Ayah 2:235ف 1۔ اور تم پر اس بارے میں کوئی گناہ نہیں کہ جن عورتوں کے خاوند مرچکے ہوں اور وہ موت کی عدت گزار رہی ہوں تم ان کو پیغام نکاح سے متعلق کوئی بات اشارۃ ً کنایتہ کہہ دو یا ان سے نکاح کرنے کی خواہش کو اپنے دل میں مخفی اور پوشیدہ رکھو۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلوم ہے کہ تم ضرور ان عورتوں کے نکاح کا خیال اور دھیان کرو گے اور تم ان کا ذکر مذکور کرو گے تو اچھا ! ذکر کرو اور ان سے نکاح کی رغبت رکھو لیکن ان سے تصریح کے ساتھ اور کھلے الفاظ میں کسی پوشیدہ چیز یعنی نکاح کی بات چیت نہ کرو اور چھپا کر نکاح کا وعدہ نہ کرو مگر ہاں اتنی ہی بات کہو جنتی قاعدے کے موافق اور شرعی دستور کے مطابق ہو اور تم اس وقت تک ان سے عقد نکاح کا ارادہ بھی نہ کرو جب تک ان کی عدت مقررہ او مفروضہ اپنی میعاد کو نہ پہنچ جائے یعنی عدت پوری نہ ہوجائے اور اس بات کو خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قلوب کی باتوں کو خوب جانتا ہے ، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈرتے رہو اور اس کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کا مالک اور بڑا صاحب تحمل ہے اگر دل میں نکاح کی ٹھان لی تھی تو توبہ کرو وہ بخشنے والا ہے اور اس کی فوری گرفت نہ کرنے پر بےخوف نہ ہو جائو کیونکہ وہ بڑا حلیم ہے عقوبت میں جلدی نہیں کیا کرتا ۔ ( تیسیر)
کسی شخص کو ایسے الفاظ کے ساتھ اپنا مطلب سمجھانا جن الفاظ کے مختلف معنی ہوں اور ان الفاظ کے کئی مطلب ہوں ۔ ایسے ذو معنی اور ذو مطالب الفاظ کے ساتھ اپنے مطلب کو سمجھانے اور بیا ن کرنے کو تعریض کہتے ہیں ۔ یہ تعریض تصریح کا مقاتل ہے تصریح کے معنی میں صاف الفاظ میں اپنامطلب بیان کرنا، کسی عمل سے یا کسی قول سے نکاح کی درخواست کرنا اور نکاح کا پیغام دینا اس کو خطبہ کہتے ہیں ۔ خاکے کسرے کے ساتھ اور خا کے ضمہ کے ساتھ جس کو خطبہ کہتے ہیں اس سے وہ کلام مراد ہوتا ہے جو پند و نصائح پر مشتمل ہو اور جس میں عام لوگوں کو خطاب کیا جائے۔
اردو میں ہمارے یہاں خطبہ کے معنی منگنی کیا جاسکتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے خطبہ پر خطبہ نہ کیا کرے یعنی اگر ایک بھائی نے کسی جگہ منگنی کا پیغام دے رکھا ہے تو جب تک اس بھائی کی بات چیت ختم نہ ہوجائے تم وہاں منگنی کا پیغام نہ بھیجو۔
اکنان کے معنی میں چھپانا عزم کے معنی ہیں ارادے کا آخری درجہ جس کے بعد فعل صادر ہوجاتا ہے۔ انسانی ارادے کے مختلف درجات ہیں ۔ سانح ، خاطر ، تفکر ، ارادہ، ہمت ، عزم ، غرض ! عزم آخری درجہ کا نام ہے جو فعل سے مربوط ہوتا ہے یعنی عزم فعل کے بالکل متصل اور قریب ہوتا ہے۔ عقدہ کے معنی بھی ارتباط کے ہیں یہاں وہ ارتباط مراد ہے جو عاقدین کے عقد سے حاصل ہوتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ متوفی منہاز و جبہا جس کی عدت چار ماہ دس دن ہے جب وہ عورتیں عدت میں ہوں تو ان کو صاف الفاظ میں نکاح کا پیغام نہ دو نہ ان سے نکاح کی بات چیت کرو نہ ان سے کوئی وعدہ کرو نہ ان سے کوئی وعدہ لو ۔ اور نہ صراحتہ ً ان معتدہ عورتوں سے اس قسم کی گفتگو کرو۔ البتہ مگھم میں کوئی بات کہہ دو تو مضائقہ نہیں ۔ اسی طرح اگر دل میں نکاح کی بات پوشیدہ رکھو تو بھی مضائقہ نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا تذکرہ ضرور کرو گے اور تم ان کے دھیان سے خالی نہ رہو گے ۔ ذکر کا مطلب یہ ہے کہ باہم انکا تذکرہ کرو گے کہ وہ عورت نیک ہے اور وہ بیوہ بھی ہے اگر اس کی عدت پوری ہوجائے تو میں اس سے نکاح کرلوں ۔ یا ذکر کا مطلب یہ ہے کہ ان کے خیال میں لگے رہو گے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بیوہ عورت عدت کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور میں یونہی رہ جائوں ۔
بہر حال اس قسم کے تذکرے اور ذکر اذکار کا کوئی مضائقہ نہیں لیکن کھلم کھلا اس پوشیدہ بات کا وعدہ نہ کر رکھو ۔ سر کے معنی پوشیدہ اور خفیہ چیز کے ہیں یہاں لوگوں نے مختلف معنی بیان کئے ہیں ہم نے ان معنی میں سے نکاح کو اختیار کیا ہے ۔ آیت زیر بحث میں قول معروف سے وہی تعریض مراد ہے یعنی مگھم میں اشارۃ ًکچھ کہنے کی اجازت ہے۔ ربا عزم نکاح اور وہ بھی عدت میں سو وہ حرام ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ عدت موت کی ہو یا طلاق بائن کی اس کے دوران میں یہ کسی مرد کو جائز نہیں کہ صاف الفاظ میں عورت سے نکاح کی بات چیت کرے یا اس سے کوئی وعدہ حاصل کرے یعنی تصریحا ً پیغام دینا حرام ہے اور اشارۃ ً مگھم میں کہنا جائز ہے اور دل سے یہ ارادہ کرنا کہ عدت ہی میں اس سے نکاح کرلوں گا یہ حرام ہے اور دل میں یہ ارادہ کرنا کہ عدت گزرنے کے بعد اس سے نکاح کروں گا یہ جائز ہے اور جو عورت رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو اس سے تصریحا ً اور تعریضا ً دونوں طرح حرام ہے۔ ( واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب (رح) ارشاد فرماتے ہیں یعنی عورت ایک خاوند سے چھوٹی ہے اور عدت میں ہے تب تک کسی اور کو روا نہیں کہ اس سے نکاح باندھ لیوے یا صاف کر رکھے مگر دل میں نیت رکھے کہ یہ فارغ ہوگی تو میں نکاح کروں گا یا اس کو پردے میں سنا رکھے تا اس سے پہلے کوئی اور نہ کہہ بیٹھے پر وہ یہ کہ ایک بات کہ دے مروج سے مثلاً عورت کو کہے کہ تجھ کو ہر کوئی عزیز کرلے گا یا کہے کہ مجھ کو ارادہ نکاح ہے۔ (موضح القرآن)
اب آگے اطلاق اور مہر کے متعلق چند اور مسائل کا ذکر فرماتے ہیں ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:236ف 1۔ اگر تم عورتوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ تو تم نے ان سے ہم بستری کی ہو اور نہ ان سے خلو ت صحیحہ ہوئی ہو اور نہ نکاح کے وقت کوئی ان کا مہر مقرر کیا ہو تو تم پر ان کو مہر نہ دینے میں کچھ گناہ نہیں اور نہ تم پر ان کے مہر کا کوئی مطالبہ اور مواخذہ ہے ۔ البتہ ایسی عورتوں کو کوئی فائدہ ضرور پہنچائو اور ان کے ساتھ کوئی سلوک ضرور کرو یہ سلوک کرنا دستور اور قاعدے کے مطابق ہو اور صاحب حیثیت اور صاحب مقدرت پر یہ سلوک اس کی حیثیت کے لحاظ سے ہے اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے لحاظ سے لازم ہے ، نیز یہ سلوک کرنا اور فائدہ پہنچا نا نیکو کار اور خوش معاملہ لوگوں پر ضروری اور واجب ہے۔ ( تیسیر)
جناح جنوح سے ہے جس کے معنی مائل ہونے کے ہیں میانہ روی اور خیر سے شرک کی طرف مائل ہوجانا مراد ہے یہی اثم اور گناہ کا مفہوم ہے۔ متاع کا مفہوم ہم اوپر عر ض کرچکے ہیں ۔ تمتیع کے معنی متعہ دینے کے ہیں یعنی ان کو نفع پہنچائو ، فائدہ دو ۔
عورتوں کی طلاق کے سلسلہ میں جہاں جہاں یہ لفظ آیا ہے وہاں اس کے معنی یہی ہیں ۔ متعہ دنیا آیت زیر بحث میں متعہ سے مراد ہے ایک جوڑا ان کو دے دو ۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح طلاق کی مختلف صورتیں ہیں اسی طرح عورت کی بھی با اعتبار مہر اور ہم بستری وغیرہ مختلف صورتیں ہیں ۔ مثلاً چار صورتیں تو ظاہر ہی ہیں۔
1۔ عورت سے نکاح کرتے وقت کچھ مہر مقرر ہی نہیں کیا اور مہر کا نام ہی نہیں لیا اور طلاق بھی ہاتھ لگانے سے پہلے دیدی نہ ہم بستری ہوئی نہ خلوت صحیحہ۔
2۔ نکاح کرتے وقت مہر کی کوئی خاص رقم یا کوئی چیز مقرر ہوئی اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی۔
3۔ نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہیں ہوا مگر طلاق ہم بستری کے بعد یا خلوت صحیحہ کے بعد دی۔
4۔ نکاح کے وقت مہر مقرر ہو اور طلاق خلوت صحیحہ یا ہم بستری کے بعد دی زیر بحث آیت اور اس کے آگے آیت میں صرف پہلی اور دوسری صورت کا ذکر ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس عورت کا کوئی مہر مقرر نہ تھا اور طلاق بھی ہاتھ لگانے اور خلوت صحیحہ سے قبل دے دی تو ایسی عورت کا مہر نہ دینے کا تم پر کوئی مطالبہ نہیں ۔ ہاں ! اس کو کپڑوں کا ایک جوڑا شرعی دستور کے مطابق ضرور دے دو یعنی ایک کرتہ ایک کسادا یا سر بند ۔ اور ایک لمبی چادر جس میں عورت کا تمام جسم ڈھک جائے یہ جوڑا جس کو قرآن نے متعہ فرمایا ہے یہ نیک لوگوں پر یعنی مسلمانوں پر واجب ہے اور اس جوڑے میں مراد کی حیثیت کا اعتبار ہے مال دار ہو تو تینوں کپڑے بڑھیا ہوں اور غریب ہو تو معمولی دیدے مگر کسی طرح پانچ درہم سے کم قیمت کے نہ ہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس عورت کا کوئی مہر مقرر نہ تھا اور طلاق بھی ہاتھ لگانے اور خلوت صحیحہ سے قبل ہی دے دی تو ایسی عورت کا مہر نہ دینے کا تم پر کوئی مطالبہ نہیں ۔ ہاں ! اس کو کپڑوں کا ایک جوڑا شرعی دستور کے مطابق ضرور دے دو یعنی ایک کرتہ ایک کساد یا سر بند ، اور ایک لمبی چادر جس میں عورت کا تمام جسم ڈھک جائے یہ جوڑا جس کو قرآن نے متعہ فرمایا ہے یہ نیک لوگوں پر یعنی مسلمانوں پر واجب ہے اور اس جوڑے میں مرد کی حیثیت کا اعتبار ہے مال دار ہو تو تینوں کپڑے بڑھیا ہوں اور غریب ہو تو معمولی دیدے مگر کسی طرح پانچ درہم سے کم قیمت کے نہ ہوں ۔
جس عورت سے خاوند نے میری ہم بستری نہ کی ہو اس کو غیر مدخول بہا اور جس سے ہم بستری کی ہو اس کو مد خول بہا کہتے ہیں ۔ یہ دونوں اصلاحیں یاد رکھنے سے آئندہ مسائل سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگر نکاح کے وقت مہر کہنے میں نہ آیا بھی نکاح کے وقت مہر کہنے میں نہ آیا تو بھی نکاح درست ہے مہر پیچھے ٹھہر رہیگا اگر بن ہاتھ لگائے عورت کو طلاق دے تو مہر کچھ لازم نہ آیا لیکن کچھ خرچ دینا ضرور ہے خرچ کیا ایک جوڑا پوشاک کا موافق اپنے حال کے۔ ( مواضح القرآن)
شاہ صاحب (رح) نے اس کی تصریح فرما دی کہ نکاح بہر حال ہوجائے گا خواہ مہر کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے جس عورت کا مہر نکاح کے وقت مقرر نہ کیا جائے تو اس کو مہر مثل دینا ہوتا ہے مہر مثل کا مطلب یہ ہے کہ جو عورت کی قوم میں دستور ہو یعنی اس عمر کی اور اس شکل و صورت وغیرہ کی عورت کا مہر اس کی قوم میں بندھا کرتا ہو یا جو اس عورت کی بہنوں یا پھوپھیوں کا ہو ۔ غرض درھیال کی لڑکیوں میں سے اس جیسی لڑکی کا جو مہر مقرر ہوتا ہو وہ مہر شل کہلاتا ہے اب آگے اس دوسری صورت کا ذکر فرماتے ہیں یعنی نکاح کے وقت مہر مقرر ہوا تھا مگر طلاق ہاتھ لگانے اور خلوت صحیحہ سے پہلے دی ۔ خلوت صحیحہ چونکہ ہم بستری کے قائم مقام ہے اس لئے ہم اس کو ہر بار ذکر کردیتے ہیں۔ ( تسہیل)
Ayah 2:237ف 2 اور اگر تم ان عورتوں کو ہم بستری اور خلوت صحیحہ سے قبل طلاق دو اور نکا ح کے وقت تم ان عورتوں کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جو مہر تم نے ان کے لئے مقرر کیا تھا اس کا آدھا ان کو دینا واجب ہے اور باقی آدھا مہر ساقط اور معاف ہے مگر وہاں دو صورتیں اس قانون سے مستثنا ہیں ایک تو یہ کہ وہ عورتیں تم کو خود اپنا آدھا مہر بھی معاف کردیں یعنی جو آدھا ان کو لینا تھا وہ خود ہی خاوند کو معاف کردیں ۔ دوسری یہ کہ وہ شخص جس کے اختیار میں نکاح کا باقی رکھنا اور توڑنا ہے اور نکاح کا تعلق جس کے قبضہ میں ہے وہ در گزرکر دے اور رعایت کر دے یعنی باقی آدھا مہر بھی عورت کو دے دے اور بجائے نصف مہر کے پورا مہر ادا کر دے اور اے اہل حقوق اپنے اپنے حقوق وصول کرنی کی بجائے ان حقوق کا معاف کردینا تقویٰ اور پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے اور تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ احسان کرنے اور رعایت دینے کو ترک نہ کرو اور اس کام سے غفلت نہ برتو اور یقین جانو کہ تمہارے تمام اعمال اللہ تعالیٰ ملاحظہ فرماتا اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سب کو خوب دیکھتا ہے۔
لہٰذا اگر باہم احسان اور روداری کا طریقہ اختیار کرو گے تو وہ اس کا اجر تم کو عطا فرمائے گا ۔ ( تیسیر)
عقدۃ النکاح سے مراد وہی ربط اور ارتباط ہے جس کا ترجمہ بعض حضرات نے گرہ کیا ہے اور ہم نے تعلق اور معاملہ کیا ہے ۔ مراد اس سے خاوند ہے کیونکہ اسی کے قبضہ میں نکاح کی گرہ ہے چاہے وہ بندھی رکھے ب اطلاق دے کر کھول دے۔
مطلب یہ ہے کہ نکاح کے وقت مہر ٹھہرایا ہو اور طلاق ہمبستری سے پہلے دی ہو تو اس کو مقررہ مہر کا نصف دے دو اب اگر وہ خود یہ کہہ دے کہ میں نے معاف کیا میں کچھ نہیں لیتی تو وہ آدھا بھی معاف ہوجائے گا یا خدا تعالیٰ خاوند کو ایسی توفیق دے کہ وہ اس کو پورا مہر دے دے اور عورت کے ساتھ رعایت کر دے۔
وان تعفوا میں بعض حضرات نے خطاب صرف مردوں کے لئے رکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خاوند کو رعایت کرنا تقویٰ سے قریب تر ہے اور بعض نے مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب بنایا ہے چونکہ ہم نے دوسرے قول کو اختیار کیا ہے اس لئے اہل حقوق کو مخاطب کیا ہے۔
فرمایا نبی کریم ﷺ نے آدمی کو بخیل اور حریص بننے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ حق وصول کرنے میں یوں کہے۔ احذحقے لا اترک منہ شیئا یعنی میں تو اپنا پورا حق وصول کروں گا اور اپنے حق میں سے ایک پیسہ بھی نہیں چھوڑوں گا اسی در گذر کرنے کی آگے اور تاکید فرمائی کہ دیکھو آپس میں فضل و احسان کو فراموش نہ کرو بلکہ حقو ق وصول کرنے میں ایک دوسرے کے ساتھ رواداری اور احسان کا برتائو کرو ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر مہر ٹھہر چکا تھا پھر بن ہاتھ لگائے اطلاق دے تو آدھا مہر لازم ہوا مگر عورتیں در گزرکریں کہ بالکل چھوڑ دیں یا مرد در گزر کر جو مختار تھا نکاح رکھنے کا اور توڑنے کا کہ پورا مہر حوالے کرے پھر فرمایا مردد رگزر کرے تو بہتر ہے کیونکہ اللہ نے بڑائی دی ہے مرد کی طرف کو اور اس کو مختار کیا نکاح رکھنے اور توڑنے کا تو اپنی بڑائی رکھے۔
فائدہ :۔ چار صورتیں ہوسکتی ہیں یہاں دو کا حکم فرمایا ، ایک یہ کہ مہر نہ ٹھہرا تھا اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دوسرے یہ کہ مہر اٹھا اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے اورد و صورتیں باقی رہیں ایک یہ کہ مہر ٹھہرا تھا اور ہاتھ لگا کر طلاق دے تو پورا مہر لازم ہو یہ سورة نساء میں مذکور ہے۔
دوسرے یہ کہ مہر نہ ٹھہرا تھا اور ہاتھ لگا کر طلاق دے اس میں مہر مثل پورا دینا چاہئے یعنی جو اس عورت کی قوم میں رواج ہے اور جب خلوت ہوچکی تو گویا ہاتھ لگایا ۔ ( موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کی وضاحت اسی تقدیر پر ہے جبکہ وان تعفوا میں خاوند مراد ہوں ، پھر مطلب یہ ہوگا کہ خاوندوں کا رعایت کرنا تقویٰ سے قریب تر ہے اور تم اس فضلیت پر بزرگی کو فراموش نہ کرو جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دی ہے ۔ بہر حال دونوں ہی قول ہیں اور دونوں کی گنجائش ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وان تعفوا میں تمام اہل حقوق کو خطاب ہو ( واللہ اعلم)
رہا یہ شبہ کہ عورت کے لئے تو عفو کا لفظ صحیح ہے کیونکہ وہ اپنا حق معاف کرتی ہے لیکن مرد کیلئے یہ لفظ کیسے صحیح ہوسکتا ہے کیونکہ مرد تو معاف کچھ نہیں کرتا بلکہ وہ تو حق سے زیادہ دیتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ محض مشاکلت اور مماثلت کے باعث فرمایا ہے۔ حضرت جبیر بن مطعم نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا ۔ پھر اس کو ہاتھ لگانے سے قبل طلاق دے دی اور پورا مہر دیا اور فرمایا انا الحق بالعفو میں معاف کرنے کا زیادہ مستحق ہوں ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نکاح کے بعد خاوند کے ذمہ پر پورا مہر تھا مگر جب اس نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی تو نصف مہر کے استردادا کا اس کو حق حاصل ہوگیا اور اس نے اپنے اس حق کو استعمال نہیں کیا اور اپنے حق استرداد کو چھوڑ کر عورت کو پورا مہردے دیا ۔ تو گویا خاوند نے اپنے حق سے درگزر کیا اس لئے اس کو بھی عفو فرمایا ۔
چار صورتیں جو ہم نے اوپر عرض کی تھیں شاہ صاحب (رح) نے ان سب کی تفصیل فرما دی دو تو یہاں مذکور ہی ہیں ایک انشاء اللہ تعالیٰ سورة نساء میں آجائے گی اور چوتھی کا جواب شاہ صاحب (رح) نے فرما دیا اب سب کا خلاصہ اس طرح ہوا۔
1۔ مہر مقرر نہ تھا اور طلاق ہاتھ لگانے سے پہلے دی تو مہر کچھ نہیں ہاں ایک جوڑا دینا واجب ہے۔
2۔ مہر مقرر تھا اور ہاتھ لگانے سے قبل طلاق دی تو آدھا مہر ادا کرنا واجب ہے اور فریقین کی رعایت کرنا بہتر ہے یہ دونوں صورتیں یہاں مذکور ہیں۔
3۔ مہر مقرر تھا اور ہم بستری کے بعد طلاق دی تو اس پر پورا ادا کرنا واجب ہے۔
4۔ مہر مقرر نہ تھا اور ہاتھ لگانے یعنی ہم بستری کے بعد طلاق دی تو مہر مثل ادا کرنا ہوگا ، مہر مثل وہ جو عورت کے خاندان میں دستورہو۔
ضرور ی فائدہ :۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ موت کی حالت طلاق سے مختلف ہے ان ہی چار صورتوں میں اگر طلاق دینے کی بجائے خاوند مرجائے اور اس کی موت آجائے تو مسئلہ کی صورت اس طرح ہوگی اگر مہر مقرر نہ تھا اور ہم بستری سے قبل مرگیا یا ہم بستری کے بعد مرگیا تو ان دونوں صورتوں میں ہم مثل لازم ہوگا اور پورا لازم ہوگا اور اگر مہر امقرر ہوا تھا اور خاوند ہم بستری سے قبل مرگیا یا ہمبستری کے بعد مرگیا تو ان دونوں صورتوں میں اس کے ذمہ جو مقرر ہوا تھا لازم ہوگا اور پورا لازم ہوگا ، آخر میں پھر عرض کیا جاتا ہے کہ خلوت صحیحہ بھی ہم بستری کے قائم مقام ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:238ف 3 تمام نمازوں کی حفاظت اور ان پر مداومت اور ہمیشگی کیا کرو اور خاص طور پر درمیان والی نماز یعنی نماز عصر کی محافظت کیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں مودب اور نیاز مند نہ کھڑے ہوا کرو۔ ( تیسیر)
محافظت سے یہاں مداد مت مراد ہے۔ وسطی اوسط کی مؤنث ہے ۔ وسط کی ہم پوری بحث سیقول کی ابتداء میں کرچکے ہیں ۔ قنوت نے تقریباً بارہ تیرہ معنی علماء نے کئے ہیں ۔ مثلاً طاعت ، خشوع دعا ، دوام ، سکوت وغیرہ لیکن اس آیت میں عام مفسرین کے نزدیک سکوت راجح اور مختا رہے اسی طرح صلوٰۃ وسطی کے بارے میں بھی اٹھارہ قول ہیں ۔ مثلاً ہر نمازصلوٰۃ وسطی ہوسکتی ہے بعض نے کہا مغرب بعض نے کہا ظہر ، بعض نے کہا فجر ، لیکن ان اقوال میں بھی سب سے راجح اور مختار عصر کی نماز کا قول ہے۔
مطلب یہ ہے کہ تمام نمازوں کی شان یہ ہے کہ ان کی پابندی کی جائے اور ان کے اوقات کی نگہداشت رکھی جائے اور ان کے فرائض و واجبات اور آداب و مستحبات کی رعایت کی جائے لیکن عصر کی نماز کی خصوصیات کے سامنے حفاظت کیا کرو اور حضرت حق کی جناب میں خشوع و خضو ع کے ساتھ با ادب اور خاموش کھڑے ہوا کرو ۔ یعنی نماز میں کوئی حرکت ایسی نہ کیا کرو جو نماز کے منافی ہو اور نہ کوئی باہم کلام کیا کرو۔
ابتدا میں لوگ نماز میں باتیں کیا کرتے تھے اس آیت کے بعد نماز میں بات کرنا بند ہوا ۔ غزوۂ خندق میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا، خدا ان کافروں کی قبروں کو اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے انہوں نے ہم کو صلوٰۃ وسطی جو صلوٰۃ عصر ہے اس سے مشغول کردیا ۔ خندق کھودنے کی وجہ سے نماز عصر قضا ہوگئی تھی اس پر سرکار نے فرمایا تھا اور چونکہ عصر کا وقت کاروبار کا وقت ہوتا ہے اس لئے اس کی تاکید زیادہ ہے ۔ ایک اور روایت میں مرفوعا ً اس طرح آیا ہے کہ جس شخص سے عصر کی نماز فوت ہوگئی تو گویا اس کی اہل و عیال اور اس کا مال الٹ گیا ۔
صحیحین میں مرفوعا ً روایت ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے ان فی الصلوٰۃ لشغلا یعنی نماز میں ایک خاص شغل ہے اور نماز میں توجہ الی اللہ کی ضرورت ہے ایک اور روایت میں ہے کہ نماز ایک ایسی چیز ہے جس میں کلام نا س اور لوگوں کے لئے بات چیت کی گنجائش نہیں ہے ۔ نماز تو تسبیح تکبیر اور قرآن کی قرأت کا نام ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) ارشاد فرماتے ہیں بیچ والی نماز عصر ہے کہ دن اور رات کے بیچ میں اس کا تقید زیادہ کیا ہے اور طلاق کے حکم میں نماز کا حکم فرما دیا کہ دنیا کے معاملات میں غرق ہو کر بندگی نہ بھول جائو اس واسطے عصر کا تقید زیادہ ہے کہ اس وقت دنیا کا شغل اکثر ہے۔
فائدہ :۔ فرمایا کہ کھڑے رہو ادب سے تو جو حرکت جس سے آدمی معلوم ہو کہ نماز میں اس سے نماز ٹوٹتی ہے جیسے کھانا پینا یا کسی سے بات کرنی اور سو اس کے ( موضح القرآن)
چونکہ اوپر کی آیتوں میں طلاق ، مہر اور عدت وغیرہ کا ذکر تھا اور یہ ہر شخص جانتا ہے کہ میاں بیوی کے خانگی قصے ، عام طور سے طرفین کی کوتاہیوں سے پیدا ہوتے ہیں اور اس قسم کے جھگڑوں سے جو نقصانات فریقین کو پہنچتے ہیں وہ ہر شخص کم و بیش سمجھتا ہے اور عبادات ہوں یا معاملات دونوں میں جو کوتاہی ہوتی ہے اور ادائے حقوق میں جو قصور واقع ہوتا ہے وہ نفس کی خرابی سے ہوتا ہے اور ان سب امراض کا علاج اور پریشانیوں کو دوا نماز ہے اس لئے اس کا ذکر درمیان میں فرما دیا ۔ اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ نماز میں با ادب کھڑا ہونا چاہئے اور انسانی کلام سے اجتناب کرنا چاہئے تو نماز میں کوئی ایسا کام بھی نہ ہونا چاہئے جو نماز کے منافی اور مفسد صلوٰۃ ہو جس کو عمل کثیر کہتے ہیں ۔ عمل کثیر کے لوگوں نے مختلف مطلب بیان کئے ہیں سب سے زیادہ مشہور عمل کثیر سے ایسا فعل ہے جس سے دیکھنے والا یہ سمجھنے کہ یہ شخص نماز مں ی نہیں ہے۔ عمل کثیر کی اسی تعریف کو اپنے اکابر نے اختیار کیا ہے ۔ ( واللہ اعلم)
اب آگے آیت میں نماز کی اہمیت کو اور تفصیل کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔ ( تسہیلض
Ayah 2:239ف 4۔ پھر اگر تم کو پوری رعایت کے ساتھ نماز پڑھنے میں دشمن وغیرہ کا خوف اور اندیشہ ہو تو پھر جس طرح بن پڑے تماز ادا کرلو خواہ کھڑے کھڑے یا سواری پر چڑھے ہوئے ۔ پھر جب تم مامون ہو جائو اور تم کو اطمینان میسر ہوجائے اور خوف زائل ہوجائے تو تم اللہ تعالیٰ کو اس طریقے سے یاد کرو یعنی نماز اس طرح پڑھو جو طریقہ تم کو امن و اطمینا ن کی حالت میں اس نے سکھایا ہے جس کو تم سکھانے سے پہلے نہیں جانتے تھے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ نماز کی محافظت اور مداومت کی صورت وہی ہے کہ جملہ آداب و واجبات کی رعایت سے مؤدبانہ اور نیاز مندانہ نماز کو ادا کیا جائے ، لیکن اگر جنگ وغیرہ کی وجہ سے اس کام موقعہ نہ ملے تو پھر جس طرح ممکن ہو کھڑے کھڑے ہی ادا کرلو رکوع سجدے کا موقعہ نہ ہو تو اشارے ہی سے ادا کرلو ۔ رکوع کے لئے کم اور سجدے کے لئے تھوڑا سا زندہ جھک جائو ۔ قبلہ کی جہت نہ ہو تو بھی مضائقہ نہیں ۔ یہی حالت سواری کی ہے ۔ خواہ سواری کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا نہ ہو ۔ بہر حال نماز قضا نہ کرو ، ہاں اگر ایک جگہ کھڑے ہونے کا موقع بھی میسر نہ آئے یا معرکہ کار زار گرم ہو تو مجبورا ً نماز قضا کردی جائے گی اور اطمینان میسر ہونے کے بعد پڑھی جائے گی۔
بعض مفسرین نے صلوٰۃ الخوف کی دو صورتیں بتائی ہیں ایک تو وہ کہ جب خطرہ زیادہ ہو اور قتال جاری ہو دوسرے وہ جب کہ قتال جاری نہ ہو ۔ پہلی صورت میں نماز پڑھنے کا طریقہ اس آیت میں تعلیم کیا ہے اور دوسری صورت میں نماز کا طریقہ انشاء اللہ پانچویں پارے میں آئے گا۔
امام شافعی (رح) کے نزدیک ایسی حالت میں چلتے چلتے بھی نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک چلتے چلتے نہیں پڑھ سکتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لڑائی کا وقت ہو تو نا چاری کو سواری پر بھی اور پیادہ بھی اشارے سے نمازروا ہے گو کہ قبلے کی طرف بھی نہ ہو ۔ ( موضح القرآن)
اب آگے پھر عدت والی عورتوں کا ذکر فرماتے ہیں خواہ وہ متوفی عنہا زوجہ ہو یا مطلقہ ہوں ۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:240ف 1۔ اور جو لوگ تم میں سے مرنے لگیں یعنی موت کے قریب ہوں اور وہ اپنے پیچھے اپنی بیویاں چھوڑ رہے ہوں تو ان کو لازم ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے لئے ایک سال تک نان و نفقہ سے فائدہ اٹھانے اور گھر سے نہ نکالنے کی وصیت کر جایا کریں پھر اگر وہ چار مہینے دس دن کی عدت پوری کر کے خود بخودگھر سے نکل جائیں تو تم پر اس قاعدے کی بات میں کوئی گناہ نہیں جس کو وہ عورتیں اپنے بارے میں طے کریں اور اپنے حق میں جو بات تجویز کریں اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ ( تیسیر)
اسلام سے پیشتر زمانہ جاہلیت میں منجملہ اور بری بری رسموں کے ایک یہ رسم بھی تھی کہ خاوند کے مرجانے کے بعد عورت کو ایک سال تک عدت کراتے تھے اور عورت کو وحشیانہ تکالیف پہنچاتے تھے جیسا کہ اب بھی ان قوموں میں جو اسلام کی برکت سے محروم ہیں اس قسم کا دستورچلا آتا ہے کہ بیوہ کو نکاح نہیں کرنے دیتے اور اس سے برا سلوک کرتے ہیں اسلام نے بیوہ عورت کے لئے چار مہینے اور دس دن کی عدت مقرر کردی اور اگر بیوہ حمل سے ہو تو پھر اس کی عدت وضح حمل تک ہے خواہ کسی وقت بھی بچہ ہوجائے اور چونکہ ابتداء میراث کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اور محض مردے کی وصیت پر دینا دلانا ، موقوف تھا جیسا کہ اسی پارے کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے بیوہ عورتوں کے لئے یہ حکم دیا کہ ان کے حق میں سال بھر تک نان و نفقہ کی مرتے وقت وصیت کر جائو اور یہ بھی وصیت کر جائو کہ عورت کو سال بھر تک گھر سے نہ نکالیں اور عورت کو یہ اختیار دیا گیا کہ اگر وہ چاہے تو خاوند کے گھر میں ایک سال تک سکونت پذیر رہ سکتی ہے ۔ وارثوں کو نکالنے کا حق نہیں ہاں ! عورت کو یہ حق تھا کہ وہ چار مہینے دس دن پورے کرنے کے بعد یا اگر حاملہ ہو تو وضع حمل کے بعد اپنے حقوق سے دست بردار ہونا چاہے تو ہوسکتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب تک عورتوں کی میراث کا حکم نہیں آیا تھا اس وقت یہ حکم تھا کہ خاوند مرتے وقت عورت کے لئے ایک سال تک نان ونفقہ اور مکان میں رہنے کی وصیت کر جائے اسی کو متاعا ً فرمایا ہے ۔ جب عورتوں کی میراث کا حکم نازل ہوگیا تو اب یہ حکم باقی نہیں رہا ۔ بلکہ عورت اپنے خاوند کے ترکہ میں سے اپنے نان و نفقہ وغیرہ کا انتظام کرے وصیت کی ضرورت نہیں بلکہ کوئی وصیت کرے گا تو وصیت باطل ہوگی اور یہ جو فرمایا اگر خود بخود نکل جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عدت پوری کرنے کے بعد چلی جائیں تو تم پر یعنی حکام یا ورثاء پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ ان کو اختیار ہے اگر وہ فائدہ نہ حاصل کرنا چاہیں تو نہ کریں۔
معروف سے وہی شرعی قاعدہ مراد ہے وہ جو کچھ بھی کریں انہیں کرنے اور ان کے حق خود ارادیت میں شروع کوئی دخل نہ دو ۔ من معورف لا جناح علیکم کے متعلق کیا جائے یا فیما فعلن کے مطابق میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔ ہاں ! اگر خلاف شرع کسی حرکت کے اقدام کا ارادہ کریں تو ہر شخص کو حسب اطاعت روکنے کا حق ہے۔ عزیز اور حکیم کا وہی مطلب ہے اگرچہ وہ صاحب قوت میں لیکن جو حکم دیتے ہیں بندوں کی رعایت اور مصلحت کے لحاظ سے دیتے ہیں۔
شاید یہ آیت حکم بن حارث طائفی کی بیوہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ حکم بن حارث طائف سے مدینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے تھے وہیں انہوں نے وفات پائی تو نبی کریم ﷺ نے حکم کے دوسرے ورثاء پر تو ورثہ تقسیم کردیا لیکن بیوہ کو کچھ نہیں دیا اور فرمایا تمہارا حق سال بھر تک نان و نفقہ اور سکنیٰ ہے۔
بعض حضرات نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اسلام میں پہلے حسب دستور سابق ایک ہی سال کی عدت تھی اور یہ حکم اسی کا ہے البتہ میراث نہ ہونے کی وجہ سے سال بھر کے نان و نفقہ اور سکنیٰ کی وصیت کا حکم تھا۔ واللہ اعلم ! اگر ایسا ہوتا تو شاید لا جناح نہ فرماتے کیونکہ عدت کی مدت پوری کئے بغیر گھر سے نکلنے کی نہ اجازت ہوتی نہ اجازت دینے والے گناہ سے بچتے یہی با ت سمجھ میں آتی ہے کہ عدت تو چار مہینے دس دن مقرر ہوچکی تھی لیکن پرانی رسم کی وجہ سے عورتیں ایک سال تک رہنا چاہتی ہوں گی اس لئے وصیت کا حکم کردیا اور عورتوں کو اختیار دے دیا کہ عدت صرف چار مہینے دس دن ہے لیکن اگر تم بیٹھنا چاہو تو سال بھر تک کے لئے تمہارے نان نفقہ اور رہنے کا انتظام کردیا گیا ہے سال سے پیشتر چلی جائو تو تمہیں اختیار ہے مگر عدت کی میعاد پوری کر کے نکلو ۔ ( واللہ اعلم بالصواب)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حکم تھا جبکہ مردے کے اختیار پر رکھا تھا واوثوں کو دلوانا اب جو سب کے حصے اللہ صاحب نے ٹھہرا دیئے عورت کا بھی ٹھہرا دیا ۔ اب مردے کا دلوانا موقوف ہوا ( موضح القرآن)
جو تقریر اوپر عرض کی گئی ہے اس سے دوسرے مباحث کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور اس کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ ناسح نزول میں موخر ہے اور تلاوت میں مقدم ہے ۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ عدت تو سال بھر ہی مقرر فرمائی تھی ۔ مگر اختیاری تھی جیسا کہ چلپی نے اس کی تصریح کی ہے۔ بہرحال کوئی بھی صورت اختیار کی جائے لیکن اس میں سب کا اتفاق ہے اب عدت بیوہ کی صرف چار مہینے دس دن ہے اور عورت کی میراث مقرر ہوجانے کے بعد نا ن نفقہ وغیرہ کا حق ساقط ہوچکا ہے ۔ عورت صرف چوتھا یا آٹھواں حصہ پانے کی مستحق ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 2:241–242ف 2 اور سب مطلقہ عورتوں کے لئے دستور کے مطابق متاع یعنی فائدہ پہنچانا اور سلوک کرنا ہے اور یہ متاع ان لوگوں پر ایک حق ہے جو کفر و شرک سے بچنے والے ہیں یعنی مسلمان ہیں ۔ خواہ یہ حق و جو بی ہو یا اس کا پورا کرنا مستحب ہو۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے تا کہ تم عقل سے کام لو اور ان احکام کو سمجھو اور عمل کرو۔ ( تیسیر)
ہم نے اوپر متعلقہ عورتوں کی چار قسمیں بیان کی تھیں ۔ دو کا حکم بیان ہوچکا۔ باقی دو کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے چونکہ اس آیت کا مضمون اوپر والی آیتوں کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے اس لئے ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں اور سب مطلقہ عورتیں کہا ہے کیونکہ پہلی آیتوں سے صرف اس عورت کے لئے جوڑے کا وجوب معلوم ہوا تھا جس کا مہر مقرر نہ ہوا ہو اور ہم بستری سے پہلے ہی اس کو طلاق دے دی ہو تو ایسی عورت کو کپڑوں کا ایک جوڑا دینا واجب تھا۔ باقی تین قسموں کا حکم اس آیت میں بیان فرمایا کہ ان کو بھی ایک ایک جوڑا دے دو تو اچھا ہے یعنی اگرچہ ان کو مہر مثل یا مہر مقرر یا مقرر کا نصف ملتا ہے پھر بھی ان کو ایک ایک جوڑا دے دو تو یہ مستحق ہے۔
قرآن کریم میں جو حقا ً لفظ آیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ استحبابی حق ہے وجوبی نہیں اور متاع سے مراد کپڑوں کا ایک جوڑا ہے اور معروف سے مراد وہی ایک کرتہ ایک لمبی چادر اور ایک سر بند اور اگر لفظ متاع ہے مراد مہر ہو تو اب معنی یہ ہوں گے کہ جس عورت کا مہر مقرر نہ تھا اور اس کو ہم بستری سے پہلے طلاق دی گئی اس کو تو صرف ایک جوڑا دینا واجب ہے باقی مطلقہ عورتوں کو مہردینا واجب ہے ۔ کسی کو پورا کسی کو نصف کسی کو مہر مثل کا پورا یہ سب صورتیں اوپر عرض کی جا چکی ہیں اور حضر ت شاہ صاحب (رح) نے بھی اپنے حاشیہ میں فرما دی ہیں ہاں اس تقریر پر جبکہ متاع کے معنی مہر کے ہوں تو حقا ً کے معنی وجوب کے ہوں گے اور یہ مطلب ہوگا کہ یہ مہر ادا کرنا مسلمانوں پر واجب ہے ، اب رہا جوڑے کا استحباب تو وہ دوسرے دلائل سے ثابت ہوگا ، ہم نے تیسیر میں دونوں معنی کا لحاظ رکھا ہے ، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے خرچ فرمایا تھا یعنی جوڑا اس اطلاق پر کہ مہر نہ ٹھہرا ہوا اور ہاتھ نہ لگایا ہو ، یہاں سب پر حکم فرمایا ، سب طلاق والیوں کو جوڑا دینا بہتر ہے اور اس پہلی کو ضرور ہے ، حضرت شاہ صاحب (رح) نفقوں پر فرماتے ہیں ، یہاں حکم نکاح اور طلاق کے تمام ہوئے ( موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے جس پہلی کو ضرور فرمایا ہے وہ وہی ہے جس کا مہر نکاح کے وقت مقرر نہ کیا جائے اور ہم بستری سے قبل اس کو طلاق دے دی جائے ، باقی تین قسمیں وہی ہیں جو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں یعنی مہر مقرر اور ہم بستری سے قبل طلاق ، اس صورت میں نصف مہر، مہر مقرر اور ہم بستری کے بعد اس صورت میں پورا مہر ، مہر مقرر نہیں اور ہم بستری کے بعد طلاق اس صورت میں مہر مثل کا پورا ، ان تینوں صورتوں میں مہر کے ساتھ جوڑا دینا مستحب ہے اور پہلی صورت میں واجب ہے یہاں تک طلاق اور نکاح وغیرہ کا حکم ختم ہوگیا۔
اب آگے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے جو اعمال خیر اور بر کی بہت اہم قسم ہے اور جس کی فرضیت کا اوپر ذکر بھی آچکا ہے اور اس ترغیب کے ساتھ امم سابقہ کی امتوں میں سے کسی گروہ کا ذکر بھی بطور تمہید فرمایا ہے۔ یہ تمہید بھی ہے اور ترغیب کے لئے معاون بھی ہے اسی طرح جہاد اور انفاق کی ترغیب کے بعد بھی طالوت اور جالوت کی جنگ کا ذکر فرمایا ہے ، جس سے ثابت قدمی اور میدان جنگ میں صبر کی ترغیب اور توکل علی اللہ کی تائید ہوتی ہے پھر جنگ کا تذکرہ کرنے کے بعد جنگ کا فلسفہ بیان فرمایا ہے۔
غرض دوسرے پارے کے ختم تک تمام مضامین ایسے باہم مربوط ہیں جن میں کسی ربط بیا ن کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ( تسہیل)
Ayah 2:243ف 3 ۔ اے پیغمبر ! کیا آپ نے ان لوگوں کا واقعہ ملاحظہ نہیں فرمایا اور کیا آپ کو ان لوگوں کا واقعہ معلوم نہیں ہوا ۔ جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل گئے تھے حالانکہ وہ ہزاروں کی تعداد تھے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ تم سب مر جائو ، چناچہ وہ مرگئے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو جلا دیا ، ی قین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے حال پر بڑا فضل فرماتا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں بجا لاتے یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل و انعامات پر اس کا شکر ادا نہیں کرتے ( تیسیر)
الم تر میں خطاب یا تو نبی کریم ﷺ کو ہے یا ہر مخاطب کو عام ہے اور چونکہ یہ یہ قصہ بنی اسرائیل میں بہت مشہور تھا اور ان کی کتابوں اور تاریخوں میں مذکور تھا اس لئے بجائے جاننے اور معلوم فرمانے کے دیکھنا فرمایا یعنی بجائے علم کے رویت فرمایا اور کسی ایسے قصے کے متعلق جو مشہور اور خلائق کے زبان زد ہو ۔ اہل لسان ایسے بولا کرتے ہیں ۔ دہلی والے اکثر 7581ء کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو کہا کرتے ہیں تم نے دیکھا نہیں عذر میں کیسے کیسے مظالم مسلمانوں پر ہوئے حالانکہ وہ آنکھوں سے دیکھنے والا آج کوئی بھی موجود نہیں ۔ آئندہ بھی جہاں جہاں گزشتہ زمانے کے واقعات کو رویت سے تعبیر کریں ۔ یہی مطلب سمجھنا چاہئے۔ بہر حال پہلے لوگوں میں سے داد دان کے رہنے والوں کا واقعہ ہے یا واسط کے لوگوں کا یا اذرعات کے رہنے والوں کا ہے جن کی تعداد خواہ کچھ بھی ہو لیکن دس ہزار سے زائد تھی جیسا کہ لفظ الوف سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ الوف الف کی جمع کثر ہے۔ یہ لوگ طاعون سے یا غنیم کے حملہ سے بچ کر بھاگے تھے اور اس خیال سے بھاگے تھے کہ موت سے بچ جائیں گے ، لیکن جب بھاگ کر نیچے کی وادی میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موت کا حکم پہنچا اور بغیر کسی مرض کے سب مرگئے اور آٹھ دن کے بعد خدا نے ان کو زندہ کردیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ طویل مدت کے بعد زندہ ہوئے ہوں اور کسی نبی کی دعا سے زندہ ہوئے ہوں اور ان نبی کا نام حزقیل ہو۔
چونکہ مختلف اقوال ہیں اس لئے ہم نے صرف خلاصہ عرض کردیا ہے موت دنیا اور زندہ کردینا اس لئے ہوا ہوتا کہ یہ لوگ سمجھیں کہ موت اور زندگی حضرت حق کے قبضے میں ہے اور وہی موت وحیات کا مالک ہے وہ چاہے تو بلا کسی سبب کے موت دے دے اور چاہے تو ہزاروں خطرات سے بچا نکالے۔ یہ لوگ موت کے خوف سے نکلے تھے اور باوجود نکل آنے کے پھر موت سے نہ بچے سکے۔
حضرت خالد بن ولید ؓ نے بستر مر گ پر فرمایا تھا۔ میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی نہ ہوا ۔ بیشمار جنگ کے میدان میں گیا لیکن ہائے آ ج گدھے کی طرح بستر پر مر رہا ہوں یعنی اس پر افسوس کرتے تھے کہ میدان جنگ میں مر کر شہید کیوں نہ ہوا ۔ ہزارہا خطرات میں مبتلا ہو لیکن آجب بستر پر جان دے رہا ہوں ۔ ان لوگوں کا واقعہ بیان فرما کر مجاہدین کو ہمیت دلانی مقصود ہے کہ موت سے ڈر کر جہاد سے نہ بھاگو اور اسی طرح طاعون سے ڈر کر بھاگنے والوں کو بھی تنبیہ ہے کہ دیکھو ! بھاگنے والوں کو موت نے کس طرح آلیا ۔ جس طرح جہاد سے بھاگنا حرام ہے اسی طرح طاعون سے بھاگنا بھی حرام ہے اور یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا صاحب فضل ہے یہ اس لئے کہ مار کر زندہ کیا اور دونوں حالتوں کا مشاہدہ کرا دیا اس کی طرف اشارہ ہو امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح کے لئے یہ واقعہ سنایا تا کہ امت محمدیہ ﷺ کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہو یہ بڑا فضل ہے اور یہ جو فرمایا کہ اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا شکر ادا کرنا ۔
چاہئے اس طرح شکرادا نہیں کرتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عبرت و بصیرت سے کام نہیں لیتے کسی واقعہ کو سن کر اس سے نصیحت و عبرت حاصل کرنا یہی بڑا شکر ہ۔
مرنے کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے نے کہا مرجائو اور اللہ تعالیٰ کی طرف یہ حکم تخویف کی غرض سے اسناد کیا گیا ہو یا یہ مطلب ہے کہ بغیر کسی مرض اور سبب کے محض مشیت الٰہی کی بناء پر موت واقع ہوئی اس لئے حضرت حق کی جانب حکم کا اسناد کیا گیا۔ واللہ اعلم۔
آج کل کے بعض جدت پسند حضرات نے اس آیت میں بہت سی توجیہات و تاویلات کی ہیں حالانکہ ان رکیک تاویلات کی ضرورت نہیں ہے ۔ حقیقی معنی پر نہ کوئی استعباد و استحالہ لازم آتا ہے اور نہ کسی ایسے واقعہ سے جو بطورخرق عادت واقع ہوا ہو کوئی قاعدہ کلیہ ٹوٹتا ہے جو بلاوجہ مجازی معنی کو تلاش کیا جائے اور درواز افکار توجیہات کا دروازہ کھولا جائے اور قرآن کی تفسیر ملحدین یورپ سے مرعوب ہو کر کی جائے۔
نعوذ باللہ من ذلک حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ پہلی امت میں ہوا ہے کہ کئی ہزار شخص گھر بار لے کر اپنے وطن کو چوڑ نکلے ۔ ان کو ڈرا ہوا غنیم کا اور لڑنے سے جی چھپایا ڈرا ہوا وبا کا اور یقین نہ ہو تقدیر کا ایک منزل میں پہنچ کر سارے مرگئے۔ پھر سات دن کے بعد پیغمبر کی دعا سے زندہ ہوئے کہ آگے کے توبہ کریں ۔ یہاں اس واسطے فرمایا کہ جہاد سے جی چھپانا عبث ہے۔ موت نہیں چھوڑتی ( موضح القرآن)
اب اس تمہید کے بعد اصل مقصد کا ذکر فرماتے ہیں وہ جہاد فی سبیل اللہ اور جہاد کے لئے مال کا خیرات کرنا ہے۔ ( تسہیل)
Ayahs 2:244–245ف 1۔ جو قصہ مذکور ہوا اس پر غور کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرو اور اس بات کو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا اور سب کی نیتوں کو جانتا ہے کون ایسا شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھے طور پر یعنی اخلاص کے ساتھ قرض دے تو اللہ تعالیٰ اس کے قرض دینے کے اجر وثواب کو دگناکر دے اس طور پر کہ اس دگنے میں بہت سے دگنے ملا دے یعنی بےانتہا ثواب بڑھا دے اور اللہ تعالیٰ ہی تنگی دیتا ہے اور وہی کشائش عطاء کرتا ہے اور تم اسی کی طرف واپس کئے جائو گے۔ ( تیسیر)
ان دونوں آیتوں میں جہاد فی سبیل اللہ اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی قرض مجازا ً فرمایا ہے ورنہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی سب کا مالک ہے ۔ قرض کے معنی قطع اور کاٹنے کے ہیں لیکن بلا پر بولتے ہیں خواہ وہ اچھی ہو یا بری اور گزشتہ اعمال پر بھی قرض بولا کرتے ہیں خواہ وہ اچھے ہوں یا برے ہوں ۔ یہاں قرض اقراض کے معنی میں ہے اور جس طرح جانوں کے بدلے میں جنت کی بیع کو کنایہ کے طور پر فرمایا ہے اسی طرح فی سبیل اللہ خرچ کر کے ثواب لینے کو قرض سے کنایہ کیا ہے ورنہ حقیقتاً اللہ تعالیٰ قرض مانگنے سے منزہ اور پاک ہے۔
واللہ ھو الغنی الحمید قرض حسنہ کو تفسیر میں بعض نے اخلاص کیا ہے جس میں ریا اور دکھاوا نہ ہو۔ بعض نے جہاد میں خرچ کرنے کو قرض حسنہ کہا ہے کسی نے خوش دلی سے دینے کو کہا جس میں سائل پر احسان نہ رکھا جائے اور تکلیف نہ دی جائے کسی نے کہا ثواب کی امید پر دینے کو قرض حسنہ کہتے ہیں ۔ بعض نے کہا وصول کرتے وقت تقاضے میں سختی نہ ہو۔ کسی نے کہا قرض دار سے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا جائے۔
ضعف کے معنی ہیں کسی چیز میں اس کی مثل اور اس کے برابر اور ملادینا جس کو ہمارے ہاں دگنا کرنا کہتے ہیں یہ ضاد کے کسرے سے ہے باقی ضمہ سے ہو تو کمزوریے معنی ہوں گے ۔ بعض اہل لغت نے ضاد کے فتحہ کے ساتھ بھی یہی معنی کئے ہیں۔
حضرت حق تعالیٰ نے لفظ ضعف کی جمع فرمائی پھر کثیرہ اور بڑھایا ایک مرتبہ دگنا کرنا نہیں بلکہ بیشمار مرتبہ اس میں دگنے ملاتے رہنا ۔ جب ہی تو حدیث میں فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ ایک کھجور کے ٹکڑے کے برابر صدقہ کو اس طرح پا لتا ہے جس طرح تم لوگ گھوڑے کے بچہ کو پالتے ہو قیامت میں وہ کھجور کا ٹکڑا احد پہاڑ کے برابرہو گا ۔ حساب میں جسے ذواضعااقل کہتے ہیں اس کا مقابل ہے وہاں تقسیم کرتے کرتے چھوٹا عدد نکالتے ہیں اور یہاں دوگنا دو گناہ کرتے کرتے اس کو شمار سے باہر کردیتے ہیں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرض حسنہ والے کے ثواب کے سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا۔
ابن المنذر نے حضرت سفیان ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب آیت من جاء الحسنۃ نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے دعا کی : ” الٰہی میری امت کا ثواب بڑھا دے “ پھر الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کی آیت نازل ہوئی تب بھی آپ ﷺ نے یہی فرمایا :
پھر من ذالذین یقر من اللہ کی آیت نازل ہوئی اس پر بھی حضور ﷺ نے یہی فرمایا ۔ پھر آخر میں آیت انما یو فی الصابرون اجرھم بغیر حساب نازل ہوگئی ۔ قبض کے معنی تنگی اور بسط کے معنی کشائش ہے ۔ اردو میں یہ دونوں لفظ استعمال ہوتے ہیں ۔ حقیقت یہ یہ کہ تنگ دستی اور گشائش حضرت حق ہی کے قبضے میں ہے اس لئے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ڈرنا اور گھبرانا نہیں چاہئے ۔
حضرت ابو لد حداح انصاری ؓ کا واقعہ طبرانی اور بیہقی نے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس آیت کو سن کر وپوچھایا رسول اللہ ﷺ ! کیا خدا تعالیٰ قرض طلب کرتا ہے آپ نے فرمایا ہاں ! انہوں نے عرض کیا اپنا ہاتھ بڑھایئے۔ سرکار کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا میں نے اپنا وہ باغ جو چاردیواری میں ہے اللہ تعالیٰ کو قرض دیا اس باغ میں کھجورں کے چھ سو درخت تھے ان کے بیوی بچے بھی اس باغ میں رہتے تھے باغ کے دروازے پر کھڑے ہو کر اپنی کو آواز دی اور اس سے کہا بال بچوں کو لے کر نکل آ میں نے یہ باغ اللہ تعالیٰ کو قرض دے دیا ہے۔
ابن حبان اور بیہقی وغیرہ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ اتفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں سب سے پہلے تیسرے پارے کی آیت مثل الذین یفقون اموالھم نازل ہوئی ۔ جس میں ایک نیکی کو سات سو تک بڑھانے کا وعدہ ہے اس پر نبی کریم ﷺ نے دعا کی ۔ یا اللہ ! میری امت کے اجر کو زیادہ کر دے پھر یہ آیت من ذالذی نازل ہوئی ۔ پھر حضور ﷺ نے دعا فرمائی اس پر انما یو فی الصابرون کی آیت نازل ہوئی جس میں صراحتہ ً بیشمار اور ان گنت اجر کا وعدہ فرمایا ۔ قبض اور بسط کا مفہوم بہت عام ہے ہر وہ چیز جو روکی جائے اور ہر وہ چیز جس میں کشادگی کی جائے اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں خواہ وہ مال ہو عمر ہو برکت فی الاعمال ہو۔ عمل کی توفیق ہو ۔ قلب کا بخل یا سخاوت ہو ۔ نفس قلب کا قبض یا بسط ہو جو حضرات صوفیہ کی اصطلاح ہے یا شرح صدر اور ضیق صدر ہو۔
غرض ہرچیز کا قبض و بسط اللہ تعالیٰ ہی کے حیط اختیار میں ہے یہاں محض مال کی مناسبت سے تنگدستی اور فراخ دستی کا مفہوم اختیار کرلیا ہے ورنہ قرآنی مفہوم بہت وسیع ہے ۔ آخر میں باز گشت کا ذکر فرمایا تا کہ یہ بات معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے ۔ اگر خوش دلی سے خرچ کیا تو ثواب کی فروانی ہوگی اور اگر بخل کیا تو اللہ تعالیٰ مواخذہ فرمائے گا ۔ یہ آخری جملہ وعدہ اور وعید دونوں کو شامل ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ کو قرض دے یعنی جہاد میں خرچ کرے۔ اس طرح فرمایا مہربانی سے اور تنگی کا اندیشہ نہ رکھے۔ اللہ کے ہاتھ کشائش ہے۔ ( موضح القرآن)
اب آگے پہلی امتوں کے جہاد کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں ۔ یعنی طالوت اور جالوت کا تا کہ مسلمانوں کو تقویت ہو اور ہمت بڑھے۔ (تسہیل)
Ayah 2:246ف 2 کیا اے پیغمبر آپ کو بنی اسرائیل کی ایک جماعت کا وہ واقعہ معلوم نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد پیش آیا۔ بلکہ ان لوگوں نے اپنے زمانہ کے بنی حضرت شمویل سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے اور کسی شخص کو بادشاہت کے لئے نامزد فرما دیجئے تا کہ ہم اس کے ساتھ ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔
پیغمبرنے جواب دیا کیوں جی ! کیا اس کا بھی احتمال ہے اور تم سے اس کی بھ توقع ہے کہ اگر تم پر جہاد فرض کردیا گیا تو تم جہاد نہ کرو اور اس فریضہ کے بجا لانے میں تم سے کوتاہی ہو۔ اس پر بنی اسرائیل کے ان لوگوں نے جواب دیا بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے اور ہمارے لئے کون سی گنجائش اور کون سا سبب ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد نہ کریں حالانکہ ہم اپنے گھروں سے ان کافروں کے ہاتھوں نکالے گئے اور اپنے بیٹوں سے جدا کئے گئے ۔ پھر جب ان سوال و جواب کے بعد ان پر جہاد فرض کیا گیا اور ان کو جہاد کا حکم کیا گیا تو سوائے معدود دے چند اور تھوڑے سے آدمیوں کے جن کی تعداد تین سو تیرہ تھی باقی سب پھرگئے اور اللہ تعالیٰ ظالموں اور حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان سے خوب واقف ہے ، لہٰذا ان کو ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔ ( تیسیر)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل میں ابتری اور بد دینی پھیلی تو ان کے سنبھالنے کے لئے حضرت یوشع مقرر ہوئے اور حضرت یوشع کے بعد حضرت کالب آئے ، پھر حضرت الیاس آئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے الیسع کو بھیجا غرض پے در پے رسول آتے رہے ۔ مگر ان کی نافرمانی اور سرکشی بڑھتی گئی یہاں تک کہ توریت کو بھلا بیٹے اور فسق و فجور میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور قوم عمالقہ جو مصر اور فلسطین کے ساحلی علاقہ میں آباد تھی ان پر حملہ آور ہوئی اور ان کو قتل کیا ۔ ان کے بہت سے صوبوں پر قبضہ کیا اور ان کی اولاد کو قید کرلیا اور اپنی بد اعمالی کے باعث کافروں کے زیر نگیں ہوگئے او جالوت کی رعایا بن گئے اور اس کے زمانے میں بڑی بڑی سختیاں برداشت کرنی پڑیں اور ان پر بھاری بھاری ٹیکس مقرر کئے گئے آخر اللہ تعالیٰ نے ان میں شمویل نبی کو مبعوث کیا ان لوگوں نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر تم اللہ کے نبی ہو تو ہمارے لئے ایک اور امیر اور بادشاہ مقرر کرو تا کہ ہم ان کافروں سے جہاد کریں اور اپنے ملک کو ان ظالموں سے آزاد کرائیں شاید بنی اسرائیل میں یہ دستور ہوگا کہ جنگ وغیرہ کے انتظام و انصرام کے لئے ایک شخص کو امیرمقرر کیا جاتا ہوگا جو نبی کی زیر نگرانی اور نبی کے حکم کے موافق اس قسم کا انتظام کرتا ہوگا ۔
بہر حال پیغمبر نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مبادا اگر تم پر جہاد کا حکم جاری کیا گیا اور بادشاہ مقرر ہوگیا تو تم کہیں انکار نہ کردو اس پر انہوں نے بڑے وثوق سے یقین دلایا لیکن آخر کار وہی ہوا جس خطرے کا پیغمبر نے اظہار کیا تھا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک مدت بنی اسرائیل کا کام بنا رہا ۔ پھر جب ان کی نیت بری ہوگئی تو ان پر غنیم مسلط ہوا ۔ جالوت بادشاہ کافر نے ان کے اطراف کے شہرچھین لئے اور لوٹا اور بندی پکڑلے گیا وہاں کے بھاگے لوگ شہربیت المقدس میں جمع ہوئے۔
حضرت شمولیت (علیہ السلام) پیغمبر سے چاہا کہ کوئی بادشاہ با اقبال مقرر کرو کہ بغیر سردار با اقبال ہم لڑ نہیں سکتے۔ ( موضح القرآن)
الغرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے شمویل کو ایک نشان بتایا گیا اور حسن اتفاق سے وہ نشان طالوت پر صحیح نکلا ۔ یہ طالوت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے بن یامین کے خاندان سے تھے اور ایک عرصے سے دستور ایسا چلا آ رہا تھا کہ نبوت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے لا دی کے خاندان میں جاری تھی اور مملکت و بادشاہت حضر ت یعقوب کے صاحبزادے یہودا کی اولاد میں جاری تھی ۔ بن یامین کی اولاد میں نہ نبوت تھی ، نہ بادشاہت ، حضرت شمویل کے زمانے میں طالوت کی بادشاہت کا اعلان ہوا ۔ طالوت ایک غریب چرواہے تھے یا پانی بھرنے اور پلانے کا کام کرتے تھے کسی نے کہا وباغت پیشہ کرتے تھے ۔ بہر حال شمویل نبی نے ان کے نام کا اعلان کردیا تو اس پر بنی اسرائیل نے اعتراض شروع کردیئے۔ پیغمبر نے ان کا جواب دیا اور ان کی بادشاہت کے چند نشان فرمایئے ، چناچہ آگے ان ہی امور کا ذکر ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 2:247ف 1 اور ان لوگوں سے جو بادشاہ کا مطالبہ کر رہے تھے ان کے پیغمبر حضرت شمویل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت (علیہ السلام) کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے اس پر وہ کہنے لگے کہ طالوت کو ہم پر حکومت اور حکمرانی کا حق کیسے مل سکتا ہے حالانکہ اس کے مقابلہ میں ہم حکومت و حکمرانی کے زیادہ مستحق اور حق دار ہیں اور اس کو تو کچھ مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی۔ یہ سن کر ان کے پیغمبر نے جواب دیا کہ اول تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقابلے میں اس کو پسند اور منتخب فرمایا ہے اور پھر اس کی سیاسی امور اور جنگی فنون کا علم وسیع پیمانے پر دیا اور اس کے ظاہری جسم اور قدر و قامت کے پھیلائو میں اس کو زیادتی دی یعنی علم اور جسم دونوں باتیں اس کے مناسب اس کو زیادہ کردیں ، اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنا ملک اور اپنی بادشاہ عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ صاحب وسعت و کشائش اور بڑا جاننے والا ہے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ پیغمبر نے ان کے اعتراضات اور شبہے کے کئی جواب دیئے۔
1۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو انتخاب اور برگزیدگی کا حق حاصل ہے اس نے اس کو چن لیا اور پسند فرمایا ۔
2۔ پھر میدان جہاد میں سیاسی علم اور فن حرب کی ضرورت ہوتی ہے وہ علم اللہ تعالیٰ نے اس کو خوب شرح و بسط کے ساتھ دیا ہے۔
3۔ بادشاہ کو ظاہری وجاہت اور رعب و دبدبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لئے خدا تعالیٰ نے اس کو جسم کا پھیلائو کافی دیا ہے کہ تم سب میں وہ بلند قامت ہے اور ہر شخص کے دل میں اس کو دیکھنے سے ہیبت پیدا ہوتی ہے۔
4۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ مالک الموت ہے سلطنت اور بادشاہت سب اسی کی ہے وہ جس کو چاہے دے دے تم کون اس پر اعتراض کرنے والے۔
5۔ اللہ تعالیٰ صاحب وسعت و کشائش ہے اس کو یہ کیا مشکل ہے کہ وہ کسی کو مال بھی دیدے یہی تمہارا بڑا اعتراض اور شبہ تھا اور جب سلطنت دے دی تو مال کا شبہ ہی ختم ہوگیا ۔
6۔ وہ بڑا علیم اور جاننے والا ہے وہی خوب جانتا ہے کہ کون بادشاہت کا اہل ہے اور کس میں بادشاہت کی صلاحیت ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں طالوت کی قوم میں آگے سلطنت نہ تھی اور کسب کرتا تھا ان کی نظر میں حقیر لگا نبی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ سلطنت حق کسی کا نہیں اور بڑی لیاقت ہے۔ عقل اور بدن کی کشائش یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پیغمبر کو ایک عصا بتایا کہ جس کا قد اس کے برابر ہو سلطنت اس کو ہے اس کے برابر قد اسی کا آیا۔ ( موضح القرآن)
اور شاید انہوں نے طالوت کی بادشاہت پر کوئی اور ایسی دلیل اور نشانی طلب کی ہوگی جس کا وہ خود بھی مشاہدہ کرنا چاہتے ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے منجانب اللہ بادشاہ مقرر ہونے کی ایک اور دلیل فرمائی تا کہ بنی اسرائیل کو طالوت کے بادشاہ ہونے کی اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے تقریر پر کوئی شبہ نہ رہے اس آیت سے علماء اہل سنت نے امامت کی مورثیت کے ابطال پر استدلال کیا ہے۔ بسطۃ کے معنی فضلیت اور وسعت کے ساتھ کئے گئے ہم نے تیسیر میں دونوں کی رعایت رکھی ہے۔ (تسہیل)