Ayahs 2:128–134دعاء ابراہیمی برائے وجود امت مسلمہ وقوم مسلمانان و ظہور رسول محترم از ساکنان حرم کہ صاحب قرآن و خاتم پیغمبراں باشد
قال تعالیٰ ۔ ربنا واجعلنا مسلمین لک۔۔۔ الی۔۔۔ انک انت العزیز الحکیم
(ربط) ان دونوں بزرگوں نے اپنی فراست صادقہ اور نور نبوت سے یہ سمجھا کہ جب ہم کو ایسے خانہ تجلی آشیانہ کی تعمیر کا حکم ہوا ہے تو لا محالہ اس کے ہمرنگ کسی ایسی عبادت کا بھی حکم ہونے والا ہے جو عشق اور محبت کا رنگ لیے ہوئے ہو۔ اور ان عبادتوں کا بجا لانے والا صورۃً اگرچہ انسان ہوگا مگر معنیً ہمرنگ ملائک ہوگا گویا کہ دربار خداوندی کا معاینہ اور مشاہدہ کر رہا ہے اور جس امت کے لیے اس گھر کو قبلہ بنایا جائے گا اس کو ایسے جدید وضع کے کچھ احکام دئیے جائیں گے جن کے اسرار وحکم ظاہر نظر میں جلوہ گر نہ ہونگے ظاہر پرست ان کو صورت پرستی پر محمول کریں گے اس لیے ان دونوں بزرگوں کو اندیشہ ہوا کہ مبادا ہماری ذریت اور اولاد ان جدید وضع کے احکام کے نزول پر ان کے قبول میں کسی قسم کا توقف اور تردد کرے اس لیے جنابِ الٰہی میں تین دعائیں فرمائیں۔ اول یہ کہ ربنا واجعلنا مسلمین لک۔ (اے اللہ ہم کو اپنا مسلم اور حکم بردار بندہ بنا) دوسری دعا یہ فرمائی کہ اے اللہ ہماری ذریت میں ایک امت مسلمہ پیدا فرما یعنی ایسی امت اور ایسی قوم پیدا کر جو تیری فرمانبردارہو اور نام بھی اس قوم کا مسلم اور مسلمان ہو یعنی صفت بھی اس کی اسلام یعنی اطاعت شعاری اور فرمانبرداری ہو اور اسی نام یعنی اسلام سے پکاری جاتی ہو۔
تیسری دعا یہ فرمائی کہ اس امت امسلمہ میں ایک عظیم الشان رسول بھیج اور اس پر ایک عظیم الشان کتاب نازل فرما یعنی قرآن کریم اور پھر وہ رسول اس امت کو کتاب وسنت کی تعلیم دے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان دعاؤں میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ یہ کانہ تجلی آشیانہ جس امت کا قبلہ وگا اس امت کا نام امت مسلمہ ہوگا جیسا کہ سوۂ حج میں ہے۔ ھو سماکم المسلمین۔ اور ملت اسلام اس امت کا مذہب ہوگا اور وہ عظیم الشان رسول جو ان میں مبعوث ہوگا وہ ساکنان حرم اور اسمعیل کی ذریت سے ہوگا اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں قبول فرمائیں اور بذریعہ وحی کے بتلادیا کہ جس اولو العزم رسول کے پیدا ہونے کی تم دعا کر رہے ہو وہ آخر زمانہ میں ظاہر ہوگا اور خاتم الانبیاء والمرسلین ہوگا اور ملت ابراہیمی کا متبع ہوگا اور اس کی امت کا نام امت مسلمہ ہوگا۔ چناچہ ان دونوں بزرگوں نے بارگاہ خداوندی میں بصد عجز ونیاز یہ عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہم دونوں کو اپنا خاص اطاعت شعار اور فرمانبردار بنا کہ ہمارا ظاہر و باطن تیرے لیے مخصوص ہوجائے کہ اس میں تیرے سوا کسی اور کی گنجائش نہ رہے اور ہماری ذریت میں ایک امت مسلمہ یعنی ایک ایسی جماعت پیدا فرما کہ جو دل وجان سے تیری حکم بردار ہو اور قلب اس کا سلیم ہو اور مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے سالم اور محفوظ رہیں اور جب تو ان کو اپنے دربار کی حاضری کا حکم دے تو مجنونانہ اور عاشقانہ وضع کے ساتھ برہنہ سر لبیک کہتے ہوئے تیرے در ِ دولت پر حاضر ہوجائیں اور اے پروردگار ہم کو ہماری عبادت اور دربار کی حاضری یعنی حج اور طواف کے مواقع بھی دکھلا دیجئے اور ان کے احکام اور آداب بھی ہم کو بتلا دیجئے تاکہ آداب عبودیت اور آداب دربار میں ہم سے کوئی تصیر نہ ہوجائے اور اے پروردگار آخر ہم بشر ہیں سہو اور نسیان سے مرکب ہیں۔ ہم سے اگر آداب ِ دربار میں کوئی سہو اور تقصیر ہوجائے تو ہم پر توجہ اور عنایت فرمانا اور ہماری تقصیر سے درگزر فرمانا بیشک آپ ہی بڑی توجہ اور عنایت فرمانے والے اور مہربانی کرنے والے ہیں۔
اور چونکہ ایک عظیم امت کا باوجود اختلاف آراء وعقول کے ایک مسلک اور ایک طریق پر بدون کسی مربی کے قائم رہنا عادۃً محال ہے اس لیے جناب الٰہی میں یہ عرض معروض کی کہ اے ہمارے پروردگار ان ساکنان حرم میں ایک عظیم الشان رسول بھیج جو اس امت مسلمہ کو اسلام کا طریقہ بتلائے اور وہ رسول ہم دونوں کی ذریت اور اولاد سے خارج نہ ہو بلکہ انہی میں سے ہو تاکہ دنیا اور آخرت میں ہمارے لیے عزت اور شرف کا موجب ہو اور اس طرح قیامت تک میری امامت باقی رہے اس لیے کہ میری اولاد کی امامت میری ہی امامت ہے۔ علاوہ ازیں جب وہ رسول انہی میں سے ہوگا تو لوگ اس کے مولد اور منشاء سے اور اس کے حسب اور نسب اور اس کی امانت اور دیانت اور خلاق اور اس کی صورت اور سیرت سے بخوبی واقف ہونگے اور اس کے اتباع سے عار نہ کریں گے اور جب حق نبوت و رسالت کے ساتھ قرابت کی محبت اور شفقت بھی مل جائے گی تو اس رسول کی اعانت اور نصرت وحمایت اور اس کی شریعت کی ترویج اور اشاعت میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھیں گے اس نبی کو اپنا سمجھ کر معاملہ کریں گے۔ اجنبی اور غیر کا معاملہ نہ کریں گے۔ اور رسول ایسا ہو کہ اس پر ایسی جامع کتاب نازل ہو کہ اولین اور آخرین میں اس کی نظیر نہ ہو اور پھر وہ رسول تیری اس کتاب کی آیتیں پڑھ کر ان کو سنائے اس لیے کہ آیات کا پڑھ کر سنانا بغیر نزول کتاب کے ناممکن ہے۔ اور بعد ازاں وہ رسول ان کو اس کتاب کے معانی سکھائے اور اس کے اسرار وحکم سے بھی آگاہ کرے تاکہ علم ظاہر اور علم باطن دونوں جمع ہوجائیں۔ تلاوت سے کتاب کے الفاظ اور کلمات کا علم ہوگا اور تعلیم و تفہیم سے اس کتاب کے معانی اور حقائق اور معارف معلوم ہونگے۔ حفاظ قرآن اور قراء اور مجودین کے سینے اور زبانیں اس کتاب الٰہی کے الفاظ کی حفاظت کریں گی اور علماء ربانیین اور راسخین فی العلم کی زبانیں اور قلم اس کتاب کے معانی کی حفاظت کریں گے کہ کوئی ملحد اور زندیق اس میں کسی قسم کی معنوی تحریف بھی نہ کرسکے اور وہ رسول اپنی ظاہری تعلیم وتربیت اور باطنی فیض صحبت سے ان کے دلوں کو گناہوں کے زنگ اور کدورت سے پاک وصاف کر کے مثل آئینہ کے مجلے اور مصفی بنادے کہ انوار و تجلیات کا عکس قبول کرنے لگیں اور حدیث میں جو العلماء ورثۃ الانبیاء آیا ہے اس کا صحیح مصداق وہی علماء ربانیین ہیں جو کتاب وسنت کی تعلیم کے ساتھ زنگ آلود نفوس کو صیقل کر کے مثل آئینہ کے بنا دیتے ہو بیشک تو ہی نہایت عزت والا اور نہایت حکمت وال ا ہے۔ تو بلاشبہ اس پر قادر ہے کہ تو ہماری اولاد میں ایسا عظیم الشان رسول بھیج کر لوگوں پر احسان فرمائے اور اس کو ایسی جامع کتاب اور جامع شریعت اور کامل دین عطاء فرمائے کہ اس کے بعد تا قیامت کسی نبی اور رسول کی ضرورت باقی نہ رہے۔ فقط گاہ بگاہ اسی کی تجدید کافی ہوجایا کرے۔ تفسیر ابن کثیر میں ابو العالیہ سے منقول ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جواب آیا۔
قد استجیب لک ھو کائن فی آخر الزمان : تمہاری دعا قبول ہوئی اس شان کا نبی آخر زمانہ میں ظاہر ہوگا اور یہی قتادہ اور سدی سے منقول ہے۔
اور اس آیت میں جو سید القراء ابی بن کعب ؓ کی قراءت ہے وہ بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ نبی خاتم الانبیاء ہوگا۔
وقرا ابی وابعث فی آخرھم رسولا (روح المعانی ص 346 ج 1)
یعنی ابی بن کعب ؓ کی قراءت میں ہے وابعث فی آخرہم رسولا۔
یعنی ان کے آخر میں ایک رسول بھیج۔ معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم نے جس رسول کی دعا مانگی تھی ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ نبی آخری نبی ہو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔
اخرج احمد والطبرانی والبیھقی عن ابی امامۃ قال قلت یا رسول اللہ ما بدء امرک قال دعوۃ ابی ابراہیم و بشری عیسیٰ ورات امی انہ یخرج منھا نور اضاءت لہ قصور الشام (در منثور ص 129 ج 1) مبشرا بر سول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔
مسند احمد اور معجم طبرانی وغیرہ میں ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کی نبوت کی ابتداء کس طرح سے ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا (ربنا وابعث فیھم رسولا۔ الایۃ) کا مصداق ہوں سب سے پہلے ابراہیم نے میری بعثت کی دعا کی۔ اور پھر میں اپنے بھائی عیسیٰ بن مریم کی بشارت ہوں کہ انہوں نے میری آمد کی بشارت دی۔ اور پھر میں اپنی ماں کا خواب ہوں کہ انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایک نو رنکلا ہے جس سے شام کے محل روشن ہوگئے۔
اور عرباض بن ساریہ ؓ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
انی عندا للہ فی ام الکتاب لخاتم النبیین وان ادم لمنجدل فی طینۃ وسانبئکم باول ذلک دعوۃ ابراہیم (الحدیث)
میں اللہ تعالیٰ کے یہاں لوح محفوظ میں خاتم النبیین لکھا ہوا تھا اور آدم ہنوز مٹی اور گارے کے پتلے ہی میں تھے اور میری نبوت کی ابتداء ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہے (مسند احمد وغیرہ در منثور ص 129)
معلوم ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جس نبی اور رسول کے ظہور کی دعا کی تھی اس دعا کا مصداق خاتم النبیین سرور عالم محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں کہ جن کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ کے یہاں خاتم النبیین لکھے ہوئے تھے یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے آپ کی بعثت کی دعا کی اور حضرت عیسیٰ نے خاتم الانبیاء کی آمد کی بشارت دی۔
پیغآم خدا نخست آدم آورد انجام بشارت ابن مریم آورد
باجملہ رسل نامۂ بےخاتم بود احمد برما نامہ و خاتم آورد
لطائف ومعارف
حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوہ والسلام اگرچہ کبائر اور صغائر سے سب سے معصوم ہوتے ہیں مگر خداوند ذوالجلال کی عظمت اور جلال سے ہر وقت لرزاں وترساں رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حق ربوبیت اور حق عبودیت کسی سے ادا نہیں ہوسکتا اور جانتے ہیں کہ جو حق واجب تھا وہ ہم سے ادا نہ ہوسکا اس لیے بصد خشوع و خضوع خدا تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بار الٰہا تو ہمارے عجز اور قصور کو جانتا ہے ہمیں معاف کر اور تیرے حقوق میں ہم سے جو تقصیریں ہوئیں ان سے درگزر کر، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ کہنا اسی قبیل سے تھا۔ دنیا کے بادشاہوں اور ان کے خواص اور مقربین کے تعلقات پر نظر کرو عام رعایا کے لیے ایک عام قانون ہوتا ہے اور اس کی پابندی ان کے لیے کافی ہوتی ہے مگر خواص مقربین کے لیے ایک خاص قانون اور خاص بندشیں اور خاص ہدایتیں ہوتی ہیں۔
سوسیا آداب دانا دیگر اند
خواص اور مقربین ہر وقت اپنے آقا اور ولی نعمت کے خوش رکھنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں
جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے
یہی حال بلکہ اس سے ہزار درجہ بڑھ کر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا خداوند ذوالجلال کے ساتھ ہے۔ اگرچہ خدا تعالیٰ کے یہ سچے عاشقان با وفا اور محبان با صفا اپنے محبوب حقیقی کے خوش رکھنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے لیکن اللہ جیسے محبوب برحق کے حقوق کوئی عاشق کیا ادا کرسکتا ہے اس لیے حضرات انبیاء بصد عجز وزاری۔ بارگاہ خداوندی میں یہ عرض کرتے ہیں وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ بار خدایا ہم سے تیرے حقوق اور واجبات کے ادا کرنے میں تقصیر ہوئی ہم اپنے عجز اور ناتوانی کی وجہ سے تیرا حق ادا نہیں کرسکے تو ہم پر رحم فرما اور ہماری تقصیروں سے درگزر کر۔
یہ تو حضرات انبیاء کرام کی توبہ اور انابت کی عام وجہ تھی جو بیان ہوئی لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کی زیر بحث دعاء تب علینا کی ایک خاص وجہ اور بھی ہے وہ یہ کہ آپ نے یہ دعا صرف اپنے لیے اور اپنے فرزند اسمعیل (علیہ السلام) ہی کے لیے نہیں فرمائی تھی بلکہ اپنی تمام ذریت کو جو ہونے والی تھی اس کو بھی اس دعا میں شامل کرلیا تھا اس لیے یہ دعا مجموعی حیثیت سے سب کے حق میں ہوئی جیسا کہ آیت کے سباق اور لحاق سے ظاہر ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Ayah 2:135بندگی باید پیمبر زادگی درکار نیست
یہودیت اور نصرانیت کی طرف دعوت دینے والوں کو جواب
قال تعالی۔ وقالوا کونوا ھودا۔۔۔ الی۔۔۔ وماکان من المشرکین
اور تعجب ہے کہ یہ اہل کتاب حضرت ابراہیم کو اپنا امام اور پیشوا بھی کہتے ہیں مگر ان کے اتباع اور ان کے طریقہ پر چلنے کو جب ہدایت نہیں سمجھتے بلکہ باعث ضلالت جانتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہودی ہوجاؤ یا نصرانی بن جاؤ ہدایت پا جاؤ گے اے محمد ﷺ آپ ان کے جواب میں کہدیجئے کہ ہم یہودی ہوجاؤ یا نصرانی بن جاؤ ہدایت پاجاؤ گے اے محمد ﷺ آپ ان کے جواب میں کہدیجئے کہ ہم یہودی یا نصرانی نہیں بنیں گے بلکہ ہم تو ملت ابراہیمی پر قائم رہیں گے اور ابراہیم ہی کے طریقہ پر اور مسلک پر چلیں گے جن میں ذرہ برابر کجی نہ تھی وہ تو ماسوی اللہ کو چھوڑ کر اللہ کی طرف مائل تھے اور کبھی بھی مشرکین میں سے نہیں ہوئے نہ قبل نبوت اور نہ بعد نبوت اور تم باوجودیکہ اتباع ابراہیمی کے مدعی ہونے کے کج راہی اور شرک میں مبتلا ہو۔
سلسلۂ کلام نہایت خوبی کے ساتھ چل رہا ہے یہودیوں کو جو اپنے حسب ونسب پر ناز تھا اس کی تردید فرمائی ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا جس میں حضرت ابراہیم کی امامت اور تعمیر کعبہ اور دعا کا ذکر فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی دعا کے مطابق محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا جان کا قبلہ اور جن کی ملت اور جن کا دین وہی ہے جو حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کا تھا اور ان سب نے اپنی اولاد کو اسی کی وصیت کی تھی کہ دین اسلام ہی پر مرنا پھر تعجب ہے (محمد رسول اللہ ﷺ ) جب تمہارے سامنے اسی ملت ابراہیم اوردین اسلام کو پیش کرتے ہیں تو تم اسے قبول نہیں کرتے اس کے سوا اور کیا وجہ ہے کہ تمہاری عقلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔
فائدہ جلیلہ : حق جل شانہ نے اس سلسلہ میں سات جگہ اسلام کا ذکر فرمایا۔ پہلا واجعلنا مسلمین میں دوسرا امۃ مسلمۃ لک۔ تیسرا قال لہ ربہ اسلم۔ چوتھے اسلمت لرب العلمین میں۔ پانچویں ولا تموتن الا وانتم مسلمون میں۔ چھٹے ونحن لہ مسلمون میں۔ ساتویں لا نفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کرام کا مذہب اسلام ہے امم سابقہ میں جو لوگ اطاعت کرنے والے تھے ان کی صفت بھی یہی اسلام تھی مگر امت مسلمہ کا نام اور لقب حضور ہی کی امت کو عطا کیا گیا پچھلی امتوں میں بھی اسلام لانے والے گزرے ہیں مگر اسلام انکا لقب نہ تھا صرف صفت تھی۔ یہ لقب صرف امت محمدیہ کو عطاء کیا گیا ایک زمانہ میں دین حق کا لقب یہودیت رہا۔ اور ایک زمانہ میں عیسائیت۔ اور نصرانیت رہا۔ صفت اسلام سب میں مشترک رہی سب اللہ کے مطیع اور فرمانبردار تھے مگر امت مسلمہ کا لقب خاص آپ ہی کی امت کو عطا کیا گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ بادشاہ کے غلام تو سب ہی ہیں مگر غلام کا نام ہی غلام رکھ دیا جائے تو صفت اور لقب دونوں جمع ہوجائیں گے صفت بھی غلام اور لقب اور نام بھی غلام اور مثلاً جیسے سب اللہ کے بندے ہیں مگر کوئی اللہ کا بندہ اپنا نام ہی عبداللہ اور اللہ کا بندہ رکھے تاکہ ہر وقت اس کی عبدیت اور غلامیت سے لذت حاصل کرتا رہے تو اس کی شان ہی دوسری ہے۔
اور یہ مبارک لقب سب سے پہلے ہمارے لیے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے تجویز فرمایا جیسا کہ سورة حج میں ہے ملۃ ابیکم ابراہیم ھو سما کم المسلمین۔ پس اس عظیم الشان لقب کا حق یہ ہے کہ ہم دل وجان سے اللہ کے مطیع اور فرمانبردار بن جائیں محض لفظ مسلم اور لفظ مومن پر قناعت نہ کریں۔
میم و واؤ میم و نون تشریف نیست
لفظ مومن جز پئے تعریف نیست
فائدہ دیگر : جانان چاہئے کہ ہر شریعت میں تین باتیں ہوتی ہیں۔
اول : اصول اور عقائد جیسے توحید و رسالت اور قیامت یہ چیزیں تمام انبیاء کرام میں متفق علیہ ہیں ان میں اختلاف ممکن نہیں اور نہ ان میں نسخ جاری ہوتا ہے۔
قسم دوم : قواعد کلیۂ شریعت کہ جن کی طرف جزئیات اور فروع راجع ہوتے ہیں اور حکم میں ان کلیات کا لحاظ رہتا ہے اور انہی قواعد کلیہ کا نام ملت ہے جس میں اختلاف بہت کم ہوتا ہے ملت محمدی اور ملت ابراہیمی انہی اصول اور قواعد کلیہ کے لحاظ سے موافق اور متحد ہیں۔
(قسم سوم): احکام جزئیہ اور فروع جس کو شریعت کے نام سے موسوم کرتے ہیں زمان اور مکان اور امم کے اختلاف سے شریعت کے احکام جزئیہ بدلتے رہے کما قال تعالیٰ لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجا۔ پس خلاصہ یہ نکلا کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت تو ایک مگر شریعت ہر ایک کی جدا ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ تمام حنفیہ امام ابوحنیفہ کو اپنا امام جانتے ہیں مگر باوجود اس کے امام ابو یوسف اور امام محمد اور امام زفر کبھی کبھی امام ابوحنیفہ کا خلاف بھی کرتے ہیں مگر قانون حنفی سے کسی حال میں خارج نہیں اور امام ابوحنیفہ کے مذہب کے قواعد مقررہ سے بارہ نہیں جائے مثلاً قیاس جلی یا قیاس استحسان اور عموم بلویٰ کسی نہ کسی قاعدہ کے تحت میں اس جزئیہ کو درج کرتے ہیں۔
Ayahs 2:136–138تعلیم طریقۂ ایمان
قال تعالیٰ ۔ قولوا امنا باللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ونحن لہ عبدون
گزشتہ آیات میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ یہ کہہ دو کہ ہم یہودی اور نصرانی نہیں بلکہ ملت ابراہیمی کے متبع ہیں۔ آئندہ آیت میں طریقۂ ایمان کی تعلیم وتلقین فرماتے ہیں کہ اس طور پر اپنے ایمان کو ظاہر کرو کہ شریعت موسویہ اور شریعت عیسویہ کے کفر اور انکار کا ایہام نہ ہو لہذا جب تم اپنے ایمان کا علان کرو تو اس طرح کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر یعنی اس کے تمام اسماء وصفات پر اور اس کے تمام احکام پر اور اس کتاب اور شریعت پر ایمان لائے جو ہماری طرف بھیجی گئی اور ان تمام صحیفوں پر ایمان لائے کہ جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف بھیجے گئے جو ان میں نبی ہوئے جیسے عزیر اور اشعیاہ اور یرمیاہ اور سمویل اور حزقیل (علیہم السلام) اور اس چیز پر بھی ایمان لائے کہ جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کو دی گئی اور اجمالاً ہم ایمان لائے ان تمام صحیفوں پر اور شریعتوں اور احکام پر کہ جو تمام پیغمبروں کو پروردگار کی جانب سے دئیے گئے۔ اگرچہ ان میں بعض بعض سے افضل ہیں لیکن ہم ایمان لانے میں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے کہ بعض پر ایمان لائیں اور بعض پر نہ لائیں اور ہم تو خاص اللہ کے مطیع اور فرمانبردار ہیں۔ سب انبیاء پر بلا تفریق ایمان رکھتے ہیں البتہ منسوخ شریعت کا اتباع نہیں کرتے صرف خاتم الانبیاء کا اتباع کرتے ہیں کہ جن کی شریعت تمام شریعتوں کی ناسخ ہے۔
تفریع بر مضمون سابق مع توبیخ وتقریع
جب یہ معلوم ہوگیا کہ اسلام کی حقیقت یہ ہے اور ایمان کا طریقہ یہ ہے پس اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لائیں کہ جس طرح تم ایمان لائے ہو یعنی بلا تفریق تمام انبیاء ورسل کی تصدیق کریں۔ پس تحقیق یہ بھی ہدایت پا جائیں گے اور اگر روگردانی کرتے ہیں تو سمجھ لو یہ لوگ صرف مخالفت اور عداوت میں غرق ہیں آپ ﷺ ان کی عداوت اور مخالفت پریشان نہ ہوں عنقریب ہی اللہ تعالیٰ ان کے شر سے آپ کی کفایت کرے گا اور خود ہی اللہ تعالیٰ ان سے نمٹ لیگا تم فکر نہ کرو یہ مومنین سے حمایت و حفاظت بلکہ غلبہ اور نصرت کا وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پورا فرمایا بنو قریظہ کو قتل کرایا بنو نضیر کو جلا وطن کرایا اور نصاری پر جزیہ لگایا حق تعالیٰ کا یہ ارشاد فسیکفیکہم اللہ اللہ کا وعدہ ہے اور آئندہ کی خبر ہے جو پورے طور پر ثابت ہوئی کہ چند ہی روز میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سر سے یہود اور نصاریٰ کے شر کو دفع کیا اور دین اسلام کے مقابلہ میں یہود ونصاریٰ مغلوب ہوئے اور اللہ کی پیشینگوئی پوری ہوئی اور اللہ تعالیٰ تو سب کی باتوں کو سنتا ہے اور سب کی نیتوں کو جانتا ہے۔ دشمنوں کا کوئی کید اور مکر اس سے پوشیدہ نہیں اور یہ یہود اور نصاریٰ دن رات اس کوشش اور سازش میں ہیں کہ تم کو اپنے رنگ میں رنگ لیں۔
اے مسلمانو تم ان سے یہ کہہ دو کہ ہم کو تو اللہ نے اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا رنگ ہمارے رگ وریشہ میں سرایت کرچکا ہے اور اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے رنگ سے کون سا رنگ ربہتر ہے جو اس کی طرف نظر کی جائے اور یہ رنگ ہم سے زائل نہیں ہوسکتا اس لیے کہ ہم خالص اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں عبادت کی وجہ سے وہ رنگ اور پختہ ہوجاتا ہے اور اخلاص کی وجہ سے دوسرے رنگ کا اس پر کوئی دھبہ بھی نہیں آنے پاتا۔ عبادت اور اخلاص کی وجہ سے وہ زیادہ چمکتا جاتا ہے۔
جب آفتاب اسلام دنیا میں طلوع ہوا تو اس وقت یہود ونصاریٰ میں ایک رسم اصطباغ کی جاری تھی پہلے اس رسم کا رواج یہود میں ہوا اور پھر عیسائیوں نے بھی اس رسم کو جاری رکھا اور اب تک عیسائیوں میں یہ رسم چلی آتی ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے یا کوئی عیسائی بنتا ہے تو اس کو زرد پانی کے حوض میں غوطہ دیتے ہیں یا اس کے سر پر اس میں سے کچھ پانی ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب سچا عیسائی ہوگیا اسی رسم کا نام اصطباغ ہے جس کو آج کل بپتسمہ دینا کہتے ہیں چونکہ یہود اور نصاریٰ مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ یہودی یا نصرانی بن جاؤ اس لیے گویا وہ انہیں اصطباغ کی دعوت دیتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (صبغۃ اللہ) نازل فرمائی اور مسلمانوں کو یہود اور نصاریٰ کی دعوت اصطباغ کا یوں جواب بتایا کہ ان سے کہہ دو کہ ہم تمہارا اصطباغ لے کر کیا کریں گے ہمیں تو اللہ کے دین کا رنگ کافی ہے اس سے بڑھ کر اور بہتر اور کون سا رنگ ہوسکتا ہے اور تم لوگ حضرت عزیر اور حضرت مسیح کو ابن اللہ اور اپنا خداوند سمجھنے کی وجہ سے شرک کے ناپاک رنگ سے ملوث ہو تم اہل توحید اور اہل اخلاص کو کس رنگ کی دعوت دیتے ہو۔
فائدہ : صبغۃ اللہ کے اعراب میں مفسرین کا اختلاف ہے ایک قول یہ ہے کہ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے اور تقدیر کلام اس طرح ہے صبغنا اللہ صبغۃ جیسے وعد اللہ اور صنع اللہ الذی اتقن کل شیئ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہونے کی بناء پر منصوب ہیں اور معنی یہ ہیں وعد اللہ وعدہ اور صنع اللہ صنعہ علامہ زمخشری اور بیضاوی اور ابو حیان اور علامہ سیوطی نے اسی اعراب کو اختیار فرمایا اور ہمارا ترجمہ اور تفسیر اسی اعراب پر مبنی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ منصوب علی الاغراء ہے اور تقدیر پر عبارت اس طرح ہے الزموا صبغۃ اللہ یعنی اللہ کے رنگ کو لازم پکڑو۔ اس تقدیر پر بھی آیت کے معنی نہایت لطیف ہونگے۔ اور مطلب یہ ہوگا کہ اے مسلمانو فقط تصدیق اور شہادت پر کفایت اور قناعت نہ کرو بلکہ اس سے ترقی کرو اور اپنے ظاہر و باطن کو اللہ کے رنگ سے رنگو اور وہ رنگ خداوند ذوالجلال کی اطاعت اور محتب اور رضاء و تسلیم کا رنگ ہے جس سے بہتر کوئی رنگ نہیں۔ جب کوئی شخص کسی کی مرضی کے اس درجہ تابع ہوجائے کہ اس کا کوئی حکم اس کو گراں نہ گزرے بلکہ کمال نشاط اور غایت رغبت و محبت سے اس کی تعمیل کی طرف شاداں وفرحاں دل وجان سے دورنے لگے تو محاورہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص تو فلاں کے رنگ میں رنگا ہوا ہے پس اے مسلمانو تم اللہ کے رنگ کو لازم پکڑو اور بطور تحدیث بالنعمۃ یا بطور لذت ومسرت یا بطور تعریض اور اتمام محبت یہ کہتے رہو کہ ہم تو خالص اللہ ہی کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں تمہاری طرح شرک میں مبتلاء نہیں اور تیسرا قول یہ ہے کہ صبغہ اللہ۔ ملۃ ابراہیم حنیفاً سے بدل ہے اور بالفاظ دیگر ملۃ ابراہیم کی تفسیر ہے یعنی ملت ابراہیم اور ملت اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عجیب و غریب رنگ ہے جس کے مشاہدہ کے لیے آنکھ چاہئے اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ صبغۃ اللہ سے مراد ختنہ ہے جو ملت ابراہیمی کا خاص شعار اور خاص رنگ ہے۔
Ayahs 2:139–141تلقین جواب از مجادلۂ اہل کتاب
قال تعالیٰ قل اتحاجوننا فی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ وال تسئلون عما کانوا یعملون
اور اگر اہل کتاب آپ سے اس بارے میں مجادلہ کریں کہ ہم خدا کے رنگ کے ساتھ رنگین ہیں ہمارا دین اور ہماری کتاب تمہارے دین اور تمہاری کتاب سے مقدم ہے نبوت و رسالت ہمیشہ ہمارے ہی خاندان میں رہی اور ہم اللہ کے محبوب ہیں تو آپ ان کے جواب میں یہ کہدیجئے کہ کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں مجادلہ کیے چلے جاتے ہو۔ حالانکہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اس کی ربوبیت کسی کے ساتھ مخصوص نہیں سب کو عام ہے جو اس کے حکم کے مطابق طاعت اور عبادت کرے گا وہ قبول ہوگی ورنہ رد۔ اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں کہ سراسر اس کے حکم کے مطابق ہیں آخری نبی کی زبانی جو آخری حکم نازل ہوا اس پر عمل کرتے ہیں۔ اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں کہ ناسخ کے نازل ہونے کے بعد منسوخ حکم اور محرف شریعت پر چل رہے ہو اور تازہ اور محفوظ شریعت سے اعراض اور انحراف کر رہے ہو اور علاوہ ازیں ہمارے اور تمہارے درمیان میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ ہم خالص اللہ ہی کے لیے عبادت کرنے والے ہیں اور تم جو کچھ کرتے ہو وہ تعصب اور نفسانیت اور دنیوی اعتراض اور اپنی آبائی رسم کے باقی رکھنے کے لیے کرتے ہو بلکہ صریح شرک میں مبتلاہو۔ حضرت عزیر اور حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بتلاتے ہو۔ توحید اور اخلاص کا تم پر کوئی ہلکا سا نشان بھی نہیں لہذا تمہارا یہ دعوی کہ ہم خدا کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں سراسر غلط ہے تم تو سرتاپا شرک کے رنگ میں رنگے ہوئے ہو۔ تمہارا رنگ تمہارے اعمال سے ظاہر ہے اور ہمارا رنگ ہمارے اعمال سے ظاہر ہے۔
اور کیا تم اس آخری پیغام کی ضد اور اپنی مسنوخ اور محرف شریعت کی پچ میں یہ کہتے ہو کہ تحقیق ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور ان کی اولاد یہودی ہیں اور گزشتہ آیات میں ان حضرات کا ملت اسلام پر ہونا بخوبی واضح ہوچکا ہے آپ ان کے جواب میں یہ کہدیجئے کہ تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ زیادہ جانتا ہے کہ جس نے یہ خبر دی ہے ماکان ابراہیم یہودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما وماکان من المشرکین۔ اب بتلاؤ تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ اور ظاہر ہے کہ اللہ سے زیادہ جاننے والا اور کون ہوسکتا ہے بلکہ نصوص توریت وانجیل اس پر شاہد ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی ملت حنفیت تھی۔ ختنہ اور حج بیت اللہ ان کا شعار تھا یہودیت اور نصرانیت کے خواص مثلاً ہفتہ اور اتوار کی تعظیم ان کی شریعت میں نہ تھی اور یہ سب کچھ ان کو معلوم ہے مگر چھاپتے ہیں اور ایسے شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے کہ جو ایسی شہادت کو چھپائے اور مخفی رکھے جو اس کے پاس محفوظ ہو اور اس کو خوب یاد ہو اور وہ اس کو شہادت کو چھپائے اور مخفی رکھے جو اس کے پاس محفوظ ہو اور اس کو خوب یاد ہو اور وہ شہادت اس کو من جانب اللہ پہنچی ہو اور اس کے اعلان اور اظہار کا وہ مامور ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں رسول آخر الزمان کے متعلق جو شہادتیں تمہاری کتابوں میں مذکور ہیں تمہارا ان واضح شہادتو وں کو چھپانا اور نصوص توریت وانجیل میں تحریف اور تغیر وتبدل کرنا سب اللہ کی نظروں کے سامنے ہے اور تم اس پر غرہ نہ کرنا کہ ہم ان بزرگوں کی اولاد ہیں۔
یہ ایک جماعت تھی جو گذر گئی اور اپنے اعمال اپنے ساتھ لے گئی اور مال ومتاع کی طرح تمہارے لیے اپنے اعمال صالحہ کا ذخیرہ چھوڑ کر نہیں گئی کہ جو بوقت ضرورت تمہارے کام آئے اس جماعت کے لیے اس کا کیا ہوا کام آئیگا اور تمہارے لیے تمہارا کیا ہوا کام آئے گا اور تم سے ان کے اعمال کے متعلق کوئی سوال نہ ہوگا لہذا جب تم کو ان کے اعمال سے کوئی تعلق نہیں تو پھر ان کے اعمال سے نفع کی امید رکھنا سفاہت اور نادانی ہے۔
فائدہ : یہ آیت قریب ہی میں گذر چکی ہے تاکید اور مبالغہ کے لیے اس کو مکرر لائے کہ پھر کہہ دیتے ہیں کہ عمل کرو آباء و اجداد کے بھروسہ پر نہ رہو۔
بندۂ عشق شدی ترک نسب کن جامی
کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات والصلاۃ والسلام علی سید البریات وعلیٰ الہ و اصحابہ وازواجہ الطاھرات۔ مسلسلات ومتواترات۔ 4 شوال المکرم یوم دو شنبہ ص 1369 مقام بھاول پور
Ayah 2:142دوسرا پارہ
اثبات فضیلت قبلہ ابراہیمی و اسرار تحویل قبلہ۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں ملت ابراہمی اور ملت اسلام کا افضل اور اکمل ہونا اور سرور عالم سیدنا محمد ﷺ کا افضل الرسل ہونا بیان فرمایا اب قبلہ ابراہیمی اور کعبہ اسلامی کا تمام قبلوں سے افضل ہونا بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح اس امت کی ملت تمام ملتوں سے افضل اور اکمل ہے اسی طرح اس امت کا قبلہ بھی تمام قبلوں سے افضل اور بہتر ہے اور جس طرح ملت ابراہیمی سے اعراض سفاہت اور جہالت ہے اسی طرح قبلہ ابراہیمی سے بھی اعراض سفاہت اور جہالت ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہود ونصاری نے ملت ابراہیمی سے اپنے آپ کو مستغنی سمجھا اور اپنی سفاہت اور بےوقوفی ظاہر کی اب عنقریب ایک سفاہت اور ظاہر ہوگی وہ یہ کہ جب بیت المقدس کا استقبال منسوخ ہو کر خانہ کعبہ قبلہ نماز مقرر ہوگا تو یہ نادان اور بیوقوف جو محض صورت کے اعتبار سے انسانوں کی جنس سے ہیں عنقریب کہیں گے کہ کس چیز نے ان کو اس قبلہ سے پھیر دیا کہ جس پر اب تک قائم تھے امام رازی فرماتے ہیں کہ آیت سیقول السفھاء کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں۔
قول اول) ۔ قفال مروزی یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت تحویل قبلہ کے بعد نازل ہوئی اور یہ لفظ اگرچہ بظاہر استقبال کے لیے ہے لیکن اس جگہ ماضی کے معنی مراد ہیں۔
قول ثانی ) ۔ یہ آیت تحویل قبلہ کے حکم نازل ہونے سے پہلے نازل ہوئی اللہ نے یہود کے آئندہ پیش آنے والے طعن اور اعتراض کی پہلے ہی سے خبر دے دی اس آیت کے نزول کے وقت تک قبلہ تبدیل نہیں ہوا تھا البتہ ہونے والا تھا اللہ نے پہلے ہی سے اس کی خبر دے دی تاکہ مسلمان یہود کے اعتراض کو سن کر گھبرائیں نہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور اس قول پر یہ آیت کے ربط کی تقریر اس طرح کی جاسکتی ہے کہ گزشتہ آیات اور رکوعات میں یہود ونصاری اور مشرکین کے ان اعتراضات کے جواب دیے گئے جو وہ کررہے تھے اب اس آیت میں اس اعتراض کا جواب بتلاتے ہیں جو آئندہ چل کر وہ کرنے والے تھے اور مطلب یہ کہ اب تک تو یہود اور نصاری اور مشرکین تم پر وہی اعتراض کرتے تھے جو بیان ہوچکے۔ اور جن کا جواب بھی ہم دے چکے اب عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ جب تم کو تحویل قبلہ کا حکم دیا جائے گا تو یہ بیوقوف اور سفیہ یہ اعتراض کریں گے کہ یہ کیا دین ہے کہ جس کا قبلہ بدلتا رہتا ہے اور یہ کہیں گے کہ مسلمانوں نے اپنے سابقہ قبلہ کو کیوں چھوڑ دیا۔
شان نزول) ۔ نبی ﷺ جب تک مکہ مکرمہ میں رہے تو خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو بحکم خداوندی بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے لگے سولہ یا سترہ مہینے تک اسی طرف نماز پڑھتے رہے اس کے بعد خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم آیا تو یہود اور مشرکین وار منافقین طرح طرح کے طعن کرنے لگے یہود کہنے لگے کہ پہلے تو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے جو انبیاء کا قبلہ اول تھا اب اس کو کیوں چھوڑ دیا اور جب آپ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو اس وقت بعض یہودی کہتے تھے کہ ہمارے دین کو مانتے نہیں ہمارے قبلہ کی طرف کیوں نماز پڑھتے ہو بعض یہودی کہتے کہ محمد قبلہ سے واقف نہیں اس لیے ہمیں دیکھ کر بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہیں مشرکین کہنے لگے محمد اب سمجھ گئے ہیں اور رفتہ رفتہ اپنے آبائی دین کی طرف آرہے ہیں کوئی کہتا کہ آپ اپنے دین کے بارے میں متحیر ہیں نبی ان باتوں سے ملول ہوتے اور دل سے یہ چاہتے کہ خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم آجائے اللہ نے اس آیت میں طعن کرنے والوں کے حال سے خبر دی کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوگا تو یہ بیوقوف لوگ یہ کہیں گے کہ مسلمانوں کو اس قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا کہ جس کی طرف وہ نماز پڑھا کرتے تھے یعنی یہ جو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے اب کیا ہوا کہ وہ اس چھوڑ کر کعبہ کی طرف نماز پڑھنے لگے آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ جس جہت اور جس سمت کو چاہیے قبلہ مقرر کرے اور جس کو چاہے منسوخ کرے غلام کو یہ پوچھنے کا حق حاصل نہیں کہ پہلے یہ حکم دیا تھا اور اب یہ حکم کیوں دیا غلام کا آقا سے اس قسم کا سوال بھی اس کی بےعقلی کی دلیل ہے مریض کا طبیب سے پوچھنا کہ نسخہ کیوں بدلا اور اس کی کمال اور سفاہت اور غایت حماقت کی دلیل ہے غلام تو مولی کے حکم کے تابع ہے اسے تو حکم کا اتباع چاہیے سر اور حکمت سے اس کو کیا بحث۔ خیر اگر تم حکمت ہی معلوم کرنا چاہتے ہو تو سنو اصل مقصود عبادت ہے اور قبلہ عبادت کی ایک راہ ہے خدا کو اختیار ہے کہ جس راہ سے چاہے اپنے بندوں کی منزل طے کرے کسی کو کسی راہ سے اور کسی کو کسی راہ سے اور جس کو چاہتا ہے اپنی عبادت کا سیدھا اور قریب کا راستہ بتلاتا ہے کہ جلد منزل طے ہوجائے اس لیے کہ تم کو بہترین قبلہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا جو عبادت اور معرفت کا سب سے قریب اور سیدھا راستہ ہے اور حضرت آدم جو کہ تمام بنی نوع انسان کے باپ ہیں اور حضرت ابراہیم کو جو شجرۃ الانبیاء ہیں اور تمام مذاہب اور ملتیں ان کی ملت کے تابع ہیں ان کے لیے بھی یہی راستہ تجویز ہوا اور خانہ کعبہ ہی ان کے لی قبلہ بنایا گیا کیونکہ خانہ کعبہ زمین کا مرکزی نقطہ ہے سب سے پہلے یہی مرکزی نقطہ پیدا کیا گیا اور یہیں سے زمین بچھائی گئی اور یہی جگہ انسان کا مبداء ترابی ہے اور یہی جگہ عرش عظیم اور بیت المعمور کے محاذات میں ہونے کی وجہ سے حق جل شانہ کے انوار و تجلیات کا مرکز ہے اور انسان چونکہ مٹی سے پیدا کیا گیا تو حسب قاعدہ، کل شئی یرجع الی اصلہ۔ اس کا اصلی میلان اسی مرکزی نقطہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف ہوگا اگرچہ ظاہرا محسوس نہ ہو اسلیے کہ خانہ کعہ قبلہ عالم مقرر ہوا نیز روایات سے ثابت کہ جب آسمان اور زمین کو یہ خطاب ہوا، ایتیا طوعا او کرھا۔ کہ تم خوشی سے آؤ یا لاچاری سے تو زمین کے اجزا اور قطعات میں سے سب سے پہلے اسی جگہ نے اطاعت خداوندی کے قبول میں سبقت کی اس لیے ازراہ قدردانی حق جل شانہ نے اس جگہ کو قبلہ مقرر فرمایا البتہ چند روز کے لیے یعنی حضرت موسیٰ کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ کے زمانہ تک بنی اسرائیل کے لیے مسجد اقصی کو قبلہ بنایا گیا جو انبیاء بنی اسرائیل کاموطن اور مسکن اور مقام بعثت اور مقام دعوت ہونے کی وجہ سے مبارک اور مقدس جگہ ہے اسی وجہ سے شب معراج میں حضور کو براق پر سوار کرکے بیت المقدس لایا گیا اور حضرات انبیاء کی ارواح طیبہ سے ملاقات کرائی گئی اور وہیں سے آپ ﷺ آسمان پر گئے تاکہ حضور ﷺ کے ذاتی انوار اور تجلیات کے ساتھ انبیاء سابقین کے انوار وبرکات بھی مل کر نور علی نور کا فائدہ دیں اور نبی القبلتین کے لقب سے ملقب ہوں اور توریت اور انجیل کی بشارت پوری ہو کہ وہ نبی آخر الزمان صاحب قبلتین ہوگا لہذا اس شکر میں حضور ﷺ کو معراج بیت المقدس ہوئی چند روز کے لیے نماز میں بیت المقدس کے استقبال کا حکم ہوا کہ یہ مقدس جگہ جو حضور کی معراج اور ترقی کا زینہ بنی اس کا حق یہ ہے کہ چند روز اس کی طرف منہ کرکے نماز ادا فرمائیں تاکہ سینہ مبارک اس مبارک اور مقدس جگہ کے انوار و تجلیات کو اپنے اندر جذب کرلے اور پھر یہ کمالات آپ کے سینے مبارک سے آپ کی امت کے علماء کے سینوں کی طرف منتقل ہوں تاکہ آپ کی امت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کے وارث کہلاسکیں۔ غرض یہ کہ اس وجہ سے چند روز کے لیے بیت المقدس کے استقبال کا حکم ہوا پھر ہمیشہ کے لیے اصلی قبلہ کے استقبال کا حکم نازل ہوا اس لیے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصلی قبلہ خانہ کعبہ ہے اور یہی جگہ تمام روئے زمین پر سب سے افضل اور اکمل ہے۔
Ayah 2:143تمام امتوں پر امت محمدیہ کی فضیلت۔
قال تعالی، وکذالک جعلناکم۔۔۔ الی۔۔۔ شھیدا۔
اور جس طرح ہم نے تمہارے لیے بہتر قبلہ تجویز کیا کہ وسط زمین میں ہے اور تمہارا مبدا ترابی ہے اور حق جل شانہ کے انوار تجلیات کا مرکز ہے اسی طرح ہم نے تم کو امت متوسط بنایا کہ جو اخلاقی اور اعمال اور عقائد کے اعتبار سے متوسط اور معتدل ہے افراط اور تفریط کے درمیان میں واقع ہے گویا کہ یہ امت اپنے کمال توسط اور کمال اعتدال کے اعتبار سے حلقہ امم کے درمیان عین مسند پر بیٹھی ہوئی ہے اور تمام امتیں اطراف و جوانب سے اس کی جانب متوجہ ہیں اور ہم نے تم کو اس توسط اور اعتدال کی فضیلت اس لیے عطا کی کہ تاکہ تمہاری عدالت علی وجہ الکمال ثابت ہوجائے اور قیامت کے دن تم لوگوں پر گواہ بن سکو اس لیے کہ شہادت کے لی عدالت شرط ہے اور جب تم کامل العدالت ہوگے تو ٹھیک شہادت دے سکو گے کمال اعتدال کی وجہ سے کسی ایک جانب تمہارا میلان نہ ہوگا اور تمہاری شہادت حق ہوگی اور طرفداری کے شائبہ سے پاک ہوگی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اولین وآخرین کو جمع کرے گا اور گزشتہ امتوں کے کافروں سے خطاب فرمائے گا کہ کیا تمہارے پاس کوئی نذیر ڈرانے والا نہیں آیا وہ صاف انکار کردیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا جس سے ہم کو تیرے احکام کی اطلاع ہوتی اور اللہ تعالیٰ انبیاء علیھم السلام سے دریافت فرمائیں گے تمام انبیاء متفق اللفظ یہ عرض کریں گے کہ اے اللہ ہم تیرے احکام کو پہنچا چکے یہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب ہیں ان کو سب معلوم ہے مگر اتمام حجت کے لیے انبیاء سے گواہ طلب کریں گے حضرات انبیاء اپنی گواہی میں امت محمدیہ کو پیش کریں گے امم سابقہ کے کفار کہیں گے کہ انکو کیا معلوم یہ تو ہم سے قرنہا قرن بعد میں آئے امت محمدیہ یہ جواب دے گی کہ اگرچہ ہم ان کے بعد آئے مگر ہم کو رسول ﷺ کے ذریعہ سے معلوم ہوگیا کہ تمام انبیاء نے اپنی امتوں کو اللہ کے احکام پہنچا دیے اور شہادت کے لیے علم قطعی اور یقینی کافی ہے خاص مشاہدہ ضروری نہیں اور نبی کی خبر مشاہدہ سے ہزار درجہ قطعی اور یقینی ہے مشاہدہ میں غلطی کا امکان ہے نبی کی خبر میں غلطی کا امکان نہیں اس لیے کہ نبی نباء سے مشتق ہے اور نباء لغت میں اس خبر کو کہتے ہیں کہ جو بالکل صحیح اور واقع کے مطابق ہو مہتم بالشان بھی ہو اس وقت محمد رسول اللہ کو بلایاجائے گا اور آپ سے آپ کی امت کی اس شہادت کے متعلق دریافت کیا جائے گا تو اے اس امت کے مسلمانو اس وقت رسول اللہ تم پر گواہ ہوں گے اور تمہاری عدالت اور صداقت کی شہادت دیں گے اور پھر تمہاری شہادت کے مطابق حضرات انبیاء کے حق میں فیصلہ ہوگا اور کفار مجرم قرار دیے جائیں گے۔
فائدہ) ۔ اس امت کو متوسط اس معنی کر فرمایا کہ یہ امت عقائد اور اعمال اور اخلاق کے اعتبار سے معتدل ہے اور افراط اور تفریط کے درمیان ہے برخلاف یہود کے کہ وہ تفریط میں مبتلا ہیں حضرات انبیاء کرام کی تنقیص کرتے ہیں ان کو معصوم نہیں سمجھتے جو کہ نبوت کا خاصہ لازمہ ہے اور نصاری افراط میں مبتلا ہیں کہ اپنے نبی کو مرتبہ بندگی سے درجہ فرزندی پر پہنچایا اور توسط اور اعتدال ہی باجماع عقلا اعلی درجہ کا کمال ہے اسی لیے علماء نے اس آیت سے امت محمدیہ کے اجماع کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے کیونکہ اس امت کے اجماع کو نہ قبول کرنا اس کی عدالت سے عدول کرنا ہے امام قرطبی فرماتے ہیں کہ امت محمدیہ کے وسط میں ہونے کا یہ معنی ہے کہ یہ امت انبیاء واولیاء کے درمیان ہے انبیاء سے نیچے اور اولیاء سے اوپر، چونکہ اس خطاب کے بالذات مخاطب صحابہ کرام ہیں اسلیے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کا مقام انبیاء کرام سے نیچے ہے اور تمام اولیاء سے بلند اور اونچا ہے۔
تحویل قبلہ پر ایک شبہ مع الجواب۔
قال تعالی، وماجعلنا القبلۃ۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ رحیم۔
آگے ایک شبہ کا ازالہ فرماتے ہیں کہ جب یہ معلوم ہوگیا کہ اس امت متوسطہ اور کاملہ کے لیے مناسب یہی قبلہ کاملہ ہے کہ جو وسط ارض میں ہے تو پھر اس میں کیا مصلحت تھی کہ چند روز کے لیے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا اور پھر اس کو منسوخ کیا آئندہ آیت میں اس کا جواب دیتے ہیں کہ ہمارے علم میں تمہارا اصلی قبلہ تو کعبہ ہی تھا جو حضرت ابراہیم کے وقت سے چلا آرہا تھا اور جس قبلہ کی طرف چند روز آپ نماز ادا کرتے رہے یعنی بیت المقدس اس کو ہم نے آپ کا اصلی قبلہ نہیں بنایا تھا مگر محض اس مصلحت کے لیے چند روز اس کے استقبال کا حکم دیا تھا کہ علانیہ طور پر ہم کو یہ معلوم ہوجائے کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں رسول کی تصدیق اور اطاعت سے تکذیب اور نافرمانی کی طرف پھرتا ہے یعنی بجائے کعبہ کے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے میں مسلمانان قریش کا امتحان تھا کہ کون رسول اللہ کا سچا تابعدار ہے کہ جس قبلہ کی طرف بھی نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں اسی طرف نماز ادا کرتا ہے اور کون قومی حمیت کی رعایت کرتا ہے اس لیے کہ قریش کعبۃ اللہ کی تعظیم پر فخر کرتے تھے اور قبلہ ابراہیمی کی مجاورت اور خد مت پر ناز کرتے تھے اور بیت المقدس سے قبلہ بنی اسرائیل ہونے کی وجہ سے نفرت کرتے تھے اللہ نے اس قومی حمیت کے امتحان کے لیے بجائے خانہ کعبہ کے بیت المقدس کے استقبال کا حکم دیا بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے میں مسلمانان قریش کا امتحان تھ اور پھر جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو اس میں مسلمانان یہود کا امتحان تھا اور چونکہ بیت المقدس محض چند روز کے لیے امتحانا قبلہ بنایا گیا تھا اور ظاہر ہے کہ امتحان اسی چیز میں ہوتا ہے جو نفس پر شاق اور گراں ہو اس لیے ارشاد فرمایا اور بیشک بیت المقدس کا قبلہ ہونا قریش اور عرب پر بہت شاق اور گراں تھا اولاد اسماعیل ہونے کی وجہ سے قبلہ ابراہیمی کو پسند کرتے تھے مگر ان لوگوں پر شاق نہیں کہ جن کو اللہ نے ہدایت اور توفیق دی اہل ہدایت کی نظر ہمیشہ اطاعت پر رہتی ہے کہ جس وقت جو حکم ہوا اس کی تعمیل کی جائے جس جانب چہرہ کرنے کا حکم ہوگا اسی جانب متوجہ ہوجائیں گے نیز اخص الخواص اپنے ذوق سلیم سے یہ خیال کرتے تھے کہ اگرچہ خانہ کعبہ بیت المقدس سے افضل ہے مگر چونکہ نبی ﷺ کے کمالات کے جامع ہیں اور آپ کی رسالت تمام عالم اور امم کے لیے ہے اس لیے یہ لوگ اپنی نور فراست سے سمجھتے تھے کہ ضروری ہے کہ کسی وقت استقبال بیت المقدس کی نوبت آئے گی اور بعد چندے اصل قبلہ یعنی کعبہ کی طرف رجوع کا حکم ہوگا جو افضل الرسل کے مناسب ہے۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ) ۔ الالنعلم سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ معاذ اللہ حق تعالیٰ کو پہلے سے علم نہ تھا بعد میں علم ہوا حالانکہ اللہ کا علم قدیم اور ازلی ہے حاشا وکلا اللہ کا علم حادث نہیں۔
جواب) ۔ بعض علماء یہ جواب دیا ہے کہ علم سے تمیز کے معنی مراد ہیں یعنی ممتاز اور جدا جدا کردینا بعض کہتے ہیں کہ علم سے مراد امتحان اور آزمائش ہے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم مطیع کو نافرمان سے ممتاز اور جدا کردیں یا یہ معنی ہیں کہ ہم امتحان کرتے ہیں کہ کون اطاعت کرتا ہے اور کون انحراف کرتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ مضاف محذوف ہے اور اللہ کے جاننے سے اللہ کے رسول کا اور عباد مومنین کا جاننا مراد ہے یعنی تاکہ ہمارا رسول اور اہل ایمان بھی جان لیں۔ اور بیت المقدس اگرچہ اصلی قبلہ نہ تھا مگر تم نے اس مدت میں جو نماز بیت المقدس کی طرف پڑھی ہیں ان کو ضائع نہ سمجھنا اس لیے کہ اللہ ایسا نہیں کہ جو تمہارے ایمان اور اطاعت کو ضائع کردے اسلیے کہ تم نے جو نمازیں بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھی ہیں وہ اللہ ہی کے حکم سے پڑھی ہیں اور تحقیق اللہ نے تو تمام آدمیوں پر نیک ہو یا بد مومن ہوں یا کافر سب ہی پر بہت ہی شفیق اور مہربان ہیں وہ اپنے حکم کے اتباع کرنے والوں کی نماز اور بندگی کب ضائع کرسکتے ہیں۔
Ayah 2:144تحویل قبلہ کا حکیمانہ جواب۔
قال تعالی، قد نری تقلب وجھک فی السماء۔۔۔ الی۔۔۔ عما یعملون۔
گزشتہ آیات میں تحویل قبلہ پر شبہ کا حاکمانہ جواب تھا اور اب حکیمانہ جواب ارشاد فرماتے ہیں اور تحویل قبلہ کی حکمتوں کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔
حکمت اول) ۔ رافت اور رحمت کی وجہ سے اگرچہ استقبال بیت المقدس میں بھی اجر کامل مل جائے مگر قبلہ کاملہ درحقیقت کعبہ معظمہ ہے اور کامل کا میلان طبعی کامل ہی کی طرف ہوتا ہے اس لیے آپ ﷺ بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے تھے کہ شاید فرشتہ کامل قبلہ کے استقبال کا حکم لے کر نازل ہو چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تحقیق ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے چہرہ کا بار بار وحی کے انتظار میں آسمان کی طرف اٹھنا کہ کب خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم نازل ہو اور چونکہ ہم کو آپ کی آرزو اور خواہش کا پورا کرنا منظور ہے پس اس لیے ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جب طرح میری ملت ابراہیمی ہے اسی طرح میرا قبلہ عبادت بھی قبلہ ابراہیمی بنا دیا جائے لو پھر حکم دے ہی دیتے ہیں کہ پس آپ اپنا منہ بجائے بیت المقدس کے مسجد حرام کی طرف کرلیجئے کہ اب ہمیشہ کے لیے وہی آپ کا قبلہ ہے اور یہ حکم آپ کے لیے مخصوص نہیں اگرچہ درخواست آپ کی تھی مگر حکم تمام امت کے لیے ہے امت سے کہہ دیجئے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو اسی جانب اپنے چہروں کو متوجہ کرو حتی کہ اگر بیت المقدس میں بھی ہو تب بھی مسجد حرام ہی کی طرف متوجہ ہو کر نماز ادا کرو اور تحقیق اہل کتاب بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قبلہ حق ہے خود ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی آخرالزمان ملت ابراہیمی پر ہوں گے اور انکا قبلہ قبلہ ابراہیمی ہوگا اور اہل کتاب یہ بھی بالیقین جانتے ہیں کہ اس نبی اور اس امت نے یہ قبلہ اپنی رائے سے نہیں ٹھہرایا بلکہ ان کے پروردگار کی جانب سے یہی حکم آیا ہے مگر اس کو چھپاتے ہیں ظاہر نہیں کرتے اور اللہ ان کی ان کاروائیوں سے غافل نہیں وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے حکم پر چلتا ہے اور کون اپنی رائے اور خیال پر چلتا ہے حاصل اس حکمت کا یہ ہے کہ ہم نے آپ کی خواہش اور خوشی کے موافق قبلہ تبدیل کردیا تاکہ لوگوں پر آپ کا شرف اور آپ کی عظمت ظاہر ہوجائے۔