Ayah 2:256ف 2 ۔ دین حق قبول کرنے میں کسی قسم کی زبردستی اور جبر و کراہ نہیں کیونکہ ہدایت کی راہ گمراہی ہے ممتاز اور نمایاں ہوچکی ہے اور اسلام کفر سے صاف طور پر الگ دکھائی دے ہا ہے ۔ لہٰذا جو شخص تمام معبودان باطلہ سے منکر ہو اور اس نے تمام طاغوتی طاقتوں کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ، تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ پکڑ لیا جس کو کسی طرح ٹوٹتا نہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کی بات کو خوب سننے والا اور ہر ایک کے قلب کی حالت کو خوب جاننے والا ہے۔ ( تیسیر)
رشد حقیقت میں تو غی کا مقابلہ ہے لیکن عام طور سے ہدایت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض اہل لغت نے رشد اور رشد میں فرق کیا ہے ۔ رشد ( بضم الاول کا تعلق تو امور دنیوی اور اخروی دونوں سے ہے اور رشد ( بفتحھا) کا تعلق صرف امور اخروی سے ہے البتہ راشد اور رشید دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
غوی کے معنی اصل میں جہل کے ہیں مگر ایسا جہل جس کا تعلق اعتقاد سے ہو۔ کبھی انسان ہر قسم کے اعتقاد سے خالی ہوتا ہے اور کبھی شے فاسد کے اعتقاد میں مبتلا ہوتا ہے اس دوسری قسم کو غی کہتے ہیں ۔ بعض نے کہا بد اعتقادی کے باعث جو اعمال کرتا ہے ایسے جاہل کو غوری کہتے ہیں اس لئے اس جہل کو غی کہا جاتا ہے جو اعمال میں ہو عام طور سے غی کا ترجمہ گمراہ کیا جاتا ہے۔
طاغوت کے معنی ہیں نافرمانی میں حد سے تجاوز کر جانے والا ہر وہ باطل معبود جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے اور خدا کے سوا اس کو معبود بنایا جائے کاہن اور ساحر اور شیطان اور ہر سرکش و مردود جن اور گمراہی کا سردار ، مفرد اوجمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے کبھی جمع کے لیء طواغیت بھی بولتے ہیں۔
عروہ اس شے کو کہتے ہیں جس کا سہارا پکڑا جائے اور سہارے کے طور پر اسی شے کو مضبوط پکڑ لیا جائے یا کپڑ کر لٹک جائے ۔ خواہ رسی ہو۔ لوے کی زنجیر ہو یا کوئی جگہ ہو یا کوئی حلقہ اور کڑا ہو۔ غرض کسی شے سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ ہوکر خطرے سے بچ جائے۔
اس آیت کے بارے میں مفسرین کے تقریباً سات قول ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ عرب کی بعض عورتیں جن کے بچے جیا نہیں کرتے تھے وہ اس قسم کی منت مان لیا کرتی تھیں کہ اگر میرا بچہ جی جائے گا تو میں اس کو یہودی یا نصرانی بنا دوں گی ۔ چناچہ انصاری کے بعض بنو نضیر کے ہاں رہتے تھے اور انہوں نے یہودی مذہب اختیار کرلیا تھا۔ جب اسلام آیا اور بنو نضیر جلا وطن کئے گئے تو ان یہودی بچوں کے ماں باپ نے چاہا کہ ان کو زبردستی مسلمان کرلیا جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حصین نامی ایک انصاری کے دو بچے نصرانی تھے اور دو مسلمان تھے حصین نے یہ چاہا کہ دونوں نصرانی بچوں کو زبردستی مسلمان بنا لیا جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یہ دونوں لڑکے چند نصرانی سوداگروں کے کہنے سننے سے نصرانی ہوگئے تھے ۔ یہ سوداگر کشمکش لا کر مدینہ میں فروخت کیا کرتے تھے۔
حضرت عمر ؓ کا بھی ایک واقعہ ہے کہ ان کا ایک غلام تھا جس کا نام اسبق تھا جس کا نام اسبق تھا وہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائے لیکن وہ آیت پڑھ کر فرمایا کرتے تھے دین میں اکراہ نہیں ہے میں زبردستی نہیں کرسکتا ، البتہ یہ مسلمان ہوجائے تو میں اس سے بعض امور مسلمین میں مدد حاصل کروں ۔
بہر حال ! شان نزول کچھ بھی ہو آیت کا مطلب یہ ہے کہ دین حق کے قبول ہونے میں حقیقتاً کوئی جبر و کراہ نہیں کیونکہ کراہ تو جب ہو کہ کسی چیز کی خوبی واضح اور ظاہر نہ ہو ۔ اسلام تو ایسی چیز ہے جس کی صداقت دلائل طاطعہ اور براہین قاطعہ سے واضح ہے اور رشد یعنی اسلام غی یعنی کفر سے ممتاز ہوچکا ہے لہٰذا جبر و کراہ کی ضرورت نہیں۔
ابن کثیر نے کہا یہاں نفی معنی میں نہی کے ہے اور مطلب یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے میں جبر و کراہ سے کام نہ لو بلکہ لوگوں کو اپنی رغبت اور شوق سے قبول کرنے دو ، لیکن ہمارا ترجمہ ابن کثیر کے منافی نہیں ہے کیونکہ اکراہ کی نفی کو اکراہ کی نہی لازم ہے۔
علامہ زمحشری کا قول یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو مسلمان کردیتا لیکن دین میں اکراہ کا حکم نہیں اس لئے وہ مجبور کرے کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بناتا۔
ولو شاء ربک لا من من نے الارض کلہم جمعیا ً ۔ یعنی اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو وہ تمام لوگ جو روئے زمین پر بستے ہیں ایمان لے آتے۔
خلاصہ یہ کہ دین حق کو قبول کرنے میں فی نفسہ تو کوئی اکراہ نہیں ہے ، باقی مرتد یا جربی یا جزیرہ العرب کے اصنام پرست وغیرہ کے جو احکام ہیں وہ دوسرے سبب سے ہیں رہا جزا اور حفاظتی ٹیکس تو اس کا تعلق بھی اسلامی اقتدار اور برتری سے ہے بلکہ جزء تع اور اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں اکراہ نہیں ہے اگر اسلام میں زبردستی ہوتی اور ہر شخص کو مجبور کر کے مسلمان بنانا ضروری ہوتا تو کسی کافر کو اسکے کفر پر باقی رہنے کی اجازت ہی کیوں دی جاتی خواہ جزیہ ادا کرنے ہی کی صورت میں ہو اور اسلامی اقتدار تسلیم کرنے ہی کی حالت میں ہو۔ طاغوت کے ساتھ کفر کرنے کو ایمان باللہ سے مقدم فرمایا اس لئے کہ جب تک خصائل رذیلہ سے پاک نہ ہو اور میل کچیل دور نہ کیا جائے اس وقت تک خصائل حمیدہ اور زیب وزینت کی گنجائش نہیں ہوتی۔
لہٰذا ایمان باللہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے عقائد باطلہ اور شیطانی قوتوں کا انکار کیا جائے۔ ان سب امور سے توبہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ جو وحدہٗ لا شریک ہے اس پر ایمان لایا جائے اور اس کے تمام احکام کو بجا لانے کی سعی کی جائے جو شخص طاغوت کا کافر اور اللہ کا مومن ہوگا وہ شخص ایسا ہے جس کی تمثیل آگے بتائی ہے کہ اس نے ایک ایسا مضبوط کڑا پکڑلیا اور اس نے ایک ایسی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیا جو ٹوٹنے اور چوٹنے والی نہیں۔
انفعام کے معنی انقطاع کے ہیں اور استمساک کے معنی ہیں کسی چیز کو خوب مضبوط پکڑنا۔ ہر مخلص مسلمان جو ماسوی اللہ سے منقطع ہو کر اسلام کو اختیار کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جس نے کسی مضبوط چیز کو خوب مضبوطی سے پکڑ رکھا ہو اور گرنے کے خطرے سے محفوظ ہو۔
لہٰذا اسلام میں کسی بطلان اور ہلاک کا اندیشہ نہیں ہاں یہ دوسری بات ہے کہ کوئی بدقسمت خود اسی رسی کو چھوڑ دے اور ہلاکت میں جا پڑے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جہاد کرنا یہ نہیں کہ زور سے اپنا دعویٰ قبول کرواتے ہیں بلکہ جس کا م کو سب نیک کہتے ہیں اور کرتے ہیں وہی کرواتے ہیں۔ ( موضح القرآن) اب آگے اہل ایمان کی تعریف اور اصحاب طاغوت کی مذمت ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:257ف 3 اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ساتھی اور معاون و مدد گار ہے جو ایمان لائے ان کو کفر کی تاریکیوں میں سے ایمان کی روشنی کی طرف نکال لاتا ہے اور جو لوگ کافرانہ روش رکھتے ہیں اور اہل کفر ہیں ان کے دوست شیاطین ہیں خواہ وہ جن ہوں یا انسان ہوں ۔ یہ شیاطین ان کو ایمان کی روشنی سے کفر کی تاریکیوں کی جانب نکالتے اور بچاتے ہیں ، لہٰذا ایسے لوگ جو اسلام کو چھوڑ کر کفر کو اختیار کریں اصحاب نار اور اہل جہنم ہیں یہ لوگ اس دوزخ کی آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ( تیسیر)
ولی کے معنی قریب کے ہیں ۔ یہ قرب کبھی با اعتبار محبت کے ہوتا ہے اور کبھی با اعتبار نصرت اور مدد کے ہوتا ہے اس لئے اس کے بہت سے معنی کئے جاتے ہیں دوست ، ہمدرد ، کار ساز، مدد گار ، سرپرست ، خیر خواہ وغیرہ۔
ہم نے محبت و نصرت دونوں کے لحاظ سے ساتھی اور معاون کردیا ہے۔ اخراج کا مطلب یہ ہے کہ شکوک و شبہات اور وساوس و خطرات سے اہل ایمان کو محفوظ رکھتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ کفر سے بچا کر انہیں ایمان کی طرف نکال لاتا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ نور ایمان سے بڑھا کر نور ایقان تک پہنچاتا ہے ۔ اور نور ایقان سے بڑھا کر عین الیقین کے نور تک پہنچاتا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جس کی قسمت میں ایمان کے نور سے منور ہونا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ ہدایت کا اہل ہے اسے کفر کی تاریکی سے بچا کر ایمان کی روشنی کی جانب لے آتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ایک شبہ کی بنا پر لوگوں نے مختلف جواب دینے کی کوشش کی ہے اور اسی وجہ سے کئی طور پر لفظ اخراج کا مطلب بیان کیا گیا ہے اور وہ شبہ یہ ہے کہ اخراج کا تقاضہ یہ ہے کہ پہلے سے کوئی شخص داخل ہو پھر اس کو نکالا جائے تو جو لوگ اہل ایمان ہیں وہ کفر میں کب داخل ہیں جو ان کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے ۔ صاحب روح المعانی نے اس شبہ کا جواب یہ دیا ہے کہ اخراج کے معنی روکنے کے ہیں ۔ اخراج کے لئے یہ ضروری نہیں کہ داخل ہونے کے بعد اخراج متحقق ہو۔
لہٰذا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو کفر کی تاریکیوں سے روکتا اور بچاتا ہے فقیر کے نزدیک یہ تمام تکلفات ہیں ۔ صحیح بات یہ ہے کہ اہل ایمان کو حضرت حق تعالیٰ کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہے اور اس حمایت سے جو اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں ان کو اخراج سے تعبیر فرمایا ہے اور چونکہ اہل کفر کے رفیق شیاطین اور گمراہ کرنے والے لوگ ہوا کرتے ہیں۔
لہٰذا ان بدبختوں کی دوستی سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں ان کو بھی اخراج سے تعبیر فرما دیا ہے۔ اہل ایمان نور ہدایت کی طرف بڑھتے ہیں اور اہل کفر سرکشی اور طغیانی کی تاریکیوں میں گھستے چلے جاتے ہیں ۔ طاغوت کی طرف اخراج کی نسبت مجازی ہے ، چونکہ طاغوت کافروں کے کفر کا سبب ہیں اس لئے ان کی طرف اخراج کی نسبت کردی ہے اسی طرح ان کو اولیاء کہنا بھی مجازاً ہے وہ کافروں کے اولیاء نہیں بلکہ وہ تو ان کے دشمن اور ان کو جہنم میں لے جانے کے سبب ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جہاد ہے کافروں کی ضد توڑنے کو اور ہدایت اللہ کرتا ہے جس کی قسمت میں رکھی ہے ان کو شبہ آیا تو ساتھ ہی خبردار کردیا ۔ ( موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو تقریر فرمائی ہے وہ مختصر اور نہایت عمدہ ہے اور یہ وہ معنی ہیں جن کو ہم نے تسہیل میں ابتداء ً اختیار کیا ہے یعنی شکوک و شبہات وغیرہ سے اہل ایمان کو محفوظ رکھتا ہے۔ ( واللہ اعلم بالصواب)
اب آگے انہی معاملات مذکور کے متعلق اشخاص کے تین قصے مذکور ہیں۔ ( تسہیل)
Ayah 2:258ف 1 اے نبی کیا آپ کو اس نا سپاس شخص کا واقعہ معلوم نہیں ہوا اور آپ نے اس کا قصہ ملاحظہ نہیں فرمایا جس نے اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکومت اور سلطنت عطا فرمائی تھی ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا اور مجادلہ کیا تھا یہ جھگڑا اس وقت پیش آیا جبکہ وجود باری کے سلسلے میں اس کا سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا پروردگار ایسا ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اس پر نہ ناسپاس شخص بولا بھی جلاتا اور مارتا ہو۔
یہ سن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بیوقوف اور موٹی عقل کے انسان سے فرمایا اچھا اللہ تعالیٰ آفتاب کو روزہ مشرق سے نکالا کرتا ہے تو کسی دن مغرب سے نکال کرلے آ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ بات سن کر وہ کافر وناسپاس مبہوت و متحیر رہ گیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ وہ ایسے ناانصاف اور بےجا روش اختیار کرنے والوں کی کسی طرح رہنمائی نہیں فرماتا۔ ( تیسیر)
کہا جاتا ہے کہ یہ بادشاہ نمرود بن کنعان بن سام بن نوح تھا جس کی سلطنت بابل اور اطراف بابل میں پھیلی ہوئی تھی یہ بادشاہ بڑا متکبر تھا اور اپنی خدائی کا مدعی تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسی بادشاہ کے عہد میں مبعوث فرمایا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بت شکنی کے بعد یا کسی اور موقعہ پر اس بادشاہ سے م کاملہ ہوگیا کہتے ہیں انہوں نے اس کو سجدہ نہ کیا جب اس نے اعتراض کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو سجدہ کرتا ہوں ۔
اس پر گفتگو بڑھ گئی اس نالائق نے اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ نے اسکو سلطنت عطا کی تھی بجائے شکر اور احسان ماننے کے معاندانہ روش اختیار کی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے حق تعالیٰ کے وجود کی دلیل طلب کی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا رب جلاتا اور مارتا ہے یعنی استدلال کا وہ طریقہ اختیار کیا جس کو خواص الشی علی وجو وہ کہتے ہیں۔
مطلب یہ تھا کہ اجسام و اجساد کو زندگی عطا کرنا اور ان کی حیات کو سلب کرنا میرے پروردگار کی صفات کے خواص میں سے ہے اور جب تابع ثابت ہے تو متبوع بھی ثابت ہے ، ورنہ لازم آئے گا کہ شی موجود نہ ہو اور اس کی صفت کے خواص موجود ہوجائیں نمرود نے اس استدلال پر ایک احمقانہ نقص وارد کردیا اور کہا میں بھی جلاتا اور مارتاہوں ، یعنی ان خواص کو اپنے لئے ثابت کیا اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ یہ بیوقوف جلانے اور مارنے کے معنی ہی نہیں سمجھاجلانے کے یہ معنی نہیں کہ کسی زندہ کو زندہ چھوڑ دے اور کسی زندہ کو قتل کر دے اور اس کی جان نکل جائے جیسا کہ اس احمق نے یہ فعل کر کے بھی دکھایا کہ دو شخصوں کو بلایا ایک واجب القتل کو معاف کردیا اور ایک بےگناہ کو قتل کردیا ، حالانکہ زندگی عطا کرنے اور مارنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی بےجان کو جان عطا فرمائے اور کسی جاندار کی جان اپنے اختیار سے نکالے یہ نہیں کہ ا س کی گردن جدا کر دے اور وہ مرجائے اور گردن جدا کرنے کے بعد اس کو زندہ بھی رکھناچا ہے تو زندہ نہ رکھ سکے۔
غرض حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دیکھ کر جلانے اور مارنے کی حقیقت کو تو یہ سمجھ نہیں سکتا ایک اور جواب دیا کہ اچھا اللہ تعالیٰ آفتاب کو مشرق سے طلوع کرتا ہے تو اس کو مغرب سے نکال کر دکھا اس پر وہ کافر پھونچکا ہو کر رہ گیا ۔
آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کے ظالموں اور نا انصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ، ہم نے اس موقع پر مختصر خلاصہ کردیا ہے ورنہ اس موقع پر مفسرین نے جو مباحث کئے ہیں وہ بہت طویل اور عجیب و غریب ہیں اگر کسی صاحب کو ان تمام مباحث کے ملاحظہ کرنے کا شوق ہو تو وہ تفسیر کبیر اور روح المعانی کا مطالعہ کریں۔
انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے دلائل سیدھے سادھے اور عام موشگافیوں سے بالا تر ہوتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ربی الذی یحییٰ ویمیت دلیل ہو جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ مثال ہو جیسا کہ بیضاوی نے اختیار کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ نمرود اس امر کا مدعی ہو کہ میں وہ سب کچھ کرسکتا ہوں جو خدا کرسکتا ہے ۔ اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نقض کے طورپر یہ واجب دیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نمرود خدا کا منکر نہ ہو بلکہ مشرک اور کواکب پرست ہو ، اگر یہ صورت ہو تو اب ساری بحث کا رخ دوسرا ہوگا ۔ اور یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ وہ فلک الافلاک کی حرکت کو فاعل مختار سمجھتا ہو اور اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کے سامنے آفتاب کا ذکر ہو ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا استدلال سے منشا یہ ہو کہ کارخانہ حیات و ممات کا تمام نظم میرے پروردگار کے اختیار میں ہے ۔ احیا اور امانت صرف اسی کے قبضہ میں ہے اس بیوقوف نے استدلال کے صغری پر نقض پیش کردیا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس نقض پر منع وارد کیا کہ اگر تو ایسا کرسکتا ہے تو اچھا ۔ آفتاب روز شام کو مرتا اور صبح کو زندہ ہوتا ہے ۔ آفتاب کے غروب کو مرنا اور طلوع کو زندہ ہونا محاور ہے۔
حدیث میں الشمس حیۃ آتا ہے لہٰذا دلیل سے عدول نہ ہوا بلکہ زندہ کرنے کا ایک اور مطالبہ پیش کردیا کہ اچھا اگر تیرا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ تو بھی احیا اور امانت کا مالک ہے تو آفتاب کو مرتے ہی زندہ کر دے جس وقت آفتاب مر رہاہو اور مغرب کے افق میں دفن ہو رہا ہو تو اسی وقت اس کو زندہ کر کے واپس لے آ اس پر وہ مبہوت ہوگیا میں نے شاید اپنی دوسری تقریر سیرت میں اس پر مفصل تبرہ کیا ہے۔
بہر حال اوپر کی آیت میں مومنوں کا ولی اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو فرمایا تھا اور کافروں کا ولی مجازاً طاعوت کو فرما دیا تھا۔ دونوں کا نتیجہ ظاہرہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی سرپرسی اور اعانت چوں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حاصل تھی ۔ وہ کامیاب ہوئے اور طاغوت کے ہمدرد اور پیرو رسوا اور ذلیل ہوئے اور نمرود ایسا مبہوت ہوا کہ اس کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ ابراہیم تم پہ کام اللہ تعالیٰ سے کرا دو کہ وہ آفتاب کو مغرب سے طلوع کر دے اس کے دل میں غالباً یہ ڈر بیٹھ گیا کہ اگر میں نے ایسا کہا تو یہ پیغمبر ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بات ہوجائے اور اگر کہیں آفتاب مغرب سے نکل آیا تو ابھی تو صرف سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگوں میں بےعزتی ہوئی ہے ۔ پھر عوام میں بھی میری ہوا کر کر ہوجائے گی۔
شاید واللہ لا یھدی القوم الظلمین میں اسی جانب اشارہ ہو کہ اس قسم کے لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی ۔ یہ ہدایت خواہ استدلال کی ہو یا یہ ہدایت اسلام کی ہو یا یہ ہدایت نجات کے طریقہ کی ہو یا قیامت میں جنت کی راہ مراد ہو تمام احتمالات ہیں۔
اس لئے ہم نے تیسیر میں عرض کیا ہے کہ کسی طرح رہنمائی نہیں فرماتا کیونکہ یہ وہ بدقسمت ہیں جو حجت قائم ہوجانے اور دلیل ظاہر ہوجانے بلکہ لا جواب ہوجانے کے بعد بھی قبول حق کا ارادہ نہیں کرتے اور حضر ت حق کا دستور یہ ہے کہ جب کوئی بندہ قبول حق کا ارادہ کرتا ہے تو ہو ہدایت کو پیدا کردیتے ہیں۔
بعض حضرات نے ربہ کی ضمیر نمرود کی طرف لوٹائی ہے لیکن اکثر مفسرین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کو ضمیر کا مرجع قرار دیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ، ایک بادشاہ تھا وہ اپنے تئیں سجدہ کرواتا تھا۔ سلطنت کے غرور سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو سجدہ نہ کیا ۔ اس نے پوچھا، انہوں نے کہا کہ میں اپنے رب ہی کو سجدہ کرتا ہوں ۔ اس نے کہا رب تو میں ہوں ۔ انہوں نے کہا میں رب حاکم کو نہیں کہتا رب وہ ہے جو جلادے اور مارے اس نے دو قیدی منگائے جس کو جلانا پہنچتا تھا قتل کر ڈالا اور جس کو مارنا پہنچنا تھا چھوڑ دیا ۔ تب انہوں نے آفتاب کی دلیل سے لا جواب کیا ۔ ( موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کا رجحات بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات دلیل کے طور پر فرمائی تھی لیکن جب وہ نہ سمجھا اور یہ معلوم ہوگیا کہ یہ بہت موٹی عقل کا انسان ہے تو انہوں نے دوسرا جواب دے کر اس کو لا جواب کردیا اور حضرت حق تعالیٰ کے وجود یا ا س کی وحدانیت کو ثابت کردیا گیا جو اصل مدعا اور مطلوب تھا۔
یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے قریب آفتاب مغر ب سے طلوع ہوگا اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ خلیل (علیہ السلام) کے محاجہ میں اس کا تذکرہ آیا تھا اور حضرت خلیل نے نمرود سے فرمایا تھا کہ تو آفتاب کو مغرب سے نکال کردکھا۔ ( واللہ اعلم)
اب آگے ایک اور شخص کا ذکر فرماتے ہیں جس کے ذکر سے قیامت کے دن قبروں سے مردوں کا زندہ ہونا اور بعث بعد الموت کا مسئلہ واضح ہوتا ہے اور توحید و رسالت کے ساتھ اس مسئلے کو خصوصی تعلق ہے اور اعتقادی مسائل میں نہایت اہم مسئلہ ہے۔ جس میں تمام دنیا کے کافر ایک طرف ہیں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور ان کے متبعین ایک طرف ہیں۔ ( تسہیل)
Ayah 2:259ف 1 ۔ یا آپ نے اسی طرح اس واقعہ کو ملاحظہ نہیں کیا جو اس شخص کو پیش آیا جس کا ایک بستی پر ایسی حالت میں گزر ہوا کہ وہ بستی اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی یعنی برباد اور ویران ہوچکی تھی پہلے مکانات کی چھتیں گریں پھر چھتوں پر دیواریں گرپڑیں اس بستی کے رہنے والے سب مرگئے اور وہ بالکل برباد ہوگئی اس شخص نے بستی کو اس حالت میں دیکھ کر کہا اللہ تعالیٰ اس بستی کی موت اور اس کی ویرانی کے بعد اس کو کس کیفیت سے زندہ کرے گا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو پورے سو برس مردہ رکھا اور سو سال کے بعد پھر اس کو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا اور اس سے دریافت کیا بھلا تو اس حالت میں کتنے دن رہا ہوگا اور تجھ پر کتنی مدت گزری ہوگی اس نے جواب دیا کہ میں اس حالت میں ایک دن یا ایک دن سے بھی کچھ کم رہا ہوں گا۔
تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں بلکہ تو اس حال میں سو سال رہا ہے سو اب تو اپنے کھانے پینے کے سامان کو دیکھ لے کہ اس میں کوئی تغیر نہیں ہوا اور وہ جوں کا توں رکھا ہے اور ذرا نہیں سڑا گلا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ کر اس کی کیا حالت ہوگئی اور ہم نے یہ کام اس لئے کیا ہے تا کہ تجھ کو لوگوں کے لئے اپنی قدرت کی ایک نشانی اور نظیر بنائیں اور تو اب اپنے گدھے کی ہڈیوں کی طرف بھی دیکھ کہ ہم ان ہڈیوں کو کس طرح جوڑتے ہیں اور ابھار کر ترکیب دیتے ہیں ۔ پھر ان ہڈیوں پر کس طرح گوشت پہناتے اور چڑھاتے ہیں پھر جب اس پر یہ تمام امور ظاہر ہوگئے یعنی اپنا زندہ ہونا اور سو برس تک کھانے اور پینے کی اشیاء کا باقی رہنا اور گدھے کا گل سڑ کردو بارہ زندہ ہونا تو اس شخص نے کہا کہ میں یقین رکھتا ہوں اور خوب جانتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
حضرات مفسرین نے او کالذی کی مختلف ترکیبیں کی ہیں اور پہلی آیت کی طرح اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اے نبی کیا آپ کو اس جیسے آدمی کا حال معلوم نہیں ہوا جو ایک بستی پر گزرا تھا۔ یہاں تخصیص کی غرض سے حرف تشبیہ بڑھا دیا ہے کیونکہ دوبارہ زندہ کرنے کی کیفیت سے بیشمار لوگ بیخبر بلکہ دوبارہ زندہ ہونے کے منکر ہیں اور ہوسکتا ہے کہ کاف تشبیہ زائد ہو اور مطلب یہ ہو۔
اے نبی کیا آپ نے اس شخص کو یا اس شخص کے واقعہ کو نہیں دیکھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بجائے الفاظ کے معنی پر عطف ہو اور عطف یہ ہو کہ اے نبی ! آپ نے اس جیسے آدمی کا حال معلوم نہیں کیا جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا یا اس جیسے آدمی کا حال کا آپ کو علم نہیں ہوا جو ایک بستی پر گزرا۔
حضرت علی ؓ ، ابن عباس ؓ ، حسن ؓ قتادہ وغیرہم کا قول ہے کہ یہ صاحب حضرت عزیر ؓ بن شرخیا تھے اس قول کو ابن کثیر نے مشہور کہا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ حضرت خضر (علیہ السلام) ہیں۔
بستی سے مراد یا تو بیت المقدس ہے یا وہ بستی ہے جس کا ذکر ابھی ہوچکا ہے یعنی جس سے ہزاروں آدمی موت کے خوف سے نکل گئے تھے یا کوئی اور گائوں ہو ۔ بہر حال حضرت عزیر (علیہ السلام) اثناء سفر میں جب اس ویران شدہ بستی پر گزرے تو اس کو اس حالت میں دیکھا کہ لوگ بھاگ گئے سب مرکھپ گئے سارے مکانوں کی چھتیں گرگئیں اور چھتوں پر دیواریں آپڑیں اس ویران اور تباہ شدہ بستی کو دیکھ کر یہ خیال آیا کہ اس ویران آبادی کو اللہ تعالیٰ دوبارہ کس طرح زندہ کرے گا یہ زندگی یا تو قیامت کی زندگی مراد ہوگی یا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بستی پھر کس طرح آباد ہوگی اور یہ بات نہیں کہ ان کو قیامت کی زندگی پر یقین نہیں تھا بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ زندہ ہونے کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں نہ معلوم حضرت حق تعالیٰ کون سی صورت اختیار کریں گے کیونکہ وہ ایک کام کو کئی طرح کرسکتے ہیں اور اگر بیت المقدس کی آبادی مراد ہو تب بھی یہ ایک عجیب امر تھا کہ ایک بستی بالکل ویران اور تباہ ہوچکی لوگ سب مرچکے عمارتیں سب منہدم ہو چکیں اب اللہ تعالیٰ دوبارہ اس کو آباد کرنے کا کیا طریقہ اختیار فرمائیں گے اور یہ بستی اجڑے پیچھے دوبارہ کیوں کر آباد ہوگی اس تقدیر پر بستی کے لوگوں کی زندگی کا سوال نہیں ہوگا بلکہ خود بستی کے دوبارہ تعمیر ہونے کا سوال ہوگا۔
چونکہ علماء نے دو قول نقل کئے ہیں اور دونوں ہی باتوں کی گنجائش ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ بستی کے مرنے والے باشندوں کی زندگی کا سوال ہو اور قیامت میں ان کے زندہ ہونے کی کیفیت معلوم کرنا چاہتے ہوں اور ہوسکتا ہے کہ خود بستی کی ویرانی پر تعجب ہوا ہو اور اس کے دوبارہ آمادہ ہونے کی کیفیت معلوم کرنا چاہتے ہوں۔
بہر حال جب حضرت عزیر (علیہ السلام) اس ویران شدہ بستی پر سفر کرتے ہوئے گزرے تو یہ ایک گدھے پر سوار تھے کچھ کھانے اور پینے کا سامان ان کے ساتھ تھا ، بستی کو دیکھ کر یہ خیال ہوا کہ دشمنوں نے اس بستی کو بالکل تخت و تاراج کردیا ۔ اب یہ کس طرح آباد ہوگی۔
اس فرمانے کے بعد وہاں انہوں نے قیام کیا ، نیند آگئی سونے کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی جان قبض کرلی جس وقت وہ سوئے اس وقت چاشت کا وقت تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے جب ان کو زندہ کیا اس وقت کچھ دن باقی تھا۔ وہ یہ سمجھے کہ اگر کل سویا تھا تو آج ایک دن بعد آنکھ کھلی اور اگر آج ہی سویا تھا تو ایک دن سے کم ہی وقت گزراحالان کہ سو برس کے بعد زندہ کئے گئے تھے زندہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بواسطہ جبرئیل یا براہ راست ان سے سوال کیا کہ تم کتنی دیر یہاں رہے انہوں نے اپنے خیال کے موافق عرض کردیا کہ ایک دن یا ایک دن سے کم رہا۔
اس پر ارشاد ہوا تم اس حالت میں سو برس تک رہے اب قدرت کا کرشمہ دیکھو کہ تمہارا جسم صحیح سلامت رہا ۔ کھانے پینے کی چیزیں انجیر ، انگور ، انگور کا شربت وغیرہ بھی ویسا کا ویسا ہی رکھا رہا ، چونکہ کھانے پینے کی چیزوں کو جسم کے عناصر سے ایک خاص مناسبت ہے بلکہ یہی کھانا پانی ہے جو معدے میں تحلیل ہو کر جسم بن جاتا ہے یہ سب سلامت رہانہ سڑا نہ گلا نہ کسی قسم کی بدبو اور کھٹاس پیدا ہوئی اور اسی کے ساتھ اپنی سواری کے گدھے کو بھی دیکھو کہ وہ گل سڑ کر ریزہ ریزہ ہوگیا ۔ یہ کاروائی اس لئے کی گئی تا کہ ہم تجھ کو لوگوں کے لئے ایک نظیر اور ایک قدرت کا نمونہ اور نشان بنائیں اور لوگ اس امر کا یقین کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے انقلاب کا مالک ہے۔ مارنا ، جلانا ، ویران کرنا اور آباد کرنا اور تمام عالم کو ویران کردینے کے بعد مخلوق کو از سر نو پیدا کردینا یہ سب اس کی قدرت اور اختیار میں ہے چناچہ ان کے گدھے کو ان کے سامنے زندہ کردیا گیا ۔ آہستہ آہستہ ہر چیز سمٹ سمٹ کر اپنی جگہ آگئی ہڈیاں ابھر کر جمع ہوگئیں ۔ ڈھانچہ بن گیا ۔ گوشت پوست پیداہو گیا قدرت کے یہ عجائبات دیکھ کر انہوں نے بےساختہ کہا کہ میں یہ خوب جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ یعنی پہلے جو میں نے انی یحییٰ کہا تھا وہ محض احیاء کی کیفیت اور صورت معلوم کرنے کی غرض سے کہا تھا یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ہم کو کوئی شبہ تھا۔ اب آنکھ کھول کر دیکھا تو وہ بستی بھی خوب آباد تھی ، نئے نئے مکان بن چکے تھے اور جو لوگ بھاگ گئے تھے وہ پھر آ کر آباد ہوگئے تھے۔
حملہ آور بادشاہ مرچکا تھا اور اس کی فوج اور سلطنت ختم ہوچکی تھی اب حکومت دوسری تھی ۔ حضرت عزیر نے زندہ ہو کر بچوں کو بڈھا دیکھا ، لوگوں سے کہا میں عزیر ہوں لوگوں نے کہام عزیر تو کہیں مرکھپ گیا ۔ تم جھوٹ بولتے ہو مدتوں سے عزیر کا تو کہیں پتہ ہی نہیں چونکہ حضرت عزیر کو تو ریت حفظ تھی ۔ لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اگر آپ عزیر ہیں تو ہم کو توریت لکھوا دو کیونکہ ہماری توریت کو حملہ آور بادشاہ تباہ کر گیا ہے اور توریت کے قاریوں کو اس نے قتل کر ڈالا ہے اور اب ہمارے پاس توریت کا کوئی مکمل نسخہ نہیں۔
چنانچہ حضرت عزیر نے توریت کا مکمل نسخہ اپنے حافظہ سے قلم بند کرا دیا۔ تب لوگوں کو یقین آیا کہ یہ واقعی حضرت عزیر (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سو برس کے بعد زندہ کیا اور ان کے جسم کو اور ان کے کھانے پینے کو محفوظ رکھا اور ان کی سواری کے گدھے کو ان کے سامنے زندہ کیا اور جس بستی کو ویران و برباددیکھا تھا اس کو زندہ ہو کر پھر آباد اور پہلے سے زیادہ پر رونق دیکھا۔
ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ بیت المقدس کی ویرانی اور بخت نصر کے حملہ سے متعلق ہو۔ بہر حال ! اس واقعہ میں تقریباً وہ تمام امور نمایاں ہوگئے جو قیامت کے دن کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔
مثلاً مرنے کے بعد زندہ کرنا اور ایک طویل مدت کے بعد زندہ کرنا دوبارہ زندہ کرنے تک روح کا باقی رہنا بعض اجسام کا جوں کا توں رہنا اور بعض کا گل سڑ کر خاک ہوجانا ۔ خاک شدہ اجسام کو خاص کیفیت سے جمع کرنا اور اجزائے جسمیہ کو جمع کرنے اور ترتیب دینے کے بعد زندہ کردینا ۔ مرنے اور دوبارہ زندہ ہونے کی درمیانی مدت کا صحیح علم نہ ہونا ہم اوپرعرض کرچکے ہیں کہ یہ واقعہ قیامت کی زندگی کے لئے بھی نشان ہوسکتا ہے اور انقلابی واقعات کے لئے بھی دلیل بن سکتا ہے اور یہی دو تفسیریں ہیں جن کی طرف مفسرین گئے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ شخص حضرت عزیر پیغمبر تھے۔ بخت نصر ایک بادشاہ تھا کا فربنی اسرائیل پر غالب ہوا۔ شہربیت المقدس کو ویران کیا ۔ تمام لوگ بندی میں پکڑے گئے ۔ تب حضرت عزیر اس شہر پر گزرے۔ تعجب کیا کہ یہ شہر پھر کیونکر آباد ہو اسی جگہ ان کی روح قبض ہوئی سو برس کے بعد زندہ ہوئے ان کا کھانا اور پینا پاس دھرا تھا اسی طرح اور سواری کا گدھا مرکر ہڈیاں اسی شکل سے دھری تھیں وہ ان کے روبرو زندہ ہوام ۔ اس سو برس میں بنی اسرائیل قید سے خلاص اور شہر پھر آباد ہوا انہوں نے زندہ ہو کر آباد ہی دیکھا۔ ( موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کا منشاء بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ بستی کی آبادی کا دیکھنا مطلوب تھا قیامت میں مردوں کے زندہ ہونے کی کیفیت مطلوب نہ تھی ۔ لیکن جیسا کہ ہم نے عرض کیا تھا کہ دونوں باتوں کی گنجائش ہے ۔ اس لئے ہم نے تسہیل میں دونوں امر ظاہر کردیئے ۔ عرش مستف چیز کو کہتے ہیں ۔ بیل چڑھانے کی ٹیٹوں کو عرشیہ کہتے ہیں ۔ عروج جمع ہے یہاں چھتیں مراد ہیں ۔ نشتنر زمین کے ابھرے ہوئے حصے کو کہتے ہیں ۔ نشوز اٹھنا کھڑنے ہوجانا ، نافرمان عورت جو اپنے خاوند سے بغض رکھے اس کی مخالفت کرے اس کو ناشزہ کہتے ہیں ۔ یہاں گدھے کی ہڈیوں کو ابھارنا اور جمع کرنا مراد ہے یعنی ان میں روح حیات پیدا کردیتے ہیں جس سے وہ ابھرتی اور سمٹتی معلوم ہوں گی۔
لم یتسنہ کا مطلب یہ ہے کہ برسہا برس گزرنے کے باوجود کھانے پینے کی چیزیں متغیر نہیں ہوئیں اور اپنی حالت پر قائم رہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اتنی مدت اور اتنے برس نہیں گزرے۔
لم یتسنہ سنۃ یا سنھۃ سے مشتق ہے ۔ اب آگے اسی قسم کا ایک واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مذکور ہے تا کہ احیاء موتی کا مسئلہ اور صاف ہوجائے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:260ف 2 ۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ۔ اے میرے پروردگار ! مجھ کو یہ چیز دکھا دیجئے کہ آپ قیامت میں مردوں کو کس کیفیت سے زندہ کریں گے اور مرنے کے بعد تمام اجسام کو کس طرح جمع کر کے زندہ کردیں گے۔
حضرت حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے ابراہیم ! کیا تم مردوں کے زندہ ہونے پر یقین نہیں لائے انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں بیشک میں مردوں کے زندہ ہونے پر یقین رکھتا ہوں لیکن یہ گزارش اس لئے کررہا ہوں تا کہ زندہ ہونے کی کیفیت کو مشاہدہ اور معائنہ کرنے سے میرے قلب کو اطمینان اور سکون حاصل ہوجائے اور جس چیز کو علم الیقین کا مرتبہ حاصل ہے اس عین الیقن کا درجہ حاصل ہوجائے۔
حضرت حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اچھا اگر تم یہ چاہتے ہو تو چار پرندے لے لو اور پھر ان کو اپنے سے ہلا لو اور مانوس کرلو ۔ پھر ہر ایک پہاڑ پر ان پرندوں میں سے ایک ایک ٹکڑا اور ایک ایک حصہ رکھ دو اور ان کے پارچے اور ٹکڑے مختلف پہاڑوں پر رکھنے کے بعد ان پرندوں کو بلائو اور پکارو اوس پر وہ سب پرندے زندہ ہوکر تمہارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اور اس بات پر خوب یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کمال قوت وقدرت اور کمال حکمت کے مالک ہیں۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ احیاء موتی کا یقین تو حاصل ہے اور اس پر ایمان ہے کہ آپ قیامت میں تمام مرنے والوں کو زندہ کریں گے اور سب زندہ ہو کر آپ کے روبرو حاضر ہوں گے ۔ لیکن دل یہ چاہتا ہے کہ زندہ ہونے کی کیفیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تا کہ مشاہدہ سے قلب کو اطمینان حاصل ہو ، چناچہ اس پر یہ حکم دیا گیا کہ چار اڑنے والے جانور لے کر اپنے سے مانوس کرلو۔
عام مفسرین نے فصرھن کا یہی ترجمہ کیا ہے البتہ عبد اللہ بن عباس نے اس کا ترجمہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا کیا ہے یعنی ان پرندوں کو ذبح کر کے اور ان کو چاک کر کے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرلو۔
جیسا کہ لفظ جزاء سے اس معنی کو تقویت ہوتی ہے ہر پہاڑ کا مطلب یہ ہے کہ جس جس پہاڑ کو تم مناسب سمجھو اور جس جس پہاڑ پر رکھنا ممکن ہو ان پرندوں کے ٹکڑے او پارچے رکھ دو ۔ دوڑتے ہوئے آنے کا مطلب یہ ہے کہ پائوں سے چل کر آئیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اڑ کر تیرے پاس آجائیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ حضر ت خلیل کے آواز دیتے ہی سب گوشت اور پر وغیرہ اپنی اپنی جگہ آگئے اور ان میں زندگی پیدا کردی گئی اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف بھاگے ہوئے چلے آئے۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان چاروں پرندوں کے سر اپنے پاس رکھے اور ان کے ٹکڑے اور بوٹیاں مختلف پہاڑوں پر رکھ کر ان کو بلایا ۔ وہ درست ہو کر آئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے اپنے اپنے سروں سے جڑ گئے ہوسکتا ہے کہ ایسا ہوا ہو اور ہوسکتا ہے پہاڑوں پر سے پوری طرح زندہ ہو کر اپنے اپنے سروں کے ساتھ آئے ہوں۔
علامہ ابن قیم نے مدارج السالکین میں عزیز کا ترجمہ کمال قوت اور حکیم کا ترجمہ کمال حکمت کیا ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ اس بات کا یقین رکھو کہ میں کمال قوت کا مالک ہوں دنیا میں بھی مردوں کو زندہ کرسکتا ہوں ، لیکن ایسا نہیں کرتا کیونکہ میں کمال حکمت کا مالک ہوں ۔ وہی کرتا ہوں جو میری حکمت کا تقاضا ہوتا ہے اور حکیم کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوا کرتا۔
بعض حضرات نے یہاں چند باتیں بیان کی ہیں ۔ اول تو حضرت علی ؓ کا ایک قول نقل کیا ہے جو مشہور ہے لیکن اس کی صحت کا علم نہیں وہ قول یہ ہے کہ حضرت علی ؓ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر میرے سامنے سے پردے ہٹا دیئے جائیں تو میرے یقین میں کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔
حضرت علی ؓ کا مطلب یہ ہے کہ اگر دوزخ جنت میرے سامنے آجائے اور میں میدان محشر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تب بھی میرے یقین میں کوئی اضافہ ہوگا لیکن حضرت علی ؓ کے اس قول کا کوئی تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ سے نہیں ہے کہ اس پر بحث کی جائے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اگر یہ فرماتے کہ مشاہدہ سے میرا یقین بڑھ جائے گا تب کوئی بات کہی جاسکتی تھی یہاں تو محض کیفیت کا معائنہ مطلوب ہے ایمان اور یقین کا سوال تو بلی کہنے کے بعد ختم ہوگیا ۔
حضر ت علی ؓ نے یقین کی زیادتی سے انکار فرمایا نہ یہ کہ میدان حشر کا معائنہ کرنے اور تفصیلی حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد معلومات میں بھی اضافہ ہوگا یہ امر یقینی ہے کہ مثلاً شہر مکہ پر یقین رکھنے والوں کا مکہ معظمہ کی زیارت کرنے کے بعد یقین زیادہ نہیں ہوتا لیکن مکہ معظمہ کے تفصیلی حالات ضرور معلوم ہوجاتے ہیں جو اس زیارت سے پہلے معلوم نہ تھے اسی طرح سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مشاہدے سے پرندوں کے گوشت کا سمٹنا ہڈیوں کا ڈھانچہ بننا ان پر گوشت وغیرہ کا چڑھنا ۔ پروں کا گوشت پر لگنا ، پھر زندہ ہونا اور آوازدینے پر دوڑتے ہوئے چلے آنا یہ سب کیفیت ملاحظہ فرمائی جو اس منظر کے مشاہدہ کرنے سے پہلے ان کو معلوم نہ تھی ۔ مردوں کے زندہ ہونے پر کوئی بےاطمینانی نہ تھی مگر شاید یہ خیال ہوتا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تو ہر صورت سے زندہ کرنے پر قادر ہیں گمر آخر زندہ کرنے کے وقت کیا صورت اختیار فرمائیں گے اسی کی درخواست تھی اور اسی درخواست کو پورا کرنے کی غرض سے یہ امور مشاہدہ کرائے گئے کہ پہلے چار جانوروں کو پالنے اور شناخت کرنے کا حکم دیا گیا ۔ پھر ان کو ذبح کرنے اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا حکم ہوا پھر ارشاد ہوا مختلف پہاڑوں پر ان کے قطعات میں سے ایک ایک حصہ رکھ دو پھر آواز دے کر مردوں کے زندہ کرنے کی کیفیت دیکھو کہ کیونکر ہر ایک چیز سمٹ سمٹ کر ڈھانچہ تیارہوتا ہے اور پھر جب مادہ جمع ہو کر ایک شکل اختیار کرلیتا ہے تو مبدا ٔ فیاض کی جانب سے روح حیات عطا کردی جاتی ہے ۔ چناچہ ان تمام امور کو مشاہدہ کرنے کے بعد احیاء کی اس کیفیت کا علم ہوگیا جو اس سے پہلے نہ تھا، نیز اس بحث میں یہ امر بھی ملحوظ رکھناچاہئے کہ وہ یقین جو ایک پیغمبر کو حاصل تھا وہ اس یقین سے کہیں زیادہ تھا جو ایک صحابی کو میسر تھا۔
دوسری بات جو اس موقعہ پر زیر بحث ہے وہ نبی کریم ﷺ کا وہ قول ہے جو کتب احادیث میں مروی ہے یعنی نحن احق بالشک من ابراہیم حالانکہ اس جملہ کا مطلب علماء محدثین نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقابلہ میں تو ہم لوگ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم کو احیاء موتی میں شک ہوتا لیکن جب ہم کو ہی شک نہیں تو بھلا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کیونکر شک ہوسکتا ہے ۔ اس مطلب کے پیش نظر تو یہ حدیث شک کی نفی کرتی ہے ، نہ یہ کہ معاذ اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے شک کو ظاہر کرتی ہے۔
تیسری بات حضرت ابن عباس کا ایک قول ہے۔ ما فی القرآن عندی ایۃ رجی منھا
یعنی قرآن میں اس سے زیادہ کوئی آیت میرے نزدیک امید دلانے اور امید بندھا نے والی نہیں ہے۔ حالانکہ اس کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو شک تھا اور ان سے کوئی مواخذہ نہیں ہوا لہٰذا شک اور تردد بھی قابل عفو ہے اور قابل مواخذہ نہیں ہے بلکہ حضرت عبد اللہ ابن عباس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ درخواست ان کے مرتبہ خلت پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس سوال کو بھی پورا کردیا جو انہوں نے اپنی دوستی کے اعتماد پر کیا تھا اور جو عام طور سے دنیا میں کسی کو نہیں دیکھا جاتا ، اس لئے یہ آیت سب سے زیادہ اس امر میں ارجی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی بات پوری کردیتا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ نجات کے لئے تنہا ایمان کافی ہے زیادہ کرید کرنے کی ضرورت نہیں اور اس اعتبار سے یہ آیت ارجی ہے۔
بہرحال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ سوال معاذ اللہ کسی شک کی بناء پر نہ تھا بلکہ محض احوال کا معائنہ مطلوب تھا جیسا کہ لفظ کیف سے معلوم ہوتا ہے۔ چناچہ اسی روایت میں حاکم نے ایک ٹکڑا اور بھی نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے۔ فرضی من ابراہیم قولہ بلے۔
اس کے بعد اب عبد اللہ بن عباس کا مطلب بالکل صاف ہوجاتا ہے پوری روایت ابن مسیب نے اس طرح بیان کی ہے کہ ابن عباس اور ابن عمرو ایک دفعہ آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ بتائو قرآن کریم میں سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت کون سی ہے۔ اس پر عبد اللہ بن عمرو نے قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم کی آیت پڑھی ۔ تب حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا ۔ اس آیت سے بھی زیادہ ارجی اس امت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ہے۔
رب ارنی کیف تحی الموتی قال اولم تومن قال بنی ولکن لیطمئن قلبی فرضی من ابراہیم قولہ بلے۔
مطلب یہ ہے کہ دل اور زبان کا اقرار کافی ہے اور اس اقرار کے بعد کسی قسم کا وسوسہ مضر نہیں ۔ اس لئے یہ آیت اس امت کے لئے زیادہ امید بندھانے والی ہے اور اس میں رعایت زیادہ ہے۔ اس بنا پر ابن عطیہ نے حضرت عبد اللہ ابن عباس کی بالغ نظری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبد اللہ ابن عباس نے وہ بات سمجھی جس کو سمجھے سے عبد اللہ بن عمرو کا فہم حاضر رہا۔ ( واللہ اعلم بالصواب)
بعض لوگوں نے اس دور میں آیت زیر بحث کے ساتھ ایک عجیب جدت اختیار کی ہے انہوں نے ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ حکم ہوا تھا کہ چار جانور لیکر انکو اپنے سے بلا لو ۔ یہاں تک کہ جب آواز دو تو وہ تمہاری آواز پر چلے آئیں ۔ پھر ایک ایک جانور کو ایک ایک پہاڑ پر بٹھا دو اور ان کو بلائو تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔ جیسے کوئی کبوتر باز کبوتروں کو آواز دیتا ہے وہ وہ آجاتے ہیں ۔ جب یہ آواز پر لگے ہوئے پرندے آجائیں تو سمجھ لو کہ اللہ بڑ ا ہی قدرت والا بڑی حکمت والا ہے۔ اسی طرح مردے خدا کی آواز پر بھاگے چلے آئیں گے ۔
یہ ترجمہ اور تفسیر عجیب دلچسپ ہے۔ کاش قرآن کریم کے الفاظ بھی اس لغو اور مہمل تفسیر کی مساعدت کرتے ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مردوں کے آنے کی حالت معلوم کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کبوتر باز یا مرغ باز کا طریقہ بتا کر ان کو دکھا دیا ان کا سوال مردوں کو زندہ کرنے کی کیفیت سے نہ تھا۔
اعاذنا اللہ من ذلک نیز یہ کہ زندہ جانور کو پہاڑ پر بٹھانے یا چھوڑنے کے لئے ثم اجعل علی کل جبل منھن اجزا نہیں بولا جاتا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چار جانور لائے ، ایک مور ، ایک مرغ ، ایک کوا ، ایک کبوتر ان کو اپنے ساتھ ہلایا کہ پہچان رہے، پھر ذبح کیا ، ایک پہاڑ پر چاروں کے سر رکھے ایک پر پر ۔ ایک پر دھڑ ۔ ایک پر پائوں ۔ پہلے بیچ میں کھڑے ہو کر ایک کو پکارا اس کو سر اٹھ کر ہوا میں کھڑا ہوا ۔ پھر دھڑ ملا ۔ پھر پر لگے ، پھر پائوں وہ دوڑتا چلا آیا اسی طرح چاروں آئے۔
فائدہ :۔ یہ تین قصے فرمائے اس پر کہ اللہ آپ ہدایت کرنے والا ہے جس کوا ہے اگر شبہ پڑے تو ساتھ ہی جواب بھیجے۔ اب آگے پھر جہاد کا ذکر ہے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا۔ ( موضح القرآن)
بعض حضرات نے کبوتر کی جگہ بطخ کہا ہے۔ بہر حال مردوں کو زندہ کرنا اور جانوروں کو تجویز کرنا۔ پھر جانور بھی مخصوص مقرر کرنا۔ یہ سب باتیں قدرت و حکمت سے متعلق ہیں ۔ اس لئے آخر میں فرمایا۔ واعلم ان اللہ عزیز حکیم چونکہ آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت وغیرہ کا ذکر تھا اس کی مناسبت سے یہ تین قصے ذکر فرمائے۔ اب آگے وہی سابقہ مضمون بیان ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور جہاد کے لئے خرچ کرنا اور مال دینا، چونکہ انفاق فی سبیل اللہ کی صورتیں مختلف ہیں اور ان کے اجر وثواب کی حالتیں بھی مختلف ہیں اس لئے اس کو مختلف عنوان سے مسلسل بیان فرماتے ہیں ۔ ( تسہیل)
Ayah 2:261ف 3 جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان لوگوں کے خرچ کی مثال اور ان کے خیرات کیے ہوئے مالوں کی حالت ایسی ہے جیسے ایک دن کی حالت جس نے سال بالیں اگائیں ۔ یعنی اس سے سال بالیں نکلیں ہر بال میں سو سو دانے ہوئے اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے اس سات سو کی تعداد سے بھی اور بڑھا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت ، بڑا فیاض اور بڑا صاحب علم ہے۔ (تیسیر)
اوپر جو قرض حسنہ کا ذکر کیا تھا اسی کی تفصیل ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضلیت کا بیان ہے۔ فی سبیل اللہ سے مراد یا تو جہاد ہے یا ہر کار خیر میں خرچ کرنے کی فضلیت مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خلوص کے ساتھ خیرات کرتے ہیں اور ان کا مقصد ریا اور دکھاوا نہیں ہوتا ۔ ان کے خرچ کئے ہوئے مالوں کے بڑھنے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانے سے سات سو دانے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح ان کا ثواب بھی سات سو تک پہنچتا ہے۔
ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ عام طور سے ایک نیکی کی دس نیکیاں ملتی ہیں ۔ یعنی دس گنا ثواب ہوتا ہے لیکن کبھی خیرات کرنے والے کے خلوص اور اس کی مشقت کی رعایت سے ثواب سات سو گنا ہوجاتا ہے اور کبھی اس سے بھی زیادہ اور کبھی بیشمار و بےحساب ثواب عطا ہوتا ہے۔ یہی حالت زمین کی پیداوار کی ہے ۔ جیسا کہ باجرے اور جوار وغیرہ میں عام طور سے دیکھا جاتا ہے اور کبھی کبھی گیہوں میں بھی پیداوار کی یہی حالت ہوتی ہے ۔ زمین اچھی ہوا اور وقت پر پانی مل جائے تو ایک دانے سے سات سو دانے اور سات سو سے بھی زائد دانے پیدا ہوتے ہیں ۔ اسی طرح خیرات کرنے والوں کی خیرات کا حال ہے جس قدر خلوص زیادہ ہوگا اسی قدر ثواب زیادہ ہوگا ۔ ایک مفلس اپنے افلاس کے باوجود جو خیرات کرے گا اس کا اجر وثواب ایک سرماہ دار کی خیرات سے زائد ہوگا ، کیونکہ غریب آدمی کو ایک پیسہ مالک روٹی خیرات کرنی جس قدر مشکل ہے اس کے مقابلہ میں ایک دولت مند کو سو روپے دیدیئے کچھ مشکل نہیں ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ اجر کی زیادتی اور بڑھوتری خلوص اور مشقت پر موقوف ہے، چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسی بناء پر صحابہ کرام کے تھوڑے سے جو کی خیرات کو دوسروں کے پہاڑ کے برابر سونا خیرات کرنے سے زیادہ فرمایا ہے اور یہ زیادتی محض صحابہ کی خلوص اور غربت کی وجہ سے فرمائی ہے۔ واللہ یضعف لمن یشاء کا ایک مطلب تو یہ ہے جو ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں اختیار کیا ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے سات سو سے بھی ثواب بڑھا دیتا ہے اور ایک مطلب یہ بھی ہے کہ یہ سات سو کی زیادتی اس کے لئے ہوتی ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے بعض حضرات نے دوسرے معنی اختیار کئے ہیں ۔ (واللہ اعلم)
ابن مسعود ؓ کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے ایک اونٹنی معہ نکیل کے اللہ کی راہ میں دی تھی ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تجھ کو قیامت میں سات سو اونٹنیاں دی جائیں گی ۔ ہر ایک اونٹنی کے نکیل پڑی ہوئی ہوگی ۔
عمران بن حصین کی روایت میں ہے جس نے اللہ کی راہ میں کچھ دیا اور وہ خود جہاد میں شریک نہ ہوسکا ، تو اللہ تعالیٰ ہر درہم کے عوض اس کو سات سو درہم عطا فرمائے گا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ۔ واللہ یضاعف لمن یشاء
سبیل اللہ کی صورتیں مختلف ہیں اور ان کے اجر وثواب کی حالتیں بھی مختلف ہیں اس لئے اس کو مختلف عنوان سے مسلسل بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:262–263ف 1 جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ تو سائل پر جس کو دیا ہے کوئی احسان جتاتے ہیں اور نہ اس کو کوئی تکلیف دیتے ہیں تو ایسے لوگوں کو ان کے پروردگار کے ہاں ان کا ثواب ملے گا اور ان کا اجر ان کے رب کے پاس موجود ہے اور ان کو کسی قسم کا خوف پیش آئے گا اور نہ وہ کبھی غمگین اور مغموم ہوں گے سائل کو نرم ، بھلی اور مناسبت بات کہہ دینا یعنی جب دینے کو کچھ نہ ہو اور سائل کو معاف کردینا اور اس کو درگذر کردینا یہ اس صدقہ اور خیرات سے کہیں بہتر ہے جس کے پیچھے ایذا رسانی اور سائل کو تکلیف پہونچانا ہو اور اللہ تعالیٰ تمہاری خیرات سے بےنیاز اور بےپروا ہے اور نافرمانوں اور کوتاہی کرنے والوں کے ساتھ اس کا برتائو حلیمانہ ہے اور وہ بڑا تحمل والا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ بعض لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ نیک کام کرنے اور کسی خیرات دینے کے بعد احسان جتاتے ہیں اور اپنی خیرات کو بار بار دہراتے ہیں یا سائل کو جتاتے ہیں یا سائل کو قول اور فعل سے تکلیف پہونچاتے ہیں۔ مثلاً طعنہ دیتے ہیں کہ میں نے تم کو اتنا دیا اور تمہارے ساتھ ایسا سلوک کیا یا دینے کے بعد اس سے کوئی خدمت لیتے ہیں یا اور کسی برتائو سے اذیت پہنچاتے ہیں۔
غرض اسی قسم کی تمام باتیں ثواب کو نقصان پہنچاتی ہیں جو لوگ اپنی خیرات اور انفاق فی سبیل اللہ کو ایسی باتوں سے محفوظ رکھتے ہیں نہ احسان جتاتے ہیں نہ سائل کو اذیت پہونچاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے عمل کا ثواب ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور ان کے جانے پر ان کے عمل کا اجر ان کو عطا کیا جائے گا اور قیامت کے دن نہ تو ان کو خوف پیش آئے گا اور نہ گزشتہ اعمال کے متعلق وہ کبھی غمگیں ہوں گے۔
ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ خوف کا تعلق آنے والے واقعات سے ہوتا ہے اور غم کا تعلق پچھلے واقعات سے ہوتا ہے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دارین میں ہر قسم کے خوف اور غم سے محفوظ رہیں گے ہوسکتا ہے کہ آیت حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کی شان میں نازل ہوئی ہو کیونکہ یہ دونوں بزرگ ہمیشہ مجاہدین کی بڑی خدمت کیا کرتے تھے اور ہر جہاد میں اپنے مال سے حصہ لیتے تھے اور ان کے دل میں کبھی احسان جتانے یا کسی کو تکلیف پہونچانے کا خطرہ تک نہ پیدا ہوتا تھا۔
بعض علماء نے فرمایا ہے احسان جتانا نفاق کے مشابہ ہے اور ایذا رسانی ریا کے مشابہ ہے۔ بہرحال اپنے صدقات کو جو شخص من اور اذی سے محفوظ رکھے گا وہ ہر قسم کے خوف اور غم سے محفوظ رہے گا۔
حضرت عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں کہ میرے والد کہا کرتے تھے اگر کسی کو کچھ دو اور تم دیکھو کہ جب تم اس کو آتے جاتے کہیں سلام کرتے ہو تو وہ شرمندہ ہوتا ہے یا تمہارا اسلام کرنا اس پر گراں ہوتا ہے تو اس کو سلام نہ کیا کرو کبھی یہ من اور اذی میں داخل نہ ہوجائے۔
دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب نادار ہو اور دینے کو کچھ نہ ہو تو سائل کو نرم اور مناسب بات کہہ دو اور اگر سائل بدتمیزی کرے جیسا کہ آج کل سائلوں کی عام عادت ہے تو ضبط نفس سے کام لو اور اس کو در گذر کردو۔ سائل کے جواب میں مناسب و معقول بات کہہ دینا اور سائل کے برا بھلا کہنے کو معاف کردینا یہ ایسے دینے سے بدرجہا بہتر ہے کہ دیکر اس کے ساتھ کوئی ایسا برتائو کرو جو اس کی رنجیدگی اور دل آزاری کا موجب ہو۔
آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ تو خودغنی ہے وہ تمہاری خیرات کا محتاج نہیں ہے یہ دنیا دلانا تو تمہارے ہی بھلے کو ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی ذات تو بےپروا ہے اور وہ چونکہ حلیم ہے اور بڑا تحمل والا ہے اس لئے صدقات کے معاملہ میں جو لوگ بےاحتیاطی کرتے ہیں یا دیکر احسان جتاتے ہیں اور سائل کو دکھ پہنچاتے ہیں ان کی گرفت میں جلد بازی نہیں کرتا اور ان کی پکڑ نہیں کرتا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مانگنے کو نرمی سے جواب دینا اور اس کی بدخوئی پر درگزر کرنا بہتر ہے اس سے کہ دیوے پھر اس کو بار بار دبا دے یہ سمجھے کہ میں نے تو اللہ تعالیٰ کو دیا ہے اس کو کیا پرواہ ہے مگر اپنا بھلا کرتا ہوں۔ (موضح القرآن)
حدیث میں آتا ہے کلمہ طیبہ صدقہ ہے اور معروف یہ ہے کہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ بات کرے حضرت عمرو بن دینار کی روایت میں ہے کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ کوئی صدقہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حق بات سے زیادہ محبوب نہیں ہے کیا اے مخاطب تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا کہ وہ فرماتا ہے۔
قول معروف و مخفرۃ الخ چونکہ ایذا رسانی اک مفہوم عام ہے۔ احسان جتانے سے بھی سائل کو تکلیف ہوتی ہے اس لئے دوسری آیت میں صرف ایذا رسانی کا ذکر کیا اور من یعنی احسان جتانے کا ذکر نہیں فرمایا۔
اب آگے من اور اذی والے صدقہ کی ایک مثال بیان فرماتے ہیں جس سے ریا کار کی خیرات کا حال بھی معلوم ہوجائے گا اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ جو لوگ صدقہ دے کر احسان رکھتے یا خیرات لینے والے کو تکلیف پہنچاتے ہیں ان کا صدقہ باطل اور بےکار ہے۔ (تسہیل)