Ayah 2:50در بہ بست و دشمن اندر خانہ بود قصۂ فرعون زیں افسانہ بود
انعام سوم : واذ فرقنا بکم البحر فانجینکم واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون۔ اور اے بنی اسرائیل اس نعمت کو بھی یاد کرو جب کہ ہم نے محض تمہاری وجہ سے دریا کو پھاڑا یعنی محض تمہارے صحیح سالم گذر جانے کی وجہ سے ہم نے اپنے ارادہ اور مشیت سے دریا کو شق کیا۔ اتفاقی طور پر جزر و مد نہ تھا۔ پس تم کو نجات دی۔ دشمن سے بھی نجات ملی اور خدا تعالیٰ کے علم وقدرت میں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت میں جو شبہات تھے ان سے بھی تم کو نجات ملی۔ سارے شبہ رفع ہوئے اور فقط تمہارے نجات دینے پر کفایت نہیں کی۔ بلکہ قوم فرعون کو جو تمہاری دشمن تھی غرق کیا تاکہ آئندہ بھی دشمنوں کا خطرہ دل سے نکل جائے اور پھر غرق بھی ان کو ایسی حالت میں کیا کہ تم ان کو غرق ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے جس میں اب کسی قسم کے شک وشبہ کی بھی گنجائش نہ رہی تھی اور دشمن کو اپنی آنکھوں کے سامنے غرق ہوتے ہوئے دیکھنا یہ بہت بڑی نعمت ہے اور ایسی نعمت کا تو بہت ہی شکر چاہئے۔ احادیث صحیحۃ سے ثابت ہے کہ یہ دن جس میں بنی اسرائی کو نجات اور قوم فرعون کو غرق کیا گیا عاشورہ کا دن تھا۔ اس نعمت کے شکر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اس روز کا روزہ رکھا۔ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا تو فرمایا کہ تم سے زائد موسیٰ کا حقدار میں ہوں۔ خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ کا حکم دیا۔ فرعون سے نجات دینا تو عمت تھا ہی لیکن دریا کو ان گزرنے کے لیے راستہ بنادینا ایک مستقل انعام تھا اس لیے فلق بحر کو علیحدہ ذکر فرمایا۔
Ayah 2:51انعام چہارم : واذ واعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ ثم اتخذتم العجل من بعدہ وانتم ظلمون۔ فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل مصر میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے توریت عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا اور یہ بھی وعدہ فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر چالیس شب کا اعتکاف فرمائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) تو کوہ طور پر تشریف لے گئے۔ سامری جو کہ منافق تھا اس نے بعد میں گوسالہ پرستی کا فتنہ کھڑا کردیا جس کا مفصل قصہ آئندہ آئے گا۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ اے بنی اسرائیل اور تم ہمارے اس انعام کو یاد کرو جبکہ ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا۔ تیس راتیں ذی قعدہ کی اور دس راتیں ذی الحجہ کی رات کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ رات کی عبادت میں مجاہدہ زیادہ ہے کما قال تعالی۔ ان ناشئۃ الیلھی اشد وطا واقوم قیلا۔ تحقیق رات کا اٹھنا نفس کے روندنے اور پامال کرنے اور بات کے سیدھا نکلنے میں شدید مؤثر ہے۔
نیز سماء دنیا کی طرف حق جل جلالہ کا نزول اجلال شب میں ہی ہوتا ہے جیسا کہ صحیحین میں ہے اور رحمتیں اور برکتیں بھی اکثر رات ہی میں نازل ہوتی ہیں۔ کما قال تعالی۔ انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ۔ ہم نے قرآن کو مبارک رات میں اتارا۔ انا انزلناہ فی لیلۃ القدر۔ علاوہ ازیں قرب الٰہی کے حاصل کرنے کے لیے رات سے بہتر کوئی دقت نہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے۔
عن عمرو بن عنبسۃ ؓ انہ سمع النبی ﷺ یقول اقرب ما یکون الرب من العبد فی جوف اللیل الاخر فان ستطعت ان تکون ممن یذکر اللہ فی تلک الساعۃ فکن رواہ الترمذی واللفظ لہ وابنم خزیمۃ فی صحیحہ وقال الترمذی حدیث حسن صحیح غریب۔
عمرو بن عنبسہ ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حق جل شانہ بندہ کے ساتھ سب سے زائد قریب اور نزدیک وسط شب میں ہوتے ہیں پس اگر تم سے یہ ممکن ہو کہ تو اس وقت میں اللہ کے ذکر کرنے والوں میں سے ہو تو ضرور ہوجا۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا اور یہ لفظ ترمذی کی روایت کے ہیں اور ابن خزیمہ نے بھی اپنی صحیح میں اس کو روایت کیا ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن اور صحیح اور غریب ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم اور آپ کے صحابہ کو قیام لیل کا حکم ہوا۔ یا ایہا المزمل قم الیل اور رات ہی میں تہجد کا حکم ہوا ومن الیل فتھجد بہ نافلۃ لک اور رات ہی آپ کو آسمان کی سیر کرائی گئی۔ سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا الایۃ۔
عرب کا طریقہ یہ تھا کہ جب سفر کرتے تو رات کو چلتے اور دن کو ٹھہرتے اس لیے کہ رات میں راستہ جلد قطع ہوجاتا ہے اسی طرح سیر الی اللہ کے لیے رات کو خاص کیا گیا تاکہ سالک جلد منزل مقصود پر پہنچ جائے رہا یہ امر کہ چالیس کا عدد کیوں خاص کیا گیا سو اس کی وجہ یہ ہے کہ اعداد کے مختلف مرتبے ہیں آحاد (اکائیاں) عشرات (دھائیاں) مات (سینکڑے) الوف (ہزار) جن میں سے دس کا عدد فی حد ذاتہ فی نفسہ کامل اور مکمل ہے جیسا کہ حق جل شانہ کا ارشاد ہے۔ تلک عشرۃ کاملۃ (یہ دس کامل ہیں) پس جس چیز کی خاص طور پر تکمیل مقصود ہوتی ہے تو اس عدد یعنی دس کو چار گنا کرلیا جاتا ہے۔ چناچہ حضرت آدم کی مٹی کا خمیر چالیس دن تک کیا گیا اور حدیث میں ہے کہ بطن مادر میں چالیس روز تک نطفہ رہتا ہے پھر چالیس روز تک علقہ خون بستہ پھر چالیس روز تک مغضہ یعنی پارۂگوشت اس کے بعد روح پھونکی جاتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس عدد کو عروج اور ترقی سے کوئی خاص مناسبت ہے پس جس طرح جسمانی عروج اور ترقی کے لیے چالیس کا عدد منتخب ہوا اسی طرح حق جل شانہ نے اپنی اس قدیم سنت کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے باطنی اور روحانی عروج اور ترقی کے لیے چالیس کا عدد خاص فرمایا۔ سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔
وری عن ابن عباس ان رسول اللہ ﷺ قال من اخلص للہ اربعین یوما ظھرت ینابیع الحکمۃ من قلبہ علی لسانہ ذکرہ رزین العبدری (ترغیب وترہیب ص 25 ج 1)
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو چالیس دن تک عمل خاص اللہ کے لیے کرے تو علم اور حکمت کے چشمے اس کے قلب سے نکل کر اس کی زبان پر جاری ہوجائیں گے (رواہ رزین العبدری)
بینی اندر خود علوم اولیاء بےکتاب وبے معید واوستا
اور اسی طرح نبوت و رسالت پیغمبری اور بعثت کے لیے چالیس کا عدد خاص کیا گیا۔ علاوہ ازیں اصل عمر انسان کی چالیس سال ہے اس کے بعد انحطاط اور زوال ہے جیسا کہ حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ (سورۂ احقاف) معلوم ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے حضرات اہل اللہ (حشرنا اللہ تعالیٰ فی زمرتھم واماتنا علی حبھم وسیرتھم امین) نے مجاہدہ اور ریاضت خلوت اور عزلت کے لیے چلہ تجویز فرمایا۔ حافظ شیرازی (رح) فرماتے ہیں
شنیدم رہروے در سرزمینے ہمی گفت ایں معما باقرینے
کہ اے صوفی شراب آنکہ شود صاف کہ در شیشہ بماند اربعینے
الحاصل : ہمنے موسیٰ سے توریت دینے کے لیے چالیس رات کا وعدہ کیا۔ پھر تم نے موسیٰ کے جانے کے بعد ہی کہ جن کی ساری عمر ہی مدعی الوہیت کے مقابلہ اور غیر اللہ کی عبادت اور پرستش سے روکنے میں صرف ہوئی ان کے جاتے ہی تم نے عجلت اور جلد بازی میں ایک عجل (گوسالہ اور بچھڑا) بنا کر کھڑا کرلیا اور لوگوں سے یہ کہا کہ دیکھو تمہارا خدا یہ ہے جو اس گوسالہ کی صورت میں ظاہر اور نمودار ہوا ہے اور جو تمہارے پاس ہے اور موسیٰ خدا کو کوہ طور پر ڈھونڈتا پھرتا ہے جیسا کہ آج کل ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ خدا کسی جسم میں حلول کرسکتا ہے اصطلاح متکلمین میں اس فرقہ کا نام فرقہ حلولیہ ہے سامری نے لوگوں کو یہی سمجھایا کہ تمہارے پروردگار نے اس گوسالہ کی صورت میں ظہور کیا ہے غرض یہ کہ سامری نے گوسالہ بنا کر کھڑا کردیا۔ اول تو گوسالہ بنانا ہی برا تھا اس لیے کہ ذی روح کی تصویر بنانا قطعاً حرام ہے پھر یہ کہ گوسالہ بنا کر کیا کیا وہ زبان پر لانے کی چیز نہیں۔ اندیشہ ہے کہ کہیں زمین اور آسمان نہ پھٹ جائیں اور تم بڑے ہی ظالم تھے۔ کہ خدائے عز وجل کو چھوڑ کر ایسے جانور کہ جو حماقت میں ضرب المثل ہے اس کی محض ایک تصویر کو اپنا خدا بنالیا۔ بیل حماقت میں ضبر المثل ہے اور بیل کا بچہ تو بیل سے بھی کم ہے اس یلے کہ وہ بےشعوری اور بےعقلی میں اس سے بڑھا ہوا ہے۔ کیا یہ انتہائی ظلم نہیں۔ ذرا تم اپنے عدل اور انصاف فہم اور فراست کا کچھ اور اندازہ لگاؤ کیا ہاتھ کی بنائی ہوئی چیز بھی خدا اور معبود ہوسکتی ہے۔
نیز تم نے یہ سمجھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب تم کو فرعون کی عبادت سے روکتے تھے حالانکہ وہ کسی درجہ میں نفع وضرر پر بھی قدرت رکھتا تھا تو اس بےعقل اور بےجان حیوان کی عبادت کی کیسے اجازت دے ستے ہیں۔ آخر فرعون بیل کے بچہ سے تو بہتر ہی تھا۔ اس عمل شنیع کا مقتضا تو یہ تھا کہ تم کو فوراً ہلاک کردیا جاتا مگر ہم نے اپنی کمال رحمت اور غایت رافت سے درگزر کیا جیسا آئندہ آیت میں فرماتے ہیں۔
Ayah 2:52انعام پنجم۔ ثم عفونا عنکم من بعد ذلک لعلکم تشکرون۔ پھر ہم نے اس جرم عظیم کے بعد بھی تم کو معاف کیا تاکہ تم احسان مانو کہ ہم نے اپنے فضل اور رحمت سے تم کو معاف کیا آل فرعون کی طرح ہلاک نہ کیا، ورنہ یہ جرم قابل عفو نہ تھا۔ عفو سے اس جگہ مراد ترک مؤاخذہ ہے کہ تم کو اس جرم کے بعد نیست ونابود کو کے نہیں چھوڑا۔
حکایت : بارگاہ خداوندی میں موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے پروردگار تو نے بیشمار نعمتیں مجھ کو عطاء فرمائیں اور ان پر شکر کا حکم دیا تیری نعمتوں کا شکر خود ایک عظیم الشان نعمت ہے پھر کس طرح شکر کروں۔ اللہ جل جلالہ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ بندہ کا یہ سمجھ لینا کہ جو نعمت بھی ہے وہ میری ہی طرف سے ہی یہی بس اس کے لیے کافی ہے۔ (خازن)
Ayah 2:53انعام ششم : واذ اتینا موسیٰ الکتب والفرقان لعلکم تھتدون۔ اور اے بنی اسرائیل اس انعام کو بھی یاد کرو جبکہ ہم نے موسیٰ کو کتاب یعنی توریت دی جو احکام الٰہی کی جامع تھی۔
(حاشیہ : اشارۃ الی ان اصل الکتاب ھو الجمع سمی الکتاب کتابا لکونہ جامعا للعلوم والقواعد واللہ اعلم۔ 12 منہ)
اور جو حق اور باطل روا اور ناروا میں فرق کرنے والی تھی۔ شاید کہ تم راہ راست پاؤ۔ علامہ زمخشری کے نزدیک اس جگہ الکتاب اور الفرقان دونوں سے توریت ہی مراد ہے۔ اور یہ دونوں توریت کی صفتیں ہیں۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک کتاب سے توریت مراد ہے اور الفرقان سے معجزات مراد ہیں کہ جن سے حق اور باطل کا فرق واضح اور نمایاں ہوتا ہے جب بنی اسرائیل نے سامری کے اغواء سے گو سالہ کی پرستش شروع کردی تو بنی اسرائیل میں تین گروہ ہوگئے۔ ایک حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا کہ خود بھی اس سے علیحدہ رہے اور دوسروں کو بھی منع کیا۔ دوسرا فریق سامری اور اس کے متبعین کا اور تیسرا فریق ساکتین کا کہ نہ خود گوسالہ پرستی کی اور نہ دوسروں کو منع کیا۔ پہلے فریق کو توبہ کی حاجت نہ تھی دوسرے اور تیسرے فریق کو توبہ کا اس صورت سے حکم ہوا کہ تیسرا فریق یعنی ساکتین دوسرے فریق یعنی سامری اور اس کے متبعین اور مرتدین کو قتل کریں تاکہ مقتول ہونے سے مرتدین کی توبہ ہوجائے اور قتل سے ساکتین کی توبہ ہوجائے اس لیے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض تھا اس سے سکوت کیسے جائز تھا اس یے اس سکوت کی توبہ یہ ہے کہ تم اپنے ان خویش اوراقارب اور احباب و مخلصین کو کہ جو گوسالہ پرستی کی وجہ سے مرتد ہوگئے ہیں ان کو اپنے ہاتھ سے قتل کرو جیسا کہ آئندہ آیت میں ارشاد ہے۔
Ayah 2:54انعام ہفتم : واذ قال موسیٰ لقومی یقوم انکم ظلمتم انفسکم الایۃ۔ اور اے بنی اسرائیل اس انعام کو بھی یاد کرو جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم بچھڑا بنا کر تم نے اپنی جانوں پر بڑا ہی ظلم کیا اس بچھڑے سے تو فرعون اور ہامان ہی بہتر تھا۔ جب ایک انسان کی پرستش کفر اور شرک ہوئی تو ایک احمق حیوان کی پرستش کیسے کفر اور شرک نہ ہوگی۔ لہذا فوراً ہی بلا کسی تاخیر اور مہلت کے اپنے اس خالق کی طرف رجوع کرو۔ جس نے تم کو کفر اور شرک سے پاک اور بری منزہ اور مبرا پیدا کیا اس علیم و حکیم نے تم کو حنیف اور فطرۃ اسلام پر پیدا کیا تھا تم نے اپنی جہالت اور نادانی سے اس کو شرک اور ظلم عظیم کے ساتھ آلودہ اور ملوث کیا۔ لہذا تم اپنے خالق کی طرف رجوع کرو اور اسی کو اپنی مرجع اور منتہا سمجھو اور پھر اس توبہ کی تکمیل اس طرح کرو کہ اپنے آپ کو قتل کرو یعنی ساکتین مرتدین کو خنجر لیکر قتل کریں۔
(حاشیہ : ہذا تفسیر کلمۃ الی التیھی لانتھاء الغایۃ فی قولہ الی بارئکم 12)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب بنی اسرائیل کو یہ حکم خداوندی سنایا تو سب نے کہا کہ ہم دل وجان سے اپنے مولی کے حکم پر راضی ہیں۔ چناچہ سب ایک میدان میں جمع ہوگئے جن لوگوں نے گو سالہ پرستی نہیں کی تھی۔ خنجروں کے حکم پر راضی ہیں۔ چناچہ سب ایک میدان میں جمع ہوگئے جن لوگوں نے گوسالہ پرستی نہیں کی تھی خنجروں اور تلواروں سے گو سالہ پرستی کرنے والوں کو قتل کرنا شروع کیا جیسا کہ حضرت علی اور عبداللہ بن عباس اور حسن بصری اور سعید بن جبیر اور مجاہد اور قتادہ اور ابو العالیہ وغیرہم سے مروی ہے اور توریت سفر خروج کے بتیسویں باب میں بھی اسی طرح مذکور ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ مقتولین کی تعداد ستر ہزار تھی۔ جب ستر ہزار آڈمی قتل ہوگئے تو حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے نہایت تضرع اور ابتہال کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں عفو کی درخواست کی۔ حق تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی مقتولین کی بھی مغفرت فرمائی اور بقیۃ السیف کو بھی معاف فرمایا۔ جو مارا گیا اس نے مرتبہ شہادت پایا اور جو زندہ رہا وہ گناہوں سے پاک ہوا۔
(حاشیہ : آثار صحابہ اور تابعین اور توریت سب سے یہی ثابت ہے کہ یہ قتل تلواروں اور خنجروں سے تھا لہذا فاقتلوا انفسکم سے نفس کشی مراد لینا صحیح نہیں۔ نیز نس کشی ایک امر خفی ہے جسکا علم بہت دشوار ہے)
: امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہماری شریعت میں قاتل عمد کی توبہ کی تکمیل اور تتمیم کے لیے یہ ضروری ہے کہ قاتل اپنے کو اولیاء مقتول کے سپرد کرے کہ چاہیں قتل کریں اور چاہیں معاف کریں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل فرمائی کہ مرتدین کی توبہ جب مکمل ہوگی کہ جب وہ اپنے قتل کے لیے سپرد کردیں اھ (تفسیر کبیر) یہی تمہارے لیے ہر طرح سے بہتر اور نافع ہے تمہارے خالق کے نزدیک۔ جب تم نے اللہ کے حکم کی دل وجان سے تعمیل کی تو اللہ نے تم پر توجہ فرمائی اور تمہاری توبہ قبول کی۔ اگرچہ تمہارا جرم فرعون سے بھی زیادہ سخت تھا اس لیے کہ وہ ابتداء ہی سے کافر تھا اور تم نے ایمان کے بعد کفر کیا اور مرتد ہوئے۔ دین الٰہی کی بےحرمتی اور آبرو ریزی کی۔ بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا ہے اور بڑا ہی مہربان ہے کہ ایک گھڑی کی تکلیف برداشت کرلینے پر ہمیشہ کی عزت اور کرامت عطاء فرماتا ہے۔ وہ حیات جس کی حقیقت لہو ولعب سے زائد نہیں ایسی حیات سرمدی اور ابدری سے سرفراز فرماتا ہے۔
نیم جاں بستاند وصد جاں دہد آنچہ در وہمت نیاید آں دہد
واقعۂ قتل کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے باذن الٰہی ستر آڈمیوں کو کوہ طور پر لیجانے کے لیے منتخب فرمایا تاکہ گوسالہ پرستی کی معذرت کریں۔ سب نے روزہ رکھا اور غسل کیا اور عمدہ کپڑے پہنے جب کوہ طور پر پہنچے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ بارگاہ خداوندی میں عرض کیجئے کہ ہمیں اپنا کلام پاک سنائے۔ تھوڑی دیر میں ایک نورانی ابر ظاہر ہوا موسیٰ (علیہ السلام) اس میں غرق ہوگئے اور بنی اسرائیل نیچے کھڑے رہے۔ سب نے اللہ کا کلام سنا۔ جب کلام الٰہی ختم ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس ابر سے برآمد ہوئے اور دریافت کیا کہ تم نے کلام الٰہی سنا تو اس پر یہ کہا ہم تو کلام الٰہی ہونے کا اس وقت تک یقین نہ کریں گے جب تک علانیہ طور پر خدا کو نہ دیکھ لیں۔ آئندہ آیت میں اسی قصہ کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 2:55–56انعام ہشتم : واذ قلتم یموسی لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ فاخذتکم الصعقۃ وانتم تنظرون۔ اور یاد کرو اے بنی اسرائیل اس وقت کو کہ جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ہم محض تمہارے کہنے سے اس کا ہرگز یقین نہ کریں گے کہ ہم نے جو کچھ سنا وہ اللہ جل جلالہ ہی کا کلام ہے ممکن ہے کہ پس پردہ کوئی اور کلام کرتا ہو جب تک کہ ہم خود اللہ کو علانیہ طور پر نہ دیکھ لیں اس طرح کہ ہمارے اور خدا کے درمیان کوئی حجاب حائل نہ ہو۔ پس آپکڑا تم کو اس گستاخی پر بجلی نے اور تم اس بجلی کو آتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ بنی اسرائیل اس موقعہ پر دو وجہ سے غضب الٰہی کے مورد بنے۔ اول تو اس کہنے کی وجہ سے کہ اے موسیٰ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے اور محض تمہارے بھروسہ اور اعتماد پر اس کا کلام الٰہی ہونا تسلیم نہ کریں گے۔ یہی۔ ایک گستاخی نزول عذات کے لیے کافی تھی۔ اس لیے کہ اللہ کے نبی پر اعتماد اور بھروسہ نہ کرنا اور حسن ظن کے بجائے اس سے بد ظن اور بدگمان ہونا یہ کچھ معمولی گستاخی نہیں۔ نبی (علیہ السلام) پر اعتماد نہ کرنا صریح کفر ہے۔ نبی ہی کے اعتماد پر اللہ کی باتوں کو ماننا ایمان ہے اور جو شخص نبی پر اعتماد نہیں کرتا آخر وہ یہ تو سوچے کہ نبی کے بعد پھر کسی پر وہ اعتماد کرے گا۔ دوم یہ کہ گستاخانہ اور بےباکانہ طور پر یہ کہ دینا کہ حتی نری اللہ جھرۃ کہ ہم موسیٰ کی تصدیق جب کریں گے کہ جب اللہ کو علانیہ اور ظاہر طور پر دیکھ لیں ہاں اگر ادب کے ساتھ یہ کہتے کہ اے موسیٰ کہ ہم دیدارِ الٰہی کے مشتاق اور آرزو مند ہیں تو مورد غضب نہ بنتے اس کا جواب تو یہ تہوتا کہ تم ابھی اس نعمت کے قابل نہیں آخرت میں جب آلودگیوں اور نجاستوں سے پاک ہوجاؤ گے تب دیکھو گے غرض یہ کہ اس گستاخانہ اور بےباکانہ سوال کی وجہ سے عذاب الٰہی نے آگھیرا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کا رب ارنی انظر الیک کہہ کر دیدار الٰہی کس اسوال کرنا سو اول تو وہ سوال تھا یعنی عاجزانہ اور مودبانہ ایک استدعا اور درخواست تھی مطالبہ نہ تھا دوم یہ کہ وہ ایک والہانی اور عاشقانہ استدعاء نیاز تھی جو سراسر محبت اور اشتیاق پر مبنی تھی۔ حاشا بنی اسرائیل کی طرح تعنت اور عناد اس کا منشا نہ تھا۔
پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست پر جس کا مفصل قصہ سورة اعراف میں آئیگا۔ ہم نے تم کو زندہ کیا تمہارے مرجانے کے بعد یعنی حقیقۃً تم مرچکے تھے غشی اور سکتہ کی حالت نہ تھی اور نہ کوئی خواب تھا حقیقۃً مرنے کے بعد ہم نے تم کو اپنی رحمت سے دوبارہ زندہ کیا۔ شاید کہ تم شکرو کرو کہ حق جل شانہ نے اپنی رحمت سے ہمارا قصور معاف فرمایا اور اپنی عبادت اور بندگی توبہ اور استغفار انابت اور اعتذار کے لیے اور مہلت عطاء فرمائی اور بعث بعد الموت کا نمونہ آنکھوں سے دکھلادیا تاکہ بعث بعد الموت کے بارے میں تم کو ذرہ برابر شبہ نہ رہے اور تم اس ایمان شہودی کا شکر ادا کرو۔ ایمان استدلالی میں تزلزل آسکتا ہے مگر ایمان شہودی میں تزلزل ممکن نہیں گویا کہ قیامت تم کو آنکھوں سے دکھلا دی گئی
Ayah 2:57وظللنا علیکم الغمام وانزلنا علیکم المن والسلوی۔ جب بنی اسرائیل کو عمالقہ سے جہاد کرنے کا حکم ہوا تو بہت شاق اور گراں ہوا اور بالآخر یہ کہہ دیا کہ اے موسیٰ تم اور تمہارا رب جا کر جہاد اور قتال کرلو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں اس جرم میں چالیس سال تک ایک میدان میں حیران وپریشان پھرنے کی سزا ملی اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعاء سے ایک سفید ابر سایہ کے لیے بھیجا تاکہ دھوپ کی تکلیف نہ ہو اور کھانے کے لیے من وسلوی نازل فرمایا اور ایک نور کا ستون عطاء فرمایا جو اندھیری راتوں میں چاند کا کام دیتا تھا آئندہ آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور اے بنی سارائیل سایہ کیا وادی تیہ میں ہم نے تم پر ابر کا۔ قتادہ سے منقول ہے کہ غمام اس ابر کو کہتے ہیں جو سفید ہو۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ ابر نہایت ٹھنڈا اور پاکیزہ تھا ویسا بر نہ تھا جو لوگوں میں معروف ہے بلکہ وہ اس قسم کا ابر تھا کہ جس میں بدر کے دن فرشتے نازل ہوئے اور جس میں قیامت کے دن ملائکہ اور حق جل شانہ نزول اجلال فرمائیں گے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملائکۃ۔ ابر دو قسم کا ہوتا ہے ایک وہ جو بخار یا دخان وغیرہ کے انجماد سے ظاہر ہو دوسرا وہ جو عالم غیب اور عالم مثال سے بدون کسی سبب ظاہری کے ظہور میں آئے لہذا ابن عباس ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ ابر دوسری قسم کا تھا اور اسی طرح قیامت کے دن جو ابر ظاہر ہوگا وہ بھی اسی قسم کا ہوگا۔ اور اتارا ہم نے وادی تیہ میں خزانۂ غیب سے تم پر من سلویٰ من ایک شیریں چیز تھی۔ دھنئے کے سے دانے ترنجبین کے مشابہ رات کو اوس میں برستی صبح کو ہر شخص اپنی ضرورت کے موافق چن لیتا اور سلوی ایک پرند کا نام ہے جس کو بٹیر کہتے ہیں یا اور کوئی پرند ہے جو مشابہ بٹیر کے ہوتا ہے شام کو لشکر کے گرد ہزاروں جانور جمع ہوجاتے اندھیرا ہونے کے بعد پکڑ لاتے اور کباب بنا کر کھاتے۔ مدت تک اسی طرح کرتے رہے۔
: اطباء نے من یعنی ترنجبین کے بہت فوائد بیان کیے ہیں منجملہ ان کے یہ ہے کہ اس کو باریک پیس کر سونگھا جائے تو مالیخولیا اور وہم اور وساوس اور دماغی ریاح فاسدہ کے لیے بہت مفید پڑتا ہے عجب نہیں کہ بنی اسرائیل کے دماغوں کے تنقیہ کے لیے من تجویز کی گئی ہو تاکہ ان کے دماغ اس قسم کے وساوس اور شبہات سے پاک ہوجائیں اور بٹیر کا گوشت دل کو نرم کرتا ہے یہ ان کی قساوت قلبی دور کرنے کے لیے تجویز کیا گیا ہو اللہ اعلم کلوا من طیبات مارقنکم وما ظلمونا ولکن کانوا انفسھم یظلمون اور کہا ہم نے ان سے کہ کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دیں یعنی یہ چیزیں محض تمہارے کھانے کے لیے اتاری ہیں ذخرہ رکھنے کی ضرورت نہیں بنی اسرائیل نے اس حکم کی تعمیل نہ کی اور باوجود اس کے کہ خدا کی رافت ورحمرت کا کرشمہ روزانہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے پھر بھی خدا پر بھروسہ اور اعتماد نہ کیا۔ انجام یہ ہوا کہ جو ذخیرہ رکھتے وہ سڑ جاتا۔ اللہ فرماتے ہیں۔ اور ہمارا کچھ بھی نقصان نہیں کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کہ ایسا رزق کھویا جس میں نہ دنیا کی مشقت تھی اور نہ آخرت کا حساب تھا۔ حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت سے نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کی فضیلت دوسرے حضرات انبیاء کے صحابہ پر طاہر ہوتی ہے اس لیے کہ صحابہ نے دھوپ اور گرمی میں غزوات اور سرایا کے لیے سفر کیے مگر کبھی اس قسم کے خوارق کے خواہشمند نہ ہوئے کہ بنی اسرائیل کی طرح ہم پر من وسلوی نازل کیا جائے اور دھوپ سے بچاؤ کے لیے ابر بھیجدیا جائے حالانکہ نبی اکرم ﷺ اگر دعا فرماتے تو ضرور ایسا ہوجاتا۔
Ayahs 2:58–60انعام دہم : واذ قلنا ادخلوا ھذہ القریۃ الایۃ۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت میں قریہ سے بیت المقدس مراد ہے اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل چالیس سال کے بعد میدان تیہ سے یوشع بن نون (علیہ السلام) کی معیت میں نکلے۔ جمعہ کی شام کو بیت المقدس فتح ہوا اور کچھ دیر کے لیے سرج روکا گیا یہاں تک کہ یوشع بن نون (علیہ السلام) کو فتح حاصل ہوئی۔ اس وقت یہ حکم ہوا کہ تم اس شہر کے دروازہ میں سجدۂ شکر کرتے ہوئے اور زبان سے استغفار اور اپنے گناہوں کا اعتراف اور اقرار کرتے ہوئے داخل ہو جیسے حق جل جلالہ نے اپنے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو حکم دیا۔
اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا۔ فسبح بحمد ربک واتغفر۔ انہ کان توابا۔
جب اللہ کی نصرت اور فتح آپہنچی اور آپ نے لوگوں کو دین اسلام میں فوج در فوج داخل ہوتا ہوا دیکھ لیا تو اس کے شکر میں اللہ کی تسبیح اور تحمید اور استغفار کیجئے بیشک اللہ تعالیٰ بڑا توجہ فرمانے والا ہے۔
چناچہ نبی اکرم ﷺ جب فتح مکہ مکرمہ کے لیے تشریف فرما ہوئے تو مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت خشوع اور خضوع تواضع اور تذلل کے آثار آپ ﷺ سے ظاہر اور نمایاں ہورہے تھے۔ اس شان سے مکہ میں داخل ہوئے اور فتح ہوجانے کے بعد غسل فرمایا اور آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ بعض علماء کے نزدیک یہ نماز صلوۃ الضحی یعنی چاشت کی نماز تھی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ صلوۃ الفتح تھی یعنی فتح مکہ کے شکر کی نماز تھی۔ سعد بن ابی وقاص ؓ جب ایوان کسری میں فاتحانہ داخل ہوئے تو محل میں پہنچ کر آٹھ رکعت نماز پڑھی آئندہ آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
اور یاد کرو اس وقت کو جب کہا ہم نے کہ داخل ہو اس شہر میں پس کھاتے پھرو اس میں جہاں چاہو وسعت اور فراغت کے ساتھ اور داخل ہو اس کے دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے یہ شکر بدنی ہوا اور بخشش بخشش کہتے ہوئے۔ یعنی توبہ اور استغفار کرتے ہوئے اور اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہوئے داخل ہو۔ یہ شکر لسانی ہوا اور ان دونوں عملوں کی روح ندامت قلبی ہے پس اگر ایسا کرو گے تو ہم تمہاری تمام خطاؤں کو بخش دیں گے اور اخلاص کے ساتھ نیکی کرنیوالوں کے اجر میں بقدر ان کے اخلاص کے۔
پس بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اس طریقہ کے کہ جو ان سے کہی گئی تھی۔ بجائے سجدہ کے سرین کے بل داخل ہوئے اور حطۃ کے بجائے حبۃ فی شعرۃ (گیہوں کا دانہ جو کے دانہ میں) ایک مہمل لفظ بطور تمسخر کے کہنے لگے۔ پس نازل کیا ہم نے ان لوگوں پر جنہوں نے ظلم کیا تھا ایک عذاب آسمان سے اس وجہ سے کہ وہ حکم عدولی کرتے تھے۔ یعنی اس درجہ بےباک تھے کہ بجائے اس کے کہ نعمت کا شکر کرتے بےادبی کی اور توبہ اور استغفار کی جگہ مسخرا پن اور ہنسی کا طریقہ اختیار کیا اس لیے عذاب دئیے گئے اور بجائے اور توبہ اور استغفار کی جگہ مسخرا پن اور ہنسی کا طریقہ اختیار کیا اس لیے عذاب دئیے گئے اور بجائے علیہم کے علی الذین ظلمو۔ کہنے میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ عذاب تمام بنی اسرائیل پر نازل نہیں کیا گیا۔ بلکہ خاص ان لوگوں پر نازل کیا گیا جنہوں نے حکم عدولی کی اور اللہ کے حکم کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کیا۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں رجز سے مراد طاعون ہے۔ اور سعد بن مالک اور اسامۃ بن زید اور خزیمۃ ابن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ طاعون رجز یعنی عذاب ہے جس سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا (رواہ النسائی) کہا جاتا ہے کہ اس طاعون سے ایک ساعت میں ستر ہزار آدمی مرے
Ayah 2:61قال تعالیٰ واذ قلتم یموسی لن نصبر علی طعام واحد۔۔۔ الی۔۔ ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون۔
(ربط): یہاں تک حق تعالیٰ شانہ نے اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا آئندہ بنی اسرائیل کی شرارتوں اور عادات شنیعہ اور انبیاء اللہ کے ساتھ ان کے تعنت اور عناد کو بیان فرماتے کہ جس قدر ہماری طرف سے ان پر نعمتیں برستی رہیں اسی قدر ان کے تمرد اور سرکشی میں اضافہ ہوتا رہا اور پھر اس سلسلہ میں سب سے پہلی شناعت جو ذکر فرمائی تو وہ کفران نعمت اور ان کی طبع دناءت اور خست کی ذکر فرمائی کہ جو خصیس کو نفیس پر ترجیح دینے کا باعث بنی اس لیے اب انعامات کے ان کی شناعتوں اور شرارتوں اور عقوبتوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ گزشتہ انعامات کو یاد کرکے اللہ کی محبت اور اس کی اطاعت کی رغبت پیدا ہو۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو جب تم نے کمال بےادبی سے موسیٰ (علیہ السلام) کا نام لیکر پکارا اور تم نے یہ کہا اے موسیٰ ۔ مقتضائے ادب یہ تھا کہ یا رسول اللہ اور یا نبی اللہ اور یا کلیم اللہ کہہ کر ان سے عرض ومعروض کرتے۔ دوسری گستاخی تم نے یہ کی کہ یہ کہا کہ ہم ہرگز صبر نہ کریں گے۔ یہ کلام بھی تمہاری اندرونی خباثت اور باطنی شرارت کی خبر دے رہا ہے کہ صبر اور تحمل کر تو سکتے تھے مگر قصداً ہرگز ایسا نہیں کریں گے ورنہ اگر حقیقۃً صبر کی طاقت ہی نہ تھی تو یہ کہنا تھا لن نستطیع الصبر یعنی ہم میں صبر کی طاقت نہیں بلکہ مناسب تو یہ تھا کہ بصد شکر اللہ کی نعمت کو قبول کرتے اور پھر بصد ادب رب العزۃ سے یہ درخواست کرتے۔ ربنا افرغ علینا صبرا (اے اللہ ہم تیرے عاجز اور ناتواں بندے ہیں ہم کو صبر اور تحمل عطاء فرما)
غرض یہ کہ تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا نام لیکر یہ کہا کہ ہم ایک قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہ کریں گے۔ اس لیے آپ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ نکالے ہمارے واسطے ان چیزوں میں سے کہ جن کو زمین اگاتی ہے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسوار اور پیاز۔ بنی اسرائیل کا موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہنا کہ آپ اپنے رب سے دعا کیجئے اس کلام سے بیگانگی کی بو آتی ہے اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کے تو رب ہیں مگر ان کے رب نہیں ہیں اس طرح کیوں نہ کہا فادع لنا ربنا اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے ہمارے رب سے دعا کیجئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم ادنی چیز کو بہتر اور عمدہ شے کے بدلہ میں لینا چاہتے ہو اتنا نہیں سمجھتے کہ مسور اور وہ پیاز جس کی بد بو سے ملائکۃ اللہ کو نفر ت ہے اور پیاز کھانے والے کو بیوت اللہ کے پاس آنے کی بھی ممانعت ہے۔ بھلا ایسی چیزوں کو من اور سلوی سے کیا نسبت۔ پھر یہ کہ من وسلوی براہ راست خدائے عز وجل کا آسمان سے اتارا ہوا رزق ہے۔ دنیا میں کمانے کی محنت اور مشقت نہیں اور آخرت میں اس پر کوئی حساب نہیں۔ خیر اگر تم اپنی پست ہمتی اور طبعی دناءت سے اس بہترین رزق کے بدلہ میں ایک ادنی اور معمولی ہی چیز لینا چاہتے ہو تو کسی شہر میں جا کر اترو پس تمہارے لیے ہوگا جو تم مانگتے ہو۔ سبزی منڈی میں مسور اور پیاز وغیرہ بغیر حاجت دعاء کے تم کو مل جائیں گی اور میرے لیے یہ لائق نہیں کہ بارگاہ خداوندی میں ایسی چیزوں کی درخواست کروں جو پستی اور کم ہمتی پر دلالت کرے۔
: ہبوط لغت میں بلندی سے پستی کی طرف آنے کو کہتے ہیں۔ انسان جب تک سفر میں رہتا ہے تو علی العموم سواری پر سوار رہتا ہے جب شہر میں پہنچتا ہے تو سواری سے اتر کر قیام کرتا ہے اس لیے سفر سے شہر میں واپس آنے کو ہبوط اور نزول اور فروکش ہونے سے تعبیر کرتے ہیں اور اس لفظ میں ان کے معنوی ہبوط کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بلند حالت سے پست حالت کی طرف نزول کیا اور اعلی رزق سے ادنی رزق کی طرف تنزل اختیار کیا۔ وضربت الذلۃ والمسکنۃ وباء وا بغضب من اللہ۔ اور خیمہ کی طرح ذلت اور رسوائی اور بےچارگی اور بےنوائی ان پر لگا دیگئی خیمہ کی طرح ذلت اور بےنوائی نے ان کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے۔ یا اس طرح کہئے کہ ذلت اور مسکنت کی مہر ان پر لگادی گئی کہ اب وہ کسی طرح ان سے علیحدہ نہیں ہوسکتی ہے۔ یہود جہاں بھی ہیں وہ ان دوسروں کے محکوم اور باج گزار رہی ہے۔ یہ تو ذلت ہوئی کہ دوسروں کی نظر میں ذلیل ہوئے اور مسکنت یہ کہ خود ان کی طبیعت میں دناءت اور پستی پیدا ہوگئی۔ سرکاری محاصل کے خوف سے ہمشی اپنے کو مسکین اور فقیر ظاہر کرتے ہیں ہمیشہ اپنے مال کو چھاپنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس ذلت اور مسکنت سے بڑھ کر یہ ہے کہ اللہ کے غضب کو کمایا۔ جس کو کوئی برداشت نہیں کرسکتا۔ ذلک بانھم کانوا یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبیین بغیر الحق۔ یہ ذلت اور مسکنت اور خدا کا غضب اس لیے ہوا کہ وہ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہے اور خدا کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ یعنی خود بھی ان کے قتل کو ناحق سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک بھی حضرات انبیاء کے قتل کی کوئی وجہ نہ تھی محض عناد اور سرکشی اس کا باعث ہوئی۔ انبیاء اللہ کا قتل ہمیشہ ناحق ہی ہوتا ہے ان کے جرم کی شدت بتلانے کے لیے بطور تاکید لغیر الحق کا لفظ ذکر کیا گیا جیسا کہ رب احکم بالحق (اے پروردگار حق کے مطابق حکم دیجئے) اس آیت میں بالحق کا لفظ محض تاکید کے لیے ہے یہ مقصد نہیں کہ معاذ اللہ اللہ کے حکم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حق اور ایک ناحق۔ اس لیے کہ حق تعالیٰ شانہ کا حکم ہمیشہ حق پر ہوتا ہے اسی طرح انبیاء اللہ کا قتل بھی ہمیشہ ناحق ہوتا ہے، یہود بےبہبود کے جرم کی شدت بیان کرنے کے لیے بغیر الحق کا لفظ محض تاکید کے لیے بڑھایا گیا حاشا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انبیاء کا قتل کبھی حق ہوتا ہے اور کبھی ناحق، یا بعنوان دیگر اس طرح سمجھئے کہ بغیر الحق سے ظلم اور تعدی مراد ہے، یعنی سوائے ظلم اور تعدی اور سوائے جورو ستم اور سوائے تمرد اور سرکشی کے اور کوئی امر انبیاء کے قتل کا باعث نہ تھا۔ حضرات انبیاء نے تو ان کو حق کی دعوت دی اور نصیحت اور فلاح دارین کی طرف بلایا اور ان لوگوں نے ان کا ناحق مقابلہ کیا۔
خلاصہ یہ کہ یہ لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور یغمبروں کو قتل کرتے تاکہ رشد وہدایت کا سلسلہ ہی منقطع ہوجائے اور فیض عام کا دروازہ ہی بند ہوجائے۔ اسی لیے ذلت ومسکنت اور غضب الٰہی کے مورد بنے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زائد سخت عذاب والا قیامت کے دن وہ شخص ہوگا کہ جس کو کسی نبی نے قتل کیا یا اس نے کسی نبی کو قتل کیا یا کسی گمراہی کا پیشوا یا تصویر بنانے والا (مسند احمد)
: عبداللہ بن عباس اور حسن بصری ؓ ما فرماتے ہیں جن پیغمبروں کو حق جل شانہ نے کافروں سے جہاد اور قتال کا حکم دیا انہی سے دشمنوں کے مقابلہ پر فتح ونصرت کا وعدہ کیا۔ کما قال تعالیٰ ۔ انا لننصر رسلنا وہ پیغمبر صدق اللہ وعدہ ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ کے مصداق بنے وہ کبھی دشمنوں کے ہاتھ سے مقتول نہیں ہوئے اس لیے کہ حق جل شانہ کا ان کو جہاد کا حکم دینا پھر ان کی صیانت اور حفاظت نہ فرمانا بظاہر شان حکمت کے مناسب نہیں معلوم ہوتا، ایسے ایسے حضرات ہمیشہ مظر ومنصور اور ان کے دشمن ہمیشہ خائب و خاسر ہوئے اور جن پیغمبروں کو جہاد و قتال کا حکم نہیں دیا گیا اور نہ ان سے حق جل وعلا نے کوئی عصمت اور نصرت کا وعدہ فرمایا ان میں سے جس کو چاہا جام شہادت پلایا۔
نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
تاکہ ان کے مدارج اور مراتب میں عزت اور وجاہت میں اور قربت الٰہی اور رفعت شان میں اضافہ ہو۔ اور ان کے دشمنوں پر ذلت اور مسکنت خواری اور رسوائی گدائی اور بینوائی کی مہر لگے کذافی روح البیان وجامع الاحکام للا مام القرطبی ص 432 ج 1
(حاشیہ : قال ابن عباس والحسن لم یقتل قط من الانبیاء الا من لم یومر بقتال وکل من امر بقتال نصر وظھر انہ لا تعارض بین قولہ تعالیٰ ویقتلون النبیین بغیر الحق وقولہ تعالیٰ انا لننصر رسلنا وقولہ تعالیٰ ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین 12 روح البیان ص 103 ج 1 جامع لاحکام القرآن للقرطبی)
ذلک بما عصو وا وکانوا یعتدون۔ یہ یعنی آیات الٰلیہ کی تکذیب اور انبیاء اللہ کے قتل کی جراءت اور دلیری ان میں اس طرح پیدا ہوئی کہ وقتاً فوقتاً اللہ کی نافرمانیاں کی اور حدود الٰہیہ سے تجاوز کرتے رہے نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ معصیت اور نافرمانی دلوں میں راسخ ہوگئی اور اس نے آیات الٰہیہ کی تکذیب اور انبیاء اللہ کے قتل پر آمادہ کردیا لیکن اب بھی اگر تم صمیم قلب سے ایمان لے آؤ تو تو بہ کا دروازہ ابھی کھلا ہوا ہے توبہ کرلینے سے تمہارا ہر قسم کا کفر اور پیغمبروں کے قتل کرنے کا جرم بھی معاف ہوسکتا ہے اگر یہ چاہتے ہو کہ ذلت سے نکل کر عزت میں آجاؤ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کفر سے توبہ کرو اور ایمان اور عمل صالح اختیار کرو۔ وللہ العزۃ ولرسولہ ولل مومنین۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 2:62ذلت سے نکلنے اور عزت میں داخل ہونیکا طریقہ
قال تعالیٰ ان الذین امنوا والذین ھادو ا۔۔۔ الی۔۔۔ ولاھم یحزنون
تحقیق وہ لوگ کہ جو ایمان لائے پہلے انبیاء پر یا وہ لوگ جو محض زبان سے مسلمانوں کو دیکھہ دینے کے لیے ایمان کے مدعی بن اور دل سے اس دین کو سچا نہیں سمجھتے اور وہ لوگ کہ جو یہودی ہوئے جن کی قباحتیں حد سے گزر چکی ہیں یہاں تک کہ جسم حیوانی میں خداوند قدوس کے حلول کے قائل ہوئے۔ اور خدا کے بعض نبیوں کو قتل کیا اور زنا اور جادو کی تہمت ان پر لگائی اور نصاریٰ جنہوں نے حضرت مسیع بن مریم کو خدا بنایا اور فرقۂ صائبین بےدین لوگ جنہوں نے کواکب کی پرستش کی باوجود ان شنائع اور قبائح کے اور باوجود حق سے بعید ہوجانے کے جو شخص بھی ان میں سے اخلاص کے ساتھ اللہ پر بغیر تشبیہ اور بغیر تعطیل اور بغیر تشریک اور تجسیم کے اور روز آخرت پر ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اس کے لیے خدا کے یہاں ثواب اور اجر ہے، اور نہ ان پر کسی قسم کا خوف ہے اور نہ ڈر ہے یعنی اس سے نہ ڈریں کہ گزشتہ کفر نقصان اجر کا باعث ہوگا اس لیے کہ الاسلام یھدم ما کان قبلہ۔ اسلام لانا ان تمام گناہوں کو ڈھا دیتا ہے جو اسلام لانے سے پیشتر کیے جاچکے ہیں اور نہ وہ غم کھاویں کہ افسوس ہماری تمام زندگی یوں ہی ضائع اور برباد گئی۔ اعمال صالحہ سے گزشتہ کی تلافی ہوجائے گی۔
خلاصۂ مطلب یہ کہ کسی فرقہ کی تخصیص نہیں جو بھی ایمان لے آئے وہ عذاب الٰہی سے نجات پا جائے گا۔
اور بعض مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ ان الذین امنوا سے وہ لوگ مراد ہیں جو ظاہراً رسول اللہ ﷺ پر زبانی ایمان لائے عام اس سے کہ ایمان دل میں داخل ہوا یا نہیں اس تقدیر پر اس میں منافقین بھی داخل ہوں گے اور اخیر آیت من امن منھم میں اخلاص کے ساتھ ایمان لانا مراد ہوگا لہذا ایمان کا ذکر آیت میں مکرر نہ ہوگا۔
تنبیہ : آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فقط اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانا نجات کے لیے کافی ہے انبیاء اور ملائکہ وغیر پر ایمان لانا ضروری نہیں۔ قرآن کریم کی صدہانصوص اس بات پر صراحۃً دال ہیں کہ جو شخص نبایء اور ملائکہ کا انکار کرے وہ قطعاً کافر ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ سلسہ ایمان میں جن جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے اول سے آخرت تک سب پر ایمان لائے چونکہ سلسلۂ ایمان کی ابتداء اللہ سے ہوتی ہے اور انتہاء آخرت پر ہے اس لیے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کی تخصیص کی گئی۔ جیسا کہ رب المشارق والمغارب میں ابتداء اور انتہاء کو ذکر کرکے تمام سلسلہ مراد ہے، نیز اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانا اس وقت تک ممکن نہیں کہ جب تک انبیاء اور ملائکہ اور صحف سماویہ پر ایمان نہ لائے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور آخرت کے احوال کی معرفت کا ذریعہ انبیاء اور صحف الٰہیہ ہی ہیں اور وحی اور صحیفہ ربانی کا نزول فرشتہ کی وساطت سے ہوتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ ایمان باللہ اور ایمان بیوم الاخرت موقوف ہے ایمان بالانبیاء اور ایمان بالملائکہ اور ایمان بالکتب پر اس یے ان تین چیزوں پر ایمان لانے کو علیحدہ بیان نہیں کیا گیا۔
: صائبین ایک فرقہ ہے کہ جو کسی آسمانی دین اور شریعت کا قائل نہیں خدا اور بندہ کے درمیان میں روحانیات کو واسطہ قرار دیتے ہیں کہ بندہ کو جو فیض بھی حاصل ہوتا ہے وہ روحانیات کے واسطہ سے ہوتا ہے نبوت و رسالت کے سرے سے قائل نہیں۔ کہتے ہیں کہ پیغمبروں کی کوئی حاجت تفصیل اگر درکار ہو تو تفسیر ابن کثیر وغیرہ کا مطالعہ فرمائی۔
علامہ شہرستانی نے اپنی ملل ونحل میں حنفاء اور صائبین کا ایک مناظرہ ذکر فرمایا ہے جو قابل دید ہے اس ناچیز نے اپنے " علم الکلام " میں اس کا ترجمہ بھی کیا ہے جو بحمدہ تعالیٰ شائع ہوچکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ صائبین کے بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کا مذہب کیا ہے۔
1 ۔ قول اول مجاہد اور حسن بصری فرماتے ہیں کہ صائبین ایک قوم اور فرقہ ہے جس کا دین یہودیت اور مجوسیت سے مل کر بنا ہے۔
2 ۔ قول دوم : قتادہ کہتے ہیں کہ وہ ایک قوم ہے جو فرشتوں کی عبادت کرتی ہے اور سورج کی طرف منہ کر کے روزانہ پانچ نمازیں پڑھتی ہے اور قتادہ سے یہ بھی منقول ہے کہ دین پانچ ہیں جس میں سے چار تو شیطان کے لیے ہیں اور ایک دین رحمن کے لیے سو صائبین جو فرشتوں کو پوجتے ہیں اور مجوس جو آتش پرست ہیں اور مشرکین جو بتوں کو پوجتے ہیں اور اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ ۔ ان سب فرقوں کے دین شیطان کے لیے ہیں۔
3 ۔ قول سوم : صائبین وہ گروہ ہے جو ستاروں کی عبادت کرتے ہیں امام رازی فرماتے ہیں کہ یہی قول اقرب الی الصواب ہے اور اس فرقہ کے دو عقیدے ہیں ایک تو یہ کہ خالق عالم تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اس نے حکم دیا ہے کہ ان ستاروں کی تعظیم کی جائے اور ان کو نماز اور دعا کا قبلہ ٹھہرایا جائے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے افلاک اور کواکب کو پیدا کیا پھر تمام عالم کے خیر وشر۔ صحت ومرض کے مدبر یہی کواکب ہیں اور یہی ان سب چیزوں کے خالق ہیں اس لیے بشر پر ان کی تعظیم اور عبادت فرض ہے کیونکہ عالم کے الٰہ اور معبود یہی ہیں اور یہی عالم کے مدیر ہیں۔ پھر یہ کواکب اللہ کی عبادت کرتے ہیں کیدانیوں کا یہی مذہب تھا جن کے رد اور ابطال کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ (تفسیر کبیر ص 381 ج 1) امام قرطبی فرماتے ہیں کہ صائبین کے مذہب کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ موحد تھے مگر تاثیر نجوم کے قائل تھے اسی وجہ سے جب خلیفہ قادر باللہ نے صائبین کے متعلق۔ ابو سعید اصطخری سے دریافت کیا ابو سعید نے ان کے کفر کا فتویٰ دیا (تفسیر قرطبی ص 435 ج 1)
اور اہل لغت اس شخص کو صابی کہتے ہیں جو ایک دین سے خارج ہو کر دوسرے دین میں داخل ہوگیا ہو اسی واسطے اہل عرب مسلمانوں کو صابی کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ آبائی دین چھوڑ کر ایک نئے دین یعنی دین اسلام میں داخل ہوگئے اور اس فرقہ کو صائبین کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دین موسوی اور دین عیسوی سے نکل کر فرشتوں اور کواکب کی عبادت میں مشغول ہوگئے تھے۔ مولانا عبدالحق صاحب تفسیر حقانی ص 190 ج 1 لکھتے ہیں صابی ایک قدیم فرقہ تھا حضرت ابراہیم کے عہد میں اس فرقہ کا بڑا زور تھا۔ شہر بابل اور نینوی کے لوگ بھی یہی مذہب رکھتے تھے یہ معلوم نہیں کہ اس گروہ کی ابتداء کب سے ہوئی اس کا اعتقاد تھا کہ خدا تعالیٰ جو ہر مجرد ہے بندہ کی جو مادی ہے کسی طرح رسائی ممکن نہیں اس کی پرستش اس کے مظاہر کی پرستش ہے پھر اس کے دو گروہ ہوگئے ایک وہ جو ستاروں اور آفتاب اور ماہتاب اور عناصر کی پرستش کرتے تھے دوم وہ جو اصنام کو رب کا مظہر سمجھ کر پوجتے تھے اس لیے یونان میں زہرہ وغیرہ ستاروں کے نام کے معبد بنے ہوئے تھے۔ پھر آگے چل کر اور بہت سی شاخیں ہوگئیں۔
ایران کے آتش پرست اور ہندوستان کے قدماء وید ماننے والے بھی اسی گروہ کی شاخ ہیں۔ پھر ہر ملک میں اور ہر زمانہ میں اس مذہب نے ایک نیارنگ بدلا اور نیا نام پیدا کیا۔ انتہی کلامہ۔
Ayahs 2:63–64شناعت دوم
قال تعالیٰ واذ اخذنا میثاقکم۔۔۔ الی۔۔ ورحمتہ لکنتم من الخسرین
(ربط) گزشتہ آیات میں ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے اجر کا وعدہ فرمایا اب یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رغبت اور خوشی سے احکام خداوندی پر عمل کرنا محبین اور مخلصین کا کام ہے۔ بنی اسرائیل کا حال تو یہ ہے کہ جب تک ان پر تشدد اور سختی نہ کیا جائے اس وقت تک وہ عمل نہیں کرتے۔ نیز گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے جس استبدال کا ذکر تھا وہ نافرمانی کا آغاز تھا اب ان آیات میں ان کی اس نافرمانی کا ذکر ہے جو ان سے علانیہ طور پر ظاہر ہوئی۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا کہ ہم کو کوئی کتاب عطاء کی جائے جس میں عبادت اور بندگی کے طریقے مذکور ہوں تو ہم ضرور اس پر عمل کریں گے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حق تعالیٰ نے توریت نازل فرمائی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ توریت کو قبول کریں اور اس کے احکام پر عمل کریں۔ بنی اسرائی نے بعض احکام شاقہ کی وجہ سے قبول کرنے سے صاف انکار کردیا اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک پہاڑ لا کر ان کے سروں پر قد آدم اونچا کھڑا کردو جبرئیل نے حکم الٰہی کے مطابق پہاڑ ان کے سروں پر لا کھڑا کردیا اور یہ کہا اگر تم تورات کو قبول نہ کروگے تو یہ پہاڑ تم پر چھوڑ دیا جائے گا۔ (معالم التنزیل)
بنی اسرائیل فوراً سجدہ میں گر گئے اور توریت پر عمل کرنے کا اقرار کیا۔ اس آیت میں حق جل شانہ نے اسی واقعہ کو یاد دلایا ہے کہ اے بنی اسرائیل تم اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم سے توریت پر عمل کرنے کا پختہ عہد لیا۔ اور اٹھایا تم پر کوہ طور کو تاکہ تم توریت کو قبول کرو یعنی مضبوط پکڑو تم اس چیز کو جو ہم نے تم کو عطاء کی یعنی توریت اس کو مضبوطی اور قوت کے ساتھ پکڑو اور فقط ظاہر توریت پر عمل کرنے پر اکتفاء مت کرو بلکہ جو توریت میں ہے اس کو بار بار کرو اور اس کے اسرار اور فوائد میں غور اور فکر کرو شاید تم دنیا اور آخرت کے عذاب سے بچ جاؤ۔ اور مقام تقویٰ تم کو حاصل ہوجائے۔
: بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار اس کی درخواست کی کہ آپ اللہ سے استدعا کیجئے کہ ہم کو کوئی ایسی کتاب عطاء فرمائے جو احکام الٰہیہ کی جامع ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے اس کا پختہ عہد لیا کہ جب وہ کتاب عطاء ہو تو ضرور اس پر عمل کرنا اگرچہ اس کے احکام تمہاری نفسانی خواہشوں کے خلاف ہوں۔ بنی اسرائیل نے اقرار کیا کہ ہم ضرور اس پر عمل کریں گے جب اللہ تعالیٰ نے توریت عطاء فرمائی تو اس کے قبول کرنے سے اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہونے سے سرتابی کی اس عہد شکنی سے باز رکھنے کے لیے کوہ طور کو ان کے سروں پر لا کر کھڑا کردیا گیا۔ پہاڑ کا ان کے سروں پر لا کر کھڑا کردینا ایمان لانے پر مجبور کرنے کے لیے نہ تھا اس لیے کہ ایمان تو وہ پہلے ہی سے لا چکے تھے۔ فقط نقض عہد سے روکنے کے لیے تھا جیسے مسلمانوں پر حدود اور قصاص اور تعزیرات کا قائم کرنا از قبیل اکراہ نہیں بلکہ زنا اور سرقہ اور شرب خمر۔ خونریزی اور رہزنی اور اس قسم کے تمام فواحش سے روکنے کے لیے ہے ہاں اگر پہاڑ کا معلق کرنا دین قبول کرنے کے لیے ہوتا تب آیت لا اکراہ فی الدین کے خلاف ہوتا۔ پہاڑ کا سر پر لا کھڑا کرنا محض عہد شکنی اور بد عہدی اور ایک نا شایستہ حرکت سے روکنے کے لیے تھا نہ کہ دین قبول کرنے کے لیے۔
ثم تولیتم من بعد ذلک فلولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لکنتم من الخسرین۔ تم نے پھر اس کے بعد بھی روگردانی کی۔ یعنی پھر تم ان تاکیدوں اور پختہ عہدوں کے بعد بھی احکام توریت سے منحرف ہوگئے پس اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔ تمہاری بد عہدی اور عہد شکنی کا اقتضا تو یہ تھا کہ تم کو فوراً عذاب سے ہلاک کردیا جاتا مگر اس کے فضل اور رحمت نے تم کو عذاب سے بچایا اور تم کو توبہ اور استغفار کے لیے مزید مہلت دی اور اب تک توبہ کا دروازہ کھول رکھا ہے لہذا نبی آخر الزمان کی متابعت کی سعادت حاصل کرو اور اگر تم اس نبی آخر الزمان پر ایمان نہ لائے اور کفر پر مرگئے تو پھر اس خسران اور نقصان کی تلافی کا کوئی امکان نہیں رہے گا۔ توریت میں جو تم سے نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کا عہد لیا جاچکا ہے اس کو پورا کرو ورنہ تم بھی عہد شکنی کرنے والوں میں شامل سمجھے جاؤ گے اور عہد شکنی کی سزا کے مستحق ہوگے۔ آئندہ آیت میں بطور نظیر حکم شریعت سے انحراف کے دنیوی زبان اور نقصان کو بیان فرماتے ہیں کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ پہلے لوگوں نے ہفتہ کے بارے میں توریت کے حکم سے عدول کیا اور پیغمبر کی متابعت سے انحراف کیا سوائے مسخ اور لعنت کے کیا ملا۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔