Ayahs 2:65–66شناعت سوم
قال تعالیٰ ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم۔۔۔ الی۔۔۔ وموعظمۃ للمتقین۔
اور البتہ تحقیق تم خوب جان چکے ہو حال ان لوگوں کا کہ جنہوں نے ہفتہ کے دن حد سے تجاوز کیا پس کہا ہم نے ان سے کہ بن جاؤ بندر ذلیل یعنی دھتکارے ہوئے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایک شہر دریا کے کنارہ آباد تھا جس میں بنی اسرائیل کو ہفتہ کے دن مچھلی کے شکار کی ممانعت تھی۔
بنی اسرائیل کی آزمائش کے لیے ہفتہ کے روز مچھلیاں دریا کے کنارہ پر بکثرت جمع ہوجائیں اور ہفتہ گزرنے کے بعد یہ حالت ہوتی کہ ایک مچھلی بھی نظر نہ آتی، بنی اسرائیل نے جب یہ حالت دیکھی تو شکار کرنیکا ایک حیلہ نکالا کہ لب دریا چھوٹے چھوٹے حوض بنائے اور دریا سے پانی اور مچھلیاں آنے کے لیے نالیاں بھی بنائیں ہفتہ کے روز جب وہ حوض مچھلیوں سے بھرجاتے تو وہ نالیاں بند کردیتے اور یکشنبہ کو ان کا شکار کرتے، عرصہ تک اسی طرح کرتے رہے اسی بستی میں ان کے علاوہ بنی اسرائیل کے اور دو فریق تھے ایک فریق ان کو اس حیلہ سے منع کرتا اور دوسرا فریق یہ سمجھ کر کہ ان کو نصیحت کرنا بےسود ہے اس لیے خاموش رہتا نصیحت کرنے والوں نے جب یہ دیکھا کہ کوئی نصیحت کار گر نہیں ہوتی تو بستی کو تقسیم کرلیا اور درمیان میں ایک لمبی دیوار کھینچ لی اس طرح سے شہر دو حصوں پر منقسم ہوگیا اور آمدورفت کے لیے درمیان میں دروازہ رکھ لیا اور ہر فریق علیحدہ رہنے لگا جب وہ کسی طرح باز نہ آئے تو داؤد (علیہ السلام) نے ان پر لعنت فرمائی۔ نبی کی بد دعاء سے بندر بنا دئیے گئے۔ مرد بندر اور عورتیں بندریاں بنا دی گئیں جب صبح ہوئی اور کوئی چلتا پھر تا نظر نہ آیا تو وہ لوگ جن کو اللہ نے اس عذاب سے محفوظ رکھا تھا آپس میں کہنے لگے کہ کوئی خاص واقعہ پیش آیا ہے جو بنی اسرائی نظر نہیں آتے اور سخت مترود ہوئے جا کر دیکھا تو مکانات کے دروازے بند تھے کسی طرح دروازے کھول کر اندر داخل ہوئے دیکھا سب بندر بنے ہوئے ہیں جو شخص ان کو دیکھنے آتا تو بطور توبیخ اور ملامت یہ کہتا کہ کیا ہم نے تم کو منع نہیں کیا تھا تو کمال حسرت سے سر ہلا تاکہ بیشک تم نے منع کیا تھا۔ اور یہ لوگ آنکھوں سے پہچانے جاتے تھے کہ یہ فلاں ہے اور وہ فلاں تین دن تک اسی حالت میں رہے پھر سب مرگئے یہ تمام تفصیل امام ابن جریر طبری اور حافظ ابن کثیر نے اپنی اپنی تفسیر میں ذکر کی ہے
امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ ظاہر قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ حقیقۃً بندر بنا دیتے گئے تھے یعنی صورتیں اور شکلیں بندروں کی بن گئیں وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ اور یہ اللہ پر کچھ دشوار نہیں اور آثار صحابہ اور تابعین بھی اس کی شہادت دے رہے ہیں اور اسی پر تمام امت کا اجماع ہے کہ وہ لوگ حقیقۃً بندر بنا دئیے گئے تھے۔ اور جس شخص نے یہ کہا کہ حقیقۃً بندر نہیں بنائے گئے تھے بلکہ ان کے اخلاق اور عادات بندروں جیسے ہوگئے تھے تو یہ صریح خطا ہے۔ ظاہر قرآن اور ظاہر روایات اور اجماع سلف کے خلاف ہے۔ کافروں کے اخلاق تو ہر زمانہ میں بندروں سے بھی بڑھ چڑھ کر رہے اور اب تو ترقی کا دور ہے اور اس زمانہ کے کافر تو اخلاق میں بندر اور سولہ سے بھی بڑھ کر ہیں یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ کی خصوصیت نہیں۔
: مسخ کی تین قسمیں ہیں۔
اول : مسخ حقیقی۔ یعنی حقیقت اور ماہیت کا بدل جانا جیسے گوشت کا پتھر ہوجانا جیسا کہ بعض حدیثوں میں آیا ہے۔
دوسرے : مسخ صوری۔ یعنی حقیقت انسانیہ تو باقی رہے اور فقط صورت اور شکل بدل جائے جیسے اس قصہ میں ہوا کہ بنی اسرائیل کی فقط صورتیں اور شکلیں مسخ کی گئیں کہ بجائے صورت انسانی کے بندر کی صورت بنادئیے گئے مگر حقیقت انسانی جس کے ذریعہ سے انسان ادراک اور احساس کرتا ہے وہ بحالہ باقی تھی گویائی اور بولنے کی قوت سلب کرلی گئی تھی مگر عقل باقی تھی جس کے ذریعہ سے اپنی صورت بدلنے کا ادراک کرتے تھے اور یہ بھی سمجھتے تھے کہ یہ ہماری نافرمانی کی سزا ہے مسخ سے فقط ان کی انسانی صورت زائل ہوئی اور فہم اور شعور انسانی سب باقی رہا۔ اسی لیے خاسئین ذوی العقول کی جمع لائی گئی تاکہ ادراک انسانی کی بقاء پر دلالت کرے۔
قردۃً کے لفظ سے بندر کی صورت ہونا معلوم ہوا اور کونوا کے خطاب اور خاسئین سے عقل اور انسانی شعور کا باقی رہنا معلوم ہوا۔ اور جب ڈارون کی تحقیقات پر ایمان رکھنے والوں کے نزدیک بندر ترقی کر کے انسان بن سکتا ہے تو اگر انبیاء اللہ کے مقابلہ میں ترقی معکوس ہو کر انسان سے بندر بن جائے تو کیوں محال ہے حرکت کی مسافت ایک ہے حیوانیت سے انسانیت کی طرف ہو یا انسانیت سے حیوانیت کی طرف ہو۔ حیوان کو انسان بنتا تو کسی نے دیکھا نہیں اور ہزارہا انسانوں کو بندر بنتے ہوئے لاکھوں انسانوں حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور قرآن اور حدیث نے اس کی خبر دی۔ فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر۔ جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر اختیار کرے۔
عطاء خراسانی سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آواز دی گئی۔ یا اھل القریۃ کونوا قردۃ خاسئین۔ اے بستی والو ہوجاؤ بندر ذلیل۔ اس کے بعد لوگ ان کے پاس آتے اور یہ کہتے کہ کیا ہم نے تم کو منع نہیں کیا تھا تو سر سے اشارہ کرتے کہ بےشک۔
تیسرے : مسخ معنوی۔ یعنی صفات نفسانیہ کا بدل جانا۔ مثلاً قناعت کا حرص اور طمع سے فہم و فراست کا سفاہت و بلادت سے بدل جانا کہ پہلے قانع تھا اب حریص بن گیا۔ پہلے متواضع تھا اب متکبر ہوگیا اس کو مسخ معنوی کہتے ہیں جس کو حق تعالیٰ نے ختم اور طبع کے ساتھ تعبیر کیا ہے اور آیت کمثل الحمار یحمل اسفارا اور فمثلہ کمثل الکلب میں۔ گدھے اور کتے کی مثال سے مسخ معنوی مراد ہے۔
بنی اسرائیل کا مسخ معنوی پہلے ہوچکا تھا اس وقت تو فقط مسخ صوری ہوا کہ بجائے شکل انسانی کے بندر کی شکل بنادئیے گئے اس لیے کہ مسخ معنوی تو اسی وقت ہوچکا تھا کہ جب انبیاء اور علماء کی نصیحت قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور کمثل الحمار اور کمثل الکلب کا مصداق بن چکے تھے۔
آئندہ آیت میں اس مسخ صوری کی حکتم بین فرماتے ہیں کہ یہ اس لیے ھبندر بنائے گئے تاکہ نافرمانوں کو عبرت اور پرہیزگاروں کو نصیحت ہو۔ اور ظاہر ہے کہ نافرمانوں کو مسخ صوری ہی سے عبرت ہوسکتی ہے۔ مسخ معنوی میں تو دوسرے نافرمان بھی انہی کے شریک اور ہم پلہ ہیں۔
: ابن عباس ؓ سے منقول ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے بندر بنایا وہ تین دن سے زائد زندہ نہیں رہے اور نہ ان کی نسل چلی اور یہ بندر جو فی الحال موجود ہیں ان کی نسل سے نہیں بلکہ یہ اصل بندر ہیں (ابن کثیر)
فجعلناھا نکالا لما بین یدیھا وما خلفھا وموعظۃ للمتقین۔ پس بنایا ہم نے اس واقعہ کو عبرت ان بستیوں کے لیے جو اس شہر کے سامنے اور پیچھے آباد تھیں اور نصیحت بنایا خدا سے ڈرنے والوں کے لیے یعنی تاکہ نافرمانوں کو اس واقعہ سے عبرت ہو اور فرمانبرداروں کو نصیحت ہو۔ مثل مشہور ہے۔ العبد یقرع بالعصا والحر تکفیہ الملامۃ۔ غلام کو لکڑی سے تنبیہ کی جاتی ہے اور شریف کو ملامت ہی کافی ہوتی ہے۔
(ربط): اب آئندہ آیات میں ان کی روگردانی کا ایک اور واقعہ ذکر فرماتے ہیں کہ وحی الٰہی پر اطمینان نہ کیا اور معاندانہ سوالا کا سلسلہ شروع کردیا۔
Ayah 2:67شناعت چہارم معاندانہ سوالات
قال تعالیٰ واذ قال موسیٰ لقومہ ان اللہ یامرکم۔۔۔ الی۔۔۔ وماکادوا یفعلون
اور یاد کرو اس وقت کو کہ بنی اسرائیل میں ایک متمول اور مالدار شخص جس کا نام عامیل کہا جاتا ہے سوائے بھتیجے کے اور کوئی اسکا وارث نہ تھا ایک مدت تک اس کے مرنے کا منتظر رہا۔ جب دیکھا کہ وہ مرتا ہی نہیں تو ایک روز موقعہ پا کر قتل کر ڈالا اور شب میں اس کی نعش کو محلہ میں لا ڈالا جب صبح ہوئی تو اہل محلہ پر خون کا دعویٰ کیا۔ تاکہ رت کہ کے علاوہ اہل محلہ سے مقتل چچا کی دیت اور خون بہا بھی وصول کرے۔ جیسا کہ ہماری شریعت میں قسامت کا حکم ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اہل محلہ سے دریافت کیا تو اہل محلہ نے قسم کھا کر بیان کیا کہ واللہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہم کو قاتل کا کوئی علم ہے۔ اے نبی اللہ اور اے کلیم اللہ آپ ہی بارگاہ خداوندی میں عرض معروض کیجئے تاکہ اس واقعہ کی حقیقت منکشف ہو۔ (تفسیر ابن کثیر)
اس وقت اللہ کی یہ وحی نازل ہوئی کہ تحقیق اللہ سبحانہ وتعالیٰ تم کو یہ حکم دیتے ہیں کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس گائے کا ایک ٹکڑا اس مقتول پر لگا دو تھوڑی دیر کے لیے وہ مقتول زندہ ہوجائے گا اور اپنے قاتل کا نام اور پتہ بتلا دے گا۔ یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا گیا کہ انکار کی گنجائش نہ رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اگر بذریعہ وحی اس کا نام بتلا دیتے تو ممکن تھا کہ یہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے اور ان کی بات کا یقین نہ کرتے اور کفر میں مبتلا ہوتے۔ اور جب ایک مردہ زندہ ہو کر خبر دے گا تو اس میں نہ تو کذب کا احتمال ہوگا اور نہ کسی کو چون چرا کی گنجائش ہوگی اس لیے کہ جو شخص ابھی عالم غیب سے آیا ہو وہ کیسے جھوٹ بول سکتا ہے نیز اس میں ایک حکمت یہ تھی کہ لوگ سمجھ جائیں کہ گائے اور بچھڑا جس کو بنی اسرائیل نے معبود بنا لیا تھا وہ اس قابل نہیں کہ اس کی پرستش کی جائے وہ تو ذبح ہونے کے قابل ہے۔
قالوا اتتخذنا ھزوا۔ قال اعوذ باللہ ان اکون من الجاہلین۔ بنی اسرائیل یہ حکم سن کر بولے کیا آپ ہم سے تمسخر کرتے ہیں۔ بھلا گائے کے ذبح کرنے اور قاتل کے معلوم ہونے میں کیا مناسبت۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ قاتل کا پتہ بتلاؤ اور آپ فرماتے ہیں کہ ایک گائے ذبح کرو۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ پناہ مانگتا ہوں میں اللہ سے اس کی کہ میں نادانوں سے ہوں۔ سوال کے مطابق جواب نہ دینا اور استہزاء اور تمسخر کرنا جاہلوں کا کام ہے معاذ اللہ انبیاء اللہ کا کام نہیں اور پھر وہ بھی احکام الٰہیہ میں۔
بنی اسرائیل اپنے زعم میں اس سوال کو فلسلہ سمجھے مگر حقیقت میں سراسر جہل اور سفہ تھا۔ یہ نہ سمجھا کہ احکام الہیہ کے اسرار سوائے مقربین بارگاہ خداوندی کے کس کو معلوم ہوسکتے ہیں اور اسباب اور مسببات کے ارتباط اور مناسبت کو کون سمجھ سکتا ہے۔ گائے کے پارچہ لگادینے سے مردہ کو بول اٹھنا گائے کا ذاتی اور طبعی خاصہ نہیں بلکہ قدرت الٰہیہ کا کرشمہ اور بارگاہ کلیم اللہ ہی کا معجزہ ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کے اعوذ باللہ ان اکون من الجاہلین۔ کہنے کے بعد یہ سمجھے کہ یہ حکم تو اللہ کی طرف سے آ ہی چکا ہے جس کی تعمیل ناگزیر ہے اس لیے یہ خیال ہوا کہ جس گائے کے ذبح کا حکم ہوا ہے غالباً وہ کوئی عجیب و غریب گائے ہوگی اس لیے بار بار سوالات کیے کہ وہ کیسی گائے ہے اس کا رنگ کیسا ہے اس کی عمر کیا ہے وغیرہ زلک۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل کسی گائے کو بھی ذبح کردیتے تو کافی ہوجاتا لیکن انہوں نے تشدد کیا تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی اس لیے کہ حق تعالیٰ نے کسی خاص اور معین گائے کے ذبح کا حکم نہیں دیا تھا اس لیے کہ ان اللہ یا مرکم ان تذبحوا بقرۃ میں لفظ بقرۃ نکرہ مستعمل ہوا ہے جس سے صاف ظاہر تھا کہ تعین مقصود نہیں بلکہ تعمیل مقصود ہے اگر تخصیص اور تعیین مطلوب ہوتی تو ان تذبحوا البقرۃ الف لام کے ساتھ معرفہ لایا جاتا۔
Ayah 2:68آئندہ آیات میں بنی اسرائیل کے تعنت آمیز سوالات کا ذکر ہے۔
قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی۔ قال انہ یقول انھا بقرۃ لا فارض ولا بکر۔ عوان بین ذلک فافعلوا ما تؤمرون۔ کہا انہوں نے کہ آپ اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ بیان کرے کہ وہ گائے کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے کیونکہ یہ خاصیت نہ تو متعارف گائے کی ہے نہ نیل گائے کی۔ معلوم ہوا کہ جس گائے کی یہ خاصیت ہے اس کی حقیقت ہی کچھ اور ہوگی اگرچہ نام اس کا گائے ہوگا مگر ماہیت نوعیہ اس کی بالکل جدا ہوگی۔ کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے یعنی اسی جنس کی ہے کسی دوسری جنس کی گائے نہیں اور نہ اس کی کوئی نئی حقیقت ہے اسی قسم کی ایک گائے ہے حقیقت اور ماہیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں البتہ سن اور عمر کے اعتبار سے کچھ فرق ہوگا وہ یہ کہ وہ نہ بوڑھی۔ نہ جوان بلکہ متوسط اور بین بین ہو یعنی میانہ سال ہو جس کو ادھیڑ کہتے ہیں۔ پس فورا کر گزرو جو حکم دئیے گئے ہو۔ کوئی دشوار امر نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو خواب کے اشارہ پر بیٹے کو ذبح کرنے پر تیار ہوگئے اور تم ایک گائے کے ذبح میں ہزار حجتیں کر رہے ہو۔ رہا خواص اور آثار کا پیدا ہونا سو وہ محض اللہ کے ارادہ اور مشیت پر ہے۔ حقیقت اور ماہیت کے اقتضاء پر موقوف نہیں۔ وہ جب چاہے اپنی قدرت سے یہ خواص پیدا کرسکتا ہے مگر ان کو اس پر بھی تشفی نہیں ہوئی اور مکرر سوال کیا۔
Ayahs 2:69–70قالوا ادع لنا ربک یبین لنا مالونھا۔ قال انہ یقول انھا بقرۃ صفراء فاقع لونھا تسر النظرین۔ کہا انہوں نے کہ آپ اپنے پروردگار سے استعداء کیجئے کہ ہمارے لیے بیان فرمائے کہ اس کا رنگ کیا ہے۔ کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہ تحقیق اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک گائے زرد رنگ والی ہے رنگ اس کا تیز اور کھلا ہوا ہے۔ دیکھنے والوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل کو اس پر بھی تشفی نہیں اور پھر سوال کیا۔
قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی ان البقر تشابہ علینا وانا انشاء اللہ لمھتدون۔۔ کہا انہوں نے کہ آپ دعا کیجئے اپنے رب سے کہ بیان فرمائے ہمارے لیے کہ اس گائے کی حقیقت شخصیہ کیا ہے جس کی یہ خاصیت ہے۔ اگرچہ اس کا سن اور سال رنگ اور جمال سب بتلادیا گیا لیکن اب بھی آپ کو پورا انکشاف نہیں ہوا تحقیق گائیں ہم پر مشتبہ ہوگئیں ہیں۔ یہ اوصاف بہت سی گایوں میں پائے جاسکتے ہیں کوئی وجہ ترجیح بیان فرمائیے کہ یہ خاصیت اس گائے میں کس بناء پر ہے لہذا مزید توضیح کے لیے کچھ اوصاف بیان فرمادئیے جائیں۔
اور انشاء اللہ تعالیٰ یعنی اگر خدا نے چاہا تو ہم ضرور پتہ چلا لیں گے کہ اس گائے میں یہ خاصیت عجیبہ کس بناء پر ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی بھی پتہ نہ چلتا یعنی اس کلمہ کی برکت سے ان کا تحیر اور تردد رفع ہوا۔ جب تک اپنے عجز کا اقرار واعتراف اور اس کی قدرت اور مشیت سے استعانت نہ ہو کوئی عقدہ حل نہیں ہوسکتا۔
1 ۔ ماھی۔ یہ پہلے سوال کا اعادہ ہے۔ مزید توضیح اور مزید انکشاف کے لیے دوبارہ سوال کیا گیا۔
Ayah 2:71قال انہ یقول انھا بقرۃ لا ذلول تثیر الارض ولا تسقی الحرث مسلمۃ لا شیۃ فیھا۔ قالوا الان جئت بالحق۔ فذبحوھا وما کادوا یفعلون۔ کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہ وہ ایک گائے ہے محنت والی نہیں کہ جوتتی ہو زمین کو اور نہ پانی دیتی ہو کھیتی کو یعنی نہ ہل جوتنے کی محنت اس سے لی گئی ہو اور نہ آب پاشی کی مشقت اس پر ڈالی گئی ہو۔ بےعیب ہو اور اس میں کوئی داغ نہ ہو۔ کہا انہوں نے کہ اب لائے آپ حق بات کو یعنی واضح اور مفصل بات اپ نے اب فرمائی جس سے ہمارا تردد رفع ہوا کہ ایسا حیوان تمام حیوانوں میں حیات کا مظہر اتم ہوگا۔ پس ممکن ہے کہ اس کی حیات کے اثر سے دوسرے میں بھی حیات کا اثر آجائے پس ایسی گائے کو خرید کر ذبح کیا اور لگتے نہ تھے کہ وہ کریں گے۔ ان کے تعنت آمیز استفسارات سے تو بظاہر یہی معلوم ہوتا تھا کہ غالباً ذبح نہ کریں گے۔ مگر خیر انشاء اللہ کہنے کی برکت سے کر گزرے۔
2 ۔ بنی اسرائیل چونکہ گوسالہ پرستی میں مبتلا ہوئے تھے اور یہ سمجھا تھا کہ معاذ اللہ یہ جانور خدا ہوسکتا ہے تو اس کے رد کرنے کے لیے بھی گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔
Ayahs 2:72–73شناعت پنجم
قال تعالیٰ واذ قتلتم نفسا فادٰرء تم فیھا۔۔۔ الی۔۔ ویریکم ایتہ لعلکم تعقلون
اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ تم نے ایک محترم نفس کو قتل کر ڈالا پھر اس قتل کو ایک دوسرے کے سر تھوپنے لگے وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا اور وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا اور وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا۔ اور جن چیزوں کو تم دلوں میں چھپاتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو اندر سے باہر نکالنے والا ہے۔ جس سے تمہارے اندرونی خطرات اور دلی خیالات اس طرح عیاں اور آشکارا ہوجائیں جیسے کسی محسوس شئی کو کسی بند صندوق سے نکال کر مجمع میں لا کر سب کے سامنے رکھ دیا جائے کہ سب اس کو اچھی طرح دیکھ لیں۔
پس کہا ہم نے کہ لگاو اس مردہ پر اس گائے کا کوئی ٹکڑا زبان یا دم میت پر رکھ دو جی اٹھے گا۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا مقتول فوراً زندہ ہوگیا اور اپنے قاتل کا نام بتا کر گر پڑا اور مرگیا۔ قاتل کو پکڑا گیا اور قصاص لیا گیا اور میراث سے بھی محروم رکھا گیا۔ اور اسی وقت سے یہ حکم ہوگیا کہ قاتل ہمیشہ میراث سے محروم رہے گا اگرچہ قاتل مقتول کا باپ یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔
1: مقتول کا قول مر کر زندہ ہونے کے بعد اس وجہ سے معتبر مانا گیا کہ وہ عالم برزخ کو دیکھ چکا ہے لہذا اس کے قول میں اب کذب کا احتمال باقی نہیں رہا اور نہ وہم و خیال اور خطاء اور نسیان کا جیسے شجر اور حجر کا گواہی دینا نبی کا معجزہ ہے اسی طرح مردہ کا زندہ ہو کر قاتل کا نام بتلانا موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ تھا۔ آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ جس طرح اس واقعہ میں اللہ نے محض اپنی قدرت سے عدل اور قصاص جاری کرنے کے لیے عارضی طور پر تھوڑی دیر کے لیے ایک خاص ضرورت اور مصلحت کے لیے ایک مردہ کو تمہارے روبرو زندہ فرمایا اور اس مردہ کا کلام تم نے اپنے کانوں سے سنا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن۔ محض جزاء دینے اور عدل قائم کرنے کے لیے اور انصآف کے لیے دوبارہ اپنی قدرت کاملہ سے مردوں کو محض اپنی قدرت سے زندہ فرمائیگا اور سب کا انصاف کریگا اور مظلوم کا ظالم سے قصاص اور بدلہ لے گا اور وقتاً فوقتاً اپنی قدرت کے نمونے اور کرشمے دکھلاتا رہتا ہے تاکہ تم سمجھو کہ اس قسم کے خوارق اور عجائب وقتاً فوقتاً قدرت کا انکار بےعقلوں کا کام ہے۔
امام المتکلمین عبدالکریم شہرستانی ملل ونحل میں فرماتے ہیں کہ جس طرح بیل اور گدھے انسانوں کے عجیب و غریب افعال کو بنظر استعجاب تکتے ہیں فلاسفہ دوران اور بڑے بڑے سائنسدان، انبیاء ومرسلین کے آیات بینات اور خوارق معجزات کو اس سے کہیں زائد حیرت کی نظروں سے دیکھتے ہیں اگر کسی فلسفی اور سائنسدان کا اپنی ناقص اور ہوا پرست عقل سے انبیاء ومرسلین کے معجزات کا انکار حجت ہے تو بیل اور گدھوں کا انسانی عجائب وقدرت سے کیوں حجت نہیں خوب سمجھ لو کہ شعور انسانی کو شعور پیغمبری سے وہی نسبت ہے جو شعور حیوانی کو شعور انسانی سے ہے۔ عجب نہیں کہ یہ سنبت بھی نہ ہو۔ انتہی کلامہ مشرحا۔
2: اس آیت میں جو مضمون مذکور ہے وہ قصۂ مذکورہ بالا کا ابتدائی حصہ ہے۔ اس تقدیم وتاخیر کی وجہ یہ ہے کہ اگر قصہ کو ترتیب سے بیان کیا جاتا تو یہ سمجھا جاتا کہ فقط ایک واقعہ کا بیان مقصود ہے۔ ترتیب کے بدلنے سے دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا اول اس طرف کہ حکم الٰہی کا فوراً امتثال کیوں نہیں کیا۔ اور حکم خداوندی میں معاندانہ حجتیں کیوں نکالیں۔ ایک صریح اور واضح حکم سن لینے کے بعد اس قسم کے گستاخانہ اور تعنت آمیز سوالات کیوں کیے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وحی الٰہی کی کوئی عظمت اور وقعت تمہارے دلوں میں نہیں اور یہی سخت بیماری ہے جو تباہی اور بربادی کی نشانی ہے۔
اور واذ قتلتم نفساً الایۃ۔ میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ تم نے اموال دنیا کے طمع میں ایسے محرم نفس کو قتل کیا کہ جو تمہارے لیے بمنزلہ باپ کے تھا اس لیے کہ چچا بھی بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے
عم الرجل صنوابیہ انسان کا چچا اس کے باپ کی مانند ہے
اور پھر اس کوشش میں پڑے کہ یہ خون دوسروں کے سر لگادیا جائے
(ربط): یہاں تک بنی اسرائیل کی عادات شنیعہ کا بیان فرمایا کہ ہمیشہ احکام خداوندی میں حیلے اور بہانے کرتے رہے۔ آئندہ آیات میں اس کا منشاء بیان فرماتے ہیں کہ منشاء اسکا قسوت قلب اور اس قساوت پر اظہار تعجب بھی فرماتے ہیں کہ لیل ونہار آیات قدرت اور معجزات نبوت کا مشاہدہ کرتے رہتے ہو مگر پھر بھی دل نرم نہیں ہوتے کہ نصیحت قبول کریں۔
Ayah 2:74استعجاب بر قساوت بعد مشاہدۂ عجائب قدرت
قال تعالیٰ ثم قست قلوبکم من بعد ذلک۔۔۔ الی۔۔ وما اللہ بغافل عما تعملون
پھر تمہارے دل خدا کی ان عجیب نشانیوں کے دیکھنے بعد بھی سخت ہوگئے حالانکہ ہر ایک نشانی رقت قلب کے لیے ایک نسخۂ جامعہ تھی خصوصاً مقتول کا زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتلانا ایک عجیب و غریب کرشمہ تھا۔ یہ نشانی دلیل قدرت بھی تھی اور دلیل نبوت و رسالت بھی تھی اور دلیل قیامت بھی تھی مگر پھر بھی دل نرم نہ ہوئے۔ پس وہ مثل پتھروں کے سخت ہیں یا سختی میں پتھروں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ تشبیہ اور تمثیل میں لوہے اور تانبے کا اس لیے ذکر نہیں فرمایا کہ لوہا اور تانبا آگ پر رکھنے سے پگھل جاتا ہے مگر ان کے دل اس قدرت سخت ہیں کہ تخویف اور ترہیب کی آگ سے بھی نہیں پگھلتے پتھر کی طرح ہیں کہ جو کسی حال میں بھی نرم نہیں ہوتا یا پتھر سے بھی زیادہ سخت ہیں اس لیے کہ بعض پتھر ایسے ہیں کہ ان سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ اگرچہ ان سے نہریں تو نہیں جاری ہوجاتیں لیکن پھٹ جاتے ہیں پھر ان سے پانی آہستہ آہستہ نکلتا رہتا ہے اور بعض ایسے ہیں کہ اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اسی طرح بعض قلوب ایسے ہیں کہ جن سے علوم و معارف کی نہریں جاری ہوجاتی ہیں کہ جن سے دنیا سیراب ہوتی ہے۔ یہ علماء راسخین اور ائمہ ہادین کی شان ہے کہ جن کے کلمات طیبات نے مردہ دلوں کے حق میں آب حیات کا کام دیا۔ اور بعض قلوب ایسے ہیں کہ ان سے نہریں تو نہیں مگر علم و حکمت کے چشمے رواں ہوگئے اور لاکھوں اور ہزاروں کو ان سے نفع ہوا۔ یہ علماء ربانیین کی شان ہے۔ اور بعض قلوب ایسے ہیں کہ اللہ کی عظمت اور جلال کے سامنے پست ہیں تکبر اور غرور سے پاک ہیں کبھی اس کے حکم کے خلاف سر نہیں اٹھاتے یہ عباد اور زہاد کی شان ہے۔
مگر ان کافروں کے دل پتھر سے بھی زائد سخت ہوگئے ہیں کہ غرور اور تکبر عناد اور سرکشی سے کبھی حق کے سامنے جھکتے بھی نہیں اللہ کی ہدایت کو قبول کرنا تو درکنار اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔
بعض سلف سے منقول ہے کہ وان من الحجارۃ لما یتفر منہ الانھر سے وہ لوگ مراد ہیں جو خوف خداوندی سے بکثرت روتے ہیں اور وان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء۔ سے وہ لوگ مراد ہیں کہ جو کم روتے ہیں اور ان منھا ہما یھبط من خشیۃ اللہ سے وہ لوگ مراد ہیں جو دل سے تو روتے ہیں۔ مگر آنکھوں سے آنسو جاری نہیں ہوتے۔ ہم سب کو اللہ سے یہ دعا مانگنی چاہئے۔
عیش و عشرت سے دو عالم کے نہیں مطلب مجھے چشم گریاں سینہ بریاں کر عطاء یارب مجھے۔ آمین
: عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سوائے اللہ کے ذکر کے اور کثرت سے کلام نہ کیا کرو اس لیے کہ زیادہ کلام کرنا قلب میں قساوت (سختی پیدا کرتا ہے اور سخت دل ہی خدا سے سب سے زائد دور ہے (ترمذی)
اس مقام پر بھی بنی اسرائیل کی جس قساوت کا ذکر ہے وہ بھی اسی سبب یعنی کثرت کلام کی وجہ سے ہے کہ جب گائے کے ذبح کا حکم ہوا تو معاندانہ سوالات کا ایک سلسلہ شروع کردیا۔ ان بیہودہ سوالات کا یہ نتیجہ نکلا کہ دل پتھر سے بھی زائد سخت ہوگئے۔
آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل اگرچہ تم اپنی قساوت قلبی کی وجہ سے خدا سے غافل ہوگئے ہو مگر خوب سمجھ لو۔ وما اللہ بغافل عما تعملون۔ کہ اللہ تمہارے اعمال وافعال سے غافل اور بیخبر نہیں۔
قساوت قلبی کا خاصہ ہی یہ ہے کہ وہ خدا سے ٖغافل بناتی ہے اس لیے حدیث میں آیا ہے۔
اللھم انی اعوذبک من القسوۃ والغفلۃ۔ اے اللہ میں دل کی سختی اور غفلت سے پناہ مانگتا ہوں۔
ایک شبہ : پتھروں میں تو فہم اور ادراک ہی نہیں پھر خدا کے خوف سے پتھروں کے گرنے کا کیا مطلب ؟
جواب : اہلسنت والجماعت کے نزدیک حیوانات اور جمادات میں بھی روح اور حیات ہے اور ان میں ایک خاص قسم کا شعور اور ادراک ہے جس کی حقیقت اللہ ہی کو معلوم ہے جیسا کہ امام قرطبی اور علامہ بغوی اور حافظ ابن کثیر نے اس کی تصریح فرمائی ہے اسی وجہ سے قرآن کریم میں جا بجا حیوانات اور جمادات کی تسبیح وتحمید اور صلوۃ کا ذکر ہے۔
قال تعالی۔
(1) ۔ تسبح لہ السموات السبع والارض ومن فیھمن۔ ان من شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم
ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو کچھ بھی ہے سب اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور کوئی شئی ایسی نہیں جو اللہ کی تسبیح وتحمید نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں
(2) کل قد علم صلوتہ وتسبیحہ
ہر شئی کو اپنی نماز اور تسبیح کا علم ہے
(3) ۔ والنجم والشجر یسجدان۔
گھاس اور درخت اللہ کے لیے ہر سجدہ کرتے ہیں
(4) ۔ قالوا لجلودھم لم شھدتم علینا قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شئی
کفار قیامت کے دن اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی۔ وہ جواب میں کہیں گی کہ ہم کو اس خدا نے گویائی دی جس نے ہر چیز کو گویائی دی ہے۔
(5) ۔ یومئذ تحدث اخبارھا بان ربک اوحی لھا۔
اس روز بیان کرے گی (زمین) اپنی خبریں اس وجہ سے کہ اس کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہوگا۔
اور اسی طرح اشجار واحجار حیوانات و جمادات کا انبیاء مرسلین کی اطاعت اور فرمانبرداری اور ان سے کلام کرنا احادیث صحیحہ اور متواترہ سے ثابت ہے۔
(1) ستون حنانہ کا واقعہ نہایت تفصیل کے ساتھ صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ جس کی مسی مؤوّل متفلسف کو تاویل کی ذرہ برابر گنجائش نہیں۔
عارف رومی فرماتے ہیں
اُستتن حنانہ از ہجر رسول نالہ میزد ہمچو ارباب عقول
فلسفی کو منکر حنانہ است از حواس انبیاء بیگانہ است
(2) صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے جبل احد کو دیکھ کر یہ فرمایا ھذا جبل یحبنا ونحبہ۔ یہ پہاڑ ہم کو محبوب رکھتا ہے اور ہم اس کو محبوب رکھتے ہیں اور محبت بدون معرفت اور ادراک کے ممکن نہیں۔
(3) صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں اب بھی اس پتھر کو پہچانتا ہوں کہ جو نبوت سے پیشتر مجھ کو سلام کیا کرتا تھا۔
(4) صحیحین میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم اور حضرت ابوبکر اور عمر اور عثمان ؓ جبل احد یا ھراء پر چرھے تو پہاڑ کو جنبش ہوئی تو آں حضرت ﷺ نے اپنا قدم مبارک پہاڑ پر مارا اور یہ فرمایا کہ اے پہاڑ ٹھہر۔ تجھ پر ایک نبی ہے اور ایک صدیق اور دو شہید۔
(5) حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ ہم جب کبھی نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے ساتھ مکہ سے باہر جاتے تو جس درخت یا پہاڑ پر گزر ہوتا تو یہ آواز آتی۔ السلام عیک یا رسول اللہ (اخرجہ البغوی باسنادہ فی المعالم)
اس قسم کے اور صدہا واقعات ہیں جو کتب حدیث اور سیر میں مذکور ہیں بطور نمونہ ہم نے چند واقعات ذکر کردئیے ہیں۔
عارف رومی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں۔
باد و خاک وآب و آتش بندہ اند با من و تو مردہ باحق زندہ اند
آب وباد وخاک ونار پر شرر بیخبر با ما وبا حق باخبر
ما بعکس آں ز غیر حق خبیر بیخبر از حق واز چندیں نظیر
پیش تو آں سنگریزہ ساکت ست پیش احمد او فصیح وناطق است
پیش تو استون مسجد مردہ است پیش احمد عاشق، دل بردہ است
جملہ اجزائے جہاں پیش عوام مردہ وپیش خدا دانا ورام
مردہ زیں سویند وز السو زندہ اند خامش اینجا وانطرف گویندہ اند
اور اسی پر تمام انبیاء ومرسلین کا اجماع ہے کہ جمادات میں ایک روح مجرد ہے جو حق تعالیٰ شانہ کو پہچانتی ہے اور اسی کے احکام کی تعمیل
کرتی ہے ایک مخلوق کا دوسری مخلوق سے بےتعلق اور بیخبر ہونا عقلاً ممکن بلکہ واقع ہے۔ لیکن مخلوق کا خالق سے بےتعلق ہونا عقلاً ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ عارف رومی فرماتے ہیں۔
بےتعلق نیست مخلوقے ازو
اور بیشمار آیات اور احادیث اس کی شاہد ہیں جو اہل علم پر مخفی نہیں۔
Ayah 2:75شناعت ششم
متضمن بدفع کلفت ناصحین مشففقین از انتظار وطمع ایمان معاندین
قال تعالی۔ افتطمعون ان یؤمنوا لکم۔۔۔ الی۔۔۔ وھم یعلمون
گزشتہ آیات میں یہود کی قساوت کو بیان فرمایا۔ اب ان مسلمانوں کو خطاب فرماتے ہیں جو ازراہ شفقت ان کو وعظ ونصیحت کرتے رہتے تھے اور ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ یہ کسی طرح ایمان لے آئیں مسلمانوں کو گمان یہ تھا کہ یہود توحید اور انبیاء کرام کی نبوت کے قائل ہیں شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں اللہ تعالیٰ نے ان کی امید قطع کرنے کے لیے فرمایا کہ ان کی قساوت انتہاء کو پہنچ چکی ان سے ایمان کی طمع مت رکھو۔ افتطعمون ان یؤمنوا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یعرفونہ من بعد ما عقلوہ وھم یعلمون۔ اے مسلمانو کیا تم بنی اسرائیل کی اس شدید قساوت کے بعد بھی توقع رکھتے ہو کہ وہ شخص تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں کا ایک فرقہ بلا واسطہ اللہ کے کلام کلام کو سنتا تھا۔ اور پھر خوب سمجھ لینے کے بعد اس میں تحریف وتبدیل کر ڈالتا تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ ہم اللہ کے کلام میں تحریف کر رہے ہیں اور یہ بھی جانتے تھے کہ کلام خداونی میں تحریف کرنا کس قدر جرم عظیم ہے۔ اس فریق سے وہ ستر لوگ مراد ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر گئے اور بلا واسطہ اللہ کے کلام اور اس کے اوامر ونواہی اور احکام کو سنا۔ جب واپس آئے تو یہ کہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اخیر میں یہ بھی فرمادیا تھا کہ اگر ہو سکے تو کرنا اور نہ ہوسکے تو نہ کرنا۔ کلام الٰہی میں سے کچھ گھٹانا یا اپنی جانب سے کچھ اضافہ کردینا اسی کا نام تحریف ہے پس ان لوگوں نے کلام الٰہی میں اپنی طرف سے حروف اور الفاظ کا اضافہ کیا اور ایجاب اور لزوم کو تخیر سے بدل ڈالا۔
اور بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ سے توریت مراد ہے اور یسمعون کلام اللہ سے بواسطہ انبیاء کرام سننا مراد ہے۔ اور تحریف سے آیات توریت میں لفظی اور معنوی تحریف کرنا مراد ہے۔ مثلاً تریت میں جو آپ کا حلیہ مبارک مذکور تھا اس میں ابیض کے بجائے آدم بنادیا اور ربعۃ مائلا اے الطول کے بجائے طوالا۔ بنادیا۔ اور بہت سی جگہ تاویل فاسد کر کے معنی میں تحریف کی اور پہلی تفسیر پر یسمعون کلام اللہ سے ستر آدمیوں کا اللہ کے کلام کو بلا واسطہ سننا مراد تھا اور تحریف سے یہ مراد تھی کہ ان ستر آدمیوں نے جب قوم سے جا کر اللہ کا کلام نقل کیا تو اس میں یہ اضافہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے اخیر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ۔ ان استطعتم ان تفعلوا ھذہ الاشیاء فافعلوا ان لم تفعلوا فلا باس۔ یعنی یہ چیزیں اگر تم سے ہوسکیں تو کرلینا اور اگر نہ تو کوئی مضائقہ نہیں۔
: جاننا چاہئے کہ توریت میں لفظی تحریف بھی ہوئی ہے اور معنوی تحریف بھی اور یہی علماء محققین کا مسلک ہے۔ اور اصل تحریف تو تحریف لفظی ہے اس لیے کہ تحریف کے معنی حروف اور الفاظ کے بدل ڈالنے کے ہیں اور تاویل فاسد کر کے معنی کو بدل ڈالنا مجازاً اس کو کہا جاتا ہے اور قرآن کریم میں جہاں کہیں توریت کی تحریف کا ذکر آیا ہے اس سے تحریف لفظی ہی مراد ہے کیونکہ تحریف معنوی تو قرآن میں بھی ہوئی ہے اور ہو رہی ہے اور حق جل شانہ کا یہ ارشاد یحرفون الکلم عن مواضعہ اور فویل اللذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا اس قسم کی آیتیں صراحۃً تحریف لفظی پر دلالت کرتی ہیں یسا کہ تفسیر ابن کثیر اور تفسیر ابن جریر اور تفسیر در منثور میں ان آیات کے شان نزول سے صاف ظاہر ہے۔
Ayah 2:76شناعت ہفتم
قال تعالیٰ واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا۔۔۔ الی۔۔ عند تربکم افلا تعقلون
اور جب منافقین یہود مسلمانوں سے ملتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی رسول اور پیغمبر ہیں جن کی بشارتیں توریت میں مذکور ہیں اور جب تنہا ایک دوسرے کے پاس ہوتے ہیں تمام مجمع میں ان کے سوا مسلمانوں میں سے کوئی نہیں ہوتا تو ھر علماء یہود جو اعلانیہ طور پر کافر ہیں وہ ان منافقین سے یہ کہتے ہیں کہ کیا تم مسلمانوں سے خوشامد میں وہ چیز کہہ دالتے ہو جو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر کھولی ہیں اور وہ خزائن علمیہ جو توریت اور زبور اور دیگر صفح انبیاء میں مخزون ہیں کہ جن میں نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم اور آپ کی امامت کے اوصاف اور آپ کے اتباع اور اطاعت کی تاکید اکید مذکور ہے تم مسلمانوں کو ان خزائن علمیہ کا کیوں پتہ دیتے ہو۔ اس کا انجام یہ ہوگا کہ اس اقرار اور اعتراف کی وجہ سے مسلمان خدا کے نزدیک تم سے حجت کرینگے اور تم کو ملزم ٹھہرائیں گے کہ باوجود اس اعتراف واقرار کے پھر بھی ایمان نہ لائے کیا تم اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے کہ۔ الانسان ماخوذ باقرارہ۔ یعنی انسان اپنے اقرار میں پکڑا جاتا ہے۔
یعنی تمہارا زبان سے اقرار کرنا اور پھر نہ ایمان لانا قیامت کے دن یہ زیادہ رسوائی کا باعث ہوگا مثلا اگر کوئی شخص زبان سے اقرار یا دستاویز لکھ دینے کے بعد حاکم کے سامنے انکار کرے تو زیادہ رسوائی ہے اور اگر حاکم کو معلوم ہو اور گواہ بھی موجود ہوں مگر اس شخص نے اقرار نہ کیا ہو تو حاکم کے سامنے انکار کرنے سے رسوا تو ضرور ہوگا مگر اتنی رسوائی نہ ہوگی جتنی کہ اقرار کے بعد ہوتی۔
Ayah 2:77تحمیق یہود بےبہبود
قال تعالیٰ اولا یعلمون ان اللہ یعلم ما یسرون۔۔۔ الی۔۔۔ وما یعلنون
یعنی کیا ان کو یہ گمان ہے کہ اس چھپانے سے اللہ کے نزدیک ان پر کوئی حجت قائم نہ ہوگی اور کیا ان کی یہ ہاتھ کی لکھی ہوئی دستاویزیں (یعنی توریت اور زبور کی وہ آئتیں جس میں نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی صریح صریح بشارتیں مذکور ہیں) خداوند ذوالجلال کو قیامت کے دن بہم نہ پہنچ سکیں گی۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ تحقیق اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو خوب جانتا ہے جن کو وہ چھپاتے ہیں اور جن کو وہ ظاہر کرتے ہیں جو جلوت میں آپ کی نبوت و رسالت کا اقرار کرتے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور جو خلوت میں اعتراف کرتے ہیں ان کو بھی جانتا ہے۔ خلوت کا اقرار اگرچہ مسلمانوں کی نظر سے مخفی ہے مگر ہماری نظر سے تو مخفی اور پوشیدہ نہیں ہوسکتا۔ تم نے اگرچہ بندوں کے سامنے اقرار نہ کیا مگر اس خداوند ذوالجلال کے سامنے تو اقرار کرلیا جو کہ ہر جلوت اور خلوت غیب اور شہادت کا حاضر وناظر ہے۔ یہ احمق اتنا نہیں سمجھتے کہ اصل معللہ تو خدا کے ساتھ ہے جس کے یہاں ظاہر و باطن سر اور علن جلی اور خفی سب یکساں ہے۔
تنبیہ : توریت اور انجیل کی تحریف کے متعلق حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی (رح) کا رسالہ " اعجاز عیسوی " ملاحظہ فرماویں جو اس باب میں بےنظیر ہے۔
رسالہ موصوفہ میں اس امر کو نہایت بسط وشرح سے ثابت فرمایا ہے کہ توریت اور انجیل میں ہر قسم کی تحریف ہوئی ہے لفظی بھی اور معنوی بھی۔ کمی اور بیشی زیادتی اور نقصان۔ تغیر اور تبدیل غرض یہ کہ تحریف کی کوئی نوع ایسی نہیں کہ جس سے توریت وانجیل خالی ہو۔
یہ رسالہ اردو زبان میں ہے۔ مولانا موصوف کی دوسری کتاب اظہار الحق جو عربی زبان میں ہے اس میں بھی تحریف توریت وانجیل کی کافی اور شافی تحقیق فرمائی۔ اور بہت سے علماء یہود نصاری بھی تحریف لفظی کے مقر اور معترف ہیں حضرات اہل علم اس کی مراجعت فرمائیں۔
Ayah 2:78(ربط) ان آیات میں یہود کے خواندہ لوگوں کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کے ناخواندوں کا ذکر کرتے ہیں۔
شناعت ہشتم
قال تعالیٰ ومنھم امیون لا یعلمون اکتب الا امانی وان ھم الا یظنون
Ayah 2:79شناعت نہم
قال تعالیٰ فویل للذین یکتبون الکتب بایدیھم۔۔۔ الی۔۔۔ وویل لھم مما یکسبون
اور بعض ان میں سے ناخواندہ اور ان پڑھ ہیں۔ جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ویسے ہی ہیں۔ اسی وجہ سے ان پڑھ کو امی کہتے ہیں کہ اس کو صرف ام یعنی ماں سے نسبت ہے۔ باپ سے لکھنا اور پڑھنا کچھ نہیں سیکھا۔ کتاب کو جانتے ہی نہیں نہ الفاظ سے واقف نہ معنے سے آگاہ سوائے آرزؤں کے کچھ معلوم نہیں کہ جو تحریف کرنے والوں نے ان کی خواہش کے مطابق ان کے دلوں میں بٹھلا دی ہے مثلاً ۔ لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصاریٰ کہ جنت میں سوائے یہود یا نصاری کے اور کوئی نہ جائیگا۔
اور اگر بالفرض جہنم میں گئے بھی تو لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ یعنی صرف چند روز جہنم میں رہیں گے یہ آرزؤئیں ان جاہلوں کے علماء سوء نے ان کے دل خوش کرنے کے لیے دل نشین کردی ہیں جس پر کوئی دلیل نہیں اور نہیں ہیں یہ لوگ مگر محض گمان اور خیال کی پیروی کرنے والے۔ خود بھی ان کو اس کا یقین نہیں کہ ہمارے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا اس لیے ان کو بہ نسبت علماء کے کم عذاب ہوگا ان پر عذاب فقط اپنی گمراہی کا ہوگا اور علماء پر اپنے گمراہ ہونے اور دوسرے کے گمراہ کرنے کا بھی عذاب ہوگا جیسا کہ آئندہ آیت میں ارشاد ہے پس خرابی اور بربادی ہے ان لوگوں کے لیے کہ جو کتاب کو خود اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں اور پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ ہمارا لکھا ہوا اللہ ہی کی طرف سے ہے خوب جانتے ہیں کہ یہ تحریف ہے نادان اور بیخبر نہیں اس لیے کہ خود اپنے ہاتھ سے لکھ کر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔
یہ محض اس لیے کرتے ہیں تاکہ اپنے رؤسا اور عوام سے اس ذریعہ سے کچھ قلیل معاوضہ حاصل کریں پس ایسے لوگوں کے لیے دو وجہ سے عذاب ہے ایک عذاب اس وجہ سے کہ ان کے ہاتھوں تحریف کی کتابت کی ہے اور دوسرا عذاب اس وجہ سے کہ اس تحریف کے ذریعہ سے لوگوں سے روپیہ کماتے ہیں۔ اول تو لوگوں کے خوش کرنیکے لیے کتاب الٰہی میں تحریف کی اور پھر چند پیسوں کی طمع میں آخرت کے اجر عظیم کو برباد کیا۔ ثمناً قلیلاً سے دراھم معدودہ مراد نہیں بلکہ مال کثیر ماد ہے اس لیے کہ اگر بالفرض حق اور ہدایت کی قیمت لگائی جائے تو روئے زمین کے خزانے اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔
Ayahs 2:80–82شناعت دہم
وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ھم فیھا خلدون
اور یہود یہ بھی کہتے ہیں کہ دوزخ ہم کو ہرگز نہ لگے گی ، ، مگر چند روز گنے چنے۔ آپ کہدیجئے کہ کیا تم نے اللہ سے اس بارے میں کوئی عہد لیا ہے، کہ تم کو فقط اس قدرت مدت عذاب ہوگا۔ اس لیے کہ عذاب کی مدت دلیل عقلی سے معلوم نہیں ہوسکتی اس کے لیے دلیل سمعی چاہئے ایسا عقیدہ بغیر عہد خداوندی کے نہیں ہوسکتا تو بتلاؤ کہ کیا خدا نے تم سے کوئی ایسا عہد کیا ہے کہ اللہ اپنے اس عہد کے ہرگز خلاف نہ کریگا یا اللہ پر افتراء کرتے ہو، بےسند باتیں جن کی سند تم کو معلوم نہیں اور خود اپنی طرف سے ایسی من گھڑت باتیں کرتے ہو بتلاؤ کس کتاب میں اللہ نے یہ حکم نازل کیا ہے۔ آئندہ آیت میں حق جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہود کا یہ عقیدہ کہ ہم جہنم میں صرف چند روز رہیں گے بالکل غلط ہے جنت میں داخل ہونا اللہ اور پیغمبر آخر الزمان پر ایمان لانے اور اعمال صالحہ کرنے پر موقوف ہے چناچہ فرماتے ہیں بلی من کسب سیئۃ واحاطت بہ خطیئتہ فاولئک اصحاب النار ھم فیھا خلدون۔ کیوں نہیں تم جیسے پیغمبر آخر الزمان سے سرکشی کرنے والے ضرور جہنم میں جائیں گے۔ اس لیے کہ جس شخص نے بھی گناہ کو کمایا اور گناہوں نے اس کا ہر طرف سے احاطہ کرلیا اور کوئی جانب گناہ سے خالی نہیں رہی جدھر دیکھے گناہ ہی گناہ ہے نیکی کا نام ونشان نہیں۔ گناہوں نے ہر طرف سے ایسا گھیرا کہ اب نکلنے کی کوئی صورت نہیں رہی پس ایسے ہی لوگ دوزخ کے ہمیشہ کے ساتھی ہیں یہ دوزخ سے جدا نہ ہوں گے اور دوزخ ان سے جدا نہ ہوگی ہمیشہ دوزخ ہی میں رہیں گے یعنی ابد الآباد تک اسی میں رہیں گے
والذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک اصحب الجنۃ ھم فیھا خلدون۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل نور ایمان سے منور اور روشن ہوئے اور نیک عمل کیے جس سے اعضا اور جوارح روشن ہوئے ایسے لوگ جنت کے ساتھی ہیں کہ یہ جنت سے علیحدہ نہ ہونگے اور جنت ان سے علیحدہ نہ ہوگی۔ ہمیشہ جنت ہی میں رہیں گے۔ کبھی جنت سے نہ نکلیں گے۔
1 ۔ احاطہ کی جو تفسیر بیان کی گئی وہ کافر ہی پر صادق آسکتی ہے کہ کافر دولت ایمان سے تہی دست ہونے کی وجہ سے فقیر اور گدائے بےنوا ہے۔ اعمال صالحہ اگر کچھ ہیں تو وہ نہ ایمان لانے کی وجہ سے سب بیکار ہیں۔
کما قال تعالیٰ ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ و ھو فی الاخرۃ من الخاسرین
اور جو شخص ایمان کے ساتھ کفر کرے یعنی ایمان کے بعد مرتد ہوجائے تو اس شخص کے تمام اعمال غارت اور برابد ہوئے۔ اور وہ شخص آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا۔
اور جو شخص ایمان نہیں لایا خواہ وہ کتنے ہی صدقات اور خیرات کرے اس کے صدقات و خیرات کہ اعمال صالحہ نہ سمجھنا چاہئے بلکہ ان اعمال کو شیر قالین کی طرح اعمال صالحہ کی ہم شکل اور ہم صورت سمجھنا چاہئے حقیقۃً اعمال صالحہ نہیں۔ کما قال تعالیٰ ۔
والذین کفروا اعمالھم کسراب بقیعۃ یحسبہ الظمان ماء۔ اور کافروں کے اعمال سراب کی طرح بےحقیقت ہیں۔ دیکھنے والا ان کو پانی کی طرح اعمال صالحہ سمجھتا ہے اور حقیقت کچھ بھی نہیں۔
خلاصہ یہ کہ جس کے پاس ایمان نہیں اس کے پاس کچھ بھی نہیں گناہوں میں ہر طرف سے گھرا ہوا ہے بخلاف مومن کے کہ وہ کتنا ہی بد کردار کیوں نہ ہو۔ گناہوں میں گھرا ہوا نہیں بالفرض کوئی عمل صالح اس کا معین اور مددگار نہ ہو تو ایمان تو ضرور اسکا نگہبان اور پاسبان بنا ہوا ہے۔ جو شیطان کے قاتلانہ وار کو روکے ہوئے ہے۔
حضرت شاہ عبدالقادر صاحب (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں۔ گناہ کے گھیر لینے کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کرتا ہے اور شرمندہ نہیں ہوتا۔ اھ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ حال کافر ہی کا ہوسکتا ہے مومن کا نہیں ہوسکتا۔
2: اہلسنت والجماعت کے نزدیک جو فریق ایمان لایا اور اعمال صالحہ بھی کیے اسکا ثواب دائمی اور غیر متناہی ہے اور جو فریق نہ ایمان لایا اور نہ اعمال صالحہ کیے اس کا عذاب دائمی اور غیر متناہی ہے فریق اول میں ایمان اور عمل صالح دونوں موجود ہیں اور فریق ثانی میں دونوں نہیں۔ اس لیے فریق اول کا ثواب دائمی ہے اور فریق ثانی کا عذاب دائمی ہے۔ اور جو فریق ایمان تو لایا مگر اعمال صالحہ نہیں کیے اس کی جزاء ثواب اور عقاب سے مرکب اور ملی جلی ہے لیکن اول عذاب دیں گے اور بعد میں بہشت میں داخل کریں گے۔ بہشت میں داخل کر کے پھر بہشت سے نکالنا اور دوزخ میں ڈالنا خلاف حکمت ہے۔ عزت دینے کے بعد ذلت کے گڑھے میں ڈالنا لطف اور عنایت کے خلاف ہے۔ یہ تین احتمال ہوئے۔ چوتھا احتمال یہ ہے کہ اعمال صالحہ تو ہوں مگر ایمان نہ رکھتا ہو۔ یہ صورت شرعاً محال ہے اس لیے کہ شریعت میں کوئی عمل صالح بدون ایمان کے معتبر نہیں ہر عمل صالح کے لیے ایمان شرط ہے۔ واذا فات الشرط فات المشروط۔ جب شرط فوت ہوئی تو مشروط بھی فوت ہوا۔
اسی وجہ سے کفار کے صدقات کو صرف صورۃً اعمال صالحہ کہا جاسکتا ہے ورنہ حقیقت میں اعمال صالحہ نہیں۔ کما قال تعالی۔ والذین کفروا اعمالھم کسراب بقیعۃ یحسبہ الظمان ماء۔ کافروں کے اعمال سراب کی مانند ہیں کہ دور سے پیاسا ان کو پانی گمان کرتا ہے۔
جس طرح لکڑی کا گھوڑا اور شیر قالین اصلی گھوڑ اور اصلی شیر کی صورت میں مشابہ ہے اسی طرح کافر کا عمل ظاہر صورت میں عمل صالح کے مشابہ ہوتا ہے مگر حقیقت میں نیک نہیں ہوتا ہے اس لیے کہ عمل صالح کی روح ایمان ہے اور وہ موجود نہیں۔
3 ۔ ہر شریعت میں یہ قاعدہ رہا ہے کہ کافر مخلد فی النار ہے۔ ہمیشہ ہمیشہ اور ابد الاآباد تک جہنم میں رہے گا۔ اور مومن عاصی چند روز دوزخ میں عذاب پا کر جنت میں داخل کردیا جائے گا کما قال تعالی۔
ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جاوے اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں جس کے لیے منظور ہوگا وہ گناہ بخش دیں گے
اور یہود جو یہ روایت کرتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد کیا کہ تمہاری اولاد کو عذاب نہ دوں گا مگر تحلۃً للقسم یعنی محض قسم پورا کرنے کے لیے یا یہ فرمایا کہ فقط چند روز کے لیے جہنم میں رہیں گے۔ یہ روایت بالفرض اگر صحیح ہو تو اس سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے مراد ہیں جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) سے اپنا قصور معاف کرایا اور بارگاہ خداوندی میں بہ ہزار عجز ونیاز توبہ اور استغفار کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی یہ تائبین جہنم میں نہیں جائیں گے اور ان کی اولاد میں سے جو چند روز کے لیے جہنم میں جائے گا اس سے مومن عاصی مراد ہے جیسا کہ تمام شریعتوں کا قاعدہ ہے کہ جو شخص مومن ہو اور گناہ گار ہو اس پر دائمی عذاب نہیں۔
بنی اسرائیل یہ سمجھے کہ یہ حکم ذاتی طور پر ہمارے لیے مخصوص ہے اس لیے لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ کا دعوی کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا ازالہ فرمایا کہ یہ حکم بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص نہیں جو دین حق کا اتباع کرے اس کا یہی حکم ہے گزشتہ زمانہ میں چونکہ بنی اسرائیل ملت حقہ اور دین حق کے متبع تھے۔ اگرچہ گناہوں اور خطاؤں میں ملوث تھے اس لیے یہ حکم تھا کہ بنی اسرائیل فرعونیوں کی طرح ہمیشہ جہنم میں نہ رہیں گے بلکہ صرف چند روز کے لیے جہنم میں جائیں گے جیسا کہ مومن عاصی کا حکم ہے اور اب وہ صورت باقی نہیں رہی اس وقت تم دین حق اور نبی برحق کے اتباع سے انحراف کیے ہوئے ہو اور نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے منکر ہو اور نبی کی نبوت کا انکار کفر ہے۔ اس لیے تمہارا عذاب دائمی ہوگا جیسا کہ کافر کا تمام شریعتوں میں یہی حکم ہے کہ وہ ہمیشہ عذاب میں رہے گا۔
Ayah 2:83شناعت یاز دہم (11)
قال تعالیٰ واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔۔ وانتم معرضون
(ربط): گزشتہ آیات میں یہود کے اس زعم فاسد کا کہ ہم کو سوائے چند گنتی کے دنوں کے دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں اور فرمایا کہ یہ خیال خام ہے۔ نجات کا دارومدار ایمان اور عمل صالح پر ہے۔ خاندان نبوت سے تعلق پر نہیں جو ایمان لائے اور عمل صالح کرے خواہ وہ کسی خاندان اور کسی قوم کا ہو اس کی نجات ہوگی اور جو کفر کرے گا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کا بیٹا۔ یہ آخرت کا معاملہ ہے۔
(مصرع) کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
علاوہ ازیں تمہاری عہد شکنیوں کا مقتضی بھی اس کے خلاف ہے کہ تم کو صرف چند روزہ عذاب دیا جائے جس قوم نے خدا تعالیٰ سے پختہ عہد اور پیمان کر کے تورے ہوں اس قوم کو چند روز عذاب دیکر چھوڑ دینا خلاف حکمت ہے۔ خصوصاً جبکہ عہد شکنی ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی ہو اور نیت بھی یہ ہو کہ ہمیشہ ان گناہوں پر قائم رہیں گے۔ اس لیے آئندہ آیات میں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب ہم توریت میں بنی اسرائیل سے چند باتوں کا پختہ عہد لیا۔ اول یہ کہ سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کی عبادت نہیں کرو گے دوم یہ کہ والدین کے ساتھ خاص احسان کروگے جو احسان کی تمام انواع و اقسام کو شامل ہو اور اس کی تین قسمیں ہیں (1) ترک ایذاء (2) خدمت مالی (3) خدمت بدنی۔ سوم اہل قرابت کے ساتھ جب قرابت احسان کرنا اور چہارم یتیموں کے ساتھ سلوک اور احسان کرنا اور پنجم عام غرباء اور محتاجوں کے ساتھ سلوک اور احسان کرنا اور ششم یہ کہ تمام لوگوں کے ساتھ خواہ مومن ہوں یا کافر اچھی طرح اور نرمی سے بات کرنا۔ حسن خلق اور مداراۃ میں کسی کی تخصیص نہیں اور ہفتم یہ کہ نماز کو قائم رکھنا اور ہشتم یہ کہ زکوٰۃ ادا کرتے رہنا۔ یہ وہ عہد تھے جو تم سے لیے گئے پھر تم نے ان مضبوط اور محکم عہدوں سے روگردانی کی۔ مگر تم میں کے بہت ہی تھوڑے افراد ان عہدوں پر قائم رہے اور تم احکام خداوندی سے اعراض اور انحراف کے عادی اور خوگر ہی ہوگئے اور یہ اعراض تمہاری عادت ثانیہ بن گئی ہے اور پھر اس پر دعوی یہ ہے کہ ہم اللہ کے محب اور محبوب ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ میں چند روز رکھنے کا تو تم سے کوئی عہد نہیں کیا تھا البتہ تم سے یہ عہد لیا تھا کہ تم سوائے خدا کے کسی کی عبادت نہ کرنا اور والدین کے ساتھ احسان کرنا اور یتیموں اور مسکینوں کی خبر گیری کرنا اور لوگوں کے ساتھ عمدہ اخلاق سے پیش آنا مگر تم نے یہ عہد بھی توڑ ڈالا اور بہت ہی قلیل لوگ تم سے اس عہد پر قائم رہے مثلاً عبداللہ بن سلام وغیرہ۔
فائدہ اولی۔ والدین کی تربیت خداوندی کا ایک ظاہری سبب ہیں۔ ماں باپ اولاد کے ساتھ جو کچھ احسان کرتے ہیں وہ کسی غرض اور عوض کے لیے نہیں اولاد کی تربیت سے ماں باپ کسی وقت ملول نہیں ہوتے اولاد کے لیے جو کمال ممکن ہو والدین دل وجان سے اس کی آرزو کرتے ہیں۔ اولاد کی ترقی اور عروج پر کبھی حسد نہیں کرتے ہمیشہ اپنے سے زیادہ اولاد کو ترقی اور عروج پر دیکھنے کے خواہشمند اور ارزو مند رہتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد تعظیم والدین کا حکم دیا اور انہی وجوہ کی بناء پر والدین کی تعظیم تمام شریعتوں میں واجب رہی اور چونکہ یہ حق محض ماں باپ ہونے کی وجہ سے ہے اس لیے وبالوالدین میں ایمان کی قید نہیں لگائی گئی اشارہ اس طرف ہے کہ والدین کی تعظیم والدین ہونے کی حیثیت سے ہر حال میں واجب اور لازم ہے۔ والدین خواہ کافر وفاجر ہوں یا منافق وفاسق ہوں۔ اسی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) نے آذر کی دعوت وتلقین میں ہمیشہ تلطف اور نرمی کو ملحوظ رکھا۔ جیسا کہ سورة مریم میں مفصل قصہ مذکور ہے۔ اور قرآن اور حدیث میں جا بجا کافر اور مشرک ماں باپ کے ساتھ بھی سلوک اور احسان کا حکم دیا گیا ہے۔
فائدہ دوم : محتاج تو یتیم اور مسکین دونوں ہی ہیں۔ مگر یتیم کم سن ہونے کی وجہ سے کمانے طاقت نہیں رکھتا اس لیے یتیم کو مسکین پر مقدم فرمایا۔
فائدہ سوم : مالی سلوک اور احسان زیادہ تر اقارب کے ساتھ ہوتا ہے۔ مالی احسان ہر ایک کے ساتھ ممکن نہیں اس لیے وقولوا للناس حسنا میں اجانب کے ساتھ قولی احسان کا ذکر فرمایا اس لیے کہ تواضع اور حسن خلق کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ ممکن ہے۔
فائدہ چہارم۔ دعوت اور تذکیر یعنی وعظ ونصیحت کے موقعہ پر نرمی اور ملاطفت معہود ہے۔ کما قال تعالیٰ وقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی وقال تعالیٰ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وقال تعالیٰ فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم وقال تعالیٰ ادفع بالتیھی احسن غرض یہ کہ وعظ ونصیحت اور تبلیغ ومناظرہ میں تلطف اور لین مناسب ہے جیسا کہ ان آیات سے صاف ظاہر ہے۔ البتہ جہاد اور قتال میں غلظت اور شدت مناسب ہے کما قال تعالیٰ یا یہا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم۔ جہاد اور نصیحت کے فرق کو خوب سمجھ لو۔
فائدہ پنجم
دربیان فرق مدارات ومداھنت
بہت سے لوگ مداراۃ اور مداہنت میں فرق نہیں سمجھتے۔ حالانکہ دونوں میں بہت بڑا فرق ہے اپنی دنیوی اور جسمانی راحت اور منفعت کو دوسرے کی دنیوی راحت اور منفعت کے خیال سے چھوڑدینا اس کا نام مداراۃ ہے۔ اور کسی دنیوی لحاظ کے خاطر اپنے دین کو چھوڑ دینا اور اس میں سستی کرنا اس کا نام مداہنت ہے۔ مدارۃ شریعت میں مستحسن اور پسندیدہ ہے اور مداہنت قبیح اور مذموم ہے کما قال تعالیٰ ودوا لو تدھن فیدھنون۔
خلاصہ یہ کہ دین میں سستی اور نرمی کا نام مداہنت ہے اور دنیوی امور میں نرمی اور سستی کا نام مدارات ہے۔