Ayahs 2:165–171استعجاب واستبعاد براتخاذ انداد بعد واضح شدن وحدانیت رب عباد۔
قال تعالی، ومن الناس من یتخذ۔۔۔ الی۔۔۔ العذاب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اہل عقل اور اہل نظر کا بیان تھا اب اس آیت میں بدعقلوں کا بیان ہے کہ جب اللہ کی واحدانیت اور اس کی رحمانیت کے دلائل اظہر من الشمس ہیں تو عقل کا مقتضی یہ تھا کہ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے مگر حد آدمیت اور دائرہ انسانیت سے باہر ہیں کہ اللہ کے سوا جو کہ منعم حقیقی ہے ایسے ہم سر اور شریک بناتے ہیں جو خداوندذوالجلال سے اس درجہ فروتر اور کمتر ہیں کہ خدا سے کوئی نسبت نہیں رکھتے دلائل اور براہین سے تو یہ ثابت ہے کہ اللہ کا ایک بھی شریک اور ہمسر نہیں ہوسکتا اور یہ لوگ اس درجہ بےعقل ہیں کہ ایک شریک اور ایک ہم سر پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ خدا کے لیے بہت سے شرکاء اور ہم سربناتے ہیں اور خدا کے مثل اور برابر ان کو محبوب رکھتے ہیں اور خدا کی طرح ان کی تعظیم اور اطاعت کرتے ہیں اور خدا کے حکم کی طرح ان کے حکموں کو بےچون وچرا واجب الاطاعت سمجھتے ہیں اور ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ خالق اور مخلوق کی محبت اور اطاعت میں فرق ہونا چاہیے اس لیے اہل ایمان اگرچہ بعض چیزوں کو شرعا اور طبعا محبوب رکھتے ہیں مگر اس درجہ محبوب نہیں رکھتے کہ ان کو خدا کے برابر کردیں بلکہ وہ اللہ کی محبت میں بہت سے سخت اور محکم ہیں اس لیے کہ دنیا میں جو بھی فضل و کمال یا جود نوال ہے اس کا منبع اور سرچشمہ خداوندذوالجلال ہے اور مخلوق اس کا عکس اور پر تو ہے اس لیے اہل ایمان خالق کو بالذات محبوب اور مخلوق کو بالعرض محبوب رکھتے ہیں اس لیے کہ محبت، محبوب کی عزت اور کمال کے مطابق ہوتی ہے اور عزت اور کمال اور جو دونوال میں سے خدا سے بڑھ کر کوئی نہیں وہی منعم حقیقی ہے اس لیے راحت اور شدت، بیماری اور تندرستی، شادی اور غمی کسی حال میں بھی اہل ایمان کی محبت اللہ سے کم نہیں ہوتی بخلاف مشرکین کے کہ جب اپنے معبودوں سے ناامید ہوجاتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں، فاذا رکبو فی الفلک دعواللہ مخلصین لہ الدین۔ آیت۔ اور اگر یہ ظالم لوگ جنہوں نے خدا کا شریک اور ہمسر بنا کر اپنی جانوں پر ظلم وستم کیا اس آنے والے وقت کو دیکھ لیں کہ جس وقت ان کو عذاب الٰہی کا مشاہدہ ہوگا تو ان کو خوب معلوم ہوجائے کہ سارازور اللہ ہی کا ہے اور تمام کائنات ضعیف اور عاجز ہے اور سب اللہ کے قہر اور غلبہ کے نیچے دبے ہوئے ہیں سوائے اس کے کوئی بھی نفع اور ضرر کا مالک نہیں اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب بہت سخت ہے کوئی بت اور کوئی معبود کسی کو اللہ کے عذاب سے نہیں چھڑا سکتا۔
Ayahs 2:172–173خطاب خاص بہ اہل اختصاص۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو کلوا من طیبات۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں خطاب عام تھا اور اس آیت میں خاص اہل ایمان کو خطاب ہے اشارہ اس طرف ہے کہ ایمان اور محبت خداوندی کا اقتضاء یہ ہے کہ خدا کے رزق کو کھاؤ اور شکر کرو کلو من رزق ربکم وشکرولہ۔ آیت۔ نعمت کے استعمال سے منع کی محبت پیدا ہوتی ہے اور شکر کرنے سے نعمت میں زیادتی ہوتی ہے نیز احادیث سے ثابت ہے کہ اکل حلال سے دعا اور عبادت قبول ہوتی ہے اور اکل حرام سے دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی اکل حلال سے مسجاب الدعوات ہوجاتا ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو ایمان اور محبت کا یہ مقتضی نہیں کہ تم اپنے خیال سے لذید اور پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان کو رغبت سے کھاؤ عاشق تو معشوق کے ہاتھ کی دی ہوئی تلخ چیز کو بھی شیریں سمجھ کر کھاتا ہے تو ہمارے رزق کو اس خیال سے کھاؤ کہ ہم نے تم کو یہ رزق دیا ہے اسباب اور وسائط کو محض پردہ سمجھو اصل مالک اور معطی ہم ہیں عطیہ کے ساتھ بےرغبتی معطی کے ساتھ بےرغبتی کو موہم ہے لہذا منعم حقیقی کی طرف سے جو نعمت آئے اس کو بصد شوق ورغبت استعمال کرو تاکہ منعم تم سے راضی ہوجائے اور یہ مت سمجھو کہ پاکیزہ چیزوں کے استعمال سے حظ نفس میں گرفتار ہوجائیں گے جو عبادت سے غفلت کا سبب بنے گا اس کی تدبیر یہ کرو کہ تم اللہ کا شکر کرو تاکہ تمہاری یہ لذت عین عبادت بن جائے کیونکہ پاکیزہ رزق کھانے سے اللہ کی محبت پیدا ہوگی اور محبت سے شکر نکلے گا اور شکر ایک عظیم عبادت ہے جس سے اللہ کی نعمت اور غایت میں زیادتی ہوتی ہے اور اس طرح تم لذت کو عبادت بناسکتے ہو اور اگر تم خالص اللہ کی عبادت کرتے ہو تو اپنے خیال کو اس میں دخل نہ دو اس لیے کہ عبادت سے مقصود رضاء حق ہے وہ جس طرح بھی حاصل ہو۔
چوں طمع خواہد زمن سلطان دیں خاک برفرق قناعت بعد ازیں۔
الغرض پاکیزہ چیزوں کا کھانا ایمان اور محبت کے منافی نہیں البتہ حرام چیزوں کا استعمال اللہ کی ناراضی اور اس سے دوری کا سبب ہے چناچہ فرماتے ہیں جزایں نیست کہ اللہ نے تم پر صرف ایسی چیزوں کو حرام فرمایا جو جسمانی اور روحانی حیثیت سے تمہارے لیے مضر ہیں ایک مردار کو جو خود بخود مرگیا ہو یا شرعی طریقہ سے ذبح نہ کیا گیا ہو اور بہتے ہوئے خون کو اور خنزیر کے گوشت کو کیونکہ یہ جانور حرص اور بےحیائی اور بےغیرتی اور نجاست خوری میں مشہور ہے جو قومیں خنزیر کھاتی ہیں ان سے حیا اور عزت وناموس رخصت ہوجاتی ہے نیز یہ جانور انسان کے فضلہ کو بہت رغبت کے ساتھ کھاتا ہے اور فضلہ انسانی خنزیر کی خاص خوراک ہے اور اس کو گوشت پوست زیادہ تر فضلہ انسانی سے پیدا ہوتا ہے لہذا خنزیر کا گوشت کھانا گویا کہ اپنا ہی فضلہ کھانا ہے اور اس لیے اللہ نے اس کی نسبت فرمایا فانہ رجس۔ یعنی یہ نجس العین ہے۔ اور حرام کیا اللہ نے اس جانور کو جو بقصد تقرب غیر اللہ کے نام زد کردیا گیا ہو جس جانور کی جان کو اللہ کے سوا کسی بت یا کسی نبی یا ولی کی روح کے لیے نذر کردیا جائے اور ان کی رضا خوشنودی کے لیے اس کو ذبح کیا جائے تو اس جانور کا کھانا حرام ہے اگرچہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو اس لیے کہ جانور کی جان صرف اللہ کی ملک ہے آدمی کی ملک نہیں کہ دوسرے کو بخش دے اس لیے جانور کی جان کو غیر اللہ کے نامزد کرنا صریح شرک ہے اور ظاہر ہے کہ شرک کی نجاست اور گندگی تمام نجاستوں سے زیادہ سخت ہے لہذا جو جانور غیر اللہ کے نام زد کردیا جائے تو اس شرک کی نجاست اور خباثت اس جانور میں اس درجہ سرایت کرجاتی ہے کہ اگر ذبح کے وقت اللہ کا نام بھی لیاجائے تب بھی وہ جانور حلال نہیں ہوتا جیسے کتا اور سور خدا کا نام لے کر ذبح کرنے سے بھی حلال نہیں ہوتا آخر مردار اسی وجہ سے تو حرام ہے کہ اس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا لہذا جو جانور غیر اللہ کے نام زد کردیا جائے وہ بدرجہ اولی حرام ہوگا البتہ اگر غیر اللہ کے نامزد کرنے کے بعد ذبح سے پہلے ہی اپنی اس فاسد نیت سے توبہ کرلے اور اس ارادہ فاسد سے رجوع کرلے تو پھر وہ جانور اللہ کے نام پر ذبح کرنے سے حلال ہوجاتا ہے حدیث شریف میں آیا ہے، لعن اللہ من ذبح لغیر اللہ۔ اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جو غیر اللہ کی تعظیم اور تقریب کی نیت سے جانور ذبح کرے۔ لغیر اللہ کے معنی یہ ہیں کہ نیت غیر اللہ کی ہو خواہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لے یا نہ لے اسی طرح مااھل بہ لغیر اللہ کے معنی یہ ہیں کہ جو جانور غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو جس سے مقصود غیر اللہ کی تعظیم ہو وہ حرام ہے خواہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو یا نہ لیا گیا ہو یہ لفظ قرآن کریم میں چار جگہ آیا ہے اور سب جگہ مااھل بہ لغیر اللہ فرمایا اور کسی جگہ یہ نہیں فرمایا ماذبح باسم غیر اللہ کہ غیر اللہ کا نام پر ذبح کیا گیا ہو غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کرنا اور ہے اور غیر اللہ کے تقرب اور رضاحاصل کرنے کے لیے ذبح کرنا اور ہے اور ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے لغیر اللہ اور باسم غیر اللہ کا فرق معمولی استعداد والوں پر بھی مخفی نہیں اہلال کے لغوی معنی عربی زبان میں شہرت اور آواز دینے کے ہیں لفظ اہلال لغت عرب میں ذبح کے معنی میں نہیں آتا چناچہ سورة مائدہ میں مااھل لغیر اللہ کے بعد ماذبح علی النصب کو علیحدہ ذکر فرمایا معلوم ہوا کہ اہلال لغیر اللہ اور شے ہے اور ذبح لغیر اللہ اور شے ہے۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ اللہ نے آیت مااھل بہ لغیر اللہ کی تفسیر میں 45 صفحہ پر ایک طویل مکتوب تحریر فرمایا ہے جو فارسی میں ہے اور عجیب و غریب حقائق ومعارف پر مشتمل ہے اس وقت ہم اس کا خاص اور اہم اقتباس ہدیہ ناظرین کرتے ہیں، وھو ھذا۔ حلت اور حرمت کا دارومدار نیت پر ہے اور ذکر لسانی اس نیت قلبی کا ترجمان ہے اس لیے بغیر ذکر لسانی نیت قلبی کی اطلاع ناممکن ہے حدیث میں ہے، انماالاعمال بالنیات۔ عمل کی حقیقت یہی نیت قلبی ہے اور حرکات خاصہ صورت میں عمل ہیں اگر عمل ہے اور نیت نہیں تو جسم بےجان ہے اور کسراب بقیعۃ یحسبہ الظمان ماء۔ آیت۔ کا مصداق ہے معلوم ہوا کہ حلت اور حرمت کی علت ذبح کے وقت فقط زبان سے اللہ یا غیر اللہ کا نام لینا نہیں بلکہ حلت کی اصل علت خاص اللہ کی نیت ہے اور حرمت کی اصل علت غیر اللہ کی نیت ہے اور یہ آیت فکلوا مماذکراسم اللہ علیہ ان کنتم بایاتہ مومنین۔ آیت۔ میں فقط ذکر لسانی مراد نہیں اس لیے کہ اصل ذکر اور ذکر حقیقی وہ ذکر قلبی ہے اور ذکر لسانی کو اس لیے ذکر کہا جاتا ہے کہ وہ ذکر قلبی کا ترجمان ہے اس لے کہ اگر کوئی شخص دل سے کسی کی یاد میں محو ہو اور زبان سے ساکت ہو تو وہ ذاکر سمجھا جاتا ہے لیکن اگر زبان سے کسی کا نام لے اور دل میں کوئی اور بسا ہوا ہو تو حقیقت شناس لوگوں کے نزدیک یاد کرنے والوں میں اس کا شمار نہیں ہوسکتا نیت قلبی ایمان کی طرح باطنی ہے اور ذکر لسانی کلمہ شہادت کی طرح اس کا ترجمان ہے کلمہ شہادت کو ایمان کی حقیقت نہیں کہا جاسکتا ورنہ لازم آئے گا کہ مومن کلمہ اسلام کے تلفظ کے وقت مومن ہو اور اس تلفظ سے پہلے مومن نہ ہو اس طرح جس شخص نے کسی جانور کے متعلق نیت تو غیر اللہ کی کی اور اس جانور کو غیر خدا کے لیے تجویز کیا مگر ذبح کے وقت زبان سے نام اللہ کا لیا تو اس کا اعتبار نہ ہوگا اس لیے کہ تقرب غیر اللہ کی نیت کے بعد ذبح کے وقت محض زبان سے اللہ کا نام لیناعمل بےروح ہے۔
مشرکین عرب نیت بھی غیر اللہ ہی کی کرتے تھے اور ذبح کے وقت بھی نام غیر اللہ کا ہی لیتے تھے اور مومنین مخلصین نیت بھی خاص اللہ ہی کی کرتے تھے اور نام بھی خاص اللہ ہی کا لیتے تھے اور مبتدعین نیت تو غیر اللہ کی اور ذبح کے وقت نام لیتے ہیں اللہ کا یہ بین بین صورت شرک بھی ہے اور نفاق بھی ہے کہ صورت توحید کی ہے اور معنی شرک کے ہیں اس تیسری قسم کا مصداق اس امت کے مشرک ہیں، ومایومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون۔ آیت۔ اول دو صورتوں میں ظاہر اور باطن میں کوئی تخالف نہیں اس لیے کہ اس کا حکم ظاہر ہے اور اس تیسری صورت میں ظاہر اور باطن میں تخالف ہے اس لیے کہ باطن میں نیت تو ہے غیر اللہ کی اور ظاہر میں ذبح کے وقت نام ہے اللہ کا، اس لیے اعتبار ظاہر کانہ ہوگا ایسا جانور اگرچہ ظاہر میں فکلو مماذکراسم الہ علیہ۔ کی قسم سے معلوم ہوتا ہے لیکن باطن اور حقیقت میں لاتاکلوا ممالم یذکراسم اللہ علیہ۔ کے قبیل سے ہے جس کا مقتضی صریح ممانعت اور حرمت ہے ذکر لسانی کو اگر حلت اور حرمت میں داخل ہے تو باعتبار صورت کے ہے اور مرتبہ ثانیہ میں ہے اور ذکر پنہانی اور نیت اندرونی کو باعتبار حقیقت کے مرتبہ اولی میں داخل ہے یہ ناممکن ہے کہ حلت و حرمت میں ذکر لسانی کو تو دخل ہو اور ذکر پنہانی کو اس میں دخل نہ ہو پس جس جانور میں نیت غیر اللہ کی ہو اور ذبح کے وقت اللہ کا نام لیاجائے تو اس کی حقیقت تو دوسری قسم کی ہوگی اور صورت دوسری قسم کی ہوگی اور جب صورت اور حقیقت میں تعارض اور تخالف ہو تو ترجیح حقیقت کو ہوگی۔ نیز جان کی نذر اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے غیر اللہ کے لیے جان کی نذر جائز نہیں اور اگر بالفرض جان کی نذر غیر اللہ کے لیے جائز ہوتی تو قربانی من جملہ عبادات کے نہ ہوتی اور قربانی اور غیر قربانی کے احکام نیت کے فرق پر مبنی ہیں۔ بطور احتمال عقلی یہاں ایک چوتھی قسم اور بھی نکل سکتی ہے جو اس قسم ثالث کا بالکل عکس ہے وہ یہ کہ نیت تو ہے خاص اللہ کے لیے نذر کی مگر ذبح کے وقت نام لیاجائے غیر اللہ کا یہ قسم آج تک کبھی وجود میں نہیں آئی محض احتمال عقلی کا درجہ ہے وجود نفس الامری سے اس کو کوئی حصہ نہیں ملا نیز جاننا چاہیے کہ آیت شریفہ مااھل بہ لغیر اللہ میں اہلال باعتبار زمانہ کے عام ہے وقت ذبح کے ساتھ مخصوص اور مقید نہیں اور جن حضرات نے عندالذبح زیادہ فرمایا ہے اور ان کی مراد تقیید اور تخصیص نہیں بلکہ یہ لفظ اس لیے زیادہ کیا ہے کہ نیت سابقہ کا علم اور ظہور ذبح کے وقت ہوتا ہے اگر اللہ کے تقرب کی نیت ہے تو ذبح کے وقت اللہ کا نام لے گا اور اگر غیر اللہ کی نیت کی ہے تو ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لے گا نزول آیت کے زمانہ میں غیر اللہ کی نذر اور اللہ کی نذر میں امتیاز اور فرق اسی طرح ہوتا تھا کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا تو معلوم ہوا کہ یہ نذر اللہ کے لیے ہے اور غیر اللہ کا نام لیا تو معلوم ہوا کہ یہ نذر غیر اللہ کے لیے ہے اور مشرکین امت کی یہ تیسری قسم کہ نیت تو ہو غیر اللہ کی اور ذبح کے وقت نام ہو اللہ کا یہ قسم اس زمانہ میں موجود نہ تھی یہ شرک اور توحید کا معجون مرکب بعد میں نمودار ہوا یہ بین بین قسم اگر ظاہر اور صورت کے اعتبار سے جائز ہوگی تو باطن اور حقیقت کے اعتبار سے ناجائز ہوگی حاصل یہ کہ عندالذبح کی قید اس زمانے کے دستور کی طرف اشارہ کے لیے ہے احترازی قید نہیں عندالذبح کی قید اس لیے ذکر فرمائی کہ اشارہ اس طرف ہے کہ اگر کسی نے حیوان کو غیر اللہ کے نام زد کیا اور غیر خدا کے تقرب کی نیت کی تو اس جانور کی حرمت اس شرط پر موقوف ہے کہ اس کی یہ نیت ذبح کے وقت تک باقی رہے اور اگر ذبح سے پہلے اس نیت فاسدہ سے توبہ کرلے اور اللہ کے نام پر ذبح کرے تو پھر یہ جانور حرام نہ رہے گا بلکہ حلال ہوجائے گا غرض یہ کہ عندالذبح کی قید نیت اور فعل ذبح میں مقارنت اور اتصال کے بیان کرنے کے لیے ہے اور تبدل نیت اور تغیر ارادہ سے احتراز کے لیے ہے اگر غیر اللہ کی نیت فعل ذبح کے ساتھ متصل اور مقرون ہے تب وہ جانور حرام ہے اور اگر ذبح سے پہلے نیت بدل جائے تو حرمت بھی مبدل بہ حلت ہوجائے گی۔ نیز عندالذبح میں لفظ عند ظرف زمان ہے جو محض اقتران پر دلالت کرتا ہے علیت پر دلالت نہیں کرتا اور حکم حلت و حرمت کا دارومدار علت پر ہے ظرفیت زمانہ اور مکانیہ پر اس کا مدار نہیں اور یہاں حرمت کی علت اہلال لغیر اللہ ہے اور عندالذبح کی قید اہلال اور ذبح میں اقتران بیان کرنے کے لیے ہے یعنی درمیان میں کوئی دوسری نیت فاصل اور متخیل نہیں پس اگر علت یعنی نیت غیر اللہ ابتداء سے اخیر تک یعنی وقت ذبح تک مستمر ہے تو حرمت بھی مستمر ہے اور اگر علت یعنی نیت بدل جائے تو معلول یعنی حرمت بھی بدل جائے گی۔ اور اگر بالفرض یہ تسلیم کرلیاجائے کہ مااہل بہ لغیر اللہ سے صرف وہی جانور مراد ہیں کہ ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیاجائے اور تشہیر سابق اور نیت متقدمہ کو حرمت میں کوئی دخل نہیں تب بھی اثبات حلت کے لیے کافی نہیں اس لیے کہ حرمت فقط مااھل بہ لغیر اللہ میں منحصر نہیں سرقہ اور غصب کا گوشت اور مردار خور جانور کا گوشت بھی حلال نہیں حالانکہ وہ مااھل بہ لغیر اللہ میں داخل نہیں اسی طرح یہ جانور اگرچہ مااہل بہ لغیر اللہ میں داخل نہ ہو تب بھی حلال نہ ہوگا اس لیے کہ فقط غیر اللہ کے تقرب کے نیت حرمت کے لیے کافی ہے، واللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ (ماخوذ از مکتوب سویم از مکاتب قاسم العلوم) ۔
الغرض حق جل شانہ نے ان چیزوں کو حرام فرمایا کہ یہ چیزیں گندی اور ناپاک ہیں ان چیزوں کے استعمال سے انسان کا قلب اور اس کی روح گندہ اور ناپاک ہوجاتی ہے حلال چیزوں کے کھانے سے قلب میں اللہ کی محبت پیدا ہوتی ہے اور حرام چیزوں کے استعمال سے دل سے اللہ کی محبت رخصت ہوجاتی ہے اور قلب میں بجائے اللہ کی اطاعت کے معصیت کی رغبت پیدا ہوجاتی ہے گندگی اور نجاست کا کیڑا گندگی ہی سے زندہ رہتا ہے عطر سونگھ کر زندہ نہیں رہ سکتا لیکن اللہ نے شدید مجبوری کی حالت میں ان چیزوں کی حرمت میں کچھ سہولت اور رخصت عطا فرمائی ہے چناچہ فرماتے ہیں پس جو شخص بھوک سے بہت ہی مجبور اور لاچار ہو اور دل اس کا ان چیزوں کے کھانے سے متنفر اور بےزار ہو پس اگر ایسا شخص ان میں سے کسی چیز کو کھائے بشرطیکہ وہ طالب لذت نہ ہو اور مقدار حاجت سے تجاوز نہ کرنے والا ہو یعنی سدرمق سے زیادہ نہ کھائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اس لیے کہ خبیث اور گندی چیز کا بقدر ضرورت استعمال بحالت مجبوری، کراہت قلب اور دلی نفرت کے ساتھ روح اور قلب کو گندہ نہیں کرتا لیکن آخر گندی چیز تو گندی ہی ہے اس کا کچھ نہ کچھ اثر اور رنگ ضرور آئے گا مگر چونکہ یہ فعل بحالت مجبوری صادر ہوا ہے اس لیے کہ اللہ اس سے مواخذہ نہ فرمائیں گے اس لیے کہ تحقیق اللہ بڑے بخشنے والے ہیں کہ اس ناچاری کی حالت میں جو گندی چیز استعمال کی ہے اس پر مواخذہ نہیں فرمائیں گے اور بڑے مہربان ہیں کہ اس پر بڑا رحم فرمایا کہ اس بےچارگی کی حالت میں کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔
Ayahs 2:174–176ذکر محرمات معنویہ مثل دین فروشی وحق پوشی۔
قال تعالی، ان الذین یکتمون ماانزل اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ لفی شقاق بعید۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں محرمات حسیہ کا بیان تھا ان آیات میں محرمات معنویہ کو بیان کرتے ہیں جو حرمت میں محرمات حسیہ سے بڑھ کر ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ تحقیق جو اہل کتاب میتہ اور خنزیر کی حرمت پر اعتراض کرتے ہیں تعجب ہے کہ یہ لوگ اس علم کو چھپاتے ہیں جس کو اللہ نے مخلوق کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ اس علم کو چھپا کر مخلوق کو گمراہ کررہے ہیں اور پھر اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ اس امانت کی خیانت کے معاوضہ میں دنیا کا معمولی اور حقیر معاوضہ حاصل کررہے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو مال دین کو فروخت کرکے اور حق کو چھپا کر حاصل کیا جائے وہ مردار اور خنزیر سے زیادہ ناپاک ہے ایسے لوگ اپنے شکموں میں سوائے آگ کے کچھ نہیں بھر رہے اور قیامت کے دن اللہ ان لوگوں سے بلاواسطہ کلام بھی نہیں کریں گے حالانکہ قیامت کے دن دربار عام ہوگا مومن اور کافر، فاسق اور فاجر سب جمع ہوں گے اس دن ہم کلامی کوئی رتبہ اور شرف نہیں رکھتی وہ دن تو عدالت اور فیصلہ کا ہوگا مجرم اور قصور وار بھی اس کا کلام سنیں گے اور لیکن یہ لوگ اس دن بھی کلام الٰہی سے محروم رہیں گے غصہ اور سرزنش بھی بواسطہ فرشتوں کے ہوگی اور نہ اس دن ان کو اللہ نے پاک صاف کرنا ہے جیسے گناہ گار مسلمانوں کو اس لیے عذاب دیا جائے گا کہ وہ پاک وصاف ہو کر دخول بہشت کے قابل ہوجائیں لیکن ان لوگوں کو اس لیے عذاب دیا جائے گا ہمیشہ تکلیف اور درداٹھاتے رہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ اور انکے لیے ہمیشہ کا دردناک عذاب ہوگا یہ لوگ تو ایسے ہیں کہ جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلہ میں اور عذاب کو مغفرت کے بدلہ میں بہز ارضاء ورغبت خرید لیا ہے یہ اس قابل نہیں کہ ان کو پاک کیا جائے اور اللہ کے کلام سے ان کو عزت بخشی جائے یا کم ازکم ان کو دردناک عذاب سے نجات ہی دی جائے ان لوگوں نے خود ہی اپنے لیے آگ کو پسند کیا ہے پس شاباش ہو انکی ہمت وجرات پر، یہ لوگ آگ پر بڑے ہی صبر کرنے والے ہیں اور تمام سزائیں اس لیے ہیں کہ اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا تاکہ لوگوں پر حق واضح ہو اور تحقیق جن لوگوں نے ایسی کتاب میں بےراہی اختیار کی کہ اس کے مقصود ہی کو بدل دیا اظہار حق کی بجائے کتمان حق کرنے لگے تحقیق حق کے بجائے تلبیس حق کرنے لگے تو بلاشبہ ایسے لوگ اللہ کی کھلی مخالفت میں ہیں کہ جس کتاب کو ہدایت کے لیے نازل فرمایا تھا اس کو گمراہی کا ذریعہ بنالیا اور ظاہر ہے کہ جو منشاء خداوندی کی کھلم کھلا مخالفت کرے وہ ایسی ہی سزاوؤں کا مستحق ہے۔
Ayah 2:177ابواب البر والصلہ۔
قال تعالی، لیس البر ان تولوا وجوھکم۔۔۔ الی۔۔۔ المتقون۔
یہاں پہنچ کر سورة بقرہ نصف ہوجاتی ہے ابتداء سورت سے یہاں تک کے نصف میں امت دعوت کو خطاب تھا یعنی ان لوگوں کو خطاب اور عتاب تھا جو نبی کے منکر تھے اور اس میں بھی زیادہ تر خطاب بنی اسرائیل کو رہا جو نبی اکرم کی نبوت کو خوب جانتے اور پہچانتے تھے مگر چھپاتے تھے اور اقرار نہیں کرتے تھے اور اس اخیر نصف میں امت اجابت کو خطاب ہے اور مختلف قسم کے احکام کی تعلیم اور تلقین ہے جو عبادات اور معاملات اور معاشرات وغیرہ وغیرہ سب کو شامل ہے اس طرح سے یہ تفصیل اخیر سورت تک چلی گئی ہے۔ نیز سورت کے اول نصف میں زیادہ تر اصول دین اور ایمانیت کا بیان تھا اور اس خیر نصف میں زیادہ تر احکام عملیہ کا بیان ہے پھر جب ان احکام عملیہ کا ایک وسیع اور طویل و عریض سلسلہ جو نصف سورت سے شروع ہو کر اخیرسورت تک چلا گیا پھر ان احکام عملیہ کے بیان میں عجیب ترتیب کو ملحوظ رکھا کہ پہلے اصول بر کو بیان فرمایا یعنی ایمانیات اور مکارم اخلاق کو بیان کیا جن کا شروع سورت میں یعنی الذین یومنون بالغیب۔ الخ۔ میں اجمالا ذکر تھا اور پھر فروع بر کو بیان فرمایا اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام عملیہ کے مجموعہ کو ابواب البر والصلہ سے موسوم اور ملقب کی جائے جیسا کہ صحیح بخاری میں اس عنوان سے ایک مستقل کتاب اور باب ہے، واللہ الہادی الی سواء الطریق وبیدہ ازمۃ التوفیق والتحقیق۔
اصول بر۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اہل کتاب کی حق پوشی اور رشوت ستانی اور ہدایت کے بدلہ میں ضلالت کو خریدنے کا بیان تھا اب آئندہ آیات میں اس طرف اشارہ ہے کہ اہل کتاب باوجود ان قبائح اور شناع کے اپنے کو اہل بر اور ابرابر میں سمجھتے اور اس خیال میں خام میں مبتلا ہیں کہ نجات کے لیے فقط استقبال قبلہ کافی ہے اور یہ سب غلط ہے چناچہ فرماتے ہیں نیکی اور خوبی فقط اس کا نام نہیں کہ تم اپنے چہروں کو مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو لیکن اصل نیکی یہ ہے کہ اپنے دلوں کو اللہ کی طرف پھیردو اور اس کی رضا اور اطاعت کو اپنا قبلہ توجہ بناؤ اس لیے کہ اللہ کے نزدیک وہ ہے جو اللہ پر ایمان لائے یعنی ذات وصفات میں اس کو یکتا اور یگانہ سمجھے اور آخری دن پر بھی یعنی قیامت کے آنے پر اور فرشتوں پر بھی ایمان لائے، فرشتوں پر، ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ سمجھے کہ وہ اللہ کے فرمانبردار بندے ہیں بغیر اس کی مرضی کے کچھ نہیں کرتے تو نور سے پیدا ہوئے کسی کے دو بازو اور کسی کے تین اور کسی کے چار اور کسی کے زیادہ ہیں معصوم ہیں کھانے اور پینے سے پاک ہیں اور تمام آسمانی کتابوں اور پیغمبروں پر بغیر تفریق کے ایمان لائے کہ جن کے واسطہ سے اللہ کے صحیفے اور اس کے احکام ہم تک پہنچے جن میں بعض احکام، گزشتہ احکام کے ناسخ ہیں ان تمام چیزوں کے اعتقاد میں بر ہے اور اخلاق و اعمال میں بر یہ ہے کہ مال کو باوجود محبوب اور ضرورت مند ہونے کے بلاتخصیص قرابت داروں کو محض حق قرابت کی وجہ سے دے تاکہ صدقہ اور صلہ رحمی دونوں کو جمع کرسکے اور یتیموں کو دے کر جو بوجہ خرد سالی کے کس معاش نہیں کرسکتے اور بوجہ بےپدری کے کوئی ان کا خبرگیراں نہیں اور ان غریب محتاجوں کو دے کر کہ جن کی آمدنی ان کے ضروری خرچ سے کم ہے اور صبر و سکون کی وجہ سے نہ وہ کسی سے سوال کرتے ہیں اور نہ اظہار حاجت کرتے ہیں اور مسافروں کو دے جن کے پاس سفر میں خرچ نہ رہا ہو اگرچہ وطن میں مال ہو مجاہد فرماتے ہیں کہ ابن السبیل سے مسافر مراد ہیں اور ابن عباس فرماتے ہیں کہ ابن سبیل سے مہمان مراد ہے اور سوال کرنے والوں دے خواہ مسلمان ہو یا کافر، اگرچہ ہمیں ان کی حاجت اور ضرورت کا علم نہ ہو اسلیے کہ ظاہر یہی ہے کہ بلاضرورت کوئی عاقل سوال اور گدائی کی ذلت گوارا نہیں کرتا اسی وجہ سے حدیث میں ہے آپ نے فرمایا کہ سوال کرنے والے کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر ہو اور مال دے گردنوں کے چھڑانے میں یعنی غلاموں کے آزاد کرانے یا مسلمان قیدیوں کے چھڑانے میں جو کافروں کے ہاتھ میں گرفتار ہوں یا قرض داروں کو قرض کی قید سے چھڑانے میں یا قیدیوں کے فدیہ دینے میں اپنامال خرچ کرے۔
یہ تو حقوق العباد میں بر یعنی نیکی کا بیان ہوا اور حقوق اللہ میں بر اور نیکی یہ ہے کہ نماز کو قائم کرے اور تمام اعضاء سے اللہ کا حق ادا کرے اور زکوٰۃ دے جو کہ مال میں اللہ کا حق ہے یہ وہ خصال بر ہیں جو اللہ نے بندوں پر لازم کی ہیں اب آئندہ آیات میں ان خصال بر کا ذکر فرماتے ہیں کہ جن کو آدمی خود اپنے اوپر لازم کرے چناچہ فرماتے ہیں اور وہ لوگ بھی نیک ہیں جو اپنے عہد کو وفا کریں جو اللہ سے یا مخلوق سے کیا ہے اللہ سے جو نذر مانی ہے یا کسی سے کوئی عہد کیا ہے اس کا ایفاء لازم ہے کہ لیکن یہ واجب ہے کہ جس وقت عہد کیا ہے اسی وقت نیت وفا کی ہونی چاہیے جو شخص عہد کرتے وقت نیت وفا کی رکھے وہ عنداللہ وفا کرنے والوں میں شمار ہوگا اگرچہ بعد میں کسی مجبوری سے وفاعہد نہ کرسکے اور جس شخص نے عہد کرتے وقت وفا کی نیت نہیں کی لیکن بعد میں لوگوں کی ملامت کی وجہ سے اپنے عہد کو پورا کیا تو یہ وفا معتبر نہیں، انماالاعمال بالنیات۔ اور اہل بر میں ان لوگوں کا خاص طور شمار ہے جو صبر اور تحمل کرنے والے ہیں تنگ دستی اور شدت فقر میں اور حالت مرض میں اور لڑائی کے وقت میں انسان پر تین قسم کی مصیبتیں آتی ہیں مالی اور بدنی اور روحانی، فقر مالی مصیبت ہے اور مرض بدنی مصیبت ہے اور لڑائی چونکہ جان کا خطرہ ہے تو وہ روحانی مصیبت ہے اور صابر کامل وہ ہے جو تینوں مصیتوں پر صبر کرے اور اگر بعض مصیبتوں پر صبر کے اور بعض پر نہ کرے تو وہ صابر کامل نہیں ایسے ہی لوگ اعتقادات میں سچے ہیں اور ایسے ہی لوگ متقی اور پرہیزگار ہیں جن کے اخلاق اور اعمال درست ہیں ابرار اور اہل بر وہی لوگ ہیں جن میں یہ تمام اوصاف جمع ہوں یہود اور نصاری کو نیکوکاری کا دعوی زیبا نہیں اس لیے کہ ان لوگوں کانہ ایمان درست ہے اور نہ اخلاق و اعمال درست ہیں ایمان باللہ میں تو یہ قصور کیا کہ حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا قرار دیا نیز یہود نے یداللہ مغلولۃ، اور ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء کہا اور گوسالہ کو معبود بنایا اور اجعل لنا الھا کمالھم الھہ۔ کہا اور نصاری اتحاد اور حلول کے قائل ہوئے اور ایمان معاد میں یہ قصور کیا کہ جنت کو اپنے لیے مخصوس کیا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا اونصاری۔ وقالو لن تمسناالنار الاایامعدود۔ آیت۔ کہا اور ایمان بالملائکہ میں یہ قصور کیا کہ جبرائیل امین کو اپنا دشمن جانا اور فرشتوں کی عصمت کے منکر ہوئے اور ایمان کتب میں یہ قصور کیا کہ دنیاوی منافع کے لیے اللہ کی کتابوں میں تحریف کی اور حق کو چھپایا اور ایمان انبیاء میں یہ قصور کیا کہ دنیاوی منافع کے لیے اللہ کی کتابوں میں تحریف کی اور حق کو چھپایا اور ایمان انبیاء میں یہ قصور کیا کہ انبیاء میں تفریق کی اور بہت سے نبیوں کو قتل کیا اور ان پر اطمینان نہ کیا بات بات میں حضرات انبیاء سے حجتیں اور بحثیں کیں اور دنیا کی محبت میں اس قدر غرق ہوئے کہ احکام شریعت کو رشوت لے کر بدل ڈالا اور دین کو دنیا کے بدلہ میں فروخت کیا اور گم راہی کو ہدایت کے بدلہ میں خریدا اور بدعہدی تو ان کی معروف اور مشہور ہے اور بےصبری یہاں تک پہنچی کہ لن نصبر علی طعام واحد کہہ دیا اور بزدلی اس حد تک پہنچی کہ باوجود وعدہ فتح کے، اذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قاعدون کہہ کر بیٹھ گئے پھر کس بناء پر نیکوکاری کا دعوی کرتے ہیں صحابہ کو دیکھو کہ ہر چیز میں کامل اور صادق ہیں ایمان میں اور اخلاق میں اور اعمال میں۔ ؓ اجمعین۔
ف) ۔ اس آیت میں چھ قسمیں بیان ہوئیں اول، ایمان کے اصول خمسیہ، دوم، ایتاء مال محبوب، سوم اقامۃ صلوۃ، چہارم ایتاء زکوۃ، پنجم، وفاعہد، ششم صبر علی الباساء والضراء وحین الباس، پس جس نے ان چھ چیزوں کو مکمل کرلیا اس نے بر کو مکمل کرلیا اور ابرابر کے زمرہ میں داخل ہوگیا۔
Ayahs 2:178–179فروع بر یعنی احکام عملیہ وفروعیہ کابیان۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم القصاص۔۔۔ الی۔۔۔ تتقون۔
گزشتہ آیات میں اصول بر کا بیان تھا اب اس کے بعد فروع بر یعنی احکام عملیہ وفرعیہ کا بیان شروع ہوتا ہے جس میں زیادہ تر احکام جزئیہ کا بیان ہے۔
حکم اول دربارہ قصاص) ۔ اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے جو احکام تمہارے لیے لکھ دیے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو خصوصا خون کے معاملہ میں خاص صبر سے کام لو اور جوش انتقام میں حدود شرع سے تجاوز نہ کرو مقتولین بقتل عمد کے بارے میں تم پر مساوات اور برابری فرض کردی گئی ہے ایک مقتول کو دوسرے مقتول کے برابر سمجھو، حسب اور نسب اور علم وفضل وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے قصاص میں تامل نہ کرو جاہلیت کے دستور پر نہ چلو جاہلیت کا دستور یہ تھا کہ شریف النسب لوگوں کے غلام کے بدلہ میں رذیل لوگوں کے آزاد قتل کرتے تھے اور ایک عورت کے بدلہ میں مرد کو قتل کرتے اور ایک مرد کے بدلہ میں کئی کئی آدمیوں کو قتل کرتے اللہ تعالیٰ نے اس امتیاز کو ختم فرمایا اور حکم دے دیا کہ جانیں سب کی برابر ہیں قصاص کے بارے میں امیر اور غریب، شریف اور رذیل کا کوئی فرق نہیں ورنہ اگر قصاص میں اس قسم کے امتیازات کا لحاظ کیا جائے تو قصاص کا دروازہ بند ہوجائے آزاد برابر ہے آزاد کے، اگرچہ ایک امیر یا شریف ہو اور دوسرا فقیر یارزیل ہو اور غلام برابر ہے غلام کے اگرچہ ایک غلام معمولی آدمی کا ہو اور دوسرا غلام بادشاہ کا ہو اور عورت برابر ہے عورت کے اگرچہ ایک بیگم ہو اور دوسری مزدورنی ہو، خلاصہ یہ ہے کہ قصاص میں مساوات ضروری ہے اور جاہلیت کا یہ طریقہ کہ اشراف اپنے غلام کے عوض آزاد کو قتل کریں اور اپنی عورتوں کے عوض میں مردوں کو قتل کریں اور ایک مرد کے عوض میں کئی کئی مردوں کو قتل کریں یہ ہرگز درست نہیں جانیں سب برابر ہیں۔ یہ اس آیت کا ظاہر مدلول اور منطوق ہے اور مفہوم مخالف اس آیت کا یہ ہے کہ غلام آزاد کے برابر نہیں اور عورت مرد کے برابر نہیں سو آیت کریمہ اس کے حکم سے ساکت ہے ائمہ دین کا اس میں اختلاف ہے کہ امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ جس طرح غلام بدلہ میں آزاد کے اور عورت بدلہ میں مرد کے قتل کی جائے گی اسی طرح آزاد بدلہ غلام کے اور مرد بدلہ عورت کے قتل کیا جائے گا شوافع کہتے ہیں کہ آزاد کو بمقابلہ غلام اور مرد کو بمقابلہ عورت قتل نہ کیا جائے گا بلکہ دیت لے لی جائے گی حنفیہ کہتے ہیں، الحر بالحر والعبد بالعبد سے زمانہ جاہلیت کے رسم کو باطل کرنا مقصود کرنا ہے اور یہ مقصود نہیں کہ غلام آزاد کے برابر نہیں ورنہ لازم آئے گا کہ باندی اور آزاد عورت میں بھی فرق ہو اور آزاد مرد اور آزاد عورت میں بھی فرق ہو حالانکہ باندی اور آزاد عورت میں بالاجماع کوئی فرق نہیں اور اسی طرح آزاد مرد اور آزاد عورت میں بالاتفاق کوئی فرق نہیں پس جس طرح باندی کا آزاد عورت سے قصاصلیا جاتا ہے اور آزاد عورت کا آزاد مرد سے قصاص لیا جاتا ہے اسی طرح غلام کا آزاد مرد سے بھی قصاص لیاجائے گا۔
نیز شوافع کا یہ استدلال آیت کے مخالف سے ہے اور مفہوم مخالف کی دلالت اول تو ظنی ہے اور دوم یہ کہ مفہوم مخالف کا اعتبار اسی حدتک درست ہے کہ جب تک وہ مفہوم کسی دوسری نص صریح کے منطوق اور عموم کے منافی نہ ہو اور اس آیت کا مفہوم آیت النفس بالنفس اور حدیث المسلمون تتکا فادماھم کے منافی ہے اس لیے جگہ مفہوم مخالف کا اعتبار نہ ہوگا اور الحر بالحر سے جو بظاہر قصر مفہوم ہوتا ہے وہ قصر اضافی پر محمول ہوگا رسم جاہلیت کے مقابلہ میں قصر مراد ہے قصر حقیقی مراد نہیں۔
فائدہ) ۔ جاننا چاہیے کہ مقتولین میں فقط قصاص یعنی فقط جان لینے کے اعتبار سے برابری اور مساوات ہے قتل کی کیفیت میں مساوات اور برابری نہیں مثلا یہ جائز نہیں کہ آگ سے جلانے والے کو آگ میں جلایاجائے اور پانی میں غرق کرنے والے کو پانی میں غرق کرکے مارا جائے اور اگر کسی نے جادو سے مارا ہے تو اس کو جادو سے ماراجائے اس لیے فی القتلی فرمایا فی القتل نہیں فرمایا مقتولین میں برابری ہے کیفیت قتل میں برابری نہیں خوب سمجھ لو۔ اب قصاص کے بعد مسئلہ عفو کا بیان فرماتے ہیں پس جو شخص کہ اس کے لیے اس کے بھائی کی جانب سے اگر پوری معافی نہ ہو بلکہ کچھ تھوڑی سے بھی معافی ہوجائے بایں طور کہ بعض وارث معاف کردیں اور بعض نہ کریں تو قاتل سے قصاص ساقط ہوجائے گا اور دیت نامہ بذمہ قاتل واجب ہوجائے گی اس لیے کہ خون کی کوئی شی منقسم نہیں کہ اس کا بعض حصہ تو لیاجائے اور بعض حصہ کو چھوڑا جائے اس لیے قصاص تو ساقط ہوجائے گا اور جن وارثوں نے خون معاف نہیں کیا ان کو بقدر ان کے حصہ کے دیت دلائی جائے گی ایسی صورت میں قاتل قصاص سے تو بری الذمہ ہوجائے گا مگر اس کے یہ واجب ہوگا کہ معاف کرنے والے کی مرضی کا اتباع کرے جو اس کی مرضی ہو اس کو قبول کرے بشرطیکہ وہ معمول شرع کے مطابق ہو ایسی شرط نہ ہو جو شریعت کے خلاف ہو مثلا ولی مقتول قاتل سے یہ کہے کہ اس شرط سے معاف کرتا ہوں کہ اپنے لڑکے کو میرا غلام بنائے یا اپنی دختر سے زنا کی اجازت دے پس اس قسم کی غیرمعقول شرطیں غیرمقبول ہیں اس میں اتباع ہرگز جائز نہیں اور نیزقاتل کے ذمہ یہ واجب ہے کہ جس چیز کا دینا قبول کیا ہے اس کو نیکی اور سلوک کے ساتھ معاف کرنے والے کی طرف ادا کردے بلاتاخیر کے وقت مقررہ پر دیت کی پوری رقم ادا کردے نہ ٹلائے اور نہ اس کو پریشان کرے اور نہ کوئی دغل وفصل کرے یہ دیت اور عفو کی اجازت تمہارے پروردگار کی طرف سے تخفیف ہے اور رحمت اور مہربانی ہے ورنہ جرم کے لحاظ سے تو سوائے سزا قتل کے اور کوئی گنجائش نہ تھی تخفیف یہ کہ یہود کی طرح قصاص کو واجب اور نصاری کی طرح عفو کو لازم نہیں قرار دیا گیا مہربانی یہ ہے کہ قاتل اور اولیاء مقتول کی خوشامد کرکے معاف کر الینے اور ان کو راضی کرلینے سے زندہ رہ سکتا ہے اور وارثان مقتول کو اگر حاجت ہو تو مال لے لیں اور اگر ثواب آخرت کے طالب ہوں تو خون معاف کردیں پس جو شخص اس تخفیف اور رحمت کے بعد حد سے تجاوز کرے مثلا معاف کرنے اور دیت لینے کے بعد جب قاتل مطمئن ہوجائے تو اس کو قتل کردے یاقاتل دیت کا وعدہ کرکے فرار ہوجائے تو ایسے شخص کے لیے دردناک عذاب ہے اور قصاص میں اگرچہ بظاہر ایک جان جاتی ہے لیکن اس میں تمہاری بہت سی جانوں کی زندگی ہے ایک جان لینے سے بہت سی جانیں محفوظ ہوجاتی ہیں یعنی قصاص میں اگرچہ بظاہر ایک جان جاتی ہے لیکن بہت سی جانیں اس سے محفوظ رہتی ہیں قاتل گناہ سے پاک ہوا اور عذاب سے رہائی پائی اور حیات ابدی اس کو حاصل ہوئی اور مقتول اگرچہ مارا گیا لیکن جب اس کا عوض اور بدلہ لے لیا گیا تو اس کا مرنا رائیگاں نہیں گیا وارثان مقتول کے لیے باعث عزوجاہ ہوا اور قصاص لے لینے سے وارثوں کا دل ٹھنڈا ہوا غصہ کی آگ بجھائی اور آئندہ کے لیے کشت وخون کا سلسلہ بند ہوا فریقین ایک دوسرے سے مطمئن ہوگئے پس اس حکم کا مشروع ہونا خلائق کے لیے موجب رحمت ہے اور سرمایہ زندگی ہوا اے عقل وفہم والو اگر تم مغز سخن کو دریافت کرنا چاہو اور پوست پر قناعت نہ کرو تو سمجھ لو کہ قصاص سراسر زندگی ہے البتہ جن لوگوں کی عقل خالص نہیں وہ بات کی تہہ تک نہیں پہنچتے فقط ظاہر پر اکتفا کرتے ہیں اور قصاص کو اتلاف جان سمجھتے ہیں اور یہ حکم اس لیے مشروع ہوا کہ شاید تم افراط غضب سے پرہیز کرو تاکہ غضب خداوندی سے بچ جاؤ۔
Ayahs 2:180–182حکم دوم وصیت۔
قال تعالی، کتب علیکم۔۔۔ الی۔۔۔۔ رحیم۔
گزشتہ آیات میں قصاص کو حیات فرمایا آئندہ آیات میں وصیت کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو خاندان کی حیات اور زندگی کا سامان ہے شروع اسلام میں جب تک میراث کا حکم نازل نہ ہوا تھا تو والدین اوراقارب کے لیے وصیت فرض تھی مقدار کی کوئی تعیین نہ تھی وصیت کرنے والے کی صواب دید پر تھا کہ جتنی مقدار مناسب سمجھے اتنی مقدار کی وصیت کردے اس کے بعد جو باقی بچے وہ سب اولاد کا ہے اس آیت میں اسی حکم کا ذکر ہے اور چونکہ وصیت اوراقارب کی اعانت امر فطری اور جبلی ہے اور ہر ملت و مذہب میں رائج ہے اس لیے اس آیت کو پچھلی آیت کی طرح یا ایھا الذین آمنوا۔ سے شروع نہیں فرمایا چناچہ فرماتے ہیں کہ تم پر فرض کیا گیا کہ جب تم میں سے موت کسی کے سامنے آجائے بشرطیکہ وہ اتنا مال چھوڑ جائے کہ تجہیز وتکفین کے بعد بچ رہے تو اس پر لازم ہے وصیت کرنا والدین اور دیگر اقارب کے لیے مگر یہ ضروری ہے کہ وہ وصیت شریعت کے مطابق ہو، مثلا یہ نہ کرے کہ والدین کو نظر انداز کردے اور دور کے رشتہ داروں کو مقدم کردے یا فقیر اور رشتہ داروں کو محروم کردے اور دولت مند کے لیے وصیت کرے غرض یہ کہ جو وصیت شریعت کے مطابق ہوجاتی ہے اس کا پورا کرنا خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ضروری ہے کسی کو اس میں تغیر اور تبدل کا اختیار نہیں پس جو شخص حق لازم کی وصیت سن لینے کے بعد وصیت کے مضمون میں کچھ تغیر اور تبدل کرے اس تغیر وتبدل سے جو حق تلفی ہوگی اس کا گناہ تبدیل کرنے والوں پر ہوگا حاکم اور مفتی نے اگر ظاہر اور قواعد شریعت کی بناء پر فیصلہ کیا ہے اور فتوی دیا ہے تو حاکم اور مفتی گناہ گار نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ سننے والے اور جاننے والے ہیں تبدیل کرنے والوں کے اقوال کو سنتے ہیں اور ان کی نیتوں اور ارادوں کو جانتے ہیں اور حاکم اور مفتی کی معذوری کو بھی جانتے ہیں البتہ ایک صورت میں وصیت میں تغیر وتبدل جائز ہے وہ یہ کہ وصیت کرنے والے سے کسی غلطی یا دیدہ دانستہ صریح گناہ کا اندیشہ ہو کہ غیر مستحق کو دے اور مستحق کو محروم کردے یا کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دے پس یہ شخص اگر اس وصیت کو درست کردے یعنی اس وصیت کو شریعت کے مطابق کردے تو ایسے تغیر وتبدل میں اس پر کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ بڑے معاف کرنے والے اور بڑی رحمت فرمانے والے ہیں نیت فاسدہ سے گناہ کرنے والوں کو بھی بخش دیتے ہیں اور جو شخص نیک نیتی سے کوئی تغیر اور تبدل کرے اس پر کیوں نہ رحمت ہوگی ؟۔
Ayahs 2:183–184حکم سوم صوم۔
قال تعالی، یا ایھا الذین امنو کتب۔۔۔ الی۔۔ کنتم تعلمون۔
اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ بجائے اہل ایمان کے اپنے نفس موذی کو مارو کہ جو ہر وقت تمہاری تاک میں ہے اور تمہارے خدا کے درمیان سدراہ ہے تمہارا دشمن ہے اور تمہارے جانی اور ایمانی دشمن یعنی شیطان کادوست بلکہ حقیقی اور جڑواں بھائی ہے مثل مشہور ہے کہ شیطان اور نفس دونوں حقیقی بھائی ہیں ساتھ پیدا ہوئے اس لیے ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اس دشمن کو ماردو اور روح کو زندہ کرو جو تمہارے پاس فرشتوں کی جنس کی ایک چیز ہے نفس کے مارنے اور روح کو زندہ کرنے کا بہترین طریقہ صبر ہے اور صبر حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ چند روز روزے رکھو قوت شہویہ اور قوت غضبیہ جو تمام معاصی کا منبہ ہے اس کے کچلنے کے لیے روزہ تریاق اور اکسیر کا حکم رکھتا ہے لیکن یہ روزہ ہنود اور صائبین کی طرح نہ رکھو کہ دن میں تو خد رو اشیاء اور پھل اور میوے کھاتے رہو اور بوقت شب کھانے سے رکو، یہ طریقہ شریعت الٰہی کے خلاف ہے بلکہ تم پر روزہ اس طرح فرض کیا گیا جیسے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا کہ مطلقا کھانے اور پینے سے اور عورتوں کی صحبت سے دن میں کامل پرہیزرکھیں حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ کے زمانہ تک یہی طریقہ رہا البتہ تعین ایام میں اختلاف رہا حضرت آدم پر ہر مہینہ میں تین دن کے روزے یعنی ایام بیض کے فرض تھے یہود پر یوم عاشورا اور ہفتہ اور اس کے سوا اور چند روز کے روزے فرض تھے نصاری پر ماہ رمضان کے روزے فرض تھے۔
معاذ بن جبل اور ابن مسعود اور ابن عباس اور عطاء اور ضحاک اور قتادہ سے منقول ہے کہ عاشورہ اور ہر مہینہ میں تین دن کے روزے حضرت نوح کے وقت سے لے کر حضور ﷺ کے زمانہ تک مقرر رہے رمضان کے روزوں کے حکم سے یہ حکم منسوخ ہوا حسن بصری سے منقول ہے کہ واللہ ہرگز شتہ امت پر پورے ایک ماہ کے روزے فرض رہے جس طرح ہم پر فرض ہیں اور عبداللہ بن عمر سے مرفوعا روایت ہے کہ اللہ نے رمضان کا روزہ اگلی امتوں پر فرض کیا تھا الغرض روزہ کی فرضیت قدیم ہے کوئی شریعت اس کی فرضیت سے خالی نہ رہی اس لیے یہ مبارک عبادت تم پر فرض کی گئی تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ کیونکہ روزہ کی خاصیت ہی یہ ہے کہ روزہ کی عادت اور کثرت آدمی کو پرہیزگار بنادیتی ہے اور یہ روزے تم پر شمار کیے ہوئے دنوں کے لیے فرض کیے گئے ہیں جو ایک مہینہ کی مدت ہے نہ بہت کم اور نہ بہت زیادہ اگر بہت کم ہوتی تو تھوڑی مدت کی عبادت سے نفس عبادت کے رنگ سے رنگین نہ ہوتا اور اگر روزہ کی مدت بہت زیادہ ہوتی تو مشقت میں پڑجاتے اس لیے تھوڑے ہی دنوں کا روزہ تم پر فرض کیا گیا مگر اس میں تمہاری سہولت کی رعایت کی گئی پس ایک سہولت تو یہ ہے کہ ہ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو جس کی وجہ سے روزہ رکھنا دشوار ہو تو اس کو اجازت ہے کہ روزہ افطار کرلے مگر اتنے دنوں کو شمار کرکے بجائے رمضان کے دوسرے دنوں میں روزہ رکھ لے خواہ مسلسل یا فاصلہ سے اور دوسری سہولت یہ ہے جو بعد میں منسوخ کردی گئی کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں مگر باوجود اس کے روزہ رکھنے کا دل نہ چاہ رہا ہو تو اس کے ذمہ اس کا فدیہ یعنی روزہ کا بدلہ دینا ہے اور وہ فدیہ ایک مسکین کی خوراک ہے اس لیے یہ شخص خدا کے خود ترک طعام و شراب نہیں کرسکتا تو کسی مسکین ہی کو کھلادے کہ جب وہ کھا کر عبادت کرے گا تو ثواب میں اس کا بھی حصہ ہوجائے گا اور یہ بدلہ بہت ہی کم ہے، فمن تطوع خیرافھوخیرلہ، لیکن جو شخص خوشی سے خیر اور نیکی میں زیادتی کرے یعنی بجائے ایک مسکین کے کئی مسکینوں کو کھانا دے تو وہ بھی بہتر ہے جتنی نیکی زیادہ کرو گے اتنا ہی اجر زیادہ ملے گا لیکن تمہارا خود روزہ رکھنا فدیہ سے کہیں بہتر ہے اگرچہ فدیہ مقدار واجب سے کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو اگر تم روزہ کے فضائل اور فوائد کو جانتے ہو اور کہ روزہ کس درجہ کی عبادت ہے روح کے زندہ کرنے اور نفس اور شہوات کے کچلنے میں کوئی اس کا بدل نہیں یہی وجہ ہے کہ ہر عمل کا اجر محدود ہے مگر صبر اور روزہ کا اجر غیر محدود ہے نماز اور زکوٰۃ اور حج وغیرہ کی ایک محسوس صورت ہے جو ریا وغیرہ کے ذریعے سے توڑی جاسکتی ہے مگر روزہ کی کوئی صورت محسوسہ نہیں کہ جس کو توڑا جاسکے۔