2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:190–194

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکہ سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل و خونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کر ڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیے)

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں، پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

حکم نہم متعلق بہ قتال کفار۔ قال تعالی، وقاتلوا فی سبیل اللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ مع المتقین۔ گزشتہ آیات میں حج اور روزہ کے لیے خاص مہینہ کا ہونا بیان فرمایا کہ سوائے ان ایام مقررہ کے دوسرے ایام میں حج نہیں ہوسکتا اسی طرح ملت ابراہیمی میں یہ حکم تھا کہ چار مہنوں میں قتل و قتال حرام ہے، ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب۔ یہ چار مہینے اشہر حرم کہلاتے تھے اور یہ چاروں مہینے امن کے کہلاتے تھے ان دنوں میں تمام ملک عرب میں لڑائی موقوف ہوجاتی تھی اور کوئی کسی سے تعرض نہ کرتا تھا اس بناء پر نبی صلی اللہ نے ذی قعدہ الحرام س 6 ھجری میں صحابہ کی ایک کثیر جماعت کے ہمراہ عمراہ کا قصد فرمایا جب مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین مکہ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے اور مسلمانوں کو عمرہ کرنے اور مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا بالاآخر اس پر صلح ہوئی کہ آپ اس وقت بدون عمرہ کیے ہوئے واپس ہوجائیں اور آئندہ سال آکر عمرہ کریں چناچہ آپ سال آئندہ ذی قعدہ 7 ہجری میں مع اصحاب عمرۃ القضاء کے لیے مکہ تشریف لائے تو اندیشہ ہوا کہ اگر مشرکین مکہ اس ماہ حرام میں خلاف عہدہم سے لڑنے پر تیارہوجائیں تو ہم کیا کریں اور شہر حرام اور بلد حرام میں کیوں کر لڑیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو مگر ابتداء اور زیادتی تمہاری طرف سے نہ ہونی چاہیے چونکہ گزشتہ آیات میں حج کا ذکر تھا حج کی مناسبت سے عمرہ حدیبیہ اور زمانہ حج اور عمرہ میں قتال کا حکم بیان فرمایا اس کے بعد پھر دور تک احکام حج کے بیان کا سلسلہ چلا گیا اصل مقصود عمرہ حدیبیہ کے متعلق حکم بتلانا تھا شہر حرام اور حالت احرام میں جہاد و قتال کا حکم عمرہ اور احرام کی تبیعت میں ذکر فرمایا اس لیے اس حکم کے بعد پھر حج کے احکام بیان فرمائے اور بےتکلف لڑو تم خدا کی راہ میں ان لوگوں سے جو تم سے لڑیں اور حدود شریعت سے تجاوز نہ کرو یعنی ماہ حرام اور سرزمین حرام میں اپنی طرف سے لڑائی کی ابتداء نہ کرو اور بچوں اور عورتوں اور بوڑھوں کو نہ قتل کرو اور نہ کسی کا مثلہ کرو یعنی ناک، کان وغیرہ نہ کاٹو اور نہ کسی کی آنکھ پھوڑو یہ سب حد سے تجاوز کرنا ہے بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتے اورا گر وہ خود حد سے تجاوزکریں اور عہد شکنی کریں اور تم سے لڑیں تو پھر تم ان کو مارو جہاں کہیں بھی پاؤ حل میں یاحرم میں اور نکال دو ان کو جہاں سے انہوں نے تم کو تنگ کرکے نکالا ہے یعنی مکہ سے یعنی تم کو اتنا ستایا کہ تم نکلنے پر مجبور ہوگئے ایسے لوگوں کو جہاں کہیں پاؤ مارو اور یہ خیال نہ کرو کہ ماہ حرام اور سرزمین حرم میں کیسے قتل و قتال کریں اس لیے کہ کفر وشرک کا فتنہ اور عداء اللہ کا غلبہ اور انکی شوکت کا فتنہ اور مفسدہ سرزمین میں قتل و قتال اور اخراج کے فتنہ سے کہیں زیاد سخت ہے ماہ محترم میں مار ڈالنا اتنا گناہ نہیں جتنا کہ خود علی الاعلان کفر وشرک کرنا اور دوسروں کو دین حق سے بچلانا اور گمراہ کرنا گناہ ہے قتل میں تو مصلحتیں اور منفعتیں ہوسکتی ہیں لیکن کفر اور شرک سراسر شرمحض ہے اس میں کسی مصلحت اور منفعت کا امکان نہیں لہذآ تم اس کفر کے شر اور فتنہ کے ازالہ کے لیے کمربستہ رہو اور اس کا خاص طور پر لحاظ رکھو کہ مسجد حرام کے قریب ان سے نہ لڑو تاوقتیکہ وہ اس جگہ خود تم سے نہ لڑیں اس لیے کہ مسجد حرام اور حرم کا احترام بہت ضروری ہے پس اگر وہ کفر ناہنجار مسجد حرام کی حرمت اور احترام کو ملحوظ نہ رکھیں اور تم سے اس مسجد میں قتال کریں تو پھر تم کو اجازت ہے کہ تم بےکھٹکے ان کو مارو ایسے کافروں کی کہ جو حرم کی حرمت کو ملحوظ نہ رکھیں یہی سزا ہے یعنی بلاشبہ مکہ جائے امن ہے لیکن جب انہوں نے ابتداء کی اور تم پر ظلم کیا اور محض اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے تمہاری ایذارسانی میں کوئی کسر نہ چھوڑی تو اب مستحق امن کے نہ رہے جہاں پاؤ مارو پس اگر یہ لوگ اب بھی کفر اور شرک سے باز آجائیں یعنی تمہارے قتل کے بعد کفر سے توبہ کرلیں اور مسلمان ہوجائیں تو ان کی توبہ قبول ہے اور گزشتہ کیا ہوا سب معاف ہے اسلام اور توبہ کے بعد کسی گزشتہ خون کامواخذہ اور مطالبہ نہ ہوگا اور فقط معافی پر اکتفا نہیں فرماتے بلکہ انعام و احسان اور مہربانی بھی فرماتے ہیں اس لیے کہ تحقیق اللہ بہت بخشنے والا اور معاف کرنے والا ہے اسلام اور توبہ کے بعد تمام گزشتہ گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں لیکن حالت کفر میں رحمت نہیں فرماتے کیونکہ کفر وشرک محل رحمت نہیں بلکہ مورد غض ولعنت ہے اور اے مسلمانو جب تم کو یہ معلوم ہوگیا کہ کفر محل رحمت نہیں تو ان کافروں سے لڑو اور ان اعداء اللہ سے اس وقت تک جنگ کا سلسلہ جاری رکھو جب تک کہ کفر اور شرک کا فتنہ اور فساد ختم نہ ہوجائے اور خالص حکم اللہ ہی کا چلنے لگے یعنی کفر مغلوب ہوجائے اور اسلام غالب آجائے کہ کفر کو اسلام کے مقابلہ میں سراٹھانے کی مجال باقی نہ رہے اور کفر اسلام کے سامنے ہتھیا ار ڈال دے اور کفر میں اتنی طاقت نہ رہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے کسی دینی یا دنیوی امر میں مزاحمت کرسکے شروع آیت میں اصل قتال کا وجوب بیان فرمایا تھا اور اس آیت میں جہاد و قتال کی غرض وغایت بیان فرمائی کہ جہاد سے مقصد کفر کے فتنہ کو ختم کرنا ہے اس لیے کہ اللہ کی زمین پر کفر سے بڑھ رک کوئی فتنہ نہیں پس اگر یہ کافر شرک اور کفر کے فتنہ اور فساد سے باز آجائیں تو پھر ان سے کوئی زیادتی اور دست درازی نہ کی جائے اس لیے کہ دست درازی سوائے ظالموں اور ستم گاروں کے اور کسی پر روا نہیں اور شر اور فساد سے باز آجانے کے بعد ظالم نہیں رہے عمرہ حدیبیہ میں صحاہ کو یہ تردد تھا کہ اگر کفار سے لڑائی کی نوبت آئی جیسا کہ بظاہر غالب گمان ہے تو اگر خاموش رہیں تو مشکل اور اگر ان سے جنگ کریں تو ایک تو سرزمین حرم کی بےحرمتی اور دوسرے ماہ محترم یعنی ذی قعدہ کی بےحرمتی ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم، رجب یہ مہینے اشہر حرم اور اشہر حرام کہلاتے تھے ان میں قتل و قتال ممنوع تھا مکان محترم یعنی ارض حرم کے متعلق جو تردد تھا اس کا گزشتہ آیات میں جواب دیا اب ان آیات میں زمان محترم یعنی شہر حرام کی بےحرمتی کا جو تردد تھا اس کا جواب ارشاد فرماتے ہیں اور اے مسلمانوں تم کو مکان محترم میں جنگ وجدال کے متعلق جو تردد تھا وہ زائل کردیا گیا رہا زمان محترم یعنی شہر حرام میں جنگ کے متعلق جو تردد تھا سو اس کا جواب یہ ہے کہ حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کے بدلہ اور عوض میں ہے اگر وہ اس مہینہ کی حرمت کا لحاظ اور ادب رکھیں اور تم سے نہ لڑیں تو تم بھی اس مہینہ کی حرمت کا ادب اور لحاظ کرکے ان سے نہ لڑو اور وجہ یہ ہے کہ حرمت کی چیزوں میں عوض اور بدلہ ہے یعنی برابری ہے پس اگر وہ اس شہر حرام کا احترام نہ کریں تو تم بھی اس کا احترام نہ کرو اور اگر وہ اس محترم مہینہ میں تم پر کوئی زیادتی کریں تو تم بھی اس پر اسی قدر زیادتی کرو جس قدر کہ انہوں نے تم پر کی ہے اور زیادتی کا بدلہ لینے میں اللہ سے ڈرتے رہو کہیں زیادتی کا بدلہ لینے میں تم سے زیادتی نہ ہوجائے کہ اپنے حق سے زائد بدلہ لے لو اور مستقبل میں کافروں کے غلہ کے خطرہ کو خاطر ہی میں نہ لاؤ اللہ تمہارے ساتھ ہے تم یقین رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے اور فتح اور کامیابی کا تمام دارومدار اللہ کی معیت اور اس کی نصرت وحمایت پر ہے اور بغیر تقوی اور پرہیزگاری اللہ کی معیت حاصل نہیں ہوسکتی حاصل ان آیات شریفہ کا یہ ہے کہ حدود حرم اور شہر حرام میں تم ابتداء بالقتال نہ کرو اور اگر کفار ابتداء باتصال کریں تو تم قتال سے دریغ نہ کرو یہ تمہارا قتل و قتال بلد حرام اور شہر احرام کی حرمت کے منافی نہیں جیسے ابتداء کسی مسلمان کو قتل کرنا روا نہیں لیکن قصاص میں کسی مسلمان کو قتل کرنا خون ناحق نہیں کہلاتا۔ 1) ۔ ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ جہاد کے بارے میں جو آیت سب سے پہلے نازل ہوئی وہ یہ آیت ہے یعنی وقاتلوا فی سبیل اللہ۔۔ الی۔۔ تعتدوا۔ آیت۔ ابتداء میں یہی حکم تھا کہ جو لوگ آپ سے قتال کریں آپ ان سے قتال کریں اور جو آپ سے قتال نہ کریں آپ بھی ان سے قتال نہ کریں بعد میں یہ حکم اقتلوالمشرکین کا فہ۔ سے منسوخ ہوگیا یعنی تمام مشرکین سے قتال کرو خواہ وہ تم سے قتال کریں یا نہ کریں۔ اور صدیق اکبر اور سعید بن جبیر اور زہری سے منقول ہے کہ سب سے پہلی آیت جو جہاد و قتال کے بارے میں نازل ہوئی وہ سورة حج کی یہ آیت ہے اذن للذین یقاتلون۔۔ الی۔۔ لقدیر۔ آیت۔ امام ابوبکر رازی فرماتے ہیں کہ جائز ہے کہ ابتداء بالقتال کرنے والوں سے قتال کی اجازت میں سب سے پہلی آیت وقاتلوفی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم۔ اور عام کافروں سے جہاد و قتال کی اجازت کے بارے میں خواہ وہ ابتداء بالقتال کریں یا نہ کریں سورة حج کی آیت پہلی آیت ہو یعنی تمام کفار سے جہاد و قتال کی اجازت میں پہلی آیت اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا۔ آیت۔ ہوکذا فی احکام القرآن ص 257 ج 1) ۔ 2) ۔ فی سبیل اللہ کا مطلب یہ ہے کہ محض کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے لیے جہاد و قتال ہو قومیت اور وطنیت کی بناء پر نہ ہو حدیث میں ہے کہ جو قتال حمیت اور قومیت اور اظہار شجاعت کے لیے ہو وہ فی سبیل اللہ ہنیں جو قتال محض اس لیے ہو کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو وہ فی سبیل اللہ ہے۔ 3) ۔ جمہور ائمہ دین کا مسلک یہ ہے کہ اشہر حرام میں قتل و قتال ابتداء میں ممنوع تھا بعد میں اجازت ہوگئی مگر بہتر اب بھی یہی ہے کہ اشہر حرم میں اتبداء بالقتال نہ کی جائے، اور بعض علماء کا قول ہے کہ آیت کا حکم اب بھی باقی ہے منسوخ نہیں ہوا اور اب بھی حرام اور اشہر حرم میں ابتداء بالقتال حرام ہے اور یہی مجاہد کا قول ہے صحیح بخاری میں اور مسلم میں بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ یہ شہر یعنی مکہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے صرف میرے لیے ایک ساعت کے واسطے حلال کردیا گیا باقی قیامت تک حرام ہے یہاں کا گھانس اور تنکا بھی نہ کاٹا جاوے اور نہ یہاں کا شکار بدکایاجاوے اور جو لوگ نسخ کے قائل ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ابن خطل مسجد حرام میں قتل کیا گیا حالانکہ وہ خانہ کعبہ کے پردہ سے لٹکا ہوا تھا جواب یہ ہے کہ یہ قتل اس ساعت میں ہوا کہ جس ساعت میں مکہ میں قتل و قتال آپ کے لیے حلال کردیا گیا تھا۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

حکم دہم انفاق فی الجہاد۔ قال تعالی، وانفقوا فی سبیل اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ المحسنین۔ گزشتہ آیات میں بدنی جہاد کا ذکر تھا ان آیات میں مالی جہاد کا ذکر ہے یعنی جو جان سے کفر وشرک کے فتنہ و فساد کا مقابلہ کرسکے وہ اپنی جان سے کرے اور جو مال سے مقابلہ کرسکتا ہے وہ مال سے مقابلہ کرے خدا کی راہ میں جان کی ضرورت ہو تو جان پیش کرو مال کی ضرورت ہو تو مال پیش کرو اور خدا کی راہ میں جو خرچ کرسکتے ہو وہ خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہاتھوں ہلاکت اور تباہی میں نہ ڈالو یعنی خدا کی راہ میں جان اور مال خرچ کرنے سے دریغ نہ کرو خدا کی راہ میں جان اور مال سے بخل کرنا اپنے کو تباہی میں ڈالنا ہے اگر تم جہاد کو چھوڑ بیٹھو تو تمہارا دشمن تم پر غالب آجائے گا اور پھر تم ہلاک اور تباہ ہوجاؤ گے معلوم ہوا کہ جہاد میں جانا ہلاکت اور تباہی نہیں بلکہ جہاد کو چھوڑ بیٹھنا ہلاکت اور تباہی ہے اور نیکی کرو یعنی اپنے اعمال واقوال واحوال کو خوب صورت بناؤ یا یہ معنی کہ اپنی جانوں پر احسان کرو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرو خدا کی راہ میں خرچ کرنا اپنے ہی اوپر احسان کرنا ہے یا یہ معنی ہیں کہ ہر عبادت اور ہر عمل اس طرح کرو کہ گویا کہ اللہ کو دیکھ رہے ہو، الم یعلم بان اللہ یری۔ آیت۔ کیا انسان کو یہ علم نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ ف) ۔ بایدکم اپنے ہاتھوں اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو مطلب یہ ہے کہ اپنے اختیار سے کوئی حکم عدولی نہ کرو جو تمہاری ہلاکت کا باعث بنے البتہ اگر بےمقصد اور بےاختیار کوئی غلطی ہوجائے تو معاف ہے۔ (روح المعانی) ۔ ابوداود اور ترمذی میں ابوایوب انصاری سے مروی ہے کہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی اور اللہ نے جب اسلام کو فتح دی تو ہم آپس میں سرگوشی کرنے لگے کہ اب تو اللہ نے اسلام کو غلبہ دے دیا (یعنی اب چنداں جہاد کی ضرورت نہیں) لہذا ہمارے جو مال لڑائیوں میں پہلے تباہ ہوچکے ہیں ان کی کچھ دیکھ بھال کرلیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی چناچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ابوایوب انصاری ہمیشہ جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ قسطنطنیہ کے جہاد میں شہید ہوئے اور قسطنطنیہ کی شہر پناہ کے نیچے مدفون ہوئے۔
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور خدا (کی خوشنودی) کیلیے حج اور عمرے کو پور کرو اور اگر (راستے میں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈا لے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو (کرے) اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل و عیال مکہ میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

حکم یازدہم متعلق حج وعمرہ۔ قال تعالی، واتموالحج والعمرۃ للہ۔۔ الی۔۔ العقاب۔ ماہ صیام کے بعد حج کے مہینے شروع ہوتے ہیں اس لیے روزوں کے بعد حج کا ذکر فرمایا اور پھر حج کی مناسبت سے حج کے مہینوں میں قتل و قتال کا حکم ذکر فرمایا اب پھر حج اور عمرہ کے بقیہ احکام کو بیان فرماتے ہیں نیز حج مبرور عمرہ مبروہ اعلی ترین اعمال بر میں سے ہے اور انفاق فی سبیل اللہ تو احسان الی العباد کا بہترین محل ہے جس کا پہلی آیت میں ذکر ہوچکا ہے، ولاتلقوا بایدکم۔۔ الی۔۔ المحسنین۔ آیت۔ چناچہ فرماتے ہیں اور حج اور عمرہ کو خاص اللہ کے لیے پورا کرو نہ تو شروع کرکے درمیان میں چھوڑو اور نہ حج کا احرام باندھ کر اس کو فسخ کرکے عمرہ بناؤ جو شروع کیا ہے اسی کو پورا کرو اور حج اور عمرہ کے آداب وسنن کو پورا پورا ملحوظ رکھو بغیر اس کے حج اور عمرہ ناتمام رہے گا اور حج اور عمرہ کا تمام سفر خالص اللہ کے لیے ہو بغیر اخلاص کے عبادت میں حسن پیدا نہیں ہوتا اور سفر حج میں انفاق فی سبیل اللہ اور احسان سے دریغ نہ کرو سفر حج وعمرہ میں خیرات سے اضعافا مضاعفہ اجر ملتا ہے پس اگر احرام باندھنے کے بعد تم اس حج اور عمرہ کے پورا کرنے سے روک دیے جاؤ کہ جس کے تمام کرنے کا تم کو حکم دیا گیا ہے اور کسی دشمن یا مرض یا خرچ کے ختم ہوجانے کی وجہ سے یا کسی اور عذر کے پیش آجانے کی وجہ سے تم بیت اللہ تک نہ پہنچ سکو تو ایسی حالت میں حکم یہ ہے کہ فی الحال حج اور عمرہ کو ملتوی کرو اور احرام سے حلال ہونے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرو کہ جو قربانی تم کو میسر آئے اونٹ یا گائے یا بکری اور بکری ادنی درجہ ہے اس کو سرزمین حرم کی طرف بھیجو تاکہ وہ قربانی حرم میں ذبح کردی جائے اور سر منڈا کر اس وقت تک احرام کھول کے حلال نہ ہو جب تک کہ وہ قربانی کا جانور اپنے خاص موقع محل پر پہنچ کر ذبح نہ ہوجائے اور ہدی کے ذبح کا محل اور موقع حرم ہے کماقال تعالی، ثم محلھا الی البیت العتیق، وقال تعالی، ھدیا بالغ الکعبۃ۔ آیت۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ خون بہانا اس وقت تک عبادت نہیں جب تک کہ کسی خاص مکان یا خاص زمان میں نہ ہو چونکہ یہ زمانہ قربانی کا نہیں اس لیے مکان میں بھیجنا ضروری ہوا اس بناء پر محصر کے لیے یہ واجب ہوا کہ اپنی ہدی کو حرم میں بھیجے اور ذبح کے لیے کوئی دن مقرر کرلے تاکہ جب وہ دن آئے تو اس دن سرمنڈا کر حلال ہوجائے اور اس فوت شدہ حج اور عمرہ کی بعد میں قضا کرے پھر اگر تم میں سے کوئی مریض ہوجائے یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بیماری اور تکلیف کی وجہ سے قبل از وقت ہی سرمنڈانا چاہے تو اس کے لیے اجازت ہے مگر اس پر اس جنایت اور تقصیر کا فدیہ اور بدلہ واجب ہے اس طرح سے کہ یا تو تین دن کے روزے رکھے یاچھ مسکینوں کو صدقہ اور خیرات دے اور فی مسکین نصف صاع گیہوں یعنی جو صدقہ فطر کی مقدار ہے وہ دے یا کسی جانور کی قربانی دے جس کا اعلی درجہ اونٹ ہے اور اوسط درجہ گائے اور ادنی درجہ بکری ہے پس جب تم خاطر جمع ہوجاؤ یعنی احصار سے تم کو امن حاصل ہوجائے یا یہ کہ شروع ہی سے تم مامون اور بےخوف ہو تو جو شخص ایام حج میں عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر نفع حاصل کرنا چاہے یعنی یہ چاہے کہ حج کے زمانہ میں حج بھی کرلوں اور عمرہ بھی کرلوں خواہ دونوں کا احرام ساتھ باندھے یا یکے بعد دیگرے تو بیک وقت ان دوعبادتوں سے متمتع اور منتفع ہونے کے شکر میں اس کے ذمہ قربانی واجب ہے جو بھی میسر ہو کہ اللہ نے یہ نعمت عطا فرمائی کہ حج اور عمرہ دونوں سے بہر مند ہوا اس نعمت کے شکر میں ایک ہدی واجب ہے جیسی بھی میسر ہو اور جس شخص نے فقط حج یا فقط عمرہ کیا تو اس پر یہ ہدی واجب نہیں پس جو شخص ان ایام میں حج اور عمرہ دونوں سے بہرہ مند ہو لیکن ناداری کی وجہ سے اس کو ہدی میسر نہ آئے تو اس کے ذمہ تین روزے تو زمانہ حج میں واجب ہیں جن کا آخری دن نویں تاریخ ذی الحجہ ہے اور اگر اس سے پہلے ہی تین روزے رکھ لے تو وہ بھی بالاجماع جائز ہے اور ان تین کے علاوہ سات روزے جب رکھو کہ جب تم حج سے فارغ ہو کر اپنے وطن واپس ہونے لگو یہ پورے دس دن کے روزے ہوئے اور زمانہ حج میں عمرہ اور حج کو ملا کر متمتع اور منتفع ہونے کی یہ اجازت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو مسجد حرام کے قریب و جوار اور اس کے آس پاس رہنے والے نہ ہوں یعنی حدود حرم اور حدود مواقیت سے باہر کے رہنے والے ہوں اور جو لوگ حدود حرم کے رہنے والے نہ ہوں یعنی حدود حرم اور حدود مواقیت سے باہر کے رہنے والے ہوں وہ صرف افراد کریں یعنی فقط حج کا احرام باندھیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو مبادا کہ حالت احرام میں کوئی خیانت کر بیٹھو اور خوب جانو لو کہ اللہ سخت سزا دینے والے ہیں اور احرام کی حالت، دربار کی حاضری کی علامت ہے اور دربار میں حاضر ہو کر جنایت اور معصیت کا مرتکب ہونا سخت جرم ہے۔
Ayahs 2:197–199

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ تو عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے اور نہ کسی سے جھگڑے اور نیک کام جو تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی راستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زادِراہ (کا) پرہیزگاری ہے اور (اے) اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفہ) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو بیشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے

تتمہ احکام حج۔ قال تعالی، الحج اشھر معلومات۔۔ الی۔۔۔ ذکرا۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں حج اور عمرہ کے اتمام کا ذکر تھا مگر چونکہ عمرہ کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں اور حج کے لیے وقت متعین ہے نیز حج وعمرہ سے افضل ہے اس لیے آئندہ آیات میں اشہر حج اور آداب حج کو ذکر فرماتے ہیں (بحر محیط) ۔ حج کے احرام اور افعال کا وقت چند مہینے معلوم ہیں شوال اور ذی قعدہ اور دس دن ذی الحجہ کے باقی اصل ارکان کا وقت یوم عرفہ اور یوم نحر ہے شوال اور ذی قعدہ اور ذی الحجہ یہ خاص فضیلتوں اور برکتوں کے مہینے ہیں اور عشرہ ذی الحجہ تو اس قدر فضیلت اور برکت والا ہے کہ ایک عشرہ ہی قائم مقام پورے مہینے کے ہوگیا پس جشخص نے ان مہینوں میں احرام باندھ کر اپنے اوپر حج لازم کرلیا تو اس کو چاہیے کہ احرام اور اشہر حج کا پورا احترام کرے لہذا اس کو چاہیے کہ نہ کوئی فحش بات زبان سے نکالے اور نہ کوئی گناہ کا کام کرے اور نہ رفقاء سفر سے کوئی لڑائی اور جھگڑا کرے جب تک حج میں رہے ان باتوں کا خاص طور خیال رکھے یہ تو ادنی درجہ ہے کہ رفث اور فسوق اور جدال سے بچا رہے اعلی مرتبہ تو یہ ہے کہ نیک کاموں میں لگے رہو حج کے زمانہ میں نیکی کی تاثیر اور بھی قوی ہوجاتی ہے اور کسی کو خیر کو معمولی سمجھ کر نہ چھوڑو کوئی معمولی سے معمولی بھی نیکی کرو گے تو اللہ اس کو جان لے گا کہ کس درجہ اخلاص کی تہ میں چھپا ہوا ہے اس کے مطابق تم کو اس کی جزا عطا فرمائے گا اور خیر کے سمجھنے میں غلطی نہ کرنا جیسا کہ یمن کے لوگ حج کو بغیر زادراہ لیے آتے ہیں اور اس کو توکل سمجھتے ہیں اور پھر لوگوں سے بھیک مانگتے ہیں تم کو چاہیے کہ حج کے لیے زادراہ لے کر چلو اپنے آپ کو بھیک اور سوال سے بچانا اس خیال توکل سے کہیں بہتر ہے اور خوب سمجھ لو کہ بہترین زاد راہ تقوی اور پرہیزگاری ہے اور اپنے آپ کو سوال سے بچانا یہ تقوی میں داخل ہے سفر آخرت میں اعمال صالحہ اور طاعات نافلہ کا توشہ اس درجہ مفید نہیں جتنا کہ تقوی کا توشہ مفید ہے اور ہر وقت مجھ سے ڈرتے رہو اے خالص عقل والو۔ عقل سلیم کا مقتضی یہ ہے کہ تقوی سے غافل نہ ہو اور بغیر توشہ لیے سفر نہ کرو۔ اباحت تجارت درزمانہ عبادت) ۔ توشہ لینا تو کیا توکل کے منافی ہوتا زمانہ حج میں تجارت کرو اور اللہ کے فضل کو طلب کرو تاکہ وہ تجارت تمہارے لیے موجب سہولت و راحت ہو اور تمہاری عبادت میں موجب اعانت ہو پھر جب تم میدان عرفات سے لوٹو تو مزدلفہ میں مشعر حرام کے قریب اللہ کو دل وجان سے یاد کرو اور اللہ کا ذکر اس طرح کرو اور تحقیق تم اللہ کی ہدایت اور رہ نمائی سے پہلے گمراہوں کے طریقہ پر نہ چلو صحیح راستہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے اسی طرقیہ پر حج کرنا چونکہ عرفات حدود حرم سے باہر ہے اور مزدلفہ حدود حرم میں ہے اس لیے قریش مکہ نے اپنے لیے یہ طریقہ نکال رکھا تھا کہ مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور عام لوگوں کی طرح عرفات میں نہ جاتے اور یہ کہتے کہ ہم اللہ والے ہیں اور اس کے حرم کے رہنے والے ہیں اس لیے حرم سے باہر نہیں جائیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یہ حکم ہوا کہ سب لوگوں کو چاہیے کہ خواہ وہ قریش ہوں یا غیر قریش سب اسی جگہ سے واپس ہوں جہاں سے تمام لوگ واپس آتے ہیں اور سعید بن جبیر کی قرات میں ہے، ثم افیضوا من حیث افاض الناسی۔ تم سب اسی جگہ سے لوٹو جہاں سے تمہارے باپ آدم بھولنے والے واپس ہوئے تھے یعنی حضرت آدم بھی عرفات سے واپس ہوئے تھے اور پھر مزدلفہ آئے اور پھر وہاں سے منی آئے اس لیے حضرت آدم کا طریقہ بھی یہی ہے کہ واپسی عرفات سے ہو اور جب عرفات سے واپس ہو تو توبہ اور استغفار کرتے ہوئے واپس ہو اگرچہ اللہ نے اہل عرفات کو مغفرت کا فرشتوں میں اعلان فرمادیا ہے مگر تم کو چاہیے کہ توبہ و استغفار سے غافل نہ وہ جیسے نبی کریم ﷺ کا نماز کا سلام پھیر کر تین مرتبہ استغفار کی دعا فرماتے اسی طرح تم کو چاہیے کہ عرفات سے واپسی پر توبہ اور استغفار کرو سابق مغفرت پر مغرور نہ ہوجاؤ عبادت کتنی ہی کامل کیوں نہ ہو مگر ہر حال میں لائق توبہ اور استغفار ہے بیشک اللہ بڑے بخشنے والے مہربان ہیں عرب کا طریقہ یہ تھا کہ جب حج سے فارغ ہوجاتے تو تین روز منی میں قیام کرتے اور بازار لگاتے اور اپنے آباء و اجداد کے مفاخر اور ماثر بیان کرتے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور بجائے اس کے اپنے ذکر کا حکم دیا چناچہ فرماتے ہیں پس جب تم اپنے افعال حج سے فارغ ہوجاؤ رمی جمرہ اور قربانی اور سرمنڈا چکو تو اللہ کا ذکر ایسے ذوق وشوق سے کیا کرو جیسا کہ تم اپنے آباء و اجداد کا کرتے ہو بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ باپ دادا کا احسان فقط اتنا ہے کہ انہوں نے تم کو پالا ہے اور پرورش کیا مگر وہ تمہارے خالق نہیں اور اللہ تمہارا خالق ہے اور مربی ہے جس کی نعمتوں کا شمار ممکن نہیں ایسے متبرک مقامات میں اللہ کو یاد کرنا چاہیے آباء و اجداد کا ذکر بےسود ہے۔
Ayahs 2:200–203

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کر چکو تو (منی میں) خدا کو یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دینا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر، ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور (قیام منی کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن ہیں) خدا کو یاد کرو اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو بعد تک ٹھیرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے

اہل ذکر اور اہل دعا کی اقسام قال تعالی، فمن الناس من یقول ربنا۔۔۔ الی۔۔۔ تحشرون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اللہ کے ذکر اور یاد کا حکم تھا اب اہل ذکر کی اقسام کا بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے ذکر کرنے والے اور اسی سے دعا مانگنے والے دو قسم کے ہیں ایک وہ ہیں کہ جو فقط دنیا کے طالب ہیں یہ لوگ فقط دنیاوی عزت اور وجاہت اور فقط مال و دولت کی دعا مانگتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آخرت کی نعمتوں کا کوئی حصہ نہیں اور دوسرے وہ ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کی خوبی اور بھلائی اللہ سے مانگتے ہیں ان کو تمام حسنات سے پورا حصہ ملے گا ایک تیسری قسم اور بھی ہے وہ یہ کہ سوائے آخرت کے کچھ نہ مانگے سواول تو ایسی قسم بہت ہی قلیل اور نادر بلکہ تقریبا معدوم ہے نیز یہ صورت شرعا بھی پسندیدہ نہیں انسان ضعیف اور ناتواں ہے دنیاوی ضرورتوں سے مستغنی نہیں عبدیت کا مقتضی یہ ہے کہ جوتی کا تسمہ بھی خدا سے مانگے انسان کو پیدا ہی مانگنے کے لیے کیا ہے نیز انبیاء کرام کی سنت بھی یہی ہے کہ تمام دینی اور دنیوی آفتوں سے پناہ مانگے تاکہ سکون اور اطمینان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرسکے نیز اللہ سے مانگنا عزت ہے اور مخلوق سے مانگنا ذلت ہے اللہ سے جتنا مانگو گے اتناہی زیادہ خدا کے مقرب بنو گے بخلاف مخلوق کے اس سے جتنا ہی مانگو گے اتناہی زیادہ اس سے دور ہوگے چناچہ فرماتے ہیں کہ پس بعضے لوگ کوتاہ نظر جو آخرت پر یقین رکھتے نہیں ایسے متبرک اور مقدس مقامات میں فقط دنیا ہی کو دعا مانگتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو جو کچھ دنیا ہے وہ دنیا ہی میں دے دے اس شخص نے اگرچہ ہم کو پکارا ہے اور ہم کو یاد کیا لیکن ہمارے گھر میں آکر ہم سے ہم کو نہ مانگا بلکہ دنیائے دوں کو مانگا اس لیے کہ اس شخص کو جو کچھ دنیا ہوگا وہ ہم دنیا ہی میں دے دیں گے اور آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہ ہوگا اور بعضے آخرت کے شیدائی اور فدائی ہیں ایسے ہوشیار ہیں کہ دنیا ہی میں آخرت کے طلبگار ہیں اور اپنی دعا میں یہ کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو دنیا میں رہتے ہوئے ایسی بھلائی اور نیکی عطا فرماجو ہمارے وہم گمان سے بالاتر ہو اور برتر ہو اور تیری خوشنودی اور رضامندی کا ذریعہ ہو اور آخرت میں بھی ہم کو نیکی اور بھلائی عطا فرما یعنی ثواب اور رحمت سے سرفراز فرما اور عفو اور مغفرت کے ذریعہ ہم کو عذاب دوزخ سے محفوظ فرما ایسے لوگوں کے لیے دنیا اور آخرت میں بہت بڑا حصہ ہے اس چیز سے جو انہوں نے اپنی دعا اور استدعا اور اعمال صالحہ سے کمایا ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے یعنی قیامت قریب ہے تم اس سے غافل نہ ہو اور ایام تشریق میں اللہ کو یاد کرو جو گنتی کے دن ہیں ایام معدودات سے ذی الحجہ کی گیا رھویں اور بارھویں تیرھویں تاریخیں مراد ہیں جن میں تینو جمرات کی رمی ہوتی ہے بخلاف دسویں تاریخ کے اس میں فقط جمرہ عقبہ کی رمی ہوتی ہے اس دسویں تاریخ کے علاوہ تین دن مراد ہیں ان دنوں میں منی میں قیام کا حکم ہے اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازوں کے بعد تکبیر کہو اور رمی جمار کے وقت بھی تکبیر کہو اور قربانی کے وقت بھی تکبیر کہو اور دیگر اوقات میں بھی کثرت سے اللہ کا ذکر کرو اور تکبیر پڑھو پس جو شخص منی سے کوچ کرنے میں جلدی کرے اور کنکریاں مار کردسویں تاریخ کے بعد صرف دو دن منی میں ٹھہر کر بارھویں کو مکہ میں واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اس کا حج پورا ہوگیا حج کے ثواب میں کوئی کمی نہ رہے گی اور جو شخص منی میں ٹھہرا رہا اور تیرھویں تاریخ کی رمی کرکے مکہ واپس آیاتو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں یہ آیت اہل جاہلیت کے رد کے لیے نازل ہوئی بعض لوگ جلدی چلے جانے والے کو گناہ گار سمجھتے تھے اور بعضے تاخیر کرنے والوں کو گناہ گار سمجھتے تھے اللہ نے فرمایا کہ نہ تعجیل میں گناہ ہے اور نہ تاخیر میں اگرچہ اولی اور افضل یہ ہے کہ تین دن قیام کرکے واپس ہو بہرحال تعجیل اور تاخیر ہر صورت میں حج مکمل ہوگیا اس کو حج کا پورا ثواب ملے گا اور تمام گناہ اس کے معاف ہوجائیں گے مگر یہ فضیلت اور یہ رعایت اس شخص کے لیے ہے جو اپنے حج میں رفث اور فسوق اور جدال اور دیگر افعال ممنوعہ سے بچتا رہا اور تقوی کے لیے حج کی کوئی خصوصیت نہیں ہر کام میں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ یقین رکھو کہ تم سب اللہ کے پاس جمع کیے جاؤ گے اور تمام اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ فائدہ) ۔ جاننا چاہیے کہ آیت شریفہ میں ایام معدودات سے علاوہ یوم النحر (یعنی دسویں تاریخ ذی الحجہ کے علاوہ تین دن مراد ہیں جن کو ایام تشریق بھی کہتے ہیں یعنی گیا رھویں اور بارھویں اور تیرھویں تاریخ مراد ہیں اور فمن تعجل فی یومین میں دسویں تاریخ کے علاوہ دو دن یعنی گیا رھویں اور بارھویں تاریخ ذی الحجہ مراد ہیں حضرات اہل علم کے لیے امام قرطبی کی عبارت پیش کرتے ہیں۔ امر اللہ سبحانہ وتعالی عبادہ بذکرہ فی الایام المعدودات وھی الثلاثہ التی بعد یوم النحر ولیس یوم النحر منھا الاجماع الناس انہ لاینفر احد یوم النفروھو ثانی یوم النحر ولوکان یوم النحر فی المعدودات لساغ ان ینفر من شاء متعجلا یوم النفر لانہ قد اخذ یومین من المعدودات خرج الدار قطنی والترمذی وغیرھما عن عبدالرحمن بن یعمر الدیلی ان ناسا من اھل نجدا توا رسول اللہ ﷺ وھو بعرفۃ فسالوہ فامرمنا دیا فنادی الحج عرفۃ فمن جاء لیلۃ جمع قبل طلوع الفجر فقد ادرک ایام منی الثلاثۃ فمن تعجل فی یومین فلااثم علیہ ومن تاخرہ فلااثم علیہ ای من تعجل من الحاج فی یومن من ایام منی صارمقامہ بمنی ثلاثۃ بیوم النحر ویسقط عنہ رمی الیوم الثالث ومن لم ینفر منھا الا فی آخرالیوم الثالث حصل لہ بمنی مقام اربعۃ ایام من اجل یوم النحر۔ الخ۔ (کذا فی احکام القرآن للقرطبی ج 3 ص 2) ۔
Ayahs 2:204–207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مافی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین پر دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کر دے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے

تقسیم دیگر۔ قال تعالی، ومن الناس من یعجبک قولہ۔۔۔ الی۔۔۔ بالعباد۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اغراض دعا کے اعتبار سے تقسیم کا ذکر تھا اب ان آیات میں اخلاص اور نفاق کے اعتبار سے لوگوں کی تقسیم بیان فرماتے ہیں پہلے ایک منافق کا حال بیان کرتے ہیں جس کا نام اخنس بن شریق تھا یہ شخص بڑا فصیح اللسان اور شیریں بیان اور حسین اور خوبصورت تھا جب آپ ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوتا تو بڑی باتیں بناتا اور قسمیں کھاتا کہ مجھ کو حضور ﷺ سے محبت ہے اور جب آپ کے پاس سے جاتا توفساد پھیلاتا اور لوگوں کی کھیتیوں کو جلاتا اور مویشی کو ہلاک کرتا اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور بعضا آدمی ایسا چرب زبان ہے کہ جب وہ دنیاوی اغراض اور مقاصد کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو آپ کو بھی اس کی بات حیرت اور تعجب میں ڈالتی ہے اور اللہ کو اپنے دل کی بات پر گواہ بناتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میرا دل اسلام اور آپ کی محبت سے لبریز ہے اور حالانکہ اس کا دل عداوت سے لبریز ہے اسلام اور مسلمانوں سے ایسی شدید عداوت اور شید خصومت رکھتا ہے کہ جھگڑے میں کسر اٹھا نہیں رکھتا ایسی شدید خصومت سے صاف ظاہر ہے کہ دل میں محبت کا نام ونشان بھی نہیں یہ حال تو دلی عداوت اور خصومت کا ہوا اور شرارت کا یہ حال ہے کہ جب آپ کی مجلس سے پشت پھیر کرجاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے کہ زمین میں فساد اور تباہی پھیلائے اور کھیتوں اور مویشوں کو ہلاک کرے اگر حقیقتہ اللہ اور اس کے رسول کا محب ہوتا تو ہرگز ایسے کام نہ کرتا معلوم ہوا کہ محب نہیں بلکہ اعلی درجہ کا مفسد ہے اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتے اور ایسا شخص تو اللہ کا محب ہو ہی نہیں سکتا اس لیے کہ اس مغرور کو خدا تعالیٰ کی کوئی پرواہ نہیں اس کا حال تو یہ ہے کہ جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر اور فساد نہ مچا اور لوگوں کی کھیتیوں اور مویشیوں کو مت برباد کر تو نخوت اور بڑائی اس کو اور گناہ پر آمادہ کرتی ہے اور ضد میں آکر اور زیادہ فساد برپا کرنے لگتا ہے پس سمجھ لو کہ جس کو تقوی اور خدا کے خوف کی نصیحت کافی نہ ہو تو اس کو جہنم ہی کفایت کرتے گی اور اس عزت اور نخوت کے بدلہ میں ہمیشہ کی ذلت میں مبتلا رہے گا اور جہنم کا یہ ذلت آمیز فرش بہت ہی برافرش ہے اب آئندہ آیت میں ایک کامل الایمان مخلص کا ذکر فرماتے ہیں یعنی صہیب رومی کا جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، حضرت صہیب نے جب ہجرت کا ارادہ کیا توقریش نے آکر گھیر لیا حضرت صہیب نے کہا کہ میں تم کو اپنا تمام مال دے دیتا ہوں تم مجھ کو مدینہ جانے دو قریش نے اس کو منظور کرلیا اس طرح حضرت صہیب مدینہ پہنچے اور حضور پرنور سے تمام واقعہ بیان کیا حضور ﷺ بہت خوش ہوئے اور یہ فرمایا، اے ابویحیٰ تیری بیع بہت فائدہ مند ہوئی۔ اور اس کے بعد فرمایا کہ تیرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ومن الناس من یشتری نفسہ۔ الخ۔ یعنی اور بعض لوگ ایسے عاقل اور دانا ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ عزت اللہ کی راہ میں جانبازی اور سرفروشی اور تذلل اور خاکساری سے ہی حاصل ہوتی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جان کو خدا کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں اور یہ محض اللہ کی خوشنودی کی طلب اور تلاش میں خرتے ہیں اس کے سوا اور کوئی غرض نہیں ہوتی اور اللہ ایسے بندوں پر جو اس کی راہ میں جان بھی دے ڈالیں بڑے ہی مہربان ہیں یہ لوگ اللہ کے سچے محب اور مخلص ہیں ان کو اگر اللہ کے تقوی کی نصیحت کرے تو ان کا عجب حال ہوتا ہے ایک مرتبہ کسی نے عمر ؓ سے کہا اتق اللہ (اللہ سے ڈرو) حضرت عمر نے تواضع سے اپنا رخسار زمین پر رکھ دیا۔ ہارون رشید کا واقعہ یہ ہے کہ ایک یہودی ایک سال تک اپنی ضرورت لے کر ہارون رشید کے دروازہ پر حاضر ہوتا رہا حاجت بری نہ ہوئی ایک دن ہارون رشید محل سے برآمد ہوئے کہیں جارہے تھے کہ یہودی نے سامنے سے آکر کہا اتق اللہ یا امیر المومنین اے امیر المومنین اللہ سے ڈرو ہارون رشید یہ سنتے ہی فورا سواری سے اتر پڑے اور وہیں زمین پر سجدہ ریز ہوگئے سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد حکم دیا کہ اس یہودی کی حاجت پوری کی جائے چناچہ اسی وقت اس کی حاجت پوری کردی گئی جب محل سے واپس ہوئے تو کسی نے کہا اے امیر المومنین آپ ایک یہودی کے کہنے سے فورا زمین پر اتر پڑے فرمایا کہ یہودی کے کہنے کی وجہ سے نہیں اترا بلکہ اللہ کا ارشاد یاد آیا، واذا قیل لہ اتق اللہ اخذتہ۔۔۔ الی۔۔ المھاد۔ اس لیے سواری سے اترا اور سجدہ کیا (تفسیر قرطبی ج 3 ص 19) ۔ فائدہ) ۔ ومن الناس من یشری۔ میں علما کے دو قول ہیں ایک یہ کہ یشری سے یبیع یعنی فروخت کرنے کے معنی مراد ہیں اس تفسیر پر ترجمہ ہوگا بعضے لوگ اپنی جا نکو خدا کے ہاتھ بمعاوضہ جنت فروخت کردیتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یشری بمعنی یشتری یعنی خریدنے کے معنی میں ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ بعض لوگ اعمال صالحہ کرکے اپنی جان کو خرید لیتے ہیں یعنی خطرات اور خوفناک چیزوں سے اپنی جان کو بچالیتے ہیں راجح قول یہی ہے کہ یشری سے یبیع کے معنی مراد ہیں بعضے لوگ ایسے ہیں کہ اپنی جان خدا کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں مگر اللہ اپنی رحمت سے وہ جان پھر انہی کے قبضہ میں رہنے دیتے ہیں اور جان کی حفاظت انہی کے سپرد کردیتے ہیں کہ یہ ہماری امانت ہے بغیر ہماری اجازت کے اس میں کوئی تصرف نہ کرنا نیز بندہ کا اپنی جان کو اللہ کے ہاتھ فروخت کرنا اور اللہ اکاس کو خریدنا محض ظاہر کے اعتبار سے کہ ظاہرا بندہ یہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی جان کا مالک ہوں ورنہ فی الحقیقت سب چیزوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے ابن عطار کا قول ہے کہ ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ۔ آیت۔ کو سن کر عوام تو خوش ہوگئے کہ اللہ نے بمعاوضہ جنت ہماری جانیں خرید لیں اب ہم کو اس کے عوض جنت ملے گی مگر خواص شرم کے مارے زمین میں گڑ گئے کہ ہم میں دعوی مالکیت کا تھا جب ہی تو اشتری فرمایا۔
Ayahs 2:208–210

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

مومنو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑا جاؤ تو جان رکھو کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کا عذاب) بادل کے سائبانوں میں آ نازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے ؟ اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

حکم دوازدھم، استسلام تام و قبول جمیع احکام اسلام۔ قال تعالی، یا ایھا الذین امنو ادخلوا۔۔۔ الی۔۔ الامور۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں ایمان اور اخلاص کا ذکر تھا اس آیت میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایمان اور اخلاص کا مقتضی یہ ہے کہ دین اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد دین سابق یعنی یہودیت اور نصرانیت کی رعایت سے کوئی کام نہ کرو ایک دین میں داخل ہونے کے بعد دوسرے دین کی طرف بھی نظر رکھنا یہ اخلاص کے منافی ہے نیز جو شخص اپنے نفس کو اللہ کے ہاتھ فروخت کرے اور اس کی رضا اور خوشنودی کا طلب گار ہو اور اس کی اس خاص رحمت ورافت کا امیدوار ہو جو عباد مخلصین پر نازل ہوتی ہے تو اس کو چاہیے کہ اپنے اعمال میں قرآن کے بعد توریت اور انجیل کی رعایت نہ کرے ناسخ کے ہوتے ہوئے منسوخ کی رعایت، بدعت اور ضلالت ہے جو باعث عقوبیت ہے یہ آیت عبداللہ بن سلام اوردیگر علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی کہ اسلام لانے کے بعد آپ سے یہ درخواست کی کہ ہم کو احکام کی تعمیل کے ساتھ اس کی بھی اجازت دی جائے کہ شریعت موسویہ کے مطابق ہفتہ کی تعظیم اور اونٹ کے گوشت اور دودھ سے پرہیز کرتے رہیں اور توریت کی بھی تلاوت کرتے رہیں اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اسلام میں ظاہرا اور باطنا، اعتقادا اور عملا پورے کے پورے داخل ہوجاؤ اور اسلام میں کسی اور چیز کو ہرگز نہ ملاؤ مبادا یہودیت اور نصرانیت کی آمیزش سے اسلام کے آب طہور کے رنگ یا بو یا مزہ میں کہیں فرق آجائے اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو ناسخ کے بعد منسوخ کی رعایت کرنا شیطان کے نشان قدم پر چلنا ہے تحقیق وہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے کہ جو چیز دین نہیں اس کو دین بتا کر تم سے کرانا چاہتا ہے اور بدعت کی حقیقت بھی یہی ہے کہ جو چیز دین نہ ہو اس کو دین سمجھ لیاجائے ان مومنین اہل کتاب کے دل میں شیطان نے یہ وسوسہ ڈالا کہ شریعت موسویہ میں اونٹ کا گوشت اور دودھ حرام اور شریعت محمدیہ میں اس کا کھانا فرض نہیں اس لیے اگر ہم بدستور عملا ہفتہ کی تعظیم کرتے رہیں اور اعتقادا اس کو واجب نہ سمجھیں اور اونٹ کے گوشت اور دودھ کو عملا ترک کردیں اور اعتقادا اس کو حلال سمجھتے رہیں تو اس میں شریعت محمدیہ کے بھی خلاف نہ ہوگا اور شریعت موسویہ کی بھی رعایت ہوجائے گی اور وہ عمل زیادہ موجب ثواب ہوگا حق تعالیٰ نے اس آیت میں اس خیال کی اصلاح فرمائی کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد صرف اسلام ہی کی رعایت سے عمل کرنا فرض اور لازم ہے اور جو امر اسلام میں قابل رعایت نہیں دین سمجھ کر اس کی رعایت کرنا بدعت ہے جو شیطان کا وسوسہ ہے اور ایک دین میں داخل ہونے کے بعد گزشتہ دین کی طرف نظر رکھنا اخلاص کے منافی ہے پس اگر تم واضح اور روشن احکام آنے کے بعد بھی پھسلے اور شیطان کے قدموں پر چلے اور شریعت محمدیہ کے احکام کے اتباع اور تعمیل میں اعتقادی اور باطنی طور پر یہودیت اور نصرانیت کی رعایت کی تو خوب جان لو کہ اللہ غالب اور زبردست ہے ایسے لوگوں کو سخت سزا دے گا جو ظاہر تو یہ کریں کہ شریعت محمدیہ پر عامل ہیں اور باطن میں یہودیت اور نصرانیت ملحوظ رہے اور بڑی حکمت والا ہے کہ ایسے لوگوں سے انتقام میں جلدی نہیں فرماتا کسی حکمت سے مہلت دے رکھی ہے کیا یہ لوگ جو اپنے باطنی انکار کو ظاہری اقرار کے پردہ میں چھپاتے ہیں اب صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ قیامت قائم ہو اور اولین اور آخرین جمع ہوں اور اللہ تعالیٰ ان کے حساب و کتاب اور جزاء اور وسزا کے لیے خود سفید ابر کے سائبانوں میں نزول اجلال فرمائیں اور فرشتے بھی ساتھ آئیں اور ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا اور سزا دے دی جائے اور اس میں شک اور تردد کیا ہے تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں چونکہ ان لوگوں نے اپنے باطنی انکار کو ظاہری اقرار کے پردہ میں چھپا رکھا ہے اسلیے قیامت کے دن اللہ کا قہر، مہر کے پردہ یعنی سفید بادل کی شکل میں نمودار ہوگا۔ فائدہ اول) ۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ اور فرشتے کے آنے کا واقعہ قیامت کے دن پیش آئے گا جیسا کہ دوسری آیتوں میں ہے، کلااذا دکت الارض۔۔۔ الی۔۔۔ صفا صفا، وجای یومئذ بجھنم۔۔۔ الی۔۔ الذکری۔ وقال تعالی، ھل ینظرون الاان تاتیھم الملائکۃ۔۔۔ الی۔۔ ربک۔ آیت۔ ابن مسعود سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ اللہ اولین اور آخرین کو جمع کرے گا تمام لوگ آسمان کی طرف کھڑے دیکھتے ہوں گے اور فیصلہ کے منتظر ہوں گے اتنے میں الہ ابر کے سائبانوں میں عرش سے کرسی کی طرف نزول فرمائیں گے (ابن مردویہ) ۔ اور اسی قسم کا مضمون ابوہریرہ کی طویل حدیث میں ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا کہ جب انبیاء کرام شفاعت کرنے سے عذر فرمائیں گے اور شفاعت کی نوبت مجھ تک پہنچے گی تو میں کہوں گا کہ ہاں ہاں میں شفاعت کے لیے تمہاری شفاعت کروں گا اور جاکر عرش کے نیچے سجدہ ریز ہوجاؤں گا اور درخواست کروں گا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فصل قضاء کے لیے تشریف لاویں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کی درخواست منظور فرمائیں گے اور آسمان کے پھٹنے کے بعد ابر کے سائبانوں میں نزول اجلال فرمائیں گے اور فرشتے بھی اتریں گے۔ اور عرش بھی اترے گا اور فرشتے یہ تسبیح پڑھتے ہوں گے سبحان ذی الملک والملکوت سبحان ذی العزۃ والجبروت سبحان الحی الذی لایموت سبحان الذی یمیت الخلائق ولایموت سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح سبوح قدوس سبحان ربنا الاعلی سبحان ذی السلطان والعظمۃ سبحانہ سبحانہ ابدا ابدا (تفسیر ابن کثیر) ۔ فائدہ دوم) ۔ جن آیات اور احادیث میں حق جل شانہ کا آنا اور اترنا اور اس قسم کے امور کا کچھ ذکر آیا ہے اس کے بارے میں علمائے سلف کا مسلک یہ ہے کہ ان کی تحقیق اور تفتیش میں نہ پڑے اور بلاتشبیہ اور بلاتمثیل کے ان پر ایمان لائے جس طرح اس کی ذات بےچون وچگون ہے اور اسی طرح اس کے افعال بھی بےچون وچگون ہیں اور علماء خلف کا مسلک یہ ہے کہ وہ عوام کے عقائد کی حفاظت کے لیے کوئی مناسب تاویل کرلیتے ہیں تاکہ ظاہر الفاظ سے عوام کسی غلط فہمی میں مبتلانہ ہوجاویں مثلا الا ان یاتیھم اللہ، میں یہ تاویل کرتے ہیں اللہ کے حکم یاقہر کا آنا مراد ہے وغیرذالک اور حضرات صوفیہ کرام یہ فرماتے ہیں کہ یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام سے حق سبحانہ تعالیٰ کی تجلیات مراد ہیں یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ظلل من الغمام میں متجلی ہوگا جس طرح وہ کوہ طور پر اللہ کی تجلی بےچون وچگون تھی اس طرح قیامت کے دن پر اللہ کی تجلی ابر کے سائبانوں میں ہوگی اور جس طرح آنکھ کی پتلی میں آسمانوں کا جلوہ اور الفاظ کے پردہ میں معافی کا جلوہ دیکھا جاسکتا ہے اس طرح ابر کے سائبانوں میں اللہ کا بےچون وچگون حلیہ دیکھاجاسکتا ہے کہا جاتا ہے کہ زید آگیا اور یہ بات میرے خیال میں آگئی کہ اور صبح آگئی آنا سب جگہ پایا جاتا ہے مگر حقیقت ہر جگہ مختلف ہے آنا آنے والے کے تابع ہے زید کا آنا اور قسم کا ہے اور کسی بات کا دل میں آنا اور قسم کا ہے ایسا ہی اللہ کے آنے کو ایسا سمجھو کہ اس کا آنا اور اس کی شان عظمت کے مطابق ہوگا جیسے اللہ جل شانہ کی ذات بےچون وچگون ہے اسی طرح اس کا نام بھی بےچون وچگون ہوگا۔ فائدہ سوم) ۔ جب کہ دین موسوی کی رعایت سے اونٹ کے گوشت کا ترک کرنا اتباع شیطانی ہوا تو سامریان ہند کی رعایت سے ذبیحہ بقر کا ترک کرنا جو اعظم شعائر اسلام میں سے ہے بدرجہ ادلی اغوا شیطانی ہوگا، خوب سمجھ لو۔
Ayahs 2:211–214

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے لیے دنیا کی زندگی خوشنما کردی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیزگار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کر دے اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یکہ انکے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے کیا، تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یونہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعو بتوں میں) ہِلا ہلا دیئے گئے یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ؟ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آیا چاہتی) ہے۔

تنبیہات وتہدیدات۔ قال تعالی، سل بنی اسرائیل کم۔۔۔ الی۔۔۔ قریب۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں دلائل واضحہ آجانے کے بعد حق کی مخالفت پر تنبیہ اور تہدید تھی آئندہ آیات میں اور چند تنبیہات اور تہدیدات کو ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کے صریح اور واضح حکم کے بعد عدولی حکمی موجب عذاب ہے اگر تم کو اس میں کچھ تردد ہے تو بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ ہم نے ان کو کتنی واضح اور روشن دلیلیں عطا کی تھیں تاکہ حق واضح اور روشن ہوجائے یہ اللہ جل شانہ کی ایک نعمت کبری تھی اس نعمت کا شکر اور حق یہ تھا کہ دل وجان سے حق کو قبول کرتے لیکن دیدہ دانستہ حق سے انحراف کیا نتیجہ یہ نکلا کہ عذاب میں مبتلا ہوئے اور طرح طرح کی ذلتیں دیکھنی پڑیں جیسا کہ پہلے پارہ میں ان کی شناعتوں اور عقوبتوں کا بیان ہوا اور ہمارا قانون یہی ہے کہ جو شخص اللہ کی نعمت کو بعد اسکے کہ وہ نعمت خود اس کے پاس پہنچ چکی ہے یعنی وہ نعمت بلامشقت کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملی ہے پس جو شخص ایسی نعمت کو کفر اور معصیت سے بدلے اور اس کے انعامات اور احسانات کی ناشکری کرے تو اللہ تعالیٰ بھی نعمت کو نقمت سے اور انعام کو انتقام سے بدل دیتے ہیں۔ پس تحقیق اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والے ہیں اور ایسے ناشکرے اسی کے مستحق ہیں کہ ان کو سخت سزا دی جائے اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا پر ایسے شیدا اور فریفتہ ہوئے ہیں کہ دنیاوی زندگانی ان کی نظروں میں اس درجہ مزین اور خوب صورت بنادی گئی ہے کہ آخرت ان کو بدصورت معلوم ہونے لگی ہے اس لیے اپنی ظاہری عیش و عشرت کے نشہ میں ان لوگوں کو حقیر اور ذلیل سمجھتے ہیں جو آخرت پر شیدا اور فریفتہ ہیں اور ان لوگوں سے تمسخر کرتے ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور جو لوگ ایمان اور تقوی کے لباس فاخر سے آراستہ ہیں قیامت کے دن یہی لوگ ان کافروں سے بالا اور بلند ہوں گے جن کو یہ کافر دنیا میں ذلیل اور حقیر سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے کہ بیشمار رزق دیتا ہے دیکھ لو انہیں فقراء اور مہاجرین کو جن کو تم حقیر و ذلیل سمجھتے تھے کس طرح روم اور فارس کی سلطنت کا مالک بنا دیا معلوم ہوا کہ چند روز کے فانی عیش پر مغرور اور مست ہو کر حق کا انکار کرنا اور ا ہل حق کو حقیر سمجھنا حماقت ہے حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح کے زمانہ کے قریب تک تمام لوگ ایک جماعت پر ہی تھے سب ایک ہی دین پر متفق تھے۔ اور حکام خداوندی پر عمل کرتے تھے دس قرن اسی طرح گذرے اس کے بعد جب لوگ دنیا پرفریفتہ ہوئے اور دنیا ان کو خوبصورت معلوم ہوئی تو دنیاوی اور نفسانی اغراض کی بناء پر حق میں اختلاف ڈالا پس اللہ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام کو بھیجا تاکہ حق میں کوئی اختلاف نہ ڈالے اختلاف سب مل کر حق پر چلیں اس لیے اللہ نے انبیاء کرام کو بھیجا کہ ایمان لانے والوں اور حق قبول کرنے والوں کو خوش خبری سنائیں اور حق میں اختلاف ڈالنے والوں کو اللہ کے قہر سے ڈرائیں اور ان کے ساتھ اللہ نے حق اور سچی کتابیں بھی اتاریں تاکہ وہ لوگ کتاب الٰہی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے جس حق کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں حق تو یہ تھا کہ کتاب الٰہی کے فیصلہ کو دل وجان سے قبول کرتے اور اس کے حکم کے مطابق اپنے تمام اختلافات اور نزاعات کو ختم کردیتے مگر افسوس کہ ان لوگوں نے اسی کتاب میں اختلاف شروع کردیا کہ جو انکواختلاف مٹانے اور ختم کرنے لیے دی گئی تھی۔ اور یہ اختلاف کسی اشتباہ اور التباس کی بناء پر نہ تھا بلکہ صریح اور واضح احکام اور دلائل آجانے کے بعد آپس کی ضداضدی کی بناء پر تھا پھر اللہ نے ان خود غرضوں اور ہواپرستوں کو تو اس باہمی اختلاف اور نزاع میں چھوڑ دیا جس کا منشاء سوائے حب دنیا کے اور کچھ نہ تھا اور ان اہل ایمان کو جن کے قلوب حب دنیا اور حسد وغیرہ سے پاک تھے حق کی راہ دکھلائی جس میں وہ اختلاف کررہے تھے اور یہ ہدایت محض اس کے لطف اور عنایت سے تھی اور اللہ تعالیٰ مالک اور مختار ہے جس کو چاہے اور جس طرح چاہے سیدھا راستہ بتاتا ہے کسی کو بغیر آیات بینات اور بغیر کسی دلیل وبرہان اور بغیر کسی استاد اور معلم کے سیدھا راستہ بتلادیتے ہیں اور کسی کو صاف نشانوں کے بعد بھی گمراہ کردیتے ہیں ہدایت اس کی ملک ہے جس کو چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے لیکن اللہ کی عادت اور سنت یہ ہے کہ حق کی ہدایت سے اسی کو سرفراز فرماتے ہیں جو شخص دنیا پر فریفتہ نہ ہو اور دنیا کی زینت نے اس کو اپنا گرویدہ اور شیدائی نہ بنالیا ہو کیونکہ جن کے دل دنیا کی محبت میں گرفتار ہوچکے ہیں وہ کبھی حق کو قبول نہیں کرتے اور انبیاء کرام کی ہدایت اور نصیحت کی طرف کان نہیں لگاتے بلکہ ایسے لوگ ہمیشہ اہل حق کو ستاتے ہیں اور طرح طرح کی ایذائیں ان کو پہنچاتے ہیں اس لیے آئندہ آیت میں مسلمانوں کی تسلی فرماتے ہیں کہ تم اہل باطل اور اہل دنیا کی ایذاؤں سے ہرگز نہ گھبرانا یہ کوئی نئی بات نہیں ہمیشہ سے اہل باطل حضرات انبیاء اور اہل ایمان کو ایذا پہنچاتے چلے آئے ہیں یہ دنیا دار ابتلاء اور دار امتحان ہے یہاں کے چند روزہ مصائب پر نظر نہ کرو صبر پر جو دار آخرت میں راحتیں اور نعمتیں ملیں گی ان پر نظر رکھو کیا تم کو یہ گمان ہے کہ جنت میں بلامحنت اور بلامشقت داخل ہوجاؤ گے حالانکہ تم پر ابھی تک وہ احوال اور اہوال نہیں گذرے جو تم سے پہلے حضرات انبیاء کرام اور اہل ایمان پر گذرے ہیں دشمنوں کے ہاتھ سے ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور طرح طرح سے جھڑ جھڑائے گئے اور قسم قسم کی تکلیفوں اور مصیبتوں سے ہلائے گئے حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مدد الٰہی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے اس زمانہ کے نبی اور ان کے ساتھی شدائد اور مصائب سے مجبور اور لاچار اور بےتاب اور بےقرار ہوکریہ بول اٹھے کہ اللہ کی وہ مدد کب آئے گی جس کا اس نے انبیاء اور اہل ایمان سے وعدہ فرمایا ہے بمقتضائے بشریت انتہائی پریشانی کی حالت میں یہ مایوسانہ کلمات زبان سے نکلے اور حق تعالیٰ کا منشاء بھی یہی تھا کہ ہمارے ماسوائے بالکل مایوس اور ناامید ہوجائیں چناچہ اس وقت اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور ارشاد فرمایا کہ گھبراؤ نہیں ثابت قدم رہو آگاہ ہوجاؤ اور سن لو کہ اللہ کی مدد بہت نزدیک ہے اے مسلمانوں اسی تمہارا بھی امتحان ہورہا ہے گھبراؤ نہیں عنقریب اللہ کی مدد تم کو پہنچے گی اور تمام مصائب اور تکالیف کا خاتمہ کردے گی۔