Ayahs 2:99–103شناعت بست ویکم (21)
قال تعالیٰ ولقد انزلنا الیکم ایت۔۔۔ الی۔۔۔ لوکانوا یعلمون
اور آپ کی نبوت فقط قرآن پر موقوف نہیں کہ جس کے متعلق یہ بہانہ کردیا کہ قرآن تو جبریل لیکر آئے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں بلکہ البتہ تحقیق ہم نے آپ کی نبوت و رسالت کے ثابت کرنے کے لیے نہایت واضح اور روشن دلائل نازل کیے جن میں کسی قسم کا اشتباہ اور التباس نہیں اور نہ ان میں جبریل کا توسط ہے پس اگر قرآن کو دلیل نبوت نہیں سمجھتے کہ جبرئیل سے دشمنی ہے تو ان آیات بینات کا تمہارے پاس کیا جواب ہے جن میں جبریل امین کا واسطہ نہیں اور ان کو خود بھی معلوم ہے مگر عناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ابن صوریا یہودی نے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے کہا کہ تم اپنی نبوت و رسالت کی کوئی ایسی نشانی نہیں لاتے جسے ہم بھی پہچانیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (رواہ ابن ابی حاتم) اور مطلب یہ ہے کہ آپ کی نبوت کی ایک نشانی نہیں بلکہ صدھا نشانیاں موجود ہیں اور ان آیات وبینات کا نہیں انکار کرتے مگر وہ لوگ جو حد ہی سے گزر گئے ہیں اور مقتضاء عقل ونقل دونوں ہی کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔
کیا یہ لوگ اپنے فسق کے منکر ہیں حالانکہ ان کی عادت مستمرہ یہ رہی ہے کہ جب کبھی ان لوگوں نے کوئی عہد و پیمان کیا ہے تو ایک فریق نے تو اس کو بالکل پس پشت ہی ڈال دیا ہے حالانکہ نقض عہد عقلا وشرعاً ہر طرح قبیح اور مذموم ہے اور فقط بدعہدی ہی نہیں بلکہ اکثر تو ان میں سے توریت پر بھی ایمان نہیں رکھتے اور توریت میں جو حضور پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا تھا اس کو واجب العمل نہیں سمجھتے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ بد عہدی تو ادنی درجہ کی چیز ہے بہت سے تو توریت ہی پر ایمان نہیں رکھتے اور جب توریت ہی کو واجب الایمان اور واجب العمل نہیں سمجھتے تو بدعہدی کرنے کو وہ کیا گناہ سمجھیں گے۔ اب آئندہ آیت میں ایک خاص عہد شکنی کا ذکر فرماتے ہیں اور جب ان کے پاس ایک عظیم الشان رسول آیا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ جس کو وہ پہچانتے تھے کہ یہ رسول اللہ کی طرف سے ہے انبیاء سابقین کی بشارتیں اور اس رسول کے معجزات اس کے صدق پر شاہد تھے۔
اور پھر اس کے علاوہ وہ پیغمبر اس کتاب کی تصدیق بھی کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے مثلاً توریت اور زبور جس میں نبی آخر الزمان کی خبر دی گئی ہے مگر باوجود اس کے اہل کتاب کے ایک فریق نے کتاب اللہ یعنی توریت کو پس پشت ڈالا گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ اللہ کی کتاب میں کیا لکھا ہوا ہے اور یا یہ معنی ہیں کہ جانتے ہی نہیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہے غرض یہ کہ یہود نے اللہ کی کتاب کو تو پس پشت ڈال دیا جس کی انبیاء کرام تلاوت کرتے تھے۔
اور ان منتروں کے پیچھے ہو لیے جن کی شیاطین الانس والجن حضرت سلیمان کے دور حکومت میں تلاوت کیا کرتے تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت چونکہ عام تھی جن اور انس چرند اور پرند سب ان کے زیر حکم تھے اس لیے شیاطین اور جنات اور آدمی سب ملے جلے رہتے تھے۔ شیطانوں نے آدمیوں کو جادو سکھا رکھا تھا اور معاذ اللہ یہ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے ہرگز ہگز نہ تھا اس لیے کہ یہ کام کفر کا ہے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کبھی کسی قسم کا کفر نہیں کیا نہ عملی اور نہ اعتقادی اور نہ قبل النبوۃ اور نہ بعد النبوۃ اس لیے کہ وہ تو اللہ کے پیغمبر تھے کفر کے مٹانے کے لیے مبعوث ہوئے تھے سحر کو سلیمان (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرنا سراسر افتراء ہے۔ یہود چونکہ سحر کو سلیمان (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرتے تھے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت ظاہر فرمادی لیکن شیاطین نے از خود یہ کفر کا کام کیا کہ لوگوں کو سحر کی تعلیم دینے لگے۔ یہود یہ کہتے تھے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے نبی نہ تھے بلکہ ساحر اور جادوگر تھے۔ اس کے زور سے جنات اور آدمیوں اور ہوا پر حکومت کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ یہ کام کفر کا ہے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کبھی یہ کام نہیں کیا اس لیے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اس سے کفر کا صادر ہونا ناممکن ہے نبی تو کفر اور شرک کے مٹآنے کے لیے آتا ہے نہ کہ کرنیکے لیے اور علاوہ ازیں یہود اس سحر کا بھی اتباع اور پیروی کرتے تھے جو کہ شہر بابل میں دو فرشتوں پر ایک خاص حکمت کی بناء پر نازل کیا گیا تھا جن کا نام ہاروت اور ماروت تھا وہ حکمت یہ تھی کہ لوگ سحر اور معجزہ اور کرامت میں فرق معلوم کریں تاکہ پیغمبر اور جادوگر میں کوئی التباس اور اشتباہ نہ ہو کیوں کہ ظاہراً معجزہ کی طرح سحر بھی خارق عادت ہے اس لیے حق تعالیٰ نے دو فرشتے بصورت انسان بابل میں اتارے کہ لوگوں کو سحر کی حقیقت سمجھائیں تاکہ لوگوں کو سحر اور معجزہ میں کوئی اشتباہ پیش نہ آئے اور چونکہ مقصود یہ تھا۔ اس لیے یہ دونوں فرشتے کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ جز ایں نیست کہ ہم تو مخلوق کے لیے فتنہ اور آزمائش ہیں کہ کون سحر سیکھ کر کفر اور معصیت میں مبتلا ہوتا ہے اور کون اس کی حقیقت اور قباحت کو معلوم کر کے اس سے احتیاط اور پرہیز کرتا ہے سو دیکھو اس کو سیکھ کر کفر کا کام نہ کرنا یعنی سحر نہ کرنا اس سے ایمان جاتا رہے گا لیکن اس کے بعد یہی بعض لوگ ان سے وہ باتیں سیکھتے جن سے میاں اور بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالتے اور یہ سمجھتے کہ یہ چیزیں بدون اللہ کی مشیت کے ضرر پہنچاتی ہیں اور یہ امر یقینی ہے کہ یہ جادوگر اس سحر کے ذریعہ سے کسی کو بھی بغیر اللہ کی مشیت اور ارادہ کے ذرہ برابر ضرر نہیں پہنچا سکتے جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے سحر میں تاثیر پیدا کردیتا ہے۔ اور جب چاہتا ہے تو اعمال کی تاثیر کو بند کردیتا ہے اور سحر کو بےاثر بنا دیتا ہے اور اگر بالفرض والتقدیر سحر میں کوئی کفر اور شرک بھی نہ ہوتا تب بھی عقل کا مقتضی یہی تھا کہ سحر سے احتراز کرتے کیونکہ یہ ایسے علم کو سیکھ رہے ہیں جو دنیا اور آخرت میں ان کے لیے ضرر رساں ہے اور اگر بالفرض مضر نہ ہو تو نافع بھی نہیں اور عاقل کا کام یہ ہے کہ جو چیز نقصان دے اور نفع نہ دے اس سے احتراز کرے اور ان کا سحر میں یہ اشتغال اور انہماک لا علمی اور نادانی کی بناء پر نہیں کہ اس کے ضرر سے بیخبر ہوں۔ البتہ خدا کی قسم ان کو خوب معلوم ہے کہ جو کفریات کو خریدے گا اس کیلیے آخرت میں کوئی حصہ ہوگا البتہ بہت ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلہ میں انہوں نے انہوں نے اپنی جانوں کو فروخت کر ڈالا کاش اس بات کو جانتے کہ ہم سعادت ابدیہ کو فروخت کر کے شقاوت ابدیہ کو خرید رہے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ یہود نے اپنے دین اور کتاب کے علم کو پس پشت ڈال دیا اور علم سحر کے پیچھے ہو لیے اور سحر کا علم لوگوں میں دو طرف سے پھیلا ایک تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں چونکہ جنات اور انسان آپس میں ملے جلے رہتے تھے اس لیے آدمیوں نے جنات اور شیاطین سے سحر سیکھا اور حضرت سلیمان کی طرف نسبت کردیا کہ یہ سحر ہم کو انہی سے پہنچا اور اسی کے ذور سے سے حضرت سلیمان جنات اور ہوا پر حکومت کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ یہ کام کفر کا ہے۔ سلیمان نے کبھی نہیں کیا۔ ان کے زمانہ میں شیطانوں نے آدمیوں کو سکھایا ہے۔ دوسرے ہاروت اور ماروت کی طرف سے پھیلا کہ وہ دو فرشتے تھے۔ انسان کی شکل میں شہر بابل میں رہتے تھے ان کو علم سحر معلوم تھا جو کوئی ان سے جادو سیکھنا چاہتا وہ پہلے ہی اس سے کہہ دیتے کہ اس میں ایمان جاتا رہے گا لیکن جب وہ اصرار کرتا تو سکھا دیتے اور صاف کہہ دیتے کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے ایسے علم سے آخرت میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ دنیا اور آخرت دونوں ہی میں نقصان ہے بغیر اللہ کے حکم کے کچھ نہیں کرسکتے اگر علم دین سیکھتے تو اللہ کے یہاں ثواب پاتے اور اب بھی اللہ تعالیٰ نے ان پر توبہ کا دروازہ بند نہیں کیا جیسا کہ آئندہ ارشاد فرماتے ہیں۔
اور اگر یہ لوگ ایمان لاتے اور بجائے سحر کے اللہ کی کتاب کا اتباع کرتے اور علم سحر اور کتب سحر اور مضر اور بےفائدہ علوم سے پرہیز کرتے جیسے اس زمانہ میں ناول اور باتصویر رسالے جو تخریب اخلاق میں جادو کا اثر رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے یہاں سے جو بدلا ملے اگرچہ وہ تھوڑا ہو دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے چہ جائیکہ سحر میں بطور مزدوری برائے نام کچھ مل جائے کاش انکو اتنی عقل ہوتی تو سمجھتے کہ دنیا کے تمام منافع آخرت کے ایک نفع کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔
فائدہ : شیاطین جس سحر کی تعلیم دیتے تھے وہ صریح کفر اور شرک تھی۔ ارواح کو خدا تالیٰ کے برابر جانتے تھے اور ان کے لیے وہ افعال اور تاثیرات ثابت کرتے تھے جو باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں اور ان کی مدح میں ایسے منتر پڑھتے تھے کہ جیسے خدا تعالیٰ کی عموم علم اور احاطۂ قدرت اور غایت عظمت و جلال ظاہر کرنے کے لیے حمد وثناء کے کلمات پڑھے جاتے ہیں اور فرشتوں کی تعلیم میں یہ بات نہ تھی۔ نہایت احتیاط کے ساتھ تعلیم دیتے تھے اور ساتھ ساتھ نصیحت کرتے تھے اور کفر کرنے سے منع کرتے تھے ان کا مقصد حقیقت سحر کو واضح کرنا تھا تاکہ نبی اور متنبی میں اشتباہ نہ ہو اور سحر اور معجزہ کا فرق معلوم ہوجائے اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ مؤثر حقیق سوائے باری تعالیٰ کے کوئی نہیں اور شیاطین کا مقصد اغواء اور اضلال تھا۔
قصۂ ہاروت اوماروت : تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر اور در منثور میں عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور مجاہد اور قتادہ وغیرہم سے منقول ہے کہ جب ادریس (علیہ السلام) کے زمانہ میں اولاد آدم کے برے اعمال کے دفتر کے دفتر آسمان پر جانے لگے تو فرشتوں نے بنی آدم کے حق میں تحقیر اور طعن آمیز کلمات کہے کہ یہ کیسے بندے ہیں کہ اپنے مالک حقیقی کی نافرمانی کرتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے فرمایا میں نے بنی آدم کے خمیر میں غصہ اور شہوت رکھا ہے اس لیے ان سے گناہ ہوتے ہیں۔ اگر تم میں یہی قوت شہویہ اور قوت غضبیہ رکھدوں اور زمین پر اتار دوں تو تم بھی ایسے ہی گناہوں میں مبتلا ہوؤ گے۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ اے پروردگار ہم ہرگز تیرے گناہ کے پاس بھی نہ جائیں گے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا تم اپنے میں سے دو شخصوں کو منتخب کرلو۔ فرشتوں نے ہاروت اور ماروت کو جو فرشتوں میں کمال عبادت میں مشہور اور ممتاز تھے منتخب کیا۔ حق تعالیٰ نے قوت شہویہ اور غضبیہ کو ان میں پیدا کر کے حکم کہ زمین پر جاؤ اور لوگوں کے مقدمات کا عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا کرو۔ اور شرک اور خون ناحق اور زنا اور شراب سے پرہیز کرنا حسب ارشاد خداوندی دونوں فرشتے آصمان سے زمین پر اترے صبح سے لیکر شام تک قضاء کے کام میں مصروف رہتے اور جب شام ہوتی تو اسم اعظم پڑھ کر آسمان پر چلے جاتے ایک مہینہ اسی حالت میں گزرا یکایک امتحان خداوندی پیش آیا کہ ایک عورت مسماۃ زہرہ جو حسن و جمال میں شہرہ آفاق تھی اس کا مقدمہ ان کے اجلاس میں پیش ہوا۔ یہ دونوں فرشتے اس عورت کے حسن و جمال کو دیکھتے ہی اس پر فریفتہ ہوگئے اور اس کو پھسلانا شروع کیا۔ اس عورت نے ان کار کیا اور کہا کہ جب تک تم بت پرستی اختیار نہ کرو اور میرے خاوند کو قتل نہ کرو اور شراب نہ پیو میں تمہارے پاس نہیں آسکتی آپس میں دونوں نے مشورہ کیا کہ شرک اور قتل ناحق تو بہت بڑے گناہ ہیں اور شراب پینا اس درجہ کی معصیت نہیں اس لیے اس کو اختیار کرلینا چاہئے۔ غرض یہ کہ اس عورت نے پہلے ان کو شراب پلائی اور پھر بت کو سجدہ کرایا اور پھر شوہر کو قتل کرایا اور ان سے اسم اعظم سیکھا اور پھر ان کے ساتھ ہم بستر ہوئی بعد ازاں وہ عورت اسم اعظم پڑھ کر آسمان پر چلی گئی اور اس کی روح زہرہ ستارہ کی روح کے ساتھ جا ملی اور اس کی صورت زہرہ کی صورت ہوگئی اور وہ فرشتے اسم اعظم بھول گئے۔ اس لیے آسمان پر نہ جاسکے جب ہوش میں آئے نہایت نادم ہوئے اور ادریس (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا اور استغفار کی درخواست کی۔ اور بارگاہ خداوندی میں شفاعت کے خواستگار ہوئے۔ بارگاہ الٰہی سے یہ حکم آیا کہ عذاب تو تم کو ضرور ہوگا لیکن اس قدر تخفیف کی جاتی ہے کہ تم کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ دنیوی اور اخروی عذاب سے جس کو چاہو اختیار کرلو۔ فرشتوں نے دنیاوی عذاب کو سہل اور آسان سمجھا کہ یہاں کا عذاب تو عنقریب منقطع ہوجائے گا اس لیے اس کو اختیار کرلیا۔ چناچہ وہ اللہ کے حکم سے بابل کے کنویں میں الٹے لٹکا دئیے گئے اور وہیں ان کو آگ سے عذاب دیا جارہا ہے۔ پھر جو کوئی ان کے پاس جادو سیکھنے جاتا ہے وہ اول تو اس کو سمجھا دیتے ہیں اور جب اصرار کرتا ہے تو اس کو سکھا دیتے ہیں۔ (قصہ ختم ہوا)
تحقیق : ہاروت وماروت کا جو قصہ نقل کیا گیا اس میں علماء کے دو فریق ہیں ایک فریق یہ کہتا ہے کہ یہ قصہ سرتاپا موضوع ہے اور یہود کا من گھڑت قصہ ہے اور انہی کی کتابوں سے ماخوذ ہے حضرات محدثین اس قصہ کو باعتبار روایت کے غیر معتبر قرار دیتے ہیں اور حضرات متکلمین باعتبار درایت کے اس کو غیر معتبر کہتے ہیں۔ قاضی عیاض اور امام رازی نے اس قصہ کا شد و مد سے انکار کیا ہے اس لیے کہ یہ قصہ اصول دین کے خلاف ہے۔
1 ۔ اول یہ کہ فرشتے معصوم ہیں ان سے گناہ کا صدور عصمت کے منافی ہے
2 ۔ دوم یہ کہ جب وہ عذاب میں گرفتار ہیں تو ان کی فرصت کہاں سے ملی کہ لوگوں کو جادو سکھلائیں نیز تعلیم تعلیم کے اختلاف شرط ہے جو محبوس ہونے کی وجہ سے مفقود ہے ان کو لوگوں سے اختلاط کیسے میسر ہوا۔
3 ۔ سوم یہ کہ ایک فاحشہ اور بدکار عورت کا دھوکہ سے اسم اعظم سیکھ کر آسمان پر چڑھ جانا سراسر غیر معقول ہے۔ اسماء الٰہی کے لیے تقوی اور طہارت شرط ہے۔
4 ۔ چہارم یہ کہ مسخ اور تبدیل صورت عقوبت کے لیے ہوتا ہے اور عقوبت کے لیے تحقیر اور اہانت لازم ہے اور آسمان پر پہنچ کر ستارہ بن جانے میں نہ کوئی عقوبت ہے اور نہ کوئی تحقیر اور اہانت ہے۔
5 ۔ پنجم یہ کہ زہرہ تو ایک مشہور ستارہ ہے جو ابتداء آفرینش عالم سے موجود ہے اور اس قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت کو مسخ کر کے زہرہ ستارہ بنادیا گیا جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ستارہ اس واقعہ کے بعد وجود میں آیا اور اس واقعہ سے پہلے یہ ستارہ موجود نہ تھا اور یہ سراسر غیر معقول ہے ان وجوہ کی بناء پر ان علماء نے اس قصہ کا انکار کیا لیکن جلال الدین سیوطی اور ملا علی قاری وغیرہم فرماتے ہیں کہ اس بارے میں روایات مرفوعہ اور آثار صحابہ اسانید صحیحہ کے ساتھ اس قدر کثرت سے آئے ہیں کہ جن کا انکار ناممکن ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ بےاصل نہیں۔ انتہی ٰ لہذا اس قصہ کی صحت اور عدم صحت کے بارے میں توقف اور سکوت مناسب ہے اور جن حضرات مفسرین نے اس قصہ کو ذکر کیا ہے ان پر تشنیع اور نازیبا کلمات سے ان کا ذکر کرنا سراسر خلاف ادب ہے بہت سے اکابر محدثین اور مفسرین نے بغرض تحقیق وتنقیح اپنی کتابوں میں رطب ویابس کو جمع کیا ہے۔
حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ اس قصہ کے بارے میں جس قدر روایتیں آئی ہیں اگر تتبع کر کے ان تمام روایات کو جمع کیا جائے تو ان کا قدر مشترک حصہ تواتر کو پہنچ جاتا ہے اگرچہ واقعہ کی خصوصیات میں اختلاف ہو لیکن جو قدر مشترک حد تواتر کو پہنچ چکا ہے اس کا انکار دشوار ہے انفرادی طور پر اگرچہ ہر طریق اور ہر سند ضعیف اور واہی ہو لیکن ضعیف روایتوں کا تواتر بھی ترجیح صدق کا موجب ہوتا ہے لہذا مناسب یہ ہے کہ بجائے انکار اور تکذیب کے قصہ کی کوئی مناسب توجیہ کی جائے جس سے اصول دین کی مخالفت باقی نہ رہے۔
1 ۔ وہ توجیہ یہ ہے کہ فرشتوں کی عظمت اس وقت تک ہے جب تک فرشتے اپنی اصلی حالت اور اصلی حقیقت پر رہیں اور جب ان میں بھی کسی حکمت اور مصلحت سے شہوت اور غضب کی کیفیت پیدا کردی گئی تو وہ خالص فرشتے نہ رہے اس لیے اب ان کے لیے عصمت بھی لازم اور ضروری نہ ہوگی۔
2 ۔ نیز عذاب اور گرفتاری کی حالت میں تعلیم سحر کا جاری رہنا محال تو کیا مستبعد بھی نہیں۔ کیا جیل خانہ میں رہ کر افادہ اور استفادہ ممکن نہیں۔ ایک حاذق طبیب اگر اس کے ہوش و حواس سالم ہوں تو ہماری کی حالت میں بھی علم طب کی تعلیم دے سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ فرشتوں کی قوت ادراکیہ انسان کی قوت ادراکیہ سے کہیں اکمل اور اتم ہے عذاب اور گرفتاری کی حالت ان کے لیے تعلیم سے مانع نہیں ہوسکتی خصوصاً جبکہ غیب سے ان کو مدد بھی پہنچتی ہو کیونکہ آسمان سے اس تعلیم کے لیے اتارے گئے تھے۔ جیسا کہ قتادہ سے مروی ہے کہ ہر سال ان کے پاس ایک شیطان جاتا ہے اور تازہ سحر سیکھ کر آتا ہے اور لوگوں میں پھیلاتا ہے جس شخص کو کسی علم کا ملکہ ہوتا ہے تو وہ بیماری اور لاچاری کی حالت میں اس علم کی تعلیم دے سکتا ہے اور بسبب مزاولت اور محارست اور بروجہ ملکۂ مہارت اس کو تعلیم وتلقین میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔
3 ۔ نیز وہ عورت اگرچہ بدکار تھی لیکن مقصود اس کا قرب الٰہی کو حاصل کرنا تھا اپنے حسن و جمال کو اسم اعظم کے معلوم کرنے کا زریعہ بنایا۔ خرابی جو کچھ تھی وہ ذریعہ اور وسیلہ میں تھی۔ اصل مقصد میں کوئی قبح نہ تھا۔ حسن نیت کی برکت سے کامیاب ہوئی۔
اور جس طرح بغرض ابتلاء فرشتے بشکل بشر بنا کر آسمان سے زمین پر اتارے گئے اسی طرح ایک ستارہ کی روح ایک حسین و جمیل عورت کی شکل میں ہاروت اور ماروت کی عصمت کے امتحان کے لیے نمودار ہوئی اور امتحان ہوجانے کے بعد اصلی صورت کی طرف لوٹ گئی یعنی صورت بشریہ سے صورت کو کبیہ کی طرف واپس ہوگئی۔ جس طرح جنات مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور پھر اپنی اصلی صورت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ اسی طرح یہاں سمجھو۔ لہذا جن روایات میں اس عورت کا زہرہ ستارہ کی صورت میں مسخ ہونے کا ذکر آیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عورت کی روح کا تعلق زہرہ کی روح کے ساتھ کردیا گیا اور یہ مطلب نہیں کہ یہ ستارہ پہلے ہی سے موجود نہ تھا اور اب اس عورت کے مسخ ہونے کے بعد وجود میں آیا۔
5 ۔ اور صورت کو کبیہ اگرچہ کتنی ہی شرافت اور عظمت رکھتی ہو لیکن صورت انسانیہ کے اعتبار سے بہت حقیر اور ذلیل ہے۔ کما قال تعالیٰ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔
خلاصۂ کلام : بعض علماء نے اس قصہ کو اصول دین اور قواعد شریعت کے خلاف سمجھا اس لیے اس کو غیر معتبر قرار دیا اور بعض علماء نے کثرۃ طرق اور کثرۃ اسانید کی بناء پر اس قصہ کا بالکلیہ ان کار مناسب نہیں سمجھا۔ بیس سندوں سے زیادہ اس قصہ کا مروی ہونا اس کی خبر دیتا ہے کہ اس قصہ کی اصل ضرور ہے بالکل بےاصل نہیں روایات مختلفہ کا جو قدر مشترک تھا یہ حضرات اس کے قائل ہوئے اور خصوصیات کے بارے میں توقف اور سکوت کیا اور جو باتیں بظاہر اصول شریعت کے خلاف معلوم ہوتی تھیں ان کی مناسب توجیہ اور تاویل فرمائی اور یہ طریق نہایت اسلم اور معتدل ہے۔ روایت کا دارومدار طرق اور اسانید پر ہے اگرچہ وہ طرق اور اسانید ضعیف اور واہی کیوں نہ چند ضعفاء کے مل جانے سے بھی ایک گونہ قوت آجاتی ہے اس لیے جو ضعیف حدیث متعدد طرق سے مروی ہو اصطلاح محدثین میں اس کو حسن لغیرہ کہتے ہیں۔ لہذا کسی ضعیف روایت کا بالکلیہ انکار کردینا خود خلاف درایت ہے یہ کیا ضروری ہے کہ جو چیز آپ کے نزدیک خلاف دراویت اور دوسرے عالم کے نزدیک بھی خلاف درایت ہو۔ ممکن ہے کہ آپ کی درایت نے غلطی کی ہو۔ فوق کل ذی علم علیم وفوق کل ذی فھو فھیم اور محض اسرائیلیات میں سے ہونا بھی تکذیب اور انکار کا سبب نہیں بن سکتا الا یہ کہ نصوص کتاب وسنت اور قواعد و شریعت اور اجماع امت کے خلاف ہو۔ حدیث میں ہے حدثوا عن بنی اسرائیل ولا حرج (اسرائیلی باتوں کے نقل میں کوئی حرج نہیں)
میرا یہ مطلب نہیں کہ یہ قصہ قطعاً صحیح ہے اور ناظرین بھی اس کو صحیح مانیں میرا مطلب فقط اس قدر ہے کہ بیدھڑک ہو کر روایات کا انکار نہ کریں باقی رہی آیات کی تفسیر تو وہ اس قصہ کے صحیح ہونے پر موقوف نہیں کہ جیسا کہ ناظرین نے تفسیر کو پڑھ کر دیکھ لیا ہوگا۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ : حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (رح) ایک وعظ میں فرماتے ہیں کہ اگر یہ شبہ کیا جائے کہ سحر تو حرام اور کفر ہے باقی اس کا جاننا اور بضرورت شروع اسکا سیکھنا خصوصاً جبکہ اس پر عمل کرنے کی مخالفت بھی ساتھ ساتھ ہو تو حرام نہیں جیسے سور اور کتے کا گوشت کھانا حرام ہے مگر اس کی خاصیت معلوم کرنا اور اس کو بیان کرنا حرام نہیں۔ فقہاء نے کلمات کفریہ کے لیے ایک مستقل باب رکھا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ کن باتوں سے ایمان جاتا رہتا ہے فلسفہ کے بہت سے مسائل کفر ہیں لیکن اس کی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ اس کی حقیقت معلوم کر کے اس کا جواب دیا جاسکے۔
ایک اور اشکال اور اس کا جواب : رہا یہ اشکال کہ پھر اس کی تعلیم کے لیے فرشتے کیوں نازل کیے گئے۔ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہی سے یہ کام کیوں نہ لے لیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہدایت محضہ کے لیے مبعوث ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم سحر میں یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص ان سے سیکھنے کے بعد اسی میں مشغول اور مبتلا ہوجائے تو اس طرح حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام گمراہی کا سبب بعید بھی بنانا گوارا نہیں فرمایا بخلاف فرشتوں کے کہ ان سے تشریع اور تکوین دونوں قسم کے کام لیے جاتے ہیں اور تکوین میں جس طرح وہ مسلمانوں کی پرورش اور حفاظت کرتے ہیں اسی طرح وہ کافروں کی بھی پرورش اور حفاظت کرتے ہیں حالانکہ ہمارے لیے شرعاً کافر کی اعانت اور امداد ناجائز ہے انبیاء کرام کے تشریعی نظام سپرد ہوتا ہے اور ملائکہ کے تکوینی نظام سپرد ہوتا ہے اس لیے تعلیم سحر کی خدمت ملائکہ کے سپر دہوئی کہ اگر وہ اس میں ضلالت کا سبب بن جائیں تو ان کی شان کے خلاف نہ ہوگا۔ اور حضرات انبیاء کے لیے گمراہی کا سبب بعید بننا بھی خلاف شان ہے۔ کذا فی تعمیم التعلیم ص 51 نمبر 13 از تبلیغ
؎ جس طرح حضرات انبیاء کرام نے یہ بتلایا کہ رشوت حرام ہے مگر رشوت کی حقیقت نہیں بتلائی اسی طرح حضرات انبیاء نے یہ تو بتلادیا کہ سحر حرام ہے مگر سحر کی حقیقت نہیں بتلائی۔
Ayah 2:104شناعت بست ودوم (22)
متضمن بتلقین احباب بآداب خطاب
قال تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا۔۔۔ الی۔۔۔ وللکفرین عذاب الیم
(ربط): گزشتہ آیات میں یہود کے اتباع سحر کا ذکر تھا آئندہ ارشاد فرماتے ہیں کہ سحر کا اتباع یہودیوں کی طبیعتوں میں اس درجہ راسخ اور پختہ ہوگیا ہے کہ ان کی گفتگو اور مخاطبت بھی سحر کے اثر سے خالی نہیں۔ جس طرح سحر ایک ملمع سازی اور حقیقت کی پردہ پوشی ہے اسی طرح ان کا کلام بھی سحر لسانی ہوتا ہے صورت اس کی تعظیم و تکریم ہے اور حقیقت اس کی اہانت اور تحقیر ہے حقارت پر عظمت کی ملمع کاری کر کے بات کرتے ہیں۔ چناچہ جب آنحضرت ﷺ سے ہم کلام ہوتے تو راعنا سے خطاب کرتے جس کے ظاہری معنی نہایت عمدہ ہیں کہ آپ ہماری رعایت کیجئے اور ہمارے حال پر توجہ فرمائیے۔ لیکن جن معنی کا وہ ارادہ کرتے وہ نہایت فاسد اور گندہ ہیں۔ یہود یہ لفظ بول کر احمق یا چرواہے کے معنی مراد لیتے۔ بہت سے مسلمانوں کو ان فاسد معنی کا علم نہ تھا انہوں نے یہ سمجھ کر کہ علماء اہل کتاب حضرات انبیاء کے آداب سے بخوبی واقف ہیں جب علماء یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ کلمۂ تعظیم ہے اس لیے مسلمانوں نے بھی اس لفظ کا استعمال شروع کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ایمان والو ایمان کا مقتضیٰ یہ ہے کہ تلبیس اور دھوکہ سے بچو اگرچہ تمہارا ارادہ دھوکہ کا نہ ہو تم آنحضرت ﷺ سے خطاب کے وقت راعنا کا لفظ نہ کہو جس میں فاسد معنی کا ایہام ہے بلکہ اس کے بجائے لفظ انظرنا کہو یعنی ہم پر نظر عنایت فرمائیے اور ہم پر شفقت اور توجہ فرمائیے اور آپ جو ارشاد فرمائیں اس کو نہایت غور سے سنو کہ دوبارہ سوال اور ایسے موہم الفاظ کے استعمال کی نوبت ہی نہ آئے اور کافروں کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے کہ جو اس قسم کے الفاظ سے رسول اور اہل ایمان کو ایذا پہنچاتے ہیں اور رسول کی ایذاء اور تحقیر بلاشبہ کفر ہے۔
1 ۔ قرآن کریم میں اٹھاسی جگہ اس امت کے مسلمانوں کو یا ایہا الذین امنوا سے خطاب کیا گیا ہے ان میں سے یہ پہلا موقعہ ہے کتب سابقہ میں صرف انبیاء کو خطاب ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ شرف عطاء فرمایا کہ قرآن کریم میں براہ راست اس امت کو مخاطب بنایا۔ ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے درخواست کی کہ مجھ کو کچھ نصیحت فرمائیے فرمایا کہ جب تو قرآن پڑھے اور یا ایہا الذین امنوا کے خطاب کو سنے تو فوراً اپنے کانوں کو اس کی طرف متوجہ کرنا اور قلب کو حاضر کرنا اللہ تعالیٰ بلا واسطہ تجھ سے خطاب فرما رہا ہے اور کسی اچھی چیز کا حکم دیتا ہے یا کسی بری چیز سے منع کرتا ہے (رواہ عبداللہ بن احمد فی زوائد المسند والبیہقی فی شعب الایمان)
2 ۔ جس لفظ کے استعمال سے فاسد معنی کا ایہام ہوتا ہو اس کا استعمال نہ کرنا چاہئے اگرچہ متکلم کی نیت صحیح ہو۔
3 ۔ نبی کی اشارۃً اور کنایۃً تحقیر بھی کفر ہے اس لیے کہ یہود صراحۃً آپ کی تحقیر نہیں کرتے تھے۔ راعنا کہہ کر اشارۃً اور کنایۃً آپ کی تحقیر کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو کافر فرمایا۔
Ayah 2:105شناعت بست و سوم (23)
قال تعالی۔ ما یود الذین کفروا۔۔ الی۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم
شان نزول : مسلمانوں نے یہود سے کہا کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ۔ یہودیوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہماری تو دلی خواہش تھی کہ اگر تمہارا دین ہمارے دین سے بہتر ہوتا تو ضرور اس کو قبول کرتے لیکن تمہارا دین ہمارے دین سے بہتر ثابت نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ سب غلط ہے اصل وجہ یہ ہے کہ یہ تم پر حسد کرتے ہیں اور کافر خواہ اہل کتاب ہوں یا مشرکین مکہ ذرہ برابر دل سے یہ نہیں چاہتے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر کوئی خیر نازل کی جائے لیکن ان کے حسد سے کچھ نہیں ہوسکتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کا محکوم نہیں اور اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جس کو چاہے اپنی رحمت سے مخصوص فرمائے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنی نبوت اور وحی سے سرفراز فرمایا اور اپنے فضل والے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنی نبوت اور وحی سے سرفراز فرمایا اور اپنے فضل سے آپ کو افضل الانبیاء بنایا۔ اور آپ کے دین کا تمام ادیان سے افضل اور اکمل ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔
: اس جگہ رحمت سے مراد نبوت ہے اور فضل اس احسان اور نکوئی کو کہتے ہیں جو ابتداءً بلا وجہ ہو۔
Ayahs 2:106–107شناعت بست وچہارم (24)
قال تعالیٰ ماننسخ من ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ من ولی ولا نصیر
شان نزول : یہود اور مشرکین بطور طعن یہ کہتے تھے کہ محمد (ﷺ) اپنے اصحاب کو ایک بات کا حکم دیتے ہیں اور پھر اسی بات سے منع کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ اپنی طرف سے کہتے ہیں۔ اس پر یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ اس قسم کی باتوں کافروں کا مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ شک اور شبہ ڈالدیں کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ خدا کی طرف سے جو ہم پر نازل ہوا وہ سب خیر ہی خیر ہے تو اس کے منسوخ ہونے کے کیا معنی۔ اگر پہلا حکم خیر تھا تو دوسرا شر ہوگا اور اگر دوسرا ھکم خیر ہے تو پہلا حکم شر ہوگا اور وحی الٰہی اور حکم خداوندی کا شر ہونا ناممکن اور محال ہے اس شبہ کے ازالہ کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ نسخ کے معنی تبدیل خیر بالشر کے نہیں۔ یعنی خیر کو شر کے ساتھ بدل دینے کے نہیں تاکہ وحی الٰہی اور خیریت میں منافات لازم آئے بلکہ ناسخ اور منسوخ دونوں ہی خیر ہیں اس لیے کہ ہم جب کبھی کسی آیت کا حکم منسوخ کرتے ہیں کہ اس آیت کے حکم پر عمل نہ کیا جائے اگرچہ اس آیت کی تلاوت باقی رہے یا ہم اس آیت ہی کو ذہنوں سے بھلا دیتے ہیں کہ اس آیت کے الفاظ کو کسی حکمت اور مصلحت کی بنا پر قوت حافظہ سے فراموش کردیں اگرچہ حکم اس آیت کا برقرار رکھیں کہ اس آیت کے ذہنوں سے نکل جانے کی وجہ سے تلاوت کی عبادت اور لذت تو حاصل نہ کرسکیں اس منسوخ التلاوۃ آیت کے حکم پر عمل کر کے اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکیں۔ بہر حال ہم چاہے کسی آیت کے حکم کو منسوخ کریں یا اس آیت کو ذہنوں سے بھلائیں نسخ کے بعد اس آیت منسوخہ یا منسیہ سے کوئی بہتر چیز لاتے ہیں یا اس آیت کے مثل لاتے ہیں یعنی حکم ناسخ حکم منسوخ سے سہولت عمل یا موافقت مصلحت یا کثرۃ ثواب کے اعتبار سے بہتر ہوتا ہے یا برابر۔ کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کو سب اختیار ہے ہر لمحہ اور ہر لحظہ تو اس کے عجائب قدرت اور غرائب مشیت کا مشاہدہ کرتا ہے جیسے مرض کا صحت سے بدلنا اور فقر کا تونگری سے بدلنا اور عزت کا ذلت سے بدلنا اور روشنی کا تاریکی سے بدلنا پس جو ذات ان تغیرات اور تبدلات پر قادر ہے کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ ایک حکم سے دوسرے حکم کو بدل دے اور جس طرح احکام تکوینیہ میں حسب اقتضاء مصلحت تغیر اور تبدل معاذ اللہ جہالت نہیں بلکہ عین حکمت ہے اسی طرح احکام شرعیہ میں بھی باقتضاء زمان ومکان اور باقتضاء طبع تغیر وتبدل عین حکمت اور عین مصلحت ہے اور الہامی کتابوں میں بھی احکام بدلتے رہے ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی تو توریت کے بعد انجیل کے نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی اور اس تغیر وتبدل سے اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوتا۔ پہلے ہی سے یہ سب کچھ اس کے علم میں تھا۔ البتہ اس تغیر اور تبدل سے ہمارے علم میں تگیر ہوتا ہے۔ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کو قصور علم کی وجہ سے اس حکم کی مدت معلوم نہ تھی اور قصور فہم کی وجہ سے اس حکم کو دائم اور مستمر سمجھ بیٹھے۔ جب حکم ناسخ نازل ہوا اس وقت اپنے قصور علم کا علم ہوا اور قصور فہم کا فہم ہوا۔ قوانین حکومت میں بھی تغیر اور تدبل ہوتا ہے لیکن وہاں کسی فروگذاشت اور لاعلمی کی بناء پر پہلا حکم منسوخ ہوتا ہے اور حق جل شانہ کے احکام میں تغیر وتبدل ہمیشہ حکمت ومصلحت کی بناء پر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا علم غلطی سے پاک ہے۔
لا یضل ربی ولا ینسی۔ میرا رب نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔
مریض کے حالات بدلنے کی وجہ سے طبیب دوا بدلتا رہتا ہے یہ طبیب کی جہالت نہیں بلکہ دلیل حذاقت ہے کہ ہر وقت کی مصلحت اس کی پیش نظر ہے اور اس قدرت کے علاوہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لیے بادشاہت آسمانوں کی اور زمینوں کی اور حکومت اور بادشاہت کے لوازم میں سے ہے کہ احکام میں تغیر اور تبدل ہو لہذا جس وقت جو حکم دے اس کی تعمیل فرض اور لازم ہے اور اگر اس کے حکم اور فرمان کی تعمیل میں تامل کرو اور یہ کہو کہ ہم تو پہلے ہی حکم کو مانیں گے دوسرے حکم کو نہیں مانیں گے تو سمجھ لو کہ تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی کارساز اور مددگار نہیں کہ جو تمہیں اس کی گرفت اور باز پرس سے بچا سکے۔
فائدہ اولی : لغت میں نسخ کے دو معنی آتے ہیں ایک نقل اور تحویل جیسے نسخ الکتاب (یعنی کتاب نقل کی) دوسرے معنی رفع اور ازالہ کے جیسے نسخت الشمس الظل (آفتاب نے سایہ کو زائل کردیا) آیت میں دوسرے معنی مراد ہیں یعنی حکم اول کو اٹھا دینا۔
فائدہ دوم : کتاب اللہ کا نسخ چند وجوہ پر آیا ہے (1) ایک تو یہ کہ تلاوت مسنوخ ہوگئی اور حکم باقی رہا جیسے آیت رجم کہ تلاوت تو اس کی منسوخ ہوگئی اور حکم اس کا باقی ہے (2) اور ایک یہ کہ حکم منسوخ ہوجائے اور تلاوت باقی رہے جیسے اقارب کے لیے وصیت کرنے کی آیت میراث سے اس کا حکم منسوخ ہوگیا اور تلاوت علی حالہا باقی ہے اور مثلاً وہ آیت جس میں ایک سال کی عدت وفات کا حکم مذکور ہے تلاوت اور قراءت اس کی باقی ہے مگر ایک سال کی عدت کا حکم چار مہینے اور دس روز کی آیت سے منسوخ ہوگیا (3) اور ایک صورت یہ ہے کہ تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوں جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة احزاب بقدر سورة بقرہ طویل تھی مگر اس کے اکثر حصہ کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوگئے۔
فائدہ سوم : نسخ کی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ حکم منسوخ کی جگہ دوسرا حکم نازل کیا جائے جیسے ایک سال کی عدت منسوخ کرے چار مہینہ اور دس دن کا حکم نازل کردیا گیا۔ دوسری قسم یہ کہ پہلا حکم اٹھا لیا جائے اور کوئی جدید حکم اس کی جگہ نہ اتارا جائے جیسے ابتداء میں مہاجر عورتوں کے امتحان کا حکم تھا بعد میں اٹھا لیا گیا۔
فائدہ چہارم : نسخ احکام یعنی اوامر اور نواہی میں جاری ہوتا ہے اخباری یعنی جو چیزیں خبر سے متعلق ہیں ان میں نسخ جاری نہیں ہوتا ہے اور اوامر ونواہی میں باقتضاء مصلحت تغیر وتبدل عقلاء عالم کے نزدیک مسلم ہے۔ بلکہ مصلحت کے بدلنے سے حکم کو نہ بدلنا عقلاً قبیح ہے۔
فائدہ پنجم : ناسخ کا منسوخ سے بہتر یا برابر ہونا باعتبار سہولت عمل یا باعتبار کثرت ثواب مراد ہے نظم اور اعجاز کے اعتبار سے ناسخ اور منسوخ کا برابر ہونا ضروری نہیں۔ لہذا کتاب اللہ کا حدیث سے منسوخ ہونا۔ نات بخیر منھا۔ (یعنی ہم اس سے بہتر حکم نازل فرماتے ہیں) کے منافی نہ ہوگا۔ خوب سمجھ لو
Ayah 2:108شناعت بست وپنجم (25)
قال تعالیٰ ۔ ام تریدون ان تسئلو رسولکم۔۔۔ الی۔۔۔ سواء السبیل
اے مسلمانو ! کیا تم بھی یہی چاہتے ہو کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) سے سوالات کیے گئے اسی طرح تم اپنے رسول سے سوالات کرو۔ بنی اسرائیل کی طرح احکام خداوندی میں قیل وقال کرو اور حجتیں نکالو ! جیسے بقرہ کے قصہ میں گزرا۔ مثلاً یہ سوال کرو کہ پہلا ہی حکم برقرار رکھا جائے یا ہم اس حکم سے خوش نہیں، اور جو شخص بجائے ایمان کے کفر کو اختیار کرے وہ سیدھے راستہ سے بہک گیا۔ منزل مقصود کو کیسے پہنچ سکے گا مطلب یہ ہے کہ احکام خداوندی میں حجتیں نکالنا اور اللہ کے نبی سے الجھنا اور لا یعنی سوالات کرنا یا اللہ کے کسی حکم کو غیر مناسب سمجھنا یہ سب کفر کی بات ہے تمہارا فریضہ تو یہ ہے۔
زباں تازہ کردن باقرار تو
نینگیختن علت از کار تو
Ayahs 2:109–110شناعت بست وششم (26)
قال تعالی۔ ود کثیر من اھل الکتب۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ بما تعملون بصیر
اے مسلمانو ! یہ یہود قرآن اور دین میں طرح طرح کے شبہ نکالتے ہیں کبھی نسخ احکام پر اعتراض کرتے ہیں اصل وجہ یہ ہے کہ اکثر اہل کتاب کی دلی خواہش اور تمنا یہ ہے کہ کسی طرح تم کو ایمان سے پھیر کر کافر بنا دیں کہ اہل کتاب کی طرح تم بھی جدید حکم کا انکار کردو اور اپنے نبی پر یہ اعتراض کرو کہ تم نے پہلے تو یہ حکم دیا تھا اور اب یہ دوسرا حکم اس کے خلاف کیسا ؟ اور اس غرض فاسد کا کوئی محرک اور باعث تمہاری جانب سے وقوع میں نہیں آیا بلا وجہ محض حسد کی بناء پر کہ جو خود ان کے ناپاک اور گندے نفسوں سے پیدا ہوا ہے اور پھر تعجب یہ ہے کہ ان کی یہ کوشش اور یہ حسد کسی شک اور شبہ کی بناء پر نہیں بلکہ بعد اس کے ہے کہ حق ان کو خوب واضح ہوچکا ہے کہ مسلمانوں کا دین اور ان کی کتاب اور ان کا رسول سب سچے ہیں۔ نیز ان کو یہ بھی خوب معلوم ہے کہ ہر شریعت میں علی اختلاف المصالح احکام بدلتے رہتے ہیں۔ بقرہ ہی کے قصہ میں دیکھ لو کہ کتنی مرتبہ نسخ ہوا۔ تم ان کی باتوں کا خیال مت کرو۔ یہ حسد میں مبتلا ہیں خدا کا شکر کرو کہ تم حاسد نہیں محسود ہو۔ پس تم ان حاسدوں سے معاف کرو اور درگزر کرو۔ یعنی زبان سے بھی ان کو کچھ برا بھلا نہ کہو اور فی الحال ان سے کوئی جنگ وجدال اور قتل و قتال نہ کرو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جہاد و قتال اور جزیہ کا حکم نازل فرمائے اور جہاد و قتال کے حکم میں تاخیر عاجز ہونے کی بناء پر نہیں بلکہ فی الحال بھی قادر ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہے لیکن اس تاخیر میں کچھ حکمتیں ہیں وہ قادر و توانا جب چاہے گا ضعیف کو قوی پر غالب کردیگا اور اگر تم کو اپنے ان دشمنان ایمان سے جہاد کا شوق ہے تو جہاد بالسیف کا حکم آنے سے پہلے جہاد نفس میں مشغول رہو۔
اور نماز کو قائم رکھو اور زکوٰۃ کو دیتے رہو۔ یہ عبادت مالی اور بدنی نفس پر بہت شاق اور گراں ہے۔ بس اس جانی ومالی جہاد میں لگے رہو۔ اور نماز اور زکوٰۃ کے علاوہ جو نیکی اور بھلائی بھی تم آگے بھیجو گے تمام جمع شدہ ذخیرہ اللہ تعالیٰ کے یہاں پاؤ گے۔ یہ ناممکن ہے کہ تمہارا کوئی عمل ضائع ہوجائے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ تمہارے عمل کو خوب دیکھتا ہے۔ اس عمل کی کمیت اور کیفیت اور تمہارا اخلاص اور شوق اور نیت سب اس کے نظروں کے سامنے ہے۔
Ayahs 2:111–112شناعت بست وہفتم (27)
قال تعالیٰ ۔ وقالوا لن یدخل الجنۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ولا ھم یحزنون۔
اے مسلمانو ! یہ اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ تم کو دھوکہ دینے کے لیے یہ کہتے ہیں کہ جنت میں سوائے یہود اور نصاری کے ہرگز کوئی داخل نہ ہوگا تم کو فریب دیکر اور بہشت کا شوق دلا کر اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں تم ہرگز ان کی طرف مائل نہ ہونا۔ اور نہ ان کی بات کی طرف التفات کرنا۔ یہ سب ان کی خالی آرزوئیں اور دل کے بہلانے کی باتیں ہیں جن پر نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی۔ آپ ان سے کہدیجئے کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی نہیں جائے گا تو اپنی کوئی دلیل پیش کرو بغیر دلیل کے کوئی دعوی مسموع نہیں۔ البتہ جو امر دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے ثابت ہے اور تمام اہل حق کے نزدیک مسلم ہے وہ یہ ہے کہ :
جو شخص اپنے وجہ یعنی اپنی ذات کو خدا تعالیٰ کے سپرد کردے اور اس کے حکمون خے سامنے گردن ڈال دے کہ اللہ کا جو حکم بھی جس وقت پہنچے اس کو سنے اور سر اور آنکھوں پر رکھے اور بیچون وچرا اس کو مانے اور اس اطاعت اور فرمانبرداری میں مخلص اور نیکو کار ہو یعنی جب اللہ کی عبادت کرے تو اس طرح کرے گویا کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے تو ایسے شخص کو اللہ کے یہاں اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا اجر ملے گا اور نہ ان پر آئندہ کا کچھ خوف ہوگا اور نہ گزشتہ پر غمگین ہونگے۔ حاصل کلام یہ کہ جنت میں وہ شخص داخل ہوگا جس میں یہ دو صفتیں پائی جائیں۔ اول اسلام لوجہ اللہ اور دوسری احسان۔ اسلام سے تصحیح عقائد مراد ہے اور احسان سے اعمال حسنہ اور ان لوگوں میں یہ دونوں صفتیں مفقود ہیں۔ پیغمبر وقت پر ایمان نہیں لائے اور جو احکام پہلے حکمون خے نسخ کے لیے نازل ہوئے ان کو قبول نہیں کیا اور ظاہر ہے کہ ناسخ آجانے کے بعد حکم منسوخ پر عمل کرنے والا مطیع اور فرمانبردار نہیں ہوسکتا اور نہ احسان عمل ان کو نصیب ہوا۔ اللہ کی شریعت میں تحریف کی اور اللہ پر جھوٹ بولا ایسی حالت میں دخول جنت کی توقع خیال خام ہے البتہ مسلمانوں نے اللہ کی آخری شریعت کو اخلاص کے ساتھ قبول کیا وہ جنت کے مستحق ہیں۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ یہود اور نصاریٰ جو خاصان خدا کے انتساب ہی کو مدار نجات سمجھے ہوئے ہیں وہ آگاہ ہوجائیں کہ محض یہ تمنائیں ذریعۂ نجات نہیں ہوسکتیں۔ ایمان اور اعمال صالحہ شرط نجات اور مغفرت ہیں۔ اور یہ دونوں ان میں مفقود ہیں۔
Ayah 2:113شناعت بست وہشتم (28)
قال تعالیٰ ۔ وقالت الیھود لیست النصری۔۔ الی۔۔ فیما کانوا فیہ یختلفون۔
ایک مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں نجران کے نصاریٰ آئے۔ علماء یہود بھی ان کو سن کر آگئے دونوں فریق کی آپس میں بحث شروع ہوگئی۔ جوش میں آکر ایک دوسرے کی تکذیب کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور جوش میں آکر یہود کہنے لگے کہ نصاری کسی صحیح اور قابل اعتبار چیز پر نہیں۔ بالکل بےبنیاد ہے سرے ہی سے کسی بنیاد پر قائم نہیں اور اسی طرح نصاریٰ یہ کہنے لگے کہ یہود کسی چیز پر نہیں یعنی ان کا دین ہیچ اور بےبنیاد ہے اور حالانکہ دونوں فریق اللہ کی کتاب پڑھتے رہتے ہیں۔ یعنی یہودی توریت کو اور عیسائی انجیل کو پڑھتے رہتے ہیں اور ہر کتاب میں دوسری کتاب اور اس کے رسول کی تصدیق موجود ہے۔ توریت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کی تصدیق کرتی ہے اور انجیل موسیٰ (علیہ السلام) اور توریت کی تصدیق کرتی ہے۔ اصل بنیاد دونوں کی صحیح ہے اگرچہ بعد میں نسخ اور تحریف کی وجہ سے غیر معتبر ہوگئے اور اسی طرح ان جیسی باتیں وہ لوگ کہتے ہیں کہ جن کے پاس علم نہیں یعن مشرکین اور مجوس یہی کہتے کہ ہم ہی حق پر ہیں اور ہمارے سوا سب بےدین اور گمراہ ہیں پس یہ دنیا ہے یہاں جس کا جی چاہے بےدلیل ہانک لے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے درمیان ان تمام امور کا عملی طور پر فیصلہ فرمادیں گے جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ وہ فیصلہ یہ ہوگا کہ یہودیت اور نسڑانیت اپنے اپنے وقت میں صحیح تھیں۔ خاتم الانبیاء کے دین اور کتاب سے تمام ادیان منسوخ ہوگئے اور اب قیامت تک سوائے دین اسلام کے اور کوئی دین مقبول اور معتبر نہیں اور عملی فیصلہ سے مراد یہ ہے کہ اہل حق اور اہل باطل کے لیے جزاء اور سزا کا حکم سنادیا جائیگا جس سے حق اور باطل کے امتیاز کا آنکھوں سے مشاہدہ ہوجائیگا اور ہر شخص دیکھ لے گا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون گمراہ۔ اور فیصلہ میں عملی کی قید اس لیے لگائی کہ علمی طور پر تو دنیا ہی میں دلائل اور براہین سے حق اور باطل کا فیصلہ ہوچکا ہے اگر طبائع میں تعصب اور عناد نہ ہوتا تو دنیا ہی میں نزاع اور اختلاف ختم ہوجاتا لیکن دنیا میں عملی طور پر حق اور باطل کے اختلاف کا فیصلہ کردینا خلاف حکمت ہے۔ دنیا دار تکلیف اور دار ابتلاء و امتحان ہے۔ عملی فیصلہ یوم جزاء ہی میں مناسب ہے۔
: کذلک قال الذین میں قول کے ساتھ تشبیہ دینا مقصود ہے اور مثل قولھم میں مقولہ کیساتھ تشبیہ دیناہی مقصود ہے لہذا تشبیہ میں تکرار نہیں رہا۔ نیز تاکید کے لیے تکرار عین بلاغت ہے فافھم ذلک واستقم۔
Ayahs 2:114–115شناعت بست ونہم (29)
باشتراک نصاری ومشرکین
قال تعالیٰ ومن اظلم ممن منع مسجدا اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ واسع علیم۔
یہود اور نصاری اور مشرکین سب ہی اس امر کے مدعی ہیں کہ ہم حق پر ہیں لیکن اگر ذرا غور کریں تو معلوم ہوجائے کہ حق سے کس قدر دور ہیں۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ کی مسجدوں کو اس بات سے روکتا ہے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے خواہ دل سے اور خواہ زبان سے اور خواہ اعضاء اور جوارح سے اور فقط اس پر کفایت نہ کرے بلکہ ان کے ویران اور برباد کرنے کی کوشش کرے مساجد کی بیحرمتی کرنا اور ان کو منہدم کرنا یہ مساجد کی ظاہری تخریب ہے اور عبادت اور ذکر اللہ کی بندش کردینا یہ مساجد کی معنوی تخریب اور باطنی ویرانی ہے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ کے اس ارشاد انما یعمر مساجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر واقام الصلوۃ۔ اللہ کی مساجد کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور نماز قائم کی۔ میں عمارت سے ظاہری اور معنوی دونوں قسم کی عمارت مراد ہے اسی طرح وسعی فی خرابھا میں ظاہری اور معنوی دونوں قسم کی تخریب مراد ہے۔ غرض یہ کہ مساجد کو ویران کرنا سب کے نزدیک نہایت قبیح اور فعل شنیع ہے اور یہ تینوں گروہ اس بلا میں مبتلا ہیں۔ یہود اور نصاری نے بیت المقدس اور مسجد اقصی کو ویران کیا اور مشرکین مکہ نے مسجد حرام کو ویران کی اور اس میں خدا کا نام لینے سے مانع اور مزاحم بنے۔ ان ظالموں کو چاہئے تھا کہ مسجدوں میں اور خدا کے گھروں میں قدم بھی نہ رکھتے مگر ڈرتے ہوئے کہ مبادا خدا کے گھر کے ادب اور تعطیم میں ہم سے کوئی قصور نہ ہوجائے جس سے خدا کے سامنے شرمدہ ہونا پڑے۔ اس گھر کا ادب یہی ہے کہ اس کو اللہ کے ذکر اور عبادت سے آباد کیا جائے۔ خدا کے دربار میں داخل ہونے کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی دو رکعت نماز پڑھ لینی چاہئے۔ افسوس کہ یہ لوگ نہ خدا سے ڈرے اور نہ اس کے گھر کا ادب کیا۔ بلکہ ظلم ڈھانے لگے اور اللہ کے بندوں کو اس کے دربار میں حاضری سے روکنے لگے اور ظاہر ہے کہ دربار شاہی کو ویران کرنے کی کوشش کرنا اس سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں اس لیے یہ لوگ دونوں جہان میں سزا یاب ہونگے۔ ان کو دنیا میں بھی سخت رسوائی نصیب ہوگی کہ قتل اور قید کیے جائیں گے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بڑا عذاب ہوگا۔
اور اے مسلمانو ! اگر کافر تم کو مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ میں جانے سے روکیں تو ملول نہ ہونا۔ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین کو تمہارے لیے مسجد بنا دیا ہے ہر جگہ تمہارے لیے نماز اور عبادت درست ہے۔ اللہ تعالیٰ کوئی جسم اور جسمانی نہیں کہ جس کسی خاص مکان میں موجود ہو اور دوسرے مکان میں نہ ہو وہ تو وراء الوراء ثم وراء الوراء ہے البتہ تم زمان اور مکان اور جہت کے ساتھ مقید ہو اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمہاری عبادت کے لیے ایک جہت مقر فرما دی اور ایک قبلہ متعین کردیا لیکن اگر تم فرائض میں کسی دشمن کے خوف کی وجہ سے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھ سکو۔ یا اندھیری رات میں قبلہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے تم نے تحری کر کے نماز پڑھ لی اور بعد میں معلوم ہوا کہ نماز قبلہ رخ نہیں پڑھی گئی یا سفر میں سواری پر نوافل پڑھنا چاہتے تھے اور سواری کا منہ قبلہ کی طرف نہ تھا اور سواری سے اترنے میں دشواری تھی تو ان حالات میں نماز پڑھتے وقت جدھر بھی اپنا منہ کرلو گے تو ادھر ہی اللہ کا رخ ہے یعنی وہی جہت اور سمت قبلہ کی ہے اور تمہاری نماز ہر حال میں صحیح اور مقبول ہے اور ہر حال میں اللہ کا قرب اور حضور تم کو حاصل ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جسم اور جسمانی نہیں کہ اگر ایک مکان میں موجود ہو تو دوسرے مکان میں موجود نہ ہو وہ کسی مکان اور جہت کے ساتھ مقید نہیں اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ وسعت اور سہولت اس لیے عطاء فرمائی کہ اللہ تعالیٰ بڑے ہی وسیع رحمت والے ہیں۔ امام ربانی فرماتے ہیں کہ واسع سے اللہ تعالیٰ کی ذاتی وسعت مراد ہے اس کی ذات کی طرح اس کی وسعت بھی بیچون وچکون ہے جس کی کیفیت حیطۂ ادراک سے باہر ہے اور بندہ کی حاجتوں اور مصلحتوں کے خوب جاننے والے ہیں۔ حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ حکم قبلہ متعین ہونے سے پہلے تھا ابتداء میں اختیار تھا کہ جس سمت میں چاہیں نماز پڑھیں بعد میں یہ حکم منسوخ ہوا مگر یہ قول ضعیف ہے اور روایات سے اس پر کوئی سند اور دلیل نہیں اور بعض کہتے ہیں کہ تحویل قبلہ کی تمہید ہے اور یہود اور نصاریٰ کا رد ہے کہ جو ہر ایک اپنے قبلہ کو بہتر بتاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرق اور مغرب سب اسی کا ہے جس جہت اور جس سمت کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دے وہی جہت قبلہ ہے اور آیت کریمہ اپنے عموم کی وجہ سے ان تمام صورتوں کو شامل ہے جو اس کے شان نزول میں مروی ہیں۔ ابوبکر رازی نے احکام القرآن میں اسی عموم کو اختیار فرمایا ہے۔