرچ نہیں کرتے تمہارا مقصد تو صدقات و خیرات سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا ہوتا ہے اور جو کچھ تم اپنے مال میں سے خرچ کرو گے اور جو کچھ صدقہ خیرات کرو گے وہ سب تم کو پورا پورا دیا جائے گا یعنی اس کا ثواب بےکم وکاست تم کو پورا مل جائے گا اور تمہارے حق میں کوئی کمی اور کوتاہی نہ کی جائے گی اور کسی طرح تمہاری حق تلفی نہ ہوگی۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اس خیال سے کسی کافر کے ساتھ سلوک نہ کرنا کہ وہ مسلمان ہوجائے اور اسلام قبول کرلے۔ یہ طریقہ کسی کو ہدایت کرنے کا نہیں ہے اور نہ پیغمبر پر یہ واجب اور فرض ہے کہ وہ ہر شخص کو یہ ہدایت پر لائے بلکہ ہدایت کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ ہے پیغمبر کا کام نصیحت کرنا ہے اور صحیح راہ کا بتادینا ہے باقی راہ پر لگا دینا یہ حضرت حق تعالیٰ کی شان اور ان کا کام ہے اور جب بات یہ ہے کہ ہدایت خداوند کریم کے قبضے میں ہے تو پھر حسن سلوک اور نفلی خیرات سے کافروں کو محروم کرنا یہ کوئی صحیح جذبہ نہیں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جس طرح انصار یا بعض مسلمان کافروں کو صدقہ دینا پسند نہیں کرتے تھے اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی منع فرما دیا تھا کہ چونکہ اب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اس لئے صرف مسلمانوں ہی کو خیرات دی جائے ان دونوں روایتوں کو ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے۔
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب خیرات کرنے سے تمہارا منشا بھی یہی ہے کہ تم کو نفع پہنچے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ صدقات و خیرات کا فائدہ تم کو ہی پہنچتا ہے تو پھر اس بحث میں کیوں پڑتے ہو کہ مسلمان کو دو اور کافر کو نہ دو ۔ باقی رہا بعض مسلمانوں کا یہ خیال کہ اس طرح کافر اسلام کا فر اسلام کی طرف راغب ہوں گے اور یہ سمجھیں گے کہ اگر ہم اسلام کے حلقہ بگوش ہوجائیں تو ہم کو بھی مالی فائدہ حاصل ہوگا اور مسلمان ہم کو بھی صدقات و خیرات سے مستفید کریں گے تو اس خیال کو چھوڑ دو یہ ہمارا کام ہے ہم جس کو چاہیں اسلام کی توفیق عطا فرمائیں تم کو جو کچھ دینا ہے تم بنی نوع انسان کی ہمدردی کا خیال رکھ کردو۔
وما تنفقون الا اتبغاء وجہ اللہ ۔ کا بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے جب تک نہ خرچ کرو گے مگر اللہ کی خوشی چاہ کر۔
بعض نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے سوا اور کسی غرض سے خرچ نہ کیا کرو بہرحال سب معنی کی گنجائش ہے وما تنفقون میں جو ما ہے وہ نفی کا بھی ہوسکتا ہے اور نہی کا بھی ہوسکتا ہے اور وما تنفقو امن خیر کی قید بھی بن سکتا ہے۔
جیسا کہ شاہ صاحب نے اختیار کیا ہے یعنی جو کچھ تم خیرات کرو گے سو اپنے ہی بھلے کو کرو گے بشرطیکہ تم بجز اللہ کی رضا جوئی کے اور کسی غرض کے لئے خرچ نہ کرو۔ (واللہ اعلم)
آیت میں جننفقات کا ذکر فرمایا وہ نفلی صدقات ہیں اس آیت میں زکوۃ کا حکم نہیں ہے جس طرح کافروں کی حالت مختلف ہے اسی طرح ان کے احکام بھی مختلف ہیں۔ مثلاً جو کافر عربی ہو اسے کسی قسم کا صدقہ خواہ فرض ہو یا نفل دینا جائز نہیں ا لبتہ جو کافر ذمی ہوں ان کو زکوۃ اور عشر کے علاوہ دوسرے صدقات دینے جائز ہیں خواہ وہ دوسرے صدقات واجبہ ہوں جیسے صدقہ فطریانافلہ ہوں جیسے عام صدقہ یہ حنفیہ کا مسلک ہے۔
بعض علماء کا قول ہے لو انفقت علے شرخلق اللہ لکان لک ثواب نفق تک یعنی اگر تو بد ترین خلق پر بھی خیرات کرے گا تو اس کا بھی تجھ کو ثواب عطا کیا جائے گا۔
بعض لوگوں نے حدیث لایا کل طعامک الاتقے تقی سے ممانعت پر استدلال کیا ہے حالانکہ حدیث میں جس طعام کی پرہیز گاروں کے ساتھ تخصیص کی گئی ہے وہ دعوت کا کھانا ہے اور کافر کو جس طعام کے دینے کی اجازت ہے وہ حاجت کا کھانا ہے یعنی اپنی دعوت پر بلائو اور گھر پر دعوت کرو تو نیک لوگوں کی کرو اور کوئی حاجت مند آجائے تو خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اس کو کھانا کھلا دو ورنہ اگر حدیث سے عموم لیا جائے تو فاسق مسلمان کو بھی خیراث دینا ممنوع ہوجائے گا۔ (واللہ اعلم)
اب آگے مستحقین کا تعارف کراتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ہر حاجت مند اس امر کا مستحق ہے کہ جب اس کی حاجت معلوم ہو تو اس کو پورا کردو لیکن حقیقی مستحق تمہارے صدقات و نفقات کے وہ لوگ ہیں جن کی صفتیں آگے بیان کی جاتی ہیں تم جب صدقہ دو تو ایسے ہی لوگوں کو تلاش کر کے دو اور یوں کوئی بھی ضرورت مند آجائے اور تم کو کسی حاجت مند کی حاجت کا پتہ لگ جائے تو اس کی حاجت پوری کرنے میں دریغ نہ کرو۔ (تسہیل)