1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsکشف الرحمٰن

Ayahs 1:1–3

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ Open ayah 1:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بےانتہا مہربان نہایت رحم والا ہے1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader

سب تعریفیں اس خدا کو لائق ہیں جو تمام عالموں کا رب ہے

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader

جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے

ف 1 اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بےحد مہربان ہے اور بےانتہا رحم کرنے والا ہے ۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس بڑی رحمت والی ہے اور اسکی رحمت و مہربانی بڑی ہی عام ہے ۔ میں اس سورت کو اسی کے نام کی برکت حاصل کرتے ہوئے شروع کرتا ہوں تا کہ آداب تلاوت میں اگر کوئی کوتاہی یا سہو ہوجائے یا کسی آیت کا مطلب سمجھنے میں غلطی ہوجائے تو خدائے تعالیٰ اپنی عام رحمت و مہربانی سے اس کو در گزر فرما دے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جن اہم اور ذی شان کام کو شروع کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی جائے اس کام میں کامیابی اور برکت نہیں ہوتی۔ (تسہیل)
Ayah 1:4

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader

جو روز جزا کا مالک ہے2

ف 2۔ سب تعریفیں اور حمد وثناء اس ہی اللہ تعالیٰ کو سزا دار اور لائق ہے جو ہر ایک کا مربی اور تربیت کرنے والا ہے وہ اللہ تعالیٰ بےحد مہربان اور بےانتہا مہربانی کرنے والا ہے وہ جزاء و سزا کے دن کا مالک ہے۔ ( تیسیر) حاصل یہ ہے کہ جو تعریفیں اب تک ہو چکیں یا آئندہ ہوں گی ان سب کا حقیقی مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے ، کیونکہ مخلوق میں سے جس چیز کی بھی تعریف کی جائے وہ درحقیقت خدا ہی کی تعریف ہے اس لئے کہ مخلوق کی تمام خوبیاں بھی حضرت حق ہی کی مرہون منت ہیں وہی ہر ایک عالم کا خواہ وہ عالم ملائکہ یا عالم جنات و انسان ہو یا عالم نباتات و جمادات ہو سب کا وہی خالق اور وہی پرورش کنندہ ہے ۔ رب کے بہت سے معنی ہیں ہم نے یہاں کی مناسبت سے خالق اور مربی کردیا ہے ۔ جزاء و سزا کا دن قیامت کا دن ہے کیونکہ اس دن ہر برے اور بھلے کو اس کے کیے کا بدلہ ملنے والا ہے اگرچہ ہر چیز کے حضرت حق تعالیٰ ہی مالک ہیں لیکن چونکہ وہ دن نہایت ہی اہم اور خوف ناک ہوگا اور اس دن ہر قسم کی حکومتیں اور بادشاہتیں فنا ہوچکی ہونگی ۔ اس لئے اس دن کی مالکیت اور خود مختاری کا ذکر فرمایا کہ اس دن کوئی ظاہری اور مجازی مالک بھی نہ ہوگا صرف اللہ تعالیٰ ہی کا سب پر مالکانہ تصرف ہوگا ۔ ( تسہیل)
Ayahs 1:5–6

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں3

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

ہم کو سیدھی راہ چلا راہ

ف 3۔ اے پروردگار ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے امداد و اعانت کے خواستگار ہوتے ہیں۔ ( تیسیر) عبادت و استعانت یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہیں ۔ عبادت کے معنی ہیں انتہائی تذلل کے ساتھ کسی کی انتہائی تعظیم بجا لانا اور ظاہر ہے کہ ایسی تعظیم اس ہی کی جاسکتی ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی دوسرا محسن نہ ہو ، چونکہ اللہ تعالیٰ کے بندے پر اس قدر احسانات ہیں کہ اس کے مقابلہ میں کسی اور کے احسان نہیں ہیں ۔ اس لئے عبادت کا صرف وہی مستحق ہے ۔ جس طرح کسی دوسرے کی عبادت حرام ہے۔ اسی طرح کسی دوسرے سے استعانت بھی ناجائز ہے کیونکہ مدد اس ہی سے طلب کی جاسکتی ہے جس کی قوت اور طاقت غالب ہو ، چونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی صاحب قوت وقدرت نہیں ہے اس لئے کسی دوسرے سے مدد طلب نہیں کرنی چاہیے۔ اور نہ کسی کو مدد کی غرض سے پکارنا چاہئے۔ باقی رہا آپس میں ایک دوسرے کا کام کرنا یا مقدمہ میں کوئی وکیل کرنا جیسا کہ بعض حضرات کیا کرتے ہیں ان باتوں کا کوئی تعلق زیر بحث استعانت سے نہیں ہے بلکہ یہ محض باہمی خدمات اور معاملات ہیں ۔ اعینوایا عباد اللہ کی ضعیف روایت کا بھی اس استعانت سے کوئی واسطہ نہیں ہے کیونکہ وہ بھی محض ان مفوضہ خدمات کا طلب کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ بندوں کے سپرد فرمائی ہیں نبی کریم ﷺ نے عبد اللہ بن عباس ؓ سے فرمایا تھا۔ اذا سالت فائل اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ یعنی جب تو کچھ مانگے تو خدا ہی سے مانگ اور جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کیا کرو۔ ( تسہیل)
Ayah 1:7

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

ان لوگوں کی جن پر تو نے اپنا فضل کیا ہے4 وہ لوگ وہ ہیں جن پر نہ غضب نازل کیا گیا اور نہ وہ راہ سے بےراہ ہوئے5

ف 4۔ ہم کو سیدھی راہ پر قائم رکھ ، راہ ان لوگوں کی جن پر تو نے اپنا انعام و اکرام فرمایا ہے (تیسیر) سیدھی راہ سے مراد اسلام اور دین حق ہے۔ یہی وہ راہ ہے جس پر چلنے سے انسان مطلوب حقیقی تک پہنچ جاتا ہے۔ ہدایت کے معنی مفسرین نے راہ دکھایا ۔ سیدھی راہ پر ثابت رکھتا اور سیدھی راہ کی توفیق دنیا کئے ہیں ۔ یہاں ان تمام معنی کی گنجائش ہے ۔ آگے اس سیدھی راہ کو بتاتے ہیں کہ وہ کن لوگوں کی راہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ ان لوگوں کی راہ ہے جن پر انعام و اکرام ہوا ہے۔ وہ چار قسم کے حضرات ہیں ۔ انبیائ، صدیقین ، شہداء اور صالحین جیسا کہ پانچویں پارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ فائولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین و الشھداء والصالحین اور ظاہر ہے کہ ان حضرات سے بڑھ کر اور کس راہ سیدھی ہوسکتی ہے۔ (تسہیل) 5۔ وہ منعم علیہم وہ حضرات ہیں جن پر یہ کبھی غضب نازل کیا گیا اور نہ وہ راہ سے بےراہ ہو کر گمراہ ہوئے۔ ( تیسر) آیت میں مغضوب علیہم سے مراد یہود ہیں اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں ۔ جیسا کہ چھٹے پارے میں ہے۔ من لعنہ اللہ وغضب علیہ اور پہلے پارے میں فرمایا وباء وابغضب من اللہ اور نصاریٰ کے متعلق چھٹے پارے میں ارشاد ہے۔ قد ضلوا من قبل واضلوا کثیرا سیدھی راہ کو ترک کرنی کی دو وجہ ہوسکتی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ سیدھی راہ کی تحقیقات ہی نہ کرے اور دوسری یہ کہ خوب تحقیقات کرے اور پھر اس کو اختیار نہ کرے سو تحقیقات نہ کرنے والے تو نصاریٰ ہیں اور باوجود تحقیقات کے عمل نہ کرنیوالے اور جان بوجھ کر مخالفت کرنے والے یہود ہیں ۔ جس طرح منعم علیہم علم و عمل سے متصف تھے اسی طرح یہ لوگ علم سے اور عمل سے محروم رہے اور غضب الٰہی اور گمراہی کے مستحق ہوئے۔ غیر المغضوب علیہم الذین سے بدل یا اس کی صفت ہے۔ اس لئے ہم نے اسی رعایت سے ترجمہ کیا ہے تا کہ یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے کہ وہی حضرات حقیقی منعم علیہم ہیں جو ہر طرح کے غضب اور گمراہی سے محفوظ ہیں اور انہی کی راہ حقیقت میں سیدھی راہ ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوں ترجمہ کیا جائے ۔ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنا فضل و انعام کیا نہ راستہ ان کا جن پر غضب نازل کیا گیا ۔ اور نہ ان کا راستہ جو راہ سے بےراہ ہوجائے اور گمراہ ہوئے جیسا کہ بعض نے کیا ہے اگرچہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ مطلب اور مآل دونوں کا ایک ہی ہے لیکن ہم نے صاحب مدارک کا قول اختیار کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) موضح القرآن میں فرماتے ہیں ۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ اس طرح کہا کریں ۔ موضح القرآن ۔ جب شاہ صاحب (رح) نے اس میں اس شبہ کا جواب دیا ہے جو عام طور سے لوگ کیا کرتے ہیں کہ خدا کا کلام کیسے ہوسکتا ہے ۔ کیا خدا خود اپنے نام سے شروع کرتا اور خود ہی اپنے لئے صراط مستقیم طلب کرتا ہے۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے کہلوایا ہے کہ جب ہمارے دربار میں آیا کرو تو اس طرح ہم سے دعا کیا کرو ۔ جاننا چاہئے کہ یہ سورت ام القرآن ہے۔ تمام قرآن کو اس سورت کی تفسیر سمجھنا چاہئے۔ اس سورت کے بہت سے نام ہیں ۔ مثلاً فاتحہ الکتاب ، الحمد ، ام القرآن ، السبع المثانی ، وافیہ کافیہ ، کنز ، شفاء ، اساس صلوٰۃ ، توحید ، تعلیم ، مسئلہ وغیرہ اور ناموں کی کثرت ۔ اس سورت کی اہمیت اور عظمت شان پر دلالت کرتی ہے ۔ ایک حدیث قدسی میں نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ سورة صلوٰۃ میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم شدہ سورت ہے۔ نصف سورت کا تعلق مجھ سے ہے اور نصف سورت کا تعلق میرے بندے سے ہے۔ جب بندہ کہتا ہے الحمد اللہ رب العالمین ۔ تو حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے۔ الرحمن الرحیم تو خدا فرماتا ہے میرے بندے نے میری ثنا بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے ۔ مالک یوم الدین تو ارشاد ہوتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ ایاک نعبد وایاک نستعین کہتا ہے تو حق تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرا بندہ جو مانگے وہ اس کو ملے گا ۔ پھر جب بندہ سورت ختم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سورت کا یہ حصہ خالص میرے بندے کے لئے ہے اور بندہ جو سوال کرے وہ پورا ہوگا ۔ یہ روایت امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کی ہے۔ سورة فاتحہ کو ختم کرنے کے بعد آمین کہنا سنت ہے۔ اگرچہ یہ لفظ آمین قرآن کا لفظ نہیں ہے لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ سورة فاتحہ کو ختم کرنے کے بعد آمین کہا کرو ۔ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ۔ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے پہلے تمام گناہ معاف کردیتا ہے۔ آمین کے معنی ہیں یا اللہ میری دعا قبول فرما۔ ( تسہیل) 5 محرم الحرام 0631؁ھ