Ayah 2:74ف 2 پھر اس قسم کے واقعات کے بعد بھی تمہارے قلوب سخت ہی رہے اور سخت بھی ایسے جیسے وہ پتھر ہیں یا یوں سمجھو کہ پتھر سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے اور پتھروں میں تو بعض پتھر ایسے بھی ہیں کہ ان سے نہریں اور ندیاں جاری ہوتی ہیں اور انہی پتھروں میں سے بعض ایسے پتھر بھی ہیں کہ وہ پھٹ جاتے ہیں اور شق ہوجاتے ہیں پھر ان سے پانی نکلنے لگتا ہے اور انہی پتھروں میں سے بعض پتھر ایسے ہیں جو خدا کے خوف اور ڈر سے نیچے گرپڑتے ہیں اور اوپر سے لڑھک آتے ہیں اور تم لوگ جو عمل کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ غافل اور بیخبر نہیں ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اس قدر احسانات اور اس قدر معجزات و دلائل کے باوجود تمہارے قلب سخت ہوگئے۔ حالانکہ قلب میں خشوع اور نرمی، عاجزی اور احسان مندی بڑھتی لیکن شومی قسمت سے قساوت بڑھی ہم نے ابتداء سورت میں بتایا تھا کہ قساوت بھی روحانی امراض کا ایک درجہ ہے۔ سورة مائدہ میں ارشاد ہے وجعلنا قلوبھم قسیۃ یعنی ہم نے ان کے قلوب کو سخت کردیا قساوت کے معنی ہیں خشک ہوجانا اور سخت ہوجانا اور سیاہ ہوجانا یہاں قسوۃ قلب سے مراد ہے شفقت و رحمت کا قلب سے دور ہوجانا رجوع الی اللہ اور یقین و اذعان سے قلب کا خلای ہوجانا ایسے قلوب کو پتھر سے تشبیہ دی ہے بلکہ بعض امور میں پتھر سے بھی زیادہ سخت بتایا ہے اردو میں بھی یہ محاورہ مستعمل ہے سنگدل اور قسی القلب اور سخت دل اس شخص کو کہتے ہیں جو نرم دل اور شفیق نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے پتھروں کی تین قسمیں بتائی ہیں ایک وہ ہے جس سے اس قدر پانی جاری ہوتا ہے کہ دریا بن جاتا ہے دوسرے اس سے ذرا کم کہ اس سے خالی پانی جھرنے یا رسنے لگتا ہے تیسری قسم اس سے بھی کم کہ اس میں پانی تو نہیں نکلتا لیکن وہ خوف خداوندی کے باعث اوپر سے نیچے لڑھک پڑتے ہیں اور ان پر خوف و خشیت الٰہی کا یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ اوپر سے نیچے گرجاتے ہیں گویا ایک قسم کا نفع زیادہ اور دوسری قسم کا نفع کم اور تیسری قسم کا نفع کچھ نہیں۔ یعنی ان میں پانی وغیرہ کچھ نہیں جو خلق خدا کی نفع رسانی کا موجب ہوتا لیکن اس میں بھی خدا کا خوف اور ڈر تو ہے مگر بنی اسرائیل ایسے قسی القلب اور سخت دل ہیں کہ ان تینوں قسم کے پتھروں سے گئے گذرے ہیں۔ پتھروں کی یہ تینوں حالتیں ہمارے سامنے شاہد ہیں اور ان پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں جو لوگ کسی زمانے میں جمادات اور نباتات کو بےحس سمجھ کر اعتراض کیا کرتے تھے وہ بھی جمادات و نباتات کے احساسات کے قائل ہوچکے ہیں یہ ممکن ہے کہ بعض پتھر خوف و دہشت سے نہیں بلکہ برسات یا آندھی میں محض طبعاً اوپر سے نیچے گرجاتے ہوں اور لڑھ کے آتے ہوں لیکن اس سے بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ جب ان میں ایک قسم کی روح احساس موجود ہے تو وہ خدا کے خوف اور ڈر سے گرتے ہوں یا دونوں باتیں ہوں، بعض قتھر پانی اور ہوا کی طاقت سے گرجاتے ہوں اور بعض خوف الٰہی سے گرتے ہوں اس سے ہمارے مقصد کو کوئی ضرر نہیں اور یہی وہ ادراک و شعور ہے جس کو قرآن عزیز نے یا جبال اوبی معہ والطیر اور تسبح لہ السموت السبع والارض ومن فیھن اور لوانزلنا ھذا القرآن علی جبل لرأیتہ خاشعاً متصدعا من خشیۃ اللہ سے تعبیر کیا ہے۔
نبی اکر م ﷺ نے کوہ احد کے متعلق ارشاد فرمایا تھا یہ ایک پہاڑ ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں اور یہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ صحیح مسلم میں نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ فرماتے تھے ۔ میں اب تک اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو بعثت سے قبل مجھ کو سلام کیا کرتا تھا حجر اسود کا قیامت میں اپنے بوسہ دینے والوں کے حق میں شہادت دینا بھی ثابت ہے۔ غرض قرآن و احادیث میں اس قسم کی بہت سی چیزیں ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جمادات میں بھی مثل نباتات کے حس و ادراک و شعور موجود ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ قدرت کے اس فیضان سے بہرہ مند ہے۔ خواہ ہم کائنات کی قوت حسیسہ کے ادراک سے محروم اور غافل ہوں اور ہم نے ابھی تک وہ ترقی نہ کی ہو جس سے کائنات کے ہر ذرے کی قوت حسیہ کا ہم کو شعور حاصل ہو سکے۔
ابن عمر کی حدیث میں مرفوعاً آیا ہے۔ فرمایا نبی کریم ﷺ نے تم اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ اور باتیں بہت نہ کیا کرو یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ بہت باتیں کرنا قساوت قلب ہے اور سب لوگوں میں اللہ تعالیٰ سے وہی شخص دور ہوتا ہے جس کا قلب قاسی ہے۔
حضرت انس کی ایک روایت میں مرفوعاً یہ الفاظ ہیں کہ چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی ہیں۔ ایک آنکھ کا خشک ہونا یعنی آنکھ سے آنسو کا نہ نکلنا۔ دوسرے دل کی سختی، تیسرے طویل اور لمبی لمبی امیدیں اور چوتھے دنیا کی حرص اور یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کردار سے غافل نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ کہ اپنی بد اعمالیوں کی سزا بھگتنے کو تیار رہو۔ (تسہیل)
Ayahs 2:75–76ف 3 کیا اے مسلمانو ! تم اب بھی اس کی امید کرتے ہو کہ یہ یہودی تمہاری بات مان لیں گے اور تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے حلاان کہ ان میں تو کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے پھر اس کو سمجھنے کے بعد اس میں تحریف و تغیر کردیا کرتے تھے اور اس کلام کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے اور کمال یہ ہے کہ اس فعل کی برائی کو جانتے بھی تھے اور جب ان یہودیوں کے منافق لوگ اہل ایمان حضرات سے ملتے ہیں تو اپنے ایمان کا اقرار اور اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب یہ آپس میں ایک دوسرے کے پاس تنہا ہوتے ہیں اور تنہائی میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دوسرے کافر یہودی ان منافق یہودیوں سے کہتے ہیں کہ تم توریت کی وہ باتیں جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کھول رکھی ہیں، مسلمانوں کو کیوں بتا دیتے ہو۔
اس کا انجام یہ ہوگا کہ مسلمان تمہاری رب کے روبرو قیامت میں ان ہی باتوں کی وجہ سے جو تم ان کو بتاتے ہو تم پر الزام قائم کردیں گے اور تم کو خدا کے سامنے مغلوب کردیں گے کیا تم لوگ اتنی صاف بات بھی نہیں سمجھتے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ یہود کی عام احسان فراموشی اور قلبی قساوت کا ذکر کرتے ہوئے درمیان میں ان مسلمانوں کو ایک خاص انداز سے خطاب فرمایا جنہوں نے یہود سے بوجہ ان کے اہل کتاب ہونے کے بہت سی توقعات قائم کر رکھی تھیں اور ان کو مسلمان بنانے کی سعی میں سر گرم تھے۔ اس خطاب سے مقصد یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو سمجھایا جائے اور تسلی دی جائے کہ بھلا یہ لوگ کب ایمان قبول کرسکتے ہیں۔ ان کی حالت تو یہ ہے کہ یہ سمجھ بوجھ کر کلام الٰہی میں تحریف کرنے سے تو چوکتے نہیں اور تحریف سے مراد یہ ہے کہ یا تو الفاظ کو بدل دیتے ہیں یا تفسیر غلط کرتے ہیں یا دونوں قسم کی تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے نفاق کی حالت یہ ہے کہ جب تم سے ملتے ہیں تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور خوشامد کے طور پر اپنی کتاب کی بعض باتیں بھی تم سے کہہ دیتے ہیں کہ تو ریت میں نبی آخر الزمان ﷺ کے متعلق یہ آیا ہے اور قرآن کے متعلق ہماری کتاب میں یہ لکھا ہے۔ لیکن جب یہ منافق اپنے دوسرے ہم مشربوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو وہ ان کو ڈانٹتے اور دھمکاتے ہیں کہ ہم نے جو باتیں مسلمانوں سے چھپا رکھی ہیں تم وہ سب ان سے خوشامد میں کہہ دیتے ہو اور اپنی کتاب کی باتیں اور پیشین گوئیوں کا ان سے ذکر کردیتے ہو۔
اب اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب قیامت میں پروردگار کے روبرو تمہارا اور ان کا جھگڑا ہوگا تو وہ خود تم کو تمہاری باتوں سے اور تمہاری ہی کتاب سے قائل کردیں گے اور تم کو کوئی جواب بن نہ پڑے گا۔ تم اتنی صاف بات بھی نہیں سمجھتے کہ اپنا بھید کسی دشمن سے نہیں کہنا چاہئے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ وہ جو ان میں منافق تھے خوشامد کے واسطے اپنی کتاب میں سے پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی باتیں مسلمانوں کے پاس بیان کرتے اور وہ جو مخالف تھے ان کو اس پر الزام دیتے کہ اپنے علم میں سے ان کے ہاتھ سند کیوں دیتے ہو۔ (موضح القرآن)
بعض مفسرین نے اس جھگڑے اور غلبہ کا تعلق دنیا ہی میں مراد لیا ہے اور عند ربکم کے معنی تمہارے رب کے پاس سے نازل کردہ مضمون کئے ہیں ان کی تفسیر کا خلاصہ اس طرح ہے کہ تمہاری ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ مسلمان تم کو مناظرے میں مغلوب کردیں گے اور تم کو یہ کہہ کر قائل کردیں گے کہ دیکھو یہ مضمون اللہ تعالیٰ کے پاس سے تمہاری کتاب میں آیا ہے اور خدا کا یہ نازل کردہ مضمون توریت میں موجود ہے۔ مسلمانوں کو تو خبر نہیں کہ ہماری کتاب میں کیا ہے۔ جب تم ہی ان کو بتادو گے تو وہ بحث مباحثہ میں اسی بات کو لے کر تم کو قائل کردیں گے۔
اس تقریر پر آیت کا تعلق اس دنیا کے مناظروں سے ہوگا۔ آخرت سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ آگے اس بات کا جواب ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:77ف 1 کیا یہ یہود کے منافقین اور محرفین اتنی بات نہیں جانتے کہ وہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اس سب کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ (تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ اس قسم کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے یہ تدابیر اور اسکی چیز کو چھپانا تو وہاں مفید ہوتا ہے جہاں مقابلہ کسی انسان سے پڑے اور جہاد اللہ تعالیٰ کی ذات کا معاملہ ہے وہاں کوئی تدبیر اور اخفا کیا مفید ہوسکتا ہے لوگ جو کام چھپاتے ہیں مثلاً نفاق اور توریت کی تحریف وغیرہ وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو کام یہ علانیہ کرتے ہیں وہ اس کو بھی جانتا ہے تو کیا یہ یہود اتنی بات بھی نہیں جانتے پھر اگر منافقین یہود کچھ باتیں توریت کی مسلمانوں کو بتا دیتے ہیں تو یہ ان کو کیوں ملامت کرتے ہیں آگے توریت میں تحریف کرنیوالوں کی مذمت اور ان کے انجام کا ذکر فرماتے ہیں اور ان پڑھ عوام اور تعلیم یافتہ خواص دونوں کی حالت بیان کرتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:78–79ف 2 اور انہی یہود میں کچھ ایسے امی اور ناخواندہ لوگ بھی ہیں جو توریت کے علم کی تو خبر نہیں رکھتے اور کتابی علم سے ناواقف ہیں مگر انہوں نے محض سنی سنائی اور بےسند باتوں پر آرزوئیں اور امیدیں باندھ رکھی ہیں اور وہ لوگ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ محض بےبنیاد خیالات اور اندازے لگایا کرتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہوگی جو اپنے ہاتھوں سے تحریف کر کے توریت لکھتے ہیں اور لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے پاس سے یہی حکم نازل ہوا ہے اور اس تحریف اور کذب بیان سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ کچھ قلیل اور تھوڑی سی رقم وصول کرلیں۔ لہٰذا جو تحریف شدہ کتاب ان کے ہاتھوں نے لکھی ہے اس کی وجہ سے ان کو بڑی خرابی پیش آنیوالی ہے اور جو رقم اور ثمن قلیل اس کے ذریعہ کماتے اور وصول کیا کرتے تھے اس کی وجہ سے بھی بڑی ہلاکت اور خرابی ان کو پیش آنے والی ہے۔ (تیسیر)
امیون سے مراد یہود کے وام ہیں اور ہوسکتا ہے کہ عرب کے نصاریٰ یا مجوس ہوں۔ امی اصل میں اس کو کہتے ہیں جسے نہ تو لکھنا آتا ہو اور نہ وہ کسی لکھی ہوئی چیز کو صحیح طور پر پڑھ سکتا ہو اور یہ واقعہ ہے کہ ہر قوم میں کچھ پڑھے لکھے اور سمجھ دار آدمی ہوتے ہیں اور کچھ عوام اور جاہل و ناخواندہ ہوتے ہیں اور ان کی معلومات کا ذریعہ وہی پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں یہی انہی کی بات مانتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عالم اور غیر عالم مراد ہوں۔
بہرحال عوام کی حالت تو یہ تھی کہ وہ خود تو کتاب توریت کو نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ سمجھ سکتے تھے مگر چند جھوٹی اور بےسند باتوں پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے۔ مثلاً ہم نبیوں کی اولاد ہیں اور جنت ہمارا حق ہے یا جنت میں سوائے یہود و نصاریٰ کے اور کوئی نہیں جائیگا یا اگر ہم لوگ دوزخ میں گئے بھی تو صرف چند دن کے لئے جائیں گے اور چونکہ اس قسم کی باتیں محض سن سنا کر بڑوں کی تقلید میں کہا کترے تھے اس لئے پورا یقین بھی حاصل نہیں تھا اسی کو فرمایا وان ھم الایظنون کہ یہ ان پڑھ لوگ محض خیالات باندھا کرتے ہیں ان عوام اور ناخواندہ لوگوں کی حالت بیان کرنے کے بعد ان کے علماء کا حال بیان فرمایا کہ چھوٹے تو چھوٹے مگر بڑے سبحانہ اللہ ! ان کی حالت یہ تھی کہ وہ کتاب کی تحریف کر کے لکھتے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تحریف ان سے پہلے لوگوں نے کی ہو اور یہ اس تحریف شدہ کتاب کو لکھتے ہوں اور ان کو معلوم ہو کہ یہ کتاب محرف ہے بہرحال ایک طرف تحریف کرتے تھے اور دوسری طرف اس کو خدا کا کلام اور منزل من اللہ بتاتے تھے اور منشا صرف یہ ہوتا تھا کہ اس کارروائی سے کچھ پیسے حاصل کریں یعنی رشوت لیکر کتاب اللہ کی غلط تفسیر اور غلط معنی بتاتے تھے۔ جیسا آدمی دیکھا اس کو ویسا ہی مسئلہ بتادیا۔
ویل کی تفسیر میں ترمذی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنم کی ایک بہت عمیق اور گہری وادی ہے۔ دوسری آیت میں پھر دو جگہ لفظ ویل آیا ہے تو یا تو یہ پہلے لفظ ویل کی تاکید ہے اور یا اس وجہ سے کہ ان کے گناہ بھی متعدد تھے اس لئے بار بار ان کے لئے لفظ ویل استعمال کیا گیا تحریف لفظی اور معنوی کے مرتکب ہوتے تھے یعنی ایک غلط بات کو خدا کی طرف منسوب کرتے تھے اور پھر اس کے ذریعہ دنیاوی منافع اور رشوت بھی حاصل کرتے تھے جب کسی کے لئے خربای اور ہلاکت اور تباہی وغیرہ کا اظہار کرنا ہوتا ہے تو اہل عرب ویل، ویح، ویس، ویہ، ویک اور ویب وغیرہ الفاظ بولا کرتے ہیں اور ان سب لفظوں کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں غرض یہود کے عوام اور خواص کی جہالت اور دنیا طلبی کا انجام بیان کرنے کے بعد ان کے ایک اور دعویٰ کا رد فرماتے ہیں اور ان کے لغو اور بیہودہ دعویٰ کا رد فرما کر اپنے صحیح اصول اور ضابطہ کا اعلان کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو عوام کو ان کی خوشی کے موافق باتیں جوڑ کر لکھ دیتے ہیں اور نسبت کرتے ہیں طرف خدا کے اور رسول کے (موضح القرآن) (تسہیل)
Ayahs 2:80–82ف 3 اور یہودیوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کو گنتی کے چند ایام کے سوا دوزخ کی آگ چھوئیگی بھی نہیں آپ ان سے فرمائیے کیا تم نے اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ لے لیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا یا ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے یوں نہیں بلکہ تم ہمیشہ آگ میں رہو گے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ ہے کہ جس نے قصداً گناہ کا ارتکاب کیا اور گناہ کرتا رہا اور اس کے گناہوں نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا تو ایسے ہی لوگ اہل جہنم اور دوزخی ہیں اور وہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو یہ لوگ اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے ۔ (تیسیر)
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہود کا یہ خیال تھا کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار برس ہے ہر ہزار سال کے بدلے ایک دن ہم لوگ آگ میں رہیں گے اور سات دن کے بعد عذاب منقطع ہوجائیگا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہم لوگوں نے چالیس دن بچھڑے کی پرستش کی ہے بس چالیس دن آگ میں رہیں گے پھر نکال لئے جائیں گے۔
ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح خیبر کے روز یہود کو جمع کر کے دریافت کیا کہ دوزخی کون لوگ ہیں یہود نے جواب دیا کہ تھوڑے دن تو ہم لوگ رہیں گے اس کے بعد تم ہماری جگہ بھیج دیئے جائو گے حضور ﷺ نے فرمایا تم جھوٹے ہو ہم تمہاری جگہ نہ جائیں گے بلکہ تم ہی اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے۔
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک دن یہود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع تھے اور کچھ کہہ سن رہی تھی یہود نے کہا ہم لوگ تو جہنم میں صرف چند روز کے لئے جائیں گے پھر ہمارے جانشین اور لوگ ہوجائیں گے اور حضور ﷺ کی طرف اشارہ کیا آپ ؐ نے فرمایا، خدا تمہارا منہ کالا کرے ۔ ہم انشاء اللہ تمہارے قائم مقام نہ ہوں گے بلکہ تم ہی اس میں سدا رہو گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
بعض اکابر فرماتے ہیں یہود چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھے تھے اور حضرت عیسیٰ اور نبی آخر الزمان کی نبوت کے منکر تھے اور حضرت موسیٰ کی شریعت کو منسوخ نہ سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اگر ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں گئے بھی تو ایمان کی وجہ سے ہمیشہ تو اس میں رہیں گے نہیں تھوڑے دنوں میں نکل آئیں گے حالانکہ ان کے دعویٰ کی بنیاد ہی غلط ہے۔ حضرت مسیح اور نبی آخر الزماں ؐ کی نبوت کے انکار کی وجہ سے وہ کافر ہیں اور کافر کو ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے۔
بہرحال نزول کا واقعہ خواہ کچھ بھی ہو اور اسی طرح اس دعویٰ کے وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں اللہ تعالیٰ نے جو جواب دیا وہ یہ ہے کہ کیا تم نے خدا سے کوئی عہد یا وعدہ لیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا پھر اگر وعدہ نہیں ہے تو اللہ پر بغیر کسی ایسی سند اور دلیل کے جس کا تم کو علم نہیں کیوں باتیں بناتے ہو۔ امام رازی نے یہاں عہد کے معنی وعدہ کئے ہیں اس جواب کے بعد ایک اصول اور ضابطہ فرمایا کہ تم ضرور ہمیشہ کے لئے آگ میں رہو گے کیونکہ ہمیشگی کا قاعدہ یہ ہے کہ کہ کافر کے لئے ہمیشہ آگ ہے اور وہ مومن جو عمل صالح کا پابند ہے اس کے لئے ہمیشہ جنت ہے چناچہ کافر کے لئے دو باتیں فرمائیں جس نے گناہ کمایا اور اس کے گناہ نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا حتیٰ کہ کسی نیکی کا اثر ہی باقی نہ رہا اور یہ گھیرا ایسا پڑا کہ دل میں ایمان اور تصدیق بھی باقی نہ رہی تو ظاہر ہے کہ اس قسم کا احاطہ کفار ہی کے ساتھ مخصوص ہے لہٰذا اس آیت میں ان لوگوں کے لئے کوئی حجت نہیں ہے جو کبیرہ کے مرتکب پر بھی ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنے کا حکم لگاتے ہیں کیونکہ آیت میں صرف گناہ کمانا نہیں ہے بلکہ گناہ کمانے کے ساتھ اس کے گناہ تمام اطراف و جوانب سے اس کا احاطہ بھی کرلیں اور احاطہ کی جو تقریر ہم نے کی ہے اس کے بعد صرف کافر ہی رہ جاتے ہیں جو ہمیشہ عذاب میں رہیں گے اور اگر سیئہ سے شرک یا کفر مراد لیا جائے جیسا کہ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ، عکرمہ اور حسن اور حضرت ابوہریرہ اور عطا وغیر ہم کا قول ہے تو پھر مطلب صاف ہے کہ جس شخ نے شرک کا یا کفر کا ارتکاب کیا اور شرک و کفر نے اس کو اور سا کے دل کو ہر طرف سے گھیر لیا تو بس ایسے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ وہ مومن جو گنہگار ہو اور بغیر توبہ کے مرجائے تو وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر ایک نہ ایک دن جہنم سے نکل جائیگا لیکن کافر اور مشرک کو کبھی دوزخ سے نکلنا نصب نہ ہوگا ایک بات اور بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اہل جہنم کے ذکر میں تو فاولئک فرمایا اور اہل جنت کے ذکر میں بغیر فا کے اولئک فرمایا تو اس فرق میں یہ اشارہ ہے کہ شرک و کفر تو خلد و نار کا سبب واقعی ہے۔ لیکن ایمان اور عمل صالح خلد و جنت کا سبب واقعی نہیں ہے۔ بلکہ خلد و جنت محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ گھیر لیا گناہ نے یعنی گناہ کرتا ہے اور شرمندہ نہیں ہوتا۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب نے جو کچھ فرمایا ہے یہ وصف بھی کفر ہی کی علامت ہے۔ اگر یہ شبہ ہو کہ کافر بھی تو نیک کام کرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حالت کفر میں کوئی نیکی قبول نہیں۔ نیز ان کو ان کے اچھے کاموں کا بدلہ دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔ مان کان یریدالحیوۃ الدنیا و زینتھا الخ جس طرح دنیا میں کافر کو اس کے جرائم گھیر لیتے ہیں اسی طرح آخرت میں سب طرف سے اس کو جہنم گھیر لے گی۔ سورة عنکبوت میں ارشاد ہے۔ وان جھنم لمحیطہ بالکفرین عالم مثال میں کفر و شرک ہی کی شکل کا نام تو جہنم ہے اور جس کو یہاں گناہ کہا جاتا ہے اسی کا نام تو وہاں سانپ بچھو اور انگارے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:83ف 4 اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد اور قول وقرار لیا کہ تم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کی عبادت نہ کرنا اور اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور ان کی خوب خدمت کرنا اور قرابت داروں اور محتاجوں اور یتیموں کے ساتھ بھی بھلائی اور نیکی کرنا اور لوگوں سے جب کوئی بات کہنا تو نرمی اور خوش خلقی سے بھلی بات کہنا اور نماز کی پابندی رکھنا اور زکوۃ ادا کرتے رہنا، پھر تم میں سے سوائے تھوڑے آدمیوں کے اور سب اپنے قول وقرار اور عہد و پیماں سے پھرگئے اور تم تو اقرار کر کے پلٹ جانے اور پھرجانے کے عادی ہی ہو۔ (تیسیر)
یہ بہی یہود کے اسلاف کی عہد شکنیوں کا تذکرہ ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جو یہودی تھے ان کو خطاب ہو کیونکہ وہ بھی آخر ان ہی کی اولاد تھے نیز یہ کہ اس قسم کی وعدہ خلافیوں اور عہد شکنیوں میں وہ بھی مبتلا تھے۔ جو حرکات اور بےہودگیاں ان کے بزرگ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کیا کرتے تھے، وہی یہ نبی آخر الزماں اور ان کے ہمراہیوں کے ساتھ کیا کرتے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مسلمانوں کو توجہ دلانا مقصود ہو کہ ان یہودیوں کی تو یہ حالت ہے اور تم ان سے ایمان لانے کی امید کر رہے ہو عہد کا مطلب یہاں بھی وہی ہے جو ہم پہلے عرض کرچکے ہیں یہ ضروری نہیں کہ ہر بات پر اقرار نامہ تحریر کرایا جائے بلکہ ہمارا بندہ ہونا اور ان کا خالق ومالک ہونا یہی عہد ہے کہ ان کا کا محکم دینا اور ہمارا کام تعمیل کرنا ہے جب موسیٰ کو خدا کا پیغمبر اور توریت کو خدا کی کتاب تسلیم کرلیا تو اس کا ہر حکم ایک عہد ہے اور یہی معلوم ہوتا ہے کہ توریت کے بعض احکام کو اس آیت میں عہد سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ وہی باتیں ہیں جو تقریباً ہر پیغمبر کے عہد میں احکام الٰہی کی فہرست میں شامل ہی رہیں اور قرآن میں تو یہ امور بڑی تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں اس آیت میں سب سے پہلے حضرت حق کی عبادت کا حکم ہے پھر ماں باپ کی خدمت و اطاعت کا ذکر ہے ۔ اس کے بعد قرابت داروں کی بھلائی اور خیر خواہی ہے۔ پھر مساکین و تیامی کا ذکر پھر بول چال کی عام تہذیب بتائی ہے اور لوگوں کے ساتھ گفتگو کا طریقہ تعلیم فرمایا ہے۔ پھر نماز اور زکوۃ کا ذکر ہے ان تمام احکام کی پابندی پر ان سے عہد و پیماں کو یاد دلا کر ان کی عہد شکنی کو یاد دلایا ہے اور ان مخصوص لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو نبی آخر الزماں ؐ کی تشریف آوری سے قبل اپنے اپنے پیغمبروں کے حکم کی تعمیل کرتے رہے اور حضور ﷺ کی تشریف آوری کے بعد آپ پر اور آپ کے قرآن پر ایمان لے آئے۔ اگرچہ ان کی تعداد بہت ہی کم ہے پھر آخر میں ان کی عام عادت کا اعلان کیا ہے۔ سبحان اللہ کیا خوب ترتیب ہے اور اس قدر فرق مراتب کی رعایت ہے آگے اسی قسم کے ایک اور عہد کا ذکر ہے جس میں سے یہود نے بعض حصہ کو چھوڑ دیا اور بعض حصے پر رسماً عمل کرتے رہے۔ (تسہیل)
Ayah 2:84ف 5 اور وہ زمانہ یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے اس امر پر عہد لیا کہ تم آپس میں خون ریزی اور خانہ جنگی نہ کرنا اور تم ایک دوسرے کو جلا وطن نہ کرنا اور نہ ان کو ان کے گھروں سے نکالنے پر مجبور کرنا۔ پھر تم نے اس کا اقرار کیا اور تم بھی اپنے بڑوں کے اس اقرار کو مانتے ہو۔ (تیسیر)
اوپر کی آیت میں باہمی حسن سلوک اور صلہ رحمی کا حکم تھا۔ یہاں خانہ جنگی، خون ریزی اور ایک دوسرے کو ستانے اور گھروں سے نکالنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ باہمی احسان اور صلہ رحمی کی تکمیل اسی صورت میں ہو سکتیھی کہ اپنوں کو دکھ نہ پہنچائو اور ستائو نہیں بلکہ اچھا سلوک کرو۔
وانتم تشھدون کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ہم نے ترجمہ میں عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے کے یہودی بھی یہ مانتے تھے کہ ہمارے اسلاف نے توریت کے اس حکم کو تسلیم کیا تھا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وانتم تشھدون اسی اقرار کی تاکید ہو۔ اب معنی یہ ہونگے کہ اقرار بھی کوئی چلتا ہوا اقرار نہیں بلکہ اقرار بھی ایسا کہ تم اس کی شہادت بھی دیتے ہو۔ یعنی بہت پختہ اقرار اس آیت میں بھی عہد اور قول وقرار سے وہی توریت کا حکم مراد ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا تھا کہ ہر ہر حکم پر اقرار نامہ نہیں لکھا جاتا۔ بلکہ جو کتاب منزل من اللہ کو تسلیم کرلیتا ہے تو وہ اس کے تمام احکام کا پابند ہوجاتا ہے اور کسی کتاب کو آسمانی کتاب تسلیم کرلینا ہی اس کے سب احکام پر عمل کرنے کا عہد اور قول وقرار ہوجاتا ہے اور جس طرح توریت کا یہ حکم عام طور سے پہلے اور پچھلے سب یہودیوں کو تسلیم تھا اس طرح سوئے اتفاق سے توریت کے اس حکم کی مخالفت بھی عام تھی حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جو یہودی تھے وہ بھی سب کے سب باہمی خوں ریزی اور اپنوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کے مرتکب ہوتے تھے۔ چناچہ آگے ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:85ف 1 پھر اس عہد و پیماں کے بعد تم لوگ اب موجود ہی ہو کہ باہم ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے ہو اور اپنوں ہی میں سے کچھ کو ان کے گھروں سے جلا وطن بھی کرتے ہو اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اپنوں کے مقابلہ میں دوسری مخالف قوموں کی گناہ اور ظلم کے ساتھ امداد کرتے ہو اور مخالفوں کے ساتھ بن کر اپنوں سے لڑتے ہو نیز گناہ اور ظلم کی حمایت میں لڑتے ہو پھر لطف یہ کہ اگر ان اپنوں میں سے کوئی گرفتار ہو کر اور قیدی بن کر تمہارے پاس پہونچ جائے تو تم اس کو فدیہ اور کچھ لے دے کر قید سے رہا کراتے ہو حالانکہ ان کا جلا وطن کرنا اور ان کو ان کے گھروں سے نکالنا بھی تم پر توریت کے حکم کے بموجب حرام کیا گیا ہے تو ایک حکم کی تعمیل تو اس طرح دوڑ کر کرتے ہو اور دوسری چیز جو ممنوع اور حرام تھی اس کا بےتکلف ارتکاب کرتے ہو تو پھر کیا توریت کے بعض حصے کو مانتے ہو اور بعض حصے کو ماننے سے منکر ہوتے ہو تو تم لوگوں میں سے جو ایسا جو کرتا ہے اس کی سزا سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ دنیوی زندگی میں کم از کم اس کو ذلت و رسوائی نصیب ہو اور قیامت کے دن اس قسم کے لوگ شدید ترین عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو اعمال بدتم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بیخبر اور غافل نہیں ہے۔ (تیسیر)
مدینہ منورہ میں کفار عرب کے دو مشہور قبیلے آباد تھے اوس اور خزرج ان دونوں قبیلوں میں باہمی سخت عداوت تھی اور یہ دونوں قبیلے باہم جنگ بھی کیا کرتے تھے اور ان کی لڑائیاں بڑی دیرپا ہوتی تھیں اور مدتوں چلتی رہتی تھیں۔ مدینہ منورہ کے آس پاس یہودیوں کے بھی مختلف قبائل آباد تھے جیسے بنی قریظہ اور بنی نفیر اور بنی قینقاع وغیرہ جس طرح کفار میں اوس اور خزرج مشہور تھے اسی طرح یہود کے بنی قریضہ اور بنی نضیر دو قبیلے مشہور تھے اور چونکہ اس میں بھی باہم چشمک رہتی تھی اس لئے ضرورت تھی کہ یہ لوگ اپنے حمایتیوں کی تعداد بڑھائیں اور پانے مخالفوں کو نیچا دکھائیں۔ چناچہ اوس نے تو بنی فریظہ سے عرب کے دستور کے مطابق حلف کر رکھا تھا اور خزرج نے بنی نضیر سے حلف کر رکھا تھا۔ اب جب کبھی ان قبائل میں جنگ ہوتی تھی خواہ وہ اوس اور خزرج کے مابین ہو یا بنی قریظہ اور بنی نضیر کے درمیان ہو تو ان کے ح لفاء اور معاہد لوگوں کو بھی ساتھ لڑنا پڑتا تھا اوس لڑیں تو بنی قریظہ ان کے ساتھ ہوں اور بنی قریظہ لڑیں تو اوس ان کے ساتھ ہوں اس طرح خزرج لڑیں تو بنی نضیر ساتھ ہوں اور نبی نضیر لڑیں تو خزرج ساتھ ہوں۔ یعنی جب جنگ ہو تو ایک طرف کفار عرب اور اہل کتاب ہوں اور دوسری طرف کفار عرب اور اہل کتاب ہوں ۔ مدینہ کی مشہور لڑائیوں میں اسی دستور کے موافق جنگ ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ اہل کتاب یہودی اور کفار عرب کے ہمراہ مل کر دوسرے کافروں اور یہودیوں سے لڑتے تھے لیکن بہرحال یہود یہود سے لڑتے تھے اور یہود یہود کو قتل بھی کرتے تھے اور یہود یہود کی بستیوں کو برباد بھی کرتے تھے اور ان بستیوں کے رہنے والوں کو ترک وطن پر مجبور بھی کرتے تھے اور جب اس جنگ میں کچھ یہودی گرفتار اور قید ہوجاتے تھے تو ان کو فدیہ وغیرہ دیکر چھڑاتے بھی تھے یہ یہود مدینہ کا طرز عمل تھا۔
لیکن توریت میں ان کو تین حکم دیئے گئے تھے۔ ایک تو یہ کہ آپس میں کشت و خون نہ کرنا۔ دوم یہ کہ آپس میں ایک دوسرے کو جلا وطن نہ کرنا۔ سوم یہ کہ اگر کوئی اپنا بھائی کبھی گرفتار ہوجائے اور قیدی بنا لیا جائے تو اس کا فدیہ ادا کر کے اس کو چھڑا لینا اب یہ لوگ توریت کے پہلے اور دوسرے حکم کی تو کھلم کھلا مخالفت کرتے تھے اور تیسرے حکم کو بڑے اہتمام کے ساتھ پورا کرتے تھے اسی کو فرمایا کہ توریت کا کچھ حصہ مانتے ہو اور کچھ کے منکر ہوتے ہو اگر یہ لوگ پہلے اور دوسرے حکم کو حکم ہی نہ مانتے ہوں تب تو شریعت موسوی کی رو سے بھی صریح کافر تھے اور تکفرون حقیقی کفر کے معنی میں ہوگا اور اگر حکم کو حکم مان کر خلاف ورزی کرتے تھے جیسا کہ ظاہر بھی ہے تو کفر کا تہدیداً استعمال ہوگا اور یہ بات ایک شرعی اصول کی بنا پر ہم نے کہی ہے ورنہ نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت کا انکار ہی ان کے کفر کے لئے کافی ہے۔ لیکن یہاں اس کفر کی بحث نہیں ہے بلکہ اس کفر میں گفتگو ہے۔ جس کا تعیل توریت کے احکام کے ساتھ ہے۔ صاحب تفسیر عزیزی یہاں کفر سے حقیقی کفر مراد لیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے احتمال اول میں ذکر کیا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں رسوائی اور ذلت تو ان کی سزا ہے ہی جیسا کہ نبی کریم ﷺ اور خلفاء راشدین کے دور میں ہوا جو انشاء اللہ آگے آئیگا لیکن اس سے زیادہ بھی سزا ہوسکتی ہے جیسے قتل وغیرہ۔
خلاصہ یہ ہے کہ الاخزی میں کمی کی نفی کا حصہ ہے زیادتی کا نہیں یعنی دنیا کی زندگی میں ان کی ذلت و رسوائی تو ضروری ہے خواہ اس کا وقوع کبھی ہو ۔ باقی اس سے زیادہ بھی کوئی اور سلوک ہو تو ہوسکتا ہے اور چونکہ ان قبائل کی لڑائیاں محض باہمی انتقام اور لغو (فضول باتوں پر ہوا کرتی تھیں اس لئے تظاھرون علیھم بالا ثم دالعددان ) فرمایا کہ ہر حلیف اپنے حلیف کا ظلم اور گناہ پر ساتھ دیتا تھا۔ یعنی لڑائی کا مقصد خواہ کتنا ہی برا ہو مگر اپنے حلیف کا ساتھ دینا ہوتا تھا تو یہ اثم اور عدوان پر تعاون اور امداد ہوئی۔ تظاہر کے معنی ہیں تعاون اثم کے معنی ہیں گناہ اور ذنب عدوان کے معنی ہیں۔
تجاوزنی الظلم ، حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ یعنی اپنی قوم غیر کے ہاتھ پھنسے تو چھڑانے کو موجود ہو اور آپ ان کے ستانے میں قصور نہیں کرتے۔ اگر خدا کے حکم پر چلتے ہو تو دونوں جگہ چلو۔ (موضع القرآن) (تسہیل)
Ayah 2:86ف 2 یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیوی زندگی کو خرید لیا پھر اب ان پر سے نہ تو کسی وقت عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ کہیں سے ان کو کسی طرح کی مدد پہنچ سکے گی۔ (تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ بعض احکام کی متابعت کریں اور بعض احاکم کو پس پشت ڈال کر اس سے بےاعتنائی برتیں تو ان کی سزا وہی ہے جو اوپر کی آیت میں تجویز کی گئی اور اس سزا کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کے چند روزہ منافع کو اختیار کر رکھا ہے۔ یہاں بھی وہی بیع و شرا کو بطور استعارہ استعمال کیا ہے جیسا کہ ہم ابتدائے سورت میں عرض کرچکے ہیں کہ اصل تو دو استعدادوں میں سے ایک کو بےکار کردینا اور ایک کی پیروی کرنا ہے فجور اور تقویٰ کی دوراہوں میں سے تقویٰ کو نظر انداز کر کے فجور کی راہ کو اختیار کرلینا ایسا ہی ہے … جیسے ایک چیز کو دیکر دوسری خرید لی ۔ چاہتے تو آخرت کی بھلائی حاصل کرلیتے لیکن آخرت کی بھلائی کے مقابلے میں دنیا کے عارضی منافع اور عارضی ریاست و وجاہت کو اختیار کرلیا اور توریت کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اس لئے اب ان کو ایسا سخت عذاب ہوگا کہ اس عذاب میں کسی وقت بھی تخفیف نہ ہوگی اور نہ ان کے کسی رشتہ دار یا دوست کی طرف سے ان کی کوئی امداد اور پیروی وغیرہ ہو سکے گی۔ اب آگے ان کے اور افعال شنیعہ کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 2:87ف 3 اور اے بنی اسرائیل ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تمہاری ہدایت کی غرض سے توریت کتاب دی پھر ان کی وفات کے بعد بھی ہم نے مختلف انبیاء کا سلسلہ جاری رکھا اور یکے بعد دیگرے لگاتار پیغمبر بھیجتے رہے تاکہ وہ تم کو توریت کی تعلیم دیتے رہیں اور تم کو اس پر عمل کر نیکی ترغیب دیں۔
یہاں تک کہ ہم نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کو واضح دلائل اور معجزات عطا فرمائے اور ان کو روح القدس کے ساتھ تقویت دی اور کیا یہ افسوس ناک اور تعجب خیز واقعہ نہیں ہے کہ جب کبھی بھی تمہارے پاس کوئی رسول ایسے احاکم لیکر آیا جن کو تمہارا دل نہ چاہتا تھا اور وہ تمہاری خواہش کے خلاف ہوتے تھے تب ہی تم نے اس پیغمبر کے مقابلے میں تکبر اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک کرنے لگے۔ چناچہ ان پیغمبروں میں سے بعض کو تم نے جھوٹا بتایا اور بعض کو تم قتل ہی کر ڈالتے تھے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ تمہاری ہدایت و اصلاح کے لئے برابر پیغمبر آتے رہے۔ جو حضرت موسیٰ کے تابع اور توریت کے عامل ہوتے تھے۔ البتہ حضرت عیسیٰ بن مریم چونکہ صاحب شریعت مستقلہ تھے اس لئے انہوں نے بعض سابقہ احکام کو بدلا جیسا کہ تیر سے پارے میں انشاء اللہ آجائے گا۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام سریانی زبان میں ایشوع ہے۔ ان کی ماں کا نام مریم ہے جس کے معنی سریانی میں خادم کے ہیں بینات سے مراد انجیل اور وہ معجزات ہیں جو ان کو عطا ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت عیسیٰ سے قبل جو پیغمبر تشریف لائے ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔
شموئیل ، الیاس، منشائیل، الیسع، یونس، زکریا، یحییٰ ، شعیا، حزقیل، دائود، سلیمان، ارمیا، روح القدس کی مفسرین نے بہت سی تفسیریں کی ہیں لیکن جمہور کے نزدیک اس سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق اور ظاہر ہے کہ یہاں حضرت جبرئیل ہی مراد ہیں۔ حدیث میں آتا ہے۔
ان روح القدس نفث فی روعی یعنی جبریل نے یہ بات میرے قلب میں ڈلای ہے۔
ابن جریر نے اسی قوم کو راجح بتایا ہے روح القدس کی تائید کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی روح کو انہوں نے ہی مریم میں پھونکا اور ان کے ہم دم کرنے سے حضرت مریم کا حمل قرار پایا۔ نیز یہود کی دشمنی کے باعث حضرت جبرئیل آپ کی حفاظت کرتے تھے۔ آسمان پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تشریف لے جانا بھی ان ہی کی وساطت سے ہوا۔
الغرض بنی اسرائیل نے تمام پیغمبروں کو اذیت پہنچائی اور ان کی تحقیر کی اور انبیاء کی اطاعت سے انکار کیا اور حضرت زکریا اور یحییٰ کو قتل کرنا تو مشہور ہے جیسا کہ انشاء اللہ آگے آجائے گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں روح القدس کہتے ہیں جبرئیل کو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے موضح القرآن ہوسکتا ہے کہ روح القدس سے مراد اسم اعظم ہو جس کی برکت سے وہ مردوں کو زندہ اور بیماروں کو تندرست کرتے ہں یا جو روح ان میں پھونکی گئی تھی اس روح کو روح القدس فرمایا ہو اور اس روح میں بشریت سے ملکیت غالب ہو جیسا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی نے تفسیر عزیزی میں فرمایا ہے۔ واللہ اعلم (تسہیل)
Ayah 2:88ف 4 اور وہ یہودی کہتے ہیں کہ ہمارے دل بالکل محفوظ ہیں کہ اس میں کوئی دوسری بات داخل ہی نہیں ہوسکتی۔ یہ بات نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہود پر ا ن کے کفر کی وجہ سے لعنت کردی ہے اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے سو وہ بہت ہی تھوڑا ایمان رکھتے ہیں (تیسیر)
یہود کا یہ قول یا تو بطور عذر تھا کہ ہم کیا کریں ہمارے دل پر تو پردے پڑے ہوئے ہیں۔ تمہاری باتیں ہمارے دل میں جگہ نہیں کرتیں اور یا وہ دلیل کے طور پر کہتے ہوں کہ مسلمانو ! تمہاری باتیں ہم پر کیا اثر کرسکتی ہیں ہمارے دل تو ہر طرح محفوظ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ قول بطور تفاخر ہو کہ ہمارے دل تو علوم و حقائق سے لبریز ہیں اور اب ان میں سے کسی دوسری بات کی گنجائش ہی کہاں ہے ۔ صاحب کشاف نے کہا اغلف اس شخص کو کہتے ہیں جو غیر مختون ہو۔ ہم نے اس لئے ترجمہ محفوظ کے ساتھ کیا ہے۔ یہ یہود کا ایک خاص محاورہ تھا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے اعتقاد میں بڑے مضبوط اور پختہ ہیں ہم پر تمہارے مذہب کی کوئی بات اثر انداز نہیں ہوسکتی ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ان پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اور وہ بالکل لبریز اور پر ہیں۔
سورہ فصلت میں ارشاد ہے۔ وقالوا قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ۔
یعنی اے پیغمبر ! جس کی طرف تو ہم کو بلاتا ہے اس سے ہمارے دلوں کے غلاف اور پردے روک بنے ہوئے ہیں۔ ان کے اس لغو قول کا جواب فرماتے ہیں کہ اس محرومی اور حرمان نصیبی کا وہ سبب نہیں ہے جو یہ بیان کرتے ہیں بلکہ اس کا سبب وہ لغنت ہے جو ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان پر کی ہے۔ لعنت کے معنی ہیں ہٹا دینا اور دور کردینا۔
یہاں مقصد یہ ہے کہ ہر خیر سے ان کو دھکے دے دیئے گئے ہیں اور حضرت حق نے ان کو اپنی رحمت سے محروم کردیا اور چونکہ اسلام پر ایمان لانا اور نبی رحمت ﷺ کی پیروی کرنا خدا کا بڑا انعام اور اس کی بڑی رحمت ہے اس لئے یہ راندئہ درگاہ الٰہی اس رحمت سے محروم ہیں اور یہ رحمت سے دوری اور پھٹکار ان پر ابتداء نہیں ہوئی بلکہ ان ہی کے کفر اور نافرمانی کی وجہ سے ان کے استھ یہ سلوک کیا گیا۔ تھوڑے ایمان کا یہ مطلب کہ اسلام کے وہ معتقدات جو شریعت موسوی میں بھی مذکور ہیں ان کو تو مانتے ہیں لیکن باقی شریعت محمدیہ ﷺ کو نہیں مانتے یا یہ کہ جو موسیٰ (علیہ السلام) لائے ہیں اس کو مانتے ہیں اور جو محمد ﷺ لائے ہیں اس کو نہیں مانتے اور شریعت محمدیہ ﷺ کا انکار یا بعض کا اقرار اور بعض کا انکار کفر ہے۔ قلوب کا ملعون ہونا بھی امراض باطنیہ کے درجوں میں سے ایک سخت خطرناک درجہ ہے جس کے بعد مریض کی صحت کا امکان باقی نہیں رہتا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہودی اپنی تعریف میں کہتے تھے کہ ہمارے دل پر غلاف ہے ۔ یعنی رسواء اپنے دین کی بات کے کسی کی بات ہم کو اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حق بات اثر نہ کرے یہ نشان ہے لعنت کا ۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب نے ایک بہت لطیف اشارہ فرمایا یعنی اثر نہ کرنے کے بھی دو مطلب ہیں اگر باطل اور بری بات اثر نہ کرے تو یہ بات اچھی ہے، لیکن اگر کسی بدقسمت پر اچھی بات اور حق بات اثر نہ کرے تو سمجھو کہ یہ خدا کی لعنت کا اثر ہے۔ تھوڑے سے ایمان رکھنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ حضرت مسویٰ کی کتاب پر بھی پورا ایمان نہیں رکھتے ورنہ اس کتاب میں تو نبی آخر الزماں ﷺ کے متعلق پیشین گوئیاں بھی ہیں۔ اگر یہ اپنی ہی کتاب پر پورا ایمان رکھتے ہوتے اور پوری کتاب مانتے تو نبی امی پر ایمان لے آتے۔
مطلب یہ ہوا کہ یہ بدنصیب تمام باتیں اپنے دین کو بھی نہیں مانتے اور تمہارے دین کے تو منکر ہی ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ قلب کی چار قسمیں ہیں۔ ایک تو صاف کہ اس میں چراغ روشن ہے اور وہ چراغ چمک رہا ہے۔ یہ دل تو مئومن کا دل ہے۔ جس میں ایمان کا چراغ روشن و درخشاں ہے۔ دوسرا قلب وہ ہے جس پر غلاف چڑھا ہوا ہے اور غلاف کا منہ بندھا ہوا ہے یہ کافر دل ہے تیسرا قلب وہ ہے جو اوندھا ہے یہ منافق کا دل ہے۔ چوتھا قلب دورنگی ہے کہ اس کا ایک حصہ سیاہ اور ایک حصہ سفید ہے یہ دل اس منافق کا ہے جس میں ایمان بھی اور کفر بھی کبھی یہ رگن اختیار کرتا ہے اور کبھی وہ رنگ اس دل میں ایمان و نفاق دونوں جمع ہیں۔ مسند احمد بن حنبل مختصراً (تسہیل)
Ayah 2:89ف 1 اور جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان یہود کے پاس وہ کتاب آئی جو اس کتاب کی تصدیق کرنیوالی ہے جو ان کے پاس ہے یعنی توریت حالانکہ یہ اس قرآن کے نزول سے قبل کفار کے مقابلہ میں فتح طلب کیا کرتے تھے اور خدا تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے مگر جب وہ چیز جس کو یہ اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں آگئی تو اس کا انکار کر بیٹھے اور اس پر ایمان لانے سے منکر ہوگئے لہٰذا ایسے منکروں کو جو جانتے بوجھتے انکار کریں اللہ تعالیٰ کو پھٹکار اور لعنت ہو۔ (تیسیر)
پہلی کتاب سے مراد قرآن اور دوسری کتاب سے مراد توریت ہے تصدیق کا مطلب وہی ہے جو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں یعنی قرآن توریت کے منجانب اللہ ہونے کی تصدیق کرتا ہے یا توریت میں جو پیشین گوئیاں قرآن اور نبی امی کے متعلق ہیں ان کو سچ کرنیوالا ہے ۔ طلب فتح کا مطلب یہ ہے کہ جب کبھی کفار سے ان اہل کتاب کی جنگ ہوتی تھی تو یہی یہود نبی آخر الزمان ﷺ اور قرآن کا واسطہ دیکر اللہ تعالیٰ سے نصرت طلب کیا کرتے تھے اور کفار پر فتح حاصل کرنی کی دعا کیا کرتے تھے۔
اللھم ربنا انا نسئلک بحق احمدن النبی الامی الذی و عدتنا ان تخرجہ لنا فی آخر الزمان وبکتابک الذی تنزل علیہ اخرما ینزل ان تنصرنا علی اعدائنا۔
یعنی اے اللہ اے ہمارے پروردگار ہم اس احمد نبی امی کے واسطے اور سا کی برکت سے دعا کرتے ہیں جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ تو ان کو ہمارے لئے آخر زمانے میں مبعوث فرمائے گا اور تیری اس کتاب کے واسطے سے جو آخری کتاب ہے تجھ سے دعا کرتے ہیں تو ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
یہ دعائیں تو قرآن سے قبل مانگتے تھے مگر جب وہ قرآن اور وہ احمد نبی امی تشریف لائے تو یہ جانتے ہوئے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر ہماری کتاب میں ہے اور یہ قرآن وہی کتاب ہے پھر انکار کردیا۔
استفتاح کا ترجمہ ہم نے وہی اختیار کیا ہے جو عام طور سے مشہور ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ استفتاح کے معنی فتح کے ہوں جیسا کہ بعض حضرات اس کے قائل ہیں تو اب مطلب یہ ہوگا کہ اس قرآن کے آنے سے قبل تو تم خود کفار سے یہ بیان کیا کرتے تھے اور کافروں سے یہ کہا کرتے تھے کہ آخر زمانے میں ایک نبی آنیوالا ہے اور وہ ایک کتاب لانے والا ہے اور وہ عرب میں پیدا ہونیوالا ہے مگر جب وہ خود تمہارا بیان کردہ نبی آپہونچا اور وہ اپنے ہمراہ کتاب بھی لایا تو تم نے انکار کردیا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب غلبہ کافروں کا دیکھتے تو دعا مانگتے کہ نبی آخر الزمان شتاب پیدا ہو جب پیدا ہوا تو آپ ہی منکر ہوئے ، (موضح القرآن)
بہرحال استفتاح طلب نصرت و فتح کے معنی میں ہو یا فتح کے معنی میں ہو مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کے نزول سے قبل اور اس پیغمبر کی تشریف آوری سے قبل تم کو ان کا حق ہونا تسلیم تھا لیکن جب یہ کتاب آئی تو تم ہی نے اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ (تسہیل)
Ayah 2:90ف 2 وہ چیز بہت بری ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو ریدا اور وہ بری چیز یہ ہے کہ انہوں نے محض حسد کی بنا پر اس چیز سے انکار کردیا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے ۔ یعنی قرآن اور اس حسد کی وجہ بھی یہ ہے کہ وہ قرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس بندے پر چاہا کیوں نازل فرمایا لہٰذا یہ لوگ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کافروں کو ایسا عذاب ہوگا جو ان کو سخت ذلیل کرنیوالا ہے۔ (تیسیر)
ہم نے اوپر عرض کیا تھا کہ بیع اور شرا کے ال فاظ کثرت استعمال کیو جہ سے بعض دفعہ جبکہ مقابلہ میں کوئی سکہ نہ ہو ایک دوسرے پر بول دیئے جاتے ہیں۔ اسی بنا پر بعض مفسرین نے یہاں اشترا کے معنی بیع کے کئے ہیں یعنی انہوں نے اپنی جانوں کو جس چیز کے بدلے فروخت کردیا وہ بہت بری ہے مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے زعم باطل کی بنا پر نجات آخروی کے لئے جس چیز کو اختیار کیا ہے۔ وہ بری چیز ہے یہ یہ مطلب ہے کہ جس چیز کے بدلہ انہوں نے اپنی جانوں کو بیچا وہ بہت بری چیز ہے اور وہ چیز جس کے بدلے یہ بیع اور شرا ہوئی وہ قرآن کو خدا کی کتاب ماننے سے ان کا منکر ہونا ہے اور ان کا یہ انکار بھی کسی معقول سبب کی بنا پر نہیں کیونکہ قرآن کے انکار پر کوئی معقول دلیل تو ہو ہی نہیں سکتی، بلکہ یہ انکار محض اس ضد پر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس بندے پر اپنے فضل سے چاہے اس قرآن کو نازل کر دے ۔ گویا خدا کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے کسی محبوب بندے پر اس قرآن کو نازل کر دے اور اگر اس نے ایسا کیا ہے کہ ان بدبختوں کی خواہش کے خلاف محمد ﷺ پر یہ قرآن اتارا ہے، تو بس اب یہ اس ضد میں اس کے ماننے سے انکار کر رہے ہیں اور یہ جو فرمایا کہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے تو ایک تو قرآن کا انکار اور دوسرے حسد یا ایک بچھڑے کی پرستش اور اس پر نبی رحمت کا انکار یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا کفر، پھر اس پر نبی امی اور قرآن کا انکار غرض سب احتمال ہیں جیسا انہوں نے کفر پر کفر کیا ویسا ہی یہ غضب پر غضب کے مستحق ہوئے۔
توہین آمیز عذاب کا یہ مطلب ہے کہ آگ کے عذاب کے علاوہ ذلت بھی میسر ہوگی۔ چونکہ کفر کے ساتھ عناد، ضد اور استکبار بھی تھا اس لئے آگ کے ساتھ تذلیل توہین کا سامان بھی فراہم ہوگا۔ آگے ان کے حسد اور ان کی ضد اور ان کے کفر کی اور باتیں ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 2:91–92ف 3 اور جب ان یہود سے کہا اجتا ہے کہ تم دوسری کتب سماویہ پر بھی جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں ایمان لائو جیسے انجیل اور قرآن تو یہ جواب دیتے ہیں کہ بس ہم تو اس کتاب پر ایمان لائیں گے۔ جو ہماری جانب نازل کی گئی ہے یعنی توریت کو مانیں گے اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ دوسری کتب سماویہ بھی حق ہیں اور وہ کتابیں اس کتاب کی تصدیق کرنیوالی ہیں جو ان کے پاس ہے۔ آپ ان سے پوچھئے ۔ اچھا اگر تم توریت پر ایمان رکھتے ہو تو اب سے پہلے خدا کے نبیوں کو کیوں قتل کیا کرتے تھے اور تمہارے ایمان کی یہ تو حلات ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس صاف اور واضح دلائل لے کر تشریف لائے تھے تو تم نے ان کے طور پر جانے کے بعد ایک بچھڑے کو معبود تجویز کرلیا اور تم تو ہمیشہ سے ظلم اور ناانصافی کے خوگر ہو۔
Ayah 2:93ف 1 اور اس بات کو یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد اور قول لیا اور تمہارے اوپر طور کو معلق کردیا اور تم کو حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو پوری عزیمت اور قوت سے قبول کرو تو انہوں نے پہاڑ کو دیکھ کر یہ کہا کہ ہم نے سن تو لیا لیکن ہم سے اس پر عمل نہیں ہوگا اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے کفر کے باعث ان کے قلوب میں اس گئو سالہ کی محبت پیوست کردی گئی تھی۔ آپ فرما دیجیے اگر تم واقعی اپنے خیال اور گمان میں اہل ایمان ہو تو جن اعمال و افعال کی تم کو تمہارا ایمان تعلیم دے رہا ہے وہ افعال و اعمال بہت برے ہیں۔ (تیسیر)
مدعا یہ ہے کہ ان کے کفر اور حسد کی یہ حالت ہے کہ جب ان سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ اور کتابوں پر بھی ایمان لائو تو جواب دیتے ہیں کہ جو کتاب ہماری جانب اتاری گئی ہے ہم تو اس پر ایمان لائیں گے اور توریت کے ما سوا دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں تو اول تو اسی سے کافر ہوگئے پھر جس پر ایمان کے مدعی ہیں اس کی بھ یہ حالت ہے کہ گزشتہ زمانے میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو قتل کرتے رہے ہیں پھر لطف یہ ہے کہ توریت کے بعد کی جن کتابوں کے ساتھ کفر کا برتائو کر رہے ہیں وہ تو ریت کی تصدیق کرنیوالی ہیں تو اب مطلب یہ ہوا کہ ان کا توریت پر بھی ایمان نہیں ہے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کا قتل تو ہر آسمانی کتاب میں حرام اور ممنوع ہے۔ اسی طرح توریت کی تصدیق کرنیوالی کتاب کی تکذیب خود توریت کی تکذیب کو مستلزم ہے ، پھر ان کے دعوے کی تغلیط اس سے بھی ظاہر ہے کہ انہوں نے خود حضرت موسیٰ کی موجودگی میں کیا کیا کہ جب حضرت موسیٰ بڑے بڑے دلائل لیکر آئے مثلاً عصا کا سانپ ہوجانا، ید بیضائ، دریا کا پھٹ جانا، پتھر میں سے بارہ چشموں کا نکلنا وغیرہ تو انہوں نے موسیٰ کے تشریف لانے کے بعد یا ان کے کوہ طور جانے کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لیا۔
وانتم ظلمون کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم بچھڑے کو معبود بنانے میں بڑے ظلم و ستم کا ارتکاب کر رہے تھے۔ سمعناد عصینا کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے ت و پہاڑ گرنے کے خوف سے کہتے تھے کہ ہم نے سن لیا اور دل سے کہتے تھے کہ ہم نے قبول نہیں کیا یا ان کے طرز عمل نے یہ ثابت کردیا کہ یہ دل سے قبول نہیں کر رہے تھے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ چونکہ واقع میں یہ ان کا کہنا دل سے نہ تھا اس لئے گویا زبان حال سے کہہ رہے تھے کہ ہم سے عمل نہیں ہوگا زبان قال سے جو کچھ کہہ رہے تھے زبان حال سے اس کا انکار کر رہے تھے، بچھڑے کی محبت ان کے قلوب میں اس طرح پلا دی گئی تھی جس طرح کسی کپڑے کو اگر رنگیں تو اس میں رنگ بیٹھ جاتا ہے۔ اگرچہ بچھڑے کا قصہ ختم ہوچکا تھا ان کے کفر کی وجہ سے پھر وہ اثرات جو اس کی محبت کے قلب میں باقی رہ گئے تھے رفتہ رفتہ اثر پذیر ہوگئے اور چونکہ عام طریقہ سے ان کی عادت کفر و نافرمانی کی تھی اور شرک کی طرف طبعاً مائل تھے حتیٰ کہ دریا کے پار ہوتے ہی حضرت موسیٰ سے بت فراہم کرنی کی فرمائش کردی تھی، اسی کفر و عصیان کی بدولت یہ نوبت ہوگئی کہ دل میں بچھڑے کی محبت نے جگہ پکڑ لی اور نتیجہ یہ ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں گستاخیاں کرتے رہے جو پیغمبر توریت کی تبلیغ کے لئے مبعوث ہوئے ان کو قتل کردیا۔ حضرت عیسیٰ تشریف لائے تو ان کی جان کے در پے ہوگئے اور اب نبی آخر الزماں ﷺ کا دور آیا تو اسی توریت کو آڑ بنا لیا اور قرآن پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔
اس پر فرماتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر یہ حرکات شنیعہ اور قبیحہ جو مذکور ہوئیں انہی پر تمہارا ایمان ہے تو یہ افعال تو بہت ہی برے ہیں جن کی تمہیں تمہارا ایمان تعلیم دیتا ہے یا یہ کہ اگر تم اپنے زعم باطل میں ایمان والے ہو اور ان افعال کا تم اور تمہارے بڑے ارتکاب بھی کرتے رہے ہو تو یہ کام تو بہت ہی برے ہیں جن کی تعلیم تمہیں تمہارا ایمان دیتا ہے اور وہ ایمان ہی کیا جو توریت احکام کے خلاف اعمال پر آمادہ کرے مطلب یہ ہے کہ تم مومن ہی نہیں ہو، حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ظاہر میں کہا ہم نے مانا اور چھپے کہا کہ نہ مانا۔ (تسہیل)