2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جو (حق وباطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔ اور (یہ آسانی کا حکم) اس لیے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کرو اور اس کا شکر کرو

تعیین ایام معدود۔ قال تعالی، شھررمضان الذی۔۔۔ الی۔۔۔ تشکرون۔ گزشتہ آیات میں بلاتعین چند دنوں کے روزہ رکھنے کا حکم مذکور تھا اب ان آیات میں اللہ شانہ ان ایام معدودات کی تعین فرماتے ہیں یعنی وہ شمار کیے ہوئے دن جن میں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے وہ ماہ رمضان المبارک ہے جس میں قرآن کریم اتارا گیا جو تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت اور امتیاز حق و باطل کی صاف صاف اور نہایت واضح اور روشن دلیلیں اور نشانیاں ہیں جو سوائے قرآن کے اور کسی کتاب میں نہیں توریت اور انجیل بھی نور اور ہدایت تھی اور حق اور باطل میں فرق کرتی تھی مگر قرآن کی طرح واضح اور روشن نہ تھی قرآن کریم کا ہر ہر حرف ہدایت اور امتیاز حق اور باطل کی واضح اور ووشن دلیل ہے اسی وجہ سے بینات کو جمع لایا گیا اور ہدی کو مفرد لایا گیا ہدایت کبھی خفی ہوتی ہے اور کبھی جلی اور روشن ہوتی ہے، بینت من الھدی والفرقان۔ آیت۔ کا مطلب یہی ہے کہ قرآن کریم ہدایت اور امتیاز حق و باطل میں آفتاب کی طرح روشن ہے توریت اور انجیل اس درجہ روشن نہ تھی پس تم میں سے جو شخص یہ مہینہ پائے تو اس کو چاہیے کہ اس کے روزے رکھے جتنا مہینہ پاوے اتنے کے روزے رکھے اگر پورا مہینہ پائے تو پورے مہینہ کے روزے رکھے اور اگر کچھ دن پائے تو اتنے دن روزے رکھے غرض یہ کہ جو شخص اس مہینہ کو پائے اس کے ذمہ یہ لازم ہے کہ فرض ہے کہ اس مہینہ کے روزے رکھے اور بتداء میں جو فدیہ کی اجازت دی گئی وہ منسوخ ہوئی اور جن میں روزہ رکھنے کی طاقت ہے اب ان کو افطار کی اجازت نہیں رہی اس آیت سے فدیہ کا حکم منسوخ ہوگیا اورا لبتہ مریض اور مسافر کے لیے جو سفر اور مرض کی وجہ سے افطار کی رخصت اور اجازت دی گئی تھی وہ ہنوز اسی طرح باقی ہے کہ جو شخص ایسا بیمار ہو کہ جس کو روزہ رکھنا دشوار ہو یاشرعی سفر پر ہو یعنی سفر میں جتنی مسافت شریعت میں معتبر ہے اتنی مسافت کے سفر کا ارادہ رکھتا ہو تو ایسے شخص کو رمضان میں افطار کی اجازت ہے اور بجائے ایام رمضان کے دوسرے دنوں میں فوت شدہ روزوں کے شمار کے مطابق روزے رکھنا اس پر لازم ہے مریض اور مسافر کے حکم کو اسلیے مکرر بیان کیا کہ یہ معلوم ہوجائے کہ فقط فدیہ کا حکم منسوخ ہوا ہے معذور کے لیے افطار اور قضاء کا حکم منسوخ نہیں ہوا اور قضا کے حکم میں فعدۃ من ایام اخر، فرمایا یعنی اور دنوں میں گنتی شمار کے مطابق روزے رکھنے چاہیے اور دنوں کی قید اس لیے لگائی کہ رمضان کے فوت شدہ روزوں کی قضاء آئندہ رمضان میں جائز نہیں رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں میں قضاء کے روزے رکھنے چاہیں اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ سہولت اور آسانی کرنا چاہتے ہیں اور تم پر سختی اور دشواری نہیں چاہتے اس لیے تم کو مرض اور سفر کی حالت میں افطار کی اجازت دی اور دوسرے دنوں میں فوت شدہ روزوں کے شمار کے مطابق قضاء کا حکم اس لیے یدیا کہ تم اپنے روزوں کو شمار کرکے پورا کرو تاکہ تمہارے ثواب میں کمی نہ رہ جائے اور تم اس شمار کو پورا کرکے متقی اور پرہیزگار بن جاؤ اور اس میں بھی یہ سہولت ہے کہ فوت شدہ روزوں کی قضا خواہ ایک ہی مرتبہ کرلو یا متفرق کرکے رکھ لو دونوں اختیار ہیں اور تاکہ تم اللہ کی کبریائی اور بزرگی بیان کرو کہ اس نے تم کو ایسے طریقہ کی ہدایت کی کہ جس سے تم رمضان المبارک کی فوت شدہ خیرات وبرکات کی قضاء سے کچھ تلافی کرسکو امام شافعی فرماتے ہیں لتکملوالعدۃ سے رمضان کے تیس دن پورے کرنا مراد ہے اور لتکبرواللہ سے ختم رمضان کے بعد عید کا چاند دیکھ کر اور عید میں جاتے وقت اور عید کی نماز میں تکبیر کہنا مراد ہے جس طرح نماز اور حج سے فارغ ہونے کے بعد ذکر خدا مسنون ہے اسی طرح رمضان کے روزوں سے فارغ ہونے کے بعد تکبیر وتحمید مسنون ہے اور تاکہ تم اللہ کا شکر کرو کہ اس نے تم پر ایک مہینہ کے روزے فرض کیے کہ جو درجات عالیہ کے ملنے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے اور اس پر بھی شکر کرو کہ اس نے حالت مرض اور سفر میں تمہیں افطار کی اجازت دی کہ جس میں تمہارے لیے تخفیف اور سہولت ہے غرض یہ کہ عزیمت بھی نعمت ہے اور رخصت بھی نعمت ہے سب نعمتوں کا شکر کرو تاکہ کامل متقی اور پرہیزگار بن جاؤ۔ نزول قرآن اور صیام رمضان میں مناسبت۔ نزول قرآن اور صیام رمضان میں مناسبت یہ ہے کہ حق جل شانہ نے اس مہینہ کو قرآن کریم کے نازل کرنے کے لیے پسند کیا اور ظاہر ہے کہ اللہ کے کلام معجز نظام کے انوار و تجلیات اور خیرات وبرکات کی کوئی حد اور نہایت نہیں، محبین اور عاشقین دنیا میں اللہ کے دیدار سے محروم ہیں لیکن اس کے کلام سے دل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ کلام کے پردہ سے کچھ اس کا جلوہ نظر آجاتا ہے، درسخن مخفی منم چوں بوئے گل وربرگ گل ہر کہ دیدن میل دارد درسخن بیند مرا، چیست قرآں اے کلام حق شناس رونمائے رب ناس آمد بناس حرف حرفش راست در برمعنیے معنیے در معنیے در معنیے۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ اللہ نے توریت اور انجیل اور زبور اسی مہینہ میں اتاری، یکم رمضان المبارک کو حضرت ابراہیم پر صحیفے اور چھ رمضان کو توریت نازل ہوئی اور بارہ رمضان کو زبور اتری اور اٹھارہ رمضان کو انجیل نازل ہوئی اور چوبیس رمضان کی شب کو قرآن کریم نازل ہوا۔ غرض یہ کہ ماہ رمضان عجیب مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ کا کلام نازل ہوا اورا للہ کی کتاب اتری جو ایک نعمت کبری اور منت عظمی ہے لہذا اس عظیم الشان نعمت کے شکریہ میں کوئی خاص عبادت اس مہینہ میں مقرر ہونی چاہیے جو کلام الٰہی کے مناسب ہو سو وہ روزہ ہے جو روزہ دار کو ترک طعام و شراب اور ترک لذت کی وجہ سے فرشتوں کے قریب بنا دیتا ہے اور قلب میں کلام خداوندی کے اسرار و تجلیات کے قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کردیتا ہے کیونکہ بشری اور نفسانی کدورتوں اور ظلموں کے دور کرنے اور قلب کے جلا اور صیقل کرنے میں روزہ ایک بےمثال تریاق اور بےنظیر اکسیر ہے اور انوار و تجلیات کے دستر خوان سے وہی شخص کماحقہ بہرہ اندوز ہوسکتا ہے جس نے اس حسی اور مادی دسترخوان کو کم ازکم کچھ دنوں کے لیے لپیٹ کر رکھ دیا ہو یہی وجہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر توریت لینے کے لیے گئے تو چالیس دن کے روزے رکھے عیسیٰ (علیہ السلام) نے بیابان میں چالیس روزے رکھے اس وقت اللہ نے ان کو انجیل عطا کی نبی ﷺ نے غار حرام میں اعتکاف کیا اور روزے رکھے اسی غار میں آپ پر قرآن کریم نازل ہوا اور آپ ﷺ کو نبوت و رسالت کا خلعت عطا ہوا معلوم ہوا کہ روزہ کو کلام خداوندی کے ساتھ خاص مناسبت ہے اس لیے اس مبارک مہینہ میں دن میں تو روزہ اور رات میں تراویح مسنون ہوئی اور عشرہ اخیرہ میں اعتکاف سنت ہو اور دن اور رات میں قرآن کریم کی تلاوت اور دور کا خاص اہتمام کیا گیا۔ حدیث میں ہے جبریل امین رمضان المبارک میں آپ سے قرآن کریم کا دور کرتے تھے جس سال حضور ﷺ کا وصال سال جبریل امین نے پورے قرآن کا آپ کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا ایک مرتبہ آپ پڑھتے اور جبریل امین سنتے اور دوسری مرتبہ جبریل پڑھتے اور آپ ﷺ سنتے اس طرح دو مرتبہ دور ہوا اور یہ مہینہ تمام کا تمام ہی مبارک ہے مگر شب قدر اس مہینہ کا خلاصہ اور الب لباب ہے اسی شب میں قرآن اترا اور اسی میں فرشتوں کا خاص طور سے نزول ہوتا ہے، سلمھی حتی مطلع الفجر۔ آیت۔ امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں کہ رمضان کا پورا مہینہ نہایت مبارک ہے مگر وہ انوار وبرکات جو اس مہینہ کے دنوں سے وابستہ ہیں وہ اور ہیں اور جو خیرات وبرکات اس مہینہ کی راتوں سے متعلق ہیں وہ اور ہیں اور ممکن ہے کہ اسی وجہ سے یہ حکم ہوا کہ افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کریں تاکہ دونوں وقتوں میں پورا امتیازحاصل ہوجائے اور جس طرح قرآن مجید خداوندذوالجلال کے کمالات ذاتیہ اور شؤن صفاتیہ کا مظہر اتم ہے اسی طرح ماہ رمضان اللہ کی خیرات وبرکات ذاتیہ کا مظہر اتم ہے اس مہینہ میں جو خیروبرکت بھی نازل ہوتی ہے وہ براہ راست بارگاہ ذات سے فائض ہوتی ہے قرآن کریم کی طرح یہ مہینہ بھی اپنی نوع میں حقیقت جامعہ ہے اسی مناسبت سے اس مہینہ میں قرآن کریم نازل ہوا اور چونکہ درختوں میں کھجور کا درخت شجرہ طیبہ ہے اور کھجور اس کا ثمرہ طیبہ اور حقیقت جامعہ ہے اور حضرت آدم کے خمیر کا بقیہ ہے اس لیے نبی نے ارشاد فرمایا جو کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے کیونکہ کھجور سراسر خیروبرکت ہے۔ اور خلو معدہ میں جب یہ مبارک پھل پہنچے گا تو یہی جامع اور مبارک غذا جزوبدن بنے گی جس سے روزہ کی برکتوں میں اور اضافہ ہوگا اس طرح روزہ اور غذائے جامع کی برکتوں کے مل جانے سے قلب نور علی نور کا مصداق بن جائے گا اور اسی وجہ سے کہ کھجور ایک نہایت مبارک اور جامع غذا ہے آپ نے سحری میں بھی کھجور کھانے کی ترغیب دی ہے اور ارشاد فرمایا کھجور مومن کی کیا اچھی سحری ہے۔ قرآن کریم میں ایمان کو شجرہ طیبہ یعنی کھجور کے درخت کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور رمضان کا روزہ ایمان کا ایک شعبہ ہے اس لیے رمضان کا افطار اور سحری مرد مومن کے لیے کھجور سے مسنون ہوئی اور شب قدر اس مہینہ کا خلاصہ ہے گویا کہ شب قدر بمنزلہ مغز کے ہے اور یہ مہینہ پوست کے ہے پس جس کا یہ مہینہ جمعیت خاطر کے ساتھ گذر جائے اور اس مبارک مہینہ کی خیرات وبرکات سے بہر اندوز ہوجائے تو اس کا تمام سال جمعیت اور خیروبرکت کے ساتھ گزرتا ہے۔ وفقنا اللہ تعالیٰ للخیرات والبرکات فی ھذا الشھر المبارک ورزقنا اللہ سبحانہ النصیب الاعظم منہ امین۔ (مکتوب 162 دفتر اول) ۔ فائدہ جلیلہ) ۔ رمضان کی فرضیت سے پہلے عاشورہ کے دن اور ہر مہینہ میں تین دن کے روزے رکھے جاتے تھے اس میں اختلاف ہے کہ وہ روزے فرض تھے یانفل، عبداللہ بن عباس اور معاذ بن جبل اور عطا ؓ اجمعین کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روزے فرض تھے اور ابن ابی لیلی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض نہ تھے بلکہ محض بطور تطوع اور نفل رکھے جاتے تھے اور اکثر احادیث سے وجوب ہی معلوم ہوتا ہے بہرحال رمضان کے روزوں کا حکم آیا تو صوم عاشورہ اور ہر مہینے میں تین روزوں کی فرضیت تو باقی نہ رہی البتہ استحباب باقی رہ گیا اور اس میں بھی ویسا ہی اہتمام نہ رہا جیسا کہ پہلے تھا۔ اسی وجہ سے علماء کا ایاما معدودات کی تفسیر میں اختلاف ہے بعض صحابہ اور تابعین ادھر گئے ہیں کہ ان گنتی کے دنوں سے عاشورہ اور ہر مہینے کے تین دن روزے مراد ہیں جب رمضان کے روزوں کا حکم آیا تو یہ روزے منسوخ ہوگئے اور جمہور صحابہ وتابعین کا مسلک یہ ہے کہ ایامامعدودات سے رمضان کے روزے مراد ہیں اور یہ آیت منسوخ نہیں اور صوم عاشورہ اور ایام بیض کا حکم من جانب اللہ نہ تھا بلکہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اجتہاد سے ان دنوں کے روزوں کو پسند کیا جیسا کہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ وہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں آپ نے دریافت فرمایا کہ تم اس دن کیوں روزہ رکھتے ہو انہوں نے کہا یہ دن بہت مبارک ہے اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو دشمن سے نجات دی اور فرعون کو غرق کیا موسیٰ نے بطورشکریہ اس دن روزہ رکھا اسلیے ہم بھی اس دن کا روزہ رکھتے ہیں آپ نے فرمایا میں تم سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) کا حق دار ہوں اس لیے آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (بخاری ومسلم ) ۔ علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ امام احمد اور ابوداود اور حاکم نے معاذ بن جبل سے عاشورہ کا روزہ اور ہر مہینہ کے تین روزوں کا واجب ہونا روایت کیا لیکن یہ وجوب اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھا اور اس آیت سے منسوخ ہوگیا۔ پس معلوم ہوا کہ راجح اور صحیح اور قول یہی ہے کہ ایاما معدودات سے رمضان کے روزے مراد ہیں عاشورا اور ہر مہینہ کے تین روزے مراد نہیں اس لیے کہ افطار کرکے فدیہ دے دینے کے اجازت احادیث اور روایات میں رمضان المبارک کے روں کے متعلق آئی ہے عاشورا اور ہر مہینہ کے تین دن کے روزوں کے متعلق فدیہ کا حکم کہیں ثابت نہیں سنن ابوداود کی ایک روایت سے یہ ایہام ہوتا ہے کہ وعلی الذین یطیقونہ فدیہ۔ کا حکم عاشورہ اور ہر مہینہ کے تین روزوں کے متعلق ہے مگر یہ صحیح نہیں اور یہ روایت مختصر ہے دوسری مفصل روایت میں رمضان کے روزوں کا مفصل ذکر ہے اور علی الذین یطیقونہ کا حکم رمضان ہی کے روزوں سے متعلق ہے اس روایت میں رمضان کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایہام ہوا۔ واللہ اعلم۔ اقوال علماء کرام دربارہ تفسیر آیت فدیہ صیام۔ قال تعالی، علی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین۔ اس آیت کی تاویل اور حکم میں علماء کا اختلاف ہے آیت مذکورہ کے متعلق علمائتفسیر کے دو گروہ ہوگئے ہیں ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور دوسراگروہ کہتا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں اس آیت کا حکم اب بھی باقی ہے اس فریق سے آیت کی مختلف توجیہات منقول ہیں جن کو ہم عنقریب ذکر کریں گے۔ گروہ اول) ۔ اکثر علماء محققین کی رائے یہی ہے کہ آیت میں نسخ ضرور واقع ہے عبداللہ بن عمر اور سلمہ بن الاکوع اور دیگر صحابہ سے یہی منقول ہے اور بخاری اور مسلم اور ابوداود وغیرہم کی احادیث اور روایات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ابتداء اسلام میں لوگوں کو اختیار تھا کہ اگر روزون کی ہمت ہو تو روزے رکھیں ورنہ روزہ افطار کرلیں اور روزہ کے بدلہ میں فدیہ دیں وجہ یہ تھی کہ لوگ روزہ رکھنے کے عادی نہ تھے اگر ابتداء ہی سے روزہ کا قطعی حکم ہوجاتا تو شاق ہوجاتا چندے یہ اختیار منسوخ ہوگیا اور فمن شھد منکم الشھر۔ سے روزہ رکھنے کا حکم قطعی ہوگیا چناچہ حافظ بدالدین عینی شرح بخاری میں آیات صیام کی ترتیب نزولی اور ناسخ منسوخ کی تعیین کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ترجمہ۔ شروع اسلام میں روزے فرض ہوئے لیکن عادت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں پر گراں گزرے تو افطار کرکے فدیہ دے دینے کی اجازت دے دی گئی چناچہ معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ شروع اسلام میں جو چاہتا روزہ رکھتا اور جو چاہتا افطار کرتا اور اس کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت نازل ہوئی اور یہ حکم منسوخ ہوگیا، امام ابن جریر طبری بروایت ابن ابی لیلی اپنی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں نبی ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ آئے تو اپنے صحابہ کو ہر مہینہ میں تین دن کے روزوں کا حکم دیا مگر بطور فرض نہیں بلکہ بطور نفل حکم دیا اس کے بعد رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا مگر چونکہ لوگ روزہ رکھنے کے عادی نہ تھے اس وجہ سے انکو روزہ رکھنا گراں ہوا تو یہ سہولت کردی گئی کہ جو روزہ نہ رکھے وہ ایک فقیر کو کھانا کھلادے چناچہ کچھ عرصہ تک لوگ ایساہ ی کرتے رہے کہ جو شخص روزہ نہ رکھتا وہ ایک فقیر کو کھانا کھلا دیتا چند روز کے بعد یہ آیت نازل ہوئی، فمن شھد منک الشھر فلیصمہ، الی آخرہ۔ اس وقت صرف مریض اور مسافر کو توروزہ موخر کرنے کی اجازت ہوگئی باقی ہم سب کو روزہ ہی رکھنے کا حکم ہوگیا اور افطار کرکے فدیہ کی اجازت نہ رہی۔ یہی مضمون بخاری شریف اور اکثر کتب تفاسیر میں موجود ہے اس مضمون کے ذہن نشین ہوجانے کے بعد تمام روایتیں بےتکلف منطبق ہوجاتی ہیں اور آیت کا صحیح مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ سب سے پہلے، کتب علیکم الصیام۔۔۔ الی۔۔۔ من ایام اخر۔ آیت۔ کا حکم نازل ہوا اور اس سے رمضان کے روزے فرض ہوئے مگر مریض اور مسافر کو اجازت ہوئی کہ اگر مرض اور سفر کی وجہ سے افطار کریں تو بعد میں اتنے ہی دن روزے رکھ لیں اس پر صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم چونکہ روزوں کے عادی نہیں اگر مشقت کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں تو اس کی مکافات کی کیا صورت ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی، وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین۔ آیت۔ کہ جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہوں مگر مشقت کی وجہ سے افطار کرنا چاہتے ہوں تو ان کو اس کی اجازت ہے کہ افطار کرلیں اور ایک فقیر کا کھانا دے دیں لیکن بہتریہی ہے کہ روزہ رکھیں وان تصوموا خیرلکم ان کنتم تعلمون۔ اس کے بعد جب حضرات صحابہ کرام روزہ کے خوگر ہوگئے اور روزہ رکھنا ان پر شاق گراں نہ رہا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ شھر رمضان الذی انزل۔۔۔ الی۔۔۔ فلیصمہ۔ آیت۔ یعنی جب رمضان المبارک کا مہینہ آئے تو ہر شخص پر روزہ رکھنا فرض ہے اور اب کسی کو اجازت نہیں کہ مشقت کی وجہ سے روزہ افطار کرلے اور ایک مسکین کو کھانا کھلا دے البتہ مریض اور مسافر کو اجازت دی گئی کہ مرض اور سفر کی وجہ سے روزہ افطار کرے اور بعد میں اس کی قضا کرلے وہ اجازت اسی طرح اب بھی باقی ہے فقد افطار اور فدیہ کی رخصت منسوخ ہوئی ہے مریض اور مسافر کی رخصت منسوخ نہیں ہوئی حضور سرور کائنات کی وفات تک یہی حکم اور اسی پر عمل درآمد رہا اور آپ کے بعد خلفاء راشدین سے لے کر اب تک تمام علماء اور فقہاء کا فتوی اور تمام روئے زمین کے مسلمانوں کا یہی عمل رہا۔ ایک شبہ) ۔ یہاں پہنچ کر شاید کسی کو یہ خیال آئے وعلی الذین یطیقونہ کا عطف پہلے جملہ پر ہے اور یہ جملہ پہلے کے ساتھ غایت درجہ مربوط اور متعلق ہے لہذایہ کہنا کہ اول کتب علیکم الصیام کا حکم نازل ہوا اور جب صحابہ نے شدت اور مشقت کی شکایت کی اور تو یہ دوسرا جملہ وعلی الذین یطیقونہ نازل ہوا اور اس جملہ کو پہلے کلام سے جدا کرنا سمجھ میں نہیں آتا۔ جواب) ۔ یہ ایسا جملہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی، لایستوی القاعدون من المومنین۔ آیت۔ تو حضرت عبداللہ بن ام مکتوم نے عرض کیا یارسول اللہ میں تو نابینا ہونے کی وجہ سے جہاد میں شریک نہیں ہوسکتا ان کے شکوہ کے جواب میں غیراولی الضرر کے الفاظ اور نازل ہوئے اور جس طرح کلو واشربوا حتی یتبین الکم الخیط الابیض من الخیط الاسود کے نازل ہونے کے بعد بعض لوگوں نے ظاہری معنی سمجھ کر تکیہ کے نیچے دو دھاگے رکھنے شروع کردیے تو اس اشتباہ کے زائل کرنے کے لیے من الفجر کا نزول ہوا۔ پس جس طرح غیر اولی الضرر اور من الفجر کا باوجود ماقبل کے ساتھ شدید تعلق ہونے کے جدگانہ نزول ہوسکتا ہے اسی طرح علی الذین یطیقونہ کا بھی باوجود ماقبل سے مربوط ہونے کے علیحدہ نازل ہوسکتا ہے حالانکہ من الفجر اور غیر اولی الضرر، نہ مسند ہے اور نہ مسند الیہ بلکہ متعلقات میں سے ہے وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین تو یہ پورا جملہ ہے پس جب کہ الفاظ مفردہ کا علیحدہ نزول جائز اور واقع ہے تو پورے جملہ کے علیحدہ نزول میں کیوں اشکال ہے اللہ ہی آیات کے نازل فرمانے والے ہیں آیات کو متفرقا نازل فرماتے ہیں اور پھر مطعل فرمادیتے ہیں کہ اس آیت کو فلاں جگہ رکھاجائے اور اس آیت کو فلاں جگہ اور اس مفرد اور اس جملہ کا فلاں مفرد اور فلاں جملہ سے تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ نزول کی ترتیب اور ہے اور موجودہ مصحف کی ترتیب اور ہے اور اس وقت جس ترتیب سے قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے یہ بعینہ وہی ترتیب ہے کہ جس ترتیب سے جبریل امین حضور پرنور ﷺ سے ہر رمضان میں دور فرماتے تھے اللہ جل شانہ نے اپنی حکمت بالغہ اور رحمت کاملہ سے بہت سے احکام بندوں کو بتدریج سہولت کے ساتھ احکام کا مکلف بنایا جس طرح ابتداء اسلام میں نماز میں سہولتیں تھیں سلام و کلام بھی نماز میں جائز تھا بعد میں شریک ہونے والا اپنے قریبی نمازی سے یہ بھی پوچھ لیا کرتا تھا کہ کتنی رکعتیں ہوچکی ہیں مگر بعد میں یہ تمام سہولتیں اور رخصتیں یک لخت منسوخ ہوگئیں۔ اسی طرح روز کے احکام میں تدریج اور سہولت کو مرعی رکھا گیا بالاآخر جب صحابہ کرام کو نفس قدسیہ حق جل وعلا کے انور و تجلیات سے روشن ہوگئے اور روزہ کی طبعی مشقت اور گرانی بھی دل سے بالکل نکل گئی تو اب ہمیشہ کے لیے یہ حکم قطعی آگیا کہ فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ اور اس آیت کے نزول کے بعد صحابہ کرام کی یہ کیفیت ہوئی کہ روزہ کی شدت اور مشقت مبدل بہ فرحت ولذت ہوگئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حضور پرنور تو مسلسل روزہ رکھنے کی ممانعت فرماتے ہیں اور صحابہ کرام صوم وصال اور صائم الدہر ہونے پر اصرار کرتے ہیں۔ رفع تعارض) ۔ اس مقام پر صحیح بخاری کی روایات میں بظاہر کچھ تعارض کا شبہ ہوتا ہے کہ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت فدیہ کا ناسخ فمن شھد منکم الشھر ہے اور بعض روایات سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آیت فدیہ کا ناسخ وان تصوموا خیرلکم۔ کی آیت ہے۔ جواب) ۔ یہ کہ حضرات محدثین بسا اوقات اپنے مدعا کے ثابت کرنے کے لیے آیت کا ابتدائی حصہ نقل کرکے چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ آیت کے ابتدائی حصہ کو مدعا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن درحقیقت اس سے پوری آیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ تم اس آیت کو اخیر تک پڑھ جاؤ محل استشہاد خود تمہارے سامنے آجائے گا اور تم خود ہی اس کو متعین کرلو گے جیسا کہ امام ترمذی نے باب ان فی المال میں یہی حدیث لانے کے بعد استشہاد میں آیت لیس البر ان تولوا وجوھکم۔ الخ۔ لکھ کر چھوڑ دی حالانکہ آیت کے اس ابتدائی جملہ کو باب سے کوئی تعلق نہیں مطلب یہ ہے کہ تم اس آیت کو اخیر تک پڑھ لو۔ اور جب تم واتی المال علی حبہ پر پہنچو گے تو موقعہ استدلال خود تمہارے سامنے آجائے گا اسی طرح وان تصوموا خیرلکم سے فقط یہی الفاظ مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ تم اس آیت کو اخیر تک پڑھتے چلے جاؤ اور جب تم فمن شھد منکم الشھر پر پہنچو تو محل استدلال کو سمجھ لو اور متعین کرلو کہ فدیہ کا صل نسخ اس آیت سے ہوا ہے وان تصوموا خیرلکم اس کی تمہید تھی نیز یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ دونوں ہی آیتیں حکم فدیہ کی ناسخ ہیں یعنی ہر آیت سے فدیہ کا نسخ معلوم اور مفہوم ہوتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ وان تصوموا خیرلکم میں لفظ خیر واقع ہوا ہے جو استحباب اور فضیلت پر دلالت کرتا ہے وجوب اور لزوم پر دلالت نہیں کرتا لہذا وہ گزشتہ تخیر کے لیے کیسے ناسخ ہوگا جواب یہ ہے کہ خیر کا لفظ کبھی وجوب اور زلوم کے موقعہ پر بھی مستعمل ہوتا ہے جیسے ولاتقولوا ثلاثۃ، انتھوا خیرالکم۔ آیت۔ تثلیث سے باز آجانے کو خیر فرمایا حالانکہ یہ کسی کا مذہب نہیں کہ جائز تو تثلیث بھی ہے مگر ترک تثلیث، تثلیث سے افضل ہے اور اس آیت میں خیر کا لفظ شر کے مقابلہ میں ہے فرض اور واجب کے مقابلہ میں نہیں خوب سمجھ لو۔ دوسرا گروہ) ۔ اور علماء کی ایک جماعت کا یہ مسلک ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں اس گروہ نے آیت کی مختلف توجیہات کی ہیں۔ توجیہ اول) ۔ پہلی توجیہ یہ ہے کہ یطیقون کا مادہ طاقت ہے جس کے معنی کسی پر نہایت مشقت اور محنت کے ساتھ قادر ہونے کے ہیں اور بسہولت قادر ہونے کو وسع کہتے ہیں تو اب آیت کے یہ معنہ ہوں گے کہ جو روزہ رکھنے پر بدقت تمام قادر ہوں جیسا کہ شیخ کبیر اور عجوز یعنی بہت بوڑھا مرد اور بہت بوڑھی عورت ان کے لیے اجازت ہے کہ وہ روزہ افطار کرلیں اور اس کے بدلہ میں فدیہ ادا کریں اور اس معنی کی تائید ایک قرات سے بھی ہوتی ہے جو عبداللہ بن عباس سے منقول ہے وہ یہ کہ بجائے یطیقونہ کے یتطوقونہ اور یطوقونہ۔ پڑھتے تھے جس کے معنی بہ تکلف اور بہ مشقت روزہ رکھنے کے ہیں اس لیے مناسب ہے کہ یطیقونہ کی قرات کے بھی یہی معنی لیے جائیں تاکہ دونوں قراتیں مطابق اور ہم معنی ہوجائیں رہایہ سوال کہ یطیقونہ کا لفظ باعتبار لغت کے بھی اس معنی کا متحمل ہوسکتا ہے یا نہیں سوا کے لیے علامہ زمخشری کا کلام پیش کردینا کافی ہے کہ جو لغت عربیت میں عرب اور عجم کا مسلم شیخ اور امام ہے چناچہ فرماتے ہیں۔ ترجمہ۔ اور ہوسکتا ہے کہ یطیقونہ کے معنی لیے جائیں کہ جو لوگ نہایت مشقت اور انتہائی محنت کے ساتھ روزہ رکھ سکیں۔ (کشاف ص 428 ج 1) ۔ اس کے بعد غایت سے غایت کوئی یہ کہے گا کہ یہ معنی مجازی ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں حقیقی معنی مراد لینا اگر متعذر ہوں تو بالاجماع مجازی معنی مراد لینا ضروری ہے جس کے شواہد قران کریم اور حدیث نبوی اور کلام عرب میں بیشمار ہیں اور قرینہ مجاز اس مقام پر یہ ہے کہ تمام امت محمدیہ کے علماء اور فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ ایک صحیح سالم تندرست آدمی کے لیے ہرگز اجازت نہیں کہ وہ فی یوم ایک مسکین کو کھانا دے کر روزہ سے رستگاری حاصل کرلے ورنہ روزہ کا حکم فقط غرباء وفقراء کی حد تک محدود ہوکررہ جائے گا اور امراء اور اغنیاء تمام کے تمام فدیہ دے کر روزہ کی فرضیت سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ دوسری توجیہ) ۔ شیخ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ یطیقون سے پہلے ایک لامقدر ہے اور معنی یہ ہیں کہ جول لوگ روزہ کی طاقت نہیں رکھتے جیسا کہ یبین اللہ لکم ان تضلوا میں باالاتفاق لاتضلوا کے معنی مراد ہیں ا اور لا مقدر ماننے کی تائید ایک قرات سے بھی ہوتی ہے جس میں حضرت حفصہ نے لا یطیقونہ پڑھا ہے، حضرات اہل علم کف الاسرار بزدوری ص 151 ج 1 کی مراجعت کریں۔ تیسری توجیہ) ۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے اس آیت کی ایک لطیف توجیہ فرمائی ہے کہ وہ یہ کہ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک یطیقونہ کی ضمیر مفعول، صوم کی طرف راجع نہیں بلکہ یہ ضمیر طعام کی طرف راجع ہے جو گولفظوں میں موخر ہے مگر رتبۃ مقدم ہے کیونکہ علی الذین یطیقونہ خبر مقدم ہے اور فدیہ مبتداء موخر ہے اور طعام مسکین مبتداء سے بدل ہے پس جس طرح مبتداء رتبۃ مقدم ہے اگرچہ لفظوں میں موخر ہے اسی طرح مبتداء کا بدل بھی ربتۃ مقدم ہے اور فدیہ سے مراد صدقہ فطر ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے روزوں کی فرضیت بیان فرمائی اور اس آیت میں روزوں کے بعد صدقہ فر کا ذکر فرمایا اور اس سے اگلی آیت میں روزوں کے بعد تکبیرات عید کی طرف اشارہ فرمایا ولتکبرواللہ علی ماھداکم اب آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ جو روزہ دار کھانا دینے کی طاقت رکھتے ہیں رمضان گزرنے کے بعد وہ صدقہ فطر بھی ادا کریں۔ خلاصہ کلام) ۔ یہ کہ اگر یہ آیت صحیح اور تندرست کے بارے میں ہے تو منسوخ ہے اور اگر شیخ فانی اور عاجز کے حق میں ہے تو آیت محکم ہے اور شیخ فانی اور عاجز کے لیے اب بھی یہی حکم ہے۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں

ترغیب دعا بعد تلقین تکبیر وثناء۔ قال تعالی، واذا سالک عبادی عنی۔۔۔ الی۔۔۔ یرشدون۔ گزشتہ آیات میں اللہ کی تکبیر اور ثناء کا بیان تھا اب اس آیت میں دعا کا بیان ہے کہ دعا سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور دعا سے پہلے تکبیر اور ثناء کا بیان اس طرف مشیر ہے کہ دعا کا ادب اور طریقہ یہ ہے کہ پہلے اللہ کی حمد وثناء کی جائے اور پھر حاجت کی درخواست کی جائے انبیاء کرام کا یہی طریقہ رہا ہے اور عجب نہیں خہ اس طرف بھی اشارہ ہو کہ ماہ رمضان قبولیت دعا کا مہینہ ہے اس کو غنیمت سمجھو دعا کو روزہ کے ساتھ خاص مناسبت اور خاص تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ روزہ دار کی دعا بہ نسبت غیرروزہ دار کے زیادہ قبول ہوتی ہے جیسا کہ احادیث میں بکثرت آیا ہے اس لیے احکام صیام کے دوران میں دعا کا ذکر نہایت مناسب ہوا چناچہ فرماتے ہیں اور جب استفسار کریں آپ سے میرے بندے میرے متعلق کہ ہمارا پروردگار ہم سے قریب ہے یا بعید اگر قریب ہے تو اس سے مناجات کریں اور اگر دور ہے تو اس کو پکاریں تو آپ ان کے جواب میں میری طرف سے یہ کہہ دیجئے کہ تحقیق میں تو تم سے بہت ہی نزدیک ہوں تمہاری جان اور وجود سے بھی زیادہ قریب ہوں تم کو دیکھتا ہوں اور تمہاری آواز بلاتشویش علیحدہ علیحدہ سنتا ہوں تم مجھ کو نہیں دیکھتے اس لیے تم مجھ کو دور سمجھتے ہو ورنہ حقیقت میں میں تم سے بہت قریب ہوں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جس وقت بھی وہ مجھ سے درخواست کرے بشرطیکہ مناسب بھی ہو اور کسی حکمت اور مصلحت کے خلاف بھی نہ ہو جیسا کہ دوسری جگہ آیا ہے بل ایاہ تدعون فیکشف ما تدعون الیہ، انشاء اللہ۔ اگر اللہ چاہتا تو دعا کو منظور کرتا ورنہ نہیں پس گزشتہ آیت کو جو اجابت دعا کے حق میں مطلق ہے اس دوسری آیت پر جو مقید ہے محمول کرنا چاہیے پس بندوں کو بھی چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین لائیں تاکہ رشد اور ہدایت پائیں اور میں بےنیاز اور غنی مطلق ہوں اور پھر بندوں کی درخواست سنتا ہوں اور اے بندو تم میرے من کل الوجوہ محتاج ہو تم کو چاہیے کہ میرا قرب اور رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی ہر حاجت میرے سامنے پیش کرو اور میری باتوں پر یقین رکھو اور میرے احکام کو قبول کرو اللہ سے مانگنا یہی ہدایت اور رشد کا راستہ ہے۔ 1) ۔ جس طرح اللہ کی ذات اور صفت بےچون وچگون ہے اور حیطہ عقل سے بالاتر ہے اسی طرح اس کا قرب بھی بےچون وچگون ہے۔ جاں بتوں نزدیک تو دوری ازو قرب حق را چوں بدانی اے عمو۔ 2) ۔ دعا کا مقتضی تو یہی ہے کہ قبول ہو کیونکہ اللہ جواد اور کریم ہیں اور ہر شے پر قادر ہیں ابوداود اور ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو تمہارا پروردگار بڑا حیاء والا اور کرم والا ہے جب بندہ اس کے سامنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کو شرم آتی ہے کہ اس کو خالی ہاتھ واپس کردے انتہی۔ لیکن اگر بندہ ہی آداب دعا اور شرائط قبولیت کو ملحوظ نہ رکھتے تو مستحق قبولیت نہیں ہوتا مثلا دعا مانگنے میں حدود سے تجاوز کرجائے یا جوش میں آکر قطع رحمی یا کسی کی ہلاکت اور بربادی کی دعا مانگنے لگے اور اللہ کے علم میں مقدر ہوچکا ہے کہ یہ شخص آئندہ چل کر اس کادوست بن جائے گا اور اس بددعا کرنے والے کو طرح طرح کے فائدے پہنچائے گا تو اس دعا کا قبول نہ کرنا اسی کے حق میں مفید ہوگا اللہ کا ارشاد ہے، ادعوکم ربکم تضرعا و خفیہ، انہ لایحب المعتدین۔ اپنے پروردگار سے عاجزی اور پوشیدگی کے ساتھ دعا مانگو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ تعالیٰ سے حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ جو سفر میں ہے اور پراگندہ بال اور آشفتہ حال ہے اور آسمان کی طرف دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے یعنی قبولیت دعا کے اسباب مجتمع ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ کھانا بھی اس کا حرام ہے اور پینا بھی حرام ہے اور لباس بھی حرام کا ہے اور غذا بھی حرام کی ہے پھر کہاں دعا قبول ہو۔ مسلم۔ حاصل یہ نکلا کہ اگر یہ موانع نہ ہوتے تو دعا ضرور قبول ہوتی کسی شے کے وجود کے لیے فقط اسباب کا مجتمع ہوجانا کافی نہیں بلکہ ارتفاع موانع بھی لازم ہے بعض علماء کا قول ہے کہ قبولیت دعا کے معنی یہ ہیں کہ دعا بھی کبھی ضائع نہیں ہوتی یا تو اللہ اس کی مانگی ہوئی چیز عطا فرمادیتے ہیں یا دنیا میں کوئی آنے اولی بلا اور مصیبت دور ہوجاتی ہے یا آخرت کے لیے ذخیرہ کرکے رکھتے ہیں تاکہ وہاں اس کو اس سے ہزاراہا درجہ بڑھ کر عطا فرمائیں جیسا کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ اگرچہ عام ہیں مگر مراد خاص ہے مطلب یہ کہ دعا مانگنے والے کی دعا ہم قبول کرتے ہیں اگر ہم چاہیں جیسا کہ دوسری جگہ ہے، فیکشف ماتدعون ان شاء۔ آیت۔ اللہ اس مصیبت کو دور فرمادیتے ہیں جس کے زائل ہونے کی تم دعا مانگتے ہو اگرچہ یعنی اگر منشاء نہ ہوگا تو پھر مصائب کو دفع نہ کریں گے۔ 3) ۔ یا آیت کا یہ معنی ہیں کہ میں دعا مانگنے والوں کی آواز اور پکار کو سنتا ہوں بتوں کی طرح غائب نہیں بلکہ بندہ جو مجھ کو پکارتا ہے تو میں جواب دیتا ہوں اور لبیک یاعبدی کہتا ہوں غرض یہ کہ آیت میں اجابت کے معنی قبولیت کے نہیں بلکہ پکار سننے اور جواب دینے کے معنی ہیں رہا یہ امر کہ تمہاری آرزو پوری کروں گا یا نہیں آیت میں اس سے کوئی تعرض نہیں ہے۔ 4) ۔ دعا مانگنا اور اللہ سے درخواست کرنا اور شے ہے اور محض زبان سے الفاظ دعا کا پڑھ لینا اور شے ہے دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے خوب سمجھ لو۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

روزوں کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی عورتوں کے پاس جانا جائز کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سے درگزر فرمائی اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو اور جو چیز خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو خدا سے طلب کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا اسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں

حکم چہارم متعلق بہ سحور وافطار۔ قال تعالی، احل لکم لیلۃ الصیام۔۔۔۔ الی۔۔۔ الی الیل۔ ابتداء اسلام میں سونے سے پہلے کھانے اور پینے اور عورتوں سے جماع کرنے کی تو اجازت تھی لیکن اگر سوجانے کے بعد آنکھ کھلے تو پھر اجازت نہ تھی بعض صحابہ بغیر کھائے پیے سو رہے اور اسی طرح روزہ رکھ لیا بھوک اور پیاس کی شدت کی وجہ سے غشی طاری ہوئی اور بعض سونے کے بعد عورتوں سے صحبت کربیٹھے اور بعد میں سخت نادم اور پیشمان ہوئے اور حضور کی خدمت میں حاضر ہوکرتائب ہوئے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہ حکم منسوخ ہوا چناچہ فرماتے ہیں جائز اور حلال کردیا گیا تمہارے لیے روزے کی رات میں اپنی عورتوں سے مشغول ہونا جیسے روزہ دار کے لیے شب میں کھانا اور پینا جائز کردیا گیا اسی طرح اپنی عورتوں سے مخالطت بھی جائز کردی گئی طبعی میلان کی وجہ سے صبر دشوار ہے کیوں کہ عورتیں تمہارے لیے بمنزلہ لباس کے ہیں اور تم ان کے لیے بمنزلہ لباس کے ہو اس لیے احتراز مشکل ہے اس لیے روزوں کی رات میں مخالطت کو حلال کردیا گیا اور گزشتہ ممانعت تم سے ختم کردی گئی اللہ نے جان لیا کہ تم اپنے نفسوں سے خیانت کرتے تھے یعنی حکم خدواندی میں تقصیر اور کوتاہی کرتے تھے مگر جب تم اپنی اس خیانت پر نادم اور پیشمان ہوئے اور معذرت کی تو اللہ نے تم پر عنایت فرمائی اور تمہارا قصور معاف کیا اور تمہاری خیانت سے درگزر کیا پس اب تم کو اجازت ہے بوقت شب کہ ہم بستر ہو تم ان سے اور جو اولاد اللہ نے تمہارے لیے مقدر کی ہے اس کو طلب کرو کہ یہ مبارک مہینہ ہے اس نیت سے اگر صحبت کرو گے تو اس مہینہ کی برکت سے اولاد بھی مبارک ہوگی اور جس طرح تم کو رمضان کی راتوں میں ہم بستری کی اجازت دی گئی اسی طرح تم کو یہ بھی اجازت ہے کہ کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ سفید خط یعنی صبح صادق کا نورانی خط، رات کے سیاہ خط سے ممتاز کردے اور جدا ہوجائے یعنی تم کو صبح صادق تک کھانے اور پینے اور عورتوں سے جماع کرنے کی اجازت ہے سابق ممانعت منسوخ کردی گئی پھر صبح صادق سے لے کر رات کے آنے تک روزہ کو پورا کرو یعنی غروب آفتاب تک پورا کرو۔ 1) ۔ من الفجر میں من تبعیض کے لیے ہے یا تبیین کے لیے ہے اگر تبعیض کے لیے ہے تو یہ معنی ہوں گے کہ وہ خط ابیض جو فجر کا ایک حصہ ہے اور اگر من بیانیہ تو یہ معنی ہوں گے کہ وہ خط ابیض کہ جو بعینہ خود فجر ہے اور لفظ خیط ک لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ فجر کا اگر ادنی حصہ مثل تاگے کے بھی ظاہر ہوجائے تو کھانا اور پینا حرام ہوجاتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ من سببیہ ہے یعنی فجر کے طلوع ہونے کی وجہ سے خط ابیض ظاہر ہوجائے۔ 2) ۔ خط ابیض اور خط اسود کا استعمال صبح کی روشنی اور رات کی تاریکی میں شائع اور ذائع تھا کسی تفسیر اور بیان کا محتاج نہ تھا لیکن جب لوگوں کو محض ظاہری لفظ کی بناء پر آیت کے مطلب میں اشتباہ ہو تو مزید توضیح کے لیے من الفجر کا لفظ نازل ہوا۔ عدی بن حاتم سے روایت ہے کہ جب آیت، حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود۔ آیت۔ نازل ہوئی تو میں نے ایک سیادہ دھاگا اور ایک سفید دھاگا اور دونوں کو اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لیا اور دونوں کو دیکھتا رہا رات کی تاریکی میں دونوں میں کچھ فرق نہ معلوم ہوا صبح کو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ عرض کیا آپ صلی اللہ یہ واقعہ سن کر ہنس پڑے اور یہ فرمایا، انک لعریض القفا۔ یعنی تو کم عقل ہے۔ یہ تو دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی ہے اور من الفجر کا لفظ نازل ہوا تاکہ ظاہر بین غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں یعنی خط ابیض اور خط اسود سے ظاہری معنی مراد نہیں بلکہ معنی مجازی مراد ہے اور کنائی مراد ہیں اور اسی پر تمام امت کا اجماع ہے کہ خط ابیض سے صبح صادق مراد ہے۔ 3) ۔ فجر تک جماع کی اجازت ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر جنب صبح صادق کے بعد غسل جنابت کرے تو اس کا روزہ صحیح ہے جنابت روزہ کے منافی نہیں۔ حکم پنجم دربارہ اعتکاف۔ قال تعالی، ولاتباشروھن۔۔۔ الی۔۔۔ یتقون۔ روزہ کے بعد اعتکاف کے مسائل بیان فرماتے ہیں اور اسی وجہ سے فقہاء کرام کتاب الصوم کے بعد کتاب الاعتکاف لاتے ہیں اقتداء بالقرآن مجید اور مت ہاتھ لگاؤ اپنی بیویوں کو اس حالت میں کہ جب تم مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے ہو اگرچہ تم کسی ضرورت سے مسجد سے باہرنکلے ہو خواہ دن ہو یا رات ہو بہرحال اعتکاف کی حالت میں بیوی کے پاس جانا حرام ہے روزہ اگرچہ غروب آفتاب پر ختم ہوجاتا ہے لیکن اعتکاف کی حالت میں بیوی کے پاس جانا حرام ہے اعتکاف دن اور رات دونوں کا ہوتا ہے اور معتکف اگرچہ کسی ضرورت استنجاء وغیرہ کی بناء پر مسجد سے باہر آئے لیکن حکما وہ مسجد میں ہی معتکف اور مقیم ہے اس لیے معتکف کو مسجد سے باہر جاکر بھی صحبت کی اجازت نہیں یہ تمام احکام اللہ کی حدود ہیں جو حلال و حرام میں حد فاصل ہیں پس ذرہ برابر ان سے تجاوز نہ کرو بلکہ ان کے قریب بھی نہ جاؤ قریب جانے سے اندیشہ ہے کہ کہیں حدود ممنوعہ میں داخل نہ ہوجاؤ دین کی برات اور نزاہت اگر چاہتے ہو توشبہات سے بھی بچو اسی وجہ سے ارشاد ہے ولاتقربوا مال الیتیم۔ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ چہ جائیکہ اس کو ہضم کرجاؤ۔ اسی طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے واضح طور پر بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ اللہ کی حدود ممنوعہ میں داخل ہونے سے بچتے رہیں اپنے قدم کو معصیت کی حدود سے بچائے رکھنے ہی کا نام تقوی اور پرہیزگاری ہے۔ 1) ۔ حالت اعتکاف میں بیوی سے مباشرت حرام ہے مباشرت سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ 2) ۔ وانتم عاکفون فی المساجد۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف سوائے مسجد کے کسی اور جگہ صحیح نہیں ہے۔ 3) ۔ اعتکاف ہر مسجد جماعت میں درست ہے کسی مسجد کی خصوصیت نہیں اس لیے کہ آیت میں لفظ مساجد عام ہے امام مالک یہ فرماتے ہیں کہ سوائے مسجد جمعہ کے کسی اور مسجد میں اعتکاف درست نہیں۔ 4) ۔ اعتکاف رمضان المبارک کے اخیر عشرہ میں سنت موکدہ ہے مگر سنت کفایہ ہے محلہ یا شہر میں بعض کے اعتکاف کرنے سے سنت ادا ہوجاتی ہے سب پر لازم نہیں۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو (رشوتاً ) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر نہ کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

حکم ششم منع از مال حرام۔ قال تعالی، ولاتاکلو اموالکم بینکم۔۔۔ الی۔۔۔ تعلمون۔ گزشتہ آیات میں روزہ اور دعا کا ذکر تھا اس آیت میں حرام مال کھانے کی ممانعت ہے اشارہ اس طرف ہے کہ روزہ اور دعا کی قبولیت کے لیے اکل حلال شرط ہے نیز پہلے افطار اور سحری کا ذکر تھا اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ افطار اور سحری حلال روزی سے ہونا چاہیے نیز اصلی مقصود روزہ سے طہارت نفس ہے تو جب طہارت نفس کے لیے روزہ میں حلال مال کے استعمال کی اجازت نہ رہی تو حرام مال کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے حلال مال سے روزہ تو صرف تیس دن کا ہے اور حرام مال سے روزہ مدت العمر کے لیے ہے یعنی ساری عمر کا صوم وصال ہے چناچہ فرماتے ہیں اور مت کھاؤ ایک دوسرے کے مال ناحق طریقہ سے ہر ایک کو چاہیے کہ دوسرے کے مال کو اپنا مال سمجھ کر حفاظت کرلے اور مت لے جائے مال کے جھوٹے مقدمے حکام کی طرف اس غرض سے کہ کھاجاؤ کہ لوگوں کے مال کا ایک حصہ ظلم اور ستم اور فریب کے ذریعہ سے اور حالانکہ تم جانتے ہو کہ تم اس معاملہ میں حق پر نہیں رشوت دے کر اپنے موافق فیصلہ کر الینے سے وہ مال تمہارا نہیں ہوجاتا وہ مال لوگوں ہی کا رہتا ہے جیسا کہ لفظ اموال الناس سے مفہوم ہوتا ہے یعنی باطل فیصلہ سے وہ مال لوگوں کی ملک سے نہیں نکل سکتا جو اس کے اصل مالک ہیں البتہ حکام چونکہ حقیقت حال سے واقف نہیں ظاہر حال کے موافق فیصلہ کردیتے ہیں وہ معذور ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں معلوم ہوا کہ اگر حاکم ظاہرا شریعت کے موافق فیصلہ کردے اور دل سے کسی جانب اس کا میلان نہ ہو تو اس کو عنداللہ اجر ملے گا اور اگرچہ وہ فیصلہ فی نفسہ ناحق اور گناہ ہو۔ مسئلہ) ۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ قضاء قاضی سے کوئی حرام شے حلال نہیں ہوتی جیسا کہ بخاری ومسلم میں ام سلمہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اے لوگو میں تمہارے طرح بشر ہوں اور تم میرے پاس اپنے جھگڑے اور مقدمے فیصلہ کرانے کے لیے لاتے ہو اور ممکن ہے تم میں سے بعض لوگ اظہار مدعا میں دوسرے سے زیادہ لسان اور فصیح اللسان ہوں اور میں اس کے ظاہری بیان پر اور برہان پر اس کے موافق فیصلہ کردوں تو تم کو چاہیے کہ اگر میں شہادت کے اعتبار سے اس کو دوسرے مسلمان بھائی کا حق دلادوں تو اس کو ہرگز نہ لو کیونکہ حقیقت میں میں نے اس کو آگ کا انگارہ دے دیا ہے۔ اور یہی تمام علماء کا مذہب ہے کہ یہ مال اس پر حرام ہے اور قضاء قاضی فقط ظاہرا نافذ ہوتی ہے باطنا نافذ نہیں ہوتی اور امام ابوحنیفہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ املاک مرسلہ میں قضاء قاضی فقط ظاہرا نافذ ہوتی ہے باطنا نہیں یعنی جس صورت میں مالک کی پہلے سے ملک ثابت ہو وہاں اگر کوئی جھوٹا دعوی اور جھوٹی شہادت کے ذریعہ سے اپنے موافق فیصلہ کرالے تو وہ شے اس کے لیے حلال نہ ہوگی لیکن اگر عقود اور فسوخ میں قاضی نے کوئی فیصلہ کردیا تو قاضی کا حکم ظاہرا یعنی دنیوی احکام اور باطنا یعنی عنداللہ یکساں طور پر نافذ اور جاری ہوگا عقود سے معاملات مثل بیع وشراء اور اجارہ ونکاح مراد ہیں اور فسوخ سے معاملات کا فسخ کرنا اور توڑنا مراد ہے جمہور علماء اس صورت میں امام ابوحنیفہ کے خلاف ہیں امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ دو گواہوں نے حضرت علی کے سامنے گواہی دی کہ فلاں شخص کا فلاں عورت سے نکاح ہوگیا حضرت علی نے یہ فیصلہ فرمایا کہ یہ عورت اس مرد کو دلادی جائے اس عورت نے کہا اے امیر المومنین میرا اس شخص سے نکاح نہیں ہوا گر آپ کو یہی منظور ہے تو میرا نکاح اس کے ساتھ پڑھا دیجیے حضرت علی نے فرمایا ان گواہوں نے تیرا نکاح کردیا واللہ اعلم۔ یہ عورت پہلے سے کسی کی منکوحہ نہ تھی اس لیے یہ شہادت زور نکاح کے لیے کافی سمجھی گئی اور اگر کسی کی منکوحہ ہوتی تو بالاجماع اس کے لیے حلال نہ ہوتی امام اعظم کے نزدیک عقود وفسوخ سے اس قسم کی صورت مراد ہے۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ بلکہ نیکو کار وہ ہے جو پرہیزگار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

حکم ہفتم اعتبار حساب قمری۔ قال تعالی، یسئلونک عن الاھلہ۔۔ الی۔۔ والحج۔ گزشتہ آیات میں روزہ اور افطار اور سحر کا ذکر تھا جس کا تمام تر تعلق رویت ہلال سے ہے اس لیے ان آیات میں رویت ہلال کا مسائل کو ذکر فرماتے ہیں لوگ آپ سے چاندوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ ہلال اول باریک ظاہر ہوتا ہے پھر بڑھتا بڑھتا بدرجہ کامل ہوجاتا ہے آپ اس سوال کے جواب میں یہ کہہ دیجئے کہ یہ تغیر اور تبدل لوگوں کے دینی معاملات میں اوقات مخصوصہ اور مدت معینہ معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں اور خصوصا حج اور روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ کے لیے یعنی اس سے حج اور روزہ اور عدت کے ختم ہونے اور قرض وغیرہ کے معاملات کی مدت اور موقت کا علم ہوتا ہے قمری حساب کا جاننا نہایت آسنا ہے ہر شخص چاند کے حساب سے تاریخ شمار کرسکتا ہے شمسی حساب کے لیے جنتری درکار ہے ہر کس وناکس شمسی حساب کو نہیں سمجھتا علم ریاضی میں بغیر کمال حاصل کیسے شمسی حساب کا سمجھنا ممکن نہیں اور چاند کا حساب قدرتی اور آسان ہے جو سہولت قمری حساب میں ہے وہ شمسی حساب میں نہیں اس لیے شریعت نے حج اور روزہ اور زکوٰۃ اور عدت وغیرہ کا مدار قمری حساب پر رکھا ہے حج اور زکوٰۃ میں قمری حساب کا اعتبار ہے شمسی حساب کا اعتبار نہیں شریعت میں مہینہ اور سال قمری ہی معتبر ہے اور اس کا استعمال مسلمانوں کے لیے فرض کفایہ ہے اگرچہ دنیوی معاملات میں شمسی حساب کا استعمال جائز ہے لیکن اگر سب کے سب قمری حساب کو ترک کردیں تو گناہ گار ہوں گے جیسا کہ فرض علی الکفایہ کا حکم ہے۔ حکم ہشتم اصلاح بعض رسوم جاہلیت۔ قال تعالی، ولیس البر بان تاتوالبیوت۔۔۔ الی۔۔۔ تفلحون۔ گزشتہ آیت میں حج کا ذکر تھا آئندہ آیت میں حج کے متعلق جاہلیت کی ایک غلط رسم کی اصلاح فرماتے ہیں بخاری میں براء بن عازب سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جب احرام باندھ لیتے تو گھروں میں دروازوں سے نہ داخل ہوتے بلکہ مکان کی پشت کی طرف سے داخل ہوتے اور اس کو فضیلت سمجھتے اور قربت سمھتے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس میں کوئی فضیلت نہیں اور پرہیزگاری نہیں کہ تم حالت احرام میں گھروں میں پشت کی جانب سے آیا کرو لیکن نیکی اور بزرگی یہ ہے کہ حالت احرام میں خاص طور پر اللہ کے محرمات سے بچے اور جب تم کو گھروں میں آنے کی ضرورت ہو تو دروازوں کی طرف سے آؤ اور احکام خداوندی میں تغیر اور تبدل سے بچتے رہو کسی شے کو اپنی رائے سے طاعت اور معصیت سمجھ لینا تقوی کے خلاف ہے امید ہے کہ تم اپنی مراد کو پہنچو گے۔ ف) ۔ مکان میں پشت کی جانب سے داخل ہونا جائز اور مباح ہے لیکن اس کو عبادت اور نیکی سمجھنا بدعت ہے شریعت کی نظروں میں وہ برا اور تقوی کے خلاف ہے معلوم ہوا کہ کسی مباح کو نیکی اور بزرگی سمجھ لینا یہ بدعت ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہر کام کو اپنے طریقہ سے کیا کرو۔ اور اس معنی پر آیت کا ماقبل سے ایک لطیف ربط ہوجاتا ہے کہ بےمحل اور لایعنی سوال جیسا کہ تم نے ہلال کے گھٹنے اور بڑھنے کے متعلق کیا اس کی مثال ایسی ہے جیسے مکان میں پشت کی جانب سے داخل ہونا۔