2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsسراج البیان

Ayahs 2:1–2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

اس کتاب میں کچھ شک (ف 1) نہیں ہے پرہیزگاروں کے واسطے ہدایت ہے ، (ف 2)

حروف مقطعات کا فلسفہ : قرآن کی انتیس سورتوں کے آغاز میں یہ حروف آتے ہیں ، مفسرین نے مختلف معانی ان کے بیان فرمائے ہیں جو کھلا ہوا ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ حروف بےمعنی نہیں ۔ قطرب ، مبرو ۔ فراء اور محققین کا ایک عظیم القدر گروہ اس بات پر متفق ہے کہ یہ حروف قرآن کے ان حروف تہجی سے مرکب ہیں جس سے قرآن کے الفاظ بنے ہیں ، مقصد یہ ہے کہ قرآن اپنے طرز بیان الفاظ کی شوکت اور معنویت کے اعتبار سے جو معجزہ ہے تو اس کی ترتیب میں انہیں روز مرہ کے حروف سے کام لیا گیا ہے تمہیں اگر اس کی ساحری ومعجز نمائی سے انکار ہے تو آؤ ایک سورة ہی ایسی لکھ دو جو قرآن کی کسی سورت سے لگاؤ کھا سکے ، علامہ زمخشری نے کشاف میں ایک باریک نکتہ یہ بیان کیا ہے کہ یہ حروف جو مقطعات کی شکل میں آئے ہیں سب قسم کے حروف کا یک بہترین اور زیادہ تر استعمال ہونے والا مجموعہ ہے ، غور کرکے دیکھو ان حروف کے بعد جہاں جہاں یہ آئے ہیں عموما کتاب آیات ‘ ذکر ‘ تنزیل قرآن وغیرہ کا ذکر ہے جو اس بات پر دال ہے کہ یہ آیات بینات ‘ ذکر جمیل ‘ یہ قرآن معجزہ طراز انہیں حروف کے الٹ پھیر کا نتیجہ ہے حوصلہ ہے تو تم بھی میدان میں آکر دیکھو ، ان حروف کا فلسفہ یہ بھی ہے کہ قرآن نے جس طرح اپنے ادب کو ملحوظ رکھا ہے ، جس اس کا لغت اس کی تشریح ، اس کی تفسیر اور اس کا انداز بیان بغیر کسی تغیر وتبدل کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سینوں میں محفوظ ہے ، اسی طرح اس کے حروف کا تلفظ بھی محفوظ رہنا چاہیے تھا ۔ حروف مقطعات سے یہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے ، گویا قرآن تلفظ وترتیل سے لے کر تشریح و توضیح تک سب کچھ اپنے اندر رکھتا ہے اور کسی چیز بیرونی چیز کا مرہون منت نہیں ۔ (ف 1) سورة سجدہ میں فرمایا (آیت) ” تنزیل ال کتاب لا ریب فیہ من رب العلمین یعنی اس صحیفہ ہدی کے الہامی ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں طرز بیان کی دلربائی ، دلائل کا احصاء ضروریات انسانی کا لحاظ اور فطرت حق سے تطابق یہ سب چیزیں پڑھنے اور سننے والے کے دماغ کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں پھر یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ یہ کلام خدا کا غیر مشکوک کلام ہے ۔ (ف 2) : ہدایت کے چار مرتبے ہیں ، الہام فطرت یا معارف ضروریہ کا علم جیسے (آیت) ” ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی “۔ یا وحی نبوت جیسے (آیت) ” وجعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا “۔ یا توفیق و تیسیر جیسے (آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا “۔ اور یا اللہ کے انعامات کی طرف راہنمائی جیسے اہل فردوس یہ کہیں گے ۔ (آیت) ” الحمد للہ الذی ھدانا لھذا “۔ یہاں یہ آخری معنی مراد ہیں ، مطلقا راہنمائی مقصود نہیں ، وہ تو ہر شخص کے لئے ہے چاہے مانے چاہے نہ مانے ۔ حل لغات : تقوی ۔ وقایۃ سے مشتق ہے جس کے معنی بچاؤ کے ہیں ۔ مراد ایسی حالت ہے نفس کی جو گناہوں اور لغزشوں سے بچائے ، غیب : ہر وہ جو ہمارے جوارح کی دسترس سے بالا ہو ۔ اقامت الصلوۃ ۔ پوری طرح خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنا ۔
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو غیب (ف 3) پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں خرچ کرتے ہیں ۔

(ف 3) : اللہ کا وہ انعام جسے وہ کلام کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے ‘ یونہی نہیں مل جاتا ، اس کے لئے تمام مغیبات پر ایمان لانے کی ضرورت ہے اور پھر صحیح معنوں میں نماز پڑھنے کی حاجت ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اللہ کی راہ میں کچھ دینے کی بھی اور پھر یہ بھی خیال رہے کہ قرآن پر پورا پورا ایمان ہو ۔ سابقہ کتب کی بھی احترام کی نگاہ سے دیکھے اور نظام اخروی پر غیر متزلزل یقین رکھے یعنی ایمان وعمل دونوں تابحد کمال ہوں ۔
Ayahs 2:4–8

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور جو یقین رکھتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتری اور جو کچھ تم سے پہلے اترا اس پر بھی اور وہ آخرت کا یقین رکھتے ہیں ۔

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

انہی لوگوں کو اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت ہے اور وہی مراد کو پہنچے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

بیشک جو لوگ منکر ہوئے ان کے لئے برابر ہے کہ تو ان کو ڈرائے یا نہ ڈرائے وہ نہ مانیں گے ۔

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

خدا نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

آدمیوں میں سے بعض میں جو (زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ ہرگز مومن نہیں (ف 1)

ناقابل اصلاح گروہ : آفتاب نبوت جب چمکتا ہے تو چند آنکھیں بینائی کھو بیٹھتی ہیں اور ایسے شپرہ چشم لوگ پیدا ہوجاتے ہیں جنہیں نصف النہار کے وقت بھی حق سوجھائی نہیں دیتا ، جب اللہ کی عنایت وکرم کے بادل گھر کے آتے ہیں تو ایسی زمین بھی ہوتی ہے جو شور اور سنگلاح ہو ، وہاں روئیدگی کی قطعا امید نہیں ہوتی ، کفر وعناد کا زقوم تو وہاں اگتا ہے ، مگر ایمان کا گل وریحان نہیں اگتا ، یہاں اسی چیز کا ذکر ہے ۔ ایک ناقابل اصلاح گروہ جس کا تمرد حد سے بڑھ گیا ہے تو تیئیس سال تک چشمہ فیض سے سیراب ہوتا ہے لیکن انکار وناشکری سے باز نہیں آتا جو خود کہتا ہے (آیت) ” قلوبنا غلف “ کہ ہمارے دلوں میں حق کے لئے کوئی جگہ نہیں کیونکر ہدایت پذیر ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے اور ان کے کانوں پر بھی ، نہ کان حق کی آواز کو سنتے ہیں اور نہ دل ہی حق نیوش ہے ، آنکھوں کی بصیرت بھی نہیں رکھتے ، اس پر بھی تعصب وعناد کی پٹی بندھی ہے ۔ یعنی یہ لوگ صحیح استعداد کھو بیٹھے ہیں ۔ آپ ان کی مخالفت سے نہ کڑھیں ، یہاں چند نکات ملحوظ رہیں : ۔ (ا) ختم کا لفظ محض ان کی حالت کو واضح کرنے کے اختیار کیا گیا ہے ‘ ورنہ اللہ تعالیٰ ایک طبیب کی طرح کسی حالت میں بھی مریض کفر سے مایوس نہیں ہوتا ہے ۔ (ب) قلب ، سمع اور بصر کا ذکر بجائے خود دلیل ہے اس بات کی ، مراد دل انقلاب پذیر ہے جو ٹھس گیا ہے ۔ اور اس کے کان جن میں فطرت نے سماعت کی قوت رکھی تھی اب نہیں رہی اور ایسی آنکھیں ہیں جو بصارت سے بہرہ ور تھیں اب محروم ہوگئی ہیں ۔ ورنہ قلب کی جگہ فواد اور سمع کی جگہ اذن اور بصر کی جگہ عین کا استعمال کیا جاتا ۔ (ج) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ تبلیغ و اشاعت روک دیں یہ کہا کہ ان کی حالت یہ ہے کہ نہ مانیں گے ، نہ یہ کہ آپ بھی اپنے فرائض سے تغافل برتیں ، یعنی (آیت) ” سوآء علیھم فرمایا سواء لک نہیں کہا ۔ کیونکہ مصلح کو کسی وقت بھی مایوس نہ ہونا چاہئے (د) حدیث میں اس انداز بیان کی تشریح نہایت حکیمانہ طرز میں مذکور ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی انسان پہلی دفعہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو دل پر ایک سیاہ نقطہ سا پڑجاتا ہے ، دوسری دفعہ دو نقطے پڑجاتے ہیں اور بار بار اکتساب معصیت سے دل سیاہ دھبوں سے اٹ جات ہے یعنی پہلے پہل اقدام گناہ پر ضمیر ملامت کرتا ہے اور عادت ہونے پر اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے ۔ ان آیات کا یہی مفہوم ہے کہ یہ لوگ مردہ ضمیر ہوچکے ہیں گناہ کا احساس باقی نہیں رہا ۔ (ف 1) یہ وہ گروہ ہے جو منہ سے تو اسلام کا اعتراف کرتا ہے لیکن دلوں میں بدستور کفر کی غلاظت موجود ہے ۔ اس لئے فرمایا کہ درحقیقت یہ لوگ مومن نہیں یہ کوشش کرتے ہیں کہ خدا اور خدا پر ست لوگوں کو دھوکہ میں رکھیں ۔ لیکن اس حرکت کا کیا فائدہ ؟ زہر تو تریاق سمجھ لینے سے اس کی مضرت تو زائل نہیں ہوجاتی ، جب دلوں میں کفر ہے تو زبان کا اقرار اور اعتراف کسی طرح بھی مفید نہیں ۔ حل لغات : کفروا : جمع کفر فعل ماضی معلوم ، مذکر غائب ، مصدر کفر کے معنی اصل میں چھپانے کے ہیں کسان کو ، رات کو ، گھنے جنگل کو ، پڑ ہول وادی کو بھی کافر کے لفظ میں تعبیر کرتے ہیں ، کیونکہ یہ سب چیزیں کسی نہ کسی طرح مفہوم کی حامل ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بار بار وضاحت کے باوجود بھی جانتے ہوئے خود صداقت کو چھپاتے ہیں ۔ (آیت) ” یخدعون “۔ فعل مضارع ، باب مفاعلہ اصل خدع کے معنی ہوتے ہیں ، مخالف کو ایسی بات کے یقین دلانے کی کوشش کرتا جو اس کا مقصد نہیں اور ایسے طریق سے کہ وہ بظاہر فریب دہ نہ ہو ۔
Ayahs 2:9–10

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

وہ خدا اور ایمان لانے والوں کو فریب دیتے ہیں حالانکہ کسی کو فریب نہیں دیتے تھے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سمجھتے ۔

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں بیماری ہے ، (ف 1) پھر خدا نے ان کی بیماری بڑھا دی اور جھوٹ بولنے کے سبب ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہ جتنا اسلام کی کامیابی پر کڑھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اسی سے اسلام کو کامیابی بخش رہا ہے نتیجہ یہ ہے کہ دل میں نفاق وحسد کا مرض بڑھتا ہی جاتا ہے کم نہیں ہوتا اس کو اپنی طرف منسوب کرنا یہ بتانا ہے کہ سب کام اللہ کی قدرت سے ہوتے ہیں گو اس کا منشاء یہ نہیں کہ لوگ کفر اختیار کریں ۔
Ayahs 2:11–13

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو محض سنوارنے اور اصلاح کرنے والے ہیں ۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

خبردار رہو ، وہی فساد کرنے والے ہیں لیکن سمجھتے نہیں ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب انہیں کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح بیوقوف (ف 2) ایمان لائے ہیں ، خبردار روہی بیوقوف ہیں لیکن جانتے نہیں ۔

(ف 2) ایمان وکفر میں ہمیشہ دانائی وسفاہت کی حدود الگ الگ رہی ہیں ، ایمان کی دعوت عقل وبصیرت کی دعوت ہے اور کفر وضلالت کی طرف بلانا درحقیقت بےعلمی وجہالت پر آمادہ کرنا ہے کفر والے ہمیشہ اس غلط فہمی میں رہے کہ ایمان قبول کرنا گھاٹے اور خسارے کو خواہ مخواہ مول لینا ہے ، قرآن حکیم کا ارشاد ہے ۔ (آیت) ” الا انھم ھم السفھآء “۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف ہیں نفع و نقصان کو صرف مادیات تک محدود سمجھتے ہیں ، نگاہوں میں بلندی نہیں ہے ‘ ورنہ دین ودنیا کی نعمتوں کا حصول کسی طرح بھی خسارہ نہیں ۔ اور مذہب تو کہتے ہیں اس نظام عمل کو جس کو مان کر فلاح دارین حاصل ہوجائے ، حل لغات : السفھآء ۔ جمع سفیہ ، کم عقل ، بیوقوف ۔ خلوا ۔ ماضی مصدر خلوا ۔ خلا الیہ کے معنی ہیں گزرنے کے ۔ شیطین جمع شیطن ، ایک شخص مبتدع جو رشد و ہدایت سے محروم ہے اور خدا کی رحمتوں سے دور ، یہاں مراد شریر لوگ ہیں جو شیطان کی طرح مفسد ہیں ۔
Ayah 2:14

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور جب مسلمانوں سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم مسلمان ہوئے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو (مسلمانوں سے) ٹھٹھا کرتے ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) یہ بےعلم منافق اس قدر دلوں کے کمزور اور بودے ہیں کہ نہ کفر پر ثبات و استقلال ہے اور نہ ایمان و استحکام جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو منہ پر ایمان کے نعرے ہوتے ہیں اور جب اپنے لگے بندھوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو محض مذاق تھا ، مانتا کون ہے ، دل کا یہ مرض لاعلاج ہے اور اس سے دلوں کی آلودگی خطرناک اور مہلک ہے ۔
Ayahs 2:15–17

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

خدا ان سے ٹھٹھا کرتا اور ان کی شرارت میں انہین کھینچتا ہے ‘ وہ بہکتے ہیں ۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ۔ پھر ان کی سوداگری نے نفع نہ دیا اور انہوں نے ہدایت نہ پائی ۔

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی ایسی مثال ہے جیسے ایک شخص نے آگ جلائی جب اس کا گرد روشن ہوا تو خدا ان کی روشنی کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ نہیں (ف 2) دیکھتے ۔

(ف 2) اللہ ایسے لوگوں سے دنیا وآخرت میں سلوک بھی اسی طرح کا روا رکھتے ہیں کہ جو بجائے خود ایک قسم کا مذاق ہو نہ ایمان وذوق کی شیرینی سے یہ جماعت بہرہ ور ہوتی ہے اور نہ کفر والحاد کے فوائد ظاہری سے متمتع ، کفر اگر تذبذب کے خرخشوں سے معرا ہو تو کم از کم ظاہری وعارضی لذات سے محروم نہیں اور ایمان و عقیدت اگر شک وارتباب سے پاک ہو تو پھر دونوں جہان کے مزے ہیں ۔ اللہ بھی خوش ہے اور دنیا بھی تابع ۔ امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن جب یہ جنت کی طرف بڑھیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ یہ مقام سرور وجسور ہمارے لئے ہے تو یکایک ان میں اور جنات نعیم مین ایک دیوار حائل ہوجائے گی اور گویا یہ بتایا جائے گا کہ یہ جواب ہے تمہارے اس مذاق و استہزاء کا جسے تم فخریہ اپنے رؤساء دین سے ظاہر کیا کرتے تھے ۔ منافق کا نفسی تذبذب : ان آیات میں نہایت ہی بلیغ انداز میں منافقین کے نفسی تذبذب کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ کبھی تو ایمان کی مشعل فروزاں سے مستیز ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی پھر کفر کی تاریکیوں میں جا کرتے ہیں ، ان کی مثال ایسے متحیر اور پریشان شخص کی ہے جو آگ جلا کے روشنی پیدا کرلے اور پھر یکایک اندھیرا ہوجانے پر اندھیاری میں ٹامک ٹونیاں مارتا پھرے ۔ ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایمان روشنی ہے اور نفاق ظلمت و تاریکی ، مسلمان کے سامنے اس کا مستقبل ‘ اس کا نصب العین واضح اور بین طور پر موجود ہوتا ہے ، بخلاف منافق کے کہ اس کی زندگی کا کوئی روشن مقصد نہیں ہوتا ۔ حل لغات : یستھزی ۔ مضارع معلوم ، مصدر استہزاء ، مذاق کرنا ، توہین کرنا ۔ یمدھم ، مضارع معلوم ، ڈھیل دیتا ہے ، یعمھون ۔ مضارع معلوم ، اصل العمہ ، دل کا بصیرت سے معلوم ہوتا ۔ بصیرت کے اندھے کو اعمہ ۔ کہتے ہیں ، صمم ، بہرہ جس کے کان میں نقص ہو ، بکم ۔ جمع ابکم ، گونگا ، قوت گویائی سے محروم ، عمی ۔ جمع اعمی ، اندھا ، صیب ۔ بارش ، پانی سے لبریز بادل ، رعد ۔ بجلی کی کڑک اور گرج ، برق ، بجلی کی لمعاتی چمک ۔
Ayahs 2:18–20

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ، پس وہ نہیں پھریں گے ۔

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا (ان کی ایسی مثال ہے) جیسے آسمان سے مینہ برسے اس میں اندھیرے اور گرج اور بجلی ہو ، کڑک کے مارے موت کے ڈر سے وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالتے ہیں اور اللہ منکروں کو گھیر رہا ہے ۔

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اچک لے جس وقت ان پر چمکتی ہے تو وہ اس میں چلتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑے رہتے ہیں اور اگر خدا چاہے تو ان کے کانوں اور آنکھوں کے لے جائے ، بیشک خدا ہر شے پر قادر (ف 1) ہے ۔

(ف 1) پہلی مثال تو کفر کے تحیر کی تھی ، اس مثال میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ لوگ بہرحال مطلب کے پورے ہیں ۔ جب اسلام لانے سے کچھ مطلب براری ہوتی ہے تو پھر انہیں بھی اعلان کرنے میں دریغ نہیں ہوتا اور جب آزمائش وابتلا کا وقت ہو تو صاف انکار کردیتے ہیں یعنی جہاں ان کا ذاتی مفاد روشن طور پر نظر آرہا ہو ، مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں اور جہاں مشکلات کی تاریکی نظر آئی ، رک گئے ، انہیں تنبیہہ فرمائی کہ ایسا نہ کرو ، ورنہ اللہ کا عذاب آجائے گا اور پھر تم میں یہ استعداد بھی باقی نہ رہے گی ، دعوت عبادت واتقاء : قرآن نے ساری کائنات کو دعوت دی ہے کہ وہ رب خالق کی عبادت کرے اور اس طرح تمام انسانوں کو ایک مرکز پر جمع کرنے کی کوشش کی ہے ، وہ کہتا ہے جب تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا خدا ایک ہے تو پھر یہ اختلافات کیسے ؟ ایک خدا کے سامنے جھکو ایک کی محبت اپنے دل میں رکھو ، اس طرح تم سب میں اتقاء پیدا ہوجائے گا اور تم سب ایک صف میں جمع ہوجاؤ گے ، رنگ وبو کا اختلاف ، نون ونسل کے قضیئے ایک دم مٹ جائیں گے ۔ حل لغات : اصابع ، جمیع اصبع ، انگلی ، کانوں میں انگلی کا اگلا حصہ ٹھونسا جاتا ہے جسے عربی میں انملۃ کہتے ہیں لیکن یہاں قرآن حمید اصابع ۔ کہہ کے گویا اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ بصورت مبالغہ رعد وگرج سے ڈرتے ہیں اور پوری انگلیاں کانوں میں ڈال دیتے ہیں ۔ اذان ۔ جمع اذن ، کان ، صواعق ، جمع صاعقۃ ، بجلی یا کڑک ، وہ آواز جو ابر کے اعتکاک سے پیدا ہوتی ہے ۔ حذر ۔ ڈر ، خوف ، اندیشہ ، محیط ۔ گھیرے ہوئے ، اسم فاعل ہے ، اصل ہے احاطہ ۔ یعنی گھیرنا ، مقصد یہ ہے کہ یہ نافرمان اس کے علم میں ہیں اور ہر وقت اس کے قبضہ واختیار میں ہیں جیسے کوئی چاروں طرف سے گھر گیا ہو ۔ یخطف ۔ مضارع مصدر خطف ۔ اچک لینا ۔ اعبدوا ، امر مصدر عبادت مذقل و انکسار طریق معبد ۔ پامال راستہ شرعا مراد ہے ، وہ طریق عجزوانکسار جس کا اظہار اپنے رب کے سامنے قیام وکوع کی صورت میں کیا جائے یا دوسرے فرائض کی ادائیگی ، ہر وہ بات جو جذبہ عبودتیت کو ابھارے ۔ خلق ، فعل ماضی مصدر ، خلق ۔ پیدا کرنا بنانا ، اختراع وایجاد کرنا ۔ فراش ، اسم بچھی ہوئی چیز ، زمین کو فرش سے تشبیہہ دی ہے جس طرح بچھونے میں آرام حاصل ہوتا ہے اسی طرح زمین بھی ہمیں آسودگی بخشتی ہے ۔ بنآء ۔ چھت بنی ہوئی چیز ، مقصد یہ ہے کہ آسمان بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدے کے لئے بنایا ہے جو بظاہر چھت کی طرح تمہیں گھیرے ہوئے ہے ، محض تشبیہہ ہے ۔ یہ مطلب نہیں کہ آسمان واقعی چھت ہے ۔ انزل ۔ ماضی مصدور انزال ، مادہ نزول ، اتارا ، نازل کیا ۔
Ayahs 2:21–22

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

اے لوگو اپنے رب کی جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا ‘ بندگی کرو ، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ (بچ جاؤ )

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

اس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا بنانا اور آسمان کو عمارت (چھت) بنایا پھر آسمان سے پانی اتارا ، جس سے تمہارے کھانے کو میوے نکالے ، سو تم جان بوجھ کر اس کے شریک نہ ٹھہراؤ(ف 1)

(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انعام گنائے ہیں اور توجہ دلائی ہے غافل انسان کو یہ کہ وہ زمین کی طرف دیکھے کس قدر آرام دہ ہے آسمان کی طرف نظر دوڑائے کیونکہ چھت کی طرح ہم پر سایہ فگن ہے ۔ آسمان کی طرف سے پانی پرستا ہے اور ہمارے روکھے سوکھے باغ لہلہا اٹھتے ہیں اور اثمار ونتائم کا انبار لگ جاتا ہے ، کیا یہ نعمتیں ایک خدا کی طرف سے نہیں ؟ قرآن حکیم روزہ مرہ کے مشاہدات کی طرف ہماری توجہ مبذول کرتا ہے ، اور قیمتی نتائج پیدا کردیتا ہے ، وہ کہتا ہے ، ان سب چیزوں کو بنظر غور وتعمق دیکھو ، ایک خدا کی خدائی کس طرح واضح اور بین طور پر نظر آرہی ہے ، قرآن حکیم کا اصرار ہے کہ اس کی پیش گاہ جلالت میں کوئی دوسرا خدا نہ ہو ، مسلمان کے دل میں صرف اسی کی محبت ہو ۔ وہ صرف اسی رب اکبر سے ڈرے اور اپنی حاجتوں کو اسی سے وابستہ سمجھے ، وہ توحید کا پیغام ہے ۔ وحدہ کے سوا کوئی کسی دوسری چیز پر مطمئن نہیں اس کے ہاں شرک کائنات انسانیت کے لئے بدترین لعنت ہے ۔ لاجواب کتاب : یوں تو خدا کے کلام کو لاجواب ہونا ہی چاہئے مگر قرآن حکیم بالتخصیص بےنظیر ہے ، اس وقت جبکہ عرب کا بچہ بچہ شاعر تھا ۔ خطابت تکلم پر ان کو ناز تھا ، اس وقت قرآن حکیم نازل ہوتا ہے اور اس تحدی کے ساتھ کہ یہ قطعا انسانی کلام نہیں ہمت ہے تو اس کا مقابلہ کر دیکھو ، مگر تیرہ صدیاں گزر جاتی ہیں اب تک جواب تو کیا سنجیدگی کے ساتھ مقابلہ ہی نہیں کیا گیا ، عربوں کی غیرت وحمیت مشہور ہے ، مگر قرآن حکیم کی اس تحدی کے بعد ان کی گردنیں جھک گئیں اور وہ جو مخالف تھے وہ بھی کہہ اٹھے ۔ ان لہ لحلاوۃ وان علیہ الطلاوۃ وان اصلہ لمغدق وان اعلاہ لمثر ۔ کہ قرآن کیا ہے عسل وشرینی کا مجموعہ ہے ۔ الفاظ میں تازگی اور جمال ہے ۔ نہایت پر مغز اور نتیجہ آفرین کلام ہے ۔ قرآن کا دوسرا دعوی یہ تھا کہ انسانی ہمتیں ایسا نہ کرسکیں گی ۔ چناچہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسا نہ ہوسکا ، قرآن تیئس سال کی مدت میں نازل ہوا اور ان کو موقع دیا گیا کہ وہ آسانی کے ساتھ مقابلہ کرسکیں ، مگر تاریخ شاہد ہے ، قرآن کے زور فصاحت کے سامنے زبانیں طمنگ ہوگئیں ۔ یہ قرآن کا بےنظیر معجزہ ہے جو قیامت تک قائم رہے گا ، قرآن لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ایسی پر مغز ، حکیمانہ ، قابل عمل ، فصیح وبلیغ کتاب لکھیں جو اس کی ہم پایہ ہو سکے ، جو ایسی شیریں ‘ بااثر اور پرکیف ہو ، جو اسی طرح قوموں کو بدل دینے کی قدرت رکھتی ہو ، جو انقلاب آفرین ہو ۔ جو ہر حالت میں پڑھنے اور یاد رکھنے کے قابل ہو جس میں صحیح معنوں میں رہنمائی کی تمام قوتیں رکھ دی گئی ہوں ، جس کا تعلق زمانہ اور زماضیات سے نہ ہو ، ہر وقت ہر زمانے میں ہر قوم کے لئے یکساں قابل ہو ۔ زبان کی قید نہیں ۔ وقت کا خیال نہیں ۔ صرف ایک شخص کو مقابلہ کے لئے نہیں بلایا گیا ، سب مل کر کسی زبان میں قیامت تک کوئی کتاب لکھیں جو اس درجہ بلند اور سحر آفرین ہو ، کتنا بڑا ، کتنا عظیم الشان اور حیران کن دعوی ہے ، کیا دنیا اس کا جواب دے گی ؟ (آیت) ” ولن تفعلوا ۔ حل لغات : اخرج ۔ ماضی مصدر اخراج مادہ خروج ، نکالا ، ثمرات ، واحد ثمرۃ ۔ پھل ، اندادا ۔ جمع ند ، شریک وسہیم ، ندیدا اور ند دونوں کا ایک ہی معنی ہے ۔ شھدآء ۔ جمع شھید ، ساتھی دوست ، مددگار ، رفیق ، وقود ، ایندھن جس سے آگ جلائی جائے ۔ حجارۃ ۔ پتھر ۔
Ayahs 2:23–25

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور جو کلام ہم نے اپنے بندہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے ، اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو تو اس قسم کی ایک سورت لے آؤ اور خدا کے سوا اپنے گواہوں کو بلاؤ ۔ اگر تم سچے ہو ۔

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

پھر اگر ایسا نہ کرو گے اور ہرگز نہ کر سکوگے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں (جو) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

خوشخبری دے ان کو جو ایمان لائے اور نیک کام کئے یہ کہ ان کے واسطے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں جب (وہاں کا) کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے ، یہ تو وہی پھل ہے ہم کو پہلے ملا تھا اور ان کے پاس ایک طرح کے (پھل) لائے جائیں گے اور وہاں ان کے لئے ستھری عورتیں ہوں گی اور ہمیشہ وہاں رہیں گے (ف 1)

جنت (ف 1) و دوزخ کی حقیقت : جس طرح دنیا میں دو جماعتیں ہیں ، ایک ماننے اور عمل کرنے والی ، دوسری انکار کرنے والی اور فسق وفجور میں مبتلا رہنے والی ۔ اسی طرح اللہ کی رضا اور غضب کے دو مقام ہیں ، دوزخ یا جہنم نام ہے کے مقام غضب و جلال کا اور جنت کہتے ہیں اس کی رضا و محبت کے مظہر اتم کو ۔ چونکہ انسان روح و مادہ سے مرکب حقیقت کا نام ہے اور اس میں دونوں کے الگ الگ مقتضیات ہیں ‘ اس لئے ضروری ہے کہ سزا اور جزا میں دونوں چیزوں کا خیال رکھا جائے ، نہ صرف مادہ متاثر ہو اور نہ صرف روح منفعل ۔ قرآن حکیم نے اس نکتے کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے ، وہ کہتا ہے جہنم میں تمہارے جسم کو بھی ایذا دی جائے گی اور تمہاری روح کو بھی ، اسی طرح جنت میں صرف روحانی کوائف نہ ہوں گے ، بلکہ جسمانی لذائذ بھی ہوں گے ، مگر پاکیزگی اور نزاکت کے ساتھ ، وہ تمام چیزین جو ہمارے لئے باعث سرور وعیش ہیں ‘ وہاں ملیں گی ، مگر اس طور پر کہ ہم نہ پہچان سکیں ۔ حدیث میں آتا ہے کہ جنت میں وہ کچھ ملے گا جسے ان کی آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا اور جن کے متعلق ان کانوں نے کچھ نہیں سنا اور اب تک وہ انسان کے دل میں بھی نہیں کھٹکا ، مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر ۔ ایک تمثیل : جنت کا ذکر کرکے یہ فرمایا ہے کہ یہ نعمتیں جو بیان کی گئی ہیں ان کی حقیقت اصل میں ایک حقیر مچھر سے بھی کم ہے مگر یہ کور باطن لوگ جنت کے لذائذ کو سن کر معترض ہوتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ یہی چیزیں تو ہم چاہتے ہیں مگر وہ لوگ جو اہل حق وصداقت ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہمارے سمجھانے کے لئے ہے ، ورنہ جنت کے کوائف نہایت لطیف ‘ پاکیزہ اور بالا از حواس ہیں ۔ سورة مدثر میں اہل جہنم کا ذکر کرکے بالکل انہیں کلمات کو دہرایا ہے کہ یہ لوگ یہ چیزیں جہنم کے متعلق سن کر کہتے ۔ (آیت) ” ماذا اراد اللہ بھذا مثلا “۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمثیل سے مراد جنت و دوزخ کے کوائف کی تمثیل ہے ، ورنہ سارے قرآن میں خدا تعالیٰ نے کہیں مچھر کا ذکر نہیں کیا اور ربط آیات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کے یہی معنے لئے جائیں ۔ واللہ اعلم ۔ حل لغات : جنت : جمع جنۃ ، باغ ۔ محفوظ ۔ خلدون ۔ جمع خالد ، ہمیشہ رہنے والا ۔ مادہ خلود بمعنی دوام ۔
Ayah 2:26

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

بیشک خدا مچھر کی یا اس سے اوپر شئے کی مثال بیان کرنے سے نہیں شرماتا ۔ پھر وہ جو ایمان دار ہیں جانتے ہیں کہ وہ انکے رب کی طرف سے ٹھیک ہے ۔ لیکن جو کافر ہیں سو کہتے ہیں کہ اللہ کو ایسی مثال کی کیا غرض تھی ؟ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا اور بہتیروں کو اس سے ہدایت کرتا ہے اور صرف فاسق (بدکار نافرمان) لوگوں کو ہی اس سے گمراہ کرتا ہے (ف 1)

خائب (ف 1) و خاسر لوگ : فلاح وسعادت کی راہ ایمان وعمل کی راہ ہے ۔ وہ جو فاسق ہیں اللہ کی حدود کی پرواہ نہیں کرتے ، ان کے لئے خسارہ ہے ۔ نہ دنیا میں وہ کامیابی کی زندگی بسر کرسکتے ہیں اور نہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ ہے ، منافق کی تین علامتیں ہیں : ۔ (ا) نقض عہد ، یعنی خدا کے بنائے ہوئے اور بندھے ہوئے قوانین کا توڑتا ۔ (ب) علائق ضرورت سے قطع تعلق یعنی ان تمام رشتوں سے تغافل جو انسانی فلاح و بہبود کے لئے از بس ضروری ہیں ۔ (ج) فساد فی الارض ۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ رب فاطر کے بتائے ہوئے قوانین کا خیال نہیں رکھتے جو اپنوں سے دشمنوں کا سا سلوک کرتے ہیں ، جو ساری زمین میں فتنہ و فساد کی آگ کو روشن رکھتے ہیں ، ان سے کوئی بھلائی کرے گا اور وہ کس طرح ایک سعادت مند انسان کی زندگی بسر کرسکیں گے ۔
Ayah 2:27

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو خدا کا عہد پکا باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس کے جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اس کو توڑتے ہیں اور ملک میں فساد مچاتے ہیں ۔ وہی نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

حل لغات : ینفضون : مضارع معلوم ، مصدر نقض ، توڑنا ، قطع کرنا ۔ الخاسرون : گھاٹے میں رہنے والے جمع خاسر ۔ استوی : قصد کیا ، توجہ فرمائی ، اصلاح وتزئین کے لئے ۔
Ayah 2:28

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

تم کیونکر انکار کرسکتے ہو اللہ کا ، حالانکہ تم مردے تھے ، اس نے تمہیں جلایا ، پھر وہ تمہیں مار ڈالے گا پھر وہی تم کو زندہ کریگا ، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے (ف 2) ۔

(ف 2) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ زبان سے تو اللہ تعالیٰ کا انکار کیا جاسکتا ہے ، مگر حقیقتا انکار ممکن نہیں ، جب تک موت وحیات کا ہمہ گیر قانون موجود ہے اور فنا وزیست کے واقعات سے بہرحال مفر نہیں ‘ اس وقت تک ایک زبردست حی وقیوم خدا پر ایمان ضروری ہے ۔ پھر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کائنات کی تمام چیزیں انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں ، آفتاب سے لے کر ذرہ تک اور ذرہ سے پہاڑ تک سب اسی کے لئے زندہ ومصروف عمل ہیں ، تو ہمیں واشگاف طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سارے نظام آفادہ کے پس پردہ کوئی رحمن ورحیم کرم فرما ہے ۔ (آیت) ” خلق لکم ما فی الارض جمیعا “۔ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان ساری کائنات کا مخدوم و مقصد ہے ۔
Ayahs 2:29–30

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

خدا وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی سب چیزوں کو پیدا کیا ، پھر وہ آسمان کی طرف چڑھ گیا سو ان کو ساتھ آسمان ٹھیک کیا اور وہ ہر شئے کو جانتا ہے ۔

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک نائب (خلیفہ) بنانے والا ہوں ۔ (ف 1) تو بولے ، کیا تو اس میں اس شخص کو رکھے گا جو وہاں فساد ڈالے اور خون بہائے اور ہم تیری خوبیاں پڑھتے اور پاکی بیان کرتے ہیں ، فرمایا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ (ف 2) ،

(ف 1) پہلا انسان : سلسلہ انسانیت کا پہلا بطل وہ ہے جسے کائنات ارض کا مالک بنانے والا ہے ۔ اللہ کی عنایات اسے زمین کا تاج وتخت بخشنے والی ہیں ۔ اس کی استعداد وقوت فرشتوں سے بھی زیادہ شاندار ہے ۔ وہ اس لئے بنایا جارہا ہے تاکہ خدا کے جلال و جمال کو دنیا کے کونوں تک پہنچائے اور ساری زمین پر خدا کی بادشاہت ہو ۔ یعنی وہ خلیفۃ اللہ فی الارض ہے ۔ (ف 2) فرشتوں کو اعتراض ہے کہ ایسے انسان کی کیا ضرورت ہے وہ کہتے ہیں ، جب کائنات کے روحانی نظام کو ہم چلا رہے ہیں ، تیری تسبیح و تقدیس کے کلمے ہر وقت ہمارے لبوں پر نغمہ زن رہتے ہیں جب تیری حمد و ستائش کے بےریا ترانے ہم ہر وقت الاپتے رہتے ہیں اور جب ہماری قدوسیت و پاکیزگی کے چار دانگ عالم میں چرچے ہیں تو پھر ایک انسان کو پیدا کرکے کن چیزوں میں اضافہ ہوگا ؟ وہ کہتے ہیں ، انسان زمین میں خود غرضی کی وجہ سے فساد پھیلائے گا ۔ اپنی قوت کا ناجائز استعمال کرے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ ساری زمین جنگ وجدال کا میدان بن جائے گی ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، چپ رہو مصلحت یہی ہے ۔ (آیت) ” انی اعلم مالا تعلمون “۔ فرشتوں کو انسانی مستقبل کی دھندلی سی تصویر خود انسان کی ساخت سے نظر آجاتی ہے ۔ وہ جان جاتے ہیں کہ جو انسان مختلف عناصر سے بنایا جائے گا ، اس کی فطرت میں اختلاف رہے گا ۔ مگر خدائے حکیم کا جواب یہ ہے کہ ہم وحدت ویکسانی کی خوبصورتی دیکھ چکے ، اب اختلاف وتنوع کے جمال کو ملاحظہ کرنے دو اور یہ پہلے سے اللہ کے علم میں ہے اور اس لئے مقدرات میں سے ہے ۔ فرشتوں کو یونہی بتا دیا گیا ہے تاکہ وہ انسانی شرف ومجد سے آگاہ ہوجائیں ۔
Ayah 2:31

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اس نے آدم (علیہ السلام) کو سب چیزوں کے نام سکھائے پھر انکو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا تم مجھے ان چیزوں کے نام بتلاؤ ، اگر تم سچے ہو ۔ (ف 3)

(ف 3) پہلا انسان عالم تھا : اللہ نے ایک جواب تو فرشتوں کو یہ دیا کہ تم خاموش رہو ۔ دوسرا جواب آدم (علیہ السلام) کی قوتوں کا مظاہرہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی فطرت میں علم کا جذبہ رکھا ، اسے تمام ضروریات سے آگاہ کیا ، معارف حیات بتلائے اور فرشتوں کے سامنے بحیثیت ایک عالم کے پیش کیا ۔ فرشتے بھی عالم تھے مگر تسبیح و تقدیس کے آئین و قانون کے فرمانبرداری و اطاعت کے طریقوں کے ، انہیں حیات وفنا کے اسرار سے ناآشنا رکھا گیا ، موت وزیست کے جھمیلوں سے الگ ، یہ بغیر کسی کھٹکے اور خرخشے کے عبادت و اطاعت میں مصروف تھے ، آدم (علیہ السلام) کو جو علم دیا گیا وہ فرشتوں کے علم سے بالکل مختلف تھا ، اسے مقتضیات انسانی بتائے گئے ، موت وحیات کا فرق سمجھایا گیا ، عبادت و اطاعت کے علاوہ دنیا کی آبادی وعمران کے اسرار و رموز سے بہرہ ور کیا گیا ۔ سیاست وحکمرانی کے اصول و ضوابط انہیں سکھائے گئے اور وہ تمام چیزیں بتلائی گئیں جو اسے خلیفۃ اللہ بنا سکیں ، فرشتوں کی حیثیت مطیع وفرمانبردار کی تھی اور آدم کی خلافت اس کے وارث کی ، اس لئے جب موازنہ کے وقت فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کے منصب رفیع کا علم ہوا تو معذرت خواہ ہوئے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نہ کہتا تھا ۔ (آیت) ” انی اعلم غیب السموت والارض “۔ کو غیوب کا لعم صرف مجھے ہے تم نہیں جانتے ۔ حل لغات : ملآئکۃ : جمع ملک ، فرشتہ ، یسفک مضارع معلوم ، مصدر ، سفک ۔ خون بہانا ، انبؤنی ، مجھے بناؤ ، مادہ انباء ، خبر دینا ۔
Ayahs 2:32–34

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

وہ بولے تو پاک ہے ہم اسی قدر جانتے ہیں جس قدر تونے ہمیں سکھلایا اور تو اصل دانا اور پختہ کار ہے ۔

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

فرمایا اے آدم (علیہ السلام) تو ان کو ان چیزوں کے نام بتلا دے ۔ پھر جب آدم (علیہ السلام) نے ان کو ان کے نام بتادئیے ، تب فرمایا کیا میں نے نہ کہا تھا کہ میں آسمان و زمین کی چھپی باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو ‘ مجھے معلوم ہے ۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو ۔ (ف 1) تو سب نے سجدہ کیا ، سوائے ابلیس کے ، اس نے نہ مانا اور تکبر کیا ۔ اور وہ کافروں میں سے تھا ۔

(ف 1) مسجودانسان : پھر اس لئے کہ فرشتوں کو انسان کو حقیقی قدر ومنزلت کا علم ہو ‘ اللہ نے تمام کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرنے کا کہا ، سب کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھکایا ، اسلامی فلسفہ تخلیق ہی یہی ہے کہ تمام کائنات انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ (آیت) ” وخلق لکم ما فی الارض جمیعا “۔ ذرہ سے آفتاب تک اور زمین سے آسمان تک سب کچھ حضرت انسان کے لئے ، حتی کہ شمس و قمر بھی اسی کے خادم ہیں ۔ (آیت) ” وسخرلکم الشمس والقمر دآئبین “۔ یوں سمجھ لیجئے کہ آدم قبلہ مقصود ہے ہر چیز کا ، ساری کائنات کا محور انسان ہے ، شیطان جو ایک مشخص برائی ہے ، اس حقیقت کو نہ سمجھا اور اکڑ بیٹھا ، قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ وہ اپنی فطرت سے مجبور تھا ۔ (آیت) ” وکان من الکافرین “۔ اس لئے ضروری تھا کہ وہ انسانی شرف ومجد کا انکار کر دے ۔
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے آدم (علیہ السلام) سے کہا کہ تو اور تیری جورو بہشت (ف 2) میں رہ اور تم دونوں اس میں جہاں چاہو بافراغت (محفوظ) کھاؤ ، لیکن تم دونوں اس درخت کے پاس نہ جانا (ف 1) ورنہ تم دونوں ظالم (گنہگاریا بےانصاف) ہوجاؤ گے ۔

(ف 2) : پہلے انسان کی پہلی جگہ : قرآن حکیم ، انسانی خلافت ‘ انسانی علم کے بعد پہلے انسان کے لئے جو جگہ تجویز فرماتا ہے ، وہ جنت ہے یعنی رضائے الہی کا آخری مظہر ۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ انسان کی اصلی جگہ جنت ہے فطرت نے پیدا اسے اس لئے کیا ہے کہ وہ بارگارہ رحمت وفیض میں عیش وخلود کی زندگی بسر کرے ، چناچہ ارشاد باری ہے کہ تم یہیں رہو ۔ مگر اس درخت کو استعمال میں نہ لانا ورنہ رحمت باری سے دور ہوجاؤ گے اور تمہیں کچھ عرصے کے لئے اپنے اصلی مقام سے الگ رہنا پڑے گا ۔ یہ قید اس لئے لگا دی تاکہ آدم (علیہ السلام) کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ بعض افعال کے ارتکاب سے ناراض ہوجاتا ہے ، اس کا خیال رہے یہی مطلب ہے اس حدیث کا ۔ ان الجنۃ حفت بالمکارہ “۔ یہ جنت میں آدمی ابتلاء وآزمائش میں پورا اترنے کے بعد جاسکتا ہے ، ان سب آیات سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کا جو مرتبہ قرآن کے بیان کیا ہے وہ دنیا کی کسی کتاب میں مذکور نہیں ہے ، قرآن کہتا ہے پہلا انسان اللہ کا نائب ہے ۔ عالم اشیاء وحقائق ہے ، مکین جنت وفردوس ہے اور ساری کائنات کا مرکز مقصود ہے ، فرشتوں کا مسجود ہے ۔ (ف 1) آدم (علیہ السلام) بوجہ بشریت شیطان کے بھرے میں آگئے اور درخت کے متعلق انہیں غلط فہمی ہوگئی وہ نیک نیتی کے ساتھ یہ سمجھے کہ خدا کا منشاء کسی خاص درخت سے ممانعت کرتا ہے ، حالانکہ خدا کا منشاء مطلقا اس نوع کے اشجار سے روکنا تھا ، چناچہ حضرت آدم ﷺ کی نیکی نیتی پر خدا نے شہادت دی ۔ (آیت) ” فنسی ولم نجدلہ عزما “۔ اس لئے یہ لغزش محض منشاء یا مفہوم کے اعتبار سے ہے ۔ الفاظ کی مخالفت نہیں ۔ حل لغات : تبدون وتکتمون : ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو ۔ مصدر ابدا وکتم ، سجدوا ، فعل ماضی مادہ سجدہ ، جھکنا ، اظہار تذلل کرنا ۔ ابلیس ، شیطان کا نام ہے ، ابلاس کے معنی ناکامی کے ہوتے ہیں ابلیس چونکہ خائب و خاسر شخص کا نام ہے اس لئے ابلیس کہا جاتا ہے ۔ رغدا : فراوانی ، بےکھٹکے ۔
Ayahs 2:36–38

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان دونوں کو اس سے لغزش دی اور ان دونوں کو وہاں سے کہ جس میں وہ تھے نکال دیا اور ہم نے کہا تم سب نیچے اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھیرنا اور کام چلانا ہوگا ۔

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے کچھ باتیں سکھیں ، تب وہ (خدا) اس پر متوجہ ہوا ۔ برحق وہی معاف کرنے والا (پھر آنے والا) مہربان ہے ۔

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے کہا ، تم سب یہاں سے نیچے اترو ، پھر جو میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے گی (ف 2) تو جو کوئی میری ہدایت پر چلے گا انہیں نہ کچھ خوف ہوگا ، اور نہ وہ غم کھائیں گے (ف 1) :

گناہ عارضی ہے : (ف 2) : آدم (علیہ السلام) اجتہادی لغزش کی بنا پر جنت سے الگ کردیئے گئے اور انہیں کہہ دیا گیا کہ تم میں اور شیطان میں باہمی عداوت ہے ، اس لئے کچھ ومدت تک زمین پر رہو ‘ وہاں دونوں کا صحیح طور پر مقابلہ رہے گا ، پھر اگر تم وہاں اس کی گرفت سے بچ گئے تو اس اصلی و حقیقی مقام میں آجاؤ گے ، ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو شیطان کا ہوا ہے ۔ آدم (علیہ السلام) کو عارضی طور پر اس لئے بھی زمین پر اتارا گیا ، تاکہ وہ شیطان کی تمام گھاتوں سے واقف ہوجائے اور پھر کبھی اس کی گرفت میں نہ آئے اور مقابلہ سے اس میں روحانیت کی ایک خاص کیفیت پیدا ہوجائے جو اس کو بارگاہ قدس کے قریب ہونے کے لائق بنا دے ، یہ سزا نہ تھی ، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے بلکہ علاج تھا آدم (علیہ السلام) کی بشری و فطری کمزوریوں کا ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی درخواست پر انہیں معاف کردیا ، لیکن پھر بھی انہیں مقررہ وقت سے پہلے جنت میں جانے کی اجازت نہیں دی ۔ توبہ کی قبولیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ بالکل عارضی اور غیر مستقل کیفیت کا نام ہے ، رب العزت کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف بجائے خود بخشش کی ضمانت ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا “۔ قرآن حکیم کا اعلان عام ہے کہ گناہوں سے لدے ہوئے انسان اس کے عتبہ جلال پر جب بوسہ دیتے ہیں تو وہ ان کے تمام گناہوں پر خط عفو کھینچ دیتا ہے ۔ (آیت) ” الا من تاب وامن وعمل عملا صالحا “۔ کا استثناء قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ گناہ انسانی سرشت کا جزو لاینفک نہیں ‘ بلکہ ایک عارضی کیفیت ہے جو ندامت کے آنسوؤں سے زائل ہو سکتی ہے ۔ (ف 1) ان آیات میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا جذبہ فیض ربوبیت تمہیں زمین کی پستی سے اٹھانے میں ہمیشہ کوشاں رہے گا ۔ اس کی طرف سے رہنمائی کے سارے سامان مہیا ہوں گے ، رسول بھی آئیں گے ، مصلح اور ہادی بھی پیدا ہوں گے ، تمہارا فرض ہے کہ ان کو مانو اور یاد رکھو ، وہی لوگ جو ایمان دار ہوں گے ، بےخوف وخطر زندگی بسر کرسکیں گے اور وہ جو اللہ کے احکام کی تکذیب کریں گے اور رسولوں کو جھٹلائیں گے کسی طرح بھی اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکیں گے ۔ الشجرۃ : درخت ، عربی میں جھگڑنے کے معنی ہیں ۔ شجرۃ بالتاء استعمال نہیں ہوتا ، عدد : دشمن ، مخالف ، مستقر : ٹھکانا ، جائے استقرار ، فتلقی : حاصل کرنا ، لینا ، تاب علیہ : اس نے معاف کیا ۔ بخشا ، اصل ، توب : ہے یعنی رجوع کرنا ۔ لوٹنا ۔ اھبطوا ۔ اتر جاؤ ، مصدر ھبوط ، اترنا ، نازل ہونا ۔
Ayahs 2:39–40

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جو منکر ہوئے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ، وہی دوزخی ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ، میرا وہ احسان یاد کرو (ف 2) جو میں نے تم پر کیا اور میرے عہد کو پورا کرو ۔ میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھی سے ڈرو ۔

(ف 2) اولاد یعقوب (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، ان میں متعدد رسول آئے ہیں اور ان پر بیشمار نعمتیں ہیں کہ جن کا ظہور ہوا ، لیکن یہ ویسے کے ویسے ہی رہے ، ان آیات میں زمانہ رسالت کے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مت بھولو ۔ اس کے عہد کی تصدیق کرو ، یعنی تم میں سے وعدہ تھا کہ ہر سچائی کو قبول کرو گے ، پھر تمہیں یہ کیا ہوگیا ہے کہ اس بہت بڑی صداقت کا انکار کرتے ہو ۔