2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:1
اس قسم کے حروف جو سورتوں کے ابتداء میں ذکر کیے جاتے ہیں ان کو " حروف مقطعات " کہتے ہیں اس لیے کہ یہ کلمات حروف تہجی کی طرح جدا جدا پڑھے جاتے ہیں اس لیے مقطعات (جدا جدا) کہلاتے ہیں ان کے بارے میں حضرات مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ 1 ۔ خلفاء راشدین اور جمہور صحابہ ؓ اور تابعین رحمہم اللہ کے نزدیک یہ حروف متشابہات میں سے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو ان کی مراد معلوم نہیں۔ کما قال تعالیٰ ۔ وما یعلم تاویلہ الا اللہ : ان متشابہات کی حقیقت سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں 2 ۔ بعض سلف اور جمہور متکلمین اور خلیل اور سیبویہ کے نزدیک حروف مقطعات ان سورتوں کے نام ہیں جن کے شروع میں یہ مذکور ہیں جو مضامین اس سورت میں بالتفصیل مذکور ہیں یہ حروف مقطعات اس تفصیل کا اجمال ہیں۔ جیسا کہ صحیح بخاری کا نام (الجامع الصحیح المسند من احادیث رسول اللہ ﷺ وسننہ وایامہ) کتاب موصوف کے تمام مفصل مضامین کا اجمال ہے جس طرح مرکبات کلامیہ کا مفید معنی ہونا ان کے اجزاء یعنی کلمات مفردہ کے مفید معنی ہونے پر موقوف ہے اسی طرح کلمات مفردہ کا مفید معنی ہونا حروف ہجائیہ کے مفید معنی ہونے پر موقوف ہے جس درجہ کلام میں ترکیب ہوگی اسی درجہ معنی میں بھی ترکیب ہوگی یہی وجہ ہے کہ مرکبات اضافیہ اور مرکبات توصیفیہ کے معنی میں اتنی ترکیب نہیں جتنی کہ مرکبات تامہ خبریہ کے معنی میں ترکیب ہے ترکیب لفظی کے انحطاط سے ترکیب معنوی میں بھی انحطاط آگیا۔ مرکبات اضافیہ اگرچہ فی حد ذاتہا مرکبات ہیں مگر مرکبات تامہ خبریہ کے لحاظ سے فی الجملہ بسیط ہیں اور اسی نسبت سے ان کے معنی میں بھی بساطت اور اجمال ہے مگر حروف ہجائی مادہ کلمات ہونے کی وجہ سے انتہا درجہ کے بسیط ہیں پس اسی نسبت سے ان کے معنی میں بھی انتہا درجہ کی بساطت اور غایت درجہ کا اجمال ہوگا جن کا بغیر تفہیم الٰہی اور بدون تائید غیبی کے سمجھنا ناممکن اور محال ہے۔ حضرت شاہ والی اللہ قدس سرہ نے " فوز الکبیر " میں اسی مسلک کو اختیار فرمایا ہے۔ علامہ آلوسی (رح) فرماتے ہیں کہ حروف مقطعات کے اسرار و رموز رسول اللہ ﷺ کے بعد انہی حضرات پر منکشف ہوتے ہیں جو من جانب اللہ خاص طور پر علوم نبوت کے وارث بنائے گئے بلکہ کسی وقت حروف مقطعات خود بخود ان وارثین علوم نبوت کے سامنے اپنے اندروانی اسرار وغوامض بولنے لگتے ہیں جس طرح نبی کریم ﷺ کے دست مبارک پر سنگریزے تسبیح پڑھتے تھے اور صحابہ کرام اپنے کانوں سے سنگریزوں کی اس تسبیح کو سنتے تھے۔ اور گوہ اور ہرن آنحضرت ق سے کلام کرتے تھے باقی ہم جیسون کا حروف مقطعات کی حقیقت سمجھنے سے قاصر رہنا ہرگز اس کی دلیل نہیں ہوسکتا۔ کہ نفس الامر اور واقع میں یہ حروف معانی اور حقائق سے عاری ہیں (روح المعانی) حدیث میں ہے کہ ہر آیت کے لیے ایک ظاہر ہے ایک باطن ہے یعنی ظاہری معنی کے علاوہ اس آیت کے کچھ باطنی اور معنوی اسرار اور لطائف بھی ہوتے ہیں جن کو ارباب باطن ہی سمجھتے ہیں اور وہ باطنی اسرار۔ مدلول لفظی کے ماتحت ہوتے ہیں مخالف نہیں ہوتے ہیں بلکہ باطنی اسرار کے حق اور باطل ہونے کا معیار ہی یہ ہے کہ وہ آیت کے ظاہری مدلول کے مطابق ہوں نہ کہ مخالف کیونکہ شرط یہ ہے کہ وہ باطنی معنی ظاہری مدلول کے ماتحت ہوں اور ظاہر ہے کہ ماتحت ہو کر مافوق کا مخالف کیسے ہوسکتا ہے۔ لہذا ممکن ہے کہ حروف مقطعات ظاہر کے اعتبار سے مجہول الکنہ اور غیر معلوم المراد ہوں اور باطن کے اعتبار سے ارباب باطن کے نزدیک معلوم المراد ہوں۔ 3 ۔ علامہ زمخشری اور قاضی بیجاوی فرماتے ہیں کہ یہ حروف مقطعات۔ حروف تہجی کے اسماء ہیں اور ظاہر ہے کہ کلام کا مادہ اور عنصر یہی حروف تہجی ہیں۔ انہی سے مل کر کلام بنتا ہے۔ قرآن کریم کی بعض سورتوں کو ان حروف سے شروع کرنے میں اعجاز قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ یہ قرآن جس کے کلام الٰہی ہونے کا تم لوگ انکار کرتے ہو وہ انہی حروف سے مرکب ہے جن سے تم اپنے کلام کو ترکیب دیتے ہو پس اگر یہ قرآن خدا کا کلام نہیں تو تم اس جیسے کلام کے بنانے سے کیوں عاجز ہو پھر اس ذاتی اعجاز کے علاوہ اس پر بھی تو نظر کرو کہ ان مقطعات کا پیش کرنے والا شخص محض امی ہے جس نے نہ کبھی کسی مکتب کا دروازہ جھانکا اور نہ کسی استاذ اور کاتب کے سامنے زانوائے ادب تہ کیا اور تم فصحاء اور بلغاء اور ادباء اور خطباء ہو اور اس نبی امی نے جن حروف کو پیش کیا ہے ان میں ایسے ایسے دقیق اور نکات کی رعایت کی گئی ہے کہ جن کی بڑے سے بڑا ادیب اور ماہر عربیت بھی رعایت نہیں کرسکتا۔ صد ہزاراں دفتر اشعار بود پیش حرف امیش آں عار بود مثلاً یہ کہ قرآن مجید کی انتیس سورتوں میں جو شمار کے اعتبار سے حروف تہجی کے برابر ہیں۔ چودہ حروف لائے گئے ہیں جو حروف تہجی کا نصف ہیں۔ نیز حروف کی تمام اقسام یعنی مہموسہ اور مجہورہ۔ شدیدہ اور رخوہ، مطبقہ اور منفتحہ وغیرہ وغیرہ میں سے ہر قسم کے نصف نصف حروف لائے گئے ہیں۔ تفصیل کے لیے کشاف اور بیضاوی کی مراجعت فرمائیں۔ خلاصۂ کلام یہ کہ حروف مقطعات کی تفسیر میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ اس ناچیز کا گمان یہ ہے کہ یہ تمام اقوال اپنی اپنی جگہ پر سب درست ہیں حروف مقطعات لغت عربیہ کے اعتبار سے حروف تہجی کے اسماء ہیں۔ جیسا کہ علامہ زمخشری اور قاضی بیضاوی فرماتے ہیں اور یہی خلیل بن احمد اور سیبویہ اور دیگر ائمہ عربیت کا مذہب ہے اور ظاہر شریعت کے اعتبار سے متشابہات اور خداوند ذوالجلال کے مخفی اسرار ہیں جن کے معانی سے عام طور پر لوگوں کو اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ان میں اس کی استعداد ہے اس لیے ان پر ایمان لانا لازم ہوا اور ان کی تحقیق اور تفتیش کرنا ممنوع ہوا اور اگر یہ شبہ کیا جائے کہ جب حروف مقطعات کو سر الٰہی مانا گیا تو قرآن مفہوم المعنی نہ رہے گا تو پھر نزول سے کیا فائدہ ؟ جواب یہ کہ نزول قرآن کا فائدہ۔ فہم معانی میں منحصر نہیں بلکہ بہت سے مقامات ایسے ہیں کہ جہاں مکلفین سے فقط ایمان لانا مطلوب ہے اسی طرح حروف مقطعات کے نازل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں اور ان کے من جانب اللہ ہونے کا یقین کریں تاکہ بندوں کا کمال انقیاد ظاہر ہو۔ زباں تازہ کردن باقرار تو ننگیختن علت ازکار تو یہ حضرات مفسرین اور محدثین (بکسرا الدال) کا مذہب ہے اور حضرت محدثین (بفتح الدال) یعنی جو حضرات محدث من اللہ ملہم من اللہ ہیں ان کا مسلک یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کبھی کبھی اپنے مخصوس بندوں کو حروف مقطعات کے معانی اور اسرار سے بذریعہ الہام کے مطلع فرمادیتے ہیں۔ محدثین (بکسر الدال) اور محدثین (بفتح الدال) میں حقیقی نزاع نہیں۔ محض لفظی نزاع ہے۔ محدثین جو علم اور ادراک کی نفی کرتے ہیں وہ عوام کے اعتبار سے ہے اور اس نفی سے بھی علم یقینی کی نفی مراد ہے علم ظی اور وجدانی کی نفی مراد نہیں اور محدثین (بفتح الدال) جو حروف مقطعات کے معانی کے علم اور ادراک کے قائل ہیں وہ خواص کے لیے قائل ہیں نہ کہ عوام کے لیے اور پھر خواص کو بھی جو علم ہوتا ہے وہ ظنی اور وجدانی ہوتا ہے۔ قطعی اور یقینی نہیں ہوتا اور عجب نہیں کہ حروف مقطعات عالم غیب میں ذو الوجوہ ہوں کسی پر کوئی معنی اور کسی پر کوئی معنی منکشف ہوں۔ مثلاً کسی پر یہ منکشف ہوا ہو کہ حروف مقطعات اسماء الٰہی ہیں اور کسی پر یہ منکشف ہوا ہو کہ یہ اسماء سور ہیں جس کسی نے جو کچھ کہا وہ اپنے مکاشفہ اور مشاہدہ کے لحاظ سے کہا اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو عربی زبان میں اتارا عربی زبان کے اعتبار سے حروف مقطعات حروف تہجی کے اسماء ہیں۔ سورتوں کے شروع میں طرح طرح کے لطائف اور معارف اور قسم قسم اعجاز کی رعایت کے ساتھ ان کو لایا گیا ہے۔ لہذا ایمہ عربیت اور علامہ زمخشری اور قاضی بیضاوی کا یہ قول محدثین اور محدثین کے قول کے ہرگز منافی اور مخالف نہیں علامہ زمخشری اور بیضاوی کا قول لسان عربی مبین کے قواعد پر مبنی ہے اور محدثین (بکسر الدال) کا قول کہ حروف مقطعات متشابہات سے ہیں ظاہر شریعت پر مبنی ہے اور محدثین (بفتح الدال) یعنی اولیاء اللہ اور عارفین کا قول باطن شریعت پر مبنی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ہر آیت کے لیے ایک ظاہر ہے اور ایک باطن اور پھر ہر ظاہر اور ہر باطن کے لیے کچھ وجوہ ہوتے ہیں کوئی عالم کسی درجہ کو اختیار کرتا ہے اور کوئی کسی وجہ کو۔ ولکل وجھۃ ھو مولیھا فاستبقوا الخیرات واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلام خدا ہے، خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے

ذلک الکتب یہی کتاب حقیقت میں کتاب ہے کہ تمام کتب الٰہیہ اور صحف سماویہ کے متفرق علوم اور مضامین کی جامع ہے اور اسی وجہ سے اسکا اتباع تمام کتب سماویہ کا اتباع ہے اور اس کا انکار تمام کتب الٰہیہ کا انکار ہے کتاب کا اصل مادہ لغت میں جمع کرنے کے معنی میں آتا ہے اس لیے اس کے مناسب معنی بیان کیے گئے اور ذلک اسم اشارہ اس لیے لایا گیا کہ اس طرف اشارہ ہوجائے کہ اس کتاب کی جامعیت محسوس اور مشاہد ہے۔ ارباب معنی تو علوم اور معارف کی روشنی میں اس کی جامعیت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اور اصحاب لفظ۔ فصاحت اور بلاغت کے آئینہ میں اس کی جامعیت کا جلوہ دیکھتے ہیں۔ بہار عالم حسنش دل وجاں تازہ می دارد برنگ اصحاب صورت راببو ارباب معنی را اور بجائے لفظ ھذا کے جو اشارہ قریب کے لیے مستعمل ہوتا ہے لفظ ذلک کا استعمال فرمایا جو اشارہ بعید کے لیے وضع ہوا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی بےمثال جامعیت اور عجیب و غریب حقائق ومعارف اور اسرار وغوامض اور دقائق اور لطائف پر مشتمل ہونے کی وجہ سے نظر وفکر کی جو لانگاہ سے بہت ہی دور اور بلند اور برتر ہے۔ یعنی قرآن اگرچہ باعتبار صورت کے حاضر و قریب ہے مگر اسرار وحقائق کے اعتبار سے ہمارے فہم وادراک سے بہت بعد ہے۔ اس لیے بجائے ھذا کے ذالک اسم اشارہ بعید لایا گیا۔ لاریب فیہ اور اس کتاب کے کامل اور بیمثال ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے تمام مطالب مدلل اور مبرہن ہیں اس میں کسی قسم کے شک اور تردد کی ذرہ برابر گنجائش نہیں ایسی جامع اور مکمل اور واضح اور مدلل کتاب میں بھی اگر کسی کو کوئی شک اور شبہ پیش آئے تو وہ اس کے فہم کا قصور ہے اس کتاب میں تو کوئی شبہ نہیں یہ نافہم اپنی نافہمی سے شبہ میں پڑگیا ہے۔ قرآن کریم کی کوئی بات بھی عقل سلیم کے خلاف نہیں۔ یہ پہلی سورت ہے جو ہجرت کے بعد مدینہ میں سب سے پہلے نازل ہوئی۔ مگر ایک آیت واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ۔ بالاتفاق حجۃ الوداع میں دسویں تاریخ ذی الحجہ کو منی میں اتری۔ تبع کے زمانہ سے یہود نبی آخر الزمان کے انتظار میں مدینہ منورہ آکر آباد ہوئے تھے ان آیات میں انہیں کو خطاب ہے کہ یہ وہی کتاب ہے، جس کی خبر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام دیتے چلے آئے ہیں۔ مالک بن صیف یہودی مسلمانون کے دلون میں شک ڈالتا تھا کہ یہ وہ کتاب نہیں کہ جس کی خبر اگلی کتابوں میں دی گئی ہے اور اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں۔ علماء بنی اسرائیل میں سے جو حقیقت میں علماء تھے۔ وہ قرآن کو سنتے ہی ایمان لے آئے اور جن کے دل ثمن قلیل اور دراہم معدودہ کی محبت میں گرفتار تھے وہ اس سعادت سے محروم رہے کما قال تعالی۔ وقرانا فرقنہ لتقراہ علی الناس علی مکث ونزلنہ تنزیلا۔ قل امنوا بہ اولا تؤمنوا۔ ان الذین اوتوا العلم من قبلہ اذا یتلی علیھم یخرون للاذقان سجدا ویقولون سبحن ربنا ان کا وعد ربنا لمفعولاویخرون للاذقان یبکون ویزیدھم خشوعا۔ ترجمہ : قرآن کو ہم نے بتفریق نازل کیا تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے آہستہ آہستہ پڑھیں اور بتدریج ہم نے اس کو نازل کیا آپ کہدیجئے کہ اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ مگر وہ لوگ جن کو اس کے نازل ہونے سے پہلے اس کا علم دیا گیا ان کی حالت تو یہ ہے کہ جب ان پر اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو ٹھوڑیوں پر سجدہ میں گر جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ سبحان اللہ بیشک خدا کا وعدہ (جو اس کتاب کے نازل کرنے کے متعلق تھا) وہ پورا ہو کر رہا اور گریہ وزاری کرتے ہوئے ٹھوڑیوں پر رتے ہیں اور ان کے خشوع میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ (ف 1): اس روایت سے ذلک اسم اشارہ بعید لانے کی ایک اور وجہ بھی معلوم ہوگئی کہ ذلک کا اشارہ اس کتاب کی طرف ہے کہ جس کی انبیاء سابقین خبر دیتے چلے آئے تھے۔ یعنی یہ وہی کتاب ہے جس کی خبر کتب سابقہ میں دی گئی ہے۔ (ف 2): یہ خصوصیت قرآن کریم ہی کی ہے کہ اس کے تمام مضامین عقل سلیم کے مطابق اور سب کے سب یقینی ہیں۔ تقلیدی اور ظنی نہیں کہیں ریب اور تردد کی گنجائش نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ جس کتاب کے مضامین اور مطالب اس درجہ قطعی اور یقینی ہوں کہ اس میں کہیں شک اور شبہ کی گنجائش نہ ہو تو اس کتاب کے کتاب الٰہی ہونے میں کیا شک اور شبہ ہوسکتا ہے توریت اور انجیل کو دیکھئے کہ اصل ہی سے مشکوک ہے تثلیث اور الوہیت مسیح اور کفارہ کے مضامین فقط اس درجہ ہی میں نہیں کہ عقل کو ان میں کوئی شک اور تردد ہو بلکہ عقل قطعاً ان کو لغو اور باطل سمجھتی ہے توریت میں العیاذ باللہ حضرات انبیاء کا بت پرستی کرنا اور جھوٹ بولنا اور العیاذ باللہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی بیٹیوں سے زنا کرنا مذکور ہے اس کو کون عقل باور کرسکتی ہے۔ وید اور دساتیر میں جا بجا عناصر اور کواکب پرستی کے مضامین مذکور ہیں جن سے عقل نفرت کرتی ہے لنگ اور بہک (فرج) کی پوجا کا ذکر ہی عقل کے لیے باعث صد عار وننگ ہے۔ شرک اور بےشرمی کی بھی حد ہوگئی کہ شرمگاہ کو بھی پرستش سے نہ چھوڑا۔ مولانا عبدالحق صاحب حقانی (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں ص 61 ج 2 گبن جو کہ انگلستان کا بڑا مشہور مورخ اور مقنن ہے اپنی تاریخ میں لکھتا ہے۔ محمد کا مذہب شکوک و شبہات سے پاک ہے مکہ کے پیغمبر نے بتوں اور انسانوں اور ستاروں کی پرستش کو اس معقول دلیل سے رد کیا ہے کہ جو شیئ طلوع ہوتی ہے غروب ہوجاتی ہے اور جو حادث ہے وہ فانی ہے اور جو قابل زوال ہے وہ معدوم ہوجاتی ہے الخ ان بڑے بڑے حقائق کو پیغمبر نے مشہور کیا الخ ایک حکیم جو خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی سفات پر یقین رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے عقائد مذکورہ بالا کو کہہ سکتا ہے کہ وہ عقائد ہمارے ادراک اور اور قوائے عقلی سے بڑھ کر ہیں وہ اصل کہ جس کی بناء عقل اور وحی پر ہے محمد کی شہادت سے استحکام کو پہنچی انتہی ملخصاً ۔ اور سیل باوجود سخت تعصب کے اپنے ترجمۂ قرآن کے دیباچہ میں اقرار کرتا ہے کہ تھوڑے سے دنوں میں جو محمد کا دین شرقاً غرباً روئے زمین پر پھیل گیا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس مذہب کے جملہ امور وہ امور ہیں کہ جن کو عقل بہت جلد تسلیم کرتی ہے جو لوگ تلوار کے زور سے اس دین کا پھیلنا خیال کرتے ہیں وہ بڑی غلطی میں ہیں۔ انتہی ملخصاً ۔ صفات مومنین مخلصین ھدیً للمتقین یہ کتاب ہدایت ہے متقیوں کے لیے جس درجہ کا تقویٰ ہے اس درجہ کی ہدایت ہے یہ جملہ ذلک الکتاب کی دوسری دلیل ہے یعنی کتاب حقیقت میں یہی ہے اس لیے کہ اول تو اس میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجائش نہیں دوم یہ کہ یہ کتاب خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ایک نور مبین اور مشعل ہدایت ہے جب تک دل میں خدا کا خوف نہ ہو اس وقت تک راہ ہدایت نظر نہیں آتی یا یہ کہو کہ ھدی للمتقین لاریب فیہ۔ کی دلیل ہے یعنی اس جامع کتاب میں اس لیے شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ کتاب تو مشعل ہدایت ہے لوگوں کے شبہات اور توہمات کی ظلمتوں اور تاریکیوں کو دور کرنے کے لیے اتاری گئی ہے ہر بات اس کی میزان عقل میں تلی ہوئی ہے ہر بیان اس کا شافی اور کافی مددلل اور مبرہن ہے۔ اوہام پرستوں کے لیے سیف قاطع ہے۔ بھلا ایسی کتاب میں کہا شک اور شبہ کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے چند سال میں جو لوگوں کو ہدایت کی طرف کھینچا توریت انجیل اس کی نظیر تو کیا عشر عشیر بھی نہیں پیش کرسکتی۔ چند ہی روز میں عرب جیسے وحشی ملک کو خدا پرستی کا گہوارہ بنا دیا۔ عرب کے درندے یکلخت شمع نبوت کا پروانہ بن گئے حواریین کی بےوفائی کے خود نصاری معترف ہیں کہ حضرت مسیح کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور یہودا نے تیس درہم رشوت لے کر حضرت مسیح کو گرفتار کرادیا۔ سورة فاتحہ میں بندوں کی جانب سے خدا کی حمد ؤثناء کا ذکر تھا۔ سورة بقرہ میں اس کے برعکس خدائے عز وجل کی جانب سے عباد متقین کی مدح وثناء کا ذکر ہے۔ سبحان اللہ۔ خود اپنی رحمت اور فضل سے ایمان اور تقویٰ کی صفت عطا فرمائیں اور پھر خود ہی اس کی توصیف فرماتے ہیں۔ اللہم لا نحصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک۔ لغت میں تقوی کے معنی صیانت اور حفاظت کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں ان چیزوں سے بچنے کو تقوی کہتے ہیں جو آخرت کے لحاظ سے ضرر رساں ہوں۔ خواہ از قبیل عقائد واخلاق ہوں یا از قبیل اقوال وافعال واحوال ہوں۔ اور چونکہ ضرر کے درجات مختلف ہیں اسی اعتبار سے تقویٰ کے درجات بھی مختلف ہیں۔ پہلا مرتبہ : یہ ہے کہ فر سے تائب ہو کر اسلام میں داخل ہوا اور اپنے کو عذاب دائمی کی مضرت سے بچالے والزمھم کلمۃ التقوی میں تقوی ٰ سے یہی معنی مراد ہیں۔ دوسرا مرتبہ : یہ ہے کہ اپنے نفس کو ارتکاب کبائر اور اصرار علی الصغائر کی مضرت سے محفوظ رکھے کما قال تعالیٰ ولو ان اھل القریٰ امنوا واتقوا اہل شریعت کی اصطلاح میں جب تقویٰ کا لفظ بولا جاتا ہے تو یہی معنی مراد ہوتے ہیں اور کسی نے کیا خوب کہا ہے خل الذنوب صغیرھا وکبیرھا ذاک التقی چھوٹے اور بڑے سب گناہوں کو چھوڑدے۔ یہی تقویٰ ہے واصنع کما شفوق ارض الشوک یحذرھا یری خدا کی راہ میں اسطرح چل جس طرح کہ خاردار جنگل میں ڈر ڈر کر اور سنبھل سنبھل کر کوئی چلتا ہے۔ لا تحقرن صغیرۃ ان الجبال من الحصی چھوٹی چھوٹے گناہ کو بھی حقیر مت سمجھ۔ چھوٹے چھوٹے سنگریزوں سے پہاڑ بنتے ہیں حضرت عمر ؓ نے ابی بن کعب سے تقویٰ کی حقیقت دریافت کی تو یہ جواب دیا کہ اے امیر المومنین کیا آپ کبھی کسی پر خار راستہ سے بھی گزرے ہیں فرمایا کیوں نہیں۔ ابی بن کعب ؓ نے کہا کہ اے امیر ال مومنین پھر آپ نے اس وقت کیا کیا۔ فرمایا کہ میں نے دامن چڑھائے بچا بچا کر قدم رکھے کانٹوں سے بچنے کے لیے اپنی تمام جدوجہد کو خرچ کر ڈالا۔ ابی بن کعب ؓ نے کہا کہ اے امیر ال مومنین یہی تقوی ہے یعنی حق جل وعلی 1 کی معصیت اور نافرمانی سے بچنے کے لیے اپنی پوری ہمت اور طاقت کو خرچ کردینے کا نام تقویٰ ہے۔ اسی لی ارشاد فرمایا۔ ان اکرمکم عندا للہ اتقاکم۔ یقیناً خدا کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا اور اس کی نافرمانی سے بچنے والا ہے۔ 1 ۔ یہ قید اس لیے لگائی کہ اگر دنیاوی ذلت وندامت سے ڈر کر معصیت کو چھوڑا تو وہ تقویٰ نہیں خدا کے ڈر سے گناہ کو چھوڑنے کا نام تقوی ہے۔ 12 منہ عفا اللہ عنہ تیسرا مرتبہ : یہ ہے کہ قلب کو ہر اس چیز سے محفوط کرلیا جائے جو خدا تعالیٰ سے غافل کرتی ہو اور یا ایہا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ (اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) اس آیت میں تقویٰ کا یہی مرتبہ مراد ہے۔ خدا کا خوف ہی ہدایت کا مبداء اور ہر قسم کے فوز و فلاح کا سرچشمہ ہے اسی لیے حضرت نوح اور حضرت ہود اور حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم الصلاۃ والسلام نے سب سے پہلے اپنی قوم کو یہی نصیحت فرمائی۔ الا تتقون۔ کیا تم کو خدا کا خوف نہیں۔ اور فاتقوا اللہ واطیعون۔ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اس لیے کہ بغیر خدا کے خوف کے کوئی نصیحت کارگر نہیں ہوتی کما قال اللہ تعالیٰ سیدذکر من یخشی۔ یعنی نصیحت وہی قبول کرے گا جو خدا سے ڈرتا ہوگا۔ حق جل وعلا نے دوسرے موقعہ پر بجائے ھدی للمتقین، ھدی للناس (یعنی ہدایت ہے انسانوں کے لیے) ارشاد فرمایا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو متقی نہیں وہ درحقیقت انسان نہیں انسانیت اور آدمیت کا اقتضاء یہ ہے کہ اپنے خالق اور مالک سے ڈرے اور جو اس احکم الحاکمین سے نہیں ڈرتا وہ انسان نہیں بہائم کے مثل ہے بلکہ بہائم سے بدتر قال تعالیٰ اولئک کا لانعام بل ھم اضل۔ سفر آخرت کے لیے تقویٰ ہی کا توشہ اور تقویٰ ہی کا لباس کار آمد ہوسکتا ہے کما قال تعالیٰ ۔ وتزودہ فان خیر الزاد التقوی۔ سفر کے لیے توشہ لے لو پس تحقیق سب سے بہتر توشہ تقویٰ ہے۔ جس طرح بغیر زاد راہ کے مسافر کا دنیاوی سفر ناممن ہے۔ اسی طرح بغیر تقویٰ کے توشہ کے آخرت کا سفر ناممکن ہے اور جس طرح ایک معمولی راستہ سے برہنہ اور عریاں گزرنا خلاف حیا اور خلاف شرم ہے۔ اسی طرح اس عظیم الشان شاہراہ سے جو ایک لمحہ کے لیے بھی بیشمار ملائکۃ اللہ سے خالی نہیں رہتی۔ لباس تقویٰ سے برہنہ اور عریاں گزرنا کس طرح بےحیائی اور بےشرمی نہ ہوگا۔ اعاذنا اللہ من ذلک۔ آمین۔