Ayahs 2:84–86شناعت دواز دہم (12)
قال تعالیٰ ۔ واذ اخذنا میثاقکم لا تسفکون دماء کم۔۔۔ الی۔۔۔ ولاھم ینصرون
(ربط): علاوہ ازیں تمہاری دوسری عہد شکنیوں کا بھی مقتضی یہی ہے کہ تم کو چند روز عذاب نہیں بلکہ دائمی عذاب دیا جائے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ ہم نے تم سے اس امر کا پختہ عہد لیا کہ آپس میں خونریزی نہ کرو گے اور نہ ایک دوسرے کو گھروں سے نکالو گے۔ اپنے ہم مذہبوں کو قتل کرنا اور ان کو جلاوطن کرنا درحقیقت اپنے ہی کو قتل کرنا اور جلا وطن کرنا ہے۔ اسی وجہ سے بجائے اقاربکم واھل ملتکم کے انفسکم۔ کا لفظ استعمال فرمایا اور پھر تم نے اس کا اقرار بھی کرلیا کہ یہ عہد اور پیمان ہم کو منظور اقبول ہے اور فقط اقرار پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ تم اس پر شہادت اور گواہی بھی دیتے ہو کہ بیشک ہمارے بزرگوں نے یہ عہد کیا تھا اور پھر اس صریح اقرار اور صریح شہادت کے بعد تم ہی وہ لوگ ہو کہ باہم ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے ہو اور اپنی قوم کے ایک فریق کو جلا وطن بھی کرتے ہو۔ اس طرح کہ تم ان کے مقابلہ میں اللہ کے گناہ اور معصیت اور بندوں پر ظلم اور تعدی کے ساتھ قتل کرنے اور جلا وطن کرنے میں ان کے مخالفین کی امداد کرتے ہو۔ توریت کے ان دو حکموں کو تم نے پس پشت ڈالا اور تیسرا حکم جو آسان تھا اس پر عمل کرنے کے لیے تیار رہتے ہو اور وہ یہ کہ اگر تمہارے ہم مذہب لوگ اسیر اور گرفتار ہو کر آتے ہیں تو ان کا فدیہ دے کر ان کو قید سے چھڑاتے ہو اور حالانکہ تم پر ان کا نکالنا اور جلا وطن کرنا بھی تو قطعاً حرام تھا اور قتل کرنا تو اس سے بھی بڑھ کر جرم تھا۔ مگر تعجب ہے کہ جو جرم شدید تھا اس کا تو ارتکاب کرتے رہے اور جو جرم ذرا خفیف تھا اس سے اجتناب کیا اور وہ اجتناب بھی اتباع شریعت کی بناء پر نہ تھا بلکہ اس بناء پر تھا کہ وہ حکم غرض اور طبیعت کے موافق تھا لہذا ایسے شخص کے لیے چند روزہ عذاب کافی نہیں دائمی عذاب چاہئے۔
مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو فریق تھے۔ ایک بنی قریظہ اور دوسرے بنی نضیر۔
اسی طرح مدینہ میں مشرکین کے بھی دو فریق تھے ایک اوس اور دوسرے خزرج اور ہر فریق دوسرے فریق کا دشمن تھا آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ بنی قریظہ تو قبیلۂ اوس کے حلیف اور دوست تھے اور بنی نضیر قبیلۂ خزرج کے حلیف اور دوست تھے۔ جب کبھی اوس اور خزرج میں لڑائی ہوتی تو حلف اور دوستی کی وجہ سے بنو قریظہ تو اوس کی حمایت اور مدد کرتا اور بنی نضیر قبیلۂ خزرج کی حمایت اور امداد کرتا اور ہر قبیلہ اپنے حلفاء کے ساتھ مل کر اپنے دشمن کو مارتا اور جلا وطن کرتا۔ اور اگر کوئی یہودی جنگ میں اسیر ہوجاتا تو سب مل کر روپیہ جمع کرتے اور زر فدیہ دیکر اس کو قید سے چھڑا کر لاتے اور اگر کوئی ان سے پوچھتا کہ تم آپس میں جنگ وجدال اور قتل و قتال کرتے ہو اور ایک دوسرے کو گھروں سے نکالتے ہو تو پھر انہی قیدیوں کو جن کو گھروں سے نکالا تھا زر فدیہ دیکر کیوں چھڑاتے ہو تو جواب میں یہ کہتے ہیں کہ توریت میں حق تعالیٰ نے ہم کو یہی حکم دیا ہے کہ جس وقت تمہارے ہم مذہب بھائی کسی کے ہاتھ میں قید ہوجائیں تو ان کو قید سے چھڑانا ہم پر واجب ہے۔ اور رہی آپس کی جنگ تو وہ دنیوی مصالح کی بناء پر ہے اس میں اگر اپنے حلفاء کا ساتھ نہ دیں تو موجب عار وننگ ہے۔ حق جل شانہ نے اس آیت میں یہود کی اس شناعت کو ذکر فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ تم کو توریت میں قتل کرنے اور جلا وطن کرنے کی اور ظلم اور تعدی میں مدد کرنے کی ممانعت کی گئی تھی۔ اور قیدیوں کو فدیہ دیکر چھڑانے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان تمام احکام میں سے تم نے فقط فداء اسیران کے حکم پر عمل کیا اس لیے کہ وہ تمہاری نفسانی خواہش کے موافق اور مطابق تھا یہ درحقیقت خدا کی اطاعت نہیں بلکہ اپنے نفس کی اطاعت ہے بلکہ اعلی درجہ کی حماقت ہے کہ اپنے بھائیوں کے قتل کو اور گھروں سے نکالنے کو تو جائز سمجھتے ہیں اور اگر کسی غیر کے ہاتھ میں اسیر ہوجائیں تو فدیہ دیکر ان کے چھڑانے کو واجب سمجھتے ہیں۔ خلاصۂ کلام یہ کہ تم شریعت کے بعض عہدوں اور بعض حکموں کو بےدھڑک توڑتے ہو اور شریعت کا وہ حکم جو تمہاری خواہش نفس اور طبیعت کے موافق ہو اس پر عمل کرتے ہو پس کیا تم کتاب خداوندی یعنی توریت کے بعض حکموں پر اتو ایمان لاتے ہو اور بعض احکام کا انکار کرتے ہو۔ حالانکہ ایمان میں تجزی اور تقسیم جاری نہیں ہوتی۔ سارے ہی حکموں کے ماننے کا نام ایمان ہے جو شخص ایک حکم کا بھی انکار کردے وہ کافر ہے اور کافر کی سزا دائمی ہے نہ کہ ایام معدودہ پس کیا جزاء ہے اس شخص کی جو ایسا شنیع کلام کرے کہ اللہ کے بعض حکموں کو مانے اور بعض کو نہ مانے۔ خصوصاً تم میں سے جو اپنے کو اہل کتاب اور اہل علم بتلاتے ہیں مگر خواری اور رسوائی دنیاوی زندگانی میں جیسے قتل و غارت اور کمال ذلت و اہانت کے ساتھ ان سے جزیہ اور خراج وصول کرنا اور ان کے جرم کے لحاظ سے یہ سزا کوئی بڑی سزا نہیں۔ البتہ قیامت کے دن سخت ترین عذاب کی طرف پہنچائے جائیں گے اور خوب سمجھ لو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ تو اس سے غافل اور بیخبر نہیں۔ ہاں تم ہی غفلت اور بیخبر ی میں ہو۔
دیکھ لو بےعقل لوگوں کا گروہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ جنہوں نے اس دنیائے دنی اور فانی کی حقیر زندگی کو آخرت کے عوض میں بصدر غبت خرید لیا ہے پس یہ نادان آخرت کے منافع سے تو کیا منتفع ہوتے۔ ان سے تو عذاب اخروی ہلکا بھی نہیں کیا جائیگا اور نہ ان کی کسی قسم کی مدد کی جائے گی کہ کوئی زور آور بزور اللہ کے عذاب کو ان سے دفع کردے پس معلوم ہوا کہ یہ لوگ دائمی عذاب کے مستحق ہیں اس لیے کہ کفر نے ان کا ہر طرف سے احاطہ کیا ہے لہذا یہ لوگ اپنے قول لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ میں جھوٹے ہیں۔
فائدہ : معلوم ہوا کہ جو شخص شریعت کے اس حکم کو تو مانے جو اس کی طبعیت اور مزاج کے موافق ہو اور جو حکم مخالف طبیعت ہو اس کو قبول نہ کرے وہ کافر ہے مسلمان نہیں دنیاوی حکومتوں میں بھی ایک قانون کا انکار بغاوت ہے جو شخص حکومت کے کسی حکم کے ماننے سے انکار کردے اس پر بغاوت کی دفعہ لگ جاتی ہے اور کفر اللہ کی بغاوت ہے۔
Ayah 2:87شناعت سیز دہم (13)
قال تعالیٰ ۔ ولقد اتینا موسیٰ الکتب۔۔ الی۔۔۔ وفریقا تقتلون
اور البتہ تحقیق ہم نے بنی اسرائیل کی ہدایت اور اصلاح کا بڑا اہتمام کیا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک روشن کتاب یعنی توریت عطاء کی اور پھر ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بنی اسرائیل کی اصلاح اور تربیت کے لیے مسلسل یکے بعد دیگرے پیگمبروں کو بھیجا کہ اللہ کے عہدوں کو یاد دلاتے رہیں اور شریعت موسویہ کی پیروی اور اس پر استقامت کی تلقین کرتے رہیں اور پھر خاندان بنی اسرائیل کے اخیر میں عیسیٰ بن مریم کو نبوت و رسالت کے واضح اور روشن دلائل دیکر بھیجا اور خاص طور سے روح القدس یعنی جبرائیل امین سے ان کو قوت دی جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے اور دشمنوں سے ان کی حفاظت کرتے تھے ولادت سے لیکر رفع الی السماء کے وقت تک جبرائیل آپ کے محافظ رہے اور اس کے آثار وثمرات وانوار و تجلیات اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے تو کیا اس کے بعد بھی تم نرم نہ پڑے اور جب کبھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسا حکم لیکر آیا کہ جس کو تمہارے نفس پسند نہ کرتے تھے تو تم نے تکبر اور سرکشی کی حالانکہ عقل کا مقتضی یہ تھا کہ اللہ کے نبی اور رسول کی دل وجان سے اطاعت کرتے اور نفس سرکش کی مخالفت کرتے۔ تم جیسے نادان یہ تو کیا کیا کرتے پس تم نے الٹی ہی راہ اختیار کی اور پیغمبروں کے ایک گروہ کو جھٹلایا اور انبیاء کی ایک جماعت کو مار ڈالتے ہو اور ظاہر ہے کہ جو مریض بجائے اس کے کہ طبیب کی ہدایت پر چلے۔ الٹا طبیب کی بےحرمتی کرے اور اس کو جھٹلائے بلکہ اس کو قتل کر ڈالے وہ کہاں شفا یاب ہوسکتا ہے اور ایسے روحانی مریض کے لیے ایام معدودہ کی سزا کافی نہیں بلکہ دائمی اور ابدی سزا چاہئے۔
: یہود انبیاء کی تکذیب تو ایک مرتبہ کرچکے اور قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ اب بھی نبی اکرم ﷺ کے درپے قل ہیں اس لیے کذبت بصیغہ ماضی لائے اور تقتلون کو بصیغۂ مضارع لائے جو ان کے فعل قتل کے حال اور استقبال میں جاری اور مستمر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نیز قتل کا واقعہ اگرچہ گزشتہ زمانہ میں ہوچکا ہے مگر چونکہ انبیاء کا قتل نہایت ہی عظیم اور سخت ہے اس لیے اس کی عظمت اور شناعت کے ظاہر کرنے کے لیے صیغۂ مضارئع سے تعبیر کیا تاکہ وہ پیش نظر ہوجائے گویا کہ وہ اب ہورہا ہے اور یہ ہولناک اور حیرتناک واقعہ لوگوں کی نظروں کے سامنے ہے۔
(ربط): یہاں تک بنی اسرائیل کے اس معاملہ کا ذکر تھا جو انبیاء سابقین اور گزشتہ کتب منزلہ کے ساتھ تھا اب آئندہ آیات میں ان بدبختوں کے اس معاملہ کا ذکر کرتے ہیں جو انہوں نے نبی آخر الزمان ﷺ اور قرآن کے ساتھ کیا۔
Ayahs 2:88–90شناعت چہار دہم (14)
قال تعالیٰ وقالوا قلوبنا غلف۔۔۔ الی۔۔۔ فقلیلا ما یؤمنون
اور ان کے غرور اور تکبر کا یہ عالم ہے کہ خدا کے پیغمبروں سے بطور فخریہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں سوائے اپنے دین کے کسی نئی بات کا اثر ہمارے دلوں تک نہیں پہنچتا یعنی ہہم اپنے دین پر نہایت پختہ اور مضبوط ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ وجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار اور تکذیب کی وجہ سے ان پر لعنت فرمائی ہے اور اپنی رحمت اور عنایت سے دور ڈال دیا ہے اس لیے حق بات ان پر اثر نہیں کرتی اور ان کے دل حق اور نصیحت کو قبول نہیں کرتے۔ اور حق سے متنفر اور بیزار ہیں یہ غلاف نہیں بلکہ اللہ کی لعنت کی نشانی اور علامت ہے۔ کفر اور لعنت کے زنگ نے ان کے دلوں کو اس قدر سیاہ اور زنگ آلود کردیا ہے کہ آئینہ دل میں شاید ہی کوئی جز ایسا باقی رہا ہو کہ ایمان اور ہدایت کی روشنی کو قبول کرسکے۔ اس لیے یہ لوگ بہت ہی قلیل ایمان لاتے ہیں یعنی شریعت کے کسی حکم کو کبھی مان بھی لیتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ ایمان قلیل قابل قبول نہیں مثلاً اگر توحید و رسالت کا اقرار بھی کرلیا۔ اور اجمالی طور پر جنت و جہنم پر بھی ایمان لے آیا اور شریعت کے دوسرے احکام کا انکار کردیا تو ایسے ایمان سے کوئی فائدہ نہیں ایمان قلیل تو کیا معتبر ہوتا۔ نجات کے لیے تو ایمان کثیر بلکہ ایمان اکثر بھی کافی نہیں کہ دین کی کثیر اور اکثر باتوں کو مانے اور بعض کا انکار کردے ایمان اللہ کے تمام احکام کے ماننے کا نام ہے محض قلیل وکثیر کے ماننے سے شریعت میں مومن نہیں کہلاتا۔
فائدہ : حضرات مفسرین نے غلف کے دو معنی بیان کیے ہیں اول یہ کہ غلف اغلف کی جمع ہے جیسے احمر اور اصفر کی جمع حمر اور صفر آتی ہے اور اغلف اسی شے کو کہتے ہیں جو کسی غلاف اور پردہ میں محفوظ اور مستور ہو۔ اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہونگے کہ ہمارے دلوں پر غلاف اور پردہ پڑا ہوا ہے اس لیے آپ کی بات ہمارے دلوں تک پہنچتی نہیں۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے وقالوا قلوبنا فی اکنۃ (اور کہا کافروں نے ہمارے دل پردوں میں ہیں) مجاہد اور قتادہ سے یہی معنی منقول ہیں۔
دوم یہ کہ غلف غلاف کی جمع ہے در اصل غلف بضم اللام تھا جیسے کتاب کی جمع کتب آتی ہے مگر تخفیف کی وجہ سے لام کو ساکن کردیا گیا اور ابن عباس غلف بضم لام پڑھتے تھے۔ اس صورت میں آیت کے یہ معنی ہونگے کہ ہمارے دل علم کے غلاف اور برتن ہیں جن میں ہر قسم کا علم بھرا ہوا ہے تمہارے علم کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے ان کے اس قول کا رد فرمایا کہ جھوٹ بولتے ہیں۔ نہ ان کے دلوں پر پردہ ہے اور نہ ان کے دل علم کے غلاف اور ظرف ہیں بلکہ ان کے کفر اور عناد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہے اور ان کے دلوں سے قبول حق کی استعداد کو سلب کرلیا ہے اس لیے ان کے دل حق کو قبول نہیں کرتے فاصمھم واعمی ابصارھم اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرا اور اندھا بنا دیا ہے اور وہ مالک مطلق ہے جس کو چاہے ظاہر کا اندھا بنائے اور جس کو چاہے باطن کا اندھا بنائے کسی کی مجال کیا ہے جو یہ پوچھ سکے کہ اس کی ظاہر یا باطن کی آنکھ کیوں پھوڑی ؟
اخرج احمد بسند جید عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ﷺ القلوب اربعۃ قلب اجرد فیہ مثل السراج یزھر وقلب اغلف مربوط علی غلافہ وقلب منکوس وقلب مصفح۔ فاما القلب الا جرد فقلب ال مومن سراجہ فیہ نورہ واما القلب الا غلف فقلب الکافر واما القلب المنکوس فقلب المنافق عرف ثم انکروا ما القلب المصفح فقلب فیہ ایمان ونفاق فمثل الایمان فیہ کمثل البقلۃ یمدھا الماء الطیب ومثل النفاق فیہ کمث القرحۃ یمدھا القیح۔ فای المادتین غلب علی الاخری غلبت علی الاخری غلبت علیہ (در منثور ص 87 ج 1)
امام احمد (رح) نے سند جید کے ساتھ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دل چار قسم کے ہیں ایک دل تو وہ ہے جو آئینہ کی طرح صاف و شفاف ہے اور اس میں کوئی چراغ روشن ہے اور ایک دل وہ ہے جو غلاف میں بند ہے اور غلاف کا منہ تاگے یا رسی سے بندھا ہوا ہے اور ایک دل الٹا اور اندھا اور ایک دل وہ ہے جس کے دو صفحے یعنی دو جانبیں ہیں ایک سفید ہے اور ایک صفحہ سیاہ۔ پس صاف و شفاف دل تو مومن کا دل ہے جس میں ایمان کا چراغ روشن ہے اور غلاف میں بند کافر کا دل ہے اور الٹا اور اوندھا دل منافق کا ہے کہ جس نے حق کو پہچانا اور پھر اس کا انکار کیا اور دو رویہ دل وہ ہے کہ جس میں ایمان اور نفاق دونوں جمع ہیں پس ایمان اس دل میں مثل سبزہ کے ہے کہ پاکیزہ پانی اس کو بڑھاتا ہے اور اس کے دل میں نفاق مثل ناسور کے ہے کہ جو دم بدم پیپ اور خون کو بڑھاتا ہے پس ان دو مادوں میں سے جونسا مادہ غالب آجائے اسی کا اعتبار ہے۔
اللہم نور قلوبنا بانوار طاعتک معرفتک امین یا ارحم الراحمین
Ayah 2:91شناعت شانزدہم (16)
واذا قیل لھم امنوا۔۔۔ الی۔۔۔ ان کنتم مومن ین
اور دلیل اس امر کی (کہ یہود کا یہ معاملہ آپ کے ساتھ محض حسد کی بناء پر ہے) یہ ہے کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ ہر اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے خواہ کسی پیغمبر پر اس کا نزول ہوا ہو جو چیز بھی خدا نے نازل کی اس پر ایمان لانا واجب ہے خواہ وہ توریت وانجیل ہو یا قرآن کریم ہو۔ وجوب ایمان کی علت حکم خداوندی ہوتا ہے جو تمام کتب الٰہیہ میں مشترک ہے وہ اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ہم تو فقط اس کتاب پر ایمان لائیں گے۔ جو خاص ہم پر ہمارے نبی کے واسطہ سے نازل کی گئی۔ اس قید سے ان کا حسد صاف ظاہر ہے کہ جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری اس پر تو ایمان لائیں گے اور جو کتاب بنی اسمعیل پر اتری اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور محض حسد کی بناء پر اپنی کتاب کے سوا تمام کتابوں کا انکار کرتے ہیں حالانکہ توریت کے سوا اور جو کتابیں خدا تعالیٰ نے نازل کیں وہ فی نفسہ حق ہیں یعنی سچی اور واقع کے مطابق ہیں اور ان کے تمام مضامین محقق اور مدلل ہیں اور فی نفسہٖ حق اور واقع کے مطابق ہو اور پھر اس کے علاوہ اس چیز کے ساتھ مطابق ہو جس کو وہ سچا اور برحق سمجھتے ہیں تو ایسی چیز کو نہ ماننا سراسر خلاف عقل ہے اس لیے کہ مطابق کا مطابق بھی مطابق ہی ہوتا ہے لہذا ایک مطابق کو ماننا اور دوسرے مطابق کو نہ ماننا تناقض کو مستلزم ہے اور اگر اس پر بھی وہ توریت پر ایمان کے مدعی ہیں تو آپ ﷺ ان سے یہ کہئے کہ اچھا تم یہ بتلاؤ کہ تم اللہ کے پیغمبروں کو کس لیے پہلے ہی سے قتل کرتے چلے آرہے ہو حالانکہ وہ پیغمبر توریت ہی کے مطابق حکم دیتے تھے اور شریعت موسویہ کی تائید اور تجدید کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ جیسے حضرت شیعاء اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہم السلام) اگر تم حقیقۃً توریت پر ایمان رکھنے والے تھے۔ معلوم ہوا کہ تم توریت پر بھی ایمان نہیں رکھتے توریت اور شریعت موسویہ پر تمہارا ایمان کا دعویٰ غلط ہے۔
Ayah 2:92شناعت ہفدہم (17)
قال تعالیٰ ولقد جاء کم موسیٰ بالبینت۔۔۔ الی۔۔۔ وانتم ظلمون
اور انبیاء کے قتل کا واقعہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کے بہت بعد کا ہے خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اس سے بڑھ کر کفر کرچکے ہو وہ یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس توحید و رسالت کی نہایت واضح اور روشن دلیلیں لیکر آئے جو اس بات پر صاف طور پر دلالت کرتی تھیں کہ عبادت اور بندگی اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں پھر بھی تم نے ان کے جانے کے بعد ہی ایک گو سالہ بےعقل کو اپنا معبود بنا لیا اور جب خدا ہی ایک بےعقل حیوان ٹھہرا تو اہل عقل سمجھ سکتے ہیں کہ بےعقل حیوان کے بندے کس درجہ بےعقل اور حیوان ہونگے۔ ہندوستان کے ہندو جو گوسالہ پرستی کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انکا سلسۂ سند سامری سے ضرور ملتا ہوگا اور تم بڑے ہی ظالم ہو کہ اپنے ہاتھ سے ایک بےعقل حیوان کی بنائی ہوئی صورت کو تم نے خدا بنالیا کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم ہوسکتا ہے۔
: گوسالہ کو معبود بنانا اس لیے تھا کہ یہ لوگ غایت حماقت کی وجہ سے یا تو مجسمہ تھے یا حلولیہ تھے یعنی خدا تعالیٰ کا کسی جسم میں حلول کرنا جائز سمجھتے تھے۔
Ayah 2:93شناعت ہشتدہم (18)
قال تعالیٰ ۔ واذ اخذنا میثاقکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان کنتم مومن ین۔
اور ایک قصہ سنو جس سے توریت کے ساتھ یہود کے ایمان کا حال معلوم ہوگا۔ جب ہم نے تم سے اس بات کا عہد لیا کہ جب توریت تمہارے پاس پہنچے تو دل وجان سے اس کو قبول کرنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا مگر تم اپنے اس عہد سے پھرگئے۔ اور توریت پر عمل کرنے میں حیلے اور بہانے شروع کیے۔ اس وقت ہم نے تمہارے سروں پر کوہ طور لا کھڑا کیا اور حکم دیا کہ جو احکام ہم نے تم کو دئیے ہیں ان کو نہایت مضبوطی اور پختگی کے ساتھ پکڑو اور گوش ہوش سے ان کو سنو مبادا کوئی حکم تم کو یاد نہ رہے اور پھر تمہاری یہ غفلت معصیت کا سبب بنا جائے اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہا کہ احکام توریت کو سن لیا ہے مگر مانا نہیں اور اگر ان کے تمرد اور عصیان کا سب سے بڑا نمونہ دیکھنا چاہو تو یہ ہے کہ ان کے کفر اور سرکشی کی وجہ سے ان کے دلوں میں گو سالہ کی محبت پلا دی گئی تھی۔ اس لیے ان کو گوسالہ پرستی لذیذ اور خدا پرستی تلخ اور ناگوار معلوم ہوتی تھی۔ ظاہر نظم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے اسی حالت میں بھی سمعنا اور عصینا دونوں کلمے زبان سے کہے لیکن اس پر اشکال یہ ہے کہ ایسی خوفناک حالت میں زبان سے عصینا کہنا بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔
دوم یہ کہ بالفرض والتقدیر اگر کسی حالت میں زبان سے عصینا نکالتے تو اسی وقت کوہ طور گرا کر ان کو چور چور کردیا جاتا اور سب کے سب ہلاک کردئیے جاتے کیونکہ کوہ طور کو سروں پر لا کر کھڑآ کرنا اس لیے تھا کہ وہ توریت کو قبول کریں ایسی حالت میں بھی اگر زبان سے عصینا کہا تھا تو پھر کوہ طور کھڑا کرنے سے کیا فائدہ ہوا۔ اسی اشکال کی بناء پر بعض مفسرین نے توجیہ کی ہے کہ سمعنا کہنا بزبان قال تھا اور عصینا کہنا بزبان حال تھا زبان سے تو فقط سمعنا ہی کہا تھا لیکن جب اقرار کے بعد فوراً ہی عصیان اور نافرمانی کرنے لگے تو ان کی حالت کے اعتبار سے عصینا کہنا ان کی طرف منسوب کیا گیا گویا کہ وہ اسی حالت میں بزبان حال عصینا کہہ رہے تھے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ حقیقت امر یہ ہے کہ بنی اسرائیل باوجودیکہ کوہ طور کو اپنے سروں پر معلق دیکھ رہے تھے مگر یہ گمان کیا کہ یہ محض ڈرانے کے لیے ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی شفاعت سے اور بلاؤں کی طرح یہ بلا بھی ٹل جائے گی۔ اس لیے انہوں نے ابتداءً احکام توریت کے قبول کرنے سے انکار کردیا اور صاف عصینا کہ دیا کہ کیوں توریت کے احکام شاقہ کی ذمہ داری اپنے سر پر لیں۔ اس گمان پر انہوں نے یہ کلمہ اپنی زبان سے کہا لیکن جب دیکھا کہ پہاڑ ان کے سروں کے نزدیک ہوتا جارہا ہے تو سمجھے کہ یہ حیلے اور بہانے چلیں گے نہیں اس لیے چاروناچار سجدہ میں گرے اور زبان سے الفاظ قبول کہے جیسا کہ سورة اعراف میں ہے۔ واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ وظنوا انہ واقع بھم۔
جب یہ یقین ہوگیا کہ پہاڑ ٹلنے والا نہیں اس وقت مجبور ہو کر قبول کیا۔ مگر کچھ مدت بعد پھر منحرف ہوگئے کما قال تعالیٰ ثم تولیتم من بعد ذلک فلولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لکنتم من الخاسرین۔
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ قبول کے ایک مدت بعد انحراف کی اور اس مقام پر ان کے ابتدائی حال کا بیان ہے کہ ابتداء میں انہوں نے قبول نہیں کیا اور سمعنا کے ساتھ عصینا بھی کہا لیکن بعد میں مجبور ہو کر قبول کیا اور پھر ایک زمانہ کے بعد اس سے انحراف کیا۔ بحمد اللہ اس تقریر پر کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔ انتھی کلامہ محصلا وموضحا۔
خلاصہ یہ کہ جس ایمان کے وہ مدعی ہیں اس ایمان کی حقیقت اور کیفیت یہ ہے جو بیان ہوئی اے ہمارے نبی آپ ﷺ ان سے مختصراً بس اتنا کہدیجئے کہ بہت ہی بری ہے وہ چیز جس کے کرنے کا تم کو تمہارا ایمان حکم دیتا ہے اگر حقیقۃً تم مومن ہو اور دعوائے ایمان میں سچے ہو۔ یعنی یہ محض تمہارا ساختہ اور پرداختہ ایمان ہے جو ایسے افعال شنیعہ اوراقوال قبیحہ کا حکم دیتا ہے تو بہت برا ایمان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا ایمان اگر تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ قادر مطلق کو چھوڑ کر ایک بےزبان اور لایعقل جانور کو خدا بنا لو اور محمد رسول اللہ ﷺ جیسے عظیم الشان رسول کی تکذیب کرو پس ایسا ایمان جو تمہیں کفر کا حکم کرتا ہے یہ تو بہت ہی برا ایمان ہے۔ ایسے لوگ تو دائمی سزا کے مستحق ہیں ایسوں کے لیے ایام معدودہ کا عذاب ہرگز کافی نہیں۔
Ayahs 2:94–96شناعت نوز دہم (19)
قال تعالیٰ قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ بصیر بما یعملون
یہود باوجود ان شنائع اور قبائح کے یہ کہتے تھے کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی نہیں جائے گا اور آخرت کی نعمتیں ہمارے لیے مخصوص ہیں تو اے ہمارے نبی آپ ﷺ ان کے جواب میں یہ کہدیجئے کہ اگر دار آخرت فقط تمہارے ہی لیے اللہ کے یہاں خاص ہے اوروں کے لیے نہیں۔ یعنی بہشت اور نعمائے آخرت میں تمہارا کوئی شریک اور سہیم نہیں تو پھر مرنے کی تمنا اور آرزو کر کے دکھلاؤ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو۔ اس لیے کہ دار آخرت کی وہ لازوال اور بیمثال نعمتیں کہ جن میں تمہارا کوئی شریک اور سہیم نہیں ان تک پہنچنے کا راستہ سوائے موت کے اور کوئی نہیں لہذا اگر تم کو یہ یقین ہے کہ اس دار جاودانی کی نعمتیں تمہارے لیے مخصوص ہیں تو پھر اس دار فانی اور کلبۂ احزان و پریشانی سے خلاصی اور نجات کی تمنا کرو۔ قصر عالی شان اور اعزاز شاہی کے مقابلہ میں جیل خانہ کی ذلت اور مشقت کو ترجیح دینا کسی عاقل کا کام نہیں خصوصاً جبکہ جدال و قتال کا بازار گرم ہے اور یہود کے مرد مارے جارہے ہیں اور بچے اور عورتیں غلام بنائے جارہے ہیں مال واسباب لوٹا جارہا ہے اور جزیہ اور خراج ان پر قائم کیا جارہا ہے تو ایسی حیات سے بلا شبہ موت افضل اور بہتر ہے تم کو معلوم ہے کہ لذائذ دنیوی، نعم اخروی کا مقابلہ نہیں کرسکتیں اور تم اس وقت مسلمانوں سے جنگ وجدال کی وجہ سے تکلیف اٹھار رہے ہو تو موت کی تمنا کرو تاکہ اس رنج ومحن سے چھٹکارا ملے اور چونکہ اپنے دعوے کے موافق خاصان خدا سے ہو اس لیے تمہاری دعا بھی ضرور قبول ہوگی۔ خلاصہ کہ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو تو موت کی تمنا کرو۔ اور ہم موت اور حیات کے مالک ہیں۔ جس وقت بھی تم موت کی تمنا کرو گے اسی وقت موت واقع کردیں گے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اگر یہودی موت کی تمنا کرتے تو پانی ہی کے گھوٹ سے گلا گھٹ کر مرجاتے وجہ اس کی یہ ہے کہ جو شئی ممکن الوقوع ہو۔ تحدی اور اظہار معجزہ کے وقت اس کا وقوع اور تحقق واجب اور لازم ہوجاتا ہے لیکن یہ وجوب اور لزوم ان کی تمنا اور آرزو پر موقوف تھا لہذا جب انہوں نے تمنا نہ کی تو موت بھی متحقق نہ ہوئی اور چونکہ ان کو یقین تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کی تحدی کے بعد اگر ہم نے موت کی تنمنا کی تو موت ضرور آجائے گی اس لیے ڈر کے مارے موت کی تمنا نہیں کی۔ خوب جانتے تھے کہ موت کی تمنا کرنے سے آنحضرت ﷺ کا معجزہ ظاہر ہوجائے گا اس لیے موت کی تمنا کرنے سے عاجز رہے جیسا کہ آئندہ آیت میں ارشاد فرماتے ہیں۔
اور ہم ابھی اسے خبردیتے ہیں کہ یہ لوگ ہرگز کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے ان اعمال شنیعہ کے خوف کی وجہ سے جو ان کے ہاتھ پہلے کرچکے ہیں یہ جملہ بطور پیشین گوئی اور غیب کی خبر کے ہے جو حضور کا معجزہ اور یہود کے عجز کی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے اگرچہ وہ موت کی تمنا نہ کریں اور موت سے کتنا ہی بھاگیں۔ ایک نہ ایک دن ضرور موت آئے گی اور ان سب اعمال کفریہ کی ان کو سزا ملے گی۔
1: جاننا چاہئے کہ یہ ایک قسم کا مباہلہ تھا۔ حق اور باطل کا فیصلہ اکثر مناظرہ اور مجادلہ سے ہوتا ہے اور کبھی مباہلہ سے۔ اس لیے کہ فیصلہ کے دو طریق ہیں۔ ایک طریقہ معتاد اور ایک طریقہ غیر معتاد۔ معتاد طریقہ یہ ہے کہ مناظرہ اور مباحثہ سے فیصلہ کیا جائے اور غیر معتاد طریقہ یہ ہے کہ فیصلہ ایسے طریقہ سے کیا جائے جو خارق للعادۃ اور اسباب ظاہری کے دائرہ سے بالا اور برتر ہو یعنی بطریق معجزہ اور کرامت اس کا فیصلہ کیا جائے۔ چناچہ اس مقام پر جب حجت اور دلیل اور نظر اور فکر کے تمام مراحل ختم ہوگئے تو خصم کے افحام اور الزام کے لیے ایک خارق عادت طریق اختیار کیا گیا وہ یہ کہ ایک مرتبہ زبان سے یہ کہہ دیں کہ اے اللہ ہم کو موت دے اسی وقت ان کا صدق کذب ظاہر ہوجائیگا اور اگر یہود کو اس کا یقین نہ ہوتا تو جوش عداوت میں ضرور کہہ ڈالتے تاکہ حضور کا معجزہ ظاہر نہ ہو۔
2: یہ خطاب اور یہ تحدی ان یہودیوں کے ساتھ مخصوص تھی جو نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں تھے اور خوب جانتے تھے کہ یہی وہ نبی برحق ہیں جن کی پیشین گوئی توریت میں ہے اور ہر زمانہ کے یہود سے یہ خطاب نہیں جیسا کہ روح المعانی ص 296 ج 1 عبداللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے اور ابداً کا لفظ انہی کے عمر کے لحاظ سے فرمایا گیا۔
3: یہود نے نہ زبان سے تمنا کی ورنہ ضرور منقول ہوتی اور نہ دل سے تمنا کی ورنہ اگر دل سے تمنا کرتے تو خجالت اور الزام کے دور کرنے کے لیے زبان سے ضرور اس کا اظہار کرتے۔
ایک شبہ : اگر یہ کہا جائے کہ یہ سوال تو یہود کی طرف سے مسلمانوں پر بھی وارد ہوسکتا ہے کہ تم بھی یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ سوائے مسلمانوں کے اور کوئی جنت میں نہیں جائیگا لہذا تم کو بھی چاہئے کہ موت کی تمنا کرو۔
ازالہ : جواب یہ ہے کہ یہود کا عقیدہ فقط یہی نہیں تھا کہ ہم اہل حق ہیں اور ہمارے سوا کوئی جنت میں نہیں جائیگا بلکہ ساتھ یہ بھی اعتقاد تھا کہ ہم اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں کما قال تعالیٰ حا کیا عنھم نحن ابناء اللہ واحباءہ ہمارے اعمال وافعال اوراقوال واحوال کیسے ہی ناشایستہ اور نافتہ ہوں ہم ضرورت جنت میں جائیں گے جنت ہماری جدی اور خاندانی میراث ہے مرتے ہی ہم بہشت میں داخل ہوجائیں گے اور مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں کہ ہم اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں اور جنت ہمارے لیے مخصوص ہے ہمارے اعمال اچھے ہوں یا برے ہر حال میں ہم جنت میں جائیں گے بلکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے کا دار و مدار ایمان اور عمل صالح پر ہے اس لیے مسلمان ہمیشہ اپنی نازیبا افعال واقوال سے ڈرتے رہتے ہیں بخلاف یہود کے کہ وہ بیدھڑک گناہ کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے ہیں۔ سیغفرلنا یعنی ہم کوئی گناہ کرلیں سب بخشے جائیں گے کسی قسم کی معصیت ہمارے لیے مضر نہیں اور نہ ہم سے کوئی حساب و کتاب ہوگا اس کے برعکس مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن ذرہ ذرہ کا حساب دینا ہوگا اس لیے ہر وقت وہ اپنی کوتاہیوں سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ زندگی اور بڑھ جائے تاکہ گزشتہ تقصیرات کی توبہ اور استغفار سے کچھ تلافی کرسکیں اور کچھ اعمال صالحہ کر کے سفر آخرت کے لیے زاد راہ اور راحلہ تیار کرسکیں۔
موت کی تمنا کا حکم شرعی
احادیث میں بلا ضرورت موت کی تمنا کرنے کی یا دنیاوی مصائب سے گھبرا کر موت کی آرزو کرنے کی ممانعت آئی ہے۔ عمر کا زیادہ ہونا اور توبہ اور اعمال صالحہ کے لیے وقت کا میسر آجانا ایک نعمت عظمی اور غنیمت کبری ہے البتہ اگر قلب پر لقاء خداوندی کا شوق غالب ہو تو پھر موت کی تمنا جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ فرط شوق سے اس درج مغلوب الحال ہوجائے کہ دنیاوی منافع اس کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں اور غلبۂ شوق میں اس کو اس کا بھی خیال نہ رہے کہ جس قدر عمر زیادہ ہوگی اسی قدر قرب خداوندی کے اسباب زیادہ حاصل کرسکوں گا اور حضرات صحابہ سے جو اس قسم کی آرزو منقول ہے سو وہ اس وقت میں تھی کہ جب اسباب موت کے سامنے آگئے اور دنیا کی زندگی سے مایوسی ہوگئی اس وقت موت کی فرحت اور مسرت میں کچھ کلمات زبان سے نکلے اور یہ وقت محل بحث سے خارج ہے۔ تفصیل کے لیے تفسیر عزیزی اور تفسیر مظہری کی مراجعت کی جائے۔
اور یہ لوگ موت کی تمنا اور آرزو ہرگز نہیں کرسکتے اس لیے کہ البتہ تحقیق آپ ان کو سب لوگوں سے زیادہ اس فانی زندگی پر حریص پائیں گے حتی کہ ان لوگوں سے بھی زیادہ حریص پائیں گے جو لوگ مشرک اور بت پرست ہیں اور اخروی حیات کے بالکل قائل نہیں دنیوی حیات کو ہی حیات سمجھتے ہیں اور یہودباوجودی کہ حیات اخروی اور آخرت کے ثواب اور عقاب کے قائل ہیں ان کا سب سے زیادہ زندگی پر حریص ہونا اس امر کی بین دلیل ہے کہ ان کو اپنے مجرم ہونے کا یقین کامل ہے۔ ہر ایک ان میں سے یہ چاہتا ہے کہ اس کو ہزار برس کی عمر دیجائے حالانکہ ہزار برس کی عمد دیاجانا بھی اللہ کے عذاب کو دفع نہیں کرسکتا۔ ہزار برس کے بعد پھر موت ہی ہے اور ان لوگوں کو اگر ہزار برس سے بھی زیادہ عمر مل جائے تب بھی کوئی فائدہ نہیں جس قدر ان کی عمر زیادہ ہوگی اسی قدر ان کا کفر زیادہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے کہ دم بدم کفر اور معصیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کے حق میں تخفیف عذاب کی کوئی صورت نہیں۔
Ayahs 2:97–98شناعت بستم (20)
قال تعالیٰ قل من کان عدوا لجبریل فانہ نزلہ۔۔۔ الی۔۔ فان اللہ عدو للکفرین
ان آیات میں یہود کے نہ ایمان لانے کے لیے ایک خاص بہانہ کو ذکر کر کے اس کا رد فرماتے ہیں۔ وہ یہ کہ ہم قرآن پر اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ اس کو جبریل لیکر آتے ہیں اور وہ ہمارے دشمن ہیں وہی ہم پر ہمیشہ اللہ کا عذاب لیکر آتے ہیں اس لیے ہم ان کی بات نہیں مانیں گے۔ البتہ میکائیل ہمارے دوت ہیں جو رحمت اور بارش کے فرشتہ ہیں وہ اگر وحی لیکر آتے تو ہم مان لیتے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محمد ﷺ اگر یہودی یہ کہیں کہ ہم قرآن کو اس لیے نہیں مانتے کہ وہ جبریل کے واسطہ سے نازل ہوا ہے اور جبریل ہمارے دشمن ہیں۔ اور محمد روسول اللہ کو ہمارے پوشیدہ اسرار سے مطلع کرتے ہیں اور اس سے پہلے بھی جس قدر بلائیں اور مصیبتیں اور احکام شاقہ نازل ہوئے وہ سب جبریل ہی لیکر آئے اس لیے ہم قرآن کو نہیں مانتے بخلاف توریت کے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو بلا واسطہ عنایت ہوئی تو آپ ان کے جواب میں یہ کہدیجئے کہ جو شخص جبریل کا دشمن ہو وہ درحقیقت اللہ کا دشمن ہے اس لیے کہ جبریل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے جس میں جبریل کا کوئی دخل اور اختیار نہیں وہ تو محض سفیر یعنی ایلچی ہیں تم تو اس پر نظر کرو کہ نازل کرنیوالا کون ہے۔ حق جل شانہ اگر بجائے جبریل کے یہ کام میکائیل کے سپرد فرماتے تو وہ بھی یہی کرتے۔
(مصرع) او بجز نائی و ماجزنی نیم
نیز اس قرآن کے اوصاف پر نظر ڈالو کہ وہ کیسا ہے سو اس میں تین صفتیں ہیں۔ اول یہ کہ وہ تمام پچھلی کتابوں کا تصدیق کرنے والا ہے لہذا قرآن کریم کی تسدیق تمام کتب الٰہیہ کی تصدیق ہے اور اس کی تکذیب تمام کتب الہیہ کی تکذیب ہے۔ دوم یہ کہ وہ خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ بتلاتی ہے اور سیدھا راستہ تو اگر دشمن بھی بتلائے تو اسے فوراً قبول کرنا چاہئے۔ سوم یہ کہ کتاب اہل ایمان کے لیے جو خداوند ذوالجلال کی طرف سے ہدایت کے الوان نعمت کا خوان لیکر آیا ہو اور پھر محبین اور مشتاقین کے لیے ساتھ ساتھ خوشخبری بھی لیکر آیا ہو وہ کمال محبت اور غایت الفت کا مستحق ہے یا دشمنی اور عداوت کا۔ افسوس ان لوگوں نے نہ اللہ کے پیغام ہدایت کو قبول کیا اور نہ بشارت میں داخل ہوئے یہ نہ سمجھا کہ اللہ کے فضل کو لیکر آنے والے سے دشمنی کرنا اللہ سے دشمنی کرنا ہے اور جو شخص اللہ کا دشمن ہو اور اس کے فرشتوں اور پیغمبروں کا اور خاص کر جبریل اور میکائیل کا تو اس کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تمام کافروں کا دشمن ہے لہذا جو شخص جبریل کا دشمن ہوگا وہ خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کے پیغمبروں کا دوست کیسے ہوسکتا ہے۔ سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ جو شخص بھی ان میں سے کسی سے عداوت رکھے وہ کافر ہے اور اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کے دوستوں سے دشمنی کرنا اللہ سے لڑائی مول لینا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ جب یہودیوں نے یہ کہا کہ جبریل ہمارے دشمن ہیں اور میکائیل ہمارے دوست ہیں تو حضرت عمر ؓ نے ان سے یہ سوال کیا کہ یہ بتلاؤ کہ جبریل اور میکایل کو بارگاہ خداوندی میں کیا مرتبہ اور کس درجہ کا قرب حاصل ہے۔ یہود نے کہا کہ جبرئیل اللہ کے دائیں جانب ہیں اور میکائیل بائیں جانب۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا پس خدا کی قسم یہ ناممکن ہے کہ جبریل میکائیل کے دشمن ہوں اور یہ بھی ناممکن ہے کہ میکائیل، جبرئیل کے دشمنوں سے دوستی اور صلح کریں۔
اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ جب ان دونوں کو خدا سے یہ قرب ہے تو یہ ناممکن ہے کہ یہ دونوں آپس میں دشمن ہوں۔ (کذا فی الدر المنثور ص 90 ج 1)
نکتہ : کسی کلام کے نازل ہونے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کلام اول کان پر پہنچے اور پھر کان سے دل تک پہنچے یہ طریقہ عام اور متعارف ہے۔
دوسرا طریق یہ ہے کہ اول دل پر اترے اور الفظ اور معنی سب سے پہلے دل میں اتریں اور پھر دل سے کان اور زبان پر پہنچیں۔ یہ طریقہ اہل الہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ قرآن کریم کا نزول نبی اکرم ﷺ پر اسی طریق پر ہوتا تھا اسی وجہ سے آں حضرت ﷺ کو قرآن کے یاد کرنے اور بار بار پڑھنے کی حاجت نہ ہوتی تھی بلکہ ایک ہی مرتبہ سن کر آپ کو یاد ہوجاتا تھا۔ اس لیے فانہ نزلہ علی قلبک فرمایا۔ بخلاف امت کے کہ ان کو قرآن معروف اور معتاد طریقے سے پہنچا ہے کہ اول کانوں سے سنا پھر دلوں تک پہنچا۔
نیز نزول وحی کی حالت میں حواس ظاہری بالکل معطل ہوجاتے ہیں اور بیخودی طاری ہوجانے کی وجہ سے حواس ظاہری اپنا کام نہیں کرتے اس لیے ایسی حالت میں الفاظ وحی کا تمام تر ورود اور نزول قلب ہی پر ہوتا ہے جس طرح انسان خواب میں الفاظ بھی سنتا ہے مگر ان الفاظ کا اصل مدرک قلب ہی ہوتا ہے اس لیے کہ خواب کی حالت میں حواس ظاہری ان کے معطل ہوجاتے ہیں یا قلب پر نازل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ قرآن آپ کے قلب میں ایسا محفوظ ہوجاتا ہے کہ پھر آپ اس کو بھولتے نہیں اور نہ آپ کو اس کی مراد اور معنی میں کوئی اشتباہ لاحق ہوتا ہے۔